🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.85K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
Topic :
Iman Ki Hifazat Sabsey Bada Farz Hai
Speaker
Waqar E Khutba E Zaman
Hazrat Allama Maulana Dr Hasan Raza Khan Saheb Qiblah
PHD Patna
Date 14/15 October 2017
==========
#Follow_Sufism_Not_Terrorism
#Maslak_Aalahazrat_Zindabad
=====

For Updates Like & Follow Us On Facebook
https://web.facebook.com/Sunni-Ijtemaa-Bothali-Shareef-Nagpur-INDIA-2017-484495078388427/?fref=ts


Join Our Telegram Grp
Join Karney K Liye Link Per Click Karein👇
Sunni Ijtema'-Nagpur-2017
https://t.me/Sunni_Ijtima_Bothali_Nagpur

===========
===========👇👇👇👇
عبد السمیع عطاری:
🌹🌹🌹 *سنن نماز* 🌹🌹🌹
(۱) تحریمہ کے لیے ہاتھ اٹھانا اور
(۲) ہاتھوں کی انگلیاں اپنے حال پر چھوڑنا ۔یعنی نہ بالکل ملائے نہ بہ تکلف کشادہ رکھے بلکہ اپنے حال پر چھوڑ دے ۔
(۳) ہتھیلیوں اور انگلیوں کے پیٹ کا قبلہ رُو ہونا
(۴) بوقتِ تکبیر سر نہ جھکانا
(۵) تکبیر سے پہلے ہاتھ اٹھانا یوہیں
(۶) تکبیر قنوت و
(۷) تکبیرات عیدین میں کانوں تک ہاتھ لے جانے کے بعد تکبیر کہے اور ان کے علاوہ کسی جگہ نماز میں ہاتھ اٹھانا سنت نہیں ۔

*مسئلہ* ۶۵: اگر تکبیر کہہ لی اور ہاتھ نہ اٹھایا تو اب نہ اٹھائے اور اﷲ اکبر پورا کہنے سے پیشتر یاد آگیا تو اٹھائے اور اگر موضع مسنون تک ممکن نہ ہو، تو جہاں تک ہو سکے اٹھائے۔ (عالمگیری)

*مسئلہ* ۶۶: عورت کے لیے سنت یہ ہے کہ مونڈھوں تک ہاتھ اٹھائے۔ (ردالمحتار)

*مسئلہ* ۶۷: کو ئی شخص ایک ہی ہاتھ اٹھا سکتا ہے تو ایک ہی اٹھائے اور اگر ہاتھ موضع مسنون سے زیادہ کرے جب ہی اٹھتا ہے تو اٹھائے۔
(۹) امام کا بلند آواز سے اﷲ اکبر اور
(۱۰) سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہٗ اور
(۱۱) سلام کہنا جس قدر بلند آواز کی حاجت ہو اور بلا حاجت بہت زیادہ بلند آواز کرنا مکروہ ہے۔

*مسئلہ* ۶۸: امام کو تکبیر تحریمہ اور تکبیرات انتقال سب میں جہر مسنون ہے۔ (ردالمحتار)

*مسئلہ* ۶۹: اگر امام کی تکبیر کی آواز تمام مقتدیوں کو نہیں پہنچتی، تو بہتر ہے کہ کوئی مقتدی بھی بلند آواز سے تکبیر کہے کہ نماز شروع ہونے اور انتقالات کا حال سب کو معلوم ہو جائے اور بلا ضرورت مکروہ و بدعت ہے۔ (ردالمحتار)

*مسئلہ* ۷۰: تکبیر تحریمہ سے اگر تحریمہ مقصود نہ ہو بلکہ محض اعلان مقصود ہو، تو نماز ہی نہ ہوگی۔ یوں ہونا چاہیے کہ نفس تکبیر سے تحریمہ مقصود ہو اور جہر سے اعلان، یوہیں آواز پہنچانے والے کو قصد کرنا چاہیے اگر اس نے فقط آواز پہنچانے کا قصد کیا تو نہ اس کی نماز ہو، نہ اس کی جو اس کی آواز پر تحریمہ باندھے اور علاوہ تکبیر تحریمہ کے اور تکبیرات یا سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہٗ یا رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ میں اگر محض اعلان کاقصد ہو تو نماز فاسد نہ ہوگی، البتہ مکروہ ہوگی کہ ترک سنت ہے۔ (ردالمحتار)

*مسئلہ* ۷۱: مکبّر کو چاہیے کہ اس جگہ سے تکبیر کہے جہاں سے لوگوں کو اس کی حاجت ہے، پہلی یا دوسری صف میں جہاں تک امام کی آواز بلا تکلف پہنچتی ہے ،یہاں سے تکبیر کہنے کا کیا فائدہ نیز یہ بہت ضروری ہے کہ امام کی آواز کے ساتھ تکبیر کہے امام کے کہہ لینے کے بعد تکبیر کہنے سے لوگوں کو دھوکا لگے گا، نیز یہ کہ اگر مکبّر نے تکبیر میں مد کیا تو امام کے تکبیر کہہ لینے کے بعد اس کی تکبیر ختم ہونے کا انتظار نہ کریں ، بلکہ تشہد وغیرہ پڑھنا شروع کر دیں یہاں تک کہ اگر امام تکبیر کہنے کے بعد اس کے انتظار میں تین بار سبحان اﷲ کہنے کے برابر خاموش رہا، اس کے بعد تشہد شروع کیا ترک واجب ہوا، نماز واجب الاعادہ ہے۔

*مسئلہ* ۷۲: مقتدی و منفرد کو جہر کی حاجت نہیں ، صرف اتنا ضروری ہے کہ خود سنیں ۔ (درمختار، بحر)
(۱۲) بعد تکبیر فوراً ہاتھ باندھ لینا یوں کہ مرد ناف کے نیچے دہنے ہاتھ کی ہتھیلی بائیں کلائی کے جوڑ پر رکھے، چھنگلیا اور انگوٹھا کلائی کے اغل بغل رکھے اور باقی انگلیوں کو بائیں کلائی کی پشت پر بچھائے اور عورت و خنثیٰ بائیں ہتھیلی سینہ پر چھاتی کے نیچے رکھ کر اس کی پشت پر دہنی ہتھیلی رکھے۔ (غنیہ وغیرہا) بعض لوگ تکبیر کے بعد ہاتھ سیدھے لٹکا لیتے ہیں پھر باندھتے ہیں یہ نہ چاہیے بلکہ ناف کے نیچے لا کر باندھ لے۔

*مسئلہ* ۷۳: بیٹھے یا لیٹے نماز پڑھے، جب بھی یوہیں ہاتھ باندھے۔(ردالمحتار)

*مسئلہ* ۷۴: جس قیام میں ذکر مسنون ہو اس میں ہاتھ باندھنا سنت ہے تو ثنا اور دُعائے قنوت پڑھتے وقت اور جنازہ میں تکبیر تحریمہ کے بعد چوتھی تکبیر تک ہاتھ باندھے اور رکوع سے کھڑے ہونے اور تکبیرات عیدین میں ہاتھ نہ باندھے۔ (ردالمحتار)
(۱۳) ثنا و
(۱۴) تعوذ و
(۱۵) تسمیہ و
(۱۶) آمین کہنا اور
(۱۷) ان سب کا آہستہ ہونا
(۱۸) پہلے ثنا پڑھے
(۱۹) پھر تعوذ (یعنی اَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْم۔)
(۲۰) پھر تسمیہ (یعنی بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۔ )
(۲۱) اور ہر ایک کے بعد دوسرے کو فوراً پڑھے، وقفہ نہ کرے،
(۲۲) تحریمہ کے بعد فوراً ثنا پڑھے اور ثنا میں وَجَلَّ ثَنَاؤُکَ غیر جنازہ میں نہ پڑھے اور دیگر اذکار جو احادیث میں وارد ہیں ، وہ سب نفل کے لیے ہیں ۔

*مسئلہ* ۷۵: امام نے بالجہر قراء ت شروع کر دی تو مقتدی ثنا نہ پڑھے اگرچہ بوجہ دُور ہونے یا بہرے ہونے کے امام کی آواز نہ سنتا ہو جیسے جمعہ و عیدین میں پچھلی صف کے مقتدی کہ بوجہ دُور ہونے کے قراء ت نہیں سنتے۔ (عالمگیری، غنیہ) امام آہستہ پڑھتا ہو تو پڑھ لے۔(ردالمحت
ار)

*مسئلہ* ۷۶:

امام کو رکوع یا پہلے سجدہ میں پایا، تو اگر غالب گمان ہے کہ ثنا پڑھ کر پالے گا تو پڑھے اور قعدہ یا دوسرے سجدہ میں پایا تو بہتریہ ہے کہ بغیر ثنا پڑھے شامل ہو جائے۔ (درمختار، ردالمحتار)

*مسئلہ* ۷۷: نماز میں اعوذ و بسم اﷲ قراء ت کے تابع ہیں اور مقتدی پر قراء ت نہیں ، لہٰذا تعوذ و تسمیہ بھی ان کے لیے مسنون نہیں ، ہاں جس مقتدی کی کوئی رکعت جاتی رہی ہو تو جب وہ اپنی باقی رکعت پڑھے، اس وقت ان دونوں کو پڑھے۔ (درمختار)

*مسئلہ* ۷۸: تعوذ صرف پہلی رکعت میں ہے اور تسمیہ ہر رکعت کے اوّل میں مسنون ہے فاتحہ کے بعد اگر اوّلسورت شروع کی تو سورت پڑھتے وقت بسم اﷲ پڑھنا مستحسن ہے، قراء ت خواہ سری ہو یا جہری، مگر بسم اﷲ بہرحال آہستہ پڑھی جائے۔ (درمختار، ردالمحتار)

*مسئلہ* ۷۹: اگر ثنا و تعوذ و تسمیہ پڑھنا بھول گیا اور قراء ت شروع کر دی تو اعادہ نہ کرے کہ ان کا محل ہی فوت ہوگیا، یوہیں اگر ثنا پڑھنا بھول گیا اور تعوذ شروع کر دیا تو ثنا کا اعادہ نہیں ۔ (ردالمحتار)

*مسئلہ* ۸۰: مسبوق شروع میں ثنا نہ پڑھ سکا تو جب اپنی باقی رکعت پڑھنا شروع کرے، اس وقت پڑھ لے۔ (غنیہ)

*مسئلہ* ۸۱: فرائض میں نیت کے بعدتکبیر سے پہلے یا بعد اِنِّیْ وَجَّھْتُ۔۔۔ الخ نہ پڑھے اور پڑھے تو اس کے آخر میں وَاَنَا اَوَّلُ الْمَسْلِمِیْن کی جگہ وَاَنَا مِنَ الْمُسْلِمِیْن کہے۔ (غنیہ وغیرہا)

*مسئلہ* ۸۲:
(۲۳) عیدین میں تکبیر تحریمہ ہی کے بعد ثنا کہہ لے اور ثنا پڑھتے وقت ہاتھ باندھ لے اور اعوذباﷲ چوتھی تکبیر کے بعد کہے۔ (درمختار وغیرہ)

*مسئلہ* ۸۳: آمین کو تین طرح پڑھ سکتے ہیں ، مد کہ الف کو کھینچ کر پڑھیں اور قصر کہ الف کو دراز نہ کریں اور امالہ کہ مد کی صورت میں الف کو یا کی طرح مائل کریں ۔ (درمختار)

*مسئلہ* ۸۴: *اگر مد کے ساتھ میم کو تشدید پڑھی (آمِّیْن) یا یا کو گرا دیا (آمِنْ) تو بھی نماز ہو جائے گی ،مگر خلاف سنت ہے اور اگر مد کے ساتھ میم کو تشدید پڑھی اور یا کو حذف کر دیا (آمِّنْ) یا قصر کے ساتھ تشدید (اَمِّیْنْ) یا حذفِ یا ہو (اَمِنْ) تو ان صورتوں میں نماز فاسد ہو جائے گی* ۔ (درمختار، ردالمحتار)

*مسئلہ* ۸۵: امام کی آواز اس کو نہ پہنچی مگر اس کے برابر والے دوسرے مقتدی نے آمین کہی اور اس نے آمین کی آوازسن لی، اگرچہ اس نے آہستہ کہی ہے تو یہ بھی آمین کہے، غرض یہ کہ امام کا وَلَا الضَّآلِّیْنْ کہنا معلوم ہو تو آمین کہنا سنت ہو جائے گا، امام کی آواز سُنے یا کسی مقتدی کے آمین کہنے سے معلوم ہوا ہو۔ (درمختار)

*مسئلہ* ۸۶: سرّی نماز میں امام نے آمین کہی اور یہ اس کے قریب تھا کہ امام کی آواز سن لی، تو یہ بھی کہے۔ (درمختار) اور
(۲۴) رکوع میں تین بار سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْم کہنا اور
(۲۵) گھٹنوں کو ہاتھ سے پکڑنا اور
(۲۶) انگلیاں خوب کھلی رکھنا، یہ حکم مردوں کے لیے ہے اور
(۲۷) عورتوں کے لیے سنت گھٹنوں پر ہاتھ رکھنا اور
(۲۸) انگلیاں کشادہ نہ کرنا ہے آج کل اکثر مرد رکوع میں محض ہاتھ رکھ دیتے اور انگلیاں ملا کر رکھتے ہیں یہ خلاف سنت ہے۔
(۲۹) حالت رکوع میں ٹانگیں سیدھی ہونا، اکثر لوگ کمان کی طرح ٹیڑھی کر لیتے ہیں یہ مکروہ ہے۔
(۳۰) رکوع کے لیے اﷲ اکبر کہنا۔

*مسئلہ* ۸۷: اگر ’’ ظ ‘‘ ادا نہ کرسکے تو سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْم کی جگہ سُبْحَانَ رَبِّیَ الْکَرِیْم کہے۔ (ردالمحتار)

*مسئلہ* ۸۸: بہتر یہ ہے کہ اﷲ اکبر کہتا ہوا رکوع کو جائے یعنی جب رکوع کے لیے جھکنا شروع کرے، تو اﷲ اکبر شروع کرے اور ختم رکوع پر تکبیر ختم کرے۔ (عالمگیری) اس مسافت کے پورا کرنے کے لیے اﷲ کے لام کو بڑھائے اکبر کی ب وغیرہ کسی حرف کو نہ بڑھائے ۔

*مسئلہ* ۸۹:
(۳۱) ہر تکبیر میں اﷲ اکبر کی ’’رـ‘‘ کو جزم پڑھے۔ (عالمگیری)

*مسئلہ* ۹۰: آخر سورت میں اگر ﷲ عزوجل کی ثنا ہو تو افضل یہ کہ قراء ت کو تکبیر سے وصل کرے جیسے وَ كَبِّرْهُ تَكْبِيْرًاؒ۰۰۱۱۱ اللّٰہُ اَکْبَرُ وَ اَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثْؒ۰۰۱۱ اللّٰہُ اَکْبَر (ث) کو کسرہ پڑھے اور اگر آخر میں کوئی لفظ ایسا ہے جس کا اسم جلالت کے
ساتھ ملانا ناپسند ہو تو فصل بہتر ہے یعنی ختم قراء ت پر ٹھہرے پھر اﷲ اکبر کہے، جیسے اِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتَرُؒ۰۰۳ میں وقف و فصل کرے پھر رکوع کے لیے اﷲ اکبر کہے اور اگر دونوں نہ ہوں ، تو فصل و وصل دونوں یکساں ہیں ۔ (ردالمحتار، فتاویٰ رضویہ)

*مسئلہ* ۹۱: کسی آنے والے کی وجہ سے رکوع یا قراء ت میں طول دینا مکروہ تحریمی ہے، جب کہ اسے پہچانتا ہو یعنی اس کی خاطر ملحوظ ہو اور نہ پہنچانتا ہو تو طویل کرنا افضل ہے کہ نیکی پر اعانت ہے، مگر اس قدر طول نہ دے کہ مقتدی گھبرا جائیں ۔ (ردالمحتار)

*مسئلہ*
۹۲: مقتدی نے ابھ

ی تین بار تسبیح نہ کہی تھی کہ امام نے رکوع یا سجدہ سے سر اٹھالیا تو مقتدی پر امام کی متابعت واجب ہے۔ اور اگر مقتدی نے امام سے پہلے سر اُٹھا لیا تو مقتدی پر لوٹنا واجب ہے، نہ لوٹے گا تو کراہت تحریم کا مرتکب ہوگا، گناہ گار ہوگا۔ (درمختار، ردالمحتار)

*مسئلہ* ۹۳:
(۳۲) رکوع میں پیٹھ خوب بچھی رکھے یہاں تک کہ اگر پانی کا پیالہ اس کی پیٹھ پر رکھ دیا جائے، تو ٹھہر جائے۔ (فتح القدیر)

*مسئلہ* ۹۴: رکوع میں نہ سر جھکائے نہ اونچا ہو بلکہ پیٹھ کے برابر ہو۔ (ہدایہ) حدیث میں ہے: ’’اس شخص کی نماز ناکافی ہے (یعنی کامل نہیں ) جو رکوع و سجود میں پیٹھ سیدھی نہیں کرتا۔‘‘ یہ حدیث ابو داود و ترمذی و نَسائی و ابن ماجہ و دارمی نےابو مسعود رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کی اور ترمذی نے کہا، یہ حدیث حسن صحیح ہے اور فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم : ’’رکوع و سجود کو پورا کرو کہ خدا کی قسم میں تمہیں اپنے پیچھے سے دیکھتا ہوں ۔‘‘ اس حدیث کو بُخاری و مُسلِم نے انس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا۔

*مسئلہ* ۹۵:
(۳۳) عورت رکوع میں تھوڑا جھکے یعنی صرف اس قدر کہ ہاتھ گھٹنوں تک پہنچ جائیں ، پیٹھ سیدھی نہ کرے اور گھٹنوں پر زور نہ دے، بلکہ محض ہاتھ رکھ دے اور ہاتھوں کی انگلیاں ملی ہوئی رکھے اور پاؤں جھکے ہوئے رکھے مردوں کی طرح خوب سیدھے نہ کر دے۔ (عالمگیری)

*مسئلہ* ۹۶: تین بار تسبیح ادنیٰ (یعنی کم از کم۔) درجہ ہے کہ اس سے کم میں سنت ادا نہ ہوگی اور تین بار سے زیادہ کہے تو افضل ہے مگر ختم طاق عدد ( مثلاً پانچ، سات، نو) پر ہو، ہاں اگر یہ امام ہے اور مقتدی گھبراتے ہوں تو زیادہ نہ کرے۔ (فتح القدیر) حلیہ میں عبداﷲ بن مبارک رضی اﷲ تعالیٰ عنہ وغیرہ سے ہے کہ’’ امام کے لیے تسبیحات پانچ بار کہنا مستحب ہے۔ ‘‘ حدیث میں ہے کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم : ’’جب کوئی رکوع کرے اور تین بار سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْم کہے تو اس کا رکوع تمام ہوگیا اور یہ ادنیٰ درجہ ہے اور جب سجدہ کرے اور تین بار سُبْحَانَ رَبِّیَ الْاَعْلیٰ کہے تو سجدہ پورا ہوگیا اور یہ ادنی درجہ ہے۔‘‘ اس کو ابو داود اور ترمذی و ابن ماجہ نے عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا۔

*مسئلہ* ۹۷:
(۳۴) رکوع سے جب اٹھے، تو ہاتھ نہ باندھے لٹکا ہوا چھوڑ دے۔ (عالمگیری)

مسئلہ ۹۸:
(۳۵) سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہ کی ہ کو ساکن پڑھے، اس پر حرکت ظاہر نہ کرے، نہ دال کو بڑھائے۔ (عالمگیری)
(۳۶) رکوع سے اٹھنے میں امام کے لیے سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہ کہنا اور
(۳۷) مقتدی کے لیے اَللّٰھُمَّ رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْد کہنا اور
(۳۸) منفرد کو دونوں کہنا سنت ہے۔

*مسئلہ* ۹۹: رَبَّنَا لَکَ الْحَمْد سے بھی سنت ادا ہو جاتی ہے مگر واو ہونا بہتر ہے اور اَللّٰھُمَّ ہونا اس سے بہتر اور سب میں بہتر یہ ہے کہ دونوں ہوں ۔ (درمختار) حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں : ’’جب امام سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہ کہے، تو اَللّٰھُمَّ رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدکہو کہ جس کا قول فرشتوں کے قول کے موافق ہوا، اس کے اگلے گناہ کی مغفرت ہو جائے گی۔‘‘ اس حدیث کو بُخاری و مُسلِم نے ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا۔

*مسئلہ* ۱۰۰: منفرد سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہکہتا ہوا رکوع سے اٹھے اور سیدھا کھڑا ہو کر اَللّٰھُمَّ رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْد کہے۔(درمختار)
(۳۹) سجدہ کے لیے اور
(۴۰) سجدہ سے اٹھنے کے لیے اﷲ اکبر کہنا اور
(۴۱) سجدہ میں کم از کم تین بار سُبْحَانَ رَبِّیَ الْاَعْلٰی کہنا اور
(۴۲) سجدہ میں ہاتھ کا زمین پر رکھنا

*مسئلہ* ۱۰۱:
(۴۳) سجدہ میں جائے تو زمین پر پہلے گھٹنے رکھے پھر
(۴۴) ہاتھ پھر
(۴۵) ناک پھر
(۴۶) پیشانی اور جب سجدہ سے اٹھے تو اس کا عکس کرے یعنی
(۴۷) پہلے پیشانی اٹھائے پھر
(۴۸) ناک پھر
(۴۹) ہاتھ پھر
(۵۰) گھٹنے۔ (عالمگیری)
رسول ﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم جب سجدہ کو جاتے، توپہلے گھٹنے رکھتے پھر ہاتھ اور جب اٹھتے تو پہلے ہاتھ اٹھاتے پھر گھٹنے۔ اصحاب سُنن اربعہ اور دارمی نے اس حدیث کو وائل ابن حجر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا۔

*مسئلہ* ۱۰۲:
(۵۱) مرد کے لیے سجدہ میں سنت یہ ہے کہ بازو کروٹوں سے جدا ہوں ،
(۵۲) اور پیٹ رانوں سے
(۵۳) اور کلائیاں زمین پر نہ بچھائے، مگر جب صف میں ہو تو بازو کروٹوں سے جدا نہ ہوں گے۔ (ہدایہ، عالمگیری، درمختار)
(۵۴) حدیث میں ہے جس کو بُخاری و مُسلِم نے انس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم : ’’سجدہ میں اعتدال کرے اور کُتے کی طرح کلائیاں نہ بچھائے۔‘‘ اور صحیح مُسلِم میں براء بن عازب رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) فرمات
فرماتے ہیں : ’’جب تو سجدہ کرے تو ہتھیلی کو زمین پر رکھ دے اور کہنیاں اٹھالے۔‘‘ ابو داود نے اُم المومنین میمونہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ جب حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) سجدہ کرتے تو دونوں ہاتھ کروٹوں سے دُور رکھتے، یہاں تک کہ ہاتھوں کے نیچے سے اگر بکری کا بچہ گزرنا چاہتا، تو گزر جاتا۔‘‘ اور مُسلِم کی روایت بھی اسی کے مثل ہے، دوسری روایت بُخاری و مُسلِم کی عبداﷲ بن مالک ابن بحلینہ سے یوں ہے کہ ہاتھوں کو کشادہ رکھتے، یہاں تک کہ بغل مبارک کی سپیدی ظاہر ہوتی۔

*مسئلہ* ۱۰۳:
(۵۵) عورت سمٹ کر سجدہ کرے، یعنی بازو کروٹوں سے ملا دے،
(۵۶) اور پیٹ ران سے،
(۵۷) اور ران پنڈلیوں سے،
(۵۸) اور پنڈلیاں زمین سے۔(عالمگیری وغیرہ)

*مسئلہ* ۱۰۴:
(۵۹) دونوں گھٹنے ایک ساتھ زمین پر رکھے اور اگر کسی عذر سے ایک ساتھ نہ رکھ سکتا ہو، تو پہلے داہنا رکھے پھر بایاں ۔ (ردالمحتار)

*مسئلہ* ۱۰۵: اگر کوئی کپڑا بچھا کر اس پر سجدہ کرے تو حرج نہیں اور جو کپڑا پہنے ہوئے ہے اس کا کونا بچھا کر سجدہ کیا یا ہاتھوں پر سجدہ کیا، تو اگر عذر نہیں ہے تو مکروہ ہے اور اگر وہاں کنکریاں ہیں یا زمین سخت گرم یا سخت سرد ہے تو مکروہ نہیں اور وہاں دھول ہو اور عمامہ کو گرد سے بچانے کے لیے پہنے ہوئے کپڑے پر سجدہ کیا تو حرج نہیں اور چہرے کو خاک سے بچانے کے لیے کیا، تو مکروہ ہے۔ (درمختار)

*مسئلہ* ۱۰۶: اچکن (ایک لمبا لباس جو کپڑوں کے اوپر پہنا جاتا ہے۔) وغیرہ بچھا کر نماز پڑھے، تو اس کا اوپر کا حصّہ پاؤں کے نیچے رکھے اور دامن پر سجدہ کرے۔ (درمختار)

*مسئلہ* ۱۰۷: سجدہ میں ایک پاؤں اٹھاہوا رکھنا مکروہ و ممنوع ہے۔ (درمختار)
(۶۰) دونوں سجدوں کے درمیان مثل تشہد کے بیٹھنا یعنی بایاں قدم بچھانا اور داہنا کھڑا رکھنا،
(۶۱) اور ہاتھوں کا رانوں پر رکھنا،
(۶۲) سجدوں میں انگلیاں قبلہ رُو ہونا،
(۶۳) ہاتھوں کی انگلیاں ملی ہوئی ہونا۔

*مسئلہ* ۱۰۸:
(۶۴) سجدہ میں دونوں پاؤں کی دسوں انگلیوں کے پیٹ زمین پر لگنا سنت ہے اور ہر پاؤں کی تین تین انگلیوں کے پیٹ زمین پر لگنا واجب اور دسوں کا قبلہ رُو ہونا سُنت۔ (فتاویٰ رضویہ)

*مسئلہ* ۱۰۹:
(۶۵) جب دونوں سجدے کرلے تو رکعت کے لیے پنجوں کے بل،
(۶۶) گھٹنوں پر ہاتھ رکھ کر اُٹھے، یہ سُنت ہے، ہاں کمزوری وغیرہ عذر کے سبب اگر زمین پر ہاتھ رکھ کر اُٹھا جب بھی حرج نہیں ۔ (درمختار، ردالمحتار) اب دوسری رکعت میں ثنا و تعوذ نہ پڑھے۔
(۶۷) دوسری رکعت کے سجدوں سے فارغ ہونے کے بعد بایاں پاؤں بچھا کر،
(۶۸) دونوں سرین اس پر رکھ کر بیٹھنا،
(۶۹) اور داہنا قدم کھڑا رکھنا،
(۷۰) اور داہنے پاؤں کی انگلیاں قبلہ رُخ کرنا یہ مرد کے لیے ہے،
(۷۱) اور عورت دونوں پاؤں داہنی جانب نکال دے، (۷۲) اور بائیں سرین پر بیٹھے،
(۷۳) اور داہنا ہاتھ داہنی ران پر رکھنا،
(۷۴) اور بایاں بائیں پر،
(۷۵) اور انگلیوں کو اپنی حالت پر چھوڑنا کہ نہ کھلی ہوئی ہوں ، نہ ملی ہوئی،
(۷۶) اور انگلیوں کے کنارے گھٹنوں کے پاس ہونا، گھٹنے پکڑنا نہ چاہیے،
(۷۷) شہادت پر اشارہ کرنا، یوں کہ چھنگلیا اور اس کے پاس والی کو بند کرلے، انگوٹھے اور بیچ کی اُنگلی کا حلقہ باندھے اور لَا پر کلمہ کی انگلی اٹھائے اور اِلَّا پررکھ دے اور سب اُنگلیاں سیدھی کرلے۔ حدیث میں ہے جس کو ابو داود و نَسائی نے عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ تعالیٰ عنہما سے روایت کیا کہ نبی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم جب دُعا کرتے (تشہد میں کلمہ شہادت پر پہنچتے) تو انگلی سے اشارہ کرتے اور حرکت نہ دیتے۔ (6) نیز ترمذی و نَسائی و بیہقی ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ ایک شخص کو دو انگلیوں سے اشارہ کرتے دیکھا، فرمایا: ’’توحید کر۔ توحید کر‘‘ (ایک انگلی سے اشارہ کر)۔

*مسئلہ* ۱۱۰:
(۷۸) قعدۂ اُولیٰ کے بعد تیسری رکعت کے لیے اُٹھے تو زمین پر ہاتھ رکھ کر نہ اُٹھے، بلکہ گھٹنوں پر زور دے کر، ہاں اگر عذر ہے تو حرج نہیں ۔ (غنیہ)

*مسئلہ* ۱۱۱: نماز فرض کی تیسری اور چوتھی رکعت میں افضل سورۂ فاتحہ پڑھنا ہے اور سبحان اﷲ کہنا بھی جائز ہے اور بقدر تین تسبیح کے چپکا کھڑا رہا، تو بھی نماز ہو جائے گی، مگر سکوت نہ چاہیے۔ (درمختار)

*مسئلہ* ۱۱۲: دوسرے قعدہ میں بھی اسی طرح بیٹھے جیسے پہلے میں بیٹھا تھا اور تشہد بھی پڑھے۔ (درمختار) بعد
(۷۹) تشہد دوسرے قعدہ میں دُرود شریف پڑھنا اور افضل وہ دُرود ہے، جو پہلے مذکور ہوا۔

*مسئلہ* ۱۱۳: دُرود شریف میں حضور سید عالم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اور حضور سیدنا ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کے اسمائے طیبہ کے ساتھ لفظ سیّدنا کہنا بہتر ہے۔(درمختار، ردالمحتار)
( *بہار شریعت جلد اول الف صفحہ٥٢٠تا٥٣١مكتبة المدينه كراچی* )
💐💐💐💐💐💐💐💐💐💐💐💐

*منقبت در شان اھلبیت رضوان اللہ تعالٰی علیہم اجمعین*

*ہے معطر کس قدر یہ گلستان اہلبیت*
*باغ جنت کا مکیں ہے خاندان اھلبیت*

*جب کلام پاک میں ہے انکی عظمت کا بیاں*
*کیا گھٹا پاے گا کوئی عزوشان اھلبیت*

*تھی یزیدی ظلم کی آندھی اگر چہ زور پر*
*استقامت کی فضاء تھی درمیان اھلبیت*

*انکے صدقے مل رہی ہیں دوجہاں کی نعمتیں*
*کسقدر با فیض ہیں یہ تشنگان اھلبیت*

*تھے یزیدی کیا حسینی فرد کے آگے مگر*
*تھا رضائے حق پہ راضی ہر جوان اھلبیت*

*دل میں اپنے تم جلاؤ انکی الفت کے چراغ.*
*سوئے حق ہی جائے گا ہر اک نشان اھلبیت*

*راہ حق میں تم نے قرباں کردے اپنے سہاگ*
*تم پہ رب کی رحمتیں ہوں بیوگان اھلبیت*

*ساری دنیا سے انوکھا بے مثال ولاجواب*
*کربلا میں ہو رہا تھا امتحان اھلبیت*

*امتحان عشق میں ناکام ہوتے کسطرح*
*جب خدائے پاک خود تھا پاسبان اھلبیت*

*خلد میں ہونگے غلامان شہید کربلا*
*ار جہنم میں جلینگے شاتمان اھلبیت*

*مفتئ آعظم ملے شاہ محبی کے طفیل*
*اور ان سے مل گئے ہیں خاندان اھلبیت*

*ہے دعائے عبد قادر ار معاذ قادری*
*ہم سبھی ہوں یا الٰہی خادمان اھلبیت*

*ہے کرم غوث و رضا خواجہ پیا نوری میاں*
*ارشد نوری بنا ہے مدح خوان اھلبیت*



✍🏻 *گدائے مفتئ اعظم*
*محمد ارشدالرحمن قادری*
*آگرہ*
*👳🏽🗣 شیخ امین القادری کی حقیقت*

سب کو پتہ چل گیا ہے کہ مالیگاؤں کا شیخ امین القادری سنیت کی آڑ میں شیعہ عقائد و نظریات کی تبلیغ کررہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج 27 ستمبر کو مالیگاؤں میں اُس کے اپنے علاقے میں ہونے والا اُسکا پروگرام اُنہی لوگوں نے کینسل کروادیا جو کل تک اُس کے حمایتی تھے۔
شیخ امین اپنی تقریروں میں شیعہ عقائد و نظریات کی باتیں بےدھڑک پیش کرکے عوام کو آہستہ آہستہ شیعت کی طرف لے جارہا ہے۔ اُس سے اِس تعلق سے سوال پوچھا جارہا ہے تو جواب دینے کی بجائے *سید سید اور حلالی ہونے کی رٹ لگا رہا ہے* اور اصل بات کا جواب نہیں دے رہا۔
ان حالات کے تناظر میں ہمارے ایک بہت مخلص ساتھی نے نیچے کا مضمون لکھا ہے۔ بغور پڑھیے اور شیر کیجیے۔
👇👇👇👇👇

*سنیو! بیدار ہو جاؤ!*
*اپنی صفوں سے شیعہ نقالوں اور رافضی دلالوں کو نکال باہر کرو!*

*قادریت کا لبادہ* اوڑھ کر اپنے آپ کو اہلسنت بتا کر شیعیت کی تبلیغ کرنا
پاکستانی شیعہ ذاکروں کی تقریر کو نیٹ سے ڈاؤن لوڈ کر کے رٹ رٹ کر اپنی محفلوں میں سنانا
یہ کسی امین یا کسی قادری کا کام نہیں ہو سکتا
بلکہ یہ کام کوئی کمین اور دھوکہ باز ہی کر سکتا ہے
شیعہ ذاکروں کی طرح بار بار اپنے *حلالی* ہونے کا اعلان کرنا *دال میں کچھ کالا* ہونے کا پتہ دیتا ہے

مالیگاؤں میں اس سے پہلے بھی ایک شخص جو جاہل تھا اپنے آپ کو سنی کہتا تھا ایک سنی عالمہ کا شوہر تھا
چرب زبانی کی وجہ سے تقریر وغیرہ بھی کر لیتا تھا
شیعوں نے اس پر پانسہ پھینکا
ہو سکتا ہے کہ متعہ کیلئے کچھ لڑکیاں بھی فراہم کی گئی ہوں اور آج وہ ان کی مجلس عزا کا ذاکر بن چکا ہے
صحابہ کی شان میں کھلے عام تبرا کرتا ہے
خلفاء ثلاثہ کی شان پاک میں گالیاں بکتا ہے
محدثین و مفسرین کی مخالفت کرتا ہے
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ کی شان میں گستاخیاں کرتا ہے
اور وہ ان کا ہو کر رہ گیا

بالکل اسی طرز پر شیخ امین بھی چلنے کی کوشش کررہا ہے
اس کے بھی اسی پالنے میں پیر نظر آرہے ہیں
بلکہ یہ اس سے زیادہ خطر ناک ہو سکتا ہے
کیونکہ دونوں میں مماثلت کے ساتھ کچھ فرق بھی ہے
جاہل وہ بھی تھا
جاہل یہ بھی ہے
وہ اس دور میں کیسٹوں سے یاد کر کر کے تقریر کرتا تھا

یہ موجودہ دور میں نیٹ سے ڈاؤن لوڈ کر کر کے اور یاد کر کر کے تقریر کرتا ہے
مگر فرق یہ ہے کہ وہ شہرت کی اتنی بلندیوں پر نہیں پہنچا تھا
وہ بہت جلد اجاگر ہو گیا تھا
یہ کافی دنوں کے بعد ظاہر ہوا ہے

اُس کی شہرت مالیگاؤں تک محدود تھی اور شیعہ ہونے کے بعد بڑھی
مگر یہ پہلے ہی عالمگیر تحریک سے وابستہ ہوکر اپنی شہرت میں چار چاند لگا چکا ہے
اور اب پوری قوت سے سنیت میں سیندھ لگانے کے چکر میں ہے

*لہذا وقت آگیا ہے کہ سنیو بیدار ہو جاؤ*
*اپنی صفوں سے ان شیعہ نقالوں اور رافضی دلالوں کو نکال باہر کرو*

اللہ پاک سے دعا ہے کہ بھولے بھالے سنیو کو کھرے اور کھوٹے کی پہچان عطا کرے اور سنی کہلا کر شیعہ خیالات کی تبلغ کرنے والوں کو راہ راست پر واپس آنے کی توفیق دے۔

*اگر یہ راہ راست پر نہ آ ئے تو عوام ان کو راستے پر لائیں گے*

*Awame Ahlesunnat se Guzarish hai ke Amini fitne se logo ko bachane ke liye is msg ko aam kare aur hamara number har grup me shamil karaey. Agar aap Amin ke talluq se kuch likhna chahte hai to subut ke sath hamare number pr messge kare. Aap ka naam 100% secret rakha jaey ga.*

*👏 Hamara msg her grp me bheje Please ye no 📲 7621942953 apne Group me Ad kariye.*

*Akhtar786surat@gmail.com*
+917621942953
🌹 *Kyaa Aap Jaante Hayn ?* 🌹

Ubaidullah Khan Azmi Ki Be-Haya’ee Aur Gumrahi Kahan Tak Pahon’ch Chuki Hai? Lijiye Mukammal Subut Ke Sath Padhiye Aur Tajjub Kijiye:

کیا آپ جانتے ہیں عبیداللہ خان اعظمی کی بے حیائی اور گمراہی کہاں تک پہنچ چکی ہے؟ لیجیے مکمل ثبوت کے ساتھ پڑھیے اور تعجب کیجیے.

🔷 عبیداللہ خان اعظمی نے کچھ عرصہ قبل گجرات میں پنڈت مُراری باپو کے "رام کتھا" کے جلسے میں تقریر کی تھی اور رام کی تعریف کے پُل باندھ دیے تھے۔ اِس تقریر پر مفتیان کرام نے کفر کا فتویٰ جاری کیا تھا جس کی تصدیق ملک بھر سے تقریباً 100 مفتیان کرام نے کی تھی جن میں حضور تاج الشریعہ اور حضور محدث کبیر بھی شامل ہیں۔

🔷 Obaidullah Azmi Ne Kuchh Time Pahle Gujarat Me Pandit Morari Bapu Ke “Ram Katha” Ke Jalse Me Taqrir Ki Thi Jis Me Raam Ki Khoob Taarif Ki Thi. is Taqrir Par Muftiyane Keram Ne Kufr Ka Fatwa Jari Kiya Tha Jiski Tasdiq Desh Ke Taqriban 100 Muftiyo’n Ne Ki Thi Jin Me Huzur Tajushshariya Aur Huzur Mohaddise Kabir Bhi Shamil Hain.

🔶 دراصل عبیداللہ کا اب یہ معمول بن چکا ہے کہ علمائے اہلسنت کی شان میں توہین کرتا ہے، ہندووؑں کے مذہبی پیشواوؑں (پنڈتوں) سے دوستی رکھتا ہے اور وہابیوں، دیوبندیوں کے مذہبی جلسوں میں شرکت کرکے تقریر کرتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ اتنا بے حیا اور بے غیرت ہو چکا ہے کہ اجنبیہ مُشرکہ عورتوں سے قربت رکھتا ہے اور اُن سے بےدھڑک گفتگو کرتا ہے۔ آئیے اسکی گمراہی اور بے حیائی کی چند مثالیں دیکھیے:
(ہر سطر کے نیچے لنک پر کِلِک کریں)

🔶 Dar-Asal Obaidullah Ka Ab Ye Mamla Ho Gaya Hai Ke Ulma Ki Shan Me Gustakhi Karta Hai, Hindu Ke Peshwa (Pandit) Se Dosti Rakhta Hai Aur Wahabiyo’n Deobandiyo’n Ke Mazhabi Jalso Me Jakar Taqrir Karta Hai. iske Elawa Ye itna Be-Haya Aur Be-Gairat Ho Chuka Hai Ke Na’mehram Mushrik Aurto’n Se Qurbat Rakhta Hai Aur Unse Khule Aam Baat’en Karta Hai. Aaiye iski Gumrahi Aur Be-Haya’ee Ki Kuch Misal Dekhiye.
(Har Misal Me Link Par Click Kijiye)

1⃣ 11 اکتوبر 2015 کو ممبئی سے قریب نالاسوپارہ تعلقہ میں وہابیوں کے ایک پروگرام میں اس نے شرکت کی اور تقریر کی۔ ممبئی سے نکلنے والے اخبار روزنامہ انقلاب میں اس پروگرام کا اشتہار دیکھیے:
1⃣ 11-10-2015 Ko Mumbai Se Qarib Nallasopara Me Wahabiyo Ke ek Program Me is Ne Shirkat Ki Aur Taqrir Ki. Mumbai Se Nikalne Wale Urdu Akhbar “Inquilab” Me is Program Ki Ad Dekhiye:

www.KilkeRaza.com/u/Ubaid_Nalasopara_Ad.jpg

پروگرام کا پوسٹر Program Ka Poster

www.KilkeRaza.com/u/Ubaid_Nalasopara_Poster.jpg
پروگرام کی رپورٹ ممبئی کے اخبار اردو ٹائمز میں:
Program Ki Report Mumbai Ke Akhbar Me

www.KilkeRaza.com/u/Ubaid_Nalasopara_Report

2⃣ عبید اللہ غیر مقلدوں (اہل حدیث) کے اسٹیج پر (1)
2⃣ Obaidullah Gair Muqallid (Ahle Hadees) Ke Stage Par (1)

www.KilkeRaza.com/u/Obaid_with_GairMuq_1.jpg

3⃣ عبید اللہ غیر مقلدوں (اہل حدیث) کے اسٹیج پر (2)
3⃣ Obaidullah Gair Muqallid (Ahle Hadees) Ke Stage Par (2)

www.KilkeRaza.com/u/Obaid_with_GairMuq_2.jpg

www.KilkeRaza.com/u/Obaid_with_GairMuq_3.jpg

4⃣ عبید اللہ دیوبندیوں (جمیعۃ العلماء) کے اسٹیج پر
4⃣ Obaidullah Deobandiyo’n (Jamiatul Ulam) Ke Stage Par

www.KilkeRaza.com/u/Obaid_with_Deobandi_1.jpg

www.KilkeRaza.com/u/Obaid_with_Deobandi_2.jpg

5⃣ عبیداللہ ہندووؑں کے اسٹیج پر (رام کی تعریف)
5⃣ Obaidullah Hindu’won Ke Satage Par (Raam Ki Tarif)

www.KilkeRaza.com/a/Obaidullah.mp3

www.KilkeRaza.com/u/Report.jpg

6⃣ عبیداللہ اجنبیہ عورتوں کے ساتھ (4مثالیں)
6⃣ Obaidullah Ajnabi Aurto’n Ke Sath (4 Misal)

www.KilkeRaza.com/u/Obaid_Behaya_1.jpg

www.KilkeRaza.com/u/Obaid_Behaya_2.jpg

www.KilkeRaza.com/u/Obaid_Behaya_3.jpg

www.KilkeRaza.com/u/Obaid_Behaya_4.jpg

🚫ان تمام وجوہات کی بنا پر جانشین حضور مفتیؐ اعظم، تاج الشریعہ حضرت علامہ مفتی محمد اختر رضا ازہری مدظلہ العالی نے 27 اپریل2015 کو مکرانہ (راجستھان) کے تاریخی خطاب میں عوام اہلسنت کو اس کے جلسوں سے پرہیز کرنے اور اس کی تقریر نہ سننے کی نصیحت کی۔ حضور تاج الشریعہ کی تقریر ڈاوؑن لوڈ کرنے کیلئے نیچے لنک پر کلک کریں:

🚫in Bato’n Ki Waja Se Tajushshariya Hazrat Allama Mufti Mohammad Akhtar Raza Khan Azhari Maddazillahul-Aali Ne 27-4-2015 Ko Makrana (Rajasthan) Ki Taqrir Me Sunniyo Ko Obaidullah Ke Jalso’n Se Parhez Aur iski Taqrir Na Sun’ne Ki Nasihat Ki. Huzur Tajushsharia Ki Taqrir Download Karne Ke Liye is Link Par Click Karen :
www.KilkeRaza.com/a/Huzur_Tajushshariya_at_Makrana.mp3

🍄 سنی دعوت اسلامی اورعبید اللہ کے درمیان کیسا رشتہ ہے اِس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ جون 2014 میں جب یہ مالیگاؤں آیا تھا تو سنی دعوت اسلامی کے نگراں امین القادری کے مکان پر ٹھہرا تھا اور ایک ہی اسٹیج سے دونوں کی تقریر بھی ہوئی تھی۔ اُس وقت اِسکی تقریر سے عوام میں زبردست ناراضگی پھیل گئی تھی۔ اِسی طرح ابھی 2 مہینے پہلے مالیگاؤں میں اعلان ہوا تھا کہ 25 اکتوبر کو سنی دعوت اسلامی کے امین القادری کی حوصلہ افزائی اور اعترافِ خدمات کے سلسلے میں ایک کانفرنس ہوگی جس میں عبیداللہ خان اعظمی کی خصوصی تقریر ہوگی۔ پورے شہر میں اِس پروگرام کے پوسٹر اور بینر نظر آنے لگے۔ کانفرنس کے ایک دن پہلے جماعت رضائے مصطفےٰ نے واٹس ایپ پر ایک میسج بھیجا جس میں عبید اللہ کی حقیقت کا بیان تھا۔ اس میسج کے عام ہوتے ہی پورے شہر میں ہنگامہ مچ گیا اور چند گھنٹوں میں ہی کانفرنس کے کینسل ہونے کا اعلان آگیا اور وجہ یہ بتائی گئی کہ عبیداللہ کی بیوی کی طبیعت بہت خراب ہے۔

🍄 Sunni Dawate islami Aur Obaidullah Ke Bich Kaisa Rishta Hai iska Andaza is Baat Se Lagaya Ja Sakta Hai Ke June 2014 Me Jab Ye Malegaon Aaya Tha To Sunni Dawate islami Ke Nigran Aminul Qadri Ke Makan Par Qayam Kiya Tha Aur Ek Hi Stage Se Dono Ki Taqrir Bhi Hui Thi. Us Waqt iski Taqrir Se Awam Me Bahot Naraazgi Phail Gai Thi. isi Tarah Abhi 2 Mahine Pahle Malegaon Me Elan Hua Tha Ke 25 October Ko S.D.I Ke Aminul Qadri Ki Hausla-Afzai Aur Eterafe Khidmaat Ke Silsile Me Ek Conference Ho Gi Jis Me Obaidullah Azmi Ki Khas Taqrir Ho Gi. Shaher Me Har Jaga is Program Ke Poster Aur Banner Nazar Aane Lage. Conference Ke 1 Din Pahle Jamat Razae Mustafa Ne WhatsApp Par 1 Message Bheja Jis Me Obaidullah Ki Haqiqat Ka Bayan Tha. is Msg Ke Aam Hote Hi Poore Shaher Me Hangama Mach Gaya Aur Kuchh Ghanto’n Me Hi Conference Ke CANCEL Hone Ka Elan Aa Gaya Aur Waja Ye Batai Gai Ke Obaidullah Ki Biwi Ki Tabiyat Bahot Kharab Hai.

مالیگاوں پروگرام کا پوسٹر
Malegaon Program Ka Poster

www.KilkeRaza.com/u/MalegaonPoster.jpg
مالیگاوں پروگرام کا بینر
Malegaon Program ka Banner

www.KilkeRaza.com/u/MalegaonBanner.jpg

🌴ان شاء اللہ تعالیٰ آئندہ میسج میں اور مثالیں دی جائیں گی۔
🌴in-Sha-Allah Ta’aala Aa’inda Msg Me Aur Bhi Misal Di Jaen Gi.

👑Ye Msg Khoob Aam Karen.

Note 👉Jamat Razae Mustafa Ka WhatsApp Number Har Group Me Bhej Kar Zarur Shamil Karwa Len.

نوٹ👈جماعت رضائے مصطفےٰ کا واٹس ایپ نمبرہر گروپ میں بھیج کر ضرور شامل کروالیں۔

👉 Add This No. in All Groups
* +91-8484846786*
*🌻Jamat Razae Mustafa IMG Team🌻*
www.KilkeRaza.com/JRM.mp3
*----کیا ہماری بہنیں محفوظ ہیں---؟*
*-------ایک جھنجوڑ دینے والا واقعہ---------*
*____کامران غنی صبا، پٹنہ______*
گزشتہ روز بس سے اسکول جاتے ہوئے میری ملاقات ایک نوجوان سے ہوئی۔اس ملاقات نے مجھے اندر تک جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ میرے ہاتھ میں اردو کا اخبار تھا۔ نوجوان نے مسکراتے ہوئے مجھ سے اخبار طلب کیا۔ ’’معاف کیجیے گا، میرے پاس اردو کا اخبار ہے۔‘‘ میرے جواب پر اس نے مسکراتے ہوئے کہا کہ’ کوئی بات نہیں میں تھوڑی بہت اردو پڑھ لیتا ہوں۔‘مجھے لگا شاید یہ نوجوان مسلمان ہے، کیوں کہ بہت سارے مسلم نوجوان بھی اچھی طرح اردو پڑھنا لکھنا نہیں جانتے۔ اس سے پہلے کہ مزیدمیں اس سے کچھ دریافت کرتا اُس نے خود ہی کہنا شروع کیا ’’ میری گرل فرنڈ مسلمان ہے اور اُس نے ہی مجھے اردو لکھنا پڑھنا سکھایا ہے۔‘‘مجھے اس کی بات پر زیادہ حیرانی نہیں ہوئی
*البتہ میں نے مزید وضاحت کے لیے براہ راست بات کرنا زیادہ مناسب سمجھا۔’’آپ ہندو ہیں؟‘‘ میرے اس سوال پر وہ تھوڑی دیر تک مسکراتا رہا پھر کہنے لگا کہ میں خاندانی طور پر ہندو اور نظریاتی طور پر ’ناستک‘ (ملحد) ہوں، البتہ اب مسلمان ہونا چاہتا ہوں۔*

*’’آپ اپنی مرضی سے مسلمان ہونا چاہتے ہیں یا آپ کی گرل فرینڈ کا حکم ہے۔‘‘*
’’نہیں۔۔ اُس نے ایسا کبھی نہیں کہا ،ہاں مجھے اسلام کے بارے میں بتاتی ضرور ہے، لیکن شاید وہ خود بھی اپنے مذہب کے بارے میں بہت کم ہی جانتی ہے۔‘
اب وہ نوجوان خود ہی اپنے بارے میں تفصیل سے بتانے لگا۔ اس نے بتایا کہ وہ ’کان پور‘ کا رہنے والا ہے اور اپنے کسی دوست کی شادی میں بہار آیا ہوا ہے۔ نوجوان بہت زیادہ پڑھا لکھا نہیں لگ رہا تھا لیکن اُس کی باتوں میں سنجیدگی اور ٹھہرائو تھا۔ اس نے بتایا کہ وہ اسلام کے متعلق جاننا چاہتا ہے لیکن اس خوف سے اپنی خواہش کا برملا اظہار نہیں کرتا کہ اس کے گھر والے اور سماج کے لوگ اسے جینے نہیں دیں گے۔
🚫 *اس نے بتایا کہ اترپردیش کا ماحول بہت تیزی سے بدل رہا ہے۔ ہندو تنظیموں کا اثر و رسوخ دن بدن بڑھتا جا رہاہے۔ نئی حکومت بننے کے قبل سے ہی ہندو تنظیموں خاص طور سے ’’بجرنگ دل‘‘ اور ’’ہندو یووا واہنی‘‘ کے کام کرنے کے طریقوں میں بھی تبدیلی آئی ہے۔ اُس نوجوان نے بتایا کہ ہندو تنظیموں کی پوری کوشش مسلمان عورتوں اور لڑکیوں کو ان کے دین سے بدظن کرنا ہے۔ اس کے لیے ان تنظیموں نے بہت ہی مضبوط لائحۂ عمل بنایا ہے۔ شادی شدہ عورتوں کو ’طلاق‘، ’گھریلو مظالم‘ اور آزادی کے نام پر ورغلانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ مسلمان عورتوں سے پیسے دے کر، نقاب پہنا کر اسلام مخالف بیانات رکارڈ کروائے جا رہے ہیں اور انہیں سوشل میڈیا پر وائرل کیا جا رہا ہے۔مسلم لڑکیوں کو ورغلانے کے لیے بہت ہی خطرناک منصوبے کے تحت کام ہو رہا ہے۔ اس کے لیے باضابطہ نوجوان لڑکوں کو ٹریننگ دی جاتی ہے۔ انہیں خاص طور سے اردو زبان سکھائی جاتی ہے۔ لڑکیوں کے اندر جلد متاثر ہونے کی صلاحیت ہوتی ہے۔ لہذا جب وہ غیر مسلم لڑکوں کی زبان سے اردو زبان کے الفاظ اور اشعار سنتی ہیں تو فطری طور پر متاثر ہوتی ہیں اور یہیں سے ان کی بربادی کی داستان شروع ہو جاتی ہے۔ نوجوان نے بتایا کہ ہندو تنظیموں کی جانب سے ایک مسلمان لڑکی کو گمراہ کرنے کے عوض دو لاکھ روپے کی پیش کش کی جاتی ہے۔ ساتھ ہی یہ شرط بھی عائد کی جاتی ہے کہ چھ مہینے سے سال بھر کے اندر اندر لڑکی کو اس حالت میں لا کھڑا کرنا ہے کہ وہ یا تو خود کشی کر لے یا سماج میں منھ دکھانے کے لائق بھی نہ رہے۔*

نوجوان کی باتوں نے مجھے اندر تک ہلا کر رکھ دیا۔ میں نے اپنے حوصلے کو جمع کرتے ہوئے مصنوعی مسکراہٹ کے ساتھ اُس سے سوال کیا کہ ’’ آپ کے پاس ایک اچھا موقع ہے، آپ دو لاکھ روپے کی پیش کش کیوں ٹھکرا رہے ہیں؟‘‘ ۔ میرے اس سوال پر وہ انتہائی سنجیدہ ہو گیا، کہنے لگا۔ ’’بھائی جان! ظلم ہندو کرے یا مسلمان، ظلم ظلم ہی ہوتا ہے ،اوپر والا ظلم کرنے والے کو کبھی معاف نہیں کرتا۔‘‘
نوجوان کی منزل آ چکی تھی۔ وہ آداب، سلام اور مصافحہ کر کے بس سے اتر چکا تھا۔ اس کے جانے کے بعد میں سوچتا رہا کہ کیا اِن منصوبوں کو ناکام بنانے کے لیے ہمارے پاس بھی کوئی منصوبہ ہے؟
کیا ہماری بہنوں کے اندر وہ قوت ایمانی ہے کہ وہ ان ظالموں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کر سکیں؟
کیا مسلم لڑکیوں کی تربیت کا ہمارے پاس ایسا کوئی انتظام ہے کہ کوئی انہیں گمراہ نہ کر سکے؟
مجھے نہیں معلوم کہ جس نوجوان سے میری ملاقات ہوئی اس کی باتوں میں کتنی سچائی تھی، ممکن ہے وہ خود بھی ’کسی منصوبہ‘ کے تحت کام کرتا ہو لیکن اُس کی باتوں نے مجھے یہ سوچنے پر مجبور کر دیا کہ کیا گھر سے باہر اسکول، کالجز اور یونیورسٹیز میں ہماری بہنیں محفوظ ہیں؟
------------------------------------------------------
*برائے کرم اس تحریر کو اپنی مسلم بہنوں کو ضرور فارورڈ کریں*
آن لائن " فنِ شاعری " گروپ کـے طرحی مشاعـرہ میں کہـا گیا کلام ؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛

ــــــــــــــــــ مصرع طرح ــــــــــــــــــ

*جب آ گئے بَہتّــر میـــدانِ کـربــلا میں*

🌻🌻🌻🌻

ہیـں دینِ حق کـے رہبـر، میــدانِ کربـلا میـں
چیـن و قــرارِ ســرور، میــــدانِ کـربـلا میـں

🌻🌻🌻🌻

تسکیـنِ قلبِ حیـدر، میــــــدان کـربــلا میـں
ہیں طاہـرہ کـے دلبــر، میــــــدان کـربـلا میں

🌻🌻🌻🌻

خوشبوسےجنکی،مہکے گلشن عرب،عجم کے
زہـرہ کـے ہیـں گلِ تـر، میـــــدان کـربـلا میـں

🌻🌻🌻🌻

زہـــــرہ کـے چیـن آئـے ، پیارے حسیـــن آئـے
چـل تو بھی قلبِ مضطـر، میـدان کربلا میں

🌻🌻🌻🌻

طیبـہ سے وہ چلے ہیں، مکّہ سے وہ چلے ہیں
عـزم حَسیـن لـے کـر، میـــــــدان کـربـلا میـں

🌻🌻🌻🌻

بجلی سی گـر پڑی ھـے دل پـر یزیدیوں کـے
جب آ گئـے بہـتّــر، میـــــــــدان کـربــلا میـں

🌻🌻🌻🌻

قـربـان ہـو گئـے ہیـں جـانِ بتـول و حیـــــدر
پیغـام حـق سنـا کـر، میــــــدان کـربــلا میـں

🌻🌻🌻🌻

ابـنِ عــلی نــے سجــــــدہ ایسـا ادا کیا ھــے
سـر تو ھـے زیـرِ خنجـر، میــدان کـربـلا میں

🌻🌻🌻🌻

کیسے تھے اہلِ کوفہ؟جھوٹـے تھے اہل کوفہ
دھوکہ دیا بـلا کـر، میـــــــــدان کـربــلا میـں

🌻🌻🌻🌻

کیسےتھےوہ ستمگر،تھےدل بھی جنکے پتھر
بـرســائـے تیـر تـن پـر، میـــــدان کـربـلا میـں

🌻🌻🌻🌻

محبـوبِ مصطفٰـے ہیـں، دلبنـــدِ فـاطمــہ ہیں
اے ظالـم و ستمگــر! میـــــــدان کـربــلا میں

🌻🌻🌻🌻

عرش و فلک نـے دیکھا، حور و ملک نے دیکھا
آنکھوں سـے خونی منـظر، میــدان کربـلا میں

🌻🌻🌻🌻

گــر ہـوتـا اِکــــــ اشـارہ ســـرکارِ کـربــــــلا کا
جنت سـے آتـا کـوثـر، میــــــدان کـربـلا میـں

🌻🌻🌻🌻

بخشش ہمـاری فـرمـا، ھــے واسطـہ انہیں کا
جـو ہـو گئـے نچھـاور، میـــــدان کـربـلا میـں

🌻🌻🌻🌻

اِکـــــ منقبت لکھـو تـم عــــرفـانِ قـادری اب
خـونِ جـگـر بہـا کــر، میـــــدان کـربــلا میـں

🌻🌻🌻🌻
؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛ نتیجـۂ فکـر ؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛

*محمد عــرفـان رضـا قـادری*
چھپرہ، بِہـار ( الھنــد )
📱 : +919546004116
*👳🏽🗣 میدان میں غلطی اور باتھ روم میں توبہ؟*

*😪 حد ہوگئی امین صاحب آپ کے ناٹک کی!!!*

*😆 اگر توبہ اتنی آسان ہوجائے تو شیطان اپنی پوری ٹیم کے ساتھ ریٹائر ہوجائے!*

*😵 آپ کا یہ طریقہ لوگوں کو گناہ کرنے پر نڈر بنادے گا!*

مالیگاؤں کے *انپڑھ مبلغ شیخ امین القادری* کی محبت میں گرفتار ایک دیوانہ جس نے اپنا نام محمد سلیم لکھا ہے اور خود کو نیو ایس ٹی کالونی اورنگ آباد کی ایک مسجد کا امام بتایا ہے۔ اس نے کچھ سوالات پوسٹ کیے ہیں جنھیں *مدلل سوالات* کہا ہے مگر دلیل ایک بھی نہیں لکھی۔ (آپ خود دیکھ سکتے ہیں) ہم نے اپنی بساط کے مطابق اُس کے ہر سوال کا جواب لکھ دیا ہے۔

*سوال: جناب والا کس گناہ کی توبہ علانیہ کی جاتی ہے؟*
جواب: اعلانیہ جرم کے ارتکاب پر اعلانیہ توبہ لازم ھے ۔ فسق ۔ بدعت ۔ ضلالت اور کفر اعلانیہ کے ارتکاب پر اعلانیہ توبہ لازم ھے۔

*سوال: آپ کو اُن کی (امین القادری کی) توبہ سے کیا تعلق ہے؟*
جواب: دو طرح سے تعلق ھے ۔ ایک ان کی ذات کو شریعت کی زد سے بچانا مقصد ہے کیونکہ حدیث پاک میں ہے النصیحتہ لکل مسلم (بخاری) دوسرا مقصد امتہ مسلمہ کو غلط ڈگر پر جانے سے روکنا ہے۔

*سوال: کیا آپ اسلامی عدلیہ کی قاضی ہیں؟*
جواب: تامرون بالمعروف و تنھون عن المنکر یہ حکم عام ھے۔ اس کا مصداق صرف اسلامی عدلیہ کا قاضی نہیں ہے بلکہ ہر مسلمان اس حکم میں شامل ہے ورنہ آپ بتائیے کہ اسلامی حکم کا بیان و نفاذ یکساں حکم رکھتا ھے یا منفرد اور دونوں کے مابین نسبت کا کیا تعین ہے؟

*سوال: کیا امین القادری کی غلطی میں کفر پایا جاتا ہے؟*
جواب: اس کی تقریروں میں کچھ جملے کفر کی حد تک پہنچے ہیں۔ مثلا لفظ "بھکاری" کا حضرت جبرئیل پر اطلاق۔ "ایک ہی نور سے تخلیق" کا قول۔ "نبی کریم جب خموش ھوں تو قرآن اور بولیں تو علی ھیں" کا قول وغیرہ وغیرہ منجر الی الکفر کے باعث موجب کفر ھے۔

*سوال: کیا آپ اس کو علانیہ توبہ نہیں مانتے جبکہ آپ بھی ان کے بیانات کو سوشل میڈیا ہی کے ذریعے سماعت کیے ہیں؟*
جواب: سوشل میڈیا پر سماعت کے بعد قول کو موجب کفر کہا گیا لیکن جو لوگ اُس کے جلسے میں موجود تھے اُن کی روایت و حکایت بھی ھے۔ لہٰذا اُسی طرز پر اسٹیج لگا کر توبہ ہوگی تو اعلانیہ کہلائے گی۔ دوسری بات یہ کہ صرف مبہم انداز میں توبہ کافی نہیں بلکہ ہر قول باطل کے بطلان کا اعلان بھی لازم ھے۔

*سوال: امین القادری کے بیانات کے متعلق آپ کی تحقیق کہاں تک درست ہے اس کسی دارالافتاء کا مہر ثبت ہے؟*
جواب: امین کی تقریروں میں پائی جانے والی گمراہیوں کی خبر اور شہرت تواتر کے ساتھ مل رہی ہیں۔ اس نے تسلیم بھی کیا ہے کہ کچھ باتیں میں نے کہی ہیں۔ شہر سورت کے معتبر و سنجیدہ عالم دین حضرت مولانا مفتی اسمٰعیل امجدی صاحب قبلہ نے تحریری طور پر اس سے سوال کیا ہے۔ سوال میں اس کے اُس جملے کا حوالہ دیا ہے جو کفر تک پہنچا ہوا ہے۔ اس سوال کی کاپی مولانا شاکر اور قاری رضوان صاحبان کو بھی دی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ 14 اکتوبر کو امین القادری کی سورت آمد کے موقع پر پروگرام سے پہلے ہمیں اس سے ملاقات کا وقت دیا جائے تاکہ علمائے گجرات کا ایک وفد اس سے بات چیت کرسکے۔ اِسی طرح مالیگاؤں میں امین نے شیعوں کے طریقے پر چلتے ہوئے عیدِ غدیر کے جلسے میں تقریر کی اگرچہ جلسے کا عنوان یوم مباہلہ رکھا۔ اس جلسے میں شیعوں کی طرح غدیر خُم کے واقعے کا ذکر کیا اور حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے فضائل بیان کرنے میں غلو سے کام لیا جس طرح شیعہ کرتے ہیں۔ لہٰذا مالیگاؤں کی تمام اہم سنی تنظیموں کے ذمہ داران اور علمائے کرام نے اس کی پکڑ کی اور اس کی تقریر پر سوالات قائم کیے۔ جواب نہ ملنے پر مالیگاؤں میں سنی دعوت اسلامی کے مرکز کے پاس اسٹیج لگا کر امین کا رد کیا گیا اور اہلسنت کے مایہ ناز عالم حضرت علامہ مفتی شمشاد احمد مصباحی صاحب وغیرہ کو بلا کر اس کی گمراہیت کو بے نقاب کیا گیا۔

*سوال: اب جبکہ انہوں نے رجوع کرہی لیا ہے اور اس رجوع کو علما قبول کرچکے ہیں تو آپ کی نانی جان کا جنازہ کیونکر نکل رہا ہے؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ ان باتوں کے کرنے اور انتشار پھیلانے میں آپ کے نفس امارہ کو مزہ آرہاہو؟*
جواب: اس نے رجوع یا توبہ نہیں کیا ہے بلکہ ایک ویڈیو فلم ریلیز کرکے ایک نئے گناہ کا ارتکاب کیا ہے اور جو لوگ اس کو پھیلا رہے ہیں وہ بھی گناہ میں پڑ رہے ہیں۔ توبہ کیلئے ویڈیو کی نہیں بلکہ گواہ اور مجمع کی ضرورت ہے اور اپنی غلطیوں کی تفصیل بتانا بھی ضروری ہے۔ مگر اپس نے اپنی کسی غلطی کا ذکر نہیں کیا۔ یہی وجہ ہے کہ مالیگاؤں سے آج بھی ایسے میسج آرہے ہیں کہ امین القادری اپنی اُن غلطیوں کا کھلے عام اعتراف کرے اور علی الاعلان توبہ کرے جو اُس نے مچھلی بازار میں تعزیہ کمیٹی کی جانب سے منعقد یوم مباہلہ کے پروگرام میں غدیر خُم والی تقریر میں کی تھی۔
*سلیم صاحب!* ایسی توبہ کے بعد جنازہ تو آپ کی انا اور نفس کا نکل رہا ہوگا کیونکہ علمائے کرام اور..
باشعور عوام نے اس رجوع کو مسترد کردیا ہے۔ اس سے بڑا انتشار اور کیا ھوگا کہ وہ بات بیان کی جائے جس سے قوم کو اپنے ایمان سے ہاتھ دھونا پڑے۔ عوام کو ایسی گمراہی سے بچانے کو انتشار وہی کہے گا جس کے وجود میں شیطان کا بسیرا ھوچکا ھو۔

*سوال: کیا آپ کے علم و اعمال خداے بزرگ و برتر کے حضور اس قدر اعلی و افضل ہے کہ آپ شرعی حکم کے نافذ کرنے کے اہلیت رکھتے ہوں؟*
جواب: آپ کو اتنا مسئلہ بھی نہیں معلوم کہ برائی کی نشاندہی، اُسے روکنے اور اُس سے عوام کو بچانے کیلئے متقی ھونا ضروری نہیں بلکہ حسب استطاعت عمل کرنے کا حکم ہے اور دل میں بُرا جاننا ایمان کا سب سے کمزور درجہ ہے۔

*سوال: کیا آپ کے اس قیل و قال سے مسلک حق اہلسنت والجماعت کو دور دور تک کہیں بھی کسی بھی اعتبار سے نفع دنیا والآ خرة ہے؟*
جواب: بالکل نفع آخرت ھے۔ اگرامین نے صحیح طریقے سے توبہ کرلی اور قوم گمراھیت سے بچ گئ تو نفع ھی نفع ھے ۔ یہ نفع شیطان نہیں سمجھ سکتا۔ یہ امام حسین رضی الله تعالی عنہ نے کربلا سے بتا دیا ھے۔

*سلیم صاحب! آپ امین القادری کی غلطیوں کی حمایت کرکے اس کو گمراہیت کی دلدل میں دھکیل رہے ہیں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ امین القادری کے عاشق نہیں بلکہ قاتل ہیں !!!*

*Note: Msg ke sath subut ke liye audio bhejne ki zarurat hoti hai. Badi tadad me audio bhejna mushkil hota hai aur sab log msg ke sath audio forward nahi kar paate. Is liye hum ko ek website bananae ki zarurat hai taa ke saari bate aur saara subut ek jaga jama ho jaae. Is kaam ke liye hame RAQAM ki sakht zarurat hai. Dua kare ke Allah Paak koi rasta paida farma de. Aamin.*

*👏 Hamara msg her grup me bheje Please ye no 📲 7621942953 apne Grup me Ad kare...*

📮BarkatiMissionINDIA@gmail.com
*📞+91-7621942953*
*🕋 Barkati Mission, INDIA 🕋*