تجزیہ نگاروں کی تحقیق ۔
علامہ صاحب کے جنازے میں "ایک کروڑ تینتالیس لاکھ چوالیس ہزار (14,344,533) لوگ شریک تھے
تفصیل :
اقبال پارک کا رقبہ 1.33 مربع کلو میٹر ہے. اور وہ سارے کا سارا بھرا ہوا تھا.
اگر ایک آدمی کو ہم ایک مربع فٹ میں کھڑا کریں تو ایک مربع کلومیٹر میں 3280 مربع فٹ ہوتے ہیں.
اس طرح ایک مربع کلومیٹر میں 10,758,400 لوگ کھڑے ہو سکتے ہیں. اور باقی 0.33 کلومیٹر میں 3,586,133 لوگ کھڑے ہو سکتے ہیں.اس طریقے سے ضرب تقسیم کرکے یہ اخز کیا گیا ہے کہ
عاشق رسولﷺ قبلہ امیر المجاہدین فنا فی خاتم النبیین کے نماز جنازہ میں تقریبا ڈیڑھ کروڑ عاشق رسولﷺ تھے
منقول
علامہ صاحب کے جنازے میں "ایک کروڑ تینتالیس لاکھ چوالیس ہزار (14,344,533) لوگ شریک تھے
تفصیل :
اقبال پارک کا رقبہ 1.33 مربع کلو میٹر ہے. اور وہ سارے کا سارا بھرا ہوا تھا.
اگر ایک آدمی کو ہم ایک مربع فٹ میں کھڑا کریں تو ایک مربع کلومیٹر میں 3280 مربع فٹ ہوتے ہیں.
اس طرح ایک مربع کلومیٹر میں 10,758,400 لوگ کھڑے ہو سکتے ہیں. اور باقی 0.33 کلومیٹر میں 3,586,133 لوگ کھڑے ہو سکتے ہیں.اس طریقے سے ضرب تقسیم کرکے یہ اخز کیا گیا ہے کہ
عاشق رسولﷺ قبلہ امیر المجاہدین فنا فی خاتم النبیین کے نماز جنازہ میں تقریبا ڈیڑھ کروڑ عاشق رسولﷺ تھے
منقول
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Gulam Mustafa Razvi
*یا خدا عشق رسول پاک سے سرشار کر؛*
*خادم حسین، عاشقِ خیر الوری کے واسطے*
Ya Khuda Ishq-e-Rasool-e-Paak se sarshar kar;
Khadim Husayn, Ashiq-e-Khayrul Waraa ke Waastay
*جان و دل سے ہوں فدا نامِ نبیِ پاک پر؛*
*خادم حسین، کشتۂ عشق و وفا کے واسطے*
Jaan-o-Dil se hon fida Naam-e-Nabi-e-Paak par;
Khadim Husayn, Kushta-e-Ishq-o-Wafa ke Waastay
*خادم حسین پاک کا، اسلام کا خادم بنا؛*
*خادم حسین، خادمِ دینِ ہُدٰی کے واسطے*
Khadim Husayn Paak ka, Islam ka Khadim bana;
Khadim Husayn, Khadim-e-Deen-e-Huda ke Waastay
*رنجِ دنیا سے ہمیں بے خوف کر، کر دے نڈر؛*
*خادم حسین، شیر حق، مرد خدا کے واسطے*
Ranj-e-Danya se hamain be-khouf kar, kar de nidar;
Khadim Husayn, Sher-e-Haqq, Mard-e-Khuda ke Waastay
*متحد کر، متحد رکھ، سنیوں کو اے خدا!*
*خادم حسین، پیشوا و رہنما کے واسطے*
Muttahid kar, Muttahid Rakh, Sunniyon ko Ae Khuda;
Khadim Husayn, Peshwa o Rahnuma ke Waastay
*یا الٰہی سنیوں کو نیک کر اور ایک کر؛*
*خادم حسین، با صفا و با وفا کے واسطے*
Ya Ilahi! Sunniyon ko Nek kar aur Aik kar;
Khadim Husayn, Ba-Safa o Ba-Wafa ke Waastay
*دے خودی، ہمت، شجاعت، فتح و نصرت دے ہمیں؛*
*خادم حسین، خادمِ آل عبا کے واسطے*
De Khudi, Himmat, Shuja'at, Fath-o-Nusrat de hamain;
Khadim Husayn, Khadim-e-Aal-e-'Abaa ke Waastay
*کردے خائب دشمنوں کو، سنیوں کا کر بھلا؛*
*خادم حسین، سنیوں کے مقتدا کے واسطے*
Kar de kha'ib dushmanon ko, Sunniyon ka kar bhalaa;
Khadim Husayn, Sunniyon ke Muqtada ke Waastay
*رکھ غلامِ مصطفی، سگ عترت و اصحاب کا؛*
*خادم حسین، نائب غوث و رضا کے واسطے*
Rakh Gulam-e-Mustafa, Sag Itrat-o-Ashaab ka;
Khadim Husayn, Na'ib-e-Ghous-o-Raza ke Waastay
*گیارہویں اور بارہویں والے کا صدقہ کبریا!*
*خادم حسین کا بنا احمد رضا کے واسطے*
Giyarhween aur Barhween walay ka Sadqah Kibriya!
Khadim Husayn ka bana Ahmad Raza ke Waastay
*حامد و نوری کے صدقے، ساتھ سچوں کا رہے؛*
*خادم حسین، صاحب صدق و صفا کے واسطے*
Hamid-o-Noori ke Sadqay, Sath Sacchon ka rahay;
Khadim Husayn, Sahib-e-Sidq-o-Safa ke Waastay
*مسلکِ حق اہلسنت اعلی حضرت پر چلا!*
*خادم حسین، بو تراب، اختر رضا کے واسطے*
Maslak-e-Haqq AhleSunnat AlaHazrat par chalaa;
Khadim Husayn, Bu-Turab, Akhtar Raza ke Waastay
*خادم حسین، عاشقِ خیر الوری کے واسطے*
Ya Khuda Ishq-e-Rasool-e-Paak se sarshar kar;
Khadim Husayn, Ashiq-e-Khayrul Waraa ke Waastay
*جان و دل سے ہوں فدا نامِ نبیِ پاک پر؛*
*خادم حسین، کشتۂ عشق و وفا کے واسطے*
Jaan-o-Dil se hon fida Naam-e-Nabi-e-Paak par;
Khadim Husayn, Kushta-e-Ishq-o-Wafa ke Waastay
*خادم حسین پاک کا، اسلام کا خادم بنا؛*
*خادم حسین، خادمِ دینِ ہُدٰی کے واسطے*
Khadim Husayn Paak ka, Islam ka Khadim bana;
Khadim Husayn, Khadim-e-Deen-e-Huda ke Waastay
*رنجِ دنیا سے ہمیں بے خوف کر، کر دے نڈر؛*
*خادم حسین، شیر حق، مرد خدا کے واسطے*
Ranj-e-Danya se hamain be-khouf kar, kar de nidar;
Khadim Husayn, Sher-e-Haqq, Mard-e-Khuda ke Waastay
*متحد کر، متحد رکھ، سنیوں کو اے خدا!*
*خادم حسین، پیشوا و رہنما کے واسطے*
Muttahid kar, Muttahid Rakh, Sunniyon ko Ae Khuda;
Khadim Husayn, Peshwa o Rahnuma ke Waastay
*یا الٰہی سنیوں کو نیک کر اور ایک کر؛*
*خادم حسین، با صفا و با وفا کے واسطے*
Ya Ilahi! Sunniyon ko Nek kar aur Aik kar;
Khadim Husayn, Ba-Safa o Ba-Wafa ke Waastay
*دے خودی، ہمت، شجاعت، فتح و نصرت دے ہمیں؛*
*خادم حسین، خادمِ آل عبا کے واسطے*
De Khudi, Himmat, Shuja'at, Fath-o-Nusrat de hamain;
Khadim Husayn, Khadim-e-Aal-e-'Abaa ke Waastay
*کردے خائب دشمنوں کو، سنیوں کا کر بھلا؛*
*خادم حسین، سنیوں کے مقتدا کے واسطے*
Kar de kha'ib dushmanon ko, Sunniyon ka kar bhalaa;
Khadim Husayn, Sunniyon ke Muqtada ke Waastay
*رکھ غلامِ مصطفی، سگ عترت و اصحاب کا؛*
*خادم حسین، نائب غوث و رضا کے واسطے*
Rakh Gulam-e-Mustafa, Sag Itrat-o-Ashaab ka;
Khadim Husayn, Na'ib-e-Ghous-o-Raza ke Waastay
*گیارہویں اور بارہویں والے کا صدقہ کبریا!*
*خادم حسین کا بنا احمد رضا کے واسطے*
Giyarhween aur Barhween walay ka Sadqah Kibriya!
Khadim Husayn ka bana Ahmad Raza ke Waastay
*حامد و نوری کے صدقے، ساتھ سچوں کا رہے؛*
*خادم حسین، صاحب صدق و صفا کے واسطے*
Hamid-o-Noori ke Sadqay, Sath Sacchon ka rahay;
Khadim Husayn, Sahib-e-Sidq-o-Safa ke Waastay
*مسلکِ حق اہلسنت اعلی حضرت پر چلا!*
*خادم حسین، بو تراب، اختر رضا کے واسطے*
Maslak-e-Haqq AhleSunnat AlaHazrat par chalaa;
Khadim Husayn, Bu-Turab, Akhtar Raza ke Waastay
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
علامہ خادم حسین رضوی علیہ الرحمہ کو حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمہ نے خلافت اور سند حدیث بھی عطا فرمائی 🌹 سُبۡحَانَ اللہ
خود علامہ خادم حسین رضوی
علیہ الرحمہ کی زبانی سُنِئے🌹
جس نے ختم نبوت پہ پہرا دیا
ایسے خادم کی خدمت پہ لاکھوںسلام
خود علامہ خادم حسین رضوی
علیہ الرحمہ کی زبانی سُنِئے🌹
جس نے ختم نبوت پہ پہرا دیا
ایسے خادم کی خدمت پہ لاکھوںسلام
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
#حضرت_عمر: #فاروق_بھی_مرادِ_رسول_بھی!!
غلام مصطفےٰ نعیمی
مدیر اعلیٰ سواد اعظم دہلی
عکاظ کا اکھاڑا عرب کا مشہور ترین اکھاڑا تھا۔یہ جبل رحمت کے پاس ایک جگہ کا نام تھا۔جہاں سالانہ میلا لگا کرتا تھا۔عرب کے جانے مانے پہلوان اس دنگل میں پہنچتے اور اپنی پہلوانی کے جوہر دکھاتے۔یوں تو عرب معاشرے میں لاکھ برائیاں تھیں مگر تمام تر برائیوں کے باوجود وہ لوگ اپنی صحت وتندرستی سے لاپرواہ نہیں تھے۔عکاظ کا دنگل بہادران عرب کا بڑا پلیٹ فارم مانا جاتا تھا۔جو جوان یہاں اپنی قوت اور پہلوانی کا دم خم دکھاتا پورے عرب میں اس کی دھاک بیٹھ جاتی تھی۔ایک بار اس اکھاڑے میں نفیل بن عبدالعزی بن رباح کے پوتے عمر نے تال ٹھونک کر اپنی طاقت وقوت سے بہادران عرب کو مبہوت کر دیا۔اس کے بعد سارے عرب میں اس جوان کی طاقت وجواں مردی کا سکہ بیٹھ گیا۔دیکھتے ہی دیکھتے ہی اس کی بہادری اور دبدبے کی شہرت ہر گھر میں پہنچ گئی۔
آپ جانتے ہیں یہ مشہور پہلوان اور جواں مرد بہادر کون تھا؟
یہ قوی ہیکل جوان مراد رسول، خلیفہ دوم سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے۔
آپ کی ولادت عام الفیل کے لگ بھگ 13 سال بعد 583 عیسوی میں ہوئی۔(تاریخ الخلفا، ص108)
آپ کے والد خطاب بن نفیل تھے۔آٹھویں پشت میں آپ کا سلسلہ نسب حضور نبی اکرم ﷺ سے مل جاتا ہے۔نوعمری کے زمانے میں آپ نے اونٹ چَرانے کا کام انجام دیا۔اوائل شباب میں اپنی پہلوانی کے دم پر شہرت پائی۔لیکن ان سب کے باوجود آپ مکہ کے ان مخصوص افراد میں شامل تھے جو لکھنا پڑھنا جانتے تھے۔اس وقت عرب کے جاہلی معاشرے میں تعلیم کا تصور بھی نہ تھا۔ان لوگوں کی یاد داشتیں اس قدر اچھی تھیں کہ جو بات ایک بار سن لیتے وہ سدا کے لیے محفوظ ہوجاتی۔بڑی بڑی تجارتوں اور لاکھوں کے حساب اپنی انگلیوں پر جوڑ لیا کرتے تھے۔اپنی یاد داشت اور اعلی ذہانت پر اس قدر ناز تھا کہ لکھنے پڑھنے والوں کو وہ خود سے کمزور مانتے تھے، کہ جو بات یا حساب وہ چٹکیوں میں کر دیتے ہیں اسے دیگر لوگ کاغذ قلم کے بغیر یاد نہیں رکھ پاتے۔
حضور سید عالم ﷺ کے اعلان نبوت کے بعد پورے مکہ میں مخالفت کا طوفان برپا تھا۔اسلام کی مقبولیت دن بدن بڑھ رہی تھی۔آپ کی بہن فاطمہ بنت خطاب اور بہنوئی سعید بن زید بھی اسلام کے دامن رحمت میں پناہ لے چکے تھے۔حضرت عمر اسلام کے سخت ترین دشمن بنے ہوئے تھے۔مگر آپ کی شجاعت وبہادری اور معاملہ فہمی کی بنا پر حضور یوں دعا فرماتے تھے:
اللَّهُمَّ أَعِزَّ الْإِسْلَامَ بِعُمَرَ۔
(رواه الحاكم في "المستدرك"(3 / 83)
"اے ﷲ! عمر کے ذریعے اسلام کو عزت عطا فرما۔"
حضرت عمر نے جوش عداوت میں ایک دن حضور کے قتل کا ارادہ کیا اور تلوار لگا کر آپ کی تلاش میں نکل پڑے۔راستے میں نعیم بن عبدﷲ نے آپ کو غضب ناک دیکھا تو پوچھا خیر تو ہے، کہاں کا ارادہ ہے؟
کہنے لگے داعی نبوت کا کام تمام کرنا ہے۔انہوں نے کہا پہلے اپنے گھر کی خبر لو پھر محمد عربی کی جانب رخ کرنا۔تمہارے بہن بہنوئی بھی داخل اسلام ہوچکے ہیں۔نعیم بن عبد اللہ کی بات نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔سیدھے بہن کے گھر پہنچے۔تلاوت قرآن کی دل آویز صدا نے استقبال کیا۔اسلام کے بارے میں استفسار کیا۔انکار پایا تو سختی پر اتر آئے۔بیچ بچاؤ کو آئے بہنوئی زخمی ہوگئے۔بہن کے ماتھے سے بھی خون جاری تھا۔فاطمہ بنت خطاب نے غیرت ایمانی سے سرشار ہوکر اپنے بھائی کا چہرہ پکڑ کر جواب دیا:
"عمر جو دل میں آئے کرلو مگر اسلام کی محبت ہمارے دل سے نہیں نکل سکتی۔"
آپ نے نگاہ بھر کر بہن کی جانب دیکھا، بہتے ہوئے خون نے بھائی کی محبت کو بیدار کیا۔مگر لہجے کی مضبوطی اور آنکھوں میں جھلکتے یقین نے دل پر بڑا اثر کیا۔کہنے لگے فاطمہ جو چیز تم پڑھ رہی تھیں مجھے بھی تو دکھاؤ! قرآن کے اوراق پڑھنا شروع کئے تو دل کی دنیا میں ہلچل مچ گئی۔دعائے رسول کی قبولیت کا وقت قریب آرہا تھا۔جب اس آیت پر پہنچے:آمنوا باﷲ ورسوله، تو خود پر قابو نہ رکھ سکے اور کہا مجھے حضور کے پاس لے چلو۔دعائے محمدی اثر دکھا چکی تھی اب دیدار نبی کے بغیر چین کہاں؟تلاش کرتے ہوئے حضرت ارقم کے گھر دستک دی۔اندر داخل ہوئے تو حضور نے کرتہ پکڑ کر فرمایا عمر کس ارادے سے آیا ہے؟
عرض کی آپ کے دامن کرم میں پناہ لینے!
اتنا سننا تھا کہ صحابہ کرام نے مارے مسرت کے ایسا نعرہ لگایا کہ پوری وادی ﷲ اکبر کی صداؤں سے گونج اٹھی۔
غربت اسلام کا زمانہ تھا۔کفار مکہ کے ظلم و ستم کی وجہ سے مسلمان سہمے سہمے رہتے تھے۔خوف اس قدر تھا کہ نمازیں بھی چھپ کر ادا کی جاتی تھیں۔ظہر وعصر کی سرّی نمازیں مسلمانوں کی اسی کیفیت کی یادگار ہیں۔
ہر مسلمان کے دل کی آرزو تھی کہ بیت اللہ شریف میں نماز ادا کریں۔ہنوز آرزو تشنہ تھی۔مگر اب حضور ﷺ کی دعا کا اثر ظاہر ہونا تھا کہ حضرت عمر کے ذریعے اسلام کو عزت حاصل ہو۔اثر شروع ہوا تو حضرت عمر نے کافروں سے مقابلہ آرائی شروع کردی۔آپ کی ہمت وبہادری اور دبدبے نے جلد ہی کفار مکہ کو عاجز کردیا اور وہ وقت بھی آیا کہ مسلمان نہایت شان و
غلام مصطفےٰ نعیمی
مدیر اعلیٰ سواد اعظم دہلی
عکاظ کا اکھاڑا عرب کا مشہور ترین اکھاڑا تھا۔یہ جبل رحمت کے پاس ایک جگہ کا نام تھا۔جہاں سالانہ میلا لگا کرتا تھا۔عرب کے جانے مانے پہلوان اس دنگل میں پہنچتے اور اپنی پہلوانی کے جوہر دکھاتے۔یوں تو عرب معاشرے میں لاکھ برائیاں تھیں مگر تمام تر برائیوں کے باوجود وہ لوگ اپنی صحت وتندرستی سے لاپرواہ نہیں تھے۔عکاظ کا دنگل بہادران عرب کا بڑا پلیٹ فارم مانا جاتا تھا۔جو جوان یہاں اپنی قوت اور پہلوانی کا دم خم دکھاتا پورے عرب میں اس کی دھاک بیٹھ جاتی تھی۔ایک بار اس اکھاڑے میں نفیل بن عبدالعزی بن رباح کے پوتے عمر نے تال ٹھونک کر اپنی طاقت وقوت سے بہادران عرب کو مبہوت کر دیا۔اس کے بعد سارے عرب میں اس جوان کی طاقت وجواں مردی کا سکہ بیٹھ گیا۔دیکھتے ہی دیکھتے ہی اس کی بہادری اور دبدبے کی شہرت ہر گھر میں پہنچ گئی۔
آپ جانتے ہیں یہ مشہور پہلوان اور جواں مرد بہادر کون تھا؟
یہ قوی ہیکل جوان مراد رسول، خلیفہ دوم سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے۔
آپ کی ولادت عام الفیل کے لگ بھگ 13 سال بعد 583 عیسوی میں ہوئی۔(تاریخ الخلفا، ص108)
آپ کے والد خطاب بن نفیل تھے۔آٹھویں پشت میں آپ کا سلسلہ نسب حضور نبی اکرم ﷺ سے مل جاتا ہے۔نوعمری کے زمانے میں آپ نے اونٹ چَرانے کا کام انجام دیا۔اوائل شباب میں اپنی پہلوانی کے دم پر شہرت پائی۔لیکن ان سب کے باوجود آپ مکہ کے ان مخصوص افراد میں شامل تھے جو لکھنا پڑھنا جانتے تھے۔اس وقت عرب کے جاہلی معاشرے میں تعلیم کا تصور بھی نہ تھا۔ان لوگوں کی یاد داشتیں اس قدر اچھی تھیں کہ جو بات ایک بار سن لیتے وہ سدا کے لیے محفوظ ہوجاتی۔بڑی بڑی تجارتوں اور لاکھوں کے حساب اپنی انگلیوں پر جوڑ لیا کرتے تھے۔اپنی یاد داشت اور اعلی ذہانت پر اس قدر ناز تھا کہ لکھنے پڑھنے والوں کو وہ خود سے کمزور مانتے تھے، کہ جو بات یا حساب وہ چٹکیوں میں کر دیتے ہیں اسے دیگر لوگ کاغذ قلم کے بغیر یاد نہیں رکھ پاتے۔
حضور سید عالم ﷺ کے اعلان نبوت کے بعد پورے مکہ میں مخالفت کا طوفان برپا تھا۔اسلام کی مقبولیت دن بدن بڑھ رہی تھی۔آپ کی بہن فاطمہ بنت خطاب اور بہنوئی سعید بن زید بھی اسلام کے دامن رحمت میں پناہ لے چکے تھے۔حضرت عمر اسلام کے سخت ترین دشمن بنے ہوئے تھے۔مگر آپ کی شجاعت وبہادری اور معاملہ فہمی کی بنا پر حضور یوں دعا فرماتے تھے:
اللَّهُمَّ أَعِزَّ الْإِسْلَامَ بِعُمَرَ۔
(رواه الحاكم في "المستدرك"(3 / 83)
"اے ﷲ! عمر کے ذریعے اسلام کو عزت عطا فرما۔"
حضرت عمر نے جوش عداوت میں ایک دن حضور کے قتل کا ارادہ کیا اور تلوار لگا کر آپ کی تلاش میں نکل پڑے۔راستے میں نعیم بن عبدﷲ نے آپ کو غضب ناک دیکھا تو پوچھا خیر تو ہے، کہاں کا ارادہ ہے؟
کہنے لگے داعی نبوت کا کام تمام کرنا ہے۔انہوں نے کہا پہلے اپنے گھر کی خبر لو پھر محمد عربی کی جانب رخ کرنا۔تمہارے بہن بہنوئی بھی داخل اسلام ہوچکے ہیں۔نعیم بن عبد اللہ کی بات نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔سیدھے بہن کے گھر پہنچے۔تلاوت قرآن کی دل آویز صدا نے استقبال کیا۔اسلام کے بارے میں استفسار کیا۔انکار پایا تو سختی پر اتر آئے۔بیچ بچاؤ کو آئے بہنوئی زخمی ہوگئے۔بہن کے ماتھے سے بھی خون جاری تھا۔فاطمہ بنت خطاب نے غیرت ایمانی سے سرشار ہوکر اپنے بھائی کا چہرہ پکڑ کر جواب دیا:
"عمر جو دل میں آئے کرلو مگر اسلام کی محبت ہمارے دل سے نہیں نکل سکتی۔"
آپ نے نگاہ بھر کر بہن کی جانب دیکھا، بہتے ہوئے خون نے بھائی کی محبت کو بیدار کیا۔مگر لہجے کی مضبوطی اور آنکھوں میں جھلکتے یقین نے دل پر بڑا اثر کیا۔کہنے لگے فاطمہ جو چیز تم پڑھ رہی تھیں مجھے بھی تو دکھاؤ! قرآن کے اوراق پڑھنا شروع کئے تو دل کی دنیا میں ہلچل مچ گئی۔دعائے رسول کی قبولیت کا وقت قریب آرہا تھا۔جب اس آیت پر پہنچے:آمنوا باﷲ ورسوله، تو خود پر قابو نہ رکھ سکے اور کہا مجھے حضور کے پاس لے چلو۔دعائے محمدی اثر دکھا چکی تھی اب دیدار نبی کے بغیر چین کہاں؟تلاش کرتے ہوئے حضرت ارقم کے گھر دستک دی۔اندر داخل ہوئے تو حضور نے کرتہ پکڑ کر فرمایا عمر کس ارادے سے آیا ہے؟
عرض کی آپ کے دامن کرم میں پناہ لینے!
اتنا سننا تھا کہ صحابہ کرام نے مارے مسرت کے ایسا نعرہ لگایا کہ پوری وادی ﷲ اکبر کی صداؤں سے گونج اٹھی۔
غربت اسلام کا زمانہ تھا۔کفار مکہ کے ظلم و ستم کی وجہ سے مسلمان سہمے سہمے رہتے تھے۔خوف اس قدر تھا کہ نمازیں بھی چھپ کر ادا کی جاتی تھیں۔ظہر وعصر کی سرّی نمازیں مسلمانوں کی اسی کیفیت کی یادگار ہیں۔
ہر مسلمان کے دل کی آرزو تھی کہ بیت اللہ شریف میں نماز ادا کریں۔ہنوز آرزو تشنہ تھی۔مگر اب حضور ﷺ کی دعا کا اثر ظاہر ہونا تھا کہ حضرت عمر کے ذریعے اسلام کو عزت حاصل ہو۔اثر شروع ہوا تو حضرت عمر نے کافروں سے مقابلہ آرائی شروع کردی۔آپ کی ہمت وبہادری اور دبدبے نے جلد ہی کفار مکہ کو عاجز کردیا اور وہ وقت بھی آیا کہ مسلمان نہایت شان و
شوکت کے ساتھ کعبے میں داخل ہوئے۔ایک زمانے سے کعبہ کی زمین سجدوں سے محروم تھی۔اللہ اکبر کی صداؤں سے کعبے کے درو دیوار گونج اٹھے۔مسلمانوں نے پیشانیاں جھکا کر بندگی کا اظہار کرکے دبی ہوئی تمناؤں کو دل کھول کر پورا کیا۔حضرت عبد اللہ ابن مسعود فرماتے ہیں:
فلما اسلم عمر قاتل قريشاً حتي صلي عند الكعبة وصلينا معه۔
(المعجم الکبیر للطبرانی،رقم: 8820)
"جب حضرت عمر اسلام لائے تو قریش مکہ سے خوب لڑے یہاں تک کہ کعبے میں نماز ادا فرمائی اور ان کے ساتھ ہم سب نے بھی نماز پڑھی۔"
اعلان نبوت کے بعد یہ پہلا موقع تھا کہ اسلام وکفر کے درمیان کھل کر فرق ظاہر ہوا۔آقائے کریم ﷺ نے خوش ہوکر حضرت عمر کو فاروق (کفر واسلام میں فرق پیدا کرنے والا) کا خطاب عطا فرمایا جو آج آپ کے نام کا جزو لاینفک بن چکا ہے۔
فارقِ حق و باطل امامُ الہُدیٰ
تیغِ مَسْلُولِ شدت پہ لاکھوں سلام
حضرت عمر کی ہجرت کا واقعہ بھی ان کے مزاج کی طرح منفرد تھا۔آپ سے پہلے جتنے افراد نے ہجرت کی، چُھپ چُھپا کر کی۔کوئی رات کی تاریکی میں نکلا،کوئی علی الصبح روانہ ہوا تو کسی نے دوپہر کے وقت میں نکلنا مناسب سمجھا کہ اس وقت لوگ گھروں میں آرام کرتے ہوتے تھے۔لیکن بارگاہ رسالت سے عطا کردہ خطاب "فاروق" کا تقاضا تھا کہ آپ کی ہجرت کا انداز بھی اوروں سے مختلف ہو،ہوا بھی ایسا ہی!
جب آپ نے ہجرت کا ارادہ فرمایا تو جسم پر ہتھیار لگا کر بیت اللہ شریف پہنچے۔خانہ کعبہ کا طواف کیا، مقام ابراہیم پر دو رکعت نماز ادا فرمائی۔اس وقت صحن کعبہ میں کئی سرکردہ کافر موجود تھے۔مگر کوئی بھی آپ کو ٹوکنے کی ہمت نہ کر سکا۔مگر وہ فاروق ہی کیا جو اتنے پر ہی مان جائیں؟آپ خود ان کے پاس پہنچے اور فرمایا:
من أراد أن يثكل أمه أو يرمل زوجته أو ييتم ولده فليلقني وراء هذا الوادي۔
(تاریخ الخلفا للسيوطي:ص 95)
"جو شخص یہ چاہتا ہے کہ اس کی ماں اسے روئے ، اس کی بیوی، بیوہ اور بچے یتیم ہوجائیں تو مجھ سے اس وادی میں مقابلہ کرنے آجائے۔"
جو کافر دوسرے مسلمانوں کا پیچھا کرتے تھے۔مسلمانوں کے تحمل کے باعث خود کو بہادر سمجھتے تھے۔لیکن فاروقی للکار سن کر جواب دینے کی ہمت تک نہ ہوسکی۔اس طرح جس شان کے ساتھ آپ نے اسلام کا اعلان کیا اسی دھمک کے ساتھ ہجرت بھی فرمائی اور نہایت کروفر کے ساتھ مدینہ منورہ روانہ ہوگیے۔اس سفر پر آپ کے ساتھ 20 افراد اور بھی شامل تھے۔
خلیفہ اول سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے وصال کے بعد آپ نے مسند خلافت کو رونق بخشی۔اس وقت بہت سارے لوگوں کو ایسا لگتا تھا کہ شاید اپنی پر جلال طبیعت کے باعث امور خلافت کو اس طرح انجام نہ دے پائیں جس کی ضرورت تھی۔مگر آپ کا جلال غیرت ایمانی کی بنیاد پر تھا ورنہ آپ علم انساب کے ماہر، اعلی درجے کے خطیب اور افہام و تفہیم کا شاندار ملکہ رکھتے تھے۔
کئی بار ایسا ہوتا ہے کہ کسی شخصیت کا کوئی ایک پہلو زیادہ مشتہر ہوجاتا ہے حالانکہ وہ شخصیت دیگر علوم و فنون میں بھی فقید المثال ہوتی ہے۔حضرت عمر کی غیرت ایمانی اور ہیبت ودبدبے کے باعث آپ کے دیگر اوصاف سے ذرا کم ہی لوگ واقف تھے۔مگر سیدنا صدیق اکبر آپ کے اوصاف وکمالات کو اچھی طرح جانتے تھے۔علامہ سیوطی طبقات ابن سعد کے حوالے سے لکھتے ہیں:
قيل لابي بكر في مرضه : ماذا تقول لربك ، وقد وليت عمر؟ قال، اقول له: وليت عليهم خيرهم۔(تاریخ الخلفا للسيوطي:98)
"مرض الموت میں حضرت ابوبکر سے پوچھا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ سے حضرت عمر کو خلیفہ منتخب کرنے کے بارے میں سوال کیا تو کیا جواب دیں گے؟
حضرت ابوبکر نے فرمایا میں عرض کروں کہ میں نے لوگوں میں سب سے بہتر شخص کو اپنا خلیفہ منتخب کیا ہے۔"
یعنی حضرت ابوبکر صدیق پورے یقین سے جانتے تھے کہ بار خلافت کے لیے حضرت عمر سب سے زیادہ اہل اور موزوں ترین فرد تھے۔خلیفہ منتخب ہونے کے بعد آپ کے حسن تدبر، سیاسی بصیرت، معاملہ فہمی اور جنگی مہارت کا ایک زمانے نے اعتراف کیا-ثابت ہوگیا کہ صدیق اکبر کا فیصلہ ہر لحاظ سے بہترین تھا۔
وہ زمانہ انتہائی حساس تھا۔داخلی فتنوں کے ساتھ خارجی فتنے سر اٹھا رہے تھے۔لیکن آپ نے اپنی زیرکی ودانائی سے سارے معاملات کو بحسن و خوبی سنبھالا اور دیکھتے ہی دیکھتے فتوحات کا سلسلہ شروع ہوگیا۔
آپ کے عہد خلافت میں ایک ہزار چھتیس (1036) شہر مع مضافت فتح ہوئے۔900 جامع مسجد اور چار ہزار نئی مساجد تعمیر ہوئیں۔فتوحات کی وسعت کا یہ عالم تھا کہ 13 لاکھ 9 ہزار 501 مربع میل کا اضافہ ہوا۔دیکھتے ہی دیکھتے اسلامی سلطنت کا دائرہ حجاز سے نکل کر شام ، مصر، عراق ، جزیرہ ،آذر بائیجان ، جنوبی آرمینیا ،فارس، کرمان، روم ، اور ایران تک پھیل گیا۔ دنیا کی سپر پاور طاقتیں قیصر روم اور شاہ کسریٰ کا زور ختم کردیا گیا۔اس طرح دعائے محمدی نے اپنا اثر دکھایا اور اللہ تعالیٰ نے حضرت عمر فاروق کے ذریعے اسلام کو اس قدر غالب کیا کہ عرب کی چاروں سمتوں میں اسلام غالب ترین مذہب بن چکا تھا۔قریب دس سال چھ مہینے کا زمانہ خلافت گزارنے کے بعد آخر اپنے دو
فلما اسلم عمر قاتل قريشاً حتي صلي عند الكعبة وصلينا معه۔
(المعجم الکبیر للطبرانی،رقم: 8820)
"جب حضرت عمر اسلام لائے تو قریش مکہ سے خوب لڑے یہاں تک کہ کعبے میں نماز ادا فرمائی اور ان کے ساتھ ہم سب نے بھی نماز پڑھی۔"
اعلان نبوت کے بعد یہ پہلا موقع تھا کہ اسلام وکفر کے درمیان کھل کر فرق ظاہر ہوا۔آقائے کریم ﷺ نے خوش ہوکر حضرت عمر کو فاروق (کفر واسلام میں فرق پیدا کرنے والا) کا خطاب عطا فرمایا جو آج آپ کے نام کا جزو لاینفک بن چکا ہے۔
فارقِ حق و باطل امامُ الہُدیٰ
تیغِ مَسْلُولِ شدت پہ لاکھوں سلام
حضرت عمر کی ہجرت کا واقعہ بھی ان کے مزاج کی طرح منفرد تھا۔آپ سے پہلے جتنے افراد نے ہجرت کی، چُھپ چُھپا کر کی۔کوئی رات کی تاریکی میں نکلا،کوئی علی الصبح روانہ ہوا تو کسی نے دوپہر کے وقت میں نکلنا مناسب سمجھا کہ اس وقت لوگ گھروں میں آرام کرتے ہوتے تھے۔لیکن بارگاہ رسالت سے عطا کردہ خطاب "فاروق" کا تقاضا تھا کہ آپ کی ہجرت کا انداز بھی اوروں سے مختلف ہو،ہوا بھی ایسا ہی!
جب آپ نے ہجرت کا ارادہ فرمایا تو جسم پر ہتھیار لگا کر بیت اللہ شریف پہنچے۔خانہ کعبہ کا طواف کیا، مقام ابراہیم پر دو رکعت نماز ادا فرمائی۔اس وقت صحن کعبہ میں کئی سرکردہ کافر موجود تھے۔مگر کوئی بھی آپ کو ٹوکنے کی ہمت نہ کر سکا۔مگر وہ فاروق ہی کیا جو اتنے پر ہی مان جائیں؟آپ خود ان کے پاس پہنچے اور فرمایا:
من أراد أن يثكل أمه أو يرمل زوجته أو ييتم ولده فليلقني وراء هذا الوادي۔
(تاریخ الخلفا للسيوطي:ص 95)
"جو شخص یہ چاہتا ہے کہ اس کی ماں اسے روئے ، اس کی بیوی، بیوہ اور بچے یتیم ہوجائیں تو مجھ سے اس وادی میں مقابلہ کرنے آجائے۔"
جو کافر دوسرے مسلمانوں کا پیچھا کرتے تھے۔مسلمانوں کے تحمل کے باعث خود کو بہادر سمجھتے تھے۔لیکن فاروقی للکار سن کر جواب دینے کی ہمت تک نہ ہوسکی۔اس طرح جس شان کے ساتھ آپ نے اسلام کا اعلان کیا اسی دھمک کے ساتھ ہجرت بھی فرمائی اور نہایت کروفر کے ساتھ مدینہ منورہ روانہ ہوگیے۔اس سفر پر آپ کے ساتھ 20 افراد اور بھی شامل تھے۔
خلیفہ اول سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے وصال کے بعد آپ نے مسند خلافت کو رونق بخشی۔اس وقت بہت سارے لوگوں کو ایسا لگتا تھا کہ شاید اپنی پر جلال طبیعت کے باعث امور خلافت کو اس طرح انجام نہ دے پائیں جس کی ضرورت تھی۔مگر آپ کا جلال غیرت ایمانی کی بنیاد پر تھا ورنہ آپ علم انساب کے ماہر، اعلی درجے کے خطیب اور افہام و تفہیم کا شاندار ملکہ رکھتے تھے۔
کئی بار ایسا ہوتا ہے کہ کسی شخصیت کا کوئی ایک پہلو زیادہ مشتہر ہوجاتا ہے حالانکہ وہ شخصیت دیگر علوم و فنون میں بھی فقید المثال ہوتی ہے۔حضرت عمر کی غیرت ایمانی اور ہیبت ودبدبے کے باعث آپ کے دیگر اوصاف سے ذرا کم ہی لوگ واقف تھے۔مگر سیدنا صدیق اکبر آپ کے اوصاف وکمالات کو اچھی طرح جانتے تھے۔علامہ سیوطی طبقات ابن سعد کے حوالے سے لکھتے ہیں:
قيل لابي بكر في مرضه : ماذا تقول لربك ، وقد وليت عمر؟ قال، اقول له: وليت عليهم خيرهم۔(تاریخ الخلفا للسيوطي:98)
"مرض الموت میں حضرت ابوبکر سے پوچھا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ سے حضرت عمر کو خلیفہ منتخب کرنے کے بارے میں سوال کیا تو کیا جواب دیں گے؟
حضرت ابوبکر نے فرمایا میں عرض کروں کہ میں نے لوگوں میں سب سے بہتر شخص کو اپنا خلیفہ منتخب کیا ہے۔"
یعنی حضرت ابوبکر صدیق پورے یقین سے جانتے تھے کہ بار خلافت کے لیے حضرت عمر سب سے زیادہ اہل اور موزوں ترین فرد تھے۔خلیفہ منتخب ہونے کے بعد آپ کے حسن تدبر، سیاسی بصیرت، معاملہ فہمی اور جنگی مہارت کا ایک زمانے نے اعتراف کیا-ثابت ہوگیا کہ صدیق اکبر کا فیصلہ ہر لحاظ سے بہترین تھا۔
وہ زمانہ انتہائی حساس تھا۔داخلی فتنوں کے ساتھ خارجی فتنے سر اٹھا رہے تھے۔لیکن آپ نے اپنی زیرکی ودانائی سے سارے معاملات کو بحسن و خوبی سنبھالا اور دیکھتے ہی دیکھتے فتوحات کا سلسلہ شروع ہوگیا۔
آپ کے عہد خلافت میں ایک ہزار چھتیس (1036) شہر مع مضافت فتح ہوئے۔900 جامع مسجد اور چار ہزار نئی مساجد تعمیر ہوئیں۔فتوحات کی وسعت کا یہ عالم تھا کہ 13 لاکھ 9 ہزار 501 مربع میل کا اضافہ ہوا۔دیکھتے ہی دیکھتے اسلامی سلطنت کا دائرہ حجاز سے نکل کر شام ، مصر، عراق ، جزیرہ ،آذر بائیجان ، جنوبی آرمینیا ،فارس، کرمان، روم ، اور ایران تک پھیل گیا۔ دنیا کی سپر پاور طاقتیں قیصر روم اور شاہ کسریٰ کا زور ختم کردیا گیا۔اس طرح دعائے محمدی نے اپنا اثر دکھایا اور اللہ تعالیٰ نے حضرت عمر فاروق کے ذریعے اسلام کو اس قدر غالب کیا کہ عرب کی چاروں سمتوں میں اسلام غالب ترین مذہب بن چکا تھا۔قریب دس سال چھ مہینے کا زمانہ خلافت گزارنے کے بعد آخر اپنے دو
ستوں سے ملنے کا وقت آیا۔26 ذوالحج کو دشمن کے ہاتھوں زخمی ہوئے اور درجہ شہادت سے سرفراز ہوکر یکم محرم الحرام 24ھ کو اپنے رفیق جانی سیدنا ابوبکر صدیق اور اپنے آقا و مولا سید عالم ﷺ کے پہلو میں آرام فرما ہوگیے۔
وہ عمر جس کے اعدا پہ شیدا سقر
اس خدا دوست حضرت پہ لاکھوں سلام
6 ربیع الثانی 1442ھ
22 نومبر 2020 بروز اتوار
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/815568399013680/
وہ عمر جس کے اعدا پہ شیدا سقر
اس خدا دوست حضرت پہ لاکھوں سلام
6 ربیع الثانی 1442ھ
22 نومبر 2020 بروز اتوار
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/815568399013680/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
آج مورخہ 21 نومبر 2020 کوفجربعد حسب معمول مدینہ پارک، نزد مدینہ مسجد ،آزاد نگر جمشید پور میں ریاضت بدنی سے فراغت کے بعد پی ٹی ماسٹر جناب الحاج سید سمیع احمد صاحب نے پرانی یادوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ
کریمیہ ہائی اسکول، آزادنگر، جمشید پور میں 1969سے پہلے ایک بہت ہی مخلص اور انسانیت نواز ہیڈ ماسٹر ہواکرتے تھے جن کا نام جناب ماسٹر شعبان الحق صاحب تھا. وہ بلیک بورڈ پر دونوں ہاتھوں سے لکھا کرتے تھے. حیرت کی بات تو یہ ہے کہ وہ کبھی کبھی ایک ہی بلیک بورڈ پر ایک ہاتھ سے میتھ اور دوسرے ہاتھ سے فزکس لکھا کرتے تھے.
راوی کی عمر اس وقت 68سال ہے.
جب سید صاحب یہ واقعہ سنارہے تھے تو میرے ذہن میں امام عشق و محبت کے تعلق وہ جو روایت مشہور ہے کہ آپ دونوں ہاتھوں سے لکھا کرتے تھے اس پر بعض لوگوں کو تردد ہوتا ہے اور بعض محض عقیدت میں غلو کہہ کر تنقیص کی بے جا جسارت کر کے اپنی عاقبت خراب کرتے ہیں ان کی تردید اور عاشق رسول کی خداداد صلاحیت کی تصدیق ہو گئی.
واضح رہے کہ سید صاحب کے کان امام احمد رضا کے واقع سے آشنا نہیں ہے.
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=861370057941429&id=100022053280847
کریمیہ ہائی اسکول، آزادنگر، جمشید پور میں 1969سے پہلے ایک بہت ہی مخلص اور انسانیت نواز ہیڈ ماسٹر ہواکرتے تھے جن کا نام جناب ماسٹر شعبان الحق صاحب تھا. وہ بلیک بورڈ پر دونوں ہاتھوں سے لکھا کرتے تھے. حیرت کی بات تو یہ ہے کہ وہ کبھی کبھی ایک ہی بلیک بورڈ پر ایک ہاتھ سے میتھ اور دوسرے ہاتھ سے فزکس لکھا کرتے تھے.
راوی کی عمر اس وقت 68سال ہے.
جب سید صاحب یہ واقعہ سنارہے تھے تو میرے ذہن میں امام عشق و محبت کے تعلق وہ جو روایت مشہور ہے کہ آپ دونوں ہاتھوں سے لکھا کرتے تھے اس پر بعض لوگوں کو تردد ہوتا ہے اور بعض محض عقیدت میں غلو کہہ کر تنقیص کی بے جا جسارت کر کے اپنی عاقبت خراب کرتے ہیں ان کی تردید اور عاشق رسول کی خداداد صلاحیت کی تصدیق ہو گئی.
واضح رہے کہ سید صاحب کے کان امام احمد رضا کے واقع سے آشنا نہیں ہے.
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=861370057941429&id=100022053280847
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
#امتی_کو_حق_نہیں_کہ........
"کسی گستاخ کو معاف کردیا یہ حضور کا اپنا حق تھا... امتی کو حق نہیں پہنچتا کہ وہ حضور کی طرف سے منصف بن کے گستاخوں کو معاف کرتا پھرے"
امیر عزیمت علیہ الرحمہ
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3475804042537002&id=100003223204679
"کسی گستاخ کو معاف کردیا یہ حضور کا اپنا حق تھا... امتی کو حق نہیں پہنچتا کہ وہ حضور کی طرف سے منصف بن کے گستاخوں کو معاف کرتا پھرے"
امیر عزیمت علیہ الرحمہ
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3475804042537002&id=100003223204679
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
*شیر بیشہ اہل سنت اور منظور نعمانی کا مناظرہ*
علامہ بندیالوی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: کہ حضور شیخ الاسلام رحمہ اللّٰہ تعالٰی نےسلانوالی میں ایک تاریخی مناظرہ کرایا دیوبندیوں کی طرف سے مولوی منظور نعمانی تھا اور اہل سنت و جماعت کی جانب سے شیر بیشہ اہل سنت و جماعت مولانا حشمت علی خان صاحب بریلوی رحمہ اللّٰہ تعالی تھے۔ علم غیب پر مناظرہ ہوا۔ دیوبندی مولوی نے دلیل دی کہ قرآن پاک میں ہے کہ "وللّٰہ عنده علم الساعة" الاية مولانا حشمت علی خان صاحب نے سوال کیا کہ عموم السلب مراد ہے یا سلب العموم؟ ( *عموم السلب* کا یہ معنی ہے کہ ہر بندہ کسی وقت بھی قیامت کا علم نہیں رکھتا اور *سلب العموم* یہ ہے کہ ہر کوئی علم قیامت نہیں رکھتا۔ یعنی سارے نہیں جانتے۔)
*پہلے معنی* میں ہر ایک سے نفی ہے علم قیامت کی اور ہر وقت میں یعنی جمیع اوقات میں اور ان جمیع اوقات میں قیامت کا دن بھی ہے یہ دن بھی جمیع اوقات کا ایک فرد ہے یعنی کے دن بھی اسے قیامت کا علم نہ ہو۔اور *دوسرے معنی* کے لحاظ سے ہر ایک سے علم کی نفی نہیں ہوتی بعض کو تو علم ہو اور بعض کو نہ ہو پھر کہہ سکتے ہیں کہ سارے نہیں جانتے۔ وہ (منظور نعمانی) مولوی تھا اس نے سمجھ لیا کہ سلب العموم سے تو میرا مدعا ثابت نہیں ہوتا تو اس نے کہا کہ عموم السلب بایں معنی کہ قیامت کے دن سے پہلے ہر ایک اور ہر وقت میں نفی ہے۔ تو اس کے جواب میں شیر بیشہ اہل سنت مولانا حشمت علی خان صاحب رحمہ اللّٰہ تعالی نے بڑا مذاق اڑایا۔ ادھر عموم السلب اور پھر بایں معنی یعنی تقیید مطلق بھی اور مقید بھی یہ قید کہاں سے نکل آئی؟ آپ نے فرمایا: کہ تین دن مناظرہ رہا مولانا صاحب کے دلائل کے جواب دیوبندی مولوی نہ دے سکا۔
نوٹ:(از جامع کتاب) قبلہ استاذی المکرم (علامہ بندیالوی علیہ الرحمہ) نے ارشاد فرمایا کہ سلب العموم سے ہمارا مطلب حاصل ہوتا ہے کہ نبی علیہ الصلوة والسلام جانتے ہیں اور ہم نہیں جانتے اور عموم السلب وہ لے نہیں سکتے کیونکہ جب قیامت آجائے گی تو ہر ایک کو قیامت کا علم آجائے گا پھر عموم السلب کہاں رہا۔
(ذکر عطاء فی حیات استاذ العلماء صفحہ 379۔ 389 مطبوعہ استاذ العلماء اکیڈمی خوشاب)
ابو الحسن محمد شعیب خان
22 نومبر 2020
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2872391953040113&id=100008080090753
علامہ بندیالوی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: کہ حضور شیخ الاسلام رحمہ اللّٰہ تعالٰی نےسلانوالی میں ایک تاریخی مناظرہ کرایا دیوبندیوں کی طرف سے مولوی منظور نعمانی تھا اور اہل سنت و جماعت کی جانب سے شیر بیشہ اہل سنت و جماعت مولانا حشمت علی خان صاحب بریلوی رحمہ اللّٰہ تعالی تھے۔ علم غیب پر مناظرہ ہوا۔ دیوبندی مولوی نے دلیل دی کہ قرآن پاک میں ہے کہ "وللّٰہ عنده علم الساعة" الاية مولانا حشمت علی خان صاحب نے سوال کیا کہ عموم السلب مراد ہے یا سلب العموم؟ ( *عموم السلب* کا یہ معنی ہے کہ ہر بندہ کسی وقت بھی قیامت کا علم نہیں رکھتا اور *سلب العموم* یہ ہے کہ ہر کوئی علم قیامت نہیں رکھتا۔ یعنی سارے نہیں جانتے۔)
*پہلے معنی* میں ہر ایک سے نفی ہے علم قیامت کی اور ہر وقت میں یعنی جمیع اوقات میں اور ان جمیع اوقات میں قیامت کا دن بھی ہے یہ دن بھی جمیع اوقات کا ایک فرد ہے یعنی کے دن بھی اسے قیامت کا علم نہ ہو۔اور *دوسرے معنی* کے لحاظ سے ہر ایک سے علم کی نفی نہیں ہوتی بعض کو تو علم ہو اور بعض کو نہ ہو پھر کہہ سکتے ہیں کہ سارے نہیں جانتے۔ وہ (منظور نعمانی) مولوی تھا اس نے سمجھ لیا کہ سلب العموم سے تو میرا مدعا ثابت نہیں ہوتا تو اس نے کہا کہ عموم السلب بایں معنی کہ قیامت کے دن سے پہلے ہر ایک اور ہر وقت میں نفی ہے۔ تو اس کے جواب میں شیر بیشہ اہل سنت مولانا حشمت علی خان صاحب رحمہ اللّٰہ تعالی نے بڑا مذاق اڑایا۔ ادھر عموم السلب اور پھر بایں معنی یعنی تقیید مطلق بھی اور مقید بھی یہ قید کہاں سے نکل آئی؟ آپ نے فرمایا: کہ تین دن مناظرہ رہا مولانا صاحب کے دلائل کے جواب دیوبندی مولوی نہ دے سکا۔
نوٹ:(از جامع کتاب) قبلہ استاذی المکرم (علامہ بندیالوی علیہ الرحمہ) نے ارشاد فرمایا کہ سلب العموم سے ہمارا مطلب حاصل ہوتا ہے کہ نبی علیہ الصلوة والسلام جانتے ہیں اور ہم نہیں جانتے اور عموم السلب وہ لے نہیں سکتے کیونکہ جب قیامت آجائے گی تو ہر ایک کو قیامت کا علم آجائے گا پھر عموم السلب کہاں رہا۔
(ذکر عطاء فی حیات استاذ العلماء صفحہ 379۔ 389 مطبوعہ استاذ العلماء اکیڈمی خوشاب)
ابو الحسن محمد شعیب خان
22 نومبر 2020
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2872391953040113&id=100008080090753
Facebook
Log in to Facebook
Log in to Facebook to start sharing and connecting with your friends, family and people you know.
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
انھیں جانا ، انھیں مانا ، نہ رکھا غیر سے کام
للہ الحَمْد میں دُنیا سے مسلمان گیا
کسی نے پوچھا ہے کہ اِس شعر میں لفظ: اِنھیں پڑھنا چاہیے ، یا اُنھیں ۔
( یعنی الف پر پیش درست ہے ، یا زیر ؟ )
میں نے عرض کی:
دونوں طرح ٹھیک ہے ۔
جو حضور کو مدینے تشریف فرما سمجھ کر پڑھتا ہے ، وہ " اُنھیں " کہے ۔
اور
جو حضور کو اپنے دل میں جلوہ فرما سمجھ کر پڑھے ، وہ دل کی طرف اشارہ کر " اِنھیں " کہے ۔ اور یہ درجۂ کمال ہے ۔ ؎
اِنھیں جانا ، اِنھیں مانا ، نہ رکھا غیر سے کام
للہ الحَمْد ، میں دُنیا سے مسلمان گیا !
✍️لقمان شاہد
22-11-2020 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3021999151413587&id=100008105947430
للہ الحَمْد میں دُنیا سے مسلمان گیا
کسی نے پوچھا ہے کہ اِس شعر میں لفظ: اِنھیں پڑھنا چاہیے ، یا اُنھیں ۔
( یعنی الف پر پیش درست ہے ، یا زیر ؟ )
میں نے عرض کی:
دونوں طرح ٹھیک ہے ۔
جو حضور کو مدینے تشریف فرما سمجھ کر پڑھتا ہے ، وہ " اُنھیں " کہے ۔
اور
جو حضور کو اپنے دل میں جلوہ فرما سمجھ کر پڑھے ، وہ دل کی طرف اشارہ کر " اِنھیں " کہے ۔ اور یہ درجۂ کمال ہے ۔ ؎
اِنھیں جانا ، اِنھیں مانا ، نہ رکھا غیر سے کام
للہ الحَمْد ، میں دُنیا سے مسلمان گیا !
✍️لقمان شاہد
22-11-2020 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3021999151413587&id=100008105947430
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
مشہور ولی اللہ حضرت سَمنون رحمۃ اللہ علیہ مسجد میں بیٹھ کر محبت پر گفتگو کر رہے تھے کہ ایک چھوٹا سا پرندہ آیا ۔
وہ آپ کے قریب ہوا ۔۔۔۔۔۔۔۔ پھر مزید قریب ہوا ۔۔۔۔۔۔۔۔ اور اتنا قریب ہوا کہہاتھ پر بیٹھ گیا ( اور ذکرِمحبت سننے لگا ) ۔
پھر ( جب ذکرِ محبت کیتاب نہ لاسکا تو ) اس نے اپنی چونچ زمین پر مار کر لہو لہان کر لی ، اور مر گیا ۔
( الرسالۃ القشیریۃ ، باب المحبۃ ، ص 657 ، ط دارالمنھاج بیروت ، س 1438 ھ )
وہ عاشق بھی اُسی پرندے کی طرح تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جو توہینِ محبوب برادشت نہ کرسکا اور " مَنْ سَبَّ نَبِیًّا فَاقْتُلُوہُ " کے نعرے لگاتا ہوا شہیدِ محبت ہوگیا ۔
ہائےمحبت !!
مَنْ مَّاتَ عِشْقاً فَلْیَمُتْ ھٰکَذَا
لَاخَیْرَ فِی عِشْقٍ بِلَامَوْت 😥
( جو عشق میں جان دینا چاہتا ہے وہ اِس طرح دے ، عشق میں موت کے بغیر کوئی بھلائی نہیں )
✍️لقمان شاہد
23-11-2029 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3022413151372187&id=100008105947430
وہ آپ کے قریب ہوا ۔۔۔۔۔۔۔۔ پھر مزید قریب ہوا ۔۔۔۔۔۔۔۔ اور اتنا قریب ہوا کہہاتھ پر بیٹھ گیا ( اور ذکرِمحبت سننے لگا ) ۔
پھر ( جب ذکرِ محبت کیتاب نہ لاسکا تو ) اس نے اپنی چونچ زمین پر مار کر لہو لہان کر لی ، اور مر گیا ۔
( الرسالۃ القشیریۃ ، باب المحبۃ ، ص 657 ، ط دارالمنھاج بیروت ، س 1438 ھ )
وہ عاشق بھی اُسی پرندے کی طرح تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جو توہینِ محبوب برادشت نہ کرسکا اور " مَنْ سَبَّ نَبِیًّا فَاقْتُلُوہُ " کے نعرے لگاتا ہوا شہیدِ محبت ہوگیا ۔
ہائےمحبت !!
مَنْ مَّاتَ عِشْقاً فَلْیَمُتْ ھٰکَذَا
لَاخَیْرَ فِی عِشْقٍ بِلَامَوْت 😥
( جو عشق میں جان دینا چاہتا ہے وہ اِس طرح دے ، عشق میں موت کے بغیر کوئی بھلائی نہیں )
✍️لقمان شاہد
23-11-2029 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3022413151372187&id=100008105947430
Facebook
Log in to Facebook
Log in to Facebook to start sharing and connecting with your friends, family and people you know.
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
آپ کے سامنے بہت بڑا مجمع ہے ، جس میں لاکھوں حسین و جمیل ہیں ، اور " ایک " آپ کا محبوب بھی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آپ کی نظریں کسی حسین پر نہیں جم رہیں ، صرف اپنے محبوب کو تلاش کر رہی ہیں۔
آپ تو جانتے ہی اُسے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آپ کا دل مانتا ہی اسے ہے ؛ اس کے علاوہ نہ کسی پر نظر ٹھہرتی ہے ، نہ دل قبول کرتاہے ۔
پھر کیا ہوتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟
بھرے مجمعے سے آپ کا پیارا نمودار ہوتا ہے اور آپ کو سینے سے لگالیتا ہے !
اُس وقت آپ کے جذبات کیا ہوتے ہیں ؟
یہ تو آپ کے علاوہ کوئی نہیں بتاسکتا !
بس آپ کی زبان پر بے ساختہ شکر الہی جاری ہوجاتا ہے اور آپ کہتے ہیں مجھے میرا محبوب مل گیا ، مجھے سب کچھ ملگیا ۔
اب دیکھیے امام احمد رضا کیا کہتے ہیں ، کہتے ہیں ؎
اِنھیں جانا ، اِنھیں مانا ، نہ رکھا غیر سے کام
للہ الحَمْد میں دُنیا سے مسلمان گیا
ساری کائنات اور اس کا حسن و جمال میرے سامنے تھا ، مگر میں نے اس میں سے صرف اپنے حبیب ﷺ کو ڈھونڈھا ، میرے دل نے کسی اور کو قبول ہینہیں کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بس جب مجھے حضور مل گئے تو میں نے لِلہ الحمد کہا ( شکر کیا ) ، کہ میں مسلمان ہو کر مرنے میں کامیاب ہوگیا ۔
اب پڑھیے ؎
اِنھیں جانا ، اِنھیں مانا ، نہ رکھا غیر سے کام
للہ الحَمْد ، میں دُنیا سے مسلمان گیا !!
✍️لقمان شاہد
22-11-2020 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3022545754692260&id=100008105947430
آپ تو جانتے ہی اُسے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آپ کا دل مانتا ہی اسے ہے ؛ اس کے علاوہ نہ کسی پر نظر ٹھہرتی ہے ، نہ دل قبول کرتاہے ۔
پھر کیا ہوتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟
بھرے مجمعے سے آپ کا پیارا نمودار ہوتا ہے اور آپ کو سینے سے لگالیتا ہے !
اُس وقت آپ کے جذبات کیا ہوتے ہیں ؟
یہ تو آپ کے علاوہ کوئی نہیں بتاسکتا !
بس آپ کی زبان پر بے ساختہ شکر الہی جاری ہوجاتا ہے اور آپ کہتے ہیں مجھے میرا محبوب مل گیا ، مجھے سب کچھ ملگیا ۔
اب دیکھیے امام احمد رضا کیا کہتے ہیں ، کہتے ہیں ؎
اِنھیں جانا ، اِنھیں مانا ، نہ رکھا غیر سے کام
للہ الحَمْد میں دُنیا سے مسلمان گیا
ساری کائنات اور اس کا حسن و جمال میرے سامنے تھا ، مگر میں نے اس میں سے صرف اپنے حبیب ﷺ کو ڈھونڈھا ، میرے دل نے کسی اور کو قبول ہینہیں کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بس جب مجھے حضور مل گئے تو میں نے لِلہ الحمد کہا ( شکر کیا ) ، کہ میں مسلمان ہو کر مرنے میں کامیاب ہوگیا ۔
اب پڑھیے ؎
اِنھیں جانا ، اِنھیں مانا ، نہ رکھا غیر سے کام
للہ الحَمْد ، میں دُنیا سے مسلمان گیا !!
✍️لقمان شاہد
22-11-2020 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3022545754692260&id=100008105947430