Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
#چاٹ_کے_ٹھیلوں_پر_تہذیب_داروں_کے_میلے!
غلام مصطفےٰ نعیمی
مدیر اعلیٰ سواد اعظم دہلی
دلّی کی چاٹ اپنے ذائقے اور تیکھے مسالوں کی بنا پر بڑی مشہور ہے۔شادی بیاہ کا موقع ہو یا عقیقے/منگنی کی تقریب ، اگر کھانے میں چاٹ شامل ہے تو کیا مرد کیا عورت، چاٹ پر ایسے ٹوٹ پڑتے ہیں مانو چاٹ نہ ہو "انمول نعمت" مل گئی ہو۔حالانکہ اسلام میں نماز روزے کی طرح کھانے پینے کے آداب بھی بڑی تفصیل کے ساتھ بیان کئے گئے ہیں۔کسی شخص کی خوبیوں/خامیوں کا امتحان کھانے سے بھی کیا جاتا ہے۔
کھانے پینے کا شعور انسان کی اصل عادت کا پتا دیتا ہے،اس کا عمر یا علم سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ایک تقریب میں ہم نے ایک صاحب کو دیکھا کہ انہوں نے گول گَپّے دیکھ کر پوری پلیٹ بھرلی۔ابھی گول گَپّے اپنے انجام کو بھی نہیں پہنچے تھے کہ صاحب بہادر کی نگاہ دَہی بَھلّوں پر جا ٹکی۔بس پھر کیا تھا باقی ماندہ گول گَپّوں کو میز کے نیچے کھسکایا اور دَہی بھلّے کی تلاش میں نکل پڑے۔پیٹ سے پہلے مَن کی ہوس نے یہاں بھی جلوہ دکھایا اور پلیٹ میں نام کو بھی جگہ نہیں بچی۔دہی بَھلّے سے دو دو ہاتھ ہو ہی رہے تھے کہ ایک بار پھر چاؤمِین کی بھینی خوشبو سے مَن ڈول گیا۔آدھی بھری ہوئی پلیٹ چپکے سے سائڈ میں لگائی اور چاؤمین کی زلفوں کے اسیر ہوگئے۔کھانے پینے کی تقریبات میں اکثر ایسے تماشے دیکھنے میں آتے ہیں۔اس تماشے میں عورتیں بھی مردوں کے شانہ بشانہ "جہاد" کرتی ہیں اور اکثر بازی بھی مار لے جاتی ہیں۔یوں بھی عورتوں کو چاٹ پکوڑوں کا شوق مردوں سے کچھ زیادہ ہی ہوتا ہے۔شوق کا ہونا بری بات نہیں شوق پورا کرنے کے لیے اپنی تہذیب اور روایات کو پامال کرنا انتہائی بری بات ہے۔شادی بیاہ کے علاوہ چاٹ پکوڑوں کے ٹھیلوں/خوانچوں پر برقع پوش عورتوں کی دیوانہ وار بھیڑ جہاں اُن عورتوں کی ذاتی عادت کا پتا دیتی ہے، وہیں ان کے باپ/بھائی اور شوہروں کی حد درجہ لاپرواہی کا ثبوت بھی فراہم کرتی ہے۔
عام طور پر چاٹ پکوڑے بیچنے والوں میں بڑی تعداد ان لوگوں کی ہوتی ہے۔جو طہارت وپاکی میں یقین ہی نہیں رکھتے۔یہ بھی دیکھنے میں آتا ہے کہ کچھ لوگ ظاہری صفائی ستھرائی سے بھی کوسوں دور ہوتے ہیں۔بڑے اور گندے ناخن والے چاٹ فروش انہیں ہاتھوں سے پکوڑیاں بناتے ہیں۔گول گپّے میں آلو/مسالہ ڈالتے ہیں، اسی ہاتھ سے مسالے دار پانی اور کھٹائی/مٹھائی بھرتے ہیں۔اس دوران اُن کا ہاتھ کھٹائی اور پانی میں اچھا خاصا ڈوب جاتا ہے۔جبکہ بے غسل/بے وضو شخص کا ناخن یا پَورا بھی پانی میں ڈوب جائے تو وہ پانی مکروہ ہوجاتا ہے۔یہ بھی دیکھنے میں آتا ہے کہ پانی کے برتن میں کسی کی انگلی وغیرہ پڑ جائے تو لوگ اس پانی کو پھینک دیتے ہیں۔مگر چاٹ فروش بھیگے ہوئے ہاتھ سے ہی سب کو گول گپّے کھلاتا ہے اور لوگ چٹخارے لے لیکر خوب کھاتے ہیں۔اتنے سے دل نہیں بھرتا تو بعد میں مسالے دار پانی کا مطالبہ بھی کرتے ہیں۔چاٹ فروش اپنے گندے اور بھیگے ہوئے ہاتھ سے گلاس میں پانی بھرتے ہیں اور یار لوگ آب حیات سمجھ کر بڑی محبت سے پی جاتے ہیں۔حالانکہ یہ وہی "خود دار اور مہذب" لوگ ہیں جو ولیمے میں صاف پلیٹ نہ ملنے پر بم کی طرح پھٹ پڑتے ہیں۔
کس قدر گندی پلیٹ ہے!
کھلانا نہیں آتا تو بلاتے کیوں ہو؟
صفائی ستھرائی کا کچھ تو خیال رکھنا چاہیے!
نکاح/ولیمے اور منگنی وغیرہ میں ایسے ڈائلاگ بولنے والے زیادہ تر لوگ وہی "مَہا پُرُش" ہوتے ہیں جو چاٹ کے ٹھیلوں پر گندے ہاتھ والے گول گپّے بڑے شوق سے اڑاتے ہیں۔اس وقت انہیں صفائی ستھرائی کا بالکل بھی خیال نہیں آتا مگر اپنے بھائی کی تقریب میں ایسے لوگ بڑے مہذب اور نفاست پسند ہوجاتے ہیں۔
آئے دن کا مشاہدہ ہے کہ چاٹ پکوڑوں کی دکانوں/ٹھیلوں پر برقع پوش عورتوں اور مسلم لڑکیوں کی بڑی تعداد ہوتی ہے۔زمانے بھر سے پردہ کرنے والی خواتین ان ٹھیلے/خوانچے والے کے سامنے پورا چہرہ کھول کر کھڑی ہوتی/بیٹھتی ہیں۔رشتہ داروں تک سے بولنے میں جھجکنے والی لڑکیاں ان سے بڑی خوش اخلاقی سے بات کرتی ہیں۔گردن اس وقت شرم سے جھک جاتی ہے جب رمضان جیسے مبارک مہینے میں بھی آپ کو ٹھیلوں پر برقع پوش عورتیں نظر آتی ہیں۔اگر ان عورتوں کے باپ/بھائی اور شوہر حساس اور ذمہ دار ہوتے تو کیا یہ عورتیں/لڑکیاں اس طرح ٹھیلوں پر نظر آسکتی تھیں؟
تہذیب ہی باقی ہے نہ اب شرم وحیا کچھ
کس درجہ اب انسان یہ بے باک ہوا ہے
ان خراب نظاروں سے بچنے کے لیے کچھ چیزوں کا خیال رکھا جانا بے حد ضروری ہے۔
🔹سب سے بہتر تو یہ ہوگا کہ ایسی چیزیں گھر پر ہی بنالی جائیں۔
🔹بنانا ممکن نہ ہو تو کسی باطہارت اور صاف ستھرے دکان دار سے پیک کرا کر گھر لے جائیں۔
🔹ایام رمضان میں سختی سے باہر کھانے پینے پر روک لگائی جائے۔
غلام مصطفےٰ نعیمی
مدیر اعلیٰ سواد اعظم دہلی
دلّی کی چاٹ اپنے ذائقے اور تیکھے مسالوں کی بنا پر بڑی مشہور ہے۔شادی بیاہ کا موقع ہو یا عقیقے/منگنی کی تقریب ، اگر کھانے میں چاٹ شامل ہے تو کیا مرد کیا عورت، چاٹ پر ایسے ٹوٹ پڑتے ہیں مانو چاٹ نہ ہو "انمول نعمت" مل گئی ہو۔حالانکہ اسلام میں نماز روزے کی طرح کھانے پینے کے آداب بھی بڑی تفصیل کے ساتھ بیان کئے گئے ہیں۔کسی شخص کی خوبیوں/خامیوں کا امتحان کھانے سے بھی کیا جاتا ہے۔
کھانے پینے کا شعور انسان کی اصل عادت کا پتا دیتا ہے،اس کا عمر یا علم سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ایک تقریب میں ہم نے ایک صاحب کو دیکھا کہ انہوں نے گول گَپّے دیکھ کر پوری پلیٹ بھرلی۔ابھی گول گَپّے اپنے انجام کو بھی نہیں پہنچے تھے کہ صاحب بہادر کی نگاہ دَہی بَھلّوں پر جا ٹکی۔بس پھر کیا تھا باقی ماندہ گول گَپّوں کو میز کے نیچے کھسکایا اور دَہی بھلّے کی تلاش میں نکل پڑے۔پیٹ سے پہلے مَن کی ہوس نے یہاں بھی جلوہ دکھایا اور پلیٹ میں نام کو بھی جگہ نہیں بچی۔دہی بَھلّے سے دو دو ہاتھ ہو ہی رہے تھے کہ ایک بار پھر چاؤمِین کی بھینی خوشبو سے مَن ڈول گیا۔آدھی بھری ہوئی پلیٹ چپکے سے سائڈ میں لگائی اور چاؤمین کی زلفوں کے اسیر ہوگئے۔کھانے پینے کی تقریبات میں اکثر ایسے تماشے دیکھنے میں آتے ہیں۔اس تماشے میں عورتیں بھی مردوں کے شانہ بشانہ "جہاد" کرتی ہیں اور اکثر بازی بھی مار لے جاتی ہیں۔یوں بھی عورتوں کو چاٹ پکوڑوں کا شوق مردوں سے کچھ زیادہ ہی ہوتا ہے۔شوق کا ہونا بری بات نہیں شوق پورا کرنے کے لیے اپنی تہذیب اور روایات کو پامال کرنا انتہائی بری بات ہے۔شادی بیاہ کے علاوہ چاٹ پکوڑوں کے ٹھیلوں/خوانچوں پر برقع پوش عورتوں کی دیوانہ وار بھیڑ جہاں اُن عورتوں کی ذاتی عادت کا پتا دیتی ہے، وہیں ان کے باپ/بھائی اور شوہروں کی حد درجہ لاپرواہی کا ثبوت بھی فراہم کرتی ہے۔
عام طور پر چاٹ پکوڑے بیچنے والوں میں بڑی تعداد ان لوگوں کی ہوتی ہے۔جو طہارت وپاکی میں یقین ہی نہیں رکھتے۔یہ بھی دیکھنے میں آتا ہے کہ کچھ لوگ ظاہری صفائی ستھرائی سے بھی کوسوں دور ہوتے ہیں۔بڑے اور گندے ناخن والے چاٹ فروش انہیں ہاتھوں سے پکوڑیاں بناتے ہیں۔گول گپّے میں آلو/مسالہ ڈالتے ہیں، اسی ہاتھ سے مسالے دار پانی اور کھٹائی/مٹھائی بھرتے ہیں۔اس دوران اُن کا ہاتھ کھٹائی اور پانی میں اچھا خاصا ڈوب جاتا ہے۔جبکہ بے غسل/بے وضو شخص کا ناخن یا پَورا بھی پانی میں ڈوب جائے تو وہ پانی مکروہ ہوجاتا ہے۔یہ بھی دیکھنے میں آتا ہے کہ پانی کے برتن میں کسی کی انگلی وغیرہ پڑ جائے تو لوگ اس پانی کو پھینک دیتے ہیں۔مگر چاٹ فروش بھیگے ہوئے ہاتھ سے ہی سب کو گول گپّے کھلاتا ہے اور لوگ چٹخارے لے لیکر خوب کھاتے ہیں۔اتنے سے دل نہیں بھرتا تو بعد میں مسالے دار پانی کا مطالبہ بھی کرتے ہیں۔چاٹ فروش اپنے گندے اور بھیگے ہوئے ہاتھ سے گلاس میں پانی بھرتے ہیں اور یار لوگ آب حیات سمجھ کر بڑی محبت سے پی جاتے ہیں۔حالانکہ یہ وہی "خود دار اور مہذب" لوگ ہیں جو ولیمے میں صاف پلیٹ نہ ملنے پر بم کی طرح پھٹ پڑتے ہیں۔
کس قدر گندی پلیٹ ہے!
کھلانا نہیں آتا تو بلاتے کیوں ہو؟
صفائی ستھرائی کا کچھ تو خیال رکھنا چاہیے!
نکاح/ولیمے اور منگنی وغیرہ میں ایسے ڈائلاگ بولنے والے زیادہ تر لوگ وہی "مَہا پُرُش" ہوتے ہیں جو چاٹ کے ٹھیلوں پر گندے ہاتھ والے گول گپّے بڑے شوق سے اڑاتے ہیں۔اس وقت انہیں صفائی ستھرائی کا بالکل بھی خیال نہیں آتا مگر اپنے بھائی کی تقریب میں ایسے لوگ بڑے مہذب اور نفاست پسند ہوجاتے ہیں۔
آئے دن کا مشاہدہ ہے کہ چاٹ پکوڑوں کی دکانوں/ٹھیلوں پر برقع پوش عورتوں اور مسلم لڑکیوں کی بڑی تعداد ہوتی ہے۔زمانے بھر سے پردہ کرنے والی خواتین ان ٹھیلے/خوانچے والے کے سامنے پورا چہرہ کھول کر کھڑی ہوتی/بیٹھتی ہیں۔رشتہ داروں تک سے بولنے میں جھجکنے والی لڑکیاں ان سے بڑی خوش اخلاقی سے بات کرتی ہیں۔گردن اس وقت شرم سے جھک جاتی ہے جب رمضان جیسے مبارک مہینے میں بھی آپ کو ٹھیلوں پر برقع پوش عورتیں نظر آتی ہیں۔اگر ان عورتوں کے باپ/بھائی اور شوہر حساس اور ذمہ دار ہوتے تو کیا یہ عورتیں/لڑکیاں اس طرح ٹھیلوں پر نظر آسکتی تھیں؟
تہذیب ہی باقی ہے نہ اب شرم وحیا کچھ
کس درجہ اب انسان یہ بے باک ہوا ہے
ان خراب نظاروں سے بچنے کے لیے کچھ چیزوں کا خیال رکھا جانا بے حد ضروری ہے۔
🔹سب سے بہتر تو یہ ہوگا کہ ایسی چیزیں گھر پر ہی بنالی جائیں۔
🔹بنانا ممکن نہ ہو تو کسی باطہارت اور صاف ستھرے دکان دار سے پیک کرا کر گھر لے جائیں۔
🔹ایام رمضان میں سختی سے باہر کھانے پینے پر روک لگائی جائے۔
🔹گھر والوں کو کھانے پینے، اٹھنے بیٹھنے اور گفتگو کے آداب لازمی سکھائے جائیں۔
🔹بیوی/بیٹی اور بہنوں کو شرم وحیا کی تعلیم وتلقین کریں۔
🔹ہفتے میں کسی ایک دن بچوں تربیت کا اہتمام ضرور کریں۔
🔹علماے کرام ایسے موضوعات پر خطبات جمعہ میں ضرور روشنی ڈالیں۔
ہوسکتا ہے کہ بعض لوگوں کے نزدیک یہ باتیں اتنی اہم نہ ہوں مگر سنجیدگی سے غور کریں تو یہ باتیں سماجی طور پر کسی قوم کے مزاج اور اس کے رویے کی سب سے بڑی پہچان ہوتی ہیں۔اچھا معاشرہ اپنی پہچان اُن کاموں/عادتوں سے کراتا ہے جو اسے سماجی طور پر عزت دلائیں۔اس لیے وہ کام کریں جو آپ اور آپ کے سماج کی عزت ونیک نامی بڑھائیں ان کاموں سے دور رہیں جن سے آپ کی عزت و وقار پر داغ لگے۔
23 جمادی الاول 1442ھ
8 جنوری 2021 بروز جمعہ
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/844133119490541/
🔹بیوی/بیٹی اور بہنوں کو شرم وحیا کی تعلیم وتلقین کریں۔
🔹ہفتے میں کسی ایک دن بچوں تربیت کا اہتمام ضرور کریں۔
🔹علماے کرام ایسے موضوعات پر خطبات جمعہ میں ضرور روشنی ڈالیں۔
ہوسکتا ہے کہ بعض لوگوں کے نزدیک یہ باتیں اتنی اہم نہ ہوں مگر سنجیدگی سے غور کریں تو یہ باتیں سماجی طور پر کسی قوم کے مزاج اور اس کے رویے کی سب سے بڑی پہچان ہوتی ہیں۔اچھا معاشرہ اپنی پہچان اُن کاموں/عادتوں سے کراتا ہے جو اسے سماجی طور پر عزت دلائیں۔اس لیے وہ کام کریں جو آپ اور آپ کے سماج کی عزت ونیک نامی بڑھائیں ان کاموں سے دور رہیں جن سے آپ کی عزت و وقار پر داغ لگے۔
23 جمادی الاول 1442ھ
8 جنوری 2021 بروز جمعہ
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/844133119490541/
Facebook
Log in to Facebook
Log in to Facebook to start sharing and connecting with your friends, family and people you know.
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Ghulam Mustafa Naimi
*کرکٹروں کی بیف پارٹی پر سناٹا کیوں؟*
غلام مصطفےٰ نعیمی
مدیر اعلیٰ سواد اعظم دہلی
آپ کب کیا کھانا چاہتے ہیں یہ آپ کا نجی اور ذاتی معاملہ ہے۔ پوری دنیا میں اسے انسان کا بنیادی حق مانا گیا ہے لیکن ہمارے دیس میں کیا کھانا ہے یہ آپ نہیں حکومت طے کرتی ہے۔حکومت کی اسی نفرتی پالیسی کی وجہ سے گلی کوچوں میں نفرتی چِنٹُوؤں کی ٹولیاں بے موسم گھاس کی طرح اُگ آئی ہیں جو ہر کسی کے کھانے/دانے کو چیک کرتے گھومتے ہیں۔انہیں چند بھکتوں کے نشانے پر ان دنوں انڈین کرکٹ ٹیم کے نائب کپتان روہت شرما آگئے ہیں۔انڈین کرکٹ ٹیم ان دنوں آسٹریلیائی ٹور پر ہے۔جہاں کورونا پابندیوں کے درمیان کرکٹ کھیلی جارہی ہے۔اس درمیان ٹیم کے پانچ کھلاڑی کورونا پروٹوکول کے خلاف ایک ہوٹل میں کھانا کھاتے نظر آئے۔ان کی بدقسمتی کہ ہوٹل کا بِل (Bill) وائرل ہوگیا۔بِل کے مطابق ان کھلاڑیوں نے بیف (گائے) اور خنزیر (pork) کا گوشت کھایا تھا۔خنزیر کے گوشت پر شاید بھکتوں کو اعتراض نہ ہوتا لیکن بیف کا نام آتے ہی کچھ پکے اندھ بھکتوں کا پارہ چڑھ گیا اور انہوں نے سوشل میڈیا پر ہی کھلاڑیوں کو کھری کھوٹی سنانا شروع کردی۔حالانکہ میڈیا اور سیاست دانوں نے اس معاملے کو ایسے ہضم کرلیا جیسے کچھ ہوا ہی نہیں تھا۔خدا نخواستہ اگر کوئی مسلم کھلاڑی بیف کھا لیتا تو اب تک میڈیا اور سیاست دان اس پر چڑھائی کر چکے ہوتے مگر یہاں بیف کھانے والوں میں اپنے ہی لوگ شامل تھے اس لیے ساری خبر کو بغیر پانی کے ہی گلے سے اتار لیا گیا۔
بھکت بننے کا ایک بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ آپ کا دل ودماغ دوسرے کے قبضے میں چلا جاتاہے اور آپ اپنے سوچنے سمجھنے کی طاقت کھو بیٹھتے ہیں۔اس کے بعد بھکت وہی دیکھتا ہے جو اس کا سوامی اور آقا اسے دکھانا چاہتا ہے۔ایسے ہی کچھ سوامیوں اور آقاؤں نے اپنے بھکتوں کے دماغ میں یہ بات بٹھا رکھی ہے کہ بھارت ایک شاکاہاری (سبزی خور) دیس ہے۔بس مسلمان ہی گوشت خور ہیں۔جبکہ حقیقت اس کے خلاف ہے۔سیمپل رجسٹریشن سسٹم بیس لائن سروے کے مطابق بھارت میں 71؍فیصد لوگ گوشت کھاتے ہیں۔حکومتی رپورٹ کے مطابق بھارت میں مسلمانوں کی کل آبادی 14.23؍ فیصد ہے۔اگر مسلمانوں کی کل آبادی کو گوشت خور مان لیا جائے تو باقی 85.77؍فیصد غیر مسلم آبادی بچتی ہے۔اس پچاسی فیصد آبادی میں 56.77؍ فیصد غیر مسلم آبادی گوشت خور ہے۔یعنی گوشت نہ کھانے والوں کی تعداد محض 29؍ فیصدہے۔کس صوبے میں کتنے فیصد لوگ گوشت کھاتے ہیں اس فہرست میں ملاحظہ کریں:
🔹آندھرا پردیش: 98.25
🔹تلنگانہ: 98.7
🔹تمل ناڈو: 97.65
🔹اڈیشہ: 97.35
🔹کیرل: 97
🔹بہار: 92.45
🔹چھتیس گڑھ: 82.05
🔹بنگال: 79.4
🔹آسام: 79.4
🔹جھارکھنڈ: 79.4
🔹کرناٹک: 78.9
🔹اتراکھنڈ: 72.65
🔹مہاراشٹر: 59.8
🔹دلّی: 60.5
🔹یوپی: 52.9
🔹ایم پی: 49.4
🔹گجرات: 39.05
🔹پنجاب: 33.25
🔹ہریانہ: 30.75
ان تمام صوبوں میں آسام، بنگال اور یوپی میں مسلم آبادی ۲۰؍تا ۳۰؍ فیصد ہے باقی دیگر صوبوں میں مسلم آبادی ۲؍ سے ۱۳؍ فیصد کے درمیان ہے لیکن ان صوبوں میں گوشت کھانے والوں کی تعداد ۳۰؍ فیصد سے ۹۸؍ فیصد تک ہے۔اب بھکت جَن سوچ کر بتائیں کہ مسلمانوں کے علاوہ اتنی بڑی غیر مسلم آبادی گوشت کیوں کھاتی ہے؟
گوشت کے نام پر مسلمانوں کے جان و مال لوٹنے والے بھکت، ٹی وی پر نوٹنکی کرنے والے اینکر اور گئو ماتا کی قسمیں کھانے والے نیتا کرکٹروں کی گوشت خوری پر کیوں خاموش ہیں؟
اسے ہمارے دیس کی بدقسمتی ہی کہا جائے گا کہ اکیسویں صدی میں بھی ہمارے یہاں کھانے پینے کی بنیاد پر نفرت اور سیاست کی جاتی ہے۔کھانا پینا ہر انسان کا بے حد نجی اور ذاتی معاملہ ہے لیکن مسلمانوں سے نفرت اور سیاسی نفع کے لالچ میں کھانے پینے کو بھی دشمنی نکالنے کا ذریعہ بنا لیا گیا ہے۔حالیہ واقعہ سے یہ بات نہایت واضح طور پر ثابت ہوجاتی ہے کہ اس ملک کے غیر مسلم بھی اول درجے کے گوشت خور ہیں۔گودی میڈیا اوربھکتوں کو چاہیے کہ جس طرح مسلمانوں کے خلاف شور مچاتے ہیں ویسی ہی مہم دیگر گوشت خوروں کے خلاف بھی چلائیں، ورنہ اپنی آنکھوں سے بھکتی کا چشمہ اتار دیں اور ملکی امن وامان کو برباد نہ کریں۔
19؍جمادی الاول 1442ھ
4؍جنوری 2021 بروز پیر
غلام مصطفےٰ نعیمی
مدیر اعلیٰ سواد اعظم دہلی
آپ کب کیا کھانا چاہتے ہیں یہ آپ کا نجی اور ذاتی معاملہ ہے۔ پوری دنیا میں اسے انسان کا بنیادی حق مانا گیا ہے لیکن ہمارے دیس میں کیا کھانا ہے یہ آپ نہیں حکومت طے کرتی ہے۔حکومت کی اسی نفرتی پالیسی کی وجہ سے گلی کوچوں میں نفرتی چِنٹُوؤں کی ٹولیاں بے موسم گھاس کی طرح اُگ آئی ہیں جو ہر کسی کے کھانے/دانے کو چیک کرتے گھومتے ہیں۔انہیں چند بھکتوں کے نشانے پر ان دنوں انڈین کرکٹ ٹیم کے نائب کپتان روہت شرما آگئے ہیں۔انڈین کرکٹ ٹیم ان دنوں آسٹریلیائی ٹور پر ہے۔جہاں کورونا پابندیوں کے درمیان کرکٹ کھیلی جارہی ہے۔اس درمیان ٹیم کے پانچ کھلاڑی کورونا پروٹوکول کے خلاف ایک ہوٹل میں کھانا کھاتے نظر آئے۔ان کی بدقسمتی کہ ہوٹل کا بِل (Bill) وائرل ہوگیا۔بِل کے مطابق ان کھلاڑیوں نے بیف (گائے) اور خنزیر (pork) کا گوشت کھایا تھا۔خنزیر کے گوشت پر شاید بھکتوں کو اعتراض نہ ہوتا لیکن بیف کا نام آتے ہی کچھ پکے اندھ بھکتوں کا پارہ چڑھ گیا اور انہوں نے سوشل میڈیا پر ہی کھلاڑیوں کو کھری کھوٹی سنانا شروع کردی۔حالانکہ میڈیا اور سیاست دانوں نے اس معاملے کو ایسے ہضم کرلیا جیسے کچھ ہوا ہی نہیں تھا۔خدا نخواستہ اگر کوئی مسلم کھلاڑی بیف کھا لیتا تو اب تک میڈیا اور سیاست دان اس پر چڑھائی کر چکے ہوتے مگر یہاں بیف کھانے والوں میں اپنے ہی لوگ شامل تھے اس لیے ساری خبر کو بغیر پانی کے ہی گلے سے اتار لیا گیا۔
بھکت بننے کا ایک بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ آپ کا دل ودماغ دوسرے کے قبضے میں چلا جاتاہے اور آپ اپنے سوچنے سمجھنے کی طاقت کھو بیٹھتے ہیں۔اس کے بعد بھکت وہی دیکھتا ہے جو اس کا سوامی اور آقا اسے دکھانا چاہتا ہے۔ایسے ہی کچھ سوامیوں اور آقاؤں نے اپنے بھکتوں کے دماغ میں یہ بات بٹھا رکھی ہے کہ بھارت ایک شاکاہاری (سبزی خور) دیس ہے۔بس مسلمان ہی گوشت خور ہیں۔جبکہ حقیقت اس کے خلاف ہے۔سیمپل رجسٹریشن سسٹم بیس لائن سروے کے مطابق بھارت میں 71؍فیصد لوگ گوشت کھاتے ہیں۔حکومتی رپورٹ کے مطابق بھارت میں مسلمانوں کی کل آبادی 14.23؍ فیصد ہے۔اگر مسلمانوں کی کل آبادی کو گوشت خور مان لیا جائے تو باقی 85.77؍فیصد غیر مسلم آبادی بچتی ہے۔اس پچاسی فیصد آبادی میں 56.77؍ فیصد غیر مسلم آبادی گوشت خور ہے۔یعنی گوشت نہ کھانے والوں کی تعداد محض 29؍ فیصدہے۔کس صوبے میں کتنے فیصد لوگ گوشت کھاتے ہیں اس فہرست میں ملاحظہ کریں:
🔹آندھرا پردیش: 98.25
🔹تلنگانہ: 98.7
🔹تمل ناڈو: 97.65
🔹اڈیشہ: 97.35
🔹کیرل: 97
🔹بہار: 92.45
🔹چھتیس گڑھ: 82.05
🔹بنگال: 79.4
🔹آسام: 79.4
🔹جھارکھنڈ: 79.4
🔹کرناٹک: 78.9
🔹اتراکھنڈ: 72.65
🔹مہاراشٹر: 59.8
🔹دلّی: 60.5
🔹یوپی: 52.9
🔹ایم پی: 49.4
🔹گجرات: 39.05
🔹پنجاب: 33.25
🔹ہریانہ: 30.75
ان تمام صوبوں میں آسام، بنگال اور یوپی میں مسلم آبادی ۲۰؍تا ۳۰؍ فیصد ہے باقی دیگر صوبوں میں مسلم آبادی ۲؍ سے ۱۳؍ فیصد کے درمیان ہے لیکن ان صوبوں میں گوشت کھانے والوں کی تعداد ۳۰؍ فیصد سے ۹۸؍ فیصد تک ہے۔اب بھکت جَن سوچ کر بتائیں کہ مسلمانوں کے علاوہ اتنی بڑی غیر مسلم آبادی گوشت کیوں کھاتی ہے؟
گوشت کے نام پر مسلمانوں کے جان و مال لوٹنے والے بھکت، ٹی وی پر نوٹنکی کرنے والے اینکر اور گئو ماتا کی قسمیں کھانے والے نیتا کرکٹروں کی گوشت خوری پر کیوں خاموش ہیں؟
اسے ہمارے دیس کی بدقسمتی ہی کہا جائے گا کہ اکیسویں صدی میں بھی ہمارے یہاں کھانے پینے کی بنیاد پر نفرت اور سیاست کی جاتی ہے۔کھانا پینا ہر انسان کا بے حد نجی اور ذاتی معاملہ ہے لیکن مسلمانوں سے نفرت اور سیاسی نفع کے لالچ میں کھانے پینے کو بھی دشمنی نکالنے کا ذریعہ بنا لیا گیا ہے۔حالیہ واقعہ سے یہ بات نہایت واضح طور پر ثابت ہوجاتی ہے کہ اس ملک کے غیر مسلم بھی اول درجے کے گوشت خور ہیں۔گودی میڈیا اوربھکتوں کو چاہیے کہ جس طرح مسلمانوں کے خلاف شور مچاتے ہیں ویسی ہی مہم دیگر گوشت خوروں کے خلاف بھی چلائیں، ورنہ اپنی آنکھوں سے بھکتی کا چشمہ اتار دیں اور ملکی امن وامان کو برباد نہ کریں۔
19؍جمادی الاول 1442ھ
4؍جنوری 2021 بروز پیر
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Gulam Mustafa Razvi
*حقیقی نصب العین اور دُنیا طلبی*
١٩٢٠ء میں عظیم مدبر اور مفکر پروفیسر سید سلیمان اشرف بہاری نے مسلمانوں کی مشرکین سے دوستی؛ اور مفاہمت و خود سپردگی کے مہیب اثرات پر تحریر فرمایا تھا:
"افسوس ہے مسلمانوں کی بدعقلی اور خام کاری پر.... دُنیا طلبی ان پر ایسی چھائی کہ دین کی تباہی اپنے ہاتھوں سے کرنے لگے؛ اور اس کا احساس و شعور تک انھیں نہیں ہوتا کہ ہم کیا کر رہے ہیں.... مسلمانوں کا حقیقی نصب العین"دین و مذہب" اللہ تعالیٰ نے قرار دیا ہے؛ دُنیا ان کے پاس دین کی رونق اور مذہب کی خدمت کے لیے ہے... جب دین و مذہب ہی نہ رہا تو ملعون ہے وہ سلطنت جو ایمان کے عوض میں ملے؛ اور صدہا لعنت ہے اس حکومت پر جو اسلام بیچ کر خریدی جائے.... "
(الرشاد، از سید سلیمان اشرف بہاری، طبع ١٩٢٠ء، ص٢٠)
*تبصرہ:* تلمیذ و خلیفۂ اعلیٰ حضرت؛ پروفیسر مولانا سید سلیمان اشرف بہاری کے اس اقتباس سے چند باتیں معلوم ہوئیں:
١- دُنیا کی طلب میں ہم دینی احکام سے غافل ہوئے جاتے ہیں... جب کہ ہمیں چاہیے تھا کہ اپنا سب کچھ دین سے وابستہ رکھتے...
٢- ہمارے اکثر نقصانات ہماری غفلت کا ہی نتیجہ ہیں... جیسا کہ ہم نے نصب العین کو فراموش کر دیا... دین سے غافل ہو بیٹھے...
٣- اپنی دُنیا دین کے استحکام کے لیے مختص کرتے تو معاشرہ بھی صالح بنتا... اور جاہ و منصب بھی مستحکم ہوتا... لیکن:
جدا ہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی
٤- فی الوقت جو حالات مسلمانانِ ہند کے ہیں؛.... وہ اپنی ہی کمائی کا نتیجہ ہیں... جن لوگوں نے قیادت کا دعویٰ کیا... پھر مشرکین سے سودا کر لیا... ان کی خوشنودی چاہی... ان کی منشا و مراد کے مطابق مسلمانوں میں ذہن سازی کی... آج اسی کے نتائج ہم مشاہدہ کر رہے ہیں...
وہ ١٩١٩ء میں سوراج کی باتیں کر رہے تھے... مسلم قیادت گاندھی کے چرنوں میں سرنگوں تھی... وہ ہندو یونیورسٹی بنارس کو مستحکم کر رہے تھے... نان کو آپریشن کی آندھی میں مدرسۂ عالیہ کلکتہ اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا نقصان کیا جا رہا تھا... وہ علم کے میدان میں ترقی کر رہے تھے... ادھر گلشنِ علم ویران کیے جا رہے تھے... وہ اقتدار پر براجمان ہو رہے تھے... ادھر مسلم قیادت زیر دَست تھی... پھر ایک صدی محنت کی گئی... اور ہندو راشٹر کی راہ ہموار کی گئی... آج مسلم آثار کی بربادی کی مہم جاری ہے... ہر اعتبار سے ہمارے آثار مٹائے اور کھرچے جا رہے ہیں... اپنے نصب العین کی طرف لوٹ آئیں... دین و مذہب اور شعائر اسلامی کی حفاظت و خدمت کو مطمح نظر بنائیں... یہی وقت کا تقاضا ہے... یہی ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے...
اپنی ملت پہ قیاس اقوامِ مغرب سے نہ کر
خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمیﷺ
غلام مصطفٰی رضوی
نوری مشن مالیگاؤں
***
٧ جنوری ٢٠٢١ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=121449529810243&id=107640804524449
١٩٢٠ء میں عظیم مدبر اور مفکر پروفیسر سید سلیمان اشرف بہاری نے مسلمانوں کی مشرکین سے دوستی؛ اور مفاہمت و خود سپردگی کے مہیب اثرات پر تحریر فرمایا تھا:
"افسوس ہے مسلمانوں کی بدعقلی اور خام کاری پر.... دُنیا طلبی ان پر ایسی چھائی کہ دین کی تباہی اپنے ہاتھوں سے کرنے لگے؛ اور اس کا احساس و شعور تک انھیں نہیں ہوتا کہ ہم کیا کر رہے ہیں.... مسلمانوں کا حقیقی نصب العین"دین و مذہب" اللہ تعالیٰ نے قرار دیا ہے؛ دُنیا ان کے پاس دین کی رونق اور مذہب کی خدمت کے لیے ہے... جب دین و مذہب ہی نہ رہا تو ملعون ہے وہ سلطنت جو ایمان کے عوض میں ملے؛ اور صدہا لعنت ہے اس حکومت پر جو اسلام بیچ کر خریدی جائے.... "
(الرشاد، از سید سلیمان اشرف بہاری، طبع ١٩٢٠ء، ص٢٠)
*تبصرہ:* تلمیذ و خلیفۂ اعلیٰ حضرت؛ پروفیسر مولانا سید سلیمان اشرف بہاری کے اس اقتباس سے چند باتیں معلوم ہوئیں:
١- دُنیا کی طلب میں ہم دینی احکام سے غافل ہوئے جاتے ہیں... جب کہ ہمیں چاہیے تھا کہ اپنا سب کچھ دین سے وابستہ رکھتے...
٢- ہمارے اکثر نقصانات ہماری غفلت کا ہی نتیجہ ہیں... جیسا کہ ہم نے نصب العین کو فراموش کر دیا... دین سے غافل ہو بیٹھے...
٣- اپنی دُنیا دین کے استحکام کے لیے مختص کرتے تو معاشرہ بھی صالح بنتا... اور جاہ و منصب بھی مستحکم ہوتا... لیکن:
جدا ہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی
٤- فی الوقت جو حالات مسلمانانِ ہند کے ہیں؛.... وہ اپنی ہی کمائی کا نتیجہ ہیں... جن لوگوں نے قیادت کا دعویٰ کیا... پھر مشرکین سے سودا کر لیا... ان کی خوشنودی چاہی... ان کی منشا و مراد کے مطابق مسلمانوں میں ذہن سازی کی... آج اسی کے نتائج ہم مشاہدہ کر رہے ہیں...
وہ ١٩١٩ء میں سوراج کی باتیں کر رہے تھے... مسلم قیادت گاندھی کے چرنوں میں سرنگوں تھی... وہ ہندو یونیورسٹی بنارس کو مستحکم کر رہے تھے... نان کو آپریشن کی آندھی میں مدرسۂ عالیہ کلکتہ اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا نقصان کیا جا رہا تھا... وہ علم کے میدان میں ترقی کر رہے تھے... ادھر گلشنِ علم ویران کیے جا رہے تھے... وہ اقتدار پر براجمان ہو رہے تھے... ادھر مسلم قیادت زیر دَست تھی... پھر ایک صدی محنت کی گئی... اور ہندو راشٹر کی راہ ہموار کی گئی... آج مسلم آثار کی بربادی کی مہم جاری ہے... ہر اعتبار سے ہمارے آثار مٹائے اور کھرچے جا رہے ہیں... اپنے نصب العین کی طرف لوٹ آئیں... دین و مذہب اور شعائر اسلامی کی حفاظت و خدمت کو مطمح نظر بنائیں... یہی وقت کا تقاضا ہے... یہی ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے...
اپنی ملت پہ قیاس اقوامِ مغرب سے نہ کر
خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمیﷺ
غلام مصطفٰی رضوی
نوری مشن مالیگاؤں
***
٧ جنوری ٢٠٢١ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=121449529810243&id=107640804524449
Facebook
Log in to Facebook
Log in to Facebook to start sharing and connecting with your friends, family and people you know.
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Zubair 006
مبسملا وحامدا::ومصلیا ومسلما
تکفیر دیابنہ اور ایک مشہور مغالطہ
سوال:جو دیوبندی اشخاص اربعہ کی کفریہ عبارتوں سے واقف نہیں,وہ اگر اشخاص اربعہ کو مومن مانتا ہے تو وہ کافر ہے یا نہیں؟
جواب:جو دیوبندی یا سنی کہلانے والا شخص عناصر اربعہ کی کفریہ عبارتوں سے واقف نہیں تو اگر اسے قطعی طور پر معلوم ہے کہ اشخاص اربعہ پر علمائے اہل سنت و جماعت نے کفر کا فتوی دیا ہے,اس کے باوجود وہ ان لوگوں کو مومن مانتا ہے تو کافر ہے۔
اگر عہد صحابہ یا عصر تابعین یا عہد مابعد میں کسی کے کفر کلامی پر علمائے حق کا اجماع واتفاق ہو گیا۔پھر اس کے کفر کی روایت تواتر کے ساتھ نقل ہوتی آئی۔ہر عہد میں علمائے حق اسے مرتد مانتے آئے ہیں,لیکن اس کا کفریہ قول تواتر کے ساتھ نقل نہ ہو سکا۔یا خبر واحد کے طور پر نقل ہوا تو بھی ایسے مرتد کو مرتد ماننا ہے۔
دراصل حکم کفر کے ساتھ سبب کفر بھی اجمالی طورپر منقول ہوتا ہے,اور کامل تحقیقات وہ علما کرتے ہیں جو تحقیق کرتے ہیں اور دیگر تمام علما اسی وقت اتفاق کرتے ہیں جب وہ فتوی صحیح ہوتا ہے,کیوں کہ خطا پر اجماع امت نہیں ہوتا۔
اشخاص اربعہ کے کفر کے ساتھ یہ بھی ہند و پاک میں مشہور ہے کہ دیوبندی گستاخ رسول ہیں اور اسی گستاخی کے سبب ان پر حکم کفر ہونے کی بات بھی مشہور ہے۔پس اجمالی طور پر سبب کفر بھی مشہور ہے,جس طرح حکم کفر کی شہرت ہے۔
عہد ماضی کے تمام مدعیان نبوت کے کفری اقوال سے ہم مطلع نہیں۔ہرایک مدعی نبوت کا کفری قول بھی تواتر کے ساتھ نقل نہ ہو سکا,بلکہ بہت سے مدعیان نبوت کا کفریہ قول خبر واحد کے طور پر بھی منقول نہیں۔اس عہد کے علمائے حق نے ان مدعیان نبوت کے اقوال کی تحقیق کے بعد کفر کلامی کا حکم جاری کیا اور اس عہد سے آج تک مومنین ان مدعیان نبوت کو کافر مانتے آ رہے ہیں۔
عبد اللہ بن سبا کی فتنہ پروری کے سبب بعض لوگ حضرت علی مرتضی رضی اللہ تعالی عنہ کو خدا کہنے لگے۔حضرت شیر خدا رضی اللہ تعالی عنہ نے ان سب کو مرتد سمجھ کر جلا دیا,کیوں کہ مرتد کی سزا قتل ہے۔
آج تک امت مسلمہ الوہیت مرتضوی کے قائلین کو مرتد مانتی ہے,لیکن ان مرتدین کا کفریہ قول تواتر کے ساتھ منقول نہیں۔
کتاب الشفا وغیرہ میں بہت سے مرتدین کا ذکر ہے۔کتاب الشفا میں ان کے کفریہ اقوال بھی منقول ہیں,لیکن وہ متواتر روایت نہیں,بلکہ ایک دو مصنف نے ان کفریہ اقوال کو ذکر بھی کیا ہے تو یہ خبر واحد ہی کے درجے میں ہو گا۔اس کے باوجود امت مسلمہ ان مرتدین کو مرتد مانتی ہے۔
الحاصل عہد ماضی کے بعض مرتدین کا کفریہ قول ہی منقول نہیں,بعض مرتدین کا کفریہ قول خبر واحد کے طریقے پر منقول ہے۔ہاں,ان کی مرتدین کی تکفیر کا قول منقول ہے اور امت مسلمہ قرنا بعد قرن ان تمام مرتدین کو مرتد مانتی آ رہی ہے۔
کتاب الشفا میں یہ صراحت موجود ہے کہ جن لوگوں پر علما نے کفر(کفر کلامی)کا حکم دیا,ان کو مومن ماننے والا کافر ہے۔من شک فی کفرہ فقد کفر کا بھی یہی مفہوم ہے۔
اسلاف کرام کی کتابوں میں یہ مجھے نہیں مل سکا کہ کسی مرتد کو مرتد ماننے کے لئے اس کے کفریہ قول پر مطلع ہونا ضروری ہے۔
عرب وعجم میں بے شمار علما ہیں۔اگر ایسی عبارت کہیں موجود ہے تو پیش کریں,تاکہ بات واضح ہو جائے۔
حکم کفر پر مطلع ہونا اس لئے ضروری ہے کہ اگر حکم پر مطلع نہیں ہو گا تو کسی کو کافر کیسے مانے گا۔
امام احمد رضا قادری نے متعدد مقام پر رقم فرمایا کہ جو دیابنہ کے کفر پر مطلع ہو کر ان کو کافر نہ مانے,وہ کافر ہے۔
اسی طرح متعدد مقام پر رقم فرمایا کہ جو ان کی کفریہ عبارت پر مطلع ہو کر ان کو کافر نہ مانے تو وہ کافر ہے۔
اس قول دوم کی یہ تاویل ہو سکتی ہے کہ جو اشخاص اربعہ کے حکم کفر سے نا آشنا ہو,لیکن ان کی کفریہ عبارتوں سے واقف ہو تو وہ انہیں کافر مانے۔اگر وہ خود فتوی تکفیر کا اہل نہیں تو اہل علم سے دریافت کرے۔
ابھی دیوبندیوں کی تعداد نظر آتی ہے تو دیوبندیوں کو مومن ثابت کرنے کی کوشش ہوتی ہے۔کل قادیانیوں کی تعداد زیادہ ہو جائے تو قادیانیوں کے لئے بھی اسی طرح کی کوشش ہو سکتی ہے۔یہ سب ایمان کی کمزوری کی علامتیں ہیں۔
امام احمد رضا قادری نے یہ بھی رقم فرمایا ہے کہ دیوبندیوں کی کفریہ عبارتوں سے ناواقف شخص دیوبندیوں کو مومن مانتا ہے,تو وہ کافر نہیں۔لیکن ناواقف ہونے کا یہ مفہوم بتایا کہ ان کے کان بھی ان کفریہ عبارتوں سے آشنا نہ ہوں۔اس کا مفہوم یہ ہوا کہ خبر واحد کے ذریعہ بھی دیابنہ کی کفریہ عبارتوں کا علم ہے تو بھی ان کو مومن ماننے والا معذور نہیں۔
ہم نے ایک مسودہ علمائے کرام کی خدمت میں روانہ کیا ہے۔اس میں بھی ہم نے دلائل کی روشنی میں یہ وضاحت کر دی ہے کہ جس کو خبر واحد کے طور پر دیابنہ کے کفر کا علم ہو یعنی ظنی علم ہو,اس پر اصل حقائق کی جانکاری حاصل کرنا فرض ہو گا,ورنہ وہ حکم شرعی کے دائرہ میں آئے گا۔ان شاء اللہ تعالی کچھ اضافات کے بعد دوبارہ احباب کی خدمت میں پیش کروں گا۔اس کے بعد اکابرین کی خدمت میں۔
دیابنہ کی کفریہ عبارتوں سے ناواقف
تکفیر دیابنہ اور ایک مشہور مغالطہ
سوال:جو دیوبندی اشخاص اربعہ کی کفریہ عبارتوں سے واقف نہیں,وہ اگر اشخاص اربعہ کو مومن مانتا ہے تو وہ کافر ہے یا نہیں؟
جواب:جو دیوبندی یا سنی کہلانے والا شخص عناصر اربعہ کی کفریہ عبارتوں سے واقف نہیں تو اگر اسے قطعی طور پر معلوم ہے کہ اشخاص اربعہ پر علمائے اہل سنت و جماعت نے کفر کا فتوی دیا ہے,اس کے باوجود وہ ان لوگوں کو مومن مانتا ہے تو کافر ہے۔
اگر عہد صحابہ یا عصر تابعین یا عہد مابعد میں کسی کے کفر کلامی پر علمائے حق کا اجماع واتفاق ہو گیا۔پھر اس کے کفر کی روایت تواتر کے ساتھ نقل ہوتی آئی۔ہر عہد میں علمائے حق اسے مرتد مانتے آئے ہیں,لیکن اس کا کفریہ قول تواتر کے ساتھ نقل نہ ہو سکا۔یا خبر واحد کے طور پر نقل ہوا تو بھی ایسے مرتد کو مرتد ماننا ہے۔
دراصل حکم کفر کے ساتھ سبب کفر بھی اجمالی طورپر منقول ہوتا ہے,اور کامل تحقیقات وہ علما کرتے ہیں جو تحقیق کرتے ہیں اور دیگر تمام علما اسی وقت اتفاق کرتے ہیں جب وہ فتوی صحیح ہوتا ہے,کیوں کہ خطا پر اجماع امت نہیں ہوتا۔
اشخاص اربعہ کے کفر کے ساتھ یہ بھی ہند و پاک میں مشہور ہے کہ دیوبندی گستاخ رسول ہیں اور اسی گستاخی کے سبب ان پر حکم کفر ہونے کی بات بھی مشہور ہے۔پس اجمالی طور پر سبب کفر بھی مشہور ہے,جس طرح حکم کفر کی شہرت ہے۔
عہد ماضی کے تمام مدعیان نبوت کے کفری اقوال سے ہم مطلع نہیں۔ہرایک مدعی نبوت کا کفری قول بھی تواتر کے ساتھ نقل نہ ہو سکا,بلکہ بہت سے مدعیان نبوت کا کفریہ قول خبر واحد کے طور پر بھی منقول نہیں۔اس عہد کے علمائے حق نے ان مدعیان نبوت کے اقوال کی تحقیق کے بعد کفر کلامی کا حکم جاری کیا اور اس عہد سے آج تک مومنین ان مدعیان نبوت کو کافر مانتے آ رہے ہیں۔
عبد اللہ بن سبا کی فتنہ پروری کے سبب بعض لوگ حضرت علی مرتضی رضی اللہ تعالی عنہ کو خدا کہنے لگے۔حضرت شیر خدا رضی اللہ تعالی عنہ نے ان سب کو مرتد سمجھ کر جلا دیا,کیوں کہ مرتد کی سزا قتل ہے۔
آج تک امت مسلمہ الوہیت مرتضوی کے قائلین کو مرتد مانتی ہے,لیکن ان مرتدین کا کفریہ قول تواتر کے ساتھ منقول نہیں۔
کتاب الشفا وغیرہ میں بہت سے مرتدین کا ذکر ہے۔کتاب الشفا میں ان کے کفریہ اقوال بھی منقول ہیں,لیکن وہ متواتر روایت نہیں,بلکہ ایک دو مصنف نے ان کفریہ اقوال کو ذکر بھی کیا ہے تو یہ خبر واحد ہی کے درجے میں ہو گا۔اس کے باوجود امت مسلمہ ان مرتدین کو مرتد مانتی ہے۔
الحاصل عہد ماضی کے بعض مرتدین کا کفریہ قول ہی منقول نہیں,بعض مرتدین کا کفریہ قول خبر واحد کے طریقے پر منقول ہے۔ہاں,ان کی مرتدین کی تکفیر کا قول منقول ہے اور امت مسلمہ قرنا بعد قرن ان تمام مرتدین کو مرتد مانتی آ رہی ہے۔
کتاب الشفا میں یہ صراحت موجود ہے کہ جن لوگوں پر علما نے کفر(کفر کلامی)کا حکم دیا,ان کو مومن ماننے والا کافر ہے۔من شک فی کفرہ فقد کفر کا بھی یہی مفہوم ہے۔
اسلاف کرام کی کتابوں میں یہ مجھے نہیں مل سکا کہ کسی مرتد کو مرتد ماننے کے لئے اس کے کفریہ قول پر مطلع ہونا ضروری ہے۔
عرب وعجم میں بے شمار علما ہیں۔اگر ایسی عبارت کہیں موجود ہے تو پیش کریں,تاکہ بات واضح ہو جائے۔
حکم کفر پر مطلع ہونا اس لئے ضروری ہے کہ اگر حکم پر مطلع نہیں ہو گا تو کسی کو کافر کیسے مانے گا۔
امام احمد رضا قادری نے متعدد مقام پر رقم فرمایا کہ جو دیابنہ کے کفر پر مطلع ہو کر ان کو کافر نہ مانے,وہ کافر ہے۔
اسی طرح متعدد مقام پر رقم فرمایا کہ جو ان کی کفریہ عبارت پر مطلع ہو کر ان کو کافر نہ مانے تو وہ کافر ہے۔
اس قول دوم کی یہ تاویل ہو سکتی ہے کہ جو اشخاص اربعہ کے حکم کفر سے نا آشنا ہو,لیکن ان کی کفریہ عبارتوں سے واقف ہو تو وہ انہیں کافر مانے۔اگر وہ خود فتوی تکفیر کا اہل نہیں تو اہل علم سے دریافت کرے۔
ابھی دیوبندیوں کی تعداد نظر آتی ہے تو دیوبندیوں کو مومن ثابت کرنے کی کوشش ہوتی ہے۔کل قادیانیوں کی تعداد زیادہ ہو جائے تو قادیانیوں کے لئے بھی اسی طرح کی کوشش ہو سکتی ہے۔یہ سب ایمان کی کمزوری کی علامتیں ہیں۔
امام احمد رضا قادری نے یہ بھی رقم فرمایا ہے کہ دیوبندیوں کی کفریہ عبارتوں سے ناواقف شخص دیوبندیوں کو مومن مانتا ہے,تو وہ کافر نہیں۔لیکن ناواقف ہونے کا یہ مفہوم بتایا کہ ان کے کان بھی ان کفریہ عبارتوں سے آشنا نہ ہوں۔اس کا مفہوم یہ ہوا کہ خبر واحد کے ذریعہ بھی دیابنہ کی کفریہ عبارتوں کا علم ہے تو بھی ان کو مومن ماننے والا معذور نہیں۔
ہم نے ایک مسودہ علمائے کرام کی خدمت میں روانہ کیا ہے۔اس میں بھی ہم نے دلائل کی روشنی میں یہ وضاحت کر دی ہے کہ جس کو خبر واحد کے طور پر دیابنہ کے کفر کا علم ہو یعنی ظنی علم ہو,اس پر اصل حقائق کی جانکاری حاصل کرنا فرض ہو گا,ورنہ وہ حکم شرعی کے دائرہ میں آئے گا۔ان شاء اللہ تعالی کچھ اضافات کے بعد دوبارہ احباب کی خدمت میں پیش کروں گا۔اس کے بعد اکابرین کی خدمت میں۔
دیابنہ کی کفریہ عبارتوں سے ناواقف
Forwarded from Zubair 006
ہونے کا مفہوم امام اہل سنت نے یہ بتایا۔
"اگر واقع میں کوئی نو وارد یا نرا جاہل یا ناواقف ایسا ہو جس کے کان تک یہ آوازیں نہ گئیں اور وہ بوجہ ناواقفی محض انہیں کافر نہ سمجھا,وہ اس وقت تک معذور ہے جب کہ سمجھانے سے فورا حق قبول کر لے"۔(فتاوی رضویہ جلد نہم جز دوم:ص313۔رضا اکیڈمی ممبئی )
جن کو معذور نہیں سمجھا جائے گا۔ان کا بھی ذکر متعددمقام پر ہے اور اس مقام پر منقولہ عبارت سے پہلے یہ ہے:
"سائل صورت وہ فرض کرتا ہے جو واقع نہ ہو گی جو واقع نہ ہوگی۔دیوبندیوں کے عقائد کفر طشت ازبام ہو گئے۔
منکر بننے والے اپنی جان چھڑانے کے لئے انکار کرتے ہیں کہ ہمیں معلوم نہیں۔جو منکر ہو,اس سے کہئے۔فتاوی موجود وشائع ہیں۔دیکھو کہ کافروں کا کفر معلوم ہو اور دھوکے سے بچے اور ان کے پیچھے نمازیں غارت نہ کرو۔
رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے دشمنوں سے دشمنی فرض ہے۔اس فرض پر قائم ہو تو کہتے ہیں۔ہمیں کتابیں دیکھنے کی حاجت نہیں۔یہ ان کا کید ہے۔
ان کے دل میں محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی عظمت ہوتی تو جن کی نسبت ایسی عام اشاعت سنتے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا دشنام دہندہ ہے,اس سے فورا خود ہی کنارہ کش ہوتے اور آپ ہی اس کی تحقیق کو بے قرار ہوتے۔
کیا کوئی کسی کو سنے کہ تیرے قتل کے لئے گھات میں بیٹھا ہے,اعتبار نہ آئے تو چل تجھے دکھا دوں۔وہ یوں ہی بے پرواہی برتے گا۔اور کہے گا۔مجھے نہ تحقیقات کی ضرورت,نہ اس سے احتراز کی حاجت۔
تو یہ لوگ ضرور مکار اور بباطن انہیں سے انفار۔یا دین سے محض بے علاقہ و بے زار ہوتے ہیں۔ان کے پیچھے نماز سے احتراز فرض ہے"۔
(فتاوی رضویہ جلد نہم جز دوم:ص 313۔رضا اکیڈمی ممبئی )
اہل عقل وخرد سے عرض ہے کہ ایسے دین بے زار لوگوں کو مومن ثابت کرنے کے چکر میں اپنا ایمان غارت نہ کریں۔
طارق انورمصباحی
جاری کردہ:8:جنوری 2021
"اگر واقع میں کوئی نو وارد یا نرا جاہل یا ناواقف ایسا ہو جس کے کان تک یہ آوازیں نہ گئیں اور وہ بوجہ ناواقفی محض انہیں کافر نہ سمجھا,وہ اس وقت تک معذور ہے جب کہ سمجھانے سے فورا حق قبول کر لے"۔(فتاوی رضویہ جلد نہم جز دوم:ص313۔رضا اکیڈمی ممبئی )
جن کو معذور نہیں سمجھا جائے گا۔ان کا بھی ذکر متعددمقام پر ہے اور اس مقام پر منقولہ عبارت سے پہلے یہ ہے:
"سائل صورت وہ فرض کرتا ہے جو واقع نہ ہو گی جو واقع نہ ہوگی۔دیوبندیوں کے عقائد کفر طشت ازبام ہو گئے۔
منکر بننے والے اپنی جان چھڑانے کے لئے انکار کرتے ہیں کہ ہمیں معلوم نہیں۔جو منکر ہو,اس سے کہئے۔فتاوی موجود وشائع ہیں۔دیکھو کہ کافروں کا کفر معلوم ہو اور دھوکے سے بچے اور ان کے پیچھے نمازیں غارت نہ کرو۔
رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے دشمنوں سے دشمنی فرض ہے۔اس فرض پر قائم ہو تو کہتے ہیں۔ہمیں کتابیں دیکھنے کی حاجت نہیں۔یہ ان کا کید ہے۔
ان کے دل میں محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی عظمت ہوتی تو جن کی نسبت ایسی عام اشاعت سنتے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا دشنام دہندہ ہے,اس سے فورا خود ہی کنارہ کش ہوتے اور آپ ہی اس کی تحقیق کو بے قرار ہوتے۔
کیا کوئی کسی کو سنے کہ تیرے قتل کے لئے گھات میں بیٹھا ہے,اعتبار نہ آئے تو چل تجھے دکھا دوں۔وہ یوں ہی بے پرواہی برتے گا۔اور کہے گا۔مجھے نہ تحقیقات کی ضرورت,نہ اس سے احتراز کی حاجت۔
تو یہ لوگ ضرور مکار اور بباطن انہیں سے انفار۔یا دین سے محض بے علاقہ و بے زار ہوتے ہیں۔ان کے پیچھے نماز سے احتراز فرض ہے"۔
(فتاوی رضویہ جلد نہم جز دوم:ص 313۔رضا اکیڈمی ممبئی )
اہل عقل وخرد سے عرض ہے کہ ایسے دین بے زار لوگوں کو مومن ثابت کرنے کے چکر میں اپنا ایمان غارت نہ کریں۔
طارق انورمصباحی
جاری کردہ:8:جنوری 2021
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
کیا سنی ابن تیمیہ بھی ہیں؟!.
عام طور پر لوگ یہی سمجھتے ہیں کہ ابن تیمیہ گمراہ، بد مذہب، امام بد مذہباں ہے. جنھوں نے ایسا سوچا ان کی سوچ درست ہے، لیکن آپ کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ اس مشہور ابن تیمیہ کے علاوہ ایک ابن تیمیہ اور ہیں جو سنی تھے، جن حضرات کو دونوں کا فرق نہیں معلوم وہ دونوں کو ایک سمجھ لیتے ہیں، جب کہ ایسا نہیں ہے۔
مندرجہ ذیل سطور میں راقم نے دونوں کے درمیان خط امتیاز کھینچا ہے تاکہ احباب فائدہ اٹھائیں۔
تحریر---:
ابو المعین اسلم نبیل ازہری، استاذ جامعہ احسن البرکات مارہرہ مطہرہ۔
ابن تیمیہ سے دو شخص مشہور ہیں،
ایک ابن تیمیہ جن کو عوام وخواص سب جانتے ہیں۔
دوسرے ابن تیمیہ جن کو خواص ہی جانتے ہیں۔
اول الذکر کا نام: احمد ہے ان کے والد کا نام عبد الحلیم ہے
آخر الذکر کا نام: عبد السلام ہے۔
اول الذکر بد مذہب ہے۔
آخر الذکر سنی ہیں۔
اول الذکر کا لقب تقی الدین ہے۔
آخر الذکر کا لقب مجد الدین ہے۔
اول الذکر کی مشہور کتاب مجموع الفتاوی، منہاج السنہ، الصارم المسلول وغیرہ ہیں۔
آخر الذکر کی مشہور کتاب منتقی الاخبار ہے، جس کی شرح قاضی شوکانی یمنی نے بنام نیل الاوطار کی۔
دونوں حنبلی المذہب تھے۔
دونوں کے درمیان فرق کیسے ہوگا؟.
ان کا آپس میں دادا پوتے کا رشتہ ہے اس لیے اول الذکر کو ابن تیمیہ حفید، یا مطلقا ابن تیمیہ کہتے ہیں۔
جبکہ آخر الذکر کو ابن تیمیہ جد سے یاد کیا جاتا ہے۔
اسی طرح ابن رشد بھی دو ہیں۔
ایک ابن رشد اکبر
دوسرے ابن رشد اصغر۔
اول الذکر فقیہ تھے، فلسفی نہیں تھے، ان کی مشہور کتابوں میں
البیان والتحصیل، اور الممقدمات الممھدات شامل ہیں، اور یہ امام قاضی عیاض اور ابن بشکوال کے استاذ ہیں۔
جبکہ آخر الذکر، فلسفی، اور فقیہ دونوں تھے، ان کی مشہور تصانیف بدایۃ المجتہد، تھافت التھافت، اور فصل المقال وغیرہ ہیں۔
اتفاق دیکھئے!
دونوں کا نام محمد ہے۔
دونوں کی کنیت ابو الولید ہے۔
دونوں کے درمیان تمیز کا کیا طریقہ ہے؟.
ابن تیمیہ کی طرح ان کے مابین بھی دادا پوتے کا رشتہ ہے۔
اس لیے تمیز کرنے کے لیےاول الذکر کو ابن رشد جد، یا ابن رشد اکبر، یا ابن رشد فقیہ کہتے ہیں۔
اور آخر الذکر کو ابن رشد حفید، یا ابن رشد اصغر، یا ابن رشد فلسفی کہتے ہیں۔
{پرانی تحریر}
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2908012412811400&id=100008080090753
عام طور پر لوگ یہی سمجھتے ہیں کہ ابن تیمیہ گمراہ، بد مذہب، امام بد مذہباں ہے. جنھوں نے ایسا سوچا ان کی سوچ درست ہے، لیکن آپ کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ اس مشہور ابن تیمیہ کے علاوہ ایک ابن تیمیہ اور ہیں جو سنی تھے، جن حضرات کو دونوں کا فرق نہیں معلوم وہ دونوں کو ایک سمجھ لیتے ہیں، جب کہ ایسا نہیں ہے۔
مندرجہ ذیل سطور میں راقم نے دونوں کے درمیان خط امتیاز کھینچا ہے تاکہ احباب فائدہ اٹھائیں۔
تحریر---:
ابو المعین اسلم نبیل ازہری، استاذ جامعہ احسن البرکات مارہرہ مطہرہ۔
ابن تیمیہ سے دو شخص مشہور ہیں،
ایک ابن تیمیہ جن کو عوام وخواص سب جانتے ہیں۔
دوسرے ابن تیمیہ جن کو خواص ہی جانتے ہیں۔
اول الذکر کا نام: احمد ہے ان کے والد کا نام عبد الحلیم ہے
آخر الذکر کا نام: عبد السلام ہے۔
اول الذکر بد مذہب ہے۔
آخر الذکر سنی ہیں۔
اول الذکر کا لقب تقی الدین ہے۔
آخر الذکر کا لقب مجد الدین ہے۔
اول الذکر کی مشہور کتاب مجموع الفتاوی، منہاج السنہ، الصارم المسلول وغیرہ ہیں۔
آخر الذکر کی مشہور کتاب منتقی الاخبار ہے، جس کی شرح قاضی شوکانی یمنی نے بنام نیل الاوطار کی۔
دونوں حنبلی المذہب تھے۔
دونوں کے درمیان فرق کیسے ہوگا؟.
ان کا آپس میں دادا پوتے کا رشتہ ہے اس لیے اول الذکر کو ابن تیمیہ حفید، یا مطلقا ابن تیمیہ کہتے ہیں۔
جبکہ آخر الذکر کو ابن تیمیہ جد سے یاد کیا جاتا ہے۔
اسی طرح ابن رشد بھی دو ہیں۔
ایک ابن رشد اکبر
دوسرے ابن رشد اصغر۔
اول الذکر فقیہ تھے، فلسفی نہیں تھے، ان کی مشہور کتابوں میں
البیان والتحصیل، اور الممقدمات الممھدات شامل ہیں، اور یہ امام قاضی عیاض اور ابن بشکوال کے استاذ ہیں۔
جبکہ آخر الذکر، فلسفی، اور فقیہ دونوں تھے، ان کی مشہور تصانیف بدایۃ المجتہد، تھافت التھافت، اور فصل المقال وغیرہ ہیں۔
اتفاق دیکھئے!
دونوں کا نام محمد ہے۔
دونوں کی کنیت ابو الولید ہے۔
دونوں کے درمیان تمیز کا کیا طریقہ ہے؟.
ابن تیمیہ کی طرح ان کے مابین بھی دادا پوتے کا رشتہ ہے۔
اس لیے تمیز کرنے کے لیےاول الذکر کو ابن رشد جد، یا ابن رشد اکبر، یا ابن رشد فقیہ کہتے ہیں۔
اور آخر الذکر کو ابن رشد حفید، یا ابن رشد اصغر، یا ابن رشد فلسفی کہتے ہیں۔
{پرانی تحریر}
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2908012412811400&id=100008080090753
Facebook
Log in or sign up to view
See posts, photos and more on Facebook.
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
دیوبندی وہابی کی امامت جائز نہیں
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2908497209429587&id=100008080090753
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2908497209429587&id=100008080090753
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
یہ ہیں"خطیب بادشاہی مسجد,لاہور"اور"چیئرمین رویتِ حلال(ھلال)کمیٹی پاکستان"جناب مولوی عبدالخبیرآزاددیوبندی-
بینرپرلکھے الفاظ کوغورسے دیکھیے.
"دہشتگردی ناقابلِ مذمت ہے"
یعنی موصوف اس قابلِ مذمت اورناقابلِ مذمت کے فرق سے جاہل ہیں.
مزیددیکھیے کہ"چیئرمین رویت ھلال کمیٹی"کی جگہ"چیئرمین روئت حلال"کمیٹی لکھاہے.یعنی "ھلال"اور"حلال"کے درمیان فرق بھی نہیں جانتے.
آہ
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2909364469342861&id=100008080090753
بینرپرلکھے الفاظ کوغورسے دیکھیے.
"دہشتگردی ناقابلِ مذمت ہے"
یعنی موصوف اس قابلِ مذمت اورناقابلِ مذمت کے فرق سے جاہل ہیں.
مزیددیکھیے کہ"چیئرمین رویت ھلال کمیٹی"کی جگہ"چیئرمین روئت حلال"کمیٹی لکھاہے.یعنی "ھلال"اور"حلال"کے درمیان فرق بھی نہیں جانتے.
آہ
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2909364469342861&id=100008080090753
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
حضرت حافظِ ملت علیہ الرحمہ کی عقائدِ دیوبندیہ کے رد میں لکھی گئی مختصر مگر جامع کتاب المصباح الجدید کی " تحریک تحفظِ عقائد , بلرامپور , یوپی ہندوستان " سے ہونے والی جدیداشاعت پر راقم کا لکھا گیا مقدمہ. اس کتاب کی تخریج مولانا ساجد مہر القادری زید مجدہ نے کی ہے.
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2909364642676177&id=100008080090753
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2909364642676177&id=100008080090753