Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Deleted Account
تہمت کی جگہ سے بچنا چاہیۓ
فقیہ ابو اللیث علیه الرحمه فرماتے ہیں :
آدمی کو زیب نہیں دیتا کہ اپنے آپکو محل تہمت بناۓ اور تہمت لگے ہوۓ لوگوں کی صحبت میں بیٹھے اور ان سے کوٸ ربط و ظبط رکھے
کیوں کہ اگر کریگا تو یہ بھی متہم ہوگا اور الله ﷻ ارشاد فرماتا ہے کہ
إِذَا سَمِعْتُمْ آيَاتِ اللَّـهِ يُكْفَرُ بِهَا وَيُسْتَهْزَأُ بِهَا فَلَا تَقْعُدُوا مَعَهُمْ حَتَّى يَخُوضُوا فِي حَدِيثٍ غَيْرِهِ إِنَّكُمْ إِذًا مِّثْلُهُم ـــــ
جب تم سنو کہ اللہ کی آیتوں کا انکار کیا جارہا ہے اور انکا مذاق اڑایا جارہا ہے تو تم ان لوگوں کے ساتھ مت بیٹھو یہاں تک کہ وہ (انکار اور تمسخر چھوڑ کر) کسی دوسری بات میں مشغول ہوجاٸیں ، ورنہ تم بھی انہیں جیسے ہوجاٶگے ۔۔
نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ :
من تشبه بقوم فھو منھم
یعنی جو جس قوم سے مشابہت اختیار کرے وہ انہیں میں سے ہے ۔۔۔
حکیم لقمان نے فرماگۓ ہیں کہ
من یصحب صاحب السوء لم یسلم و من یدخل السوء یتھم و من لایملک لسانه ندم
یعنی جو بری صحبت میں بیٹھے گا وہ سالم نہ رہیگا جو بری جگہ جاٸیگا وہ متہم ہوگا اور جو اپنی زبان پر قابو نہ رکھےگا وہ نادم ہوگا
اور اسی طرح کے الفاظ نبی کریم ﷺ سے بھی مروی ہیں
حضرت ابن شہاب حضرت علی بن حسن رضی الله عنہم سے روایت کرتے ہیں کہ
ایک دن نبی کریم ﷺ مسجد میں تشریف فرماتھے کہ آپ کی چچی حضرت صفیه رضی الله عنہا تشریف لاٸیں ۔
پھر جب وہ وہاں سے گھر کو لوٹیں تو آپ انکو پہنچانے آۓ ۔
راستہ میں دو انصاری جاتے ہوۓ ملے ،
تو آپ نے فرمایا
انما ھی عمتی صفیة
یعنی یہ میری چچی صفیہ ہیں
یہ سن کر انھوں نے عرض کی سبحان الله (آپ نے کیا خیال فرمالیا )
آپ نے ارشاد فرمایا :
ان الشیطان یجری من بنی آدم مجری الدم ولقد خشیت ان تظنا فتھلکا .
یعنی شیطان آدمی کی رگوں میں خون کی طرح دوڑتا ہے ۔ مجھے ڈر ہوا کہ اگر تم (میری بابت) کسی بدگمانی میں مبتلا ہوگئے تو ہلاک ہوجاٶگے _
ایک موقع پر نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :
من کان یٶمن بالله والیوم الآخر لایفقن مواقف التھمات
یعنی جو اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتا ہے اسکو چاہیۓ کہ تہمت کی جگہوں پر کھڑا نہ ہو ___
بستان العارفین - صفحہ ٢٢٢ باب نمبر ٦٣
مصنف : عالم عامل شیخ کامل فقیه ابو اللیث سمرقندی حنفی علیه الرحمه (م ٣٧٥ ھ)
✍ محمد ضیاءالدین خان قادری حنفی
بہراٸچ شریف یوپی الھند
فقیہ ابو اللیث علیه الرحمه فرماتے ہیں :
آدمی کو زیب نہیں دیتا کہ اپنے آپکو محل تہمت بناۓ اور تہمت لگے ہوۓ لوگوں کی صحبت میں بیٹھے اور ان سے کوٸ ربط و ظبط رکھے
کیوں کہ اگر کریگا تو یہ بھی متہم ہوگا اور الله ﷻ ارشاد فرماتا ہے کہ
إِذَا سَمِعْتُمْ آيَاتِ اللَّـهِ يُكْفَرُ بِهَا وَيُسْتَهْزَأُ بِهَا فَلَا تَقْعُدُوا مَعَهُمْ حَتَّى يَخُوضُوا فِي حَدِيثٍ غَيْرِهِ إِنَّكُمْ إِذًا مِّثْلُهُم ـــــ
جب تم سنو کہ اللہ کی آیتوں کا انکار کیا جارہا ہے اور انکا مذاق اڑایا جارہا ہے تو تم ان لوگوں کے ساتھ مت بیٹھو یہاں تک کہ وہ (انکار اور تمسخر چھوڑ کر) کسی دوسری بات میں مشغول ہوجاٸیں ، ورنہ تم بھی انہیں جیسے ہوجاٶگے ۔۔
نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ :
من تشبه بقوم فھو منھم
یعنی جو جس قوم سے مشابہت اختیار کرے وہ انہیں میں سے ہے ۔۔۔
حکیم لقمان نے فرماگۓ ہیں کہ
من یصحب صاحب السوء لم یسلم و من یدخل السوء یتھم و من لایملک لسانه ندم
یعنی جو بری صحبت میں بیٹھے گا وہ سالم نہ رہیگا جو بری جگہ جاٸیگا وہ متہم ہوگا اور جو اپنی زبان پر قابو نہ رکھےگا وہ نادم ہوگا
اور اسی طرح کے الفاظ نبی کریم ﷺ سے بھی مروی ہیں
حضرت ابن شہاب حضرت علی بن حسن رضی الله عنہم سے روایت کرتے ہیں کہ
ایک دن نبی کریم ﷺ مسجد میں تشریف فرماتھے کہ آپ کی چچی حضرت صفیه رضی الله عنہا تشریف لاٸیں ۔
پھر جب وہ وہاں سے گھر کو لوٹیں تو آپ انکو پہنچانے آۓ ۔
راستہ میں دو انصاری جاتے ہوۓ ملے ،
تو آپ نے فرمایا
انما ھی عمتی صفیة
یعنی یہ میری چچی صفیہ ہیں
یہ سن کر انھوں نے عرض کی سبحان الله (آپ نے کیا خیال فرمالیا )
آپ نے ارشاد فرمایا :
ان الشیطان یجری من بنی آدم مجری الدم ولقد خشیت ان تظنا فتھلکا .
یعنی شیطان آدمی کی رگوں میں خون کی طرح دوڑتا ہے ۔ مجھے ڈر ہوا کہ اگر تم (میری بابت) کسی بدگمانی میں مبتلا ہوگئے تو ہلاک ہوجاٶگے _
ایک موقع پر نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :
من کان یٶمن بالله والیوم الآخر لایفقن مواقف التھمات
یعنی جو اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتا ہے اسکو چاہیۓ کہ تہمت کی جگہوں پر کھڑا نہ ہو ___
بستان العارفین - صفحہ ٢٢٢ باب نمبر ٦٣
مصنف : عالم عامل شیخ کامل فقیه ابو اللیث سمرقندی حنفی علیه الرحمه (م ٣٧٥ ھ)
✍ محمد ضیاءالدین خان قادری حنفی
بہراٸچ شریف یوپی الھند
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Deleted Account
چھینک کا جواب
فقیہ ابو اللیث علیه الرحمه فرماتے ہیں :
حضرت انس بن مالک بیان کرتے ہیں کہ دو شخصوں کو حضور اکرم ﷺ کے پاس چھینک آٸی تو آپ نے ایک کو جواب دیا اور دوسرے کو نہ دیا ۔ لوگوں نے عرض کی ، یارسول اللہﷺ ! آپ نے ایک کو جواب دیا اور دوسرے کو نہ دیا ۔ تو آپ نے اسکی وجہ بیان فرمائی :
ان ھذا حمد اللہ وھذا لم یحمد اللہ .
یعنی اس نے اللہ کی حمد کی اور اس دوسرے نے حمد نہ کی ۔
فقیہ ابو اللیث علیه الرحمه فرماتے ہیں :
چھینکنے والے کے لیۓ مستحب ہے کہ اپنی آواز کو پست رکھے ،اور الحَمْدُ ِلله کہتے وقت اونچی کرے تاکہ لوگ سنیں کیونکہ چھینک کا جواب دینا واجب ہے جب چھینکنے والا , الحَمْدُ ِلله , کہے___
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں آتا ہے کہ آپ نے ایک شخص کو چھینکتے سنا تو فرمایا :
یرحمک الله ان کنت حمدت الله .
یعنی اللہ عزوجل تجھ پر رحم فرمائے اگر تونے الحمد للہ کہا ہے
حضرت عطا بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :
من عطس ثلث عطسات فقد استقر الایمان فی قلبه.
یعنی جس نے پے در پے تین بار چھینکا تو اسکے دل میں ایمان ٹھہرگیا ۔۔۔
امام مالک حضرت عبد الله بن ابوبکر بن عمرو بن حزم سے اور وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
ان عطس الرجل فشمته ثم ان عطس فشمته ثم ان عطس فقل له : انک مضنوک ..
یعنی اگر کوٸ شخص چھینکے تو اسکو جواب دو پھر اگر اسکو چھینک آۓ تو پھر جواب دو پھر اگر وہ چھینکے تو اس سے کہو کہ تم کو زکام ہوگیا ہے ۔۔۔۔
راویِ حدیث حضرت عبد الله کہتے ہیں
کہ مجھے یاد نہیں رہا کہ تیسری چھینک کے بعد یا چوتھی چھینک کے بعد ایسا کہنا ہے ۔
حضرت ابو ہریرہ نے فرمایا کہ چھینک کا جواب تین بار ہے اور جب زیادہ ہو تو اسکو زکام ہے۔
حضرت شعبی نے کہا کہ چھینک کا جواب ایک بار ہے ، جیسے سجدہ ایک بار کیا جاتا ہے لیکن اگر دوبارہ آیا تو سجدہ نہ کیا جاٸیگا ۔۔۔
نبی اکرم ﷺ کے بارے میں آتا ہے کہ آپ جس وقت چھینکتے تو سر جھکا کر اپنا چہرہ چھپا لیتے تھے اور آواز پست کر لیتے تھے ۔۔
فقیہ ابو اللیث علیه الرحمه فرماتے ہیں :
جب کوٸی چھینکے اور کوٸی دوسرا الحَمْدُ لله کہدے تو یہ بھی اچھی بات ہے ۔
نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :
من سبق العاطس بالحمد لله امن من الشوص واللوص والعلوص ۔
یعنی جس نے چھینکنے والے سے الحَمْدُ ِلله کہنے میں سبقت کی تو وہ شوص اور لوص اور علوص سے امن میں رہا ۔۔۔۔
اہل لغت کہتے ہیں کہ شوص داڑھ یا پیٹھ کے درد کو کہتے ہیں
لوص کان کے درد کو کہتے ہیں
اور علوص پیٹ کے درد کو کہتے ہیں
(وہ ان تینوں دردوں سے محفوظ رہیگا )
_________________________
_______________________
صحیح بخاری : ٤٩/٨ حدیث ٦٢٢١
صحیح مسلم : ٢٢٩٢/٤ حدیث ٢٩٩٠
سنن ابو داٶد : ٣٦٨/٤ حدیث ٥٠٤١
سنن ابن ماجه : ١٢٢٣/٢ حدیث ٣٧١٣
سنن دارمی : ٣٦٨/٢ حدیث ٢٦٦٠
_______________________________
_______________________________
جامع الاحادیث سیوطی : ٣٠٢/٢٣ حدیث ٢٦٠٩٠
کنز العمال : ١٦٥/٩ حدیث ٢٥٥٤٩
الاتحاف السنیة بالاحادیث القدسیة : ٤١/١ حدیث ٧٩
مسند فردوس دیلمی : ٢٦/٤ حدیث ٦٠٧٨
_______________________________
_______________________________
موطا امام محمد : ٤٥٨/٣ حدیث ٩٥٣
جامع الاصول فی احادیث الرسول : ٦٢١/٦ حدیث ٤٨٨٣
موطا امام مالک : ١٤٠٤/٥ حدیث ٣٥٤٢
جامع الاحادیث سیوطی : ٢٠٧/٤١ حدیث ٤٤٦٦٣
________________________________
________________________________
اسنی المطالب فی احادیث مختلف المراتب : ٢٧٢/١ حدیث ١٤٠٩
________________________________
________________________________
بستان العارفین صفحه ٤٣٠ باب نمبر ١٣٧
مصنف : حضرت شیخ کامل فقیہ ابو اللیث سمرقندی حنفی علیه الرحمه
_______________________________
محمد ضیاءالدین خان قادری حنفی
بهرائچ شریف یوپی الہند
فقیہ ابو اللیث علیه الرحمه فرماتے ہیں :
حضرت انس بن مالک بیان کرتے ہیں کہ دو شخصوں کو حضور اکرم ﷺ کے پاس چھینک آٸی تو آپ نے ایک کو جواب دیا اور دوسرے کو نہ دیا ۔ لوگوں نے عرض کی ، یارسول اللہﷺ ! آپ نے ایک کو جواب دیا اور دوسرے کو نہ دیا ۔ تو آپ نے اسکی وجہ بیان فرمائی :
ان ھذا حمد اللہ وھذا لم یحمد اللہ .
یعنی اس نے اللہ کی حمد کی اور اس دوسرے نے حمد نہ کی ۔
فقیہ ابو اللیث علیه الرحمه فرماتے ہیں :
چھینکنے والے کے لیۓ مستحب ہے کہ اپنی آواز کو پست رکھے ،اور الحَمْدُ ِلله کہتے وقت اونچی کرے تاکہ لوگ سنیں کیونکہ چھینک کا جواب دینا واجب ہے جب چھینکنے والا , الحَمْدُ ِلله , کہے___
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں آتا ہے کہ آپ نے ایک شخص کو چھینکتے سنا تو فرمایا :
یرحمک الله ان کنت حمدت الله .
یعنی اللہ عزوجل تجھ پر رحم فرمائے اگر تونے الحمد للہ کہا ہے
حضرت عطا بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :
من عطس ثلث عطسات فقد استقر الایمان فی قلبه.
یعنی جس نے پے در پے تین بار چھینکا تو اسکے دل میں ایمان ٹھہرگیا ۔۔۔
امام مالک حضرت عبد الله بن ابوبکر بن عمرو بن حزم سے اور وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
ان عطس الرجل فشمته ثم ان عطس فشمته ثم ان عطس فقل له : انک مضنوک ..
یعنی اگر کوٸ شخص چھینکے تو اسکو جواب دو پھر اگر اسکو چھینک آۓ تو پھر جواب دو پھر اگر وہ چھینکے تو اس سے کہو کہ تم کو زکام ہوگیا ہے ۔۔۔۔
راویِ حدیث حضرت عبد الله کہتے ہیں
کہ مجھے یاد نہیں رہا کہ تیسری چھینک کے بعد یا چوتھی چھینک کے بعد ایسا کہنا ہے ۔
حضرت ابو ہریرہ نے فرمایا کہ چھینک کا جواب تین بار ہے اور جب زیادہ ہو تو اسکو زکام ہے۔
حضرت شعبی نے کہا کہ چھینک کا جواب ایک بار ہے ، جیسے سجدہ ایک بار کیا جاتا ہے لیکن اگر دوبارہ آیا تو سجدہ نہ کیا جاٸیگا ۔۔۔
نبی اکرم ﷺ کے بارے میں آتا ہے کہ آپ جس وقت چھینکتے تو سر جھکا کر اپنا چہرہ چھپا لیتے تھے اور آواز پست کر لیتے تھے ۔۔
فقیہ ابو اللیث علیه الرحمه فرماتے ہیں :
جب کوٸی چھینکے اور کوٸی دوسرا الحَمْدُ لله کہدے تو یہ بھی اچھی بات ہے ۔
نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :
من سبق العاطس بالحمد لله امن من الشوص واللوص والعلوص ۔
یعنی جس نے چھینکنے والے سے الحَمْدُ ِلله کہنے میں سبقت کی تو وہ شوص اور لوص اور علوص سے امن میں رہا ۔۔۔۔
اہل لغت کہتے ہیں کہ شوص داڑھ یا پیٹھ کے درد کو کہتے ہیں
لوص کان کے درد کو کہتے ہیں
اور علوص پیٹ کے درد کو کہتے ہیں
(وہ ان تینوں دردوں سے محفوظ رہیگا )
_________________________
_______________________
صحیح بخاری : ٤٩/٨ حدیث ٦٢٢١
صحیح مسلم : ٢٢٩٢/٤ حدیث ٢٩٩٠
سنن ابو داٶد : ٣٦٨/٤ حدیث ٥٠٤١
سنن ابن ماجه : ١٢٢٣/٢ حدیث ٣٧١٣
سنن دارمی : ٣٦٨/٢ حدیث ٢٦٦٠
_______________________________
_______________________________
جامع الاحادیث سیوطی : ٣٠٢/٢٣ حدیث ٢٦٠٩٠
کنز العمال : ١٦٥/٩ حدیث ٢٥٥٤٩
الاتحاف السنیة بالاحادیث القدسیة : ٤١/١ حدیث ٧٩
مسند فردوس دیلمی : ٢٦/٤ حدیث ٦٠٧٨
_______________________________
_______________________________
موطا امام محمد : ٤٥٨/٣ حدیث ٩٥٣
جامع الاصول فی احادیث الرسول : ٦٢١/٦ حدیث ٤٨٨٣
موطا امام مالک : ١٤٠٤/٥ حدیث ٣٥٤٢
جامع الاحادیث سیوطی : ٢٠٧/٤١ حدیث ٤٤٦٦٣
________________________________
________________________________
اسنی المطالب فی احادیث مختلف المراتب : ٢٧٢/١ حدیث ١٤٠٩
________________________________
________________________________
بستان العارفین صفحه ٤٣٠ باب نمبر ١٣٧
مصنف : حضرت شیخ کامل فقیہ ابو اللیث سمرقندی حنفی علیه الرحمه
_______________________________
محمد ضیاءالدین خان قادری حنفی
بهرائچ شریف یوپی الہند
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Deleted Account
سوال
دوسروں کی زمین جبرا غصب کرلینا کیسا ؟
الجواب بعون الملک الوہاب
غیر کی زمین یا کوٸی چیز غصب کرلینا ،جبرا دبالینا ، زبردستی اس پر قابض ہوجانا ظلم ہے ،حرام سخت اشد اخبث اشنع کام ہے خود اپنے لیۓ لے یا دباکر کسی وقف میں شامل کرے ۔جو پراٸی زمین ظلما دبالے اس کی نسبت حدیث میں فرمایا
( من ظلم قید شبر من الارض طوقہ من سبع ارضین . )
(الترغیب والتھذیب : ٣ / ١٥ )
یعنی جو کسی کی بالشت بھر زمین ظلما لیگا روز قیامت ساتوں زمینوں سے طوق بناکر اسکے گلے میں ڈالا جاٸیگا ۔
والعیاذ باللہ تعالی ۔
جو لوگ جانتے ہوۓ ظلم میں ظالم کے ساتھ ہونگے وہ جب تک توبہ نہ کریں گے قہر الہی میں رہیں گے ۔
حدیث میں ہے
( من اعان علی خصومة بظلم لم یزل فی سخط اللہ حتی ینزع )
(سنن ابن ماجہ کتاب الاحکام باب من ادعی مالیس لہ وخاصم فیه ٢٣٢ ٣/ ٦٢ )
جو کسی نزاع میں ظالم کی ہمدردی و اعانت کریگا وہ اللہ کے غضب کا مستحق ہوگا یہاں تک کہ مرجاۓ
دوسری حدیث میں ہے
من اعان ظالما لید حض بباطلہ حقا فقد برٸت ذمة اللہ وذمة رسوله
( حلیة الاولیاء ٥ / ٢٤٨ )
یعنی جو کسی ظالم کا ساتھ دے تاکہ باطل سے حق کو مٹادے تو الله ورسول ﷻ و ﷺ ۔
اس سے بیزار ہیں ۔
ایک اور حدیث میں ہے
من اخذ شیٸا من الارض قلدہ یوم القیامة من سبعة ارضین
( کنز العمال کتاب الغصب ٣٠٣٤١ ١٠/ ٢٨١ )
جو کسی کی معمولی زمیں بھی ظلما لے گا روز قیامت ساتوں زمین تک اسے دھنسا دیا جاٸیگا
_______________________
فتاوی مفتٸ اعظم جلد پنجم کتاب الغصب صفحہ ١٠٧
_________________________
فتاوی مصطفویہ کتاب الغصب صفحہ ٤٣٣
پر بھی اسی طرح لکھا ہے ۔۔۔۔۔
__________________________
نیک اعمال صرف مسلمانوں کے قابل قبول ہیں چونکہ اعمال کا دارومدار جو ہے ایمان پر ہے مسلمان ہو تو نیک اعمال کار آمد اور مسلمان نہ ہو تو نیک اعمال قابل قبول نہیں دنیا میں کافر کو نیکی کا بدلہ مل جاتا ہے لیکن آخرت میں کوئی نیک عمل کافر کے نامہ اعمال میں ہے ہی نہیں لہذا وہ ہمارے نیک اعمال تو نہیں لے سکتا لیکن یہ بات ضرور ہے کہ کافر کے ساتھ دھوکہ اس کا مال چوری کرنا وغیرہ گناہ ہے اگر کوئی مسلمان ایسا کرےگا تو گناہ گار ہوگا
امام حاکم روایت کرتے ہیں کہ جنگ حنین میں ایک صحابی فوت ہوگئے
فذکرو لرسول الله صلی الله علیه وسلم فقال صلو علی صاحبکم متغیروا وجوہ الناس لذالک فقال ان صاحبکم غل فی سبیل اللہ ففتشنا متاعه فوجدنا حرزو من خرز الیہود لا یساوی درھمین
ان تمام تر عبارتوں سے اندازہ کرنا چاہیے کہ غیر مسلموں سے بھی فراڈ دھوکہ دہی وغیرہ ناجائز ہے ۔۔۔
والله تعالیٰ اعلم بالصواب
__________________________
✍️ محمد ضیاءالدین خان قادری حنفی
✍️ محمد زبیر رضا الغوثی
دوسروں کی زمین جبرا غصب کرلینا کیسا ؟
الجواب بعون الملک الوہاب
غیر کی زمین یا کوٸی چیز غصب کرلینا ،جبرا دبالینا ، زبردستی اس پر قابض ہوجانا ظلم ہے ،حرام سخت اشد اخبث اشنع کام ہے خود اپنے لیۓ لے یا دباکر کسی وقف میں شامل کرے ۔جو پراٸی زمین ظلما دبالے اس کی نسبت حدیث میں فرمایا
( من ظلم قید شبر من الارض طوقہ من سبع ارضین . )
(الترغیب والتھذیب : ٣ / ١٥ )
یعنی جو کسی کی بالشت بھر زمین ظلما لیگا روز قیامت ساتوں زمینوں سے طوق بناکر اسکے گلے میں ڈالا جاٸیگا ۔
والعیاذ باللہ تعالی ۔
جو لوگ جانتے ہوۓ ظلم میں ظالم کے ساتھ ہونگے وہ جب تک توبہ نہ کریں گے قہر الہی میں رہیں گے ۔
حدیث میں ہے
( من اعان علی خصومة بظلم لم یزل فی سخط اللہ حتی ینزع )
(سنن ابن ماجہ کتاب الاحکام باب من ادعی مالیس لہ وخاصم فیه ٢٣٢ ٣/ ٦٢ )
جو کسی نزاع میں ظالم کی ہمدردی و اعانت کریگا وہ اللہ کے غضب کا مستحق ہوگا یہاں تک کہ مرجاۓ
دوسری حدیث میں ہے
من اعان ظالما لید حض بباطلہ حقا فقد برٸت ذمة اللہ وذمة رسوله
( حلیة الاولیاء ٥ / ٢٤٨ )
یعنی جو کسی ظالم کا ساتھ دے تاکہ باطل سے حق کو مٹادے تو الله ورسول ﷻ و ﷺ ۔
اس سے بیزار ہیں ۔
ایک اور حدیث میں ہے
من اخذ شیٸا من الارض قلدہ یوم القیامة من سبعة ارضین
( کنز العمال کتاب الغصب ٣٠٣٤١ ١٠/ ٢٨١ )
جو کسی کی معمولی زمیں بھی ظلما لے گا روز قیامت ساتوں زمین تک اسے دھنسا دیا جاٸیگا
_______________________
فتاوی مفتٸ اعظم جلد پنجم کتاب الغصب صفحہ ١٠٧
_________________________
فتاوی مصطفویہ کتاب الغصب صفحہ ٤٣٣
پر بھی اسی طرح لکھا ہے ۔۔۔۔۔
__________________________
نیک اعمال صرف مسلمانوں کے قابل قبول ہیں چونکہ اعمال کا دارومدار جو ہے ایمان پر ہے مسلمان ہو تو نیک اعمال کار آمد اور مسلمان نہ ہو تو نیک اعمال قابل قبول نہیں دنیا میں کافر کو نیکی کا بدلہ مل جاتا ہے لیکن آخرت میں کوئی نیک عمل کافر کے نامہ اعمال میں ہے ہی نہیں لہذا وہ ہمارے نیک اعمال تو نہیں لے سکتا لیکن یہ بات ضرور ہے کہ کافر کے ساتھ دھوکہ اس کا مال چوری کرنا وغیرہ گناہ ہے اگر کوئی مسلمان ایسا کرےگا تو گناہ گار ہوگا
امام حاکم روایت کرتے ہیں کہ جنگ حنین میں ایک صحابی فوت ہوگئے
فذکرو لرسول الله صلی الله علیه وسلم فقال صلو علی صاحبکم متغیروا وجوہ الناس لذالک فقال ان صاحبکم غل فی سبیل اللہ ففتشنا متاعه فوجدنا حرزو من خرز الیہود لا یساوی درھمین
ان تمام تر عبارتوں سے اندازہ کرنا چاہیے کہ غیر مسلموں سے بھی فراڈ دھوکہ دہی وغیرہ ناجائز ہے ۔۔۔
والله تعالیٰ اعلم بالصواب
__________________________
✍️ محمد ضیاءالدین خان قادری حنفی
✍️ محمد زبیر رضا الغوثی
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
" ہر حال میں اللّٰه تعالیٰ کا شُکر ادا کرنا چاہیے "
ایک عارف باللّٰه رات کو تہجّد کے لیے اُٹھا تو سردی ڈھانپنے کے لیے کپڑا نہ تھا تو سردی کی شِدّت سے رونے لگا۔اللّٰه تعالیٰ کی طرف سے پیام پہنچا کہ ہم نے تمہیں اپنی حاضری کی توفیق بخشی اور دوسروں کو غفلت کی نیند طاری کر دی یعنی تیرا تہجّد کے لیے اُٹھنا میری نعمت اور ان کا غفلت سے سوتے رہنا سزا،تو پِھر تمہیں ہمارا شُکر ( ادا ) کرنا چاہیے نہ کہ کپڑوں کے نہ ہونے سے جزع فزع ( یعنی گریہ و زاری ) کرنا،کیونکہ غفلت کی مُصیبت سے کپڑے کے نہ ہونے سے سخت تر ہے۔
( تفسِیر رُوح البیان،پارہ: ۲۹، صفحہ: ۴۶ )
ایک عارف باللّٰه رات کو تہجّد کے لیے اُٹھا تو سردی ڈھانپنے کے لیے کپڑا نہ تھا تو سردی کی شِدّت سے رونے لگا۔اللّٰه تعالیٰ کی طرف سے پیام پہنچا کہ ہم نے تمہیں اپنی حاضری کی توفیق بخشی اور دوسروں کو غفلت کی نیند طاری کر دی یعنی تیرا تہجّد کے لیے اُٹھنا میری نعمت اور ان کا غفلت سے سوتے رہنا سزا،تو پِھر تمہیں ہمارا شُکر ( ادا ) کرنا چاہیے نہ کہ کپڑوں کے نہ ہونے سے جزع فزع ( یعنی گریہ و زاری ) کرنا،کیونکہ غفلت کی مُصیبت سے کپڑے کے نہ ہونے سے سخت تر ہے۔
( تفسِیر رُوح البیان،پارہ: ۲۹، صفحہ: ۴۶ )
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
حافظ ملت ایک دعوت میں ...
// انجانے میں دیوبندی کا نکاح
امام احمد رضا اکیڈمی App ایپ
مطالعہ اور ترک مطالعہ | علم جہل
مہر کے دو مسئلے فتاویٰ فقیہ ملت
مرد کا حیا دار ہونا... عورت کا حیا
اگر کوئی چیز گم ہو جائے تو
مقطع چرا کے صاحب اشعار ہو گئے
شعر = حضرت حلیمہ کا مقدر ...
سوتے وقت آیت الکرسی کی اہمیت
// انجانے میں دیوبندی کا نکاح
امام احمد رضا اکیڈمی App ایپ
مطالعہ اور ترک مطالعہ | علم جہل
مہر کے دو مسئلے فتاویٰ فقیہ ملت
مرد کا حیا دار ہونا... عورت کا حیا
اگر کوئی چیز گم ہو جائے تو
مقطع چرا کے صاحب اشعار ہو گئے
شعر = حضرت حلیمہ کا مقدر ...
سوتے وقت آیت الکرسی کی اہمیت
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
انہیں نہ دیکھا تو کس کام کی
عالم کی فضیلت عابد پر ایسے
جو وصیت کرنے کے بعد فوت ہوا
والد کو پانی پلانے کا اجر | باپ
چار چیزیں چار چیزوں کی طرف
جو کسی مسلمان کو ذلیل کرےگا
چیونٹی کی طرح حریص
موت کو یاد رکھنے والا غفلت ...
عقلمندی پرہیز گاری حماقت فسق
برائیوں پر اچھائیںا غالب نہ ہوں تو
عالم کی فضیلت عابد پر ایسے
جو وصیت کرنے کے بعد فوت ہوا
والد کو پانی پلانے کا اجر | باپ
چار چیزیں چار چیزوں کی طرف
جو کسی مسلمان کو ذلیل کرےگا
چیونٹی کی طرح حریص
موت کو یاد رکھنے والا غفلت ...
عقلمندی پرہیز گاری حماقت فسق
برائیوں پر اچھائیںا غالب نہ ہوں تو