پیر ذو الفقار نقشبندی سنی نہیں ہے!
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2912299389049369&id=100008080090753
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2912299389049369&id=100008080090753
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
#تقلید_اصل_میں_کس_کی ؟
سوڈان کا ایک واقعہ ہے کہ کویت سے کچھ وہابی علما سوڈان کے دورے پر گئے وہاں ان کی بڑی عزت و تکریم کی گئی۔
جب نماز کا وقت ہوا تو انہیں میں سے ایک وہابی عالم کو آگے کیا گیا تاکہ وہ امامت کرے، تو انہوں نے نماز سے پہلے اسپیکر میں اعلان کر دیااور کہا کہ :
"أصلي بكم صلاة الشافعي أم صلاة النبي عليه أفضل الصلاة وأتم التسليم
یعنی؛
میں آپ کو امام شافعی کی نماز پڑھاؤں یا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز پڑھاؤں؟
اتنا سنتے ہی لوگوں میں ایک کہرام مچ گیا مسجد میں آہ و بکا شروع ہو گئی، ظاہر سی بات ہے جملہ ہی ایسا تھا، ایک طرف ساری زندگی امام شافعی کی تقلید کی اور جب پتہ چلے کہ یہ راستہ ہی غلط ہے تو سوچئے انسان کی کیفیت کیا ہو گی؟
لیکن وہاں کے ایک مقامی عالم آگے بڑھے اور بہترین جواب دیا کہا کہ؛
"صل بنا صلاة الشافعي لأنه أعلم منك صلاة النبي عليه افضل الصلاة واتم التسليم
یعنی:
ہمیں امام شافعی کے طریقے پہ نماز پڑھاؤ کیونکہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کو آپ سے زیادہ بہتر جانتے تھے۔ اتنا سنتے ہی اس وہابی کی سٹی پٹی گم ہوگئی ۔
ہم سب کو یہ سمجھنا چاہئیے کہ صحابہ یا ائمہ کرام نے کوئی الگ دین پیش نہیں کیا بات صرف سمجھنے کی ہے۔ ایک وہ سمجھ اور علم ہے جو صحابہ اور تابعین کا تھا اور ایک وہ علم ہے جو آجکل کے کچھ دوچار حدیثیں پڑھے ہوئے نام نہاد اہل حدیث لوگ سمجھ رہے ہیں۔
ظاہر سی بات ہے کہ ہم صحابہ کرام اور ائمہ اربعہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کے اقوال اور مذاہب کو اس لئے قبول تو نہیں کرتے کہ نعوذ باللہ ہم ان کا تقابل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کرتے ہیں، ہم ان کے اقوال اور مذہب پہ اس لئے عمل کرتے ہیں کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زیادہ قریب تھے ان کا علم و تقوی آجکل کے علما سے بہت زیادہ تھا، اسی لئے ان کا مذہب ان کا قول ہی ہمارے لیے زیادہ معتبر ہے اور اسی میں ہم سب کی نجات ہے ۔
(ایک فیس بک پوسٹ کی ترتیب و تذہیب)
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2912329009046407&id=100008080090753
سوڈان کا ایک واقعہ ہے کہ کویت سے کچھ وہابی علما سوڈان کے دورے پر گئے وہاں ان کی بڑی عزت و تکریم کی گئی۔
جب نماز کا وقت ہوا تو انہیں میں سے ایک وہابی عالم کو آگے کیا گیا تاکہ وہ امامت کرے، تو انہوں نے نماز سے پہلے اسپیکر میں اعلان کر دیااور کہا کہ :
"أصلي بكم صلاة الشافعي أم صلاة النبي عليه أفضل الصلاة وأتم التسليم
یعنی؛
میں آپ کو امام شافعی کی نماز پڑھاؤں یا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز پڑھاؤں؟
اتنا سنتے ہی لوگوں میں ایک کہرام مچ گیا مسجد میں آہ و بکا شروع ہو گئی، ظاہر سی بات ہے جملہ ہی ایسا تھا، ایک طرف ساری زندگی امام شافعی کی تقلید کی اور جب پتہ چلے کہ یہ راستہ ہی غلط ہے تو سوچئے انسان کی کیفیت کیا ہو گی؟
لیکن وہاں کے ایک مقامی عالم آگے بڑھے اور بہترین جواب دیا کہا کہ؛
"صل بنا صلاة الشافعي لأنه أعلم منك صلاة النبي عليه افضل الصلاة واتم التسليم
یعنی:
ہمیں امام شافعی کے طریقے پہ نماز پڑھاؤ کیونکہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کو آپ سے زیادہ بہتر جانتے تھے۔ اتنا سنتے ہی اس وہابی کی سٹی پٹی گم ہوگئی ۔
ہم سب کو یہ سمجھنا چاہئیے کہ صحابہ یا ائمہ کرام نے کوئی الگ دین پیش نہیں کیا بات صرف سمجھنے کی ہے۔ ایک وہ سمجھ اور علم ہے جو صحابہ اور تابعین کا تھا اور ایک وہ علم ہے جو آجکل کے کچھ دوچار حدیثیں پڑھے ہوئے نام نہاد اہل حدیث لوگ سمجھ رہے ہیں۔
ظاہر سی بات ہے کہ ہم صحابہ کرام اور ائمہ اربعہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کے اقوال اور مذاہب کو اس لئے قبول تو نہیں کرتے کہ نعوذ باللہ ہم ان کا تقابل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کرتے ہیں، ہم ان کے اقوال اور مذہب پہ اس لئے عمل کرتے ہیں کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زیادہ قریب تھے ان کا علم و تقوی آجکل کے علما سے بہت زیادہ تھا، اسی لئے ان کا مذہب ان کا قول ہی ہمارے لیے زیادہ معتبر ہے اور اسی میں ہم سب کی نجات ہے ۔
(ایک فیس بک پوسٹ کی ترتیب و تذہیب)
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2912329009046407&id=100008080090753
Facebook
Log in to Facebook
Log in to Facebook to start sharing and connecting with your friends, family and people you know.
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
سوال : السلام علیکم
بعدہٗ سلام عرض یہ ہے کہ معلم جو شاگردوں کو تعلیم دیتے ہیں، تو اچھی تعلیم کے لئے بطورِ سزا وہ بچوں کو ڈنڈے سے مارتے ہیں، اس کی شرعی حد کیا ہے؟ کیا کسی کو بچے کو بےانتہا مارنا گناہ نہیں؟ علماء حلقہ رہنمائی فرمائیں، بہت بہت نوازش ہوگی! سائل : یوسف خان نوری گوریگاؤں (ممبئی)
جواب نمبر 1004 وعلیکم السلام
ضرورت پیش آنےپر بقدر حاجت تنبیہ و اصلاح ونصیحت کیلئے بلاتفریق اجرت وعدم اجرت استاد کا بدنی سزا دینا اور سرزنش سے کام لینا جائزہے مگریہ سزا لکڑی ڈنڈے وغیرہ سے نہیں بلکہ ہاتھ سے ہونی چاہئے اور ایک وقت میں تین مرتبہ سے زائد پٹائی نہ ہونےپائے ۔ کسی بچے کو بے انتہا مارنے کا حق ہی نہیں ہے تو بلاشبہ بےانتہا مارنا کار گناہ ہےــ
امام ابن شحنہ علیہ الرحمہ فرماتےہیں : بخلاف المعلم المامور لان المامور یضربہ نیابة عن الاب لمصلحتہ ، والمعلم یضربہ بحکم الملک بتملیک ابیہ لمصلحةالمعلم ( تفصیل عقدالفرائد المعروف بشرح ابن وھبان ج٢ ص١٧٣ ، الوقف المدنی الخیری )
علامہ ابن عابدین شامی علیہ الرحمہ فرماتےہیں : وقیدہ الطرطوسی بان یکون بغیر آلة جارحة وبان لایزید علی ثلاث ضربات ۔۔۔ قال الشرنبلالی : والنقل فی کتاب الصلوة : یضرب الصغیر بالید لا بالخشبة ولا یزید علی ثلاث ضربات ( ردالمحتار ج٩ ص٦١٦ دار عالم الکتب)
سیدی سرکار اعلی حضرت محقق بریلوی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : زدن معلم کودکاں را وقت حاجت بقدر حاجت محض بغرض تنبیہ واصلاح و نصیحت بےتفرقہ اجرت وعدم اجرت روا است ، اما بایدکہ بدست زند نہ بہ چوب ، و در کرتے برسہ بار نیفزاید ( فتاویٰ رضویہ ج٢٣ ص٦٥٣ رضا فاؤنڈیشن)
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
کــــــــتـبـــــــــــــــــــــــــــہ :
محمد شکیل اختر قادری برکاتی شیخ الحدیث بمدرسةالبنات مسلک اعلی حضرت صدر صوفہ ھبلی کرناٹک؛ مورخہ؛ ۲۶/جمادی الاولیٰ۱۴۴۲ھ
https://t.me/AlHalqatulilmia/1246
الحلقة العلمیہ گروپ 7795812191
منجانب؛ منتظمین الحلقةالعلمیہ گروپ
محمداسماعیل رضوی 9265890586
بعدہٗ سلام عرض یہ ہے کہ معلم جو شاگردوں کو تعلیم دیتے ہیں، تو اچھی تعلیم کے لئے بطورِ سزا وہ بچوں کو ڈنڈے سے مارتے ہیں، اس کی شرعی حد کیا ہے؟ کیا کسی کو بچے کو بےانتہا مارنا گناہ نہیں؟ علماء حلقہ رہنمائی فرمائیں، بہت بہت نوازش ہوگی! سائل : یوسف خان نوری گوریگاؤں (ممبئی)
جواب نمبر 1004 وعلیکم السلام
ضرورت پیش آنےپر بقدر حاجت تنبیہ و اصلاح ونصیحت کیلئے بلاتفریق اجرت وعدم اجرت استاد کا بدنی سزا دینا اور سرزنش سے کام لینا جائزہے مگریہ سزا لکڑی ڈنڈے وغیرہ سے نہیں بلکہ ہاتھ سے ہونی چاہئے اور ایک وقت میں تین مرتبہ سے زائد پٹائی نہ ہونےپائے ۔ کسی بچے کو بے انتہا مارنے کا حق ہی نہیں ہے تو بلاشبہ بےانتہا مارنا کار گناہ ہےــ
امام ابن شحنہ علیہ الرحمہ فرماتےہیں : بخلاف المعلم المامور لان المامور یضربہ نیابة عن الاب لمصلحتہ ، والمعلم یضربہ بحکم الملک بتملیک ابیہ لمصلحةالمعلم ( تفصیل عقدالفرائد المعروف بشرح ابن وھبان ج٢ ص١٧٣ ، الوقف المدنی الخیری )
علامہ ابن عابدین شامی علیہ الرحمہ فرماتےہیں : وقیدہ الطرطوسی بان یکون بغیر آلة جارحة وبان لایزید علی ثلاث ضربات ۔۔۔ قال الشرنبلالی : والنقل فی کتاب الصلوة : یضرب الصغیر بالید لا بالخشبة ولا یزید علی ثلاث ضربات ( ردالمحتار ج٩ ص٦١٦ دار عالم الکتب)
سیدی سرکار اعلی حضرت محقق بریلوی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : زدن معلم کودکاں را وقت حاجت بقدر حاجت محض بغرض تنبیہ واصلاح و نصیحت بےتفرقہ اجرت وعدم اجرت روا است ، اما بایدکہ بدست زند نہ بہ چوب ، و در کرتے برسہ بار نیفزاید ( فتاویٰ رضویہ ج٢٣ ص٦٥٣ رضا فاؤنڈیشن)
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
کــــــــتـبـــــــــــــــــــــــــــہ :
محمد شکیل اختر قادری برکاتی شیخ الحدیث بمدرسةالبنات مسلک اعلی حضرت صدر صوفہ ھبلی کرناٹک؛ مورخہ؛ ۲۶/جمادی الاولیٰ۱۴۴۲ھ
https://t.me/AlHalqatulilmia/1246
الحلقة العلمیہ گروپ 7795812191
منجانب؛ منتظمین الحلقةالعلمیہ گروپ
محمداسماعیل رضوی 9265890586
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
ہیکل سلیمانی اور قوم اسرائیل کا وجود.
ہیکل سلیمانی درحقیقت ایک مسجد یا عبادت گاہ تھی۔ جو حضرت سلیمان علیہ السلام نے اللہ کے حکم سے جنات سے تعمیر کروائی تھی تاکہ لوگ اس کی طرف منہ کرکے یا اس کے اندر عبادت کریں۔
ہیکل سلیمانی کی تعمیر سے پہلے یہودیوں کے ھاں کسی بھی باقاعدہ ہیکل کا نہ کوئی وجود اور نہ اس کا کوئی تصور تھا۔ اس قوم کی بدوؤں والی خانہ بدوش زندگی تھی۔ان کا ہیکل یا معبد ایک خیمہ تھا۔ اس خیمے میں تابوت سکینہ رکھا ھوتا تھا جس کی جانب یہ رخ کرکے عبادت کیا کرتے تھے۔ روایات کے مطابق یہ تابوت جس لکڑی سے تیار کیا گیا تھا اسے " شمشاد کہتے ہیں۔ اور اسے جنت سے حضرت آدم علیہ السلام کے پاس بھیجا گیا تھا۔ یہ تابوت نسل در نسل انبیا سے ھوتا ھوا حضرت موسیٰ علیہ السلام کے تک پہنچا تھا، اس مقدس صندوق میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کا عصا من و سلویٰ اور دیگر انبیا کی یادگاریں تھیں۔ یہودی اس تابوت کی برکت سے ھر مصیبت پریشانی کا حل لیا کرتے تھے مختلف اقوام کے ساتھ جنگوں کے دوران اس صندوق کو لشکر کے آگے رکھا کرتے اس کی برکت سے دشمن پر فتح پایا کرتے۔ جب حضرت داؤد علیہ السلام کو بادشاہت عطا ھوئی تو آپ نے اپنے لئے ایک باقاعدہ محل تعمیر کروایا۔ ایک دن ان کے ذہن میں خیال آیا کہ میں خود تو محل میں رہتا ھوں جبکہ میری قوم کا معبد آج بھی خیمے میں رکھا ھوتا ہے۔ یہ بائیبل کی روایات ہے،
جیسے بائیبل میں ہے
" بادشاہ نے کہا: ’میں تو دیودار کی شان دار لکڑی سے بنے ہوئے ایک محل میں رہتا ہوں، مگر خدا وند کا تابوت ایک خیمے میں پڑا ہوا ہے( 2۔سموئیل 4؛2)۔
چنانچہ آپ نے ہیکل کی تعمیر کا ارادہ کیا اور اس کے لئے ایک جگہ کا تعین کیا گیا۔ ماھرین نے آپ کو مشورہ دیا کہ اس ہیکل کی تعمیر آپ کے دور میں ناممکن ہے آپ اس کا ذمہ اپنے بیٹے حضرت سلیمان علیہ السلام کو دے دیجئیے۔ چنانچہ حضرت سلیمان نے (970 ق م ۔ 930 ق م ) نے اپنے دور حکومت کے چوتھے سال میں اس کی تعمیر کا باقاعدہ آغاز کیا گیا۔ آج اس کی بناوٹ اور مضبوطی سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ یہ تعمیر انسانوں کے بس کی بات نہیں تھی اتنے بھاری اور بڑے پتھروں کو ان جنات کی طاقت سے چنا گیا تھا جن پر حضرت سلیمان علیہ السلام کی حکومت تھی۔ ہیکل کی پہلی تعمیر کے دوران ہی حضرت سلیمان علیہ السلام اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔ لیکن جنات کو پتہ نہ چل سکا اور انہوں نے ہیکل کی تعمیر مکمل کردی۔ یہ واقعہ آپ نے پہلے بھی پڑھا ہوگا۔ کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کی روح اللہ نے دوران عبادت ہی قبض کرلی لیکن اس کی ترکیب اس طرح بنی کے آپ ایک لکڑی پر سر اور کمر رکھ کر عبادت میں مصروف ہوگئے اور اس لکڑی کے سہارے سے یوں لگتا تھا کہ آپ اب بھی عبادت ہی کررہے ہیں۔ جبکہ آپ کا انتقال ہوچکا تھا۔ بہرحال یہ ہیکل، معبد یا مسجد بہت عالیشان اور وسیع و عریض تعمیر کی گئی تھی۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کی وفات کے بعد اس میں تین حصے کردئیے گئے تھے بیرونی حصے میں عام لوگ عبادت کیا کرتے اس سے اگلے حصے میں علما جو کہ انبیا کی اولاد میں سے ھوتے ان کی عبادت کی جگہ تھی اس سے اگلے حصے میں جسے انتہائی مقدس سمجھا جاتا تھا اس میں تابوت سکینہ رکھا گیا تھا۔ اس حصے میں کسی کو بھی داخل ھونے کی اجازت نہیں تھی۔ سوائے سب سے بڑے عالم پیش امام کے۔
وقت گزرتا رھا اس دوران بنی اسرائیل میں پیغمبر معبوث ھوتے رہے یہ قوم بد سے بدتر ھوتی رھی ، یہ کسی بھی طرح اپنے گناھوں سے توبہ تائب ھونے یا ان کو ترک کرنے کے لئے تیار نہیں تھے یہ ایک جانب عبادتیں کیا کرتے دوسری جانب اللہ کے احکام کی صریح خلاف ورزی بھی کرتے رہے۔ ان کی اس دوغلی روش سے اللہ پاک ناراض ھوگیا۔ان کے پاس ایک بہت بڑی تعداد میں انبیا بھی بھیجے گئے لیکن یہ قوم سدھرنے کو تیار نہ تھی حتی کہ ان کی شکلیں تبدیل کرکے بندر اور سؤر تک بنائی گئیں لیکن یہ گناھوں سے باز نہ آئے تب اللہ نے ان پر لعنت کر دی۔ 586 ق۔ م میں بخت نصر نے ان کے ملک پر حملہ کیا ان کا ہیکل مکمل طور پر تباہ و برباد کر دیا، ہیکل میں سے تابوت سکینہ نکالا، چھ لاکھ کے قریب یہودیوں کو قتل کیا تقریبا" دو لاکھ یہودیوں کو قید کیا اور اپنے ساتھ بابل (عراق) لے گیا شہر سے باھر یہودی غلاموں کی ایک بستی تعمیر کی جس کا نام تل ابیب رکھا گیا۔ 70 سال تک ہیکل صفحہ ھستی سے مٹا رھا۔ دوسری طرف بخت نصر نے تابوت سکینہ کی شدید بے حرمتی کی اور اسی کہیں پھینک دیا کہا جاتا ہے اس حرکت کا عذاب اسے اس کے ملک کو اس طرح ملا کہ سن 539 ق۔ م میں ایران کے بادشاہ سائرس نے بابل ( عراق) پر حملہ کر دیا اور بابل کے ولی عہد کو شکست فاش دے کر بابلی سلطنت کا مکمل خاتمہ کر دیا۔ سائرس ایک نرم دل اور انصاف پسند حکمران تھا اس نے تل ابیب کے تمام قیدیوں کو آزاد کرکے ان کو واپس یروشلم جانے کی اجازت دے دی۔ اور ساتھ میں ان کو ہیکل کی نئے سرے سے تعمیر کی بھی اجازت دے دی ساتھ میں اس کی تعمیر کے لئے ھر طرح کی مدد فراھم کرنے کا وعدہ بھی کر
ہیکل سلیمانی درحقیقت ایک مسجد یا عبادت گاہ تھی۔ جو حضرت سلیمان علیہ السلام نے اللہ کے حکم سے جنات سے تعمیر کروائی تھی تاکہ لوگ اس کی طرف منہ کرکے یا اس کے اندر عبادت کریں۔
ہیکل سلیمانی کی تعمیر سے پہلے یہودیوں کے ھاں کسی بھی باقاعدہ ہیکل کا نہ کوئی وجود اور نہ اس کا کوئی تصور تھا۔ اس قوم کی بدوؤں والی خانہ بدوش زندگی تھی۔ان کا ہیکل یا معبد ایک خیمہ تھا۔ اس خیمے میں تابوت سکینہ رکھا ھوتا تھا جس کی جانب یہ رخ کرکے عبادت کیا کرتے تھے۔ روایات کے مطابق یہ تابوت جس لکڑی سے تیار کیا گیا تھا اسے " شمشاد کہتے ہیں۔ اور اسے جنت سے حضرت آدم علیہ السلام کے پاس بھیجا گیا تھا۔ یہ تابوت نسل در نسل انبیا سے ھوتا ھوا حضرت موسیٰ علیہ السلام کے تک پہنچا تھا، اس مقدس صندوق میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کا عصا من و سلویٰ اور دیگر انبیا کی یادگاریں تھیں۔ یہودی اس تابوت کی برکت سے ھر مصیبت پریشانی کا حل لیا کرتے تھے مختلف اقوام کے ساتھ جنگوں کے دوران اس صندوق کو لشکر کے آگے رکھا کرتے اس کی برکت سے دشمن پر فتح پایا کرتے۔ جب حضرت داؤد علیہ السلام کو بادشاہت عطا ھوئی تو آپ نے اپنے لئے ایک باقاعدہ محل تعمیر کروایا۔ ایک دن ان کے ذہن میں خیال آیا کہ میں خود تو محل میں رہتا ھوں جبکہ میری قوم کا معبد آج بھی خیمے میں رکھا ھوتا ہے۔ یہ بائیبل کی روایات ہے،
جیسے بائیبل میں ہے
" بادشاہ نے کہا: ’میں تو دیودار کی شان دار لکڑی سے بنے ہوئے ایک محل میں رہتا ہوں، مگر خدا وند کا تابوت ایک خیمے میں پڑا ہوا ہے( 2۔سموئیل 4؛2)۔
چنانچہ آپ نے ہیکل کی تعمیر کا ارادہ کیا اور اس کے لئے ایک جگہ کا تعین کیا گیا۔ ماھرین نے آپ کو مشورہ دیا کہ اس ہیکل کی تعمیر آپ کے دور میں ناممکن ہے آپ اس کا ذمہ اپنے بیٹے حضرت سلیمان علیہ السلام کو دے دیجئیے۔ چنانچہ حضرت سلیمان نے (970 ق م ۔ 930 ق م ) نے اپنے دور حکومت کے چوتھے سال میں اس کی تعمیر کا باقاعدہ آغاز کیا گیا۔ آج اس کی بناوٹ اور مضبوطی سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ یہ تعمیر انسانوں کے بس کی بات نہیں تھی اتنے بھاری اور بڑے پتھروں کو ان جنات کی طاقت سے چنا گیا تھا جن پر حضرت سلیمان علیہ السلام کی حکومت تھی۔ ہیکل کی پہلی تعمیر کے دوران ہی حضرت سلیمان علیہ السلام اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔ لیکن جنات کو پتہ نہ چل سکا اور انہوں نے ہیکل کی تعمیر مکمل کردی۔ یہ واقعہ آپ نے پہلے بھی پڑھا ہوگا۔ کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کی روح اللہ نے دوران عبادت ہی قبض کرلی لیکن اس کی ترکیب اس طرح بنی کے آپ ایک لکڑی پر سر اور کمر رکھ کر عبادت میں مصروف ہوگئے اور اس لکڑی کے سہارے سے یوں لگتا تھا کہ آپ اب بھی عبادت ہی کررہے ہیں۔ جبکہ آپ کا انتقال ہوچکا تھا۔ بہرحال یہ ہیکل، معبد یا مسجد بہت عالیشان اور وسیع و عریض تعمیر کی گئی تھی۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کی وفات کے بعد اس میں تین حصے کردئیے گئے تھے بیرونی حصے میں عام لوگ عبادت کیا کرتے اس سے اگلے حصے میں علما جو کہ انبیا کی اولاد میں سے ھوتے ان کی عبادت کی جگہ تھی اس سے اگلے حصے میں جسے انتہائی مقدس سمجھا جاتا تھا اس میں تابوت سکینہ رکھا گیا تھا۔ اس حصے میں کسی کو بھی داخل ھونے کی اجازت نہیں تھی۔ سوائے سب سے بڑے عالم پیش امام کے۔
وقت گزرتا رھا اس دوران بنی اسرائیل میں پیغمبر معبوث ھوتے رہے یہ قوم بد سے بدتر ھوتی رھی ، یہ کسی بھی طرح اپنے گناھوں سے توبہ تائب ھونے یا ان کو ترک کرنے کے لئے تیار نہیں تھے یہ ایک جانب عبادتیں کیا کرتے دوسری جانب اللہ کے احکام کی صریح خلاف ورزی بھی کرتے رہے۔ ان کی اس دوغلی روش سے اللہ پاک ناراض ھوگیا۔ان کے پاس ایک بہت بڑی تعداد میں انبیا بھی بھیجے گئے لیکن یہ قوم سدھرنے کو تیار نہ تھی حتی کہ ان کی شکلیں تبدیل کرکے بندر اور سؤر تک بنائی گئیں لیکن یہ گناھوں سے باز نہ آئے تب اللہ نے ان پر لعنت کر دی۔ 586 ق۔ م میں بخت نصر نے ان کے ملک پر حملہ کیا ان کا ہیکل مکمل طور پر تباہ و برباد کر دیا، ہیکل میں سے تابوت سکینہ نکالا، چھ لاکھ کے قریب یہودیوں کو قتل کیا تقریبا" دو لاکھ یہودیوں کو قید کیا اور اپنے ساتھ بابل (عراق) لے گیا شہر سے باھر یہودی غلاموں کی ایک بستی تعمیر کی جس کا نام تل ابیب رکھا گیا۔ 70 سال تک ہیکل صفحہ ھستی سے مٹا رھا۔ دوسری طرف بخت نصر نے تابوت سکینہ کی شدید بے حرمتی کی اور اسی کہیں پھینک دیا کہا جاتا ہے اس حرکت کا عذاب اسے اس کے ملک کو اس طرح ملا کہ سن 539 ق۔ م میں ایران کے بادشاہ سائرس نے بابل ( عراق) پر حملہ کر دیا اور بابل کے ولی عہد کو شکست فاش دے کر بابلی سلطنت کا مکمل خاتمہ کر دیا۔ سائرس ایک نرم دل اور انصاف پسند حکمران تھا اس نے تل ابیب کے تمام قیدیوں کو آزاد کرکے ان کو واپس یروشلم جانے کی اجازت دے دی۔ اور ساتھ میں ان کو ہیکل کی نئے سرے سے تعمیر کی بھی اجازت دے دی ساتھ میں اس کی تعمیر کے لئے ھر طرح کی مدد فراھم کرنے کا وعدہ بھی کر
لیا۔
چنانچہ ہیکل کی(دوسری) تعمیر 537 ق م میں شروع ہوئی۔لیکن تعمیر کا کام سر انجام دینے والوں کو اپنے ہم وطن دشمنوں کی اتنی زیادہ مخالفت کا سامنا کرنا پڑا کہ تعمیراتی کام جلد ہی عملی طور پر بند ہو گیااور دارا (Darius) اوّل کے دورِ حکومت تک مداخلت ہی کا شکار رہا۔ اُس کی حکمرانی کے دوسرے سال میں حضرت زکریا علیہ السلام نے وہاں کے گورنر زروبابل اور سردار کاہن یوشواہ (یوشع) کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ ہیکل کی تعمیر ثانی کی دوبارہ کوشش کریں۔ انھوں نے مثبت ردِ عمل کا اظہار کیااور پوری قوم کی پر جوش تائیداور ایرانی حکام اور بذات خودبادشاہ کی اشیرباد سے ہیکلِ ثانی اپنی اضافی تعمیرات سمیت ساڑھے چار سال کے عرصے میں 520۔ 515 ق م پایۂ تکمیل کو پہنچا۔
لیکن اس بار اس میں تابوت سکینہ نہیں مل سکا ۔ اس کے بارے آج تک معلوم نہیں ھوسکا کہ بخت نصر نے اس کا کیا کیا۔ کچھ لوگوں کا کہنا ھے کہ اس مقدس صندوق کی مزید توھین سے بچانے کے لئے اسے اللہ پاک کے حکم سے کسی محفوظ مقام پر معجزانہ طور پر چھپا دیا گیا جس کا کسی انسان کو علم نہیں۔لیکن یہودی اس کی تلاش میں پورے کرہ ارض کو کھود ڈالنا چاھتے ھیں۔
ایک اور دلچسپ بات عام طور پر تاریخ دان ہیکل کی دو دفعہ تعمیر اور دو دفعہ تباھی کا ذکر کرتے ھیں۔ تاریخ کے مطالعے سے ایک بات میرے سامنے آئی کہ ایسا نہیں ، اس ہیکل کو تین بار تعمیر کیا گیا لیکن اس کے ساتھ بھی ایک دلچسپ کہانی وجود میں آئی۔ ھیروڈس بادشاہ جو کہ حضرت عیسی علیہ السلام کی پیدائش سے چند سال پہلے کا بادشاہ ہے اس نے جب اس کی بہتر طریقے سے تعمیر کی نیت کی تو یہودیوں کے دل میں ایک خوف پیدا ھوا کہ اگر اسے نئے سرے سے تعمیر کے لئے گرایا گیا تو دوبارہ تعمیر نہیں ھوگا۔ ھیروڈس نے ان کو بہلانے کے لئے کہا کہ وہ صرف اس کی مرمت کرانا چاھتا ھے اسے گرانا نہیں چاھتا۔ چنانچہ سن 19 ق م میں اس نے ہیکل کے ایک طرف کے حصے کو گرا کر اسے تبدیلی کے ساتھ اور کچھ وسیع کرکے تعمیر کروایا یہ طریقہ کامیاب رھا اور یوں یہودیوں کی عبادت میں خلل ڈالے بغیر تھوڑا تھوڑا کرکے ہیکل گرایا جاتا اور اس کی جگہ نیا اور پہلے سے مختلف ہیکل وجود میں آتا رھا۔ یہ کام اٹھارہ ماہ میں مکمل ھوا اور یوں تیسری بار ھیروڈس کے ذریعے ایک نیا ہیکل وجود میں آ گیا۔ کچھ عرصہ بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ظہور ھوا، اللہ کے اس رسول پر ایک بار پھر یہودیوں نے حسب معمول مظالم کے پہاڑ توڑنے شروع کر دئیے۔ دراصل وہ اپنے مسیحا کے منتظر تھے جو دوبارہ آ کر ان کو پہلے جیسی شان و شوکت عطا کرتا ، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مصلوب ھونے کا واقعہ پیش آیا ، آپ کے مصلوب ھونے کے 70 سال بعد ایک بار پھر یہودیوں پر اللہ کا عذاب نازل ھوا۔ اس بار اس عذاب کا نام ٹائٹس تھا۔ یہ رومی جرنیل، بابل کے بادشاہ بخت نصر سے بھی زیادہ ظالم ثابت ھوا۔ اس نے ایک دن میں لاکھوں یہودیوں کو تہہ تیغ کر دیا۔ اس نے ھیروڈس کے بنائے ھوئے عظیم الشان ہیکل کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ اور یہودیوں کو ھمیشہ کے لئے یروشلم سے نکال باھر کیا۔
یہودی پوری دنیا میں بکھر کر اور رسوا ھوکر رہ گئے۔ کم و بیش اٹھارہ انیس سو سال تک بھٹکنے کے بعد برطانیہ نے جب فلسطین پر قبضہ کیا تو ساتھ ہی ایک ناجائز بچےاسرائیل کو فلسطین میں جنم دے دیا۔ اور یوں صدیوں سے دھکے کھانے والی قوم کو ایک بار پھر اس ملک اسرائیل میں اکٹھے ھونے رھنے کی اجازت مل گئی۔ لیکن یہ قوم اپنی ھزاروں سال پرانی گندی فطرت سے باز نہ آئی ۔ یہ برطانیہ کے جنم دئیے ھوئے اسرائیل تک محدود نہ رھے ایک بار پھر ھمسایہ ممالک کے لئے اپنی فطرت سے مجبور ھوکر مصیبت بننے لگے۔ 5 جون 1967 کو اس نے شام کی گولان کی پہاڑیوں پر قبضہ کر لیا۔ 1968 میں اردن کے مغربی کنارے پر قابض ھوگئے۔ اسی سال مصر کے علاقے پر بھی کنٹرول کر لیا۔ آج اس قوم کی شرارتیں اور پھرتیاں دیکھ کر اندازہ ھوتا ہے کہ یہ آج سے دو تین ھزار سال پہلے بھی کس قدر سازشی رہے ہوں گے۔ جس کی وجہ سے اللہ نے ان پر لعنت کر دی تھی۔ مسلمان ممالک کی بے غیرتی اور بزدلی کی وجہ سے اب اس نے پوری دنیا کے مسلمان ممالک میں آگ لگا کر رکھ دی ہے۔
اب ان کا اگلا مشن جلد ازجلد اسی ہیکل کی تعمیر ھے اور اس ہیکل میں تخت داؤد اور تابوت سکینہ کو دوبارہ رکھنا ہے تاکہ ایک بار پھر یہ اپنے مسایا (یہودی زبان کا لفظ ) مسیحا کے آنے پر پوری دنیا پر اپنی حکومت قائم کر سکیں۔ وہ یہ کام انتہائی تیزرفتاری سے کر رہے ھیں۔ اس ہیکل کی تعمیر کے نتیجے میں یہ پوری دنیا جنگ کی آگ میں لپٹ جائے گی۔امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا اسرائیل کے دارالخلافہ کی تبدیلی کا اعلان بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ لیکن مسلمان اقوام کو کوئی پرواہ نہیں۔
چنانچہ ہیکل کی(دوسری) تعمیر 537 ق م میں شروع ہوئی۔لیکن تعمیر کا کام سر انجام دینے والوں کو اپنے ہم وطن دشمنوں کی اتنی زیادہ مخالفت کا سامنا کرنا پڑا کہ تعمیراتی کام جلد ہی عملی طور پر بند ہو گیااور دارا (Darius) اوّل کے دورِ حکومت تک مداخلت ہی کا شکار رہا۔ اُس کی حکمرانی کے دوسرے سال میں حضرت زکریا علیہ السلام نے وہاں کے گورنر زروبابل اور سردار کاہن یوشواہ (یوشع) کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ ہیکل کی تعمیر ثانی کی دوبارہ کوشش کریں۔ انھوں نے مثبت ردِ عمل کا اظہار کیااور پوری قوم کی پر جوش تائیداور ایرانی حکام اور بذات خودبادشاہ کی اشیرباد سے ہیکلِ ثانی اپنی اضافی تعمیرات سمیت ساڑھے چار سال کے عرصے میں 520۔ 515 ق م پایۂ تکمیل کو پہنچا۔
لیکن اس بار اس میں تابوت سکینہ نہیں مل سکا ۔ اس کے بارے آج تک معلوم نہیں ھوسکا کہ بخت نصر نے اس کا کیا کیا۔ کچھ لوگوں کا کہنا ھے کہ اس مقدس صندوق کی مزید توھین سے بچانے کے لئے اسے اللہ پاک کے حکم سے کسی محفوظ مقام پر معجزانہ طور پر چھپا دیا گیا جس کا کسی انسان کو علم نہیں۔لیکن یہودی اس کی تلاش میں پورے کرہ ارض کو کھود ڈالنا چاھتے ھیں۔
ایک اور دلچسپ بات عام طور پر تاریخ دان ہیکل کی دو دفعہ تعمیر اور دو دفعہ تباھی کا ذکر کرتے ھیں۔ تاریخ کے مطالعے سے ایک بات میرے سامنے آئی کہ ایسا نہیں ، اس ہیکل کو تین بار تعمیر کیا گیا لیکن اس کے ساتھ بھی ایک دلچسپ کہانی وجود میں آئی۔ ھیروڈس بادشاہ جو کہ حضرت عیسی علیہ السلام کی پیدائش سے چند سال پہلے کا بادشاہ ہے اس نے جب اس کی بہتر طریقے سے تعمیر کی نیت کی تو یہودیوں کے دل میں ایک خوف پیدا ھوا کہ اگر اسے نئے سرے سے تعمیر کے لئے گرایا گیا تو دوبارہ تعمیر نہیں ھوگا۔ ھیروڈس نے ان کو بہلانے کے لئے کہا کہ وہ صرف اس کی مرمت کرانا چاھتا ھے اسے گرانا نہیں چاھتا۔ چنانچہ سن 19 ق م میں اس نے ہیکل کے ایک طرف کے حصے کو گرا کر اسے تبدیلی کے ساتھ اور کچھ وسیع کرکے تعمیر کروایا یہ طریقہ کامیاب رھا اور یوں یہودیوں کی عبادت میں خلل ڈالے بغیر تھوڑا تھوڑا کرکے ہیکل گرایا جاتا اور اس کی جگہ نیا اور پہلے سے مختلف ہیکل وجود میں آتا رھا۔ یہ کام اٹھارہ ماہ میں مکمل ھوا اور یوں تیسری بار ھیروڈس کے ذریعے ایک نیا ہیکل وجود میں آ گیا۔ کچھ عرصہ بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ظہور ھوا، اللہ کے اس رسول پر ایک بار پھر یہودیوں نے حسب معمول مظالم کے پہاڑ توڑنے شروع کر دئیے۔ دراصل وہ اپنے مسیحا کے منتظر تھے جو دوبارہ آ کر ان کو پہلے جیسی شان و شوکت عطا کرتا ، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مصلوب ھونے کا واقعہ پیش آیا ، آپ کے مصلوب ھونے کے 70 سال بعد ایک بار پھر یہودیوں پر اللہ کا عذاب نازل ھوا۔ اس بار اس عذاب کا نام ٹائٹس تھا۔ یہ رومی جرنیل، بابل کے بادشاہ بخت نصر سے بھی زیادہ ظالم ثابت ھوا۔ اس نے ایک دن میں لاکھوں یہودیوں کو تہہ تیغ کر دیا۔ اس نے ھیروڈس کے بنائے ھوئے عظیم الشان ہیکل کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ اور یہودیوں کو ھمیشہ کے لئے یروشلم سے نکال باھر کیا۔
یہودی پوری دنیا میں بکھر کر اور رسوا ھوکر رہ گئے۔ کم و بیش اٹھارہ انیس سو سال تک بھٹکنے کے بعد برطانیہ نے جب فلسطین پر قبضہ کیا تو ساتھ ہی ایک ناجائز بچےاسرائیل کو فلسطین میں جنم دے دیا۔ اور یوں صدیوں سے دھکے کھانے والی قوم کو ایک بار پھر اس ملک اسرائیل میں اکٹھے ھونے رھنے کی اجازت مل گئی۔ لیکن یہ قوم اپنی ھزاروں سال پرانی گندی فطرت سے باز نہ آئی ۔ یہ برطانیہ کے جنم دئیے ھوئے اسرائیل تک محدود نہ رھے ایک بار پھر ھمسایہ ممالک کے لئے اپنی فطرت سے مجبور ھوکر مصیبت بننے لگے۔ 5 جون 1967 کو اس نے شام کی گولان کی پہاڑیوں پر قبضہ کر لیا۔ 1968 میں اردن کے مغربی کنارے پر قابض ھوگئے۔ اسی سال مصر کے علاقے پر بھی کنٹرول کر لیا۔ آج اس قوم کی شرارتیں اور پھرتیاں دیکھ کر اندازہ ھوتا ہے کہ یہ آج سے دو تین ھزار سال پہلے بھی کس قدر سازشی رہے ہوں گے۔ جس کی وجہ سے اللہ نے ان پر لعنت کر دی تھی۔ مسلمان ممالک کی بے غیرتی اور بزدلی کی وجہ سے اب اس نے پوری دنیا کے مسلمان ممالک میں آگ لگا کر رکھ دی ہے۔
اب ان کا اگلا مشن جلد ازجلد اسی ہیکل کی تعمیر ھے اور اس ہیکل میں تخت داؤد اور تابوت سکینہ کو دوبارہ رکھنا ہے تاکہ ایک بار پھر یہ اپنے مسایا (یہودی زبان کا لفظ ) مسیحا کے آنے پر پوری دنیا پر اپنی حکومت قائم کر سکیں۔ وہ یہ کام انتہائی تیزرفتاری سے کر رہے ھیں۔ اس ہیکل کی تعمیر کے نتیجے میں یہ پوری دنیا جنگ کی آگ میں لپٹ جائے گی۔امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا اسرائیل کے دارالخلافہ کی تبدیلی کا اعلان بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ لیکن مسلمان اقوام کو کوئی پرواہ نہیں۔
آپ اندازہ کیجئے یہودیوں کو جس بستی تل ابیب میں بخت نصر نے قیدی بنا کر رکھا تھا وہ اس کو آج تک نہیں بھولے ، انہوں نے اسرائیل بنانے کے بعد اپنے ایک شہر کا نام تل ابیب رکھ لیا۔ جبکہ ھم مسلمان اس مسجد اقصی کو بھی بھول چکے ھیں جہاں ھمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے معراج کا سفر شروع کیا تھا۔ یہودی آج تک بار بار گرائے گئے ہیکل کو نہیں بھولے حتی کہ اس میں رکھے تابوت سکینہ کی تلاش میں پوری دنیا کو کھود دینا چاہتے ہیں جبکہ ہم کو یہ بھی یاد نہیں کہ عراق میں کتنے انبیا اولیاء کے مزارات پچھلے کچھ عرصہ میں بم لگا کر شہید کر دئیے گئے ہیں۔ وہ بھی اس تنظیم داعش نے کئے ہیں جن کے تانتے بانتے اسرائیل سے ملتے ہیں۔ جن کے لیڈر ابوبکر بغدادی کا بیان تھا خدا ہمیں اسرائیل کے خلاف جہاد کا حکم نہیں دیتا۔ اس تنظیم کی ساری توجہ مسلمانوں کو مارنے میں ہی لگی رہی اور اب تک ہے۔ کبھی مکے اور مدینے پر حملے کی دھمکیاں دیتے ہیں۔ اور کبھی انتشار پھیلانے کےلئے مسلمان ملکوں میں بم دھماکے کرتے ہیں۔“
#copy
https://www.facebook.com/100000534718136/posts/4142503215777461/
#copy
https://www.facebook.com/100000534718136/posts/4142503215777461/
Facebook
Log in to Facebook
Log in to Facebook to start sharing and connecting with your friends, family and people you know.
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
مبسملا وحامدا::ومصلیا ومسلما
اسلام وکفر کی جنگ
یا
دو بادشاہوں کی جنگ
بھارت میں ہندو مسلم نفرت پھیلانے کے لئے عہد ماضی کے مسلم بادشاہوں اور ہندو راجاؤں کے درمیان لڑی جانے والی جنگوں کو مسخ کر کے پیش کیا جاتا ہے اور لوگوں کو یہ بتانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ یہ دو مذہبوں کی جنگیں ہیں اور مسلم بادشاہوں نے اسلام پھیلانے لئے یہ جنگیں کی ہیں۔
جواب یہ ہے کہ یہ دو مذہبوں کی جنگیں نہیں,بلکہ سلطنت و حکومت کے حصول کے لئے یہ جنگیں لڑی گئیں۔
افغانستان کے بادشاہ بابر نے بھارت پر حملہ کیا,تاکہ اس کی سلطنت و بادشاہت کا دائرہ وسیع ہو جائے۔ اس وقت بھارت میں ابراہیم لودھی کی حکومت تھی,یعنی مسلمانوں کی حکومت تھی۔
اگر بابر بھارت میں اسلام پھیلانے کی نیت رکھتا تو وہ لودھی سلطنت سے فروغ اسلام کی گزارش کرتا۔بھارت میں اسلامی مبلغین بھیجنے کی اجازت طلب کرتا۔
کم ازکم جب بابر بھارت پر قبضہ جما لیا تھا,اس وقت وہ ضرور ملک بھر میں اسلامی مبلغین کو بھیجتا اور تبلیغ اسلام وفروغ اسلام کی کوشش کرتا۔لیکن ایسی کوئی روایت نہیں کہ بابر نے اسلامی مبلغین کا قافلہ ملک کے مختلف حصوں میں تبلیغ اسلام کے لئے بھیجا ہو۔
بھارت میں صوفیائے کرام نے تبلیغ اسلام کی ہے,نہ کہ سلاطین و حکام نے۔
بابر کے پوتے اکبر نے مذہب اسلام کے بالمقابل ایک مخلوط مذہب "دین اکبری" ایجاد کیا,تاکہ ہندو مسلم سب مل کر اس کی سلطنت و بادشاہت کو تسلیم کریں اور اس کی تائید کریں۔
جس طرح بابر نے ابراہیم لودھی سے جنگ کی,تاکہ وہ اپنی سلطنت کا دائرہ وسیع کرے,اسی طرح بھارت کے دیگر ہندو راجاؤں سے بھی اپنی سلطنت کی وسعت اور اپنے مقبوضات کی حفاظت کے لئے جنگیں کیں۔
بابر بادشاہ کے حالات صرف مثال کے طور پر مرقوم ہوئے۔محمد بن قاسم کے بعد افغان کے مسلم سلاطین کی طرف سے بھارت پر حملہ اپنی سلطنت کی توسیع یا اپنے مقبوضات کے تحفظ کے لئے تھا۔
یہ جنگیں نہ ہی مذہبی تھیں,نہ ہی مذہب کے نام پر لڑی گئیں, بلکہ حصول سلطنت وتحفظ مملکت کی یہ جنگیں تھیں,اسی لئے مسلم بادشاہوں کے سپہ سالار ہندو ہوتے اور ہندو راجاؤں کہ سپہ سالار مسلمان ہوتے۔
عہد سلاطین میں فریقین یہی سمجھتے تھے کہ یہ دو بادشاہوں کی جنگیں ہیں۔کوئی ان جنگوں کو مذہبی جنگ نہیں سمجھتا تھا۔
انگریزوں کے عہد میں ہندو مسلم تفریق کے لئے ایسے غلط نظریات بنائےگئے,تاکہ برطانوی حکومت کو قوت واستحکام حاصل ہو۔اب شدت پسند اور متعصب ہندو تنظیمیں اسی نظریہ کو پھیلا کر بی جے پی کے لئے ماحول سازی کرتی ہیں۔
ڈاکٹر رام پنیانی(Ram Puniyani) نے ہندی میں بہت سے وڈیو بنایا ہے۔اس میں متعصب ہندؤں کی سازش کو بے نقاب کیا ہے اور ثابت کیا ہے کہ یہ مذہبی جنگیں نہیں تھیں,بلکہ دو راجاؤں کی جنگیں تھیں۔یوٹیوب پر اس کے ویڈیو دستیاب ہیں۔
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:14:جنوری 2021
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/847493062487880/
اسلام وکفر کی جنگ
یا
دو بادشاہوں کی جنگ
بھارت میں ہندو مسلم نفرت پھیلانے کے لئے عہد ماضی کے مسلم بادشاہوں اور ہندو راجاؤں کے درمیان لڑی جانے والی جنگوں کو مسخ کر کے پیش کیا جاتا ہے اور لوگوں کو یہ بتانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ یہ دو مذہبوں کی جنگیں ہیں اور مسلم بادشاہوں نے اسلام پھیلانے لئے یہ جنگیں کی ہیں۔
جواب یہ ہے کہ یہ دو مذہبوں کی جنگیں نہیں,بلکہ سلطنت و حکومت کے حصول کے لئے یہ جنگیں لڑی گئیں۔
افغانستان کے بادشاہ بابر نے بھارت پر حملہ کیا,تاکہ اس کی سلطنت و بادشاہت کا دائرہ وسیع ہو جائے۔ اس وقت بھارت میں ابراہیم لودھی کی حکومت تھی,یعنی مسلمانوں کی حکومت تھی۔
اگر بابر بھارت میں اسلام پھیلانے کی نیت رکھتا تو وہ لودھی سلطنت سے فروغ اسلام کی گزارش کرتا۔بھارت میں اسلامی مبلغین بھیجنے کی اجازت طلب کرتا۔
کم ازکم جب بابر بھارت پر قبضہ جما لیا تھا,اس وقت وہ ضرور ملک بھر میں اسلامی مبلغین کو بھیجتا اور تبلیغ اسلام وفروغ اسلام کی کوشش کرتا۔لیکن ایسی کوئی روایت نہیں کہ بابر نے اسلامی مبلغین کا قافلہ ملک کے مختلف حصوں میں تبلیغ اسلام کے لئے بھیجا ہو۔
بھارت میں صوفیائے کرام نے تبلیغ اسلام کی ہے,نہ کہ سلاطین و حکام نے۔
بابر کے پوتے اکبر نے مذہب اسلام کے بالمقابل ایک مخلوط مذہب "دین اکبری" ایجاد کیا,تاکہ ہندو مسلم سب مل کر اس کی سلطنت و بادشاہت کو تسلیم کریں اور اس کی تائید کریں۔
جس طرح بابر نے ابراہیم لودھی سے جنگ کی,تاکہ وہ اپنی سلطنت کا دائرہ وسیع کرے,اسی طرح بھارت کے دیگر ہندو راجاؤں سے بھی اپنی سلطنت کی وسعت اور اپنے مقبوضات کی حفاظت کے لئے جنگیں کیں۔
بابر بادشاہ کے حالات صرف مثال کے طور پر مرقوم ہوئے۔محمد بن قاسم کے بعد افغان کے مسلم سلاطین کی طرف سے بھارت پر حملہ اپنی سلطنت کی توسیع یا اپنے مقبوضات کے تحفظ کے لئے تھا۔
یہ جنگیں نہ ہی مذہبی تھیں,نہ ہی مذہب کے نام پر لڑی گئیں, بلکہ حصول سلطنت وتحفظ مملکت کی یہ جنگیں تھیں,اسی لئے مسلم بادشاہوں کے سپہ سالار ہندو ہوتے اور ہندو راجاؤں کہ سپہ سالار مسلمان ہوتے۔
عہد سلاطین میں فریقین یہی سمجھتے تھے کہ یہ دو بادشاہوں کی جنگیں ہیں۔کوئی ان جنگوں کو مذہبی جنگ نہیں سمجھتا تھا۔
انگریزوں کے عہد میں ہندو مسلم تفریق کے لئے ایسے غلط نظریات بنائےگئے,تاکہ برطانوی حکومت کو قوت واستحکام حاصل ہو۔اب شدت پسند اور متعصب ہندو تنظیمیں اسی نظریہ کو پھیلا کر بی جے پی کے لئے ماحول سازی کرتی ہیں۔
ڈاکٹر رام پنیانی(Ram Puniyani) نے ہندی میں بہت سے وڈیو بنایا ہے۔اس میں متعصب ہندؤں کی سازش کو بے نقاب کیا ہے اور ثابت کیا ہے کہ یہ مذہبی جنگیں نہیں تھیں,بلکہ دو راجاؤں کی جنگیں تھیں۔یوٹیوب پر اس کے ویڈیو دستیاب ہیں۔
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:14:جنوری 2021
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/847493062487880/
Facebook
Log in to Facebook
Log in to Facebook to start sharing and connecting with your friends, family and people you know.
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
پیر ذو الفقار نقشبندی سنی نہیں ہے! https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2912299389049369&id=100008080090753
از قلم : سید کامران قادری مدنی عفی عنہ
کافی دفعہ گروپس میں بدمذھبوں کی کتابوں کی پوسٹس پڑھنے کو ملی انھیں میں سے ایک پوسٹ میں "خطباتِ فقیر" کا مطالبہ کیا گیا مناسب سمجھا کیوں نہ اس کتاب کی حقیقت واضح کر کے خیر خواہی مسلمین کی جائے۔خطباتِ فقیر نامی کتاب ذوالفقار نقشبندی دیوبندی کی ہے جو اپنے آپ کو نقشبندی کہلواتا ہے اور یوں سیکڑت طریقے سے اپنا کام کر رہا ہے جبکہ آج اس شخص کی حقیقت آپ کے سامنے واضح کی جائے گی۔لیکن سب سےپہلے یہ پڑھتے جائیں کہ بدمذھبوں کے بیانات سننا ان کے لٹریچر کو پڑھنا کس قدر زہرِ قاتل ہے اس کے لئے زیادہ نہیں صرف ایک حوالہ ملفوظاتِ اعلی حضرت سے پیش ہے ملاحظہ فرمائیں:"بد مذہبوں کی کتب پڑھناجائز نہیں؟
( پھر فرمایا) اِسی واسطے ناقص بلکہ کامل کو بھی بلا ضرورت بدمذہبوں کی کتابیں دیکھنا ناجائز ہے کہ انسان ہے، ممکن ہے کوئی بات مَعَاذَ ﷲ(عَزَّوَجَلَّ) دل میں جم جائے اور ہلاک ہوجائے۔
بدمذہبوں کے رد میں پہلی تصنیف
امام حارث محاسبی(رحمۃاللہ تعالٰی علیہ ) نے بدمذہبوں کے ردّ میں ایک کتاب تصنیف کی، اور وہ بدمذہبوں کے ردّ میں پہلی تصنیف تھی۔ امام احمد رحمۃ ﷲ تعالیٰ علیہ نے ان سے کلام کرنا چھوڑ دیا۔ کہا :''مجھ سے کیا خطا ہوئی ؟میں نے ان کا ردّ ہی تو کیا ہے۔''فرمایا :''کیا ممکن نہیں ہے کہ تم نے جو کلام بدمذہبوں کا نقل کیا ہے کسی کے دل میں جم جائے اور وہ گمراہ ہو جائے۔''
(احیاء علوم الدین ،کتاب قواعد العقائد ،الفصل الثانی فی وجہ التدریج ۔۔۔۔۔۔الخ ،ج۱،ص ۱۳۲)
رَدّ کی ضرورت
( پھر فرمایا) پہلے تلوار تھی، ردّ کی حاجت نہ تھی، تلوار کے ذریعہ سارا انتظام ہوسکتاتھا۔ اَب کہ ہمارے پاس سوائے ردّکے کوئی علاج نہیں،'' ردّ کرنا فرض ہے۔'' حدیث میں ارشاد ہوا:
اِذَا ظَھَرَتِ الْفِتَنُ اَوْقَالَ الْبِدَعُ فَلْیُظْھِرِ الْعَالِمُ عِلْمَہُ وَمَنْ لَّمْ یَفْعَل ذٰلِکَ فَعَلَیْہِ لَعْنَۃُ اللہِ وَالْمَلٰئِکَۃِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِیْنَ لَا یَقْبَلُ اللہُ لَہٗ صَرْفًا وَّ لَا عَدْلاً
جب فتنے یا بدمذہبیاں ظاہر ہوں تو فرض ہے کہ عالم اپنا علم ظاہر کرے اورجو ایسا نہ کرے تو اس پر ﷲ(عَزَّوَجَلَّ) اور فرشتوں اور تمام آدمیوں کی لعنت ، ﷲ(عَزَّوَجَلَّ)نہ اس کا فرض قبول کرے نہ نفل ۔
(الجامع لاخلاق الراوی وآداب ،باب اذا ظہرت الفتن، الحدیث۱۳۶۶،ص۳۰۸)
حضرت سعید بن جُبَیررضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بدمذہب کی بات سننے سے انکار کردیا
( پھر فرمایا) امام سعید ابنِ جُبَیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ راستہ میں تشریف لیے جاتے تھے ایک بدمذہب ملا۔ امام سے کہا :میں کچھ عرض کرنا چاہتا ہوں۔فرمایا: میں سننا نہیں چاہتا ۔اس نے کہا: صرف ایک بات ۔آپ نے چھنگلیا کے پہلے پَورے پر انگوٹھا رکھ کر فرمایا: ''وَلا نِصْفَ کَلِمَۃٍ '' آدھی بات بھی نہیں سنوں گا ۔ لوگوں نے سبب پوچھا ۔فرمایا : ''ازایشاں''منھم( یعنی انہیں بدمذہبو ں میں سے۔ت )ہے۔ (ماخوذ،سنن الدارمی،باب اجتناب اہل الاہواء، الحدیث۳۹۹،ج۱،ص۱۲۰،۱۲۱)
رد کون کرے؟
( پھر فرمایا) اَکابر کی تویہ حالت اور اب یہ حالت ہے کہ جاہل سا جاہل چٹا پڑتا ہے آریوں سے وہابیوں سے اور کچھ خوف نہیں کرتا ۔جو تمام فنون کا ماہر ہو، تمام پیچ جانتا ہو، پوری طاقت رکھتا ہو، تمام ہتھیار پاس ہوں اس کو بھی کیا ضرور کہ خواہ مخواہ بھیڑیوں کے جنگل میں جائے ،ہاں اگر ضرورت ہی آپڑے تو مجبوری ہے۔ ﷲ (عَزَّوَجَلَّ)پر توکُّل کرکے ان ہتھیاروں سے کام لے۔(ملفوظاتِ اعلی حضرت، ص 434)
اس دیوبندی کے متعلق جاننے کے لئے اس کی کتاب کی کچھ جلدوں کو دیکھا جن میں اس دیوبندی نے اشرفعلی قاسم نانوتوی وغیرہ مرتدین کی بڑی تعریف کی نہ صرف تعریف کی بلکہ ان کی سیرت پہ کئی ورق سیاہ کئے۔ پھر ایک دیوبندی دارالافتاء کا اس شخص کے متعلق سوال و جواب پڑھا جس میں سائل نے کچھ یوں سوال کیا " Pakistan
Question: 35495
پاکستان میں جو پیر ذوالفقار احمد نقشبندی جو سلسلہ نقشبندی مجددی کے شیخ ہیں ان کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟
Nov 03,2011
Answer: 35495
فتوی(م): 1828=1828-12/1432
پیر فقیر حضرت ذوالفقار احمد صاحب نقشبندی سلسلے کے صاحب نسبت بزرگ ہیں، اہل سنت والجماعت میں سے ہیں، دارالعلوم دیوبند اور اکابر دارالعلوم سے گہری اور سچی عقیدت رکھتے ہیں دارالعلوم کے ہم مشرب ہیں۔
واللہ تعالیٰ اعلم اب اس کی کتابوں سے مرتدین کی تعریفات ملاحظہ فرمائیں جو اس شخص کے دیوبندی ہونے کی تائید کرتی ہیں۔
کافی دفعہ گروپس میں بدمذھبوں کی کتابوں کی پوسٹس پڑھنے کو ملی انھیں میں سے ایک پوسٹ میں "خطباتِ فقیر" کا مطالبہ کیا گیا مناسب سمجھا کیوں نہ اس کتاب کی حقیقت واضح کر کے خیر خواہی مسلمین کی جائے۔خطباتِ فقیر نامی کتاب ذوالفقار نقشبندی دیوبندی کی ہے جو اپنے آپ کو نقشبندی کہلواتا ہے اور یوں سیکڑت طریقے سے اپنا کام کر رہا ہے جبکہ آج اس شخص کی حقیقت آپ کے سامنے واضح کی جائے گی۔لیکن سب سےپہلے یہ پڑھتے جائیں کہ بدمذھبوں کے بیانات سننا ان کے لٹریچر کو پڑھنا کس قدر زہرِ قاتل ہے اس کے لئے زیادہ نہیں صرف ایک حوالہ ملفوظاتِ اعلی حضرت سے پیش ہے ملاحظہ فرمائیں:"بد مذہبوں کی کتب پڑھناجائز نہیں؟
( پھر فرمایا) اِسی واسطے ناقص بلکہ کامل کو بھی بلا ضرورت بدمذہبوں کی کتابیں دیکھنا ناجائز ہے کہ انسان ہے، ممکن ہے کوئی بات مَعَاذَ ﷲ(عَزَّوَجَلَّ) دل میں جم جائے اور ہلاک ہوجائے۔
بدمذہبوں کے رد میں پہلی تصنیف
امام حارث محاسبی(رحمۃاللہ تعالٰی علیہ ) نے بدمذہبوں کے ردّ میں ایک کتاب تصنیف کی، اور وہ بدمذہبوں کے ردّ میں پہلی تصنیف تھی۔ امام احمد رحمۃ ﷲ تعالیٰ علیہ نے ان سے کلام کرنا چھوڑ دیا۔ کہا :''مجھ سے کیا خطا ہوئی ؟میں نے ان کا ردّ ہی تو کیا ہے۔''فرمایا :''کیا ممکن نہیں ہے کہ تم نے جو کلام بدمذہبوں کا نقل کیا ہے کسی کے دل میں جم جائے اور وہ گمراہ ہو جائے۔''
(احیاء علوم الدین ،کتاب قواعد العقائد ،الفصل الثانی فی وجہ التدریج ۔۔۔۔۔۔الخ ،ج۱،ص ۱۳۲)
رَدّ کی ضرورت
( پھر فرمایا) پہلے تلوار تھی، ردّ کی حاجت نہ تھی، تلوار کے ذریعہ سارا انتظام ہوسکتاتھا۔ اَب کہ ہمارے پاس سوائے ردّکے کوئی علاج نہیں،'' ردّ کرنا فرض ہے۔'' حدیث میں ارشاد ہوا:
اِذَا ظَھَرَتِ الْفِتَنُ اَوْقَالَ الْبِدَعُ فَلْیُظْھِرِ الْعَالِمُ عِلْمَہُ وَمَنْ لَّمْ یَفْعَل ذٰلِکَ فَعَلَیْہِ لَعْنَۃُ اللہِ وَالْمَلٰئِکَۃِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِیْنَ لَا یَقْبَلُ اللہُ لَہٗ صَرْفًا وَّ لَا عَدْلاً
جب فتنے یا بدمذہبیاں ظاہر ہوں تو فرض ہے کہ عالم اپنا علم ظاہر کرے اورجو ایسا نہ کرے تو اس پر ﷲ(عَزَّوَجَلَّ) اور فرشتوں اور تمام آدمیوں کی لعنت ، ﷲ(عَزَّوَجَلَّ)نہ اس کا فرض قبول کرے نہ نفل ۔
(الجامع لاخلاق الراوی وآداب ،باب اذا ظہرت الفتن، الحدیث۱۳۶۶،ص۳۰۸)
حضرت سعید بن جُبَیررضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بدمذہب کی بات سننے سے انکار کردیا
( پھر فرمایا) امام سعید ابنِ جُبَیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ راستہ میں تشریف لیے جاتے تھے ایک بدمذہب ملا۔ امام سے کہا :میں کچھ عرض کرنا چاہتا ہوں۔فرمایا: میں سننا نہیں چاہتا ۔اس نے کہا: صرف ایک بات ۔آپ نے چھنگلیا کے پہلے پَورے پر انگوٹھا رکھ کر فرمایا: ''وَلا نِصْفَ کَلِمَۃٍ '' آدھی بات بھی نہیں سنوں گا ۔ لوگوں نے سبب پوچھا ۔فرمایا : ''ازایشاں''منھم( یعنی انہیں بدمذہبو ں میں سے۔ت )ہے۔ (ماخوذ،سنن الدارمی،باب اجتناب اہل الاہواء، الحدیث۳۹۹،ج۱،ص۱۲۰،۱۲۱)
رد کون کرے؟
( پھر فرمایا) اَکابر کی تویہ حالت اور اب یہ حالت ہے کہ جاہل سا جاہل چٹا پڑتا ہے آریوں سے وہابیوں سے اور کچھ خوف نہیں کرتا ۔جو تمام فنون کا ماہر ہو، تمام پیچ جانتا ہو، پوری طاقت رکھتا ہو، تمام ہتھیار پاس ہوں اس کو بھی کیا ضرور کہ خواہ مخواہ بھیڑیوں کے جنگل میں جائے ،ہاں اگر ضرورت ہی آپڑے تو مجبوری ہے۔ ﷲ (عَزَّوَجَلَّ)پر توکُّل کرکے ان ہتھیاروں سے کام لے۔(ملفوظاتِ اعلی حضرت، ص 434)
اس دیوبندی کے متعلق جاننے کے لئے اس کی کتاب کی کچھ جلدوں کو دیکھا جن میں اس دیوبندی نے اشرفعلی قاسم نانوتوی وغیرہ مرتدین کی بڑی تعریف کی نہ صرف تعریف کی بلکہ ان کی سیرت پہ کئی ورق سیاہ کئے۔ پھر ایک دیوبندی دارالافتاء کا اس شخص کے متعلق سوال و جواب پڑھا جس میں سائل نے کچھ یوں سوال کیا " Pakistan
Question: 35495
پاکستان میں جو پیر ذوالفقار احمد نقشبندی جو سلسلہ نقشبندی مجددی کے شیخ ہیں ان کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟
Nov 03,2011
Answer: 35495
فتوی(م): 1828=1828-12/1432
پیر فقیر حضرت ذوالفقار احمد صاحب نقشبندی سلسلے کے صاحب نسبت بزرگ ہیں، اہل سنت والجماعت میں سے ہیں، دارالعلوم دیوبند اور اکابر دارالعلوم سے گہری اور سچی عقیدت رکھتے ہیں دارالعلوم کے ہم مشرب ہیں۔
واللہ تعالیٰ اعلم اب اس کی کتابوں سے مرتدین کی تعریفات ملاحظہ فرمائیں جو اس شخص کے دیوبندی ہونے کی تائید کرتی ہیں۔
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
بے حیائی اور بے راہ روی کے اس دور میں علماے کرام پر لازم ہے کہ لوگوں کو نکاح کی رغبت دلائیں ، ایک سے زیادہ نکاح کرنے کا ان میں حوصلہ پیدا کریں ؛ تاکہ گناہوں کے دروازے بند ہوسکیں اور لوگ دینِ فطرت کی طرف رجوع کرسکیں ۔
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3060540280892807&id=100008105947430
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3060540280892807&id=100008105947430
Facebook
Log in to Facebook
Log in to Facebook to start sharing and connecting with your friends, family and people you know.
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
تقریباً بیس سال پہلے کی بات ہے ، مجھے معلوم ہوا کہ:
عالمِ ربانی قبلہ مفتی فیض احمد اویسی رحمہ اللہ ہمارے علاقے میں تشریف لارہے ہیں تو میں بڑے شوق سے زیارت کرنے کے لیے گیا ، اور آپ کی تشریف آوری سے کافی دیر پہلے ہی جلسہ گاہ میں پہنچ گیا ۔
آپ جب تشریف لائے تو ویڈیو بن رہی تھی ، آپ نے کیمرہ دیکھ کر منھ پھیر لیا اور فرمانے لگے:
اسے بند کریں ! آپ لوگ محفل اس لیے کررہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ راضی ہو اور وہ ایسے کاموں ( مووی وغیرہ بنانے ) سے راضی نہیں ہوتا ۔
مجھے آپ کا یہ جملہ بہت اچھا لگا اورمیں نے نیت کی کہ انشاءاللہ ویڈیو اور تصویر سے بچنے کی کوشش کیا کروں گا ۔
دینی ویڈیو اور موجودہ تصویر وغیرہ کا مسئلہ علماے اہل سنت کے مابین اختلافی ہے ، اگرچہ معتد بہ اس کے جواز کے قائل ہوچکے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ لیکن ہمارا دل اب بھی اسی طرف راغب ہے کہ:
" اصحاب تقوی اس سے منع فرماگئے ، تو بچنا چاہیے ۔ "
شوقیہ تصویریں ، فضول ویڈیوز اور سیلفیوں کے بجائے اپنے احوال بہتر کرنےچاہییں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہماری تصویریں دیکھ کر ہوسکتا ہے اہلِ محبت سراہیں ، واہ واہ کریں ؛ لیکن اگر ہمارا معاملہ اللہ رب العزت کے ساتھ درست نہ ہوا تو ہلاکت ہی ہلاکت ہو گی ۔
✍️لقمان شاہد
10-1-2021 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3062103297403172&id=100008105947430
عالمِ ربانی قبلہ مفتی فیض احمد اویسی رحمہ اللہ ہمارے علاقے میں تشریف لارہے ہیں تو میں بڑے شوق سے زیارت کرنے کے لیے گیا ، اور آپ کی تشریف آوری سے کافی دیر پہلے ہی جلسہ گاہ میں پہنچ گیا ۔
آپ جب تشریف لائے تو ویڈیو بن رہی تھی ، آپ نے کیمرہ دیکھ کر منھ پھیر لیا اور فرمانے لگے:
اسے بند کریں ! آپ لوگ محفل اس لیے کررہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ راضی ہو اور وہ ایسے کاموں ( مووی وغیرہ بنانے ) سے راضی نہیں ہوتا ۔
مجھے آپ کا یہ جملہ بہت اچھا لگا اورمیں نے نیت کی کہ انشاءاللہ ویڈیو اور تصویر سے بچنے کی کوشش کیا کروں گا ۔
دینی ویڈیو اور موجودہ تصویر وغیرہ کا مسئلہ علماے اہل سنت کے مابین اختلافی ہے ، اگرچہ معتد بہ اس کے جواز کے قائل ہوچکے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ لیکن ہمارا دل اب بھی اسی طرف راغب ہے کہ:
" اصحاب تقوی اس سے منع فرماگئے ، تو بچنا چاہیے ۔ "
شوقیہ تصویریں ، فضول ویڈیوز اور سیلفیوں کے بجائے اپنے احوال بہتر کرنےچاہییں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہماری تصویریں دیکھ کر ہوسکتا ہے اہلِ محبت سراہیں ، واہ واہ کریں ؛ لیکن اگر ہمارا معاملہ اللہ رب العزت کے ساتھ درست نہ ہوا تو ہلاکت ہی ہلاکت ہو گی ۔
✍️لقمان شاہد
10-1-2021 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3062103297403172&id=100008105947430
Facebook
Log in to Facebook
Log in to Facebook to start sharing and connecting with your friends, family and people you know.
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
آپ جو مرضی کَہ لیں ، جیسے مرضی کَہ لیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بعض مہربانوں نے وہی سمجھنا ہوتا ہے جو اُن کی سمجھ میں آرہا ہوتا ہے ۔
انھوں نے نہ آپ کے الفاظ دیکھنے ہوتے ہیں ، نہ شخصیت پرکھنی ہوتی ہے ، نہ لب و لہجے پر غور کرنا ہوتا ہے ، اور نہ ہی بات کو صحیح طریقے سے سمجھنے کی کوشش کرنی ہوتی ہے ۔
ایسے پیاروں پر خفا نہیں ہونا چاہیے ، انھیں دو چار پھول 🌹🌹🌹 پیش کردینے چاہییں ۔۔۔۔۔۔۔۔ جنھیں سونگھ کرمشامِ جاں معطر ہوجائیں اور بات صحیح طرح سے سمجھنے کی صلاحیت پیدا ہوسکے ۔ ؎
بدن کا رمز سمجھ ، روح کا اشارہ سمجھ
مجھے سمجھ نہ سمجھ ، دکھ مِرا خُدارا سمجھ
نہیں تو وقت ہی سمجھائے گا تجھے اِک دن
میں چاہتا ہوں ، " مری بات کو دوبارہ سمجھ " !
✍️لقمان شاہد
10-1-2021 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3062295300717305&id=100008105947430
انھوں نے نہ آپ کے الفاظ دیکھنے ہوتے ہیں ، نہ شخصیت پرکھنی ہوتی ہے ، نہ لب و لہجے پر غور کرنا ہوتا ہے ، اور نہ ہی بات کو صحیح طریقے سے سمجھنے کی کوشش کرنی ہوتی ہے ۔
ایسے پیاروں پر خفا نہیں ہونا چاہیے ، انھیں دو چار پھول 🌹🌹🌹 پیش کردینے چاہییں ۔۔۔۔۔۔۔۔ جنھیں سونگھ کرمشامِ جاں معطر ہوجائیں اور بات صحیح طرح سے سمجھنے کی صلاحیت پیدا ہوسکے ۔ ؎
بدن کا رمز سمجھ ، روح کا اشارہ سمجھ
مجھے سمجھ نہ سمجھ ، دکھ مِرا خُدارا سمجھ
نہیں تو وقت ہی سمجھائے گا تجھے اِک دن
میں چاہتا ہوں ، " مری بات کو دوبارہ سمجھ " !
✍️لقمان شاہد
10-1-2021 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3062295300717305&id=100008105947430
Facebook
Log in or sign up to view
See posts, photos and more on Facebook.
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM