اس وقت دو کتابیں پیشِ نظر ہیں ، اور دونوں ہی میرے لیے کافی دل چسپ ہیں ۔
میں فیصلہ نہیں کر پا رہا تھا کہان میں سے پہلے کس کا مطالعہ کروں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سوچا آپ سے مشورہ کر لیتاہوں ، آپ بہتر رائے دیں گے ۔
اگر مناسب سمجھیں تو اپنی رائے گرامی سے ضرور نوازیں !
✍️لقمان شاہد
24-1-20201ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3073453076268194&id=100008105947430
میں فیصلہ نہیں کر پا رہا تھا کہان میں سے پہلے کس کا مطالعہ کروں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سوچا آپ سے مشورہ کر لیتاہوں ، آپ بہتر رائے دیں گے ۔
اگر مناسب سمجھیں تو اپنی رائے گرامی سے ضرور نوازیں !
✍️لقمان شاہد
24-1-20201ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3073453076268194&id=100008105947430
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
امریکہ کا چھتیسواں صدر لینڈن جانسن1961ء میں کراچی آیا تھا ۔
یہ ایک دن کارساز سے گزر رہا تھا تواس کی ملاقات بشیر احمد نامی ایک مزدور سے ہوئی ۔
جانسن کو بشیر احمد بہت زیادہ پسند آیا اور وہ اسے امریکہ لے گیا ۔
امریکہ میں بشیر احمد کو شاہی مہمان بنایا گیا ، بڑی آؤ بَھگت کی گئی ، تحفے تحائف دیے گئے ، بہترین کھانے پیش کیے گئے ؛ بشیر احمد چمچ کے بجائے ہاتھ سے کھانا کھاتا تھا ، اس لیے ایسے کھانے تیار کروائے گئے جنھیں ہاتھ سے کھاتے ہوئےبشیر احمد کو دقت نہ ہو ۔
ایکدن جانسن نے بشیر احمد سے کہا:
تُو جب سے آیا ہے ، تُو نے کوئی مطالبہ نہیں کیا ، اپنی کسی خواہش کا اظہار تو کر !
بشیر احمد کہنے لگا: میری کوئی خواہش نہیں ۔
اس نے کہا: نہیں ، کچھ نہ کچھ تو کَہ ۔
بشیر احمد نے کمال سادگی سے کہا:اچھا پھر جو کہوں گا کردو گے ؟ کہنے لگا: ہاں !
تو پھر ایک پھیرا مدینے کا لگوا دو ۔
( بس میری یہی تمنا ہے )
جانسن یہ سن کر ششدر رہ گیا ، کہ یہ کیسا شخص ہے جسے سوائے مدینے کی زیارت کے کوئی حسرت ہی نہیں ۔
اس نے بشیر احمد کو مدینہ پاک کے لیے روانہ کردیا اور ایک عریضہ سعودی حکومت کو پیش کیا کہ:
میں بھی وہ شہر دیکھنا چاہتا ہوں ( جسے دیکھنے کے لیے بشیر احمد جیسے لوگ ترستے ہیں ) ۔
مولانا اجمل صاحب کہتے ہیں:
یہ جانسن نے خود لکھا ہے ، اور یہ امریکہ کا واحد صدر ہے جس نے مدینۃ النبی دیکھنے کی درخواست دی تھی ، جو اس کے غیرمسلم ہونے کی وجہ سے منظور تو نہ ہوئی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لیکن اس نے مدینہ پاک کی تصویریں کھنچوا کر اپنے کمرے میں لگالیں اور مرتے دم تک انھیں دیکھتا رہا ۔
✍️لقمان شاہد
25-1-2021 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3073986186214883&id=100008105947430
یہ ایک دن کارساز سے گزر رہا تھا تواس کی ملاقات بشیر احمد نامی ایک مزدور سے ہوئی ۔
جانسن کو بشیر احمد بہت زیادہ پسند آیا اور وہ اسے امریکہ لے گیا ۔
امریکہ میں بشیر احمد کو شاہی مہمان بنایا گیا ، بڑی آؤ بَھگت کی گئی ، تحفے تحائف دیے گئے ، بہترین کھانے پیش کیے گئے ؛ بشیر احمد چمچ کے بجائے ہاتھ سے کھانا کھاتا تھا ، اس لیے ایسے کھانے تیار کروائے گئے جنھیں ہاتھ سے کھاتے ہوئےبشیر احمد کو دقت نہ ہو ۔
ایکدن جانسن نے بشیر احمد سے کہا:
تُو جب سے آیا ہے ، تُو نے کوئی مطالبہ نہیں کیا ، اپنی کسی خواہش کا اظہار تو کر !
بشیر احمد کہنے لگا: میری کوئی خواہش نہیں ۔
اس نے کہا: نہیں ، کچھ نہ کچھ تو کَہ ۔
بشیر احمد نے کمال سادگی سے کہا:اچھا پھر جو کہوں گا کردو گے ؟ کہنے لگا: ہاں !
تو پھر ایک پھیرا مدینے کا لگوا دو ۔
( بس میری یہی تمنا ہے )
جانسن یہ سن کر ششدر رہ گیا ، کہ یہ کیسا شخص ہے جسے سوائے مدینے کی زیارت کے کوئی حسرت ہی نہیں ۔
اس نے بشیر احمد کو مدینہ پاک کے لیے روانہ کردیا اور ایک عریضہ سعودی حکومت کو پیش کیا کہ:
میں بھی وہ شہر دیکھنا چاہتا ہوں ( جسے دیکھنے کے لیے بشیر احمد جیسے لوگ ترستے ہیں ) ۔
مولانا اجمل صاحب کہتے ہیں:
یہ جانسن نے خود لکھا ہے ، اور یہ امریکہ کا واحد صدر ہے جس نے مدینۃ النبی دیکھنے کی درخواست دی تھی ، جو اس کے غیرمسلم ہونے کی وجہ سے منظور تو نہ ہوئی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لیکن اس نے مدینہ پاک کی تصویریں کھنچوا کر اپنے کمرے میں لگالیں اور مرتے دم تک انھیں دیکھتا رہا ۔
✍️لقمان شاہد
25-1-2021 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3073986186214883&id=100008105947430
Facebook
Log in to Facebook
Log in to Facebook to start sharing and connecting with your friends, family and people you know.
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
پندرہ اگست اور چھبیس جنوری مَنانا
15 اگست اور 26 جنوری مَنانا کیسا ؟
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
فتاویٰ شارح بخاری جِلد ¹ صفحہ ³²
✍ مفتی شریف الحق امجدی
15 اگست اور 26 جنوری مَنانا کیسا ؟
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
فتاویٰ شارح بخاری جِلد ¹ صفحہ ³²
✍ مفتی شریف الحق امجدی