🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.83K subscribers
69.7K photos
228 videos
257 files
8.84K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Zubair 006
مبسملا وحامدا::ومصلیا ومسلما

تکفیر دیابنہ اور ایک مشہور مغالطہ

سوال:جو دیوبندی اشخاص اربعہ کی کفریہ عبارتوں سے واقف نہیں,وہ اگر اشخاص اربعہ کو مومن مانتا ہے تو وہ کافر ہے یا نہیں؟

جواب:جو دیوبندی یا سنی کہلانے والا شخص عناصر اربعہ کی کفریہ عبارتوں سے واقف نہیں تو اگر اسے قطعی طور پر معلوم ہے کہ اشخاص اربعہ پر علمائے اہل سنت و جماعت نے کفر کا فتوی دیا ہے,اس کے باوجود وہ ان لوگوں کو مومن مانتا ہے تو کافر ہے۔

اگر عہد صحابہ یا عصر تابعین یا عہد مابعد میں کسی کے کفر کلامی پر علمائے حق کا اجماع واتفاق ہو گیا۔پھر اس کے کفر کی روایت تواتر کے ساتھ نقل ہوتی آئی۔ہر عہد میں علمائے حق اسے مرتد مانتے آئے ہیں,لیکن اس کا کفریہ قول تواتر کے ساتھ نقل نہ ہو سکا۔یا خبر واحد کے طور پر نقل ہوا تو بھی ایسے مرتد کو مرتد ماننا ہے۔

دراصل حکم کفر کے ساتھ سبب کفر بھی اجمالی طورپر منقول ہوتا ہے,اور کامل تحقیقات وہ علما کرتے ہیں جو تحقیق کرتے ہیں اور دیگر تمام علما اسی وقت اتفاق کرتے ہیں جب وہ فتوی صحیح ہوتا ہے,کیوں کہ خطا پر اجماع امت نہیں ہوتا۔

اشخاص اربعہ کے کفر کے ساتھ یہ بھی ہند و پاک میں مشہور ہے کہ دیوبندی گستاخ رسول ہیں اور اسی گستاخی کے سبب ان پر حکم کفر ہونے کی بات بھی مشہور ہے۔پس اجمالی طور پر سبب کفر بھی مشہور ہے,جس طرح حکم کفر کی شہرت ہے۔

عہد ماضی کے تمام مدعیان نبوت کے کفری اقوال سے ہم مطلع نہیں۔ہرایک مدعی نبوت کا کفری قول بھی تواتر کے ساتھ نقل نہ ہو سکا,بلکہ بہت سے مدعیان نبوت کا کفریہ قول خبر واحد کے طور پر بھی منقول نہیں۔اس عہد کے علمائے حق نے ان مدعیان نبوت کے اقوال کی تحقیق کے بعد کفر کلامی کا حکم جاری کیا اور اس عہد سے آج تک مومنین ان مدعیان نبوت کو کافر مانتے آ رہے ہیں۔

عبد اللہ بن سبا کی فتنہ پروری کے سبب بعض لوگ حضرت علی مرتضی رضی اللہ تعالی عنہ کو خدا کہنے لگے۔حضرت شیر خدا رضی اللہ تعالی عنہ نے ان سب کو مرتد سمجھ کر جلا دیا,کیوں کہ مرتد کی سزا قتل ہے۔

آج تک امت مسلمہ الوہیت مرتضوی کے قائلین کو مرتد مانتی ہے,لیکن ان مرتدین کا کفریہ قول تواتر کے ساتھ منقول نہیں۔

کتاب الشفا وغیرہ میں بہت سے مرتدین کا ذکر ہے۔کتاب الشفا میں ان کے کفریہ اقوال بھی منقول ہیں,لیکن وہ متواتر روایت نہیں,بلکہ ایک دو مصنف نے ان کفریہ اقوال کو ذکر بھی کیا ہے تو یہ خبر واحد ہی کے درجے میں ہو گا۔اس کے باوجود امت مسلمہ ان مرتدین کو مرتد مانتی ہے۔

الحاصل عہد ماضی کے بعض مرتدین کا کفریہ قول ہی منقول نہیں,بعض مرتدین کا کفریہ قول خبر واحد کے طریقے پر منقول ہے۔ہاں,ان کی مرتدین کی تکفیر کا قول منقول ہے اور امت مسلمہ قرنا بعد قرن ان تمام مرتدین کو مرتد مانتی آ رہی ہے۔

کتاب الشفا میں یہ صراحت موجود ہے کہ جن لوگوں پر علما نے کفر(کفر کلامی)کا حکم دیا,ان کو مومن ماننے والا کافر ہے۔من شک فی کفرہ فقد کفر کا بھی یہی مفہوم ہے۔

اسلاف کرام کی کتابوں میں یہ مجھے نہیں مل سکا کہ کسی مرتد کو مرتد ماننے کے لئے اس کے کفریہ قول پر مطلع ہونا ضروری ہے۔

عرب وعجم میں بے شمار علما ہیں۔اگر ایسی عبارت کہیں موجود ہے تو پیش کریں,تاکہ بات واضح ہو جائے۔

حکم کفر پر مطلع ہونا اس لئے ضروری ہے کہ اگر حکم پر مطلع نہیں ہو گا تو کسی کو کافر کیسے مانے گا۔

امام احمد رضا قادری نے متعدد مقام پر رقم فرمایا کہ جو دیابنہ کے کفر پر مطلع ہو کر ان کو کافر نہ مانے,وہ کافر ہے۔

اسی طرح متعدد مقام پر رقم فرمایا کہ جو ان کی کفریہ عبارت پر مطلع ہو کر ان کو کافر نہ مانے تو وہ کافر ہے۔

اس قول دوم کی یہ تاویل ہو سکتی ہے کہ جو اشخاص اربعہ کے حکم کفر سے نا آشنا ہو,لیکن ان کی کفریہ عبارتوں سے واقف ہو تو وہ انہیں کافر مانے۔اگر وہ خود فتوی تکفیر کا اہل نہیں تو اہل علم سے دریافت کرے۔

ابھی دیوبندیوں کی تعداد نظر آتی ہے تو دیوبندیوں کو مومن ثابت کرنے کی کوشش ہوتی ہے۔کل قادیانیوں کی تعداد زیادہ ہو جائے تو قادیانیوں کے لئے بھی اسی طرح کی کوشش ہو سکتی ہے۔یہ سب ایمان کی کمزوری کی علامتیں ہیں۔

امام احمد رضا قادری نے یہ بھی رقم فرمایا ہے کہ دیوبندیوں کی کفریہ عبارتوں سے ناواقف شخص دیوبندیوں کو مومن مانتا ہے,تو وہ کافر نہیں۔لیکن ناواقف ہونے کا یہ مفہوم بتایا کہ ان کے کان بھی ان کفریہ عبارتوں سے آشنا نہ ہوں۔اس کا مفہوم یہ ہوا کہ خبر واحد کے ذریعہ بھی دیابنہ کی کفریہ عبارتوں کا علم ہے تو بھی ان کو مومن ماننے والا معذور نہیں۔

ہم نے ایک مسودہ علمائے کرام کی خدمت میں روانہ کیا ہے۔اس میں بھی ہم نے دلائل کی روشنی میں یہ وضاحت کر دی ہے کہ جس کو خبر واحد کے طور پر دیابنہ کے کفر کا علم ہو یعنی ظنی علم ہو,اس پر اصل حقائق کی جانکاری حاصل کرنا فرض ہو گا,ورنہ وہ حکم شرعی کے دائرہ میں آئے گا۔ان شاء اللہ تعالی کچھ اضافات کے بعد دوبارہ احباب کی خدمت میں پیش کروں گا۔اس کے بعد اکابرین کی خدمت میں۔

دیابنہ کی کفریہ عبارتوں سے ناواقف
Forwarded from Zubair 006
ہونے کا مفہوم امام اہل سنت نے یہ بتایا۔
"اگر واقع میں کوئی نو وارد یا نرا جاہل یا ناواقف ایسا ہو جس کے کان تک یہ آوازیں نہ گئیں اور وہ بوجہ ناواقفی محض انہیں کافر نہ سمجھا,وہ اس وقت تک معذور ہے جب کہ سمجھانے سے فورا حق قبول کر لے"۔(فتاوی رضویہ جلد نہم جز دوم:ص313۔رضا اکیڈمی ممبئی )

جن کو معذور نہیں سمجھا جائے گا۔ان کا بھی ذکر متعددمقام پر ہے اور اس مقام پر منقولہ عبارت سے پہلے یہ ہے:
"سائل صورت وہ فرض کرتا ہے جو واقع نہ ہو گی جو واقع نہ ہوگی۔دیوبندیوں کے عقائد کفر طشت ازبام ہو گئے۔
منکر بننے والے اپنی جان چھڑانے کے لئے انکار کرتے ہیں کہ ہمیں معلوم نہیں۔جو منکر ہو,اس سے کہئے۔فتاوی موجود وشائع ہیں۔دیکھو کہ کافروں کا کفر معلوم ہو اور دھوکے سے بچے اور ان کے پیچھے نمازیں غارت نہ کرو۔
رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے دشمنوں سے دشمنی فرض ہے۔اس فرض پر قائم ہو تو کہتے ہیں۔ہمیں کتابیں دیکھنے کی حاجت نہیں۔یہ ان کا کید ہے۔

ان کے دل میں محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی عظمت ہوتی تو جن کی نسبت ایسی عام اشاعت سنتے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا دشنام دہندہ ہے,اس سے فورا خود ہی کنارہ کش ہوتے اور آپ ہی اس کی تحقیق کو بے قرار ہوتے۔

کیا کوئی کسی کو سنے کہ تیرے قتل کے لئے گھات میں بیٹھا ہے,اعتبار نہ آئے تو چل تجھے دکھا دوں۔وہ یوں ہی بے پرواہی برتے گا۔اور کہے گا۔مجھے نہ تحقیقات کی ضرورت,نہ اس سے احتراز کی حاجت۔
تو یہ لوگ ضرور مکار اور بباطن انہیں سے انفار۔یا دین سے محض بے علاقہ و بے زار ہوتے ہیں۔ان کے پیچھے نماز سے احتراز فرض ہے"۔
(فتاوی رضویہ جلد نہم جز دوم:ص 313۔رضا اکیڈمی ممبئی )

اہل عقل وخرد سے عرض ہے کہ ایسے دین بے زار لوگوں کو مومن ثابت کرنے کے چکر میں اپنا ایمان غارت نہ کریں۔

طارق انورمصباحی

جاری کردہ:8:جنوری 2021
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
کیا سنی ابن تیمیہ بھی ہیں؟!.

عام طور پر لوگ یہی سمجھتے ہیں کہ ابن تیمیہ گمراہ، بد مذہب، امام بد مذہباں ہے. جنھوں نے ایسا سوچا ان کی سوچ درست ہے، لیکن آپ کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ اس مشہور ابن تیمیہ کے علاوہ ایک ابن تیمیہ اور ہیں جو سنی تھے، جن حضرات کو دونوں کا فرق نہیں معلوم وہ دونوں کو ایک سمجھ لیتے ہیں، جب کہ ایسا نہیں ہے۔

مندرجہ ذیل سطور میں راقم نے دونوں کے درمیان خط امتیاز کھینچا ہے تاکہ احباب فائدہ اٹھائیں۔

تحریر---:
ابو المعین اسلم نبیل ازہری، استاذ جامعہ احسن البرکات مارہرہ مطہرہ۔

ابن تیمیہ سے دو شخص مشہور ہیں،
ایک ابن تیمیہ جن کو عوام وخواص سب جانتے ہیں۔
دوسرے ابن تیمیہ جن کو خواص ہی جانتے ہیں۔

اول الذکر کا نام: احمد ہے ان کے والد کا نام عبد الحلیم ہے
آخر الذکر کا نام: عبد السلام ہے۔

اول الذکر بد مذہب ہے۔
آخر الذکر سنی ہیں۔

اول الذکر کا لقب تقی الدین ہے۔
آخر الذکر کا لقب مجد الدین ہے۔

اول الذکر کی مشہور کتاب مجموع الفتاوی، منہاج السنہ، الصارم المسلول وغیرہ ہیں۔
آخر الذکر کی مشہور کتاب منتقی الاخبار ہے، جس کی شرح قاضی شوکانی یمنی نے بنام نیل الاوطار کی۔
دونوں حنبلی المذہب تھے۔

دونوں کے درمیان فرق کیسے ہوگا؟.
ان کا آپس میں دادا پوتے کا رشتہ ہے اس لیے اول الذکر کو ابن تیمیہ حفید، یا مطلقا ابن تیمیہ کہتے ہیں۔
جبکہ آخر الذکر کو ابن تیمیہ جد سے یاد کیا جاتا ہے۔

اسی طرح ابن رشد بھی دو ہیں۔
ایک ابن رشد اکبر
دوسرے ابن رشد اصغر۔

اول الذکر فقیہ تھے، فلسفی نہیں تھے، ان کی مشہور کتابوں میں
البیان والتحصیل، اور الممقدمات الممھدات شامل ہیں، اور یہ امام قاضی عیاض اور ابن بشکوال کے استاذ ہیں۔

جبکہ آخر الذکر، فلسفی، اور فقیہ دونوں تھے، ان کی مشہور تصانیف بدایۃ المجتہد، تھافت التھافت، اور فصل المقال وغیرہ ہیں۔

اتفاق دیکھئے!
دونوں کا نام محمد ہے۔
دونوں کی کنیت ابو الولید ہے۔

دونوں کے درمیان تمیز کا کیا طریقہ ہے؟.

ابن تیمیہ کی طرح ان کے مابین بھی دادا پوتے کا رشتہ ہے۔
اس لیے تمیز کرنے کے لیےاول الذکر کو ابن رشد جد، یا ابن رشد اکبر، یا ابن رشد فقیہ کہتے ہیں۔
اور آخر الذکر کو ابن رشد حفید، یا ابن رشد اصغر، یا ابن رشد فلسفی کہتے ہیں۔

{پرانی تحریر}

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2908012412811400&id=100008080090753
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
دیوبندی وہابی کی امامت جائز نہیں
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2908497209429587&id=100008080090753
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
یہ ہیں"خطیب بادشاہی مسجد,لاہور"اور"چیئرمین رویتِ حلال(ھلال)کمیٹی پاکستان"جناب مولوی عبدالخبیرآزاددیوبندی-
بینرپرلکھے الفاظ کوغورسے دیکھیے.
"دہشتگردی ناقابلِ مذمت ہے"
یعنی موصوف اس قابلِ مذمت اورناقابلِ مذمت کے فرق سے جاہل ہیں.
مزیددیکھیے کہ"چیئرمین رویت ھلال کمیٹی"کی جگہ"چیئرمین روئت حلال"کمیٹی لکھاہے.یعنی "ھلال"اور"حلال"کے درمیان فرق بھی نہیں جانتے.

آہ

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2909364469342861&id=100008080090753
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
حضرت حافظِ ملت علیہ الرحمہ کی عقائدِ دیوبندیہ کے رد میں لکھی گئی مختصر مگر جامع کتاب المصباح الجدید کی " تحریک تحفظِ عقائد , بلرامپور , یوپی ہندوستان " سے ہونے والی جدیداشاعت پر راقم کا لکھا گیا مقدمہ. اس کتاب کی تخریج مولانا ساجد مہر القادری زید مجدہ نے کی ہے.

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2909364642676177&id=100008080090753