حضور فقیہ ملت علیہ الرحمہ کی قلمی خدمات
یہ بات ہر شخص پر روز روشن کی طرح واضح ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے علماے کرام کو ہی اپنا وارث و نائب بنایا، یہ وارثین ہی ہر دور میں اپنی خدا داد صلاحیت کے ذریعہ قوم و ملت کی شرعی و ملی رہنمائی فرماتے رہے اور ان شاء اللہ تا قیام قیامت رہنمائی فرماتے رہیں گے، انہیں وارثین میں سے ماضی قریب کی ایک شخصیت حضور فقیہ ملت علیہ الرحمہ کی ذات ہے، آپ کی پیدائش ۱۳۵۲ھ میں ضلع بستی کے ایک مشہور آبادی اوجھاگنج میں ہوئی، آپ نے علم دین حاصل کرنے کے بعد قوم و ملت بالخصوص طالبان علوم نبویہ کو سنوارنے کے لیے اپنی صلاحیت کو بروے کار لاتے ہوئے مختلف اور اہم دینی و ملی خدمات تدریس، اصلاحی بیان، فتوی نویسی، تصنیف اور مقالہ نگاری وغیرہ کی صورت میں پیش فرمائی، آپ کی رائے کے مطابق ان تمام چیزوں میں تصنیف و تالیف کا کام سب سے زیادہ سخت و مشکل ترین امر ہے، مگر آپ نے ان تمام چیزوں کے ساتھ مشکل ترین امر تصنیف و تالیف ہی کو اولیں درجہ دیا؛ اس کی وجہ آپ کا یہ ماننا تھا کہ عوام تک اپنی بات پہونچانے کے لیے یقینا اصلاحی بیان کی ضروت ہے مگر اس کا فائدہ انہیں لوگوں تک عموما محدود ہوتا ہے جو مجلس میں حاضر ہوتے ہیں، لیکن تصنیف و تالیف کا معاملہ کچھ الگ اور وسیع تر ہے، تالیف سے مصنف کے زمانہ والے فائدہ تو اٹھاتے ہی ہیں، ساتھ ہی مصنف کے اس دار فانی سے کوچ کرنے کے بعد بھی صدیوں تک لوگ اس سے فائدہ حاصل کرکے اپنے دل و دماغ کو جلا بخشتے رہتے ہیں، کتنی کتابیں ہیں جن کو تصنیف کیے صدیاں گزر گئیں مگر آج بھی پورا عالم اس سے فائدہ اٹھارہا ہے اور ان شاء اللہ ہمیشہ اٹھاتا رہے گا، آپ نے اپنی اسی اولیں ترجیح کے پیش نظر وقت و حالات کے اعتبار سے مختلف موضوعات پر بہت اہم اور گراں قدر تقریبا چوبیس پچیس کتابیں تصنیف فرمائیں، قارئین ان میں سے بعض پر مختصر تبصرہ ملاحظہ فرمائیں:
فتاوی فیض الرسول: آپ کی یہ دو ضخیم جلد والی کتاب آپ کے گراں قدر تحقیقی فتاوی پر مشتمل ہے، آپ نے یہ فتاوی مدرسہ فیض الرسول، براؤں شریف میں کم و بیش چالیس سال تدریس کے دروان، دن و رات محنت کرکے تحریر فرمایا، آپ کے یہ فتاوی ایمان سے لے کر میراث تک کے ہزاروں مسائل کا حل بالکل آسان و واضح تعبیرات کی روشنی میں پیش کرتے ہوئے نظر آتے ہیں، آپ نے اپنے ان فتاوی میں جا بجا مسلمانوں کے درمیان خلاف شرع رائج بدعت و خرافات کا رد بھی بحسن و خوبی فرمایا ہے، ان فتاوی کی کتاب کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ یہ ہندو پاک کے اکثر دار الافتا میں موجود ہے، جس سے علما و مفتیان کرام اپنے و دوسروں کے مسائل حل کرتے ہیں، انہیں فتاوی کی دوسری و تیسری کڑی ایک جلد میں فتاوی برکاتیہ اور دو ضخیم جلد میں فتاوی فقیہ ملت بھی ہے، انوار الحدیث: آپ نے اس کتاب میں قوم و ملت کے مسائل کا حل احادیث کی روشنی میں پیش فرمایا ہے، یہ کتاب ایمان سے لے کر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے وسعت علم تک کے مباحث کو محیط ہے،اس کتاب میں امت مسلمہ کے مسائل کا حل پیش کرنے کے ساتھ ساتھ بہت سارے لوگوں کے شکوک و شبہات کو بھی احادیث طیبہ کی روشنی میں دور کرنے کی بہترین کوشش کی گئی ہے، یہ کتاب اردو و ہندی اور انگریزی تینوں زبانوں میں کافی مقبول اور متداول عام و خاص ہے، خطبات محرم: عام طور سے دیکھا جاتا ہے کہ ہند و پاک کے مسلمان ماہ محرم الحرام کے پہلے دس دن میں بیان کا اہتمام کرتے ہیں، حضور فقیہ ملت علیہ الرحمہ ان دنوں ہونے والے بہت سارے بیانات سے متفق نہیں تھے؛ کیوں کہ وہ بیانات بہت سارے غلط واقعات و حکایات پر مشتمل ہوتے تھے، اسی مفسدہ کو دور کرنے کے لیے آپ نے مستند حوالوں کے ساتھ بارہ وعظوں پر مشتمل یہ کتاب تصنیف فرمائی؛ اسی وجہ سے یہ کتاب علما و عوام سب کے درمیان اپنا ایک خاص مقام رکھتی ہے اور آج بھی لوگ اس کتاب کی تعریف میں رطب اللسان ہیں، یہ کتاب بھی اردو و ہندی دونوں زبانوں میں موجود ہے، عجائب الفقہ یعنی فقہی پہیلیاں: آپ کی یہ کتاب ایسے ایسے فقہی سوالات و جوابات پر مشتمل ہے کہ ایک عام آدمی تو عام آدمی خاص علما بھی سوال پڑھ کر حیرت میں پڑجاتے ہیں اور جب جواب پڑھتے ہیں؛ تو سوال کا حل پاکر لبوں پر مسکراہٹ پھیل جاتی ہے، حضرت کی یہ کتاب بھی بہت مقبول و مشہور ہوئی، بزرگوں کے عقیدے: آیت کریمہ سے یہ بات ثابت شدہ ہے کہ انبیا، صدیقین، شہدا اور صالحین کا طریقہ ہی سیدھا راستہ ہے، مگر اس کے باجود بعض لوگ ان کا طریقہ کار اختیار کرنے والوں پر چیں بجبیں تھے؛ تو حضور فقیہ ملت رحمہ اللہ نے اس طرح کے لوگوں کو سمجھانے کے لیے بزرگوں کے عقیدے کتاب تصنیف فرمائی اور دلائل سے ثابت فرمایا کہ بزرگان دین کا طریقہ کار ہی صحیح و درست اور وہی قرآن و حدیث کے موافق ہے؛ لہذا ان حضرات کے طریقہ کار کے مطابق چلنے والوں پر چیں بجبیں ہونے کی چنداں گنجائش نہیں، یہ کتاب ہند
یہ بات ہر شخص پر روز روشن کی طرح واضح ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے علماے کرام کو ہی اپنا وارث و نائب بنایا، یہ وارثین ہی ہر دور میں اپنی خدا داد صلاحیت کے ذریعہ قوم و ملت کی شرعی و ملی رہنمائی فرماتے رہے اور ان شاء اللہ تا قیام قیامت رہنمائی فرماتے رہیں گے، انہیں وارثین میں سے ماضی قریب کی ایک شخصیت حضور فقیہ ملت علیہ الرحمہ کی ذات ہے، آپ کی پیدائش ۱۳۵۲ھ میں ضلع بستی کے ایک مشہور آبادی اوجھاگنج میں ہوئی، آپ نے علم دین حاصل کرنے کے بعد قوم و ملت بالخصوص طالبان علوم نبویہ کو سنوارنے کے لیے اپنی صلاحیت کو بروے کار لاتے ہوئے مختلف اور اہم دینی و ملی خدمات تدریس، اصلاحی بیان، فتوی نویسی، تصنیف اور مقالہ نگاری وغیرہ کی صورت میں پیش فرمائی، آپ کی رائے کے مطابق ان تمام چیزوں میں تصنیف و تالیف کا کام سب سے زیادہ سخت و مشکل ترین امر ہے، مگر آپ نے ان تمام چیزوں کے ساتھ مشکل ترین امر تصنیف و تالیف ہی کو اولیں درجہ دیا؛ اس کی وجہ آپ کا یہ ماننا تھا کہ عوام تک اپنی بات پہونچانے کے لیے یقینا اصلاحی بیان کی ضروت ہے مگر اس کا فائدہ انہیں لوگوں تک عموما محدود ہوتا ہے جو مجلس میں حاضر ہوتے ہیں، لیکن تصنیف و تالیف کا معاملہ کچھ الگ اور وسیع تر ہے، تالیف سے مصنف کے زمانہ والے فائدہ تو اٹھاتے ہی ہیں، ساتھ ہی مصنف کے اس دار فانی سے کوچ کرنے کے بعد بھی صدیوں تک لوگ اس سے فائدہ حاصل کرکے اپنے دل و دماغ کو جلا بخشتے رہتے ہیں، کتنی کتابیں ہیں جن کو تصنیف کیے صدیاں گزر گئیں مگر آج بھی پورا عالم اس سے فائدہ اٹھارہا ہے اور ان شاء اللہ ہمیشہ اٹھاتا رہے گا، آپ نے اپنی اسی اولیں ترجیح کے پیش نظر وقت و حالات کے اعتبار سے مختلف موضوعات پر بہت اہم اور گراں قدر تقریبا چوبیس پچیس کتابیں تصنیف فرمائیں، قارئین ان میں سے بعض پر مختصر تبصرہ ملاحظہ فرمائیں:
فتاوی فیض الرسول: آپ کی یہ دو ضخیم جلد والی کتاب آپ کے گراں قدر تحقیقی فتاوی پر مشتمل ہے، آپ نے یہ فتاوی مدرسہ فیض الرسول، براؤں شریف میں کم و بیش چالیس سال تدریس کے دروان، دن و رات محنت کرکے تحریر فرمایا، آپ کے یہ فتاوی ایمان سے لے کر میراث تک کے ہزاروں مسائل کا حل بالکل آسان و واضح تعبیرات کی روشنی میں پیش کرتے ہوئے نظر آتے ہیں، آپ نے اپنے ان فتاوی میں جا بجا مسلمانوں کے درمیان خلاف شرع رائج بدعت و خرافات کا رد بھی بحسن و خوبی فرمایا ہے، ان فتاوی کی کتاب کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ یہ ہندو پاک کے اکثر دار الافتا میں موجود ہے، جس سے علما و مفتیان کرام اپنے و دوسروں کے مسائل حل کرتے ہیں، انہیں فتاوی کی دوسری و تیسری کڑی ایک جلد میں فتاوی برکاتیہ اور دو ضخیم جلد میں فتاوی فقیہ ملت بھی ہے، انوار الحدیث: آپ نے اس کتاب میں قوم و ملت کے مسائل کا حل احادیث کی روشنی میں پیش فرمایا ہے، یہ کتاب ایمان سے لے کر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے وسعت علم تک کے مباحث کو محیط ہے،اس کتاب میں امت مسلمہ کے مسائل کا حل پیش کرنے کے ساتھ ساتھ بہت سارے لوگوں کے شکوک و شبہات کو بھی احادیث طیبہ کی روشنی میں دور کرنے کی بہترین کوشش کی گئی ہے، یہ کتاب اردو و ہندی اور انگریزی تینوں زبانوں میں کافی مقبول اور متداول عام و خاص ہے، خطبات محرم: عام طور سے دیکھا جاتا ہے کہ ہند و پاک کے مسلمان ماہ محرم الحرام کے پہلے دس دن میں بیان کا اہتمام کرتے ہیں، حضور فقیہ ملت علیہ الرحمہ ان دنوں ہونے والے بہت سارے بیانات سے متفق نہیں تھے؛ کیوں کہ وہ بیانات بہت سارے غلط واقعات و حکایات پر مشتمل ہوتے تھے، اسی مفسدہ کو دور کرنے کے لیے آپ نے مستند حوالوں کے ساتھ بارہ وعظوں پر مشتمل یہ کتاب تصنیف فرمائی؛ اسی وجہ سے یہ کتاب علما و عوام سب کے درمیان اپنا ایک خاص مقام رکھتی ہے اور آج بھی لوگ اس کتاب کی تعریف میں رطب اللسان ہیں، یہ کتاب بھی اردو و ہندی دونوں زبانوں میں موجود ہے، عجائب الفقہ یعنی فقہی پہیلیاں: آپ کی یہ کتاب ایسے ایسے فقہی سوالات و جوابات پر مشتمل ہے کہ ایک عام آدمی تو عام آدمی خاص علما بھی سوال پڑھ کر حیرت میں پڑجاتے ہیں اور جب جواب پڑھتے ہیں؛ تو سوال کا حل پاکر لبوں پر مسکراہٹ پھیل جاتی ہے، حضرت کی یہ کتاب بھی بہت مقبول و مشہور ہوئی، بزرگوں کے عقیدے: آیت کریمہ سے یہ بات ثابت شدہ ہے کہ انبیا، صدیقین، شہدا اور صالحین کا طریقہ ہی سیدھا راستہ ہے، مگر اس کے باجود بعض لوگ ان کا طریقہ کار اختیار کرنے والوں پر چیں بجبیں تھے؛ تو حضور فقیہ ملت رحمہ اللہ نے اس طرح کے لوگوں کو سمجھانے کے لیے بزرگوں کے عقیدے کتاب تصنیف فرمائی اور دلائل سے ثابت فرمایا کہ بزرگان دین کا طریقہ کار ہی صحیح و درست اور وہی قرآن و حدیث کے موافق ہے؛ لہذا ان حضرات کے طریقہ کار کے مطابق چلنے والوں پر چیں بجبیں ہونے کی چنداں گنجائش نہیں، یہ کتاب ہند
❤1
و پاک میں زیور طبع سے آراستہ ہوکر مقبول عام و خاص ہوئی، علم اور علما: اس کتاب میں علم و علما کی فضیلت بیان کی گئی ہے اور ساتھ میں اس بات کی وضاحت کرکے علما کو مہمیز بھی لگانے کی کوشش کی گئی ہے کہ علما اگر عمل نہیں کریں گے؛ تو جہاں ان کی بات کے بے اثر ہونے کا اندیشہ ہے، وہیں یہ طریقہ کار ان کی آخرت کو خراب کرنے والا ہے؛ لہذا ایک عالم پر لازم و ضروری ہے کہ وہ اپنے علم کے مطابق عمل کرے؛ تاکہ قول و عمل ثمربار ہو اور اس کی آخرت بھی خراب ہونے کے بجائے سنور جائے، آپ نے ان ساری باتوں کو قرآن و حدیث کی روشنی میں عمدہ پیراے پر بیان کیا ہے، یہ کتاب بھی ہند و پاک میں طبع ہوئی اور علما و طلبہ کے درمیان کافی مقبول ہوئی، حج و زیارت: حضرت نے ۱۳۹۶ھ مطابق ۱۹۷۶ء میں حرمین طیبین کی زیارت سے مشرف ہونے کے بعد تجربہ کی روشنی میں قرآن و حدیث اور اقوال علما سے اخذ کرتے ہوئے یہ کتاب تحریر فرمائی، یہ کتاب اگرچہ حجم میں چھوٹی ہے مگر بہت عمدہ و بہترین کتاب ہے، اس کے عمدہ ہونے کا اندازہ اس سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ عوام تو عوام بہت سارے علما بھی حج کے درمیان یہ کتاب اپنے ساتھ رکھتے ہیں اور جب حج کے درمیان انہیں کسی مسئلہ میں تردد ہوتا ہے؛ تو وہ اس کتاب کے ذریعہ اپنا تردد دور کرلیتے ہیں، یہ کتاب بھی ہند و پاک سے شائع ہوکر مقبول عام و خاص ہوچکی ہے، یہ کتاب ہندی زبان میں بھی طبع سے آراستہ ہوئی، ضروری مسائل: حضرت نے ہمیشہ زمانہ کے لحاظ سے پیش آنے والے مسائل کا حل پیش کرکے مسلمانوں کو راحت پہونچانے کی کوشش فرمائی، اسی کی ایک کڑی آٹھ مدلل فتاوی کا شاندار مجموعہ بنام: ضروری مسائل بھی ہے، آپ نے اس رسالہ میں انجکشن سے روزہ ٹوٹنے، نماز میں لاؤڈسپیکر کے استعمال کرنے اور قبر وغیرہ کو سجدہ کرنے سے متعلق قرآن و حدیث اور اقوال علما کی روشنی میں بہترین گفتگو فرمائی ہے، یہ کتاب بھی عوام و خواص سب کے لیے مفید ہے، تعظیم نبی: ہر سچا و پکا مسلم جانتا ہے کہ تعظیم نبی صرف ایمان ہی نہیں بلکہ ایمان کی جان ہے، آپ نے امت مسلمہ کو اس عظیم امر کی طرف اس کتاب کے ذریعہ توجہ دلائی؛ تاکہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تعظیم ہر مسلم کے دل میں گھر کرجائے اور وہ آپ کی تعظیم کا ہر لمحہ پاس و لحاظ رکھے اور کسی طرح بھی اس جانب تساہلی نہ برتے، یہ کتاب بھی اپنے موضوع پر اپنی مثال آپ ہے، ہر عام و خاص آدمی اس سے فائدہ حاصل کرسکتا ہے، معارف القرآن: حضرت کی یہ کتاب تصنیف و تالیف کے ابتدائی دور کی ہے، آپ نے اس کتاب میں تفسیر کی معتبر کتابوں کے ذریعہ بعض مخصوص آیات کی تفسیر پیش کی ہے، اور حمد الہی و اقرار بندگی، عظمت حکم مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور شان مؤمن وغیرہ جیسے اہم و اصلاحی موضوعات پر آسان لب و لہجہ میں بہترین گفتگو کی ہے، یہ کتاب بھی عوام و خواص سب کے لیے مفید و کار آمد ہے، آٹھ مسئلے کا محققانہ فیصلہ: حضرت نے اس رسالہ میں مختلف آٹھ مسائل جیسے بدعت کی قسمیں، بدعت کا رواج اور صلاۃ و سلام وغیرہ پر محققانہ و سیر حاصل گفتگو فرمائی ہے، آپ کا یہ رسالہ آپ کی تحقیق و تدقیق کا بہترین شاہکار ہے، اس رسالہ نے بھی اردو داں طبقہ کے درمیان کافی مقبولیت حاصل کی، یہ رسالہ بھی ہند و پاک میں شائع ہوکر خوب داد و تحسین حاصل کرچکا ہے، انو ار شریعت: آپ نے یہ کتاب سوال و جواب کے طرز پر ایمان، نماز، روزہ اور زینت وغیرہ کے متعلق تحریر فرمائی ہے، یہ کتاب ایسی ہے کہ اگر ایک بچہ صحیح ڈھنگ سے اس کو پڑھ لے؛ تو اسے ایمان، نماز وغیرہ کے موٹے موٹے مسائل ازبر ہوجائیں گے اور وہ اپنی روز مرہ کی عبادات وغیرہ صحیح طریقہ سے ادا کرنے کے لائق ہوجائے گا، یہ کتاب اپنے مشتملات اور عمدہ و سادہ اسلوب کی بنیاد پر کافی مقبول ہوئی، اس کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ یہ کتاب اکثر مدارس اسلامیہ کی پانچویں کلاس یا جماعت اعدادیہ میں داخل نصاب ہے، یہ کتاب بھی اردو، ہندی اور انگریزی میں موجود و متداول ہے، نورانی تعلیم: یہ کتاب ابتدائی سے لے کر پانچ تک کے طلبہ کے لیے قائدہ اور پانچ حصوں میں تصنیف کی گئی ہے، یہ کتاب بھی بالکل آسان و سادہ اسلوب میں ہے، اس کتاب کے ذریعہ بھی ایک بچہ اپنے روز مرہ کے بہت سارے دینی و ملی مسائل سے بخوبی واقف ہوجاتا ہے، کچھ قاعدہ کی کتاب الف سے انگوٹھی اور با سے بوتل سے شروع ہوتی تھی، آپ نے اسے ناپسند فرمایا اور اپنی نورانی تعلیم قاعدہ کو الف سے اللہ اور با سے بسم اللہ سے شروع فرمایا، یہ کتاب بھی بچوں کے لیے از حد مفید ہونے کی وجہ سے بہت ہی مقبول ہوئی اور اسی وجہ سے ہند و پاک کے بہت سارے مدارس اسلامیہ کے ذمہ داران نے اپنے مدارس میں اسے ابتدائی سے پانچ تک کے بچوں کے لیے داخل نصاب فرمایا ہے، یہ وہ کتاب ہے جس سے ایک مسلم بچہ اردو زبان سیکھنے کے ساتھ اپنے دینی مسائل بھی سیکھتا ہے، ان کتابوں کے علاوہ بھی حضرت کی دوسری کتابیں جیسے سید الاولیا سید احمد کبیر رفاعی
قدس سرہ، گلدستہ مثنوی اور باغ فدک اور حدیث قرطاس وغیرہ بھی مقبول عام و خاص ہوئیں، ان تصانیف سے لوگوں نے فائدہ اٹھایا اور ان شاء اللہ صدیوں تک لوگ آپ کے اس کار خیر سے فائدہ اٹھاتے رہیں گے، آپ کی وفات ۳؍جمادی الاخری ۱۴۲۲ھ میں ہوئی، آپ کی پوری زندگی شریعت اسلامیہ کی پابندی اور خلوص کے ساتھ عظیم دینی خدمات پیش کرنے سے عبارت ہے، اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ حضرت کی ان خدمات عالیہ کے بدلے میں، حضرت کے درجات بلند سے بلند تر فرمائے اور ہم سب کو آپ کے نقش قدم پر چل کر تحریر و تقریر وغیرہ کے ذریعہ مفید و بیش بہا خدمات انجام دینے کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔
ابوعاتکہ ازہار احمد امجدی ازہری غفرلہ
فاضل جامعہ ازہرشریف، مصر، شعبہ حدیث، ایم اے
خادم: مرکز تربیت افتا، أوجھاگنج، بستی، یوپی، انڈیا.
https://www.facebook.com/100018511772807/posts/727183817908671/
ابوعاتکہ ازہار احمد امجدی ازہری غفرلہ
فاضل جامعہ ازہرشریف، مصر، شعبہ حدیث، ایم اے
خادم: مرکز تربیت افتا، أوجھاگنج، بستی، یوپی، انڈیا.
https://www.facebook.com/100018511772807/posts/727183817908671/
Facebook
Log in or sign up to view
See posts, photos and more on Facebook.
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Deleted Account
اللغة العربیة
قال امیر المؤمنین سیدنا عمر رضی الله تعالی عنه
تعلموا العربیة فانها تثبت العقل ، وتزید فی المروءة
شعب الایمان للبیهقی
عن ابی بن كعب رضی الله تعالی عنه قال :
تعلموا العربیة كما تعلمون حفظ القرآن .
مصنف ابن ابی شیبه
قال رسول الله صلی الله علیه وسلم :
لسان اهل الجنة عربی .
ورواه العلاء :
احبوا العرب لثلاث : لانی عربی ، والقرآن عربی ، وكلام اهل الجنة عربی .
صفة اهل الجنة لابی نعیم
إخواني الأعزاء
تعلموا اللغة العربیة .
محمد ضیاءالدین القادری الحنفی
قال امیر المؤمنین سیدنا عمر رضی الله تعالی عنه
تعلموا العربیة فانها تثبت العقل ، وتزید فی المروءة
شعب الایمان للبیهقی
عن ابی بن كعب رضی الله تعالی عنه قال :
تعلموا العربیة كما تعلمون حفظ القرآن .
مصنف ابن ابی شیبه
قال رسول الله صلی الله علیه وسلم :
لسان اهل الجنة عربی .
ورواه العلاء :
احبوا العرب لثلاث : لانی عربی ، والقرآن عربی ، وكلام اهل الجنة عربی .
صفة اهل الجنة لابی نعیم
إخواني الأعزاء
تعلموا اللغة العربیة .
محمد ضیاءالدین القادری الحنفی
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Deleted Account
فضاٸل درورد شریف
عن انس بن مالک رضی الله عنه قال قال رسول الله ﷺ من صلی علی صلی الله علیه عشر صلوات وحط عنه عشر خطئیات .
──────⊱◈◈◈⊰──────
حضرت انس بن مالک رضی الله عنه سے روایت ہے کہ رسول الله ﷺ نے ارشاد فرمایا : جس نے مجھ پر ایک مرتبہ درود پڑھا اللہ تعالی اس پر دس رحمتیں نازل فرماتا ہے اور دس گناہ محو فرمادیتا ہے ۔
──────⊱◈◈◈⊰──────
عن ابی بن كعب رضی الله عنه قال كان رسول ﷺ اذا ذهب ربع اللیل قال یایها الناس ! اذكروا نعمة الله ، یایها الناس ! اذكروا جاءت الراجفة تتبعها الرادفة ، جاءت الموت بما فیه ، فقال ابی بن كعب یا رسول الله ! انی اكثروا الصلوة علیك فكم اجعل لك من صلونی ؟ قال ماشئت .
──────⊱◈◈◈⊰──────
حضرت ابی بن کعب رضی الله عنه سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ چہارم شب گزر جانے کے بعد کھڑے ہوکر فرماتے : اے لوگو ! خدا کی یاد کرو ۔ آٸی راجفہ ، اس کے بعد آتی ہے رادفہ ، آٸی موت ان چیزوں کے ساتھ جو اس میں ہیں ۔ میں نے عرض کی : یارسول الله ! میں دعا بہت کیا کرتا ہوں ۔ اس میں سے بطور درود شریف کس قدر مقرر کروں ؟ فرمایا جتنی چاہو ۔
──────⊱◈◈◈⊰──────
عن حبان بن منقذ رضی الله عنه ان رجلا قال یا رسول الله ! اجعل ثلث صلوتی علیك ؟ قال نعم ان شئت ، قال الثلثین . قال نعم ، فصلاتی كلها ؟ قال رسول الله ﷺ اذن یكفیك الله ما اهمك من امر دنیاك و آخرتك ..
──────⊱◈◈◈⊰──────
حضرت حبان بن منقذ رضی الله عنه سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر ایک شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں اپنی تہائی دعا حضور کے لیۓ کرتا ہوں ۔ فرمایا : اگر تو چاہے ۔ عرض کی : دو تہائی ، فرمایا : ہاں ! عرض کی : کل دعا کے عوض درود مقرر کرتا ہوں فرمایا : ایسا کرےگا ۔ تو خدا تیرے دنیا و آخرت کے سب کام بنادےگا ۔
________________________
سیدنا امام احمد رضا محدث بریلوی علیه الرحمه فرماتے ہیں
بیشک درود سید عالم ﷺ کے لیۓ دعا ہے ۔ اور جس قدر اس کے فوائد و برکات مصلی پر عاٸد ہوتے ہیں ہرگز اپنے لیۓ دعا میں نہیں بلکہ ان کے لیۓ دعا تمام امت مرحومہ کے لیۓ دعا ہے ۔ کہ سب انھیں کے دامن دولت سے وابستہ ہیں _
سلامت ہمہ آفاق در سلامت تست ۔
──────⊱◈◈◈⊰──────
عن عبدالله بن مسعود رضی الله عنه قال قال رسول الله ﷺ ان اولی الناس بی یوم القیامة اكثرهم علی صلوة ..
──────⊱◈◈◈⊰──────
حضرت عبد الله بن مسعود رضی الله عنه سے روایت ہے کہ رسول الله ﷺ نے ارشاد فرمایا : قیامت کے دن مجھ سے زیادہ قریب وہ شخص ہوگا جو مجھ پر زیادہ درود و سلام پیش کرتا ہوگا ۔
──────⊱◈◈◈⊰──────
عن ابی امامة الباهلی رضی الله عنه قال قال رسول الله ﷺ اكثروا من الصلوة علی فی كل یوم جمعة ، فان الصلوة امتی تعرض علی فی كل یوم جمعة ، فمن كان اكثرهم علی صلوة كان اقربهم منی منزلة .
──────⊱◈◈◈⊰──────
حضرت ابو امامہ باہلی رضی الله عنه سے روایت ہے کہ رسول الله ﷺ نے ارشاد فرمایا : مجھ پر ہر جمعہ کے دن کثرت سے درود پاک پڑھو کہ میری امت کا درود مجھ پر پیش ہوتا ہے تو جو مجھ پر کثرت سے درود پاک پڑھےگا وہ مجھ سے قریب رہےگا ۔
──────⊱◈◈◈⊰──────
قال رسول الله ﷺ من صلی علی روح محمد فی الارواح وعلی جسده فی الاجساد و علی قبره فی القبور رأنی فی منامه ، و من رأنی فی منامه رأنی فی یوم القیامة ، و من رأنی یوم القیامة شفعت له ، و من شفعت له شرب من حوض و حرم الله جسده علی النار .
──────⊱◈◈◈⊰──────
حضور پر نور سید یوم النشور ﷺ نے ارشاد فرمایا : جو محمد ﷺ پر ارواح میں اور جسم اطہر پر اجسام میں اور قبر انور پر قبور میں ، درود بھیجے وہ مجھے خواب میں دیکھے اور جو خواب میں دیکھے مجھے قیامت میں دیکھےگا اور جو مجھے قیامت میں دیکھےگا میں اس کی شفاعت فرماٶنگا اور جس کی میں شفاعت فرماٶنگا وہ میرے حوض کریم سے پیۓگا اور اللہ عزوجل اس کے بدن پر دوزخ حرام فرمائیگا ۔ اللہ ارزقنا بجاھد عندک آمین ۔
________________________
سیدنا امام احمد رضا خان محدث بریلوی علیه الرحمه فرماتے ہیں
علماء فرماتے ہیں : یوں درود شریف پڑھو
اللھم صلی علی روح سیدنا محمد فی الارواح ، اللھم صلی علی جسد سیدنا محمد فی الاجساد ،اللھم صلی علی قبرہ سیدنا محمد فی القبور ۔
فتاوی رضویہ ٤ / ١٥٩
──────⊱◈◈◈⊰──────
عن عمار بن ياسر رضی الله عنه قال سمعت رسول الله ﷺ یقول ان الله تعالی ملكا اعطی اسماع الخلائق كلها قائم علی قبری الی یوم القیامة ، فما من احد یصلی علی صلوة الا ابلغنیها .
──────⊱◈◈◈⊰──────
حضرت عمار بن یاسر رضی الله عنه سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا : بیشک الله تعالی کا ایک فرشتہ ہے جسے خدا نے تمام جہاں کی بات سن لینے کی طاقت عطا کی ہے وہ قیامت تک میری قبر پر حاضر رہیگا جو مجھ پر درود بھیجےگا یہ مجھ سے عرض کریگا ۔
──────⊱◈◈◈⊰──────
عن انس بن مالک رضی الله عنه قال قال رسول الله ﷺ من صلی علی صلی الله علیه عشر صلوات وحط عنه عشر خطئیات .
──────⊱◈◈◈⊰──────
حضرت انس بن مالک رضی الله عنه سے روایت ہے کہ رسول الله ﷺ نے ارشاد فرمایا : جس نے مجھ پر ایک مرتبہ درود پڑھا اللہ تعالی اس پر دس رحمتیں نازل فرماتا ہے اور دس گناہ محو فرمادیتا ہے ۔
──────⊱◈◈◈⊰──────
عن ابی بن كعب رضی الله عنه قال كان رسول ﷺ اذا ذهب ربع اللیل قال یایها الناس ! اذكروا نعمة الله ، یایها الناس ! اذكروا جاءت الراجفة تتبعها الرادفة ، جاءت الموت بما فیه ، فقال ابی بن كعب یا رسول الله ! انی اكثروا الصلوة علیك فكم اجعل لك من صلونی ؟ قال ماشئت .
──────⊱◈◈◈⊰──────
حضرت ابی بن کعب رضی الله عنه سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ چہارم شب گزر جانے کے بعد کھڑے ہوکر فرماتے : اے لوگو ! خدا کی یاد کرو ۔ آٸی راجفہ ، اس کے بعد آتی ہے رادفہ ، آٸی موت ان چیزوں کے ساتھ جو اس میں ہیں ۔ میں نے عرض کی : یارسول الله ! میں دعا بہت کیا کرتا ہوں ۔ اس میں سے بطور درود شریف کس قدر مقرر کروں ؟ فرمایا جتنی چاہو ۔
──────⊱◈◈◈⊰──────
عن حبان بن منقذ رضی الله عنه ان رجلا قال یا رسول الله ! اجعل ثلث صلوتی علیك ؟ قال نعم ان شئت ، قال الثلثین . قال نعم ، فصلاتی كلها ؟ قال رسول الله ﷺ اذن یكفیك الله ما اهمك من امر دنیاك و آخرتك ..
──────⊱◈◈◈⊰──────
حضرت حبان بن منقذ رضی الله عنه سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر ایک شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں اپنی تہائی دعا حضور کے لیۓ کرتا ہوں ۔ فرمایا : اگر تو چاہے ۔ عرض کی : دو تہائی ، فرمایا : ہاں ! عرض کی : کل دعا کے عوض درود مقرر کرتا ہوں فرمایا : ایسا کرےگا ۔ تو خدا تیرے دنیا و آخرت کے سب کام بنادےگا ۔
________________________
سیدنا امام احمد رضا محدث بریلوی علیه الرحمه فرماتے ہیں
بیشک درود سید عالم ﷺ کے لیۓ دعا ہے ۔ اور جس قدر اس کے فوائد و برکات مصلی پر عاٸد ہوتے ہیں ہرگز اپنے لیۓ دعا میں نہیں بلکہ ان کے لیۓ دعا تمام امت مرحومہ کے لیۓ دعا ہے ۔ کہ سب انھیں کے دامن دولت سے وابستہ ہیں _
سلامت ہمہ آفاق در سلامت تست ۔
──────⊱◈◈◈⊰──────
عن عبدالله بن مسعود رضی الله عنه قال قال رسول الله ﷺ ان اولی الناس بی یوم القیامة اكثرهم علی صلوة ..
──────⊱◈◈◈⊰──────
حضرت عبد الله بن مسعود رضی الله عنه سے روایت ہے کہ رسول الله ﷺ نے ارشاد فرمایا : قیامت کے دن مجھ سے زیادہ قریب وہ شخص ہوگا جو مجھ پر زیادہ درود و سلام پیش کرتا ہوگا ۔
──────⊱◈◈◈⊰──────
عن ابی امامة الباهلی رضی الله عنه قال قال رسول الله ﷺ اكثروا من الصلوة علی فی كل یوم جمعة ، فان الصلوة امتی تعرض علی فی كل یوم جمعة ، فمن كان اكثرهم علی صلوة كان اقربهم منی منزلة .
──────⊱◈◈◈⊰──────
حضرت ابو امامہ باہلی رضی الله عنه سے روایت ہے کہ رسول الله ﷺ نے ارشاد فرمایا : مجھ پر ہر جمعہ کے دن کثرت سے درود پاک پڑھو کہ میری امت کا درود مجھ پر پیش ہوتا ہے تو جو مجھ پر کثرت سے درود پاک پڑھےگا وہ مجھ سے قریب رہےگا ۔
──────⊱◈◈◈⊰──────
قال رسول الله ﷺ من صلی علی روح محمد فی الارواح وعلی جسده فی الاجساد و علی قبره فی القبور رأنی فی منامه ، و من رأنی فی منامه رأنی فی یوم القیامة ، و من رأنی یوم القیامة شفعت له ، و من شفعت له شرب من حوض و حرم الله جسده علی النار .
──────⊱◈◈◈⊰──────
حضور پر نور سید یوم النشور ﷺ نے ارشاد فرمایا : جو محمد ﷺ پر ارواح میں اور جسم اطہر پر اجسام میں اور قبر انور پر قبور میں ، درود بھیجے وہ مجھے خواب میں دیکھے اور جو خواب میں دیکھے مجھے قیامت میں دیکھےگا اور جو مجھے قیامت میں دیکھےگا میں اس کی شفاعت فرماٶنگا اور جس کی میں شفاعت فرماٶنگا وہ میرے حوض کریم سے پیۓگا اور اللہ عزوجل اس کے بدن پر دوزخ حرام فرمائیگا ۔ اللہ ارزقنا بجاھد عندک آمین ۔
________________________
سیدنا امام احمد رضا خان محدث بریلوی علیه الرحمه فرماتے ہیں
علماء فرماتے ہیں : یوں درود شریف پڑھو
اللھم صلی علی روح سیدنا محمد فی الارواح ، اللھم صلی علی جسد سیدنا محمد فی الاجساد ،اللھم صلی علی قبرہ سیدنا محمد فی القبور ۔
فتاوی رضویہ ٤ / ١٥٩
──────⊱◈◈◈⊰──────
عن عمار بن ياسر رضی الله عنه قال سمعت رسول الله ﷺ یقول ان الله تعالی ملكا اعطی اسماع الخلائق كلها قائم علی قبری الی یوم القیامة ، فما من احد یصلی علی صلوة الا ابلغنیها .
──────⊱◈◈◈⊰──────
حضرت عمار بن یاسر رضی الله عنه سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا : بیشک الله تعالی کا ایک فرشتہ ہے جسے خدا نے تمام جہاں کی بات سن لینے کی طاقت عطا کی ہے وہ قیامت تک میری قبر پر حاضر رہیگا جو مجھ پر درود بھیجےگا یہ مجھ سے عرض کریگا ۔
──────⊱◈◈◈⊰──────
Forwarded from Deleted Account
عن ابی بكر الصدیق رضی الله عنه قال قال رسول الله ﷺ اكثروا الصلوة علی ، فان الله تعالی وكل لی ملكا عن قبری فاذا صلی علی رجل من امتی قال لی ذلك الملك یا محمد ، صلی الله علیك وسلم ، ان فلان بن فلان یصلی علیك الساعة .
──────⊱◈◈◈⊰──────
امیر المؤمنین حضرت ابوبکر صدیق رضی الله عنه سے روایت ہےکہ رسول الله ﷺ نے ارشاد فرمایا :
مجھ پر درود بہت بھیجو کہ الله نے میرے مزار پر ایک فرشتہ متعین فرمایا ہے ۔ جب کوٸی میرا امتی مجھ پر درود بھیجتا ہے وہ مجھ سے عرض کرتا ہے : یارسول اللہ ! فلاں بن فلاں نے ابھی ابھی ، حضور پر درود بھیجی ہے ۔ ﷺ
──────⊱◈◈◈⊰──────
✍️ محمد ضیاءالدین خان قادری حنفی
بہرائچ شریف یوپی الهند
──────⊱◈◈◈⊰──────
امیر المؤمنین حضرت ابوبکر صدیق رضی الله عنه سے روایت ہےکہ رسول الله ﷺ نے ارشاد فرمایا :
مجھ پر درود بہت بھیجو کہ الله نے میرے مزار پر ایک فرشتہ متعین فرمایا ہے ۔ جب کوٸی میرا امتی مجھ پر درود بھیجتا ہے وہ مجھ سے عرض کرتا ہے : یارسول اللہ ! فلاں بن فلاں نے ابھی ابھی ، حضور پر درود بھیجی ہے ۔ ﷺ
──────⊱◈◈◈⊰──────
✍️ محمد ضیاءالدین خان قادری حنفی
بہرائچ شریف یوپی الهند
Forwarded from Deleted Account
حواله جات 👇
الجامع الترمذی ، باب الصلوة علی النبی ﷺ
١/ ٦٤
المسند لاحمد بن حنبل ، ٢ / ٢٦٨
المستدرک للحاکم ، ١ / ٥٥٠
التفسیر للبغوی ، ٥ / ٢٣٥
المصنف لعبدالرزاق ، ٣١١٥ ، ٢ / ٢١٥
مجمع الزواٸد للھیثمی ، ١٠ / ١٦٢
کنزالعمال للمتقی ، ٢١٦٦ ، ١ / ٤٩٢
المعجم الکبیر للطبرانی ، ٥ / ١٠٣
المعجم الصغیر للطبرانی ، ١ / ٢٠٩
اتحاف السادة للزبیدی ، ٣ / ٢٩٨
حلیة الاولیاء لابی نعیم ، ١ / ١٨٠
المستدرک للحاکم ، ٢ / ٥٥٨
المسند لاحمد بن حنبل ، ٥ / ١٣٢
المسند لاحمد بن حنبل ، ٦ / ١٦٤
المعجم الکبیر للطبرانی ، ٤ / ٣٥
مجمع الزواٸد للھیثمی ، ١٠ / ١٦٠
المعجم الکبیر للطبرانی ، ١٠ / ٢٢
فتح الباری للعسقلانی ، ١١ / ٢٢
الترغیب و الترھیب للمنذری ، ٢ / ٥٠٠
شرف صحابه الحدیث للخطیب ، ٦٣
جمع الجوامع للسیوطی ، ٦٣٣٩
التفسیر للبغوی ، ٥ / ٢٧١
المصنف لابن ابی شبیه ، ١١ / ١١٣
المغنی للعراقی ، ١ / ٣١١
السنن الکبری للھیثمی ، ٣ / ٢٤٩
التفسیر للطبری ، ٣ / ٨٤
المستدرک للحاکم ، ٢ / ٤٢١
المصنف لعبدالرزاق ٥٣٣٨ ، ٣ / ٢٠٥
الکامل لابن عدی ، ٣ / ٧٤
الترغیب والترھیب للمنذری ، ٢ / ٥٠٣
ارواء الغلیل للالبانی ، ١ / ٣٣
الدر المنثوم للسیوطی ، ٦ / ٣٣٢
عمل الیوم واللیلة لابن السنی ، ٣٧٣
الترغیب و الترھیب للمنذری ، ٢ / ٤٩٩
الجامع الصغیر للسیوطی ، ١ / ١٤٢
جمع الجوامع للسیوطی ، ٦٩٤٨
کنزالعمال للمتقی ، ٢١٨١ ، ١ / ٤٨٤
الترغیب و الترھیب للمنذری ، ٢ / ٤٩٩
السنن الکبری للھیثمی ، ٣ / ٢٤٩
مجمع الزواٸد للھیثمی ، ٢ / ١٤٤
جامع الاحادیث للامام احمد رضا علیه الرحمه ، رقم الصفحة ٦٥٥
──── ◉ ────
✍ محمد ضیاءالدین خان قادری حنفی
بهرائچ شریف یوپی الهند
الجامع الترمذی ، باب الصلوة علی النبی ﷺ
١/ ٦٤
المسند لاحمد بن حنبل ، ٢ / ٢٦٨
المستدرک للحاکم ، ١ / ٥٥٠
التفسیر للبغوی ، ٥ / ٢٣٥
المصنف لعبدالرزاق ، ٣١١٥ ، ٢ / ٢١٥
مجمع الزواٸد للھیثمی ، ١٠ / ١٦٢
کنزالعمال للمتقی ، ٢١٦٦ ، ١ / ٤٩٢
المعجم الکبیر للطبرانی ، ٥ / ١٠٣
المعجم الصغیر للطبرانی ، ١ / ٢٠٩
اتحاف السادة للزبیدی ، ٣ / ٢٩٨
حلیة الاولیاء لابی نعیم ، ١ / ١٨٠
المستدرک للحاکم ، ٢ / ٥٥٨
المسند لاحمد بن حنبل ، ٥ / ١٣٢
المسند لاحمد بن حنبل ، ٦ / ١٦٤
المعجم الکبیر للطبرانی ، ٤ / ٣٥
مجمع الزواٸد للھیثمی ، ١٠ / ١٦٠
المعجم الکبیر للطبرانی ، ١٠ / ٢٢
فتح الباری للعسقلانی ، ١١ / ٢٢
الترغیب و الترھیب للمنذری ، ٢ / ٥٠٠
شرف صحابه الحدیث للخطیب ، ٦٣
جمع الجوامع للسیوطی ، ٦٣٣٩
التفسیر للبغوی ، ٥ / ٢٧١
المصنف لابن ابی شبیه ، ١١ / ١١٣
المغنی للعراقی ، ١ / ٣١١
السنن الکبری للھیثمی ، ٣ / ٢٤٩
التفسیر للطبری ، ٣ / ٨٤
المستدرک للحاکم ، ٢ / ٤٢١
المصنف لعبدالرزاق ٥٣٣٨ ، ٣ / ٢٠٥
الکامل لابن عدی ، ٣ / ٧٤
الترغیب والترھیب للمنذری ، ٢ / ٥٠٣
ارواء الغلیل للالبانی ، ١ / ٣٣
الدر المنثوم للسیوطی ، ٦ / ٣٣٢
عمل الیوم واللیلة لابن السنی ، ٣٧٣
الترغیب و الترھیب للمنذری ، ٢ / ٤٩٩
الجامع الصغیر للسیوطی ، ١ / ١٤٢
جمع الجوامع للسیوطی ، ٦٩٤٨
کنزالعمال للمتقی ، ٢١٨١ ، ١ / ٤٨٤
الترغیب و الترھیب للمنذری ، ٢ / ٤٩٩
السنن الکبری للھیثمی ، ٣ / ٢٤٩
مجمع الزواٸد للھیثمی ، ٢ / ١٤٤
جامع الاحادیث للامام احمد رضا علیه الرحمه ، رقم الصفحة ٦٥٥
──── ◉ ────
✍ محمد ضیاءالدین خان قادری حنفی
بهرائچ شریف یوپی الهند
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Deleted Account
ایک مجرب و نافع دعا
حضرت عبداللّٰه بن عباس رضی اللّٰه عنه نے حضرت وہب رضی اللّٰه عنه سے پوچھا ،
اللّٰه تعالی نے کتنی کتابيں نازل فرمائیں ؟
انھوں نے جواب دیا ، ایک سو چار( ١٠٤ ) کتابيں !
پھر حضرت ابن عباس نے پوچھا ،
کیا ان میں سے کچھ اٹھاٸی بھی گٸ ہیں ؟
حضرت وہب نے جواب دیا ، ہاں ! ان میں سے بارہ کتابيں اٹھاٸی گٸ ہیں ۔
حضرت ابن عباس نے دریافت کیا ،
آپ نے ان میں سے کتنی کتابيں پڑھی ہیں ؟
جواب دیا ، بقیہ سبھی کتابيں !
پوچھا ، کیا آپ نے ان میں مصیبت کے وقت نفع دینے والی کوٸی دعا پاٸی ؟
کہا ، ہاں !
میں نے اس میں ایک ایسی دعا پاٸی ، جو ہر شخص کے لیۓ نافع ، کافی اور شافی ہے ، جو اسے سچی نیت کے ساتھ پڑھے ،
وہ دعا یہ ہے 👇
اللّٰهم یَا مَنۡ یَّمۡلِكُ حَوَائِجَ السَّائِلِیۡن
َ وَ یَعۡلَمُ ضَمَائِرَ الصَّامِتِیۡنَ فَاِنَّ لَكَ فِیۡ كُلِّ
مَسۡئَلَةٍ سَمۡعاً حَاضِراً وَ جَوَاباً عَتِیۡداً وَ اَنَّ
لَكَ بِكُلِّ صاَمِتٍ عِلۡماً مُحِیۡطاً مَوَاعِیۡدُكَ
الصَّادِقَةُ وَاَیَادِیۡكَ الۡفَاضِلَةُ وَ رَحۡمَتُكَ الۡوَاسِعَةُ ..ــــ..
اے الله ! اے پروردگار !
تو ساٸلوں کی ضروریات کا مالک ہے ۔
خاموش رہنے والوں کی دلی آرزوٶں سے واقف ہے ۔
تو ہر سوال سننے والا اور اسے پورا کرنے والا ہے ۔
ہر خاموش رہنے والے کو تیرا علم محیط ہے ۔
تیرے وعدے سچے ہیں ۔
تیری عنایتیں عالی اور تیری رحمتیں وسیع ہیں ۔
حضرت عبداللّٰه بن عباس رضی الله عنه کہتے ہیں ،
مجھے اس دعا کی افادیت کا علم خواب میں ہوا اور میں نے اس کا بارہا تجربہ کیا ،
میں اس سے اچھی کوٸی دعا نہیں جانتا ___
الۡقَلۡیُوۡبِیۡ
للشیخِ العَلَّامة احمد شَهاب الدِّین القلیوبی علیه الرحمة
رقم الصفحة ١٢٢
✍ مُحمَّد ضِیاءُ الدِّین خَان قَادرِی حَنفِی
حضرت عبداللّٰه بن عباس رضی اللّٰه عنه نے حضرت وہب رضی اللّٰه عنه سے پوچھا ،
اللّٰه تعالی نے کتنی کتابيں نازل فرمائیں ؟
انھوں نے جواب دیا ، ایک سو چار( ١٠٤ ) کتابيں !
پھر حضرت ابن عباس نے پوچھا ،
کیا ان میں سے کچھ اٹھاٸی بھی گٸ ہیں ؟
حضرت وہب نے جواب دیا ، ہاں ! ان میں سے بارہ کتابيں اٹھاٸی گٸ ہیں ۔
حضرت ابن عباس نے دریافت کیا ،
آپ نے ان میں سے کتنی کتابيں پڑھی ہیں ؟
جواب دیا ، بقیہ سبھی کتابيں !
پوچھا ، کیا آپ نے ان میں مصیبت کے وقت نفع دینے والی کوٸی دعا پاٸی ؟
کہا ، ہاں !
میں نے اس میں ایک ایسی دعا پاٸی ، جو ہر شخص کے لیۓ نافع ، کافی اور شافی ہے ، جو اسے سچی نیت کے ساتھ پڑھے ،
وہ دعا یہ ہے 👇
اللّٰهم یَا مَنۡ یَّمۡلِكُ حَوَائِجَ السَّائِلِیۡن
َ وَ یَعۡلَمُ ضَمَائِرَ الصَّامِتِیۡنَ فَاِنَّ لَكَ فِیۡ كُلِّ
مَسۡئَلَةٍ سَمۡعاً حَاضِراً وَ جَوَاباً عَتِیۡداً وَ اَنَّ
لَكَ بِكُلِّ صاَمِتٍ عِلۡماً مُحِیۡطاً مَوَاعِیۡدُكَ
الصَّادِقَةُ وَاَیَادِیۡكَ الۡفَاضِلَةُ وَ رَحۡمَتُكَ الۡوَاسِعَةُ ..ــــ..
اے الله ! اے پروردگار !
تو ساٸلوں کی ضروریات کا مالک ہے ۔
خاموش رہنے والوں کی دلی آرزوٶں سے واقف ہے ۔
تو ہر سوال سننے والا اور اسے پورا کرنے والا ہے ۔
ہر خاموش رہنے والے کو تیرا علم محیط ہے ۔
تیرے وعدے سچے ہیں ۔
تیری عنایتیں عالی اور تیری رحمتیں وسیع ہیں ۔
حضرت عبداللّٰه بن عباس رضی الله عنه کہتے ہیں ،
مجھے اس دعا کی افادیت کا علم خواب میں ہوا اور میں نے اس کا بارہا تجربہ کیا ،
میں اس سے اچھی کوٸی دعا نہیں جانتا ___
الۡقَلۡیُوۡبِیۡ
للشیخِ العَلَّامة احمد شَهاب الدِّین القلیوبی علیه الرحمة
رقم الصفحة ١٢٢
✍ مُحمَّد ضِیاءُ الدِّین خَان قَادرِی حَنفِی
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
مبسملا وحامدا::ومصلیا ومسلما
درباری شاعر اور نقیب اجلاس کی کذب بیانی
بادشاہ افریقہ اور عالم اسلام کے مشہور مجاہد یوسف بن تاشقین(1009-1106)جب اندلسی مسلمانوں کی مدد کے لئے گئے تو 1086 میں مشہور عیسائی بادشاہ الفانسو سے زلاقہ میں جنگ ہوئی۔یوسف بن تاشقین کو فتح یابی نصیب ہوئی۔
الفانسو کے لشکر میں ساٹھ ہزار فوجی تھے اور خود الفانسو جنگ میں شریک تھا۔59,500 فوجی مارے گئے۔الفانسو بچ گیا,لیکن لنگڑا ہو گیا۔ساٹھ ہزار میں سے صرف پانچ سو فوجی زندہ بچ سکے۔
اس شکست کے سبب عیسائیوں کی ہمت ٹوٹ گئی اور یوسف بن تاشقین نے اندلس کی چھوٹی چھوٹی ریاستوں کو اپنی حکومت میں ضم کر لیا۔
زلاقہ میں عیسائیوں کو شکست فاش دینے کے بعد امیر یوسف بن تاشقین اشبیلیہ گئے۔ وہاں ایک رات کو اندلس کے شعرا اپنے قصائد لے کر حاضر خدمت ہوئے اور یوسف بن تاشقین کی مدح و ستائش میں رطب اللسان ہوئے۔یوسف بن تاشقین نے اسے ناپسند کیا اور کہا کہ مجھے تو ان کی باتیں سمجھ میں نہ آ سکیں۔ہاں اتنا معلوم ہوا کہ یہ لوگ روٹی کے محتاج ہیں۔ان کو انسانوں کی تعریف کے بجائے خدا کی تعریف کرنی چاہئے۔
یوسف بن تاشقین نے شاعروں کو نہ انعام دیا,نہ ہی ان کی تحسین کی,بلکہ اٹھ کر نماز کو چلے گئے۔
یہ واقعہ نسیم حجازی نے اپنی تصنیف"یوسف بن تاشقین"(ص388)میں لکھا ہے۔
درباری شاعروں کی طرح اب نقیب اجلاس بھی رائی کو پہاڑ اور کم علموں کو علامہ بنانے میں بہت جلد باز واقع ہوئے ہیں۔
جو پابند شریعت بھی نہیں,جلسوں کے نقیب ان کو ولی بنانے کا عظیم ملکہ رکھتے ہیں۔بس حقیقت و مجاز کا فرق ہے۔
پیراں نمی پرند:مریداں می پرانند
یہ بھی رواج ہو چکا ہے کہ کسی پیر یا عالم کی وفات ہو گئی تو اسے امام الواصلین اور امام العارفین بنادیا جاتا ہے۔وہ عارف باللہ تھے یا نہیں,واصل الی اللہ تھے یا نہیں۔کچھ پتہ نہیں۔
درباری شاعروں اور جلسہ کے نقیبوں کے بعد نفس انسانی کا نمبر آتا ہے۔لوگ خود اپنے ناموں کے ساتھ عظیم القاب لکھتے ہیں اور یہ ظاہر کرتے ہیں کہ تلامذہ یا معتقدین نے لکھ دیا ہے۔
درحقیقت ایسا کرنے والے خود کو عظیم انسان تصور بھی کرتے ہیں۔تواضع و انکساری غائب ہو چکی ہے اور غرور وگھمنڈ سر پر چڑھ کر بانگ لگا رہا ہے۔خالی صراحی سے آواز آتی ہے,جب کہ پھلدار درخت جھکا ہوتا ہے۔
دنیا بھر میں مسلمانوں کی تعداد تقریبا دو ارب ہے۔جامع ازہر مصر کے متعدد سنی اساتذہ اور عرب کے متعدد سنی علما خود کو مجتہد سمجھتے ہیں اور اپنے کو تقلید سے ماورا گردانتے ہیں۔کیا امت مسلمہ ان کو مجتہد مانتی ہے۔ہرگز نہیں۔ایسے دعووں پر لوگ کان ہی نہیں دھرتے۔
دسویں صدی ہجری کے مجدد امام جلال الدین سیوطی شافعی نے مجتہد فی المذہب ہونے کا دعوی کیا تھا۔شافعی فقہا نے چند سوالات بھیجے کہ آپ مجتہد ہیں تو ان سوالوں کو حل فرما دیں۔انہون نے سوال واپس فرما دیا اور معذرت خواہی کر کے مجتہد ہونے کا دعوی ترک کر دیا۔
عہد حاضر کا کوئی عالم امام جلال الدین سیوطی کے برابر بھی ہونا مشکل ہے,لیکن اجتہاد کا دعوی ضرور ہے۔اگر بڑی تعلیم گاہ کے بڑے اساتذہ مجتہد ہیں تو بڑی خانقاہوں کے پیروں کو غوث وقطب اور ابدال ہونا چاہئے۔
اتنا نہ بڑھا پاکی داماں کی حکایت
دامن کو ذرا دیکھ ذرا بند قبا دیکھ
ماہنامہ پیغام شریعت(دہلی)کے جو شمارے میری تصحیح سے شائع ہوتے ہیں۔میں نے کبھی اپنے نام کے ساتھ مولانا نہیں لکھا ہے۔ان شماروں کو دیکھ لیا جائے۔
دوسروں کو بھی میں مولانا لکھنے کی ترغیب نہیں دیتا,چہ جائے کہ عظیم القاب۔حضرت مولانا مفتی مظفر علی مدنی(فیصل آباد)نے ایک بار فرمایا کہ میں نے مضمون میں آپ کے نام کے ساتھ مولانا لکھ دیا ہے۔میں نے عرض کیا کہ "مصباحی"لکھ دینے سے لوگ سمجھ ہی جاتے ہیں کہ مولانا ہوں گے۔انہوں نے فرمایا کہ پڑوسی ملک میں سبھوں کو یہ معلوم نہیں۔
کیا ہم دینی خدمات اسی لئے انجام دیتے ہیں کہ ہم عظیم القاب سے ملقب کئے جائیں؟
اگر ایسا ہے,تب تو خدمات دینیہ کی قبولیت پر سوال اٹھے گا۔
پھر ایسی خدمات دینیہ میں برکات خداوندی کی امید بھی مشکل ہے۔خدام دین متین اپنے اعمال صالحہ وخدمات دینیہ کی قبولیت پر نظر رکھیں۔
بے نشانوں کا نشاں مٹتا نہیں
مٹتے مٹتے نام ہو ہی جائے گا
ہاں,اگر کوئی دوسرا کچھ القاب لکھ دے یا کہہ دے اور وہ حد جواز میں ہو تو اس کو ان کے حسن ظن پر محمول کر کے تعرض نہ کیا جائے,بشرطے کہ ہمارا نفس کبرونخوت میں مبتلا نہ ہو۔
اگر نفس کے کبروغرور میں مبتلا ہونے کا خوف ہو تو نفس کشی بہتر ہے۔نفس کشی کے بہت فوائد ہیں اور نفس کشی عملی تصوف کا بہت ہی اہم حصہ ہے۔
یوں تو عہد حاضر میں تصوف بھی علمی فن ہو کر رہ گیا۔خانقاہوں میں تصوف کے تذکرے تو ضرور ہیں,لیکن عملی تصوف چند ہی خانقاہوں میں ملے گا۔اب پیری مریدی بھی حالات زمانہ سے سخت متاثر ہو چکی ہے۔
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:18:جنوری 2021
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/849430132294173/
درباری شاعر اور نقیب اجلاس کی کذب بیانی
بادشاہ افریقہ اور عالم اسلام کے مشہور مجاہد یوسف بن تاشقین(1009-1106)جب اندلسی مسلمانوں کی مدد کے لئے گئے تو 1086 میں مشہور عیسائی بادشاہ الفانسو سے زلاقہ میں جنگ ہوئی۔یوسف بن تاشقین کو فتح یابی نصیب ہوئی۔
الفانسو کے لشکر میں ساٹھ ہزار فوجی تھے اور خود الفانسو جنگ میں شریک تھا۔59,500 فوجی مارے گئے۔الفانسو بچ گیا,لیکن لنگڑا ہو گیا۔ساٹھ ہزار میں سے صرف پانچ سو فوجی زندہ بچ سکے۔
اس شکست کے سبب عیسائیوں کی ہمت ٹوٹ گئی اور یوسف بن تاشقین نے اندلس کی چھوٹی چھوٹی ریاستوں کو اپنی حکومت میں ضم کر لیا۔
زلاقہ میں عیسائیوں کو شکست فاش دینے کے بعد امیر یوسف بن تاشقین اشبیلیہ گئے۔ وہاں ایک رات کو اندلس کے شعرا اپنے قصائد لے کر حاضر خدمت ہوئے اور یوسف بن تاشقین کی مدح و ستائش میں رطب اللسان ہوئے۔یوسف بن تاشقین نے اسے ناپسند کیا اور کہا کہ مجھے تو ان کی باتیں سمجھ میں نہ آ سکیں۔ہاں اتنا معلوم ہوا کہ یہ لوگ روٹی کے محتاج ہیں۔ان کو انسانوں کی تعریف کے بجائے خدا کی تعریف کرنی چاہئے۔
یوسف بن تاشقین نے شاعروں کو نہ انعام دیا,نہ ہی ان کی تحسین کی,بلکہ اٹھ کر نماز کو چلے گئے۔
یہ واقعہ نسیم حجازی نے اپنی تصنیف"یوسف بن تاشقین"(ص388)میں لکھا ہے۔
درباری شاعروں کی طرح اب نقیب اجلاس بھی رائی کو پہاڑ اور کم علموں کو علامہ بنانے میں بہت جلد باز واقع ہوئے ہیں۔
جو پابند شریعت بھی نہیں,جلسوں کے نقیب ان کو ولی بنانے کا عظیم ملکہ رکھتے ہیں۔بس حقیقت و مجاز کا فرق ہے۔
پیراں نمی پرند:مریداں می پرانند
یہ بھی رواج ہو چکا ہے کہ کسی پیر یا عالم کی وفات ہو گئی تو اسے امام الواصلین اور امام العارفین بنادیا جاتا ہے۔وہ عارف باللہ تھے یا نہیں,واصل الی اللہ تھے یا نہیں۔کچھ پتہ نہیں۔
درباری شاعروں اور جلسہ کے نقیبوں کے بعد نفس انسانی کا نمبر آتا ہے۔لوگ خود اپنے ناموں کے ساتھ عظیم القاب لکھتے ہیں اور یہ ظاہر کرتے ہیں کہ تلامذہ یا معتقدین نے لکھ دیا ہے۔
درحقیقت ایسا کرنے والے خود کو عظیم انسان تصور بھی کرتے ہیں۔تواضع و انکساری غائب ہو چکی ہے اور غرور وگھمنڈ سر پر چڑھ کر بانگ لگا رہا ہے۔خالی صراحی سے آواز آتی ہے,جب کہ پھلدار درخت جھکا ہوتا ہے۔
دنیا بھر میں مسلمانوں کی تعداد تقریبا دو ارب ہے۔جامع ازہر مصر کے متعدد سنی اساتذہ اور عرب کے متعدد سنی علما خود کو مجتہد سمجھتے ہیں اور اپنے کو تقلید سے ماورا گردانتے ہیں۔کیا امت مسلمہ ان کو مجتہد مانتی ہے۔ہرگز نہیں۔ایسے دعووں پر لوگ کان ہی نہیں دھرتے۔
دسویں صدی ہجری کے مجدد امام جلال الدین سیوطی شافعی نے مجتہد فی المذہب ہونے کا دعوی کیا تھا۔شافعی فقہا نے چند سوالات بھیجے کہ آپ مجتہد ہیں تو ان سوالوں کو حل فرما دیں۔انہون نے سوال واپس فرما دیا اور معذرت خواہی کر کے مجتہد ہونے کا دعوی ترک کر دیا۔
عہد حاضر کا کوئی عالم امام جلال الدین سیوطی کے برابر بھی ہونا مشکل ہے,لیکن اجتہاد کا دعوی ضرور ہے۔اگر بڑی تعلیم گاہ کے بڑے اساتذہ مجتہد ہیں تو بڑی خانقاہوں کے پیروں کو غوث وقطب اور ابدال ہونا چاہئے۔
اتنا نہ بڑھا پاکی داماں کی حکایت
دامن کو ذرا دیکھ ذرا بند قبا دیکھ
ماہنامہ پیغام شریعت(دہلی)کے جو شمارے میری تصحیح سے شائع ہوتے ہیں۔میں نے کبھی اپنے نام کے ساتھ مولانا نہیں لکھا ہے۔ان شماروں کو دیکھ لیا جائے۔
دوسروں کو بھی میں مولانا لکھنے کی ترغیب نہیں دیتا,چہ جائے کہ عظیم القاب۔حضرت مولانا مفتی مظفر علی مدنی(فیصل آباد)نے ایک بار فرمایا کہ میں نے مضمون میں آپ کے نام کے ساتھ مولانا لکھ دیا ہے۔میں نے عرض کیا کہ "مصباحی"لکھ دینے سے لوگ سمجھ ہی جاتے ہیں کہ مولانا ہوں گے۔انہوں نے فرمایا کہ پڑوسی ملک میں سبھوں کو یہ معلوم نہیں۔
کیا ہم دینی خدمات اسی لئے انجام دیتے ہیں کہ ہم عظیم القاب سے ملقب کئے جائیں؟
اگر ایسا ہے,تب تو خدمات دینیہ کی قبولیت پر سوال اٹھے گا۔
پھر ایسی خدمات دینیہ میں برکات خداوندی کی امید بھی مشکل ہے۔خدام دین متین اپنے اعمال صالحہ وخدمات دینیہ کی قبولیت پر نظر رکھیں۔
بے نشانوں کا نشاں مٹتا نہیں
مٹتے مٹتے نام ہو ہی جائے گا
ہاں,اگر کوئی دوسرا کچھ القاب لکھ دے یا کہہ دے اور وہ حد جواز میں ہو تو اس کو ان کے حسن ظن پر محمول کر کے تعرض نہ کیا جائے,بشرطے کہ ہمارا نفس کبرونخوت میں مبتلا نہ ہو۔
اگر نفس کے کبروغرور میں مبتلا ہونے کا خوف ہو تو نفس کشی بہتر ہے۔نفس کشی کے بہت فوائد ہیں اور نفس کشی عملی تصوف کا بہت ہی اہم حصہ ہے۔
یوں تو عہد حاضر میں تصوف بھی علمی فن ہو کر رہ گیا۔خانقاہوں میں تصوف کے تذکرے تو ضرور ہیں,لیکن عملی تصوف چند ہی خانقاہوں میں ملے گا۔اب پیری مریدی بھی حالات زمانہ سے سخت متاثر ہو چکی ہے۔
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:18:جنوری 2021
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/849430132294173/
Facebook
Log in or sign up to view
See posts, photos and more on Facebook.
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا کی ایک فارسی نعت کا اردو ترجمہ ، یہ نعت حضرت حافظ شیرازی کے کلام پر تضمین ہے
’’الا یٰایھا الساقی ادرکاسا و ناولہا‘‘
کہ بریادِ شہ کوثر بنا سازیم محفلہا
(آگاہ اے ساقی ! شراب لا اور اُسے دے، کیوں کہ ہم شہِ کوثر کی یاد میں اپنی محفلیں سجاتے ہیں )
بلا بارید حبِ شیخِ نجدی بروہابیہ
’’کہ عشق آساں نمود اول ولے افتاد مشکلہا‘‘
(شیخ نجدی کی محبت نے وہابیوں پر مصیبتیں برسائیں ، عشق شروع میں آسان نظر آیا بعد میں مشکلیں آن پڑیں)
وہابی گرچہ اخفا می کند بغضِ نبی لیکن
’’نہاں کے ماندآں رازے کزوسازند محفلہا ‘‘
(وہابی گرچہ نبی کریم ﷺ کے بغض کو چھپا کر رکھتا ہے ، وہ راز کب چھپا رہ سکتا ہے جس سے محفلیں سجاتے ہیں)
توہب گاہ ملکِ ہند اقامت را نمی شاید
’’جرس فریاد می دارد کہ بر بندید محملہا‘‘
وہابیوں کی جگہ ، ملکِ ہندوستان کہ قیام کرنے کے لائق نہیں ہے، کوچ کے گھنٹے آواز دیتے ہیں کہ محملوں کو باندھ لو)
صلاے مجلسم در گوش آمد بیں بیا بشنو
"جرس مستانہ می گوید کہ بر بندید محملہا "
(مجلس میں میرے کانوں میں آواز آئی ، دیکھ آ سُن! ، کوچ کا گھنٹہ مستانہ وار کہہ رہا ہے کہ محملوں کو باندھ لو )
مگرداں رُو ازیں محفل رہِ اربابِ سنت رَو
’’کہ سالک بے خبر نبود زِ راہ و رسمِ منزلہا ‘‘
(مگر اِس محفل سے رُخ مت پھیر اور اربابِ سنت کے راستے چل، تاکہ راستہ چلنے والا منزلوں کے طور طریقوں سے واقف ہوجائے )
دریں جلوت بیا از راہِ خلوت تاخدا یابی
"مَتیٰ مَا تَلقَ مَن تہویٰ دَعِ الدُنیا وَ اَمہِلہَا "
( تنہائی کے راستے سے اِس محفل میں آ تاکہ خدا کو پاسکے ، جب تیری محبوب سے ملاقات ہو تو دنیا کو چھوڑ اور اُس کو ترک کردے)
دلم قربانت اے دودِ چراغِ محفلِ مولد
’’زتابِ جعدِ مشکینت چہ خوں افتاد دردلہا‘‘
( اے ولادے کی محفل کے چراغ کے دھوئیں تجھ پر میرا دل قربان ، اُس مشکیں گھنگھریالے بالوں کی شکن کی وجہ سے دلوں میں اس قدر خون پڑگیا ہے )
غریقِ بحرِ عشقِ احمدیم از فرحتِ مولد
’’کجا دانند حالِ ماسبکسارانِ ساحلہا‘‘
(ولادت کی خوشی سے ہم احمد ﷺ کے عشق کے سمندر میں غرق ہیں ، ساحلوں پر بے فکری سے رہنے والے ہمارا حال کب جانتے ہیں)
رضاے مست جامِ عشق ساغر باز می خواہد
’’الا یٰایھا الساقی ادرکاسا و ناولہا‘‘
(عشق کے جام کا رِند رضاؔ دوبارہ ساغر طلب کرتا ہے ، آگاہ اے ساقی! شراب لا اور اُسے دے)
https://www.facebook.com/190656494845261/posts/850350132209224/
’’الا یٰایھا الساقی ادرکاسا و ناولہا‘‘
کہ بریادِ شہ کوثر بنا سازیم محفلہا
(آگاہ اے ساقی ! شراب لا اور اُسے دے، کیوں کہ ہم شہِ کوثر کی یاد میں اپنی محفلیں سجاتے ہیں )
بلا بارید حبِ شیخِ نجدی بروہابیہ
’’کہ عشق آساں نمود اول ولے افتاد مشکلہا‘‘
(شیخ نجدی کی محبت نے وہابیوں پر مصیبتیں برسائیں ، عشق شروع میں آسان نظر آیا بعد میں مشکلیں آن پڑیں)
وہابی گرچہ اخفا می کند بغضِ نبی لیکن
’’نہاں کے ماندآں رازے کزوسازند محفلہا ‘‘
(وہابی گرچہ نبی کریم ﷺ کے بغض کو چھپا کر رکھتا ہے ، وہ راز کب چھپا رہ سکتا ہے جس سے محفلیں سجاتے ہیں)
توہب گاہ ملکِ ہند اقامت را نمی شاید
’’جرس فریاد می دارد کہ بر بندید محملہا‘‘
وہابیوں کی جگہ ، ملکِ ہندوستان کہ قیام کرنے کے لائق نہیں ہے، کوچ کے گھنٹے آواز دیتے ہیں کہ محملوں کو باندھ لو)
صلاے مجلسم در گوش آمد بیں بیا بشنو
"جرس مستانہ می گوید کہ بر بندید محملہا "
(مجلس میں میرے کانوں میں آواز آئی ، دیکھ آ سُن! ، کوچ کا گھنٹہ مستانہ وار کہہ رہا ہے کہ محملوں کو باندھ لو )
مگرداں رُو ازیں محفل رہِ اربابِ سنت رَو
’’کہ سالک بے خبر نبود زِ راہ و رسمِ منزلہا ‘‘
(مگر اِس محفل سے رُخ مت پھیر اور اربابِ سنت کے راستے چل، تاکہ راستہ چلنے والا منزلوں کے طور طریقوں سے واقف ہوجائے )
دریں جلوت بیا از راہِ خلوت تاخدا یابی
"مَتیٰ مَا تَلقَ مَن تہویٰ دَعِ الدُنیا وَ اَمہِلہَا "
( تنہائی کے راستے سے اِس محفل میں آ تاکہ خدا کو پاسکے ، جب تیری محبوب سے ملاقات ہو تو دنیا کو چھوڑ اور اُس کو ترک کردے)
دلم قربانت اے دودِ چراغِ محفلِ مولد
’’زتابِ جعدِ مشکینت چہ خوں افتاد دردلہا‘‘
( اے ولادے کی محفل کے چراغ کے دھوئیں تجھ پر میرا دل قربان ، اُس مشکیں گھنگھریالے بالوں کی شکن کی وجہ سے دلوں میں اس قدر خون پڑگیا ہے )
غریقِ بحرِ عشقِ احمدیم از فرحتِ مولد
’’کجا دانند حالِ ماسبکسارانِ ساحلہا‘‘
(ولادت کی خوشی سے ہم احمد ﷺ کے عشق کے سمندر میں غرق ہیں ، ساحلوں پر بے فکری سے رہنے والے ہمارا حال کب جانتے ہیں)
رضاے مست جامِ عشق ساغر باز می خواہد
’’الا یٰایھا الساقی ادرکاسا و ناولہا‘‘
(عشق کے جام کا رِند رضاؔ دوبارہ ساغر طلب کرتا ہے ، آگاہ اے ساقی! شراب لا اور اُسے دے)
https://www.facebook.com/190656494845261/posts/850350132209224/
Facebook
Log in to Facebook
Log in to Facebook to start sharing and connecting with your friends, family and people you know.
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
تصانیف ِحافظ ملت:ایک تجزیاتی مطالعہ
توفیق احسنؔ برکاتی [استاذ جامعہ اشرفیہ ، مبارک پور، اعظم گڑھ]
مشہور ماہر تعلیم ،ابوالفیض حافظ ملت علامہ شاہ عبدالعزیز محدث مرادآبادی علیہ الرحمہ کو اللہ تعالیٰ نے بے پناہ خوبیوں سے مالامال فرمایا تھا ، آپ جہاں ایک ممتاز ماہر تعلیم اور نفسیات شناس انسان تھے ،وہیں ایک اعلیٰ دماغ منتظم بھی تھے ۔ ایک مایہ ناز استاذ ، متبحر عالم دین ، سنجیدہ خطیب اور مربی ومرشد ہونے کے ساتھ فکر انگیز تحریر وقلم کے مالک بھی تھے ، انھیں زبان وبیان پہ کامل دستگاہ تھی ، خطابت میں بھی آسان پیرایہ ان کی شناخت مانا جاتا ہے اور تحریر میں بھی یہی شگفتہ بیان اور سادہ گوئی ان کی پہچان ہے ۔ حافظ ملت علیہ الرحمہ ایک دردمند دل رکھتے تھے اور قوم مسلم کی خیرخواہی اور مسلم نوجوانوں کو تعلیمی و تربیتی اعتبار سے عروج پہ رکھنا ان کا مشن تھا۔ جس کے لیے انھوں نے تاحیات کوششیں کیں اور پوری دنیا میں علمی و تعلیمی انقلاب کی بنا ڈالی ، جس کا اثر ان کے تلامذہ اور واقف کاروں نے بھی قبول کیا ۔ دینی تعلیم کی افادیت کا کوئی منکر نہیں لیکن اگر یہ علوم عصری تقاضوں سے ہم آہنگ نہ ہوں تو ان کی افادیت گہنا جاتی ہے اور مقصود تعلیم دور ہوجاتا ہے ، اسی لیے انھوں نے جامعہ اشرفیہ ، مبارک پور کو ایک عظیم دانش گاہ بنانے کا اعلیٰ ترین منصوبہ بنایا جہاں مختلف دینی وعصری علوم وفنون کی تعلیم ہو اور یہاں سے ایک عالم دین صرف دینی علوم کا ماہر بن کر ہی نہ فارغ ہو بلکہ وہ عصری چیلنج کا مقابلہ کرنے کی بھی طاقت رکھتا ہو ۔ جامعہ اشرفیہ کے شعبہ جات اس کی گواہی دیتے ہیں ۔
حافظ ملت علیہ الرحمہ نے تعلیم وتدریس اور وعظ وخطابت کے ساتھ تحریر وقلم سے بھی وابستگی اختیار کی اور علمی وفکری جواہر پارے یادگار چھوڑے۔ مختلف تلامذہ ومریدین ومعاصرین علما ومشائخ کے لکھے گئے ان کے مکاتیب ، اہل علم کی کتابوں پر تحریر کردہ ان کی تقریظات اور قسط وار مضامین اور کتابیں آج بھی شوق سے مطالعہ کیے جاتے ہیں ، ان کے زریں اقوال اور قیمتی ملفوطات بھی تاثیر وتاثر کا جوہر رکھتے ہیں ۔حافظ ملت علیہ الرحمہ تحریر وقلم کی طاقت واہمیت سے خوب واقف تھے اور اس کام کی نزاکت ودشواری کے قائل بھی تھے ، ایک موقع پرآپ نے فرمایا:
’’تقریر سب سے آسان ہے ، اس سے مشکل تدریس اور سب سے مشکل تصنیف۔‘‘
سوانح نگاروں کے مطابق آپ نے مختلف موضوعات پر آٹھ کتب ورسائل یادگار چھوڑے ہیں۔ ارشاد القرآن، معارف حدیث ، انباء الغیب،فرقہ ناجیہ، المصباح الجدید، العذاب الشدید، الارشاد ، فتاویٰ حافظ ملت ۔ ان کتابوں کے علاوہ آپ نے شرح مرقات کا حاشیہ بھی لکھنا شروع کیا تھا لیکن وہ ناتمام رہ گیا اور اب وہ ناتمام حاشیہ کہاں ہے؟ کچھ پتہ نہیں ۔ آپ خود فرماتے ہیں :
’’بفضلہ تعالیٰ تصنیفی صلاحیت مجھے ضرور ملی اور قلم کی قوت بھی ۔ کیا کہوں ! بہر حال مجھے لکھنے پر قدرت تھی جس کا نمونہ المصباح الجدید ، ارشاد القرآن ، معارف حدیث وغیرہ ہیں ،لیکن قوت تصنیف کے باوجود عوائق وموانع درپیش رہے اور مصروفیات نے گھیرے رکھا جس کے باعث میں کچھ نہ لکھ سکا ۔ ایک طالب علم نے مرقات [جو قاضی مبارک کے درجے میں ہے]کی شرح پڑھنا شروع کی اور ان کے اصرار پر میں نے شرح مرقات کا حاشیہ لکھنا شروع کیا مگر طالب علم موصوف فراغت حاصل کرکے چلے گئے جس کے باعث یہ حاشیہ ناتمام رہ گیا اور پھر کوئی ایسا باذوق طالب علم مذکورہ کتاب پڑھنے والا نہیں ملا کہ اس کے لیے حاشیے کی تکمیل ہوسکے ۔‘‘(ماہ نامہ اشرفیہ ، حافظ ملت نمبر ، ۱۹۷۸ء ص: ۱۷۶)
ذیل میں تصانیف حافظ ملت کا مختصر جائزہ پیش کیا جاتا ہے:
’’ارشاد القرآن ‘‘: بتیس صفحات پر مشتمل ایک مختصر رسالہ ہے جو تقسیم ہند کے بعد ترک وطن کے پس منظر میں تحریر کیا گیا ہے ،جس میں آپ نے دلائل وشواہد کی روشنی میں واضح فرمادیا ہے کہ جب تک کسی ملک یا مقام میں عبادت الٰہی اور شریعت اسلامی پر عمل کرنے میں کوئی رکاوٹ نہ ہو،ترک وطن کی ضرورت نہیں ۔ اس رسالے کی تخریج و تحشیہ کا کام حضرت مولانا عبدالمبین نعمانی قادری نے کیا ہے ۔
’’معارف حدیث ‘‘: کے مضامین ماہ نامہ پاسبان الہ آباد میں قسط وار شائع ہوئے ہیں ، انھیں پاسبان کے مدیر علامہ مشتاق احمد نظامی نے کتابی شکل دی ہے اور یہ پہلی بار مدیر پاسبان کے کلمات عقیدت اور بحر العلوم مفتی عبدالمنان اعظمی علیہ الرحمہ کے پیش لفظ کے ساتھ حافظ ملت علیہ الرحمہ کے سفر حج۱۳۸۷ھ/۱۹۶۷ء کے بعد منظر عام پر آئی۔اس کتاب میں مصنف نے رواں دواں زبان اور شگفتہ اسلوب میں احادیث نبویہ کی جامع و مختصر تشریح فرمائی ہے اور مختلف زاویوں سے اسے جانچا پرکھا ہے ۔
توفیق احسنؔ برکاتی [استاذ جامعہ اشرفیہ ، مبارک پور، اعظم گڑھ]
مشہور ماہر تعلیم ،ابوالفیض حافظ ملت علامہ شاہ عبدالعزیز محدث مرادآبادی علیہ الرحمہ کو اللہ تعالیٰ نے بے پناہ خوبیوں سے مالامال فرمایا تھا ، آپ جہاں ایک ممتاز ماہر تعلیم اور نفسیات شناس انسان تھے ،وہیں ایک اعلیٰ دماغ منتظم بھی تھے ۔ ایک مایہ ناز استاذ ، متبحر عالم دین ، سنجیدہ خطیب اور مربی ومرشد ہونے کے ساتھ فکر انگیز تحریر وقلم کے مالک بھی تھے ، انھیں زبان وبیان پہ کامل دستگاہ تھی ، خطابت میں بھی آسان پیرایہ ان کی شناخت مانا جاتا ہے اور تحریر میں بھی یہی شگفتہ بیان اور سادہ گوئی ان کی پہچان ہے ۔ حافظ ملت علیہ الرحمہ ایک دردمند دل رکھتے تھے اور قوم مسلم کی خیرخواہی اور مسلم نوجوانوں کو تعلیمی و تربیتی اعتبار سے عروج پہ رکھنا ان کا مشن تھا۔ جس کے لیے انھوں نے تاحیات کوششیں کیں اور پوری دنیا میں علمی و تعلیمی انقلاب کی بنا ڈالی ، جس کا اثر ان کے تلامذہ اور واقف کاروں نے بھی قبول کیا ۔ دینی تعلیم کی افادیت کا کوئی منکر نہیں لیکن اگر یہ علوم عصری تقاضوں سے ہم آہنگ نہ ہوں تو ان کی افادیت گہنا جاتی ہے اور مقصود تعلیم دور ہوجاتا ہے ، اسی لیے انھوں نے جامعہ اشرفیہ ، مبارک پور کو ایک عظیم دانش گاہ بنانے کا اعلیٰ ترین منصوبہ بنایا جہاں مختلف دینی وعصری علوم وفنون کی تعلیم ہو اور یہاں سے ایک عالم دین صرف دینی علوم کا ماہر بن کر ہی نہ فارغ ہو بلکہ وہ عصری چیلنج کا مقابلہ کرنے کی بھی طاقت رکھتا ہو ۔ جامعہ اشرفیہ کے شعبہ جات اس کی گواہی دیتے ہیں ۔
حافظ ملت علیہ الرحمہ نے تعلیم وتدریس اور وعظ وخطابت کے ساتھ تحریر وقلم سے بھی وابستگی اختیار کی اور علمی وفکری جواہر پارے یادگار چھوڑے۔ مختلف تلامذہ ومریدین ومعاصرین علما ومشائخ کے لکھے گئے ان کے مکاتیب ، اہل علم کی کتابوں پر تحریر کردہ ان کی تقریظات اور قسط وار مضامین اور کتابیں آج بھی شوق سے مطالعہ کیے جاتے ہیں ، ان کے زریں اقوال اور قیمتی ملفوطات بھی تاثیر وتاثر کا جوہر رکھتے ہیں ۔حافظ ملت علیہ الرحمہ تحریر وقلم کی طاقت واہمیت سے خوب واقف تھے اور اس کام کی نزاکت ودشواری کے قائل بھی تھے ، ایک موقع پرآپ نے فرمایا:
’’تقریر سب سے آسان ہے ، اس سے مشکل تدریس اور سب سے مشکل تصنیف۔‘‘
سوانح نگاروں کے مطابق آپ نے مختلف موضوعات پر آٹھ کتب ورسائل یادگار چھوڑے ہیں۔ ارشاد القرآن، معارف حدیث ، انباء الغیب،فرقہ ناجیہ، المصباح الجدید، العذاب الشدید، الارشاد ، فتاویٰ حافظ ملت ۔ ان کتابوں کے علاوہ آپ نے شرح مرقات کا حاشیہ بھی لکھنا شروع کیا تھا لیکن وہ ناتمام رہ گیا اور اب وہ ناتمام حاشیہ کہاں ہے؟ کچھ پتہ نہیں ۔ آپ خود فرماتے ہیں :
’’بفضلہ تعالیٰ تصنیفی صلاحیت مجھے ضرور ملی اور قلم کی قوت بھی ۔ کیا کہوں ! بہر حال مجھے لکھنے پر قدرت تھی جس کا نمونہ المصباح الجدید ، ارشاد القرآن ، معارف حدیث وغیرہ ہیں ،لیکن قوت تصنیف کے باوجود عوائق وموانع درپیش رہے اور مصروفیات نے گھیرے رکھا جس کے باعث میں کچھ نہ لکھ سکا ۔ ایک طالب علم نے مرقات [جو قاضی مبارک کے درجے میں ہے]کی شرح پڑھنا شروع کی اور ان کے اصرار پر میں نے شرح مرقات کا حاشیہ لکھنا شروع کیا مگر طالب علم موصوف فراغت حاصل کرکے چلے گئے جس کے باعث یہ حاشیہ ناتمام رہ گیا اور پھر کوئی ایسا باذوق طالب علم مذکورہ کتاب پڑھنے والا نہیں ملا کہ اس کے لیے حاشیے کی تکمیل ہوسکے ۔‘‘(ماہ نامہ اشرفیہ ، حافظ ملت نمبر ، ۱۹۷۸ء ص: ۱۷۶)
ذیل میں تصانیف حافظ ملت کا مختصر جائزہ پیش کیا جاتا ہے:
’’ارشاد القرآن ‘‘: بتیس صفحات پر مشتمل ایک مختصر رسالہ ہے جو تقسیم ہند کے بعد ترک وطن کے پس منظر میں تحریر کیا گیا ہے ،جس میں آپ نے دلائل وشواہد کی روشنی میں واضح فرمادیا ہے کہ جب تک کسی ملک یا مقام میں عبادت الٰہی اور شریعت اسلامی پر عمل کرنے میں کوئی رکاوٹ نہ ہو،ترک وطن کی ضرورت نہیں ۔ اس رسالے کی تخریج و تحشیہ کا کام حضرت مولانا عبدالمبین نعمانی قادری نے کیا ہے ۔
’’معارف حدیث ‘‘: کے مضامین ماہ نامہ پاسبان الہ آباد میں قسط وار شائع ہوئے ہیں ، انھیں پاسبان کے مدیر علامہ مشتاق احمد نظامی نے کتابی شکل دی ہے اور یہ پہلی بار مدیر پاسبان کے کلمات عقیدت اور بحر العلوم مفتی عبدالمنان اعظمی علیہ الرحمہ کے پیش لفظ کے ساتھ حافظ ملت علیہ الرحمہ کے سفر حج۱۳۸۷ھ/۱۹۶۷ء کے بعد منظر عام پر آئی۔اس کتاب میں مصنف نے رواں دواں زبان اور شگفتہ اسلوب میں احادیث نبویہ کی جامع و مختصر تشریح فرمائی ہے اور مختلف زاویوں سے اسے جانچا پرکھا ہے ۔
’’انباء الغیب ‘‘:علم غیب مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے متعلق ایک تردیدی بیانیہ ہے جو ایک مولوی کے دجل وفریب کاری کا پردہ چاک کرتی ہے اور عالم ماکان ومایکون کے عطائی علوم غیبیہ کی نقاب کشائی کرتی ہے ۔ اس کتاب کی ترتیب و تحشیہ کا کام ان کے فرزند حضرت مولانا شاہ عبدالحفیظ عزیزی دام ظلہ نے مکمل فرمایا ہے ۔ کل صفحات ۵۶؍ ہیں ۔
’’فرقہ ناجیہ‘‘: جنتی فرقہ کے نام سے بھی طبع ہوتی رہی ہے ، جس میں یہ ثابت کیا گیا ہے کہ امت میں جو تہتر فرقے ہوں گے ان میں ناجی فرقہ سواد اعظم اہل سنت ہی ہے، اس کتاب کے مباحث بھی مصنف کے عالمانہ اسلوب اور دقت ِنگاہ کا بین ثبوت پیش کرتے ہیں ۔ اس کتاب کو بھی عزیز ملت دام ظلہ العالی نے مرتب کیا ہے ۔کل صفحات ۴۰؍ ہیں ۔
’’المصباح الجدید ‘‘: میں دیوبندی علما کے عقائد ونظریات ان کے کتابوں سے بیان کیے گئے ہیں اور حوالہ غلط ثابت کرنے پر پانچ ہزار روپے کا انعام بھی رکھا گیا ہے ۔ یہ کتاب ان کے آبائی وطن قصبہ بھوج پور، مرادآباد سے آئے ایک استفتا [جو تیس سوالات پر مشتمل ہے]کا تفصیلی جواب ہے ، جس کے اب تک ہندوپاک سے پچاسوں ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں، جو اس کے بے پناہ مقبول ہونے کا ثبوت ہے۔ کل صفحات چالیس ہیں ۔[یہ پانچوں کتابیں ۲۰۱۸ء میں مجلس برکات ، جامعہ اشرفیہ سے بھی طبع ہوچکی ہیں ۔ ]
’’العذاب الشدید‘‘بھی ایک تردیدی بیانیہ ہے ، یہ کتاب دراصل ’’المصباح الجدید‘‘ کے جواب میں لکھی گئی محمد حنیف رہبر کی کتاب ’’مقامع الحدید ‘‘ کا جواب ہے ،جس میں حنیف رہبر کے ہفوات و ایرادات کو زیروزبر کیاگیا ہے ، اس کتاب میں زبردست علمی بحثیں ہیں اور اس کی سطر سطر سے مصنف کی عالمانہ ومحققانہ بصیرت نمایاں ہے۔
’’الارشاد‘‘:تقسیم ہند کے پس منظر میں لکھی گئی ایک سچے محب وطن کی جرأت مندی کی داستان ہے ۔ اس وقت کی دوبڑی سیاسی پارٹیاں تھیں ، ایک کانگریس ، دوسری مسلم لیگ،مسلم لیگ قیام پاکستان کے لیے کوشاں تھی جس کی نگاہ میں تمام گمراہ فرقے مسلمان تھے ۔ حافظ ملت علیہ الرحمہ نے آل انڈیا سنی کانفرنس کی کامیابی میں اپنی عظیم خدمات پیش کی تھیں لیکن جب آل انڈیا سنی کانفرنس نے مسلم لیگ کی حمایت کا اعلان کیا تو اہل ہند کو کافی حیرت ہوئی ۔ اس سے حافظ ملت علیہ الرحمہ کو سخت تکلیف پہنچی اور آپ نے آل انڈیا سنی کانفرنس سے علاحدگی کا اعلان کردیا اور ’’الارشاد ‘‘ تصنیف کی ۔ مولانا بدرالقادری لکھتے ہیں : ’’زیر نظر رسالہ کی سطر سطر سے حافظ ملت کی حق گوئی ، جرأت مندی ، دینی درد ، مومنانہ فراست اور سیاسی بصیرت کا برملا اظہار ہوتا ہے ۔‘‘
’’فتاویٰ حافظ ملت ‘‘:اولاً مولانا مبارک حسین مصباحی نے ماہ نامہ اشرفیہ میں تخریج وتصحیح کے ساتھ شائع کرنا شروع کیا تھا جس کا ایک معتدبہ حصہ قسط وار طبع ہوچکا ہے ، مزید کچھ فتاویٰ حافظ ملت اور دیگر مفتیان اشرفیہ کے فتاویٰ کا مجموعہ رواں برس ’’فتاویٰ جامعہ اشرفیہ ‘‘[جلد اول] کے نام سے ۷۰۶؍ صفحات میں مجلد طبع ہوچکا ہے جس میں فقہی ترتیب سے فتاویٰ مندرج ہیں اور بقیہ تخریجات بھی مولانا جنید احمد مصباحی نے کردی ہیں جو ایک یادگار دستاویزی مجموعہ بن گیا ہے ۔
حافظ ملت نے زیادہ نہیں لکھا ، لیکن جتنا بھی لکھا وہ بیش قیمت ہے اور اردو زبان کے ایک عمدہ نثری بیانیہ کا اشارہ دیتا ہے ، یہ مذہب کی بھی خدمت ہے اور اردو کی بھی ،ان کی تحریروںمیں وضاحت بھی ہے قطعیت بھی ، اختصار بھی ہے جامعیت بھی ، طنز وتعریض بھی ہے اور جوش بیانی بھی ، اللہ ہمیں ان کتابوں سے استفادہ کی توفیق بخشے، آمین۔
[محررہ: ۵؍فروری ، ۲۰۱۹ء ]
https://www.facebook.com/190656494845261/posts/849812775596293/
’’فرقہ ناجیہ‘‘: جنتی فرقہ کے نام سے بھی طبع ہوتی رہی ہے ، جس میں یہ ثابت کیا گیا ہے کہ امت میں جو تہتر فرقے ہوں گے ان میں ناجی فرقہ سواد اعظم اہل سنت ہی ہے، اس کتاب کے مباحث بھی مصنف کے عالمانہ اسلوب اور دقت ِنگاہ کا بین ثبوت پیش کرتے ہیں ۔ اس کتاب کو بھی عزیز ملت دام ظلہ العالی نے مرتب کیا ہے ۔کل صفحات ۴۰؍ ہیں ۔
’’المصباح الجدید ‘‘: میں دیوبندی علما کے عقائد ونظریات ان کے کتابوں سے بیان کیے گئے ہیں اور حوالہ غلط ثابت کرنے پر پانچ ہزار روپے کا انعام بھی رکھا گیا ہے ۔ یہ کتاب ان کے آبائی وطن قصبہ بھوج پور، مرادآباد سے آئے ایک استفتا [جو تیس سوالات پر مشتمل ہے]کا تفصیلی جواب ہے ، جس کے اب تک ہندوپاک سے پچاسوں ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں، جو اس کے بے پناہ مقبول ہونے کا ثبوت ہے۔ کل صفحات چالیس ہیں ۔[یہ پانچوں کتابیں ۲۰۱۸ء میں مجلس برکات ، جامعہ اشرفیہ سے بھی طبع ہوچکی ہیں ۔ ]
’’العذاب الشدید‘‘بھی ایک تردیدی بیانیہ ہے ، یہ کتاب دراصل ’’المصباح الجدید‘‘ کے جواب میں لکھی گئی محمد حنیف رہبر کی کتاب ’’مقامع الحدید ‘‘ کا جواب ہے ،جس میں حنیف رہبر کے ہفوات و ایرادات کو زیروزبر کیاگیا ہے ، اس کتاب میں زبردست علمی بحثیں ہیں اور اس کی سطر سطر سے مصنف کی عالمانہ ومحققانہ بصیرت نمایاں ہے۔
’’الارشاد‘‘:تقسیم ہند کے پس منظر میں لکھی گئی ایک سچے محب وطن کی جرأت مندی کی داستان ہے ۔ اس وقت کی دوبڑی سیاسی پارٹیاں تھیں ، ایک کانگریس ، دوسری مسلم لیگ،مسلم لیگ قیام پاکستان کے لیے کوشاں تھی جس کی نگاہ میں تمام گمراہ فرقے مسلمان تھے ۔ حافظ ملت علیہ الرحمہ نے آل انڈیا سنی کانفرنس کی کامیابی میں اپنی عظیم خدمات پیش کی تھیں لیکن جب آل انڈیا سنی کانفرنس نے مسلم لیگ کی حمایت کا اعلان کیا تو اہل ہند کو کافی حیرت ہوئی ۔ اس سے حافظ ملت علیہ الرحمہ کو سخت تکلیف پہنچی اور آپ نے آل انڈیا سنی کانفرنس سے علاحدگی کا اعلان کردیا اور ’’الارشاد ‘‘ تصنیف کی ۔ مولانا بدرالقادری لکھتے ہیں : ’’زیر نظر رسالہ کی سطر سطر سے حافظ ملت کی حق گوئی ، جرأت مندی ، دینی درد ، مومنانہ فراست اور سیاسی بصیرت کا برملا اظہار ہوتا ہے ۔‘‘
’’فتاویٰ حافظ ملت ‘‘:اولاً مولانا مبارک حسین مصباحی نے ماہ نامہ اشرفیہ میں تخریج وتصحیح کے ساتھ شائع کرنا شروع کیا تھا جس کا ایک معتدبہ حصہ قسط وار طبع ہوچکا ہے ، مزید کچھ فتاویٰ حافظ ملت اور دیگر مفتیان اشرفیہ کے فتاویٰ کا مجموعہ رواں برس ’’فتاویٰ جامعہ اشرفیہ ‘‘[جلد اول] کے نام سے ۷۰۶؍ صفحات میں مجلد طبع ہوچکا ہے جس میں فقہی ترتیب سے فتاویٰ مندرج ہیں اور بقیہ تخریجات بھی مولانا جنید احمد مصباحی نے کردی ہیں جو ایک یادگار دستاویزی مجموعہ بن گیا ہے ۔
حافظ ملت نے زیادہ نہیں لکھا ، لیکن جتنا بھی لکھا وہ بیش قیمت ہے اور اردو زبان کے ایک عمدہ نثری بیانیہ کا اشارہ دیتا ہے ، یہ مذہب کی بھی خدمت ہے اور اردو کی بھی ،ان کی تحریروںمیں وضاحت بھی ہے قطعیت بھی ، اختصار بھی ہے جامعیت بھی ، طنز وتعریض بھی ہے اور جوش بیانی بھی ، اللہ ہمیں ان کتابوں سے استفادہ کی توفیق بخشے، آمین۔
[محررہ: ۵؍فروری ، ۲۰۱۹ء ]
https://www.facebook.com/190656494845261/posts/849812775596293/
Facebook
Log in to Facebook
Log in to Facebook to start sharing and connecting with your friends, family and people you know.
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🍃 *یادِ فقیہ ملت*🍃
سند الفقہاء ، مرجع العلماء ، غواص بحر فقہ ، شانِ مسند افتاء ، استاذ الاساتذہ ،، محقق دوراں ،، ناشر فکر رضا ، یادگارِ رئیس القلم ،، مظہر صدر الشریعہ ، نور نگاہ سادات مارہرہ ، فقیہ ملت حضرت علامہ مفتی جلال الدین امجدی قادری برکاتی علیہ الرحمہ بانی مرکزِ تربیتِ افتا و دارالعلوم اہلسنت امجدیہ ارشد العلوم ، اوجھا گنج ضلع بستی یوپی کی بارگاہ میں نذرانۂ عقیدت
عرس پاک 3 جمادی الاخرہ
🍃🌹🍃
روشنی ہیں ترے اقوال فقیہِ ملت
ہیں منور ترے افعال فقیہِ ملت
تیری ہستی ہے فقیہانِ جہاں کی محبوب
ہے چمکتا ترا اقبال فقیہِ ملت
تیرے اندر ہیں کمالاتِ رضا کے جلوے
تو ہے مجموعۂ اَفضال ، فـقیہ ملت
زر نہیں ڈھلتا ہے، فن ڈھلتے ہیں جسکے اندر
ہـے نرالی تری ٹکسال ، فـقـیہ ملت
گلشنِ فکرونظر اب بھی ہیں تجھ سے سیراب
فن کے اے چشمۂ سَیَّال ، فقیہ ملت
غیرتِ عشقِ رسالت کے بلال دوراں
واہ کیا ہے ترا إجلال فقیہ ملت
عکس تجھ میں نظر آتا ہے حسن بصری کا
صوفیانہ ہے ترا حال فقیہ ملت
دستِ "امجد" نے تراشے ، ترے فقہی جوہر
"حیدر و نوری" کا تو لال فقیہ ملت
تیرے کردار کو "ارشد" نے بنایا سِیماب
تو ہے اک قائدِ فَعّال ، فـقـیہ ملت
خوب فرمایا "بزرگوں کےعقیدے" کا دفاع
نجدیت ہوگئی بے حال فـقیہ ملت
حق کے احقاق میں گذری تری عمر نایاب
باطلوں کا کیا اِبطال ، فقیہ مـلت
باعثِ عزتِ مومن ہے تجلی تیری
تو ہے اک نَیَّرِ خوش فال فقیہ ملت
مرجعِ طائر فن، تیری تصانیف کا باغ
ہے ثمر بار، ہر اک ڈال ، فقیہ ملت
آپ نے کی ہے بڑی ظاہر و باہر تفصیل
جن مسائل میں تھا اجمال، فقیہ ملت
تیری تحقیق نگاری سے وہابی کے فریب
ہوگیے خستۂ و پامال ، فقیہ ملت !
اسلیے ہے تری ہر بات میں بیحد تاثیر
حال جیسا ہے ترا قال ، فقیہ ملت
نَو بہ نَو، تازہ بتازہ ہے لطافت تیری
بڑھ رہا ہے ، ترا اقبال فقیہ ملت
کہکشاں بن کے منور ہیں ہمیشہ کیلئے
تیری سیرت کے خد و خال فقیہ ملت
کبھی پژمردہ نہ ہوں تیرے چمن کے ازہار
رہے شاداب ،، تری آل ، فقیہ ملت
لکھ رہاہوں تو قلم ہوگیا پُرنور مرا
یوں ہیں روشن ترے احـوال فـقیہ ملت
کیا تری دولتِ حکمت پہ فریدی لکّھے
تو غنی ، اور میں کنگال ،، فقیہ ملت
🍃🍃🌹🍃🍃
✍🏼از فریدی صدیقی مصباحی، بارہ بنکوی ، مسقط عمان 96899633908+
https://www.facebook.com/100018511772807/posts/727679291192457/
سند الفقہاء ، مرجع العلماء ، غواص بحر فقہ ، شانِ مسند افتاء ، استاذ الاساتذہ ،، محقق دوراں ،، ناشر فکر رضا ، یادگارِ رئیس القلم ،، مظہر صدر الشریعہ ، نور نگاہ سادات مارہرہ ، فقیہ ملت حضرت علامہ مفتی جلال الدین امجدی قادری برکاتی علیہ الرحمہ بانی مرکزِ تربیتِ افتا و دارالعلوم اہلسنت امجدیہ ارشد العلوم ، اوجھا گنج ضلع بستی یوپی کی بارگاہ میں نذرانۂ عقیدت
عرس پاک 3 جمادی الاخرہ
🍃🌹🍃
روشنی ہیں ترے اقوال فقیہِ ملت
ہیں منور ترے افعال فقیہِ ملت
تیری ہستی ہے فقیہانِ جہاں کی محبوب
ہے چمکتا ترا اقبال فقیہِ ملت
تیرے اندر ہیں کمالاتِ رضا کے جلوے
تو ہے مجموعۂ اَفضال ، فـقیہ ملت
زر نہیں ڈھلتا ہے، فن ڈھلتے ہیں جسکے اندر
ہـے نرالی تری ٹکسال ، فـقـیہ ملت
گلشنِ فکرونظر اب بھی ہیں تجھ سے سیراب
فن کے اے چشمۂ سَیَّال ، فقیہ ملت
غیرتِ عشقِ رسالت کے بلال دوراں
واہ کیا ہے ترا إجلال فقیہ ملت
عکس تجھ میں نظر آتا ہے حسن بصری کا
صوفیانہ ہے ترا حال فقیہ ملت
دستِ "امجد" نے تراشے ، ترے فقہی جوہر
"حیدر و نوری" کا تو لال فقیہ ملت
تیرے کردار کو "ارشد" نے بنایا سِیماب
تو ہے اک قائدِ فَعّال ، فـقـیہ ملت
خوب فرمایا "بزرگوں کےعقیدے" کا دفاع
نجدیت ہوگئی بے حال فـقیہ ملت
حق کے احقاق میں گذری تری عمر نایاب
باطلوں کا کیا اِبطال ، فقیہ مـلت
باعثِ عزتِ مومن ہے تجلی تیری
تو ہے اک نَیَّرِ خوش فال فقیہ ملت
مرجعِ طائر فن، تیری تصانیف کا باغ
ہے ثمر بار، ہر اک ڈال ، فقیہ ملت
آپ نے کی ہے بڑی ظاہر و باہر تفصیل
جن مسائل میں تھا اجمال، فقیہ ملت
تیری تحقیق نگاری سے وہابی کے فریب
ہوگیے خستۂ و پامال ، فقیہ ملت !
اسلیے ہے تری ہر بات میں بیحد تاثیر
حال جیسا ہے ترا قال ، فقیہ ملت
نَو بہ نَو، تازہ بتازہ ہے لطافت تیری
بڑھ رہا ہے ، ترا اقبال فقیہ ملت
کہکشاں بن کے منور ہیں ہمیشہ کیلئے
تیری سیرت کے خد و خال فقیہ ملت
کبھی پژمردہ نہ ہوں تیرے چمن کے ازہار
رہے شاداب ،، تری آل ، فقیہ ملت
لکھ رہاہوں تو قلم ہوگیا پُرنور مرا
یوں ہیں روشن ترے احـوال فـقیہ ملت
کیا تری دولتِ حکمت پہ فریدی لکّھے
تو غنی ، اور میں کنگال ،، فقیہ ملت
🍃🍃🌹🍃🍃
✍🏼از فریدی صدیقی مصباحی، بارہ بنکوی ، مسقط عمان 96899633908+
https://www.facebook.com/100018511772807/posts/727679291192457/
Facebook
Log in to Facebook
Log in to Facebook to start sharing and connecting with your friends, family and people you know.
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM