Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
#فیشن_کا_بڑھتا_چلن_اور_ہماری_بے_توجہی
غلام مصطفےٰ نعیمی
روشن مستقبل دہلی
کسی زمانے میں پھٹا ہوا کپڑا پہننا غربت اور مفلسی کی نشانی مانا جاتا تھا۔لیکن آج پھٹے ہوئے کپڑے پہننا امیری اور ماڈرن ہونے کی نشانی بن گیا ہے۔ اتنے کم وقت میں انسانی سوچ میں اتنی بڑی تبدیلی کیسے آئی؟اس سوال کا جواب تلاشنے نکلیں گے تو آپ کے سامنے ایسا دفتر کھل جائے گا کہ آپ حیران رہ جائیں گے کہ انسانی سوچ بدلنے کے لیے باضابطہ ایک بڑی فیشن انڈسٹری کام کر رہی ہے۔موجودہ وقت میں اس انڈسٹری کی مالیت 2,97,091کروڑ روپے کی ہے۔ماہرین کے مطابق اگلے پانچ سال میں یہ مالیت 7,48,398 کروڑ روپے کی ہوجائے گی۔
۱۹ ویں صدی تک عموماً ہر انسان اپنے کپڑوں کا انتخاب خود کرتا تھا۔کبھی ایسا بھی ہوتا تھا کہ کسی دوست،بھائی یا گھر والوں کی فرمائش پر کچھ خاص کپڑے سلوائے جاتے تھے لیکن عموماً ہر انسان اپنے کپڑے اپنی پسند سے ہی پہنتا تھا۔کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ انسان غیروں کی مرضی سے کپڑے پہنے گا لیکن ایسا ہوا۔بیسویں صدی یوروپ کی صدی ثابت ہوئی۔اہل یوروپ دنیا بھر پر قبضہ جماتے چلے گئے۔ انہیں لوگوں نے فیشن انڈسٹری کے نام پر لوگوں سے ان کی اپنی پسند کا حق چھین لیا۔ایسا نہیں ہے کہ انہوں نے لوگوں سے بندوق کی نوک پر ان کا حق چھینا ہو؟ اس کام کے لیے انہوں نے نفسیاتی حربہ اختیار کیا۔ٹی وی ،سنیما، میڈیا اور ماڈلوں کے ذریعےعوام میں رائج کپڑوں کو دیہاتی، گنوار اور غیر مہذب دکھایا جانے لگا۔مسلسل پروپیگنڈے کی وجہ سے لوگ بھی یہ ماننے لگے کہ جو کپڑے وہ لوگ پہنتے ہیں وہ نہایت پرانے اور پچھڑے ہوے زمانے کے ہیں۔اگر مہذب اور تعلیم یافتہ نظر آنا ہے تو اسٹائلش اور برانڈیڈ کپڑے پہننا ہوں گے۔
*فیشن انڈسٹری کے ہتھ کنڈے*
لوگوں کی عقل پر قبضہ جمانے کے لیے فیشن انڈسٹری نے بڑی زبردست منصوبہ بندی کی۔
1؍اچھے ڈزائنروں کو جمع کیا گیا اور انہیں یوروپین سوچ کے مطابق کپڑے ڈزائن کرنے کا ہدف دیا گیا۔
2؍دوسرے مرحلے میں اچھی قد کاٹھی اور ٹھیک ٹھاک شکل وصورت والے لڑکے، لڑکیوں کو ماڈل بنایا گیا۔
3؍دنیا کے مختلف شہروں میں فیشن شو اور کیٹ واک (Cat walk) کے نام پر ماڈلوں سے ان کپڑوں کی نمائش کرائی گئی۔
4؍زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچنے کے لیے ٹی وی اور میڈیا کا سہارا لیا گیا۔جس سے فیشن انڈسٹری کا چرچا ہر گھر پہنچا۔
5؍اپنے دائرے کو اور بڑھانے کے لیے لوگوں میں مقبول فلمی اداکار اور اداکاراؤں سے کپڑوں کی تشہیر کرائی گئی۔
6؍مختلف کھیلوں کے مشہور کھلاڑیوں سے بھی اشتہاری مزدور کا کام لیا گیا۔
7؍بڑے اور نامور قلم کاروں سے فیشن کی اہمیت اور افادیت پر لگاتار مضامین لکھوائے گئے۔
عام آدمی کی سوچ پر قبضہ جمانے کے لیے ایک دو سبب کافی تھے لیکن فیشن انڈسٹری نے کوئی بھی راستہ نہیں چھوڑا جسے استعمال نہیں کیا۔اس طرح آہستہ آہستہ لوگوں کی سوچ پر ملٹی نیشنل کمپنیاں غالب آتی گئیں۔اس طرح انسانوں سے ان کی پسند کا حق چھین لیا گیا۔اب کسے کیا اچھا لگتا ہے یہ وہ نہیں بلکہ ایک ماڈل، ایکٹر، کھلاڑی اور اداکارائیں طے کرتی ہیں جو کسی نہ کسی ملٹی نیشنل کمپنی کے اشتہاری مزدور ہوتے ہیں۔کمپنیاں پہلے ان مزدوروں کو پیسہ دے کر لوگوں کو رجھاتی ہیں ۔اس کے بعد اپنے تیار شدہ مال کو اونچے داموں پر بیچ کر اپنی تجوریاں بھرتی ہیں۔دو ہزار روپے میں اچھے کپڑے پہننے والا انسان فیشن کے نام پر دس ہزار کے کپڑے پہننے لگتا ہے وہ بھی پھٹے ہوئے! طرفہ تماشا یہ کہ اسے اپنے اسمارٹ ہونے کا خمار بھی ہوتا ہے۔
*فیشن کمپنیوں کی چالاکی*
فیشن انڈسٹری کا کھیل صرف کپڑوں پر ختم نہیں ہوتا بلکہ انہیں کپڑوں کے ساتھ اپنے دوسرے مال کو بھی بیچنا ہوتا ہے اس لیے نہایت ہوشیاری کے ساتھ کپڑوں میں ایسے ڈزائن بنائے جاتے ہیں جن سے دوسرا مال بھی بیچا جاسکے۔مثلاً فیشن انڈسٹری لڑکیوں کے لیے بغیر آستین کے (Sleeve Less) کپڑے تیار کرتی ہے توکھلے بازوؤں کی خوب صورتی بڑھانے کے لیے کسی کریم یا پاؤڈر کا اشتہار بھی جاری کرتی ہے۔اس طرح ایک مال کے ساتھ دوسرا مال بھی بیچنے میں کامیاب ہوجاتی ہے۔اسی طرح لڑکوں کو کھلے بازو کے کپڑے کی جانب رغبت دلانے کے لیے ایسا اشتہار تیار کیا جاتا ہے جس میں کسی ماڈل/ایکٹر کے ہاتھ میں بریس لیٹ دکھایا جاتا ہے۔اب اپنی عقل کھو چکا نوجوان وہ کپڑا بھی خریدتا ہے اور ساتھ میں بریس لیٹ بھی، تاکہ فیشن ادھورا نہ رہ جائے۔یعنی کمپنیاں پہلے آپ کی نگاہ میں اپنے سامان کو پسندیدہ بناتی ہیں اور اسی کے آڑ میں دوسرے سامان بھی منہ مانگے داموں پر بیچ بھرپور منافع کماتی ہیں۔فیشن کی رنگینی میں ہوش وحواس کھوچکے لوگ کمپنیوں پر اپنی کمائی لٹاتے چلے جاتے ہیں۔
*اسلامی نظریہ*
غلام مصطفےٰ نعیمی
روشن مستقبل دہلی
کسی زمانے میں پھٹا ہوا کپڑا پہننا غربت اور مفلسی کی نشانی مانا جاتا تھا۔لیکن آج پھٹے ہوئے کپڑے پہننا امیری اور ماڈرن ہونے کی نشانی بن گیا ہے۔ اتنے کم وقت میں انسانی سوچ میں اتنی بڑی تبدیلی کیسے آئی؟اس سوال کا جواب تلاشنے نکلیں گے تو آپ کے سامنے ایسا دفتر کھل جائے گا کہ آپ حیران رہ جائیں گے کہ انسانی سوچ بدلنے کے لیے باضابطہ ایک بڑی فیشن انڈسٹری کام کر رہی ہے۔موجودہ وقت میں اس انڈسٹری کی مالیت 2,97,091کروڑ روپے کی ہے۔ماہرین کے مطابق اگلے پانچ سال میں یہ مالیت 7,48,398 کروڑ روپے کی ہوجائے گی۔
۱۹ ویں صدی تک عموماً ہر انسان اپنے کپڑوں کا انتخاب خود کرتا تھا۔کبھی ایسا بھی ہوتا تھا کہ کسی دوست،بھائی یا گھر والوں کی فرمائش پر کچھ خاص کپڑے سلوائے جاتے تھے لیکن عموماً ہر انسان اپنے کپڑے اپنی پسند سے ہی پہنتا تھا۔کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ انسان غیروں کی مرضی سے کپڑے پہنے گا لیکن ایسا ہوا۔بیسویں صدی یوروپ کی صدی ثابت ہوئی۔اہل یوروپ دنیا بھر پر قبضہ جماتے چلے گئے۔ انہیں لوگوں نے فیشن انڈسٹری کے نام پر لوگوں سے ان کی اپنی پسند کا حق چھین لیا۔ایسا نہیں ہے کہ انہوں نے لوگوں سے بندوق کی نوک پر ان کا حق چھینا ہو؟ اس کام کے لیے انہوں نے نفسیاتی حربہ اختیار کیا۔ٹی وی ،سنیما، میڈیا اور ماڈلوں کے ذریعےعوام میں رائج کپڑوں کو دیہاتی، گنوار اور غیر مہذب دکھایا جانے لگا۔مسلسل پروپیگنڈے کی وجہ سے لوگ بھی یہ ماننے لگے کہ جو کپڑے وہ لوگ پہنتے ہیں وہ نہایت پرانے اور پچھڑے ہوے زمانے کے ہیں۔اگر مہذب اور تعلیم یافتہ نظر آنا ہے تو اسٹائلش اور برانڈیڈ کپڑے پہننا ہوں گے۔
*فیشن انڈسٹری کے ہتھ کنڈے*
لوگوں کی عقل پر قبضہ جمانے کے لیے فیشن انڈسٹری نے بڑی زبردست منصوبہ بندی کی۔
1؍اچھے ڈزائنروں کو جمع کیا گیا اور انہیں یوروپین سوچ کے مطابق کپڑے ڈزائن کرنے کا ہدف دیا گیا۔
2؍دوسرے مرحلے میں اچھی قد کاٹھی اور ٹھیک ٹھاک شکل وصورت والے لڑکے، لڑکیوں کو ماڈل بنایا گیا۔
3؍دنیا کے مختلف شہروں میں فیشن شو اور کیٹ واک (Cat walk) کے نام پر ماڈلوں سے ان کپڑوں کی نمائش کرائی گئی۔
4؍زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچنے کے لیے ٹی وی اور میڈیا کا سہارا لیا گیا۔جس سے فیشن انڈسٹری کا چرچا ہر گھر پہنچا۔
5؍اپنے دائرے کو اور بڑھانے کے لیے لوگوں میں مقبول فلمی اداکار اور اداکاراؤں سے کپڑوں کی تشہیر کرائی گئی۔
6؍مختلف کھیلوں کے مشہور کھلاڑیوں سے بھی اشتہاری مزدور کا کام لیا گیا۔
7؍بڑے اور نامور قلم کاروں سے فیشن کی اہمیت اور افادیت پر لگاتار مضامین لکھوائے گئے۔
عام آدمی کی سوچ پر قبضہ جمانے کے لیے ایک دو سبب کافی تھے لیکن فیشن انڈسٹری نے کوئی بھی راستہ نہیں چھوڑا جسے استعمال نہیں کیا۔اس طرح آہستہ آہستہ لوگوں کی سوچ پر ملٹی نیشنل کمپنیاں غالب آتی گئیں۔اس طرح انسانوں سے ان کی پسند کا حق چھین لیا گیا۔اب کسے کیا اچھا لگتا ہے یہ وہ نہیں بلکہ ایک ماڈل، ایکٹر، کھلاڑی اور اداکارائیں طے کرتی ہیں جو کسی نہ کسی ملٹی نیشنل کمپنی کے اشتہاری مزدور ہوتے ہیں۔کمپنیاں پہلے ان مزدوروں کو پیسہ دے کر لوگوں کو رجھاتی ہیں ۔اس کے بعد اپنے تیار شدہ مال کو اونچے داموں پر بیچ کر اپنی تجوریاں بھرتی ہیں۔دو ہزار روپے میں اچھے کپڑے پہننے والا انسان فیشن کے نام پر دس ہزار کے کپڑے پہننے لگتا ہے وہ بھی پھٹے ہوئے! طرفہ تماشا یہ کہ اسے اپنے اسمارٹ ہونے کا خمار بھی ہوتا ہے۔
*فیشن کمپنیوں کی چالاکی*
فیشن انڈسٹری کا کھیل صرف کپڑوں پر ختم نہیں ہوتا بلکہ انہیں کپڑوں کے ساتھ اپنے دوسرے مال کو بھی بیچنا ہوتا ہے اس لیے نہایت ہوشیاری کے ساتھ کپڑوں میں ایسے ڈزائن بنائے جاتے ہیں جن سے دوسرا مال بھی بیچا جاسکے۔مثلاً فیشن انڈسٹری لڑکیوں کے لیے بغیر آستین کے (Sleeve Less) کپڑے تیار کرتی ہے توکھلے بازوؤں کی خوب صورتی بڑھانے کے لیے کسی کریم یا پاؤڈر کا اشتہار بھی جاری کرتی ہے۔اس طرح ایک مال کے ساتھ دوسرا مال بھی بیچنے میں کامیاب ہوجاتی ہے۔اسی طرح لڑکوں کو کھلے بازو کے کپڑے کی جانب رغبت دلانے کے لیے ایسا اشتہار تیار کیا جاتا ہے جس میں کسی ماڈل/ایکٹر کے ہاتھ میں بریس لیٹ دکھایا جاتا ہے۔اب اپنی عقل کھو چکا نوجوان وہ کپڑا بھی خریدتا ہے اور ساتھ میں بریس لیٹ بھی، تاکہ فیشن ادھورا نہ رہ جائے۔یعنی کمپنیاں پہلے آپ کی نگاہ میں اپنے سامان کو پسندیدہ بناتی ہیں اور اسی کے آڑ میں دوسرے سامان بھی منہ مانگے داموں پر بیچ بھرپور منافع کماتی ہیں۔فیشن کی رنگینی میں ہوش وحواس کھوچکے لوگ کمپنیوں پر اپنی کمائی لٹاتے چلے جاتے ہیں۔
*اسلامی نظریہ*
انسان کے علاوہ دنیا میں جتنی بھی مخلوق ہے ان سب میں ایک بات مشترک ہے کہ قدرت نے انہیں ایسا جسم دیا ہے جسے کپڑے پہننے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔پوری کائنات میں انسان ہی وہ مخلوق ہے جسے ایسا جسم دیا گیا جسے چھپانے اور ڈھکنے کی ضرورت پڑتی ہے۔دنیا میں جتنے بھی مذاہب پائے جاتے ہیں وہ سب اس بات پر متفق ہیں کہ انسان فطری طور پر ننگا نہیں رہ سکتا۔اسے کسی نہ کسی طور پر اپنے بدن کو کپڑے سے ڈھکنا ہی ہے۔اب کتنا بدن ڈھکنا ہے اس پر سب کی رائے الگ الگ ہوجاتی ہے۔اسلامی نظریے کے مطابق جسم کےچند اہم حصوں کو چھوڑ کر پورا بدن ڈھکنا ضروری ہے۔ قرآن میں ہے:
يَـٰبَنِىٓ آدَمَ قَدۡ أَنزَلۡنَا عَلَيۡكُمۡ لِبَاسً۬ا يُوَٲرِى سَوۡءَٲتِكُمۡ وَرِيشً۬ا وَلِبَاسُ ٱلتَّقۡوَىٰ ذَٲلِكَ خَيۡرٌ۬ۚ ذَٲلِكَ مِنۡ ءَايَـٰتِ ٱللَّهِ لَعَلَّهُمۡ يَذَّكَّرُونَ(سورہ اعراف: ۲۶)
اے اولادِ آدم! بیشک ہم نے تمہارے لئے ایسا لباس اتارا ہے جو تمہاری شرم گاہوں کو چھپائے اورتمہارے لیے زینت بھی ہو۔اور ( ساتھ ہی باطنی لباس تقویٰ بھی اتارا،اور) تقوٰی کا لباس ہی سب سےبہتر ہے۔ یہ اﷲ کی نشانیوں میں سے ہے کہ کہیں وہ نصیحت مانیں۔
اسلامی نظریے کے مطابق لباس کا بنیادی مقصد بدن چھپانا اوراس کے ساتھ زینت حاصل کرنا ہے۔زینت حاصل کرنا عیب وگناہ نہیں ہے جب تک انسانی بدن چھپا رہے۔محض زینت کے لیے جسم دکھانے کی اجازت نہیں ہے۔مرد کے لیے ناف سے گھٹنوں تک بدن چھپانا اور ڈھکنا فرض ہے جبکہ عورت کے لیے ہتھیلی،چہرہ اور پاؤں چھوڑ کر سارا بدن ڈھکنا ضروری ہے لیکن اجنبی مردوں کے سامنے آنے کی اجازت نہیں ہے۔
یہ بات نوٹ کیے جانے لائق ہے کہ مردوں کے لباس کے بارے میں دوسرے اہل مذاہب بھی اسلامی نظریے کے آس پاس ہی رہتے ہیں لیکن عورت کے معاملے میں ان کا نظریہ ایک دم خلاف ہے۔وہ لوگ عورت کے جسم کے خاص حصوں کو نمایاں طور پر دکھانا اور ننگا رکھنا چاہتے ہیں۔اس لیے ایسے ایسے فیشن ایبل کپڑے تیار کیے جاتے ہیں جس سے عورت کا جسم زیادہ سے زیادہ نظر آئے۔پہلے بغیر آستین (Sleeve Less) کپڑوں کو عام کیا گیا۔اس کے بعد ٹاپ (Tops) کے نام پر ٹانگوں کا کپڑا ختم کیا ۔ بیک لیس (Back Less) کے نام پر کمر کا کپڑا غائب کیا گیا اور سوئنمگ پول (Swimming Pool) کے نام پر انہیں بِکنی پہنا کر تقریباً پورا لباس چھین لیا گیا۔ان سب حرکات کے پیچھے ان کے تجارتی مفاد اور جنسی ہوس کار فرما ہے۔
*بچاؤکا راستہ*
فیشن انڈسٹری کی سالانہ مالیت دو لاکھ کروڑ سے زیادہ ہے اس لیے اس کے مقابلے میں کھڑا ہونا آسان نہیں ہے۔لیکن ارادے پکے اور نیت سچی ہو تو تائید غیبی حاصل ہوتی ہے۔اپنے معاشرے کو بے لگام فیشن سے بچانے کے لیے چند اہم اقدامات ضروری ہیں:
1؍ہر شخص اپنے گھر میں اسلامی لباس رائج کرے۔
2؍علما ے کرام اس موضوع پر عقلی اور سائنٹفک انداز میں خطاب کے ذریعے رغبت دلائیں۔
3؍مسلم صنعت کار اس فیلڈ میں انویسٹ مینٹ کریں اور اچھے ڈزائنر کے ذریعے ملبوسات تیار کرائیں۔
4؍غیر شرعی طریقوں سے بچتے ہوئے تشہیری مہم چلائیں تاکہ لوگوں میں رغبت پیدا ہو۔
5؍کوالٹی اور قیمت کا خصوصی دھیان رکھیں۔
ضرورت ہے کہ مسلم صنعت کار اس طرف توجہ دیں تاکہ مسلم مرد و خواتین اغیار کے بے ہودہ لباسوں سے محفوظ رہیں۔ شروعات میں صرف مقامی علاقے پر فوکس کیا جائے، کامیابی ملنے پر دائرہ بڑھایا جائے۔خلوص نیت اور تاجرانہ مہارت کے ساتھ کام کیا جائے تو ان شاء اللہ کامیابی یقینی ہے۔
۸؍جمادی الاخری ۱۴۴۲ھ
۲۲؍جنوری ۲۰۲۱ء بروز ہفتہ
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/852445025326017/
يَـٰبَنِىٓ آدَمَ قَدۡ أَنزَلۡنَا عَلَيۡكُمۡ لِبَاسً۬ا يُوَٲرِى سَوۡءَٲتِكُمۡ وَرِيشً۬ا وَلِبَاسُ ٱلتَّقۡوَىٰ ذَٲلِكَ خَيۡرٌ۬ۚ ذَٲلِكَ مِنۡ ءَايَـٰتِ ٱللَّهِ لَعَلَّهُمۡ يَذَّكَّرُونَ(سورہ اعراف: ۲۶)
اے اولادِ آدم! بیشک ہم نے تمہارے لئے ایسا لباس اتارا ہے جو تمہاری شرم گاہوں کو چھپائے اورتمہارے لیے زینت بھی ہو۔اور ( ساتھ ہی باطنی لباس تقویٰ بھی اتارا،اور) تقوٰی کا لباس ہی سب سےبہتر ہے۔ یہ اﷲ کی نشانیوں میں سے ہے کہ کہیں وہ نصیحت مانیں۔
اسلامی نظریے کے مطابق لباس کا بنیادی مقصد بدن چھپانا اوراس کے ساتھ زینت حاصل کرنا ہے۔زینت حاصل کرنا عیب وگناہ نہیں ہے جب تک انسانی بدن چھپا رہے۔محض زینت کے لیے جسم دکھانے کی اجازت نہیں ہے۔مرد کے لیے ناف سے گھٹنوں تک بدن چھپانا اور ڈھکنا فرض ہے جبکہ عورت کے لیے ہتھیلی،چہرہ اور پاؤں چھوڑ کر سارا بدن ڈھکنا ضروری ہے لیکن اجنبی مردوں کے سامنے آنے کی اجازت نہیں ہے۔
یہ بات نوٹ کیے جانے لائق ہے کہ مردوں کے لباس کے بارے میں دوسرے اہل مذاہب بھی اسلامی نظریے کے آس پاس ہی رہتے ہیں لیکن عورت کے معاملے میں ان کا نظریہ ایک دم خلاف ہے۔وہ لوگ عورت کے جسم کے خاص حصوں کو نمایاں طور پر دکھانا اور ننگا رکھنا چاہتے ہیں۔اس لیے ایسے ایسے فیشن ایبل کپڑے تیار کیے جاتے ہیں جس سے عورت کا جسم زیادہ سے زیادہ نظر آئے۔پہلے بغیر آستین (Sleeve Less) کپڑوں کو عام کیا گیا۔اس کے بعد ٹاپ (Tops) کے نام پر ٹانگوں کا کپڑا ختم کیا ۔ بیک لیس (Back Less) کے نام پر کمر کا کپڑا غائب کیا گیا اور سوئنمگ پول (Swimming Pool) کے نام پر انہیں بِکنی پہنا کر تقریباً پورا لباس چھین لیا گیا۔ان سب حرکات کے پیچھے ان کے تجارتی مفاد اور جنسی ہوس کار فرما ہے۔
*بچاؤکا راستہ*
فیشن انڈسٹری کی سالانہ مالیت دو لاکھ کروڑ سے زیادہ ہے اس لیے اس کے مقابلے میں کھڑا ہونا آسان نہیں ہے۔لیکن ارادے پکے اور نیت سچی ہو تو تائید غیبی حاصل ہوتی ہے۔اپنے معاشرے کو بے لگام فیشن سے بچانے کے لیے چند اہم اقدامات ضروری ہیں:
1؍ہر شخص اپنے گھر میں اسلامی لباس رائج کرے۔
2؍علما ے کرام اس موضوع پر عقلی اور سائنٹفک انداز میں خطاب کے ذریعے رغبت دلائیں۔
3؍مسلم صنعت کار اس فیلڈ میں انویسٹ مینٹ کریں اور اچھے ڈزائنر کے ذریعے ملبوسات تیار کرائیں۔
4؍غیر شرعی طریقوں سے بچتے ہوئے تشہیری مہم چلائیں تاکہ لوگوں میں رغبت پیدا ہو۔
5؍کوالٹی اور قیمت کا خصوصی دھیان رکھیں۔
ضرورت ہے کہ مسلم صنعت کار اس طرف توجہ دیں تاکہ مسلم مرد و خواتین اغیار کے بے ہودہ لباسوں سے محفوظ رہیں۔ شروعات میں صرف مقامی علاقے پر فوکس کیا جائے، کامیابی ملنے پر دائرہ بڑھایا جائے۔خلوص نیت اور تاجرانہ مہارت کے ساتھ کام کیا جائے تو ان شاء اللہ کامیابی یقینی ہے۔
۸؍جمادی الاخری ۱۴۴۲ھ
۲۲؍جنوری ۲۰۲۱ء بروز ہفتہ
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/852445025326017/
Facebook
Log in to Facebook
Log in to Facebook to start sharing and connecting with your friends, family and people you know.
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
کچھ "ابن حَزم" کے بارے میں
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
محال پر قدرت ماننا اللہ عزوجل کو سخت عیب لگانا بلکہ اس کی خدائی سے منکر ہوجانا ہے، حضرات مبتدعین کے معلم شفیق ابلیس خبیث علیہ اللعن نے یہ عجز وقدرت کا نیا شگوفہ ان دہلوی بہادر سے پہلے ان کے مقتدا
*ابن حزم، فاسد العزم ، فاقد الجزم ، ظاہر المذہب، ردی المشرب، کو بھی سکھایا تھا۔*
کہ اپنے رب کا ادب و اجلال یکسر پس پشت ڈال کر کتاب "الملل والنحل" میں بک گیا کہ انہ تعالٰی قادر ان یتخذ ولدا، اذلو لم یقدر لکان عاجزا (یعنی اللہ تعالٰی اپنے لئے بیٹا بنانے پر قادر ہے کہ قدرت نہ مانو تو عاجز ہوگا۔ (الملل والنحل لابن حزم)
تعالی اﷲ عما یقول الظالمون علوا کبیرا o لقد جئتم شیئا ادا o تکادالسمٰوٰت یتفطرن منه وتنشق الارض وتخر الجبال ھدا o ان دعوا اللرحمن ولدا o وماینبغی للرحمن ان یتخذ ولدا o
(ظالم جو کہتے ہیں اللہ تعالٰی اس سے کہیں بلند ہے، بیشک تم حد کی بھاری بات لائے، قریب ہے کہ آسمان اس سے پھٹ پڑیں، اور زمین شق ہوجائے، اور پہاڑ گرجائیں ڈھے کر، اس پر کہ انھوں نے رحمن کے لئے اولاد بتائی، اور رحمن کے لائق نہیں کہ اولاد اختیار کرے)
( القرآن الکریم ۱۹/ ۸۹ تا ۹۲)
سیدی عبدالغنی نابلسی قدس سرہ القدسی "مطالب الوفیہ" میں ابن حزم کا یہ قول نقل کرکے فرماتے ہیں:
فانظر اختلال ھٰذا المبتدع، کیف غفل عمایلزم علی ھذہ المقالۃ الشنیعۃ، من اللوازم التی لاتدخل تحت وھم وکیف، فاتاہ ان العجز انما یکون لوکان القصور جاء من ناحیۃ القدرۃ عما اذا کان لعدم قبول المستحیل تعلق القدر، فلایتوھم عاقل ان ھذا عجز
یعنی : اس بدعتی کی بدحواسی دیکھنا کیونکر غافل ہوا کہ اس قول شنیع پر کیا کیا قباحتیں لازم آتی ہیں. جو کسی وہم میں نہ سمائیں اور کیونکر اس کے فہم سے گیا کہ عجز تو جب ہو کہ قصور قدرت کی طرف سے آئے ۔ اور جب وجہ یہ ہے کہ محال خودہی تعلق قدرت کی قابلیت نہیں رکھتا ۔ توا س سے کسی عاقل کو عجز کا وہم نہ گزرے گا۔ ( المطالب الوفیہ لعبد الغنی النابلسی)
اسی میں فرمایا:
وبالجملۃ فذلک التقدیر الفاسد یؤدی الی تخلیط عظیم لایبقی معہ شیئ من الایمان ولامن المعقولات اصلا ۔ (یعنی بہ تقدیر فاسد (کہ باری عزوجل محالات پر قادرہے) وہ سخت درہمی وبرہمی کا باعث ہوگی، جس کے ساتھ نہ ایمان کا نام ہے، نہ اصلا احکامِ عقل کا نشان۔ ( المطالب الوفیۃ لعبد الغنی النابلسی)
اسی میں فرمایا:
وقع ھٰھنا لابن حزم ھذیان بین البطلان، لیس لہ قدوۃ ورئیس الاشیخ الضلالۃ ابلیس (یعنی سو مسئلہ قدرت میں ابن حزم سے وہ بہکی بہکی بات کھلی باطل واقع ہوئی، جس میں اس کا کوئی پیشوا نہ رئیس، مگر سردار گمراہی ابلیس۔ (المطالب الوفیۃ لعبد الغنی النابلسی)
(یہ کلمات (ماسوائے ترجمہ) امام احمد رضا محقق بریلوی علیہ الرحمہ کے ہیں، دیکھیں فتاویٰ رضویہ ، ج : ١٥ ، ص : ٦١)
ـــــــ ترتیب وپیش کش
فیضان سرور مصباحی
٩/ جمادی الآخرۃ ١٤٤٢ھ
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2919336691678972&id=100008080090753
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
محال پر قدرت ماننا اللہ عزوجل کو سخت عیب لگانا بلکہ اس کی خدائی سے منکر ہوجانا ہے، حضرات مبتدعین کے معلم شفیق ابلیس خبیث علیہ اللعن نے یہ عجز وقدرت کا نیا شگوفہ ان دہلوی بہادر سے پہلے ان کے مقتدا
*ابن حزم، فاسد العزم ، فاقد الجزم ، ظاہر المذہب، ردی المشرب، کو بھی سکھایا تھا۔*
کہ اپنے رب کا ادب و اجلال یکسر پس پشت ڈال کر کتاب "الملل والنحل" میں بک گیا کہ انہ تعالٰی قادر ان یتخذ ولدا، اذلو لم یقدر لکان عاجزا (یعنی اللہ تعالٰی اپنے لئے بیٹا بنانے پر قادر ہے کہ قدرت نہ مانو تو عاجز ہوگا۔ (الملل والنحل لابن حزم)
تعالی اﷲ عما یقول الظالمون علوا کبیرا o لقد جئتم شیئا ادا o تکادالسمٰوٰت یتفطرن منه وتنشق الارض وتخر الجبال ھدا o ان دعوا اللرحمن ولدا o وماینبغی للرحمن ان یتخذ ولدا o
(ظالم جو کہتے ہیں اللہ تعالٰی اس سے کہیں بلند ہے، بیشک تم حد کی بھاری بات لائے، قریب ہے کہ آسمان اس سے پھٹ پڑیں، اور زمین شق ہوجائے، اور پہاڑ گرجائیں ڈھے کر، اس پر کہ انھوں نے رحمن کے لئے اولاد بتائی، اور رحمن کے لائق نہیں کہ اولاد اختیار کرے)
( القرآن الکریم ۱۹/ ۸۹ تا ۹۲)
سیدی عبدالغنی نابلسی قدس سرہ القدسی "مطالب الوفیہ" میں ابن حزم کا یہ قول نقل کرکے فرماتے ہیں:
فانظر اختلال ھٰذا المبتدع، کیف غفل عمایلزم علی ھذہ المقالۃ الشنیعۃ، من اللوازم التی لاتدخل تحت وھم وکیف، فاتاہ ان العجز انما یکون لوکان القصور جاء من ناحیۃ القدرۃ عما اذا کان لعدم قبول المستحیل تعلق القدر، فلایتوھم عاقل ان ھذا عجز
یعنی : اس بدعتی کی بدحواسی دیکھنا کیونکر غافل ہوا کہ اس قول شنیع پر کیا کیا قباحتیں لازم آتی ہیں. جو کسی وہم میں نہ سمائیں اور کیونکر اس کے فہم سے گیا کہ عجز تو جب ہو کہ قصور قدرت کی طرف سے آئے ۔ اور جب وجہ یہ ہے کہ محال خودہی تعلق قدرت کی قابلیت نہیں رکھتا ۔ توا س سے کسی عاقل کو عجز کا وہم نہ گزرے گا۔ ( المطالب الوفیہ لعبد الغنی النابلسی)
اسی میں فرمایا:
وبالجملۃ فذلک التقدیر الفاسد یؤدی الی تخلیط عظیم لایبقی معہ شیئ من الایمان ولامن المعقولات اصلا ۔ (یعنی بہ تقدیر فاسد (کہ باری عزوجل محالات پر قادرہے) وہ سخت درہمی وبرہمی کا باعث ہوگی، جس کے ساتھ نہ ایمان کا نام ہے، نہ اصلا احکامِ عقل کا نشان۔ ( المطالب الوفیۃ لعبد الغنی النابلسی)
اسی میں فرمایا:
وقع ھٰھنا لابن حزم ھذیان بین البطلان، لیس لہ قدوۃ ورئیس الاشیخ الضلالۃ ابلیس (یعنی سو مسئلہ قدرت میں ابن حزم سے وہ بہکی بہکی بات کھلی باطل واقع ہوئی، جس میں اس کا کوئی پیشوا نہ رئیس، مگر سردار گمراہی ابلیس۔ (المطالب الوفیۃ لعبد الغنی النابلسی)
(یہ کلمات (ماسوائے ترجمہ) امام احمد رضا محقق بریلوی علیہ الرحمہ کے ہیں، دیکھیں فتاویٰ رضویہ ، ج : ١٥ ، ص : ٦١)
ـــــــ ترتیب وپیش کش
فیضان سرور مصباحی
٩/ جمادی الآخرۃ ١٤٤٢ھ
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2919336691678972&id=100008080090753
Facebook
Log in to Facebook
Log in to Facebook to start sharing and connecting with your friends, family and people you know.
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
مولوی ثناء اللّٰہ امرتسری غیر مقلد نے دادی , نانی سے نکاح کو جائز قرار دے دیا.
مشہور غیر مقلد عالم قاضی عبد الاحد خانپوری کی گواہی.
رَدّ غیر مقلدیت کا ذوق رکھنے والے احباب اس کو محفوظ کر لیں تاکہ بوقت ضرورت کام آ سکے.
میثم قادری
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2919348285011146&id=100008080090753
مشہور غیر مقلد عالم قاضی عبد الاحد خانپوری کی گواہی.
رَدّ غیر مقلدیت کا ذوق رکھنے والے احباب اس کو محفوظ کر لیں تاکہ بوقت ضرورت کام آ سکے.
میثم قادری
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2919348285011146&id=100008080090753
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
یہ جو ترک ڈراموں میں مردوں کے لمبے لمبے بال ، عورتوں جیسی پَونیاں ، بے ڈھنگی گُتیں اور چھوٹی چھوٹی داڑھیاں دکھائی جارہی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ان کی نقالی جائز نہیں ۔
مسلمان مرد کے لیے عورتوں جیسے لمبے لمبے بال رکھنا گناہ ہے ، اور داڑھی شریف کو بھی ایک مٹھی سے چھوٹا کرنا جائز نہیں ۔
ترک ڈراموں کی صرف ان چیزوں کو فالو کریں جو درست ہیں ۔
غلط ، غلط ہوتا ہے ۔۔۔۔۔ چاہے دیوارِ مسجد کے سائے میں ہو ؛ اور درست ، درست ہوتا ہے ۔۔۔۔ چاہے کسی ڈرامے میں کیوں نہ ہو ۔
ترک ڈرامے جہاں غیر محسوس طریقے سے کفر و الحاد ، وہابیت ، بزدلی ، غداری اور بے انصافی کے خلاف کردار ادا کر رہے ہیں ، وہیں کچھ خلافِ شرع چیزیں بھی عام کر رہے ہیں جن سے بچنا بہ ہر صورت لازم ہے ۔
✍️لقمان شاہد
22-1-2021
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3071804936433008&id=100008105947430
مسلمان مرد کے لیے عورتوں جیسے لمبے لمبے بال رکھنا گناہ ہے ، اور داڑھی شریف کو بھی ایک مٹھی سے چھوٹا کرنا جائز نہیں ۔
ترک ڈراموں کی صرف ان چیزوں کو فالو کریں جو درست ہیں ۔
غلط ، غلط ہوتا ہے ۔۔۔۔۔ چاہے دیوارِ مسجد کے سائے میں ہو ؛ اور درست ، درست ہوتا ہے ۔۔۔۔ چاہے کسی ڈرامے میں کیوں نہ ہو ۔
ترک ڈرامے جہاں غیر محسوس طریقے سے کفر و الحاد ، وہابیت ، بزدلی ، غداری اور بے انصافی کے خلاف کردار ادا کر رہے ہیں ، وہیں کچھ خلافِ شرع چیزیں بھی عام کر رہے ہیں جن سے بچنا بہ ہر صورت لازم ہے ۔
✍️لقمان شاہد
22-1-2021
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3071804936433008&id=100008105947430
Facebook
Log in or sign up to view
See posts, photos and more on Facebook.
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
راقم کی کتاب"ترجمہ کنزالایمان پردیوبندی اعتراضات کامحاسبہ"ماہنامہ اعلٰی حضرت, بریلی شریف میں قسط وارشائع ہوئی,اس کتاب پرہندوستان کے ایک قاری کاتبصرہ ماہنامہ اعلٰی حضرت فروری2018ءمیں طبع ہواہے.
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2919899868289321&id=100008080090753
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2919899868289321&id=100008080090753
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
حکومتِ ہندکی طرف سے جاری کیاگیااعلٰی حضرت بریلوی ڈاک ٹکٹ اور اعلٰی حضرت بریلوی ٹرین.
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2919899911622650&id=100008080090753
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2919899911622650&id=100008080090753
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
مطالعہ فتاویٰ رضویہ شریف
جس نے عیسائی یا وہابی ہونے کا ارداہ کرلیاتو وہ اسی وقت اس فرقہ میں شامل ہو گیا
فتاوی رضویہ جدید جلد 14 صفحہ
584مسئلہ نمبر 207
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2919899951622646&id=100008080090753
جس نے عیسائی یا وہابی ہونے کا ارداہ کرلیاتو وہ اسی وقت اس فرقہ میں شامل ہو گیا
فتاوی رضویہ جدید جلد 14 صفحہ
584مسئلہ نمبر 207
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2919899951622646&id=100008080090753
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
اَرضِ طیبہ میں میسر آگئی دو گز زمیں
یوں ہمارے منتشر اجزا کو یکجائی ملی
بحرِ عشقِ مصطفے کا ماجرا کیا ہو بیاں
لطف آیا ڈوبنے کا ، جتنی گہرائی ملی
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3073346406278861&id=100008105947430
یوں ہمارے منتشر اجزا کو یکجائی ملی
بحرِ عشقِ مصطفے کا ماجرا کیا ہو بیاں
لطف آیا ڈوبنے کا ، جتنی گہرائی ملی
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3073346406278861&id=100008105947430
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM