🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.85K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
*پی ڈی ایف پر پڑھنے والے کامل نہیں پڑھتے*
*تحریر ابو احمد عبدالغنی عطاری المدنی عفی عنہ*
آج کل پی ڈی ایف پر کتاب منگوانے کا رجحان ہے یے ایک اچھا عمل ہے مگر اس کے لئیے جو کتاب کے کسی مقام کو ثبوت کے طور پر پیش کرتے ہیں یا ضرورت کے پیش نظر کتاب کا کوئی مخصوص حصہ پڑھتے ہیں مگر شاید آپ کو اس معاشرے میں ایسا کوئی فرد معلوم نہ ہو کہ جس نے پی ڈی ایف پر کئی جلدیں کسی کتاب کی مستقل طور پر پڑھی ہوں لیکن اس کے مقابلے میں کئی ایسے آپ نے سنیں ہونگے جنہوں نے کسی کتاب کی کئی جلدیں مکمل پڑھی ہوں
پی ڈی ایف پر کئی کتب پڑھنے والے بہت کم ہونگے مگر کتاب کو لے کر پڑھنے والے بہت زیادہ ہونگے اس سے پتا چلتا ہے کہ کتاب لینے کی کتاب رکھنے کی اپنی ایک اہمیت ہے پی ڈی ایف پر کتاب کو مکمل پڑھنا بہت مشکل ہے بحالت مجبوری بھی اگر کوئی پڑھتا ہے تو اکتا جاتا ہے سر درد آنکھوں میں درد تھکاوٹ کا شکار ہوتا ہے کم پڑھ پاتا ہے مگر کتاب اگر ہاتھ میں ہو تو کافی ورق گردانی ہوسکتی ہے لھذا کتاب کی اپنی اہمیت اب بھی باقی ہے کتاب خریدیں آپ کو آپ کی آنے والی نسلوں کو جو کتاب سے فاعدہ ہوگا وہ شاید آپ کی سوچ میں ہی نہ ہو میری تین لائبریریاں ہیں جن میں سے ایک لائبریری گاوں میں ہے میں اگرچہ سکھر میں رہتا ہوں مگر پڑھنے والے اب بھی میری کتب کو پڑھتے ہیں بالخصوص میرے بھائیوں کو دیکھا ہے وہ کسی نہ کسی کتاب کو پڑھتے رہتے ہیں
میرے موبائل میں موجود کتب تو فقط میں ہی پڑھ سکتا ہوں لیکن میری لائبریری کی کتب میرے بھائی بھی پڑھ سکتے ہیں پھر ہر فن کی کتب رکھنے سے یے فاعدہ ہوتا ہے کہ جس کا شوق جس طرح کا ہوتا ہے وہی وہ کتاب اٹھا کے پڑھ رہا ہوتا ہے میرا مشورہ ہے کہ آپ بھی اپنے گھر میں کتب رکھا کریں اس کے بے شمار فواعد ہیں
میں نے اس وجہ سے کتب کے فروخت کرنے کا اعلان نہیں کیا کہ اس دور میں ان کی اہمیت نہیں یا اس دور میں کوئی کتب خرید کرتا نہیں بلکہ الحمد للہ آج بھی کتب لینے کا وہی شوق باقی ہے جو پہلے تھا اس کا اندازہ مجھے اس بات سے بھی ہوا کہ جن دو گروپ میں
میں نے میسج کیا ان کے کئی علماء کرام اہل علم نے مجھ سے لسٹ طلب کرتے ہوئے کتب لینے کی تمنا کا اظہار کیا
رہی یے بات کہ میں کوئی مکتبے والا نہیں مکتبے والوں سے کتب کی خرید و فروخت کا حال پوچھوں شاید یے سوال معقول نہ ہو اس کی کئی وجوہات ہیں
پہلی وجہ یے بھی ہوسکتی ہے بلکہ یقینا ہے کہ مکتبے کی ہر کتاب معیاری ہو لازم نہیں کیونکہ جب ایک کتاب میں دس کتابوں کا مواد ملتا ہو تو میں وہی خریدوں گا اکثر کتب مکتبوں کی ایسی ہوتی ہیں جن کا مواد یکساں ہوتا ہے
( اکثر کا لفظ اس لئیے استعمال کیا کہ میں نے مختلف مکاتب پر اس کا مشاہدہ کیا ہے کتابوں کی حرص اور شوق نے مجھے اتنا بھی مجبور کیا کہ صبح کو مکتبے میں گھسا شام کو مکتبہ بند کرنے کے اعلان نے نکالا وہ وقت بھی تھا کہ مجھے پتا ہوتا کہ اس مکتبے پے کون کون سی کتب مل سکتی ہیں یے شوق بہت اچھا ہے اس سے بہت فاعدہ ملتا ہے ) دوسری وجہ یے بھی ہوسکتی ہے کہ کتب آپ کے معیار سے اعلی ہوں
اس کے علاوہ بھی وجوہات ہوسکتی ہیں
میری اس پوسٹ کا یے مطلب نہیں کہ پی ڈی ایف میں کتاب طلب نہ کی جائے یا نہ پڑھی جائے بلکہ میں خود پی ڈی ایف میں کتب پڑھتا ہوں بھیجتا ہوں میرے موبائل میں بھی کافی کتابیں ہیں کافی دوستوں کو دیکھا ہے کہ ان کے موبائل لیپ ٹاپ کمپیوٹر میں کئی کتب ہوتی ہیں مگر کوئی کامل طور پر نہیں پڑھتا
یے میری رائے ہے دلیل کے ساتھ کوئی بھی رد کرنے کا حق رکھتا ہے.

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2915514765394498&id=100008080090753
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
آدابِ حرمین شریفین:
#2

موبائل اور زائرین

- مسجدِ الحرام میں کعبہ شریف یا مسجد النبوی شریف میں کبھی کبھار، ایک دو بار گنبد خضراء شریف کی تصویر لے لینے کو تو ہم بے ادبی نہیں کہتے

لیکن ان مقدس مقامات کو Photo Studio ہی بنا لینا یہ یقیناً خلافِ ادب ہے۔

- اس پاک جگہ کہ جہاں ساری توجہ اپنے گناہوں کی معافی میں ہونی چاہئے تھی وہیں مکہ شریف میں کعبة اللہ کے طواف کے دوران ویڈیو کالز اور سیلفیاں لی جا رہی ہوتی ہیں۔

- تہجد کے وقت جہاں لوگ قرآن پاک کی تلاوت اور نمازوں میں مشغول ہوتے ہیں ان روحانی لمحات میں کعبہ شریف کو پیٹھ کر کے گروپ فوٹوبازی ہورہی ہوتی ہے۔

- کعبہ شریف کو دیکھنا بھی عبادت ہے لیکن ایک کثیر تعداد دیکھی گئی ہے جو وہاں بیٹھ کر بھی اس عبادت سے محروم ہوتی ہے اور اپنے موبائل میں مشغول رہتی ہے، شروع سے ہی علماء کرام و اولیاء کرام کی نظریں تو کعبہ شریف کو تکتے رہنے میں مصروف رہی ہیں لیکن اب الا ماشاءاللہ زائرین اونچی اونچی بلڈنگیں دیکھنے، بلاوجہ اِدھر اُدھر اور لوگوں کو دیکھنے میں زیادہ مشغول رہتے ہیں۔

صبح فجر کی اذان کے وقت لوگ کعبہ شریف کے نظاروں کی بجائے کلاک ٹاور کی طرف کیمرے لے کر اسکی لائیٹیں جلتی دیکھنے اور اسکی ویڈیوز بنانے کے لئے سر اٹھائے ہاتھ لہرا رہے ہوتے ہیں ۔اللہ اکبر!

- مدینہ شریف میں گنبد پاک کی طرف پیٹھ کر کر کے کبھی اکیلے اور کبھی گروپ کی صورت میں فوٹوبازیاں کرنا بھی عام ہوتا چلا جا رہا ہے۔اپنے زندہ نبی کے سامنے ایسی جرأت کا مظاہرہ کرنا !؟
الامان والحفیظ!

- سرکارِ نامدار، نبئ مختار علیہ افضل الصلوۃ والسلام کی بارگاہ میں جالیوں کے سامنے ایک ہاتھ میں چپل اٹھائے اور دوسرے ہاتھ میں موبائل ویڈیو بناتے ہوئے حاضری پیش کرنا ۔۔۔۔ یہ اس قدر درد ناک منظر ہے کہ لکھتے ہوئے بھی طبیعت غیر ہورہی ہے۔ بس اتنا کہوں گا کہ کیا مجرم یوں حاضر ہوتے ہیں !؟

- سوشل میڈیاایپس جیسے: Tiktok, facebook live, Instagram live
وغیرہ وغیرہ نے لوگوں کو ایسا خبطی بنا چھوڑا ہے کہ جس دوسرے شخص کو دیکھو وہ ان عظیم جگہوں پر اپنے تئیں Vlogger بنا پھرتا ہے۔
کسرنفسی، عاجزی و انکساری تو دور کی بات ہے لوگ خودپسندی، مشہوری، ریاکاری اور ناجانے کیسی کیسی چیزوں کے جال میں پھنس چکے ہیں ۔

- مسجد شریف میں جگہ جگہ پوزنگ اور فوٹوشوٹ کروانے حتی کہ نماز پڑھتے کی، دعائیں مانگتے کی فوٹو بازیاں کروانا؛ کبھی زائرین قرآن شریف مکمل کرتے تھے اور اب دیکھا گیا ہے کہ اسکی بھی ایک ہاتھ سے اٹھا کرمختلف زاویوں سے تصویر کشی ہوتی ہے پھر جی کرے تو تلاوت ہوتی ہے ورنہ واپس رکھ دیا جاتا ہے۔

عوام اہل سنت سے میری مؤدبانہ گزارش ہے کہ اپنے موبائل حرمین شریفین میں ساتھ مت لایا کریں ، بغیر کیمرے والا چھوٹا فون ساتھ لائیں دوسرا ہوٹل چھوڑدیں تاکہ ایسے فتنوں میں ملوث ہی نہ ہوں ۔
کبھی یوں بھی حاضر یاں پیش کیجئے جہاں آپکی مکمل توجہ ان مقامات پر مرکوز رہے۔ روحانی و وجدانی کیفیات میسر ہوں اور گناہوں کو یاد کر کے ندامت اور نم آنکھیں نصیب ہوں ۔ آمین

جاری ہے۔۔۔

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2915514895394485&id=100008080090753
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
إطلالة على حياة فقيه الملة رحمه الله

إطلالة على حياة فقيه الملة رحمه الله
(1352 هـ 1933 - م1422هـ 2001م)
الحمدلله الذي خلق كل شيء فعدله وجعل الإنسان أشرفه والصلاة والسلام على نبي الرحمة سيدنا محمد هادي الأمة كاشف الغمة وعلى آله وصحبه وعلى كل من تبعهم إلى ساعة القيامة. أما بعد:
فقد قال الله تعالى:
يُؤْتِي الْحِكْمَةَ مَنْ يَشَاءُ وَمَنْ يُؤْتَ الْحِكْمَةَ فَقَدْ أُوتِيَ خَيْرًا كَثِيرًا وَمَا يَذَّكَّرُ إِلَّا أُولُو الْأَلْبَابِ [البقرة/269] فمن الذين أعطاهم الله تعالى الحكمة والموعظة الحسنة شخصية بارزة في تاريخ الفقه والتصوف الإسلامي من الهند سوف أتحدث عنها في الصفحا ت المقبلة بشيئ من الإيجاز.
اسمه و نسبه:جلال الدين أحمد الأمجدي بن جان محمد بن عبدالرحيم بن غلام رسول بن ضياء الدين بن محمد سالك بن محمد صادق بن عبد القادر بن مراد علي. واسم أمه: رحمة النساء رحمها الله كانت من المؤمنات الصالحات الذاكرات توفيت سنة 1399هـ المطابقة 1979م.
قصة قبول إيمان جده الأعلى:كان جده "مراد علي" يسكن قرية تسمى بـ"برهر" من محافظة "فيض آباد" بجنب "آيودهيا" الذي كان فيه الجامع البابري الذي هدم بأيدي الكفار سنة 1992م. وكان الجد ينتمي إلى عائلة هندوسية معروفة تدعى "راجبوت" وكان اسمه قبل إسلامه "مراد سنكه". فأراد الله تعالى أن يهديه إلى الصراط المستقيم فألقى في قلبه وروعه الإسلام فتأثر به و بتعليماته وقوانينه حتى أسلم بتوفيق الله سبحانه تعالى على يد أحد من مسلميى الهند و سمي بـ"مراد علي". وقد شق على عائلته إيمانه فلم يألوا جهدا أن يعدلوه عن الإسلام ولم يدخروا وسعا أن يعيدوه إلى حضيض الكفر والضلالة, فهجر عائلته و الآراضي والأموال كلها ابتغاء وجه الله سبحانه تعالى و صيانة لإيمانه وسافر إلى "فيض آباد" و أقام في حي من أحيائه اسمه "شهزاد فور". و كان من أحفاده "ضياء الدين رحمه الله" يجول أنحاء المحافظة "بستي" وضواحيها للتجارة حتى لقي بعض المسلمين من القرية "أوجها غنج" فما زال معهم حتى أصبحت الصداقة فيما بينهم وثيقة قوية فاشترى - بعد استشارتهم – أرضا في "أوجها غنج" وانتقل إليها، و كان من أولاده جد فقيه الملة والدين "العابد الزاهد عبد الرحيم" ومن أولاده أبوه "المتقي الورع جان محمد" الذي توفي عام 1370هـ المطابق 1951م وكان فقيه الملة – آنذك – شابا حديث السن حيث كان ابن ثمانية عشر أو مايناهزها، تغمدهم الله تعالى جميعا بمغفرته و رحمته خاصة "مراد علي" فإننا ماولدنا في أحضان المسلمين إلا بإسلامه الذي وفقه ربنا جل وعلا إليه وأحسن توفيقا ولله الحمد.
لقبه: لقب بـ"فقيه الملة" ميلاده: ولد فقيه الملة رحمه الله تعالى بقرية "أوجها غنج" وهي قرية صغيرة من محافظة "بستي" وكان مولده سنة 1352 هـ الموافقة 1933 م. مذهبه: الحنفي. طريقته: القادرية. نشأته: أسرة فقيه الملة وإن لم يكن حظها من العلوم و الثقافات الدينية كبيرا ولكنها كانت أسرة متدينة صالحة، فتح فقيه الملة عينيه في هذا الجو الديني و نشأ و ترعرع في بيئة فكرية تنتمي إلى أهل السنة والجماعة و تعض منهج السلف بعيدة عن أوهام المبتدعين و أباطيلهم.
بداية دراسته ونبوغه فيها: بدأ دراسته - حين بلغ من عمره قرابة خمس سنوات - على يد تلميذ أبيه المولوي زكريا رحمه الله تعالى، في "أوجها غنج". و لما وصل إلى السابعة من سنه أخذ في حفظ القرآن عن ظهر القلب عند أستاذه السابق حتى أكمل حفظه على يده عام 1363هـ المطابق 1944م في مدة قصيرة وهي ثلاث سنوات ونصف،وكان عمره في ذلك الوقت عشر سنين أو مايزيد شيئا.ثم سافر إلى البلدة "إلتفات غنج" فتلقى هنالك على أيدي العلماء الدروس الإبتدائية منهم:"المولوي عبد الرؤف رحمه الله تعالى" ثم غادرها إلى "المدرسة الإسلامية شمس العلوم" بمدينة "ناغبور" مهاراشترا، والتي كان عميدها – حينذاك - العلامة الكبير والكاتب الشهير أرشد القادري - جعل الله تعالى الجنة مثواه - فالتحق فقيه الملة رحمه الله بهذه المدرسة و طفق يستسقي من منهل الشيخ و معينه الغزير و كان من دأبه أن يأتيه ليلا و يتلقى منه دروس الفقه والشريعة و يشتغل نهارا بالعمل ليقتات لنفسه و لوالديه و يوفر لهما حياة هانئة ماأمكن، و لم يزل بهذا حتى تخرج و حصل على شهادة الدراسات العليا سنة 1371هـ المطابقة 1952م.
في ساحة التدريس والإفتاء: بدأ التدريس مبكرا عام 1371هـ المطابق 1952م، في إحدى المدارس ثم انتقل إلى "دارالعلوم فيض الرسول" بقرية "براؤن شريف" بمحافظة "سدهارت نغر" من ولاية "أترابراديش" بدعوة مؤسسها شعيب الأولياء محمد يار علي رحمه الله، فمكث هناك احدى وأربعين سنة يشغل منصب التدريس والإفتاء، و كان أول ماأفتى سنة 1377هـ المطابقة 1957م و هو ابن أربع وعشرين سنة.
ثم هجر تلك المدرسة سنة 1416هـ إلى قريته "أوجها غنج" وأسس فيها مدرسة سماها بـ"دار العلوم الأمجدية أهل السنة أرشد العلوم" وكان ميله إلى التجديد في الفكر الديني و المنهج التعليمي، و اختراع أساليب حديثة تساير العصر و متطلباته و من هذا المنطلق أقام في تلك المدرسة "شعبة تدريب الإفتاء" لتدريب العلماء على إنشاء الفتاوى، والتي لم يسبقه إلى قيامها أحد فى الهند أو باكستان كما قاله العلامة محمد عبد الحكيم شرف القادري الباكستاني رحمه الله تعالى، وقد تخرج من "دار العلوم" هذه عدد كبير من الطلاب بعد اكتسابهم الحذق والمهارة في صناعة الإفتاء وانتشروا أرجاء الهند و خارجها يعالجون قضايا الأمة و يحلون عقدها في ضوء القرآن الكريم والسنة النبوية.
و لا يفوتني أن اذكر أن فقيه الملة رحمه الله كان من خريجي مدرسة المجدد الإمام أحمد رضا البريلوي الهندي - رحمه الله – (ت1340هـ1921م) حيث عكف على مؤلفاته - التي يبلغ عددها زهاء ألف - يتتلمذ عليها و يتزود بها في حياته العلمية والفكرية، وكان طامعا في نشر أفكار الإمام و آرائه التي تتلائم و آراء السلف و منهج التصوف الأصيل و التي تستمد من نصوص القرآن و السنة وقد بذل في سبيل ذلك أقصى ما في وسعه و وفق فيه كل التوفيق.
زيارته بيت الله الحرام:
زار فقيه الملة رحمه الله البيت العتيق عام 1396هـ المطابق 1976م بتوفيق من الله تعالى.
بعض أسماء تلاميذه البارزة: العلامة عبد القادر العلوي المدير الأعلى حاليا لدار العلوم فيض الرسول،الفاضل الشهير نور محمد القادري، العالم النبيل محمد عيسى الرضوي، المفتي قدرة الله القادري،المفتي نظام الدين أستاذ فيض الرسول وغيرهم.
مصنفاته الغالية: ما سوى التدريس و الإفتاء والخطب قد ألف فقيه الملة المؤلفات العديدة الهامة تبلغ أربعة وعشرين عددا أو أكثر في أوقات صعبة حول موضوعات مختلفة مقبولة عند عامة الناس و خواصهم في الهند وغيرها منها: (1) فتاوى فيض الرسول في مجلدين ضخمين (2) فتاوى فقيه الملة في مجلدين ضخمين أيضا (3) أنوار الحديث (4) خطبات شهر المحرم (5) أنوار الشريعة (6) الفتاوى البركاتية (7) الغاز الفقه (8) سيد الأولياء السيد أحمد كبير الرفاعي رحمه الله (9) الحج و الزيارة (10) عقائد السلف الصالح (11) تعظيم النبي صلى الله عليه وسلم (12) معارف القرآن (13) المسائل الضرورية وغيره من الكتب القيمة.
مشاركته في المؤتمر الفقهي: كان يشارك فقيه الملة فى عدة مؤتمرات وندوات علمية وثقافية منها "السيمينار الفقهي" الذى كان يعقد تحت رعاية أكبر جامعة إسلامية فى الهند "الجامعة الأشرفية" بمباركفور، ومازال ينعقد لحل المسائل الجديدة الصعبة التى تعرض للأمة الإسلامية، وقد يشرف على تلك الندوات العلمية وقد يعين حكما فيها نظرا إلى تفقهه الأعلى في العلوم الإسلامية.
دخوله في الطريقة الصوفية وحصوله على الإجازة: بايع على يد صدر الشريعة العلامة الحكيم أبي العلاء محمد أمجد علي الأعظمي رحمه الله تعالى مؤلف "بهار شريعت" في الفقه الحنفي سنة 1378هـ المطابقة 1948م ودخل في الطريقة الرضوية (الطريقة القادرية). وحاز الإجازة من طريقتين، الأولى: من أحسن العلماء السيد مصطفى حيدر حسن البركاتي رحمه الله، والثانية: من العلامة مصطفى رضا النوري البريلوي رحمه الله المفتي الأعظم الأسبق بالهند.
حصوله على الجوائز القيمة: من خلال دراسته و مصنفاته و خطبه و تربية أسرته قدم فقيه الملة رحمه الله تعالى للأمة الإسلامية خدمة عظيمة لا تستخف و لاتنسى إنشاء الله تعالى. فبسبب هذه الخدمات كلها لما أراد أرباب "الجامعة الصمدية" بالهند أن يقدروا خدمات العلماء من ناحية التعليم ودعوة الأمة إلى الحق و يقدموا لهم الجوائز الغالية اختاروا منهم أول مااختاروا فقيه الملة رحمه الله فمنحوه جائزة غالية تسمى بـ"قبله عالم إيوارد" و شهادة التقدير وخمسة آلاف روبية فى السادس والعشرين من رجب المرجب عام 1417هـ المطابق 1996م.
والجائزة الثانية التي قدمت إليه من جمعية"رضا أكادمي بومبائي" حيث لما رأى مؤسسها الحاج محمد سعيد النوري و أعضاءالجمعية أن فقيه الملة رحمه الله قد جاهد في خدمة الإسلام والمسلمين حق الجهاد وفاق أقرانه من نواحي كثيرة أعطوه جائزة عالية تسمى بـ"الإمام أحمد رضا إيوارد" وخمسة آلاف روبية في العاشر من شوال المكرم عام 1418هـ الموافق 1998م .
كما يراه العلماء الفحول:
قال له أستاذه العلامة أرشد القادري رحمه الله: إن الله تعالى جعلك مظهر الأسلاف............وأراك ذخرا لي - إنشاء الله - في الآخرة، وقال - رحمه الله تعالى - متواضعا: مااستطعت أنا أن أعمل عملا صالحا و لكنك بحسن عملك نلت رضا الله سبحانه تعالى، فأنا افتخر بك و أتباهى بجهدك الذي تقوى به أهل الإسلام و تشد أزرهم.
وقال شارح البخاري المفتي شريف الحق الأمجدي رحمه الله: إن أخي فقيه الملة العلامة المفتي جلال الدين أحمد منقطع النظير لا يناهزه أحد في العصر الحاضر في علمه وتقواه، وفي اتباعه شريعة الإسلام، وإلى جانب هذه الأوصاف الحميدة و الصفات العالية، يمتلك صفة قلما أجدها فى غيره وهي أنه يلتزم الصدق ويقول الحق على رؤس الأشهاد و لايخاف فى ذلك لومة لائم ولا يخشى أحدا في إحقاق الحق و إبطال الباطل و لايركن إلى المداهنة في المسائل الدينية قط.
وقال العلامة عبد المبين النعماني أنسأ الله في عمره: لا شك أن شخصية فقيه الملة رحمه الله عديمة النظير فقيدة المثيل، فاق علماء معاصريه بمقادر متعددة لا يجمعها الله تعالى في رجل واحد في حين واحد إلا نادرا فإنه عالم متفوق، ومحقق متيقظ، ومفت متنبه، ومدرس كبير، ومصنف متميز، وخطيب بارع في زمن واحد. وغير ذلك من أقوال العلماء كثيرة لاتسمحني هذه العجالة باستيفائها هنا.
وفاته رحمه الله تعالى: وساعة إذ كان يشرح لبعض العلماء - منهم ابنه الوسط المفتي أبرار أحمد البركاتي و زوج ابنته الوسطى المفتي أختر حسين القادري – المنهج القويم للدعوة وإصلاح الأمة ليلة الجمعة 3/جمادي الأخرى سنة 1422هـ المطابقة 23/أغسطس 2001م وافته منيته في الساعة الثانية عشروخمس وخمسين دقيقة .إنا لله وإنا إليه راجعون.
خلف من بعده: زوجته الصالحة "حسيب النساء" - نسأ الله في أجلها – كانت تساعده في أمور حياته كلها ليل نهار - جزاها الله تعالى أحسن الجزاء في الدنيا و الآخرة - و أربعة أبناء وثلاث بنات، وجميع أبنائه قد اقتفوا أثر أبيهم وشقوا طريقا إلى العلوم والثقافات الإسلامية واحتلوامكانة سامية بين علماء الهند، و أسمائهم: المفتي إعجاز أحمد النوري أستاذ الدراسات العليا بأحسن المدارس، والعالم الجليل أنوار أحمد القادري المدير الأعلى لدار العلوم الأمجدية التي أسسها أبوه فقيه الملة رحمه الله، و المفتي أبرار أحمد البركاتي مفتي دارالعلوم هذه، و كاتب السطور أزهار أحمد الأمجدي الأزهري، خريج كلية أصول الدين، قسم الحديث، جامعة الأزهر الشريف، مصر. و أسماء بناته:حميراء بانو الأمجدية وهي تحت العالم النبيل رياض أحمد البركاتي أستاذ الدراسات العليا بالجامعة الحنفية، و حسيناء بانو الأمجدية و هي تحت المفتي أختر حسين العليمي أستاذ الدراسات العليا بدار العلوم العليمية، و زليخا بانو الأمجدية وهي تحت المفتي زبير أحمد القادري أستاذ الدراسات العليا بمدرسة غريب نواز، حفظهم الله تعالى جميعا ورعاهم حق رعايته. آمين يا رب العالمين.
تغمد الله تعالى أبي فقيه الملة برحمته وكرمه وفضله - آمين - فقد خلف لنا بعد مماته علماء والعلماء ورثة الأنبياء، وترك العلم والعلم أفضل خلف والعمل به أكمل شرف وقد كان عاملا بما علم، وأحسبه كما ذكرت عنه والله حسيبه و لا أزكي على الله أحدا. و لله الحمد على كل ذلك ولا حول ولا قوة إلا بالله العلي العظيم.

المراجع والمصادر
(1)"السيرة الذاتية" بقلم فقيه الملة رحمه الله الملحقة في كتابه المسمى بـ"أنوار الحديث" المطبع: کتب خانه أمجدیه، ومکتبة فقیه الملة، دلهی 6.
(2)"السيرة الذاتية" بقلم فقيه الملة رحمه الله الملحقة في كتابه المسمى بـ"خطبات محرم" المطبع: کتب خانه أمجدیه، ومکتبة فقیه الملة، دلهی 6.
(3)"ترجمة فقيه الملة رحمه الله" بقلم ابنه الفاضل أنوار أحمد القادري الملحقة بـ"الفتاوى البركاتية" لفقيه الملة أيضا، المطبع: کتب خانه امجدیه، ومکتبة فقیه الملة، دلهی 6.
)4)"أنوار فقيه الملة" للمفتي أختر حسين العليمي، المطبع: کتب خانه امجدیه، دلهی 6.

أبوعاتکة أزهار أحمد الأمجدي المصباحي غفرله
خریج كلية أصول الدين، قسم الحديث، جامعة الأزهر الشريف، مصر۔
خادم الإفتاء بمرکز تربیة الإفتاء، أوجھاگنج، بستی، یوپی، الھند۔

https://www.facebook.com/100018511772807/posts/727184817908571/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
حضور فقیہ ملت علیہ الرحمہ کی قلمی خدمات

یہ بات ہر شخص پر روز روشن کی طرح واضح ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے علماے کرام کو ہی اپنا وارث و نائب بنایا، یہ وارثین ہی ہر دور میں اپنی خدا داد صلاحیت کے ذریعہ قوم و ملت کی شرعی و ملی رہنمائی فرماتے رہے اور ان شاء اللہ تا قیام قیامت رہنمائی فرماتے رہیں گے، انہیں وارثین میں سے ماضی قریب کی ایک شخصیت حضور فقیہ ملت علیہ الرحمہ کی ذات ہے، آپ کی پیدائش ۱۳۵۲ھ میں ضلع بستی کے ایک مشہور آبادی اوجھاگنج میں ہوئی، آپ نے علم دین حاصل کرنے کے بعد قوم و ملت بالخصوص طالبان علوم نبویہ کو سنوارنے کے لیے اپنی صلاحیت کو بروے کار لاتے ہوئے مختلف اور اہم دینی و ملی خدمات تدریس، اصلاحی بیان، فتوی نویسی، تصنیف اور مقالہ نگاری وغیرہ کی صورت میں پیش فرمائی، آپ کی رائے کے مطابق ان تمام چیزوں میں تصنیف و تالیف کا کام سب سے زیادہ سخت و مشکل ترین امر ہے، مگر آپ نے ان تمام چیزوں کے ساتھ مشکل ترین امر تصنیف و تالیف ہی کو اولیں درجہ دیا؛ اس کی وجہ آپ کا یہ ماننا تھا کہ عوام تک اپنی بات پہونچانے کے لیے یقینا اصلاحی بیان کی ضروت ہے مگر اس کا فائدہ انہیں لوگوں تک عموما محدود ہوتا ہے جو مجلس میں حاضر ہوتے ہیں، لیکن تصنیف و تالیف کا معاملہ کچھ الگ اور وسیع تر ہے، تالیف سے مصنف کے زمانہ والے فائدہ تو اٹھاتے ہی ہیں، ساتھ ہی مصنف کے اس دار فانی سے کوچ کرنے کے بعد بھی صدیوں تک لوگ اس سے فائدہ حاصل کرکے اپنے دل و دماغ کو جلا بخشتے رہتے ہیں، کتنی کتابیں ہیں جن کو تصنیف کیے صدیاں گزر گئیں مگر آج بھی پورا عالم اس سے فائدہ اٹھارہا ہے اور ان شاء اللہ ہمیشہ اٹھاتا رہے گا، آپ نے اپنی اسی اولیں ترجیح کے پیش نظر وقت و حالات کے اعتبار سے مختلف موضوعات پر بہت اہم اور گراں قدر تقریبا چوبیس پچیس کتابیں تصنیف فرمائیں، قارئین ان میں سے بعض پر مختصر تبصرہ ملاحظہ فرمائیں:
فتاوی فیض الرسول: آپ کی یہ دو ضخیم جلد والی کتاب آپ کے گراں قدر تحقیقی فتاوی پر مشتمل ہے، آپ نے یہ فتاوی مدرسہ فیض الرسول، براؤں شریف میں کم و بیش چالیس سال تدریس کے دروان، دن و رات محنت کرکے تحریر فرمایا، آپ کے یہ فتاوی ایمان سے لے کر میراث تک کے ہزاروں مسائل کا حل بالکل آسان و واضح تعبیرات کی روشنی میں پیش کرتے ہوئے نظر آتے ہیں، آپ نے اپنے ان فتاوی میں جا بجا مسلمانوں کے درمیان خلاف شرع رائج بدعت و خرافات کا رد بھی بحسن و خوبی فرمایا ہے، ان فتاوی کی کتاب کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ یہ ہندو پاک کے اکثر دار الافتا میں موجود ہے، جس سے علما و مفتیان کرام اپنے و دوسروں کے مسائل حل کرتے ہیں، انہیں فتاوی کی دوسری و تیسری کڑی ایک جلد میں فتاوی برکاتیہ اور دو ضخیم جلد میں فتاوی فقیہ ملت بھی ہے، انوار الحدیث: آپ نے اس کتاب میں قوم و ملت کے مسائل کا حل احادیث کی روشنی میں پیش فرمایا ہے، یہ کتاب ایمان سے لے کر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے وسعت علم تک کے مباحث کو محیط ہے،اس کتاب میں امت مسلمہ کے مسائل کا حل پیش کرنے کے ساتھ ساتھ بہت سارے لوگوں کے شکوک و شبہات کو بھی احادیث طیبہ کی روشنی میں دور کرنے کی بہترین کوشش کی گئی ہے، یہ کتاب اردو و ہندی اور انگریزی تینوں زبانوں میں کافی مقبول اور متداول عام و خاص ہے، خطبات محرم: عام طور سے دیکھا جاتا ہے کہ ہند و پاک کے مسلمان ماہ محرم الحرام کے پہلے دس دن میں بیان کا اہتمام کرتے ہیں، حضور فقیہ ملت علیہ الرحمہ ان دنوں ہونے والے بہت سارے بیانات سے متفق نہیں تھے؛ کیوں کہ وہ بیانات بہت سارے غلط واقعات و حکایات پر مشتمل ہوتے تھے، اسی مفسدہ کو دور کرنے کے لیے آپ نے مستند حوالوں کے ساتھ بارہ وعظوں پر مشتمل یہ کتاب تصنیف فرمائی؛ اسی وجہ سے یہ کتاب علما و عوام سب کے درمیان اپنا ایک خاص مقام رکھتی ہے اور آج بھی لوگ اس کتاب کی تعریف میں رطب اللسان ہیں، یہ کتاب بھی اردو و ہندی دونوں زبانوں میں موجود ہے، عجائب الفقہ یعنی فقہی پہیلیاں: آپ کی یہ کتاب ایسے ایسے فقہی سوالات و جوابات پر مشتمل ہے کہ ایک عام آدمی تو عام آدمی خاص علما بھی سوال پڑھ کر حیرت میں پڑجاتے ہیں اور جب جواب پڑھتے ہیں؛ تو سوال کا حل پاکر لبوں پر مسکراہٹ پھیل جاتی ہے، حضرت کی یہ کتاب بھی بہت مقبول و مشہور ہوئی، بزرگوں کے عقیدے: آیت کریمہ سے یہ بات ثابت شدہ ہے کہ انبیا، صدیقین، شہدا اور صالحین کا طریقہ ہی سیدھا راستہ ہے، مگر اس کے باجود بعض لوگ ان کا طریقہ کار اختیار کرنے والوں پر چیں بجبیں تھے؛ تو حضور فقیہ ملت رحمہ اللہ نے اس طرح کے لوگوں کو سمجھانے کے لیے بزرگوں کے عقیدے کتاب تصنیف فرمائی اور دلائل سے ثابت فرمایا کہ بزرگان دین کا طریقہ کار ہی صحیح و درست اور وہی قرآن و حدیث کے موافق ہے؛ لہذا ان حضرات کے طریقہ کار کے مطابق چلنے والوں پر چیں بجبیں ہونے کی چنداں گنجائش نہیں، یہ کتاب ہند
1
و پاک میں زیور طبع سے آراستہ ہوکر مقبول عام و خاص ہوئی، علم اور علما: اس کتاب میں علم و علما کی فضیلت بیان کی گئی ہے اور ساتھ میں اس بات کی وضاحت کرکے علما کو مہمیز بھی لگانے کی کوشش کی گئی ہے کہ علما اگر عمل نہیں کریں گے؛ تو جہاں ان کی بات کے بے اثر ہونے کا اندیشہ ہے، وہیں یہ طریقہ کار ان کی آخرت کو خراب کرنے والا ہے؛ لہذا ایک عالم پر لازم و ضروری ہے کہ وہ اپنے علم کے مطابق عمل کرے؛ تاکہ قول و عمل ثمربار ہو اور اس کی آخرت بھی خراب ہونے کے بجائے سنور جائے، آپ نے ان ساری باتوں کو قرآن و حدیث کی روشنی میں عمدہ پیراے پر بیان کیا ہے، یہ کتاب بھی ہند و پاک میں طبع ہوئی اور علما و طلبہ کے درمیان کافی مقبول ہوئی، حج و زیارت: حضرت نے ۱۳۹۶ھ مطابق ۱۹۷۶ء میں حرمین طیبین کی زیارت سے مشرف ہونے کے بعد تجربہ کی روشنی میں قرآن و حدیث اور اقوال علما سے اخذ کرتے ہوئے یہ کتاب تحریر فرمائی، یہ کتاب اگرچہ حجم میں چھوٹی ہے مگر بہت عمدہ و بہترین کتاب ہے، اس کے عمدہ ہونے کا اندازہ اس سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ عوام تو عوام بہت سارے علما بھی حج کے درمیان یہ کتاب اپنے ساتھ رکھتے ہیں اور جب حج کے درمیان انہیں کسی مسئلہ میں تردد ہوتا ہے؛ تو وہ اس کتاب کے ذریعہ اپنا تردد دور کرلیتے ہیں، یہ کتاب بھی ہند و پاک سے شائع ہوکر مقبول عام و خاص ہوچکی ہے، یہ کتاب ہندی زبان میں بھی طبع سے آراستہ ہوئی، ضروری مسائل: حضرت نے ہمیشہ زمانہ کے لحاظ سے پیش آنے والے مسائل کا حل پیش کرکے مسلمانوں کو راحت پہونچانے کی کوشش فرمائی، اسی کی ایک کڑی آٹھ مدلل فتاوی کا شاندار مجموعہ بنام: ضروری مسائل بھی ہے، آپ نے اس رسالہ میں انجکشن سے روزہ ٹوٹنے، نماز میں لاؤڈسپیکر کے استعمال کرنے اور قبر وغیرہ کو سجدہ کرنے سے متعلق قرآن و حدیث اور اقوال علما کی روشنی میں بہترین گفتگو فرمائی ہے، یہ کتاب بھی عوام و خواص سب کے لیے مفید ہے، تعظیم نبی: ہر سچا و پکا مسلم جانتا ہے کہ تعظیم نبی صرف ایمان ہی نہیں بلکہ ایمان کی جان ہے، آپ نے امت مسلمہ کو اس عظیم امر کی طرف اس کتاب کے ذریعہ توجہ دلائی؛ تاکہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تعظیم ہر مسلم کے دل میں گھر کرجائے اور وہ آپ کی تعظیم کا ہر لمحہ پاس و لحاظ رکھے اور کسی طرح بھی اس جانب تساہلی نہ برتے، یہ کتاب بھی اپنے موضوع پر اپنی مثال آپ ہے، ہر عام و خاص آدمی اس سے فائدہ حاصل کرسکتا ہے، معارف القرآن: حضرت کی یہ کتاب تصنیف و تالیف کے ابتدائی دور کی ہے، آپ نے اس کتاب میں تفسیر کی معتبر کتابوں کے ذریعہ بعض مخصوص آیات کی تفسیر پیش کی ہے، اور حمد الہی و اقرار بندگی، عظمت حکم مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور شان مؤمن وغیرہ جیسے اہم و اصلاحی موضوعات پر آسان لب و لہجہ میں بہترین گفتگو کی ہے، یہ کتاب بھی عوام و خواص سب کے لیے مفید و کار آمد ہے، آٹھ مسئلے کا محققانہ فیصلہ: حضرت نے اس رسالہ میں مختلف آٹھ مسائل جیسے بدعت کی قسمیں، بدعت کا رواج اور صلاۃ و سلام وغیرہ پر محققانہ و سیر حاصل گفتگو فرمائی ہے، آپ کا یہ رسالہ آپ کی تحقیق و تدقیق کا بہترین شاہکار ہے، اس رسالہ نے بھی اردو داں طبقہ کے درمیان کافی مقبولیت حاصل کی، یہ رسالہ بھی ہند و پاک میں شائع ہوکر خوب داد و تحسین حاصل کرچکا ہے، انو ار شریعت: آپ نے یہ کتاب سوال و جواب کے طرز پر ایمان، نماز، روزہ اور زینت وغیرہ کے متعلق تحریر فرمائی ہے، یہ کتاب ایسی ہے کہ اگر ایک بچہ صحیح ڈھنگ سے اس کو پڑھ لے؛ تو اسے ایمان، نماز وغیرہ کے موٹے موٹے مسائل ازبر ہوجائیں گے اور وہ اپنی روز مرہ کی عبادات وغیرہ صحیح طریقہ سے ادا کرنے کے لائق ہوجائے گا، یہ کتاب اپنے مشتملات اور عمدہ و سادہ اسلوب کی بنیاد پر کافی مقبول ہوئی، اس کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ یہ کتاب اکثر مدارس اسلامیہ کی پانچویں کلاس یا جماعت اعدادیہ میں داخل نصاب ہے، یہ کتاب بھی اردو، ہندی اور انگریزی میں موجود و متداول ہے، نورانی تعلیم: یہ کتاب ابتدائی سے لے کر پانچ تک کے طلبہ کے لیے قائدہ اور پانچ حصوں میں تصنیف کی گئی ہے، یہ کتاب بھی بالکل آسان و سادہ اسلوب میں ہے، اس کتاب کے ذریعہ بھی ایک بچہ اپنے روز مرہ کے بہت سارے دینی و ملی مسائل سے بخوبی واقف ہوجاتا ہے، کچھ قاعدہ کی کتاب الف سے انگوٹھی اور با سے بوتل سے شروع ہوتی تھی، آپ نے اسے ناپسند فرمایا اور اپنی نورانی تعلیم قاعدہ کو الف سے اللہ اور با سے بسم اللہ سے شروع فرمایا، یہ کتاب بھی بچوں کے لیے از حد مفید ہونے کی وجہ سے بہت ہی مقبول ہوئی اور اسی وجہ سے ہند و پاک کے بہت سارے مدارس اسلامیہ کے ذمہ داران نے اپنے مدارس میں اسے ابتدائی سے پانچ تک کے بچوں کے لیے داخل نصاب فرمایا ہے، یہ وہ کتاب ہے جس سے ایک مسلم بچہ اردو زبان سیکھنے کے ساتھ اپنے دینی مسائل بھی سیکھتا ہے، ان کتابوں کے علاوہ بھی حضرت کی دوسری کتابیں جیسے سید الاولیا سید احمد کبیر رفاعی
قدس سرہ، گلدستہ مثنوی اور باغ فدک اور حدیث قرطاس وغیرہ بھی مقبول عام و خاص ہوئیں، ان تصانیف سے لوگوں نے فائدہ اٹھایا اور ان شاء اللہ صدیوں تک لوگ آپ کے اس کار خیر سے فائدہ اٹھاتے رہیں گے، آپ کی وفات ۳؍جمادی الاخری ۱۴۲۲ھ میں ہوئی، آپ کی پوری زندگی شریعت اسلامیہ کی پابندی اور خلوص کے ساتھ عظیم دینی خدمات پیش کرنے سے عبارت ہے، اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ حضرت کی ان خدمات عالیہ کے بدلے میں، حضرت کے درجات بلند سے بلند تر فرمائے اور ہم سب کو آپ کے نقش قدم پر چل کر تحریر و تقریر وغیرہ کے ذریعہ مفید و بیش بہا خدمات انجام دینے کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔

ابوعاتکہ ازہار احمد امجدی ازہری غفرلہ
فاضل جامعہ ازہرشریف، مصر، شعبہ حدیث، ایم اے
خادم: مرکز تربیت افتا، أوجھاگنج، بستی، یوپی، انڈیا.

https://www.facebook.com/100018511772807/posts/727183817908671/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Deleted Account
اللغة العربیة

قال امیر المؤمنین سیدنا عمر رضی الله تعالی عنه
تعلموا العربیة فانها تثبت العقل ، وتزید فی المروءة
شعب الایمان للبیهقی

عن ابی بن كعب رضی الله تعالی عنه قال :
تعلموا العربیة كما تعلمون حفظ القرآن .

مصنف ابن ابی شیبه

قال رسول الله صلی الله علیه وسلم :

لسان اهل الجنة عربی .

ورواه العلاء :
احبوا العرب لثلاث : لانی عربی ، والقرآن عربی ، وكلام اهل الجنة عربی .

صفة اهل الجنة لابی نعیم

إخواني الأعزاء
تعلموا اللغة العربیة .

محمد ضیاءالدین القادری الحنفی
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Deleted Account
فضاٸل درورد شریف

عن انس بن مالک رضی الله عنه قال قال رسول الله ﷺ من صلی علی صلی الله علیه عشر صلوات وحط عنه عشر خطئیات .
──────⊱◈◈◈⊰──────
حضرت انس بن مالک رضی الله عنه سے روایت ہے کہ رسول الله ﷺ نے ارشاد فرمایا : جس نے مجھ پر ایک مرتبہ درود پڑھا اللہ تعالی اس پر دس رحمتیں نازل فرماتا ہے اور دس گناہ محو فرمادیتا ہے ۔

──────⊱◈◈◈⊰──────

عن ابی بن كعب رضی الله عنه قال كان رسول ﷺ اذا ذهب ربع اللیل قال یایها الناس ! اذكروا نعمة الله ، یایها الناس ! اذكروا جاءت الراجفة تتبعها الرادفة ، جاءت الموت بما فیه ، فقال ابی بن كعب یا رسول الله ! انی اكثروا الصلوة علیك فكم اجعل لك من صلونی ؟ قال ماشئت .
──────⊱◈◈◈⊰──────
حضرت ابی بن کعب رضی الله عنه سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ چہارم شب گزر جانے کے بعد کھڑے ہوکر فرماتے : اے لوگو ! خدا کی یاد کرو ۔ آٸی راجفہ ، اس کے بعد آتی ہے رادفہ ، آٸی موت ان چیزوں کے ساتھ جو اس میں ہیں ۔ میں نے عرض کی : یارسول الله ! میں دعا بہت کیا کرتا ہوں ۔ اس میں سے بطور درود شریف کس قدر مقرر کروں ؟ فرمایا جتنی چاہو ۔
──────⊱◈◈◈⊰──────

عن حبان بن منقذ رضی الله عنه ان رجلا قال یا رسول الله ! اجعل ثلث صلوتی علیك ؟ قال نعم ان شئت ، قال الثلثین . قال نعم ، فصلاتی كلها ؟ قال رسول الله ﷺ اذن یكفیك الله ما اهمك من امر دنیاك و آخرتك ..
──────⊱◈◈◈⊰──────
حضرت حبان بن منقذ رضی الله عنه سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر ایک شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں اپنی تہائی دعا حضور کے لیۓ کرتا ہوں ۔ فرمایا : اگر تو چاہے ۔ عرض کی : دو تہائی ، فرمایا : ہاں ! عرض کی : کل دعا کے عوض درود مقرر کرتا ہوں فرمایا : ایسا کرےگا ۔ تو خدا تیرے دنیا و آخرت کے سب کام بنادےگا ۔
________________________

سیدنا امام احمد رضا محدث بریلوی علیه الرحمه فرماتے ہیں
بیشک درود سید عالم ﷺ کے لیۓ دعا ہے ۔ اور جس قدر اس کے فوائد و برکات مصلی پر عاٸد ہوتے ہیں ہرگز اپنے لیۓ دعا میں نہیں بلکہ ان کے لیۓ دعا تمام امت مرحومہ کے لیۓ دعا ہے ۔ کہ سب انھیں کے دامن دولت سے وابستہ ہیں _
سلامت ہمہ آفاق در سلامت تست ۔
──────⊱◈◈◈⊰──────

عن عبدالله بن مسعود رضی الله عنه قال قال رسول الله ﷺ ان اولی الناس بی یوم القیامة اكثرهم علی صلوة ..
──────⊱◈◈◈⊰──────
حضرت عبد الله بن مسعود رضی الله عنه سے روایت ہے کہ رسول الله ﷺ نے ارشاد فرمایا : قیامت کے دن مجھ سے زیادہ قریب وہ شخص ہوگا جو مجھ پر زیادہ درود و سلام پیش کرتا ہوگا ۔
──────⊱◈◈◈⊰──────

عن ابی امامة الباهلی رضی الله عنه قال قال رسول الله ﷺ اكثروا من الصلوة علی فی كل یوم جمعة ، فان الصلوة امتی تعرض علی فی كل یوم جمعة ، فمن كان اكثرهم علی صلوة كان اقربهم منی منزلة .
──────⊱◈◈◈⊰──────
حضرت ابو امامہ باہلی رضی الله عنه سے روایت ہے کہ رسول الله ﷺ نے ارشاد فرمایا : مجھ پر ہر جمعہ کے دن کثرت سے درود پاک پڑھو کہ میری امت کا درود مجھ پر پیش ہوتا ہے تو جو مجھ پر کثرت سے درود پاک پڑھےگا وہ مجھ سے قریب رہےگا ۔
──────⊱◈◈◈⊰──────

قال رسول الله ﷺ من صلی علی روح محمد فی الارواح وعلی جسده فی الاجساد و علی قبره فی القبور رأنی فی منامه ، و من رأنی فی منامه رأنی فی یوم القیامة ، و من رأنی یوم القیامة شفعت له ، و من شفعت له شرب من حوض و حرم الله جسده علی النار .
──────⊱◈◈◈⊰──────
حضور پر نور سید یوم النشور ﷺ نے ارشاد فرمایا : جو محمد ﷺ پر ارواح میں اور جسم اطہر پر اجسام میں اور قبر انور پر قبور میں ، درود بھیجے وہ مجھے خواب میں دیکھے اور جو خواب میں دیکھے مجھے قیامت میں دیکھےگا اور جو مجھے قیامت میں دیکھےگا میں اس کی شفاعت فرماٶنگا اور جس کی میں شفاعت فرماٶنگا وہ میرے حوض کریم سے پیۓگا اور اللہ عزوجل اس کے بدن پر دوزخ حرام فرمائیگا ۔ اللہ ارزقنا بجاھد عندک آمین ۔
________________________
سیدنا امام احمد رضا خان محدث بریلوی علیه الرحمه فرماتے ہیں

علماء فرماتے ہیں : یوں درود شریف پڑھو
اللھم صلی علی روح سیدنا محمد فی الارواح ، اللھم صلی علی جسد سیدنا محمد فی الاجساد ،اللھم صلی علی قبرہ سیدنا محمد فی القبور ۔

فتاوی رضویہ ٤ / ١٥٩
──────⊱◈◈◈⊰──────

عن عمار بن ياسر رضی الله عنه قال سمعت رسول الله ﷺ یقول ان الله تعالی ملكا اعطی اسماع الخلائق كلها قائم علی قبری الی یوم القیامة ، فما من احد یصلی علی صلوة الا ابلغنیها .
──────⊱◈◈◈⊰──────

حضرت عمار بن یاسر رضی الله عنه سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا : بیشک الله تعالی کا ایک فرشتہ ہے جسے خدا نے تمام جہاں کی بات سن لینے کی طاقت عطا کی ہے وہ قیامت تک میری قبر پر حاضر رہیگا جو مجھ پر درود بھیجےگا یہ مجھ سے عرض کریگا ۔
──────⊱◈◈◈⊰──────
Forwarded from Deleted Account
عن ابی بكر الصدیق رضی الله عنه قال قال رسول الله ﷺ اكثروا الصلوة علی ، فان الله تعالی وكل لی ملكا عن قبری فاذا صلی علی رجل من امتی قال لی ذلك الملك یا محمد ، صلی الله علیك وسلم ، ان فلان بن فلان یصلی علیك الساعة .
──────⊱◈◈◈⊰──────
امیر المؤمنین حضرت ابوبکر صدیق رضی الله عنه سے روایت ہےکہ رسول الله ﷺ نے ارشاد فرمایا :
مجھ پر درود بہت بھیجو کہ الله نے میرے مزار پر ایک فرشتہ متعین فرمایا ہے ۔ جب کوٸی میرا امتی مجھ پر درود بھیجتا ہے وہ مجھ سے عرض کرتا ہے : یارسول اللہ ! فلاں بن فلاں نے ابھی ابھی ، حضور پر درود بھیجی ہے ۔ ﷺ
──────⊱◈◈◈⊰──────

✍️ محمد ضیاءالدین خان قادری حنفی
بہرائچ شریف یوپی الهند
Forwarded from Deleted Account
حواله جات 👇

الجامع الترمذی ، باب الصلوة علی النبی ﷺ
١/ ٦٤

المسند لاحمد بن حنبل ، ٢ / ٢٦٨

المستدرک للحاکم ، ١ / ٥٥٠

التفسیر للبغوی ، ٥ / ٢٣٥

المصنف لعبدالرزاق ، ٣١١٥ ، ٢ / ٢١٥

مجمع الزواٸد للھیثمی ، ١٠ / ١٦٢

کنزالعمال للمتقی ، ٢١٦٦ ، ١ / ٤٩٢

المعجم الکبیر للطبرانی ، ٥ / ١٠٣

المعجم الصغیر للطبرانی ، ١ / ٢٠٩

اتحاف السادة للزبیدی ، ٣ / ٢٩٨

حلیة الاولیاء لابی نعیم ، ١ / ١٨٠


المستدرک للحاکم ، ٢ / ٥٥٨

المسند لاحمد بن حنبل ، ٥ / ١٣٢


المسند لاحمد بن حنبل ، ٦ / ١٦٤

المعجم الکبیر للطبرانی ، ٤ / ٣٥

مجمع الزواٸد للھیثمی ، ١٠ / ١٦٠


المعجم الکبیر للطبرانی ، ١٠ / ٢٢

فتح الباری للعسقلانی ، ١١ / ٢٢

الترغیب و الترھیب للمنذری ، ٢ / ٥٠٠

شرف صحابه الحدیث للخطیب ، ٦٣

جمع الجوامع للسیوطی ، ٦٣٣٩

التفسیر للبغوی ، ٥ / ٢٧١

المصنف لابن ابی شبیه ، ١١ / ١١٣

المغنی للعراقی ، ١ / ٣١١


السنن الکبری للھیثمی ، ٣ / ٢٤٩

التفسیر للطبری ، ٣ / ٨٤

المستدرک للحاکم ، ٢ / ٤٢١

المصنف لعبدالرزاق ٥٣٣٨ ، ٣ / ٢٠٥

الکامل لابن عدی ، ٣ / ٧٤

الترغیب والترھیب للمنذری ، ٢ / ٥٠٣

ارواء الغلیل للالبانی ، ١ / ٣٣

الدر المنثوم للسیوطی ، ٦ / ٣٣٢

عمل الیوم واللیلة لابن السنی ، ٣٧٣


الترغیب و الترھیب للمنذری ، ٢ / ٤٩٩

الجامع الصغیر للسیوطی ، ١ / ١٤٢

جمع الجوامع للسیوطی ، ٦٩٤٨


کنزالعمال للمتقی ، ٢١٨١ ، ١ / ٤٨٤

الترغیب و الترھیب للمنذری ، ٢ / ٤٩٩

السنن الکبری للھیثمی ، ٣ / ٢٤٩

مجمع الزواٸد للھیثمی ، ٢ / ١٤٤

جامع الاحادیث للامام احمد رضا علیه الرحمه ، رقم الصفحة ٦٥٥
──── ◉ ────

محمد ضیاءالدین خان قادری حنفی
بهرائچ شریف یوپی الهند
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Deleted Account
ایک مجرب و نافع دعا

حضرت عبداللّٰه بن عباس رضی اللّٰه عنه نے حضرت وہب رضی اللّٰه عنه سے پوچھا ،
اللّٰه تعالی نے کتنی کتابيں نازل فرمائیں ؟
انھوں نے جواب دیا ، ایک سو چار( ١٠٤ ) کتابيں !
پھر حضرت ابن عباس نے پوچھا ،
کیا ان میں سے کچھ اٹھاٸی بھی گٸ ہیں ؟
حضرت وہب نے جواب دیا ، ہاں ! ان میں سے بارہ کتابيں اٹھاٸی گٸ ہیں ۔
حضرت ابن عباس نے دریافت کیا ،
آپ نے ان میں سے کتنی کتابيں پڑھی ہیں ؟
جواب دیا ، بقیہ سبھی کتابيں !
پوچھا ، کیا آپ نے ان میں مصیبت کے وقت نفع دینے والی کوٸی دعا پاٸی ؟
کہا ، ہاں !
میں نے اس میں ایک ایسی دعا پاٸی ، جو ہر شخص کے لیۓ نافع ، کافی اور شافی ہے ، جو اسے سچی نیت کے ساتھ پڑھے ،

وہ دعا یہ ہے 👇

اللّٰهم یَا مَنۡ یَّمۡلِكُ حَوَائِجَ السَّائِلِیۡن

َ وَ یَعۡلَمُ ضَمَائِرَ الصَّامِتِیۡنَ فَاِنَّ لَكَ فِیۡ كُلِّ

مَسۡئَلَةٍ سَمۡعاً حَاضِراً وَ جَوَاباً عَتِیۡداً وَ اَنَّ

لَكَ بِكُلِّ صاَمِتٍ عِلۡماً مُحِیۡطاً مَوَاعِیۡدُكَ

الصَّادِقَةُ وَاَیَادِیۡكَ الۡفَاضِلَةُ وَ رَحۡمَتُكَ الۡوَاسِعَةُ ..ــــ..

اے الله ! اے پروردگار !
تو ساٸلوں کی ضروریات کا مالک ہے ۔
خاموش رہنے والوں کی دلی آرزوٶں سے واقف ہے ۔
تو ہر سوال سننے والا اور اسے پورا کرنے والا ہے ۔
ہر خاموش رہنے والے کو تیرا علم محیط ہے ۔
تیرے وعدے سچے ہیں ۔
تیری عنایتیں عالی اور تیری رحمتیں وسیع ہیں ۔


حضرت عبداللّٰه بن عباس رضی الله عنه کہتے ہیں ،
مجھے اس دعا کی افادیت کا علم خواب میں ہوا اور میں نے اس کا بارہا تجربہ کیا ،
میں اس سے اچھی کوٸی دعا نہیں جانتا ___

الۡقَلۡیُوۡبِیۡ
للشیخِ العَلَّامة احمد شَهاب الدِّین القلیوبی علیه الرحمة
رقم الصفحة ١٢٢

مُحمَّد ضِیاءُ الدِّین خَان قَادرِی حَنفِی
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
مبسملا وحامدا::ومصلیا ومسلما
درباری شاعر اور نقیب اجلاس کی کذب بیانی

بادشاہ افریقہ اور عالم اسلام کے مشہور مجاہد یوسف بن تاشقین(1009-1106)جب اندلسی مسلمانوں کی مدد کے لئے گئے تو 1086 میں مشہور عیسائی بادشاہ الفانسو سے زلاقہ میں جنگ ہوئی۔یوسف بن تاشقین کو فتح یابی نصیب ہوئی۔

الفانسو کے لشکر میں ساٹھ ہزار فوجی تھے اور خود الفانسو جنگ میں شریک تھا۔59,500 فوجی مارے گئے۔الفانسو بچ گیا,لیکن لنگڑا ہو گیا۔ساٹھ ہزار میں سے صرف پانچ سو فوجی زندہ بچ سکے۔

اس شکست کے سبب عیسائیوں کی ہمت ٹوٹ گئی اور یوسف بن تاشقین نے اندلس کی چھوٹی چھوٹی ریاستوں کو اپنی حکومت میں ضم کر لیا۔

زلاقہ میں عیسائیوں کو شکست فاش دینے کے بعد امیر یوسف بن تاشقین اشبیلیہ گئے۔ وہاں ایک رات کو اندلس کے شعرا اپنے قصائد لے کر حاضر خدمت ہوئے اور یوسف بن تاشقین کی مدح و ستائش میں رطب اللسان ہوئے۔یوسف بن تاشقین نے اسے ناپسند کیا اور کہا کہ مجھے تو ان کی باتیں سمجھ میں نہ آ سکیں۔ہاں اتنا معلوم ہوا کہ یہ لوگ روٹی کے محتاج ہیں۔ان کو انسانوں کی تعریف کے بجائے خدا کی تعریف کرنی چاہئے۔

یوسف بن تاشقین نے شاعروں کو نہ انعام دیا,نہ ہی ان کی تحسین کی,بلکہ اٹھ کر نماز کو چلے گئے۔

یہ واقعہ نسیم حجازی نے اپنی تصنیف"یوسف بن تاشقین"(ص388)میں لکھا ہے۔

درباری شاعروں کی طرح اب نقیب اجلاس بھی رائی کو پہاڑ اور کم علموں کو علامہ بنانے میں بہت جلد باز واقع ہوئے ہیں۔

جو پابند شریعت بھی نہیں,جلسوں کے نقیب ان کو ولی بنانے کا عظیم ملکہ رکھتے ہیں۔بس حقیقت و مجاز کا فرق ہے۔

پیراں نمی پرند:مریداں می پرانند

یہ بھی رواج ہو چکا ہے کہ کسی پیر یا عالم کی وفات ہو گئی تو اسے امام الواصلین اور امام العارفین بنادیا جاتا ہے۔وہ عارف باللہ تھے یا نہیں,واصل الی اللہ تھے یا نہیں۔کچھ پتہ نہیں۔

درباری شاعروں اور جلسہ کے نقیبوں کے بعد نفس انسانی کا نمبر آتا ہے۔لوگ خود اپنے ناموں کے ساتھ عظیم القاب لکھتے ہیں اور یہ ظاہر کرتے ہیں کہ تلامذہ یا معتقدین نے لکھ دیا ہے۔

درحقیقت ایسا کرنے والے خود کو عظیم انسان تصور بھی کرتے ہیں۔تواضع و انکساری غائب ہو چکی ہے اور غرور وگھمنڈ سر پر چڑھ کر بانگ لگا رہا ہے۔خالی صراحی سے آواز آتی ہے,جب کہ پھلدار درخت جھکا ہوتا ہے۔

دنیا بھر میں مسلمانوں کی تعداد تقریبا دو ارب ہے۔جامع ازہر مصر کے متعدد سنی اساتذہ اور عرب کے متعدد سنی علما خود کو مجتہد سمجھتے ہیں اور اپنے کو تقلید سے ماورا گردانتے ہیں۔کیا امت مسلمہ ان کو مجتہد مانتی ہے۔ہرگز نہیں۔ایسے دعووں پر لوگ کان ہی نہیں دھرتے۔

دسویں صدی ہجری کے مجدد امام جلال الدین سیوطی شافعی نے مجتہد فی المذہب ہونے کا دعوی کیا تھا۔شافعی فقہا نے چند سوالات بھیجے کہ آپ مجتہد ہیں تو ان سوالوں کو حل فرما دیں۔انہون نے سوال واپس فرما دیا اور معذرت خواہی کر کے مجتہد ہونے کا دعوی ترک کر دیا۔

عہد حاضر کا کوئی عالم امام جلال الدین سیوطی کے برابر بھی ہونا مشکل ہے,لیکن اجتہاد کا دعوی ضرور ہے۔اگر بڑی تعلیم گاہ کے بڑے اساتذہ مجتہد ہیں تو بڑی خانقاہوں کے پیروں کو غوث وقطب اور ابدال ہونا چاہئے۔

اتنا نہ بڑھا پاکی داماں کی حکایت
دامن کو ذرا دیکھ ذرا بند قبا دیکھ

ماہنامہ پیغام شریعت(دہلی)کے جو شمارے میری تصحیح سے شائع ہوتے ہیں۔میں نے کبھی اپنے نام کے ساتھ مولانا نہیں لکھا ہے۔ان شماروں کو دیکھ لیا جائے۔

دوسروں کو بھی میں مولانا لکھنے کی ترغیب نہیں دیتا,چہ جائے کہ عظیم القاب۔حضرت مولانا مفتی مظفر علی مدنی(فیصل آباد)نے ایک بار فرمایا کہ میں نے مضمون میں آپ کے نام کے ساتھ مولانا لکھ دیا ہے۔میں نے عرض کیا کہ "مصباحی"لکھ دینے سے لوگ سمجھ ہی جاتے ہیں کہ مولانا ہوں گے۔انہوں نے فرمایا کہ پڑوسی ملک میں سبھوں کو یہ معلوم نہیں۔

کیا ہم دینی خدمات اسی لئے انجام دیتے ہیں کہ ہم عظیم القاب سے ملقب کئے جائیں؟

اگر ایسا ہے,تب تو خدمات دینیہ کی قبولیت پر سوال اٹھے گا۔

پھر ایسی خدمات دینیہ میں برکات خداوندی کی امید بھی مشکل ہے۔خدام دین متین اپنے اعمال صالحہ وخدمات دینیہ کی قبولیت پر نظر رکھیں۔

بے نشانوں کا نشاں مٹتا نہیں
مٹتے مٹتے نام ہو ہی جائے گا

ہاں,اگر کوئی دوسرا کچھ القاب لکھ دے یا کہہ دے اور وہ حد جواز میں ہو تو اس کو ان کے حسن ظن پر محمول کر کے تعرض نہ کیا جائے,بشرطے کہ ہمارا نفس کبرونخوت میں مبتلا نہ ہو۔

اگر نفس کے کبروغرور میں مبتلا ہونے کا خوف ہو تو نفس کشی بہتر ہے۔نفس کشی کے بہت فوائد ہیں اور نفس کشی عملی تصوف کا بہت ہی اہم حصہ ہے۔

یوں تو عہد حاضر میں تصوف بھی علمی فن ہو کر رہ گیا۔خانقاہوں میں تصوف کے تذکرے تو ضرور ہیں,لیکن عملی تصوف چند ہی خانقاہوں میں ملے گا۔اب پیری مریدی بھی حالات زمانہ سے سخت متاثر ہو چکی ہے۔

طارق انور مصباحی

جاری کردہ:18:جنوری 2021

https://www.facebook.com/388280455075812/posts/849430132294173/