🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
#عید_غوثیہ#غوث_الاعظم
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
وما اهل به لغیر الله | روح المعانی
وما اہل بہ لغیر اللہ | تفسیر مدارک
حضرت علی حضرت اویس قرنی
فاتحہ تیجہ چالیسواں برسی ...
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
موضوع #گیارہویں_شریف 📜 5
#ڈاکٹر_غلام_مرسلین_رضوی
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
سلطان المشائخ 🌹 محبوب الٰہی
حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَـبَـارَڪَ وَ تَـعَـالیٰ عَـنۡـہۡ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
یومِ ولادت 27 صفر المظفر ۶۳۶؁ھ
یومِ وفات 18 ربیع الآخر ۵۲۷؁ھ
➻═══════════➻
TTS AʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
محبوب الٰہی خواجہ نظام الدین اولیاء

حیات وتعلیمات

 سلطان المشائخ خواجہ نظام الدین اولیا قدس سرہٗ جنھیں پیارسے ’’سلطان جی‘‘ اور عظمت شان کی وجہ سے ’’محبوب الٰہی‘‘بھی کہاجاتاہے،آپ ہندوستان میں چشتیہ سلسلہ طریقت کے چوتھے عظیم بزرگ ہیں۔سوانح نگاروں کے مطابق خواجہ فرید الدین گنج شکر قدس سرہٗ معروف بہ’’ بابافرید‘‘ نے سلسلہ چشتیہ کو منظم کیا اور محبوب الٰہی قدس سرہٗ نے اس سلسلے کو ترقی اور بلندی عطاکی

 نام ونسب:

محبوب الٰہی کا اصل نام ’’محمد ‘‘اورلقب ’’نظام الدین‘‘ ہے، جب کہ والد مکرم کا نام’’ احمد‘‘اور والدہ ماجدہ کا نام ’’بی بی زلیخا‘‘ہے۔ آپ نجیب الطرفین سیدہیںاورآپ کا سلسلہ نسب سید حسن بن میر علی بن میراحمد کے واسطے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچتا ہے۔

آپ کے آباواجداد، بخاراکے رہنے والے تھے جو چنگیزی حملے کے وقت لاہورآئے،اسی لاہور شہر میں آپ کے والدین پیدا ہوئے۔کچھ دنوںبعد آپ کے داداخواجہ علی بخاری اور ناناخواجہ عرب دونوںشہر بدایوں پہنچے اوروہیں مستقل سکونت اختیار کرلی۔

 ولادت باسعادت:
محبوب الٰہی کی ولادت ہندوستان کے اِسی مشہور شہر بدایوں میں24؍صفرسنہ 636ہجری مطابق 4؍اکتوبر1238 عیسوی میں ہوئی۔آپ جب پیدا ہوئے اس وقت شہر بدایوں علم وفضل کامرکز بھی تھااورمذہبی وروحانی اعتبارسے مشہورِ عالم بھی۔ وہاں کے علما وفضلا عالمی سطح پر قدرومنزلت کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھیاور یہ شہربدایوں’’ قبۃ الاسلام‘‘کے نام جانا جاتاتھا۔
تعلیم وتربیت:
محبوب الٰہی نے ابھی زندگی کی چھ بہاریں ہی دیکھی تھیں کہ شفقت پدری سے محروم ہوگئے۔ اس کے بعد آپ کی تعلیم وتربیت کی تمام تر ذمہ داری والدہ ماجدہ بی بی زلیخانے بحسن وخوبی انجام دی۔والدہ ماجدہ دین دار ہونے کے ساتھ انتہائی باہمت اور باحوصلہ خاتون تھیں،جس کا ثبوت یہ ہے کہ غربت و افلاس اور اقتصادی ومالی دقتوں کے باوجوداُنھوں نے آپ کی تعلیم وتربیت کاانتظام کیااورحصول تعلیم میں آپ کا ہر ممکن تعاون دیا۔
محبوب الٰہی کی ابتدائی تعلیم بدایوں میں ہوئی۔مثلاًوہاں آپ نے ناظرہ قرآن کریم اور صرف ونحو کی ابتدائی کتابیں پڑھیں اور مولانا علاء الدین اصولی سے قدوری کادرس لیا۔پھر والدہ ماجدہ کے ساتھ اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے دہلی کارخ کیا جو بدایوں کے بعد علم وفضل کامرکز بناہوا تھا۔ یہاں آپ نے خواجہ شمس الدین خوارزمی سے علمی استفادہ کیا اور اُن سے مقامات حریری پڑھی، جب کہ استاذِعصر حضرت مولانا کمال الدین سے علم حدیث میں استفادہ کیا اور اُن سے مشارق الانوار پڑھی۔ اس کے علاوہ کچھ کتابوں کادرس شیخ الاسلام فرید الدین گنج شکر قدس سرہٗ سے بھی لیا۔
 محبوب الٰہی خود بیان فرماتے ہیں کہ میں نے چھ پارے کلام اللہ کی تفسیر،تین کتابیں جن میں سے ایک میں پہلے بھی پڑھ چکاتھااوردو کتابیں شیخ الاسلام کے حلقہ درس میں سنیں۔نیزچھ باب ’’عوارف‘‘ کے اور ابوشکورسالمی کی تمہیدیہ سب میں نے اُنھیں سے پڑھیں۔
 علمی لیاقت اورحدیث فہمی:
محبوب الٰہی اپنی علمی صلاحیت ،زودفہمی اوراپنی دانشوری کی وجہ سے معاصرطلباوعلمامیں ’’بحاث‘‘ ا ور’’محفل شکن‘‘ سے مشہور تھے۔ جب آپ نے بیشتر علوم وفنون جیسے زبان وادب، علم فقہ اورعلم حدیث میں کامل مہارت اور کلی دست گاہ حاصل کرلی تو اپنے وقت کے جیدمحدّث سیدکمال الدین زاہد سے مشارق الانوار پر مباحثہ کیا اور علم حدیث میں صحت سند،واقعات وروایات کی باریکیوں سے آگاہی حاصل کی اورتحقیق کا فن سیکھا۔
محبوب الٰہی کی حدیث فہمی کااندازہ اس واقعے سے لگایا جاسکتا ہے کہ آپ نے ایک بارمولانا وجیہ الدین پائلی سے پوچھاکہ حدیث میں ہے:اصْنَعُوا کُلَّ شَیْء ٍ إِلَّا النِّکَاحَ۔یعنی نکاح کے سوا ہر چیز کرو ۔(مسلم،جواز غسل الحائض)
اس حدیث سے بظاہر معلوم ہوتاہے کہ نکاح حرام ہے۔ مجھے بتائیں کہ اس کا مطلب کیاہے؟مولانا وجیہ الدین پائلی کچھ دیر سوچتے رہے،پھر فرمایاکہ پہلے آپ بیان کریں کہ آپ نے کیا سمجھا؟آپ نے کہا کہ صحابہ کرام نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیاکہ جب عورتیں حائضہ ہوجائیں تو کیا ہم ان کا بستر الگ کردیں؟ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اصْنَعُوا کُلَّ شَیْء ٍ إِلَّا النِّکَاحَ۔ آپ کے اس ارشادکا مطلب یہ ہے کہ کمرکے نچلے حصے میں تصرف نہ کرو،ہاں!اوپر ی حصے میں تصرف کرسکتے ہو۔

بیعت وخلافت:
محبوب الٰہی فرماتےہیں کہ جب میری عمردس یابارہ سال تھی،اس وقت ابوبکرقوال نامی ایک شخص میرے استاذ کے پاس آیااور شیخ بہاء الدین زکریاملتانی کے فضائل ومناقب بیان کرنے لگا۔ اس کے بعدشیخ فریدالدین گنج شکر کے اوصاف ومحامد بیان کرناشروع کیا۔یہ سن کر شیخ فریدالدین گنج شکرکی محبت وعقیدت میرے دل میںگھر کرگئی،یہاں تک کہ ہرنماز کے بعد ان کے نام کا وظیفہ میرا معمول بن گیا۔لیکن لاکھ کوشش کے بعد بھی بابافرید سے ملاقات کی کوئی سبیل نہ نکل رہی تھی،کیوں کہ ایک تووالدہ ماجدہ ضعیفی کے عالم میں تھیں اور دوسرا یہ کہ بہن اوراُ
ن کے بچوں کی دیکھ بھال کی ذمے داری بھی آپ کے سرتھی۔
 ایک صبح نمازِفجر کے بعد کسی نے بڑی خوش الحانی کے ساتھ یہ آیت تلاوت کی کہ اَلَمْ یَاْنِ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اَنْ تَخْشَعَ قُلُوْبُہُمْ لِذِکْرِ اللّٰہِ حدید تودل میں دبی عشق کی چنگاری شعلہ کی شکل اختیارکرگئی اوراس طرح آپ سنہ655 ہجری مطابق سنہ1257 عیسوی میں’’ اجودھن‘‘(موجودہ پاکستان) کے لیے روانہ ہوئے، اور سال کی عمر میں بیعت سے شرف یاب ہوئے۔ پھر24؍ سال کی عمرمیں یعنی بیعت کے ٹھیک چار سال بعدسنہ659 ہجری مطابق سنہ1261 عیسوی میں سندخلافت سے بھی نوازے گئے۔
درس وتدریس:
بیعت کے بعد محبوب الٰہی دہلی واپس آگئے اور اپنی معاشی ضرورت پوری کرنے کے لیے درس وتدریس کا مشغلہ اختیارفرمایا۔آپ کے شاگردوں میں امیرخسرو ،امیرحسن سجزی اور قطب الدین منور مشہورہیں،جنھیں آپ نے تعلیم وتربیت بھی دی تھی،اور پھر اپنی مریدی میں بھی داخل کرلیا۔
مزید آپ کے درس وتدریس میں مصروف ہونے کی تائیداس سے بھی معلوم ہوتاہے کہ جب شیخ گنج شکر سے اجازت وخلامت مل گئی توآپ نے اپنے شیخ سے پوچھا :میرا شغل درس وتدریس ہے،اس کو جاری رکھوں یا ترک کردوں؟
 یہ سن کر شیخ الاسلام گنج شکرنے فرمایاکہ درویش کے لیے علم بہت ضروری ہے ،تم تعلیم دینے کا شغل جاری رکھو۔ اس کے بعد جوچیز غالب آجائے گی اس کی وجہ سے مغلوب چیز خود بخود ترک ہوجائے گی۔چنانچہ ایسا ہی ہواکہ جب معتقدین ومریدین کا ہجوم بڑھنے لگا اور مجاہدات کی کثرت ہونے لگی تو تعلیم وتعلم کا مشغلہ بھی خودبخودبندہوتا چلاگیا۔
ممتازمریدین وخلفا:
محبوب الٰہی کے مریدین میں امیروغریب ،محتاج ونادار،وزیروکوتوال اورشاہ وگداہر طرح کے لوگ شامل تھے ،اس لیے آپ کے مریدین کاشمارایک مشکل امر ہے۔البتہ!کچھ تذکرہ نگاروںنے تقریباً 54؍مشہورونامور مریدین وخلفاکاذکرکیا ہے،ان میںسے چند منتخب مریدین وخلفا کے اسمایہاںبھی ذکر کیے جاتے ہیں:۱۔شیخ نصیرالدین محمودچراغ دہلی،۲۔امیر خسرو،۳۔امیر حسن سجزی،۴۔سید رفیع الدین ہارون،۵۔سید حسین کرمانی،۶۔خواجہ سید محمد امام،۷۔شیخ قطب الدین منور،۸۔مولانا حسام الدین ملتانی، ۹۔مولانا فخرالدین زرادی،۱۰۔مولاناعلاء الدین نیلی،۱۱۔مولانا برہان الدین غریب،۱۲۔مولانا وجیہ الدین یوسف،۱۳۔مولانا سراج الدین عثمان معروف بہ اخی سراج،۱۴۔مولانا شمس الدین یحیٰ وغیرہ۔
بادشاہوں سے بے تعلقی:
محبوب الٰہی نے دوشاہی خاندانوں کا عہد پایا:ایک غلام حکمرانوں کاعہد، جس میں آپ کے ابتدائی ایام بسر ہوئے ، اور دوسرا خلجی عہدحکومت ،جس میں آپ فضل وکمال کے اعلیٰ مقام پر فائزتھے،پھر بھی حکمرانوں سے لاتعلق رہے۔حالاں کہ شاہانِ وقت کی ہمیشہ یہ خواہش ہوتی تھی آپ ان سے گہرے روابط رکھیں ،لیکن آپ نے ان کی طرف کبھی بھی کوئی توجہ نہیں دی۔
ایک دفعہ بادشاہ نے امتحان کے ارادے سے چندسوال لکھ کر اپنے بڑے بیٹے خضرخاں کے ذریعے محبوب الٰہی کی خدمت میں بھیجااور ان سے جواب کاطلب گار ہوا۔جب وہ سوال نامہ آپ تک پہنچاتو آپ نے اُسے کھولابھی نہیں اور فرمایا:درویشوں کوبادشاہ سے کیا کام۔
جب بادشاہ کو اِس بات کی خبر ہوئی تو وہ خود خدمت میں حاضر ہونے کی اجازت چاہی مگر آپ نے کہلا بھیجاکہ میں غائبانہ دعاکرتاہوں اور غائبانہ دعامیں بڑا اثر ہے۔اس کے بعد بھی بادشاہ نے اصرار کیاتو آپ نے فرمایاکہ اس فقیر کے مکان کے دو دروازے ہیں،اگر بادشاہ ایک دروازے سے داخل ہوگا تو میں دوسرے دروازے سے نکل جاؤں گا۔
 خدمت خلق اوربخشش وعنایات:محبوب الٰہی کی خدمت میںکثرت سے تحفے تحائف آتے تھے مگر ان میں سے کچھ بھی بچاکرنہیں رکھتے تھے ،بلکہ سب ضرورت مندوں میں تقسیم کروادیاکرتے تھے۔ روزانہ لاکھوں روپے اور قیمتی سازوسامان آتے تھے لیکن آپ اسی اعتبارسے خرچ بھی کردیتے تھے۔آپ کی عنایات وبخشش کاحال یہ تھا کہ مانوعطاوبخشش کا دریا بہہ ہو۔
ایک بار ایک طالب علم آیا اور اپنی حاجت بیان کی، اس وقت خانقاہ میں اُسے دینے کے لیے ایک بیل کے سواکچھ بھی نہ تھا۔آپ نے وہی بیل اس طالب علم کو نذرکردی۔ محبوب الٰہی نے باقاعدہ اپناایک اصول بنارکھاتھاکہ کس کو کتناوظیفہ دیاجائے۔چنانچہ آ پ غیاث پوراورقرب وجوار میں رہنے والے کو روزوظیفہ دیتے تھے۔ شہرمیں رہنے والے کو ہفتہ واروظیفہ دیتے تھے۔آس پاس کے قصبوں میں رہنے والے کو ماہانہ وظیفہ دیتے تھے اور دوردراز سے آنے والوں کے لیے ششماہی یا سالانہ وظیفہ مقرر کررکھے تھے۔ یہاں تک کہ وفات کے وقت بھی جب لنگرخانے میں کچھ غلہ تقسیم ہونے سے رہ گیاتوآپ سخت ناراض ہوئے اور فرمایا:
 انبار خانوں کے دروازے توڑڈالو،یہ غلہ زمین کی مٹی ہے اس کو کیوں رکھاہے۔فقیروں کو بلاو اور اُن سے کہوکہ یہ سب غلہ لے لیںاور ایک تنکابھی باقی نہ چھوڑیں۔
تزکیہ واصلاحات:
محبوب الٰہی نے صرف محتاجوں،ضرورت مندوں اور بیکسوں کی خبرگیری کرنے پر ہی اکتفانہیں کیابلکہ ان کے اندر درآئی عملی خرابیوں اور اخلاقی بیماریوں کو بھی دورکیا اور ان کی اصلاح فرمائی۔آپ نے ایک طرف قلب