🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
ور کا

یوں تو اہل عرب کی زبان ایک ہی تھی مگر لب و لہجہ اور انداز تکلم ایک دوسرے سے قدرے مختلف تھا۔یہ بات مشاہداتی ہے کہ ہر زبان کا تلفظ علاقہ بدلنے کے ساتھ تھوڑا بہت تبدیل ہوجاتا ہے۔دہلی وحیدرآباد میں اردو زبان استعمال ہوتی ہے لیکن بعض جملوں کے تلفظ وکتابت میں خاصا فرق آجاتا ہے،ہمارے یہاں Lab کو "لَیب" لکھا جاتا ہے جبکہ حیدرآباد میں اسی لفظ کو "لیاب" لکھا جاتا ہے۔زبان ایک ہے مگر علاقہ کی تبدیلی سے تلفظ وکتابت میں فرق آجاتا ہے۔حالانکہ مفہوم ایک ہی رہتا ہے۔اسی طرح عرب قبائل کی زبان تو عربی ہی تھی لیکن بعض الفاظ کے تلفظ وکتابت میں فرق بھی پایا جاتا تھا۔ابتدائے اسلام میں قبائل عرب کو اپنے اپنے تلفظ کے مطابق قرآن پڑھنے کی آزادی تھی۔لیکن اسلام کی بڑھتی ہوئی وسعت اور نئے افراد کی شمولیت سے کئی مقام پر قرآت قرآن کو لیکر اختلاف شروع ہوگیا۔کوئی ایک انداز میں قرآن پڑھتا تو دوسرے کو لگتا کہ وہ غلط پڑھ رہا ہے۔ٹوکنے پر دوسرا فریق یہ سمجھتا کہ فریق اول کی قرأت صحیح نہیں ہے۔اس طرح ہر ایک خود کو درست اور دوسرے کو غلط بتاتا۔یوں اختلاف بڑھتا گیا۔نوبت یہاں تک پہنچی کہ اختلاف تنازع کی صورت اختیار کرنے لگے۔جب ایسی شکایتیں زیادہ بڑھ گئیں تو حضرت حذیفہ سیدنا عثمان غنی کے پاس آئے اور قرأت قرآن پر اختلاف اور تنازعات کی سنگینی کا احساس دلاتے ہوئے عرض کیا:
یاأمير المؤمنين أدرك هذه الأمة قبل أن يختلفوا في الكتاب كما اختلفت اليهودوالنصارى۔
(سنن ترمذی کتاب تفسیر القرآن)
"امیر المؤمنین!اس امت کو سنبھال لیجیے، اس سے پہلے کہ یہ کتاب اللہ میں اسی طرح اختلاف کرے جس طرح یہود و نصاریٰ نے اپنی کتابوں میں اختلاف کیا۔"
صورت حال واقعی نازک تھی کہ کوئی بھی نومسلم قرآن سیکھتا تو کسی ایک ہی تلفظ وقرأت کے مطابق سیکھتا۔دو مختلف علاقوں کے لوگ دو الگ انداز میں قرآن پڑھتے اس طرح اختلاف سنگین ہونے کے خدشات تھے۔حضرت عثمان نے نزاکت کا احساس کیا اور ام المومنین حضرت حفصہ کو پیغام بھجوایا:
فأرسل إلى حفصة أن أرسلي إلينا بالصحف ننسخها في المصاحف ثم نردها إليك فأرسلت حفصة إلى عثمان۔(ایضاً)
"حضرت عثمان نے ام المومنین حضرت حفصہ کو پیغام بھجوایا کہ آپ مصحف صدیقی ہمارے پاس بھجوادیں تاکہ ہم اس سے مزید نقلیں تیار کرالیں۔پھر ہم اسے آپ کو واپس لوٹا دیں گے۔یہ سن کر حضرت حفصہ نے مصحف صدیقی حضرت عثمان کو بھیج دیا۔"

ام المومنین حضرت حفصہ کے پاس قرآن مجید کا وہ نسخہ محفوظ تھا جسے حضرت ابوبکر صدیق نے جمع کرایا تھا۔یہ نسخہ زبان قریش کے مطابق لکھا گیا تھا-حضرت عثمان نے حضرت زید بن ثابت ،حضرت عبداللہ بن زبیر ،حضرت سعید بن العاص اور حضرت عبدالرحمٰن بن حارث کو قرآن کو لغت قریش کے مطابق لکھنے کی ذمہ داری سونپی اور یہ ہدایت بھی فرمائی:
إذا اختلفتم أنتم وزيد بن ثابت في شيء من القرآن فاكتبوه بلسان قريش فإنما نزل بلسانهم۔
(فتح الباري شرح بخاري ص: 621)
"اگر تم میں اور زید بن ثابت میں قرآن کی کتابت کے بارے میں اختلاف ہوجائے تو اسے قریش کی زبان کے مطابق لکھنا کیوں کہ قرآن انہیں کی زبان کے مطابق نازل ہوا ہے۔"

کاتبین وحی کی پر خلوص جدوجہد اور سیدنا عثمان غنی کی سرپرستی میں قبیلہ قریش کے انداز تکلم اور رسم الخط کا لحاظ رکھتے ہوئے مصحف صدیقی کی کئی نقلیں تیار کرائی گئیں۔اور مختلف اسلامی شہروں میں بھیج دی گئیں۔دیگر اسلوب وکتابت والی نقول کو واپس منگوا کر منسوخ کرادیا اس طرح پوری امت ایک ہی نسخہ قرآن پر جمع ہوگئی۔آج بھارت سے برطانیہ اور افریقہ سے عرب تک ہی ایک ہی نسخہ قرآن پایا جاتا ہے۔

ہجرت کا نواں سال چل رہا تھا۔جس تیزی کے ساتھ اسلام کی مقبولیت بڑھ رہی تھی اسلام کے دشمن بھی اسی تعداد میں بڑھ رہے تھے۔عرب اور شام کے درمیان سلطنت غسان قائم تھی اور ہرقل روم کی تابع تھی۔اس سے قبل جنگ موتہ میں رومی ہزیمت اٹھا چکے تھے۔اس لیے اس بار انہوں نے بڑی تیاری کی۔شامی سرحد پر عیسائی لشکر جمع ہوچکا تھا۔حضور ﷺ نے اس حملے سے بچاؤ کے لیے مدینے سے باہر جاکر لڑنے کا ارادہ فرمایا۔تاریخ میں یہ جنگ غزوہ تبوک کے نام سے معروف ہے۔ان دنوں مسلمانوں کی مالی حالت بے حد کمزور تھی۔لشکر کے پاس فوجی ساز وسامان، سواریاں اور کھانے پینے کے سامان کی سخت قلت تھی۔سختی کا عالم یہ تھا کہ حضورﷺ نے منبر سے عام چندے کا اعلان فرمایا۔حضرت عثمان کا تجارتی قافلہ شام کی جانب روانہ ہونے والا تھا کہ حضور کا اعلان سماعت کیا۔اعلان سنتے ہی سارا ساز وسامان حضور علیہ السلام کی بارگاہ میں پیش کردیا۔اس مال میں 900 اونٹ 100 گھوڑے مع ساز وبراق اور 1000 ہزار سونے کے دینار شامل تھے۔
اس زمانے میں اونٹ اور گھوڑے انتہائی قیمتی جانور مانے جاتے تھے۔آج بھی دونوں جانور بیش قیمت سمجھے جاتے ہیں۔اگر موجودہ وقت میں ایک اونٹ کو 50 ہزار کا بھی مان لیا جائے تو 900×50,000 کی رقم ساڑھے چار کروڑ روپے بنتی ہے۔اسی رقم میں سو گھوڑوں کی قیمت بھی اسی مد میں جوڑ دیں تو کُل قیمت پانچ کروڑ ہوج
اتی ہے۔
ایک دینار 4 گرام 374 ملی گرام وزن کا ہوتا ہے۔موجودہ وقت میں ایک گرام سونا 4800 روپے کا ہوتا ہے۔اس طرح ایک دینار کو 4 گرام کا بھی مان لیں تو ایک دینار کی قیمت 19200 روپے اور ایک ہزار دینار کی قیمت ایک کروڑ 92 لاکھ روپے بنتی ہے جبکہ وکی پیڈیا کے مطابق ایک ہزار دینار کی قیمت 1 ارب سے زائد بنتی ہے۔حضرت عبدالرحمن بن سمرہ بیان فرماتے ہیں کہ غزوہ تبوک کے موقع پر سیدنا عثمان ایک ہزار دینار لیکر آئے اور نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں پیش کردیا۔
‌‌‌‌‌‏قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ:‌‌‌‏ فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَلِّبُهَا فِي حِجْرِهِ وَيَقُولُ:‌‌‌‏ مَا ضَرَّ عُثْمَانَ مَا عَمِلَ بَعْدَ الْيَوْمِ مَرَّتَيْنِ۔
(ترمذی، کتاب المناقب:3701)
"حضرت عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺان دیناروں کو دامن میں الٹ پلٹ کر دیکھ رہے ہیں اور فرما رہے تھے آج کے بعد سے عثمان کو کوئی بھی برا عمل نقصان نہیں پہنچائے گا،ایسا آپ نے دو بار فرمایا۔"

آپ نے مسلمانوں کے لیے میٹھے پانی کا چشمہ خرید کر وقف کیا۔مسجد نبوی کی توسیع کرائی-ہر جمعہ کو غلام آزاد فرماتے غرضیکہ فلاحی کاموں کے لیے آپ ہمیشہ ہی تیار رہتے۔
جس طرح دولت عثمانی بے حساب تھی اسی طرح سخاوت عثمانی بھی اپنی مثال آپ تھی۔

آپ 12 سال تک مسند خلافت پر متمکن رہے۔اس درمیان جہاں اسلامی سرحدوں کو وسعت ملی تو مسلمانوں میں اعلی درجے کی خوش حالی بھی آئی۔مگر دور خلافت کے آخری حصے میں سازشوں کے سایے بڑھتے گئے۔آپ کی نرم دلی اور سادگی کا بیجا فائدہ اٹھایا گیا۔نتیجہ بغاوت کی صورت میں آیا اور بلوائیوں نے آپ کے مکان کو گھیر لیا۔جس نے مسلمانوں کے لیے میٹھے پانی کا چشمہ خریدا اسی پر پانی بند کردیا گیا۔جس نے مسلمانوں کی قحط سالی دیکھ سارا غلہ صدقہ کردیا، اُسی پر کھانا روک دیا گیا۔18 ذوالحجه 35ھ کو وہ وقت آیا کہ ایک زمانے کو اپنی سخاوت سے فیض یاب کرنے والے ذوالنورین تلاوت قرآن کرتے ہوئے نہایت سفاکی کے ساتھ شہید کر دئے گئے۔خون کے چھینٹے فَسَیَکۡفِیۡکَہُمُ اللّٰہُ ۚ وَہُوَالسَّمِیۡعُ الۡعَلِیۡمُ۔آیت پر پڑھے اور امت محمدیہ کو ایک نسخہ قرآن پر جمع کرنے والے جامع القرآن رب کے مہمان ہوگئے۔

یعنی عثمان صاحبِ قمیصِ ہُدیٰ
حُلَّہ پوشِ شہادت پہ لاکھوں سلام

15 ربیع الثانی 1442ھ
یکم دسمبر 2020 بروز منگل

https://www.facebook.com/388280455075812/posts/820786388491881/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
https://twitter.com/RMustaqbil?s=09

#یہ_کامیابی_ٹیم_ورک_کا_نتیجہ_ہے

ہمارا آج کا ٹرینڈ زبردست کامیاب ہوا۔ اس کے لیے تنظیم "روشن مستقبل دہلی"، ٹویٹر ٹرینڈز گروپ کے ایک ایک فرد کی شکر گزار ہے۔
آپ سب نے ہماری آواز پر لبیک کہتے ہوئے اپنا قیمتی وقت دیا اور اس وقت تک انتھک کوشش کی جب تک کامیابی کو حاصل نہ کرلیا۔

ساتھ ہی قابل مبارکباد ہیں "ٹویٹر ٹرینڈ گروپ کا ایڈمن پینل" جس نے مناسب موقع کے ساتھ درست وقت کا انتخاب کیا۔ ان کی دور اندیشی نے آج کے ٹرینڈ کو کامیاب بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔

آج کے ٹرینڈ سے بھی ہم نے بہت کچھ سیکھا۔ ایک ضروری بات جو آج نوٹس کی گئی، وہ یہ کہ بار بار اغیار نے کہا: "اس ٹرینڈ میں صرف مسلمان ہی کیوں نظر آرہے ہیں؟". شاید یہ ایک بڑی وجہ ہے ہمارے گزشتہ ٹرینڈز کی ناکامی کی۔
لوگ ہمارے نام اور فوٹو دیکھ کر ٹرینڈ کو اگنور تو کرتے ہی ہیں ساتھ ہی رپورٹ بھی کرتے ہیں۔ اس کا حل یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ہم مذہبی ٹرینڈ کے علاوہ ہر ٹرینڈ میں کثرت کے ساتھ ایکسٹرا اکاؤنٹس کا استعمال کریں تاکہ دوسرے لوگ بھی ساتھ آئیں۔

یاد رہے! ہر ٹرینڈ میں ہمیں اس وقت تک سب کو جم کر محنت کرنی ہوگی جب تک ٹرینڈ لسٹ میں نہ آجائے، جب ٹرینڈ لسٹ میں آجائیگا تو کئی اور لوگ ساتھ دینے لگیں گے۔

امید کرتا ہوں کہ آج کی کامیابی نے ان لوگوں کو بھی ضرور قوت اور حوصلہ بخشا ہوگا جو گزشتہ ٹرینڈز کی ناکامی سے دل برداشتہ ہونگے۔
ہم کامیاب ضرور ہونگے بس ہمیں ٹیم کی طرح کام کرنا ہوگا۔ کسی کے بہکاوے میں آکر تنظیم کے خلاف جانے کی غلطی سے بچنا ہوگا۔
تنظیم جو بھی فیصلہ لیتی ہے بہت غور و خوض کرنے کے بعد لیتی ہے لہذا اس فیصلے کا احترام کریں۔
اگر کوئی بات قابل اعتراض لگے تو آپ ایڈمن حضرات میں سے کسی سے بھی پرسنل پر رابطہ کرلیں ان شاءاللہ عزوجل تشفی بخش جواب دیا جائے گا۔

دوسروں کے ٹرینڈز کا اعلان اور ان میں ساتھ دینے یا نہ دینے کے متعلق تنظیم بہت سوچ سمجھ کر فیصلہ لیتی ہے۔ اور وہ فیصلہ ایک ایک ممبر کی حفاظت کو نظر میں رکھ کر لیا جاتا ہے۔
کبھی اس کی حکمت اور وجہ بیان کی جاتی ہے اور کبھی نہیں۔
لہذا آپ سب ہمارے ساتھ بنے رہیں۔

ایک بار ہم پھر سے آپ کا شکریہ ادا کرتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ آپ اسی طرح ہمارے ساتھ جڑے رہیں گے اور قدم سے قدم ملا کر ہم سب کامیابی کی منزلوں کو پامال کرتے جائیں گے۔
(ان شاءاللہ عزوجل)

محمد شاہد علی مصباحی
رکن: روشن مستقبل دہلی

https://www.facebook.com/388280455075812/posts/822556254981561/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
اے پُرسکون چہرے والے! اب تجھے کوئی نہیں ستائے گا ، کوئی ظالم تیری مقدس داڑھی پکڑ کر ، تجھے معذوری میں نہیں گھسیٹے گا ۔
اب کوئی تیری پشت پر زخموں کے نشان نہ دیکھ پائے گا ، اب کبھی تجھے زنداں کی تاریکی میں مارا نہ جائے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کوئی سخت سردی میں تیرے نحیف جسم پر ٹھنڈا پانی نہیں پھینکے گا ۔

پس تو داخل ہو جا اپنے رب کی جنت میں ، یقینا اہل جنت تجھے مرحبا کہتے ہیں !!

اے شخص! تیری عاجزی کیسی بےمثل تھی ، وہ لاکھوں کا مجمع کہتا تھا:

" ہمارے شیخ کا مزار بنایا جائے گا "

اور تیری وصیت ایسی سادہ تھی کہ:
مجھے میرے کمرے میں دفن کر دینا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہی عظیم کمرہ جہاں تو دِلوں کو بدلا کرتا تھا !

اے اہل جہاں! وہ ساری عمر کہتا تھا میں نے کبھی کسی سے پیسے نہیں لیے ، آج دیکھ لو اس نے اپنے پیچھے کیا چھوڑا ؟؟

اگر چھوڑنا ہوتا تو اپنا مزار بننے دیتا ، باقیوں کی طرح اس کی نسلیں بھی چندے کھاتیں ؛ پر قربان ، وہ تو لاہور کا قلندر تھا ، اسلام کا ہمدرد تھا !!!!

اے بریلی والے! تو نے کہا تھا:

"مجھے نہیں معلوم کہ میرے بعد جو آئے گا وہ تمھیں کیا بتائے گا ، پس تم جان لو کہ حجت اللہ قائم ہو چکی"

وہ اکثر کہتا تھا:
"وہ درویش جو بریلی میں لیٹا ہے(احمد رضا بریلوی) ، وہ درویش جو سرہند میں لیٹا ہے(مجدد الف ثانی)"
آج میں کہتا ہوں:
"وہ درویش جو لاہور میں لیٹا ہے"

اے اہل جہاں!
میرا دل ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا ، میری آنکھیں خشک نہیں ہوتیں ، میں اس کی دید کو ترستا ہوں ؛ اس نے اپنا چہرہ ایسے چھپایا کہ محشر تک نہ دکھائے گا ۔

اے ابن حزم! نہ تجھے اپنے محبوب کا غم تھا ، اور نہ اے مجنوں! تجھے لیلی کی جدائی ڈستی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مجھ سے پوچھو میرے محبوب کی جدائی نے میرے دل پر قہر ڈھا دیے ہیں ۔
کاش اس کے پہلو میں مجھے بھی چند گز جگہ مل جاتی !

( یہ تحریر علی سنان کی ہے ، لیکن مکمل نہیں ؛ مکمل نیچے کمینٹ میں ملاحظہ کرلیں )

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3024225134524322&id=100008105947430
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
عرب کے مشہور شاعر حضرت متمم بن نویرہ کے بھائی ایک لڑائی میں قتل ہوگئے -
آپ اپنے بھائی سے بہت زیادہ محبت کرتے تھے ، آپ کی یہ حالت ہوگئی کہ گھر بار چھوڑ کر قبائلِ عرب میں پِھرنا شروع کردیا ؛ جہاں جاتے عورتیں مرد آپ کے گرد جمع ہوجاتے اور آپ درد انگیز لہجے میں اپنے بھائی کا مرثیہ پڑھتے ، جو ایسا پُردرد ہوتا کہ ہرطرف سے گریہ و زاری کی آوازیں بلند ہونا شروع ہوجاتیں -

ایک دن مسجدنبوی شریف میں آئے اور مرثیے کے اشعار پڑھنا شروع کیے ۔

حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ اگرچہ نہایت مضبوط دل کے آدمی تھے ، لیکن آپ بھی ضبط نہ کرسکے اور رونا شروع کردیا -

جب مرثیہ ختم ہوا تو متمم سے فرمانے لگے:

تیرے غم کی حالت کہاں تک پہنچ گئی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ !!

متمم نے عرض کی:

امیرالمومنین بچپن میں ایک بیماری کی وجہ سے میری بائیں آنکھ کی رطوبت چلی گئی تھی ، میں جب کبھی روتا تو اُس آنکھ سے آنسونہیں نکلتے تھے ؛ بھائی کے مرنے کے بعد اُس آنکھ سے ایسے آنسو جاری ہوئے ہیں کہ اب تک نہیں تھمے -

سیدنا عمر پاک نے فرمایا:
میرے بھائی زید کا بھی ایک مرثیہ لکھ دو !
متمم نے ہامی بھر لی -
اگلے روز جب متمم نے حضرت عمررضی اللہ عنہ کو جناب زید کا مرثیہ سنایا توآپ نے کہا:
اس میں وہ درد نہیں جوکل والے مرثیے میں تھا ۔

متمم کہنے لگے:

امیرالمومنین ! زید آپ کے بھائی تھے میرے نہیں -

( یعنی جس درد سے میں نے اپنے بھائی کامرثیہ لکھا ، آپ کے بھائی کا کیسے لکھ سکتا تھا -
بڑی کوشش کے باوجود بھی وہ درد پیدا نہیں ہو سکتا تھا ، جو میرے دل میں اپنے بھائی کے لیے ہے )

********

شہیدِ محبت رحمہ اللہ کی یاد میں جو لوگ ابھی تک آنسو بہا رہے ہیں ، ہم اُن کی کیفیت کو نہیں سمجھ سکتے ۔
ہم بس دعا کرسکتے ہیں کہ رب تعالی انھیں صبر جمیل دے !

✍️لقمان شاہد
25-11-2020 ء

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3024676334479202&id=100008105947430
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
جس جس نے حضرت کا جنازہ پڑھا ہے اللہ کرے وہ یہ بھی جان لے کہ‌ آپ رحمہ اللہ صحابہ و اہل بیت علیھم الرضوان کا ازحد ادب کرتے تھے ۔
آپ‌ نے جب دیکھا کہ بعض لوگ مشاجرات کی آڑ میں ، صحابی رسول حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی بے ادبی کر رہے ہیں ، تو بھرے مجمعے میں انھیں مخاطب کرکے فرمانے لگے:

" دُر دُر کُتیو ! مالکاں نوں پے گئے او "

مطلب اصحابِ رسول تمھارے مالک ہیں ، ان کی بدولت تمھیں آثارِ رسول ملے ؛ تمھیں تو اُن کا وفادار ہونا چاہیے ، لیکن تم نے انھی کے خلاف بھونکنا اور ان کی ناموس کو کاٹنا شروع کردیا ۔

✍️لقمان شاہد
26-11-2020 ء

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3025023471111155&id=100008105947430
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
وہ کیسا پیارا انسان تھا ، جب عشقِ رسول کی بات کرتا تو دل چیر کے رکھ دیتا ۔

وہ کہتا تھا:

ہزار سال بعد بھی کوئی میری قبر پر سے لبیک کا نعرہ لگاتا ہوا گزرا ، تو میں اسے جواب ضرور دوں گا ؛ یہ پکی بات ہے ۔

اب اسے کہاں ڈھونڈیں 😰😰 ؎

جان کر مِن جملۂ خاصانِ مے خانہ تُجھے
​مدتوں رویا کریں گے ، جام و پیمانہ تُجھے

✍️لقمان شاہد
26-11-2020 ء

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3025392101074292&id=100008105947430
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
کئی علما و مشائخ اور پیاروں کے جنازے پڑھے ، انھیں غسل دیا ، لحد میں اتارا ؛ لیکن ایسی کیفیت کسی کے جانے پر نہیں ہوئی ، جیسی یہ مرد درویش کر گیا ۔
اس سے ہمارا محبت رسول کا رشتہ تھا ، جو دل کی گہرائی تک پہنچ چکا تھا ۔

اللہ غریق رحمت کرے ؎

وہ مُسلِم تھا ، بہت ہی صاف و سادہ تھے اُصول اُس کے
وہ کہتا تھا خدا اِک ہے ، محمد ہیں رسول اُس کے

اُسے ایمان تھا ، ایمان ہی کی اِستقامت پر
فرشتوں پر ، کتابوں پر ، رسولوں پر ، قیامت پر

محبت نے سِکھائی تھی تمیزِ خُوب و زِشْت اُس کو
نَظَر آتا تھا صحرائے عرب ، باغِ بِہِشت اُس کو

وہ قائِل تھا فقط اسلام ہی کی بادشاہی کا
دیا کرتا تھا درس اَطفال کو عِلمِ الٰہی کا

نظر ڈالی نہ تھی اُس نے کبھی اسبابِ زینت پر
خدا رحمت کرے ، اُس پاک باز و پاک طِینت پر !

✍️لقمان شاہد
29-11-2020 ء

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3027680047512164&id=100008105947430
👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
میرا بندہ

گاؤں دیہات کی عورتوں نے جب شوہر نامدار کا " ذکرِ خیر " کرنا ہوتا ہے ، تو اُسے " بندہ " کَہ کر مخاطب کرتی ہیں ، مثلاً:

میرا بندہ یہ کہتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ میرا بندہ وہاں گیا ۔۔۔‌۔۔۔‌ میرے بندے کی یہ بات وغیرہ ۔

آج تک خواتین سے میرا بندہ ، میرا بندہ ، میرا بندہ ہی سنتے آئے ہیں ۔

لیکن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایک عورت ملی ، جو اپنے خاوند کا ذکر کرتے ہوئے ، میرا بندہ نہیں ، بلکہ " میرا مالک " کَہ رہی تھی‌ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو احساس ہوا کہ:

خاوند کو مالک کہنا ہی درست ہے ، خاوند مالک ہوتا ہے ، بندہ نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ؛ بندے کا تو معنی ہی نوکر اور غلام ہے ۔

پتا نہیں یہ عورتیں کون سابدلہ لینے کے لیے خاوندوں کو سرِعام بدنام کرتی ہیں ۔

بھئی ۔۔۔۔۔۔۔ بندہ ہوگا تو گھر کی چاردیواری میں ہوگا ، باہر تو اس بے چارے کو آقا ہی رہنے دیا کرو !

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3029426550670847&id=100008105947430
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
جو علما و مشائخ اپنا وقت پورا کرکے ، اللہ کے حضور پیش ہوگئے ، اُن کی یادیں دل میں بسائے رکھنے کے ساتھ ساتھ ۔۔۔۔۔۔۔ ان علما و مشائخ کو بھی نہیں بھولنا چاہیے جو ہم میں موجود ہیں ۔

کوہِ استقامت قبلہ مفتی منیب الرحمان صاحب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عاشقِ صادق مولانا محمد الیاس عطار قادری صاحب جیسے بزرگ ابھی ہم میں موجود ہیں ، ہمیں ان سے علمی و عملی نفع اٹھالینا چاہیے ۔
جس طرح صاحبِ عزیمت ا م ی ر ال م ج ا ہ د ی ن رحمہ اللہ کو آنکھیں تلاش کرتی کرتی تھک گئیں ہیں ، لیکن وہ نہیں مل رہے ، اور ملیں گے بھی نہیں ؛ اسی طرح۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ ستارے بھی اجل کا سورج طلوع ہوتے ہی غروب ہوجائیں گے ، اور پھر روز محشر سے پہلے کبھی طلوع نہیں کریں گے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‌!!

ہمیشہ سورج نکلنے سے پہلے پہلے ستارے کو دیکھ کر اپنی منزل کا تعین کرلینا چاہیے ، کیوں کہ جب سورج طلوع ہوجاتا ہے تو ستارے نظر نہیں آیا کرتے‌ ۔ ؎

یاد کرتے ہو مجھے سورج نکل جانے کے بعد
اِک ستارے نے یہ پوچھا ، رات ڈھل جانے کے بعد

وحشتِ دل کو ہے صحرا سے بڑی نسبت عجیب
کوئی گھر لوٹا نہیں ، گھر سے نکل جانے کے بعد

✍️لقمان شاہد
3-12-2020 ء

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3031191100494392&id=100008105947430
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
حضرتِ خدیجہ کی یاد

جن سے پیار ہو ان کی یادیں جب آتی ہیں تو دل پہ گہرا اثر کرتی ہیں۔ حضرتِ خدیجہ سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کو لفظوں سے بیان نہیں کیا جا سکتا۔

ایک مرتبہ حضرتِ خدیجہ کی بہن حضرتِ ہالہ نے حضور صل اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہونے کی اجازت طلب کی تو ان کی آواز حضرتِ خدیجہ کی آواز سے بہت ملتی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرتِ خدیجہ کا اجازت طلب کرنا یاد آگیا اور آپ نے جھرجھری لی (جسم میں ہلکی کپکپی)

(صحیح بخاری، کتاب المناقب، الحدیث 3821)

اس کے علاوہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم حضرتِ خدیجہ کی سہیلیوں کا اکرام فرمایا کرتے تھے، ان کے پاس تحفے بھیجتے۔

(الادب المفرد)

اللہ تعالیٰ ہمیں بھی خلوص کے ساتھ محبت کی توفیق دے۔

عبد مصطفیٰ آفیشل