مقبرہ خواجہ نظام الملک
https://www.facebook.com/190656494845261/posts/823213571589547/
https://www.facebook.com/190656494845261/posts/823213571589547/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
#لو_جہاد:#حکومت_کو_چھوڑیں_اپنا_گھر_سنبھالیں
غلام مصطفیٰ نعیمی
مدیر اعلیٰ سواد اعظم دہلی
آخرکار یوپی کی بی جے پی حکومت نے مبینہ لو جہاد کے خلاف آرڈیننس کے ذریعے قانون پاس کر دیا۔جلد ہی ایم پی، گجرات، اتراکھنڈ،کرناٹک اور ہماچل پردیش کی بی جے پی حکومتیں بھی یہ قانون پاس کرنے والی ہیں۔اس قانون کے مطابق دوسرے مذہب کی لڑکی کو بَہلا کر، فریب،لالچ، یا جبراً شادی کرنا تبدیلی مذہب مانا جائے گا اور ایک تا دس سال کی سزا اور 25 ہزار تک جرمانہ عائد کیا جائے گا۔ساتھ ہی شادی میں مدد کرنے والے بھی برابر کے مجرم مانے جائیں گے۔
حکومت اور متشدد تنظیموں کی بد نیتی
آئے دن ملک کے مختلف علاقوں سے Different religions کے لڑکے لڑکیوں کے مابین شادیوں کی خبریں آتی رہتی ہیں۔آزادانہ میل جول، مخلوط تعلیم اور مغربی طرز زندگی کی وجہ سے یہ معاملات بڑھتے ہی جارہے ہیں۔بین مذاہب شادیوں میں عموماً لڑکی ہی تبدیلی مذہب کرتی ہے لڑکا نہیں۔لڑکی چونکہ اپنا گھر چھوڑ کر آتی ہے تو اپنا آبائی مذہب چھوڑ کر شوہر کے مذہب وکلچر کو ہی اپنا لیتی ہے۔ایسے معاملات میں لڑکی کبھی ہندو ہوتی ہے کبھی مسلم، کبھی سِکھ تو کبھی عیسائی۔لڑکے بھی الگ مذہب کے ہوتے ہیں مگر لڑکی کا معاملہ زیادہ حساس ہوتا ہے اور مذہب وکلچر بھی وہی بدلتی ہے۔اس لیے اکثر لڑکی والوں کی جانب سے ہی اعتراض اور قانونی چارہ جوئی ہوتی ہے۔
ایسے رشتوں میں لڑکی مسلمان ہو تو کسی کو کوئی دقت نہیں ہوتی۔لیکن اگر لڑکا مسلم نکل آئے تو حکومت،انتظامیہ اور متشدد تنظیمیں آسمان سر پر اٹھا لیتی ہیں۔صحیح بات یہ ہے کہ لو جہاد کا پروپیگنڈہ در اصل مسلم لڑکیوں کو مرتد بنانے کی سازش ہے۔تاکہ کام بھی ہوجائے اور بدنامی بھی نہ ہو۔پچھلے کچھ وقت سے بین مذاہب شادیوں کے جن معاملوں میں لڑکی مسلم اور لڑکے ہندو تھے۔ان میں سے اکثر لڑکوں کا تعلق متشدد تنظیموں سے تھا اور انہیں تنظیموں نے قانونی معاملات میں ایسے لڑکوں کو بھرپور مدد بھی فراہم کی۔صاف ظاہر ہے کہ متشدد تنظیمیں مسلم لڑکیوں کو مرتد بنانے کی سازش میں ملوث ہیں۔اکھل بھارتیہ یوا ہندو مورچہ، ہندو جن جاگرن سمتی جیسی کئی ہندو تنظیمیں کھلے عام مسلم لڑکی کو بہو بنانے کے لیے ڈھائی لاکھ روپے اور قانونی مدد کا اعلان کر چکی ہیں۔ایسے قانون شکن اعلانات کے باوجود ان تنظیموں کے خلاف نہ حکومت کوئی قدم اٹھاتی ہے نہ انتظامیہ کو اپنا فرض یاد آتا ہے؟جبکہ تمام تر تحقیقات کے باوجود سازش کا ادنیٰ ثبوت نہ ملنے کے بعد بھی مسلمانوں پر حکومت وانتظامیہ لو جہاد کی سازش رچنے اور ہندو لڑکیوں کو ورغلانے کا الزام لگاتی ہیں۔آج ہی لا کمیشن کے چئیرمین جسٹس آدتیہ ناتھ متّل کا بیان اخبارات میں شائع ہوا ہے جس میں انہوں نے قبول کیا ہے کہ یوپی میں لو جہاد کا کوئی ڈیٹا حکومت وانتظامیہ کے پاس نہیں ہے۔اس سے قبل سابق وزیر داخلہ اور موجودہ وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ پارلیمنٹ میں آن ریکارڈ لو جہاد کی تھیوری کو مسترد کر چکے ہیں۔لیکن اس کے باوجود بی جے پی حکومتوں کا رویہ خالص مسلم دشمنی پر مبنی اور اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنا ہے۔
اپنا گھر سنبھالیں
ہمارے علم وتحقیق کے مطابق غیر مسلم لڑکیوں سے شادی کرنے والے افراد کے دو طبقات ہیں۔
1-لبرل اور آزاد خیال۔
2-متوسط اور پیشہ ور افراد۔
طبقہ اول میں اعلی تعلیم یافتہ،ملازمت پیشہ،فلمی اداکار اور سیاسی توقعات رکھنے والے افراد شامل ہیں۔طبقہ اول کی بڑی تعداد رسمی سی مسلمان ہوتی ہے۔دین سے دوری،دینی ماحول کی کمی اور سیاست وبزنس میں آگے بڑھنے کی خواہش کی وجہ سے یہ طبقہ کسی بھی مذہب سے رشتہ جوڑنے میں جھجک محسوس نہیں کرتا۔انہیں لگتا ہے کہ بین مذہبی شادی سے وہ لبرل اور آزاد خیال سمجھے جائیں گے۔جس سے انہیں اپنی سیکولر امیج اور دنیوی فائدہ ملنے کا یقین ہوتا ہے۔اب جو طبقہ اپنے مفاد کی خاطر دین کو داؤں پر لگادے اس سے مذہبی تبلیغ کی امید بیل سے دودھ کی امید رکھنے جیسا ہے۔
طبقہ دوم میں مختلف علاقوں میں پیشہ ورانہ کام کرنے اور ہندو آبادیوں میں رہنے والے افراد شامل ہیں۔یہ لوگ غیر مسلم آبادیوں میں رہنے یا اپنے کاموں کی وجہ سے معاشرتی اختلاط ہونے کی وجہ سے غیر مسلم لڑکیوں کے رابطے میں آتے ہیں وقتی محبت کے جوش میں شادی بھی کر لیتے ہیں، مگر اس کی وجہ صرف مخلوط معاشرت اور وقتی محبت ہوتی ہے۔سازش کا تصور دور دور تک نہیں ہوتا۔طبقہ دوم کے نوجوان خود اپنے گھر والوں کی نگاہ میں مجرم ہوتے ہیں کیوں یہ لوگ عموماً روایتی مسلم گھرانوں سے ہوتے جہاں دین داری کا غلبہ واثر ہوتا ہے۔اس لیے ان گھرانوں میں آسانی سے بین المذاہب شادیوں کو قبول نہیں کیا جاتا۔اس طرح یہ صاف ہوجاتا ہے کہ دونوں ہی طبقات لبرلزم اور وقتی جذبات کے تحت ایسی شادیاں کرتے ہیں۔سازش اور لو جہاد کا شوشہ محض پروپگنڈہ ہے۔
مذکورہ قانون کے بعد طبقہ دوم کے نوجوان ہی حکومت وانتظامیہ کے رڈار پر ہوں گے۔کیوں کہ طبقہ اول کو تو خود حکومت بڑے عہدے سے نوازتی ہے تاکہ اس کے ذریعے اپنے مقا
غلام مصطفیٰ نعیمی
مدیر اعلیٰ سواد اعظم دہلی
آخرکار یوپی کی بی جے پی حکومت نے مبینہ لو جہاد کے خلاف آرڈیننس کے ذریعے قانون پاس کر دیا۔جلد ہی ایم پی، گجرات، اتراکھنڈ،کرناٹک اور ہماچل پردیش کی بی جے پی حکومتیں بھی یہ قانون پاس کرنے والی ہیں۔اس قانون کے مطابق دوسرے مذہب کی لڑکی کو بَہلا کر، فریب،لالچ، یا جبراً شادی کرنا تبدیلی مذہب مانا جائے گا اور ایک تا دس سال کی سزا اور 25 ہزار تک جرمانہ عائد کیا جائے گا۔ساتھ ہی شادی میں مدد کرنے والے بھی برابر کے مجرم مانے جائیں گے۔
حکومت اور متشدد تنظیموں کی بد نیتی
آئے دن ملک کے مختلف علاقوں سے Different religions کے لڑکے لڑکیوں کے مابین شادیوں کی خبریں آتی رہتی ہیں۔آزادانہ میل جول، مخلوط تعلیم اور مغربی طرز زندگی کی وجہ سے یہ معاملات بڑھتے ہی جارہے ہیں۔بین مذاہب شادیوں میں عموماً لڑکی ہی تبدیلی مذہب کرتی ہے لڑکا نہیں۔لڑکی چونکہ اپنا گھر چھوڑ کر آتی ہے تو اپنا آبائی مذہب چھوڑ کر شوہر کے مذہب وکلچر کو ہی اپنا لیتی ہے۔ایسے معاملات میں لڑکی کبھی ہندو ہوتی ہے کبھی مسلم، کبھی سِکھ تو کبھی عیسائی۔لڑکے بھی الگ مذہب کے ہوتے ہیں مگر لڑکی کا معاملہ زیادہ حساس ہوتا ہے اور مذہب وکلچر بھی وہی بدلتی ہے۔اس لیے اکثر لڑکی والوں کی جانب سے ہی اعتراض اور قانونی چارہ جوئی ہوتی ہے۔
ایسے رشتوں میں لڑکی مسلمان ہو تو کسی کو کوئی دقت نہیں ہوتی۔لیکن اگر لڑکا مسلم نکل آئے تو حکومت،انتظامیہ اور متشدد تنظیمیں آسمان سر پر اٹھا لیتی ہیں۔صحیح بات یہ ہے کہ لو جہاد کا پروپیگنڈہ در اصل مسلم لڑکیوں کو مرتد بنانے کی سازش ہے۔تاکہ کام بھی ہوجائے اور بدنامی بھی نہ ہو۔پچھلے کچھ وقت سے بین مذاہب شادیوں کے جن معاملوں میں لڑکی مسلم اور لڑکے ہندو تھے۔ان میں سے اکثر لڑکوں کا تعلق متشدد تنظیموں سے تھا اور انہیں تنظیموں نے قانونی معاملات میں ایسے لڑکوں کو بھرپور مدد بھی فراہم کی۔صاف ظاہر ہے کہ متشدد تنظیمیں مسلم لڑکیوں کو مرتد بنانے کی سازش میں ملوث ہیں۔اکھل بھارتیہ یوا ہندو مورچہ، ہندو جن جاگرن سمتی جیسی کئی ہندو تنظیمیں کھلے عام مسلم لڑکی کو بہو بنانے کے لیے ڈھائی لاکھ روپے اور قانونی مدد کا اعلان کر چکی ہیں۔ایسے قانون شکن اعلانات کے باوجود ان تنظیموں کے خلاف نہ حکومت کوئی قدم اٹھاتی ہے نہ انتظامیہ کو اپنا فرض یاد آتا ہے؟جبکہ تمام تر تحقیقات کے باوجود سازش کا ادنیٰ ثبوت نہ ملنے کے بعد بھی مسلمانوں پر حکومت وانتظامیہ لو جہاد کی سازش رچنے اور ہندو لڑکیوں کو ورغلانے کا الزام لگاتی ہیں۔آج ہی لا کمیشن کے چئیرمین جسٹس آدتیہ ناتھ متّل کا بیان اخبارات میں شائع ہوا ہے جس میں انہوں نے قبول کیا ہے کہ یوپی میں لو جہاد کا کوئی ڈیٹا حکومت وانتظامیہ کے پاس نہیں ہے۔اس سے قبل سابق وزیر داخلہ اور موجودہ وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ پارلیمنٹ میں آن ریکارڈ لو جہاد کی تھیوری کو مسترد کر چکے ہیں۔لیکن اس کے باوجود بی جے پی حکومتوں کا رویہ خالص مسلم دشمنی پر مبنی اور اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنا ہے۔
اپنا گھر سنبھالیں
ہمارے علم وتحقیق کے مطابق غیر مسلم لڑکیوں سے شادی کرنے والے افراد کے دو طبقات ہیں۔
1-لبرل اور آزاد خیال۔
2-متوسط اور پیشہ ور افراد۔
طبقہ اول میں اعلی تعلیم یافتہ،ملازمت پیشہ،فلمی اداکار اور سیاسی توقعات رکھنے والے افراد شامل ہیں۔طبقہ اول کی بڑی تعداد رسمی سی مسلمان ہوتی ہے۔دین سے دوری،دینی ماحول کی کمی اور سیاست وبزنس میں آگے بڑھنے کی خواہش کی وجہ سے یہ طبقہ کسی بھی مذہب سے رشتہ جوڑنے میں جھجک محسوس نہیں کرتا۔انہیں لگتا ہے کہ بین مذہبی شادی سے وہ لبرل اور آزاد خیال سمجھے جائیں گے۔جس سے انہیں اپنی سیکولر امیج اور دنیوی فائدہ ملنے کا یقین ہوتا ہے۔اب جو طبقہ اپنے مفاد کی خاطر دین کو داؤں پر لگادے اس سے مذہبی تبلیغ کی امید بیل سے دودھ کی امید رکھنے جیسا ہے۔
طبقہ دوم میں مختلف علاقوں میں پیشہ ورانہ کام کرنے اور ہندو آبادیوں میں رہنے والے افراد شامل ہیں۔یہ لوگ غیر مسلم آبادیوں میں رہنے یا اپنے کاموں کی وجہ سے معاشرتی اختلاط ہونے کی وجہ سے غیر مسلم لڑکیوں کے رابطے میں آتے ہیں وقتی محبت کے جوش میں شادی بھی کر لیتے ہیں، مگر اس کی وجہ صرف مخلوط معاشرت اور وقتی محبت ہوتی ہے۔سازش کا تصور دور دور تک نہیں ہوتا۔طبقہ دوم کے نوجوان خود اپنے گھر والوں کی نگاہ میں مجرم ہوتے ہیں کیوں یہ لوگ عموماً روایتی مسلم گھرانوں سے ہوتے جہاں دین داری کا غلبہ واثر ہوتا ہے۔اس لیے ان گھرانوں میں آسانی سے بین المذاہب شادیوں کو قبول نہیں کیا جاتا۔اس طرح یہ صاف ہوجاتا ہے کہ دونوں ہی طبقات لبرلزم اور وقتی جذبات کے تحت ایسی شادیاں کرتے ہیں۔سازش اور لو جہاد کا شوشہ محض پروپگنڈہ ہے۔
مذکورہ قانون کے بعد طبقہ دوم کے نوجوان ہی حکومت وانتظامیہ کے رڈار پر ہوں گے۔کیوں کہ طبقہ اول کو تو خود حکومت بڑے عہدے سے نوازتی ہے تاکہ اس کے ذریعے اپنے مقا
صد کو سادھ سکے۔پورے معاملے کا سب سے تشویش ناک پہلو مسلم لڑکیوں کے خلاف ہونے والی سازش ہے۔جس کے تحت اچھے گھر مکان اور اعلی سوسائٹی میں رہنے کا لالچ دیکر مسلم لڑکیوں کو مرتد بنایا جاتا ہے۔اس سازش کے دو بنیادی مقصد ہیں:
1-مسلم معاشرے میں ارتداد پھیلانا۔
2-نفسیاتی طور پر مغلوب کرنا۔
عام طور پر حکومتی ملازمت اور کاروبار میں غیر مسلم نوجوانوں کا تناسب مسلم نوجوانوں سے زیادہ ہوتا ہے۔غیر مسلم علاقے بھی مسلم علاقوں سے زیادہ ترقی یافتہ ہوتے ہیں۔انہیں چیزوں کا لالچ دیکر مسلم لڑکیوں کو ورغلایا جاتا ہے۔اس کے ساتھ ہی ان پر پردے وغیرہ کے حوالے سے نفسیاتی حملہ بھی کیا جاتا ہے۔کیوں کہ اسلام میں معاشرتی زندگی کے لیے کچھ حدود وقیود ہیں جبکہ دیگر مذاہب میں پردے وحیا کا تصور سرے سے نہیں ہے۔یہی وجہ ہے کہ بڑی تیزی کے ساتھ مسلم لڑکیاں غیر مسلم لڑکوں سے شادیاں کر رہی ہیں۔اس بڑھتے ہوئے رجحان میں سنیما اور ٹی وی سیریل بھی اہم رول ادا کر رہے ہیں۔ضرورت ہے کہ والدین اپنے بچوں خصوصاً بچیوں پر بہت زیادہ دھیان دیں۔تعلیم،ٹیوشن اور ملازمت کے نام پر چھوٹ دینا بچیوں کا ایمان اور اپنی رسوائی کا سامان کرنا ہے۔علما اور مبلغین بھی ایسے موضوعات پر عوامی بیداری پیدا کریں تاکہ معاشرے کی اصلاح ہوسکے۔
11 ربیع الثانی 1442ھ
27 نومبر 2020 بروز جمعہ
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/818317942072059/
1-مسلم معاشرے میں ارتداد پھیلانا۔
2-نفسیاتی طور پر مغلوب کرنا۔
عام طور پر حکومتی ملازمت اور کاروبار میں غیر مسلم نوجوانوں کا تناسب مسلم نوجوانوں سے زیادہ ہوتا ہے۔غیر مسلم علاقے بھی مسلم علاقوں سے زیادہ ترقی یافتہ ہوتے ہیں۔انہیں چیزوں کا لالچ دیکر مسلم لڑکیوں کو ورغلایا جاتا ہے۔اس کے ساتھ ہی ان پر پردے وغیرہ کے حوالے سے نفسیاتی حملہ بھی کیا جاتا ہے۔کیوں کہ اسلام میں معاشرتی زندگی کے لیے کچھ حدود وقیود ہیں جبکہ دیگر مذاہب میں پردے وحیا کا تصور سرے سے نہیں ہے۔یہی وجہ ہے کہ بڑی تیزی کے ساتھ مسلم لڑکیاں غیر مسلم لڑکوں سے شادیاں کر رہی ہیں۔اس بڑھتے ہوئے رجحان میں سنیما اور ٹی وی سیریل بھی اہم رول ادا کر رہے ہیں۔ضرورت ہے کہ والدین اپنے بچوں خصوصاً بچیوں پر بہت زیادہ دھیان دیں۔تعلیم،ٹیوشن اور ملازمت کے نام پر چھوٹ دینا بچیوں کا ایمان اور اپنی رسوائی کا سامان کرنا ہے۔علما اور مبلغین بھی ایسے موضوعات پر عوامی بیداری پیدا کریں تاکہ معاشرے کی اصلاح ہوسکے۔
11 ربیع الثانی 1442ھ
27 نومبر 2020 بروز جمعہ
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/818317942072059/
Facebook
Log in to Facebook
Log in to Facebook to start sharing and connecting with your friends, family and people you know.
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
#حضرت_عثمان:#غنی_بھی_ذوالنورین_بھی!!
غلام مصطفےٰ نعیمی
مدیر اعلیٰ سواد اعظم دہلی
عبدالمطلب بن ہاشم قبیلے کے باثر اور رسوخ دار شخص مانے جاتے تھے۔خدا نے کئی بیٹے بیٹیوں سے نوازا تھا۔ایک بار پھر ان کی اہلیہ امید سے تھیں۔وقت پورا ہوا۔فضل ربی سے جڑواں بچوں کی ولادت ہوئی۔بیٹے اور بیٹی کی آمد نے پورے گھر میں خوشیاں بکھیر دیں۔بیٹے کا نام عبداللہ اور بیٹی کا نام بیضاء رکھا گیا۔
آپ جانتے ہیں یہ دونوں جڑواں بھائی بہن کون تھے؟
نومولود عبداللہ، کائنات کی افضل ترین ہستی، خاتم النبیین، محبوب خدا جناب محمد رسول اللہ ﷺ کے والد اور وہ خوش نصیب بہن آپ ﷺ کی سگی پھوپی تھیں۔یہی بیضاء بنت عبدالمطلب خلیفہ سوم، داماد رسول حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی سگی نانی بھی تھیں۔آپ کی بیٹی ارویٰ بنت کریز عفان بن ابوالعاص سے بیاہی تھیں۔انہیں ارویٰ بنت کریز کے بطن سے حضرت عثمان عام الفیل کے تقریباً چھ سال بعد 576ء میں پیدا ہوئے۔
سرزمین عرب کے دن سنورنے والے تھے۔خزاں کا موسم آمد بہار کا اشارہ محسوس کر رہا تھا۔محبوب خدا ﷺ اعلان نبوت فرما چکے تھے۔آپ کے یار غار سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ تبلیغ اسلام کے لیے خود کو وقف کر چکے تھے۔آپ ایک کامیاب تاجر اور معاشرے کے اعلی طبقے سے تعلق رکھتے تھے آپ کا اٹھنا بیٹھنا ہر طبقے میں خوب تھا۔حضرت عثمان بن عفان جوان تھے اور کامیاب تاجر بھی !!
حضرت عثمان وہ غیر معمولی جوان تھے جو معاشرے کی روایتی برائیوں سے بالکل محفوظ تھے۔بت پرستی شراب نوشی اور زنا جیسی بدترین برائیوں سے کوسوں دور تھے۔آپ کی انہیں خوبیوں اور نفیس طبیعت کو دیکھتے ہوئے حضرت ابوبکر صدیق نے آپ کو اسلام کی دعوت پیش کی۔اس زمانے میں خاندان بنو امیہ خاندان قریش کا حریف سمجھا جاتا تھا۔دونوں ہی خاندانوں میں شرف وعزت اور غلبے کے لیے چپقلش رہتی تھی۔حضرت عثمان کا تعلق اگرچہ بنو امیہ سے تھا مگر آپ کا دل خاندانی تعصب وعناد سے پاک وصاف تھا اس لیے کلمہ پڑھ کر نبی اکرم ﷺ کے دامن کرم سے وابستہ ہوگئے۔اسلام قبول کرنے والے آپ چوتھے انسان تھے۔آپ سے پہلے صدیق اکبر،حضرت علی اور حضرت زید ایمان لاچکے تھے۔آپ کی شرافت اور پاکیزہ چال چلن کو دیکھ کر نبی رحمت ﷺ نے اپنی منجھلی شہزادی سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا کا نکاح آپ سے کردیا۔دونوں میاں بیوی تاریخ اسلام کے ان خوش نصیب زوجین میں شامل ہیں جنہیں دو ہجرتوں کا شرف حاصل ہوا۔سب سے پہلے آپ نے حبشہ (Ethiopia) کی جانب ہجرت کی بعدہ مکہ واپس آئے اور مدینہ منورہ کی جانب ہجرت فرمائی۔آپ خود فرماتے ہیں:
وھاجرت الھجرتین الاولیین۔
(بخاری:فضائل اصحاب النبی)
"میں نے اسلام کی پہلی دو ہجرتیں کی ہیں۔"
مدینہ منورہ پہنچ کر مسلمانوں کو ذرا سکون ملا ہی تھا کہ کفار مکہ نے جنگ کا بگل بجا دیا۔چار ناچار مسلمانوں کو جنگ کے لیے نکلنا ہی پڑا۔ایک طرف مجاہدین اسلام دین کی حفاظت کے لیے کمر بستہ ہو رہے تھے تو دوسری جانب شہزادی کونین سیدہ رقیہ سخت بیمار تھیں۔یہ صورت حال حضورﷺ اور حضرت عثمان کے لیے بڑی آزمائش بھری تھی، ایک طرف بیمار بیٹی کی صورت پدری محبت کو آواز دے رہی تھی تو دوسری جانب اسلام کے وجود پر کفر کے گھنے بادل چھانے کی تیاری کر رہے تھے۔حضور نے نم آنکھوں کے ساتھ اسلام کو بیٹی پر فوقیت دی اور حضرت عثمان کو مدینہ میں ہی رکنے کا حکم دیا۔حضرت عثمان کے لیے بڑی کٹھن گھڑی تھی،ایک طرف شریک حیات صاحب فراش تھیں،دوسری جانب ان کے دوست واحباب تحفظ اسلام کی خاطر جانوں کی بازی لگانے جارہے تھے۔دل تو ان کا بھی چاہتا تھا کہ اپنے دوستوں کے ساتھ دفاع اسلام کی خدمت انجام دیں مگر اہلیہ کی بیماری اور حضور کے حکم پر اپنی خواہشات روک کر شہزادی رسول کی دیکھ بھال میں جٹے رہے۔
بدر کے میدان میں کفر و اسلام کے مابین زور آزمائی چل رہی تھی تو مدینۃ الرسول میں شہزادی رسول موت وحیات کی منزلوں سے گزر رہی تھیں۔ادھر لشکر اسلام نے تاریخی فتح حاصل کی ادھر سیدہ نے بابا کے آنے کا انتظار بھی نہیں کیا اور رب تعالیٰ کی مہمان بن کر راہی ملک عدم ہوگئیں۔
سیدہ رقیہ کے وصال کے بعد حضرت عمر نے سیدنا عثمان کے لیے اپنی بیٹی حضرت حفصہ کا رشتہ پیش کیا۔مشیت الٰہی آپ کو ایک منفرد اعزاز کے لیے منتخب کر چکی تھی۔اس لیے آپ نے کوئی جواب نہیں دیا۔حضرت عمر کو یہ بات بہت گراں گزری، آپ شکایت لیکر بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئے۔آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
هل لَك في خيرٍ من ذلِك؟ أتزوَّجُ أنا حفصةَ وأزوِّجُ عثمانَ خيرًا منها أمَّ كُلثومٍ.
(ابن عبد البر (ت ٤٦٤)، الاستيعاب ٤/٣٩٩)
"کیا میں تمہیں عثمان سے بہتر رشتہ نہ بتاؤں؟آپ حفصہ کا نکاح مجھ سے کردیں۔اور میں عثمان سے اپنی بیٹی ام کلثوم کا نکاح کردیتا ہوں جو حفصہ سے بہتر ہے۔"
اس طرح آپ تاریخ انسانی کے وہ پہلے اور آخری خوش نصیب انسان بنے جس کے نکاح میں کسی نبی کی دو شہزادیاں آئیں، اسی نسبت سے آپ ذوالنورین کہلائے:
نور کی سرکار سے پایا دوشالہ نور کا
ہو مبارک تم کو ذُو النُّوْرَیْن جوڑا ن
غلام مصطفےٰ نعیمی
مدیر اعلیٰ سواد اعظم دہلی
عبدالمطلب بن ہاشم قبیلے کے باثر اور رسوخ دار شخص مانے جاتے تھے۔خدا نے کئی بیٹے بیٹیوں سے نوازا تھا۔ایک بار پھر ان کی اہلیہ امید سے تھیں۔وقت پورا ہوا۔فضل ربی سے جڑواں بچوں کی ولادت ہوئی۔بیٹے اور بیٹی کی آمد نے پورے گھر میں خوشیاں بکھیر دیں۔بیٹے کا نام عبداللہ اور بیٹی کا نام بیضاء رکھا گیا۔
آپ جانتے ہیں یہ دونوں جڑواں بھائی بہن کون تھے؟
نومولود عبداللہ، کائنات کی افضل ترین ہستی، خاتم النبیین، محبوب خدا جناب محمد رسول اللہ ﷺ کے والد اور وہ خوش نصیب بہن آپ ﷺ کی سگی پھوپی تھیں۔یہی بیضاء بنت عبدالمطلب خلیفہ سوم، داماد رسول حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی سگی نانی بھی تھیں۔آپ کی بیٹی ارویٰ بنت کریز عفان بن ابوالعاص سے بیاہی تھیں۔انہیں ارویٰ بنت کریز کے بطن سے حضرت عثمان عام الفیل کے تقریباً چھ سال بعد 576ء میں پیدا ہوئے۔
سرزمین عرب کے دن سنورنے والے تھے۔خزاں کا موسم آمد بہار کا اشارہ محسوس کر رہا تھا۔محبوب خدا ﷺ اعلان نبوت فرما چکے تھے۔آپ کے یار غار سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ تبلیغ اسلام کے لیے خود کو وقف کر چکے تھے۔آپ ایک کامیاب تاجر اور معاشرے کے اعلی طبقے سے تعلق رکھتے تھے آپ کا اٹھنا بیٹھنا ہر طبقے میں خوب تھا۔حضرت عثمان بن عفان جوان تھے اور کامیاب تاجر بھی !!
حضرت عثمان وہ غیر معمولی جوان تھے جو معاشرے کی روایتی برائیوں سے بالکل محفوظ تھے۔بت پرستی شراب نوشی اور زنا جیسی بدترین برائیوں سے کوسوں دور تھے۔آپ کی انہیں خوبیوں اور نفیس طبیعت کو دیکھتے ہوئے حضرت ابوبکر صدیق نے آپ کو اسلام کی دعوت پیش کی۔اس زمانے میں خاندان بنو امیہ خاندان قریش کا حریف سمجھا جاتا تھا۔دونوں ہی خاندانوں میں شرف وعزت اور غلبے کے لیے چپقلش رہتی تھی۔حضرت عثمان کا تعلق اگرچہ بنو امیہ سے تھا مگر آپ کا دل خاندانی تعصب وعناد سے پاک وصاف تھا اس لیے کلمہ پڑھ کر نبی اکرم ﷺ کے دامن کرم سے وابستہ ہوگئے۔اسلام قبول کرنے والے آپ چوتھے انسان تھے۔آپ سے پہلے صدیق اکبر،حضرت علی اور حضرت زید ایمان لاچکے تھے۔آپ کی شرافت اور پاکیزہ چال چلن کو دیکھ کر نبی رحمت ﷺ نے اپنی منجھلی شہزادی سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا کا نکاح آپ سے کردیا۔دونوں میاں بیوی تاریخ اسلام کے ان خوش نصیب زوجین میں شامل ہیں جنہیں دو ہجرتوں کا شرف حاصل ہوا۔سب سے پہلے آپ نے حبشہ (Ethiopia) کی جانب ہجرت کی بعدہ مکہ واپس آئے اور مدینہ منورہ کی جانب ہجرت فرمائی۔آپ خود فرماتے ہیں:
وھاجرت الھجرتین الاولیین۔
(بخاری:فضائل اصحاب النبی)
"میں نے اسلام کی پہلی دو ہجرتیں کی ہیں۔"
مدینہ منورہ پہنچ کر مسلمانوں کو ذرا سکون ملا ہی تھا کہ کفار مکہ نے جنگ کا بگل بجا دیا۔چار ناچار مسلمانوں کو جنگ کے لیے نکلنا ہی پڑا۔ایک طرف مجاہدین اسلام دین کی حفاظت کے لیے کمر بستہ ہو رہے تھے تو دوسری جانب شہزادی کونین سیدہ رقیہ سخت بیمار تھیں۔یہ صورت حال حضورﷺ اور حضرت عثمان کے لیے بڑی آزمائش بھری تھی، ایک طرف بیمار بیٹی کی صورت پدری محبت کو آواز دے رہی تھی تو دوسری جانب اسلام کے وجود پر کفر کے گھنے بادل چھانے کی تیاری کر رہے تھے۔حضور نے نم آنکھوں کے ساتھ اسلام کو بیٹی پر فوقیت دی اور حضرت عثمان کو مدینہ میں ہی رکنے کا حکم دیا۔حضرت عثمان کے لیے بڑی کٹھن گھڑی تھی،ایک طرف شریک حیات صاحب فراش تھیں،دوسری جانب ان کے دوست واحباب تحفظ اسلام کی خاطر جانوں کی بازی لگانے جارہے تھے۔دل تو ان کا بھی چاہتا تھا کہ اپنے دوستوں کے ساتھ دفاع اسلام کی خدمت انجام دیں مگر اہلیہ کی بیماری اور حضور کے حکم پر اپنی خواہشات روک کر شہزادی رسول کی دیکھ بھال میں جٹے رہے۔
بدر کے میدان میں کفر و اسلام کے مابین زور آزمائی چل رہی تھی تو مدینۃ الرسول میں شہزادی رسول موت وحیات کی منزلوں سے گزر رہی تھیں۔ادھر لشکر اسلام نے تاریخی فتح حاصل کی ادھر سیدہ نے بابا کے آنے کا انتظار بھی نہیں کیا اور رب تعالیٰ کی مہمان بن کر راہی ملک عدم ہوگئیں۔
سیدہ رقیہ کے وصال کے بعد حضرت عمر نے سیدنا عثمان کے لیے اپنی بیٹی حضرت حفصہ کا رشتہ پیش کیا۔مشیت الٰہی آپ کو ایک منفرد اعزاز کے لیے منتخب کر چکی تھی۔اس لیے آپ نے کوئی جواب نہیں دیا۔حضرت عمر کو یہ بات بہت گراں گزری، آپ شکایت لیکر بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئے۔آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
هل لَك في خيرٍ من ذلِك؟ أتزوَّجُ أنا حفصةَ وأزوِّجُ عثمانَ خيرًا منها أمَّ كُلثومٍ.
(ابن عبد البر (ت ٤٦٤)، الاستيعاب ٤/٣٩٩)
"کیا میں تمہیں عثمان سے بہتر رشتہ نہ بتاؤں؟آپ حفصہ کا نکاح مجھ سے کردیں۔اور میں عثمان سے اپنی بیٹی ام کلثوم کا نکاح کردیتا ہوں جو حفصہ سے بہتر ہے۔"
اس طرح آپ تاریخ انسانی کے وہ پہلے اور آخری خوش نصیب انسان بنے جس کے نکاح میں کسی نبی کی دو شہزادیاں آئیں، اسی نسبت سے آپ ذوالنورین کہلائے:
نور کی سرکار سے پایا دوشالہ نور کا
ہو مبارک تم کو ذُو النُّوْرَیْن جوڑا ن
ور کا
یوں تو اہل عرب کی زبان ایک ہی تھی مگر لب و لہجہ اور انداز تکلم ایک دوسرے سے قدرے مختلف تھا۔یہ بات مشاہداتی ہے کہ ہر زبان کا تلفظ علاقہ بدلنے کے ساتھ تھوڑا بہت تبدیل ہوجاتا ہے۔دہلی وحیدرآباد میں اردو زبان استعمال ہوتی ہے لیکن بعض جملوں کے تلفظ وکتابت میں خاصا فرق آجاتا ہے،ہمارے یہاں Lab کو "لَیب" لکھا جاتا ہے جبکہ حیدرآباد میں اسی لفظ کو "لیاب" لکھا جاتا ہے۔زبان ایک ہے مگر علاقہ کی تبدیلی سے تلفظ وکتابت میں فرق آجاتا ہے۔حالانکہ مفہوم ایک ہی رہتا ہے۔اسی طرح عرب قبائل کی زبان تو عربی ہی تھی لیکن بعض الفاظ کے تلفظ وکتابت میں فرق بھی پایا جاتا تھا۔ابتدائے اسلام میں قبائل عرب کو اپنے اپنے تلفظ کے مطابق قرآن پڑھنے کی آزادی تھی۔لیکن اسلام کی بڑھتی ہوئی وسعت اور نئے افراد کی شمولیت سے کئی مقام پر قرآت قرآن کو لیکر اختلاف شروع ہوگیا۔کوئی ایک انداز میں قرآن پڑھتا تو دوسرے کو لگتا کہ وہ غلط پڑھ رہا ہے۔ٹوکنے پر دوسرا فریق یہ سمجھتا کہ فریق اول کی قرأت صحیح نہیں ہے۔اس طرح ہر ایک خود کو درست اور دوسرے کو غلط بتاتا۔یوں اختلاف بڑھتا گیا۔نوبت یہاں تک پہنچی کہ اختلاف تنازع کی صورت اختیار کرنے لگے۔جب ایسی شکایتیں زیادہ بڑھ گئیں تو حضرت حذیفہ سیدنا عثمان غنی کے پاس آئے اور قرأت قرآن پر اختلاف اور تنازعات کی سنگینی کا احساس دلاتے ہوئے عرض کیا:
یاأمير المؤمنين أدرك هذه الأمة قبل أن يختلفوا في الكتاب كما اختلفت اليهودوالنصارى۔
(سنن ترمذی کتاب تفسیر القرآن)
"امیر المؤمنین!اس امت کو سنبھال لیجیے، اس سے پہلے کہ یہ کتاب اللہ میں اسی طرح اختلاف کرے جس طرح یہود و نصاریٰ نے اپنی کتابوں میں اختلاف کیا۔"
صورت حال واقعی نازک تھی کہ کوئی بھی نومسلم قرآن سیکھتا تو کسی ایک ہی تلفظ وقرأت کے مطابق سیکھتا۔دو مختلف علاقوں کے لوگ دو الگ انداز میں قرآن پڑھتے اس طرح اختلاف سنگین ہونے کے خدشات تھے۔حضرت عثمان نے نزاکت کا احساس کیا اور ام المومنین حضرت حفصہ کو پیغام بھجوایا:
فأرسل إلى حفصة أن أرسلي إلينا بالصحف ننسخها في المصاحف ثم نردها إليك فأرسلت حفصة إلى عثمان۔(ایضاً)
"حضرت عثمان نے ام المومنین حضرت حفصہ کو پیغام بھجوایا کہ آپ مصحف صدیقی ہمارے پاس بھجوادیں تاکہ ہم اس سے مزید نقلیں تیار کرالیں۔پھر ہم اسے آپ کو واپس لوٹا دیں گے۔یہ سن کر حضرت حفصہ نے مصحف صدیقی حضرت عثمان کو بھیج دیا۔"
ام المومنین حضرت حفصہ کے پاس قرآن مجید کا وہ نسخہ محفوظ تھا جسے حضرت ابوبکر صدیق نے جمع کرایا تھا۔یہ نسخہ زبان قریش کے مطابق لکھا گیا تھا-حضرت عثمان نے حضرت زید بن ثابت ،حضرت عبداللہ بن زبیر ،حضرت سعید بن العاص اور حضرت عبدالرحمٰن بن حارث کو قرآن کو لغت قریش کے مطابق لکھنے کی ذمہ داری سونپی اور یہ ہدایت بھی فرمائی:
إذا اختلفتم أنتم وزيد بن ثابت في شيء من القرآن فاكتبوه بلسان قريش فإنما نزل بلسانهم۔
(فتح الباري شرح بخاري ص: 621)
"اگر تم میں اور زید بن ثابت میں قرآن کی کتابت کے بارے میں اختلاف ہوجائے تو اسے قریش کی زبان کے مطابق لکھنا کیوں کہ قرآن انہیں کی زبان کے مطابق نازل ہوا ہے۔"
کاتبین وحی کی پر خلوص جدوجہد اور سیدنا عثمان غنی کی سرپرستی میں قبیلہ قریش کے انداز تکلم اور رسم الخط کا لحاظ رکھتے ہوئے مصحف صدیقی کی کئی نقلیں تیار کرائی گئیں۔اور مختلف اسلامی شہروں میں بھیج دی گئیں۔دیگر اسلوب وکتابت والی نقول کو واپس منگوا کر منسوخ کرادیا اس طرح پوری امت ایک ہی نسخہ قرآن پر جمع ہوگئی۔آج بھارت سے برطانیہ اور افریقہ سے عرب تک ہی ایک ہی نسخہ قرآن پایا جاتا ہے۔
ہجرت کا نواں سال چل رہا تھا۔جس تیزی کے ساتھ اسلام کی مقبولیت بڑھ رہی تھی اسلام کے دشمن بھی اسی تعداد میں بڑھ رہے تھے۔عرب اور شام کے درمیان سلطنت غسان قائم تھی اور ہرقل روم کی تابع تھی۔اس سے قبل جنگ موتہ میں رومی ہزیمت اٹھا چکے تھے۔اس لیے اس بار انہوں نے بڑی تیاری کی۔شامی سرحد پر عیسائی لشکر جمع ہوچکا تھا۔حضور ﷺ نے اس حملے سے بچاؤ کے لیے مدینے سے باہر جاکر لڑنے کا ارادہ فرمایا۔تاریخ میں یہ جنگ غزوہ تبوک کے نام سے معروف ہے۔ان دنوں مسلمانوں کی مالی حالت بے حد کمزور تھی۔لشکر کے پاس فوجی ساز وسامان، سواریاں اور کھانے پینے کے سامان کی سخت قلت تھی۔سختی کا عالم یہ تھا کہ حضورﷺ نے منبر سے عام چندے کا اعلان فرمایا۔حضرت عثمان کا تجارتی قافلہ شام کی جانب روانہ ہونے والا تھا کہ حضور کا اعلان سماعت کیا۔اعلان سنتے ہی سارا ساز وسامان حضور علیہ السلام کی بارگاہ میں پیش کردیا۔اس مال میں 900 اونٹ 100 گھوڑے مع ساز وبراق اور 1000 ہزار سونے کے دینار شامل تھے۔
اس زمانے میں اونٹ اور گھوڑے انتہائی قیمتی جانور مانے جاتے تھے۔آج بھی دونوں جانور بیش قیمت سمجھے جاتے ہیں۔اگر موجودہ وقت میں ایک اونٹ کو 50 ہزار کا بھی مان لیا جائے تو 900×50,000 کی رقم ساڑھے چار کروڑ روپے بنتی ہے۔اسی رقم میں سو گھوڑوں کی قیمت بھی اسی مد میں جوڑ دیں تو کُل قیمت پانچ کروڑ ہوج
یوں تو اہل عرب کی زبان ایک ہی تھی مگر لب و لہجہ اور انداز تکلم ایک دوسرے سے قدرے مختلف تھا۔یہ بات مشاہداتی ہے کہ ہر زبان کا تلفظ علاقہ بدلنے کے ساتھ تھوڑا بہت تبدیل ہوجاتا ہے۔دہلی وحیدرآباد میں اردو زبان استعمال ہوتی ہے لیکن بعض جملوں کے تلفظ وکتابت میں خاصا فرق آجاتا ہے،ہمارے یہاں Lab کو "لَیب" لکھا جاتا ہے جبکہ حیدرآباد میں اسی لفظ کو "لیاب" لکھا جاتا ہے۔زبان ایک ہے مگر علاقہ کی تبدیلی سے تلفظ وکتابت میں فرق آجاتا ہے۔حالانکہ مفہوم ایک ہی رہتا ہے۔اسی طرح عرب قبائل کی زبان تو عربی ہی تھی لیکن بعض الفاظ کے تلفظ وکتابت میں فرق بھی پایا جاتا تھا۔ابتدائے اسلام میں قبائل عرب کو اپنے اپنے تلفظ کے مطابق قرآن پڑھنے کی آزادی تھی۔لیکن اسلام کی بڑھتی ہوئی وسعت اور نئے افراد کی شمولیت سے کئی مقام پر قرآت قرآن کو لیکر اختلاف شروع ہوگیا۔کوئی ایک انداز میں قرآن پڑھتا تو دوسرے کو لگتا کہ وہ غلط پڑھ رہا ہے۔ٹوکنے پر دوسرا فریق یہ سمجھتا کہ فریق اول کی قرأت صحیح نہیں ہے۔اس طرح ہر ایک خود کو درست اور دوسرے کو غلط بتاتا۔یوں اختلاف بڑھتا گیا۔نوبت یہاں تک پہنچی کہ اختلاف تنازع کی صورت اختیار کرنے لگے۔جب ایسی شکایتیں زیادہ بڑھ گئیں تو حضرت حذیفہ سیدنا عثمان غنی کے پاس آئے اور قرأت قرآن پر اختلاف اور تنازعات کی سنگینی کا احساس دلاتے ہوئے عرض کیا:
یاأمير المؤمنين أدرك هذه الأمة قبل أن يختلفوا في الكتاب كما اختلفت اليهودوالنصارى۔
(سنن ترمذی کتاب تفسیر القرآن)
"امیر المؤمنین!اس امت کو سنبھال لیجیے، اس سے پہلے کہ یہ کتاب اللہ میں اسی طرح اختلاف کرے جس طرح یہود و نصاریٰ نے اپنی کتابوں میں اختلاف کیا۔"
صورت حال واقعی نازک تھی کہ کوئی بھی نومسلم قرآن سیکھتا تو کسی ایک ہی تلفظ وقرأت کے مطابق سیکھتا۔دو مختلف علاقوں کے لوگ دو الگ انداز میں قرآن پڑھتے اس طرح اختلاف سنگین ہونے کے خدشات تھے۔حضرت عثمان نے نزاکت کا احساس کیا اور ام المومنین حضرت حفصہ کو پیغام بھجوایا:
فأرسل إلى حفصة أن أرسلي إلينا بالصحف ننسخها في المصاحف ثم نردها إليك فأرسلت حفصة إلى عثمان۔(ایضاً)
"حضرت عثمان نے ام المومنین حضرت حفصہ کو پیغام بھجوایا کہ آپ مصحف صدیقی ہمارے پاس بھجوادیں تاکہ ہم اس سے مزید نقلیں تیار کرالیں۔پھر ہم اسے آپ کو واپس لوٹا دیں گے۔یہ سن کر حضرت حفصہ نے مصحف صدیقی حضرت عثمان کو بھیج دیا۔"
ام المومنین حضرت حفصہ کے پاس قرآن مجید کا وہ نسخہ محفوظ تھا جسے حضرت ابوبکر صدیق نے جمع کرایا تھا۔یہ نسخہ زبان قریش کے مطابق لکھا گیا تھا-حضرت عثمان نے حضرت زید بن ثابت ،حضرت عبداللہ بن زبیر ،حضرت سعید بن العاص اور حضرت عبدالرحمٰن بن حارث کو قرآن کو لغت قریش کے مطابق لکھنے کی ذمہ داری سونپی اور یہ ہدایت بھی فرمائی:
إذا اختلفتم أنتم وزيد بن ثابت في شيء من القرآن فاكتبوه بلسان قريش فإنما نزل بلسانهم۔
(فتح الباري شرح بخاري ص: 621)
"اگر تم میں اور زید بن ثابت میں قرآن کی کتابت کے بارے میں اختلاف ہوجائے تو اسے قریش کی زبان کے مطابق لکھنا کیوں کہ قرآن انہیں کی زبان کے مطابق نازل ہوا ہے۔"
کاتبین وحی کی پر خلوص جدوجہد اور سیدنا عثمان غنی کی سرپرستی میں قبیلہ قریش کے انداز تکلم اور رسم الخط کا لحاظ رکھتے ہوئے مصحف صدیقی کی کئی نقلیں تیار کرائی گئیں۔اور مختلف اسلامی شہروں میں بھیج دی گئیں۔دیگر اسلوب وکتابت والی نقول کو واپس منگوا کر منسوخ کرادیا اس طرح پوری امت ایک ہی نسخہ قرآن پر جمع ہوگئی۔آج بھارت سے برطانیہ اور افریقہ سے عرب تک ہی ایک ہی نسخہ قرآن پایا جاتا ہے۔
ہجرت کا نواں سال چل رہا تھا۔جس تیزی کے ساتھ اسلام کی مقبولیت بڑھ رہی تھی اسلام کے دشمن بھی اسی تعداد میں بڑھ رہے تھے۔عرب اور شام کے درمیان سلطنت غسان قائم تھی اور ہرقل روم کی تابع تھی۔اس سے قبل جنگ موتہ میں رومی ہزیمت اٹھا چکے تھے۔اس لیے اس بار انہوں نے بڑی تیاری کی۔شامی سرحد پر عیسائی لشکر جمع ہوچکا تھا۔حضور ﷺ نے اس حملے سے بچاؤ کے لیے مدینے سے باہر جاکر لڑنے کا ارادہ فرمایا۔تاریخ میں یہ جنگ غزوہ تبوک کے نام سے معروف ہے۔ان دنوں مسلمانوں کی مالی حالت بے حد کمزور تھی۔لشکر کے پاس فوجی ساز وسامان، سواریاں اور کھانے پینے کے سامان کی سخت قلت تھی۔سختی کا عالم یہ تھا کہ حضورﷺ نے منبر سے عام چندے کا اعلان فرمایا۔حضرت عثمان کا تجارتی قافلہ شام کی جانب روانہ ہونے والا تھا کہ حضور کا اعلان سماعت کیا۔اعلان سنتے ہی سارا ساز وسامان حضور علیہ السلام کی بارگاہ میں پیش کردیا۔اس مال میں 900 اونٹ 100 گھوڑے مع ساز وبراق اور 1000 ہزار سونے کے دینار شامل تھے۔
اس زمانے میں اونٹ اور گھوڑے انتہائی قیمتی جانور مانے جاتے تھے۔آج بھی دونوں جانور بیش قیمت سمجھے جاتے ہیں۔اگر موجودہ وقت میں ایک اونٹ کو 50 ہزار کا بھی مان لیا جائے تو 900×50,000 کی رقم ساڑھے چار کروڑ روپے بنتی ہے۔اسی رقم میں سو گھوڑوں کی قیمت بھی اسی مد میں جوڑ دیں تو کُل قیمت پانچ کروڑ ہوج
اتی ہے۔
ایک دینار 4 گرام 374 ملی گرام وزن کا ہوتا ہے۔موجودہ وقت میں ایک گرام سونا 4800 روپے کا ہوتا ہے۔اس طرح ایک دینار کو 4 گرام کا بھی مان لیں تو ایک دینار کی قیمت 19200 روپے اور ایک ہزار دینار کی قیمت ایک کروڑ 92 لاکھ روپے بنتی ہے جبکہ وکی پیڈیا کے مطابق ایک ہزار دینار کی قیمت 1 ارب سے زائد بنتی ہے۔حضرت عبدالرحمن بن سمرہ بیان فرماتے ہیں کہ غزوہ تبوک کے موقع پر سیدنا عثمان ایک ہزار دینار لیکر آئے اور نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں پیش کردیا۔
قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَلِّبُهَا فِي حِجْرِهِ وَيَقُولُ: مَا ضَرَّ عُثْمَانَ مَا عَمِلَ بَعْدَ الْيَوْمِ مَرَّتَيْنِ۔
(ترمذی، کتاب المناقب:3701)
"حضرت عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺان دیناروں کو دامن میں الٹ پلٹ کر دیکھ رہے ہیں اور فرما رہے تھے آج کے بعد سے عثمان کو کوئی بھی برا عمل نقصان نہیں پہنچائے گا،ایسا آپ نے دو بار فرمایا۔"
آپ نے مسلمانوں کے لیے میٹھے پانی کا چشمہ خرید کر وقف کیا۔مسجد نبوی کی توسیع کرائی-ہر جمعہ کو غلام آزاد فرماتے غرضیکہ فلاحی کاموں کے لیے آپ ہمیشہ ہی تیار رہتے۔
جس طرح دولت عثمانی بے حساب تھی اسی طرح سخاوت عثمانی بھی اپنی مثال آپ تھی۔
آپ 12 سال تک مسند خلافت پر متمکن رہے۔اس درمیان جہاں اسلامی سرحدوں کو وسعت ملی تو مسلمانوں میں اعلی درجے کی خوش حالی بھی آئی۔مگر دور خلافت کے آخری حصے میں سازشوں کے سایے بڑھتے گئے۔آپ کی نرم دلی اور سادگی کا بیجا فائدہ اٹھایا گیا۔نتیجہ بغاوت کی صورت میں آیا اور بلوائیوں نے آپ کے مکان کو گھیر لیا۔جس نے مسلمانوں کے لیے میٹھے پانی کا چشمہ خریدا اسی پر پانی بند کردیا گیا۔جس نے مسلمانوں کی قحط سالی دیکھ سارا غلہ صدقہ کردیا، اُسی پر کھانا روک دیا گیا۔18 ذوالحجه 35ھ کو وہ وقت آیا کہ ایک زمانے کو اپنی سخاوت سے فیض یاب کرنے والے ذوالنورین تلاوت قرآن کرتے ہوئے نہایت سفاکی کے ساتھ شہید کر دئے گئے۔خون کے چھینٹے فَسَیَکۡفِیۡکَہُمُ اللّٰہُ ۚ وَہُوَالسَّمِیۡعُ الۡعَلِیۡمُ۔آیت پر پڑھے اور امت محمدیہ کو ایک نسخہ قرآن پر جمع کرنے والے جامع القرآن رب کے مہمان ہوگئے۔
یعنی عثمان صاحبِ قمیصِ ہُدیٰ
حُلَّہ پوشِ شہادت پہ لاکھوں سلام
15 ربیع الثانی 1442ھ
یکم دسمبر 2020 بروز منگل
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/820786388491881/
ایک دینار 4 گرام 374 ملی گرام وزن کا ہوتا ہے۔موجودہ وقت میں ایک گرام سونا 4800 روپے کا ہوتا ہے۔اس طرح ایک دینار کو 4 گرام کا بھی مان لیں تو ایک دینار کی قیمت 19200 روپے اور ایک ہزار دینار کی قیمت ایک کروڑ 92 لاکھ روپے بنتی ہے جبکہ وکی پیڈیا کے مطابق ایک ہزار دینار کی قیمت 1 ارب سے زائد بنتی ہے۔حضرت عبدالرحمن بن سمرہ بیان فرماتے ہیں کہ غزوہ تبوک کے موقع پر سیدنا عثمان ایک ہزار دینار لیکر آئے اور نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں پیش کردیا۔
قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَلِّبُهَا فِي حِجْرِهِ وَيَقُولُ: مَا ضَرَّ عُثْمَانَ مَا عَمِلَ بَعْدَ الْيَوْمِ مَرَّتَيْنِ۔
(ترمذی، کتاب المناقب:3701)
"حضرت عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺان دیناروں کو دامن میں الٹ پلٹ کر دیکھ رہے ہیں اور فرما رہے تھے آج کے بعد سے عثمان کو کوئی بھی برا عمل نقصان نہیں پہنچائے گا،ایسا آپ نے دو بار فرمایا۔"
آپ نے مسلمانوں کے لیے میٹھے پانی کا چشمہ خرید کر وقف کیا۔مسجد نبوی کی توسیع کرائی-ہر جمعہ کو غلام آزاد فرماتے غرضیکہ فلاحی کاموں کے لیے آپ ہمیشہ ہی تیار رہتے۔
جس طرح دولت عثمانی بے حساب تھی اسی طرح سخاوت عثمانی بھی اپنی مثال آپ تھی۔
آپ 12 سال تک مسند خلافت پر متمکن رہے۔اس درمیان جہاں اسلامی سرحدوں کو وسعت ملی تو مسلمانوں میں اعلی درجے کی خوش حالی بھی آئی۔مگر دور خلافت کے آخری حصے میں سازشوں کے سایے بڑھتے گئے۔آپ کی نرم دلی اور سادگی کا بیجا فائدہ اٹھایا گیا۔نتیجہ بغاوت کی صورت میں آیا اور بلوائیوں نے آپ کے مکان کو گھیر لیا۔جس نے مسلمانوں کے لیے میٹھے پانی کا چشمہ خریدا اسی پر پانی بند کردیا گیا۔جس نے مسلمانوں کی قحط سالی دیکھ سارا غلہ صدقہ کردیا، اُسی پر کھانا روک دیا گیا۔18 ذوالحجه 35ھ کو وہ وقت آیا کہ ایک زمانے کو اپنی سخاوت سے فیض یاب کرنے والے ذوالنورین تلاوت قرآن کرتے ہوئے نہایت سفاکی کے ساتھ شہید کر دئے گئے۔خون کے چھینٹے فَسَیَکۡفِیۡکَہُمُ اللّٰہُ ۚ وَہُوَالسَّمِیۡعُ الۡعَلِیۡمُ۔آیت پر پڑھے اور امت محمدیہ کو ایک نسخہ قرآن پر جمع کرنے والے جامع القرآن رب کے مہمان ہوگئے۔
یعنی عثمان صاحبِ قمیصِ ہُدیٰ
حُلَّہ پوشِ شہادت پہ لاکھوں سلام
15 ربیع الثانی 1442ھ
یکم دسمبر 2020 بروز منگل
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/820786388491881/
Facebook
Log in to Facebook
Log in to Facebook to start sharing and connecting with your friends, family and people you know.
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
https://twitter.com/RMustaqbil?s=09
#یہ_کامیابی_ٹیم_ورک_کا_نتیجہ_ہے
ہمارا آج کا ٹرینڈ زبردست کامیاب ہوا۔ اس کے لیے تنظیم "روشن مستقبل دہلی"، ٹویٹر ٹرینڈز گروپ کے ایک ایک فرد کی شکر گزار ہے۔
آپ سب نے ہماری آواز پر لبیک کہتے ہوئے اپنا قیمتی وقت دیا اور اس وقت تک انتھک کوشش کی جب تک کامیابی کو حاصل نہ کرلیا۔
ساتھ ہی قابل مبارکباد ہیں "ٹویٹر ٹرینڈ گروپ کا ایڈمن پینل" جس نے مناسب موقع کے ساتھ درست وقت کا انتخاب کیا۔ ان کی دور اندیشی نے آج کے ٹرینڈ کو کامیاب بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔
آج کے ٹرینڈ سے بھی ہم نے بہت کچھ سیکھا۔ ایک ضروری بات جو آج نوٹس کی گئی، وہ یہ کہ بار بار اغیار نے کہا: "اس ٹرینڈ میں صرف مسلمان ہی کیوں نظر آرہے ہیں؟". شاید یہ ایک بڑی وجہ ہے ہمارے گزشتہ ٹرینڈز کی ناکامی کی۔
لوگ ہمارے نام اور فوٹو دیکھ کر ٹرینڈ کو اگنور تو کرتے ہی ہیں ساتھ ہی رپورٹ بھی کرتے ہیں۔ اس کا حل یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ہم مذہبی ٹرینڈ کے علاوہ ہر ٹرینڈ میں کثرت کے ساتھ ایکسٹرا اکاؤنٹس کا استعمال کریں تاکہ دوسرے لوگ بھی ساتھ آئیں۔
یاد رہے! ہر ٹرینڈ میں ہمیں اس وقت تک سب کو جم کر محنت کرنی ہوگی جب تک ٹرینڈ لسٹ میں نہ آجائے، جب ٹرینڈ لسٹ میں آجائیگا تو کئی اور لوگ ساتھ دینے لگیں گے۔
امید کرتا ہوں کہ آج کی کامیابی نے ان لوگوں کو بھی ضرور قوت اور حوصلہ بخشا ہوگا جو گزشتہ ٹرینڈز کی ناکامی سے دل برداشتہ ہونگے۔
ہم کامیاب ضرور ہونگے بس ہمیں ٹیم کی طرح کام کرنا ہوگا۔ کسی کے بہکاوے میں آکر تنظیم کے خلاف جانے کی غلطی سے بچنا ہوگا۔
تنظیم جو بھی فیصلہ لیتی ہے بہت غور و خوض کرنے کے بعد لیتی ہے لہذا اس فیصلے کا احترام کریں۔
اگر کوئی بات قابل اعتراض لگے تو آپ ایڈمن حضرات میں سے کسی سے بھی پرسنل پر رابطہ کرلیں ان شاءاللہ عزوجل تشفی بخش جواب دیا جائے گا۔
دوسروں کے ٹرینڈز کا اعلان اور ان میں ساتھ دینے یا نہ دینے کے متعلق تنظیم بہت سوچ سمجھ کر فیصلہ لیتی ہے۔ اور وہ فیصلہ ایک ایک ممبر کی حفاظت کو نظر میں رکھ کر لیا جاتا ہے۔
کبھی اس کی حکمت اور وجہ بیان کی جاتی ہے اور کبھی نہیں۔
لہذا آپ سب ہمارے ساتھ بنے رہیں۔
ایک بار ہم پھر سے آپ کا شکریہ ادا کرتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ آپ اسی طرح ہمارے ساتھ جڑے رہیں گے اور قدم سے قدم ملا کر ہم سب کامیابی کی منزلوں کو پامال کرتے جائیں گے۔
(ان شاءاللہ عزوجل)
محمد شاہد علی مصباحی
رکن: روشن مستقبل دہلی
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/822556254981561/
#یہ_کامیابی_ٹیم_ورک_کا_نتیجہ_ہے
ہمارا آج کا ٹرینڈ زبردست کامیاب ہوا۔ اس کے لیے تنظیم "روشن مستقبل دہلی"، ٹویٹر ٹرینڈز گروپ کے ایک ایک فرد کی شکر گزار ہے۔
آپ سب نے ہماری آواز پر لبیک کہتے ہوئے اپنا قیمتی وقت دیا اور اس وقت تک انتھک کوشش کی جب تک کامیابی کو حاصل نہ کرلیا۔
ساتھ ہی قابل مبارکباد ہیں "ٹویٹر ٹرینڈ گروپ کا ایڈمن پینل" جس نے مناسب موقع کے ساتھ درست وقت کا انتخاب کیا۔ ان کی دور اندیشی نے آج کے ٹرینڈ کو کامیاب بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔
آج کے ٹرینڈ سے بھی ہم نے بہت کچھ سیکھا۔ ایک ضروری بات جو آج نوٹس کی گئی، وہ یہ کہ بار بار اغیار نے کہا: "اس ٹرینڈ میں صرف مسلمان ہی کیوں نظر آرہے ہیں؟". شاید یہ ایک بڑی وجہ ہے ہمارے گزشتہ ٹرینڈز کی ناکامی کی۔
لوگ ہمارے نام اور فوٹو دیکھ کر ٹرینڈ کو اگنور تو کرتے ہی ہیں ساتھ ہی رپورٹ بھی کرتے ہیں۔ اس کا حل یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ہم مذہبی ٹرینڈ کے علاوہ ہر ٹرینڈ میں کثرت کے ساتھ ایکسٹرا اکاؤنٹس کا استعمال کریں تاکہ دوسرے لوگ بھی ساتھ آئیں۔
یاد رہے! ہر ٹرینڈ میں ہمیں اس وقت تک سب کو جم کر محنت کرنی ہوگی جب تک ٹرینڈ لسٹ میں نہ آجائے، جب ٹرینڈ لسٹ میں آجائیگا تو کئی اور لوگ ساتھ دینے لگیں گے۔
امید کرتا ہوں کہ آج کی کامیابی نے ان لوگوں کو بھی ضرور قوت اور حوصلہ بخشا ہوگا جو گزشتہ ٹرینڈز کی ناکامی سے دل برداشتہ ہونگے۔
ہم کامیاب ضرور ہونگے بس ہمیں ٹیم کی طرح کام کرنا ہوگا۔ کسی کے بہکاوے میں آکر تنظیم کے خلاف جانے کی غلطی سے بچنا ہوگا۔
تنظیم جو بھی فیصلہ لیتی ہے بہت غور و خوض کرنے کے بعد لیتی ہے لہذا اس فیصلے کا احترام کریں۔
اگر کوئی بات قابل اعتراض لگے تو آپ ایڈمن حضرات میں سے کسی سے بھی پرسنل پر رابطہ کرلیں ان شاءاللہ عزوجل تشفی بخش جواب دیا جائے گا۔
دوسروں کے ٹرینڈز کا اعلان اور ان میں ساتھ دینے یا نہ دینے کے متعلق تنظیم بہت سوچ سمجھ کر فیصلہ لیتی ہے۔ اور وہ فیصلہ ایک ایک ممبر کی حفاظت کو نظر میں رکھ کر لیا جاتا ہے۔
کبھی اس کی حکمت اور وجہ بیان کی جاتی ہے اور کبھی نہیں۔
لہذا آپ سب ہمارے ساتھ بنے رہیں۔
ایک بار ہم پھر سے آپ کا شکریہ ادا کرتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ آپ اسی طرح ہمارے ساتھ جڑے رہیں گے اور قدم سے قدم ملا کر ہم سب کامیابی کی منزلوں کو پامال کرتے جائیں گے۔
(ان شاءاللہ عزوجل)
محمد شاہد علی مصباحی
رکن: روشن مستقبل دہلی
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/822556254981561/
Twitter
Roshan Mustaqbil روشن مستقبل (@RMustaqbil) | Twitter
The latest Tweets from Roshan Mustaqbil روشن مستقبل (@RMustaqbil). Human Rights Organization. India
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
اے پُرسکون چہرے والے! اب تجھے کوئی نہیں ستائے گا ، کوئی ظالم تیری مقدس داڑھی پکڑ کر ، تجھے معذوری میں نہیں گھسیٹے گا ۔
اب کوئی تیری پشت پر زخموں کے نشان نہ دیکھ پائے گا ، اب کبھی تجھے زنداں کی تاریکی میں مارا نہ جائے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کوئی سخت سردی میں تیرے نحیف جسم پر ٹھنڈا پانی نہیں پھینکے گا ۔
پس تو داخل ہو جا اپنے رب کی جنت میں ، یقینا اہل جنت تجھے مرحبا کہتے ہیں !!
اے شخص! تیری عاجزی کیسی بےمثل تھی ، وہ لاکھوں کا مجمع کہتا تھا:
" ہمارے شیخ کا مزار بنایا جائے گا "
اور تیری وصیت ایسی سادہ تھی کہ:
مجھے میرے کمرے میں دفن کر دینا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہی عظیم کمرہ جہاں تو دِلوں کو بدلا کرتا تھا !
اے اہل جہاں! وہ ساری عمر کہتا تھا میں نے کبھی کسی سے پیسے نہیں لیے ، آج دیکھ لو اس نے اپنے پیچھے کیا چھوڑا ؟؟
اگر چھوڑنا ہوتا تو اپنا مزار بننے دیتا ، باقیوں کی طرح اس کی نسلیں بھی چندے کھاتیں ؛ پر قربان ، وہ تو لاہور کا قلندر تھا ، اسلام کا ہمدرد تھا !!!!
اے بریلی والے! تو نے کہا تھا:
"مجھے نہیں معلوم کہ میرے بعد جو آئے گا وہ تمھیں کیا بتائے گا ، پس تم جان لو کہ حجت اللہ قائم ہو چکی"
وہ اکثر کہتا تھا:
"وہ درویش جو بریلی میں لیٹا ہے(احمد رضا بریلوی) ، وہ درویش جو سرہند میں لیٹا ہے(مجدد الف ثانی)"
آج میں کہتا ہوں:
"وہ درویش جو لاہور میں لیٹا ہے"
اے اہل جہاں!
میرا دل ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا ، میری آنکھیں خشک نہیں ہوتیں ، میں اس کی دید کو ترستا ہوں ؛ اس نے اپنا چہرہ ایسے چھپایا کہ محشر تک نہ دکھائے گا ۔
اے ابن حزم! نہ تجھے اپنے محبوب کا غم تھا ، اور نہ اے مجنوں! تجھے لیلی کی جدائی ڈستی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مجھ سے پوچھو میرے محبوب کی جدائی نے میرے دل پر قہر ڈھا دیے ہیں ۔
کاش اس کے پہلو میں مجھے بھی چند گز جگہ مل جاتی !
( یہ تحریر علی سنان کی ہے ، لیکن مکمل نہیں ؛ مکمل نیچے کمینٹ میں ملاحظہ کرلیں )
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3024225134524322&id=100008105947430
اب کوئی تیری پشت پر زخموں کے نشان نہ دیکھ پائے گا ، اب کبھی تجھے زنداں کی تاریکی میں مارا نہ جائے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کوئی سخت سردی میں تیرے نحیف جسم پر ٹھنڈا پانی نہیں پھینکے گا ۔
پس تو داخل ہو جا اپنے رب کی جنت میں ، یقینا اہل جنت تجھے مرحبا کہتے ہیں !!
اے شخص! تیری عاجزی کیسی بےمثل تھی ، وہ لاکھوں کا مجمع کہتا تھا:
" ہمارے شیخ کا مزار بنایا جائے گا "
اور تیری وصیت ایسی سادہ تھی کہ:
مجھے میرے کمرے میں دفن کر دینا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہی عظیم کمرہ جہاں تو دِلوں کو بدلا کرتا تھا !
اے اہل جہاں! وہ ساری عمر کہتا تھا میں نے کبھی کسی سے پیسے نہیں لیے ، آج دیکھ لو اس نے اپنے پیچھے کیا چھوڑا ؟؟
اگر چھوڑنا ہوتا تو اپنا مزار بننے دیتا ، باقیوں کی طرح اس کی نسلیں بھی چندے کھاتیں ؛ پر قربان ، وہ تو لاہور کا قلندر تھا ، اسلام کا ہمدرد تھا !!!!
اے بریلی والے! تو نے کہا تھا:
"مجھے نہیں معلوم کہ میرے بعد جو آئے گا وہ تمھیں کیا بتائے گا ، پس تم جان لو کہ حجت اللہ قائم ہو چکی"
وہ اکثر کہتا تھا:
"وہ درویش جو بریلی میں لیٹا ہے(احمد رضا بریلوی) ، وہ درویش جو سرہند میں لیٹا ہے(مجدد الف ثانی)"
آج میں کہتا ہوں:
"وہ درویش جو لاہور میں لیٹا ہے"
اے اہل جہاں!
میرا دل ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا ، میری آنکھیں خشک نہیں ہوتیں ، میں اس کی دید کو ترستا ہوں ؛ اس نے اپنا چہرہ ایسے چھپایا کہ محشر تک نہ دکھائے گا ۔
اے ابن حزم! نہ تجھے اپنے محبوب کا غم تھا ، اور نہ اے مجنوں! تجھے لیلی کی جدائی ڈستی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مجھ سے پوچھو میرے محبوب کی جدائی نے میرے دل پر قہر ڈھا دیے ہیں ۔
کاش اس کے پہلو میں مجھے بھی چند گز جگہ مل جاتی !
( یہ تحریر علی سنان کی ہے ، لیکن مکمل نہیں ؛ مکمل نیچے کمینٹ میں ملاحظہ کرلیں )
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3024225134524322&id=100008105947430
Facebook
Log in to Facebook
Log in to Facebook to start sharing and connecting with your friends, family and people you know.
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
عرب کے مشہور شاعر حضرت متمم بن نویرہ کے بھائی ایک لڑائی میں قتل ہوگئے -
آپ اپنے بھائی سے بہت زیادہ محبت کرتے تھے ، آپ کی یہ حالت ہوگئی کہ گھر بار چھوڑ کر قبائلِ عرب میں پِھرنا شروع کردیا ؛ جہاں جاتے عورتیں مرد آپ کے گرد جمع ہوجاتے اور آپ درد انگیز لہجے میں اپنے بھائی کا مرثیہ پڑھتے ، جو ایسا پُردرد ہوتا کہ ہرطرف سے گریہ و زاری کی آوازیں بلند ہونا شروع ہوجاتیں -
ایک دن مسجدنبوی شریف میں آئے اور مرثیے کے اشعار پڑھنا شروع کیے ۔
حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ اگرچہ نہایت مضبوط دل کے آدمی تھے ، لیکن آپ بھی ضبط نہ کرسکے اور رونا شروع کردیا -
جب مرثیہ ختم ہوا تو متمم سے فرمانے لگے:
تیرے غم کی حالت کہاں تک پہنچ گئی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ !!
متمم نے عرض کی:
امیرالمومنین بچپن میں ایک بیماری کی وجہ سے میری بائیں آنکھ کی رطوبت چلی گئی تھی ، میں جب کبھی روتا تو اُس آنکھ سے آنسونہیں نکلتے تھے ؛ بھائی کے مرنے کے بعد اُس آنکھ سے ایسے آنسو جاری ہوئے ہیں کہ اب تک نہیں تھمے -
سیدنا عمر پاک نے فرمایا:
میرے بھائی زید کا بھی ایک مرثیہ لکھ دو !
متمم نے ہامی بھر لی -
اگلے روز جب متمم نے حضرت عمررضی اللہ عنہ کو جناب زید کا مرثیہ سنایا توآپ نے کہا:
اس میں وہ درد نہیں جوکل والے مرثیے میں تھا ۔
متمم کہنے لگے:
امیرالمومنین ! زید آپ کے بھائی تھے میرے نہیں -
( یعنی جس درد سے میں نے اپنے بھائی کامرثیہ لکھا ، آپ کے بھائی کا کیسے لکھ سکتا تھا -
بڑی کوشش کے باوجود بھی وہ درد پیدا نہیں ہو سکتا تھا ، جو میرے دل میں اپنے بھائی کے لیے ہے )
********
شہیدِ محبت رحمہ اللہ کی یاد میں جو لوگ ابھی تک آنسو بہا رہے ہیں ، ہم اُن کی کیفیت کو نہیں سمجھ سکتے ۔
ہم بس دعا کرسکتے ہیں کہ رب تعالی انھیں صبر جمیل دے !
✍️لقمان شاہد
25-11-2020 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3024676334479202&id=100008105947430
آپ اپنے بھائی سے بہت زیادہ محبت کرتے تھے ، آپ کی یہ حالت ہوگئی کہ گھر بار چھوڑ کر قبائلِ عرب میں پِھرنا شروع کردیا ؛ جہاں جاتے عورتیں مرد آپ کے گرد جمع ہوجاتے اور آپ درد انگیز لہجے میں اپنے بھائی کا مرثیہ پڑھتے ، جو ایسا پُردرد ہوتا کہ ہرطرف سے گریہ و زاری کی آوازیں بلند ہونا شروع ہوجاتیں -
ایک دن مسجدنبوی شریف میں آئے اور مرثیے کے اشعار پڑھنا شروع کیے ۔
حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ اگرچہ نہایت مضبوط دل کے آدمی تھے ، لیکن آپ بھی ضبط نہ کرسکے اور رونا شروع کردیا -
جب مرثیہ ختم ہوا تو متمم سے فرمانے لگے:
تیرے غم کی حالت کہاں تک پہنچ گئی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ !!
متمم نے عرض کی:
امیرالمومنین بچپن میں ایک بیماری کی وجہ سے میری بائیں آنکھ کی رطوبت چلی گئی تھی ، میں جب کبھی روتا تو اُس آنکھ سے آنسونہیں نکلتے تھے ؛ بھائی کے مرنے کے بعد اُس آنکھ سے ایسے آنسو جاری ہوئے ہیں کہ اب تک نہیں تھمے -
سیدنا عمر پاک نے فرمایا:
میرے بھائی زید کا بھی ایک مرثیہ لکھ دو !
متمم نے ہامی بھر لی -
اگلے روز جب متمم نے حضرت عمررضی اللہ عنہ کو جناب زید کا مرثیہ سنایا توآپ نے کہا:
اس میں وہ درد نہیں جوکل والے مرثیے میں تھا ۔
متمم کہنے لگے:
امیرالمومنین ! زید آپ کے بھائی تھے میرے نہیں -
( یعنی جس درد سے میں نے اپنے بھائی کامرثیہ لکھا ، آپ کے بھائی کا کیسے لکھ سکتا تھا -
بڑی کوشش کے باوجود بھی وہ درد پیدا نہیں ہو سکتا تھا ، جو میرے دل میں اپنے بھائی کے لیے ہے )
********
شہیدِ محبت رحمہ اللہ کی یاد میں جو لوگ ابھی تک آنسو بہا رہے ہیں ، ہم اُن کی کیفیت کو نہیں سمجھ سکتے ۔
ہم بس دعا کرسکتے ہیں کہ رب تعالی انھیں صبر جمیل دے !
✍️لقمان شاہد
25-11-2020 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3024676334479202&id=100008105947430
Facebook
Log in to Facebook
Log in to Facebook to start sharing and connecting with your friends, family and people you know.
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
جس جس نے حضرت کا جنازہ پڑھا ہے اللہ کرے وہ یہ بھی جان لے کہ آپ رحمہ اللہ صحابہ و اہل بیت علیھم الرضوان کا ازحد ادب کرتے تھے ۔
آپ نے جب دیکھا کہ بعض لوگ مشاجرات کی آڑ میں ، صحابی رسول حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی بے ادبی کر رہے ہیں ، تو بھرے مجمعے میں انھیں مخاطب کرکے فرمانے لگے:
" دُر دُر کُتیو ! مالکاں نوں پے گئے او "
مطلب اصحابِ رسول تمھارے مالک ہیں ، ان کی بدولت تمھیں آثارِ رسول ملے ؛ تمھیں تو اُن کا وفادار ہونا چاہیے ، لیکن تم نے انھی کے خلاف بھونکنا اور ان کی ناموس کو کاٹنا شروع کردیا ۔
✍️لقمان شاہد
26-11-2020 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3025023471111155&id=100008105947430
آپ نے جب دیکھا کہ بعض لوگ مشاجرات کی آڑ میں ، صحابی رسول حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی بے ادبی کر رہے ہیں ، تو بھرے مجمعے میں انھیں مخاطب کرکے فرمانے لگے:
" دُر دُر کُتیو ! مالکاں نوں پے گئے او "
مطلب اصحابِ رسول تمھارے مالک ہیں ، ان کی بدولت تمھیں آثارِ رسول ملے ؛ تمھیں تو اُن کا وفادار ہونا چاہیے ، لیکن تم نے انھی کے خلاف بھونکنا اور ان کی ناموس کو کاٹنا شروع کردیا ۔
✍️لقمان شاہد
26-11-2020 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3025023471111155&id=100008105947430
Facebook
Log in to Facebook
Log in to Facebook to start sharing and connecting with your friends, family and people you know.
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
وہ کیسا پیارا انسان تھا ، جب عشقِ رسول کی بات کرتا تو دل چیر کے رکھ دیتا ۔
وہ کہتا تھا:
ہزار سال بعد بھی کوئی میری قبر پر سے لبیک کا نعرہ لگاتا ہوا گزرا ، تو میں اسے جواب ضرور دوں گا ؛ یہ پکی بات ہے ۔
اب اسے کہاں ڈھونڈیں 😰😰 ؎
جان کر مِن جملۂ خاصانِ مے خانہ تُجھے
مدتوں رویا کریں گے ، جام و پیمانہ تُجھے
✍️لقمان شاہد
26-11-2020 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3025392101074292&id=100008105947430
وہ کہتا تھا:
ہزار سال بعد بھی کوئی میری قبر پر سے لبیک کا نعرہ لگاتا ہوا گزرا ، تو میں اسے جواب ضرور دوں گا ؛ یہ پکی بات ہے ۔
اب اسے کہاں ڈھونڈیں 😰😰 ؎
جان کر مِن جملۂ خاصانِ مے خانہ تُجھے
مدتوں رویا کریں گے ، جام و پیمانہ تُجھے
✍️لقمان شاہد
26-11-2020 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3025392101074292&id=100008105947430
Facebook
Log in or sign up to view
See posts, photos and more on Facebook.
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
کئی علما و مشائخ اور پیاروں کے جنازے پڑھے ، انھیں غسل دیا ، لحد میں اتارا ؛ لیکن ایسی کیفیت کسی کے جانے پر نہیں ہوئی ، جیسی یہ مرد درویش کر گیا ۔
اس سے ہمارا محبت رسول کا رشتہ تھا ، جو دل کی گہرائی تک پہنچ چکا تھا ۔
اللہ غریق رحمت کرے ؎
وہ مُسلِم تھا ، بہت ہی صاف و سادہ تھے اُصول اُس کے
وہ کہتا تھا خدا اِک ہے ، محمد ہیں رسول اُس کے
اُسے ایمان تھا ، ایمان ہی کی اِستقامت پر
فرشتوں پر ، کتابوں پر ، رسولوں پر ، قیامت پر
محبت نے سِکھائی تھی تمیزِ خُوب و زِشْت اُس کو
نَظَر آتا تھا صحرائے عرب ، باغِ بِہِشت اُس کو
وہ قائِل تھا فقط اسلام ہی کی بادشاہی کا
دیا کرتا تھا درس اَطفال کو عِلمِ الٰہی کا
نظر ڈالی نہ تھی اُس نے کبھی اسبابِ زینت پر
خدا رحمت کرے ، اُس پاک باز و پاک طِینت پر !
✍️لقمان شاہد
29-11-2020 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3027680047512164&id=100008105947430
اس سے ہمارا محبت رسول کا رشتہ تھا ، جو دل کی گہرائی تک پہنچ چکا تھا ۔
اللہ غریق رحمت کرے ؎
وہ مُسلِم تھا ، بہت ہی صاف و سادہ تھے اُصول اُس کے
وہ کہتا تھا خدا اِک ہے ، محمد ہیں رسول اُس کے
اُسے ایمان تھا ، ایمان ہی کی اِستقامت پر
فرشتوں پر ، کتابوں پر ، رسولوں پر ، قیامت پر
محبت نے سِکھائی تھی تمیزِ خُوب و زِشْت اُس کو
نَظَر آتا تھا صحرائے عرب ، باغِ بِہِشت اُس کو
وہ قائِل تھا فقط اسلام ہی کی بادشاہی کا
دیا کرتا تھا درس اَطفال کو عِلمِ الٰہی کا
نظر ڈالی نہ تھی اُس نے کبھی اسبابِ زینت پر
خدا رحمت کرے ، اُس پاک باز و پاک طِینت پر !
✍️لقمان شاہد
29-11-2020 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3027680047512164&id=100008105947430
👍1