🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.83K subscribers
69.7K photos
228 videos
257 files
8.84K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
حضرت حافظِ ملت علیہ الرحمہ کی عقائدِ دیوبندیہ کے رد میں لکھی گئی مختصر مگر جامع کتاب المصباح الجدید کی " تحریک تحفظِ عقائد , بلرامپور , یوپی ہندوستان " سے ہونے والی جدیداشاعت پر راقم کا لکھا گیا مقدمہ. اس کتاب کی تخریج مولانا ساجد مہر القادری زید مجدہ نے کی ہے.

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2909364642676177&id=100008080090753
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
راقم کی "اہل سنت کی حقانیت کا غیرمقلدین سے ثبوت" اور مولانا سید یعقوب الٰہ آبادی رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب "جوامع الاحکام" (جس کی تخریج , ضروری حواشی اور مقدمہ راقم نے لکھا) پر ماہنامہ نور الحبیب , بصیر پور (بابت دسمبر 2016ء) کا تبصرہ
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2909364702676171&id=100008080090753
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
دیوبندیت شکن مَجَلَّہ کَلِمَۂ حق شمارہ : 14 کی Pdf فائل کا ڈاؤن لوڈ لنک پیشِ خدمت ہے. کَلِمَۂ حق کے اس شمارہ کے شائع ہونے کے بعد دُشنام باز دیوبندی ٹولے کی کمین گاہوں سے ہونے والی فلک شگاف چیخ و پُکار اور گالم گلوچ اس بات کی غمازی کر رہی ہے کہ ہمارا نشانہ بالکل درست جگہ پر لگاہے. اسی طرح باطل کاعلمی و تحقیقی تعاقب جاری رہے گا۔ اِنْ شَاءَ اللّٰہُ تَعَالٰی۔
https://archive.org/details/kalmaehaqshumarano14th
یہ کتاب pdf فائل میں نیچے ↓
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2910244035921571&id=100008080090753
کلمہ حق شمارہ نمبر 14.pdf
1.3 MB
عقائد اھل سنت کا محافظ 💐
کلمہ حق کلمۂ حق کلمه حق
شمارہ نمبر 14 مجلہ پاکستان

غیر موقت
ربیع الآخر ١٤٤١ھ دسمبر 2019

▪️ تکبیر ہوتے وقت کھڑے رہ کر جماعت کا انتظار کرنا مکروہ ہے
▪️ محفل میلاد
(مولوی رشید گنگوہی دیو بندی کے فتوی انکار میلاد کا رد)
▪️ اللہ تعالی نے قرآن کریم میں جھوٹ بولا ہے
ساجد خان دیو بندی کا کفریہ عقیدہ
▪️ ساجد خان دیو بندی اور مفتی نجیب اللہ عمر دیو بندی
باہم دست و گریباں ہوگئے
▪️ امام المتکلمین حضرت مولانا نقی علی خان پر " جواہر البیان " کے حوالے سے دیو بندی اعتراض کا جواب
▪️ حرمین شرمین اور میلاد

ایڈیٹر
عبدالمصطفی قادری رضوی
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
دل تھام کے پڑھیں

سعودی عرب کی ایک عدالت میں ایک مقدمہ کا فیصلہ سنایا گیا اور قاضی خود رونے لگا، ساتھ میں جتنے لوگ موجود تھے سب کی آنکھیں بھیگ گئیں۔
آئیے دیکھتے ہیں مقدمہ کیا تھا۔

یہ واقعہ ایک شخص کا ہے جو ایک گاؤں میں رہتا تھا، اس کی 90 سال کی بوڑھی ماں تھی جو اس کے لیے اس کی کائنات تھی۔
یہ شخص بھی بوڑھا ہو چکا تھا اور غربت میں دن بسر ہو رہے تھے۔
یہ اپنی ماں کی دن رات دیکھ بھال کرتا اور ماں کو بھی اس بیٹے سے بہت زیادہ محبت تھی اور وہ صبح شام اس کے لیے دعائیں کرتے نہ تھکتی۔
یہ شخص اپنی ماں کی خدمت میں سکون اور آخرت کا اچھا گھر دیکھتا تھا۔

سب کچھ ٹھیک جا رہا تھا کہ دوسرا بیٹا جو شہر میں رہتا تھا وہ اپنی ماں کو لینے آ گیا اور اس کا مطالبہ تھا کہ اتنے عرصے تم نے ماں کو رکھا اب میں اپنے پاس رکھوں گا۔
اس شخص کے لیے یہ ایسا تھا کہ جیسے کسی نے جان سے بڑھ کر کچھ مانگ لیا ہو، اسے اپنی دنیا اندھیری ہوتی نظر آ رہی تھی، اس نے بھائی کو بہت سمجھایا کہ میں ماں کے بنا نہیں رہ سکتا پر اس نے نا مانی اور ضد پہ اڑا رہا اور یہ معاملہ پنچایت پر حل نہ ہونے پر عدالت تک پہنچ گیا۔

قاضی نے پہلے کوشش کی کہ دونوں کے بیچ صلح ہو جائے پر ایسا نہ ہوا تو قاضی نے ماں کو عدالت میں لانے کو کہا اور جب اسے لایا گیا تو قاضی نے اس سے پوچھا کہ آپ کو کس کے ساتھ رہنا ہے؟
وہ بوڑھی ماں اپنے دامن سے آنکھوں کو خشک کرکے کہنے لگی کہ میرے لیے یہ فیصلہ کرنا دشوار ہے، یہ دونوں بیٹے میری دو آنکھیں ہیں اور کیسے میں ایک بچے کے حق میں دوسرے کے خلاف فیصلہ کر سکتی ہوں، میرے لیے دونوں برابر ہیں۔
قاضی نے اس شخص کی مالی حالت کمزوری اور اس کے بھائی کی حالت اور خوشحالی کے اسباب کو دیکھتے ہوئے چھوٹے بھائی کے حق میں فیصلہ سنا دیا۔

قاضی کے فیلصہ سناتے ہی وہ شخص دردناک چیخوں کے ساتھ رونے لگا اور عدالت اس کی آواز سے گونج اٹھی۔
اس کے بلک بلک کے رونے سے قاضی صاحب اور کمرے میں موجود لوگ بھی آنسوؤں کو روک نہ سکے۔
قاضی صاحب روتے ہوئے کرسی سے اٹھ گئے اور کمرے کے لوگ اس شخص سے گلے لگا کر روئے جب اس شخص نے اپنی ماں کے قدموں کو بوسہ دیتے ہوئے رخصت ہونے کی اجازت چاہی تو چھوٹے بھائی کی بھی چیخیں نکل گئیں۔

یہ واقعہ پڑھ کر غور کریں کہ جن بوڑھی ماؤں کو اولڈ ہاؤس وغیرہ میں چھوڑ دیا جاتا ہے یا انہیں الگ کر دیا جاتا ہے، اگر انہوں نے یہ پڑھ لیا تو ان پر کیا گزرے گی۔
اپنی ماں کو فراموش کرکے بیوی کے ہر جائز ناجائز حکم کی فرما برداری کرنے والے اسے پڑھیں اور غور کریں کہ اللہ کی عطا کردہ کتنی بڑی نعمت کو وہ فراموش کر رہے ہیں۔

خوش نصیب ہے وہ شخص جس کی ماں زندہ ہے اور اسے خبر ہے کہ یہ کتنی بڑی نعمت میرے پاس موجود ہے۔

عبد مصطفی آفیشل
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
ایک ولی کی 3 نشانیاں

حضرت خواجہ بہاؤالدین نقشبند رحمہ اللہ تعالیٰ (متوفی 792 ہجری) نے ایک ولی کی جو تین علامتیں بیان فرمائی ہیں وہ یہ ہیں :

سہ نشان بود ولی راز نخست دان بہ معنی
کہ چوں روئے اوبہ بینی دل تو بد وگراید

حقیقی ولی کی تین نشانیاں ہیں، پہلی یہ ہے کہ تو اس کے چہرے کو دیکھے تو تیرا دل اس کا گرویدہ ہو جائے (یعنی اسے دوبارہ دیکھنے کی آرزو تیرے دل میں انگڑائیاں لینے لگے)

دوم آنکہ در مجالس چوسخن کند بہ معنی
ہمہ راز ہستی خود بہ حدیث می رباید

دوسری علامت یہ ہے کہ جب وہ مجلس میں اسرار و حقائق بیان کرے تو اس کی باتیں سننے والوں کے دل موہ لے اور سنتے رہنے کو جی چاہے۔

سوم آں بود بہ معنی ولی اخص عالم
کہ زہیچ عضو او راحر کات بد نیابد

حقیقت میں جہان کے خاص ترین ولی کی تیسری نشانی یہ ہے کہ اس کے اعضاء سے ناشائستہ حرکات سرزد نہ ہو (گویا اس کی خلوت و جلوت میں کسی قسم کا تاضاد نہ ہو)
[وہ جس طرح لوگوں کے درمیان با عمل ہو اس سے زیادہ اکیلے میں با عمل ہق]

(مقدمہ کلیات جامی از ہاشم رضا، ص170)

عبد مصطفی آفیشل
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
سلطان ملک شاہ، وزیر نظام الملک اور تعلیمی ادارے

سلجوقی بادشاہوں کے نامور وزیر نظام الملک نے جب سلطنت کے طول و عرض میں تعلیمی اداروں کا جال بچھا دیا اور تعلیم کے لیے اتنی بڑی رقم خرچ کی کہ طلبہ (پڑھنے والے) کتابوں کی فراہمی اور دوسرے خرچوں سے بے نیاز ہو گئے تو سلطان ملک شاہ نے فرمایا کہ وزیراعظم نے اتنا مال اس میں خرچ کیا ہے کہ اتنی رقم سے جنگ کے لیے پورا لشکر تیار ہو سکتا ہے، آخر اتنا مال جو آپ نے ان پر لگایا ہے تو اس میں آپ کیا دیکھتے ہیں؟

وزیر نظام الملک کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور کہنے لگے:
عالیجاہ! میں تو بوڑھا ہو گیا ہوں اگر نیلام کیا جاؤں تو پانچ دینار سے زیادہ بولی نہ ہو، آپ ایک نوجوان ترک ہیں تاہم مجھے امید نہیں کہ تیس درہم سے زیادہ آپ کی بھی قیمت آئے، اس پر بھی خدا نے بادشاہ بنایا ہے،
بات یہ ہے کہ ممالک فتح کرنے کے لیے آپ جو لشکر بھرتی کرنا چاہتے ہیں ان کی تلواریں (Maximum) زیادہ سے زیادہ دو گز کی ہوں گی اور ان کے تیر تین سو قدم سے زیادہ دور نہیں جا سکیں گے لیکن میں ان تعلیمی اداروں میں جو فوج تیار کر رہا ہوں ان کے تیر فرش سے عرش تک جائیں گے۔

(کار آمد تراشے، ص359)

قوموں کے عروج اور زوال کا ایک راز تعلیم میں پوشیدہ ہے تعلیم ہی وہ شے ہے کہ جس کے ذریعے انسان کو شعور عطا کیا جاتا ہے، اس کی فکر وسیع ہوتی ہے، اس کے ذہن میں پوری دنیا بسی ہوتی ہے اگرچہ وہ کسی کونے میں بیٹھا ہو،
ہمیں بہت زیادہ ضرورت ہے کہ ہم تعلیمی نظام پر خاص توجہ دیں صرف رسمی پڑھائی یا سند نہیں بلکہ ذمہ داری کے ساتھ اس کام کو انجام دیں اور جو اس کام میں اپنے شب و روز گزار رہے ہیں ان کی جہاں تک ہو سکے خدمت کریں۔

عبد مصطفیٰ آفیشل
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from کریم اللہ رضوی استاذ دار العلوم مخدومیہ جوگیشوری ممبئی
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان کرام اس مسئلے میں کہ بالغ امام کیا سات سال کے بچوں کی امامت کرسکتا ہے ضرور بتائیں حضرت حوالہ بھی دے دیں
المستفتی : حنین خان قادری
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جواب : بالغ امام سات سال کے بچوں کی امامت کر سکتا ہے لیکن نابالغ بالغ کی امامت نہیں کر سکتا ہے کیونکہ امام کے لئے بالغ ہونا شرط ہے جیسا کہ فتاوی فیض الرسول میں ہے کہ " بالغ امام نابالغوں کی امامت کر سکتا ہے اسی طرح ایک بالغ اور چند نابالغ مقتدیوں کی بھی بالغ امامت کرسکتا ہے " اھ ( فتاوی فیض الرسول ج 1 ص 292 ) اور تفہیم المسائل میں ہے کہ " تراویح کی امامت کا شرعی معیار بھی وہی ہے جو فرض نمازوں کا ہے لہذا نابالغ بچےکی اقتداء میں نماز تراویح کا پڑھنا جائز نہیں ہے " اھ ( تفہیم المسائل ج 1 ص 69 )

واللہ اعلم بالصواب
کریم اللہ رضوی
خادم التدریس دار العلوم مخدومیہ اوشیورہ برج جوگیشوری ممبئی موبائل نمبر 7666456313
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Deleted Account
ادب کی اہمیت

امیر المٶمنین خلیفة المسلمین حضرت عمر فاروق رضی الله عنه کا فرمان عالیشان ہے :

تأدبوا ثم تعلموا ۔
یعنی پہلے ادب سیکھو پھر علم حاصل کرو
──────⊱◈◈◈⊰──────

حضرت ابو عبد الله بلخی نے فرمایا :

آداب الناس أکثر من آداب العلم وآداب العلم أکبر من العلم .

یعنی آدب نفس کی اہمیت آداب علم سے کہیں زیادہ ہے ۔ اور آداب علم کا مقام علم سے عظیم تر ہے ۔
──────⊱◈◈◈⊰──────

حضرت عبدالله بن مبارک فرماتے ہیں کہ
جب میں کسی بے ادب شخص کے بارے میں سنتا ہوں کہ اس کو اولین و آخرین کا علم ہے مگر آداب ںفس سے بے بہرہ ہے تو اس سے نہ ملنے کا مجھے کوٸ افسوس نہیں ہوتاہے ، اور جب سنتاہوں کہ اس کا نفس مٶدب ہے تو اسکی ملاقات کا آرزو مند رہتا ہوں اور اس سے ملاقات نہ ہونے کا افسوس ہوتا ہے _
──────⊱◈◈◈⊰──────

یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسلام کی مثال ایک ایسے شہر کی مانند ہے جو پانچ قلعوں سے محفوظ کیاگیا ہے : پہلا سونے کا، دوسرا چاندی کا، تیسرا لوہے کا، چوتھا پکی اینٹوں کا اور پانچواں کچی اینٹوں کا _
تو جب تک اہل قلعہ کچی اینٹوں کے قلعہ کی حفاظت کریں گے دشمن کو فتح کی امید نہ ہوگی : لیکن جب وہ اسکی حفاظت کرنا چھوڑ دیں گے اور پہلا قلعہ خراب ہوجاٸیگا تو دشمن دوسرے قلعہ کی فتح کا طمع کریگا ، پھر تیسرے کی ، یہاں تک کہ دشمن تمام قلعوں کو خراب کرڈالے گا
──────⊱◈◈◈⊰──────

بس یہی حال اسلام کا ہے کہ وہ پانچ قلعوں میں محصور ہے - اول قلعہ یقین ہے _ پھر اخلاص ہے _ پھر فرضوں کا ادا کرنا ہے _ پھر سنتوں کا بجا لانا _ پھر ادب پر نگاہ رکھنا _
لہذا جب تک بندہ آداب کی حفاظت کرتا رہیگا ، شیطان اس میں طمع کبھی نہیں کریگا _ لیکن جیسے ہی آداب چھوڑے تو شیطان پہلے سنتوں پر حملہ آور ہوتا ہے ، پھر فرضوں پر ، پھر اخلاص پر، پھر یقین پر _

──────⊱◈◈◈⊰──────

اسی لیۓ آدمی کو چاہیۓ کہ تمام امور میں ادب کا خاص خیال رکھیں
__
──────⊱◈◈◈⊰──────

محمد ضیاء الدین خان قادری حنفی
بهرائچ شریف یوپی الهند