Forwarded from Urdu Tahrir (Irfan Attari🌷)
تیس سال قبل تین بھائیوں نے اپنی زمین میں سے کچھ زمین دے کر مسجد تعمیر کی اور وہاں اول یوم سے جمعہ نہیں ہوتا اور اب آبادی سے دور ہونے کی وجہ سے اور نزدیک ایک گندے پانی کا جوہڑ ہے اس وجہ سے مسجد میں فقط دو تین نمازی آتے ہیں اور وہ بھی فجر و مغرب و عشاء کے وقت اب واقفان اس جگہ سے مسجد منتقل کر کے بر لب سڑک لے جانا چاہتے ہیں اس کا شرعی طریقہ کیا ہے؟مسجد کی زمین فروخت کر کے دوسری جگہ مسجد کیلئے زمین خرید سکتے ہیں؟دوسری جگہ زمین خرید کر اس جگہ کو ذاتی تصرف میں لا سکتے ہیں؟ سنا ہے کہ امام محمد علیہ الرحمۃ کے ہاں ان سب چیزوں کا جواز ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جو جگہ ایک مرتبہ وقف ہو جائے گی اب کسی صورت اس کو نہ منتقل کیا جاسکتا ہے نہ بیچا جاسکتا ہے نہ ہی مسجد کی جگہ مدرسہ بنایا جا سکتا ہے۔درمختار میں ہے:”فإذا تم ولزم لا یملک ولا یملک ولا یعار ولا یرھن“
یعنی تو جب وقف مکمل اور لازم ہوجائے گا وہ واقف کی ملک نہیں رہے گا اور نہ واقف کسی اور کو اس کا مالک بنا سکے گا،نہ عاریت دے سکے گا اور نہ رہن رکھ سکے گا۔
(درمختارمع ردالمحتار،جلد4،صفحہ352،دارالفکر،بیروت)
فتح القدیر شرح ہدایہ میں ہے:’’الواجب ابقاء الوقف علی ماکان علیہ‘‘
یعنی وقف اپنی حالت پر باقی رکھنا لازم ہے۔
(فتح القدیر،کتاب الوقف،جلد6،صفحہ228،دارالفکر،بیروت)
آبادی سے دور ہونے کی وجہ سے بھی جب چند نمازیوں کے لیے بھی مسجد بنائی جائے تو وہ مسجد ہو جاتی ہے اگرچہ وہاں جمعہ نہ بھی شروع کیا جائے۔
ملفوظات اعلی حضرت میں ہے:
عرض:ایک گاؤں میں مسجد بالکل ویرانہ میں ہے اس کے مُتَّصِل ایک کُمْہَار(یعنی مٹی کے برتن بنانے والے) کا مکان ہے مسجد مذکور میں نماز بھی نہیں ہوتی ہے بلکہ اس کے اِردگرد لوگ کوڑا وغیرہ ڈالتے ہیں وہ کُمْہَار زمین مسجد کو خریدنا چاہتا ہے آیا اس کی بَیْع (یعنی خرید وفروخت)ہوسکتی ہے یا نہیں؟
ارشاد:حرام ہے۔(الفتاوی الھندیۃ،کتاب الوقف،الباب الحادی العشر فی المسجد،ج2،ص457) اگرچہ زمین کے برابر سونا دے مسجد کے لیے جو لوگ ایسا کریں ان کی نسبت قُرآنِ عَظِیْم فرماتا ہے:
لَہُمْ فِی الدُّنْیَا خِزْیٌ ۚۖ وَّلَہُمْ فِی الۡاٰخِرَۃِ عَذَابٌ عَظِیۡمٌ ﴿41﴾
دنیا میں ان کے لئے رسوائی ہے اور آخرت میں بڑا عذاب۔(پ6،المائدۃ:41)
(ملفوظات اعلی حضرت،ص 348،مکتبۃ المدینہ،کراچی)
بہارِ شریعت میں ہے:مسجد کے آس پاس جگہ ویران ہوگئی وہاں لوگ رہے نہیں کہ مسجد میں نماز پڑھیں یعنی مسجد بالکل بیکار ہوگئی جب بھی وہ بدستور مسجد ہے کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ اُسے توڑ پھوڑ کر اُسکے اینٹ پتھر وغیرہ اپنے کام میں لائے یا اُسے مکان بنالے۔یعنی وہ قیامت تک مسجد ہے۔(بہارِ شریعت،جلد 2،ص 561،مکتبۃ المدینہ،کراچی)
واللہ اعلم بالصواب
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جو جگہ ایک مرتبہ وقف ہو جائے گی اب کسی صورت اس کو نہ منتقل کیا جاسکتا ہے نہ بیچا جاسکتا ہے نہ ہی مسجد کی جگہ مدرسہ بنایا جا سکتا ہے۔درمختار میں ہے:”فإذا تم ولزم لا یملک ولا یملک ولا یعار ولا یرھن“
یعنی تو جب وقف مکمل اور لازم ہوجائے گا وہ واقف کی ملک نہیں رہے گا اور نہ واقف کسی اور کو اس کا مالک بنا سکے گا،نہ عاریت دے سکے گا اور نہ رہن رکھ سکے گا۔
(درمختارمع ردالمحتار،جلد4،صفحہ352،دارالفکر،بیروت)
فتح القدیر شرح ہدایہ میں ہے:’’الواجب ابقاء الوقف علی ماکان علیہ‘‘
یعنی وقف اپنی حالت پر باقی رکھنا لازم ہے۔
(فتح القدیر،کتاب الوقف،جلد6،صفحہ228،دارالفکر،بیروت)
آبادی سے دور ہونے کی وجہ سے بھی جب چند نمازیوں کے لیے بھی مسجد بنائی جائے تو وہ مسجد ہو جاتی ہے اگرچہ وہاں جمعہ نہ بھی شروع کیا جائے۔
ملفوظات اعلی حضرت میں ہے:
عرض:ایک گاؤں میں مسجد بالکل ویرانہ میں ہے اس کے مُتَّصِل ایک کُمْہَار(یعنی مٹی کے برتن بنانے والے) کا مکان ہے مسجد مذکور میں نماز بھی نہیں ہوتی ہے بلکہ اس کے اِردگرد لوگ کوڑا وغیرہ ڈالتے ہیں وہ کُمْہَار زمین مسجد کو خریدنا چاہتا ہے آیا اس کی بَیْع (یعنی خرید وفروخت)ہوسکتی ہے یا نہیں؟
ارشاد:حرام ہے۔(الفتاوی الھندیۃ،کتاب الوقف،الباب الحادی العشر فی المسجد،ج2،ص457) اگرچہ زمین کے برابر سونا دے مسجد کے لیے جو لوگ ایسا کریں ان کی نسبت قُرآنِ عَظِیْم فرماتا ہے:
لَہُمْ فِی الدُّنْیَا خِزْیٌ ۚۖ وَّلَہُمْ فِی الۡاٰخِرَۃِ عَذَابٌ عَظِیۡمٌ ﴿41﴾
دنیا میں ان کے لئے رسوائی ہے اور آخرت میں بڑا عذاب۔(پ6،المائدۃ:41)
(ملفوظات اعلی حضرت،ص 348،مکتبۃ المدینہ،کراچی)
بہارِ شریعت میں ہے:مسجد کے آس پاس جگہ ویران ہوگئی وہاں لوگ رہے نہیں کہ مسجد میں نماز پڑھیں یعنی مسجد بالکل بیکار ہوگئی جب بھی وہ بدستور مسجد ہے کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ اُسے توڑ پھوڑ کر اُسکے اینٹ پتھر وغیرہ اپنے کام میں لائے یا اُسے مکان بنالے۔یعنی وہ قیامت تک مسجد ہے۔(بہارِ شریعت،جلد 2،ص 561،مکتبۃ المدینہ،کراچی)
واللہ اعلم بالصواب
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Urdu Tahrir (Irfan Attari🌷)
نئے نوٹوں کی کاپی پرانے زیادہ نوٹوں پر خریدنا کیسا؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نئے نوٹوں کی کاپی پرانے زیادہ نوٹوں پر خریدنا فقہی اعتبار سے جائز ہے،البتہ اس میں یہ ضروری ہے کہ یہ سودا ہاتھوں ہاتھ ہو یعنی پرانے نوٹ دے کر نئے نوٹ اسی وقت لے لئے جائیں،اگر ادھا پر ہو تو ناجائز ہے۔
نوٹ اموال ربویہ میں سے نہیں کیونکہ نوٹ عددی شے ہے،اموال ربویہ میں وہ چیزیں شمار ہوتی ہیں جو ناپی اور تولی جاتی ہوں جبکہ نوٹ تول کر یا ناپ کر نہیں بکتا۔
تبیین الحقائق میں ہے”ما لا يكال ولا يوزن لا يكون من الأموال الربوية“
ترجمہ:جو ناپا اور نہ تولا جائے وہ اموال ربویہ میں سے نہیں ہوتا۔
(تبيين الحقائق شرح كنزالدقائق،کتاب البیوع،باب الربا،جلد 4،صفحہ 87، المطبعة الكبرى الأميرية،القاهرة)
المبسوط میں ہے”إن كان من نوع واحد مما لا يكال ولا يوزن فلا بأس به اثنان بواحد يدا بيد“
ترجمہ:اگر ایک ہی قسم ہے جو نہ ناپی جاتی ہے اور نہ ہی تولی جاتی ہے تو ایک کے بدلے میں دو ہاتھوں ہاتھ ہونے میں حرج نہیں۔
(المبسوط،کتاب البیوع،جلد12،صفحہ122،دار المعرفة،بيروت)
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن فرماتے ہیں:”نوٹ کی بیع اور مبادلہ میں کمی بیشی برضامندی فریقین مطلقا جائز ہے کہ وہ اموال ربویہ سے نہیں۔ہاں سو روپے کا نوٹ قرض دیا جائے اور یہ ٹھہرا لیا جائے کہ پیسہ اوپر سو لیں گے یہ سود اور حرام قطعی ہے،اور اس کے تمام مسائل کی تفصیل اگر درکار ہو تو ہمارے رسالہ کفل الفقیہ الفاہم میں ہے واللہ تعالیٰ اعلم۔“
(فتاویٰ رضویہ،جلد17،صفحہ605،رضافاؤنڈیشن،لاہور)
پرانے نوٹوں کے عوض نئے نوٹ کم تعداد میں لینا اگر ادھار ہو تو ناجائزوحرام ہے،البتہ اگر یہ معاملہ ہاتھوں ہاتھ نقد ہو تو شرعاً درست ہے۔
اس میں تفصیل یہ ہے کہ قوانین شرع کی رو سے سود کی حرمت کی علت قدرمع الجنس ہے۔اگر قدر وجنس دونوں پائی جائیں تو زیادتی اور ادھار دونوں حرام ہیں۔اور اگر قدر وجنس دونوں نہ پائی جائیں تو زیادتی اور ادھار دونوں حلال ہیں۔اور اگر دونوں میں سے ایک پائی جائے،دوسری نہ پائی جائے مثلا جنس پائی جائے لیکن قدر نہ ہو یا قدر پائی جائے لیکن جنس نہ ہو تو اس صورت میں ہاتھوں ہاتھ زیادتی جائز اور ادھار حرام ہے۔نوٹ میں اگرچہ قدر نہیں کہ یہ عددی شے ہے لیکن نوٹ میں جنس موجود ہے۔
دُرِّمختار میں ہے:وَاِنْ وُجِدَ اَحَدُھُمَا اَیِ الْقَدَرُ وَحْدَہُ اَوِ الْجِنْسُ وَحْدَہُ حَلَّ الْفَضْلُ وَحَرُمَ النَسَاءُ
ترجمہ:اور اگر قدر وجنس میں سے کوئی ایک چیز پائی جائے یعنی صرف قدر پائی جائے یا صرف جنس پائی جائے تو اب کمی بیشی جائز ہے اور ادھار حرام ہے۔(درمختار،ج7،ص422)
اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ سے سوال ہوا: کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ دس روپے کا نوٹ دے کر بارہ روپیہ عوض میں لینا حلال ہے یا حرام؟ بینوا توجروا۔
جواباً آپ علیہ الرحمۃ نے تحریر فرمایا:”بیع میں حلال ہے،یعنی دس کا نوٹ بارہ یا بیس کو برضائے مشتری بیچے تو کچھ مضائقہ نہیں۔ فتح القدیر و رد المحتار وغیرہما کتب معتمدہ میں ہے”لوباع کاغذۃ بالف یجوز ولایکرہ“
اگر کاغذ کا ٹکڑا ہزار روپے میں بیچا تو جائز ہے اور اس میں کوئی کراہت نہیں۔اور اصطلاحی طورپر اس کی قیمت معین ہونا بائع اور مشتری کی باہمی رضامندی کو نہیں روکتا،ہر شخص کو اختیار ہے کہ اپنا مال جو عام نرخ سے دس روپے کا ہو برضائے مشتری سو روپیہ کو بیچے یا ایک ہی پیسہ کو دے دے ۔قال ﷲتعالیٰ﴿الا ان تکون تجارۃ عن تراض منکم ﴾اللہ تعالیٰ نے فرمایا:مگر یہ کہ ہو تمہارے درمیان تجارت تمھاری باہمی رضامندی سے۔ (فتاوٰی رضویہ،جلد17،صفحہ610-611،رضا فاؤنڈیشن،لاہور)
واللہ اعلم بالصواب
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نئے نوٹوں کی کاپی پرانے زیادہ نوٹوں پر خریدنا فقہی اعتبار سے جائز ہے،البتہ اس میں یہ ضروری ہے کہ یہ سودا ہاتھوں ہاتھ ہو یعنی پرانے نوٹ دے کر نئے نوٹ اسی وقت لے لئے جائیں،اگر ادھا پر ہو تو ناجائز ہے۔
نوٹ اموال ربویہ میں سے نہیں کیونکہ نوٹ عددی شے ہے،اموال ربویہ میں وہ چیزیں شمار ہوتی ہیں جو ناپی اور تولی جاتی ہوں جبکہ نوٹ تول کر یا ناپ کر نہیں بکتا۔
تبیین الحقائق میں ہے”ما لا يكال ولا يوزن لا يكون من الأموال الربوية“
ترجمہ:جو ناپا اور نہ تولا جائے وہ اموال ربویہ میں سے نہیں ہوتا۔
(تبيين الحقائق شرح كنزالدقائق،کتاب البیوع،باب الربا،جلد 4،صفحہ 87، المطبعة الكبرى الأميرية،القاهرة)
المبسوط میں ہے”إن كان من نوع واحد مما لا يكال ولا يوزن فلا بأس به اثنان بواحد يدا بيد“
ترجمہ:اگر ایک ہی قسم ہے جو نہ ناپی جاتی ہے اور نہ ہی تولی جاتی ہے تو ایک کے بدلے میں دو ہاتھوں ہاتھ ہونے میں حرج نہیں۔
(المبسوط،کتاب البیوع،جلد12،صفحہ122،دار المعرفة،بيروت)
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن فرماتے ہیں:”نوٹ کی بیع اور مبادلہ میں کمی بیشی برضامندی فریقین مطلقا جائز ہے کہ وہ اموال ربویہ سے نہیں۔ہاں سو روپے کا نوٹ قرض دیا جائے اور یہ ٹھہرا لیا جائے کہ پیسہ اوپر سو لیں گے یہ سود اور حرام قطعی ہے،اور اس کے تمام مسائل کی تفصیل اگر درکار ہو تو ہمارے رسالہ کفل الفقیہ الفاہم میں ہے واللہ تعالیٰ اعلم۔“
(فتاویٰ رضویہ،جلد17،صفحہ605،رضافاؤنڈیشن،لاہور)
پرانے نوٹوں کے عوض نئے نوٹ کم تعداد میں لینا اگر ادھار ہو تو ناجائزوحرام ہے،البتہ اگر یہ معاملہ ہاتھوں ہاتھ نقد ہو تو شرعاً درست ہے۔
اس میں تفصیل یہ ہے کہ قوانین شرع کی رو سے سود کی حرمت کی علت قدرمع الجنس ہے۔اگر قدر وجنس دونوں پائی جائیں تو زیادتی اور ادھار دونوں حرام ہیں۔اور اگر قدر وجنس دونوں نہ پائی جائیں تو زیادتی اور ادھار دونوں حلال ہیں۔اور اگر دونوں میں سے ایک پائی جائے،دوسری نہ پائی جائے مثلا جنس پائی جائے لیکن قدر نہ ہو یا قدر پائی جائے لیکن جنس نہ ہو تو اس صورت میں ہاتھوں ہاتھ زیادتی جائز اور ادھار حرام ہے۔نوٹ میں اگرچہ قدر نہیں کہ یہ عددی شے ہے لیکن نوٹ میں جنس موجود ہے۔
دُرِّمختار میں ہے:وَاِنْ وُجِدَ اَحَدُھُمَا اَیِ الْقَدَرُ وَحْدَہُ اَوِ الْجِنْسُ وَحْدَہُ حَلَّ الْفَضْلُ وَحَرُمَ النَسَاءُ
ترجمہ:اور اگر قدر وجنس میں سے کوئی ایک چیز پائی جائے یعنی صرف قدر پائی جائے یا صرف جنس پائی جائے تو اب کمی بیشی جائز ہے اور ادھار حرام ہے۔(درمختار،ج7،ص422)
اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ سے سوال ہوا: کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ دس روپے کا نوٹ دے کر بارہ روپیہ عوض میں لینا حلال ہے یا حرام؟ بینوا توجروا۔
جواباً آپ علیہ الرحمۃ نے تحریر فرمایا:”بیع میں حلال ہے،یعنی دس کا نوٹ بارہ یا بیس کو برضائے مشتری بیچے تو کچھ مضائقہ نہیں۔ فتح القدیر و رد المحتار وغیرہما کتب معتمدہ میں ہے”لوباع کاغذۃ بالف یجوز ولایکرہ“
اگر کاغذ کا ٹکڑا ہزار روپے میں بیچا تو جائز ہے اور اس میں کوئی کراہت نہیں۔اور اصطلاحی طورپر اس کی قیمت معین ہونا بائع اور مشتری کی باہمی رضامندی کو نہیں روکتا،ہر شخص کو اختیار ہے کہ اپنا مال جو عام نرخ سے دس روپے کا ہو برضائے مشتری سو روپیہ کو بیچے یا ایک ہی پیسہ کو دے دے ۔قال ﷲتعالیٰ﴿الا ان تکون تجارۃ عن تراض منکم ﴾اللہ تعالیٰ نے فرمایا:مگر یہ کہ ہو تمہارے درمیان تجارت تمھاری باہمی رضامندی سے۔ (فتاوٰی رضویہ،جلد17،صفحہ610-611،رضا فاؤنڈیشن،لاہور)
واللہ اعلم بالصواب
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Urdu Tahrir (Irfan Attari🌷)
والسلام:نماز جنازہ کی تکرار ہمارے ائمہ کرام رضی ﷲ تعالٰی عنہم کے نزدیک تو مطلقاً ناجائز ونامشروع ہے، مگر جب کہ اجنبی غیر احق نے بلا اذن و بلامتابعت ولی پڑھ لی ہو تو ولی اعادہ کرسکتا ہے۔سیدی اعلیحضرت علیہ الرحمہ فتاوی رضویہ شریف میں ارشاد فرماتے ہیں:فی الدرالمختار یقدم فی الصلٰوۃ علیہ السلطان او امیر المصر ثم القاضی ثم امام الحی ثم الولی فان صلی غیرالولی من لیس لہ حق التقدم علی الولی ولم یتابعہ الولی اعادالولی ولوعلی قبرہ ان شاء لاجل حقہ لا لاسقاط الفرض ولذا قلنا لیس لمن صلی علیھا ان یعید مع الولی لان تکرارھاغیرمشروع وان صلی من لہ حق التقدم کقاض اونائبہ اوامام الحی اومن لیس لہ حق التقدم وتابعہ الولی لایعید اھ مختصراً۔ترجمہ:درمختار میں ہے: میّت کی نمازپڑھنے میں مقدم بادشاہ یاولیِ شہر ہے پھر قاضی پھر امامِ محلہ پھر ولی اگر ولی کے علاوہ ایسے شخص نے جس کو ولی پر تقدم کا حق حاصل نہیں، نمازِ جنازہ پڑھ لی اور ولی نے اس کی متابعت نہ کی تو ولی اگر چاہے تو دوبارہ پڑھ سکتا ہے خواہ قبر پر ہی پڑھے اسے یہ اختیار اپنے حق کے سبب ہے اس لئے نہیں کہ فرضِ جنازہ ادا نہ ہوا تھا، اسی لئے ہم کہتے ہیں کہ پہلے جو پڑھ چکے تھے وہ ولی کے ساتھ ہوکر دوبارہ نہیں پڑھ سکتے-اس لئے کہ نماز جنازہ کی تکرار جائز نہیں-اور اگر پہلے ایسے شخص نے پڑھی جسے ولی پر تقدم کا حق حاصل ہے جیسے قاضی یا نائب قاضی یا امامِ محلہ یا ایسے شخص نے پڑھ لی جسے حقِ تقدم حاصل نہیں مگر ولی نے اس کی متابعت کر لی تھی تو دوبارہ نہیں پڑھ سکتا۔(فتاوی رضویہ جلد9 ،ص 182) واللہ اعلم بالصواب
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Urdu Tahrir (Irfan Attari🌷)
گود لئے ہوئے بچے کے حقیقی باپ کے طور پر اپنا نام استعمال کرنے کا شرعی حکم:
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بچہ گود لینا جائز ہے لیکن یہ یاد رہے کہ گود میں لینے والا عام بول چال میں یا کاغذات وغیرہ میں اس کے حقیقی باپ کے طور پر اپنا نام استعمال نہیں کر سکتا بلکہ سب جگہ حقیقی باپ کے طور پر اس بچے کے اصلی والد ہی کا نام استعمال کرنا ہوگا اور اگر اصلی باپ کا نام معلوم نہیں تو اس کی معلومات کروا کر باپ کے طورپر حقیقی باپ کا نام لکھنا ہو گا اور اگر کوشش کے باوجود کسی طرح اس کے اصلی باپ کا نام معلوم نہ ہو سکے تو گود لینے والا گفتگو میں حقیقی باپ کے طور پر اپنا نام ہرگز استعمال نہ کرے اور نہ ہی بچہ اسے حقیقی والد کے طور پر اپنا باپ کہے،اسی طرح کاغذات وغیرہ میں سر پرست کے کالم میں اپنا نام لکھے حقیقی والد کے کالم میں ہرگز نہ لکھے،اگر جان بوجھ کر خود کو حقیقی باپ کہے یا لکھے گا تو یہ بھی درج ذیل دو وعیدوں میں داخل ہے،چنانچہ
(1)… حضرت سعد رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،حضورِ اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:’’جس شخص کو یہ معلوم ہو کہ اس کا باپ کوئی اور ہے اور اس کے باوجود اپنے آپ کو کسی غیر کی طرف منسوب کرے تو اس پر جنت حرام ہے۔‘‘
(بخاری،کتاب الفرائض،باب من ادعی الی غیر ابیہ،۴ / ۳۲۶،الحدیث:۶۷۶۶)
(2)… حضرت علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے روایت ہے،نبیٔ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:’’جس شخص نے خود کو اپنے باپ کے غیر کی طرف منسوب کیا یا جس غلام نے اپنے آپ کو اپنے مولیٰ کے غیر کی طرف منسوب کیا اس پر الله عَزَّوَجَلَّ کی،فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہو،قیامت کے دن الله عَزَّوَجَلَّ اس کا کوئی فرض قبول فرمائے گا نہ نفل۔‘‘
(مسلم،کتاب الحج،باب فضل المدینۃ ودعاء النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم فیہا بالبرکۃ۔۔۔ الخ،ص۷۱۱،الحدیث:۴۶۷ (۱۳۷۰))
اس سے ان لوگوں کو نصیحت حاصل کرنی چاہئے کہ جو اپنے ہاں اولاد نہ ہونے کی وجہ سے یا ویسے ہی کسی دوسرے کی اولاد گود میں لیتے ہیں اور اپنے زیرِ سایہ اس کی پرورش کرتے اور اس کی تعلیم و تربیت کے اخراجات برداشت کرتے ہیں۔ان کا یہ عمل تو جائز ہے لیکن ان کی یہ خواہش اور تمنا ہرگز درست نہیں کہ حقیقی باپ کے طور پر پالنے والے کا نام استعمال ہو اور نہ ہی ان کا یہ عمل جائز ہے کیونکہ الله تعالیٰ نے ارشاد فرما دیا ہے کہ ’’اُدْعُوْهُمْ لِاٰبَآىٕهِمْ‘‘ (انہیں ان کے حقیقی باپ ہی کا کہہ کر پکارو۔) اور جب اللہ تعالیٰ نے حقیقی باپ ہی کا کہہ کر پکارنے کاحکم فرما دیا اور اَحادیث میں ایسا نہ کرنے پر انتہائی سخت وعیدیں بیان ہو گئیں تو کسی مسلمان کی یہ شان نہیں کہ وہ اپنے رب تعالیٰ کے حکم کے برخلاف اپنی خواہشات کو پروان چڑھائے اور خود کو شدید وعیدوں کا مستحق ٹھہرائے۔الله تعالیٰ عمل کی توفیق عطا فرمائے،اٰمین۔
نوٹ: یاد رہے کہ اَحادیث میں بیان کی گئی وعیدوں کا مِصداق وہ صورت ہے جس میں بچے کا نسب حقیقی باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف منسوب کیا جائے جبکہ شفقت کے طور پر کسی کو بیٹا یابیٹی کہہ کر پکارنا یا کوئی معروف ہی کسی اور کے نام سے ہو تو پہچان کے لئے اس کابیٹا یا بیٹی کہنا ان وعیدوں میں داخل نہیں۔
بچہ یا بچی گود لینے سے متعلق ایک اہم شرعی مسئلہ:
بچہ یا بچی گود میں لینا جائز ہے لیکن جب وہ اس عمر تک پہنچ جائیں جس میں ان پر نامحرم مرد یا عورت سے پردہ کرنا لازم ہو جاتا ہے تو اس وقت بچے پر پالنے والی عورت سے اور بچی پر پالنے والے مرد سے پردہ کرنا بھی لازم ہوگا کیونکہ وہ اس بچے کے حقیقی یا رضاعی ماں باپ نہیں اِس لئے وہ اُس بچے اوربچی کے حق میں محرم نہیں،لہٰذا اگر بچہ گود میں لیا جائےتو عورت اسے اپنا یا اپنی بہن کا دودھ پلا دے اور بچی گود میں لی جائے تو مرد اپنی کسی محرم عورت کا دودھ اسے پلوا دے،اس صورت میں ان کے درمیان رضاعی رشتہ قائم ہوجائے گا اور محرم ہو جانے کی وجہ سے پردے کی وہ پابندیاں نہ رہیں گی جو نامحرم سے پردہ کرنے کی ہیں،البتہ یہاں مزید دو باتیں ذہن نشین رہیں،
پہلی یہ کہ دودھ بچے کی عمر دو سال ہونے سے پہلے پلایا جائے اور اگر دو سال سے لے کر ڈھائی سال کے درمیان دودھ پلایا تو بھی رضاعت ثابت ہو جائے گی لیکن اس عمر میں دودھ پلانا ناجائز ہے اور ڈھائی سال عمر ہو جانے کے بعد پلایا تو رضاعت ثابت نہ ہو گی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بچہ گود لینا جائز ہے لیکن یہ یاد رہے کہ گود میں لینے والا عام بول چال میں یا کاغذات وغیرہ میں اس کے حقیقی باپ کے طور پر اپنا نام استعمال نہیں کر سکتا بلکہ سب جگہ حقیقی باپ کے طور پر اس بچے کے اصلی والد ہی کا نام استعمال کرنا ہوگا اور اگر اصلی باپ کا نام معلوم نہیں تو اس کی معلومات کروا کر باپ کے طورپر حقیقی باپ کا نام لکھنا ہو گا اور اگر کوشش کے باوجود کسی طرح اس کے اصلی باپ کا نام معلوم نہ ہو سکے تو گود لینے والا گفتگو میں حقیقی باپ کے طور پر اپنا نام ہرگز استعمال نہ کرے اور نہ ہی بچہ اسے حقیقی والد کے طور پر اپنا باپ کہے،اسی طرح کاغذات وغیرہ میں سر پرست کے کالم میں اپنا نام لکھے حقیقی والد کے کالم میں ہرگز نہ لکھے،اگر جان بوجھ کر خود کو حقیقی باپ کہے یا لکھے گا تو یہ بھی درج ذیل دو وعیدوں میں داخل ہے،چنانچہ
(1)… حضرت سعد رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،حضورِ اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:’’جس شخص کو یہ معلوم ہو کہ اس کا باپ کوئی اور ہے اور اس کے باوجود اپنے آپ کو کسی غیر کی طرف منسوب کرے تو اس پر جنت حرام ہے۔‘‘
(بخاری،کتاب الفرائض،باب من ادعی الی غیر ابیہ،۴ / ۳۲۶،الحدیث:۶۷۶۶)
(2)… حضرت علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے روایت ہے،نبیٔ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:’’جس شخص نے خود کو اپنے باپ کے غیر کی طرف منسوب کیا یا جس غلام نے اپنے آپ کو اپنے مولیٰ کے غیر کی طرف منسوب کیا اس پر الله عَزَّوَجَلَّ کی،فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہو،قیامت کے دن الله عَزَّوَجَلَّ اس کا کوئی فرض قبول فرمائے گا نہ نفل۔‘‘
(مسلم،کتاب الحج،باب فضل المدینۃ ودعاء النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم فیہا بالبرکۃ۔۔۔ الخ،ص۷۱۱،الحدیث:۴۶۷ (۱۳۷۰))
اس سے ان لوگوں کو نصیحت حاصل کرنی چاہئے کہ جو اپنے ہاں اولاد نہ ہونے کی وجہ سے یا ویسے ہی کسی دوسرے کی اولاد گود میں لیتے ہیں اور اپنے زیرِ سایہ اس کی پرورش کرتے اور اس کی تعلیم و تربیت کے اخراجات برداشت کرتے ہیں۔ان کا یہ عمل تو جائز ہے لیکن ان کی یہ خواہش اور تمنا ہرگز درست نہیں کہ حقیقی باپ کے طور پر پالنے والے کا نام استعمال ہو اور نہ ہی ان کا یہ عمل جائز ہے کیونکہ الله تعالیٰ نے ارشاد فرما دیا ہے کہ ’’اُدْعُوْهُمْ لِاٰبَآىٕهِمْ‘‘ (انہیں ان کے حقیقی باپ ہی کا کہہ کر پکارو۔) اور جب اللہ تعالیٰ نے حقیقی باپ ہی کا کہہ کر پکارنے کاحکم فرما دیا اور اَحادیث میں ایسا نہ کرنے پر انتہائی سخت وعیدیں بیان ہو گئیں تو کسی مسلمان کی یہ شان نہیں کہ وہ اپنے رب تعالیٰ کے حکم کے برخلاف اپنی خواہشات کو پروان چڑھائے اور خود کو شدید وعیدوں کا مستحق ٹھہرائے۔الله تعالیٰ عمل کی توفیق عطا فرمائے،اٰمین۔
نوٹ: یاد رہے کہ اَحادیث میں بیان کی گئی وعیدوں کا مِصداق وہ صورت ہے جس میں بچے کا نسب حقیقی باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف منسوب کیا جائے جبکہ شفقت کے طور پر کسی کو بیٹا یابیٹی کہہ کر پکارنا یا کوئی معروف ہی کسی اور کے نام سے ہو تو پہچان کے لئے اس کابیٹا یا بیٹی کہنا ان وعیدوں میں داخل نہیں۔
بچہ یا بچی گود لینے سے متعلق ایک اہم شرعی مسئلہ:
بچہ یا بچی گود میں لینا جائز ہے لیکن جب وہ اس عمر تک پہنچ جائیں جس میں ان پر نامحرم مرد یا عورت سے پردہ کرنا لازم ہو جاتا ہے تو اس وقت بچے پر پالنے والی عورت سے اور بچی پر پالنے والے مرد سے پردہ کرنا بھی لازم ہوگا کیونکہ وہ اس بچے کے حقیقی یا رضاعی ماں باپ نہیں اِس لئے وہ اُس بچے اوربچی کے حق میں محرم نہیں،لہٰذا اگر بچہ گود میں لیا جائےتو عورت اسے اپنا یا اپنی بہن کا دودھ پلا دے اور بچی گود میں لی جائے تو مرد اپنی کسی محرم عورت کا دودھ اسے پلوا دے،اس صورت میں ان کے درمیان رضاعی رشتہ قائم ہوجائے گا اور محرم ہو جانے کی وجہ سے پردے کی وہ پابندیاں نہ رہیں گی جو نامحرم سے پردہ کرنے کی ہیں،البتہ یہاں مزید دو باتیں ذہن نشین رہیں،
پہلی یہ کہ دودھ بچے کی عمر دو سال ہونے سے پہلے پلایا جائے اور اگر دو سال سے لے کر ڈھائی سال کے درمیان دودھ پلایا تو بھی رضاعت ثابت ہو جائے گی لیکن اس عمر میں دودھ پلانا ناجائز ہے اور ڈھائی سال عمر ہو جانے کے بعد پلایا تو رضاعت ثابت نہ ہو گی۔
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Urdu Tahrir (Irfan Attari🌷)
ایک پیر صاحب جو آواگون کا عقیدہ رکھتے تھے ان سے بیعت ہونا کیسا؟ اور ان سے بیعت کرنا کیسا؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آواگون کا عقیدہ کفریہ ہندوانہ ہے ایسا شخص تو مسلمان نہیں چہ جائیکہ اسے پیر بنالیا جائے۔
بہارِ شریعت میں ہے:"یہ خیال کہ وہ روح(مرنے کے بعد) کسی دوسرے بدن میں چلی جاتی ہے،خواہ وہ آدمی کا بدن ہو یا کسی اور جانور کا جس کو تناسخ اور آواگون کہتے ہیں،محض باطل اور اُس کا ماننا کفر ہے۔
(بہار شریعت،جلد 1،ص 103،مکتبۃ المدینہ،کراچی)
وفي ''النبراس''، باب البعث حق، ص213: (التناسخ ھو انتقال الروح من جسم إلی جسم آخر وقد اتفق الفلاسفۃ وأھل السنۃ علی بطلانہ، وقال بحقیقتہ قوم من الضلال، فزعم بعضھم أنّ کل روح ینتقل في مائۃ ألف وأربعۃ وثمانین من الأبدان، وجوّز بعضھم تعلقہ بأبدان البہائم بل الأشجار والأحجار علی حسب جزاء الأعمال السیئۃ، وقد حکم أھل الحق بکفر القائلین بالتناسخ، والمحققون علی أنّ التکفیر لإنکارھم البعث).
وفي ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب السیر، باب التاسع في أحکام المرتدین، ج 2، ص264: (ویجب إکفار الروافض في قولھم برجعۃ الأموات إلی الدنیا وبتناسخ الأرواح وبانتقال روح الإلہ إلی الأئمۃ).
وفي ''الحدیقۃ الندیۃ'' شرح ''الطریقۃ المحمدیۃ''، ج 1،ص304:(ویجب إکفار الروافض في قولھم برجع الأموات) بعد موتھم (إلی الدنیا) أیضا (و) قولھم (بتناسخ الأرواح) أي: انتقالھا من جسد إلی جسد علی الأبد).
ہندوؤں کا یہ عقیدہ ہے کہ مرنے کے بعد رُوح کسی اور انسان یا جانور کے بدن میں چلی جاتی ہے اِس کو آواگون یا تَناسُخ کہتے ہیں۔ یہ عقیدہ سَراسَر غَلَط اور کُفْر ہے۔بعض اوقات عورَتیں غصّہ میں آکر بچّہ کو کہہ دیتی ہیں،کون سے جَنَم میں سُدھرے گا؟ (مَعَاذَ اللّٰہ) یہ ہندوؤں سے سیکھا ہے،کیونکہ اسلامی عقیدے میں ہر ایک کا ایک ہی بار جنم ہوتا ہے۔(نبراس،والبعث حق،ص 213)
(مدنی مذاکروں کے 137 سوالات جوابات،ص 3،مکتبۃ المدینہ،کراچی)
واللہ اعلم بالصواب
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آواگون کا عقیدہ کفریہ ہندوانہ ہے ایسا شخص تو مسلمان نہیں چہ جائیکہ اسے پیر بنالیا جائے۔
بہارِ شریعت میں ہے:"یہ خیال کہ وہ روح(مرنے کے بعد) کسی دوسرے بدن میں چلی جاتی ہے،خواہ وہ آدمی کا بدن ہو یا کسی اور جانور کا جس کو تناسخ اور آواگون کہتے ہیں،محض باطل اور اُس کا ماننا کفر ہے۔
(بہار شریعت،جلد 1،ص 103،مکتبۃ المدینہ،کراچی)
وفي ''النبراس''، باب البعث حق، ص213: (التناسخ ھو انتقال الروح من جسم إلی جسم آخر وقد اتفق الفلاسفۃ وأھل السنۃ علی بطلانہ، وقال بحقیقتہ قوم من الضلال، فزعم بعضھم أنّ کل روح ینتقل في مائۃ ألف وأربعۃ وثمانین من الأبدان، وجوّز بعضھم تعلقہ بأبدان البہائم بل الأشجار والأحجار علی حسب جزاء الأعمال السیئۃ، وقد حکم أھل الحق بکفر القائلین بالتناسخ، والمحققون علی أنّ التکفیر لإنکارھم البعث).
وفي ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب السیر، باب التاسع في أحکام المرتدین، ج 2، ص264: (ویجب إکفار الروافض في قولھم برجعۃ الأموات إلی الدنیا وبتناسخ الأرواح وبانتقال روح الإلہ إلی الأئمۃ).
وفي ''الحدیقۃ الندیۃ'' شرح ''الطریقۃ المحمدیۃ''، ج 1،ص304:(ویجب إکفار الروافض في قولھم برجع الأموات) بعد موتھم (إلی الدنیا) أیضا (و) قولھم (بتناسخ الأرواح) أي: انتقالھا من جسد إلی جسد علی الأبد).
ہندوؤں کا یہ عقیدہ ہے کہ مرنے کے بعد رُوح کسی اور انسان یا جانور کے بدن میں چلی جاتی ہے اِس کو آواگون یا تَناسُخ کہتے ہیں۔ یہ عقیدہ سَراسَر غَلَط اور کُفْر ہے۔بعض اوقات عورَتیں غصّہ میں آکر بچّہ کو کہہ دیتی ہیں،کون سے جَنَم میں سُدھرے گا؟ (مَعَاذَ اللّٰہ) یہ ہندوؤں سے سیکھا ہے،کیونکہ اسلامی عقیدے میں ہر ایک کا ایک ہی بار جنم ہوتا ہے۔(نبراس،والبعث حق،ص 213)
(مدنی مذاکروں کے 137 سوالات جوابات،ص 3،مکتبۃ المدینہ،کراچی)
واللہ اعلم بالصواب
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
کہنے کوحنبلی اور اہلِ حدیث ہیں
قوم کہہ رہی ہے پکے خبیث ہیں
منقول از کتاب "قبہ" صفحہ 64,مؤلف مولانامظہرحسین بی اے منشی فاضل رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ
میثم قادری
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2921574901455151&id=100008080090753
قوم کہہ رہی ہے پکے خبیث ہیں
منقول از کتاب "قبہ" صفحہ 64,مؤلف مولانامظہرحسین بی اے منشی فاضل رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ
میثم قادری
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2921574901455151&id=100008080090753
Facebook
Log in to Facebook
Log in to Facebook to start sharing and connecting with your friends, family and people you know.
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
مصروف ترین قوم
ایک آسٹریلوی سیاح اپنے سفر نامے میں پاکستان کے بارے میں لکھتا ھے کہ
جب میں بلوچستان کا سفر ختم کر کے کراچی کے علاقے شیرشاہ پہنچا,تو ریل گاڑی کا پھا ٹک بندتھا اور اسی دوران ایک شخص سائیکل پر میرے قریب رکا۔لیکن چندسکینڈمیں ہی اپنی سائیکل اپنے کندھے پر اٹھا کر پھاٹک سے چھلانگیں لگاکر اسے کراس کرلیا,اس نے اس ٹرین کی بھی پرواہ نہیں کی,تھوڑے فاصلے پر شور مچاتی ہوئی تیزی سے آگے بڑھ رہی تھی.میں حیران رہ گیا اور سوچا کہ ضرور اس آدمی کو کسی بہت ضروری کام سے جانا ھے اس لیے اس نے اپنے کام کے مقابلے میں اپنی زندگی تک کو اہمیت نہ دی۔
میں نے سوچا کہ اپنے کام سے محبت کرنے والی وقت کی پابند بہادرقوم کو کوئی شکست نہیں دے سکتا,نہ ہی یہ لوگ کسی کے محتاج رہیں گے۔
انہی سوچوں میں گم جب میں شیرشاہ چوک پہنچا تو دیکھا کہ ایک مداری بندر نچارہا ھے اور وہ سائیکل والاشخص اپنی سائیکل کااسٹینڈکھڑا کرکے انتہائی بے فکری کے ساتھ بندر کا تماشہ دیکھ رہا ھے.
منقول
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2921575591455082&id=100008080090753
ایک آسٹریلوی سیاح اپنے سفر نامے میں پاکستان کے بارے میں لکھتا ھے کہ
جب میں بلوچستان کا سفر ختم کر کے کراچی کے علاقے شیرشاہ پہنچا,تو ریل گاڑی کا پھا ٹک بندتھا اور اسی دوران ایک شخص سائیکل پر میرے قریب رکا۔لیکن چندسکینڈمیں ہی اپنی سائیکل اپنے کندھے پر اٹھا کر پھاٹک سے چھلانگیں لگاکر اسے کراس کرلیا,اس نے اس ٹرین کی بھی پرواہ نہیں کی,تھوڑے فاصلے پر شور مچاتی ہوئی تیزی سے آگے بڑھ رہی تھی.میں حیران رہ گیا اور سوچا کہ ضرور اس آدمی کو کسی بہت ضروری کام سے جانا ھے اس لیے اس نے اپنے کام کے مقابلے میں اپنی زندگی تک کو اہمیت نہ دی۔
میں نے سوچا کہ اپنے کام سے محبت کرنے والی وقت کی پابند بہادرقوم کو کوئی شکست نہیں دے سکتا,نہ ہی یہ لوگ کسی کے محتاج رہیں گے۔
انہی سوچوں میں گم جب میں شیرشاہ چوک پہنچا تو دیکھا کہ ایک مداری بندر نچارہا ھے اور وہ سائیکل والاشخص اپنی سائیکل کااسٹینڈکھڑا کرکے انتہائی بے فکری کے ساتھ بندر کا تماشہ دیکھ رہا ھے.
منقول
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2921575591455082&id=100008080090753
Facebook
Log in to Facebook
Log in to Facebook to start sharing and connecting with your friends, family and people you know.
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
لڑکی بالغ تھی۔ من مرضی سے دوست چنا، معاملات اتنے آگے بڑھے کہ نوبت اسقاط حمل سے آگے موت تک جا پہنچی۔ اس حقیقی المیے کی ابتدا ہی غلط تھی۔ چونکہ غلط تھی لہذا اس جرم میں شریک لڑکا ، آپریشن ٹیبل پر پڑی اپنی ”ساتھی“ کی لاش چھوڑ کر بھاگ نکلا۔ شوہر ہوتا تو نہ بھاگتا۔ یہ ”میراجسم میری مرضی“ والے اسی طرح بھاگ جاتے ہیں۔ اگر صاحبِ کردار ہوتا تو نہ بھاگتا۔ بزدل تھا ، بے ضمیر تھا ۔۔۔ فرار تو ہونا ہی تھا۔ اب سارے براٸلر لبرل خاموش ہیں۔ کوٸی بھی آگے بڑھ کر یہ کہتا یا لکھتا دکھاٸی نہیں دیا کہ بھٸی ۔۔۔ بھاگے کیوں؟ لڑکی نے ایک دن مرنا ہی تھا ، اسقاط حمل کے ”جہاد“ میں نہ مرتی تو کسی اور وجہ سے مر جاتی ۔۔۔ لیکن تم بھاگے کیوں؟ پتنگ اڑاتے وقت کتنے دعوے اور وعدے کیے ہونگے مگر جب پتنگ کٹ گٸی تو چرخی پھینک کر ہسپتال کی پتلی گلی سے چپکے سے نکل لیے۔
”میرا جسم میری مرضی“ والے آج خاموش ہیں کیونکہ مرنے والی ان میں سے کسی کی بہن یا بیٹی نہیں تھی ۔۔۔ اگر ہوتی بھی تو صرف اتنا ہی روتے کہ بھاگنے سے پہلے ہسپتال کے ڈیوز کیوں نہ دیے۔
اور اس لیے بھی خاموش ہیں کہ بھاگنے والا لڑکا نہ مولوی تھا ، نہ مٶذن اور نہ قاری ۔ شکر ھے اسلام بچ گیا ورنہ لاہور سے یورپ تک واویلا مچ جاتا۔
# تنولیات [ کاپی ]
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2923409611271680&id=100008080090753
”میرا جسم میری مرضی“ والے آج خاموش ہیں کیونکہ مرنے والی ان میں سے کسی کی بہن یا بیٹی نہیں تھی ۔۔۔ اگر ہوتی بھی تو صرف اتنا ہی روتے کہ بھاگنے سے پہلے ہسپتال کے ڈیوز کیوں نہ دیے۔
اور اس لیے بھی خاموش ہیں کہ بھاگنے والا لڑکا نہ مولوی تھا ، نہ مٶذن اور نہ قاری ۔ شکر ھے اسلام بچ گیا ورنہ لاہور سے یورپ تک واویلا مچ جاتا۔
# تنولیات [ کاپی ]
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2923409611271680&id=100008080090753
Facebook
Log in to Facebook
Log in to Facebook to start sharing and connecting with your friends, family and people you know.
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
لمحہءفکریہ:
علامہ عبدالحکیم شرف قادری صاحب نے پیرکرم شاہ بھیروی کے فوت ہونے کے بعدایک مضمون لکھا.اس مضمون میں واضح طورپریہ بات لکھی ہے کہ پیرکرم شاہ بھیروی صاحب نے اس بات کوتسلیم کیاکہ وہ "حسام الحرمین" میں اکابرِدیوبندپرلگائے گئے فتویٰ کفرسے متفق نہیں ہے.
میثم قادری
27.1.2021
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2923448904601084&id=100008080090753
علامہ عبدالحکیم شرف قادری صاحب نے پیرکرم شاہ بھیروی کے فوت ہونے کے بعدایک مضمون لکھا.اس مضمون میں واضح طورپریہ بات لکھی ہے کہ پیرکرم شاہ بھیروی صاحب نے اس بات کوتسلیم کیاکہ وہ "حسام الحرمین" میں اکابرِدیوبندپرلگائے گئے فتویٰ کفرسے متفق نہیں ہے.
میثم قادری
27.1.2021
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2923448904601084&id=100008080090753
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
سیاست صرف طاقت کی زبان سمجھتی ہے.
اگر آپ سیاست کر رہے ہیں یا سیاست میں جانے کی سوچ رہے ہیں تو آپ کو ہندوستان کی تاریخ کے وہ طاقتور آندولن اور احتجاج دیکھنے کی ضرورت ہے جن کی وجہ سے حکومتی تختے الٹ گئے یا پھر حکومتوں کو ان احتجاجوں کے آگے جھکنا پڑا ہے۔بڑے بڑے جابر، تانا شاہ بھی عوامی احتجاج کے آگے بے بس نظر آئے ہیں، سیاست میں عوام کے سامنے جو جتنا جھکنے کی صلاحیت رکھے گا وہ اتنی ہی دیر تک سیاست کی باگ ڈور بھی تھامے رکھنے میں کامیاب رہے گا۔سیاست نہ محبت چاہتی ہے اور نہ ہی عقیدت۔سیاست میں نہ رشتے ناطے کوئی اہمیت رکھتے ہیں، نہ ہی سالوں پر محیط خدمت، ہم سیاست میں باپ کو بیٹے کا ، بیٹے کو باپ کا ، بھائی کو بھائی کا ، ماں کو بیٹی کا اور بیٹی کو ماں اور بھائی کو بہن کا قتل کرتے ہوئے بارہا دیکھ چکے ہیں۔سیاست میں آپ اسی وقت تک اپنی پکڑ اور دبدبہ بنائے رکھ سکتے ہیں جب تک آپ سیاسی طاقت رکھتے ہیں۔جس دن آپ کی طاقت کم ہونے کا احساس آپ کے قریبی لوگوں کو ہوگا اسی دن وہ کوئی اور در تلاش لیں گے، بعض ایسے بھی ہونگے جو "گھر کے بھیدی بن کر آپ کی سیاسی لنکا کو ڈھانے کا کام کریں گے" سیاست ٹھیک اس مقولے کے الٹ ہے کہ "یک در گیر محکم گیر" یعنی ایک در مضبوطی سے تھامے رہو، یہاں مقولہ یوں ہو جاتا ہے "آں در گیر چو قوت گیر" وہ در پکڑو جو طاقت ور دیکھو۔
ماضی ہو یا حال، سیاسی "روشن مستقبل" کے لئے آپ کو اپنی طاقت اپنے اور بیگانے سبھی کو دکھاتے رہنے کی ضرورت ہے، ورنہ آپ کی صورت، آپ کی قوم، آپ کی خدمت، آپ کی طاقت، آپ کا دماغ، آپ کے تعلقات سیاسی لوگ استعمال تو خوب کریں گے، لیکن آپ اور آپ کی قوم کے حصے میں کچھ نہیں آئے گا، بظاہر وہ آپ کو اپنا ہیرو کہیں گے، بھروسے مند کہیں گے، ہر جگہ آپ کو لے کر جائیں گے اور آپ کو اتنے بوجھوں تلے دبا دیں گے کہ آپ خود ہی کہیں گے کہ ابھی کچھ مانگنے کے لئے مناسب وقت نہیں ہے۔
یادوں کے جھروکوں سے۔
میں آپ کو بہت پیچھے لے کر نہیں جاؤں گا کہ جو لکھا جائے اسے سمجھنے کے لیے سیاسی کتابیں خریدنے یا گوگل کرنے کی ضرورت ہو، اگر آپ کو سیاست سے لگاؤ ہے یا آپ ہر روز اخبار دیکھتے ہیں تو آپ کی یادوں کے جھروکوں میں یہ چیزیں پہلے سے ہی اسٹور ہوں گی، بس انھیں دماغ کی اسکرین پر پلے کرنے کی ضرورت ہے.
گجرات میں ہاردک پٹیل کا پاپٹیدار احتجاج، جگنیش میوانی کا" چلو اونا" احتجاج، اور دہلی کے رام لیلا میدان میں کانگریس کے خلاف" انّا ہزارے" کا احتجاج، دہلی ہی میں جواہر لال نہرو یونیورسٹی (. J. N. U) میں فیس بڑھائے جانے کو لے کر طلبہ کا احتجاج، ہریانہ میں جاٹ ریزرویشن کا احتجاج، راجستھان میں گوجروں ریزرویشن احتجاج، دہلی میں سی اے اے، این آر سی کو لے کر مشترکہ احتجاج، فی الحال دہلی بارڈر پر کسانوں کا احتجاج جاری ہے، ان دھرنا پردرشنوں سے حکومت، ادارے کہیں جھکے ہیں اور کہیں بیک فٹ پر دیکھے گئے ہیں، کہیں انھیں احتجاج کی بنا پر حکومت چلی گئی تو کوئی کرسی پاگیا، مذکورہ احتجاجوں سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ حکومت عوامی طاقت کو ہی اہمیت دیتی ہے یہی وجہ ہے کہ ان احتجاجات سے ہم نے کئی لیڈر پائے ہیں جیسے اروند کیجریوال، ہاردک پٹیل، جگنیش میوانی، کنہیا کمار، چندر شیکھر آزاد وغیرہ وغیرہ________
احتجاج اچانک نہیں ہوتے، یہ کرائے جاتے ہیں یا کئے جاتے ہیں، کبھی حکومتیں کراتی ہیں تاکہ اغیار ان کی طاقت دیکھ سکیں، تو کبھی اپوزیشن سیاسی جماعتیں احتجاج کراتی ہیں کہ حکومت گرے اور ہم تخت نشیں ہوں، کبھی سیاسی جماعتیں نئے لیڈر تلاشنے، اور اپنی سیاسی زمین بچانے کے لیے بھی احتجاج کا سہارا لیتی ہیں، یہی وجہ ہے کہ احتجاجوں کی صدارت کرنے والے یا ان کی پہچان بننے والے افراد کو سیاسی پارٹیاں اپنی جماعت میں شامل کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرتی ہیں، جیسے ہاردک پٹیل ،کنہیا کمار، جگنیش میوانی وغیرہ....
طاقت ہے تو کیش کرنا سیکھئے.
کہتے ہیں کل کس نے دیکھا ہے اور سیاست میں تو کسی نے پَل بھی نہیں دیکھا، ہر لمحہ نئی بساط بچھائی جاتی ہے اور ہر لمحہ شہ مات کا کھیل جاری رہتا ہے، چند منٹ پہلے وزیر کچھ نہیں ہوتا اور چند لمحوں بعد ہی "شاہ" مات کھا جاتا ہے، صحیح معنوں میں سیاست نپی تلی نظر رکھنے کے ساتھ بروقت حملہ کرنے ہی کا نام ہے، جو یہ سیکھ گیا وہ سیاست سیکھ گیا.... خیر آمدم برسر مطلب اگر آپ کے پاس سیاسی طاقت ہے تو پھر کیش کرنا ضروری ہے کیونکہ سیاست میں کب کیا ہوجائے بھروسہ نہیں، ایسے لوگ ہمیشہ فائدے میں رہتے ہیں جو اپنی طاقت کا استعمال کرتے رہتے ہیں ویسے تو بہت لیڈر ہوے ہیں لیکن ایک لیڈر جسے دنیا "رام ولاس پاسوان"( بانی لوک جن شکتی پارٹی) کے نام جانتی ہے، اس لیڈر کے پاس اتنی طاقت تو نہیں تھی کہ اکیلے اپنی قوم کی بنا پر حکومت بنا سکے، لیکن اس نے اپنی طاقت کو ہمیشہ کھرے داموں میں کیش کیا تھا،(آج وہ نہیں ہیں لیکن انکی سیاسی ہوشیاری کے سبھی قائل ہیں) حکومت کسی کی بنے، لیکن اپنی طاقت کی بنا پر وہ
اگر آپ سیاست کر رہے ہیں یا سیاست میں جانے کی سوچ رہے ہیں تو آپ کو ہندوستان کی تاریخ کے وہ طاقتور آندولن اور احتجاج دیکھنے کی ضرورت ہے جن کی وجہ سے حکومتی تختے الٹ گئے یا پھر حکومتوں کو ان احتجاجوں کے آگے جھکنا پڑا ہے۔بڑے بڑے جابر، تانا شاہ بھی عوامی احتجاج کے آگے بے بس نظر آئے ہیں، سیاست میں عوام کے سامنے جو جتنا جھکنے کی صلاحیت رکھے گا وہ اتنی ہی دیر تک سیاست کی باگ ڈور بھی تھامے رکھنے میں کامیاب رہے گا۔سیاست نہ محبت چاہتی ہے اور نہ ہی عقیدت۔سیاست میں نہ رشتے ناطے کوئی اہمیت رکھتے ہیں، نہ ہی سالوں پر محیط خدمت، ہم سیاست میں باپ کو بیٹے کا ، بیٹے کو باپ کا ، بھائی کو بھائی کا ، ماں کو بیٹی کا اور بیٹی کو ماں اور بھائی کو بہن کا قتل کرتے ہوئے بارہا دیکھ چکے ہیں۔سیاست میں آپ اسی وقت تک اپنی پکڑ اور دبدبہ بنائے رکھ سکتے ہیں جب تک آپ سیاسی طاقت رکھتے ہیں۔جس دن آپ کی طاقت کم ہونے کا احساس آپ کے قریبی لوگوں کو ہوگا اسی دن وہ کوئی اور در تلاش لیں گے، بعض ایسے بھی ہونگے جو "گھر کے بھیدی بن کر آپ کی سیاسی لنکا کو ڈھانے کا کام کریں گے" سیاست ٹھیک اس مقولے کے الٹ ہے کہ "یک در گیر محکم گیر" یعنی ایک در مضبوطی سے تھامے رہو، یہاں مقولہ یوں ہو جاتا ہے "آں در گیر چو قوت گیر" وہ در پکڑو جو طاقت ور دیکھو۔
ماضی ہو یا حال، سیاسی "روشن مستقبل" کے لئے آپ کو اپنی طاقت اپنے اور بیگانے سبھی کو دکھاتے رہنے کی ضرورت ہے، ورنہ آپ کی صورت، آپ کی قوم، آپ کی خدمت، آپ کی طاقت، آپ کا دماغ، آپ کے تعلقات سیاسی لوگ استعمال تو خوب کریں گے، لیکن آپ اور آپ کی قوم کے حصے میں کچھ نہیں آئے گا، بظاہر وہ آپ کو اپنا ہیرو کہیں گے، بھروسے مند کہیں گے، ہر جگہ آپ کو لے کر جائیں گے اور آپ کو اتنے بوجھوں تلے دبا دیں گے کہ آپ خود ہی کہیں گے کہ ابھی کچھ مانگنے کے لئے مناسب وقت نہیں ہے۔
یادوں کے جھروکوں سے۔
میں آپ کو بہت پیچھے لے کر نہیں جاؤں گا کہ جو لکھا جائے اسے سمجھنے کے لیے سیاسی کتابیں خریدنے یا گوگل کرنے کی ضرورت ہو، اگر آپ کو سیاست سے لگاؤ ہے یا آپ ہر روز اخبار دیکھتے ہیں تو آپ کی یادوں کے جھروکوں میں یہ چیزیں پہلے سے ہی اسٹور ہوں گی، بس انھیں دماغ کی اسکرین پر پلے کرنے کی ضرورت ہے.
گجرات میں ہاردک پٹیل کا پاپٹیدار احتجاج، جگنیش میوانی کا" چلو اونا" احتجاج، اور دہلی کے رام لیلا میدان میں کانگریس کے خلاف" انّا ہزارے" کا احتجاج، دہلی ہی میں جواہر لال نہرو یونیورسٹی (. J. N. U) میں فیس بڑھائے جانے کو لے کر طلبہ کا احتجاج، ہریانہ میں جاٹ ریزرویشن کا احتجاج، راجستھان میں گوجروں ریزرویشن احتجاج، دہلی میں سی اے اے، این آر سی کو لے کر مشترکہ احتجاج، فی الحال دہلی بارڈر پر کسانوں کا احتجاج جاری ہے، ان دھرنا پردرشنوں سے حکومت، ادارے کہیں جھکے ہیں اور کہیں بیک فٹ پر دیکھے گئے ہیں، کہیں انھیں احتجاج کی بنا پر حکومت چلی گئی تو کوئی کرسی پاگیا، مذکورہ احتجاجوں سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ حکومت عوامی طاقت کو ہی اہمیت دیتی ہے یہی وجہ ہے کہ ان احتجاجات سے ہم نے کئی لیڈر پائے ہیں جیسے اروند کیجریوال، ہاردک پٹیل، جگنیش میوانی، کنہیا کمار، چندر شیکھر آزاد وغیرہ وغیرہ________
احتجاج اچانک نہیں ہوتے، یہ کرائے جاتے ہیں یا کئے جاتے ہیں، کبھی حکومتیں کراتی ہیں تاکہ اغیار ان کی طاقت دیکھ سکیں، تو کبھی اپوزیشن سیاسی جماعتیں احتجاج کراتی ہیں کہ حکومت گرے اور ہم تخت نشیں ہوں، کبھی سیاسی جماعتیں نئے لیڈر تلاشنے، اور اپنی سیاسی زمین بچانے کے لیے بھی احتجاج کا سہارا لیتی ہیں، یہی وجہ ہے کہ احتجاجوں کی صدارت کرنے والے یا ان کی پہچان بننے والے افراد کو سیاسی پارٹیاں اپنی جماعت میں شامل کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرتی ہیں، جیسے ہاردک پٹیل ،کنہیا کمار، جگنیش میوانی وغیرہ....
طاقت ہے تو کیش کرنا سیکھئے.
کہتے ہیں کل کس نے دیکھا ہے اور سیاست میں تو کسی نے پَل بھی نہیں دیکھا، ہر لمحہ نئی بساط بچھائی جاتی ہے اور ہر لمحہ شہ مات کا کھیل جاری رہتا ہے، چند منٹ پہلے وزیر کچھ نہیں ہوتا اور چند لمحوں بعد ہی "شاہ" مات کھا جاتا ہے، صحیح معنوں میں سیاست نپی تلی نظر رکھنے کے ساتھ بروقت حملہ کرنے ہی کا نام ہے، جو یہ سیکھ گیا وہ سیاست سیکھ گیا.... خیر آمدم برسر مطلب اگر آپ کے پاس سیاسی طاقت ہے تو پھر کیش کرنا ضروری ہے کیونکہ سیاست میں کب کیا ہوجائے بھروسہ نہیں، ایسے لوگ ہمیشہ فائدے میں رہتے ہیں جو اپنی طاقت کا استعمال کرتے رہتے ہیں ویسے تو بہت لیڈر ہوے ہیں لیکن ایک لیڈر جسے دنیا "رام ولاس پاسوان"( بانی لوک جن شکتی پارٹی) کے نام جانتی ہے، اس لیڈر کے پاس اتنی طاقت تو نہیں تھی کہ اکیلے اپنی قوم کی بنا پر حکومت بنا سکے، لیکن اس نے اپنی طاقت کو ہمیشہ کھرے داموں میں کیش کیا تھا،(آج وہ نہیں ہیں لیکن انکی سیاسی ہوشیاری کے سبھی قائل ہیں) حکومت کسی کی بنے، لیکن اپنی طاقت کی بنا پر وہ