Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
امریکہ کا چھتیسواں صدر لینڈن جانسن1961ء میں کراچی آیا تھا ۔
یہ ایک دن کارساز سے گزر رہا تھا تواس کی ملاقات بشیر احمد نامی ایک مزدور سے ہوئی ۔
جانسن کو بشیر احمد بہت زیادہ پسند آیا اور وہ اسے امریکہ لے گیا ۔
امریکہ میں بشیر احمد کو شاہی مہمان بنایا گیا ، بڑی آؤ بَھگت کی گئی ، تحفے تحائف دیے گئے ، بہترین کھانے پیش کیے گئے ؛ بشیر احمد چمچ کے بجائے ہاتھ سے کھانا کھاتا تھا ، اس لیے ایسے کھانے تیار کروائے گئے جنھیں ہاتھ سے کھاتے ہوئےبشیر احمد کو دقت نہ ہو ۔
ایکدن جانسن نے بشیر احمد سے کہا:
تُو جب سے آیا ہے ، تُو نے کوئی مطالبہ نہیں کیا ، اپنی کسی خواہش کا اظہار تو کر !
بشیر احمد کہنے لگا: میری کوئی خواہش نہیں ۔
اس نے کہا: نہیں ، کچھ نہ کچھ تو کَہ ۔
بشیر احمد نے کمال سادگی سے کہا:اچھا پھر جو کہوں گا کردو گے ؟ کہنے لگا: ہاں !
تو پھر ایک پھیرا مدینے کا لگوا دو ۔
( بس میری یہی تمنا ہے )
جانسن یہ سن کر ششدر رہ گیا ، کہ یہ کیسا شخص ہے جسے سوائے مدینے کی زیارت کے کوئی حسرت ہی نہیں ۔
اس نے بشیر احمد کو مدینہ پاک کے لیے روانہ کردیا اور ایک عریضہ سعودی حکومت کو پیش کیا کہ:
میں بھی وہ شہر دیکھنا چاہتا ہوں ( جسے دیکھنے کے لیے بشیر احمد جیسے لوگ ترستے ہیں ) ۔
مولانا اجمل صاحب کہتے ہیں:
یہ جانسن نے خود لکھا ہے ، اور یہ امریکہ کا واحد صدر ہے جس نے مدینۃ النبی دیکھنے کی درخواست دی تھی ، جو اس کے غیرمسلم ہونے کی وجہ سے منظور تو نہ ہوئی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لیکن اس نے مدینہ پاک کی تصویریں کھنچوا کر اپنے کمرے میں لگالیں اور مرتے دم تک انھیں دیکھتا رہا ۔
✍️لقمان شاہد
25-1-2021 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3073986186214883&id=100008105947430
یہ ایک دن کارساز سے گزر رہا تھا تواس کی ملاقات بشیر احمد نامی ایک مزدور سے ہوئی ۔
جانسن کو بشیر احمد بہت زیادہ پسند آیا اور وہ اسے امریکہ لے گیا ۔
امریکہ میں بشیر احمد کو شاہی مہمان بنایا گیا ، بڑی آؤ بَھگت کی گئی ، تحفے تحائف دیے گئے ، بہترین کھانے پیش کیے گئے ؛ بشیر احمد چمچ کے بجائے ہاتھ سے کھانا کھاتا تھا ، اس لیے ایسے کھانے تیار کروائے گئے جنھیں ہاتھ سے کھاتے ہوئےبشیر احمد کو دقت نہ ہو ۔
ایکدن جانسن نے بشیر احمد سے کہا:
تُو جب سے آیا ہے ، تُو نے کوئی مطالبہ نہیں کیا ، اپنی کسی خواہش کا اظہار تو کر !
بشیر احمد کہنے لگا: میری کوئی خواہش نہیں ۔
اس نے کہا: نہیں ، کچھ نہ کچھ تو کَہ ۔
بشیر احمد نے کمال سادگی سے کہا:اچھا پھر جو کہوں گا کردو گے ؟ کہنے لگا: ہاں !
تو پھر ایک پھیرا مدینے کا لگوا دو ۔
( بس میری یہی تمنا ہے )
جانسن یہ سن کر ششدر رہ گیا ، کہ یہ کیسا شخص ہے جسے سوائے مدینے کی زیارت کے کوئی حسرت ہی نہیں ۔
اس نے بشیر احمد کو مدینہ پاک کے لیے روانہ کردیا اور ایک عریضہ سعودی حکومت کو پیش کیا کہ:
میں بھی وہ شہر دیکھنا چاہتا ہوں ( جسے دیکھنے کے لیے بشیر احمد جیسے لوگ ترستے ہیں ) ۔
مولانا اجمل صاحب کہتے ہیں:
یہ جانسن نے خود لکھا ہے ، اور یہ امریکہ کا واحد صدر ہے جس نے مدینۃ النبی دیکھنے کی درخواست دی تھی ، جو اس کے غیرمسلم ہونے کی وجہ سے منظور تو نہ ہوئی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لیکن اس نے مدینہ پاک کی تصویریں کھنچوا کر اپنے کمرے میں لگالیں اور مرتے دم تک انھیں دیکھتا رہا ۔
✍️لقمان شاہد
25-1-2021 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3073986186214883&id=100008105947430
Facebook
Log in to Facebook
Log in to Facebook to start sharing and connecting with your friends, family and people you know.
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
پندرہ اگست اور چھبیس جنوری مَنانا
15 اگست اور 26 جنوری مَنانا کیسا ؟
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
فتاویٰ شارح بخاری جِلد ¹ صفحہ ³²
✍ مفتی شریف الحق امجدی
15 اگست اور 26 جنوری مَنانا کیسا ؟
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
فتاویٰ شارح بخاری جِلد ¹ صفحہ ³²
✍ مفتی شریف الحق امجدی
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
بت خانہ کی تعمیر میں حصہ لینے والو قران میں واضح حکم موجود ہے
من یشفع شفاعۃ حسنۃ یکن لہ نصیب منہا و من یشفع شفاعۃ یکن لہ نصیب منہا : تمھارے لیے درس عبرت ہے
عزیز قارئین کرام مذھب اسلام کو سب سے زیادہ نقصان اور متبعین اسلام کو سب سے زیادہ تکلیف جس طبقہ نے پہنچایا ہے وہ کوئی اور نہیں بلکہ بظاہر کلمہ پڑھنے والے ، اپنی غیرت بیچ کر دنیاوی جاہ و منصب حاصل کر نے والے قوم مسلم پر بدنما داغ بے غیرت مسلمان ہی ہیں ،
عزیز قارئین کرام : بابری مسجد کا معاملہ ھندوستانی مسلمانوں کے لئے ایک ایسا سانحہ جسے بھلا پانا ناممکن ہے ، اس درد کا اظہار ضبط تحریر سے باہر ہے ،کسی شاعر نے جذبات کی ترجمانی کرتے ہوئے کہا تونے بخشے ہیں جو ازار کہاں رکھوں گا ٹوٹے مبر و محراب کہاں رکھوں گا اپنے بچوں سے ہر ایک زخم چھپا لوں گا
مگر 6 دسمبر تیرا اخبار کہاں رکھوں گا گو کہ مظلوم مسلمانوں پر مصائب و الام کے پہاڑ توڑ دئے گئے ایک بارکی موت نہیں بلکہ کئی بار مار ا گیا ، پہلے ان کی عبادت گاہ کے ساتھ شرک کاری شروع کی گئی پھر گنبد و مینار کو منہدم کیا گیا
پھر جانے کتنے ماں کے لالوں کو موت کی نیند سلا دیا گیا پھر باقاعدہ بت خانہ کی بنیاد رکھی گئی اور اب اسی کی تعمیر کا سہارا لیکر ظلم کا ننگا ناچ ناچاجا رہا ہے عزیز قارئین کرام یہ سب ہوا اور آگے بھی ہوگا
لیکن ہاتھ پیر اس وقت شل ہونے لگے آنکھوں کے سامنے اندھیرا اس وقت چھانے لگا جب یہ خبریں سامنے آنے لگیں کہ اس کی تعمیر میں مسلمان بھی شریک ہیں ، گزشتہ شب کسی نے مجھ واٹس ایپ پر ایک فوٹو بھیجا جس میں ایک بے غیرت بنام سید کوکب مجتبی امروہا کا چندہ لکھا ہوا تھا ، میں سکتہ میں آگیا کہ ایسا بھی ہو سکتا ہے ؟؟؟۔
پھر دل سے اواز آئی نہیں یہ سید نہیں ہو سکتا ، میرے نبی کا خون اتنا نہیں گر سکتا ، اس کے نسب میں ضرور خرابی ہے عزیز دوستو جو اپنی عزت اپنا وقار چند سکوں کے عوض بیچ دیتے ہیں ان پر کسی بات کا کوئی اثر نہیں ہوتا ، فارسی کا مقولہ مشہور ہے ( بے حیا باش چوں خواہی کن ) تاہم پھر بھی حکم خداوندی آپ کے سامنے ہے ، پڑھیں اور ایسے خیالات سے توبہ کریں ، یاد رکھیں بھائی چارہ ، امن و امان بت خانہ کی تعمیر سے قائم نہیں ہو سکتا
اللہ تعالٰی ارشاد فرماتا ہے:( وَ تَعَاوَنُوْا عَلَى الْبِرِّ وَ التَّقْوٰى ۪-وَ لَا تَعَاوَنُوْا عَلَى الْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ۪- وَ اتَّقُوا اللّٰهَؕ-اِنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ)۲() (پ۶،المآئدۃ: ۲) ۔
ترجمۂ کنز الایمان: اور نیکی اور پرہیزگاری پر ایک دوسرے کی مدد کرو اور گناہ اور زیادتی پر باہم مدد نہ دو اور اللہ سے ڈرتے رہو بیشک اللہ کا عذاب سخت ہے)اس آیتِ مبارکہ میں اللہ تعالٰی نے دو (2) باتوں کا حکم دیا ہے
(1)نیکی اورپرہیزگاری پر ایک دوسرے کی مدد کرنے کا
(2) گناہ اور زیادتی پر باہمی تعاون نہ کرنے کا
بِر سے مراد ہر وہ نیک کام ہے جس کے کرنے کا شریعت نے حکم دیا ہے اور تقوٰی سے مراد یہ ہے کہ ہر اس کام سے بچا جائے جس سے شریعت نے روکا ہے۔ اِثْم سے مراد گناہ ہے اور عُدْوَان سے مراد اللہ تعالٰی کی حدود میں حد سے بڑھنا۔ (جلالین، ص94) ایک قول یہ ہے کہ اِثْم سے مراد کفر ہے اور عُدْوَان سے مراد ظلم یا بدعت ہے۔(خازن، 1/461)۔
حضرت عبد اللہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالیٰ عَنْہُمَا فرماتے ہیں: نیکی سے مراد سنت کی پیروی کرنا ہے۔ (صاوی، ج2،ص469)۔
حضرت نواس بن سمعان رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالیٰ عَنْہُ فرماتے ہیں: میں نے رسولِ اکرمﷺ سے نیکی اور گناہ کے بارے میں پوچھا تو آپﷺ نےارشادفرمایا: نیکی حُسنِ اَخلاق ہے اور گناہ وہ ہے جو تیرے دل میں کھٹکے اور لوگوں کا اس سے واقف ہونا تجھے ناپسند ہو ترمذی،ج4،ص173،حدیث: 2396
یہ انتہائی جامع آیت مبارکہ ہے،نیکی اورتقوٰی میں ان کی تمام انواع واقسام داخل ہیں اور اِثْم اور عُدْوَان میں ہر وہ چیز شامل ہے جو گناہ اور زیادتی کے زُمرے میں آتی ہو۔عِلْمِ دین کی اشاعت میں وقت ،مال ، درس و تدریس اور تحریر وغیرہ سے ایک دوسرے کی مدد کرنا،دِیْنِ اسلام کی دعوت اور اس کی تعلیمات دنیا کے ہر گوشے میں پہنچانے کے لیے باہمی تعاون کرنا
اپنی اور دوسروں کی عملی حالت سدھارنے میں کوشش کرنا ،نیکی کی دعوت دینا اور برائی سے منع کرنا،ملک و ملت کے اجتماعی مفادات میں ایک دوسرے سے تعاون کرنا سوشل ورک اور سماجی خدمات سب اس میں داخل ہیں
گناہ اور ظلم میں کسی کی بھی مدد نہ کرنے کا حکم ہے کسی کا حق مارنے میں دوسروں سے تعاون کرنا، رشوتیں لے کر فیصلے بدل دینا جھوٹی گواہیاں دینا بلا وجہ کسی مسلمان کو پھنسا دینا ظالم کا اس کے ظلم میں ساتھ دینا حرام و ناجائز کاروبار کرنے والی کمپنیوں میں کسی بھی طرح شریک ہونا
بدی کے اڈوں میں نوکری کرنا یہ سب ایک طرح سے برائی کے ساتھ تعاون ہے اور ناجائزہے
صراط الجنان،ج2،ص378
از قلم عقیل احمد فیضی
خادم : تحریک فروغ اسلام
من یشفع شفاعۃ حسنۃ یکن لہ نصیب منہا و من یشفع شفاعۃ یکن لہ نصیب منہا : تمھارے لیے درس عبرت ہے
عزیز قارئین کرام مذھب اسلام کو سب سے زیادہ نقصان اور متبعین اسلام کو سب سے زیادہ تکلیف جس طبقہ نے پہنچایا ہے وہ کوئی اور نہیں بلکہ بظاہر کلمہ پڑھنے والے ، اپنی غیرت بیچ کر دنیاوی جاہ و منصب حاصل کر نے والے قوم مسلم پر بدنما داغ بے غیرت مسلمان ہی ہیں ،
عزیز قارئین کرام : بابری مسجد کا معاملہ ھندوستانی مسلمانوں کے لئے ایک ایسا سانحہ جسے بھلا پانا ناممکن ہے ، اس درد کا اظہار ضبط تحریر سے باہر ہے ،کسی شاعر نے جذبات کی ترجمانی کرتے ہوئے کہا تونے بخشے ہیں جو ازار کہاں رکھوں گا ٹوٹے مبر و محراب کہاں رکھوں گا اپنے بچوں سے ہر ایک زخم چھپا لوں گا
مگر 6 دسمبر تیرا اخبار کہاں رکھوں گا گو کہ مظلوم مسلمانوں پر مصائب و الام کے پہاڑ توڑ دئے گئے ایک بارکی موت نہیں بلکہ کئی بار مار ا گیا ، پہلے ان کی عبادت گاہ کے ساتھ شرک کاری شروع کی گئی پھر گنبد و مینار کو منہدم کیا گیا
پھر جانے کتنے ماں کے لالوں کو موت کی نیند سلا دیا گیا پھر باقاعدہ بت خانہ کی بنیاد رکھی گئی اور اب اسی کی تعمیر کا سہارا لیکر ظلم کا ننگا ناچ ناچاجا رہا ہے عزیز قارئین کرام یہ سب ہوا اور آگے بھی ہوگا
لیکن ہاتھ پیر اس وقت شل ہونے لگے آنکھوں کے سامنے اندھیرا اس وقت چھانے لگا جب یہ خبریں سامنے آنے لگیں کہ اس کی تعمیر میں مسلمان بھی شریک ہیں ، گزشتہ شب کسی نے مجھ واٹس ایپ پر ایک فوٹو بھیجا جس میں ایک بے غیرت بنام سید کوکب مجتبی امروہا کا چندہ لکھا ہوا تھا ، میں سکتہ میں آگیا کہ ایسا بھی ہو سکتا ہے ؟؟؟۔
پھر دل سے اواز آئی نہیں یہ سید نہیں ہو سکتا ، میرے نبی کا خون اتنا نہیں گر سکتا ، اس کے نسب میں ضرور خرابی ہے عزیز دوستو جو اپنی عزت اپنا وقار چند سکوں کے عوض بیچ دیتے ہیں ان پر کسی بات کا کوئی اثر نہیں ہوتا ، فارسی کا مقولہ مشہور ہے ( بے حیا باش چوں خواہی کن ) تاہم پھر بھی حکم خداوندی آپ کے سامنے ہے ، پڑھیں اور ایسے خیالات سے توبہ کریں ، یاد رکھیں بھائی چارہ ، امن و امان بت خانہ کی تعمیر سے قائم نہیں ہو سکتا
اللہ تعالٰی ارشاد فرماتا ہے:( وَ تَعَاوَنُوْا عَلَى الْبِرِّ وَ التَّقْوٰى ۪-وَ لَا تَعَاوَنُوْا عَلَى الْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ۪- وَ اتَّقُوا اللّٰهَؕ-اِنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ)۲() (پ۶،المآئدۃ: ۲) ۔
ترجمۂ کنز الایمان: اور نیکی اور پرہیزگاری پر ایک دوسرے کی مدد کرو اور گناہ اور زیادتی پر باہم مدد نہ دو اور اللہ سے ڈرتے رہو بیشک اللہ کا عذاب سخت ہے)اس آیتِ مبارکہ میں اللہ تعالٰی نے دو (2) باتوں کا حکم دیا ہے
(1)نیکی اورپرہیزگاری پر ایک دوسرے کی مدد کرنے کا
(2) گناہ اور زیادتی پر باہمی تعاون نہ کرنے کا
بِر سے مراد ہر وہ نیک کام ہے جس کے کرنے کا شریعت نے حکم دیا ہے اور تقوٰی سے مراد یہ ہے کہ ہر اس کام سے بچا جائے جس سے شریعت نے روکا ہے۔ اِثْم سے مراد گناہ ہے اور عُدْوَان سے مراد اللہ تعالٰی کی حدود میں حد سے بڑھنا۔ (جلالین، ص94) ایک قول یہ ہے کہ اِثْم سے مراد کفر ہے اور عُدْوَان سے مراد ظلم یا بدعت ہے۔(خازن، 1/461)۔
حضرت عبد اللہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالیٰ عَنْہُمَا فرماتے ہیں: نیکی سے مراد سنت کی پیروی کرنا ہے۔ (صاوی، ج2،ص469)۔
حضرت نواس بن سمعان رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالیٰ عَنْہُ فرماتے ہیں: میں نے رسولِ اکرمﷺ سے نیکی اور گناہ کے بارے میں پوچھا تو آپﷺ نےارشادفرمایا: نیکی حُسنِ اَخلاق ہے اور گناہ وہ ہے جو تیرے دل میں کھٹکے اور لوگوں کا اس سے واقف ہونا تجھے ناپسند ہو ترمذی،ج4،ص173،حدیث: 2396
یہ انتہائی جامع آیت مبارکہ ہے،نیکی اورتقوٰی میں ان کی تمام انواع واقسام داخل ہیں اور اِثْم اور عُدْوَان میں ہر وہ چیز شامل ہے جو گناہ اور زیادتی کے زُمرے میں آتی ہو۔عِلْمِ دین کی اشاعت میں وقت ،مال ، درس و تدریس اور تحریر وغیرہ سے ایک دوسرے کی مدد کرنا،دِیْنِ اسلام کی دعوت اور اس کی تعلیمات دنیا کے ہر گوشے میں پہنچانے کے لیے باہمی تعاون کرنا
اپنی اور دوسروں کی عملی حالت سدھارنے میں کوشش کرنا ،نیکی کی دعوت دینا اور برائی سے منع کرنا،ملک و ملت کے اجتماعی مفادات میں ایک دوسرے سے تعاون کرنا سوشل ورک اور سماجی خدمات سب اس میں داخل ہیں
گناہ اور ظلم میں کسی کی بھی مدد نہ کرنے کا حکم ہے کسی کا حق مارنے میں دوسروں سے تعاون کرنا، رشوتیں لے کر فیصلے بدل دینا جھوٹی گواہیاں دینا بلا وجہ کسی مسلمان کو پھنسا دینا ظالم کا اس کے ظلم میں ساتھ دینا حرام و ناجائز کاروبار کرنے والی کمپنیوں میں کسی بھی طرح شریک ہونا
بدی کے اڈوں میں نوکری کرنا یہ سب ایک طرح سے برائی کے ساتھ تعاون ہے اور ناجائزہے
صراط الجنان،ج2،ص378
از قلم عقیل احمد فیضی
خادم : تحریک فروغ اسلام
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Urdu Tahrir (Irfan Attari🌷)
تیس سال قبل تین بھائیوں نے اپنی زمین میں سے کچھ زمین دے کر مسجد تعمیر کی اور وہاں اول یوم سے جمعہ نہیں ہوتا اور اب آبادی سے دور ہونے کی وجہ سے اور نزدیک ایک گندے پانی کا جوہڑ ہے اس وجہ سے مسجد میں فقط دو تین نمازی آتے ہیں اور وہ بھی فجر و مغرب و عشاء کے وقت اب واقفان اس جگہ سے مسجد منتقل کر کے بر لب سڑک لے جانا چاہتے ہیں اس کا شرعی طریقہ کیا ہے؟مسجد کی زمین فروخت کر کے دوسری جگہ مسجد کیلئے زمین خرید سکتے ہیں؟دوسری جگہ زمین خرید کر اس جگہ کو ذاتی تصرف میں لا سکتے ہیں؟ سنا ہے کہ امام محمد علیہ الرحمۃ کے ہاں ان سب چیزوں کا جواز ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جو جگہ ایک مرتبہ وقف ہو جائے گی اب کسی صورت اس کو نہ منتقل کیا جاسکتا ہے نہ بیچا جاسکتا ہے نہ ہی مسجد کی جگہ مدرسہ بنایا جا سکتا ہے۔درمختار میں ہے:”فإذا تم ولزم لا یملک ولا یملک ولا یعار ولا یرھن“
یعنی تو جب وقف مکمل اور لازم ہوجائے گا وہ واقف کی ملک نہیں رہے گا اور نہ واقف کسی اور کو اس کا مالک بنا سکے گا،نہ عاریت دے سکے گا اور نہ رہن رکھ سکے گا۔
(درمختارمع ردالمحتار،جلد4،صفحہ352،دارالفکر،بیروت)
فتح القدیر شرح ہدایہ میں ہے:’’الواجب ابقاء الوقف علی ماکان علیہ‘‘
یعنی وقف اپنی حالت پر باقی رکھنا لازم ہے۔
(فتح القدیر،کتاب الوقف،جلد6،صفحہ228،دارالفکر،بیروت)
آبادی سے دور ہونے کی وجہ سے بھی جب چند نمازیوں کے لیے بھی مسجد بنائی جائے تو وہ مسجد ہو جاتی ہے اگرچہ وہاں جمعہ نہ بھی شروع کیا جائے۔
ملفوظات اعلی حضرت میں ہے:
عرض:ایک گاؤں میں مسجد بالکل ویرانہ میں ہے اس کے مُتَّصِل ایک کُمْہَار(یعنی مٹی کے برتن بنانے والے) کا مکان ہے مسجد مذکور میں نماز بھی نہیں ہوتی ہے بلکہ اس کے اِردگرد لوگ کوڑا وغیرہ ڈالتے ہیں وہ کُمْہَار زمین مسجد کو خریدنا چاہتا ہے آیا اس کی بَیْع (یعنی خرید وفروخت)ہوسکتی ہے یا نہیں؟
ارشاد:حرام ہے۔(الفتاوی الھندیۃ،کتاب الوقف،الباب الحادی العشر فی المسجد،ج2،ص457) اگرچہ زمین کے برابر سونا دے مسجد کے لیے جو لوگ ایسا کریں ان کی نسبت قُرآنِ عَظِیْم فرماتا ہے:
لَہُمْ فِی الدُّنْیَا خِزْیٌ ۚۖ وَّلَہُمْ فِی الۡاٰخِرَۃِ عَذَابٌ عَظِیۡمٌ ﴿41﴾
دنیا میں ان کے لئے رسوائی ہے اور آخرت میں بڑا عذاب۔(پ6،المائدۃ:41)
(ملفوظات اعلی حضرت،ص 348،مکتبۃ المدینہ،کراچی)
بہارِ شریعت میں ہے:مسجد کے آس پاس جگہ ویران ہوگئی وہاں لوگ رہے نہیں کہ مسجد میں نماز پڑھیں یعنی مسجد بالکل بیکار ہوگئی جب بھی وہ بدستور مسجد ہے کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ اُسے توڑ پھوڑ کر اُسکے اینٹ پتھر وغیرہ اپنے کام میں لائے یا اُسے مکان بنالے۔یعنی وہ قیامت تک مسجد ہے۔(بہارِ شریعت،جلد 2،ص 561،مکتبۃ المدینہ،کراچی)
واللہ اعلم بالصواب
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جو جگہ ایک مرتبہ وقف ہو جائے گی اب کسی صورت اس کو نہ منتقل کیا جاسکتا ہے نہ بیچا جاسکتا ہے نہ ہی مسجد کی جگہ مدرسہ بنایا جا سکتا ہے۔درمختار میں ہے:”فإذا تم ولزم لا یملک ولا یملک ولا یعار ولا یرھن“
یعنی تو جب وقف مکمل اور لازم ہوجائے گا وہ واقف کی ملک نہیں رہے گا اور نہ واقف کسی اور کو اس کا مالک بنا سکے گا،نہ عاریت دے سکے گا اور نہ رہن رکھ سکے گا۔
(درمختارمع ردالمحتار،جلد4،صفحہ352،دارالفکر،بیروت)
فتح القدیر شرح ہدایہ میں ہے:’’الواجب ابقاء الوقف علی ماکان علیہ‘‘
یعنی وقف اپنی حالت پر باقی رکھنا لازم ہے۔
(فتح القدیر،کتاب الوقف،جلد6،صفحہ228،دارالفکر،بیروت)
آبادی سے دور ہونے کی وجہ سے بھی جب چند نمازیوں کے لیے بھی مسجد بنائی جائے تو وہ مسجد ہو جاتی ہے اگرچہ وہاں جمعہ نہ بھی شروع کیا جائے۔
ملفوظات اعلی حضرت میں ہے:
عرض:ایک گاؤں میں مسجد بالکل ویرانہ میں ہے اس کے مُتَّصِل ایک کُمْہَار(یعنی مٹی کے برتن بنانے والے) کا مکان ہے مسجد مذکور میں نماز بھی نہیں ہوتی ہے بلکہ اس کے اِردگرد لوگ کوڑا وغیرہ ڈالتے ہیں وہ کُمْہَار زمین مسجد کو خریدنا چاہتا ہے آیا اس کی بَیْع (یعنی خرید وفروخت)ہوسکتی ہے یا نہیں؟
ارشاد:حرام ہے۔(الفتاوی الھندیۃ،کتاب الوقف،الباب الحادی العشر فی المسجد،ج2،ص457) اگرچہ زمین کے برابر سونا دے مسجد کے لیے جو لوگ ایسا کریں ان کی نسبت قُرآنِ عَظِیْم فرماتا ہے:
لَہُمْ فِی الدُّنْیَا خِزْیٌ ۚۖ وَّلَہُمْ فِی الۡاٰخِرَۃِ عَذَابٌ عَظِیۡمٌ ﴿41﴾
دنیا میں ان کے لئے رسوائی ہے اور آخرت میں بڑا عذاب۔(پ6،المائدۃ:41)
(ملفوظات اعلی حضرت،ص 348،مکتبۃ المدینہ،کراچی)
بہارِ شریعت میں ہے:مسجد کے آس پاس جگہ ویران ہوگئی وہاں لوگ رہے نہیں کہ مسجد میں نماز پڑھیں یعنی مسجد بالکل بیکار ہوگئی جب بھی وہ بدستور مسجد ہے کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ اُسے توڑ پھوڑ کر اُسکے اینٹ پتھر وغیرہ اپنے کام میں لائے یا اُسے مکان بنالے۔یعنی وہ قیامت تک مسجد ہے۔(بہارِ شریعت،جلد 2،ص 561،مکتبۃ المدینہ،کراچی)
واللہ اعلم بالصواب
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM