🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
*سیرت امیر المجاہدین علامہ خادم حسین رضوی علیہ الرحمہ*

*محمد ساجد مدنی*
*متعلم تخصص فی الحدیث*


*ابتدائی حالات:*

علامہ خادم حسین رضوی صاحب ضلع اٹک کے ایک گاوں نگا کلاں میں ایک زمیندار گھرانے میں 22نومبر 1966 کو پیدا ہوئے
آپ کے والد کا نام لعل خان ہے
آپ کا ایک بھائی جسکا نام امیر حسین ہے اور چار بہنیں ہیں
آپ کے والد کا انتقال 2008 میں ہوا
اور والدہ کا 2010میں انتقال ہوا

*تعلیمی سفر:*

آپ نے سکول میں صرف چار جماعتیں پڑھیں تھیں اور آٹھ سال کی عمر میں ضلع جہلم کی طرف طلب علم دین کیلئے رخت سفر باندھا اور مدرسہ جامع غوثیہ اشاعت العلوم میں قاری غلام یسین صاحب سے حفظ قرآن شروع کیا
آپ نے چار سال کے عرصے میں حفظ قرآن مکمل کیا اس وقت آپ کی عمر 12 سال تھی
پھر آپ نے ضلع گجرات کے کے قصبے دینہ میں 2 سال قرات کورس کیا
14 سال کی عمر میں لاہور تعلیم کیلئے آئے
1988 کو آپ نے دورہ حدیث شریف مکمل فرمایا آپ عربی کے ساتھ ساتھ فارسی پر بھی عبور رکھتے تھے
آپ نے پہلی ملازمت 1993 میں محکمہ اوقاف پنجاب میں کی اور داتا دربار کے قریب پیر مکی مسجد میں خطبہ دیا کرتے تھے
پھر ختم نبوت اور ناموس رسالت تحریک چلانے کی وجہ سے آپ نے نوکری چھوڑ دی اور یتیم خانہ روڈ لاہور کے قریب واقع مسجد رحمة للعالمين میں خطابت کرتے رہے اور ساری زندگی مشاہرہ صرف 15000 لیتے رہے

*رشتہ ازدواج:*

آپ کی شادی اپنی چچا زاد بہن سے ہوئی اور اللہ تعالی نے 2 بیٹوں اور 4 بیٹیوں سے نوازا
بڑے صاحب زادے کا نام حافظ سعد حسین رضوی اور چھوٹے صاحبزادے کا نام حافظ انس حسین رضوی ہے آپ کے دونوں بیٹے حافظ قرآن اور درس نظامی عالم کورس کیا ہوا ہے

*اقبال سے عشق کی وجہ:*

آپ فرماتے ہیں کہ دوران تعلیم درسی کتب کے علاوہ جن کتب کا مطالعہ کرتا تھا ان میں ڈاکٹر اقبال کا فارسی مجموعہ کلام سر فہرست تھا
1988 میں کلیات اقبال خریدی لی تھی اور نو عمری میں ہی اس قلندر شاعر کے افکار کا مطالعہ شروع کردیا
آپ فرماتے ہیں کہ گویا کہ اقبال کی روح نے مجھے اپنی طرف کھینچ لیا ہے
اقبال کے کلام کے بعد علامہ اقبال کے شاعری کے استاذ مولانا روم علیہ الرحمہ کو پڑھا اور اور انکے بیشتر کلام کو ازبر یاد کرلیا تھا
آپ فرماتے ہیں کہ مجھے اقبال، مولانا روم اور اعلی حضرت فاضل بریلوی کی شاعری نے بہت زیادہ متاثر کیا اور یہ حضرات عشق رسول کے وہ جام پلاتے ہیں جنھیں پینے کے بعد کسی چیز کی حاجت نہیں رہتی اور اردو شعراء میں اکبر الہ آبادی کی شاعری پسند تھی
آپ کو مطالعہ کا جنون رہتا تھا آپ سفرنامے بہت پڑھتے تھے آپ نے حکیم محمد سعید اور مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ الرحمہ کے تمام سفر نامے پڑھ ڈالے
تاریخ اسلام کا مطالعہ آپ کی اولیں ترجیح تھی اور تمام مسلم سپہ سالار کی سیرت کا مطالعہ کرتے رہتے
آپ فرماتے ہیں اسلام کے تمام سپہ سالار اپنی مثال آپ ہیں لیکن حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالی عنہ نے مجھے بہت زیادہ متاثر کیا ہے اور آپ کے مزار پر حاضری دینا ایک دیرینہ خواہش تھی اور الحمد للہ پوری ہوئی

*تحریک لبیک یارسول اللہ کا آغاز:*

آپ اپنی زندگی معمول کے مطابق گزار رہے تھے کہ غازی ممتاز حسین قادری علیہ الرحمہ نے جب گستاخ رسول سلمان تاثیر کو واصل جہنم کیا اور پھر غازی صاحب کو گرفتار کیا گیا اور انکو پھانسی دے دی گئی اس واقعہ نے آپ کی زندگی میں انقلاب برپا کردیا
پھر جب ختم نبوت قانون میں تبدیلی کرنے کی کوشش کی گئی تو ملک گیر احتجاج ہوا اور فیض آباد میں بھرپور احتجاج کیا گیا جسکی وجہ سے اس تحریک کو بہت مقبولیت ملی اور 2018 میں 26 لاکھ کے قریب ووٹ حاصل کیے اتنے کم عرصے میں پاکستان کی 5 بڑی تحریک بن گئی اس تحریک کا اسلام مقصد نظام مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کا نفاذ رہا ہے اور علامہ خادم حسین رضوی صاحب آخری دم تک اسی نظام کے نفاذ کیلئے لڑتے رہے

*ملفوظات:*

1: آپ فرماتے ہیں کہ مجھے عشق رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم اپنی ماں کی گود سے ملا ہے میری والدہ اٹھتے بیٹھتے ہربات میں *"میں صدقے یارسول اللہ "* کہا کرتی تھیں اور یہ جملہ میری روح و بدن میں بس گیا
علامہ اقبال بھی ایک فارسی شعر میں کہتے ہیں جسکا ترجمہ کچھ یوں ہے
یہ جو عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم مجھے ملا ہے یہ میری ماں کی گود اور ندا سے ملا ہے

2: آپ فرماتے ہیں جب غازی ممتاز حسین قادری علیہ الرحمہ کی رہائی کی تحریک چلائی ہوئی تھی اور اسکی پاداش میں لکھپت جیل میں مجھے ڈال دیا تھا تو اس دوران غازی صاحب کا خط آیا تھا اور اس خط کو میں اپنی بخشش کا بہانہ سمجھتا ہوں

3: آپ فرماتے ہیں علامہ اقبال کا یہ فرمان "انسان دلیر اسی وقت ہوتا ہے جب سینے میں محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہو" یہی جملہ میری زندگی کی اصل ہے

4: آپ فرماتے ہیں میں ساری زندگی مدینے نہیں گیا اس کی وجہ یہ ہے کہ میں آقا نامدار مدینے کے تاجدار صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا منہ دیکھاوں گا کہ آپ کی ناموس پہ حملے
ہوتے رہے اور میں سب کچھ چھوڑ کر ادھر آ گیا

علامہ خادم حسین رضوی صاحب وہ واحد شخصیت ہیں جنھوں نے اس زمانہ میں امت مسلمہ کو ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم پر پہرہ دینے کیلئے بیدار کیا اور بچہ بچہ ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم پر مرمٹنے کیلئے تیار ہوگیا
آپ ہمیشہ ناموس رسالت پر پہرہ دیتے رہے اور اپنی زندگی اسی مشن پہ لگادی
اللہ تعالی نے آپ کو وہ حوصلہ اور جرات دی تھی کہ ملت کفر آپ کی للکار سے لڑکھڑاتی تھی ہمیشہ کفر آپ کی شخصیت سے خوف زدہ رہا
آپ کو ناموس رسالت پر پہرہ دینے کی پاداش میں کئی بار جیل جانا پڑا اور سخت سے سخت عقوبتوں سے گزرنا پڑا لیکن آپ ہمیشہ استقامت کے پہاڑ بن کر ڈٹے رہے

عُلما ٕ کا دنیا سے جانا لوگوں
کی ہلاکت کی علامت ہے 😭
دارمی حدیث 241)
الوداع امیر المُجاہدین 💔

بالآخر امام عزیمت 19 نومبر 2020 رات 8 بجکر 46 منٹ پر ہمیشہ کیلئے داغ مفارقت دے گئے

دیکھ تو نیازی ذرا سو گیا کیا دیوانہ
ان کی یاد میں شاید آنکھ لگ گئی ہو گی

إنا للہ وانا الیہ راجعون 😭💔

میرے جنازے پر رونے والوں
فریب میں ہو بغور دیکھو
مرا نہیں ہوں غم نبی میں
لباس ہستی بدل گیا ہوں

*سلام عقیدت ببارگاہ خادم حسین رضوی*

گرچہ معذور تھا پھر بھی لڑتا رہا
بابا خادم کی ہمت پے لاکھوں سلام

جو کہ میدان میں ڈٹ کے ٹہرا رہا
ایسی مضبوط طاقت پے لاکھوں سلام

سخت سردی میں جو پہرا دیتا رہا
ایسے عالم کی عظمت پے لاکھوں سلام

کفر کی دنیا جن سے لرزتی رہی
شیر حق کی شجاعت پے لاکھوں سلام

جن کے چہرے سے باطل ہی ڈرتا رہا
ان کی نورانی صورت پے لاکھوں سلام

عشق سرکار کا وه پلاتے رہے
ساقئی جام الفت پے لاکھوں سلام

جن کی آواز سے کفر سہما رہا
ان کی ایسی جلالت پے لاکھوں سلام

جس نے ختم نبوت پے پہرا دیا
شمشیر اہل سنت پے لاکھوں سلام

لو عمران رضا کا سلام آخری
تیری شان اور شوکت پے لاکھوں سلام
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
تجزیہ نگاروں کی تحقیق ۔
علامہ صاحب کے جنازے میں "ایک کروڑ تینتالیس لاکھ چوالیس ہزار (14,344,533) لوگ شریک تھے
تفصیل :
اقبال پارک کا رقبہ 1.33 مربع کلو میٹر ہے. اور وہ سارے کا سارا بھرا ہوا تھا.
اگر ایک آدمی کو ہم ایک مربع فٹ میں کھڑا کریں تو ایک مربع کلومیٹر میں 3280 مربع فٹ ہوتے ہیں.
اس طرح ایک مربع کلومیٹر میں 10,758,400 لوگ کھڑے ہو سکتے ہیں. اور باقی 0.33 کلومیٹر میں 3,586,133 لوگ کھڑے ہو سکتے ہیں.اس طریقے سے ضرب تقسیم کرکے یہ اخز کیا گیا ہے کہ
عاشق رسولﷺ قبلہ امیر المجاہدین فنا فی خاتم النبیین کے نماز جنازہ میں تقریبا ڈیڑھ کروڑ عاشق رسولﷺ تھے

منقول
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Gulam Mustafa Razvi
*یا خدا عشق رسول پاک سے سرشار کر؛*
*خادم حسین، عاشقِ خیر الوری کے واسطے*

Ya Khuda Ishq-e-Rasool-e-Paak se sarshar kar;
Khadim Husayn, Ashiq-e-Khayrul Waraa ke Waastay

*جان و دل سے ہوں فدا نامِ نبیِ پاک پر؛*
*خادم حسین، کشتۂ عشق و وفا کے واسطے*

Jaan-o-Dil se hon fida Naam-e-Nabi-e-Paak par;
Khadim Husayn, Kushta-e-Ishq-o-Wafa ke Waastay

*خادم حسین پاک کا، اسلام کا خادم بنا؛*
*خادم حسین، خادمِ دینِ ہُدٰی کے واسطے*

Khadim Husayn Paak ka, Islam ka Khadim bana;
Khadim Husayn, Khadim-e-Deen-e-Huda ke Waastay

*رنجِ دنیا سے ہمیں بے خوف کر، کر دے نڈر؛*
*خادم حسین، شیر حق، مرد خدا کے واسطے*

Ranj-e-Danya se hamain be-khouf kar, kar de nidar;
Khadim Husayn, Sher-e-Haqq, Mard-e-Khuda ke Waastay

*متحد کر، متحد رکھ، سنیوں کو اے خدا!*
*خادم حسین، پیشوا و رہنما کے واسطے*

Muttahid kar, Muttahid Rakh, Sunniyon ko Ae Khuda;
Khadim Husayn, Peshwa o Rahnuma ke Waastay

*یا الٰہی سنیوں کو نیک کر اور ایک کر؛*
*خادم حسین، با صفا و با وفا کے واسطے*

Ya Ilahi! Sunniyon ko Nek kar aur Aik kar;
Khadim Husayn, Ba-Safa o Ba-Wafa ke Waastay

*دے خودی، ہمت، شجاعت، فتح و نصرت دے ہمیں؛*
*خادم حسین، خادمِ آل عبا کے واسطے*

De Khudi, Himmat, Shuja'at, Fath-o-Nusrat de hamain;
Khadim Husayn, Khadim-e-Aal-e-'Abaa ke Waastay

*کردے خائب دشمنوں کو، سنیوں کا کر بھلا؛*
*خادم حسین، سنیوں کے مقتدا کے واسطے*

Kar de kha'ib dushmanon ko, Sunniyon ka kar bhalaa;
Khadim Husayn, Sunniyon ke Muqtada ke Waastay

*رکھ غلامِ مصطفی، سگ عترت و اصحاب کا؛*
*خادم حسین، نائب غوث و رضا کے واسطے*

Rakh Gulam-e-Mustafa, Sag Itrat-o-Ashaab ka;
Khadim Husayn, Na'ib-e-Ghous-o-Raza ke Waastay

*گیارہویں اور بارہویں والے کا صدقہ کبریا!*
*خادم حسین کا بنا احمد رضا کے واسطے*

Giyarhween aur Barhween walay ka Sadqah Kibriya!
Khadim Husayn ka bana Ahmad Raza ke Waastay

*حامد و نوری کے صدقے، ساتھ سچوں کا رہے؛*
*خادم حسین، صاحب صدق و صفا کے واسطے*

Hamid-o-Noori ke Sadqay, Sath Sacchon ka rahay;
Khadim Husayn, Sahib-e-Sidq-o-Safa ke Waastay

*مسلکِ حق اہلسنت اعلی حضرت پر چلا!*
*خادم حسین، بو تراب، اختر رضا کے واسطے*

Maslak-e-Haqq AhleSunnat AlaHazrat par chalaa;
Khadim Husayn, Bu-Turab, Akhtar Raza ke Waastay
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
علامہ خادم حسین رضوی علیہ الرحمہ کو حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمہ نے خلافت اور سند حدیث بھی عطا فرمائی 🌹 سُبۡحَانَ اللہ

خود علامہ خادم حسین رضوی
علیہ الرحمہ کی زبانی سُنِئے🌹

جس نے ختم نبوت پہ پہرا دیا
ایسے خادم کی خدمت پہ لاکھوں‌سلام
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
#حضرت_عمر: #فاروق_بھی_مرادِ_رسول_بھی!!

غلام مصطفےٰ نعیمی
مدیر اعلیٰ سواد اعظم دہلی

عکاظ کا اکھاڑا عرب کا مشہور ترین اکھاڑا تھا۔یہ جبل رحمت کے پاس ایک جگہ کا نام تھا۔جہاں سالانہ میلا لگا کرتا تھا۔عرب کے جانے مانے پہلوان اس دنگل میں پہنچتے اور اپنی پہلوانی کے جوہر دکھاتے۔یوں تو عرب معاشرے میں لاکھ برائیاں تھیں مگر تمام تر برائیوں کے باوجود وہ لوگ اپنی صحت وتندرستی سے لاپرواہ نہیں تھے۔عکاظ کا دنگل بہادران عرب کا بڑا پلیٹ فارم مانا جاتا تھا۔جو جوان یہاں اپنی قوت اور پہلوانی کا دم خم دکھاتا پورے عرب میں اس کی دھاک بیٹھ جاتی تھی۔ایک بار اس اکھاڑے میں نفیل بن عبدالعزی بن رباح کے پوتے عمر نے تال ٹھونک کر اپنی طاقت وقوت سے بہادران عرب کو مبہوت کر دیا۔اس کے بعد سارے عرب میں اس جوان کی طاقت وجواں مردی کا سکہ بیٹھ گیا۔دیکھتے ہی دیکھتے ہی اس کی بہادری اور دبدبے کی شہرت ہر گھر میں پہنچ گئی۔

آپ جانتے ہیں یہ مشہور پہلوان اور جواں مرد بہادر کون تھا؟

یہ قوی ہیکل جوان مراد رسول، خلیفہ دوم سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے۔
آپ کی ولادت عام الفیل کے لگ بھگ 13 سال بعد 583 عیسوی میں ہوئی۔(تاریخ الخلفا، ص108)
آپ کے والد خطاب بن نفیل تھے۔آٹھویں پشت میں آپ کا سلسلہ نسب حضور نبی اکرم ﷺ سے مل جاتا ہے۔نوعمری کے زمانے میں آپ نے اونٹ چَرانے کا کام انجام دیا۔اوائل شباب میں اپنی پہلوانی کے دم پر شہرت پائی۔لیکن ان سب کے باوجود آپ مکہ کے ان مخصوص افراد میں شامل تھے جو لکھنا پڑھنا جانتے تھے۔اس وقت عرب کے جاہلی معاشرے میں تعلیم کا تصور بھی نہ تھا۔ان لوگوں کی یاد داشتیں اس قدر اچھی تھیں کہ جو بات ایک بار سن لیتے وہ سدا کے لیے محفوظ ہوجاتی۔بڑی بڑی تجارتوں اور لاکھوں کے حساب اپنی انگلیوں پر جوڑ لیا کرتے تھے۔اپنی یاد داشت اور اعلی ذہانت پر اس قدر ناز تھا کہ لکھنے پڑھنے والوں کو وہ خود سے کمزور مانتے تھے، کہ جو بات یا حساب وہ چٹکیوں میں کر دیتے ہیں اسے دیگر لوگ کاغذ قلم کے بغیر یاد نہیں رکھ پاتے۔

حضور سید عالم ﷺ کے اعلان نبوت کے بعد پورے مکہ میں مخالفت کا طوفان برپا تھا۔اسلام کی مقبولیت دن بدن بڑھ رہی تھی۔آپ کی بہن فاطمہ بنت خطاب اور بہنوئی سعید بن زید بھی اسلام کے دامن رحمت میں پناہ لے چکے تھے۔حضرت عمر اسلام کے سخت ترین دشمن بنے ہوئے تھے۔مگر آپ کی شجاعت وبہادری اور معاملہ فہمی کی بنا پر حضور یوں دعا فرماتے تھے:
اللَّهُمَّ أَعِزَّ الْإِسْلَامَ بِعُمَرَ۔
(رواه الحاكم في "المستدرك"(3 / 83)
"اے ﷲ! عمر کے ذریعے اسلام کو عزت عطا فرما۔"

حضرت عمر نے جوش عداوت میں ایک دن حضور کے قتل کا ارادہ کیا اور تلوار لگا کر آپ کی تلاش میں نکل پڑے۔راستے میں نعیم بن عبدﷲ نے آپ کو غضب ناک دیکھا تو پوچھا خیر تو ہے، کہاں کا ارادہ ہے؟
کہنے لگے داعی نبوت کا کام تمام کرنا ہے۔انہوں نے کہا پہلے اپنے گھر کی خبر لو پھر محمد عربی کی جانب رخ کرنا۔تمہارے بہن بہنوئی بھی داخل اسلام ہوچکے ہیں۔نعیم بن عبد اللہ کی بات نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔سیدھے بہن کے گھر پہنچے۔تلاوت قرآن کی دل آویز صدا نے استقبال کیا۔اسلام کے بارے میں استفسار کیا۔انکار پایا تو سختی پر اتر آئے۔بیچ بچاؤ کو آئے بہنوئی زخمی ہوگئے۔بہن کے ماتھے سے بھی خون جاری تھا۔فاطمہ بنت خطاب نے غیرت ایمانی سے سرشار ہوکر اپنے بھائی کا چہرہ پکڑ کر جواب دیا:
"عمر جو دل میں آئے کرلو مگر اسلام کی محبت ہمارے دل سے نہیں نکل سکتی۔"
آپ نے نگاہ بھر کر بہن کی جانب دیکھا، بہتے ہوئے خون نے بھائی کی محبت کو بیدار کیا۔مگر لہجے کی مضبوطی اور آنکھوں میں جھلکتے یقین نے دل پر بڑا اثر کیا۔کہنے لگے فاطمہ جو چیز تم پڑھ رہی تھیں مجھے بھی تو دکھاؤ! قرآن کے اوراق پڑھنا شروع کئے تو دل کی دنیا میں ہلچل مچ گئی۔دعائے رسول کی قبولیت کا وقت قریب آرہا تھا۔جب اس آیت پر پہنچے:آمنوا باﷲ ورسوله، تو خود پر قابو نہ رکھ سکے اور کہا مجھے حضور کے پاس لے چلو۔دعائے محمدی اثر دکھا چکی تھی اب دیدار نبی کے بغیر چین کہاں؟تلاش کرتے ہوئے حضرت ارقم کے گھر دستک دی۔اندر داخل ہوئے تو حضور نے کرتہ پکڑ کر فرمایا عمر کس ارادے سے آیا ہے؟
عرض کی آپ کے دامن کرم میں پناہ لینے!
اتنا سننا تھا کہ صحابہ کرام نے مارے مسرت کے ایسا نعرہ لگایا کہ پوری وادی ﷲ اکبر کی صداؤں سے گونج اٹھی۔
غربت اسلام کا زمانہ تھا۔کفار مکہ کے ظلم و ستم کی وجہ سے مسلمان سہمے سہمے رہتے تھے۔خوف اس قدر تھا کہ نمازیں بھی چھپ کر ادا کی جاتی تھیں۔ظہر وعصر کی سرّی نمازیں مسلمانوں کی اسی کیفیت کی یادگار ہیں۔
ہر مسلمان کے دل کی آرزو تھی کہ بیت اللہ شریف میں نماز ادا کریں۔ہنوز آرزو تشنہ تھی۔مگر اب حضور ﷺ کی دعا کا اثر ظاہر ہونا تھا کہ حضرت عمر کے ذریعے اسلام کو عزت حاصل ہو۔اثر شروع ہوا تو حضرت عمر نے کافروں سے مقابلہ آرائی شروع کردی۔آپ کی ہمت وبہادری اور دبدبے نے جلد ہی کفار مکہ کو عاجز کردیا اور وہ وقت بھی آیا کہ مسلمان نہایت شان و
شوکت کے ساتھ کعبے میں داخل ہوئے۔ایک زمانے سے کعبہ کی زمین سجدوں سے محروم تھی۔اللہ اکبر کی صداؤں سے کعبے کے درو دیوار گونج اٹھے۔مسلمانوں نے پیشانیاں جھکا کر بندگی کا اظہار کرکے دبی ہوئی تمناؤں کو دل کھول کر پورا کیا۔حضرت عبد اللہ ابن مسعود فرماتے ہیں:
فلما اسلم عمر قاتل قريشاً حتي صلي عند الكعبة وصلينا معه۔
(المعجم الکبیر للطبرانی،رقم: 8820)
"جب حضرت عمر اسلام لائے تو قریش مکہ سے خوب لڑے یہاں تک کہ کعبے میں نماز ادا فرمائی اور ان کے ساتھ ہم سب نے بھی نماز پڑھی۔"

اعلان نبوت کے بعد یہ پہلا موقع تھا کہ اسلام وکفر کے درمیان کھل کر فرق ظاہر ہوا۔آقائے کریم ﷺ نے خوش ہوکر حضرت عمر کو فاروق (کفر واسلام میں فرق پیدا کرنے والا) کا خطاب عطا فرمایا جو آج آپ کے نام کا جزو لاینفک بن چکا ہے۔

فارقِ حق و باطل امامُ الہُدیٰ
تیغِ مَسْلُولِ شدت پہ لاکھوں سلام

حضرت عمر کی ہجرت کا واقعہ بھی ان کے مزاج کی طرح منفرد تھا۔آپ سے پہلے جتنے افراد نے ہجرت کی، چُھپ چُھپا کر کی۔کوئی رات کی تاریکی میں نکلا،کوئی علی الصبح روانہ ہوا تو کسی نے دوپہر کے وقت میں نکلنا مناسب سمجھا کہ اس وقت لوگ گھروں میں آرام کرتے ہوتے تھے۔لیکن بارگاہ رسالت سے عطا کردہ خطاب "فاروق" کا تقاضا تھا کہ آپ کی ہجرت کا انداز بھی اوروں سے مختلف ہو،ہوا بھی ایسا ہی!
جب آپ نے ہجرت کا ارادہ فرمایا تو جسم پر ہتھیار لگا کر بیت اللہ شریف پہنچے۔خانہ کعبہ کا طواف کیا، مقام ابراہیم پر دو رکعت نماز ادا فرمائی۔اس وقت صحن کعبہ میں کئی سرکردہ کافر موجود تھے۔مگر کوئی بھی آپ کو ٹوکنے کی ہمت نہ کر سکا۔مگر وہ فاروق ہی کیا جو اتنے پر ہی مان جائیں؟آپ خود ان کے پاس پہنچے اور فرمایا:
من أراد أن يثكل أمه أو يرمل زوجته أو ييتم ولده فليلقني وراء هذا الوادي۔
(تاریخ الخلفا للسيوطي:ص 95)
"جو شخص یہ چاہتا ہے کہ اس کی ماں اسے روئے ، اس کی بیوی، بیوہ اور بچے یتیم ہوجائیں تو مجھ سے اس وادی میں مقابلہ کرنے آجائے۔"

جو کافر دوسرے مسلمانوں کا پیچھا کرتے تھے۔مسلمانوں کے تحمل کے باعث خود کو بہادر سمجھتے تھے۔لیکن فاروقی للکار سن کر جواب دینے کی ہمت تک نہ ہوسکی۔اس طرح جس شان کے ساتھ آپ نے اسلام کا اعلان کیا اسی دھمک کے ساتھ ہجرت بھی فرمائی اور نہایت کروفر کے ساتھ مدینہ منورہ روانہ ہوگیے۔اس سفر پر آپ کے ساتھ 20 افراد اور بھی شامل تھے۔

خلیفہ اول سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے وصال کے بعد آپ نے مسند خلافت کو رونق بخشی۔اس وقت بہت سارے لوگوں کو ایسا لگتا تھا کہ شاید اپنی پر جلال طبیعت کے باعث امور خلافت کو اس طرح انجام نہ دے پائیں جس کی ضرورت تھی۔مگر آپ کا جلال غیرت ایمانی کی بنیاد پر تھا ورنہ آپ علم انساب کے ماہر، اعلی درجے کے خطیب اور افہام و تفہیم کا شاندار ملکہ رکھتے تھے۔
کئی بار ایسا ہوتا ہے کہ کسی شخصیت کا کوئی ایک پہلو زیادہ مشتہر ہوجاتا ہے حالانکہ وہ شخصیت دیگر علوم و فنون میں بھی فقید المثال ہوتی ہے۔حضرت عمر کی غیرت ایمانی اور ہیبت ودبدبے کے باعث آپ کے دیگر اوصاف سے ذرا کم ہی لوگ واقف تھے۔مگر سیدنا صدیق اکبر آپ کے اوصاف وکمالات کو اچھی طرح جانتے تھے۔علامہ سیوطی طبقات ابن سعد کے حوالے سے لکھتے ہیں:
قيل لابي بكر في مرضه : ماذا تقول لربك ، وقد وليت عمر؟ قال، اقول له: وليت عليهم خيرهم۔(تاریخ الخلفا للسيوطي:98)
"مرض الموت میں حضرت ابوبکر سے پوچھا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ سے حضرت عمر کو خلیفہ منتخب کرنے کے بارے میں سوال کیا تو کیا جواب دیں گے؟
حضرت ابوبکر نے فرمایا میں عرض کروں کہ میں نے لوگوں میں سب سے بہتر شخص کو اپنا خلیفہ منتخب کیا ہے۔"

یعنی حضرت ابوبکر صدیق پورے یقین سے جانتے تھے کہ بار خلافت کے لیے حضرت عمر سب سے زیادہ اہل اور موزوں ترین فرد تھے۔خلیفہ منتخب ہونے کے بعد آپ کے حسن تدبر، سیاسی بصیرت، معاملہ فہمی اور جنگی مہارت کا ایک زمانے نے اعتراف کیا-ثابت ہوگیا کہ صدیق اکبر کا فیصلہ ہر لحاظ سے بہترین تھا۔
وہ زمانہ انتہائی حساس تھا۔داخلی فتنوں کے ساتھ خارجی فتنے سر اٹھا رہے تھے۔لیکن آپ نے اپنی زیرکی ودانائی سے سارے معاملات کو بحسن و خوبی سنبھالا اور دیکھتے ہی دیکھتے فتوحات کا سلسلہ شروع ہوگیا۔
آپ کے عہد خلافت میں ایک ہزار چھتیس (1036) شہر مع مضافت فتح ہوئے۔900 جامع مسجد اور چار ہزار نئی مساجد تعمیر ہوئیں۔فتوحات کی وسعت کا یہ عالم تھا کہ 13 لاکھ 9 ہزار 501 مربع میل کا اضافہ ہوا۔دیکھتے ہی دیکھتے اسلامی سلطنت کا دائرہ حجاز سے نکل کر شام ، مصر، عراق ، جزیرہ ،آذر بائیجان ، جنوبی آرمینیا ،فارس، کرمان، روم ، اور ایران تک پھیل گیا۔ دنیا کی سپر پاور طاقتیں قیصر روم اور شاہ کسریٰ کا زور ختم کردیا گیا۔اس طرح دعائے محمدی نے اپنا اثر دکھایا اور اللہ تعالیٰ نے حضرت عمر فاروق کے ذریعے اسلام کو اس قدر غالب کیا کہ عرب کی چاروں سمتوں میں اسلام غالب ترین مذہب بن چکا تھا۔قریب دس سال چھ مہینے کا زمانہ خلافت گزارنے کے بعد آخر اپنے دو
ستوں سے ملنے کا وقت آیا۔26 ذوالحج کو دشمن کے ہاتھوں زخمی ہوئے اور درجہ شہادت سے سرفراز ہوکر یکم محرم الحرام 24ھ کو اپنے رفیق جانی سیدنا ابوبکر صدیق اور اپنے آقا و مولا سید عالم ﷺ کے پہلو میں آرام فرما ہوگیے۔

وہ عمر جس کے اعدا پہ شیدا سقر
اس خدا دوست حضرت پہ لاکھوں سلام

6 ربیع الثانی 1442ھ
22 نومبر 2020 بروز اتوار

https://www.facebook.com/388280455075812/posts/815568399013680/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
آج مورخہ 21 نومبر 2020 کوفجربعد حسب معمول مدینہ پارک، نزد مدینہ مسجد ،آزاد نگر جمشید پور میں ریاضت بدنی سے فراغت کے بعد پی ٹی ماسٹر جناب الحاج سید سمیع احمد صاحب نے پرانی یادوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ
کریمیہ ہائی اسکول، آزادنگر، جمشید پور میں 1969سے پہلے ایک بہت ہی مخلص اور انسانیت نواز ہیڈ ماسٹر ہواکرتے تھے جن کا نام جناب ماسٹر شعبان الحق صاحب تھا. وہ بلیک بورڈ پر دونوں ہاتھوں سے لکھا کرتے تھے. حیرت کی بات تو یہ ہے کہ وہ کبھی کبھی ایک ہی بلیک بورڈ پر ایک ہاتھ سے میتھ اور دوسرے ہاتھ سے فزکس لکھا کرتے تھے.
راوی کی عمر اس وقت 68سال ہے.
جب سید صاحب یہ واقعہ سنارہے تھے تو میرے ذہن میں امام عشق و محبت کے تعلق وہ جو روایت مشہور ہے کہ آپ دونوں ہاتھوں سے لکھا کرتے تھے اس پر بعض لوگوں کو تردد ہوتا ہے اور بعض محض عقیدت میں غلو کہہ کر تنقیص کی بے جا جسارت کر کے اپنی عاقبت خراب کرتے ہیں ان کی تردید اور عاشق رسول کی خداداد صلاحیت کی تصدیق ہو گئی.
واضح رہے کہ سید صاحب کے کان امام احمد رضا کے واقع سے آشنا نہیں ہے.

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=861370057941429&id=100022053280847
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
#امتی_کو_حق_نہیں_کہ........

"کسی گستاخ کو معاف کردیا یہ حضور کا اپنا حق تھا... امتی کو حق نہیں پہنچتا کہ وہ حضور کی طرف سے منصف بن کے گستاخوں کو معاف کرتا پھرے"

امیر عزیمت علیہ الرحمہ

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3475804042537002&id=100003223204679
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
*شیر بیشہ اہل سنت اور منظور نعمانی کا مناظرہ*

علامہ بندیالوی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: کہ حضور شیخ الاسلام رحمہ اللّٰہ تعالٰی نےسلانوالی میں ایک تاریخی مناظرہ کرایا دیوبندیوں کی طرف سے مولوی منظور نعمانی تھا اور اہل سنت و جماعت کی جانب سے شیر بیشہ اہل سنت و جماعت مولانا حشمت علی خان صاحب بریلوی رحمہ اللّٰہ تعالی تھے۔ علم غیب پر مناظرہ ہوا۔ دیوبندی مولوی نے دلیل دی کہ قرآن پاک میں ہے کہ "وللّٰہ عنده علم الساعة" الاية مولانا حشمت علی خان صاحب نے سوال کیا کہ عموم السلب مراد ہے یا سلب العموم؟ ( *عموم السلب* کا یہ معنی ہے کہ ہر بندہ کسی وقت بھی قیامت کا علم نہیں رکھتا اور *سلب العموم* یہ ہے کہ ہر کوئی علم قیامت نہیں رکھتا۔ یعنی سارے نہیں جانتے۔)
*پہلے معنی* میں ہر ایک سے نفی ہے علم قیامت کی اور ہر وقت میں یعنی جمیع اوقات میں اور ان جمیع اوقات میں قیامت کا دن بھی ہے یہ دن بھی جمیع اوقات کا ایک فرد ہے یعنی کے دن بھی اسے قیامت کا علم نہ ہو۔اور *دوسرے معنی* کے لحاظ سے ہر ایک سے علم کی نفی نہیں ہوتی بعض کو تو علم ہو اور بعض کو نہ ہو پھر کہہ سکتے ہیں کہ سارے نہیں جانتے۔ وہ (منظور نعمانی) مولوی تھا اس نے سمجھ لیا کہ سلب العموم سے تو میرا مدعا ثابت نہیں ہوتا تو اس نے کہا کہ عموم السلب بایں معنی کہ قیامت کے دن سے پہلے ہر ایک اور ہر وقت میں نفی ہے۔ تو اس کے جواب میں شیر بیشہ اہل سنت مولانا حشمت علی خان صاحب رحمہ اللّٰہ تعالی نے بڑا مذاق اڑایا۔ ادھر عموم السلب اور پھر بایں معنی یعنی تقیید مطلق بھی اور مقید بھی یہ قید کہاں سے نکل آئی؟ آپ نے فرمایا: کہ تین دن مناظرہ رہا مولانا صاحب کے دلائل کے جواب دیوبندی مولوی نہ دے سکا۔
نوٹ:(از جامع کتاب) قبلہ استاذی المکرم (علامہ بندیالوی علیہ الرحمہ) نے ارشاد فرمایا کہ سلب العموم سے ہمارا مطلب حاصل ہوتا ہے کہ نبی علیہ الصلوة والسلام جانتے ہیں اور ہم نہیں جانتے اور عموم السلب وہ لے نہیں سکتے کیونکہ جب قیامت آجائے گی تو ہر ایک کو قیامت کا علم آجائے گا پھر عموم السلب کہاں رہا۔

(ذکر عطاء فی حیات استاذ العلماء صفحہ 379۔ 389 مطبوعہ استاذ العلماء اکیڈمی خوشاب)

ابو الحسن محمد شعیب خان
22 نومبر 2020

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2872391953040113&id=100008080090753
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
انھیں جانا ، انھیں مانا ، نہ رکھا غیر سے کام
للہ الحَمْد میں دُنیا سے مسلمان گیا

کسی نے پوچھا ہے کہ اِس شعر میں لفظ: اِنھیں پڑھنا چاہیے ، یا اُنھیں ۔
( یعنی الف پر پیش درست ہے ، یا زیر ؟ )

میں نے عرض کی:

دونوں طرح ٹھیک ہے ۔

جو حضور کو مدینے تشریف فرما سمجھ کر پڑھتا ہے ، وہ " اُنھیں " کہے ۔

اور

جو حضور کو اپنے دل میں جلوہ فرما سمجھ کر پڑھے ، وہ دل کی طرف اشارہ کر " اِنھیں " کہے ۔ اور یہ درجۂ کمال ہے ۔ ؎

اِنھیں جانا ، اِنھیں مانا ، نہ رکھا غیر سے کام
للہ الحَمْد ، میں دُنیا سے مسلمان گیا !

✍️لقمان شاہد
22-11-2020 ء

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3021999151413587&id=100008105947430
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM