7- مولوی اسماعیل دہلوی کے پیر سید احمد بریلوی کا پوتا کہتا ہے :
میں نے خود ہی عرض کیا حضور میں سید احمد شہید کا پوتا ہوں یہ سن کر آپ (برکت علی) نے پہلی مرتبہ میری طرف دیکھا اور اٹھ کر مجھے گلے لگاتے ہوئے فرمایا یہ تمہارا اپنا گھر ہے جب چاہو آجایا کرو"
*(مون ڈائجسٹ صوفی نمبر جلد اول صفحہ 45)*
*صوفی برکت علی کی وصیت میں وہابیت کا رنگ :*
"باباجی (صوفی برکت علی) نے وصیت کی تھی کہ ان کا ختم سوئم اور چہلم نہ کیا جائے نہ تیجہ نہ دسواں نہ چالیسواں، میری قبر پر گنبد نہیں بنانا اور نہ ہی چادر چڑھانی ہے، تب ماسٹر شریف صاحب نے اپنے ساتھ آئے ہوئے مولوی صاحب سے کہا اب بتاؤ میں نہ کہتا تھا باباجی اہل حدیث تھے۔
*(مون ڈائجسٹ جلد 6 صفحہ 36 ، 65)*
*صوفی برکت علی کا خود ساختہ ، جاہلانہ خلافِ اسلام اصول :*
1- صوفی برکت علی کہتا ہے :
"جو شخص ایک بار کلمہ طیبہ پڑھ کر اسلام میں داخل ہوجائے، اسے ہم اس وقت تک کافر نہیں کہہ سکتے جب تک وہ اس کلمہ کا منکر نہ ہو".
*(مون ڈائجسٹ لاہور، صوفی برکت علی نمبر جلد اول صفحہ 9)*
2- ایک اور جگہ پر لکھتا ہے :
"ہم نے کسی کافر کو تو کیا مسلمان بنانا تھا، مسلمانوں کو کافر بنا بنا کر رول رہے ہیں۔ جس کلمہ طیب کو پڑھ کر کافر مومن ہوتا ہے جب تک اس کلمہ کا منکر نہیں ہوتا کافر نہیں ہوتا۔
*(مقالات حکمت جلد اول صفحہ 250)*
یہ اصول صوفی برکت علی کا خود ساختہ اور من گھڑت ہے، اگر صرف کلمہ پڑھنا ہی مسلمان ہونے کیلیے کافی ہے، تو سیدِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور کے منافقین ، قادیانی ، پرویزی اور گوہرشاہی وغیرہ بھی مسلمان ہوں گے کیونکہ یہ سارے کلمہ گو ہیں اور کلمہ کا انکار کرنا ان سے ثابت نہیں ۔
*اکابر علماء کی صوفی برکت علی کے متعلق آراء :*
1- شیخ الحدیث حضرت علامہ مولانا مفتی عبدالقیوم ہزاروی رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں :
مذکورا بالا مضمون کا قائل (صوفی برکت علی) کھلا گمراہ اور جاہل ہے اہل سنت مسلمانوں اور وہابی دیوبندیوں کو ایک ہی صف میں کھڑا کرتا ہے حالانکہ دیوبندیوں کے امام مولوی اشرف علی تھانوی ، رشید احمد گنگوہی ، قاسم نانوتوی، خلیل احمد، اسماعیل دہلوی کے نظریات سے ان کی کتب بھری پڑی ہیں، ان پر علمائے عرب و عجم نے فتوی کفر دیا ہے، اگر کلمہ پڑھنا ہی مسلمان ہونے کے لئے کافی ہے تو زمانہ رسالت کے منافقین بھی اس شخص کے نزدیک تمام مسلمانوں کے مساوی ہیں اور یوں ہی موجودہ دور کی مرزائی بھی اس شخص کے نزدیک مسلمان ہوں گے کیونکہ اس شخص کے نزدیک "جو شخص ایک بار کلمہ پڑھ کر اسلام میں داخل ہوجائے اسے ہم اس وقت تک کافر نہیں کہہ سکتے جب تک وہ اس کلمہ کا منکر نہ ہو". جبکہ منافقین اور مرزائیوں کا کلمہ سے انکار، آج تک کہیں ثابت نہیں بلکہ وہ بدستور کلمہ گو ہیں، اگر یہ شخص منافقین اور مرزائیوں کو مسلمان جانتا ہے جیسا کہ اس کی تحریر سے معلوم ہے تو یہ شخص اپنی مذکورہ ضابطہ کے تحت ان کو مسلمان کہنے پر خود کافر ہے اور اگر وہ ان مرزائیوں کو کافر جانتا ہے تو واضح ہو گیا کہ اس کا ضابطہ اور یہ سارا مضمون جھوٹ اور کھلی گمراہی ہے۔
*(خطرہ کی لال جھنڈی صفحہ 35 رضائے مصطفی گوجرانوالہ)*
2- حضرت علامہ مولانا مفتی محمد امین صاحب فیصل آبادی رحمۃ اللہ علیہ نے صوفی برکت علی کے متعلق فرمایا :
"صوفی برکت علی سنی نہ تھے بلکہ وہ اہلسنت کے مخالف نظریات کے حامل تھے"
*(خطرہ کی لال جھنڈی صفحہ 34 مکتبہ رضائے مصطفی گوجرانوالہ)*
*نوٹ :*
مزید تفصیل کیلیے اور دیگر اکابر علماء کرام کے صوفی برکت علی لدھیانوی کے متعلق فتاوی جاننے کیلیے علامہ محمد کاشف اقبال مدنی صاحب کی کتاب *"خطرہ کی لال جھنڈی"* کا مطالعہ فرمائیں۔
نیز اس فتویٰ کا مواد بھی اسی کتاب سے لیا گیا ہے ۔
واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
کتبہ
*ابواسیدعبیدرضامدنی*
03068209672
29/10/2019
*تصدیق و تصحیح :*
1- الجواب صحيح والمجيب نجيح
*فقط محمد عطاء اللہ النعیمی خادم الحدیث والافتاء بجامعۃالنور جمعیت اشاعت اہلسنت (پاکستان) کراچی*
2- آپ نے جو صوفی برکت علی لدھیانوی کے متعلق فتویٰ لکھا ہے، میں اس کی تائید و تصویب کرتا ہوں ،بالکل درست ہے۔
*ابوالحسنین مفتی محمد عارف محمود خان معطر القادری مرکزی دارلافتاء اہلسنت محلہ نور پورہ میانوالی سٹی*
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2914115122201129&id=100008080090753
میں نے خود ہی عرض کیا حضور میں سید احمد شہید کا پوتا ہوں یہ سن کر آپ (برکت علی) نے پہلی مرتبہ میری طرف دیکھا اور اٹھ کر مجھے گلے لگاتے ہوئے فرمایا یہ تمہارا اپنا گھر ہے جب چاہو آجایا کرو"
*(مون ڈائجسٹ صوفی نمبر جلد اول صفحہ 45)*
*صوفی برکت علی کی وصیت میں وہابیت کا رنگ :*
"باباجی (صوفی برکت علی) نے وصیت کی تھی کہ ان کا ختم سوئم اور چہلم نہ کیا جائے نہ تیجہ نہ دسواں نہ چالیسواں، میری قبر پر گنبد نہیں بنانا اور نہ ہی چادر چڑھانی ہے، تب ماسٹر شریف صاحب نے اپنے ساتھ آئے ہوئے مولوی صاحب سے کہا اب بتاؤ میں نہ کہتا تھا باباجی اہل حدیث تھے۔
*(مون ڈائجسٹ جلد 6 صفحہ 36 ، 65)*
*صوفی برکت علی کا خود ساختہ ، جاہلانہ خلافِ اسلام اصول :*
1- صوفی برکت علی کہتا ہے :
"جو شخص ایک بار کلمہ طیبہ پڑھ کر اسلام میں داخل ہوجائے، اسے ہم اس وقت تک کافر نہیں کہہ سکتے جب تک وہ اس کلمہ کا منکر نہ ہو".
*(مون ڈائجسٹ لاہور، صوفی برکت علی نمبر جلد اول صفحہ 9)*
2- ایک اور جگہ پر لکھتا ہے :
"ہم نے کسی کافر کو تو کیا مسلمان بنانا تھا، مسلمانوں کو کافر بنا بنا کر رول رہے ہیں۔ جس کلمہ طیب کو پڑھ کر کافر مومن ہوتا ہے جب تک اس کلمہ کا منکر نہیں ہوتا کافر نہیں ہوتا۔
*(مقالات حکمت جلد اول صفحہ 250)*
یہ اصول صوفی برکت علی کا خود ساختہ اور من گھڑت ہے، اگر صرف کلمہ پڑھنا ہی مسلمان ہونے کیلیے کافی ہے، تو سیدِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور کے منافقین ، قادیانی ، پرویزی اور گوہرشاہی وغیرہ بھی مسلمان ہوں گے کیونکہ یہ سارے کلمہ گو ہیں اور کلمہ کا انکار کرنا ان سے ثابت نہیں ۔
*اکابر علماء کی صوفی برکت علی کے متعلق آراء :*
1- شیخ الحدیث حضرت علامہ مولانا مفتی عبدالقیوم ہزاروی رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں :
مذکورا بالا مضمون کا قائل (صوفی برکت علی) کھلا گمراہ اور جاہل ہے اہل سنت مسلمانوں اور وہابی دیوبندیوں کو ایک ہی صف میں کھڑا کرتا ہے حالانکہ دیوبندیوں کے امام مولوی اشرف علی تھانوی ، رشید احمد گنگوہی ، قاسم نانوتوی، خلیل احمد، اسماعیل دہلوی کے نظریات سے ان کی کتب بھری پڑی ہیں، ان پر علمائے عرب و عجم نے فتوی کفر دیا ہے، اگر کلمہ پڑھنا ہی مسلمان ہونے کے لئے کافی ہے تو زمانہ رسالت کے منافقین بھی اس شخص کے نزدیک تمام مسلمانوں کے مساوی ہیں اور یوں ہی موجودہ دور کی مرزائی بھی اس شخص کے نزدیک مسلمان ہوں گے کیونکہ اس شخص کے نزدیک "جو شخص ایک بار کلمہ پڑھ کر اسلام میں داخل ہوجائے اسے ہم اس وقت تک کافر نہیں کہہ سکتے جب تک وہ اس کلمہ کا منکر نہ ہو". جبکہ منافقین اور مرزائیوں کا کلمہ سے انکار، آج تک کہیں ثابت نہیں بلکہ وہ بدستور کلمہ گو ہیں، اگر یہ شخص منافقین اور مرزائیوں کو مسلمان جانتا ہے جیسا کہ اس کی تحریر سے معلوم ہے تو یہ شخص اپنی مذکورہ ضابطہ کے تحت ان کو مسلمان کہنے پر خود کافر ہے اور اگر وہ ان مرزائیوں کو کافر جانتا ہے تو واضح ہو گیا کہ اس کا ضابطہ اور یہ سارا مضمون جھوٹ اور کھلی گمراہی ہے۔
*(خطرہ کی لال جھنڈی صفحہ 35 رضائے مصطفی گوجرانوالہ)*
2- حضرت علامہ مولانا مفتی محمد امین صاحب فیصل آبادی رحمۃ اللہ علیہ نے صوفی برکت علی کے متعلق فرمایا :
"صوفی برکت علی سنی نہ تھے بلکہ وہ اہلسنت کے مخالف نظریات کے حامل تھے"
*(خطرہ کی لال جھنڈی صفحہ 34 مکتبہ رضائے مصطفی گوجرانوالہ)*
*نوٹ :*
مزید تفصیل کیلیے اور دیگر اکابر علماء کرام کے صوفی برکت علی لدھیانوی کے متعلق فتاوی جاننے کیلیے علامہ محمد کاشف اقبال مدنی صاحب کی کتاب *"خطرہ کی لال جھنڈی"* کا مطالعہ فرمائیں۔
نیز اس فتویٰ کا مواد بھی اسی کتاب سے لیا گیا ہے ۔
واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
کتبہ
*ابواسیدعبیدرضامدنی*
03068209672
29/10/2019
*تصدیق و تصحیح :*
1- الجواب صحيح والمجيب نجيح
*فقط محمد عطاء اللہ النعیمی خادم الحدیث والافتاء بجامعۃالنور جمعیت اشاعت اہلسنت (پاکستان) کراچی*
2- آپ نے جو صوفی برکت علی لدھیانوی کے متعلق فتویٰ لکھا ہے، میں اس کی تائید و تصویب کرتا ہوں ،بالکل درست ہے۔
*ابوالحسنین مفتی محمد عارف محمود خان معطر القادری مرکزی دارلافتاء اہلسنت محلہ نور پورہ میانوالی سٹی*
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2914115122201129&id=100008080090753
Facebook
Log in to Facebook
Log in to Facebook to start sharing and connecting with your friends, family and people you know.
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
#غلطیاں_جمع_کروں_گا "
محدث ابوزرعہ الرازی رحمہ اللّٰہ کہتے ہیں۔۔
میں رات سونے کے لیے لیٹا تو بالکل ٹھیک ٹھاک تھا۔۔ دل میں خیال آیا کہ صبح اٹھوں گا تو امام سفیان ثوری رحمہ اللّٰہ کی غلطیاں جمع کروں گا۔ صبح اٹھا اور نماز کے لیے مسجد گیا تو راستے میں ایک عجیب واقعہ ہوا۔ ہمارے راستے پر ایک کتا ہوتا تھا جو مجھے دیکھ کر کبھی نہیں بھونکا تھا اور نہ میں نے اسے کسی اور پر لپکتے دیکھا تھا لیکن اس دن وہ مجھ پر جھپٹا اور مجھے کاٹ لیا جس سے مجھے بخار ہو گیا۔ میرے دل نے کہا کہ یہ اس غلط ارادے کی سزا ہے چناں چہ میں نے اس کام کا خیال دل سے نکال دیا۔۔
قال أبو زرعة الرازي رحمه الله
*۔۔بت وأنا في عافية فوقع في نفسي إذا أصبحت أن أجمع أخطاء الثوري فلما أصبحت خرجت إلى الصلاة۔ وفي دربنا كلب مانبحني قط ولا رأيته عدا على أحد فعدا علي وعقرني۔ وحممت، فوقع في نفسي أن هذا عقوبة۔ فأضربت عن ذلك۔۔*
[تاريخ بغداد للخطیب ١٤/ ٢٧٢]
حافظ قاسم رضا
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2914891575456817&id=100008080090753
اللہ پاک بزرگوں کے باب میں زبان کی لغزشوں اور تحریر کی آفتوں سے ہمیشہ اپنی پناہ میں رکھے آمین
محدث ابوزرعہ الرازی رحمہ اللّٰہ کہتے ہیں۔۔
میں رات سونے کے لیے لیٹا تو بالکل ٹھیک ٹھاک تھا۔۔ دل میں خیال آیا کہ صبح اٹھوں گا تو امام سفیان ثوری رحمہ اللّٰہ کی غلطیاں جمع کروں گا۔ صبح اٹھا اور نماز کے لیے مسجد گیا تو راستے میں ایک عجیب واقعہ ہوا۔ ہمارے راستے پر ایک کتا ہوتا تھا جو مجھے دیکھ کر کبھی نہیں بھونکا تھا اور نہ میں نے اسے کسی اور پر لپکتے دیکھا تھا لیکن اس دن وہ مجھ پر جھپٹا اور مجھے کاٹ لیا جس سے مجھے بخار ہو گیا۔ میرے دل نے کہا کہ یہ اس غلط ارادے کی سزا ہے چناں چہ میں نے اس کام کا خیال دل سے نکال دیا۔۔
قال أبو زرعة الرازي رحمه الله
*۔۔بت وأنا في عافية فوقع في نفسي إذا أصبحت أن أجمع أخطاء الثوري فلما أصبحت خرجت إلى الصلاة۔ وفي دربنا كلب مانبحني قط ولا رأيته عدا على أحد فعدا علي وعقرني۔ وحممت، فوقع في نفسي أن هذا عقوبة۔ فأضربت عن ذلك۔۔*
[تاريخ بغداد للخطیب ١٤/ ٢٧٢]
حافظ قاسم رضا
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2914891575456817&id=100008080090753
اللہ پاک بزرگوں کے باب میں زبان کی لغزشوں اور تحریر کی آفتوں سے ہمیشہ اپنی پناہ میں رکھے آمین
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
سُنانے والے مدینے کی داستانِ حیات
تجھے قسم ہے کہ اِس کو دراز رہنے دے
مرے مرض کا مُداوا تو ذِکر ہے اُن کا
علاج اپنا تُو اے چارہ ساز ، رہنے دے
اِسی سے ہوتی ہے جانِ حزیں کو کچھ تسکیں
الہٰی قلب میں دردِ حجاز رہنے دے
دلِ ریاض کو روزِ حساب تک یارب !
رسولِ پاک کے غم میں گُداز رہنے دے
( سید ریاض الدین سہروردی )
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3066759700270865&id=100008105947430
تجھے قسم ہے کہ اِس کو دراز رہنے دے
مرے مرض کا مُداوا تو ذِکر ہے اُن کا
علاج اپنا تُو اے چارہ ساز ، رہنے دے
اِسی سے ہوتی ہے جانِ حزیں کو کچھ تسکیں
الہٰی قلب میں دردِ حجاز رہنے دے
دلِ ریاض کو روزِ حساب تک یارب !
رسولِ پاک کے غم میں گُداز رہنے دے
( سید ریاض الدین سہروردی )
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3066759700270865&id=100008105947430
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
ہمارے آقا و مولا صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، رسولِ پاک ﷺ کے پہلے صحابی بھی ہیں ، اور ظاہری و باطنی ، سیاسی و روحانی طور پر پہلے خلیفہ بھی ۔
اقبال نے بڑا خوب صورت مصرع کہا ہے ، کہ ؏
آں کَلِیمِ اَوَّل سِینائے ما
( مطلب: طور سینا پہاڑ پر بھی جلوۂ ربانی ظاہر ہوا اور ہمارےآقا و مولا ﷺ بھی جلوۂ خداوندی کے مظہر رہے ۔
طُورِ سینا پر تو جلوہ دیکھنے سیدنا موسی کلیم اللہ گئے تھے ، لیکن اے آقا صدیق ! حبیب پاک ﷺ پر جلوۂ ربانی آپ نے دیکھا ۔
سیدنا کلیم اللہ طور سینا پر جلوہ دیکھنے والے پہلے تھے ، اور آپ بھی مانندِ کلیم میرے طور سینا ﷺ کو دیکھنے والے پہلے ہیں )
✍️لقمان شاہد
16-1-2012 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3066905166922985&id=100008105947430
اقبال نے بڑا خوب صورت مصرع کہا ہے ، کہ ؏
آں کَلِیمِ اَوَّل سِینائے ما
( مطلب: طور سینا پہاڑ پر بھی جلوۂ ربانی ظاہر ہوا اور ہمارےآقا و مولا ﷺ بھی جلوۂ خداوندی کے مظہر رہے ۔
طُورِ سینا پر تو جلوہ دیکھنے سیدنا موسی کلیم اللہ گئے تھے ، لیکن اے آقا صدیق ! حبیب پاک ﷺ پر جلوۂ ربانی آپ نے دیکھا ۔
سیدنا کلیم اللہ طور سینا پر جلوہ دیکھنے والے پہلے تھے ، اور آپ بھی مانندِ کلیم میرے طور سینا ﷺ کو دیکھنے والے پہلے ہیں )
✍️لقمان شاہد
16-1-2012 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3066905166922985&id=100008105947430
Facebook
Log in to Facebook
Log in to Facebook to start sharing and connecting with your friends, family and people you know.
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
کافی دنوں سے ایک سوال ذہن میں گردش کررہا تھا ، سوچا " شیوخِ فیس بک " سے پوچھ لوں ۔۔۔۔۔۔۔ ان سے بڑھ کر اس لفظ سے کون واقف ہوگا ۔
سوال یہ ہے کہ:
استاذالعلما کسے کہنا چاہیے ؟
کیا طلبہ کو پڑھانے والی ہر ہستی اس لقب کی اہل ہوتی ہے ؟
وہ طلبہ جنھیں پڑھانے والی ذات گرامی کو یہ لقب دیا جاتا ہے ، انھی طلبہ کو اگر ماسٹر حیات صاحب سائنس اور ریاضی پڑھاتے ہوں تو کیا وہ بھی استاذالعلما ہی کہلائیں گے ؟
اس کا درست جواب ارشاد فرمادیں ، تاکہ:
مصنف کتب کثیرہ ، عالم بے بدل ، فاضل اجل ، مقرر شعلہ بیاں ، وغیرہ پر بھی کچھ سوالات کیجسارت کی جائے ۔
✍️لقمان شاہد 16-1-2021
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3067008303579338&id=100008105947430
سوال یہ ہے کہ:
استاذالعلما کسے کہنا چاہیے ؟
کیا طلبہ کو پڑھانے والی ہر ہستی اس لقب کی اہل ہوتی ہے ؟
وہ طلبہ جنھیں پڑھانے والی ذات گرامی کو یہ لقب دیا جاتا ہے ، انھی طلبہ کو اگر ماسٹر حیات صاحب سائنس اور ریاضی پڑھاتے ہوں تو کیا وہ بھی استاذالعلما ہی کہلائیں گے ؟
اس کا درست جواب ارشاد فرمادیں ، تاکہ:
مصنف کتب کثیرہ ، عالم بے بدل ، فاضل اجل ، مقرر شعلہ بیاں ، وغیرہ پر بھی کچھ سوالات کیجسارت کی جائے ۔
✍️لقمان شاہد 16-1-2021
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3067008303579338&id=100008105947430
Facebook
Log in to Facebook
Log in to Facebook to start sharing and connecting with your friends, family and people you know.
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
مسلمانوں کے متفقہ عقیدے کے مطابق:
انبیا و مرسلین کے بعد جو ہستی سب سے افضل ہے ، وہ سیدنا و مولانا ابوبکر صدیق کی ذات پاک ہے ۔
آپ رضی اللہ عنہ کی " افضلیت کلی " کو صرف مولا علی پاک سے روایت کرنے والوں کی تعداد ، ایک سو بیس ہے ۔
آپ کی افضلیت کا عقیدہ اتنا ضروری ہے کہ:
مولا علی پاک رضی اللہ عنہ نے آپ کی افضلیت کے منکر کو اسی کوڑوں کا سزاوار قرار دیا ہے ۔
آپ کی افضلیت پر بہت ساری کتابیں لکھی گئی ہیں ، لیکن ان سب میں علامہ ہاشم ٹھٹھوی رحمہ اللہ کی " الطریقۃ المحمدیہ " خاص اہمیت کیحامل ہے ۔
اس میں کیا کیا خوبیاں ہیں ؟ یہ آپ کو کتاب پڑھنے کے بعد ہی معلوم ہوسکتی ہیں !
خدا توفیق دے تو اس ماہِ مبارک میں یہ کتاب پڑھ لیجیے ، انشاءاللہ بہت نفع ہوگا ۔
یہ کتاب مخطوطے کی صورت میں تھی جس کا اردو ترجمہ بہت ہی پیارے دوست حضرت علامہ مولانا Shahbaz Ahmad ابن یوسف مدنی زیدت معالیھم نے کیا ہے ، اور کمال یہ ہے کہ مختصر وقت میں کیا ہے ؛ حالاں کہ عام طور پر تو مخطوط پڑھتے ہی کافی وقت لگ جاتا ہے ۔
آپ ایک مخلص ، محنتی ، اور منکسر المزاج عالم دین ہیں ؛ رب تعالیٰ آپ کے علم و عمل میں مزید برکت فرمائے ۔
آپ کی خدمت عالیہ میں عرض ہے کہ " الطریقۃ المحمدیہ " کے عربی متن پر بھی تصحیح و تخریج کا کام کردیں ۔
انشاءاللہ جب یہ کام کوئی علمی ذوق رکھنے والا ناشر شایان شان طریقے سے شائع کرے گا تو ایک علمی دنیا مستفید ہوگی ۔
✍️لقمان شاہد
16-1-2021 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3067175743562594&id=100008105947430
انبیا و مرسلین کے بعد جو ہستی سب سے افضل ہے ، وہ سیدنا و مولانا ابوبکر صدیق کی ذات پاک ہے ۔
آپ رضی اللہ عنہ کی " افضلیت کلی " کو صرف مولا علی پاک سے روایت کرنے والوں کی تعداد ، ایک سو بیس ہے ۔
آپ کی افضلیت کا عقیدہ اتنا ضروری ہے کہ:
مولا علی پاک رضی اللہ عنہ نے آپ کی افضلیت کے منکر کو اسی کوڑوں کا سزاوار قرار دیا ہے ۔
آپ کی افضلیت پر بہت ساری کتابیں لکھی گئی ہیں ، لیکن ان سب میں علامہ ہاشم ٹھٹھوی رحمہ اللہ کی " الطریقۃ المحمدیہ " خاص اہمیت کیحامل ہے ۔
اس میں کیا کیا خوبیاں ہیں ؟ یہ آپ کو کتاب پڑھنے کے بعد ہی معلوم ہوسکتی ہیں !
خدا توفیق دے تو اس ماہِ مبارک میں یہ کتاب پڑھ لیجیے ، انشاءاللہ بہت نفع ہوگا ۔
یہ کتاب مخطوطے کی صورت میں تھی جس کا اردو ترجمہ بہت ہی پیارے دوست حضرت علامہ مولانا Shahbaz Ahmad ابن یوسف مدنی زیدت معالیھم نے کیا ہے ، اور کمال یہ ہے کہ مختصر وقت میں کیا ہے ؛ حالاں کہ عام طور پر تو مخطوط پڑھتے ہی کافی وقت لگ جاتا ہے ۔
آپ ایک مخلص ، محنتی ، اور منکسر المزاج عالم دین ہیں ؛ رب تعالیٰ آپ کے علم و عمل میں مزید برکت فرمائے ۔
آپ کی خدمت عالیہ میں عرض ہے کہ " الطریقۃ المحمدیہ " کے عربی متن پر بھی تصحیح و تخریج کا کام کردیں ۔
انشاءاللہ جب یہ کام کوئی علمی ذوق رکھنے والا ناشر شایان شان طریقے سے شائع کرے گا تو ایک علمی دنیا مستفید ہوگی ۔
✍️لقمان شاہد
16-1-2021 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3067175743562594&id=100008105947430
Facebook
Log in to Facebook
Log in to Facebook to start sharing and connecting with your friends, family and people you know.
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
" بریک اپ " ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کہنے کو تو ایک لفظ ہے ، لیکن اپنے اندر دنیا جہان کا درد لیے ہوئے ہے ۔
اور اس درد کو صرف وہی سمجھ سکتا ہے جو اس کیفیت سے گُزرا ہو ۔
بریک اپ کے بعد سنبھلنا مشکل ضرور ہے ، لیکن ناممکن نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ !
جیسے ہی بریک اپ ہو ، اپنی ساری توجہ نیک اعمال اور دعا کی طرف کرلیں ۔۔۔۔۔۔۔ اِس کی برکت سے آپ کی سوئی ہوئی عقل بیدار ہوجائے گی ۔
اور جب آپ دل کے ساتھ ۔۔۔۔۔ دماغ کو بھی استعمال کرنا شروع کردیں گے تو انشاءاللہ بہت جلد سنبھل جائیں گے ۔
✍️لقمان شاہد
17-1-2021 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3067788720167963&id=100008105947430
اور اس درد کو صرف وہی سمجھ سکتا ہے جو اس کیفیت سے گُزرا ہو ۔
بریک اپ کے بعد سنبھلنا مشکل ضرور ہے ، لیکن ناممکن نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ !
جیسے ہی بریک اپ ہو ، اپنی ساری توجہ نیک اعمال اور دعا کی طرف کرلیں ۔۔۔۔۔۔۔ اِس کی برکت سے آپ کی سوئی ہوئی عقل بیدار ہوجائے گی ۔
اور جب آپ دل کے ساتھ ۔۔۔۔۔ دماغ کو بھی استعمال کرنا شروع کردیں گے تو انشاءاللہ بہت جلد سنبھل جائیں گے ۔
✍️لقمان شاہد
17-1-2021 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3067788720167963&id=100008105947430
Facebook
Log in or sign up to view
See posts, photos and more on Facebook.
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
* فقہی قاعدہ اور عقیدہ آخرت *
الحمدللہ ہمیشہ کی طرح ایک بار پھر دوستوں کی جانب سے تحفہ ملا اور اس دفعہ کا تحفہ میری من پسند کتاب " تفسیرات احمدیہ" ہے اللہ تعالی میرے دوستوں کے علم وعمل میں برکتیں عطا فرمائے۔
تفسیرات احمدیہ کا اسلوب کیا ہے اس پر انشاءاللہ پھر پوسٹ کرنے کی کشش کروں گا اب اپنےپیارے دوستوں کی دلجوئی کیلیے ایک بات پیش کروں گا
( تاکہ انکو یہ معلوم ہو کہ ان کا تحفہ شاپر کی زینت نہیں بلکہ زیر مطالعہ ہے الحمدللہ)
ایک مشہور قائدہ جس کو فقہ میں بڑی مقبولیت حاصل ہے
"الاصل فی الاشیاء اباحۃ" کا مأخذ کیا ہے۔۔۔؟؟؟
حاوی الفروع ولاصول الشیخ ملا جیون الجونفوری
اللہ تعالی کے اس فرمان،
"ھوالذی خلق لکم ما فی الارض جمیعا"
سے استدلال کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
"فیمکن ان یستدل بہا علی ان الاصل فی الشیاء اباحۃ"
اہم نکتہ:
ملا جیون رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ"لکم" میں لام انتفاع کا ہے ( لکم ای لاجلکم) یعنی زمین میں جو کچھ پیدا کیا وہ تمہاری وجہ سے ہے۔
حاشیہ:
حاشیہ میں بڑی پیاری بات کی گئی کہ لام انتفاع کا ہو تو دو فائدے حاصل ہونگے
1دینی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔2 دنیاوی
دنیاوی فائدہ تو "لکم" سے ظاہر ہے اور دینی فائدہ یہ ہے کہ جب ہم اشیاء کی صنعت میں غوروفکر کریں گے تو اشیاء کا مختلف و عجیب و غریب ہونا ہمیں اس بات کی طرف دعوت دے گا کہ اس کا بنانے والاقادر و حکیم ہے اور اگر ایک اور زاویہ سے سوچا جائے کہ بعض اشیاء میٹھی اور بعض کڑوی ہیں تو اس اختلاف سے ہمارا آخرت میں موجود ثواب و عذاب اور جنت و جہنم کے حق ہونے کی طرف راستہ کھلتا ہے یعنی " اشیاء زمینی کے اختلاف سے حالات اخروی پر دلیل بنا کر اس آیت سے دینی فائدہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔
ازقلم: یادیارم
18-1-2020
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2915514208727887&id=100008080090753
الحمدللہ ہمیشہ کی طرح ایک بار پھر دوستوں کی جانب سے تحفہ ملا اور اس دفعہ کا تحفہ میری من پسند کتاب " تفسیرات احمدیہ" ہے اللہ تعالی میرے دوستوں کے علم وعمل میں برکتیں عطا فرمائے۔
تفسیرات احمدیہ کا اسلوب کیا ہے اس پر انشاءاللہ پھر پوسٹ کرنے کی کشش کروں گا اب اپنےپیارے دوستوں کی دلجوئی کیلیے ایک بات پیش کروں گا
( تاکہ انکو یہ معلوم ہو کہ ان کا تحفہ شاپر کی زینت نہیں بلکہ زیر مطالعہ ہے الحمدللہ)
ایک مشہور قائدہ جس کو فقہ میں بڑی مقبولیت حاصل ہے
"الاصل فی الاشیاء اباحۃ" کا مأخذ کیا ہے۔۔۔؟؟؟
حاوی الفروع ولاصول الشیخ ملا جیون الجونفوری
اللہ تعالی کے اس فرمان،
"ھوالذی خلق لکم ما فی الارض جمیعا"
سے استدلال کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
"فیمکن ان یستدل بہا علی ان الاصل فی الشیاء اباحۃ"
اہم نکتہ:
ملا جیون رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ"لکم" میں لام انتفاع کا ہے ( لکم ای لاجلکم) یعنی زمین میں جو کچھ پیدا کیا وہ تمہاری وجہ سے ہے۔
حاشیہ:
حاشیہ میں بڑی پیاری بات کی گئی کہ لام انتفاع کا ہو تو دو فائدے حاصل ہونگے
1دینی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔2 دنیاوی
دنیاوی فائدہ تو "لکم" سے ظاہر ہے اور دینی فائدہ یہ ہے کہ جب ہم اشیاء کی صنعت میں غوروفکر کریں گے تو اشیاء کا مختلف و عجیب و غریب ہونا ہمیں اس بات کی طرف دعوت دے گا کہ اس کا بنانے والاقادر و حکیم ہے اور اگر ایک اور زاویہ سے سوچا جائے کہ بعض اشیاء میٹھی اور بعض کڑوی ہیں تو اس اختلاف سے ہمارا آخرت میں موجود ثواب و عذاب اور جنت و جہنم کے حق ہونے کی طرف راستہ کھلتا ہے یعنی " اشیاء زمینی کے اختلاف سے حالات اخروی پر دلیل بنا کر اس آیت سے دینی فائدہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔
ازقلم: یادیارم
18-1-2020
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2915514208727887&id=100008080090753
Facebook
Log in to Facebook
Log in to Facebook to start sharing and connecting with your friends, family and people you know.