مولاناطیب داناپوری علیہ الرحمہ کی کتاب معاون بخشائش راقم نے ہندوستان میں جناب قاری عبدالرشیدصاحب پیلی بھیتی کوبھیجی تھی جس کا ذکراس کتاب کے شروع میں موجودہے.
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2916921125253862&id=100008080090753
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2916921125253862&id=100008080090753
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
تحدیث نعمت کے طورپرعرض ہے کہ راقم کی معلومات میں درج ذیل موضوعات
1_معجزہء شق القمر(یعنی چانددوٹکڑے ہونا)
2_معجزہءردّشمس(یعنی حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ کی نمازِعصرکے لیے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی دعاسےسورج لوٹ آنا)
3_نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے جسمِ اقدس کا سایہ ناہونا
اور
4_اسلامی پردہ کے احکام ودلائل
پرکم ازکم اُردوزبان میں راقم کی مرتبہ کتب کے برابریا زیادہ ضخیم کتب اب تک نظرسے نہیں گذریں.
میثم قادری
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2918363401776301&id=100008080090753
1_معجزہء شق القمر(یعنی چانددوٹکڑے ہونا)
2_معجزہءردّشمس(یعنی حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ کی نمازِعصرکے لیے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی دعاسےسورج لوٹ آنا)
3_نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے جسمِ اقدس کا سایہ ناہونا
اور
4_اسلامی پردہ کے احکام ودلائل
پرکم ازکم اُردوزبان میں راقم کی مرتبہ کتب کے برابریا زیادہ ضخیم کتب اب تک نظرسے نہیں گذریں.
میثم قادری
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2918363401776301&id=100008080090753
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
اکابردیوبندکے وکیلِ صفائی ناصرحرام پوری کامحاسبہ
تحریر:میثم عباس قادری رضوی
پہلی قسط:
ایک فتنہ پرورصلح کُلی شخص مسمّٰی ناصرحرام پوری(جس کاباطن اس کے چہرہ سے زیادہ سیاہ ہے)کی ایک پوسٹ دیکھی جس میں اس نے سیدی اعلٰی حضرت امام اہلِ سنت الشاہ احمدرضاخان فاضلِ بریلوی کی دیوبندیت شکن کتاب"حُسام الحرمین"میں قاسم نانوتوی دیوبندی کی تکفیرکویہ کہہ کرغلط قراردے دیاہے کہ اس میں قاسم نانوتوی کادرست مؤقف پیش نہیں کیاگیا.ناصرحرام پوری صاحب کی معلومات کے لیے عرض ہے کہ سیدی اعلی حضرت نے قاسم نانوتوی کی تکفیربعدمیں فرمائی.آپ کے تکفیرفرمانے سے پہلے ہی علمانے قاسم نانوتوی کی تکفیرکردی تھی ثبوت کے طورپردوعدددیوبندی کتب کےحوالہ جات پیش ہیں.
1.مولوی نورالحسن راشدکاندھلوی دیوبندی کی مرتبہ کتاب بنام"احوال وآثار باقیات ومتعلقات قاسم العلوم حضرت مولانامحمدقاسم نانوتوی"کا اقتباس پیش ہے جس میں قاسم نانوتوی نے خودلکھا:
"دہلی کے اکثرعلماء نے(مولانانذیرحسین محدث کے علاوہ)اس ناکارہ کے کفرکافتوی دیاہے اورفتوی پرمہریں کراکرعلاقے میں ادھرادھرمزیدمہریں لگوانے بھیج دیاہے اب یہ خبرہے کہ وہ فتوی عن قریب عرب شریف بھی پہنچے گا"
(قاسم العلوم صفحہ308,309مطبوعہ لاہور)
2.مولوی اشرفعلی تھانوی دیوبندی نے اپنی کتاب"قصص الاکابر"میں لکھاہے:
"جب مولاناقاسم صاحب نے کتاب تحذیرالناس لکھی توسب نے مولانامحمدقاسم صاحب کی مخالفت کی مگرمولاناعبدالحی نے موافقت میں رسالہ لکھا"ْ
(قصص الاکابرصفحہ159مطبوعہ لاہور)
*حرام پوری صاحب!بتائیے کیاقاسم نانوتوی کی تکفیراوررد کرنے والے یہ سب علمادہلی وہندوستان بھی دھوکے بازتھے؟
*کیاان علما نے بھی قاسم نانوتوی کادرست مؤقف بیان نہیں کیا؟
ان حوالہ جات کے عکس بھی پیشِ خدمت ہیں؟
(جاری ہے)
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2918363701776271&id=100008080090753
تحریر:میثم عباس قادری رضوی
پہلی قسط:
ایک فتنہ پرورصلح کُلی شخص مسمّٰی ناصرحرام پوری(جس کاباطن اس کے چہرہ سے زیادہ سیاہ ہے)کی ایک پوسٹ دیکھی جس میں اس نے سیدی اعلٰی حضرت امام اہلِ سنت الشاہ احمدرضاخان فاضلِ بریلوی کی دیوبندیت شکن کتاب"حُسام الحرمین"میں قاسم نانوتوی دیوبندی کی تکفیرکویہ کہہ کرغلط قراردے دیاہے کہ اس میں قاسم نانوتوی کادرست مؤقف پیش نہیں کیاگیا.ناصرحرام پوری صاحب کی معلومات کے لیے عرض ہے کہ سیدی اعلی حضرت نے قاسم نانوتوی کی تکفیربعدمیں فرمائی.آپ کے تکفیرفرمانے سے پہلے ہی علمانے قاسم نانوتوی کی تکفیرکردی تھی ثبوت کے طورپردوعدددیوبندی کتب کےحوالہ جات پیش ہیں.
1.مولوی نورالحسن راشدکاندھلوی دیوبندی کی مرتبہ کتاب بنام"احوال وآثار باقیات ومتعلقات قاسم العلوم حضرت مولانامحمدقاسم نانوتوی"کا اقتباس پیش ہے جس میں قاسم نانوتوی نے خودلکھا:
"دہلی کے اکثرعلماء نے(مولانانذیرحسین محدث کے علاوہ)اس ناکارہ کے کفرکافتوی دیاہے اورفتوی پرمہریں کراکرعلاقے میں ادھرادھرمزیدمہریں لگوانے بھیج دیاہے اب یہ خبرہے کہ وہ فتوی عن قریب عرب شریف بھی پہنچے گا"
(قاسم العلوم صفحہ308,309مطبوعہ لاہور)
2.مولوی اشرفعلی تھانوی دیوبندی نے اپنی کتاب"قصص الاکابر"میں لکھاہے:
"جب مولاناقاسم صاحب نے کتاب تحذیرالناس لکھی توسب نے مولانامحمدقاسم صاحب کی مخالفت کی مگرمولاناعبدالحی نے موافقت میں رسالہ لکھا"ْ
(قصص الاکابرصفحہ159مطبوعہ لاہور)
*حرام پوری صاحب!بتائیے کیاقاسم نانوتوی کی تکفیراوررد کرنے والے یہ سب علمادہلی وہندوستان بھی دھوکے بازتھے؟
*کیاان علما نے بھی قاسم نانوتوی کادرست مؤقف بیان نہیں کیا؟
ان حوالہ جات کے عکس بھی پیشِ خدمت ہیں؟
(جاری ہے)
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2918363701776271&id=100008080090753
Facebook
Log in to Facebook
Log in to Facebook to start sharing and connecting with your friends, family and people you know.
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
کتاب"غنیۃ الطالبین" کی بابت امامِ اہلِ سُنَّت مجددِ دین وملت مولانامفتی الشاہ احمدرضاخان فاضل بریلوی رحمۃُ اللّٰہ علیہ کا مؤقِف:
"اولاً :
کتاب غنیۃ الطالبین شریف کی نسبت حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کا تو یہ خیال ہے کہ وہ سرے سے حضور پرنور سیدنا غوث اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ کی تصنیف ہی نہیں مگر یہ نفی مجرد ہے۔ اور امام حجر مکی رحمۃ اللہ علیہ نے تصریح فرمائی کہ اس کتاب میں بعض مستحقین عذاب نے الحاق کردیا ہے،
"فتاوٰی حدیثیہ" میں فرماتے ہیں:
"وایّاک ان تغتربما وقع فی الغنیۃ لامام العارفین و قطب الاسلام والمسلمین الاستاذ عبدالقادر الجیلانی رضی اللہ تعالٰی عنہ فانہ دسہ علیہ فیہا من سینتقم اﷲ منہ والا فہو برئ من ذلک"
(الفتاوی الحدیثیۃ مطلب ان مافی الغنیۃ للشیخ عبدالقادر مطبعۃ الجمالیہ مصر ص ۱۴۸)
یعنی"خبردار دھوکا نہ کھاناا اس سے جو امام اولیاء سردارِ اسلام و مسلمین حضور سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ تعالٰی عنہ کی غنیہ میں واقع ہوا کہ اس کتاب میں اسے حضور پر افتراء کرکے ایسے شخص نے بڑھا دیا ہے کہ عنقریب اللہ عزوجل اس سے بدلہ لے گا ، حضرت شیخ رضی اللہ تعالٰی عنہ اس سے بَری ہیں"۔
ثانیاً:
اسی کتاب میں تمام اشعریہ یعنی اہلسنت و جماعت کو بدعتی ، گمراہ ، گمراہ گر لکھا ہے کہ:
"خلاف ماقالت الاشعریۃ من ان کلام اﷲ معنی قائم بنفسہ واﷲ حسیب کل مبتدع ضال مضل"
(الغنیۃ لطالبی طریق الحق فصل فی اعتقاد ان القرآن حروف مفہومۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۹۱)
"بخلاف اس کے جو اشاعرہ نے کہا کہ اﷲ تعالٰی کا کلام ایسا معنی ہے جو اس کی ذات کے ساتھ قائم ہے اور اﷲ تعالٰی ہر بدعتی، گمراہ و گمراہ گر کے لیے کافی ہے"۔(ت)
کیا کوئی ذی انصاف کہہ سکتا ہے کہ معاذﷲ یہ سرکارِغوثیت کا ارشاد ہے جس کتاب میں تمام اہلسنت کو بدعتی ، گمراہ گمراہ گر لکھا ہے اس میں حنفیہ کی نسبت کچھ ہو تو کیا جائے شکایت ہے۔ لہذا کوئی محلِ تشویش نہیں۔
ثالثاً:
پھر یہ خود صریح غلط اور افترا بر افترا ہے کہ تمام حنفیہ کو ایسا لکھا ہے غنیۃ الطالبین کے یہاں صریح لفظ یہ ہیں کہ:
"ھم بعض اصحاب ابی حنیفۃ"
( الغنیۃ لطالبی طریق الحق فصل واما الجہمیۃ الخ ادارہ نشرو اشاعت علوم اسلامیہ پشاور ۱/ ۹۱ )
"وہ بعض حنفی ہیں"
اس سے نہ حنفیہ پر الزام آسکتا ہے نہ معا ذاللّٰہ حنفیت پر ،آخر یہ تو قطعاً معلوم ہے اور سب جانتے ہیں کہ حنفیہ میں بعض معتزلی تھے، جیسے زمخشری صاحبِ کشاف و عبدالجبار و مطرزی صاحبِ مغرب و زاہدی صاحبِ قینہ و حاوی و مجتبےٰ ، پھر اس سے حنفیت و حنفیہ پر کیا الزام آیا۔ بعض شافعیہ زیدی رافضی ہیں اس سے شافعیہ و شافعیت پر کیا الزام آیا۔ نجد کے وہابی سب حنبلی ہیں پھر اس سے حنبلیہ و حنبلیت پر کیا الزام آیا، جانے دو رافضی خارجی معتزلی وہابی سب اسلام ہی میں نکلے اور اسلام کے مدعی ہوئے پھر معاذﷲ اس سے اسلام و مسلمین پر کیا الزام آیا"
(فتاوی رضویہ جلد29مسئلہ نمبر72مطبوعہ رضافاؤنڈیشن جامعہ نظامیہ لاہور)
میثم قادِری
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2919048215041153&id=100008080090753
"اولاً :
کتاب غنیۃ الطالبین شریف کی نسبت حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کا تو یہ خیال ہے کہ وہ سرے سے حضور پرنور سیدنا غوث اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ کی تصنیف ہی نہیں مگر یہ نفی مجرد ہے۔ اور امام حجر مکی رحمۃ اللہ علیہ نے تصریح فرمائی کہ اس کتاب میں بعض مستحقین عذاب نے الحاق کردیا ہے،
"فتاوٰی حدیثیہ" میں فرماتے ہیں:
"وایّاک ان تغتربما وقع فی الغنیۃ لامام العارفین و قطب الاسلام والمسلمین الاستاذ عبدالقادر الجیلانی رضی اللہ تعالٰی عنہ فانہ دسہ علیہ فیہا من سینتقم اﷲ منہ والا فہو برئ من ذلک"
(الفتاوی الحدیثیۃ مطلب ان مافی الغنیۃ للشیخ عبدالقادر مطبعۃ الجمالیہ مصر ص ۱۴۸)
یعنی"خبردار دھوکا نہ کھاناا اس سے جو امام اولیاء سردارِ اسلام و مسلمین حضور سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ تعالٰی عنہ کی غنیہ میں واقع ہوا کہ اس کتاب میں اسے حضور پر افتراء کرکے ایسے شخص نے بڑھا دیا ہے کہ عنقریب اللہ عزوجل اس سے بدلہ لے گا ، حضرت شیخ رضی اللہ تعالٰی عنہ اس سے بَری ہیں"۔
ثانیاً:
اسی کتاب میں تمام اشعریہ یعنی اہلسنت و جماعت کو بدعتی ، گمراہ ، گمراہ گر لکھا ہے کہ:
"خلاف ماقالت الاشعریۃ من ان کلام اﷲ معنی قائم بنفسہ واﷲ حسیب کل مبتدع ضال مضل"
(الغنیۃ لطالبی طریق الحق فصل فی اعتقاد ان القرآن حروف مفہومۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۹۱)
"بخلاف اس کے جو اشاعرہ نے کہا کہ اﷲ تعالٰی کا کلام ایسا معنی ہے جو اس کی ذات کے ساتھ قائم ہے اور اﷲ تعالٰی ہر بدعتی، گمراہ و گمراہ گر کے لیے کافی ہے"۔(ت)
کیا کوئی ذی انصاف کہہ سکتا ہے کہ معاذﷲ یہ سرکارِغوثیت کا ارشاد ہے جس کتاب میں تمام اہلسنت کو بدعتی ، گمراہ گمراہ گر لکھا ہے اس میں حنفیہ کی نسبت کچھ ہو تو کیا جائے شکایت ہے۔ لہذا کوئی محلِ تشویش نہیں۔
ثالثاً:
پھر یہ خود صریح غلط اور افترا بر افترا ہے کہ تمام حنفیہ کو ایسا لکھا ہے غنیۃ الطالبین کے یہاں صریح لفظ یہ ہیں کہ:
"ھم بعض اصحاب ابی حنیفۃ"
( الغنیۃ لطالبی طریق الحق فصل واما الجہمیۃ الخ ادارہ نشرو اشاعت علوم اسلامیہ پشاور ۱/ ۹۱ )
"وہ بعض حنفی ہیں"
اس سے نہ حنفیہ پر الزام آسکتا ہے نہ معا ذاللّٰہ حنفیت پر ،آخر یہ تو قطعاً معلوم ہے اور سب جانتے ہیں کہ حنفیہ میں بعض معتزلی تھے، جیسے زمخشری صاحبِ کشاف و عبدالجبار و مطرزی صاحبِ مغرب و زاہدی صاحبِ قینہ و حاوی و مجتبےٰ ، پھر اس سے حنفیت و حنفیہ پر کیا الزام آیا۔ بعض شافعیہ زیدی رافضی ہیں اس سے شافعیہ و شافعیت پر کیا الزام آیا۔ نجد کے وہابی سب حنبلی ہیں پھر اس سے حنبلیہ و حنبلیت پر کیا الزام آیا، جانے دو رافضی خارجی معتزلی وہابی سب اسلام ہی میں نکلے اور اسلام کے مدعی ہوئے پھر معاذﷲ اس سے اسلام و مسلمین پر کیا الزام آیا"
(فتاوی رضویہ جلد29مسئلہ نمبر72مطبوعہ رضافاؤنڈیشن جامعہ نظامیہ لاہور)
میثم قادِری
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2919048215041153&id=100008080090753
Facebook
Log in or sign up to view
See posts, photos and more on Facebook.
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
شجرہ عالیہ قادریہ رضویہ برکاتیہ بصیغہء درودشریف بقلم اعلٰی حضرت:
میثم قادری
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2919048575041117&id=100008080090753
میثم قادری
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2919048575041117&id=100008080090753
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
کل برادرِ گرامی ابو حنظلہ مولانا محمد اجمل قادری صاحب نے اپنے ادارہ کا شائع کردہ فتاویٰ قاضی خان کا سب سے پہلا اُردو ترجمہ نہایت مناسب قیمت پر عنایت کیا. اس کتاب کا اُردو ترجمہ ادارہ کا ایک اہم کارنامہ ہے.
کتاب کا طباعتی معیار اِدارہ کی دیگر مطبوعات کی طرح بہت عمدہ ہے. بیروتی سٹائل سے کتاب کی ظاہری دلکشی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے. فتاویٰ قاضی خان کی اہمیت سے اہلِ علم بخوبی واقف ہیں. سیدی اعلٰی حضرت نے فتاویٰ رضویہ شریف میں جا بجا اس سے استشہاد کیاہے. اور اس کے 361 مقامات پر حواشی تحریر فرمائے ہیں. اس کتاب کو اپنی لائبریری کی زینت بنائیں.
کتاب حاصل کرنے کے لیے رابطہ نمبر اور پتہ درج ذیل ہے. " مکتبہ اعلیٰ حضرت , دربار مارکیٹ , لاہور "
03008842540
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2919098595036115&id=100008080090753
کتاب کا طباعتی معیار اِدارہ کی دیگر مطبوعات کی طرح بہت عمدہ ہے. بیروتی سٹائل سے کتاب کی ظاہری دلکشی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے. فتاویٰ قاضی خان کی اہمیت سے اہلِ علم بخوبی واقف ہیں. سیدی اعلٰی حضرت نے فتاویٰ رضویہ شریف میں جا بجا اس سے استشہاد کیاہے. اور اس کے 361 مقامات پر حواشی تحریر فرمائے ہیں. اس کتاب کو اپنی لائبریری کی زینت بنائیں.
کتاب حاصل کرنے کے لیے رابطہ نمبر اور پتہ درج ذیل ہے. " مکتبہ اعلیٰ حضرت , دربار مارکیٹ , لاہور "
03008842540
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2919098595036115&id=100008080090753
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
#فیشن_کا_بڑھتا_چلن_اور_ہماری_بے_توجہی
غلام مصطفےٰ نعیمی
روشن مستقبل دہلی
کسی زمانے میں پھٹا ہوا کپڑا پہننا غربت اور مفلسی کی نشانی مانا جاتا تھا۔لیکن آج پھٹے ہوئے کپڑے پہننا امیری اور ماڈرن ہونے کی نشانی بن گیا ہے۔ اتنے کم وقت میں انسانی سوچ میں اتنی بڑی تبدیلی کیسے آئی؟اس سوال کا جواب تلاشنے نکلیں گے تو آپ کے سامنے ایسا دفتر کھل جائے گا کہ آپ حیران رہ جائیں گے کہ انسانی سوچ بدلنے کے لیے باضابطہ ایک بڑی فیشن انڈسٹری کام کر رہی ہے۔موجودہ وقت میں اس انڈسٹری کی مالیت 2,97,091کروڑ روپے کی ہے۔ماہرین کے مطابق اگلے پانچ سال میں یہ مالیت 7,48,398 کروڑ روپے کی ہوجائے گی۔
۱۹ ویں صدی تک عموماً ہر انسان اپنے کپڑوں کا انتخاب خود کرتا تھا۔کبھی ایسا بھی ہوتا تھا کہ کسی دوست،بھائی یا گھر والوں کی فرمائش پر کچھ خاص کپڑے سلوائے جاتے تھے لیکن عموماً ہر انسان اپنے کپڑے اپنی پسند سے ہی پہنتا تھا۔کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ انسان غیروں کی مرضی سے کپڑے پہنے گا لیکن ایسا ہوا۔بیسویں صدی یوروپ کی صدی ثابت ہوئی۔اہل یوروپ دنیا بھر پر قبضہ جماتے چلے گئے۔ انہیں لوگوں نے فیشن انڈسٹری کے نام پر لوگوں سے ان کی اپنی پسند کا حق چھین لیا۔ایسا نہیں ہے کہ انہوں نے لوگوں سے بندوق کی نوک پر ان کا حق چھینا ہو؟ اس کام کے لیے انہوں نے نفسیاتی حربہ اختیار کیا۔ٹی وی ،سنیما، میڈیا اور ماڈلوں کے ذریعےعوام میں رائج کپڑوں کو دیہاتی، گنوار اور غیر مہذب دکھایا جانے لگا۔مسلسل پروپیگنڈے کی وجہ سے لوگ بھی یہ ماننے لگے کہ جو کپڑے وہ لوگ پہنتے ہیں وہ نہایت پرانے اور پچھڑے ہوے زمانے کے ہیں۔اگر مہذب اور تعلیم یافتہ نظر آنا ہے تو اسٹائلش اور برانڈیڈ کپڑے پہننا ہوں گے۔
*فیشن انڈسٹری کے ہتھ کنڈے*
لوگوں کی عقل پر قبضہ جمانے کے لیے فیشن انڈسٹری نے بڑی زبردست منصوبہ بندی کی۔
1؍اچھے ڈزائنروں کو جمع کیا گیا اور انہیں یوروپین سوچ کے مطابق کپڑے ڈزائن کرنے کا ہدف دیا گیا۔
2؍دوسرے مرحلے میں اچھی قد کاٹھی اور ٹھیک ٹھاک شکل وصورت والے لڑکے، لڑکیوں کو ماڈل بنایا گیا۔
3؍دنیا کے مختلف شہروں میں فیشن شو اور کیٹ واک (Cat walk) کے نام پر ماڈلوں سے ان کپڑوں کی نمائش کرائی گئی۔
4؍زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچنے کے لیے ٹی وی اور میڈیا کا سہارا لیا گیا۔جس سے فیشن انڈسٹری کا چرچا ہر گھر پہنچا۔
5؍اپنے دائرے کو اور بڑھانے کے لیے لوگوں میں مقبول فلمی اداکار اور اداکاراؤں سے کپڑوں کی تشہیر کرائی گئی۔
6؍مختلف کھیلوں کے مشہور کھلاڑیوں سے بھی اشتہاری مزدور کا کام لیا گیا۔
7؍بڑے اور نامور قلم کاروں سے فیشن کی اہمیت اور افادیت پر لگاتار مضامین لکھوائے گئے۔
عام آدمی کی سوچ پر قبضہ جمانے کے لیے ایک دو سبب کافی تھے لیکن فیشن انڈسٹری نے کوئی بھی راستہ نہیں چھوڑا جسے استعمال نہیں کیا۔اس طرح آہستہ آہستہ لوگوں کی سوچ پر ملٹی نیشنل کمپنیاں غالب آتی گئیں۔اس طرح انسانوں سے ان کی پسند کا حق چھین لیا گیا۔اب کسے کیا اچھا لگتا ہے یہ وہ نہیں بلکہ ایک ماڈل، ایکٹر، کھلاڑی اور اداکارائیں طے کرتی ہیں جو کسی نہ کسی ملٹی نیشنل کمپنی کے اشتہاری مزدور ہوتے ہیں۔کمپنیاں پہلے ان مزدوروں کو پیسہ دے کر لوگوں کو رجھاتی ہیں ۔اس کے بعد اپنے تیار شدہ مال کو اونچے داموں پر بیچ کر اپنی تجوریاں بھرتی ہیں۔دو ہزار روپے میں اچھے کپڑے پہننے والا انسان فیشن کے نام پر دس ہزار کے کپڑے پہننے لگتا ہے وہ بھی پھٹے ہوئے! طرفہ تماشا یہ کہ اسے اپنے اسمارٹ ہونے کا خمار بھی ہوتا ہے۔
*فیشن کمپنیوں کی چالاکی*
فیشن انڈسٹری کا کھیل صرف کپڑوں پر ختم نہیں ہوتا بلکہ انہیں کپڑوں کے ساتھ اپنے دوسرے مال کو بھی بیچنا ہوتا ہے اس لیے نہایت ہوشیاری کے ساتھ کپڑوں میں ایسے ڈزائن بنائے جاتے ہیں جن سے دوسرا مال بھی بیچا جاسکے۔مثلاً فیشن انڈسٹری لڑکیوں کے لیے بغیر آستین کے (Sleeve Less) کپڑے تیار کرتی ہے توکھلے بازوؤں کی خوب صورتی بڑھانے کے لیے کسی کریم یا پاؤڈر کا اشتہار بھی جاری کرتی ہے۔اس طرح ایک مال کے ساتھ دوسرا مال بھی بیچنے میں کامیاب ہوجاتی ہے۔اسی طرح لڑکوں کو کھلے بازو کے کپڑے کی جانب رغبت دلانے کے لیے ایسا اشتہار تیار کیا جاتا ہے جس میں کسی ماڈل/ایکٹر کے ہاتھ میں بریس لیٹ دکھایا جاتا ہے۔اب اپنی عقل کھو چکا نوجوان وہ کپڑا بھی خریدتا ہے اور ساتھ میں بریس لیٹ بھی، تاکہ فیشن ادھورا نہ رہ جائے۔یعنی کمپنیاں پہلے آپ کی نگاہ میں اپنے سامان کو پسندیدہ بناتی ہیں اور اسی کے آڑ میں دوسرے سامان بھی منہ مانگے داموں پر بیچ بھرپور منافع کماتی ہیں۔فیشن کی رنگینی میں ہوش وحواس کھوچکے لوگ کمپنیوں پر اپنی کمائی لٹاتے چلے جاتے ہیں۔
*اسلامی نظریہ*
غلام مصطفےٰ نعیمی
روشن مستقبل دہلی
کسی زمانے میں پھٹا ہوا کپڑا پہننا غربت اور مفلسی کی نشانی مانا جاتا تھا۔لیکن آج پھٹے ہوئے کپڑے پہننا امیری اور ماڈرن ہونے کی نشانی بن گیا ہے۔ اتنے کم وقت میں انسانی سوچ میں اتنی بڑی تبدیلی کیسے آئی؟اس سوال کا جواب تلاشنے نکلیں گے تو آپ کے سامنے ایسا دفتر کھل جائے گا کہ آپ حیران رہ جائیں گے کہ انسانی سوچ بدلنے کے لیے باضابطہ ایک بڑی فیشن انڈسٹری کام کر رہی ہے۔موجودہ وقت میں اس انڈسٹری کی مالیت 2,97,091کروڑ روپے کی ہے۔ماہرین کے مطابق اگلے پانچ سال میں یہ مالیت 7,48,398 کروڑ روپے کی ہوجائے گی۔
۱۹ ویں صدی تک عموماً ہر انسان اپنے کپڑوں کا انتخاب خود کرتا تھا۔کبھی ایسا بھی ہوتا تھا کہ کسی دوست،بھائی یا گھر والوں کی فرمائش پر کچھ خاص کپڑے سلوائے جاتے تھے لیکن عموماً ہر انسان اپنے کپڑے اپنی پسند سے ہی پہنتا تھا۔کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ انسان غیروں کی مرضی سے کپڑے پہنے گا لیکن ایسا ہوا۔بیسویں صدی یوروپ کی صدی ثابت ہوئی۔اہل یوروپ دنیا بھر پر قبضہ جماتے چلے گئے۔ انہیں لوگوں نے فیشن انڈسٹری کے نام پر لوگوں سے ان کی اپنی پسند کا حق چھین لیا۔ایسا نہیں ہے کہ انہوں نے لوگوں سے بندوق کی نوک پر ان کا حق چھینا ہو؟ اس کام کے لیے انہوں نے نفسیاتی حربہ اختیار کیا۔ٹی وی ،سنیما، میڈیا اور ماڈلوں کے ذریعےعوام میں رائج کپڑوں کو دیہاتی، گنوار اور غیر مہذب دکھایا جانے لگا۔مسلسل پروپیگنڈے کی وجہ سے لوگ بھی یہ ماننے لگے کہ جو کپڑے وہ لوگ پہنتے ہیں وہ نہایت پرانے اور پچھڑے ہوے زمانے کے ہیں۔اگر مہذب اور تعلیم یافتہ نظر آنا ہے تو اسٹائلش اور برانڈیڈ کپڑے پہننا ہوں گے۔
*فیشن انڈسٹری کے ہتھ کنڈے*
لوگوں کی عقل پر قبضہ جمانے کے لیے فیشن انڈسٹری نے بڑی زبردست منصوبہ بندی کی۔
1؍اچھے ڈزائنروں کو جمع کیا گیا اور انہیں یوروپین سوچ کے مطابق کپڑے ڈزائن کرنے کا ہدف دیا گیا۔
2؍دوسرے مرحلے میں اچھی قد کاٹھی اور ٹھیک ٹھاک شکل وصورت والے لڑکے، لڑکیوں کو ماڈل بنایا گیا۔
3؍دنیا کے مختلف شہروں میں فیشن شو اور کیٹ واک (Cat walk) کے نام پر ماڈلوں سے ان کپڑوں کی نمائش کرائی گئی۔
4؍زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچنے کے لیے ٹی وی اور میڈیا کا سہارا لیا گیا۔جس سے فیشن انڈسٹری کا چرچا ہر گھر پہنچا۔
5؍اپنے دائرے کو اور بڑھانے کے لیے لوگوں میں مقبول فلمی اداکار اور اداکاراؤں سے کپڑوں کی تشہیر کرائی گئی۔
6؍مختلف کھیلوں کے مشہور کھلاڑیوں سے بھی اشتہاری مزدور کا کام لیا گیا۔
7؍بڑے اور نامور قلم کاروں سے فیشن کی اہمیت اور افادیت پر لگاتار مضامین لکھوائے گئے۔
عام آدمی کی سوچ پر قبضہ جمانے کے لیے ایک دو سبب کافی تھے لیکن فیشن انڈسٹری نے کوئی بھی راستہ نہیں چھوڑا جسے استعمال نہیں کیا۔اس طرح آہستہ آہستہ لوگوں کی سوچ پر ملٹی نیشنل کمپنیاں غالب آتی گئیں۔اس طرح انسانوں سے ان کی پسند کا حق چھین لیا گیا۔اب کسے کیا اچھا لگتا ہے یہ وہ نہیں بلکہ ایک ماڈل، ایکٹر، کھلاڑی اور اداکارائیں طے کرتی ہیں جو کسی نہ کسی ملٹی نیشنل کمپنی کے اشتہاری مزدور ہوتے ہیں۔کمپنیاں پہلے ان مزدوروں کو پیسہ دے کر لوگوں کو رجھاتی ہیں ۔اس کے بعد اپنے تیار شدہ مال کو اونچے داموں پر بیچ کر اپنی تجوریاں بھرتی ہیں۔دو ہزار روپے میں اچھے کپڑے پہننے والا انسان فیشن کے نام پر دس ہزار کے کپڑے پہننے لگتا ہے وہ بھی پھٹے ہوئے! طرفہ تماشا یہ کہ اسے اپنے اسمارٹ ہونے کا خمار بھی ہوتا ہے۔
*فیشن کمپنیوں کی چالاکی*
فیشن انڈسٹری کا کھیل صرف کپڑوں پر ختم نہیں ہوتا بلکہ انہیں کپڑوں کے ساتھ اپنے دوسرے مال کو بھی بیچنا ہوتا ہے اس لیے نہایت ہوشیاری کے ساتھ کپڑوں میں ایسے ڈزائن بنائے جاتے ہیں جن سے دوسرا مال بھی بیچا جاسکے۔مثلاً فیشن انڈسٹری لڑکیوں کے لیے بغیر آستین کے (Sleeve Less) کپڑے تیار کرتی ہے توکھلے بازوؤں کی خوب صورتی بڑھانے کے لیے کسی کریم یا پاؤڈر کا اشتہار بھی جاری کرتی ہے۔اس طرح ایک مال کے ساتھ دوسرا مال بھی بیچنے میں کامیاب ہوجاتی ہے۔اسی طرح لڑکوں کو کھلے بازو کے کپڑے کی جانب رغبت دلانے کے لیے ایسا اشتہار تیار کیا جاتا ہے جس میں کسی ماڈل/ایکٹر کے ہاتھ میں بریس لیٹ دکھایا جاتا ہے۔اب اپنی عقل کھو چکا نوجوان وہ کپڑا بھی خریدتا ہے اور ساتھ میں بریس لیٹ بھی، تاکہ فیشن ادھورا نہ رہ جائے۔یعنی کمپنیاں پہلے آپ کی نگاہ میں اپنے سامان کو پسندیدہ بناتی ہیں اور اسی کے آڑ میں دوسرے سامان بھی منہ مانگے داموں پر بیچ بھرپور منافع کماتی ہیں۔فیشن کی رنگینی میں ہوش وحواس کھوچکے لوگ کمپنیوں پر اپنی کمائی لٹاتے چلے جاتے ہیں۔
*اسلامی نظریہ*
انسان کے علاوہ دنیا میں جتنی بھی مخلوق ہے ان سب میں ایک بات مشترک ہے کہ قدرت نے انہیں ایسا جسم دیا ہے جسے کپڑے پہننے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔پوری کائنات میں انسان ہی وہ مخلوق ہے جسے ایسا جسم دیا گیا جسے چھپانے اور ڈھکنے کی ضرورت پڑتی ہے۔دنیا میں جتنے بھی مذاہب پائے جاتے ہیں وہ سب اس بات پر متفق ہیں کہ انسان فطری طور پر ننگا نہیں رہ سکتا۔اسے کسی نہ کسی طور پر اپنے بدن کو کپڑے سے ڈھکنا ہی ہے۔اب کتنا بدن ڈھکنا ہے اس پر سب کی رائے الگ الگ ہوجاتی ہے۔اسلامی نظریے کے مطابق جسم کےچند اہم حصوں کو چھوڑ کر پورا بدن ڈھکنا ضروری ہے۔ قرآن میں ہے:
يَـٰبَنِىٓ آدَمَ قَدۡ أَنزَلۡنَا عَلَيۡكُمۡ لِبَاسً۬ا يُوَٲرِى سَوۡءَٲتِكُمۡ وَرِيشً۬ا وَلِبَاسُ ٱلتَّقۡوَىٰ ذَٲلِكَ خَيۡرٌ۬ۚ ذَٲلِكَ مِنۡ ءَايَـٰتِ ٱللَّهِ لَعَلَّهُمۡ يَذَّكَّرُونَ(سورہ اعراف: ۲۶)
اے اولادِ آدم! بیشک ہم نے تمہارے لئے ایسا لباس اتارا ہے جو تمہاری شرم گاہوں کو چھپائے اورتمہارے لیے زینت بھی ہو۔اور ( ساتھ ہی باطنی لباس تقویٰ بھی اتارا،اور) تقوٰی کا لباس ہی سب سےبہتر ہے۔ یہ اﷲ کی نشانیوں میں سے ہے کہ کہیں وہ نصیحت مانیں۔
اسلامی نظریے کے مطابق لباس کا بنیادی مقصد بدن چھپانا اوراس کے ساتھ زینت حاصل کرنا ہے۔زینت حاصل کرنا عیب وگناہ نہیں ہے جب تک انسانی بدن چھپا رہے۔محض زینت کے لیے جسم دکھانے کی اجازت نہیں ہے۔مرد کے لیے ناف سے گھٹنوں تک بدن چھپانا اور ڈھکنا فرض ہے جبکہ عورت کے لیے ہتھیلی،چہرہ اور پاؤں چھوڑ کر سارا بدن ڈھکنا ضروری ہے لیکن اجنبی مردوں کے سامنے آنے کی اجازت نہیں ہے۔
یہ بات نوٹ کیے جانے لائق ہے کہ مردوں کے لباس کے بارے میں دوسرے اہل مذاہب بھی اسلامی نظریے کے آس پاس ہی رہتے ہیں لیکن عورت کے معاملے میں ان کا نظریہ ایک دم خلاف ہے۔وہ لوگ عورت کے جسم کے خاص حصوں کو نمایاں طور پر دکھانا اور ننگا رکھنا چاہتے ہیں۔اس لیے ایسے ایسے فیشن ایبل کپڑے تیار کیے جاتے ہیں جس سے عورت کا جسم زیادہ سے زیادہ نظر آئے۔پہلے بغیر آستین (Sleeve Less) کپڑوں کو عام کیا گیا۔اس کے بعد ٹاپ (Tops) کے نام پر ٹانگوں کا کپڑا ختم کیا ۔ بیک لیس (Back Less) کے نام پر کمر کا کپڑا غائب کیا گیا اور سوئنمگ پول (Swimming Pool) کے نام پر انہیں بِکنی پہنا کر تقریباً پورا لباس چھین لیا گیا۔ان سب حرکات کے پیچھے ان کے تجارتی مفاد اور جنسی ہوس کار فرما ہے۔
*بچاؤکا راستہ*
فیشن انڈسٹری کی سالانہ مالیت دو لاکھ کروڑ سے زیادہ ہے اس لیے اس کے مقابلے میں کھڑا ہونا آسان نہیں ہے۔لیکن ارادے پکے اور نیت سچی ہو تو تائید غیبی حاصل ہوتی ہے۔اپنے معاشرے کو بے لگام فیشن سے بچانے کے لیے چند اہم اقدامات ضروری ہیں:
1؍ہر شخص اپنے گھر میں اسلامی لباس رائج کرے۔
2؍علما ے کرام اس موضوع پر عقلی اور سائنٹفک انداز میں خطاب کے ذریعے رغبت دلائیں۔
3؍مسلم صنعت کار اس فیلڈ میں انویسٹ مینٹ کریں اور اچھے ڈزائنر کے ذریعے ملبوسات تیار کرائیں۔
4؍غیر شرعی طریقوں سے بچتے ہوئے تشہیری مہم چلائیں تاکہ لوگوں میں رغبت پیدا ہو۔
5؍کوالٹی اور قیمت کا خصوصی دھیان رکھیں۔
ضرورت ہے کہ مسلم صنعت کار اس طرف توجہ دیں تاکہ مسلم مرد و خواتین اغیار کے بے ہودہ لباسوں سے محفوظ رہیں۔ شروعات میں صرف مقامی علاقے پر فوکس کیا جائے، کامیابی ملنے پر دائرہ بڑھایا جائے۔خلوص نیت اور تاجرانہ مہارت کے ساتھ کام کیا جائے تو ان شاء اللہ کامیابی یقینی ہے۔
۸؍جمادی الاخری ۱۴۴۲ھ
۲۲؍جنوری ۲۰۲۱ء بروز ہفتہ
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/852445025326017/
يَـٰبَنِىٓ آدَمَ قَدۡ أَنزَلۡنَا عَلَيۡكُمۡ لِبَاسً۬ا يُوَٲرِى سَوۡءَٲتِكُمۡ وَرِيشً۬ا وَلِبَاسُ ٱلتَّقۡوَىٰ ذَٲلِكَ خَيۡرٌ۬ۚ ذَٲلِكَ مِنۡ ءَايَـٰتِ ٱللَّهِ لَعَلَّهُمۡ يَذَّكَّرُونَ(سورہ اعراف: ۲۶)
اے اولادِ آدم! بیشک ہم نے تمہارے لئے ایسا لباس اتارا ہے جو تمہاری شرم گاہوں کو چھپائے اورتمہارے لیے زینت بھی ہو۔اور ( ساتھ ہی باطنی لباس تقویٰ بھی اتارا،اور) تقوٰی کا لباس ہی سب سےبہتر ہے۔ یہ اﷲ کی نشانیوں میں سے ہے کہ کہیں وہ نصیحت مانیں۔
اسلامی نظریے کے مطابق لباس کا بنیادی مقصد بدن چھپانا اوراس کے ساتھ زینت حاصل کرنا ہے۔زینت حاصل کرنا عیب وگناہ نہیں ہے جب تک انسانی بدن چھپا رہے۔محض زینت کے لیے جسم دکھانے کی اجازت نہیں ہے۔مرد کے لیے ناف سے گھٹنوں تک بدن چھپانا اور ڈھکنا فرض ہے جبکہ عورت کے لیے ہتھیلی،چہرہ اور پاؤں چھوڑ کر سارا بدن ڈھکنا ضروری ہے لیکن اجنبی مردوں کے سامنے آنے کی اجازت نہیں ہے۔
یہ بات نوٹ کیے جانے لائق ہے کہ مردوں کے لباس کے بارے میں دوسرے اہل مذاہب بھی اسلامی نظریے کے آس پاس ہی رہتے ہیں لیکن عورت کے معاملے میں ان کا نظریہ ایک دم خلاف ہے۔وہ لوگ عورت کے جسم کے خاص حصوں کو نمایاں طور پر دکھانا اور ننگا رکھنا چاہتے ہیں۔اس لیے ایسے ایسے فیشن ایبل کپڑے تیار کیے جاتے ہیں جس سے عورت کا جسم زیادہ سے زیادہ نظر آئے۔پہلے بغیر آستین (Sleeve Less) کپڑوں کو عام کیا گیا۔اس کے بعد ٹاپ (Tops) کے نام پر ٹانگوں کا کپڑا ختم کیا ۔ بیک لیس (Back Less) کے نام پر کمر کا کپڑا غائب کیا گیا اور سوئنمگ پول (Swimming Pool) کے نام پر انہیں بِکنی پہنا کر تقریباً پورا لباس چھین لیا گیا۔ان سب حرکات کے پیچھے ان کے تجارتی مفاد اور جنسی ہوس کار فرما ہے۔
*بچاؤکا راستہ*
فیشن انڈسٹری کی سالانہ مالیت دو لاکھ کروڑ سے زیادہ ہے اس لیے اس کے مقابلے میں کھڑا ہونا آسان نہیں ہے۔لیکن ارادے پکے اور نیت سچی ہو تو تائید غیبی حاصل ہوتی ہے۔اپنے معاشرے کو بے لگام فیشن سے بچانے کے لیے چند اہم اقدامات ضروری ہیں:
1؍ہر شخص اپنے گھر میں اسلامی لباس رائج کرے۔
2؍علما ے کرام اس موضوع پر عقلی اور سائنٹفک انداز میں خطاب کے ذریعے رغبت دلائیں۔
3؍مسلم صنعت کار اس فیلڈ میں انویسٹ مینٹ کریں اور اچھے ڈزائنر کے ذریعے ملبوسات تیار کرائیں۔
4؍غیر شرعی طریقوں سے بچتے ہوئے تشہیری مہم چلائیں تاکہ لوگوں میں رغبت پیدا ہو۔
5؍کوالٹی اور قیمت کا خصوصی دھیان رکھیں۔
ضرورت ہے کہ مسلم صنعت کار اس طرف توجہ دیں تاکہ مسلم مرد و خواتین اغیار کے بے ہودہ لباسوں سے محفوظ رہیں۔ شروعات میں صرف مقامی علاقے پر فوکس کیا جائے، کامیابی ملنے پر دائرہ بڑھایا جائے۔خلوص نیت اور تاجرانہ مہارت کے ساتھ کام کیا جائے تو ان شاء اللہ کامیابی یقینی ہے۔
۸؍جمادی الاخری ۱۴۴۲ھ
۲۲؍جنوری ۲۰۲۱ء بروز ہفتہ
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/852445025326017/
Facebook
Log in to Facebook
Log in to Facebook to start sharing and connecting with your friends, family and people you know.