🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.85K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
قبلہ استاد گرامی فرماتے ہیں:

میں نے حضرت علامہ عنایت اللہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ‌ ( سانگل ہل والوں ) سے شرح وقایہ اور نورالانوار پڑھی ہیں ، آپ باکمال عالم ہونے کے ساتھ ساتھ بڑے عابد بھی تھے ۔
آپ کثرت سے ذکر الٰہی کرتے تھے ۔۔۔۔۔۔۔ اور بلا ناغہ کرتے تھے ۔
نیز میں نے آپ کو کبھی عصر اور عشا کی سنتیں چھوڑتے نہیں دیکھا ۔
ایک دفعہ ہم‌ سفر میں تھے ، عصر کی نماز لیٹ ہوگئی تو میں نے سوچا آج تو حضرت صرف فرض ہی پڑھیں گے ، لیکن آپ نے حسبِ معمول پہلے سنتیں ادا کیں ، پھر فرض پڑھے ۔

آپ کو حضور نبی کریم ﷺ سے اس قدر محبت تھی کہ سنتوں کی نیت کرتے وقت بھی سرکار ﷺ کا نامِ پاک لیتے ۔۔۔۔۔۔۔ بڑے والہانہ انداز سے لیتے ۔۔۔۔۔۔ اور بار بار لیتے ؛ گویا بہ زبان حال کہتے ؎

مِرے تو آپ ہی سب کچھ ہیں رحمتِ عالم
میں جی رہا ہوں زمانے میں آپ ہی کے لیے

تمھاری یاد کو کیسے نہ زندگی سمجھوں
یہی تو ایک سہارا ہے زندگی کے لیے

✍️لقمان شاہد
21-1-2021 ء

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3070552369891598&id=100008105947430
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
لبرل اور ملحدين کو ایسے سمجھائیں.

علماے کرام حالات حاضرہ پر نظر جمائے رکھیں، ملحدین کا فتنہ روز بڑھ رہا ہے، انکے جواب کے لیے سائنٹفک طریقہ اختیار کریں، کیوں کہ وہ شریعت کو تسلیم نہیں کریں گے انھیں انکی عقل کے مطابق ہی جواب دینا پڑے گا، لہذا علماے کرام اس طرف بھی توجہ فرمائیں اور نئے فتنوں کا اُنھیں کے انداز میں جواب دیں، مندرجہ ذیل چند سطور میں ہم دو مسئلوں کو کچھ اسی طرح سمجھانے کی کوشش کر رہے ہیں، کہیں کمی ہو تو ہماری اصلاح بھی فرمائیں۔

غسل میں تیل کی طرح سارے بدن پر پانی کیوں چُپڑیں؟

غسل میں سنت طریقہ یہ بتایا گیا ہے کہ سب سے پہلے نجاست دور کریں، پھر نماز جیسا وضو اور پھر تیل کی طرح سارے بدن پر پانی چُپڑیں، چونکہ یہ چیز طبی نقطہ نظر چاہتی ہے تو ہمیں اسے میڈیکل سائنس کے طریقے پر ہی سمجھنا چاہیے تاکہ بات مکمل طور پر سمجھ آ سکے.
غسل کے وقت ایسا کرنے کی وجہ یہ ہے کہ بدن اور پانی کا ٹمپریچر مختلف ہوتا ہے جب دو مختلف چیزیں اکٹھا ہوتی ہیں تو انکے اثرات بھی مختلف ہوتے ہیں جو بسا اوقات فائدہ دیتے ہیں اور بسا اوقات نقصان، مثلاً گرم لوہا ہی لے لیں، گرم لوہے کو پانی میں ڈالنے سے ایک اپنا اثر کھودے گا، جبکہ دوسرے پر بھی کچھ نہ کچھ اثر جائے گا، لوہا پانی میں ڈالتے ہی اپنا درجہ حرارت کھودے گا، جبکہ پانی بھی لوہے کے درجہ حرارت کی بنا پر قدرے گرم ہوجائے گا، یعنی پانی کی طبیعت میں جو ٹھنڈک تھی وہ بھی قدرے ختم ہوجائے گی، اور حرارت صاف محسوس کی جائے گی، لیکن ٹھنڈا لوہا، یا ہلکا گرم لوہا پانی میں ڈالیں گے تو پانی اپنی حالت پر رہے گا اور لوہے کی حرارت زائل ہوجائے گی، کیونکہ دونوں کے ٹمپریچر میں کوئی خاص فرق نہیں تھا اس لیے ایک سے دوسرے کو کوئی نقصان نہ ہوگا سوائے یہ کہ قدرے گرم لوہا ٹھنڈا ہوجائے گا۔
ٹھیک یہی حال غسل کا ہے بدن ہلکا سا گرم رہتا ہے اور پانی ٹھنڈا، اگر اس ہلکے گرم بدن پر پانی کو تیل کی طرح چپڑ لیا جائے تو بدن اس پانی کے ٹمپریچر کو مینج کرلے گا، اور اس پانی کی وجہ سے بدن کی حرارت ختم ہوجائے گی، اب پانی بھی ٹھنڈا ہے اور بدن بھی ٹھنڈا ہوگیا، ایسے میں اگر پانی بدن پر ڈالا جائے گا تو دونوں کا ٹمپریچر مساوی ہونے کی وجہ سے کسی بھی قسم کا طبی نقصان نہیں ہوگا، جبکہ اسے کوئی اور بیماری نہ ہو۔

___ اگر آپ نے کبھی تالاب میں مچھلیاں ڈالتے ہوے دیکھا ہو تو سمجھنا نہایت آسان ہے، انکا طریقہ یہی ہوتا ہے وہ جن تھیلیوں میں مچھلیوں کے بچے لاتے ہیں تالاب میں ڈالنے سے پہلے اسی تالاب کا تھوڑا سا پانی ان تھیلیوں میں ملاتے ہیں، انکا کہنا ہوتا ہے کہ اگر ان کو ڈائریکٹ دوسرے پانی میں ڈال دیا جائے تو دونوں پانیوں کے درجہ حرارت میں جو فرق ہے اس کی وجہ سے یہ بچے مرجائیں گے۔
اب بات واضح ہوگئی کہ ہمیں بدن میں پانی چُپڑنے کے لیے کیوں کہا گیا تھا۔ یہاں بھی طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈائریکٹ سر یا بدن پر پانی ڈالنے کی وجہ سے برین ہیمرج یا فالج کی بیماری ہو سکتی ہے، ہمارے ایک دوست کو وضو کے لیے ٹھنڈے پانی کے استعمال سے چہرے پر فالج کا اثر ہو چکا ہے۔

*تین سانس میں پانی پینے کا حکم کیوں؟*

آپ اگر پانی کو زمین پر تیزی کے ساتھ ڈالتے ہیں تو پانی کئی سمتوں میں بکھر جائے گا، لیکن پانی کو آپ پہلے تھوڑا سا زمین پر ڈالیں تو وہ ایک جگہ اکٹھا ہوکر کسی ایک سمت بہنے لگے گا، اب آپ دوبارہ تھوڑا اور ڈالیں تو وہ اسی راستے پر آگے بڑھ جائے گا اور کہیں اور نہ پھیلے گا، اب آپ تیسری مرتبہ پانی تیزی سے بھی ڈالیں اور زیادہ ڈالیں تو بھی وہ اسی بنے ہوے راستے پر بہے گا، ٹھیک اسی طرح تین سانس میں پانی پینے کا معاملہ ہے اگر آپ اکٹھا، زیادہ اور غٹ غٹ پانی پیتے ہیں تو ہو سکتا ہے کہ ان رگوں میں بھی پانی چلا جائے جہاں اسے نہیں جانا چاہیے، اور آپ کسی بیماری کا شکار ہوجائیں. اگر ہم پہلے ایک گھونٹ پی کر اندرونی راستے کو تر کردیں، پھر دو گھونٹ پی کر اس راستے کو مزید تر کردیں تو اب تیسری سانس میں آپ جتنا پانی پئیں گے وہ اس بنے ہوے راستے سے اصل ٹھکانے تک پنچ جائے گا۔
اسے یوں بھی سمجھ لیں آپ وضو کے لیے ہاتھوں پر پانی بہائیں تو کہنی سے نیچے کی جانب یا اوپر کی جانب کئی بار پانی ڈالنے سے کبھی آپ کا ہاتھ نہیں دھلے گا، پانی ہاتھ پر گرتے ہی مختلف جگہوں سے بہہ جائے گا، اگر آپ پانی کو بہتر طریقے سے ہر جگہ پہنچانا چاہتے ہیں تو آپ کو کچھ پانی چُلّو میں لے کر پورے ہاتھ میں چُپڑنا ہوگا، اب آپ پانی بہائیں گے تو پورے ہاتھ پر پانی بہہ جائے گا جیسا کہ ہر مسلمان وضو کرتے وقت اس کا مشاہدہ کرتا ہے.
ہمارے آقا علیہ السلام کے ہر عمل میں کوئی نہ کوئی حکمت ضرور ہے اب یہ ہمارے علم، سمجھ، مشاہدے، آور تجربے پر منحصر ہے کہ ہم اس حکمت کو کس طرح تلاش کریں اور عمل میں لائیں، اسلام کا اس انداز میں بھی تعارف کرانے کی ضرورت ہے.

محمد زاہد علی مرکزی کالپی شریف
رکن روشن مستقبل دہلی
چئیرمین تحریک علمائے بندیل کھنڈ
21/1/2021ء
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
گستاخانِ صحابہ کا انجام ـ احادیث کریمہ کی روشنی میں
❖⊙══════════⊙❖

از: فیضان سرور مصباحی
جامعۃ المدینہ ـــــ نیپال
٨/جمادى الآخرة ١٤٤٢ھ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
اس بات پر امت مسلمہ کا اجماع ہے کہ صحابۂ کرام میں سب کے سب عادل اور جنتی ہیں ۔ قرآنِ کریم نے صراحتاً صحابہ کے جنتی ہونے کو بیان کیا، اور ان کی قربانیوں و اعلی صفات کا ذکر فرمایا ہے ۔ ادھر احادیث کریمہ سے بھی ان کی عدالت وثقاہت ثابت ومسلم ہے ۔ اس کے باوجود رفض زدہ طبقہ اپنی خباثتِ باطنی اور شرارتِ نفسی سے باز آنے کو تیار نہیں ۔ العياذ بالله تعالیٰ
آنے والے سطور میں چند احادیث کریمہ ذکر کررہے ہیں، جن کو پڑھ کر بہ آسانی سمجھا جاسکتا ہے کہ تنقیصِ صحابہ کس قدر ناقابلِ برداشت جرم ہے ۔ اور رحمت والے آقا ﷺ سراپا رحمت ورافت اور باعث خیر وبرکت ہونے کے باوجود ان کے حق میں کس قدر غضب وجلال کا اظہار فرمارہے ہیں ۔

صحابہ کو بُرا کہنے والا مستحق لعنت
❖⊙══════════⊙❖

امام محمد بن عیسی سَورۃ ترمذی (متوفیٰ : ٢٧٩ھ) نے اپنی سند سے یہ روایت ذکر کی ہے :
عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا رَأَيْتُمُ الَّذِينَ يَسُبُّونَ أَصْحَابِي، فَقُولُوا : لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى شَرِّكُمْ ".
یعنی :
صحابی رسول حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ {م: ٧٣ھ} کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا:
جب تم ان لوگوں کو دیکھو جو میرے صحابہ کو برا کہہ رہے ہوں؛ تو یوں کہو: "لعنة الله على شركم" یعنی : تمارے شر پر اللہ کی لعنت ہو-
(سنن ترمذی، ج: ٦ ، ص :١٧٢ ، أبواب المناقب عن رسول الله ﷺ. باب)

گستاخِ صحابہ کی نہ نفل قبول نہ فرض
❖⊙══════════⊙❖

امام ابو عبد اللہ حاکم نیشاپوری متوفیٰ : ٤٠٥ھ اپنی سند سے یہ حدیث تخریج کرتے ہیں :
عَنْ عُوَيْمِ بْنِ سَاعِدَةَ ـ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى اخْتَارَنِي، وَاخْتَارَ بِي أَصْحَابًا، فَجَعَلَ لِي مِنْهُمْ وُزَرَاءَ، وَأَنْصَارًا وَأَصْهَارًا ، فَمَنْ سَبَّهُمْ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ ، لَا يُقْبَلُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ. هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ.
یعنی :
صحابی رسول حضرت عُوَیم بن ساعدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا کہ یقینا اس میں شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں کہ اللہ تبارک و تعالی نے مجھےچن لیا، اور میرے لیے میرے صحابہ کا انتخاب فرمایا۔ پھر ان میں بعض کو میرا وزیر مقرر فرمایا، بعض کو "انصار" کا رتبہ دیا، اور بعض کو سسرالی رشتے کا شرف بخشا۔ تو اب جو بھی ان کا ذکر برائی سے کرے؛ اس پر اللہ تعالی کی، فرشتے کی، اور تمام لوگوں کی لعنت ہو ۔ قیامت کے دن ان کا نہ کوئی نفل قبول کیا جائے گا نہ فرض۔
امام حاکم نیشاپوری کہتے ہیں کہ یہ روایت صحیح الإسناد ہے، مگر شیخین نے تخریج نہیں فرمائی ۔
[المستدرك على الصحيحين ، کتاب معرفة الصحابة ، ج: ٤ ، ص : ٨٣٣ ذكر عويم بن ساعدة]
امام حاکم نیشاپوری کے علاوہ : امام طبرانی نے بھی معجم کبیر - و - اوسط میں، اور امام ہیثمی نے مجمع الزوائد میں اس حدیث کو اپنی اپنی سند سے بیان کیا ہے ۔

شاتمانِ صحابہ سے سوشل بائیکاٹ کا فیصلہ
❖⊙══════════⊙❖

امام ابو جعفر محمد بن عمرو عُقَیلی مکی متوفیٰ : ٣٢٢ھ اپنی سند سے یہ روایت ذکر کرتے ہیں :
عَنِ أنس بن مالك ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "إنَّ اللهَ اختارَني فاختار لي أصحابي وأصهاري، وسيأتي قومٌ يسُبُّونَهم وينتقِصونَهم؛ فلا تُجالِسوهم ولا تُشارِبوهم ولا تُؤاكِلوهم ولا تُناكِحوهم."
یعنی :
صحابئ رسول حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا :
اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ تعالی نے مجھے چُن لیا ہے۔ پھر میرے صحابہ کو اور میرے سسرالی رشتے داروں کو میرے لیے پسند کیا ہے ۔ عنقریب ایک قوم آئے گی، جو انہیں برائی سے یاد کرے گی۔ اور ان کی شان گھٹانے کے درپئے ہوگی ۔
سن لو ! تم نہ ان کی ہم نشینی اختیار کرنا، نہ ان کے ہَم نَوالہ وہَم پیالہ ہو جانا۔ اور نہ ہی ان سے رشتۂ نکاح قائم کرنا -
[كتاب الضعفاء الكبير ، ج: ١ ، ١٢٦]

صحابہ کے مٹھی بھر اناج کے سامنے غیر صحابی کے اُحُد پہاڑ برابر سونے کی حیثیت
❖⊙══════════⊙❖

امام مسلم بن حجاج قشیری نیشاپوری متوفیٰ: ٢٦١ھ نے اپنی سند سے اس حدیث کو ذکر کیا ہے :
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَسُبُّوا أَصْحَابِي، لَا تَسُبُّوا أَصْحَابِي، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ أَنْفَقَ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا، مَا أَدْرَكَ مُدَّ أَحَدِهِمْ وَلَا نَصِيفَهُ ".
یعنی :
صحابی رسول حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
میرے صحابہ کو بُرا نہ کہو !
میرے صحابہ کو برا نہ کہو !
اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے کہ اگر تم میں کا کوئی اُحُد پہاڑ کے برابر سونا خرچ کرے؛ تو کسی صحابی کے مُـد کی برابری نہیں کر سکتا، بلکہ نصفِ مُد تک بھی نہیں پہنچ سکتا ہے۔
(صحيح مسلم - كِتَابٌ : فَضَائِلُ الصَّحَابَةِ - بَابٌ : تَحْرِيمُ سَبِّ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ، ج: ٧، ١٨٨)
اس روایت کی تخریج امام محمد بن اسماعیل بخاری نے بھی اپنی صحیح بخاری میں حضرت ابو سعید خدری سے کی ہے ۔ مگر اس میں "لا تسبوا " مکرر نہیں ۔

گستاخانِ صحابہ کی نماز جنازہ کا حکم
❖⊙══════════⊙❖

محدث أبوبکر احمد بن علی خطیب بغدادی متوفیٰ : ٤٦٣ھ سنداً بیان کرتے ہیں :
عَنِ أنس بن مالك ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "إنَّ اللهَ اختارَني، و اختار أصحابي، فجعلهم أصهاري ، وجعلهم أنصاري ، وإنه سيجيئ في آخر الزمان قومٌ ينتقِصونَهم؛ ألا ، فلا تُناكِحوهم. ألا ، فلا تَنكِحوا إليهم. ألا، فلا تُصَلُّوا عليهم. عَليهِم حَلَّتِ اللعنةُ "
یعنی :
بے شک اللہ تعالی نے مجھے چن لیا ہے، اور میرے لئے میرے صحابہ کا انتخاب فرمایا ہے ۔ پھر ان میں سے کچھ کو تو میرے سسرالی رشتہ دار بنایا، اور کچھ کو میرے"انصار" میں رکھا۔
اور اس میں شک کی کوئی گنجائش نہیں ہے کہ عن قریب آخری زمانے میں کچھ لوگ ہوں گے، جو میرے صحابہ کی شان گھٹائیں گے۔
سنو ! ان سے آپس میں نکاح کا معاملہ نہ کرنا۔
ذرا دھیان دو ! ان کے پاس رشتۂ نکاح لے کر نہ جانا۔
خبردار ! ان کے ساتھ نماز ادا نہ کرنا۔
کان کھول کر سن لو ! ان کی نماز جنازہ مت پڑھنا۔ ان پر تو اللہ کی لعنت اتر چکی ہے۔
[الكفاية في معرفة أصولِ علم الرواية ، ج: ١، ص : ١٧٤ ، ]

مذکورہ بالا احادیث کریمہ میں سے بعض تو صحت کے اعلی درجے پر فائز ہیں، اور بعض اس رُتبے پر جنھیں محدثین اپنی زبان میں "ضعیف" کہتے ہیں ۔ مگر تعدد طرق سے ان کے ضعف کی تلافی ہوجاتی ہے ۔ اور پھر ایسے موقع پر وہ استدلال میں کام آتی ہیں ۔
نبی کریم ﷺ کے ان فرامین کی روشنی میں یہ واضح ہوگیا کہ صحابہ کرام جیسی تقدس مآب شخصیتیں تنقید سے بالاتر ہیں، ان کے کسی فعل و قول پر انگشت نمائی اور گستاخی کی ہرگز اجازت نہیں۔ اولین وآخرین سب سے اللہ تعالی نے جنت کا وعدہ فرمالیا ہے ۔ اور جو ان حضرات کی شان گھٹانے کے درپئے ہوا؛ وہ ملعون و مردود ہے۔ اللہ تعالی کے یہاں نہ ان کے فرائض مقبول ہیں نہ نفل؛ اگرچہ وہ کتنے ہی مخلص و متقی بنے پھریں ، یہ لوگ سماج میں کسی بھی رشتے داری کے قابل نہیں، سوشل بائیکاٹ کرکے ان کی زندگیاں تنگ کر دینی چاہیں؛ تاکہ ایسوں کی عقل ٹھکانے آسکے۔ ان کے ساتھ اٹھنا، بیٹھنا، کھانا، پینا، نکاح و شادی سب حرام ہیں، بلکہ مرجاۓ توجنازہ بھی نہ پڑھی جائے، کہ جنازہ میں اللَّهُ تعالیٰ سے رحمت ومغفرت کی دعا کی جاتی ہے، جب کہ ان سبھوں نے تو صحابہ کو برا بھلا کہہ کر خود ہی اپنے اوپر رحمت الہی کا دروازہ بند کر لیا ہے اور لعنت کے مستحق ہو چکے ہیں۔
نعوذ بالله من شرور الرفضة و الشياطين. لعنة الله عليكم أجمعين .

ـ ترتیب وتدوین :
فیضان سرور مصباحی
جامعۃ المدینہ ـــــ نیپال
٨/جمادى الآخرة ١٤٤٢ھ

fb://photo/851882062048980?set=a.415369752366882
fb://photo/851882062048980?set=a.415369752366882
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
مولاناطیب داناپوری علیہ الرحمہ کی کتاب معاون بخشائش راقم نے ہندوستان میں جناب قاری عبدالرشیدصاحب پیلی بھیتی کوبھیجی تھی جس کا ذکراس کتاب کے شروع میں موجودہے.

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2916921125253862&id=100008080090753
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
تحدیث نعمت کے طورپرعرض ہے کہ راقم کی معلومات میں درج ذیل موضوعات
1_معجزہء شق القمر(یعنی چانددوٹکڑے ہونا)
2_معجزہءردّشمس(یعنی حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ کی نمازِعصرکے لیے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی دعاسےسورج لوٹ آنا)
3_نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے جسمِ اقدس کا سایہ ناہونا
اور
4_اسلامی پردہ کے احکام ودلائل
پرکم ازکم اُردوزبان میں راقم کی مرتبہ کتب کے برابریا زیادہ ضخیم کتب اب تک نظرسے نہیں گذریں.

میثم قادری

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2918363401776301&id=100008080090753
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
اکابردیوبندکے وکیلِ صفائی ناصرحرام پوری کامحاسبہ
تحریر:میثم عباس قادری رضوی

پہلی قسط:

ایک فتنہ پرورصلح کُلی شخص مسمّٰی ناصرحرام پوری(جس کاباطن اس کے چہرہ سے زیادہ سیاہ ہے)کی ایک پوسٹ دیکھی جس میں اس نے سیدی اعلٰی حضرت امام اہلِ سنت الشاہ احمدرضاخان فاضلِ بریلوی کی دیوبندیت شکن کتاب"حُسام الحرمین"میں قاسم نانوتوی دیوبندی کی تکفیرکویہ کہہ کرغلط قراردے دیاہے کہ اس میں قاسم نانوتوی کادرست مؤقف پیش نہیں کیاگیا.ناصرحرام پوری صاحب کی معلومات کے لیے عرض ہے کہ سیدی اعلی حضرت نے قاسم نانوتوی کی تکفیربعدمیں فرمائی.آپ کے تکفیرفرمانے سے پہلے ہی علمانے قاسم نانوتوی کی تکفیرکردی تھی ثبوت کے طورپردوعدددیوبندی کتب کےحوالہ جات پیش ہیں.
1.مولوی نورالحسن راشدکاندھلوی دیوبندی کی مرتبہ کتاب بنام"احوال وآثار باقیات ومتعلقات قاسم العلوم حضرت مولانامحمدقاسم نانوتوی"کا اقتباس پیش ہے جس میں قاسم نانوتوی نے خودلکھا:
"دہلی کے اکثرعلماء نے(مولانانذیرحسین محدث کے علاوہ)اس ناکارہ کے کفرکافتوی دیاہے اورفتوی پرمہریں کراکرعلاقے میں ادھرادھرمزیدمہریں لگوانے بھیج دیاہے اب یہ خبرہے کہ وہ فتوی عن قریب عرب شریف بھی پہنچے گا"
(قاسم العلوم صفحہ308,309مطبوعہ لاہور)
2.مولوی اشرفعلی تھانوی دیوبندی نے اپنی کتاب"قصص الاکابر"میں لکھاہے:
"جب مولاناقاسم صاحب نے کتاب تحذیرالناس لکھی توسب نے مولانامحمدقاسم صاحب کی مخالفت کی مگرمولاناعبدالحی نے موافقت میں رسالہ لکھا"ْ
(قصص الاکابرصفحہ159مطبوعہ لاہور)
*حرام پوری صاحب!بتائیے کیاقاسم نانوتوی کی تکفیراوررد کرنے والے یہ سب علمادہلی وہندوستان بھی دھوکے بازتھے؟
*کیاان علما نے بھی قاسم نانوتوی کادرست مؤقف بیان نہیں کیا؟
ان حوالہ جات کے عکس بھی پیشِ خدمت ہیں؟
(جاری ہے)

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2918363701776271&id=100008080090753
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
کتاب"غنیۃ الطالبین" کی بابت امامِ اہلِ سُنَّت مجددِ دین وملت مولانامفتی الشاہ احمدرضاخان فاضل بریلوی رحمۃُ اللّٰہ علیہ کا مؤقِف:

"اولاً :
کتاب غنیۃ الطالبین شریف کی نسبت حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کا تو یہ خیال ہے کہ وہ سرے سے حضور پرنور سیدنا غوث اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ کی تصنیف ہی نہیں مگر یہ نفی مجرد ہے۔ اور امام حجر مکی رحمۃ اللہ علیہ نے تصریح فرمائی کہ اس کتاب میں بعض مستحقین عذاب نے الحاق کردیا ہے،
"فتاوٰی حدیثیہ" میں فرماتے ہیں:
"وایّاک ان تغتربما وقع فی الغنیۃ لامام العارفین و قطب الاسلام والمسلمین الاستاذ عبدالقادر الجیلانی رضی اللہ تعالٰی عنہ فانہ دسہ علیہ فیہا من سینتقم اﷲ منہ والا فہو برئ من ذلک"
(الفتاوی الحدیثیۃ مطلب ان مافی الغنیۃ للشیخ عبدالقادر مطبعۃ الجمالیہ مصر ص ۱۴۸)
یعنی"خبردار دھوکا نہ کھاناا اس سے جو امام اولیاء سردارِ اسلام و مسلمین حضور سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ تعالٰی عنہ کی غنیہ میں واقع ہوا کہ اس کتاب میں اسے حضور پر افتراء کرکے ایسے شخص نے بڑھا دیا ہے کہ عنقریب اللہ عزوجل اس سے بدلہ لے گا ، حضرت شیخ رضی اللہ تعالٰی عنہ اس سے بَری ہیں"۔
ثانیاً:
اسی کتاب میں تمام اشعریہ یعنی اہلسنت و جماعت کو بدعتی ، گمراہ ، گمراہ گر لکھا ہے کہ:
"خلاف ماقالت الاشعریۃ من ان کلام اﷲ معنی قائم بنفسہ واﷲ حسیب کل مبتدع ضال مضل"
(الغنیۃ لطالبی طریق الحق فصل فی اعتقاد ان القرآن حروف مفہومۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۹۱)
"بخلاف اس کے جو اشاعرہ نے کہا کہ اﷲ تعالٰی کا کلام ایسا معنی ہے جو اس کی ذات کے ساتھ قائم ہے اور اﷲ تعالٰی ہر بدعتی، گمراہ و گمراہ گر کے لیے کافی ہے"۔(ت)
کیا کوئی ذی انصاف کہہ سکتا ہے کہ معاذﷲ یہ سرکارِغوثیت کا ارشاد ہے جس کتاب میں تمام اہلسنت کو بدعتی ، گمراہ گمراہ گر لکھا ہے اس میں حنفیہ کی نسبت کچھ ہو تو کیا جائے شکایت ہے۔ لہذا کوئی محلِ تشویش نہیں۔
ثالثاً:
پھر یہ خود صریح غلط اور افترا بر افترا ہے کہ تمام حنفیہ کو ایسا لکھا ہے غنیۃ الطالبین کے یہاں صریح لفظ یہ ہیں کہ:
"ھم بعض اصحاب ابی حنیفۃ"
( الغنیۃ لطالبی طریق الحق فصل واما الجہمیۃ الخ ادارہ نشرو اشاعت علوم اسلامیہ پشاور ۱/ ۹۱ )
"وہ بعض حنفی ہیں"
اس سے نہ حنفیہ پر الزام آسکتا ہے نہ معا ذاللّٰہ حنفیت پر ،آخر یہ تو قطعاً معلوم ہے اور سب جانتے ہیں کہ حنفیہ میں بعض معتزلی تھے، جیسے زمخشری صاحبِ کشاف و عبدالجبار و مطرزی صاحبِ مغرب و زاہدی صاحبِ قینہ و حاوی و مجتبےٰ ، پھر اس سے حنفیت و حنفیہ پر کیا الزام آیا۔ بعض شافعیہ زیدی رافضی ہیں اس سے شافعیہ و شافعیت پر کیا الزام آیا۔ نجد کے وہابی سب حنبلی ہیں پھر اس سے حنبلیہ و حنبلیت پر کیا الزام آیا، جانے دو رافضی خارجی معتزلی وہابی سب اسلام ہی میں نکلے اور اسلام کے مدعی ہوئے پھر معاذﷲ اس سے اسلام و مسلمین پر کیا الزام آیا"
(فتاوی رضویہ جلد29مسئلہ نمبر72مطبوعہ رضافاؤنڈیشن جامعہ نظامیہ لاہور)

میثم قادِری

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2919048215041153&id=100008080090753