🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.85K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
Forwarded from Deleted Account
حواله جات 👇

الجامع الترمذی ، باب الصلوة علی النبی ﷺ
١/ ٦٤

المسند لاحمد بن حنبل ، ٢ / ٢٦٨

المستدرک للحاکم ، ١ / ٥٥٠

التفسیر للبغوی ، ٥ / ٢٣٥

المصنف لعبدالرزاق ، ٣١١٥ ، ٢ / ٢١٥

مجمع الزواٸد للھیثمی ، ١٠ / ١٦٢

کنزالعمال للمتقی ، ٢١٦٦ ، ١ / ٤٩٢

المعجم الکبیر للطبرانی ، ٥ / ١٠٣

المعجم الصغیر للطبرانی ، ١ / ٢٠٩

اتحاف السادة للزبیدی ، ٣ / ٢٩٨

حلیة الاولیاء لابی نعیم ، ١ / ١٨٠


المستدرک للحاکم ، ٢ / ٥٥٨

المسند لاحمد بن حنبل ، ٥ / ١٣٢


المسند لاحمد بن حنبل ، ٦ / ١٦٤

المعجم الکبیر للطبرانی ، ٤ / ٣٥

مجمع الزواٸد للھیثمی ، ١٠ / ١٦٠


المعجم الکبیر للطبرانی ، ١٠ / ٢٢

فتح الباری للعسقلانی ، ١١ / ٢٢

الترغیب و الترھیب للمنذری ، ٢ / ٥٠٠

شرف صحابه الحدیث للخطیب ، ٦٣

جمع الجوامع للسیوطی ، ٦٣٣٩

التفسیر للبغوی ، ٥ / ٢٧١

المصنف لابن ابی شبیه ، ١١ / ١١٣

المغنی للعراقی ، ١ / ٣١١


السنن الکبری للھیثمی ، ٣ / ٢٤٩

التفسیر للطبری ، ٣ / ٨٤

المستدرک للحاکم ، ٢ / ٤٢١

المصنف لعبدالرزاق ٥٣٣٨ ، ٣ / ٢٠٥

الکامل لابن عدی ، ٣ / ٧٤

الترغیب والترھیب للمنذری ، ٢ / ٥٠٣

ارواء الغلیل للالبانی ، ١ / ٣٣

الدر المنثوم للسیوطی ، ٦ / ٣٣٢

عمل الیوم واللیلة لابن السنی ، ٣٧٣


الترغیب و الترھیب للمنذری ، ٢ / ٤٩٩

الجامع الصغیر للسیوطی ، ١ / ١٤٢

جمع الجوامع للسیوطی ، ٦٩٤٨


کنزالعمال للمتقی ، ٢١٨١ ، ١ / ٤٨٤

الترغیب و الترھیب للمنذری ، ٢ / ٤٩٩

السنن الکبری للھیثمی ، ٣ / ٢٤٩

مجمع الزواٸد للھیثمی ، ٢ / ١٤٤

جامع الاحادیث للامام احمد رضا علیه الرحمه ، رقم الصفحة ٦٥٥
──── ◉ ────

محمد ضیاءالدین خان قادری حنفی
بهرائچ شریف یوپی الهند
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Deleted Account
ایک مجرب و نافع دعا

حضرت عبداللّٰه بن عباس رضی اللّٰه عنه نے حضرت وہب رضی اللّٰه عنه سے پوچھا ،
اللّٰه تعالی نے کتنی کتابيں نازل فرمائیں ؟
انھوں نے جواب دیا ، ایک سو چار( ١٠٤ ) کتابيں !
پھر حضرت ابن عباس نے پوچھا ،
کیا ان میں سے کچھ اٹھاٸی بھی گٸ ہیں ؟
حضرت وہب نے جواب دیا ، ہاں ! ان میں سے بارہ کتابيں اٹھاٸی گٸ ہیں ۔
حضرت ابن عباس نے دریافت کیا ،
آپ نے ان میں سے کتنی کتابيں پڑھی ہیں ؟
جواب دیا ، بقیہ سبھی کتابيں !
پوچھا ، کیا آپ نے ان میں مصیبت کے وقت نفع دینے والی کوٸی دعا پاٸی ؟
کہا ، ہاں !
میں نے اس میں ایک ایسی دعا پاٸی ، جو ہر شخص کے لیۓ نافع ، کافی اور شافی ہے ، جو اسے سچی نیت کے ساتھ پڑھے ،

وہ دعا یہ ہے 👇

اللّٰهم یَا مَنۡ یَّمۡلِكُ حَوَائِجَ السَّائِلِیۡن

َ وَ یَعۡلَمُ ضَمَائِرَ الصَّامِتِیۡنَ فَاِنَّ لَكَ فِیۡ كُلِّ

مَسۡئَلَةٍ سَمۡعاً حَاضِراً وَ جَوَاباً عَتِیۡداً وَ اَنَّ

لَكَ بِكُلِّ صاَمِتٍ عِلۡماً مُحِیۡطاً مَوَاعِیۡدُكَ

الصَّادِقَةُ وَاَیَادِیۡكَ الۡفَاضِلَةُ وَ رَحۡمَتُكَ الۡوَاسِعَةُ ..ــــ..

اے الله ! اے پروردگار !
تو ساٸلوں کی ضروریات کا مالک ہے ۔
خاموش رہنے والوں کی دلی آرزوٶں سے واقف ہے ۔
تو ہر سوال سننے والا اور اسے پورا کرنے والا ہے ۔
ہر خاموش رہنے والے کو تیرا علم محیط ہے ۔
تیرے وعدے سچے ہیں ۔
تیری عنایتیں عالی اور تیری رحمتیں وسیع ہیں ۔


حضرت عبداللّٰه بن عباس رضی الله عنه کہتے ہیں ،
مجھے اس دعا کی افادیت کا علم خواب میں ہوا اور میں نے اس کا بارہا تجربہ کیا ،
میں اس سے اچھی کوٸی دعا نہیں جانتا ___

الۡقَلۡیُوۡبِیۡ
للشیخِ العَلَّامة احمد شَهاب الدِّین القلیوبی علیه الرحمة
رقم الصفحة ١٢٢

مُحمَّد ضِیاءُ الدِّین خَان قَادرِی حَنفِی
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
مبسملا وحامدا::ومصلیا ومسلما
درباری شاعر اور نقیب اجلاس کی کذب بیانی

بادشاہ افریقہ اور عالم اسلام کے مشہور مجاہد یوسف بن تاشقین(1009-1106)جب اندلسی مسلمانوں کی مدد کے لئے گئے تو 1086 میں مشہور عیسائی بادشاہ الفانسو سے زلاقہ میں جنگ ہوئی۔یوسف بن تاشقین کو فتح یابی نصیب ہوئی۔

الفانسو کے لشکر میں ساٹھ ہزار فوجی تھے اور خود الفانسو جنگ میں شریک تھا۔59,500 فوجی مارے گئے۔الفانسو بچ گیا,لیکن لنگڑا ہو گیا۔ساٹھ ہزار میں سے صرف پانچ سو فوجی زندہ بچ سکے۔

اس شکست کے سبب عیسائیوں کی ہمت ٹوٹ گئی اور یوسف بن تاشقین نے اندلس کی چھوٹی چھوٹی ریاستوں کو اپنی حکومت میں ضم کر لیا۔

زلاقہ میں عیسائیوں کو شکست فاش دینے کے بعد امیر یوسف بن تاشقین اشبیلیہ گئے۔ وہاں ایک رات کو اندلس کے شعرا اپنے قصائد لے کر حاضر خدمت ہوئے اور یوسف بن تاشقین کی مدح و ستائش میں رطب اللسان ہوئے۔یوسف بن تاشقین نے اسے ناپسند کیا اور کہا کہ مجھے تو ان کی باتیں سمجھ میں نہ آ سکیں۔ہاں اتنا معلوم ہوا کہ یہ لوگ روٹی کے محتاج ہیں۔ان کو انسانوں کی تعریف کے بجائے خدا کی تعریف کرنی چاہئے۔

یوسف بن تاشقین نے شاعروں کو نہ انعام دیا,نہ ہی ان کی تحسین کی,بلکہ اٹھ کر نماز کو چلے گئے۔

یہ واقعہ نسیم حجازی نے اپنی تصنیف"یوسف بن تاشقین"(ص388)میں لکھا ہے۔

درباری شاعروں کی طرح اب نقیب اجلاس بھی رائی کو پہاڑ اور کم علموں کو علامہ بنانے میں بہت جلد باز واقع ہوئے ہیں۔

جو پابند شریعت بھی نہیں,جلسوں کے نقیب ان کو ولی بنانے کا عظیم ملکہ رکھتے ہیں۔بس حقیقت و مجاز کا فرق ہے۔

پیراں نمی پرند:مریداں می پرانند

یہ بھی رواج ہو چکا ہے کہ کسی پیر یا عالم کی وفات ہو گئی تو اسے امام الواصلین اور امام العارفین بنادیا جاتا ہے۔وہ عارف باللہ تھے یا نہیں,واصل الی اللہ تھے یا نہیں۔کچھ پتہ نہیں۔

درباری شاعروں اور جلسہ کے نقیبوں کے بعد نفس انسانی کا نمبر آتا ہے۔لوگ خود اپنے ناموں کے ساتھ عظیم القاب لکھتے ہیں اور یہ ظاہر کرتے ہیں کہ تلامذہ یا معتقدین نے لکھ دیا ہے۔

درحقیقت ایسا کرنے والے خود کو عظیم انسان تصور بھی کرتے ہیں۔تواضع و انکساری غائب ہو چکی ہے اور غرور وگھمنڈ سر پر چڑھ کر بانگ لگا رہا ہے۔خالی صراحی سے آواز آتی ہے,جب کہ پھلدار درخت جھکا ہوتا ہے۔

دنیا بھر میں مسلمانوں کی تعداد تقریبا دو ارب ہے۔جامع ازہر مصر کے متعدد سنی اساتذہ اور عرب کے متعدد سنی علما خود کو مجتہد سمجھتے ہیں اور اپنے کو تقلید سے ماورا گردانتے ہیں۔کیا امت مسلمہ ان کو مجتہد مانتی ہے۔ہرگز نہیں۔ایسے دعووں پر لوگ کان ہی نہیں دھرتے۔

دسویں صدی ہجری کے مجدد امام جلال الدین سیوطی شافعی نے مجتہد فی المذہب ہونے کا دعوی کیا تھا۔شافعی فقہا نے چند سوالات بھیجے کہ آپ مجتہد ہیں تو ان سوالوں کو حل فرما دیں۔انہون نے سوال واپس فرما دیا اور معذرت خواہی کر کے مجتہد ہونے کا دعوی ترک کر دیا۔

عہد حاضر کا کوئی عالم امام جلال الدین سیوطی کے برابر بھی ہونا مشکل ہے,لیکن اجتہاد کا دعوی ضرور ہے۔اگر بڑی تعلیم گاہ کے بڑے اساتذہ مجتہد ہیں تو بڑی خانقاہوں کے پیروں کو غوث وقطب اور ابدال ہونا چاہئے۔

اتنا نہ بڑھا پاکی داماں کی حکایت
دامن کو ذرا دیکھ ذرا بند قبا دیکھ

ماہنامہ پیغام شریعت(دہلی)کے جو شمارے میری تصحیح سے شائع ہوتے ہیں۔میں نے کبھی اپنے نام کے ساتھ مولانا نہیں لکھا ہے۔ان شماروں کو دیکھ لیا جائے۔

دوسروں کو بھی میں مولانا لکھنے کی ترغیب نہیں دیتا,چہ جائے کہ عظیم القاب۔حضرت مولانا مفتی مظفر علی مدنی(فیصل آباد)نے ایک بار فرمایا کہ میں نے مضمون میں آپ کے نام کے ساتھ مولانا لکھ دیا ہے۔میں نے عرض کیا کہ "مصباحی"لکھ دینے سے لوگ سمجھ ہی جاتے ہیں کہ مولانا ہوں گے۔انہوں نے فرمایا کہ پڑوسی ملک میں سبھوں کو یہ معلوم نہیں۔

کیا ہم دینی خدمات اسی لئے انجام دیتے ہیں کہ ہم عظیم القاب سے ملقب کئے جائیں؟

اگر ایسا ہے,تب تو خدمات دینیہ کی قبولیت پر سوال اٹھے گا۔

پھر ایسی خدمات دینیہ میں برکات خداوندی کی امید بھی مشکل ہے۔خدام دین متین اپنے اعمال صالحہ وخدمات دینیہ کی قبولیت پر نظر رکھیں۔

بے نشانوں کا نشاں مٹتا نہیں
مٹتے مٹتے نام ہو ہی جائے گا

ہاں,اگر کوئی دوسرا کچھ القاب لکھ دے یا کہہ دے اور وہ حد جواز میں ہو تو اس کو ان کے حسن ظن پر محمول کر کے تعرض نہ کیا جائے,بشرطے کہ ہمارا نفس کبرونخوت میں مبتلا نہ ہو۔

اگر نفس کے کبروغرور میں مبتلا ہونے کا خوف ہو تو نفس کشی بہتر ہے۔نفس کشی کے بہت فوائد ہیں اور نفس کشی عملی تصوف کا بہت ہی اہم حصہ ہے۔

یوں تو عہد حاضر میں تصوف بھی علمی فن ہو کر رہ گیا۔خانقاہوں میں تصوف کے تذکرے تو ضرور ہیں,لیکن عملی تصوف چند ہی خانقاہوں میں ملے گا۔اب پیری مریدی بھی حالات زمانہ سے سخت متاثر ہو چکی ہے۔

طارق انور مصباحی

جاری کردہ:18:جنوری 2021

https://www.facebook.com/388280455075812/posts/849430132294173/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا کی ایک فارسی نعت کا اردو ترجمہ ، یہ نعت حضرت حافظ شیرازی کے کلام پر تضمین ہے
’’الا یٰایھا الساقی ادرکاسا و ناولہا‘‘
کہ بریادِ شہ کوثر بنا سازیم محفلہا
(آگاہ اے ساقی ! شراب لا اور اُسے دے، کیوں کہ ہم شہِ کوثر کی یاد میں اپنی محفلیں سجاتے ہیں )
بلا بارید حبِ شیخِ نجدی بروہابیہ
’’کہ عشق آساں نمود اول ولے افتاد مشکلہا‘‘
(شیخ نجدی کی محبت نے وہابیوں پر مصیبتیں برسائیں ، عشق شروع میں آسان نظر آیا بعد میں مشکلیں آن پڑیں)
وہابی گرچہ اخفا می کند بغضِ نبی لیکن
’’نہاں کے ماندآں رازے کزوسازند محفلہا ‘‘
(وہابی گرچہ نبی کریم ﷺ کے بغض کو چھپا کر رکھتا ہے ، وہ راز کب چھپا رہ سکتا ہے جس سے محفلیں سجاتے ہیں)
توہب گاہ ملکِ ہند اقامت را نمی شاید
’’جرس فریاد می دارد کہ بر بندید محملہا‘‘
وہابیوں کی جگہ ، ملکِ ہندوستان کہ قیام کرنے کے لائق نہیں ہے، کوچ کے گھنٹے آواز دیتے ہیں کہ محملوں کو باندھ لو)
صلاے مجلسم در گوش آمد بیں بیا بشنو
"جرس مستانہ می گوید کہ بر بندید محملہا "
(مجلس میں میرے کانوں میں آواز آئی ، دیکھ آ سُن! ، کوچ کا گھنٹہ مستانہ وار کہہ رہا ہے کہ محملوں کو باندھ لو )
مگرداں رُو ازیں محفل رہِ اربابِ سنت رَو
’’کہ سالک بے خبر نبود زِ راہ و رسمِ منزلہا ‘‘
(مگر اِس محفل سے رُخ مت پھیر اور اربابِ سنت کے راستے چل، تاکہ راستہ چلنے والا منزلوں کے طور طریقوں سے واقف ہوجائے )
دریں جلوت بیا از راہِ خلوت تاخدا یابی
"مَتیٰ مَا تَلقَ مَن تہویٰ دَعِ الدُنیا وَ اَمہِلہَا "
( تنہائی کے راستے سے اِس محفل میں آ تاکہ خدا کو پاسکے ، جب تیری محبوب سے ملاقات ہو تو دنیا کو چھوڑ اور اُس کو ترک کردے)
دلم قربانت اے دودِ چراغِ محفلِ مولد
’’زتابِ جعدِ مشکینت چہ خوں افتاد دردلہا‘‘
( اے ولادے کی محفل کے چراغ کے دھوئیں تجھ پر میرا دل قربان ، اُس مشکیں گھنگھریالے بالوں کی شکن کی وجہ سے دلوں میں اس قدر خون پڑگیا ہے )
غریقِ بحرِ عشقِ احمدیم از فرحتِ مولد
’’کجا دانند حالِ ماسبکسارانِ ساحلہا‘‘
(ولادت کی خوشی سے ہم احمد ﷺ کے عشق کے سمندر میں غرق ہیں ، ساحلوں پر بے فکری سے رہنے والے ہمارا حال کب جانتے ہیں)
رضاے مست جامِ عشق ساغر باز می خواہد
’’الا یٰایھا الساقی ادرکاسا و ناولہا‘‘
(عشق کے جام کا رِند رضاؔ دوبارہ ساغر طلب کرتا ہے ، آگاہ اے ساقی! شراب لا اور اُسے دے)

https://www.facebook.com/190656494845261/posts/850350132209224/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
تصانیف ِحافظ ملت:ایک تجزیاتی مطالعہ

توفیق احسنؔ برکاتی [استاذ جامعہ اشرفیہ ، مبارک پور، اعظم گڑھ]

مشہور ماہر تعلیم ،ابوالفیض حافظ ملت علامہ شاہ عبدالعزیز محدث مرادآبادی علیہ الرحمہ کو اللہ تعالیٰ نے بے پناہ خوبیوں سے مالامال فرمایا تھا ، آپ جہاں ایک ممتاز ماہر تعلیم اور نفسیات شناس انسان تھے ،وہیں ایک اعلیٰ دماغ منتظم بھی تھے ۔ ایک مایہ ناز استاذ ، متبحر عالم دین ، سنجیدہ خطیب اور مربی ومرشد ہونے کے ساتھ فکر انگیز تحریر وقلم کے مالک بھی تھے ، انھیں زبان وبیان پہ کامل دستگاہ تھی ، خطابت میں بھی آسان پیرایہ ان کی شناخت مانا جاتا ہے اور تحریر میں بھی یہی شگفتہ بیان اور سادہ گوئی ان کی پہچان ہے ۔ حافظ ملت علیہ الرحمہ ایک دردمند دل رکھتے تھے اور قوم مسلم کی خیرخواہی اور مسلم نوجوانوں کو تعلیمی و تربیتی اعتبار سے عروج پہ رکھنا ان کا مشن تھا۔ جس کے لیے انھوں نے تاحیات کوششیں کیں اور پوری دنیا میں علمی و تعلیمی انقلاب کی بنا ڈالی ، جس کا اثر ان کے تلامذہ اور واقف کاروں نے بھی قبول کیا ۔ دینی تعلیم کی افادیت کا کوئی منکر نہیں لیکن اگر یہ علوم عصری تقاضوں سے ہم آہنگ نہ ہوں تو ان کی افادیت گہنا جاتی ہے اور مقصود تعلیم دور ہوجاتا ہے ، اسی لیے انھوں نے جامعہ اشرفیہ ، مبارک پور کو ایک عظیم دانش گاہ بنانے کا اعلیٰ ترین منصوبہ بنایا جہاں مختلف دینی وعصری علوم وفنون کی تعلیم ہو اور یہاں سے ایک عالم دین صرف دینی علوم کا ماہر بن کر ہی نہ فارغ ہو بلکہ وہ عصری چیلنج کا مقابلہ کرنے کی بھی طاقت رکھتا ہو ۔ جامعہ اشرفیہ کے شعبہ جات اس کی گواہی دیتے ہیں ۔
حافظ ملت علیہ الرحمہ نے تعلیم وتدریس اور وعظ وخطابت کے ساتھ تحریر وقلم سے بھی وابستگی اختیار کی اور علمی وفکری جواہر پارے یادگار چھوڑے۔ مختلف تلامذہ ومریدین ومعاصرین علما ومشائخ کے لکھے گئے ان کے مکاتیب ، اہل علم کی کتابوں پر تحریر کردہ ان کی تقریظات اور قسط وار مضامین اور کتابیں آج بھی شوق سے مطالعہ کیے جاتے ہیں ، ان کے زریں اقوال اور قیمتی ملفوطات بھی تاثیر وتاثر کا جوہر رکھتے ہیں ۔حافظ ملت علیہ الرحمہ تحریر وقلم کی طاقت واہمیت سے خوب واقف تھے اور اس کام کی نزاکت ودشواری کے قائل بھی تھے ، ایک موقع پرآپ نے فرمایا:
’’تقریر سب سے آسان ہے ، اس سے مشکل تدریس اور سب سے مشکل تصنیف۔‘‘
سوانح نگاروں کے مطابق آپ نے مختلف موضوعات پر آٹھ کتب ورسائل یادگار چھوڑے ہیں۔ ارشاد القرآن، معارف حدیث ، انباء الغیب،فرقہ ناجیہ، المصباح الجدید، العذاب الشدید، الارشاد ، فتاویٰ حافظ ملت ۔ ان کتابوں کے علاوہ آپ نے شرح مرقات کا حاشیہ بھی لکھنا شروع کیا تھا لیکن وہ ناتمام رہ گیا اور اب وہ ناتمام حاشیہ کہاں ہے؟ کچھ پتہ نہیں ۔ آپ خود فرماتے ہیں :
’’بفضلہ تعالیٰ تصنیفی صلاحیت مجھے ضرور ملی اور قلم کی قوت بھی ۔ کیا کہوں ! بہر حال مجھے لکھنے پر قدرت تھی جس کا نمونہ المصباح الجدید ، ارشاد القرآن ، معارف حدیث وغیرہ ہیں ،لیکن قوت تصنیف کے باوجود عوائق وموانع درپیش رہے اور مصروفیات نے گھیرے رکھا جس کے باعث میں کچھ نہ لکھ سکا ۔ ایک طالب علم نے مرقات [جو قاضی مبارک کے درجے میں ہے]کی شرح پڑھنا شروع کی اور ان کے اصرار پر میں نے شرح مرقات کا حاشیہ لکھنا شروع کیا مگر طالب علم موصوف فراغت حاصل کرکے چلے گئے جس کے باعث یہ حاشیہ ناتمام رہ گیا اور پھر کوئی ایسا باذوق طالب علم مذکورہ کتاب پڑھنے والا نہیں ملا کہ اس کے لیے حاشیے کی تکمیل ہوسکے ۔‘‘(ماہ نامہ اشرفیہ ، حافظ ملت نمبر ، ۱۹۷۸ء ص: ۱۷۶)
ذیل میں تصانیف حافظ ملت کا مختصر جائزہ پیش کیا جاتا ہے:
’’ارشاد القرآن ‘‘: بتیس صفحات پر مشتمل ایک مختصر رسالہ ہے جو تقسیم ہند کے بعد ترک وطن کے پس منظر میں تحریر کیا گیا ہے ،جس میں آپ نے دلائل وشواہد کی روشنی میں واضح فرمادیا ہے کہ جب تک کسی ملک یا مقام میں عبادت الٰہی اور شریعت اسلامی پر عمل کرنے میں کوئی رکاوٹ نہ ہو،ترک وطن کی ضرورت نہیں ۔ اس رسالے کی تخریج و تحشیہ کا کام حضرت مولانا عبدالمبین نعمانی قادری نے کیا ہے ۔
’’معارف حدیث ‘‘: کے مضامین ماہ نامہ پاسبان الہ آباد میں قسط وار شائع ہوئے ہیں ، انھیں پاسبان کے مدیر علامہ مشتاق احمد نظامی نے کتابی شکل دی ہے اور یہ پہلی بار مدیر پاسبان کے کلمات عقیدت اور بحر العلوم مفتی عبدالمنان اعظمی علیہ الرحمہ کے پیش لفظ کے ساتھ حافظ ملت علیہ الرحمہ کے سفر حج۱۳۸۷ھ/۱۹۶۷ء کے بعد منظر عام پر آئی۔اس کتاب میں مصنف نے رواں دواں زبان اور شگفتہ اسلوب میں احادیث نبویہ کی جامع و مختصر تشریح فرمائی ہے اور مختلف زاویوں سے اسے جانچا پرکھا ہے ۔
’’انباء الغیب ‘‘:علم غیب مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے متعلق ایک تردیدی بیانیہ ہے جو ایک مولوی کے دجل وفریب کاری کا پردہ چاک کرتی ہے اور عالم ماکان ومایکون کے عطائی علوم غیبیہ کی نقاب کشائی کرتی ہے ۔ اس کتاب کی ترتیب و تحشیہ کا کام ان کے فرزند حضرت مولانا شاہ عبدالحفیظ عزیزی دام ظلہ نے مکمل فرمایا ہے ۔ کل صفحات ۵۶؍ ہیں ۔
’’فرقہ ناجیہ‘‘: جنتی فرقہ کے نام سے بھی طبع ہوتی رہی ہے ، جس میں یہ ثابت کیا گیا ہے کہ امت میں جو تہتر فرقے ہوں گے ان میں ناجی فرقہ سواد اعظم اہل سنت ہی ہے، اس کتاب کے مباحث بھی مصنف کے عالمانہ اسلوب اور دقت ِنگاہ کا بین ثبوت پیش کرتے ہیں ۔ اس کتاب کو بھی عزیز ملت دام ظلہ العالی نے مرتب کیا ہے ۔کل صفحات ۴۰؍ ہیں ۔
’’المصباح الجدید ‘‘: میں دیوبندی علما کے عقائد ونظریات ان کے کتابوں سے بیان کیے گئے ہیں اور حوالہ غلط ثابت کرنے پر پانچ ہزار روپے کا انعام بھی رکھا گیا ہے ۔ یہ کتاب ان کے آبائی وطن قصبہ بھوج پور، مرادآباد سے آئے ایک استفتا [جو تیس سوالات پر مشتمل ہے]کا تفصیلی جواب ہے ، جس کے اب تک ہندوپاک سے پچاسوں ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں، جو اس کے بے پناہ مقبول ہونے کا ثبوت ہے۔ کل صفحات چالیس ہیں ۔[یہ پانچوں کتابیں ۲۰۱۸ء میں مجلس برکات ، جامعہ اشرفیہ سے بھی طبع ہوچکی ہیں ۔ ]
’’العذاب الشدید‘‘بھی ایک تردیدی بیانیہ ہے ، یہ کتاب دراصل ’’المصباح الجدید‘‘ کے جواب میں لکھی گئی محمد حنیف رہبر کی کتاب ’’مقامع الحدید ‘‘ کا جواب ہے ،جس میں حنیف رہبر کے ہفوات و ایرادات کو زیروزبر کیاگیا ہے ، اس کتاب میں زبردست علمی بحثیں ہیں اور اس کی سطر سطر سے مصنف کی عالمانہ ومحققانہ بصیرت نمایاں ہے۔
’’الارشاد‘‘:تقسیم ہند کے پس منظر میں لکھی گئی ایک سچے محب وطن کی جرأت مندی کی داستان ہے ۔ اس وقت کی دوبڑی سیاسی پارٹیاں تھیں ، ایک کانگریس ، دوسری مسلم لیگ،مسلم لیگ قیام پاکستان کے لیے کوشاں تھی جس کی نگاہ میں تمام گمراہ فرقے مسلمان تھے ۔ حافظ ملت علیہ الرحمہ نے آل انڈیا سنی کانفرنس کی کامیابی میں اپنی عظیم خدمات پیش کی تھیں لیکن جب آل انڈیا سنی کانفرنس نے مسلم لیگ کی حمایت کا اعلان کیا تو اہل ہند کو کافی حیرت ہوئی ۔ اس سے حافظ ملت علیہ الرحمہ کو سخت تکلیف پہنچی اور آپ نے آل انڈیا سنی کانفرنس سے علاحدگی کا اعلان کردیا اور ’’الارشاد ‘‘ تصنیف کی ۔ مولانا بدرالقادری لکھتے ہیں : ’’زیر نظر رسالہ کی سطر سطر سے حافظ ملت کی حق گوئی ، جرأت مندی ، دینی درد ، مومنانہ فراست اور سیاسی بصیرت کا برملا اظہار ہوتا ہے ۔‘‘
’’فتاویٰ حافظ ملت ‘‘:اولاً مولانا مبارک حسین مصباحی نے ماہ نامہ اشرفیہ میں تخریج وتصحیح کے ساتھ شائع کرنا شروع کیا تھا جس کا ایک معتدبہ حصہ قسط وار طبع ہوچکا ہے ، مزید کچھ فتاویٰ حافظ ملت اور دیگر مفتیان اشرفیہ کے فتاویٰ کا مجموعہ رواں برس ’’فتاویٰ جامعہ اشرفیہ ‘‘[جلد اول] کے نام سے ۷۰۶؍ صفحات میں مجلد طبع ہوچکا ہے جس میں فقہی ترتیب سے فتاویٰ مندرج ہیں اور بقیہ تخریجات بھی مولانا جنید احمد مصباحی نے کردی ہیں جو ایک یادگار دستاویزی مجموعہ بن گیا ہے ۔
حافظ ملت نے زیادہ نہیں لکھا ، لیکن جتنا بھی لکھا وہ بیش قیمت ہے اور اردو زبان کے ایک عمدہ نثری بیانیہ کا اشارہ دیتا ہے ، یہ مذہب کی بھی خدمت ہے اور اردو کی بھی ،ان کی تحریروںمیں وضاحت بھی ہے قطعیت بھی ، اختصار بھی ہے جامعیت بھی ، طنز وتعریض بھی ہے اور جوش بیانی بھی ، اللہ ہمیں ان کتابوں سے استفادہ کی توفیق بخشے، آمین۔
[محررہ: ۵؍فروری ، ۲۰۱۹ء ]

https://www.facebook.com/190656494845261/posts/849812775596293/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🍃 *یادِ فقیہ ملت*🍃

سند الفقہاء ، مرجع العلماء ، غواص بحر فقہ ، شانِ مسند افتاء ، استاذ الاساتذہ ،، محقق دوراں ،، ناشر فکر رضا ، یادگارِ رئیس القلم ،، مظہر صدر الشریعہ ، نور نگاہ سادات مارہرہ ، فقیہ ملت حضرت علامہ مفتی جلال الدین امجدی قادری برکاتی علیہ الرحمہ بانی مرکزِ تربیتِ افتا و دارالعلوم اہلسنت امجدیہ ارشد العلوم ، اوجھا گنج ضلع بستی یوپی کی بارگاہ میں نذرانۂ عقیدت
عرس پاک 3 جمادی الاخرہ

🍃🌹🍃

روشنی ہیں ترے اقوال فقیہِ ملت
ہیں منور ترے افعال فقیہِ ملت

تیری ہستی ہے فقیہانِ جہاں کی محبوب
ہے چمکتا ترا اقبال فقیہِ ملت

تیرے اندر ہیں کمالاتِ رضا کے جلوے
تو ہے مجموعۂ اَفضال ، فـقیہ ملت

زر نہیں ڈھلتا ہے، فن ڈھلتے ہیں جسکے اندر
ہـے نرالی تری ٹکسال ، فـقـیہ ملت

گلشنِ فکرونظر اب بھی ہیں تجھ سے سیراب
فن کے اے چشمۂ سَیَّال ، فقیہ ملت

غیرتِ عشقِ رسالت کے بلال دوراں
واہ کیا ہے ترا إجلال فقیہ ملت

عکس تجھ میں نظر آتا ہے حسن بصری کا
صوفیانہ ہے ترا حال فقیہ ملت

دستِ "امجد" نے تراشے ، ترے فقہی جوہر
"حیدر و نوری" کا تو لال فقیہ ملت

تیرے کردار کو "ارشد" نے بنایا سِیماب
تو ہے اک قائدِ فَعّال ، فـقـیہ ملت

خوب فرمایا "بزرگوں کےعقیدے" کا دفاع
نجدیت ہوگئی بے حال فـقیہ ملت

حق کے احقاق میں گذری تری عمر نایاب
باطلوں کا کیا اِبطال ، فقیہ مـلت

باعثِ عزتِ مومن ہے تجلی تیری
تو ہے اک نَیَّرِ خوش فال فقیہ ملت

مرجعِ طائر فن، تیری تصانیف کا باغ
ہے ثمر بار، ہر اک ڈال ، فقیہ ملت

آپ نے کی ہے بڑی ظاہر و باہر تفصیل
جن مسائل میں تھا اجمال، فقیہ ملت

تیری تحقیق نگاری سے وہابی کے فریب
ہوگیے خستۂ و پامال ، فقیہ ملت !

اسلیے ہے تری ہر بات میں بیحد تاثیر
حال جیسا ہے ترا قال ، فقیہ ملت

نَو بہ نَو، تازہ بتازہ ہے لطافت تیری
بڑھ رہا ہے ، ترا اقبال فقیہ ملت

کہکشاں بن کے منور ہیں ہمیشہ کیلئے
تیری سیرت کے خد و خال فقیہ ملت

کبھی پژمردہ نہ ہوں تیرے چمن کے ازہار
رہے شاداب ،، تری آل ، فقیہ ملت

لکھ رہاہوں تو قلم ہوگیا پُرنور مرا
یوں ہیں روشن ترے احـوال فـقیہ ملت

کیا تری دولتِ حکمت پہ فریدی لکّھے
تو غنی ، اور میں کنگال ،، فقیہ ملت

🍃🍃🌹🍃🍃
✍🏼از فریدی صدیقی مصباحی، بارہ بنکوی ، مسقط عمان 96899633908+

https://www.facebook.com/100018511772807/posts/727679291192457/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
ایک دوست کہنے لگے:

مجھے فلاں جگہ سے خلافت مل گئی ہے ، اب تو میں پیر بن گیا ہوں ؛ اس لیے سوچ رہاہوں کہ‌ آستانہ بنا کے بیٹھ جاؤں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آپ کیا کہتے ہیں ؟

میں نے از راہ تفنن کہا:

ضرور آستانہ بنائیں ، اور اوپر یہ شعر بھی لکھ دیں ؎

یاں دعاؤں کی فِیس لگتی ہے
زَر ملے تو زبان ہلتی ہے

✍️لقمان شاہد
18-1-2021 ء

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3068515730095262&id=100008105947430
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
دور حاضر کے جن علماے کرام اور پیرانِ عظام کی گفتگو آپ کی رُشد و ہدایت کا ذریعہ بنتی ہے ، ان کے مبارک نام کمینٹ کر دیں ۔
اور اگر مناسب سمجھیں تو اس تبدیلی کا بھی ذکر کردیں جو ان نفوس قدسیہ کی وجہ سے آپ نے اپنے آپ میں محسوس کی ۔

✍️لقمان شاہد
18-1-2021 ء

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3068663833413785&id=100008105947430
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
#پیری_مریدی*
شارح بخاری مفتی محمد شریف الحق امجدی رحِمَہ اللہ:

"چالاک لوگوں نے دیکھا کہ سب سے آسان نفع بخش دهنده پیری مریدی کا ہے. بڑھاپے میں آدمی کسی کام کے لائق نہیں رہ جاتا. پھر ہر کام کے لیے کچھ ہنر چاہیے، اور پیری مریدی کے لیے کسی ہنر کی ضرورت نہیں، عوام کو شکار کرنے کے لیے صرف دماغ کی ضرورت ہے، تو ایسے لوگ جن میں نہ کوئی فضل ہے، نہ کمال ہے، نہ دین ہے، نہ دیانت ہے، لیکن مجلسی گفتگو کے بڑے ماہر ہیں، چرب زبان ہیں، انھوں نے پیری مریدی شروع کردی. اور یہ دیکھا کہ سید ہونے کے بعد پیری مریدی میں رنگ چوکھا آتا ہے تو سید بن بیٹھے، تا کہ بازار خوب تیز چلے."

(فتاوی شارح بخاری جلد دوم صفحہ 62، ناشر: دائرۃ البرکات, گھوسی)

قبلہ مفتی نثار احمد مصباحی صاحب زید مجدہ کی وال سے

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=702013613759025&id=100018511772807
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM