Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Deleted Account
*واٹس_ایپ_کو_الوداع_کہنے_کا_وقت_آگیا*
*سوشل میڈیا پر کیا بدلنے جارہاہے اور واٹس ایپ کےعلاوہ متبادل حل کیا ہے؟*
سوشل میڈیا پر بہت ہی مصروف ایپلیکیشن واٹس ایپ اب ایسی پالیسی اختیار کرنے جارہاہے جس کے ذریعے وہ اپنے واٹس ایپ استعمال کرنے والے گاہکوں کی معلومات فیسبوک کمپنی کو دیا کرےگا, اس پالیسی کے آتے ہی بڑے پیمانے پر صارفین واٹس ایپ سے ناراضگی کا اظہار کررہےہیں، ماہرین اور صحافت اور ٹکنولوجی کے انجینئرز واٹس ایپ ڈیلیٹ کرنے کی اپیل کررہےہیں
واٹس ایپ درحقیقت فیسبوک کا ہی ہوچکاہے، فیسبوک نے واٹس ایپ کو جتنی خطیر مالیت دےکر خریدا تھا وہ اب تک اس سے اتنی کمائی نہیں کرسکا ہے اسلیے اب وہ اپنے صارفین کا ڈاٹا حاصل کرنے کا ارادہ کررہاہے جب فیسبوک کو واٹس ایپ صارفین کا ڈاٹا حاصل ہوجائے تو پھر کیا ہوگا اس کی بہت ساری تفصیلات اور کئی پہلو ہیں،
پہلے تو یہ جانیے کہ فیسبوک، کئی دفعه یوروپین ممالک میں بھاری جرمانہ کی سزا بھگت چکا ہے کیونکہ اس نے فیسبوک صارفین کی معلومات افشاء کردی تھی
جولائی ۲۰۱۹ امریکی گاہکوں کے حقوق کی حفاظت کرنے والے ادارہ Federal Trade Commission نے صارفین کی نجی معلومات کےخلاف ورزی کرنے کی وجہ سے فیسبوک پر سب سے بڑا ۵ بلین کا جرمانہ عائد کیا تھا، اس جرمانے کو کسی بھی کمپنی کے خلاف بڑا اور تاریخی جرمانہ قرار دیا جاتاہے جوکہ اپنے گاہکوں کی پرائویسی کے حقوق کی خلاف ورزی کے جرم میں عائد کیاگیاتھا
ایسے ہی 2018 جرمنی میں بھی فیسبوک کے خلاف مقدمہ چل چکاہے،
ستمبر 2016 میں تھائی کی ملٹری عدالت نے بھی فیسبوک کےخلاف مقدمہ چلانے کو منظوری دی تھی
سن ۲۰۱۸ کی ایک رپورٹ کےمطابق آسٹریا کے پرائویسی تحفظ کے ایکٹوسٹ میکس اسکریمس نے بھی فیسبوک کی پرائویسی پالیسی کےخلاف قانونی لڑائی لڑی ہے
اگست ۲۰۲۰ کی وال اسٹریٹ جرنل WSJ کی رپورٹ کےمطابق فیسبوک نے ہندو احیاء پرستوں کی مسلم مخالف نفرت انگیز پوسٹنگ کو فیسبوک کی قوانین کےخلاف ہونے کے باوجود باقی رہنے دیا تھا
فیسبوک کے مالک مارک زکربرگ کی شخصیت اس وجہ سے متنازعہ اور داغدار ہیکہ ان کی کمپنی مختلف ممالک میں اہل حکومت اور اہلِ مال کے مطابق اپنی پالیسیاں ترتیب دے چکاہے ، اور اپنے صارفین کا ڈاٹا الیکشن میں مدد تو کہیں پر حکومتی پروپیگنڈہ کو انگیز کرنے تو کہیں پر نفرت انگیز ہندوتوا میں تعاون کے لیے مددگار بنا چکا ہے_
اب یہی فیسبوک اگر. ہمارے واٹس ایپ ایپلیکیشن کا ڈاٹا حاصل کرنے جارہا ہے تو تشویش اور عدم تحفظ کا احساس یقینی ہے،
*دیکھیے کہ واٹس ایپ کے ذریعے فیسبوک آپکی کون کون سی معلومات پر قدرت حاصل کرنے جارہاہے*
☆آپکی لوکیشن کی خبر دینے والا Ip Address
☆آپکے واٹس ایپ اکاؤنٹ کی معلومات، آپکا موبائل نمبر ۔
☆واٹس ایپ اور بزنس اکاؤنٹ کی گفتگو
☆واٹس ایپ پیمینٹ کے ذریعے آپکی کاروباری جانکاری
☆آپکے جس موبائل میں واٹس ایپ انسٹال ہے اس موبائل/ڈیوائس کی بہت ساری جانکاری
مختصراً یہ کہ، ان جیسی معلومات جو آپ واٹس ایپ میں رکھتے وہ فیسبوک کے پاس بھی ہوں گی،اور یہ وہ ڈاٹا ہے جس کےمتعلق واٹس ایپ کی پالیسی کہہ رہی ہیکہ یہ فیسبوک کے پاس جائےگا اس کےعلاوہ غیر علانیہ طورپر آپکا کون کون سا ڈاٹا فیسبوک کن اہداف کے لیے استعمال کرےگا یہ ابھی کہا نہیں جاسکتا _
آئیے واٹس ایپ کی اس نئی پاليسي پر ماہرین کی آراء پر ایک نظر ڈالتے ہیں :
*سائبر معاملات کے ماہر وکیل پون دگّل کےمطابق:* واٹس ایپ میں نئی تبدیلیاں واضح طورپر عام صارفین کے نجی ڈاٹا پر نظر رکھنے کی کوشش ہے، یہ حکومتِ ہند کے لیے بیداری کا الارم ہےکہ وہ اپنے شہریوں کی نجی معلومات کے تحفظ کے لیے مضبوط ضابطہ اخلاق مرتب کرے_
*سائبر سیکوریٹی کے ماہر جتین جین کا کہنا ہے کہ:* واٹس اپ کی نئی پرائویسی پالیسی / رازداری ضابطہ یہ اس پلیٹ فارم پر نام نہاد تحفظِ رازداری کا خاتمہ ہے
*دنیا کی امیر ترین شخصیت اور قدآور کارپوریٹ ایلون مسک* نے واٹس ایپ کے متبادل استعمال کرنے کی ترغیب دی ہے
*سپریم کورٹ کے وکیل اور سائبر ساتھی کے بانی این۔ایس نپی نائی کے مطابق:* واٹس ایپ کی نئی پالیسی اس کے صارفین کی معلومات اور نجی حقوق پر خطرہ ہے _
*ٹکنالوجی فرم کے مینیجنگ پارٹنر سلمان وارث نے* واٹس اپ کی نئی پالیسی کو سنگین مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ جہاں قوانین کے خلاف ورزی ہے وہیں واٹس ایپ سوشل میڈیا مارکیٹ میں اپني غالب پوزیشن کا ناجائز استعمال کررہاہے _
*ٹکنالوجی کے ماہرین پر مشتمل Privacy International / رازداری کا عالمی فورم، ایک فورم ہے جو انٹرنیٹ صارفین کے نجی حقوق کے تحفظ کے لیے کام کرتاہے اس نے بھی واٹس ایپ کی نئی پالیسی کو غلط قرار دیا ہے،* اس ایجنسی کے مطابق:
WhatsApp's notification to accept its new policy or lose your account is wrong on so many levels
*سوشل میڈیا پر کیا بدلنے جارہاہے اور واٹس ایپ کےعلاوہ متبادل حل کیا ہے؟*
سوشل میڈیا پر بہت ہی مصروف ایپلیکیشن واٹس ایپ اب ایسی پالیسی اختیار کرنے جارہاہے جس کے ذریعے وہ اپنے واٹس ایپ استعمال کرنے والے گاہکوں کی معلومات فیسبوک کمپنی کو دیا کرےگا, اس پالیسی کے آتے ہی بڑے پیمانے پر صارفین واٹس ایپ سے ناراضگی کا اظہار کررہےہیں، ماہرین اور صحافت اور ٹکنولوجی کے انجینئرز واٹس ایپ ڈیلیٹ کرنے کی اپیل کررہےہیں
واٹس ایپ درحقیقت فیسبوک کا ہی ہوچکاہے، فیسبوک نے واٹس ایپ کو جتنی خطیر مالیت دےکر خریدا تھا وہ اب تک اس سے اتنی کمائی نہیں کرسکا ہے اسلیے اب وہ اپنے صارفین کا ڈاٹا حاصل کرنے کا ارادہ کررہاہے جب فیسبوک کو واٹس ایپ صارفین کا ڈاٹا حاصل ہوجائے تو پھر کیا ہوگا اس کی بہت ساری تفصیلات اور کئی پہلو ہیں،
پہلے تو یہ جانیے کہ فیسبوک، کئی دفعه یوروپین ممالک میں بھاری جرمانہ کی سزا بھگت چکا ہے کیونکہ اس نے فیسبوک صارفین کی معلومات افشاء کردی تھی
جولائی ۲۰۱۹ امریکی گاہکوں کے حقوق کی حفاظت کرنے والے ادارہ Federal Trade Commission نے صارفین کی نجی معلومات کےخلاف ورزی کرنے کی وجہ سے فیسبوک پر سب سے بڑا ۵ بلین کا جرمانہ عائد کیا تھا، اس جرمانے کو کسی بھی کمپنی کے خلاف بڑا اور تاریخی جرمانہ قرار دیا جاتاہے جوکہ اپنے گاہکوں کی پرائویسی کے حقوق کی خلاف ورزی کے جرم میں عائد کیاگیاتھا
ایسے ہی 2018 جرمنی میں بھی فیسبوک کے خلاف مقدمہ چل چکاہے،
ستمبر 2016 میں تھائی کی ملٹری عدالت نے بھی فیسبوک کےخلاف مقدمہ چلانے کو منظوری دی تھی
سن ۲۰۱۸ کی ایک رپورٹ کےمطابق آسٹریا کے پرائویسی تحفظ کے ایکٹوسٹ میکس اسکریمس نے بھی فیسبوک کی پرائویسی پالیسی کےخلاف قانونی لڑائی لڑی ہے
اگست ۲۰۲۰ کی وال اسٹریٹ جرنل WSJ کی رپورٹ کےمطابق فیسبوک نے ہندو احیاء پرستوں کی مسلم مخالف نفرت انگیز پوسٹنگ کو فیسبوک کی قوانین کےخلاف ہونے کے باوجود باقی رہنے دیا تھا
فیسبوک کے مالک مارک زکربرگ کی شخصیت اس وجہ سے متنازعہ اور داغدار ہیکہ ان کی کمپنی مختلف ممالک میں اہل حکومت اور اہلِ مال کے مطابق اپنی پالیسیاں ترتیب دے چکاہے ، اور اپنے صارفین کا ڈاٹا الیکشن میں مدد تو کہیں پر حکومتی پروپیگنڈہ کو انگیز کرنے تو کہیں پر نفرت انگیز ہندوتوا میں تعاون کے لیے مددگار بنا چکا ہے_
اب یہی فیسبوک اگر. ہمارے واٹس ایپ ایپلیکیشن کا ڈاٹا حاصل کرنے جارہا ہے تو تشویش اور عدم تحفظ کا احساس یقینی ہے،
*دیکھیے کہ واٹس ایپ کے ذریعے فیسبوک آپکی کون کون سی معلومات پر قدرت حاصل کرنے جارہاہے*
☆آپکی لوکیشن کی خبر دینے والا Ip Address
☆آپکے واٹس ایپ اکاؤنٹ کی معلومات، آپکا موبائل نمبر ۔
☆واٹس ایپ اور بزنس اکاؤنٹ کی گفتگو
☆واٹس ایپ پیمینٹ کے ذریعے آپکی کاروباری جانکاری
☆آپکے جس موبائل میں واٹس ایپ انسٹال ہے اس موبائل/ڈیوائس کی بہت ساری جانکاری
مختصراً یہ کہ، ان جیسی معلومات جو آپ واٹس ایپ میں رکھتے وہ فیسبوک کے پاس بھی ہوں گی،اور یہ وہ ڈاٹا ہے جس کےمتعلق واٹس ایپ کی پالیسی کہہ رہی ہیکہ یہ فیسبوک کے پاس جائےگا اس کےعلاوہ غیر علانیہ طورپر آپکا کون کون سا ڈاٹا فیسبوک کن اہداف کے لیے استعمال کرےگا یہ ابھی کہا نہیں جاسکتا _
آئیے واٹس ایپ کی اس نئی پاليسي پر ماہرین کی آراء پر ایک نظر ڈالتے ہیں :
*سائبر معاملات کے ماہر وکیل پون دگّل کےمطابق:* واٹس ایپ میں نئی تبدیلیاں واضح طورپر عام صارفین کے نجی ڈاٹا پر نظر رکھنے کی کوشش ہے، یہ حکومتِ ہند کے لیے بیداری کا الارم ہےکہ وہ اپنے شہریوں کی نجی معلومات کے تحفظ کے لیے مضبوط ضابطہ اخلاق مرتب کرے_
*سائبر سیکوریٹی کے ماہر جتین جین کا کہنا ہے کہ:* واٹس اپ کی نئی پرائویسی پالیسی / رازداری ضابطہ یہ اس پلیٹ فارم پر نام نہاد تحفظِ رازداری کا خاتمہ ہے
*دنیا کی امیر ترین شخصیت اور قدآور کارپوریٹ ایلون مسک* نے واٹس ایپ کے متبادل استعمال کرنے کی ترغیب دی ہے
*سپریم کورٹ کے وکیل اور سائبر ساتھی کے بانی این۔ایس نپی نائی کے مطابق:* واٹس ایپ کی نئی پالیسی اس کے صارفین کی معلومات اور نجی حقوق پر خطرہ ہے _
*ٹکنالوجی فرم کے مینیجنگ پارٹنر سلمان وارث نے* واٹس اپ کی نئی پالیسی کو سنگین مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ جہاں قوانین کے خلاف ورزی ہے وہیں واٹس ایپ سوشل میڈیا مارکیٹ میں اپني غالب پوزیشن کا ناجائز استعمال کررہاہے _
*ٹکنالوجی کے ماہرین پر مشتمل Privacy International / رازداری کا عالمی فورم، ایک فورم ہے جو انٹرنیٹ صارفین کے نجی حقوق کے تحفظ کے لیے کام کرتاہے اس نے بھی واٹس ایپ کی نئی پالیسی کو غلط قرار دیا ہے،* اس ایجنسی کے مطابق:
WhatsApp's notification to accept its new policy or lose your account is wrong on so many levels
Forwarded from Deleted Account
Privacy International.
*مشہور پولیٹیکل سائنٹسٹ اور تھنکر ایان بریمر کےمطابق:* سوشل میڈیا کمپنیوں کے تجارتی طور طریقے کسی بھی صحتمند سماج کے بالکل خلاف ہیں _
*تکنیکی دنیا لندن کے مشہور جرنلزم کارنر ٹکنالوجی کرنچ کے سینئر ایڈیٹر مائیک بٹچر نے بھی واٹس ایپ کی نئی پالیسی پر سخت تنقیدیں کی ہیں اور صارفین کو واٹس ایپ سے ٹیلی گرام یا سِگنل کی جانب کوچ کرنے کا مشورہ دیا ہے*
راقم سطور ۲۰۱۲ سے واٹس ایپ کے ذریعے سوشل میڈیا پر اپنی بساط بھر کام کررہاہے، اتنے عرصے میں واٹس ایپ پر میں نے ایک ایسا نیٹورک تشکیل دینے کی کوشش کی جس کے ذریعے صحیح خبروں کی ترسیل ہوسکے، غلط پروپیگنڈوں کا تدارک ہوسکے، میں نے کئی دفعہ میڈیا ہاؤز کے ذریعے کام کرنے کی کوشش کی لیکن نہیں کرسکا تو سوشل میڈیا پر ایسی ٹیم بنائی جو میڈیا ہاؤز اور آئی۔ٹی سیل کے متبادل کے طورپر کام کرسکے، یہ تجربہ چھ سالوں سے زائد پر محیط اور کامیاب بھی رہاہے، اس دورانیے میں کئی دفعه ایسا ہوا کہ واٹس ایپ کےمتعلق مختلف قسم کی خبریں سامنے آئیں لیکن وہ ایسی نہیں ہوتی تھیں کہ ان کی وجہ سے اس ایپلیکیشن کو چھوڑنا پڑے، لیکن اب جو واٹس ایپ کی نئی پالیسی آئی ہے وہ کچھ نہیں بھی ہو تو ہر گاہک اور صارف کے حقوق کے خلاف یقینی طورپر ہے، ان کا ڈاٹا اور ان کی معلومات کسی اور کمپنی کے حوالے کرنا خیانت ہے، بڑی مصیبت یہ ہیکہ واٹس ایپ کو فیسبوک نے پہلے ہی خرید لیا ہے اور اب فیسبوک، واٹس ایپ صارفین کی پرائویسی کے خلاف ورزی کررہاہے تو ایک طرح سے اس کےپاس یہ دلیل بھی ہیکہ واٹس ایپ کمپنی بھی ہماری ہی ہے، بڑی کمپنیوں اور جدید ماڈرن ٹکنولوجی کی دنیا کے ان بکھیڑوں میں بالآخر استحصال عام انسان کا ہے، ان سے کیے گئے صارف معاہدہ کےخلاف ورزی تو ہے ہی، خطرہ اُس پوشیدہ جرائم پیشہ دنیا سے بھی ہے جو ٹکنولوجی کے اس دور میں سائبر ورلڈ کے نام سے جانی جاتی ہے،
جہاں تک انٹرنیٹ کی بات ہے تو اس کے بیشمار فوائد یقینًا ہیں لیکن انسانوں نے جب سے قدرتی جہانوں میں فطرت کی دنیا سے اوپر ایک نئی اور تکنیکی دنیا بنائی تب سے ایک نیا Criminal World بھی exist کرتاہے, یہ انٹرنیٹ کی دنیا میں cyber اور مختلف ناموں سے جانے جاتےہیں اس دنیا کے مجرم بڑے شاطر اور سفاک ہوتےہیں، سائبر کے جرائم پیشہ گروہوں کو انٹرنیٹ کی بڑی بڑی کمپنیوں سے معلومات اور ڈاٹا درکار ہوتا ہے، پھر وہ چھوٹے چھوٹے علاقوں میں ان مجرمین کو ملتاہے جس کی بنیاد پر وارداتیں انجام پاتی ہیں، اس کے علاوہ انٹرنیٹ اور سائبر سے متعلقہ جرائم پیشہ دنیا اور وسیع تر ہے، جس صورت انسان کو لرزا دیتی ہے، ان پر پھر کبھی تفصیلی بات کرینگے، خلاصہ یہ ہیکہ، تکنیکی دنیا نیٹ اور 4 جی کی دنیا ہرحال میں محفوظ نہیں ہے_
واٹس ایپ نے نئی پالیسی کو قبول کرنے کے لیے ۸ فروری تک کا وقت دیا ہے تب تک دیکھتے ہیں اگر عوامی دباؤ میں پالیسی واپس لے لے تو آپکی مرضی ہے، لیکن ہم تو ذہن بناچکے ہیں کہ اب جیسے ہم لوگوں نے ہی بحیثیت صارف واٹس ایپ کو اتنا ضروری بنایا ویسے ہی وہ سارے کام اگر سِگنل اور ٹیلی گرام سے ہوسکتےہیں اور زیاده محفوظ طورپر، تو پھر کیوں نا ٹیلی گرام کو ترجیح دی جائے اگر واٹس ایپ اپنے صارفین کی معلومات سے سمجھوتہ کرسکتا ہے تو ہم کیوں ایسا استحصال برداشت کریں، *خوش نصیب ہیں چائنا اور کیوبا والے جو اپنا علیحدہ میسنجر ایپ رکھتےہیں، اور خوش قسمت ہیں امریکا و یوروپ والے جو اپنی رازداری اور پرائویسی کے لیے حکومتوں کو جھکا دیتےہیں، بدقسمت ہیں ہندوستان کے شہری جن کے حکمران آج تک اپنے یہاں دنیا کے سب سے بڑے بازار میں اپنے خود کے ایپلیکیشنز کیا تیار کرتے انہوں نے اپنی عوام کی رازداری اور نجی معلومات کے تحفظ کے لیے Data Protection جیسا کوئی مضبوط قانون نافذالعمل نہیں کرایا ورنہ جو کچھ خیانت اور ڈکیتی سوشل میڈیا کے ایپلیکیشنز بھارتیوں کےساتھ کرتےہیں وہ غلطی سے بھی اگر یوروپ میں ہوجائے تو متعلقہ کمپنیوں کو لوگ گھسیٹ کے رکھ دیں کیونکہ عوام اور شہریوں کی نجی زندگی اور پرائیویٹ لائف میں جھانکنے سے بڑی بے عزتی اور کوئی نہیں ہے پتا نہیں کب ہندوستانی حکومتوں کو اس بےعزتی کا احساس ہوگا* بہرحال وقت آچکا ہے ایک نئے تجربے کا، ہم جلد ہی واٹس ایپ کو پوری طرح سے ڈیلیٹ کردینگے اور ٹیلی گرام پر موجود ہوں گے، سِگنل بھی اچھا متبادل ہے ٹیلی گرام بھی … ہم اچھے سے اس کی دعوت چلاکر اپنے احباب کو دوسری جگہ لاکر پھر واٹس ایپ ڈیلیٹ کردینگے ان شاءالله ۔ یقینًا سوفیصد ضمانت کسی کی بھی نہیں لی جاسکتی لیکن واٹس ایپ جو استحصال کرنے جارہاہے وہ اب تک ٹیلی گرام کی پالیسی میں نہیں ہے، اور سِگنل میں بھی نہیں، دیگر پرسنل گفتگو والوں کو Signal بہتر ہے، ٹیلی گرام بھی آپشن ہے لیکن تکنیکی طورپر سِگنل زیادہ بہتر بتایا جارہاہے … اور دوسرے کسی بھی سوشل میڈیا ایپ پر منتقل ہوتے وقت آپ واٹس ایپ سے اپنا اکاؤنٹ ڈیلیٹ ضرور کردیں تاکہ واٹس ایپ کے صارفین کی
*مشہور پولیٹیکل سائنٹسٹ اور تھنکر ایان بریمر کےمطابق:* سوشل میڈیا کمپنیوں کے تجارتی طور طریقے کسی بھی صحتمند سماج کے بالکل خلاف ہیں _
*تکنیکی دنیا لندن کے مشہور جرنلزم کارنر ٹکنالوجی کرنچ کے سینئر ایڈیٹر مائیک بٹچر نے بھی واٹس ایپ کی نئی پالیسی پر سخت تنقیدیں کی ہیں اور صارفین کو واٹس ایپ سے ٹیلی گرام یا سِگنل کی جانب کوچ کرنے کا مشورہ دیا ہے*
راقم سطور ۲۰۱۲ سے واٹس ایپ کے ذریعے سوشل میڈیا پر اپنی بساط بھر کام کررہاہے، اتنے عرصے میں واٹس ایپ پر میں نے ایک ایسا نیٹورک تشکیل دینے کی کوشش کی جس کے ذریعے صحیح خبروں کی ترسیل ہوسکے، غلط پروپیگنڈوں کا تدارک ہوسکے، میں نے کئی دفعہ میڈیا ہاؤز کے ذریعے کام کرنے کی کوشش کی لیکن نہیں کرسکا تو سوشل میڈیا پر ایسی ٹیم بنائی جو میڈیا ہاؤز اور آئی۔ٹی سیل کے متبادل کے طورپر کام کرسکے، یہ تجربہ چھ سالوں سے زائد پر محیط اور کامیاب بھی رہاہے، اس دورانیے میں کئی دفعه ایسا ہوا کہ واٹس ایپ کےمتعلق مختلف قسم کی خبریں سامنے آئیں لیکن وہ ایسی نہیں ہوتی تھیں کہ ان کی وجہ سے اس ایپلیکیشن کو چھوڑنا پڑے، لیکن اب جو واٹس ایپ کی نئی پالیسی آئی ہے وہ کچھ نہیں بھی ہو تو ہر گاہک اور صارف کے حقوق کے خلاف یقینی طورپر ہے، ان کا ڈاٹا اور ان کی معلومات کسی اور کمپنی کے حوالے کرنا خیانت ہے، بڑی مصیبت یہ ہیکہ واٹس ایپ کو فیسبوک نے پہلے ہی خرید لیا ہے اور اب فیسبوک، واٹس ایپ صارفین کی پرائویسی کے خلاف ورزی کررہاہے تو ایک طرح سے اس کےپاس یہ دلیل بھی ہیکہ واٹس ایپ کمپنی بھی ہماری ہی ہے، بڑی کمپنیوں اور جدید ماڈرن ٹکنولوجی کی دنیا کے ان بکھیڑوں میں بالآخر استحصال عام انسان کا ہے، ان سے کیے گئے صارف معاہدہ کےخلاف ورزی تو ہے ہی، خطرہ اُس پوشیدہ جرائم پیشہ دنیا سے بھی ہے جو ٹکنولوجی کے اس دور میں سائبر ورلڈ کے نام سے جانی جاتی ہے،
جہاں تک انٹرنیٹ کی بات ہے تو اس کے بیشمار فوائد یقینًا ہیں لیکن انسانوں نے جب سے قدرتی جہانوں میں فطرت کی دنیا سے اوپر ایک نئی اور تکنیکی دنیا بنائی تب سے ایک نیا Criminal World بھی exist کرتاہے, یہ انٹرنیٹ کی دنیا میں cyber اور مختلف ناموں سے جانے جاتےہیں اس دنیا کے مجرم بڑے شاطر اور سفاک ہوتےہیں، سائبر کے جرائم پیشہ گروہوں کو انٹرنیٹ کی بڑی بڑی کمپنیوں سے معلومات اور ڈاٹا درکار ہوتا ہے، پھر وہ چھوٹے چھوٹے علاقوں میں ان مجرمین کو ملتاہے جس کی بنیاد پر وارداتیں انجام پاتی ہیں، اس کے علاوہ انٹرنیٹ اور سائبر سے متعلقہ جرائم پیشہ دنیا اور وسیع تر ہے، جس صورت انسان کو لرزا دیتی ہے، ان پر پھر کبھی تفصیلی بات کرینگے، خلاصہ یہ ہیکہ، تکنیکی دنیا نیٹ اور 4 جی کی دنیا ہرحال میں محفوظ نہیں ہے_
واٹس ایپ نے نئی پالیسی کو قبول کرنے کے لیے ۸ فروری تک کا وقت دیا ہے تب تک دیکھتے ہیں اگر عوامی دباؤ میں پالیسی واپس لے لے تو آپکی مرضی ہے، لیکن ہم تو ذہن بناچکے ہیں کہ اب جیسے ہم لوگوں نے ہی بحیثیت صارف واٹس ایپ کو اتنا ضروری بنایا ویسے ہی وہ سارے کام اگر سِگنل اور ٹیلی گرام سے ہوسکتےہیں اور زیاده محفوظ طورپر، تو پھر کیوں نا ٹیلی گرام کو ترجیح دی جائے اگر واٹس ایپ اپنے صارفین کی معلومات سے سمجھوتہ کرسکتا ہے تو ہم کیوں ایسا استحصال برداشت کریں، *خوش نصیب ہیں چائنا اور کیوبا والے جو اپنا علیحدہ میسنجر ایپ رکھتےہیں، اور خوش قسمت ہیں امریکا و یوروپ والے جو اپنی رازداری اور پرائویسی کے لیے حکومتوں کو جھکا دیتےہیں، بدقسمت ہیں ہندوستان کے شہری جن کے حکمران آج تک اپنے یہاں دنیا کے سب سے بڑے بازار میں اپنے خود کے ایپلیکیشنز کیا تیار کرتے انہوں نے اپنی عوام کی رازداری اور نجی معلومات کے تحفظ کے لیے Data Protection جیسا کوئی مضبوط قانون نافذالعمل نہیں کرایا ورنہ جو کچھ خیانت اور ڈکیتی سوشل میڈیا کے ایپلیکیشنز بھارتیوں کےساتھ کرتےہیں وہ غلطی سے بھی اگر یوروپ میں ہوجائے تو متعلقہ کمپنیوں کو لوگ گھسیٹ کے رکھ دیں کیونکہ عوام اور شہریوں کی نجی زندگی اور پرائیویٹ لائف میں جھانکنے سے بڑی بے عزتی اور کوئی نہیں ہے پتا نہیں کب ہندوستانی حکومتوں کو اس بےعزتی کا احساس ہوگا* بہرحال وقت آچکا ہے ایک نئے تجربے کا، ہم جلد ہی واٹس ایپ کو پوری طرح سے ڈیلیٹ کردینگے اور ٹیلی گرام پر موجود ہوں گے، سِگنل بھی اچھا متبادل ہے ٹیلی گرام بھی … ہم اچھے سے اس کی دعوت چلاکر اپنے احباب کو دوسری جگہ لاکر پھر واٹس ایپ ڈیلیٹ کردینگے ان شاءالله ۔ یقینًا سوفیصد ضمانت کسی کی بھی نہیں لی جاسکتی لیکن واٹس ایپ جو استحصال کرنے جارہاہے وہ اب تک ٹیلی گرام کی پالیسی میں نہیں ہے، اور سِگنل میں بھی نہیں، دیگر پرسنل گفتگو والوں کو Signal بہتر ہے، ٹیلی گرام بھی آپشن ہے لیکن تکنیکی طورپر سِگنل زیادہ بہتر بتایا جارہاہے … اور دوسرے کسی بھی سوشل میڈیا ایپ پر منتقل ہوتے وقت آپ واٹس ایپ سے اپنا اکاؤنٹ ڈیلیٹ ضرور کردیں تاکہ واٹس ایپ کے صارفین کی
❤1
Forwarded from Deleted Account
تعداد کم ہوسکے _
✍🏻: *سمیــع اللّٰہ خان*
۸ جنوری بروز جمعہ ۲۰۲۱
✍🏻: *سمیــع اللّٰہ خان*
۸ جنوری بروز جمعہ ۲۰۲۱
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
.
*یہ WhatsApp کی داداگیری ہے، جس سے بچنا ضروری ہے*
از: *مصباحی گلاب، فیض پور سیتامڑھی*
*٨ جنوری٢٠٢١ء*
*ممکن ہے ذیل کی خبریں آپ تک پہنچ چکی ہوں، اگر نہیں تو غور سے پڑھیں۔ واٹس ایپ کی نئی شرطیں اور اس کی نئی پالیسیاں ٨ فروری سے نافذ ہوں گی، اس ایپ نے فیسبوک کے ساتھ ڈیٹا شیئرنگ کو لازم قرار دیا ہے، یوں تو تقریباً سبھی Apps کے پاس ہمارے اور آپ کے بھیجے ہوۓ میسج، تصاویر اور تحریرات محفوظ ہوتے ہیں، مگر وہ Apps ان کو کہیں شئر نہیں کر سکتے، اس لیے کہ انھوں نے ان سب چیزوں کے چھپانے اور محض اپنے پاس محفوظ رکھنے کا وعدہ کیا ہے، اگر وہ ان میں سے ہماری آپ کی کسی چیز کو بغیر اجازت شئر کرتے ہیں، تو ان پر مقدمہ درج ہوسکتا ہے، اور اس کا انھیں خمیازہ بھگتنا ہوگا، مگر اب واٹس ایپ کا کہنا ہے کہ وہ آپ کے تمام میسج اور تمام تصاویر کہیں بھی کبھی شئر کر سکتا ہے، ہوسکتا ہے آپ کے WhatsApp پر ایک میسج آچکا ہو، نہیں تو اب آۓ گا، میرے پاس آچکا ہے، اس میں دو آپشن ہوں گے، ایک Agree یعنی رضامندی کا، اور دوسرا Not Now یعنی ابھی نہیں ہم سوچ کر آپ کو بتائیں گے۔ایگری کریں گے تو آپ کا واٹس ایپ پہلے کی طرح کام کرے گا ورنہ آئندہ آٹھ فروری کو بند ہوجاۓ گا۔ Agree رضامندی کا مطلب ہے کہ آپ WhatsApp کی تمام شرطیں منظور کر رہے ہیں، تو اگر آپ کا کوئی میسج یا آپ کی کوئی تصویر واٹس ایپ کسی کو شئر کرتا ہے تو آپ، آپ کے گھر کا کوئی فرد اس پر مقدمہ درج نہیں کرسکتا ، کیوں، اس لیے کہ آپ نے Agree کا بٹن کلک کر کے اپنی رضامندی ظاہر کردی ہے۔ اگر آپ نے اپنی ایگری رضامندی نہیں دی تو 8 فروری کو آپ کا واٹس ایپ بند ہو جاۓ گا۔ یہ واٹس ایپ کے نۓ ہدایات اور نئی شرطیں ہیں۔ تفصیل کے لیے مشہور نیوز چینل NDTV کی کل 9 بجے کی رپورٹ دیکھیں۔ میری نگاہ میں فی الحال Telegram یا Signal محفوظ و مامون Apps ہیں۔ ڈاکٹر سید فضل اللہ چشتی نے بھی ان ایپس کے استعمال کا ذکر فرمایا ہے۔ بر وقت ہم نے آپ تک یہ معلومات پہنچا دی ہیں۔ ہم اپنے احباب سے درخواست کرتے ہیں کہ ٹیلیگرام ڈاؤن لوڈ کر لیں، اگر واٹس ایپ نے اپنی شرطیں واپس نہیں لیں، تو کچھ دن بعد ٹیلیگرام پر گفتگو ہوگی ، ان شاء اللہ، اور اگر آپ کے واٹس ایپ میں کوئی تحریر یا کوئی ایسی چیز جس کی آپ کو ضرورت ہو،اسے دوسری جگہ محفوظ کر لیں ورنہ بعد میں خدا نخواستہ کف افسوس ملنا پڑے گا*
*اِنِّیْ لَكَ مِنَ النّٰصِحِیْنَ* بیشک میں آپ کے خیرخواہوں میں سے ہوں ۔
*یہ WhatsApp کی داداگیری ہے، جس سے بچنا ضروری ہے*
از: *مصباحی گلاب، فیض پور سیتامڑھی*
*٨ جنوری٢٠٢١ء*
*ممکن ہے ذیل کی خبریں آپ تک پہنچ چکی ہوں، اگر نہیں تو غور سے پڑھیں۔ واٹس ایپ کی نئی شرطیں اور اس کی نئی پالیسیاں ٨ فروری سے نافذ ہوں گی، اس ایپ نے فیسبوک کے ساتھ ڈیٹا شیئرنگ کو لازم قرار دیا ہے، یوں تو تقریباً سبھی Apps کے پاس ہمارے اور آپ کے بھیجے ہوۓ میسج، تصاویر اور تحریرات محفوظ ہوتے ہیں، مگر وہ Apps ان کو کہیں شئر نہیں کر سکتے، اس لیے کہ انھوں نے ان سب چیزوں کے چھپانے اور محض اپنے پاس محفوظ رکھنے کا وعدہ کیا ہے، اگر وہ ان میں سے ہماری آپ کی کسی چیز کو بغیر اجازت شئر کرتے ہیں، تو ان پر مقدمہ درج ہوسکتا ہے، اور اس کا انھیں خمیازہ بھگتنا ہوگا، مگر اب واٹس ایپ کا کہنا ہے کہ وہ آپ کے تمام میسج اور تمام تصاویر کہیں بھی کبھی شئر کر سکتا ہے، ہوسکتا ہے آپ کے WhatsApp پر ایک میسج آچکا ہو، نہیں تو اب آۓ گا، میرے پاس آچکا ہے، اس میں دو آپشن ہوں گے، ایک Agree یعنی رضامندی کا، اور دوسرا Not Now یعنی ابھی نہیں ہم سوچ کر آپ کو بتائیں گے۔ایگری کریں گے تو آپ کا واٹس ایپ پہلے کی طرح کام کرے گا ورنہ آئندہ آٹھ فروری کو بند ہوجاۓ گا۔ Agree رضامندی کا مطلب ہے کہ آپ WhatsApp کی تمام شرطیں منظور کر رہے ہیں، تو اگر آپ کا کوئی میسج یا آپ کی کوئی تصویر واٹس ایپ کسی کو شئر کرتا ہے تو آپ، آپ کے گھر کا کوئی فرد اس پر مقدمہ درج نہیں کرسکتا ، کیوں، اس لیے کہ آپ نے Agree کا بٹن کلک کر کے اپنی رضامندی ظاہر کردی ہے۔ اگر آپ نے اپنی ایگری رضامندی نہیں دی تو 8 فروری کو آپ کا واٹس ایپ بند ہو جاۓ گا۔ یہ واٹس ایپ کے نۓ ہدایات اور نئی شرطیں ہیں۔ تفصیل کے لیے مشہور نیوز چینل NDTV کی کل 9 بجے کی رپورٹ دیکھیں۔ میری نگاہ میں فی الحال Telegram یا Signal محفوظ و مامون Apps ہیں۔ ڈاکٹر سید فضل اللہ چشتی نے بھی ان ایپس کے استعمال کا ذکر فرمایا ہے۔ بر وقت ہم نے آپ تک یہ معلومات پہنچا دی ہیں۔ ہم اپنے احباب سے درخواست کرتے ہیں کہ ٹیلیگرام ڈاؤن لوڈ کر لیں، اگر واٹس ایپ نے اپنی شرطیں واپس نہیں لیں، تو کچھ دن بعد ٹیلیگرام پر گفتگو ہوگی ، ان شاء اللہ، اور اگر آپ کے واٹس ایپ میں کوئی تحریر یا کوئی ایسی چیز جس کی آپ کو ضرورت ہو،اسے دوسری جگہ محفوظ کر لیں ورنہ بعد میں خدا نخواستہ کف افسوس ملنا پڑے گا*
*اِنِّیْ لَكَ مِنَ النّٰصِحِیْنَ* بیشک میں آپ کے خیرخواہوں میں سے ہوں ۔
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
واٹس ایپ کو الوداع کہنے کا وقت آگیا سوشل میڈیا پر کیا بدلنے جارہاہے اور واٹس ایپ کےعلاوہ متبادل حل کیا ہے؟ - Waraqu E Taza روزنامہ ورق تازہ
via waraquetaza.com
via waraquetaza.com
Telegraph
واٹس ایپ کو الوداع کہنے کا وقت آگیا سوشل میڈیا پر کیا بدلنے جارہاہے اور واٹس ایپ کےعلاوہ متبادل حل کیا ہے؟ - Waraqu E Taza روزنامہ…
سوشل میڈیا پر بہت ہی مصروف ایپلیکیشن واٹس ایپ اب ایسی پالیسی اختیار کرنے جارہاہے جس کے ذریعے وہ اپنے واٹس ایپ استعمال کرنے والے گاہکوں کی معلومات فیسبوک کمپنی کو دیا کرےگا, اس پالیسی کے آتے ہی بڑے پیمانے پر صارفین واٹس ایپ سے ناراضگی کا اظہار کررہےہیں، ماہرین…
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
واٹس ایپ کے نئے قوانین
WhatsApp New Rools
WhatsApp New Rools
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
روشن مستقبل کی اہم پیش کش
یوسف مصباحی، مندسور
ہمارے معاشرے میں عموماً خاص و عام دانستہ، غیر دانستہ طور پر بیٹیوں کو اپنی جائداد محروم رکھتے ہوئے چلے آ رہے ہیں،
قرآن وسنت سے بیٹیوں کا حق متعین ہے، جبکہ عدم ادائیگی حق العبد اور عذاب الٰہی میں گرفتار ہونے کا سبب ہے،
باوجود اس کے معاشرے میں دینی رہنمائی کرنے والے اہل علم ، دینی و سماجی کاموں میں بڑھ چڑھ حصہ لینے والے حاجی اور نمازی صاحبان بھی اس اہم حق کی ادائیگی پر توجہ نہیں دیتے ،
بوقت نکاح برداری اور سماج کو بڑی بڑی عمدہ دعوتیں کھلا کر، رسمی دہیز کا سامان دیکر یہ سمجھا جاتا ہے کہ ہم نے بیٹی کا حق ادا کر دیا،
غیروں کی تہذیب *پروش پردھان* والی ذہنیت سے متاثر مسلم معاشرے میں امیروں کو جائداد کا بٹوارہ ضرور بھاری لگے گا لیکن آخرت کی منزلیں آسان ہوں گی۔
اس موضوع پر مولانا حافظ بلال احمد نظامی کی عمدہ تحریر ہے،
اللہ تعالیٰ اور زور قلم زیادہ کرے
روشن مستقبل کی اس اہم پیشکش کو قبول فرمائے۔
آمین
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/843936802843506/
یوسف مصباحی، مندسور
ہمارے معاشرے میں عموماً خاص و عام دانستہ، غیر دانستہ طور پر بیٹیوں کو اپنی جائداد محروم رکھتے ہوئے چلے آ رہے ہیں،
قرآن وسنت سے بیٹیوں کا حق متعین ہے، جبکہ عدم ادائیگی حق العبد اور عذاب الٰہی میں گرفتار ہونے کا سبب ہے،
باوجود اس کے معاشرے میں دینی رہنمائی کرنے والے اہل علم ، دینی و سماجی کاموں میں بڑھ چڑھ حصہ لینے والے حاجی اور نمازی صاحبان بھی اس اہم حق کی ادائیگی پر توجہ نہیں دیتے ،
بوقت نکاح برداری اور سماج کو بڑی بڑی عمدہ دعوتیں کھلا کر، رسمی دہیز کا سامان دیکر یہ سمجھا جاتا ہے کہ ہم نے بیٹی کا حق ادا کر دیا،
غیروں کی تہذیب *پروش پردھان* والی ذہنیت سے متاثر مسلم معاشرے میں امیروں کو جائداد کا بٹوارہ ضرور بھاری لگے گا لیکن آخرت کی منزلیں آسان ہوں گی۔
اس موضوع پر مولانا حافظ بلال احمد نظامی کی عمدہ تحریر ہے،
اللہ تعالیٰ اور زور قلم زیادہ کرے
روشن مستقبل کی اس اہم پیشکش کو قبول فرمائے۔
آمین
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/843936802843506/
Facebook
Log in to Facebook
Log in to Facebook to start sharing and connecting with your friends, family and people you know.
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
#چاٹ_کے_ٹھیلوں_پر_تہذیب_داروں_کے_میلے!
غلام مصطفےٰ نعیمی
مدیر اعلیٰ سواد اعظم دہلی
دلّی کی چاٹ اپنے ذائقے اور تیکھے مسالوں کی بنا پر بڑی مشہور ہے۔شادی بیاہ کا موقع ہو یا عقیقے/منگنی کی تقریب ، اگر کھانے میں چاٹ شامل ہے تو کیا مرد کیا عورت، چاٹ پر ایسے ٹوٹ پڑتے ہیں مانو چاٹ نہ ہو "انمول نعمت" مل گئی ہو۔حالانکہ اسلام میں نماز روزے کی طرح کھانے پینے کے آداب بھی بڑی تفصیل کے ساتھ بیان کئے گئے ہیں۔کسی شخص کی خوبیوں/خامیوں کا امتحان کھانے سے بھی کیا جاتا ہے۔
کھانے پینے کا شعور انسان کی اصل عادت کا پتا دیتا ہے،اس کا عمر یا علم سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ایک تقریب میں ہم نے ایک صاحب کو دیکھا کہ انہوں نے گول گَپّے دیکھ کر پوری پلیٹ بھرلی۔ابھی گول گَپّے اپنے انجام کو بھی نہیں پہنچے تھے کہ صاحب بہادر کی نگاہ دَہی بَھلّوں پر جا ٹکی۔بس پھر کیا تھا باقی ماندہ گول گَپّوں کو میز کے نیچے کھسکایا اور دَہی بھلّے کی تلاش میں نکل پڑے۔پیٹ سے پہلے مَن کی ہوس نے یہاں بھی جلوہ دکھایا اور پلیٹ میں نام کو بھی جگہ نہیں بچی۔دہی بَھلّے سے دو دو ہاتھ ہو ہی رہے تھے کہ ایک بار پھر چاؤمِین کی بھینی خوشبو سے مَن ڈول گیا۔آدھی بھری ہوئی پلیٹ چپکے سے سائڈ میں لگائی اور چاؤمین کی زلفوں کے اسیر ہوگئے۔کھانے پینے کی تقریبات میں اکثر ایسے تماشے دیکھنے میں آتے ہیں۔اس تماشے میں عورتیں بھی مردوں کے شانہ بشانہ "جہاد" کرتی ہیں اور اکثر بازی بھی مار لے جاتی ہیں۔یوں بھی عورتوں کو چاٹ پکوڑوں کا شوق مردوں سے کچھ زیادہ ہی ہوتا ہے۔شوق کا ہونا بری بات نہیں شوق پورا کرنے کے لیے اپنی تہذیب اور روایات کو پامال کرنا انتہائی بری بات ہے۔شادی بیاہ کے علاوہ چاٹ پکوڑوں کے ٹھیلوں/خوانچوں پر برقع پوش عورتوں کی دیوانہ وار بھیڑ جہاں اُن عورتوں کی ذاتی عادت کا پتا دیتی ہے، وہیں ان کے باپ/بھائی اور شوہروں کی حد درجہ لاپرواہی کا ثبوت بھی فراہم کرتی ہے۔
عام طور پر چاٹ پکوڑے بیچنے والوں میں بڑی تعداد ان لوگوں کی ہوتی ہے۔جو طہارت وپاکی میں یقین ہی نہیں رکھتے۔یہ بھی دیکھنے میں آتا ہے کہ کچھ لوگ ظاہری صفائی ستھرائی سے بھی کوسوں دور ہوتے ہیں۔بڑے اور گندے ناخن والے چاٹ فروش انہیں ہاتھوں سے پکوڑیاں بناتے ہیں۔گول گپّے میں آلو/مسالہ ڈالتے ہیں، اسی ہاتھ سے مسالے دار پانی اور کھٹائی/مٹھائی بھرتے ہیں۔اس دوران اُن کا ہاتھ کھٹائی اور پانی میں اچھا خاصا ڈوب جاتا ہے۔جبکہ بے غسل/بے وضو شخص کا ناخن یا پَورا بھی پانی میں ڈوب جائے تو وہ پانی مکروہ ہوجاتا ہے۔یہ بھی دیکھنے میں آتا ہے کہ پانی کے برتن میں کسی کی انگلی وغیرہ پڑ جائے تو لوگ اس پانی کو پھینک دیتے ہیں۔مگر چاٹ فروش بھیگے ہوئے ہاتھ سے ہی سب کو گول گپّے کھلاتا ہے اور لوگ چٹخارے لے لیکر خوب کھاتے ہیں۔اتنے سے دل نہیں بھرتا تو بعد میں مسالے دار پانی کا مطالبہ بھی کرتے ہیں۔چاٹ فروش اپنے گندے اور بھیگے ہوئے ہاتھ سے گلاس میں پانی بھرتے ہیں اور یار لوگ آب حیات سمجھ کر بڑی محبت سے پی جاتے ہیں۔حالانکہ یہ وہی "خود دار اور مہذب" لوگ ہیں جو ولیمے میں صاف پلیٹ نہ ملنے پر بم کی طرح پھٹ پڑتے ہیں۔
کس قدر گندی پلیٹ ہے!
کھلانا نہیں آتا تو بلاتے کیوں ہو؟
صفائی ستھرائی کا کچھ تو خیال رکھنا چاہیے!
نکاح/ولیمے اور منگنی وغیرہ میں ایسے ڈائلاگ بولنے والے زیادہ تر لوگ وہی "مَہا پُرُش" ہوتے ہیں جو چاٹ کے ٹھیلوں پر گندے ہاتھ والے گول گپّے بڑے شوق سے اڑاتے ہیں۔اس وقت انہیں صفائی ستھرائی کا بالکل بھی خیال نہیں آتا مگر اپنے بھائی کی تقریب میں ایسے لوگ بڑے مہذب اور نفاست پسند ہوجاتے ہیں۔
آئے دن کا مشاہدہ ہے کہ چاٹ پکوڑوں کی دکانوں/ٹھیلوں پر برقع پوش عورتوں اور مسلم لڑکیوں کی بڑی تعداد ہوتی ہے۔زمانے بھر سے پردہ کرنے والی خواتین ان ٹھیلے/خوانچے والے کے سامنے پورا چہرہ کھول کر کھڑی ہوتی/بیٹھتی ہیں۔رشتہ داروں تک سے بولنے میں جھجکنے والی لڑکیاں ان سے بڑی خوش اخلاقی سے بات کرتی ہیں۔گردن اس وقت شرم سے جھک جاتی ہے جب رمضان جیسے مبارک مہینے میں بھی آپ کو ٹھیلوں پر برقع پوش عورتیں نظر آتی ہیں۔اگر ان عورتوں کے باپ/بھائی اور شوہر حساس اور ذمہ دار ہوتے تو کیا یہ عورتیں/لڑکیاں اس طرح ٹھیلوں پر نظر آسکتی تھیں؟
تہذیب ہی باقی ہے نہ اب شرم وحیا کچھ
کس درجہ اب انسان یہ بے باک ہوا ہے
ان خراب نظاروں سے بچنے کے لیے کچھ چیزوں کا خیال رکھا جانا بے حد ضروری ہے۔
🔹سب سے بہتر تو یہ ہوگا کہ ایسی چیزیں گھر پر ہی بنالی جائیں۔
🔹بنانا ممکن نہ ہو تو کسی باطہارت اور صاف ستھرے دکان دار سے پیک کرا کر گھر لے جائیں۔
🔹ایام رمضان میں سختی سے باہر کھانے پینے پر روک لگائی جائے۔
غلام مصطفےٰ نعیمی
مدیر اعلیٰ سواد اعظم دہلی
دلّی کی چاٹ اپنے ذائقے اور تیکھے مسالوں کی بنا پر بڑی مشہور ہے۔شادی بیاہ کا موقع ہو یا عقیقے/منگنی کی تقریب ، اگر کھانے میں چاٹ شامل ہے تو کیا مرد کیا عورت، چاٹ پر ایسے ٹوٹ پڑتے ہیں مانو چاٹ نہ ہو "انمول نعمت" مل گئی ہو۔حالانکہ اسلام میں نماز روزے کی طرح کھانے پینے کے آداب بھی بڑی تفصیل کے ساتھ بیان کئے گئے ہیں۔کسی شخص کی خوبیوں/خامیوں کا امتحان کھانے سے بھی کیا جاتا ہے۔
کھانے پینے کا شعور انسان کی اصل عادت کا پتا دیتا ہے،اس کا عمر یا علم سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ایک تقریب میں ہم نے ایک صاحب کو دیکھا کہ انہوں نے گول گَپّے دیکھ کر پوری پلیٹ بھرلی۔ابھی گول گَپّے اپنے انجام کو بھی نہیں پہنچے تھے کہ صاحب بہادر کی نگاہ دَہی بَھلّوں پر جا ٹکی۔بس پھر کیا تھا باقی ماندہ گول گَپّوں کو میز کے نیچے کھسکایا اور دَہی بھلّے کی تلاش میں نکل پڑے۔پیٹ سے پہلے مَن کی ہوس نے یہاں بھی جلوہ دکھایا اور پلیٹ میں نام کو بھی جگہ نہیں بچی۔دہی بَھلّے سے دو دو ہاتھ ہو ہی رہے تھے کہ ایک بار پھر چاؤمِین کی بھینی خوشبو سے مَن ڈول گیا۔آدھی بھری ہوئی پلیٹ چپکے سے سائڈ میں لگائی اور چاؤمین کی زلفوں کے اسیر ہوگئے۔کھانے پینے کی تقریبات میں اکثر ایسے تماشے دیکھنے میں آتے ہیں۔اس تماشے میں عورتیں بھی مردوں کے شانہ بشانہ "جہاد" کرتی ہیں اور اکثر بازی بھی مار لے جاتی ہیں۔یوں بھی عورتوں کو چاٹ پکوڑوں کا شوق مردوں سے کچھ زیادہ ہی ہوتا ہے۔شوق کا ہونا بری بات نہیں شوق پورا کرنے کے لیے اپنی تہذیب اور روایات کو پامال کرنا انتہائی بری بات ہے۔شادی بیاہ کے علاوہ چاٹ پکوڑوں کے ٹھیلوں/خوانچوں پر برقع پوش عورتوں کی دیوانہ وار بھیڑ جہاں اُن عورتوں کی ذاتی عادت کا پتا دیتی ہے، وہیں ان کے باپ/بھائی اور شوہروں کی حد درجہ لاپرواہی کا ثبوت بھی فراہم کرتی ہے۔
عام طور پر چاٹ پکوڑے بیچنے والوں میں بڑی تعداد ان لوگوں کی ہوتی ہے۔جو طہارت وپاکی میں یقین ہی نہیں رکھتے۔یہ بھی دیکھنے میں آتا ہے کہ کچھ لوگ ظاہری صفائی ستھرائی سے بھی کوسوں دور ہوتے ہیں۔بڑے اور گندے ناخن والے چاٹ فروش انہیں ہاتھوں سے پکوڑیاں بناتے ہیں۔گول گپّے میں آلو/مسالہ ڈالتے ہیں، اسی ہاتھ سے مسالے دار پانی اور کھٹائی/مٹھائی بھرتے ہیں۔اس دوران اُن کا ہاتھ کھٹائی اور پانی میں اچھا خاصا ڈوب جاتا ہے۔جبکہ بے غسل/بے وضو شخص کا ناخن یا پَورا بھی پانی میں ڈوب جائے تو وہ پانی مکروہ ہوجاتا ہے۔یہ بھی دیکھنے میں آتا ہے کہ پانی کے برتن میں کسی کی انگلی وغیرہ پڑ جائے تو لوگ اس پانی کو پھینک دیتے ہیں۔مگر چاٹ فروش بھیگے ہوئے ہاتھ سے ہی سب کو گول گپّے کھلاتا ہے اور لوگ چٹخارے لے لیکر خوب کھاتے ہیں۔اتنے سے دل نہیں بھرتا تو بعد میں مسالے دار پانی کا مطالبہ بھی کرتے ہیں۔چاٹ فروش اپنے گندے اور بھیگے ہوئے ہاتھ سے گلاس میں پانی بھرتے ہیں اور یار لوگ آب حیات سمجھ کر بڑی محبت سے پی جاتے ہیں۔حالانکہ یہ وہی "خود دار اور مہذب" لوگ ہیں جو ولیمے میں صاف پلیٹ نہ ملنے پر بم کی طرح پھٹ پڑتے ہیں۔
کس قدر گندی پلیٹ ہے!
کھلانا نہیں آتا تو بلاتے کیوں ہو؟
صفائی ستھرائی کا کچھ تو خیال رکھنا چاہیے!
نکاح/ولیمے اور منگنی وغیرہ میں ایسے ڈائلاگ بولنے والے زیادہ تر لوگ وہی "مَہا پُرُش" ہوتے ہیں جو چاٹ کے ٹھیلوں پر گندے ہاتھ والے گول گپّے بڑے شوق سے اڑاتے ہیں۔اس وقت انہیں صفائی ستھرائی کا بالکل بھی خیال نہیں آتا مگر اپنے بھائی کی تقریب میں ایسے لوگ بڑے مہذب اور نفاست پسند ہوجاتے ہیں۔
آئے دن کا مشاہدہ ہے کہ چاٹ پکوڑوں کی دکانوں/ٹھیلوں پر برقع پوش عورتوں اور مسلم لڑکیوں کی بڑی تعداد ہوتی ہے۔زمانے بھر سے پردہ کرنے والی خواتین ان ٹھیلے/خوانچے والے کے سامنے پورا چہرہ کھول کر کھڑی ہوتی/بیٹھتی ہیں۔رشتہ داروں تک سے بولنے میں جھجکنے والی لڑکیاں ان سے بڑی خوش اخلاقی سے بات کرتی ہیں۔گردن اس وقت شرم سے جھک جاتی ہے جب رمضان جیسے مبارک مہینے میں بھی آپ کو ٹھیلوں پر برقع پوش عورتیں نظر آتی ہیں۔اگر ان عورتوں کے باپ/بھائی اور شوہر حساس اور ذمہ دار ہوتے تو کیا یہ عورتیں/لڑکیاں اس طرح ٹھیلوں پر نظر آسکتی تھیں؟
تہذیب ہی باقی ہے نہ اب شرم وحیا کچھ
کس درجہ اب انسان یہ بے باک ہوا ہے
ان خراب نظاروں سے بچنے کے لیے کچھ چیزوں کا خیال رکھا جانا بے حد ضروری ہے۔
🔹سب سے بہتر تو یہ ہوگا کہ ایسی چیزیں گھر پر ہی بنالی جائیں۔
🔹بنانا ممکن نہ ہو تو کسی باطہارت اور صاف ستھرے دکان دار سے پیک کرا کر گھر لے جائیں۔
🔹ایام رمضان میں سختی سے باہر کھانے پینے پر روک لگائی جائے۔
🔹گھر والوں کو کھانے پینے، اٹھنے بیٹھنے اور گفتگو کے آداب لازمی سکھائے جائیں۔
🔹بیوی/بیٹی اور بہنوں کو شرم وحیا کی تعلیم وتلقین کریں۔
🔹ہفتے میں کسی ایک دن بچوں تربیت کا اہتمام ضرور کریں۔
🔹علماے کرام ایسے موضوعات پر خطبات جمعہ میں ضرور روشنی ڈالیں۔
ہوسکتا ہے کہ بعض لوگوں کے نزدیک یہ باتیں اتنی اہم نہ ہوں مگر سنجیدگی سے غور کریں تو یہ باتیں سماجی طور پر کسی قوم کے مزاج اور اس کے رویے کی سب سے بڑی پہچان ہوتی ہیں۔اچھا معاشرہ اپنی پہچان اُن کاموں/عادتوں سے کراتا ہے جو اسے سماجی طور پر عزت دلائیں۔اس لیے وہ کام کریں جو آپ اور آپ کے سماج کی عزت ونیک نامی بڑھائیں ان کاموں سے دور رہیں جن سے آپ کی عزت و وقار پر داغ لگے۔
23 جمادی الاول 1442ھ
8 جنوری 2021 بروز جمعہ
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/844133119490541/
🔹بیوی/بیٹی اور بہنوں کو شرم وحیا کی تعلیم وتلقین کریں۔
🔹ہفتے میں کسی ایک دن بچوں تربیت کا اہتمام ضرور کریں۔
🔹علماے کرام ایسے موضوعات پر خطبات جمعہ میں ضرور روشنی ڈالیں۔
ہوسکتا ہے کہ بعض لوگوں کے نزدیک یہ باتیں اتنی اہم نہ ہوں مگر سنجیدگی سے غور کریں تو یہ باتیں سماجی طور پر کسی قوم کے مزاج اور اس کے رویے کی سب سے بڑی پہچان ہوتی ہیں۔اچھا معاشرہ اپنی پہچان اُن کاموں/عادتوں سے کراتا ہے جو اسے سماجی طور پر عزت دلائیں۔اس لیے وہ کام کریں جو آپ اور آپ کے سماج کی عزت ونیک نامی بڑھائیں ان کاموں سے دور رہیں جن سے آپ کی عزت و وقار پر داغ لگے۔
23 جمادی الاول 1442ھ
8 جنوری 2021 بروز جمعہ
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/844133119490541/
Facebook
Log in to Facebook
Log in to Facebook to start sharing and connecting with your friends, family and people you know.
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM