🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.83K subscribers
69.7K photos
228 videos
257 files
8.84K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
صالحین کی محبت و خدمت
स़ालिह़ीन की मुह़ब्बत व ख़िदमत
اخروی عزت کے حصول کی تدابیر
उख़रवी इ़ज़्ज़त को ह़ास़िल करने
صلہ رحمی سے مال بڑھتا ہے...
स़िला रह़मी से माल बढ़ता है! स़िलह
جنت میں عورتوں کا حسن و جمال
जन्नत में औ़रतों का ह़ुस्नो जमाल
بچوں کو معصوم کہنا کیسا ؟
دار الافتاء اہلسنت دعوت اسلامی
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
ماضی میں شمسی کیلنڈر کا فراڈ بار بار ھوتا رھا۔ یہ کیوں اور کیسے ہوتا رہا جانیے اس تحریر میں۔۔۔۔
یہ تو آپ سب جانتے ھیں کہ سال 365 دن کا ھوتا ھے۔ یعنی زمین 365 دن میں سورج کے گرد چکر مکمل کرتی ھے۔ لوگوں کو پتہ چل جاتا ھے کہ فروری میں فلاں موسم ھوتا ھے جون میں گرمی شروع ھو جاتی ھے دسمبر میں جب سال ختم ھو رھا ھوتا ھے تو سردی عروج پر ھوتی ھے۔ 21 جون سال کا سب سے بڑا دن ھوتا ھے 21 دسمبر سال کا سب سے چھوٹا دن ھوتا ھے اور 21 ستمبر اور 21 مارچ کے دن برابر برابر ھوتے ھیں۔ مہینوں کے اس نظام سے ھم اپنے آنے والے دنوں اور سالوں کی پلاننگ کرتے ھیں۔ غرضیکہ دنیا کے سبھی دھندے دنوں اور مہینوں کے اسی نظام سے طے ھوتے ھیں۔
یہ بات ھزاروں سال پہلے کے لوگوں کو بھی معلوم ھوچکی تھی کہ سال کے 365 دن ھوتے ھیں چنانچہ انہوں نے 365 دن کے کیلنڈر بنا لئے۔
لیکن یہ کیا ھوا؟؟؟؟؟ جب پہلے کیلنڈر کو دس بیس سال گزرے تو معلوم ھوا کہ گڑ بڑ ھو گئی ھے۔ 21 جون سال کا سب سے بڑا دن نہیں رھا تھا اور 21 دسمبر بھی سال کا سب سے چھوٹا دن نہیں رھا تھا۔ حتی کہ بہار بھی کیلنڈر کے مطابق نہیں آئی تھی گرمی سردی بھی آگے پیچھے سرک گئی تھی۔ یہ مسلہ کئی ھزار سال تک چلتا رھا۔ سردی گرمیوں کے مہینے میں آنے لگی تھی اور گرمی سردیوں والے مہینے میں آنے لگی تھی۔
کیلنڈر بے اعتبار ھو گیا تھا یا تو سورج میں مسئلہ تھا یا پھر زمین کی رفتار کم یا زیادہ ھو گئی تھی۔ ایک بار پھر دنوں کی گنتی کی جانے لگی۔ لیکن کسی کی عقل میں کچھ نہیں آ رھا تھا۔
یہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش سے 45 سال پہلے کی بات ھے۔ روم کا ایک مشہور بادشاہ تھا۔ جولیس سیزر۔۔۔ اس نے کچھ سیانوں کے ذمے لگایا ھوا تھا کہ اس گڑبڑ کا پتہ لگائیں۔ سیانوں نے بڑی باریک بینی سے تحقیق کے بعد اسے بتایا کہ سال 365 دن کا نہیں ھوتا بلکہ ھر چوتھے سال ایک دن بڑھ جاتا ھے ساری گڑبڑ اسی دن کی ھے اگر چوتھے سال ایک دن بڑھا لیا جائے تو کیلنڈر درست ھو سکتا ھے۔ چنانچہ چوتھے سال ایک دن بڑھا کر اسے لیپ کا سال قرار دے دیا گیا۔ اس کیلنڈر کو جولیس کے نام پر جولیان کیلنڈر کہا جاتا ھے۔
مسلہ کسی حد تک حل ھو گیا۔ اب دس سال بعد بھی چیک کیا گیا تو دن ویسے ھی تھے۔ سب مطمئن ھو گئے اور جولیان کیلنڈر کو اپنا لیا گیا۔
لیکن جب ایک سو سال گذرا تو پھر گڑبڑ ھو چکی تھی۔ ایک بار پھر 21 جون سال کا سب سے بڑا دن نہیں رھا تھا۔ پھر جب پندرہ سو سال گذر گئے تو گڑبڑ بہت بڑھ چکی تھی پورے پندرہ دن کا فرق آ گیا تھا۔ یعنی اب سو سال بعد ایک دن بڑھ رھا تھا،
چنانچہ ایک بار پھر سیانے سر جوڑ کر بیٹھ گئے۔ اس زمانے یعنی سولہویں صدی میں ایک پوپ صاحب ھوا کرتے تھے جن کا نام گریگوری تھا۔ انہوں نے سیانے سیانے لوگوں کو اس کام پر لگا دیا۔ اس زمانے مین گھڑیوں کا قابل اعتبار نظام آ چکا تھا حساب لگایا گیا تو معلوم ھوا کہ ایک سال مین 365 دن، 5 گھنٹے 40 منٹ اور 46 اعشاریہ 24 سیکنڈ ھوتے ھیں۔ لیپ کا سال بھی پورا ایک دن نہیں ھوتا بلکہ ایک دن گیارہ منٹ 14 سیکنڈ کا ھوتا ھے جو ایک سو سال بعد پورا ایک دن بڑھ جاتا ھے۔
اس مسلے کا حل یہ تھا کہ سو سال میں لیپ کا ایک سال 366 دن کی بجائے 365 دن کا سمجھا جائے۔
مسلہ حل ھو گیا۔ گڑبڑ معلوم ھوگئی تھی۔ جولیان کیلنڈر میں 15 دن 1500 سال گزرنے کی وجہ سے زیادہ ھوئے تھے۔ لیکن اب ان 15 دنوں کا کیا جائے؟؟؟؟ یہ سوال اھم تھا۔ سوچا گیا کہ 15 دن کم کر لیتے ھیں۔ جب پادری صاحب نے پندرہ دن کم کئیے گئے تو صدیوں پرانی تاریخیں گڑبڑ ھونے لگیں۔
یورپ میں رولا پڑ گیا۔ بہت بڑا فساد برپا ھو گیا۔ پوپ صاحب کی بات درست تھی لیکن اپنی تاریخ کو کون اپنے ھاتھوں بدلتا ھے؟؟؟؟ چار سو سال تک فساد برپا ھوتا رھا۔ آدھا یورپ جولیان کیلنڈر کے مطابق چلنا چاھتا تھا اور آدھا گریگوری صاحب کے مطابق۔
آخرکار 1930 میں یہ مسلہ حل ھو گیا ۔ گریگوری کیلنڈر کیونکہ سائنسی لحاظ سے درست تھا اس لئے اسے اپنا لیا گیا اور 15 دن کا فراڈ بھی قبول کر لیا گیا۔
کاپی پیسٹ

https://www.facebook.com/100000534718136/posts/4136669256360857/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🌻 ایک جہاز پر پاس بیٹھی باحجاب لڑکی سے ایک لبرل خیالات کا حامل شخص بولا: "آئیں کیوں نہ کچھ بات چیت کر لیں، سنا ہے کہ اس طرح سفر بآسانی کٹ جاتا ہے۔"
لڑکی نے کتاب سے نظر اُٹھا کر اس کی طرف دیکھا اور کہا: "ضرور، مگر آپ کس موضوع پر بات کرنا چاہیں گے؟"
اُس شخص نے کہا: "ہم بات کر سکتے ہیں کہ اسلام عورت کو پردے میں کیوں قید کرتا ہے؟ یا اسلام عورت کو مرد کے جتنا وراثت کا حقدار کیوں نہیں مانتا؟"
لڑکی نے دلچسپی سے کہا: "ضرور، لیکن پہلے آپ میرے ایک سوال کا جواب دیجیئے۔"
اس شخص نے پوچھا: "کیا؟"
لڑکی نے کہا: "گائے، گھوڑا اور بکری ایک سا چارہ یعنی گھاس کھاتے ہیں، لیکن گائے گوبر کرتی ہے، گھوڑا لید کرتا ہے اور بکری مینگنی کرتی ہے، اس کی وجہ کیا ہے؟"
وہ شخص اس سوال سے چکرا گیا اور کھسیا کر بولا: "مجھے اس کا پتہ نہیں۔"
اس پر لڑکی بولی: "کیا آپ سمجھتے ہیں کہ، آپ خدا کے بنائے قوانین، پردہ، وراثت اور حلال و حرام پر بات کے اہل ہیں جبکہ خبر آپ کو جانوروں کی غلاظت کی بھی نہیں؟"
یہ کہہ کر لڑکی اپنی کتاب کی طرف متوجّہ ہوگئی اور مرد کھسیانا ہو کر سونے کی ایکٹنگ کرنے لگا ۔
بس یہ ہی حال ہمارے لبڑل طبقہ اور موم بتی مافیا کا ہے، انھیں خبر تو گوبر، لید اور مینگنی کی بھی نہیں لیکن دانشور اور سیاست دان بن کر دنیا کے ہر ایشو میں ٹانگ اڑانا فرض سمجھتے ہیں ۔
(من فقیر شھزاد احمد المجددی القادری الاشرفی، خادم العلم والعلماء اھل السنة والجماعة)

https://www.facebook.com/100000534718136/posts/4137566236271159/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
میں اپنے تجربے کی بناپر رد دیوبندیت پرکام کرنے والے احباب کونصیحت کرتاہوں کہ دیوبندیوں کے ہمارے خلاف دیے گئے کسی حوالے کااُس کےاصل ماخذسے تصدیق کیے بغیراعتبارناکریں.نقل حوالہ میں یہ ایسے ایسے دجل کرتے ہیں کہ خداکی پناہ.
اور بقول شارحِ بخاری حضرت علامہ شریف الحق امجدی علیہ الرحمۃدیوبندیوں کامنہ بندکرنے کے لیے علاج بالمثل یعنی الزامی جواب(جسے منطق کی اصطلاح میں جدلی جواب کہتے ہیں)سب سے زیادہ کارگرثابت ہوتاہے.

میثم قادِری
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2911287482483893&id=100008080090753
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
(اگر بابا غالب زندہ ہوتا تو اعلٰیحضرت کے اس شعر کو تعویذ بنا کر اپنے گلے میں ڈال لیتا)
عَنبر زمین عَبِیر ہوا مُشک تَر غُبار
ادنٰی سی یہ شناخت تری رہگزر کی ہے
(حدائق بخشش)

مشکل الفاظ کے معانی
عنبر= ایک قسم کی سمندر کی سوکھی جاگ جس کو جلانے سے خوشبو پیدا ہوتی ہے( فیروز اللغات)
عبیر = اک خوشبودار سفوف جو مشک,گلاب اور صندل وغیرہ سے تیار کر کے کپڑوں پہ چھڑکا جاتا ہے ( فیروز اللغات)
مشک = وہ خوشبودار سیاہ رنگ کا مادہ جو نیپال,تبّت,تاتار خطا اور ختن میں ایک قسم کے ہرن کے ناف سے نکلتا ہے,کستوری( فیروز اللغات)
رہگزر = راستہ گلی,کوچہ
ترجمہ:
آپ ﷺ کی راہ گزر کی ادنٰی سی پہچان یہ ہے کہ اس کی زمین عنبر کی ہوگی,اس میں چلنے والی ہوا مشکِ گلاب و صندل سے معطّر ہوگی اور اس گلی کا گرد و غبار مشک کی طرح خوشبو دار ہو گا,

لِلّٰہِ دُرُّ الشَّاعِر
حسنِ تغزل,تخیّل کی بلند پروازی,نمونہِ فصاحت و بلاغت,عسلِ سلالت,نازک تر تراکیب, جاذب القلب مضامین, ترجمہِ احادیث,

کسی نے سچ کہا تھا:
کَلاَمُ الْاِمَامِ اِمَامُ الْکَلاَم
امام کا کلام , کلاموں کا امام ہوتا ہے,

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2912043195741655&id=100008080090753
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
شیطان اور متولی مسجد کا مکالمہ۔

#ابن_الفضل

ایک بار شیطان کی ایک مسجد متولی سے ملاقات ہو گئی بات چیت کے دوران دونوں اس بات پر لڑ پڑے کہ دونوں میں سے ایک دوسرے کا باپ کون

شیطان یا متولی مسجد

شیطان نے کہا:
میں نے ابو البشر آدم (علیہ السلام)کو دھوکہ دے کر جنت سے نکلوادیا یہ ہے میری طاقت

متولی مسجد نے کہا:
لو اس میں کون سی بڑی بات ہے ہم بھی نائبین رسول مساجدکےامام (علماء) کو پروپیگنڈا کر کے مسجد سے نکال دیتے ہیں

شیطان نے کہا :
میں انسانوں کو پریشان کرتا ہوں ورغلاتا ہوں بہکاتا ہوں.

متولی مسجد نے کہا :
میں انسانوں کے اماموں کو پریشان کرتا ہوں کبھی تنخواہ کاٹ کر کبھی کاہلی کا الزام لگا کر اور سب سے بڑی بات میں توتنخواہ ہی اتنی کم دیتا ہوں وہ کسی لمحے خوش رہ سکتا ہی نہیں

شیطان نے کہا :
ایک مولوی کے پیچھے ہم ستر شیطان لگے رہتے ہیں.

متولی مسجدسرکجاتے ہوۓ کہنے لگا :
پکڑی گئی نہ تمہاری کمزوری تم ستر شیطان ایک مولوی کے پیچھے لگتےہوتب بھی وہ تمہیں پکڑائی نہیں دیتا ارے کمزورو ڈوب مرو
ارے ہم انجمنِ متولیان مسجد میں سے ایک سرکٹ بوڑھا ستر مولویوں کو پریشان کرنے کے لئے کافی ہوتا ہے.

شیطان متولی مسجد کا یہ چوکا دیکھ کر ناک آؤٹ ہو گیا
خاموش ہو گیا اس کے سمجھ میں نہیں آیا کہ کیا جواب دے
بس متولی مسجد نے شیطان کو لاجواب کر دینے کی خوشی میں مسجد کے صحن میں لنگی پھاڑ ڈانس شروع کر دیا امام صاحب نے اسے دیکھ کر ناچنے سے منع فرمایا کہ ناچنا گناہ اور بری بات ہے تو متولی مسجد بھڑک کر کہنے لگا اب اچھے برے کی پہچان تم مجھے کراؤ گے واہ بھائی واہ ارے میں تم سے زیادہ جانکار ہوں میں نے شیطان کو مات دی ہے.

اور سنو! آج سے ہماری مسجد کو تمہاری ضرورت نہیں تمہیں بڑے لوگوں(اراکین) سے بات کرنے کا سلیقہ نہیں ہے ابھی اپنا سامان اٹھاؤ اور مسجد سے باہر نکل جاؤ

بیچارے امام صاحب نے 36ویں مسجد سے کوچ کرتے ہوۓ عہد کر لیا کہ اپنے بیٹے کو مزدوری پر لگا دونگا لیکن مولوی نہیں بناؤں گا

اِدھر شیطان یہ سب دیکھ رہا وہ بھاگم بھاگ آیا متولی کے پاؤں چومےاور کہنے لگامان گئے بوس آپ کو
یقیناً آپ ہی ہم سے اعلی ہو
ہم تو بچہ کے پیدا ہونے کے بعد اسے دینی تعلیم سے روکنے کی کوشش کرتے ہیں مگر آپ نے تو کمال ہی کر دیا پیدا ہونے سے پہلے ہی اس کی سیٹنگ کردی؟
واہ مرشد واہ
#ب_ح
کاپی کردہ شدہ

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2912059072406734&id=100008080090753
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
سوال نمبر: 396
کیا پیر ذوالفقار نقشبندی صحیح العقیدہ سنی پیر ہے؟ اگر نہیں تو اس کے عقائد دلائل و ثبوت کے ساتھ پیش کر سکتے ہیں آپ؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ بدمذہب ہے سنی نہیں ہے۔
پیر ذوالفقار نقشبندی کٹر قسم کا دیوبندی ہے اس کی کتاب خطبات فقیر میں اس نے اشرفعلی تھانوی اور دیگر طواغیت اربعہ کی جو تعریفات کیں وہ ڈھکی چھپی ہوئی نہیں ہیں،یہ طریقت کا لبادہ اوڑھ کر اپنے جال میں لوگوں کو پھانستا ہے پھر جو پھنس جائے اسے تبلیغی جماعت والوں کے حوالے کرتا ہے اور یوں اس کو گمراہ کرتا ہے اس کا بیان سننا ناجائز حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے اور اس کی کتابیں پڑھنا سراسر ناجائز حرام و گناہ ہے۔
واللہ اعلم بالصواب
✍️ کتبہ سید کامران عطاری مدنی عفی عنہ
فون نمبر 03155322470

از قلم : سید کامران قادری مدنی عفی عنہ
کافی دفعہ گروپس میں بدمذھبوں کی کتابوں کی پوسٹس پڑھنے کو ملی انھیں میں سے ایک پوسٹ میں "خطباتِ فقیر" کا مطالبہ کیا گیا مناسب سمجھا کیوں نہ اس کتاب کی حقیقت واضح کر کے خیر خواہی مسلمین کی جائے۔خطباتِ فقیر نامی کتاب ذوالفقار نقشبندی دیوبندی کی ہے جو اپنے آپ کو نقشبندی کہلواتا ہے اور یوں سیکڑت طریقے سے اپنا کام کر رہا ہے جبکہ آج اس شخص کی حقیقت آپ کے سامنے واضح کی جائے گی۔لیکن سب سےپہلے یہ پڑھتے جائیں کہ بدمذھبوں کے بیانات سننا ان کے لٹریچر کو پڑھنا کس قدر زہرِ قاتل ہے اس کے لئے زیادہ نہیں صرف ایک حوالہ ملفوظاتِ اعلی حضرت سے پیش ہے ملاحظہ فرمائیں:"بد مذہبوں کی کتب پڑھناجائز نہیں؟
( پھر فرمایا) اِسی واسطے ناقص بلکہ کامل کو بھی بلا ضرورت بدمذہبوں کی کتابیں دیکھنا ناجائز ہے کہ انسان ہے، ممکن ہے کوئی بات مَعَاذَ ﷲ(عَزَّوَجَلَّ) دل میں جم جائے اور ہلاک ہوجائے۔
بدمذہبوں کے رد میں پہلی تصنیف
امام حارث محاسبی(رحمۃاللہ تعالٰی علیہ ) نے بدمذہبوں کے ردّ میں ایک کتاب تصنیف کی، اور وہ بدمذہبوں کے ردّ میں پہلی تصنیف تھی۔ امام احمد رحمۃ ﷲ تعالیٰ علیہ نے ان سے کلام کرنا چھوڑ دیا۔ کہا :''مجھ سے کیا خطا ہوئی ؟میں نے ان کا ردّ ہی تو کیا ہے۔''فرمایا :''کیا ممکن نہیں ہے کہ تم نے جو کلام بدمذہبوں کا نقل کیا ہے کسی کے دل میں جم جائے اور وہ گمراہ ہو جائے۔''
(احیاء علوم الدین ،کتاب قواعد العقائد ،الفصل الثانی فی وجہ التدریج ۔۔۔۔۔۔الخ ،ج۱،ص ۱۳۲)
رَدّ کی ضرورت
( پھر فرمایا) پہلے تلوار تھی، ردّ کی حاجت نہ تھی، تلوار کے ذریعہ سارا انتظام ہوسکتاتھا۔ اَب کہ ہمارے پاس سوائے ردّکے کوئی علاج نہیں،'' ردّ کرنا فرض ہے۔'' حدیث میں ارشاد ہوا:
اِذَا ظَھَرَتِ الْفِتَنُ اَوْقَالَ الْبِدَعُ فَلْیُظْھِرِ الْعَالِمُ عِلْمَہُ وَمَنْ لَّمْ یَفْعَل ذٰلِکَ فَعَلَیْہِ لَعْنَۃُ اللہِ وَالْمَلٰئِکَۃِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِیْنَ لَا یَقْبَلُ اللہُ لَہٗ صَرْفًا وَّ لَا عَدْلاً
جب فتنے یا بدمذہبیاں ظاہر ہوں تو فرض ہے کہ عالم اپنا علم ظاہر کرے اورجو ایسا نہ کرے تو اس پر ﷲ(عَزَّوَجَلَّ) اور فرشتوں اور تمام آدمیوں کی لعنت ، ﷲ(عَزَّوَجَلَّ)نہ اس کا فرض قبول کرے نہ نفل ۔
(الجامع لاخلاق الراوی وآداب ،باب اذا ظہرت الفتن، الحدیث۱۳۶۶،ص۳۰۸)
حضرت سعید بن جُبَیررضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بدمذہب کی بات سننے سے انکار کردیا
( پھر فرمایا) امام سعید ابنِ جُبَیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ راستہ میں تشریف لیے جاتے تھے ایک بدمذہب ملا۔ امام سے کہا :میں کچھ عرض کرنا چاہتا ہوں۔فرمایا: میں سننا نہیں چاہتا ۔اس نے کہا: صرف ایک بات ۔آپ نے چھنگلیا کے پہلے پَورے پر انگوٹھا رکھ کر فرمایا: ''وَلا نِصْفَ کَلِمَۃٍ '' آدھی بات بھی نہیں سنوں گا ۔ لوگوں نے سبب پوچھا ۔فرمایا : ''ازایشاں''منھم( یعنی انہیں بدمذہبو ں میں سے۔ت )ہے۔ (ماخوذ،سنن الدارمی،باب اجتناب اہل الاہواء، الحدیث۳۹۹،ج۱،ص۱۲۰،۱۲۱)
رد کون کرے؟
( پھر فرمایا) اَکابر کی تویہ حالت اور اب یہ حالت ہے کہ جاہل سا جاہل چٹا پڑتا ہے آریوں سے وہابیوں سے اور کچھ خوف نہیں کرتا ۔جو تمام فنون کا ماہر ہو، تمام پیچ جانتا ہو، پوری طاقت رکھتا ہو، تمام ہتھیار پاس ہوں اس کو بھی کیا ضرور کہ خواہ مخواہ بھیڑیوں کے جنگل میں جائے ،ہاں اگر ضرورت ہی آپڑے تو مجبوری ہے۔ ﷲ (عَزَّوَجَلَّ)پر توکُّل کرکے ان ہتھیاروں سے کام لے۔(ملفوظاتِ اعلی حضرت، ص 434)
اس دیوبندی کے متعلق جاننے کے لئے اس کی کتاب کی کچھ جلدوں کو دیکھا جن میں اس دیوبندی نے اشرفعلی قاسم نانوتوی وغیرہ مرتدین کی بڑی تعریف کی نہ صرف تعریف کی بلکہ ان کی سیرت پہ کئی ورق سیاہ کئے۔ پھر ایک دیوبندی دارالافتاء کا اس شخص کے متعلق سوال و جواب پڑھا جس میں سائل نے کچھ یوں سوال کیا " Pakistan
Question: 35495
پاکستان میں جو پیر ذوالفقار احمد نقشبندی جو سلسلہ نقشبندی مجددی کے شیخ ہیں ان کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟
Nov 03,2011
Answer: 35495
فتوی(م): 1828=1828-12/1432
پیر فقیر حضرت ذوالفقار احمد صاحب نقشبندی سلسلے کے صاحب نسبت بزرگ ہیں، اہل سنت والجماعت میں سے ہیں، دارالعلوم دیوبند اور اکابر دارالعلوم سے گہری اور سچی عقیدت رکھتے ہیں دارالعلوم کے ہم مشرب ہیں۔
واللہ تعالیٰ اعلم اب اس کی کتابوں سے مرتدین کی تعریفات ملاحظہ فرمائیں جو اس شخص کے دیوبندی ہونے کی تائید کرتی ہیں۔

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2912299389049369&id=100008080090753
پیر ذو الفقار نقشبندی سنی نہیں ہے!

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2912299389049369&id=100008080090753
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
#تقلید_اصل_میں_کس_کی ؟

سوڈان کا ایک واقعہ ہے کہ کویت سے کچھ وہابی علما سوڈان کے دورے پر گئے وہاں ان کی بڑی عزت و تکریم کی گئی۔
جب نماز کا وقت ہوا تو انہیں میں سے ایک وہابی عالم کو آگے کیا گیا تاکہ وہ امامت کرے، تو انہوں نے نماز سے پہلے اسپیکر میں اعلان کر دیااور کہا کہ :
"أصلي بكم صلاة الشافعي أم صلاة النبي عليه أفضل الصلاة وأتم التسليم
یعنی؛
میں آپ کو امام شافعی کی نماز پڑھاؤں یا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز پڑھاؤں؟
اتنا سنتے ہی لوگوں میں ایک کہرام مچ گیا مسجد میں آہ و بکا شروع ہو گئی، ظاہر سی بات ہے جملہ ہی ایسا تھا، ایک طرف ساری زندگی امام شافعی کی تقلید کی اور جب پتہ چلے کہ یہ راستہ ہی غلط ہے تو سوچئے انسان کی کیفیت کیا ہو گی؟

لیکن وہاں کے ایک مقامی عالم آگے بڑھے اور بہترین جواب دیا کہا کہ؛

"صل بنا صلاة الشافعي لأنه أعلم منك صلاة النبي عليه افضل الصلاة واتم التسليم
یعنی:
ہمیں امام شافعی کے طریقے پہ نماز پڑھاؤ کیونکہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کو آپ سے زیادہ بہتر جانتے تھے۔ اتنا سنتے ہی اس وہابی کی سٹی پٹی گم ہوگئی ۔

ہم سب کو یہ سمجھنا چاہئیے کہ صحابہ یا ائمہ کرام نے کوئی الگ دین پیش نہیں کیا بات صرف سمجھنے کی ہے۔ ایک وہ سمجھ اور علم ہے جو صحابہ اور تابعین کا تھا اور ایک وہ علم ہے جو آجکل کے کچھ دوچار حدیثیں پڑھے ہوئے نام نہاد اہل حدیث لوگ سمجھ رہے ہیں۔

ظاہر سی بات ہے کہ ہم صحابہ کرام اور ائمہ اربعہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کے اقوال اور مذاہب کو اس لئے قبول تو نہیں کرتے کہ نعوذ باللہ ہم ان کا تقابل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کرتے ہیں، ہم ان کے اقوال اور مذہب پہ اس لئے عمل کرتے ہیں کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زیادہ قریب تھے ان کا علم و تقوی آجکل کے علما سے بہت زیادہ تھا، اسی لئے ان کا مذہب ان کا قول ہی ہمارے لیے زیادہ معتبر ہے اور اسی میں ہم سب کی نجات ہے ۔

(ایک فیس بک پوسٹ کی ترتیب و تذہیب)

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2912329009046407&id=100008080090753
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM