صالحین کی محبت و خدمت
स़ालिह़ीन की मुह़ब्बत व ख़िदमत
اخروی عزت کے حصول کی تدابیر
उख़रवी इ़ज़्ज़त को ह़ास़िल करने
صلہ رحمی سے مال بڑھتا ہے...
स़िला रह़मी से माल बढ़ता है! स़िलह
جنت میں عورتوں کا حسن و جمال
जन्नत में औ़रतों का ह़ुस्नो जमाल
بچوں کو معصوم کہنا کیسا ؟
دار الافتاء اہلسنت دعوت اسلامی
स़ालिह़ीन की मुह़ब्बत व ख़िदमत
اخروی عزت کے حصول کی تدابیر
उख़रवी इ़ज़्ज़त को ह़ास़िल करने
صلہ رحمی سے مال بڑھتا ہے...
स़िला रह़मी से माल बढ़ता है! स़िलह
جنت میں عورتوں کا حسن و جمال
जन्नत में औ़रतों का ह़ुस्नो जमाल
بچوں کو معصوم کہنا کیسا ؟
دار الافتاء اہلسنت دعوت اسلامی
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
ماضی میں شمسی کیلنڈر کا فراڈ بار بار ھوتا رھا۔ یہ کیوں اور کیسے ہوتا رہا جانیے اس تحریر میں۔۔۔۔
یہ تو آپ سب جانتے ھیں کہ سال 365 دن کا ھوتا ھے۔ یعنی زمین 365 دن میں سورج کے گرد چکر مکمل کرتی ھے۔ لوگوں کو پتہ چل جاتا ھے کہ فروری میں فلاں موسم ھوتا ھے جون میں گرمی شروع ھو جاتی ھے دسمبر میں جب سال ختم ھو رھا ھوتا ھے تو سردی عروج پر ھوتی ھے۔ 21 جون سال کا سب سے بڑا دن ھوتا ھے 21 دسمبر سال کا سب سے چھوٹا دن ھوتا ھے اور 21 ستمبر اور 21 مارچ کے دن برابر برابر ھوتے ھیں۔ مہینوں کے اس نظام سے ھم اپنے آنے والے دنوں اور سالوں کی پلاننگ کرتے ھیں۔ غرضیکہ دنیا کے سبھی دھندے دنوں اور مہینوں کے اسی نظام سے طے ھوتے ھیں۔
یہ بات ھزاروں سال پہلے کے لوگوں کو بھی معلوم ھوچکی تھی کہ سال کے 365 دن ھوتے ھیں چنانچہ انہوں نے 365 دن کے کیلنڈر بنا لئے۔
لیکن یہ کیا ھوا؟؟؟؟؟ جب پہلے کیلنڈر کو دس بیس سال گزرے تو معلوم ھوا کہ گڑ بڑ ھو گئی ھے۔ 21 جون سال کا سب سے بڑا دن نہیں رھا تھا اور 21 دسمبر بھی سال کا سب سے چھوٹا دن نہیں رھا تھا۔ حتی کہ بہار بھی کیلنڈر کے مطابق نہیں آئی تھی گرمی سردی بھی آگے پیچھے سرک گئی تھی۔ یہ مسلہ کئی ھزار سال تک چلتا رھا۔ سردی گرمیوں کے مہینے میں آنے لگی تھی اور گرمی سردیوں والے مہینے میں آنے لگی تھی۔
کیلنڈر بے اعتبار ھو گیا تھا یا تو سورج میں مسئلہ تھا یا پھر زمین کی رفتار کم یا زیادہ ھو گئی تھی۔ ایک بار پھر دنوں کی گنتی کی جانے لگی۔ لیکن کسی کی عقل میں کچھ نہیں آ رھا تھا۔
یہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش سے 45 سال پہلے کی بات ھے۔ روم کا ایک مشہور بادشاہ تھا۔ جولیس سیزر۔۔۔ اس نے کچھ سیانوں کے ذمے لگایا ھوا تھا کہ اس گڑبڑ کا پتہ لگائیں۔ سیانوں نے بڑی باریک بینی سے تحقیق کے بعد اسے بتایا کہ سال 365 دن کا نہیں ھوتا بلکہ ھر چوتھے سال ایک دن بڑھ جاتا ھے ساری گڑبڑ اسی دن کی ھے اگر چوتھے سال ایک دن بڑھا لیا جائے تو کیلنڈر درست ھو سکتا ھے۔ چنانچہ چوتھے سال ایک دن بڑھا کر اسے لیپ کا سال قرار دے دیا گیا۔ اس کیلنڈر کو جولیس کے نام پر جولیان کیلنڈر کہا جاتا ھے۔
مسلہ کسی حد تک حل ھو گیا۔ اب دس سال بعد بھی چیک کیا گیا تو دن ویسے ھی تھے۔ سب مطمئن ھو گئے اور جولیان کیلنڈر کو اپنا لیا گیا۔
لیکن جب ایک سو سال گذرا تو پھر گڑبڑ ھو چکی تھی۔ ایک بار پھر 21 جون سال کا سب سے بڑا دن نہیں رھا تھا۔ پھر جب پندرہ سو سال گذر گئے تو گڑبڑ بہت بڑھ چکی تھی پورے پندرہ دن کا فرق آ گیا تھا۔ یعنی اب سو سال بعد ایک دن بڑھ رھا تھا،
چنانچہ ایک بار پھر سیانے سر جوڑ کر بیٹھ گئے۔ اس زمانے یعنی سولہویں صدی میں ایک پوپ صاحب ھوا کرتے تھے جن کا نام گریگوری تھا۔ انہوں نے سیانے سیانے لوگوں کو اس کام پر لگا دیا۔ اس زمانے مین گھڑیوں کا قابل اعتبار نظام آ چکا تھا حساب لگایا گیا تو معلوم ھوا کہ ایک سال مین 365 دن، 5 گھنٹے 40 منٹ اور 46 اعشاریہ 24 سیکنڈ ھوتے ھیں۔ لیپ کا سال بھی پورا ایک دن نہیں ھوتا بلکہ ایک دن گیارہ منٹ 14 سیکنڈ کا ھوتا ھے جو ایک سو سال بعد پورا ایک دن بڑھ جاتا ھے۔
اس مسلے کا حل یہ تھا کہ سو سال میں لیپ کا ایک سال 366 دن کی بجائے 365 دن کا سمجھا جائے۔
مسلہ حل ھو گیا۔ گڑبڑ معلوم ھوگئی تھی۔ جولیان کیلنڈر میں 15 دن 1500 سال گزرنے کی وجہ سے زیادہ ھوئے تھے۔ لیکن اب ان 15 دنوں کا کیا جائے؟؟؟؟ یہ سوال اھم تھا۔ سوچا گیا کہ 15 دن کم کر لیتے ھیں۔ جب پادری صاحب نے پندرہ دن کم کئیے گئے تو صدیوں پرانی تاریخیں گڑبڑ ھونے لگیں۔
یورپ میں رولا پڑ گیا۔ بہت بڑا فساد برپا ھو گیا۔ پوپ صاحب کی بات درست تھی لیکن اپنی تاریخ کو کون اپنے ھاتھوں بدلتا ھے؟؟؟؟ چار سو سال تک فساد برپا ھوتا رھا۔ آدھا یورپ جولیان کیلنڈر کے مطابق چلنا چاھتا تھا اور آدھا گریگوری صاحب کے مطابق۔
آخرکار 1930 میں یہ مسلہ حل ھو گیا ۔ گریگوری کیلنڈر کیونکہ سائنسی لحاظ سے درست تھا اس لئے اسے اپنا لیا گیا اور 15 دن کا فراڈ بھی قبول کر لیا گیا۔
کاپی پیسٹ
https://www.facebook.com/100000534718136/posts/4136669256360857/
یہ تو آپ سب جانتے ھیں کہ سال 365 دن کا ھوتا ھے۔ یعنی زمین 365 دن میں سورج کے گرد چکر مکمل کرتی ھے۔ لوگوں کو پتہ چل جاتا ھے کہ فروری میں فلاں موسم ھوتا ھے جون میں گرمی شروع ھو جاتی ھے دسمبر میں جب سال ختم ھو رھا ھوتا ھے تو سردی عروج پر ھوتی ھے۔ 21 جون سال کا سب سے بڑا دن ھوتا ھے 21 دسمبر سال کا سب سے چھوٹا دن ھوتا ھے اور 21 ستمبر اور 21 مارچ کے دن برابر برابر ھوتے ھیں۔ مہینوں کے اس نظام سے ھم اپنے آنے والے دنوں اور سالوں کی پلاننگ کرتے ھیں۔ غرضیکہ دنیا کے سبھی دھندے دنوں اور مہینوں کے اسی نظام سے طے ھوتے ھیں۔
یہ بات ھزاروں سال پہلے کے لوگوں کو بھی معلوم ھوچکی تھی کہ سال کے 365 دن ھوتے ھیں چنانچہ انہوں نے 365 دن کے کیلنڈر بنا لئے۔
لیکن یہ کیا ھوا؟؟؟؟؟ جب پہلے کیلنڈر کو دس بیس سال گزرے تو معلوم ھوا کہ گڑ بڑ ھو گئی ھے۔ 21 جون سال کا سب سے بڑا دن نہیں رھا تھا اور 21 دسمبر بھی سال کا سب سے چھوٹا دن نہیں رھا تھا۔ حتی کہ بہار بھی کیلنڈر کے مطابق نہیں آئی تھی گرمی سردی بھی آگے پیچھے سرک گئی تھی۔ یہ مسلہ کئی ھزار سال تک چلتا رھا۔ سردی گرمیوں کے مہینے میں آنے لگی تھی اور گرمی سردیوں والے مہینے میں آنے لگی تھی۔
کیلنڈر بے اعتبار ھو گیا تھا یا تو سورج میں مسئلہ تھا یا پھر زمین کی رفتار کم یا زیادہ ھو گئی تھی۔ ایک بار پھر دنوں کی گنتی کی جانے لگی۔ لیکن کسی کی عقل میں کچھ نہیں آ رھا تھا۔
یہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش سے 45 سال پہلے کی بات ھے۔ روم کا ایک مشہور بادشاہ تھا۔ جولیس سیزر۔۔۔ اس نے کچھ سیانوں کے ذمے لگایا ھوا تھا کہ اس گڑبڑ کا پتہ لگائیں۔ سیانوں نے بڑی باریک بینی سے تحقیق کے بعد اسے بتایا کہ سال 365 دن کا نہیں ھوتا بلکہ ھر چوتھے سال ایک دن بڑھ جاتا ھے ساری گڑبڑ اسی دن کی ھے اگر چوتھے سال ایک دن بڑھا لیا جائے تو کیلنڈر درست ھو سکتا ھے۔ چنانچہ چوتھے سال ایک دن بڑھا کر اسے لیپ کا سال قرار دے دیا گیا۔ اس کیلنڈر کو جولیس کے نام پر جولیان کیلنڈر کہا جاتا ھے۔
مسلہ کسی حد تک حل ھو گیا۔ اب دس سال بعد بھی چیک کیا گیا تو دن ویسے ھی تھے۔ سب مطمئن ھو گئے اور جولیان کیلنڈر کو اپنا لیا گیا۔
لیکن جب ایک سو سال گذرا تو پھر گڑبڑ ھو چکی تھی۔ ایک بار پھر 21 جون سال کا سب سے بڑا دن نہیں رھا تھا۔ پھر جب پندرہ سو سال گذر گئے تو گڑبڑ بہت بڑھ چکی تھی پورے پندرہ دن کا فرق آ گیا تھا۔ یعنی اب سو سال بعد ایک دن بڑھ رھا تھا،
چنانچہ ایک بار پھر سیانے سر جوڑ کر بیٹھ گئے۔ اس زمانے یعنی سولہویں صدی میں ایک پوپ صاحب ھوا کرتے تھے جن کا نام گریگوری تھا۔ انہوں نے سیانے سیانے لوگوں کو اس کام پر لگا دیا۔ اس زمانے مین گھڑیوں کا قابل اعتبار نظام آ چکا تھا حساب لگایا گیا تو معلوم ھوا کہ ایک سال مین 365 دن، 5 گھنٹے 40 منٹ اور 46 اعشاریہ 24 سیکنڈ ھوتے ھیں۔ لیپ کا سال بھی پورا ایک دن نہیں ھوتا بلکہ ایک دن گیارہ منٹ 14 سیکنڈ کا ھوتا ھے جو ایک سو سال بعد پورا ایک دن بڑھ جاتا ھے۔
اس مسلے کا حل یہ تھا کہ سو سال میں لیپ کا ایک سال 366 دن کی بجائے 365 دن کا سمجھا جائے۔
مسلہ حل ھو گیا۔ گڑبڑ معلوم ھوگئی تھی۔ جولیان کیلنڈر میں 15 دن 1500 سال گزرنے کی وجہ سے زیادہ ھوئے تھے۔ لیکن اب ان 15 دنوں کا کیا جائے؟؟؟؟ یہ سوال اھم تھا۔ سوچا گیا کہ 15 دن کم کر لیتے ھیں۔ جب پادری صاحب نے پندرہ دن کم کئیے گئے تو صدیوں پرانی تاریخیں گڑبڑ ھونے لگیں۔
یورپ میں رولا پڑ گیا۔ بہت بڑا فساد برپا ھو گیا۔ پوپ صاحب کی بات درست تھی لیکن اپنی تاریخ کو کون اپنے ھاتھوں بدلتا ھے؟؟؟؟ چار سو سال تک فساد برپا ھوتا رھا۔ آدھا یورپ جولیان کیلنڈر کے مطابق چلنا چاھتا تھا اور آدھا گریگوری صاحب کے مطابق۔
آخرکار 1930 میں یہ مسلہ حل ھو گیا ۔ گریگوری کیلنڈر کیونکہ سائنسی لحاظ سے درست تھا اس لئے اسے اپنا لیا گیا اور 15 دن کا فراڈ بھی قبول کر لیا گیا۔
کاپی پیسٹ
https://www.facebook.com/100000534718136/posts/4136669256360857/
Facebook
Log in to Facebook
Log in to Facebook to start sharing and connecting with your friends, family and people you know.
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🌻 ایک جہاز پر پاس بیٹھی باحجاب لڑکی سے ایک لبرل خیالات کا حامل شخص بولا: "آئیں کیوں نہ کچھ بات چیت کر لیں، سنا ہے کہ اس طرح سفر بآسانی کٹ جاتا ہے۔"
لڑکی نے کتاب سے نظر اُٹھا کر اس کی طرف دیکھا اور کہا: "ضرور، مگر آپ کس موضوع پر بات کرنا چاہیں گے؟"
اُس شخص نے کہا: "ہم بات کر سکتے ہیں کہ اسلام عورت کو پردے میں کیوں قید کرتا ہے؟ یا اسلام عورت کو مرد کے جتنا وراثت کا حقدار کیوں نہیں مانتا؟"
لڑکی نے دلچسپی سے کہا: "ضرور، لیکن پہلے آپ میرے ایک سوال کا جواب دیجیئے۔"
اس شخص نے پوچھا: "کیا؟"
لڑکی نے کہا: "گائے، گھوڑا اور بکری ایک سا چارہ یعنی گھاس کھاتے ہیں، لیکن گائے گوبر کرتی ہے، گھوڑا لید کرتا ہے اور بکری مینگنی کرتی ہے، اس کی وجہ کیا ہے؟"
وہ شخص اس سوال سے چکرا گیا اور کھسیا کر بولا: "مجھے اس کا پتہ نہیں۔"
اس پر لڑکی بولی: "کیا آپ سمجھتے ہیں کہ، آپ خدا کے بنائے قوانین، پردہ، وراثت اور حلال و حرام پر بات کے اہل ہیں جبکہ خبر آپ کو جانوروں کی غلاظت کی بھی نہیں؟"
یہ کہہ کر لڑکی اپنی کتاب کی طرف متوجّہ ہوگئی اور مرد کھسیانا ہو کر سونے کی ایکٹنگ کرنے لگا ۔
بس یہ ہی حال ہمارے لبڑل طبقہ اور موم بتی مافیا کا ہے، انھیں خبر تو گوبر، لید اور مینگنی کی بھی نہیں لیکن دانشور اور سیاست دان بن کر دنیا کے ہر ایشو میں ٹانگ اڑانا فرض سمجھتے ہیں ۔
(من فقیر شھزاد احمد المجددی القادری الاشرفی، خادم العلم والعلماء اھل السنة والجماعة)
https://www.facebook.com/100000534718136/posts/4137566236271159/
لڑکی نے کتاب سے نظر اُٹھا کر اس کی طرف دیکھا اور کہا: "ضرور، مگر آپ کس موضوع پر بات کرنا چاہیں گے؟"
اُس شخص نے کہا: "ہم بات کر سکتے ہیں کہ اسلام عورت کو پردے میں کیوں قید کرتا ہے؟ یا اسلام عورت کو مرد کے جتنا وراثت کا حقدار کیوں نہیں مانتا؟"
لڑکی نے دلچسپی سے کہا: "ضرور، لیکن پہلے آپ میرے ایک سوال کا جواب دیجیئے۔"
اس شخص نے پوچھا: "کیا؟"
لڑکی نے کہا: "گائے، گھوڑا اور بکری ایک سا چارہ یعنی گھاس کھاتے ہیں، لیکن گائے گوبر کرتی ہے، گھوڑا لید کرتا ہے اور بکری مینگنی کرتی ہے، اس کی وجہ کیا ہے؟"
وہ شخص اس سوال سے چکرا گیا اور کھسیا کر بولا: "مجھے اس کا پتہ نہیں۔"
اس پر لڑکی بولی: "کیا آپ سمجھتے ہیں کہ، آپ خدا کے بنائے قوانین، پردہ، وراثت اور حلال و حرام پر بات کے اہل ہیں جبکہ خبر آپ کو جانوروں کی غلاظت کی بھی نہیں؟"
یہ کہہ کر لڑکی اپنی کتاب کی طرف متوجّہ ہوگئی اور مرد کھسیانا ہو کر سونے کی ایکٹنگ کرنے لگا ۔
بس یہ ہی حال ہمارے لبڑل طبقہ اور موم بتی مافیا کا ہے، انھیں خبر تو گوبر، لید اور مینگنی کی بھی نہیں لیکن دانشور اور سیاست دان بن کر دنیا کے ہر ایشو میں ٹانگ اڑانا فرض سمجھتے ہیں ۔
(من فقیر شھزاد احمد المجددی القادری الاشرفی، خادم العلم والعلماء اھل السنة والجماعة)
https://www.facebook.com/100000534718136/posts/4137566236271159/
Facebook
Log in to Facebook
Log in to Facebook to start sharing and connecting with your friends, family and people you know.
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
میں اپنے تجربے کی بناپر رد دیوبندیت پرکام کرنے والے احباب کونصیحت کرتاہوں کہ دیوبندیوں کے ہمارے خلاف دیے گئے کسی حوالے کااُس کےاصل ماخذسے تصدیق کیے بغیراعتبارناکریں.نقل حوالہ میں یہ ایسے ایسے دجل کرتے ہیں کہ خداکی پناہ.
اور بقول شارحِ بخاری حضرت علامہ شریف الحق امجدی علیہ الرحمۃدیوبندیوں کامنہ بندکرنے کے لیے علاج بالمثل یعنی الزامی جواب(جسے منطق کی اصطلاح میں جدلی جواب کہتے ہیں)سب سے زیادہ کارگرثابت ہوتاہے.
میثم قادِری
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2911287482483893&id=100008080090753
اور بقول شارحِ بخاری حضرت علامہ شریف الحق امجدی علیہ الرحمۃدیوبندیوں کامنہ بندکرنے کے لیے علاج بالمثل یعنی الزامی جواب(جسے منطق کی اصطلاح میں جدلی جواب کہتے ہیں)سب سے زیادہ کارگرثابت ہوتاہے.
میثم قادِری
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2911287482483893&id=100008080090753
Facebook
Log in to Facebook
Log in to Facebook to start sharing and connecting with your friends, family and people you know.
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
(اگر بابا غالب زندہ ہوتا تو اعلٰیحضرت کے اس شعر کو تعویذ بنا کر اپنے گلے میں ڈال لیتا)
عَنبر زمین عَبِیر ہوا مُشک تَر غُبار
ادنٰی سی یہ شناخت تری رہگزر کی ہے
(حدائق بخشش)
مشکل الفاظ کے معانی
عنبر= ایک قسم کی سمندر کی سوکھی جاگ جس کو جلانے سے خوشبو پیدا ہوتی ہے( فیروز اللغات)
عبیر = اک خوشبودار سفوف جو مشک,گلاب اور صندل وغیرہ سے تیار کر کے کپڑوں پہ چھڑکا جاتا ہے ( فیروز اللغات)
مشک = وہ خوشبودار سیاہ رنگ کا مادہ جو نیپال,تبّت,تاتار خطا اور ختن میں ایک قسم کے ہرن کے ناف سے نکلتا ہے,کستوری( فیروز اللغات)
رہگزر = راستہ گلی,کوچہ
ترجمہ:
آپ ﷺ کی راہ گزر کی ادنٰی سی پہچان یہ ہے کہ اس کی زمین عنبر کی ہوگی,اس میں چلنے والی ہوا مشکِ گلاب و صندل سے معطّر ہوگی اور اس گلی کا گرد و غبار مشک کی طرح خوشبو دار ہو گا,
لِلّٰہِ دُرُّ الشَّاعِر
حسنِ تغزل,تخیّل کی بلند پروازی,نمونہِ فصاحت و بلاغت,عسلِ سلالت,نازک تر تراکیب, جاذب القلب مضامین, ترجمہِ احادیث,
کسی نے سچ کہا تھا:
کَلاَمُ الْاِمَامِ اِمَامُ الْکَلاَم
امام کا کلام , کلاموں کا امام ہوتا ہے,
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2912043195741655&id=100008080090753
عَنبر زمین عَبِیر ہوا مُشک تَر غُبار
ادنٰی سی یہ شناخت تری رہگزر کی ہے
(حدائق بخشش)
مشکل الفاظ کے معانی
عنبر= ایک قسم کی سمندر کی سوکھی جاگ جس کو جلانے سے خوشبو پیدا ہوتی ہے( فیروز اللغات)
عبیر = اک خوشبودار سفوف جو مشک,گلاب اور صندل وغیرہ سے تیار کر کے کپڑوں پہ چھڑکا جاتا ہے ( فیروز اللغات)
مشک = وہ خوشبودار سیاہ رنگ کا مادہ جو نیپال,تبّت,تاتار خطا اور ختن میں ایک قسم کے ہرن کے ناف سے نکلتا ہے,کستوری( فیروز اللغات)
رہگزر = راستہ گلی,کوچہ
ترجمہ:
آپ ﷺ کی راہ گزر کی ادنٰی سی پہچان یہ ہے کہ اس کی زمین عنبر کی ہوگی,اس میں چلنے والی ہوا مشکِ گلاب و صندل سے معطّر ہوگی اور اس گلی کا گرد و غبار مشک کی طرح خوشبو دار ہو گا,
لِلّٰہِ دُرُّ الشَّاعِر
حسنِ تغزل,تخیّل کی بلند پروازی,نمونہِ فصاحت و بلاغت,عسلِ سلالت,نازک تر تراکیب, جاذب القلب مضامین, ترجمہِ احادیث,
کسی نے سچ کہا تھا:
کَلاَمُ الْاِمَامِ اِمَامُ الْکَلاَم
امام کا کلام , کلاموں کا امام ہوتا ہے,
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2912043195741655&id=100008080090753
Facebook
Log in to Facebook
Log in to Facebook to start sharing and connecting with your friends, family and people you know.
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM