🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.83K subscribers
69.7K photos
228 videos
257 files
8.84K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
لیا۔
چنانچہ ہیکل کی(دوسری) تعمیر 537 ق م میں شروع ہوئی۔لیکن تعمیر کا کام سر انجام دینے والوں کو اپنے ہم وطن دشمنوں کی اتنی زیادہ مخالفت کا سامنا کرنا پڑا کہ تعمیراتی کام جلد ہی عملی طور پر بند ہو گیااور دارا (Darius) اوّل کے دورِ حکومت تک مداخلت ہی کا شکار رہا۔ اُس کی حکمرانی کے دوسرے سال میں حضرت زکریا علیہ السلام نے وہاں کے گورنر زروبابل اور سردار کاہن یوشواہ (یوشع) کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ ہیکل کی تعمیر ثانی کی دوبارہ کوشش کریں۔ انھوں نے مثبت ردِ عمل کا اظہار کیااور پوری قوم کی پر جوش تائیداور ایرانی حکام اور بذات خودبادشاہ کی اشیرباد سے ہیکلِ ثانی اپنی اضافی تعمیرات سمیت ساڑھے چار سال کے عرصے میں 520۔ 515 ق م پایۂ تکمیل کو پہنچا۔

لیکن اس بار اس میں تابوت سکینہ نہیں مل سکا ۔ اس کے بارے آج تک معلوم نہیں ھوسکا کہ بخت نصر نے اس کا کیا کیا۔ کچھ لوگوں کا کہنا ھے کہ اس مقدس صندوق کی مزید توھین سے بچانے کے لئے اسے اللہ پاک کے حکم سے کسی محفوظ مقام پر معجزانہ طور پر چھپا دیا گیا جس کا کسی انسان کو علم نہیں۔لیکن یہودی اس کی تلاش میں پورے کرہ ارض کو کھود ڈالنا چاھتے ھیں۔
ایک اور دلچسپ بات عام طور پر تاریخ دان ہیکل کی دو دفعہ تعمیر اور دو دفعہ تباھی کا ذکر کرتے ھیں۔ تاریخ کے مطالعے سے ایک بات میرے سامنے آئی کہ ایسا نہیں ، اس ہیکل کو تین بار تعمیر کیا گیا لیکن اس کے ساتھ بھی ایک دلچسپ کہانی وجود میں آئی۔ ھیروڈس بادشاہ جو کہ حضرت عیسی علیہ السلام کی پیدائش سے چند سال پہلے کا بادشاہ ہے اس نے جب اس کی بہتر طریقے سے تعمیر کی نیت کی تو یہودیوں کے دل میں ایک خوف پیدا ھوا کہ اگر اسے نئے سرے سے تعمیر کے لئے گرایا گیا تو دوبارہ تعمیر نہیں ھوگا۔ ھیروڈس نے ان کو بہلانے کے لئے کہا کہ وہ صرف اس کی مرمت کرانا چاھتا ھے اسے گرانا نہیں چاھتا۔ چنانچہ سن 19 ق م میں اس نے ہیکل کے ایک طرف کے حصے کو گرا کر اسے تبدیلی کے ساتھ اور کچھ وسیع کرکے تعمیر کروایا یہ طریقہ کامیاب رھا اور یوں یہودیوں کی عبادت میں خلل ڈالے بغیر تھوڑا تھوڑا کرکے ہیکل گرایا جاتا اور اس کی جگہ نیا اور پہلے سے مختلف ہیکل وجود میں آتا رھا۔ یہ کام اٹھارہ ماہ میں مکمل ھوا اور یوں تیسری بار ھیروڈس کے ذریعے ایک نیا ہیکل وجود میں آ گیا۔ کچھ عرصہ بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ظہور ھوا، اللہ کے اس رسول پر ایک بار پھر یہودیوں نے حسب معمول مظالم کے پہاڑ توڑنے شروع کر دئیے۔ دراصل وہ اپنے مسیحا کے منتظر تھے جو دوبارہ آ کر ان کو پہلے جیسی شان و شوکت عطا کرتا ، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مصلوب ھونے کا واقعہ پیش آیا ، آپ کے مصلوب ھونے کے 70 سال بعد ایک بار پھر یہودیوں پر اللہ کا عذاب نازل ھوا۔ اس بار اس عذاب کا نام ٹائٹس تھا۔ یہ رومی جرنیل، بابل کے بادشاہ بخت نصر سے بھی زیادہ ظالم ثابت ھوا۔ اس نے ایک دن میں لاکھوں یہودیوں کو تہہ تیغ کر دیا۔ اس نے ھیروڈس کے بنائے ھوئے عظیم الشان ہیکل کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ اور یہودیوں کو ھمیشہ کے لئے یروشلم سے نکال باھر کیا۔
یہودی پوری دنیا میں بکھر کر اور رسوا ھوکر رہ گئے۔ کم و بیش اٹھارہ انیس سو سال تک بھٹکنے کے بعد برطانیہ نے جب فلسطین پر قبضہ کیا تو ساتھ ہی ایک ناجائز بچےاسرائیل کو فلسطین میں جنم دے دیا۔ اور یوں صدیوں سے دھکے کھانے والی قوم کو ایک بار پھر اس ملک اسرائیل میں اکٹھے ھونے رھنے کی اجازت مل گئی۔ لیکن یہ قوم اپنی ھزاروں سال پرانی گندی فطرت سے باز نہ آئی ۔ یہ برطانیہ کے جنم دئیے ھوئے اسرائیل تک محدود نہ رھے ایک بار پھر ھمسایہ ممالک کے لئے اپنی فطرت سے مجبور ھوکر مصیبت بننے لگے۔ 5 جون 1967 کو اس نے شام کی گولان کی پہاڑیوں پر قبضہ کر لیا۔ 1968 میں اردن کے مغربی کنارے پر قابض ھوگئے۔ اسی سال مصر کے علاقے پر بھی کنٹرول کر لیا۔ آج اس قوم کی شرارتیں اور پھرتیاں دیکھ کر اندازہ ھوتا ہے کہ یہ آج سے دو تین ھزار سال پہلے بھی کس قدر سازشی رہے ہوں گے۔ جس کی وجہ سے اللہ نے ان پر لعنت کر دی تھی۔ مسلمان ممالک کی بے غیرتی اور بزدلی کی وجہ سے اب اس نے پوری دنیا کے مسلمان ممالک میں آگ لگا کر رکھ دی ہے۔
اب ان کا اگلا مشن جلد ازجلد اسی ہیکل کی تعمیر ھے اور اس ہیکل میں تخت داؤد اور تابوت سکینہ کو دوبارہ رکھنا ہے تاکہ ایک بار پھر یہ اپنے مسایا (یہودی زبان کا لفظ ) مسیحا کے آنے پر پوری دنیا پر اپنی حکومت قائم کر سکیں۔ وہ یہ کام انتہائی تیزرفتاری سے کر رہے ھیں۔ اس ہیکل کی تعمیر کے نتیجے میں یہ پوری دنیا جنگ کی آگ میں لپٹ جائے گی۔امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا اسرائیل کے دارالخلافہ کی تبدیلی کا اعلان بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ لیکن مسلمان اقوام کو کوئی پرواہ نہیں۔
آپ اندازہ کیجئے یہودیوں کو جس بستی تل ابیب میں بخت نصر نے قیدی بنا کر رکھا تھا وہ اس کو آج تک نہیں بھولے ، انہوں نے اسرائیل بنانے کے بعد اپنے ایک شہر کا نام تل ابیب رکھ لیا۔ جبکہ ھم مسلمان اس مسجد اقصی کو بھی بھول چکے ھیں جہاں ھمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے معراج کا سفر شروع کیا تھا۔ یہودی آج تک بار بار گرائے گئے ہیکل کو نہیں بھولے حتی کہ اس میں رکھے تابوت سکینہ کی تلاش میں پوری دنیا کو کھود دینا چاہتے ہیں جبکہ ہم کو یہ بھی یاد نہیں کہ عراق میں کتنے انبیا اولیاء کے مزارات پچھلے کچھ عرصہ میں بم لگا کر شہید کر دئیے گئے ہیں۔ وہ بھی اس تنظیم داعش نے کئے ہیں جن کے تانتے بانتے اسرائیل سے ملتے ہیں۔ جن کے لیڈر ابوبکر بغدادی کا بیان تھا خدا ہمیں اسرائیل کے خلاف جہاد کا حکم نہیں دیتا۔ اس تنظیم کی ساری توجہ مسلمانوں کو مارنے میں ہی لگی رہی اور اب تک ہے۔ کبھی مکے اور مدینے پر حملے کی دھمکیاں دیتے ہیں۔ اور کبھی انتشار پھیلانے کےلئے مسلمان ملکوں میں بم دھماکے کرتے ہیں۔“
#copy

https://www.facebook.com/100000534718136/posts/4142503215777461/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
مبسملا وحامدا::ومصلیا ومسلما

اسلام وکفر کی جنگ

یا
دو بادشاہوں کی جنگ

بھارت میں ہندو مسلم نفرت پھیلانے کے لئے عہد ماضی کے مسلم بادشاہوں اور ہندو راجاؤں کے درمیان لڑی جانے والی جنگوں کو مسخ کر کے پیش کیا جاتا ہے اور لوگوں کو یہ بتانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ یہ دو مذہبوں کی جنگیں ہیں اور مسلم بادشاہوں نے اسلام پھیلانے لئے یہ جنگیں کی ہیں۔

جواب یہ ہے کہ یہ دو مذہبوں کی جنگیں نہیں,بلکہ سلطنت و حکومت کے حصول کے لئے یہ جنگیں لڑی گئیں۔

افغانستان کے بادشاہ بابر نے بھارت پر حملہ کیا,تاکہ اس کی سلطنت و بادشاہت کا دائرہ وسیع ہو جائے۔ اس وقت بھارت میں ابراہیم لودھی کی حکومت تھی,یعنی مسلمانوں کی حکومت تھی۔

اگر بابر بھارت میں اسلام پھیلانے کی نیت رکھتا تو وہ لودھی سلطنت سے فروغ اسلام کی گزارش کرتا۔بھارت میں اسلامی مبلغین بھیجنے کی اجازت طلب کرتا۔

کم ازکم جب بابر بھارت پر قبضہ جما لیا تھا,اس وقت وہ ضرور ملک بھر میں اسلامی مبلغین کو بھیجتا اور تبلیغ اسلام وفروغ اسلام کی کوشش کرتا۔لیکن ایسی کوئی روایت نہیں کہ بابر نے اسلامی مبلغین کا قافلہ ملک کے مختلف حصوں میں تبلیغ اسلام کے لئے بھیجا ہو۔

بھارت میں صوفیائے کرام نے تبلیغ اسلام کی ہے,نہ کہ سلاطین و حکام نے۔
بابر کے پوتے اکبر نے مذہب اسلام کے بالمقابل ایک مخلوط مذہب "دین اکبری" ایجاد کیا,تاکہ ہندو مسلم سب مل کر اس کی سلطنت و بادشاہت کو تسلیم کریں اور اس کی تائید کریں۔

جس طرح بابر نے ابراہیم لودھی سے جنگ کی,تاکہ وہ اپنی سلطنت کا دائرہ وسیع کرے,اسی طرح بھارت کے دیگر ہندو راجاؤں سے بھی اپنی سلطنت کی وسعت اور اپنے مقبوضات کی حفاظت کے لئے جنگیں کیں۔

بابر بادشاہ کے حالات صرف مثال کے طور پر مرقوم ہوئے۔محمد بن قاسم کے بعد افغان کے مسلم سلاطین کی طرف سے بھارت پر حملہ اپنی سلطنت کی توسیع یا اپنے مقبوضات کے تحفظ کے لئے تھا۔

یہ جنگیں نہ ہی مذہبی تھیں,نہ ہی مذہب کے نام پر لڑی گئیں, بلکہ حصول سلطنت وتحفظ مملکت کی یہ جنگیں تھیں,اسی لئے مسلم بادشاہوں کے سپہ سالار ہندو ہوتے اور ہندو راجاؤں کہ سپہ سالار مسلمان ہوتے۔

عہد سلاطین میں فریقین یہی سمجھتے تھے کہ یہ دو بادشاہوں کی جنگیں ہیں۔کوئی ان جنگوں کو مذہبی جنگ نہیں سمجھتا تھا۔

انگریزوں کے عہد میں ہندو مسلم تفریق کے لئے ایسے غلط نظریات بنائےگئے,تاکہ برطانوی حکومت کو قوت واستحکام حاصل ہو۔اب شدت پسند اور متعصب ہندو تنظیمیں اسی نظریہ کو پھیلا کر بی جے پی کے لئے ماحول سازی کرتی ہیں۔

ڈاکٹر رام پنیانی(Ram Puniyani) نے ہندی میں بہت سے وڈیو بنایا ہے۔اس میں متعصب ہندؤں کی سازش کو بے نقاب کیا ہے اور ثابت کیا ہے کہ یہ مذہبی جنگیں نہیں تھیں,بلکہ دو راجاؤں کی جنگیں تھیں۔یوٹیوب پر اس کے ویڈیو دستیاب ہیں۔

طارق انور مصباحی

جاری کردہ:14:جنوری 2021

https://www.facebook.com/388280455075812/posts/847493062487880/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
پیر ذو الفقار نقشبندی سنی نہیں ہے! https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2912299389049369&id=100008080090753
از قلم : سید کامران قادری مدنی عفی عنہ

کافی دفعہ گروپس میں بدمذھبوں کی کتابوں کی پوسٹس پڑھنے کو ملی انھیں میں سے ایک پوسٹ میں "خطباتِ فقیر" کا مطالبہ کیا گیا مناسب سمجھا کیوں نہ اس کتاب کی حقیقت واضح کر کے خیر خواہی مسلمین کی جائے۔خطباتِ فقیر نامی کتاب ذوالفقار نقشبندی دیوبندی کی ہے جو اپنے آپ کو نقشبندی کہلواتا ہے اور یوں سیکڑت طریقے سے اپنا کام کر رہا ہے جبکہ آج اس شخص کی حقیقت آپ کے سامنے واضح کی جائے گی۔لیکن سب سےپہلے یہ پڑھتے جائیں کہ بدمذھبوں کے بیانات سننا ان کے لٹریچر کو پڑھنا کس قدر زہرِ قاتل ہے اس کے لئے زیادہ نہیں صرف ایک حوالہ ملفوظاتِ اعلی حضرت سے پیش ہے ملاحظہ فرمائیں:"بد مذہبوں کی کتب پڑھناجائز نہیں؟
( پھر فرمایا) اِسی واسطے ناقص بلکہ کامل کو بھی بلا ضرورت بدمذہبوں کی کتابیں دیکھنا ناجائز ہے کہ انسان ہے، ممکن ہے کوئی بات مَعَاذَ ﷲ(عَزَّوَجَلَّ) دل میں جم جائے اور ہلاک ہوجائے۔
بدمذہبوں کے رد میں پہلی تصنیف
امام حارث محاسبی(رحمۃاللہ تعالٰی علیہ ) نے بدمذہبوں کے ردّ میں ایک کتاب تصنیف کی، اور وہ بدمذہبوں کے ردّ میں پہلی تصنیف تھی۔ امام احمد رحمۃ ﷲ تعالیٰ علیہ نے ان سے کلام کرنا چھوڑ دیا۔ کہا :''مجھ سے کیا خطا ہوئی ؟میں نے ان کا ردّ ہی تو کیا ہے۔''فرمایا :''کیا ممکن نہیں ہے کہ تم نے جو کلام بدمذہبوں کا نقل کیا ہے کسی کے دل میں جم جائے اور وہ گمراہ ہو جائے۔''
(احیاء علوم الدین ،کتاب قواعد العقائد ،الفصل الثانی فی وجہ التدریج ۔۔۔۔۔۔الخ ،ج۱،ص ۱۳۲)
رَدّ کی ضرورت
( پھر فرمایا) پہلے تلوار تھی، ردّ کی حاجت نہ تھی، تلوار کے ذریعہ سارا انتظام ہوسکتاتھا۔ اَب کہ ہمارے پاس سوائے ردّکے کوئی علاج نہیں،'' ردّ کرنا فرض ہے۔'' حدیث میں ارشاد ہوا:
اِذَا ظَھَرَتِ الْفِتَنُ اَوْقَالَ الْبِدَعُ فَلْیُظْھِرِ الْعَالِمُ عِلْمَہُ وَمَنْ لَّمْ یَفْعَل ذٰلِکَ فَعَلَیْہِ لَعْنَۃُ اللہِ وَالْمَلٰئِکَۃِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِیْنَ لَا یَقْبَلُ اللہُ لَہٗ صَرْفًا وَّ لَا عَدْلاً
جب فتنے یا بدمذہبیاں ظاہر ہوں تو فرض ہے کہ عالم اپنا علم ظاہر کرے اورجو ایسا نہ کرے تو اس پر ﷲ(عَزَّوَجَلَّ) اور فرشتوں اور تمام آدمیوں کی لعنت ، ﷲ(عَزَّوَجَلَّ)نہ اس کا فرض قبول کرے نہ نفل ۔
(الجامع لاخلاق الراوی وآداب ،باب اذا ظہرت الفتن، الحدیث۱۳۶۶،ص۳۰۸)
حضرت سعید بن جُبَیررضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بدمذہب کی بات سننے سے انکار کردیا
( پھر فرمایا) امام سعید ابنِ جُبَیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ راستہ میں تشریف لیے جاتے تھے ایک بدمذہب ملا۔ امام سے کہا :میں کچھ عرض کرنا چاہتا ہوں۔فرمایا: میں سننا نہیں چاہتا ۔اس نے کہا: صرف ایک بات ۔آپ نے چھنگلیا کے پہلے پَورے پر انگوٹھا رکھ کر فرمایا: ''وَلا نِصْفَ کَلِمَۃٍ '' آدھی بات بھی نہیں سنوں گا ۔ لوگوں نے سبب پوچھا ۔فرمایا : ''ازایشاں''منھم( یعنی انہیں بدمذہبو ں میں سے۔ت )ہے۔ (ماخوذ،سنن الدارمی،باب اجتناب اہل الاہواء، الحدیث۳۹۹،ج۱،ص۱۲۰،۱۲۱)
رد کون کرے؟
( پھر فرمایا) اَکابر کی تویہ حالت اور اب یہ حالت ہے کہ جاہل سا جاہل چٹا پڑتا ہے آریوں سے وہابیوں سے اور کچھ خوف نہیں کرتا ۔جو تمام فنون کا ماہر ہو، تمام پیچ جانتا ہو، پوری طاقت رکھتا ہو، تمام ہتھیار پاس ہوں اس کو بھی کیا ضرور کہ خواہ مخواہ بھیڑیوں کے جنگل میں جائے ،ہاں اگر ضرورت ہی آپڑے تو مجبوری ہے۔ ﷲ (عَزَّوَجَلَّ)پر توکُّل کرکے ان ہتھیاروں سے کام لے۔(ملفوظاتِ اعلی حضرت، ص 434)
اس دیوبندی کے متعلق جاننے کے لئے اس کی کتاب کی کچھ جلدوں کو دیکھا جن میں اس دیوبندی نے اشرفعلی قاسم نانوتوی وغیرہ مرتدین کی بڑی تعریف کی نہ صرف تعریف کی بلکہ ان کی سیرت پہ کئی ورق سیاہ کئے۔ پھر ایک دیوبندی دارالافتاء کا اس شخص کے متعلق سوال و جواب پڑھا جس میں سائل نے کچھ یوں سوال کیا " Pakistan
Question: 35495
پاکستان میں جو پیر ذوالفقار احمد نقشبندی جو سلسلہ نقشبندی مجددی کے شیخ ہیں ان کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟
Nov 03,2011
Answer: 35495
فتوی(م): 1828=1828-12/1432
پیر فقیر حضرت ذوالفقار احمد صاحب نقشبندی سلسلے کے صاحب نسبت بزرگ ہیں، اہل سنت والجماعت میں سے ہیں، دارالعلوم دیوبند اور اکابر دارالعلوم سے گہری اور سچی عقیدت رکھتے ہیں دارالعلوم کے ہم مشرب ہیں۔

واللہ تعالیٰ اعلم اب اس کی کتابوں سے مرتدین کی تعریفات ملاحظہ فرمائیں جو اس شخص کے دیوبندی ہونے کی تائید کرتی ہیں۔
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
بے حیائی اور بے راہ روی کے اس دور میں علماے کرام پر لازم ہے کہ لوگوں کو نکاح کی رغبت دلائیں ، ایک سے زیادہ نکاح کرنے کا ان میں حوصلہ پیدا کریں ؛ تاکہ گناہوں کے دروازے بند ہوسکیں اور لوگ دینِ فطرت کی طرف رجوع کرسکیں ۔

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3060540280892807&id=100008105947430
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
تقریباً بیس سال پہلے کی بات ہے ، مجھے معلوم ہوا کہ:
عالمِ ربانی قبلہ مفتی‌ فیض احمد اویسی رحمہ اللہ ہمارے علاقے میں تشریف لارہے ہیں تو میں بڑے شوق سے زیارت کرنے کے لیے گیا ، اور آپ کی تشریف آوری سے کافی دیر پہلے ہی جلسہ گاہ میں پہنچ گیا ۔
آپ جب تشریف لائے تو ویڈیو بن رہی تھی ، آپ نے کیمرہ دیکھ کر منھ پھیر لیا اور فرمانے لگے:
اسے بند کریں ! آپ لوگ محفل اس لیے کررہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ راضی ہو اور وہ ایسے کاموں ( مووی وغیرہ بنانے ) سے راضی نہیں ہوتا ۔

مجھے آپ کا یہ جملہ بہت اچھا لگا اورمیں نے نیت کی کہ‌ انشاءاللہ ویڈیو اور تصویر سے بچنے کی کوشش کیا کروں گا ۔

دینی ویڈیو اور موجودہ تصویر وغیرہ کا مسئلہ علماے اہل‌ سنت کے مابین اختلافی ہے ، اگرچہ معتد بہ اس کے جواز کے قائل ہوچکے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ لیکن ہمارا دل اب بھی اسی طرف راغب ہے کہ:

" اصحاب تقوی اس سے منع فرماگئے ، تو بچنا چاہیے ۔ "

شوقیہ تصویریں ، فضول ویڈیوز اور سیلفیوں کے بجائے اپنے احوال بہتر کرنےچاہییں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہماری تصویریں دیکھ کر ہوسکتا ہے اہلِ محبت سراہیں ، واہ واہ کریں ؛ لیکن اگر ہمارا معاملہ اللہ رب العزت کے ساتھ درست نہ ہوا تو ہلاکت ہی ہلاکت ہو گی‌ ۔

✍️لقمان شاہد
10-1-2021 ء

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3062103297403172&id=100008105947430
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
آپ جو مرضی کَہ لیں ، جیسے مرضی کَہ لیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بعض مہربانوں نے وہی سمجھنا ہوتا ہے جو اُن کی سمجھ میں آرہا ہوتا ہے ۔
انھوں نے نہ آپ کے الفاظ دیکھنے ہوتے ہیں ، نہ شخصیت پرکھنی ہوتی ہے ، نہ لب و لہجے پر غور کرنا ہوتا ہے ، اور نہ ہی بات کو صحیح طریقے سے سمجھنے کی کوشش کرنی ہوتی‌ ہے ۔

ایسے پیاروں پر خفا نہیں ہونا چاہیے ، انھیں دو چار پھول 🌹🌹🌹 پیش کردینے چاہییں ۔۔۔۔۔۔۔۔ جنھیں سونگھ کرمشامِ جاں معطر ہوجائیں اور بات صحیح طرح سے سمجھنے کی صلاحیت پیدا ہوسکے ۔ ؎

بدن کا رمز سمجھ ، روح کا اشارہ سمجھ
مجھے سمجھ نہ سمجھ ، دکھ مِرا خُدارا سمجھ

نہیں تو وقت ہی سمجھائے گا تجھے اِک دن
میں چاہتا ہوں ، " مری بات کو دوبارہ سمجھ " !

✍️لقمان شاہد
10-1-2021 ء

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3062295300717305&id=100008105947430
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
ہمیشہ سے مسلمانوں کا یہ عقیدہ رہا ہے کہ‌:

انبیا و مرسلین کے بعد جو ہستی سب سے افضل ہے ، وہ صدیقِ اکبر کی ذات پاک ہے ۔

کچھ سال پہلے راولپنڈی کے ایک تفضیلی‌ نے مسلمانوں کے اس عقیدے پر شب خون مارنے کی کوشش کی تو اس کا مختلف علما نے رد کیا ، جن میں ایک حضرت علامہ مولانا مفتی فدا حسین رضوی زیدت معالیھم بھی ہیں ۔

حضرت کا رد ، ایک جاندار رد ہے ؛ میں نے آج اس کا مطالعہ شروع کیا تو بہت محظوظ ہوا ۔
جب کوئی حضرت کا شناسا کتاب پڑھتے ہوئے اِن سے کہے گا ؎

فقیرانہ طبیعت تھی ، بہت ہی صاف لہجہ تھا
کبھی تجھ میں بھی ہنستا کھیلتا اک شخص رہتا تھا

تو جواب میں امید ہے یہی کہیں گے ؎

سبز لہجہ ، کہاں سمجھتا ہے
وہ تو اپنی زباں سمجھتا ہے


✍️لقمان شاہد
11-1-2021 ء

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3062876197325882&id=100008105947430
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
وہ تمام بھائی جو Whatsapp کی نیو پرائیویسی کے سبب واٹس ایپ پر اپنے آپ کو محفوظ نہ تصور کرنے کی وجہ سے اسے خیر آباد کہنا چاہتے ہیں تو ان سے گزارش ہے کہ وہ اس ایپ "BiP" کا ضرور استعمال کریں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ خاص اس ایپ کی ترغیب دلانے کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ یہ ہمارے مسلم ملک (ترکی ) کے زیر نگرانی بنائی گئی ہے۔

اس کے علاوہ یہ دوسری بھی کافی خصوصیات کی حامل ہے۔
جیسے:
— ویڈیو کال HD کوالٹی میں
— ویڈیو، آڈیو کال میں آپ دس بندوں کو ایڈ کر کے کانفرنس کال کر سکتے ہیں۔
— فوٹوز کو متعدد کوالٹی میں سینڈ کرنے کا آپشن

اور مزید بہت ساری خصوصیات ہیں جن سے اس کے استعمال کے وقت آپ کو شناسائی ہو جائے گی۔

(یہ ایپ IOS اور Android دونوں کے لیے اپنے اپنے سٹور پر دستیاب ہے۔)

فقیر کی ذاتی رائے بھی یہی ہے کہ بجائے غیر مسلم کی بنائی گئی ایپ استعمال کرنے کے، اس کی متبادل ایک مسلم ملک کی طرف سے بنائی گئی ایپ کو ہی استعمال کرنا چاہیے، اگرچہ اس میں بعض وہ فیچر نہ ہوں جو واٹس ایپ پر ہمیں میسر ہیں، تاہم اس ایپ کو مسلسل اپڈیٹ کیا جا رہا ہے۔

✍️ فقیر ابی حنیفہ

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3062983167315185&id=100008105947430
BiP – Messaging, Voice and Video Calling
https://play.google.com/store/apps/details?id=com.turkcell.bip
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
اللہ پاک زندگی دے ، میرے ایک چچا جان ہیں جن کی عمر 60 سال ہونے والی ہے ۔
ماشاءاللہ صاحبِ ترتیب ہیں ( یعنی زندگی میں ایک بھی نماز قضا نہیں ) ، اور نہ ہی کوئی روزہ قضا ہے ۔

آج بتارہے تھے کہ :
میں نے زندگی میں پہلی دفعہ دعوتِ اسلامی کے مدنی قافلے میں سفرکیا ہے ، اتنا مزہ آیا ہے ۔۔۔۔۔ اتنا مزہ آیا ہے کہ بیان نہیں کرسکتا ۔
حالاں کہ اس سے پہلے دو مرتبہ تبلیغی جماعت والوں کے ساتھ بھی دو سہ روزے لگا چکا ہوں ، لیکن میں نے محسوس کیا کہ:
تبلیغیوں کو کَکھ پتا نہیں ۔
( مطلب: وہ علمی اعتبار سے ، دعوت اسلامی‌والوں کے مقابلے میں نرے جاہل ہیں )

مجھے چچا جان کی بات سن کر دلی خوشی ہوئی ، اور میں نے کہا:

آپ اب دعوت اسلامی والوں کے ساتھ بارہ ماہ کے مدنی قافلے میں سفر کریں ، انشاءاللہ علم و عمل کے ساتھ ساتھ عشق رسول میں بھی برکت ہوگی ۔

کہتے ہیں:

بارہ ماہ تو نہیں ، انشاءاللہ تین دن کے قافلے میں پھر سفر کروں گا ۔

✍️لقمان شاہد
12-1-2021 ء

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3063655253914643&id=100008105947430
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM