🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
سلطان المشائخ 🌹 محبوب الٰہی
حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَـبَـارَڪَ وَ تَـعَـالیٰ عَـنۡـہۡ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
یومِ ولادت 27 صفر المظفر ۶۳۶؁ھ
یومِ وفات 18 ربیع الآخر ۵۲۷؁ھ
➻═══════════➻
TTS AʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
محبوب الٰہی خواجہ نظام الدین اولیاء

حیات وتعلیمات

 سلطان المشائخ خواجہ نظام الدین اولیا قدس سرہٗ جنھیں پیارسے ’’سلطان جی‘‘ اور عظمت شان کی وجہ سے ’’محبوب الٰہی‘‘بھی کہاجاتاہے،آپ ہندوستان میں چشتیہ سلسلہ طریقت کے چوتھے عظیم بزرگ ہیں۔سوانح نگاروں کے مطابق خواجہ فرید الدین گنج شکر قدس سرہٗ معروف بہ’’ بابافرید‘‘ نے سلسلہ چشتیہ کو منظم کیا اور محبوب الٰہی قدس سرہٗ نے اس سلسلے کو ترقی اور بلندی عطاکی

 نام ونسب:

محبوب الٰہی کا اصل نام ’’محمد ‘‘اورلقب ’’نظام الدین‘‘ ہے، جب کہ والد مکرم کا نام’’ احمد‘‘اور والدہ ماجدہ کا نام ’’بی بی زلیخا‘‘ہے۔ آپ نجیب الطرفین سیدہیںاورآپ کا سلسلہ نسب سید حسن بن میر علی بن میراحمد کے واسطے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچتا ہے۔

آپ کے آباواجداد، بخاراکے رہنے والے تھے جو چنگیزی حملے کے وقت لاہورآئے،اسی لاہور شہر میں آپ کے والدین پیدا ہوئے۔کچھ دنوںبعد آپ کے داداخواجہ علی بخاری اور ناناخواجہ عرب دونوںشہر بدایوں پہنچے اوروہیں مستقل سکونت اختیار کرلی۔

 ولادت باسعادت:
محبوب الٰہی کی ولادت ہندوستان کے اِسی مشہور شہر بدایوں میں24؍صفرسنہ 636ہجری مطابق 4؍اکتوبر1238 عیسوی میں ہوئی۔آپ جب پیدا ہوئے اس وقت شہر بدایوں علم وفضل کامرکز بھی تھااورمذہبی وروحانی اعتبارسے مشہورِ عالم بھی۔ وہاں کے علما وفضلا عالمی سطح پر قدرومنزلت کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھیاور یہ شہربدایوں’’ قبۃ الاسلام‘‘کے نام جانا جاتاتھا۔
تعلیم وتربیت:
محبوب الٰہی نے ابھی زندگی کی چھ بہاریں ہی دیکھی تھیں کہ شفقت پدری سے محروم ہوگئے۔ اس کے بعد آپ کی تعلیم وتربیت کی تمام تر ذمہ داری والدہ ماجدہ بی بی زلیخانے بحسن وخوبی انجام دی۔والدہ ماجدہ دین دار ہونے کے ساتھ انتہائی باہمت اور باحوصلہ خاتون تھیں،جس کا ثبوت یہ ہے کہ غربت و افلاس اور اقتصادی ومالی دقتوں کے باوجوداُنھوں نے آپ کی تعلیم وتربیت کاانتظام کیااورحصول تعلیم میں آپ کا ہر ممکن تعاون دیا۔
محبوب الٰہی کی ابتدائی تعلیم بدایوں میں ہوئی۔مثلاًوہاں آپ نے ناظرہ قرآن کریم اور صرف ونحو کی ابتدائی کتابیں پڑھیں اور مولانا علاء الدین اصولی سے قدوری کادرس لیا۔پھر والدہ ماجدہ کے ساتھ اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے دہلی کارخ کیا جو بدایوں کے بعد علم وفضل کامرکز بناہوا تھا۔ یہاں آپ نے خواجہ شمس الدین خوارزمی سے علمی استفادہ کیا اور اُن سے مقامات حریری پڑھی، جب کہ استاذِعصر حضرت مولانا کمال الدین سے علم حدیث میں استفادہ کیا اور اُن سے مشارق الانوار پڑھی۔ اس کے علاوہ کچھ کتابوں کادرس شیخ الاسلام فرید الدین گنج شکر قدس سرہٗ سے بھی لیا۔
 محبوب الٰہی خود بیان فرماتے ہیں کہ میں نے چھ پارے کلام اللہ کی تفسیر،تین کتابیں جن میں سے ایک میں پہلے بھی پڑھ چکاتھااوردو کتابیں شیخ الاسلام کے حلقہ درس میں سنیں۔نیزچھ باب ’’عوارف‘‘ کے اور ابوشکورسالمی کی تمہیدیہ سب میں نے اُنھیں سے پڑھیں۔
 علمی لیاقت اورحدیث فہمی:
محبوب الٰہی اپنی علمی صلاحیت ،زودفہمی اوراپنی دانشوری کی وجہ سے معاصرطلباوعلمامیں ’’بحاث‘‘ ا ور’’محفل شکن‘‘ سے مشہور تھے۔ جب آپ نے بیشتر علوم وفنون جیسے زبان وادب، علم فقہ اورعلم حدیث میں کامل مہارت اور کلی دست گاہ حاصل کرلی تو اپنے وقت کے جیدمحدّث سیدکمال الدین زاہد سے مشارق الانوار پر مباحثہ کیا اور علم حدیث میں صحت سند،واقعات وروایات کی باریکیوں سے آگاہی حاصل کی اورتحقیق کا فن سیکھا۔
محبوب الٰہی کی حدیث فہمی کااندازہ اس واقعے سے لگایا جاسکتا ہے کہ آپ نے ایک بارمولانا وجیہ الدین پائلی سے پوچھاکہ حدیث میں ہے:اصْنَعُوا کُلَّ شَیْء ٍ إِلَّا النِّکَاحَ۔یعنی نکاح کے سوا ہر چیز کرو ۔(مسلم،جواز غسل الحائض)
اس حدیث سے بظاہر معلوم ہوتاہے کہ نکاح حرام ہے۔ مجھے بتائیں کہ اس کا مطلب کیاہے؟مولانا وجیہ الدین پائلی کچھ دیر سوچتے رہے،پھر فرمایاکہ پہلے آپ بیان کریں کہ آپ نے کیا سمجھا؟آپ نے کہا کہ صحابہ کرام نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیاکہ جب عورتیں حائضہ ہوجائیں تو کیا ہم ان کا بستر الگ کردیں؟ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اصْنَعُوا کُلَّ شَیْء ٍ إِلَّا النِّکَاحَ۔ آپ کے اس ارشادکا مطلب یہ ہے کہ کمرکے نچلے حصے میں تصرف نہ کرو،ہاں!اوپر ی حصے میں تصرف کرسکتے ہو۔

بیعت وخلافت:
محبوب الٰہی فرماتےہیں کہ جب میری عمردس یابارہ سال تھی،اس وقت ابوبکرقوال نامی ایک شخص میرے استاذ کے پاس آیااور شیخ بہاء الدین زکریاملتانی کے فضائل ومناقب بیان کرنے لگا۔ اس کے بعدشیخ فریدالدین گنج شکر کے اوصاف ومحامد بیان کرناشروع کیا۔یہ سن کر شیخ فریدالدین گنج شکرکی محبت وعقیدت میرے دل میںگھر کرگئی،یہاں تک کہ ہرنماز کے بعد ان کے نام کا وظیفہ میرا معمول بن گیا۔لیکن لاکھ کوشش کے بعد بھی بابافرید سے ملاقات کی کوئی سبیل نہ نکل رہی تھی،کیوں کہ ایک تووالدہ ماجدہ ضعیفی کے عالم میں تھیں اور دوسرا یہ کہ بہن اوراُ
ن کے بچوں کی دیکھ بھال کی ذمے داری بھی آپ کے سرتھی۔
 ایک صبح نمازِفجر کے بعد کسی نے بڑی خوش الحانی کے ساتھ یہ آیت تلاوت کی کہ اَلَمْ یَاْنِ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اَنْ تَخْشَعَ قُلُوْبُہُمْ لِذِکْرِ اللّٰہِ حدید تودل میں دبی عشق کی چنگاری شعلہ کی شکل اختیارکرگئی اوراس طرح آپ سنہ655 ہجری مطابق سنہ1257 عیسوی میں’’ اجودھن‘‘(موجودہ پاکستان) کے لیے روانہ ہوئے، اور سال کی عمر میں بیعت سے شرف یاب ہوئے۔ پھر24؍ سال کی عمرمیں یعنی بیعت کے ٹھیک چار سال بعدسنہ659 ہجری مطابق سنہ1261 عیسوی میں سندخلافت سے بھی نوازے گئے۔
درس وتدریس:
بیعت کے بعد محبوب الٰہی دہلی واپس آگئے اور اپنی معاشی ضرورت پوری کرنے کے لیے درس وتدریس کا مشغلہ اختیارفرمایا۔آپ کے شاگردوں میں امیرخسرو ،امیرحسن سجزی اور قطب الدین منور مشہورہیں،جنھیں آپ نے تعلیم وتربیت بھی دی تھی،اور پھر اپنی مریدی میں بھی داخل کرلیا۔
مزید آپ کے درس وتدریس میں مصروف ہونے کی تائیداس سے بھی معلوم ہوتاہے کہ جب شیخ گنج شکر سے اجازت وخلامت مل گئی توآپ نے اپنے شیخ سے پوچھا :میرا شغل درس وتدریس ہے،اس کو جاری رکھوں یا ترک کردوں؟
 یہ سن کر شیخ الاسلام گنج شکرنے فرمایاکہ درویش کے لیے علم بہت ضروری ہے ،تم تعلیم دینے کا شغل جاری رکھو۔ اس کے بعد جوچیز غالب آجائے گی اس کی وجہ سے مغلوب چیز خود بخود ترک ہوجائے گی۔چنانچہ ایسا ہی ہواکہ جب معتقدین ومریدین کا ہجوم بڑھنے لگا اور مجاہدات کی کثرت ہونے لگی تو تعلیم وتعلم کا مشغلہ بھی خودبخودبندہوتا چلاگیا۔
ممتازمریدین وخلفا:
محبوب الٰہی کے مریدین میں امیروغریب ،محتاج ونادار،وزیروکوتوال اورشاہ وگداہر طرح کے لوگ شامل تھے ،اس لیے آپ کے مریدین کاشمارایک مشکل امر ہے۔البتہ!کچھ تذکرہ نگاروںنے تقریباً 54؍مشہورونامور مریدین وخلفاکاذکرکیا ہے،ان میںسے چند منتخب مریدین وخلفا کے اسمایہاںبھی ذکر کیے جاتے ہیں:۱۔شیخ نصیرالدین محمودچراغ دہلی،۲۔امیر خسرو،۳۔امیر حسن سجزی،۴۔سید رفیع الدین ہارون،۵۔سید حسین کرمانی،۶۔خواجہ سید محمد امام،۷۔شیخ قطب الدین منور،۸۔مولانا حسام الدین ملتانی، ۹۔مولانا فخرالدین زرادی،۱۰۔مولاناعلاء الدین نیلی،۱۱۔مولانا برہان الدین غریب،۱۲۔مولانا وجیہ الدین یوسف،۱۳۔مولانا سراج الدین عثمان معروف بہ اخی سراج،۱۴۔مولانا شمس الدین یحیٰ وغیرہ۔
بادشاہوں سے بے تعلقی:
محبوب الٰہی نے دوشاہی خاندانوں کا عہد پایا:ایک غلام حکمرانوں کاعہد، جس میں آپ کے ابتدائی ایام بسر ہوئے ، اور دوسرا خلجی عہدحکومت ،جس میں آپ فضل وکمال کے اعلیٰ مقام پر فائزتھے،پھر بھی حکمرانوں سے لاتعلق رہے۔حالاں کہ شاہانِ وقت کی ہمیشہ یہ خواہش ہوتی تھی آپ ان سے گہرے روابط رکھیں ،لیکن آپ نے ان کی طرف کبھی بھی کوئی توجہ نہیں دی۔
ایک دفعہ بادشاہ نے امتحان کے ارادے سے چندسوال لکھ کر اپنے بڑے بیٹے خضرخاں کے ذریعے محبوب الٰہی کی خدمت میں بھیجااور ان سے جواب کاطلب گار ہوا۔جب وہ سوال نامہ آپ تک پہنچاتو آپ نے اُسے کھولابھی نہیں اور فرمایا:درویشوں کوبادشاہ سے کیا کام۔
جب بادشاہ کو اِس بات کی خبر ہوئی تو وہ خود خدمت میں حاضر ہونے کی اجازت چاہی مگر آپ نے کہلا بھیجاکہ میں غائبانہ دعاکرتاہوں اور غائبانہ دعامیں بڑا اثر ہے۔اس کے بعد بھی بادشاہ نے اصرار کیاتو آپ نے فرمایاکہ اس فقیر کے مکان کے دو دروازے ہیں،اگر بادشاہ ایک دروازے سے داخل ہوگا تو میں دوسرے دروازے سے نکل جاؤں گا۔
 خدمت خلق اوربخشش وعنایات:محبوب الٰہی کی خدمت میںکثرت سے تحفے تحائف آتے تھے مگر ان میں سے کچھ بھی بچاکرنہیں رکھتے تھے ،بلکہ سب ضرورت مندوں میں تقسیم کروادیاکرتے تھے۔ روزانہ لاکھوں روپے اور قیمتی سازوسامان آتے تھے لیکن آپ اسی اعتبارسے خرچ بھی کردیتے تھے۔آپ کی عنایات وبخشش کاحال یہ تھا کہ مانوعطاوبخشش کا دریا بہہ ہو۔
ایک بار ایک طالب علم آیا اور اپنی حاجت بیان کی، اس وقت خانقاہ میں اُسے دینے کے لیے ایک بیل کے سواکچھ بھی نہ تھا۔آپ نے وہی بیل اس طالب علم کو نذرکردی۔ محبوب الٰہی نے باقاعدہ اپناایک اصول بنارکھاتھاکہ کس کو کتناوظیفہ دیاجائے۔چنانچہ آ پ غیاث پوراورقرب وجوار میں رہنے والے کو روزوظیفہ دیتے تھے۔ شہرمیں رہنے والے کو ہفتہ واروظیفہ دیتے تھے۔آس پاس کے قصبوں میں رہنے والے کو ماہانہ وظیفہ دیتے تھے اور دوردراز سے آنے والوں کے لیے ششماہی یا سالانہ وظیفہ مقرر کررکھے تھے۔ یہاں تک کہ وفات کے وقت بھی جب لنگرخانے میں کچھ غلہ تقسیم ہونے سے رہ گیاتوآپ سخت ناراض ہوئے اور فرمایا:
 انبار خانوں کے دروازے توڑڈالو،یہ غلہ زمین کی مٹی ہے اس کو کیوں رکھاہے۔فقیروں کو بلاو اور اُن سے کہوکہ یہ سب غلہ لے لیںاور ایک تنکابھی باقی نہ چھوڑیں۔
تزکیہ واصلاحات:
محبوب الٰہی نے صرف محتاجوں،ضرورت مندوں اور بیکسوں کی خبرگیری کرنے پر ہی اکتفانہیں کیابلکہ ان کے اندر درآئی عملی خرابیوں اور اخلاقی بیماریوں کو بھی دورکیا اور ان کی اصلاح فرمائی۔آپ نے ایک طرف قلب
وروح کوپاکیزگی عطاکی تو دوسری طرف سیرت واخلاق کی درستگی بھی فرمائی،اور اس تعلق سے آپ کے نزدیک شاہ وگدا،علماوفقہا،سلاطین و حکمران،عوام وخواص،نوکر پیشہ واہل صنعت سب برابر تھے، کسی کوکسی پر کوئی فوقیت اورامتیاز حاصل نہ تھا۔ایک ایسے ماحول میں جب کہ دین بیزاری اورنفس پرستی عام ہوچکی تھی ،آپ نے لوگوں کے دلوں میں دینی اورعرفانی لہر دوڑا دی جسے ہر کسی محسوس کیااور اس سے متاثر ہوئے بغیر کوئی نہ رہ سکا۔یہی وجہ تھی کہ آپ کی اصلاحی کوششوں کیباعث آس پاس کاماحول حیرت انگیز طورپر اسلام،ایمان، احسان کے رنگ میں رنگ گیاتھا۔
 اس کا اثر یہ ہواکہ لوگ مشائخ کی تعلیمات سے اپنی تاریک زندگی کومنورکرنے لگے۔ دنیا اور دنیا داروں کا ذکر اُن کی زبان پرآنابند ہوگیا۔ سلطان علاء الدین بھی اپنے تمام گھر والوں کے ساتھ شیخ کا معتقد اور مخلص ہو گیا۔ کبیرہ گناہوں کو لوگ کفر کے مشابہ تصورکرنے لگے ۔شرم کی وجہ سے مسلمان سود خوری اور کالابازی سے پرہیزکرنے لگے ۔ جھوٹ بولنے اور کم تولنے کا رواج اٹھ گیا۔عوام وخواص کوتصوف اورمشائخ کی کتابوں میں لطف آنے لگااورہرمحفل ومجلس میں ذوق وشوق سے قوت القلوب،رسالہ قشیریہ،احیاء العلوم، عوارف المعارف جیسی کتابیںپڑھی جانے لگیں۔سنت رسول اوراحکام شریعت کی پاسداری کا اہتمام لوگوں کا معمول بن گیا۔ غرض کہ ایک بار پھرسے جنید وشبلی اوربایزید بسطامی کے عہد کی یاد تازہ ہوگئی تھی۔
 تعلیمات وارشادات:
محبوب الٰہی فرماتے ہیں:
۱۔ مرد کاکمال چارچیزوں سے ظاہر ہوتاہے:کم کھانا،کم بولنا،کم سونا اورلوگوں سے میل جول کم رکھنا۔
۲۔ ترک دنیایہ نہیں ہے کہ کوئی اپنے آپ کوننگا کرلے، مثلاً لنگوٹی باندھ کر بیٹھ جائے،ترک دنیایہ ہے کہ لباس پہنے اور کھانا کھائے۔البتہ!جو کچھ آئے اسے خرچ کرتارہے،جمع نہ کرے ،اس سے رغبت نہ رکھے اوردل کو کسی چیزسے لگائے نہ رکھے۔
۳۔جب تک تائب توبہ میں سچاہے تونہ اس کاذکرکوئی معصیت کے ساتھ کرسکتاہے اور نہ فسق کے ساتھ اس کانام زبان پر لاسکتا ہے۔ البتہ!اگروہ اس گناہ کی طرف مائل ہوگا تواس کو طلب کرنے میں یقیناًوہ فسق وفجورکرے گا اورلوگ بھی اس کاذکر فسق وفجور کے ساتھ کریں گے۔
 ۴۔ شروع میں جب لوگ طاعت کاآغازکرتے ہیں تو یقیناًنفس پر گراں گزرتاہے اور مشکل نظرآتاہے لیکن جب کوئی دل سے اس میں لگ جاتاہے تو اللہ تعالیٰ تو فیق عطا فرماتا ہے اوراُس کام کوآسان فرمادیتاہے۔
۵۔ ادب یہ ہے کہ جوبھی آئے مجلس میں جہاں جگہ خالی پائے،بیٹھ جائے اوراگر جگہ نہ ہوتو حلقے کے پیچھے بیٹھے،بیچ میں نہیں بیٹھناچاہیے، جو بیچ میں بیٹھتاہے وہ ملعون ہے۔
 ۶۔عوام میں یہ دستورہے کہ اچھوں کے ساتھ اچھااور بروں کے ساتھ برا۔لیکن درویشوں کا یہ طریقہ ہیکہ اچھوں کے ساتھ بھی اچھے اوربروں کے ساتھ بھی اچھے۔
 ۷۔ اللہ تعالیٰ کامعاملہ مخلوق کے ساتھ دوطرح کاہے اور مخلوق کا معاملہ آپس میں تین طرح کاہے۔اللہ تعالیٰ کابرتاو مخلوق کے ساتھ عدل کاہوتاہے یا فضل کا،لیکن مخلوق آپس میں عدل کرتی ہے،یا فضل یاپھرظلم۔اگر مخلوق ایک دوسرے کے ساتھ عدل یافضل کرتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس پر اپنافضل فرماتاہے اوراگر مخلوق ایک دوسرے پر ظلم کرتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس سے عدل فرماتاہے اور جس سے اللہ عدل فرماتاہے اس کو عذاب میں گرفتارکرتاہے چاہے۔
 ۸۔اگرکوئی شخص کسی کو نصیحت کرے تو اس کوچاہیے کہ سب کے سامنے نہ کرے کہ یہ فضیحت(رسوائی ) ہوجاتی ہے، اس لییملامت اورنصیحت جو بھی کرنی ہو،وہ اکیلے میں کرے سب کے سامنے نہیں۔ وصال مبارک:خواجہ نظام الدین اولیاقدس سرہٗ نے بتاریخ 17؍ربیع الآخر سنہ 725ہجری مطابق2؍ اپریل سنہ 1325عیسوی دہلی میں وصال فرمایا،اوربستی حضرت نظام الدین دہلی میں مدفون ہوئے۔جہاں سے آج بھی نظامی چشتی فیضان جاری وساری ہے۔(فوائد الفواد،سیرالاولیاء ،نظامی بنسری،تاریخ فرشتہ، تاریخ مشائخ چشت، تاریخ فیروزشاہی، آب کوثر)

ڈاکٹر جہاں گیرحسن مصباحی

(ایڈیٹر ماہنامہ خضرراہ ،الہ آباد)
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
نظام الملک طوسی
سلجوق سلطنت کے وزیر جن کی طرف مدرسہ نظامیہ کا قیام منسوب ہے

(کاپی پیسٹ)

جس طرح ہارون الرشید کا دور برامکہ کے تذکرے کے بغیر نامکمل ہے اسی طرح سلجوقیوں کا عہد نظام الملک طوسی کے ذکر کے بغیر ادھورا ہے۔ نظام الملک کا اصل نام حسن بن علی اور لقب نظام الملک تھا۔ وہ طوس کے ایک زمیندار علی کا بیٹا تھا۔ 408ھ میں پیدا ہوا اور بچپن سے ہی بہت ذہین اور کئی خوبیوں کا مالک تھا۔ اپنی ذہانت سے انتہائی کم عمری میں کئی علوم پر عبور حاصل کیا۔ سلجوقی عہد میں وزارت عظمیٰ کے عہدے پر فائز ہوا۔ اس عہد کے تمام کارنامے نظام الملک کے تیس سالہ دور وزارت کے مرہون منت ہیں۔ یہ عہد سلجوقیوں کا درخشاں عہد کہلاتا ہے۔ الپ ارسلان جو ایک مجاہدانہ صفت رکھنے والا بادشاہ تھا نے اپنے کمسن بیٹے ملک شاہ کو نظام الملک کے سپرد کر دیا تا کہ وہ اس کی تربیت کرے اور عصری علوم کی تعلیم کے ساتھ ساتھ حکومت کرنے کے ڈھنگ بھی سکھائے۔ انہی دنوں گرجستان کی مہم پیش آئی جس کے لیے فوج کو نظام الملک کی سربراہی میں بھیجا گیا۔ گرجستان والوں نے ہتھیار پھینک دئے اور مسلم فوج کی شرائط پر صلح کرلی۔ جارجیا کے بادشاہ بقراط کی بھتیجی ہیلینا جو ایک حسین و دلکش دوشیزہ تھی مگر راہبانہ زندگی گزار رہی تھی۔ خواجہ حسن نظام الملک اس سے شادی کرنے کا خواہش مند تھا مگر حالات کے برعکس اس شہزادی ہیلینا کو الپ ارسلان سے نکاح کے لیے مخصوص کر لیا گیا اور شرائط میں اس شرط کو بھی شامل کیا گیا جس پر مسیحی آبادی میں غم و غصہ پایا جانے لگا جبکہ دوسری طرف گرجستان کے اعلیٰ و شاہی خاندان کے نوجوان بھی شہزادی کے طالب تھے مگر اس کی راہبانہ زندگی کے پیش نظر اس سے مدعا بیان نہ کرسکتے تھے۔ شہزادی کوالپ ارسلان کے نکاح میں دے دیا گیا۔ کچھ عرصے بعد ایک گرجستانی شاعر جو الپ ارسلان کے دربار میں آیا ہوا تھا نے ایک قصیدہ موزوں کرکے گوش گزارنے کی اجازت طلب کی۔ الپ ارسلان نے اجازت دے دی تو اس گرجستانی شاعر نے انتہائی واہیات انداز میں شہزادی ہیلینا اور نظام الملک طوسی کی کردار کشی کی جس کے بعد الپ ارسلان نے اس شرط پر شہزادی ہیلینا کو طلاق دے دی کہ نظام الملک اس سے شادی کرے یا شہزادی گرجستان واپس چلی جائے مگر شہازدی نے واپس جانے سے اس بنا پر انکار کیا کہ اب میری وہاں پہلے والی عزت نہیں رہے گی اور یہ کہ وہ خود کو مسلمانوں میں محفوظ و مامون محسوس کرتی ہے لہذا اس نے نظام الملک سے شادی کرلی سلجوقی سلطان الپ ارسلان نے نظام الملک کی صلاحیتوں کا اندازہ لگاتے ہوئے وزارت کا منصب اس کے سپرد کر دیا۔ اس نے الپ ارسلان کے عہد میں ایسے جوہر دکھائے کہ تہذیب و تمدن اور علوم و فنون کی ہزاروں شمعیں روشن ہوگئیں۔ اس نے ملک کو گوشے گوشے میں مدارس کا جال بچھا دیا اور سب سے بڑا اور اہم مدرسہ بغداد کا مدرسہ نظامیہ تھا جس کی تعمیر پر بے پناہ روپیہ صرف کیا گیا۔ اس کے علمی و ادبی کارناموں کی طویل فہرست کے ساتھ مذہبی اور دینی خدمات بھی بے شمار ہیں اور رفاہ عامہ کے کارنامے تاریخ پر انمٹ نقوش ثبت کرتے ہیں۔ اس کی تحریر کردہ کتاب "سیاست نامہ" کو انتہائی شہرت حاصل ہوئی اور اس سے آج بھی استفادہ کیا جاتا ہے۔ اس کتاب کا ترجمہ یورپ کی مختلف زبانوں میں ہوچکا ہے۔
عروج کی انتہائی بلندیوں تک پہنچنے کے بعد برامکہ کی طرح اس کی قسمت کا ستارہ بھی زوال میں آگیا اور ملک شاہ اول نے اسے وزارت سے علاحدہ کر دیا۔ زوال کے اسباب بھی برامکہ کے اسباب کی طرح تھے۔ بہرحال اس کے کارنامے سلجوقی حکومت کے لیے لاتعداد ہیں بلکہ اس درخشاں دور کی کامیابیاں سلجوقی سلاطین کے علاوہ اس کی مرہون منت بھی ہیں۔
وہ 1063ء تا 1072ء الپ ارسلان کے دور حکومت اور 1072ء تا 1092ء ملک شاہ اول کے دور حکومت میں وزارت کے عہدے پر فائز رہا۔
نظام الملک نے اپنی مشہور تصنیف "سیاست نامہ" میں سلطنت کو قانونی شکل دینے کے لیے ایک جدید نظریے کی بنیاد رکھی اور سلطان کو نئے معنی سے مدلل کرنے کی کوشش کی۔ مصنف نے سلطنت کی ابتدا اور سلطان کے معنی پر بحث کی ہے۔
علاوہ ازیں اس نے اپنے بیٹے ابو الفتح فخر الملک کے لیے ایک کتاب "دستور الوزراء" بھی تحریر کی۔ نظام الملک 10 رمضان 485ھ بمطابق 14 اکتوبر 1092ء کو اصفہان سے بغداد جاتے ہوئے حسن بن صباح کے فدائین "حشاشین" کے ہاتھوں شہید ہوا۔ مؤرخوں کے مطابق ملک شاہ اول جو خواجہ حسن نظام الملک کو خواجہ بزرگ اور پدر معنوی جیسے القاب سے نوازتا تھا اور خواجہ حسن کو خاص مقام حاصل تھا کہ وہ بادشاہ کے کمرہ خاص یا آرام کرنے کے کمرے میں بھی آمد و رفت رکھتے تھے۔ چونکہ وہ ایک نابغہ روزگار شخصیت تھے اور انکو علوم خاص و عام میں رسوخ حاصل تھا۔ ملک شاہ اول کی شادی سلجوقی خاندان کی ایک خاتون جن کا نام زبیدہ خاتون تھا سے ہوئی اور ان کے بطن سے ملک شاہ اول کا سب سے بڑا بیٹا تولد ہوا۔ ملک شاہ اول نے ایک شادی خانان قاراخانی یا قاراخانی شہزادی سے بھی کی تھی جس کا نام ترکان خاتون تھا۔ کہتے ہیں کہ ملک ش
اہ اول کے دو بڑے بیٹوں داوود اور احمد جن کا بالترتیب 1082 اور 1088میں انتقال ہوا۔ ان کے انتقال کے بعد ترکان خاتون اپنے بیٹے محمود جو سب سے کم سن تھا کو ولی عہد نامزد کروانا چاہتی تھی جبکہ خواجہ حسن نظام الملک طوسی نے ترکان خاتون کی مخالفت کی اور زبیدہ خاتون کے بڑے بیٹے برکیارق کو ملک شاہ اول کا جانشین و ولی عہد نامزد کرنے پر اصرار کیا جس پر ترکان خاتون کی نظام الملک کے ساتھ سرد جنگ شروع ہو گئی اور اس نے اپنے معتمد خاص تاج الملک االمعروف بہ المزرزبان کے ساتھ جوڑ توڑ کرکے نظام المک کو ان کے عہدۂ وزارت سے ہٹانے کی سازشیں شروع کیں مگر وہ اس میں کامیاب نہ ہو سکی۔ خواجہ حسن نظام الملک کی وفات کے بارے میں متضاد آراء پائی جاتی ہیں۔ بہت سوں کا کہنا ہے کہ ایک دن ملک شاہ اول جو پہلے ہی وزیر مملکت کے خلاف ہونے والی محلاتی سازشوں سے دل برداشتہ ہو رہا تھا کو وزارت سے معزول کر دیا اور معزولی کا حکم سننے کے بعد نظام الملک واپس اپنی جاگیر یا بغداد جا رہے تھے۔ بعض کہتے ہیں کہ وہ ملک شاہ اول کے حکم پر ضروری کام سے بغداد جا رہے تھے کہ اچانک ایک درویش نے ان سے دادرسی چاہی، شفیق و مہربان نظام الملک نے دادرسی کرنے کی خاطر اس درویش کو قریب بلایا مگر وہ درویش کے روپ میں قلعہ الموت کی طرف سے بھیجا گیا ایک فدائی تھا اس کا وار خواجہ حسن نظام الملک کے لیے جان لیوا ثابت ہوا۔ خواجہ حسن جانبر نہ ہو سکے اور خالق حقیقی سے جا ملے ان کی وفات پر پورا عالم اسلام اور بالخصوص رے غمزدہ و اداس ہو گیا۔ نوحہ گروں نے نوحہ کیا اور مرثیہ لکھنے والوں نے مرثئے لکھے۔ بعض یہ بھی کہتے ہیں کہ ان دنوں شیعہ سنی مناظرے منعقد ہوا کرتے تھے جن میں ملک شاہ اول اور نظام الملک طوسی بھی بہ نفس نفیس شریک ہوتے تھے خواجہ حسن بزرگ نظام الملک طوسی کا قتل بھی اسی سلسلے کی کڑی تھا اور جس دن ان پر حملہ ہوا اسی دن ملک شاہ اول کو بھی نشانہ بنایا گیا تھا مگر ملک شاہ اول پر حملہ کامیاب نہ ہو سکا۔

کاپی پیسٹ

https://www.facebook.com/190656494845261/posts/823213571589547/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
#لو_جہاد:#حکومت_کو_چھوڑیں_اپنا_گھر_سنبھالیں

غلام مصطفیٰ نعیمی
مدیر اعلیٰ سواد اعظم دہلی

آخرکار یوپی کی بی جے پی حکومت نے مبینہ لو جہاد کے خلاف آرڈیننس کے ذریعے قانون پاس کر دیا۔جلد ہی ایم پی، گجرات، اتراکھنڈ،کرناٹک اور ہماچل پردیش کی بی جے پی حکومتیں بھی یہ قانون پاس کرنے والی ہیں۔اس قانون کے مطابق دوسرے مذہب کی لڑکی کو بَہلا کر، فریب،لالچ، یا جبراً شادی کرنا تبدیلی مذہب مانا جائے گا اور ایک تا دس سال کی سزا اور 25 ہزار تک جرمانہ عائد کیا جائے گا۔ساتھ ہی شادی میں مدد کرنے والے بھی برابر کے مجرم مانے جائیں گے۔

حکومت اور متشدد تنظیموں کی بد نیتی

آئے دن ملک کے مختلف علاقوں سے Different religions کے لڑکے لڑکیوں کے مابین شادیوں کی خبریں آتی رہتی ہیں۔آزادانہ میل جول، مخلوط تعلیم اور مغربی طرز زندگی کی وجہ سے یہ معاملات بڑھتے ہی جارہے ہیں۔بین مذاہب شادیوں میں عموماً لڑکی ہی تبدیلی مذہب کرتی ہے لڑکا نہیں۔لڑکی چونکہ اپنا گھر چھوڑ کر آتی ہے تو اپنا آبائی مذہب چھوڑ کر شوہر کے مذہب وکلچر کو ہی اپنا لیتی ہے۔ایسے معاملات میں لڑکی کبھی ہندو ہوتی ہے کبھی مسلم، کبھی سِکھ تو کبھی عیسائی۔لڑکے بھی الگ مذہب کے ہوتے ہیں مگر لڑکی کا معاملہ زیادہ حساس ہوتا ہے اور مذہب وکلچر بھی وہی بدلتی ہے۔اس لیے اکثر لڑکی والوں کی جانب سے ہی اعتراض اور قانونی چارہ جوئی ہوتی ہے۔
ایسے رشتوں میں لڑکی مسلمان ہو تو کسی کو کوئی دقت نہیں ہوتی۔لیکن اگر لڑکا مسلم نکل آئے تو حکومت،انتظامیہ اور متشدد تنظیمیں آسمان سر پر اٹھا لیتی ہیں۔صحیح بات یہ ہے کہ لو جہاد کا پروپیگنڈہ در اصل مسلم لڑکیوں کو مرتد بنانے کی سازش ہے۔تاکہ کام بھی ہوجائے اور بدنامی بھی نہ ہو۔پچھلے کچھ وقت سے بین مذاہب شادیوں کے جن معاملوں میں لڑکی مسلم اور لڑکے ہندو تھے۔ان میں سے اکثر لڑکوں کا تعلق متشدد تنظیموں سے تھا اور انہیں تنظیموں نے قانونی معاملات میں ایسے لڑکوں کو بھرپور مدد بھی فراہم کی۔صاف ظاہر ہے کہ متشدد تنظیمیں مسلم لڑکیوں کو مرتد بنانے کی سازش میں ملوث ہیں۔اکھل بھارتیہ یوا ہندو مورچہ، ہندو جن جاگرن سمتی جیسی کئی ہندو تنظیمیں کھلے عام مسلم لڑکی کو بہو بنانے کے لیے ڈھائی لاکھ روپے اور قانونی مدد کا اعلان کر چکی ہیں۔ایسے قانون شکن اعلانات کے باوجود ان تنظیموں کے خلاف نہ حکومت کوئی قدم اٹھاتی ہے نہ انتظامیہ کو اپنا فرض یاد آتا ہے؟جبکہ تمام تر تحقیقات کے باوجود سازش کا ادنیٰ ثبوت نہ ملنے کے بعد بھی مسلمانوں پر حکومت وانتظامیہ لو جہاد کی سازش رچنے اور ہندو لڑکیوں کو ورغلانے کا الزام لگاتی ہیں۔آج ہی لا کمیشن کے چئیرمین جسٹس آدتیہ ناتھ متّل کا بیان اخبارات میں شائع ہوا ہے جس میں انہوں نے قبول کیا ہے کہ یوپی میں لو جہاد کا کوئی ڈیٹا حکومت وانتظامیہ کے پاس نہیں ہے۔اس سے قبل سابق وزیر داخلہ اور موجودہ وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ پارلیمنٹ میں آن ریکارڈ لو جہاد کی تھیوری کو مسترد کر چکے ہیں۔لیکن اس کے باوجود بی جے پی حکومتوں کا رویہ خالص مسلم دشمنی پر مبنی اور اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنا ہے۔

اپنا گھر سنبھالیں

ہمارے علم وتحقیق کے مطابق غیر مسلم لڑکیوں سے شادی کرنے والے افراد کے دو طبقات ہیں۔
1-لبرل اور آزاد خیال۔
2-متوسط اور پیشہ ور افراد۔

طبقہ اول میں اعلی تعلیم یافتہ،ملازمت پیشہ،فلمی اداکار اور سیاسی توقعات رکھنے والے افراد شامل ہیں۔طبقہ اول کی بڑی تعداد رسمی سی مسلمان ہوتی ہے۔دین سے دوری،دینی ماحول کی کمی اور سیاست وبزنس میں آگے بڑھنے کی خواہش کی وجہ سے یہ طبقہ کسی بھی مذہب سے رشتہ جوڑنے میں جھجک محسوس نہیں کرتا۔انہیں لگتا ہے کہ بین مذہبی شادی سے وہ لبرل اور آزاد خیال سمجھے جائیں گے۔جس سے انہیں اپنی سیکولر امیج اور دنیوی فائدہ ملنے کا یقین ہوتا ہے۔اب جو طبقہ اپنے مفاد کی خاطر دین کو داؤں پر لگادے اس سے مذہبی تبلیغ کی امید بیل سے دودھ کی امید رکھنے جیسا ہے۔
طبقہ دوم میں مختلف علاقوں میں پیشہ ورانہ کام کرنے اور ہندو آبادیوں میں رہنے والے افراد شامل ہیں۔یہ لوگ غیر مسلم آبادیوں میں رہنے یا اپنے کاموں کی وجہ سے معاشرتی اختلاط ہونے کی وجہ سے غیر مسلم لڑکیوں کے رابطے میں آتے ہیں وقتی محبت کے جوش میں شادی بھی کر لیتے ہیں، مگر اس کی وجہ صرف مخلوط معاشرت اور وقتی محبت ہوتی ہے۔سازش کا تصور دور دور تک نہیں ہوتا۔طبقہ دوم کے نوجوان خود اپنے گھر والوں کی نگاہ میں مجرم ہوتے ہیں کیوں یہ لوگ عموماً روایتی مسلم گھرانوں سے ہوتے جہاں دین داری کا غلبہ واثر ہوتا ہے۔اس لیے ان گھرانوں میں آسانی سے بین المذاہب شادیوں کو قبول نہیں کیا جاتا۔اس طرح یہ صاف ہوجاتا ہے کہ دونوں ہی طبقات لبرلزم اور وقتی جذبات کے تحت ایسی شادیاں کرتے ہیں۔سازش اور لو جہاد کا شوشہ محض پروپگنڈہ ہے۔
مذکورہ قانون کے بعد طبقہ دوم کے نوجوان ہی حکومت وانتظامیہ کے رڈار پر ہوں گے۔کیوں کہ طبقہ اول کو تو خود حکومت بڑے عہدے سے نوازتی ہے تاکہ اس کے ذریعے اپنے مقا
صد کو سادھ سکے۔پورے معاملے کا سب سے تشویش ناک پہلو مسلم لڑکیوں کے خلاف ہونے والی سازش ہے۔جس کے تحت اچھے گھر مکان اور اعلی سوسائٹی میں رہنے کا لالچ دیکر مسلم لڑکیوں کو مرتد بنایا جاتا ہے۔اس سازش کے دو بنیادی مقصد ہیں:
1-مسلم معاشرے میں ارتداد پھیلانا۔
2-نفسیاتی طور پر مغلوب کرنا۔
عام طور پر حکومتی ملازمت اور کاروبار میں غیر مسلم نوجوانوں کا تناسب مسلم نوجوانوں سے زیادہ ہوتا ہے۔غیر مسلم علاقے بھی مسلم علاقوں سے زیادہ ترقی یافتہ ہوتے ہیں۔انہیں چیزوں کا لالچ دیکر مسلم لڑکیوں کو ورغلایا جاتا ہے۔اس کے ساتھ ہی ان پر پردے وغیرہ کے حوالے سے نفسیاتی حملہ بھی کیا جاتا ہے۔کیوں کہ اسلام میں معاشرتی زندگی کے لیے کچھ حدود وقیود ہیں جبکہ دیگر مذاہب میں پردے وحیا کا تصور سرے سے نہیں ہے۔یہی وجہ ہے کہ بڑی تیزی کے ساتھ مسلم لڑکیاں غیر مسلم لڑکوں سے شادیاں کر رہی ہیں۔اس بڑھتے ہوئے رجحان میں سنیما اور ٹی وی سیریل بھی اہم رول ادا کر رہے ہیں۔ضرورت ہے کہ والدین اپنے بچوں خصوصاً بچیوں پر بہت زیادہ دھیان دیں۔تعلیم،ٹیوشن اور ملازمت کے نام پر چھوٹ دینا بچیوں کا ایمان اور اپنی رسوائی کا سامان کرنا ہے۔علما اور مبلغین بھی ایسے موضوعات پر عوامی بیداری پیدا کریں تاکہ معاشرے کی اصلاح ہوسکے۔

11 ربیع الثانی 1442ھ
27 نومبر 2020 بروز جمعہ

https://www.facebook.com/388280455075812/posts/818317942072059/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
#حضرت_عثمان:#غنی_بھی_ذوالنورین_بھی!!

غلام مصطفےٰ نعیمی
مدیر اعلیٰ سواد اعظم دہلی

عبدالمطلب بن ہاشم قبیلے کے باثر اور رسوخ دار شخص مانے جاتے تھے۔خدا نے کئی بیٹے بیٹیوں سے نوازا تھا۔ایک بار پھر ان کی اہلیہ امید سے تھیں۔وقت پورا ہوا۔فضل ربی سے جڑواں بچوں کی ولادت ہوئی۔بیٹے اور بیٹی کی آمد نے پورے گھر میں خوشیاں بکھیر دیں۔بیٹے کا نام عبداللہ اور بیٹی کا نام بیضاء رکھا گیا۔
آپ جانتے ہیں یہ دونوں جڑواں بھائی بہن کون تھے؟

نومولود عبداللہ، کائنات کی افضل ترین ہستی، خاتم النبیین، محبوب خدا جناب محمد رسول اللہ ﷺ کے والد اور وہ خوش نصیب بہن آپ ﷺ کی سگی پھوپی تھیں۔یہی بیضاء بنت عبدالمطلب خلیفہ سوم، داماد رسول حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی سگی نانی بھی تھیں۔آپ کی بیٹی ارویٰ بنت کریز عفان بن ابوالعاص سے بیاہی تھیں۔انہیں ارویٰ بنت کریز کے بطن سے حضرت عثمان عام الفیل کے تقریباً چھ سال بعد 576ء میں پیدا ہوئے۔

سرزمین عرب کے دن سنورنے والے تھے۔خزاں کا موسم آمد بہار کا اشارہ محسوس کر رہا تھا۔محبوب خدا ﷺ اعلان نبوت فرما چکے تھے۔آپ کے یار غار سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ تبلیغ اسلام کے لیے خود کو وقف کر چکے تھے۔آپ ایک کامیاب تاجر اور معاشرے کے اعلی طبقے سے تعلق رکھتے تھے آپ کا اٹھنا بیٹھنا ہر طبقے میں خوب تھا۔حضرت عثمان بن عفان جوان تھے اور کامیاب تاجر بھی !!
حضرت عثمان وہ غیر معمولی جوان تھے جو معاشرے کی روایتی برائیوں سے بالکل محفوظ تھے۔بت پرستی شراب نوشی اور زنا جیسی بدترین برائیوں سے کوسوں دور تھے۔آپ کی انہیں خوبیوں اور نفیس طبیعت کو دیکھتے ہوئے حضرت ابوبکر صدیق نے آپ کو اسلام کی دعوت پیش کی۔اس زمانے میں خاندان بنو امیہ خاندان قریش کا حریف سمجھا جاتا تھا۔دونوں ہی خاندانوں میں شرف وعزت اور غلبے کے لیے چپقلش رہتی تھی۔حضرت عثمان کا تعلق اگرچہ بنو امیہ سے تھا مگر آپ کا دل خاندانی تعصب وعناد سے پاک وصاف تھا اس لیے کلمہ پڑھ کر نبی اکرم ﷺ کے دامن کرم سے وابستہ ہوگئے۔اسلام قبول کرنے والے آپ چوتھے انسان تھے۔آپ سے پہلے صدیق اکبر،حضرت علی اور حضرت زید ایمان لاچکے تھے۔آپ کی شرافت اور پاکیزہ چال چلن کو دیکھ کر نبی رحمت ﷺ نے اپنی منجھلی شہزادی سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا کا نکاح آپ سے کردیا۔دونوں میاں بیوی تاریخ اسلام کے ان خوش نصیب زوجین میں شامل ہیں جنہیں دو ہجرتوں کا شرف حاصل ہوا۔سب سے پہلے آپ نے حبشہ (Ethiopia) کی جانب ہجرت کی بعدہ مکہ واپس آئے اور مدینہ منورہ کی جانب ہجرت فرمائی۔آپ خود فرماتے ہیں:
وھاجرت الھجرتین الاولیین۔
(بخاری:فضائل اصحاب النبی)
"میں نے اسلام کی پہلی دو ہجرتیں کی ہیں۔"

مدینہ منورہ پہنچ کر مسلمانوں کو ذرا سکون ملا ہی تھا کہ کفار مکہ نے جنگ کا بگل بجا دیا۔چار ناچار مسلمانوں کو جنگ کے لیے نکلنا ہی پڑا۔ایک طرف مجاہدین اسلام دین کی حفاظت کے لیے کمر بستہ ہو رہے تھے تو دوسری جانب شہزادی کونین سیدہ رقیہ سخت بیمار تھیں۔یہ صورت حال حضورﷺ اور حضرت عثمان کے لیے بڑی آزمائش بھری تھی، ایک طرف بیمار بیٹی کی صورت پدری محبت کو آواز دے رہی تھی تو دوسری جانب اسلام کے وجود پر کفر کے گھنے بادل چھانے کی تیاری کر رہے تھے۔حضور نے نم آنکھوں کے ساتھ اسلام کو بیٹی پر فوقیت دی اور حضرت عثمان کو مدینہ میں ہی رکنے کا حکم دیا۔حضرت عثمان کے لیے بڑی کٹھن گھڑی تھی،ایک طرف شریک حیات صاحب فراش تھیں،دوسری جانب ان کے دوست واحباب تحفظ اسلام کی خاطر جانوں کی بازی لگانے جارہے تھے۔دل تو ان کا بھی چاہتا تھا کہ اپنے دوستوں کے ساتھ دفاع اسلام کی خدمت انجام دیں مگر اہلیہ کی بیماری اور حضور کے حکم پر اپنی خواہشات روک کر شہزادی رسول کی دیکھ بھال میں جٹے رہے۔
بدر کے میدان میں کفر و اسلام کے مابین زور آزمائی چل رہی تھی تو مدینۃ الرسول میں شہزادی رسول موت وحیات کی منزلوں سے گزر رہی تھیں۔ادھر لشکر اسلام نے تاریخی فتح حاصل کی ادھر سیدہ نے بابا کے آنے کا انتظار بھی نہیں کیا اور رب تعالیٰ کی مہمان بن کر راہی ملک عدم ہوگئیں۔
سیدہ رقیہ کے وصال کے بعد حضرت عمر نے سیدنا عثمان کے لیے اپنی بیٹی حضرت حفصہ کا رشتہ پیش کیا۔مشیت الٰہی آپ کو ایک منفرد اعزاز کے لیے منتخب کر چکی تھی۔اس لیے آپ نے کوئی جواب نہیں دیا۔حضرت عمر کو یہ بات بہت گراں گزری، آپ شکایت لیکر بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئے۔آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
هل لَك في خيرٍ من ذلِك؟ أتزوَّجُ أنا حفصةَ وأزوِّجُ عثمانَ خيرًا منها أمَّ كُلثومٍ.
(ابن عبد البر (ت ٤٦٤)، الاستيعاب ٤‏/٣٩٩)
"کیا میں تمہیں عثمان سے بہتر رشتہ نہ بتاؤں؟آپ حفصہ کا نکاح مجھ سے کردیں۔اور میں عثمان سے اپنی بیٹی ام کلثوم کا نکاح کردیتا ہوں جو حفصہ سے بہتر ہے۔"
اس طرح آپ تاریخ انسانی کے وہ پہلے اور آخری خوش نصیب انسان بنے جس کے نکاح میں کسی نبی کی دو شہزادیاں آئیں، اسی نسبت سے آپ ذوالنورین کہلائے:

نور کی سرکار سے پایا دوشالہ نور کا
ہو مبارک تم کو ذُو النُّوْرَیْن جوڑا ن
ور کا

یوں تو اہل عرب کی زبان ایک ہی تھی مگر لب و لہجہ اور انداز تکلم ایک دوسرے سے قدرے مختلف تھا۔یہ بات مشاہداتی ہے کہ ہر زبان کا تلفظ علاقہ بدلنے کے ساتھ تھوڑا بہت تبدیل ہوجاتا ہے۔دہلی وحیدرآباد میں اردو زبان استعمال ہوتی ہے لیکن بعض جملوں کے تلفظ وکتابت میں خاصا فرق آجاتا ہے،ہمارے یہاں Lab کو "لَیب" لکھا جاتا ہے جبکہ حیدرآباد میں اسی لفظ کو "لیاب" لکھا جاتا ہے۔زبان ایک ہے مگر علاقہ کی تبدیلی سے تلفظ وکتابت میں فرق آجاتا ہے۔حالانکہ مفہوم ایک ہی رہتا ہے۔اسی طرح عرب قبائل کی زبان تو عربی ہی تھی لیکن بعض الفاظ کے تلفظ وکتابت میں فرق بھی پایا جاتا تھا۔ابتدائے اسلام میں قبائل عرب کو اپنے اپنے تلفظ کے مطابق قرآن پڑھنے کی آزادی تھی۔لیکن اسلام کی بڑھتی ہوئی وسعت اور نئے افراد کی شمولیت سے کئی مقام پر قرآت قرآن کو لیکر اختلاف شروع ہوگیا۔کوئی ایک انداز میں قرآن پڑھتا تو دوسرے کو لگتا کہ وہ غلط پڑھ رہا ہے۔ٹوکنے پر دوسرا فریق یہ سمجھتا کہ فریق اول کی قرأت صحیح نہیں ہے۔اس طرح ہر ایک خود کو درست اور دوسرے کو غلط بتاتا۔یوں اختلاف بڑھتا گیا۔نوبت یہاں تک پہنچی کہ اختلاف تنازع کی صورت اختیار کرنے لگے۔جب ایسی شکایتیں زیادہ بڑھ گئیں تو حضرت حذیفہ سیدنا عثمان غنی کے پاس آئے اور قرأت قرآن پر اختلاف اور تنازعات کی سنگینی کا احساس دلاتے ہوئے عرض کیا:
یاأمير المؤمنين أدرك هذه الأمة قبل أن يختلفوا في الكتاب كما اختلفت اليهودوالنصارى۔
(سنن ترمذی کتاب تفسیر القرآن)
"امیر المؤمنین!اس امت کو سنبھال لیجیے، اس سے پہلے کہ یہ کتاب اللہ میں اسی طرح اختلاف کرے جس طرح یہود و نصاریٰ نے اپنی کتابوں میں اختلاف کیا۔"
صورت حال واقعی نازک تھی کہ کوئی بھی نومسلم قرآن سیکھتا تو کسی ایک ہی تلفظ وقرأت کے مطابق سیکھتا۔دو مختلف علاقوں کے لوگ دو الگ انداز میں قرآن پڑھتے اس طرح اختلاف سنگین ہونے کے خدشات تھے۔حضرت عثمان نے نزاکت کا احساس کیا اور ام المومنین حضرت حفصہ کو پیغام بھجوایا:
فأرسل إلى حفصة أن أرسلي إلينا بالصحف ننسخها في المصاحف ثم نردها إليك فأرسلت حفصة إلى عثمان۔(ایضاً)
"حضرت عثمان نے ام المومنین حضرت حفصہ کو پیغام بھجوایا کہ آپ مصحف صدیقی ہمارے پاس بھجوادیں تاکہ ہم اس سے مزید نقلیں تیار کرالیں۔پھر ہم اسے آپ کو واپس لوٹا دیں گے۔یہ سن کر حضرت حفصہ نے مصحف صدیقی حضرت عثمان کو بھیج دیا۔"

ام المومنین حضرت حفصہ کے پاس قرآن مجید کا وہ نسخہ محفوظ تھا جسے حضرت ابوبکر صدیق نے جمع کرایا تھا۔یہ نسخہ زبان قریش کے مطابق لکھا گیا تھا-حضرت عثمان نے حضرت زید بن ثابت ،حضرت عبداللہ بن زبیر ،حضرت سعید بن العاص اور حضرت عبدالرحمٰن بن حارث کو قرآن کو لغت قریش کے مطابق لکھنے کی ذمہ داری سونپی اور یہ ہدایت بھی فرمائی:
إذا اختلفتم أنتم وزيد بن ثابت في شيء من القرآن فاكتبوه بلسان قريش فإنما نزل بلسانهم۔
(فتح الباري شرح بخاري ص: 621)
"اگر تم میں اور زید بن ثابت میں قرآن کی کتابت کے بارے میں اختلاف ہوجائے تو اسے قریش کی زبان کے مطابق لکھنا کیوں کہ قرآن انہیں کی زبان کے مطابق نازل ہوا ہے۔"

کاتبین وحی کی پر خلوص جدوجہد اور سیدنا عثمان غنی کی سرپرستی میں قبیلہ قریش کے انداز تکلم اور رسم الخط کا لحاظ رکھتے ہوئے مصحف صدیقی کی کئی نقلیں تیار کرائی گئیں۔اور مختلف اسلامی شہروں میں بھیج دی گئیں۔دیگر اسلوب وکتابت والی نقول کو واپس منگوا کر منسوخ کرادیا اس طرح پوری امت ایک ہی نسخہ قرآن پر جمع ہوگئی۔آج بھارت سے برطانیہ اور افریقہ سے عرب تک ہی ایک ہی نسخہ قرآن پایا جاتا ہے۔

ہجرت کا نواں سال چل رہا تھا۔جس تیزی کے ساتھ اسلام کی مقبولیت بڑھ رہی تھی اسلام کے دشمن بھی اسی تعداد میں بڑھ رہے تھے۔عرب اور شام کے درمیان سلطنت غسان قائم تھی اور ہرقل روم کی تابع تھی۔اس سے قبل جنگ موتہ میں رومی ہزیمت اٹھا چکے تھے۔اس لیے اس بار انہوں نے بڑی تیاری کی۔شامی سرحد پر عیسائی لشکر جمع ہوچکا تھا۔حضور ﷺ نے اس حملے سے بچاؤ کے لیے مدینے سے باہر جاکر لڑنے کا ارادہ فرمایا۔تاریخ میں یہ جنگ غزوہ تبوک کے نام سے معروف ہے۔ان دنوں مسلمانوں کی مالی حالت بے حد کمزور تھی۔لشکر کے پاس فوجی ساز وسامان، سواریاں اور کھانے پینے کے سامان کی سخت قلت تھی۔سختی کا عالم یہ تھا کہ حضورﷺ نے منبر سے عام چندے کا اعلان فرمایا۔حضرت عثمان کا تجارتی قافلہ شام کی جانب روانہ ہونے والا تھا کہ حضور کا اعلان سماعت کیا۔اعلان سنتے ہی سارا ساز وسامان حضور علیہ السلام کی بارگاہ میں پیش کردیا۔اس مال میں 900 اونٹ 100 گھوڑے مع ساز وبراق اور 1000 ہزار سونے کے دینار شامل تھے۔
اس زمانے میں اونٹ اور گھوڑے انتہائی قیمتی جانور مانے جاتے تھے۔آج بھی دونوں جانور بیش قیمت سمجھے جاتے ہیں۔اگر موجودہ وقت میں ایک اونٹ کو 50 ہزار کا بھی مان لیا جائے تو 900×50,000 کی رقم ساڑھے چار کروڑ روپے بنتی ہے۔اسی رقم میں سو گھوڑوں کی قیمت بھی اسی مد میں جوڑ دیں تو کُل قیمت پانچ کروڑ ہوج
اتی ہے۔
ایک دینار 4 گرام 374 ملی گرام وزن کا ہوتا ہے۔موجودہ وقت میں ایک گرام سونا 4800 روپے کا ہوتا ہے۔اس طرح ایک دینار کو 4 گرام کا بھی مان لیں تو ایک دینار کی قیمت 19200 روپے اور ایک ہزار دینار کی قیمت ایک کروڑ 92 لاکھ روپے بنتی ہے جبکہ وکی پیڈیا کے مطابق ایک ہزار دینار کی قیمت 1 ارب سے زائد بنتی ہے۔حضرت عبدالرحمن بن سمرہ بیان فرماتے ہیں کہ غزوہ تبوک کے موقع پر سیدنا عثمان ایک ہزار دینار لیکر آئے اور نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں پیش کردیا۔
‌‌‌‌‌‏قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ:‌‌‌‏ فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَلِّبُهَا فِي حِجْرِهِ وَيَقُولُ:‌‌‌‏ مَا ضَرَّ عُثْمَانَ مَا عَمِلَ بَعْدَ الْيَوْمِ مَرَّتَيْنِ۔
(ترمذی، کتاب المناقب:3701)
"حضرت عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺان دیناروں کو دامن میں الٹ پلٹ کر دیکھ رہے ہیں اور فرما رہے تھے آج کے بعد سے عثمان کو کوئی بھی برا عمل نقصان نہیں پہنچائے گا،ایسا آپ نے دو بار فرمایا۔"

آپ نے مسلمانوں کے لیے میٹھے پانی کا چشمہ خرید کر وقف کیا۔مسجد نبوی کی توسیع کرائی-ہر جمعہ کو غلام آزاد فرماتے غرضیکہ فلاحی کاموں کے لیے آپ ہمیشہ ہی تیار رہتے۔
جس طرح دولت عثمانی بے حساب تھی اسی طرح سخاوت عثمانی بھی اپنی مثال آپ تھی۔

آپ 12 سال تک مسند خلافت پر متمکن رہے۔اس درمیان جہاں اسلامی سرحدوں کو وسعت ملی تو مسلمانوں میں اعلی درجے کی خوش حالی بھی آئی۔مگر دور خلافت کے آخری حصے میں سازشوں کے سایے بڑھتے گئے۔آپ کی نرم دلی اور سادگی کا بیجا فائدہ اٹھایا گیا۔نتیجہ بغاوت کی صورت میں آیا اور بلوائیوں نے آپ کے مکان کو گھیر لیا۔جس نے مسلمانوں کے لیے میٹھے پانی کا چشمہ خریدا اسی پر پانی بند کردیا گیا۔جس نے مسلمانوں کی قحط سالی دیکھ سارا غلہ صدقہ کردیا، اُسی پر کھانا روک دیا گیا۔18 ذوالحجه 35ھ کو وہ وقت آیا کہ ایک زمانے کو اپنی سخاوت سے فیض یاب کرنے والے ذوالنورین تلاوت قرآن کرتے ہوئے نہایت سفاکی کے ساتھ شہید کر دئے گئے۔خون کے چھینٹے فَسَیَکۡفِیۡکَہُمُ اللّٰہُ ۚ وَہُوَالسَّمِیۡعُ الۡعَلِیۡمُ۔آیت پر پڑھے اور امت محمدیہ کو ایک نسخہ قرآن پر جمع کرنے والے جامع القرآن رب کے مہمان ہوگئے۔

یعنی عثمان صاحبِ قمیصِ ہُدیٰ
حُلَّہ پوشِ شہادت پہ لاکھوں سلام

15 ربیع الثانی 1442ھ
یکم دسمبر 2020 بروز منگل

https://www.facebook.com/388280455075812/posts/820786388491881/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
https://twitter.com/RMustaqbil?s=09

#یہ_کامیابی_ٹیم_ورک_کا_نتیجہ_ہے

ہمارا آج کا ٹرینڈ زبردست کامیاب ہوا۔ اس کے لیے تنظیم "روشن مستقبل دہلی"، ٹویٹر ٹرینڈز گروپ کے ایک ایک فرد کی شکر گزار ہے۔
آپ سب نے ہماری آواز پر لبیک کہتے ہوئے اپنا قیمتی وقت دیا اور اس وقت تک انتھک کوشش کی جب تک کامیابی کو حاصل نہ کرلیا۔

ساتھ ہی قابل مبارکباد ہیں "ٹویٹر ٹرینڈ گروپ کا ایڈمن پینل" جس نے مناسب موقع کے ساتھ درست وقت کا انتخاب کیا۔ ان کی دور اندیشی نے آج کے ٹرینڈ کو کامیاب بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔

آج کے ٹرینڈ سے بھی ہم نے بہت کچھ سیکھا۔ ایک ضروری بات جو آج نوٹس کی گئی، وہ یہ کہ بار بار اغیار نے کہا: "اس ٹرینڈ میں صرف مسلمان ہی کیوں نظر آرہے ہیں؟". شاید یہ ایک بڑی وجہ ہے ہمارے گزشتہ ٹرینڈز کی ناکامی کی۔
لوگ ہمارے نام اور فوٹو دیکھ کر ٹرینڈ کو اگنور تو کرتے ہی ہیں ساتھ ہی رپورٹ بھی کرتے ہیں۔ اس کا حل یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ہم مذہبی ٹرینڈ کے علاوہ ہر ٹرینڈ میں کثرت کے ساتھ ایکسٹرا اکاؤنٹس کا استعمال کریں تاکہ دوسرے لوگ بھی ساتھ آئیں۔

یاد رہے! ہر ٹرینڈ میں ہمیں اس وقت تک سب کو جم کر محنت کرنی ہوگی جب تک ٹرینڈ لسٹ میں نہ آجائے، جب ٹرینڈ لسٹ میں آجائیگا تو کئی اور لوگ ساتھ دینے لگیں گے۔

امید کرتا ہوں کہ آج کی کامیابی نے ان لوگوں کو بھی ضرور قوت اور حوصلہ بخشا ہوگا جو گزشتہ ٹرینڈز کی ناکامی سے دل برداشتہ ہونگے۔
ہم کامیاب ضرور ہونگے بس ہمیں ٹیم کی طرح کام کرنا ہوگا۔ کسی کے بہکاوے میں آکر تنظیم کے خلاف جانے کی غلطی سے بچنا ہوگا۔
تنظیم جو بھی فیصلہ لیتی ہے بہت غور و خوض کرنے کے بعد لیتی ہے لہذا اس فیصلے کا احترام کریں۔
اگر کوئی بات قابل اعتراض لگے تو آپ ایڈمن حضرات میں سے کسی سے بھی پرسنل پر رابطہ کرلیں ان شاءاللہ عزوجل تشفی بخش جواب دیا جائے گا۔

دوسروں کے ٹرینڈز کا اعلان اور ان میں ساتھ دینے یا نہ دینے کے متعلق تنظیم بہت سوچ سمجھ کر فیصلہ لیتی ہے۔ اور وہ فیصلہ ایک ایک ممبر کی حفاظت کو نظر میں رکھ کر لیا جاتا ہے۔
کبھی اس کی حکمت اور وجہ بیان کی جاتی ہے اور کبھی نہیں۔
لہذا آپ سب ہمارے ساتھ بنے رہیں۔

ایک بار ہم پھر سے آپ کا شکریہ ادا کرتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ آپ اسی طرح ہمارے ساتھ جڑے رہیں گے اور قدم سے قدم ملا کر ہم سب کامیابی کی منزلوں کو پامال کرتے جائیں گے۔
(ان شاءاللہ عزوجل)

محمد شاہد علی مصباحی
رکن: روشن مستقبل دہلی

https://www.facebook.com/388280455075812/posts/822556254981561/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
اے پُرسکون چہرے والے! اب تجھے کوئی نہیں ستائے گا ، کوئی ظالم تیری مقدس داڑھی پکڑ کر ، تجھے معذوری میں نہیں گھسیٹے گا ۔
اب کوئی تیری پشت پر زخموں کے نشان نہ دیکھ پائے گا ، اب کبھی تجھے زنداں کی تاریکی میں مارا نہ جائے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کوئی سخت سردی میں تیرے نحیف جسم پر ٹھنڈا پانی نہیں پھینکے گا ۔

پس تو داخل ہو جا اپنے رب کی جنت میں ، یقینا اہل جنت تجھے مرحبا کہتے ہیں !!

اے شخص! تیری عاجزی کیسی بےمثل تھی ، وہ لاکھوں کا مجمع کہتا تھا:

" ہمارے شیخ کا مزار بنایا جائے گا "

اور تیری وصیت ایسی سادہ تھی کہ:
مجھے میرے کمرے میں دفن کر دینا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہی عظیم کمرہ جہاں تو دِلوں کو بدلا کرتا تھا !

اے اہل جہاں! وہ ساری عمر کہتا تھا میں نے کبھی کسی سے پیسے نہیں لیے ، آج دیکھ لو اس نے اپنے پیچھے کیا چھوڑا ؟؟

اگر چھوڑنا ہوتا تو اپنا مزار بننے دیتا ، باقیوں کی طرح اس کی نسلیں بھی چندے کھاتیں ؛ پر قربان ، وہ تو لاہور کا قلندر تھا ، اسلام کا ہمدرد تھا !!!!

اے بریلی والے! تو نے کہا تھا:

"مجھے نہیں معلوم کہ میرے بعد جو آئے گا وہ تمھیں کیا بتائے گا ، پس تم جان لو کہ حجت اللہ قائم ہو چکی"

وہ اکثر کہتا تھا:
"وہ درویش جو بریلی میں لیٹا ہے(احمد رضا بریلوی) ، وہ درویش جو سرہند میں لیٹا ہے(مجدد الف ثانی)"
آج میں کہتا ہوں:
"وہ درویش جو لاہور میں لیٹا ہے"

اے اہل جہاں!
میرا دل ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا ، میری آنکھیں خشک نہیں ہوتیں ، میں اس کی دید کو ترستا ہوں ؛ اس نے اپنا چہرہ ایسے چھپایا کہ محشر تک نہ دکھائے گا ۔

اے ابن حزم! نہ تجھے اپنے محبوب کا غم تھا ، اور نہ اے مجنوں! تجھے لیلی کی جدائی ڈستی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مجھ سے پوچھو میرے محبوب کی جدائی نے میرے دل پر قہر ڈھا دیے ہیں ۔
کاش اس کے پہلو میں مجھے بھی چند گز جگہ مل جاتی !

( یہ تحریر علی سنان کی ہے ، لیکن مکمل نہیں ؛ مکمل نیچے کمینٹ میں ملاحظہ کرلیں )

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3024225134524322&id=100008105947430