Forwarded from Abde Mustafa Organisation
पीछे इस इमाम के कहना कुफ्र है!
क़ुत्बे मदीना, हज़रते शैख ज़िआउद्दीन मदनी रहिमहुल्लाहू त'आला से नमाज़ के बारे में सवाल किया जाता के वहाबी इमाम के पीछे पढ़ी जाने वाली नमाज़ हो जायेगी या नहीं?
आप फरमाते की अगर इमाम गुस्ताखे रसूल हो और मुक़्तदी को ये बात अच्छी तरह पता हो तो मेरे नज़दीक (इसके बावजूद) "पीछे इस इमाम के" कहना कुफ्र है।
ये भी फरमाया करते की हिजाज़े मुक़द्दस में नमाज़ की इमामत का मस'अला नया नहीं है बल्कि मुसलमानो पर नमाज़ की तंगी का ये चौथा दौर है।
पहला दौर वो था जब अमीरुल मोमिनीन हज़रते सय्यिदूना उस्माने गनी रदिअल्लाहो त'आला अन्हो को शहीद किया गया तो अक्सर सहाबा ने बल्वाइयो के मुक़र्रर कर्दा इमाम के पीछे नमाज़ नहीं पढ़ी उस वक़्त तक की हज़रते अली का ज़ुहूर हुआ।
दुसरा दौर यज़ीद मलऊन का आया जिसने इमामे आली मक़ाम को बड़ी बेदर्दी से ज़िबह करवाया, उस वक़्त भी अक्सर सहाबा और ताबयिन ने उनके मुक़र्रर कर्दा इमाम के पीछे नमाज़ पढ़ने को बुरा जाना।
तीसरा दौर हज्जाज बिन युसुफ का था, वो बड़ा ज़ालिम था, रसूलुल्लाह के सहाबा को अपने सामने ज़िबह करवाने से भी गुरेज़ ना किया तो उस वक़्त भी हुकुमत के मुक़र्रर कर्दा इमामो के पीछे अक्सर ने नमाज़ ना पढ़ी।
वो लोग ना अक़ीदे के गंदे थे ना अमल के, वो ज़ालिमो और फासिक़ो के मुक़र्रर कर्दा थे और वो किसी को मज़बूर भी नहीं करते थे जो उन के पीछे नमाज़ पढ़े और जो ना पढ़े उस से किसी क़िस्म का मुवाखज़ा ना करते।
और अब ये चौथा दौर नजदीयो का है, ये आमाल के भी बुरे और अक़ीदे के भी गंदे हैं, और ये मजबूर भी करते हैं की हमारे मुक़र्रर कर्दा इमाम के पीछे नमाज़ पढ़ो और जो इन के पीछे नमाज़ नहीं पढ़ते उन्हें तरह तरह से तंग करते हैं हालाँकि नमाज़ का ताल्लुक़ दिल से है, अगर किसी का दिल ही इमाम की तरफ़ से मुतमईन नहीं तो उसकी नमाज़ इमाम के पीछे कैसे हो जायेगी?
जो उनके अक़ाइद पर इत्तेला रखते हैं उनकी नमाज़ तो नहीं होगी और जिनको उनके अक़ाइद की खबर नहीं वो अल्लाह और रसूल की मुहब्बत में के ये काबा -ए- मुअज़्ज़मा और मस्जिदे नबवी शरीफ़ के इमाम हैं, इस अक़ीदत में उनके पीछे नमाज़ पढ़ लेते हैं, अल्लाह त'आला से उम्मीद है की उनकी नमाज़ें क़बूल फरमा लेगा, वही क़ादिर और क़बूल फरमाने वाला है।
(سیدی ضیاءالدین احمد قادری رحمہ اللہ تعالی، مرتب مولانا محمد عارف ضیائی)
अब्दे मुस्तफ़ा ऑफिशियल
क़ुत्बे मदीना, हज़रते शैख ज़िआउद्दीन मदनी रहिमहुल्लाहू त'आला से नमाज़ के बारे में सवाल किया जाता के वहाबी इमाम के पीछे पढ़ी जाने वाली नमाज़ हो जायेगी या नहीं?
आप फरमाते की अगर इमाम गुस्ताखे रसूल हो और मुक़्तदी को ये बात अच्छी तरह पता हो तो मेरे नज़दीक (इसके बावजूद) "पीछे इस इमाम के" कहना कुफ्र है।
ये भी फरमाया करते की हिजाज़े मुक़द्दस में नमाज़ की इमामत का मस'अला नया नहीं है बल्कि मुसलमानो पर नमाज़ की तंगी का ये चौथा दौर है।
पहला दौर वो था जब अमीरुल मोमिनीन हज़रते सय्यिदूना उस्माने गनी रदिअल्लाहो त'आला अन्हो को शहीद किया गया तो अक्सर सहाबा ने बल्वाइयो के मुक़र्रर कर्दा इमाम के पीछे नमाज़ नहीं पढ़ी उस वक़्त तक की हज़रते अली का ज़ुहूर हुआ।
दुसरा दौर यज़ीद मलऊन का आया जिसने इमामे आली मक़ाम को बड़ी बेदर्दी से ज़िबह करवाया, उस वक़्त भी अक्सर सहाबा और ताबयिन ने उनके मुक़र्रर कर्दा इमाम के पीछे नमाज़ पढ़ने को बुरा जाना।
तीसरा दौर हज्जाज बिन युसुफ का था, वो बड़ा ज़ालिम था, रसूलुल्लाह के सहाबा को अपने सामने ज़िबह करवाने से भी गुरेज़ ना किया तो उस वक़्त भी हुकुमत के मुक़र्रर कर्दा इमामो के पीछे अक्सर ने नमाज़ ना पढ़ी।
वो लोग ना अक़ीदे के गंदे थे ना अमल के, वो ज़ालिमो और फासिक़ो के मुक़र्रर कर्दा थे और वो किसी को मज़बूर भी नहीं करते थे जो उन के पीछे नमाज़ पढ़े और जो ना पढ़े उस से किसी क़िस्म का मुवाखज़ा ना करते।
और अब ये चौथा दौर नजदीयो का है, ये आमाल के भी बुरे और अक़ीदे के भी गंदे हैं, और ये मजबूर भी करते हैं की हमारे मुक़र्रर कर्दा इमाम के पीछे नमाज़ पढ़ो और जो इन के पीछे नमाज़ नहीं पढ़ते उन्हें तरह तरह से तंग करते हैं हालाँकि नमाज़ का ताल्लुक़ दिल से है, अगर किसी का दिल ही इमाम की तरफ़ से मुतमईन नहीं तो उसकी नमाज़ इमाम के पीछे कैसे हो जायेगी?
जो उनके अक़ाइद पर इत्तेला रखते हैं उनकी नमाज़ तो नहीं होगी और जिनको उनके अक़ाइद की खबर नहीं वो अल्लाह और रसूल की मुहब्बत में के ये काबा -ए- मुअज़्ज़मा और मस्जिदे नबवी शरीफ़ के इमाम हैं, इस अक़ीदत में उनके पीछे नमाज़ पढ़ लेते हैं, अल्लाह त'आला से उम्मीद है की उनकी नमाज़ें क़बूल फरमा लेगा, वही क़ादिर और क़बूल फरमाने वाला है।
(سیدی ضیاءالدین احمد قادری رحمہ اللہ تعالی، مرتب مولانا محمد عارف ضیائی)
अब्दे मुस्तफ़ा ऑफिशियल
Forwarded from Abde Mustafa Organisation
پیچھے اس امام کے کہنا کفر ہے!
قطب مدینہ، حضرت شیخ ضیاء الدین مدنی رحمہ اللہ تعالیٰ سے نماز کے بارے میں سوال کیا جاتا کہ وہابی امام کے پیچھے پڑھی جانے والی نماز ہو جائے گی یا نہیں؟
آپ فرماتے کہ اگر امام گستاخ رسول ہو اور مقتدی کو یہ بات اچھی طرح پتا ہو تو میرے نزدیک (اس کے باوجود) "پیچھے اس امام کے" کہنا کفر ہے۔
یہ بھی فرمایا کرتے کہ حجاز مقدس میں نماز کی امامت کا مسئلہ نیا نہیں ہے بلکہ مسلمانوں پر نماز کی تنگی کا یہ چوتھا دور ہے۔
پہلا دور وہ تھا جب امیر المومنین حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ تعالٰی عنہ کو شہید کیا گیا تو اکثر صحابہ نے بلوائیوں کے مقرر کردہ امام کے پیچھے نماز نہیں پڑھی اس وقت تک کہ حضرت علی کا ظہور ہوا۔
دوسرا دور یزید ملعون کا آیا جس نے امام علی مقام کو بڑی بے دردی سے ذبح کروایا، اس وقت بھی اکثر صحابہ اور تابعین نے ان کے مقرر کردہ امام کے پیچھے نماز پڑھنے کو برا جانا۔
تیسرا دور حجاج بن یوسف کا تھا، وہ بڑا ظالم تھا، رسول اللہ کے صحابہ کو اپنے سامنے ذبح کروانے سے بھی گریز نہ کیا تو اس وقت بھی حکومت کے مقرر کردہ اماموں کے پیچھے اکثر نے نماز نہ پڑھی۔
وہ لوگ نہ عقیدے کے گندے تھے اور نہ عمل کے، وہ ظالموں اور فاسقوں کے مقرر کردہ تھے اور وہ کسی کو مجبور بھی نہیں کرتے تھے جو ان کے پیچھے نماز پڑھے اور جو نہ پڑھے اس سے کسی قسم کا مؤاخذہ نہ کرتے۔
اور اب یہ چوتھا دور نجدیوں کا ہے، یہ عمل کے بھی برے اور عقیدے کے بھی گندے ہیں اور یہ مجبور بھی کرتے ہیں کہ ہمارے مقرر کردہ امام کے پیچھے نماز پڑھو اور جو ان کے پیچھے نماز نہیں پڑھتے انہیں طرح طرح سے تنگ کرتے ہیں حالانکہ نماز کا تعلق دل سے ہے، اگر کسی کا دل ہی امام کی طرف سے مطمئن نہیں تو اس کی نماز امام کے پیچھے کیسے ہو جائے گی؟
جو ان کے عقیدے پر اطلاع رکھتے ہیں ان کی نماز تو نہیں ہوگی اور جن کو ان کے عقیدے کی خبر نہیں وہ اللہ و رسول کی محبت میں کہ یہ کعبۂ معظمہ اور مسجد نبوی شریف کے امام ہیں، اس عقیدے میں ان کے پیچھے نماز پڑھ لیتے ہیں، اللہ تعالیٰ سے امید ہے کہ ان کی نمازیں قبول فرما لے گا، وہی قادر اور قبول فرمانے والا ہے۔
(سیدی ضیاء الدین احمد قادری رحمہ اللہ تعالیٰ، مرتب مولانا محمد عارف ضیائی)
عبد مصطفی آفیشل
قطب مدینہ، حضرت شیخ ضیاء الدین مدنی رحمہ اللہ تعالیٰ سے نماز کے بارے میں سوال کیا جاتا کہ وہابی امام کے پیچھے پڑھی جانے والی نماز ہو جائے گی یا نہیں؟
آپ فرماتے کہ اگر امام گستاخ رسول ہو اور مقتدی کو یہ بات اچھی طرح پتا ہو تو میرے نزدیک (اس کے باوجود) "پیچھے اس امام کے" کہنا کفر ہے۔
یہ بھی فرمایا کرتے کہ حجاز مقدس میں نماز کی امامت کا مسئلہ نیا نہیں ہے بلکہ مسلمانوں پر نماز کی تنگی کا یہ چوتھا دور ہے۔
پہلا دور وہ تھا جب امیر المومنین حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ تعالٰی عنہ کو شہید کیا گیا تو اکثر صحابہ نے بلوائیوں کے مقرر کردہ امام کے پیچھے نماز نہیں پڑھی اس وقت تک کہ حضرت علی کا ظہور ہوا۔
دوسرا دور یزید ملعون کا آیا جس نے امام علی مقام کو بڑی بے دردی سے ذبح کروایا، اس وقت بھی اکثر صحابہ اور تابعین نے ان کے مقرر کردہ امام کے پیچھے نماز پڑھنے کو برا جانا۔
تیسرا دور حجاج بن یوسف کا تھا، وہ بڑا ظالم تھا، رسول اللہ کے صحابہ کو اپنے سامنے ذبح کروانے سے بھی گریز نہ کیا تو اس وقت بھی حکومت کے مقرر کردہ اماموں کے پیچھے اکثر نے نماز نہ پڑھی۔
وہ لوگ نہ عقیدے کے گندے تھے اور نہ عمل کے، وہ ظالموں اور فاسقوں کے مقرر کردہ تھے اور وہ کسی کو مجبور بھی نہیں کرتے تھے جو ان کے پیچھے نماز پڑھے اور جو نہ پڑھے اس سے کسی قسم کا مؤاخذہ نہ کرتے۔
اور اب یہ چوتھا دور نجدیوں کا ہے، یہ عمل کے بھی برے اور عقیدے کے بھی گندے ہیں اور یہ مجبور بھی کرتے ہیں کہ ہمارے مقرر کردہ امام کے پیچھے نماز پڑھو اور جو ان کے پیچھے نماز نہیں پڑھتے انہیں طرح طرح سے تنگ کرتے ہیں حالانکہ نماز کا تعلق دل سے ہے، اگر کسی کا دل ہی امام کی طرف سے مطمئن نہیں تو اس کی نماز امام کے پیچھے کیسے ہو جائے گی؟
جو ان کے عقیدے پر اطلاع رکھتے ہیں ان کی نماز تو نہیں ہوگی اور جن کو ان کے عقیدے کی خبر نہیں وہ اللہ و رسول کی محبت میں کہ یہ کعبۂ معظمہ اور مسجد نبوی شریف کے امام ہیں، اس عقیدے میں ان کے پیچھے نماز پڑھ لیتے ہیں، اللہ تعالیٰ سے امید ہے کہ ان کی نمازیں قبول فرما لے گا، وہی قادر اور قبول فرمانے والا ہے۔
(سیدی ضیاء الدین احمد قادری رحمہ اللہ تعالیٰ، مرتب مولانا محمد عارف ضیائی)
عبد مصطفی آفیشل
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
بھلائی علم ... برائی جہالت
دنیا کے لوگ خوبی نہیں کمی ...
جو نہ سمجھے کبھی انسان کی
جنازہ پڑھنے... پانچ وقت کی نماز
نقیبان جلسہ کے نام نظامت نقابت
نکاح میں ایجاب و قبول اور وکیل
مہر معجل مہر مؤجل مہر مطلق
اقتباس | تلفظ | چند عام غلطیاں
مولانا یونس اویسی نائب قاضی
دنیا کے لوگ خوبی نہیں کمی ...
جو نہ سمجھے کبھی انسان کی
جنازہ پڑھنے... پانچ وقت کی نماز
نقیبان جلسہ کے نام نظامت نقابت
نکاح میں ایجاب و قبول اور وکیل
مہر معجل مہر مؤجل مہر مطلق
اقتباس | تلفظ | چند عام غلطیاں
مولانا یونس اویسی نائب قاضی
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
جیسا دوست ویسا دین ...
دوست وہ ہے جو غم کو کم کر دے
ایک عرب نوجوان شادی کے لئے
سب بہتر وہ ہے جس کے اخلاق
منافق میں دو خصلتیں جمع نہیں
مظلوم کی بد دعا سے بچنا ...
اسلام زندہ کرنے کے لئے علم سیکھ
بٹ یعنی پتھری کھانا جائز ہے!
حوالہ مصدقات تاج الشریعہ 📖
دوست وہ ہے جو غم کو کم کر دے
ایک عرب نوجوان شادی کے لئے
سب بہتر وہ ہے جس کے اخلاق
منافق میں دو خصلتیں جمع نہیں
مظلوم کی بد دعا سے بچنا ...
اسلام زندہ کرنے کے لئے علم سیکھ
بٹ یعنی پتھری کھانا جائز ہے!
حوالہ مصدقات تاج الشریعہ 📖