Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
پندرہ اگست اور چھبیس جنوری مَنانا
15 اگست اور 26 جنوری مَنانا کیسا ؟
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
فتاویٰ شارح بخاری جِلد ¹ صفحہ ³²
✍ مفتی شریف الحق امجدی
15 اگست اور 26 جنوری مَنانا کیسا ؟
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
فتاویٰ شارح بخاری جِلد ¹ صفحہ ³²
✍ مفتی شریف الحق امجدی
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
بت خانہ کی تعمیر میں حصہ لینے والو قران میں واضح حکم موجود ہے
من یشفع شفاعۃ حسنۃ یکن لہ نصیب منہا و من یشفع شفاعۃ یکن لہ نصیب منہا : تمھارے لیے درس عبرت ہے
عزیز قارئین کرام مذھب اسلام کو سب سے زیادہ نقصان اور متبعین اسلام کو سب سے زیادہ تکلیف جس طبقہ نے پہنچایا ہے وہ کوئی اور نہیں بلکہ بظاہر کلمہ پڑھنے والے ، اپنی غیرت بیچ کر دنیاوی جاہ و منصب حاصل کر نے والے قوم مسلم پر بدنما داغ بے غیرت مسلمان ہی ہیں ،
عزیز قارئین کرام : بابری مسجد کا معاملہ ھندوستانی مسلمانوں کے لئے ایک ایسا سانحہ جسے بھلا پانا ناممکن ہے ، اس درد کا اظہار ضبط تحریر سے باہر ہے ،کسی شاعر نے جذبات کی ترجمانی کرتے ہوئے کہا تونے بخشے ہیں جو ازار کہاں رکھوں گا ٹوٹے مبر و محراب کہاں رکھوں گا اپنے بچوں سے ہر ایک زخم چھپا لوں گا
مگر 6 دسمبر تیرا اخبار کہاں رکھوں گا گو کہ مظلوم مسلمانوں پر مصائب و الام کے پہاڑ توڑ دئے گئے ایک بارکی موت نہیں بلکہ کئی بار مار ا گیا ، پہلے ان کی عبادت گاہ کے ساتھ شرک کاری شروع کی گئی پھر گنبد و مینار کو منہدم کیا گیا
پھر جانے کتنے ماں کے لالوں کو موت کی نیند سلا دیا گیا پھر باقاعدہ بت خانہ کی بنیاد رکھی گئی اور اب اسی کی تعمیر کا سہارا لیکر ظلم کا ننگا ناچ ناچاجا رہا ہے عزیز قارئین کرام یہ سب ہوا اور آگے بھی ہوگا
لیکن ہاتھ پیر اس وقت شل ہونے لگے آنکھوں کے سامنے اندھیرا اس وقت چھانے لگا جب یہ خبریں سامنے آنے لگیں کہ اس کی تعمیر میں مسلمان بھی شریک ہیں ، گزشتہ شب کسی نے مجھ واٹس ایپ پر ایک فوٹو بھیجا جس میں ایک بے غیرت بنام سید کوکب مجتبی امروہا کا چندہ لکھا ہوا تھا ، میں سکتہ میں آگیا کہ ایسا بھی ہو سکتا ہے ؟؟؟۔
پھر دل سے اواز آئی نہیں یہ سید نہیں ہو سکتا ، میرے نبی کا خون اتنا نہیں گر سکتا ، اس کے نسب میں ضرور خرابی ہے عزیز دوستو جو اپنی عزت اپنا وقار چند سکوں کے عوض بیچ دیتے ہیں ان پر کسی بات کا کوئی اثر نہیں ہوتا ، فارسی کا مقولہ مشہور ہے ( بے حیا باش چوں خواہی کن ) تاہم پھر بھی حکم خداوندی آپ کے سامنے ہے ، پڑھیں اور ایسے خیالات سے توبہ کریں ، یاد رکھیں بھائی چارہ ، امن و امان بت خانہ کی تعمیر سے قائم نہیں ہو سکتا
اللہ تعالٰی ارشاد فرماتا ہے:( وَ تَعَاوَنُوْا عَلَى الْبِرِّ وَ التَّقْوٰى ۪-وَ لَا تَعَاوَنُوْا عَلَى الْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ۪- وَ اتَّقُوا اللّٰهَؕ-اِنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ)۲() (پ۶،المآئدۃ: ۲) ۔
ترجمۂ کنز الایمان: اور نیکی اور پرہیزگاری پر ایک دوسرے کی مدد کرو اور گناہ اور زیادتی پر باہم مدد نہ دو اور اللہ سے ڈرتے رہو بیشک اللہ کا عذاب سخت ہے)اس آیتِ مبارکہ میں اللہ تعالٰی نے دو (2) باتوں کا حکم دیا ہے
(1)نیکی اورپرہیزگاری پر ایک دوسرے کی مدد کرنے کا
(2) گناہ اور زیادتی پر باہمی تعاون نہ کرنے کا
بِر سے مراد ہر وہ نیک کام ہے جس کے کرنے کا شریعت نے حکم دیا ہے اور تقوٰی سے مراد یہ ہے کہ ہر اس کام سے بچا جائے جس سے شریعت نے روکا ہے۔ اِثْم سے مراد گناہ ہے اور عُدْوَان سے مراد اللہ تعالٰی کی حدود میں حد سے بڑھنا۔ (جلالین، ص94) ایک قول یہ ہے کہ اِثْم سے مراد کفر ہے اور عُدْوَان سے مراد ظلم یا بدعت ہے۔(خازن، 1/461)۔
حضرت عبد اللہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالیٰ عَنْہُمَا فرماتے ہیں: نیکی سے مراد سنت کی پیروی کرنا ہے۔ (صاوی، ج2،ص469)۔
حضرت نواس بن سمعان رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالیٰ عَنْہُ فرماتے ہیں: میں نے رسولِ اکرمﷺ سے نیکی اور گناہ کے بارے میں پوچھا تو آپﷺ نےارشادفرمایا: نیکی حُسنِ اَخلاق ہے اور گناہ وہ ہے جو تیرے دل میں کھٹکے اور لوگوں کا اس سے واقف ہونا تجھے ناپسند ہو ترمذی،ج4،ص173،حدیث: 2396
یہ انتہائی جامع آیت مبارکہ ہے،نیکی اورتقوٰی میں ان کی تمام انواع واقسام داخل ہیں اور اِثْم اور عُدْوَان میں ہر وہ چیز شامل ہے جو گناہ اور زیادتی کے زُمرے میں آتی ہو۔عِلْمِ دین کی اشاعت میں وقت ،مال ، درس و تدریس اور تحریر وغیرہ سے ایک دوسرے کی مدد کرنا،دِیْنِ اسلام کی دعوت اور اس کی تعلیمات دنیا کے ہر گوشے میں پہنچانے کے لیے باہمی تعاون کرنا
اپنی اور دوسروں کی عملی حالت سدھارنے میں کوشش کرنا ،نیکی کی دعوت دینا اور برائی سے منع کرنا،ملک و ملت کے اجتماعی مفادات میں ایک دوسرے سے تعاون کرنا سوشل ورک اور سماجی خدمات سب اس میں داخل ہیں
گناہ اور ظلم میں کسی کی بھی مدد نہ کرنے کا حکم ہے کسی کا حق مارنے میں دوسروں سے تعاون کرنا، رشوتیں لے کر فیصلے بدل دینا جھوٹی گواہیاں دینا بلا وجہ کسی مسلمان کو پھنسا دینا ظالم کا اس کے ظلم میں ساتھ دینا حرام و ناجائز کاروبار کرنے والی کمپنیوں میں کسی بھی طرح شریک ہونا
بدی کے اڈوں میں نوکری کرنا یہ سب ایک طرح سے برائی کے ساتھ تعاون ہے اور ناجائزہے
صراط الجنان،ج2،ص378
از قلم عقیل احمد فیضی
خادم : تحریک فروغ اسلام
من یشفع شفاعۃ حسنۃ یکن لہ نصیب منہا و من یشفع شفاعۃ یکن لہ نصیب منہا : تمھارے لیے درس عبرت ہے
عزیز قارئین کرام مذھب اسلام کو سب سے زیادہ نقصان اور متبعین اسلام کو سب سے زیادہ تکلیف جس طبقہ نے پہنچایا ہے وہ کوئی اور نہیں بلکہ بظاہر کلمہ پڑھنے والے ، اپنی غیرت بیچ کر دنیاوی جاہ و منصب حاصل کر نے والے قوم مسلم پر بدنما داغ بے غیرت مسلمان ہی ہیں ،
عزیز قارئین کرام : بابری مسجد کا معاملہ ھندوستانی مسلمانوں کے لئے ایک ایسا سانحہ جسے بھلا پانا ناممکن ہے ، اس درد کا اظہار ضبط تحریر سے باہر ہے ،کسی شاعر نے جذبات کی ترجمانی کرتے ہوئے کہا تونے بخشے ہیں جو ازار کہاں رکھوں گا ٹوٹے مبر و محراب کہاں رکھوں گا اپنے بچوں سے ہر ایک زخم چھپا لوں گا
مگر 6 دسمبر تیرا اخبار کہاں رکھوں گا گو کہ مظلوم مسلمانوں پر مصائب و الام کے پہاڑ توڑ دئے گئے ایک بارکی موت نہیں بلکہ کئی بار مار ا گیا ، پہلے ان کی عبادت گاہ کے ساتھ شرک کاری شروع کی گئی پھر گنبد و مینار کو منہدم کیا گیا
پھر جانے کتنے ماں کے لالوں کو موت کی نیند سلا دیا گیا پھر باقاعدہ بت خانہ کی بنیاد رکھی گئی اور اب اسی کی تعمیر کا سہارا لیکر ظلم کا ننگا ناچ ناچاجا رہا ہے عزیز قارئین کرام یہ سب ہوا اور آگے بھی ہوگا
لیکن ہاتھ پیر اس وقت شل ہونے لگے آنکھوں کے سامنے اندھیرا اس وقت چھانے لگا جب یہ خبریں سامنے آنے لگیں کہ اس کی تعمیر میں مسلمان بھی شریک ہیں ، گزشتہ شب کسی نے مجھ واٹس ایپ پر ایک فوٹو بھیجا جس میں ایک بے غیرت بنام سید کوکب مجتبی امروہا کا چندہ لکھا ہوا تھا ، میں سکتہ میں آگیا کہ ایسا بھی ہو سکتا ہے ؟؟؟۔
پھر دل سے اواز آئی نہیں یہ سید نہیں ہو سکتا ، میرے نبی کا خون اتنا نہیں گر سکتا ، اس کے نسب میں ضرور خرابی ہے عزیز دوستو جو اپنی عزت اپنا وقار چند سکوں کے عوض بیچ دیتے ہیں ان پر کسی بات کا کوئی اثر نہیں ہوتا ، فارسی کا مقولہ مشہور ہے ( بے حیا باش چوں خواہی کن ) تاہم پھر بھی حکم خداوندی آپ کے سامنے ہے ، پڑھیں اور ایسے خیالات سے توبہ کریں ، یاد رکھیں بھائی چارہ ، امن و امان بت خانہ کی تعمیر سے قائم نہیں ہو سکتا
اللہ تعالٰی ارشاد فرماتا ہے:( وَ تَعَاوَنُوْا عَلَى الْبِرِّ وَ التَّقْوٰى ۪-وَ لَا تَعَاوَنُوْا عَلَى الْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ۪- وَ اتَّقُوا اللّٰهَؕ-اِنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ)۲() (پ۶،المآئدۃ: ۲) ۔
ترجمۂ کنز الایمان: اور نیکی اور پرہیزگاری پر ایک دوسرے کی مدد کرو اور گناہ اور زیادتی پر باہم مدد نہ دو اور اللہ سے ڈرتے رہو بیشک اللہ کا عذاب سخت ہے)اس آیتِ مبارکہ میں اللہ تعالٰی نے دو (2) باتوں کا حکم دیا ہے
(1)نیکی اورپرہیزگاری پر ایک دوسرے کی مدد کرنے کا
(2) گناہ اور زیادتی پر باہمی تعاون نہ کرنے کا
بِر سے مراد ہر وہ نیک کام ہے جس کے کرنے کا شریعت نے حکم دیا ہے اور تقوٰی سے مراد یہ ہے کہ ہر اس کام سے بچا جائے جس سے شریعت نے روکا ہے۔ اِثْم سے مراد گناہ ہے اور عُدْوَان سے مراد اللہ تعالٰی کی حدود میں حد سے بڑھنا۔ (جلالین، ص94) ایک قول یہ ہے کہ اِثْم سے مراد کفر ہے اور عُدْوَان سے مراد ظلم یا بدعت ہے۔(خازن، 1/461)۔
حضرت عبد اللہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالیٰ عَنْہُمَا فرماتے ہیں: نیکی سے مراد سنت کی پیروی کرنا ہے۔ (صاوی، ج2،ص469)۔
حضرت نواس بن سمعان رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالیٰ عَنْہُ فرماتے ہیں: میں نے رسولِ اکرمﷺ سے نیکی اور گناہ کے بارے میں پوچھا تو آپﷺ نےارشادفرمایا: نیکی حُسنِ اَخلاق ہے اور گناہ وہ ہے جو تیرے دل میں کھٹکے اور لوگوں کا اس سے واقف ہونا تجھے ناپسند ہو ترمذی،ج4،ص173،حدیث: 2396
یہ انتہائی جامع آیت مبارکہ ہے،نیکی اورتقوٰی میں ان کی تمام انواع واقسام داخل ہیں اور اِثْم اور عُدْوَان میں ہر وہ چیز شامل ہے جو گناہ اور زیادتی کے زُمرے میں آتی ہو۔عِلْمِ دین کی اشاعت میں وقت ،مال ، درس و تدریس اور تحریر وغیرہ سے ایک دوسرے کی مدد کرنا،دِیْنِ اسلام کی دعوت اور اس کی تعلیمات دنیا کے ہر گوشے میں پہنچانے کے لیے باہمی تعاون کرنا
اپنی اور دوسروں کی عملی حالت سدھارنے میں کوشش کرنا ،نیکی کی دعوت دینا اور برائی سے منع کرنا،ملک و ملت کے اجتماعی مفادات میں ایک دوسرے سے تعاون کرنا سوشل ورک اور سماجی خدمات سب اس میں داخل ہیں
گناہ اور ظلم میں کسی کی بھی مدد نہ کرنے کا حکم ہے کسی کا حق مارنے میں دوسروں سے تعاون کرنا، رشوتیں لے کر فیصلے بدل دینا جھوٹی گواہیاں دینا بلا وجہ کسی مسلمان کو پھنسا دینا ظالم کا اس کے ظلم میں ساتھ دینا حرام و ناجائز کاروبار کرنے والی کمپنیوں میں کسی بھی طرح شریک ہونا
بدی کے اڈوں میں نوکری کرنا یہ سب ایک طرح سے برائی کے ساتھ تعاون ہے اور ناجائزہے
صراط الجنان،ج2،ص378
از قلم عقیل احمد فیضی
خادم : تحریک فروغ اسلام
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Urdu Tahrir (Irfan Attari🌷)
تیس سال قبل تین بھائیوں نے اپنی زمین میں سے کچھ زمین دے کر مسجد تعمیر کی اور وہاں اول یوم سے جمعہ نہیں ہوتا اور اب آبادی سے دور ہونے کی وجہ سے اور نزدیک ایک گندے پانی کا جوہڑ ہے اس وجہ سے مسجد میں فقط دو تین نمازی آتے ہیں اور وہ بھی فجر و مغرب و عشاء کے وقت اب واقفان اس جگہ سے مسجد منتقل کر کے بر لب سڑک لے جانا چاہتے ہیں اس کا شرعی طریقہ کیا ہے؟مسجد کی زمین فروخت کر کے دوسری جگہ مسجد کیلئے زمین خرید سکتے ہیں؟دوسری جگہ زمین خرید کر اس جگہ کو ذاتی تصرف میں لا سکتے ہیں؟ سنا ہے کہ امام محمد علیہ الرحمۃ کے ہاں ان سب چیزوں کا جواز ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جو جگہ ایک مرتبہ وقف ہو جائے گی اب کسی صورت اس کو نہ منتقل کیا جاسکتا ہے نہ بیچا جاسکتا ہے نہ ہی مسجد کی جگہ مدرسہ بنایا جا سکتا ہے۔درمختار میں ہے:”فإذا تم ولزم لا یملک ولا یملک ولا یعار ولا یرھن“
یعنی تو جب وقف مکمل اور لازم ہوجائے گا وہ واقف کی ملک نہیں رہے گا اور نہ واقف کسی اور کو اس کا مالک بنا سکے گا،نہ عاریت دے سکے گا اور نہ رہن رکھ سکے گا۔
(درمختارمع ردالمحتار،جلد4،صفحہ352،دارالفکر،بیروت)
فتح القدیر شرح ہدایہ میں ہے:’’الواجب ابقاء الوقف علی ماکان علیہ‘‘
یعنی وقف اپنی حالت پر باقی رکھنا لازم ہے۔
(فتح القدیر،کتاب الوقف،جلد6،صفحہ228،دارالفکر،بیروت)
آبادی سے دور ہونے کی وجہ سے بھی جب چند نمازیوں کے لیے بھی مسجد بنائی جائے تو وہ مسجد ہو جاتی ہے اگرچہ وہاں جمعہ نہ بھی شروع کیا جائے۔
ملفوظات اعلی حضرت میں ہے:
عرض:ایک گاؤں میں مسجد بالکل ویرانہ میں ہے اس کے مُتَّصِل ایک کُمْہَار(یعنی مٹی کے برتن بنانے والے) کا مکان ہے مسجد مذکور میں نماز بھی نہیں ہوتی ہے بلکہ اس کے اِردگرد لوگ کوڑا وغیرہ ڈالتے ہیں وہ کُمْہَار زمین مسجد کو خریدنا چاہتا ہے آیا اس کی بَیْع (یعنی خرید وفروخت)ہوسکتی ہے یا نہیں؟
ارشاد:حرام ہے۔(الفتاوی الھندیۃ،کتاب الوقف،الباب الحادی العشر فی المسجد،ج2،ص457) اگرچہ زمین کے برابر سونا دے مسجد کے لیے جو لوگ ایسا کریں ان کی نسبت قُرآنِ عَظِیْم فرماتا ہے:
لَہُمْ فِی الدُّنْیَا خِزْیٌ ۚۖ وَّلَہُمْ فِی الۡاٰخِرَۃِ عَذَابٌ عَظِیۡمٌ ﴿41﴾
دنیا میں ان کے لئے رسوائی ہے اور آخرت میں بڑا عذاب۔(پ6،المائدۃ:41)
(ملفوظات اعلی حضرت،ص 348،مکتبۃ المدینہ،کراچی)
بہارِ شریعت میں ہے:مسجد کے آس پاس جگہ ویران ہوگئی وہاں لوگ رہے نہیں کہ مسجد میں نماز پڑھیں یعنی مسجد بالکل بیکار ہوگئی جب بھی وہ بدستور مسجد ہے کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ اُسے توڑ پھوڑ کر اُسکے اینٹ پتھر وغیرہ اپنے کام میں لائے یا اُسے مکان بنالے۔یعنی وہ قیامت تک مسجد ہے۔(بہارِ شریعت،جلد 2،ص 561،مکتبۃ المدینہ،کراچی)
واللہ اعلم بالصواب
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جو جگہ ایک مرتبہ وقف ہو جائے گی اب کسی صورت اس کو نہ منتقل کیا جاسکتا ہے نہ بیچا جاسکتا ہے نہ ہی مسجد کی جگہ مدرسہ بنایا جا سکتا ہے۔درمختار میں ہے:”فإذا تم ولزم لا یملک ولا یملک ولا یعار ولا یرھن“
یعنی تو جب وقف مکمل اور لازم ہوجائے گا وہ واقف کی ملک نہیں رہے گا اور نہ واقف کسی اور کو اس کا مالک بنا سکے گا،نہ عاریت دے سکے گا اور نہ رہن رکھ سکے گا۔
(درمختارمع ردالمحتار،جلد4،صفحہ352،دارالفکر،بیروت)
فتح القدیر شرح ہدایہ میں ہے:’’الواجب ابقاء الوقف علی ماکان علیہ‘‘
یعنی وقف اپنی حالت پر باقی رکھنا لازم ہے۔
(فتح القدیر،کتاب الوقف،جلد6،صفحہ228،دارالفکر،بیروت)
آبادی سے دور ہونے کی وجہ سے بھی جب چند نمازیوں کے لیے بھی مسجد بنائی جائے تو وہ مسجد ہو جاتی ہے اگرچہ وہاں جمعہ نہ بھی شروع کیا جائے۔
ملفوظات اعلی حضرت میں ہے:
عرض:ایک گاؤں میں مسجد بالکل ویرانہ میں ہے اس کے مُتَّصِل ایک کُمْہَار(یعنی مٹی کے برتن بنانے والے) کا مکان ہے مسجد مذکور میں نماز بھی نہیں ہوتی ہے بلکہ اس کے اِردگرد لوگ کوڑا وغیرہ ڈالتے ہیں وہ کُمْہَار زمین مسجد کو خریدنا چاہتا ہے آیا اس کی بَیْع (یعنی خرید وفروخت)ہوسکتی ہے یا نہیں؟
ارشاد:حرام ہے۔(الفتاوی الھندیۃ،کتاب الوقف،الباب الحادی العشر فی المسجد،ج2،ص457) اگرچہ زمین کے برابر سونا دے مسجد کے لیے جو لوگ ایسا کریں ان کی نسبت قُرآنِ عَظِیْم فرماتا ہے:
لَہُمْ فِی الدُّنْیَا خِزْیٌ ۚۖ وَّلَہُمْ فِی الۡاٰخِرَۃِ عَذَابٌ عَظِیۡمٌ ﴿41﴾
دنیا میں ان کے لئے رسوائی ہے اور آخرت میں بڑا عذاب۔(پ6،المائدۃ:41)
(ملفوظات اعلی حضرت،ص 348،مکتبۃ المدینہ،کراچی)
بہارِ شریعت میں ہے:مسجد کے آس پاس جگہ ویران ہوگئی وہاں لوگ رہے نہیں کہ مسجد میں نماز پڑھیں یعنی مسجد بالکل بیکار ہوگئی جب بھی وہ بدستور مسجد ہے کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ اُسے توڑ پھوڑ کر اُسکے اینٹ پتھر وغیرہ اپنے کام میں لائے یا اُسے مکان بنالے۔یعنی وہ قیامت تک مسجد ہے۔(بہارِ شریعت،جلد 2،ص 561،مکتبۃ المدینہ،کراچی)
واللہ اعلم بالصواب
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Urdu Tahrir (Irfan Attari🌷)
نئے نوٹوں کی کاپی پرانے زیادہ نوٹوں پر خریدنا کیسا؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نئے نوٹوں کی کاپی پرانے زیادہ نوٹوں پر خریدنا فقہی اعتبار سے جائز ہے،البتہ اس میں یہ ضروری ہے کہ یہ سودا ہاتھوں ہاتھ ہو یعنی پرانے نوٹ دے کر نئے نوٹ اسی وقت لے لئے جائیں،اگر ادھا پر ہو تو ناجائز ہے۔
نوٹ اموال ربویہ میں سے نہیں کیونکہ نوٹ عددی شے ہے،اموال ربویہ میں وہ چیزیں شمار ہوتی ہیں جو ناپی اور تولی جاتی ہوں جبکہ نوٹ تول کر یا ناپ کر نہیں بکتا۔
تبیین الحقائق میں ہے”ما لا يكال ولا يوزن لا يكون من الأموال الربوية“
ترجمہ:جو ناپا اور نہ تولا جائے وہ اموال ربویہ میں سے نہیں ہوتا۔
(تبيين الحقائق شرح كنزالدقائق،کتاب البیوع،باب الربا،جلد 4،صفحہ 87، المطبعة الكبرى الأميرية،القاهرة)
المبسوط میں ہے”إن كان من نوع واحد مما لا يكال ولا يوزن فلا بأس به اثنان بواحد يدا بيد“
ترجمہ:اگر ایک ہی قسم ہے جو نہ ناپی جاتی ہے اور نہ ہی تولی جاتی ہے تو ایک کے بدلے میں دو ہاتھوں ہاتھ ہونے میں حرج نہیں۔
(المبسوط،کتاب البیوع،جلد12،صفحہ122،دار المعرفة،بيروت)
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن فرماتے ہیں:”نوٹ کی بیع اور مبادلہ میں کمی بیشی برضامندی فریقین مطلقا جائز ہے کہ وہ اموال ربویہ سے نہیں۔ہاں سو روپے کا نوٹ قرض دیا جائے اور یہ ٹھہرا لیا جائے کہ پیسہ اوپر سو لیں گے یہ سود اور حرام قطعی ہے،اور اس کے تمام مسائل کی تفصیل اگر درکار ہو تو ہمارے رسالہ کفل الفقیہ الفاہم میں ہے واللہ تعالیٰ اعلم۔“
(فتاویٰ رضویہ،جلد17،صفحہ605،رضافاؤنڈیشن،لاہور)
پرانے نوٹوں کے عوض نئے نوٹ کم تعداد میں لینا اگر ادھار ہو تو ناجائزوحرام ہے،البتہ اگر یہ معاملہ ہاتھوں ہاتھ نقد ہو تو شرعاً درست ہے۔
اس میں تفصیل یہ ہے کہ قوانین شرع کی رو سے سود کی حرمت کی علت قدرمع الجنس ہے۔اگر قدر وجنس دونوں پائی جائیں تو زیادتی اور ادھار دونوں حرام ہیں۔اور اگر قدر وجنس دونوں نہ پائی جائیں تو زیادتی اور ادھار دونوں حلال ہیں۔اور اگر دونوں میں سے ایک پائی جائے،دوسری نہ پائی جائے مثلا جنس پائی جائے لیکن قدر نہ ہو یا قدر پائی جائے لیکن جنس نہ ہو تو اس صورت میں ہاتھوں ہاتھ زیادتی جائز اور ادھار حرام ہے۔نوٹ میں اگرچہ قدر نہیں کہ یہ عددی شے ہے لیکن نوٹ میں جنس موجود ہے۔
دُرِّمختار میں ہے:وَاِنْ وُجِدَ اَحَدُھُمَا اَیِ الْقَدَرُ وَحْدَہُ اَوِ الْجِنْسُ وَحْدَہُ حَلَّ الْفَضْلُ وَحَرُمَ النَسَاءُ
ترجمہ:اور اگر قدر وجنس میں سے کوئی ایک چیز پائی جائے یعنی صرف قدر پائی جائے یا صرف جنس پائی جائے تو اب کمی بیشی جائز ہے اور ادھار حرام ہے۔(درمختار،ج7،ص422)
اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ سے سوال ہوا: کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ دس روپے کا نوٹ دے کر بارہ روپیہ عوض میں لینا حلال ہے یا حرام؟ بینوا توجروا۔
جواباً آپ علیہ الرحمۃ نے تحریر فرمایا:”بیع میں حلال ہے،یعنی دس کا نوٹ بارہ یا بیس کو برضائے مشتری بیچے تو کچھ مضائقہ نہیں۔ فتح القدیر و رد المحتار وغیرہما کتب معتمدہ میں ہے”لوباع کاغذۃ بالف یجوز ولایکرہ“
اگر کاغذ کا ٹکڑا ہزار روپے میں بیچا تو جائز ہے اور اس میں کوئی کراہت نہیں۔اور اصطلاحی طورپر اس کی قیمت معین ہونا بائع اور مشتری کی باہمی رضامندی کو نہیں روکتا،ہر شخص کو اختیار ہے کہ اپنا مال جو عام نرخ سے دس روپے کا ہو برضائے مشتری سو روپیہ کو بیچے یا ایک ہی پیسہ کو دے دے ۔قال ﷲتعالیٰ﴿الا ان تکون تجارۃ عن تراض منکم ﴾اللہ تعالیٰ نے فرمایا:مگر یہ کہ ہو تمہارے درمیان تجارت تمھاری باہمی رضامندی سے۔ (فتاوٰی رضویہ،جلد17،صفحہ610-611،رضا فاؤنڈیشن،لاہور)
واللہ اعلم بالصواب
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نئے نوٹوں کی کاپی پرانے زیادہ نوٹوں پر خریدنا فقہی اعتبار سے جائز ہے،البتہ اس میں یہ ضروری ہے کہ یہ سودا ہاتھوں ہاتھ ہو یعنی پرانے نوٹ دے کر نئے نوٹ اسی وقت لے لئے جائیں،اگر ادھا پر ہو تو ناجائز ہے۔
نوٹ اموال ربویہ میں سے نہیں کیونکہ نوٹ عددی شے ہے،اموال ربویہ میں وہ چیزیں شمار ہوتی ہیں جو ناپی اور تولی جاتی ہوں جبکہ نوٹ تول کر یا ناپ کر نہیں بکتا۔
تبیین الحقائق میں ہے”ما لا يكال ولا يوزن لا يكون من الأموال الربوية“
ترجمہ:جو ناپا اور نہ تولا جائے وہ اموال ربویہ میں سے نہیں ہوتا۔
(تبيين الحقائق شرح كنزالدقائق،کتاب البیوع،باب الربا،جلد 4،صفحہ 87، المطبعة الكبرى الأميرية،القاهرة)
المبسوط میں ہے”إن كان من نوع واحد مما لا يكال ولا يوزن فلا بأس به اثنان بواحد يدا بيد“
ترجمہ:اگر ایک ہی قسم ہے جو نہ ناپی جاتی ہے اور نہ ہی تولی جاتی ہے تو ایک کے بدلے میں دو ہاتھوں ہاتھ ہونے میں حرج نہیں۔
(المبسوط،کتاب البیوع،جلد12،صفحہ122،دار المعرفة،بيروت)
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن فرماتے ہیں:”نوٹ کی بیع اور مبادلہ میں کمی بیشی برضامندی فریقین مطلقا جائز ہے کہ وہ اموال ربویہ سے نہیں۔ہاں سو روپے کا نوٹ قرض دیا جائے اور یہ ٹھہرا لیا جائے کہ پیسہ اوپر سو لیں گے یہ سود اور حرام قطعی ہے،اور اس کے تمام مسائل کی تفصیل اگر درکار ہو تو ہمارے رسالہ کفل الفقیہ الفاہم میں ہے واللہ تعالیٰ اعلم۔“
(فتاویٰ رضویہ،جلد17،صفحہ605،رضافاؤنڈیشن،لاہور)
پرانے نوٹوں کے عوض نئے نوٹ کم تعداد میں لینا اگر ادھار ہو تو ناجائزوحرام ہے،البتہ اگر یہ معاملہ ہاتھوں ہاتھ نقد ہو تو شرعاً درست ہے۔
اس میں تفصیل یہ ہے کہ قوانین شرع کی رو سے سود کی حرمت کی علت قدرمع الجنس ہے۔اگر قدر وجنس دونوں پائی جائیں تو زیادتی اور ادھار دونوں حرام ہیں۔اور اگر قدر وجنس دونوں نہ پائی جائیں تو زیادتی اور ادھار دونوں حلال ہیں۔اور اگر دونوں میں سے ایک پائی جائے،دوسری نہ پائی جائے مثلا جنس پائی جائے لیکن قدر نہ ہو یا قدر پائی جائے لیکن جنس نہ ہو تو اس صورت میں ہاتھوں ہاتھ زیادتی جائز اور ادھار حرام ہے۔نوٹ میں اگرچہ قدر نہیں کہ یہ عددی شے ہے لیکن نوٹ میں جنس موجود ہے۔
دُرِّمختار میں ہے:وَاِنْ وُجِدَ اَحَدُھُمَا اَیِ الْقَدَرُ وَحْدَہُ اَوِ الْجِنْسُ وَحْدَہُ حَلَّ الْفَضْلُ وَحَرُمَ النَسَاءُ
ترجمہ:اور اگر قدر وجنس میں سے کوئی ایک چیز پائی جائے یعنی صرف قدر پائی جائے یا صرف جنس پائی جائے تو اب کمی بیشی جائز ہے اور ادھار حرام ہے۔(درمختار،ج7،ص422)
اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ سے سوال ہوا: کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ دس روپے کا نوٹ دے کر بارہ روپیہ عوض میں لینا حلال ہے یا حرام؟ بینوا توجروا۔
جواباً آپ علیہ الرحمۃ نے تحریر فرمایا:”بیع میں حلال ہے،یعنی دس کا نوٹ بارہ یا بیس کو برضائے مشتری بیچے تو کچھ مضائقہ نہیں۔ فتح القدیر و رد المحتار وغیرہما کتب معتمدہ میں ہے”لوباع کاغذۃ بالف یجوز ولایکرہ“
اگر کاغذ کا ٹکڑا ہزار روپے میں بیچا تو جائز ہے اور اس میں کوئی کراہت نہیں۔اور اصطلاحی طورپر اس کی قیمت معین ہونا بائع اور مشتری کی باہمی رضامندی کو نہیں روکتا،ہر شخص کو اختیار ہے کہ اپنا مال جو عام نرخ سے دس روپے کا ہو برضائے مشتری سو روپیہ کو بیچے یا ایک ہی پیسہ کو دے دے ۔قال ﷲتعالیٰ﴿الا ان تکون تجارۃ عن تراض منکم ﴾اللہ تعالیٰ نے فرمایا:مگر یہ کہ ہو تمہارے درمیان تجارت تمھاری باہمی رضامندی سے۔ (فتاوٰی رضویہ،جلد17،صفحہ610-611،رضا فاؤنڈیشن،لاہور)
واللہ اعلم بالصواب
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Urdu Tahrir (Irfan Attari🌷)
والسلام:نماز جنازہ کی تکرار ہمارے ائمہ کرام رضی ﷲ تعالٰی عنہم کے نزدیک تو مطلقاً ناجائز ونامشروع ہے، مگر جب کہ اجنبی غیر احق نے بلا اذن و بلامتابعت ولی پڑھ لی ہو تو ولی اعادہ کرسکتا ہے۔سیدی اعلیحضرت علیہ الرحمہ فتاوی رضویہ شریف میں ارشاد فرماتے ہیں:فی الدرالمختار یقدم فی الصلٰوۃ علیہ السلطان او امیر المصر ثم القاضی ثم امام الحی ثم الولی فان صلی غیرالولی من لیس لہ حق التقدم علی الولی ولم یتابعہ الولی اعادالولی ولوعلی قبرہ ان شاء لاجل حقہ لا لاسقاط الفرض ولذا قلنا لیس لمن صلی علیھا ان یعید مع الولی لان تکرارھاغیرمشروع وان صلی من لہ حق التقدم کقاض اونائبہ اوامام الحی اومن لیس لہ حق التقدم وتابعہ الولی لایعید اھ مختصراً۔ترجمہ:درمختار میں ہے: میّت کی نمازپڑھنے میں مقدم بادشاہ یاولیِ شہر ہے پھر قاضی پھر امامِ محلہ پھر ولی اگر ولی کے علاوہ ایسے شخص نے جس کو ولی پر تقدم کا حق حاصل نہیں، نمازِ جنازہ پڑھ لی اور ولی نے اس کی متابعت نہ کی تو ولی اگر چاہے تو دوبارہ پڑھ سکتا ہے خواہ قبر پر ہی پڑھے اسے یہ اختیار اپنے حق کے سبب ہے اس لئے نہیں کہ فرضِ جنازہ ادا نہ ہوا تھا، اسی لئے ہم کہتے ہیں کہ پہلے جو پڑھ چکے تھے وہ ولی کے ساتھ ہوکر دوبارہ نہیں پڑھ سکتے-اس لئے کہ نماز جنازہ کی تکرار جائز نہیں-اور اگر پہلے ایسے شخص نے پڑھی جسے ولی پر تقدم کا حق حاصل ہے جیسے قاضی یا نائب قاضی یا امامِ محلہ یا ایسے شخص نے پڑھ لی جسے حقِ تقدم حاصل نہیں مگر ولی نے اس کی متابعت کر لی تھی تو دوبارہ نہیں پڑھ سکتا۔(فتاوی رضویہ جلد9 ،ص 182) واللہ اعلم بالصواب