Forwarded from Abde Mustafa Organisation
جہاں جیسے ہو کام کیجیے
آپ جہاں ہیں جس حالت میں ہیں اسی کو غنیمت جان کر کام کیجیے۔
جو نہیں ہے اس کے انتظار میں خالی بیٹھے رہنا درست نہیں ہے بلکہ آج سے آپ کام کریں گے تو پھر آپ کا انتظار وہ شے کرے گی جسے آپ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔
ایک مضبوط نظام کے لیے ضروری ہے کہ اپنے اصولوں کو فراموش نہ کیا جائے اور ہر شخص اپنے حصے کا کام پوری لگن کے ساتھ کرے، اگر دو شعبوں میں کام کرنے والے اپنا شعبہ چھوڑ کر ایک دوسرے کی جگہ لینے کی کوشش میں لگے رہیں گے تو نہ یہ کام ہوگا اور نہ وہ لہٰذا اپنا کام جو آپ کو ملا ہے اسے اچھی طرح کیجیے۔
مثال کے طور پر تحریری کام کرنے والے پوری ایمانداری محنت اور لگن کے ساتھ لکھیں،
جنھیں بولنے کا موقع ملا ہے وہ حق بولیں،
جسے کسی اور جگہ جدوجہد کا موقع ملے تو وہ وہاں قربانی دے اور اسی طرح ایک نظام اچھی طرح برقرار رہتا ہے۔
ہر طرح کے لوگ کہ جن کی قوت ظاہر میں اپنے اپنے شعبوں میں الگ الگ جہت میں کام کرتی ہے پر اصل میں سب ایک دوسرے سے منسلک، ضروری اور ایک دوسرے کے حق میں معاون ہوتی ہیں۔
جس طرح جسم کے ہر حصے کا کام اور کام کرنے کا الگ الگ طریقہ ہے پر سب کی اہمیت جسم میں بالکل واضح ہے کہ ایک کمزور پڑے یا رک جائے تو باقی پر بھی فرق پڑتا ہے۔
علمی، عملی، فکری، فلاحی، اور معاشرتی اور ہر اعتبار سے کام کی ضرورت ہے، آپ کو جس میں جتنا کام کرنے یا مدد کرنے کا موقع ملے پیچھے نہ ہٹیں بلکہ جسم کے کسی ایک حصے کو ہی ٹھیک کرنے کا ذہن بنا لیں۔
اللہ تعالیٰ ہم سے اپنی رضا والے کام لے۔
عبد مصطفیٰ آفیشل
آپ جہاں ہیں جس حالت میں ہیں اسی کو غنیمت جان کر کام کیجیے۔
جو نہیں ہے اس کے انتظار میں خالی بیٹھے رہنا درست نہیں ہے بلکہ آج سے آپ کام کریں گے تو پھر آپ کا انتظار وہ شے کرے گی جسے آپ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔
ایک مضبوط نظام کے لیے ضروری ہے کہ اپنے اصولوں کو فراموش نہ کیا جائے اور ہر شخص اپنے حصے کا کام پوری لگن کے ساتھ کرے، اگر دو شعبوں میں کام کرنے والے اپنا شعبہ چھوڑ کر ایک دوسرے کی جگہ لینے کی کوشش میں لگے رہیں گے تو نہ یہ کام ہوگا اور نہ وہ لہٰذا اپنا کام جو آپ کو ملا ہے اسے اچھی طرح کیجیے۔
مثال کے طور پر تحریری کام کرنے والے پوری ایمانداری محنت اور لگن کے ساتھ لکھیں،
جنھیں بولنے کا موقع ملا ہے وہ حق بولیں،
جسے کسی اور جگہ جدوجہد کا موقع ملے تو وہ وہاں قربانی دے اور اسی طرح ایک نظام اچھی طرح برقرار رہتا ہے۔
ہر طرح کے لوگ کہ جن کی قوت ظاہر میں اپنے اپنے شعبوں میں الگ الگ جہت میں کام کرتی ہے پر اصل میں سب ایک دوسرے سے منسلک، ضروری اور ایک دوسرے کے حق میں معاون ہوتی ہیں۔
جس طرح جسم کے ہر حصے کا کام اور کام کرنے کا الگ الگ طریقہ ہے پر سب کی اہمیت جسم میں بالکل واضح ہے کہ ایک کمزور پڑے یا رک جائے تو باقی پر بھی فرق پڑتا ہے۔
علمی، عملی، فکری، فلاحی، اور معاشرتی اور ہر اعتبار سے کام کی ضرورت ہے، آپ کو جس میں جتنا کام کرنے یا مدد کرنے کا موقع ملے پیچھے نہ ہٹیں بلکہ جسم کے کسی ایک حصے کو ہی ٹھیک کرنے کا ذہن بنا لیں۔
اللہ تعالیٰ ہم سے اپنی رضا والے کام لے۔
عبد مصطفیٰ آفیشل
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہٗ!
طرزِ رضا کی پیروی :
اعلیٰ حضرت کے ایک مصرعِ اولیٰ "جان دے دو وعدۂ دیدار پر" پر سعادتِ نعت :
خوف کیوں ہو فتنۂ اَشرار پر
ہے بھروسا سیّدِ اَخیار پر
وہ نمک آگیں ملاحت مرحبا
حُسن خود شیدا رُخِ اَنوار پر
حور و غلماں انبیا و مرسلیں
سارا عالم ہے فدا سرکار پر
پل میں جاکر عرش سے واپس ہوئے
خود فدا رفتار اُس رفتار پر
ڈوبتے بیڑوں کو وہ کردیں گے پار
کیوں ہو ڈر ٹوٹی ہوئی پتوار پر
ہیں وہی چارہ گرِ رنج و الم
لطف فرماتے ہیں وہ بیمار پر
روزِ محشر کے کڑے حالات میں
میرا تکیہ ہے اُسی غمخوار پر
حفظِ ناموسِ رسالت کے لیے
جان دیدو حُرمتِ سرکار پر
ہوں مُشاہد نام لیوائے رضا
فیض ہے جن کا مرے اشعار پر
عرض نمودہ : ڈاکٹر محمد حسین مشاہد رضوی
_20 نومبر 2020ء بروز جمعہ_
https://www.facebook.com/190656494845261/posts/814610035783234/
طرزِ رضا کی پیروی :
اعلیٰ حضرت کے ایک مصرعِ اولیٰ "جان دے دو وعدۂ دیدار پر" پر سعادتِ نعت :
خوف کیوں ہو فتنۂ اَشرار پر
ہے بھروسا سیّدِ اَخیار پر
وہ نمک آگیں ملاحت مرحبا
حُسن خود شیدا رُخِ اَنوار پر
حور و غلماں انبیا و مرسلیں
سارا عالم ہے فدا سرکار پر
پل میں جاکر عرش سے واپس ہوئے
خود فدا رفتار اُس رفتار پر
ڈوبتے بیڑوں کو وہ کردیں گے پار
کیوں ہو ڈر ٹوٹی ہوئی پتوار پر
ہیں وہی چارہ گرِ رنج و الم
لطف فرماتے ہیں وہ بیمار پر
روزِ محشر کے کڑے حالات میں
میرا تکیہ ہے اُسی غمخوار پر
حفظِ ناموسِ رسالت کے لیے
جان دیدو حُرمتِ سرکار پر
ہوں مُشاہد نام لیوائے رضا
فیض ہے جن کا مرے اشعار پر
عرض نمودہ : ڈاکٹر محمد حسین مشاہد رضوی
_20 نومبر 2020ء بروز جمعہ_
https://www.facebook.com/190656494845261/posts/814610035783234/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Ghulam Mustafa Naimi
*حضرت عمر: فاروق بھی، مرادِ رسول بھی !!*
غلام مصطفےٰ نعیمی
مدیر اعلیٰ سواد اعظم دہلی
عکاظ کا اکھاڑا عرب کا مشہور ترین اکھاڑا تھا۔یہ جبل رحمت کے پاس ایک جگہ کا نام تھا۔جہاں سالانہ میلا لگا کرتا تھا۔عرب کے جانے مانے پہلوان اس دنگل میں پہنچتے اور اپنی پہلوانی کے جوہر دکھاتے۔یوں تو عرب معاشرے میں لاکھ برائیاں تھیں مگر تمام تر برائیوں کے باوجود وہ لوگ اپنی صحت وتندرستی سے لاپرواہ نہیں تھے۔عکاظ کا دنگل بہادران عرب کا بڑا پلیٹ فارم مانا جاتا تھا۔جو جوان یہاں اپنی قوت اور پہلوانی کا دم خم دکھاتا پورے عرب میں اس کی دھاک بیٹھ جاتی تھی۔ایک بار اس اکھاڑے میں نفیل بن عبدالعزی بن رباح کے پوتے عمر نے تال ٹھونک کر اپنی طاقت وقوت سے بہادران عرب کو مبہوت کر دیا۔اس کے بعد سارے عرب میں اس جوان کی طاقت وجواں مردی کا سکہ بیٹھ گیا۔دیکھتے ہی دیکھتے ہی اس کی بہادری اور دبدبے کی شہرت ہر گھر میں پہنچ گئی۔
آپ جانتے ہیں یہ مشہور پہلوان اور جواں مرد بہادر کون تھا؟
یہ قوی ہیکل جوان مراد رسول، خلیفہ دوم سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے۔
آپ کی ولادت عام الفیل کے لگ بھگ 13 سال بعد 583 عیسوی میں ہوئی۔(تاریخ الخلفا، ص108)
آپ کے والد خطاب بن نفیل تھے۔آٹھویں پشت میں آپ کا سلسلہ نسب حضور نبی اکرم ﷺ سے مل جاتا ہے۔نوعمری کے زمانے میں آپ نے اونٹ چَرانے کا کام انجام دیا۔اوائل شباب میں اپنی پہلوانی کے دم پر شہرت پائی۔لیکن ان سب کے باوجود آپ مکہ کے ان مخصوص افراد میں شامل تھے جو لکھنا پڑھنا جانتے تھے۔اس وقت عرب کے جاہلی معاشرے میں تعلیم کا تصور بھی نہ تھا۔ان لوگوں کی یاد داشتیں اس قدر اچھی تھیں کہ جو بات ایک بار سن لیتے وہ سدا کے لیے محفوظ ہوجاتی۔بڑی بڑی تجارتوں اور لاکھوں کے حساب اپنی انگلیوں پر جوڑ لیا کرتے تھے۔اپنی یاد داشت اور اعلی ذہانت پر اس قدر ناز تھا کہ لکھنے پڑھنے والوں کو وہ خود سے کمزور مانتے تھے، کہ جو بات یا حساب وہ چٹکیوں میں کر دیتے ہیں اسے دیگر لوگ کاغذ قلم کے بغیر یاد نہیں رکھ پاتے۔
____حضور سید عالم ﷺ کے اعلان نبوت کے بعد پورے مکہ میں مخالفت کا طوفان برپا تھا۔اسلام کی مقبولیت دن بدن بڑھ رہی تھی۔آپ کی بہن فاطمہ بنت خطاب اور بہنوئی سعید بن زید بھی اسلام کے دامن رحمت میں پناہ لے چکے تھے۔حضرت عمر اسلام کے سخت ترین دشمن بنے ہوئے تھے۔مگر آپ کی شجاعت وبہادری اور معاملہ فہمی کی بنا پر حضور یوں دعا فرماتے تھے:
اللَّهُمَّ أَعِزَّ الْإِسْلَامَ بِعُمَرَ۔
(رواه الحاكم في "المستدرك"(3 / 83)
"اے ﷲ! عمر کے ذریعے اسلام کو عزت عطا فرما۔"
حضرت عمر نے جوش عداوت میں ایک دن حضور کے قتل کا ارادہ کیا اور تلوار لگا کر آپ کی تلاش میں نکل پڑے۔راستے میں نعیم بن عبدﷲ نے آپ کو غضب ناک دیکھا تو پوچھا خیر تو ہے، کہاں کا ارادہ ہے؟
کہنے لگے داعی نبوت کا کام تمام کرنا ہے۔انہوں نے کہا پہلے اپنے گھر کی خبر لو پھر محمد عربی کی جانب رخ کرنا۔تمہارے بہن بہنوئی بھی داخل اسلام ہوچکے ہیں۔نعیم بن عبد اللہ کی بات نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔سیدھے بہن کے گھر پہنچے۔تلاوت قرآن کی دل آویز صدا نے استقبال کیا۔اسلام کے بارے میں استفسار کیا۔انکار پایا تو سختی پر اتر آئے۔بیچ بچاؤ کو آئے بہنوئی زخمی ہوگئے۔بہن کے ماتھے سے بھی خون جاری تھا۔فاطمہ بنت خطاب نے غیرت ایمانی سے سرشار ہوکر اپنے بھائی کا چہرہ پکڑ کر جواب دیا:
"عمر جو دل میں آئے کرلو مگر اسلام کی محبت ہمارے دل سے نہیں نکل سکتی۔"
آپ نے نگاہ بھر کر بہن کی جانب دیکھا، بہتے ہوئے خون نے بھائی کی محبت کو بیدار کیا۔مگر لہجے کی مضبوطی اور آنکھوں میں جھلکتے یقین نے دل پر بڑا اثر کیا۔کہنے لگے فاطمہ جو چیز تم پڑھ رہی تھیں مجھے بھی تو دکھاؤ! قرآن کے اوراق پڑھنا شروع کئے تو دل کی دنیا میں ہلچل مچ گئی۔دعائے رسول کی قبولیت کا وقت قریب آرہا تھا۔جب اس آیت پر پہنچے:آمنوا باﷲ ورسوله، تو خود پر قابو نہ رکھ سکے اور کہا مجھے حضور کے پاس لے چلو۔دعائے محمدی اثر دکھا چکی تھی اب دیدار نبی کے بغیر چین کہاں؟تلاش کرتے ہوئے حضرت ارقم کے گھر دستک دی۔اندر داخل ہوئے تو حضور نے کرتہ پکڑ کر فرمایا عمر کس ارادے سے آیا ہے؟
عرض کی آپ کے دامن کرم میں پناہ لینے!
اتنا سننا تھا کہ صحابہ کرام نے مارے مسرت کے ایسا نعرہ لگایا کہ پوری وادی ﷲ اکبر کی صداؤں سے گونج اٹھی۔
غربت اسلام کا زمانہ تھا۔کفار مکہ کے ظلم و ستم کی وجہ سے مسلمان سہمے سہمے رہتے تھے۔خوف اس قدر تھا کہ نمازیں بھی چھپ کر ادا کی جاتی تھیں۔ظہر وعصر کی سرّی نمازیں مسلمانوں کی اسی کیفیت کی یادگار ہیں۔
ہر مسلمان کے دل کی آرزو تھی کہ بیت اللہ شریف میں نماز ادا کریں۔ہنوز آرزو تشنہ تھی۔مگر اب حضور ﷺ کی دعا کا اثر ظاہر ہونا تھا کہ حضرت عمر کے ذریعے اسلام کو عزت حاصل ہو۔اثر شروع ہوا تو حضرت عمر نے کافروں سے مقابلہ آرائی شروع کردی۔آپ کی ہمت وبہادری اور دبدبے نے جلد ہی کفار مکہ کو عاجز کردیا اور وہ وقت بھی آیا کہ مسلمان نہایت
غلام مصطفےٰ نعیمی
مدیر اعلیٰ سواد اعظم دہلی
عکاظ کا اکھاڑا عرب کا مشہور ترین اکھاڑا تھا۔یہ جبل رحمت کے پاس ایک جگہ کا نام تھا۔جہاں سالانہ میلا لگا کرتا تھا۔عرب کے جانے مانے پہلوان اس دنگل میں پہنچتے اور اپنی پہلوانی کے جوہر دکھاتے۔یوں تو عرب معاشرے میں لاکھ برائیاں تھیں مگر تمام تر برائیوں کے باوجود وہ لوگ اپنی صحت وتندرستی سے لاپرواہ نہیں تھے۔عکاظ کا دنگل بہادران عرب کا بڑا پلیٹ فارم مانا جاتا تھا۔جو جوان یہاں اپنی قوت اور پہلوانی کا دم خم دکھاتا پورے عرب میں اس کی دھاک بیٹھ جاتی تھی۔ایک بار اس اکھاڑے میں نفیل بن عبدالعزی بن رباح کے پوتے عمر نے تال ٹھونک کر اپنی طاقت وقوت سے بہادران عرب کو مبہوت کر دیا۔اس کے بعد سارے عرب میں اس جوان کی طاقت وجواں مردی کا سکہ بیٹھ گیا۔دیکھتے ہی دیکھتے ہی اس کی بہادری اور دبدبے کی شہرت ہر گھر میں پہنچ گئی۔
آپ جانتے ہیں یہ مشہور پہلوان اور جواں مرد بہادر کون تھا؟
یہ قوی ہیکل جوان مراد رسول، خلیفہ دوم سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے۔
آپ کی ولادت عام الفیل کے لگ بھگ 13 سال بعد 583 عیسوی میں ہوئی۔(تاریخ الخلفا، ص108)
آپ کے والد خطاب بن نفیل تھے۔آٹھویں پشت میں آپ کا سلسلہ نسب حضور نبی اکرم ﷺ سے مل جاتا ہے۔نوعمری کے زمانے میں آپ نے اونٹ چَرانے کا کام انجام دیا۔اوائل شباب میں اپنی پہلوانی کے دم پر شہرت پائی۔لیکن ان سب کے باوجود آپ مکہ کے ان مخصوص افراد میں شامل تھے جو لکھنا پڑھنا جانتے تھے۔اس وقت عرب کے جاہلی معاشرے میں تعلیم کا تصور بھی نہ تھا۔ان لوگوں کی یاد داشتیں اس قدر اچھی تھیں کہ جو بات ایک بار سن لیتے وہ سدا کے لیے محفوظ ہوجاتی۔بڑی بڑی تجارتوں اور لاکھوں کے حساب اپنی انگلیوں پر جوڑ لیا کرتے تھے۔اپنی یاد داشت اور اعلی ذہانت پر اس قدر ناز تھا کہ لکھنے پڑھنے والوں کو وہ خود سے کمزور مانتے تھے، کہ جو بات یا حساب وہ چٹکیوں میں کر دیتے ہیں اسے دیگر لوگ کاغذ قلم کے بغیر یاد نہیں رکھ پاتے۔
____حضور سید عالم ﷺ کے اعلان نبوت کے بعد پورے مکہ میں مخالفت کا طوفان برپا تھا۔اسلام کی مقبولیت دن بدن بڑھ رہی تھی۔آپ کی بہن فاطمہ بنت خطاب اور بہنوئی سعید بن زید بھی اسلام کے دامن رحمت میں پناہ لے چکے تھے۔حضرت عمر اسلام کے سخت ترین دشمن بنے ہوئے تھے۔مگر آپ کی شجاعت وبہادری اور معاملہ فہمی کی بنا پر حضور یوں دعا فرماتے تھے:
اللَّهُمَّ أَعِزَّ الْإِسْلَامَ بِعُمَرَ۔
(رواه الحاكم في "المستدرك"(3 / 83)
"اے ﷲ! عمر کے ذریعے اسلام کو عزت عطا فرما۔"
حضرت عمر نے جوش عداوت میں ایک دن حضور کے قتل کا ارادہ کیا اور تلوار لگا کر آپ کی تلاش میں نکل پڑے۔راستے میں نعیم بن عبدﷲ نے آپ کو غضب ناک دیکھا تو پوچھا خیر تو ہے، کہاں کا ارادہ ہے؟
کہنے لگے داعی نبوت کا کام تمام کرنا ہے۔انہوں نے کہا پہلے اپنے گھر کی خبر لو پھر محمد عربی کی جانب رخ کرنا۔تمہارے بہن بہنوئی بھی داخل اسلام ہوچکے ہیں۔نعیم بن عبد اللہ کی بات نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔سیدھے بہن کے گھر پہنچے۔تلاوت قرآن کی دل آویز صدا نے استقبال کیا۔اسلام کے بارے میں استفسار کیا۔انکار پایا تو سختی پر اتر آئے۔بیچ بچاؤ کو آئے بہنوئی زخمی ہوگئے۔بہن کے ماتھے سے بھی خون جاری تھا۔فاطمہ بنت خطاب نے غیرت ایمانی سے سرشار ہوکر اپنے بھائی کا چہرہ پکڑ کر جواب دیا:
"عمر جو دل میں آئے کرلو مگر اسلام کی محبت ہمارے دل سے نہیں نکل سکتی۔"
آپ نے نگاہ بھر کر بہن کی جانب دیکھا، بہتے ہوئے خون نے بھائی کی محبت کو بیدار کیا۔مگر لہجے کی مضبوطی اور آنکھوں میں جھلکتے یقین نے دل پر بڑا اثر کیا۔کہنے لگے فاطمہ جو چیز تم پڑھ رہی تھیں مجھے بھی تو دکھاؤ! قرآن کے اوراق پڑھنا شروع کئے تو دل کی دنیا میں ہلچل مچ گئی۔دعائے رسول کی قبولیت کا وقت قریب آرہا تھا۔جب اس آیت پر پہنچے:آمنوا باﷲ ورسوله، تو خود پر قابو نہ رکھ سکے اور کہا مجھے حضور کے پاس لے چلو۔دعائے محمدی اثر دکھا چکی تھی اب دیدار نبی کے بغیر چین کہاں؟تلاش کرتے ہوئے حضرت ارقم کے گھر دستک دی۔اندر داخل ہوئے تو حضور نے کرتہ پکڑ کر فرمایا عمر کس ارادے سے آیا ہے؟
عرض کی آپ کے دامن کرم میں پناہ لینے!
اتنا سننا تھا کہ صحابہ کرام نے مارے مسرت کے ایسا نعرہ لگایا کہ پوری وادی ﷲ اکبر کی صداؤں سے گونج اٹھی۔
غربت اسلام کا زمانہ تھا۔کفار مکہ کے ظلم و ستم کی وجہ سے مسلمان سہمے سہمے رہتے تھے۔خوف اس قدر تھا کہ نمازیں بھی چھپ کر ادا کی جاتی تھیں۔ظہر وعصر کی سرّی نمازیں مسلمانوں کی اسی کیفیت کی یادگار ہیں۔
ہر مسلمان کے دل کی آرزو تھی کہ بیت اللہ شریف میں نماز ادا کریں۔ہنوز آرزو تشنہ تھی۔مگر اب حضور ﷺ کی دعا کا اثر ظاہر ہونا تھا کہ حضرت عمر کے ذریعے اسلام کو عزت حاصل ہو۔اثر شروع ہوا تو حضرت عمر نے کافروں سے مقابلہ آرائی شروع کردی۔آپ کی ہمت وبہادری اور دبدبے نے جلد ہی کفار مکہ کو عاجز کردیا اور وہ وقت بھی آیا کہ مسلمان نہایت
❤1
Forwarded from Ghulam Mustafa Naimi
شان وشوکت کے ساتھ کعبے میں داخل ہوئے۔ایک زمانے سے کعبہ کی زمین سجدوں سے محروم تھی۔اللہ اکبر کی صداؤں سے کعبے کے درو دیوار گونج اٹھے۔مسلمانوں نے پیشانیاں جھکا کر بندگی کا اظہار کرکے دبی ہوئی تمناؤں کو دل کھول کر پورا کیا۔حضرت عبد اللہ ابن مسعود فرماتے ہیں:
فلما اسلم عمر قاتل قريشاً حتي صلي عند الكعبة وصلينا معه۔
(المعجم الکبیر للطبرانی،رقم: 8820)
"جب حضرت عمر اسلام لائے تو قریش مکہ سے خوب لڑے یہاں تک کہ کعبے میں نماز ادا فرمائی اور ان کے ساتھ ہم سب نے بھی نماز پڑھی۔"
اعلان نبوت کے بعد یہ پہلا موقع تھا کہ اسلام وکفر کے درمیان کھل کر فرق ظاہر ہوا۔آقائے کریم ﷺ نے خوش ہوکر حضرت عمر کو فاروق (کفر واسلام میں فرق پیدا کرنے والا) کا خطاب عطا فرمایا جو آج آپ کے نام کا جزو لاینفک بن چکا ہے۔
فارقِ حق و باطل امامُ الہُدیٰ
تیغِ مَسْلُولِ شدت پہ لاکھوں سلام
_حضرت عمر کی ہجرت کا واقعہ بھی ان کے مزاج کی طرح منفرد تھا۔آپ سے پہلے جتنے افراد نے ہجرت کی، چُھپ چُھپا کر کی۔کوئی رات کی تاریکی میں نکلا،کوئی علی الصبح روانہ ہوا تو کسی نے دوپہر کے وقت میں نکلنا مناسب سمجھا کہ اس وقت لوگ گھروں میں آرام کرتے ہوتے تھے۔لیکن بارگاہ رسالت سے عطا کردہ خطاب "فاروق" کا تقاضا تھا کہ آپ کی ہجرت کا انداز بھی اوروں سے مختلف ہو،ہوا بھی ایسا ہی!
جب آپ نے ہجرت کا ارادہ فرمایا تو جسم پر ہتھیار لگا کر بیت اللہ شریف پہنچے۔خانہ کعبہ کا طواف کیا، مقام ابراہیم پر دو رکعت نماز ادا فرمائی۔اس وقت صحن کعبہ میں کئی سرکردہ کافر موجود تھے۔مگر کوئی بھی آپ کو ٹوکنے کی ہمت نہ کر سکا۔مگر وہ فاروق ہی کیا جو اتنے پر ہی مان جائیں؟آپ خود ان کے پاس پہنچے اور فرمایا:
من أراد أن يثكل أمه أو يرمل زوجته أو ييتم ولده فليلقني وراء هذا الوادي۔
(تاریخ الخلفا للسيوطي:ص 95)
"جو شخص یہ چاہتا ہے کہ اس کی ماں اسے روئے ، اس کی بیوی، بیوہ اور بچے یتیم ہوجائیں تو مجھ سے اس وادی میں مقابلہ کرنے آجائے۔"
جو کافر دوسرے مسلمانوں کا پیچھا کرتے تھے۔مسلمانوں کے تحمل کے باعث خود کو بہادر سمجھتے تھے۔لیکن فاروقی للکار سن کر جواب دینے کی ہمت تک نہ ہوسکی۔اس طرح جس شان کے ساتھ آپ نے اسلام کا اعلان کیا اسی دھمک کے ساتھ ہجرت بھی فرمائی اور نہایت کروفر کے ساتھ مدینہ منورہ روانہ ہوگیے۔اس سفر پر آپ کے ساتھ 20 افراد اور بھی شامل تھے۔
__خلیفہ اول سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے وصال کے بعد آپ نے مسند خلافت کو رونق بخشی۔اس وقت بہت سارے لوگوں کو ایسا لگتا تھا کہ شاید اپنی پر جلال طبیعت کے باعث امور خلافت کو اس طرح انجام نہ دے پائیں جس کی ضرورت تھی۔مگر آپ کا جلال غیرت ایمانی کی بنیاد پر تھا ورنہ آپ علم انساب کے ماہر، اعلی درجے کے خطیب اور افہام و تفہیم کا شاندار ملکہ رکھتے تھے۔
کئی بار ایسا ہوتا ہے کہ کسی شخصیت کا کوئی ایک پہلو زیادہ مشتہر ہوجاتا ہے حالانکہ وہ شخصیت دیگر علوم و فنون میں بھی فقید المثال ہوتی ہے۔حضرت عمر کی غیرت ایمانی اور ہیبت ودبدبے کے باعث آپ کے دیگر اوصاف سے ذرا کم ہی لوگ واقف تھے۔مگر سیدنا صدیق اکبر آپ کے اوصاف وکمالات کو اچھی طرح جانتے تھے۔علامہ سیوطی طبقات ابن سعد کے حوالے سے لکھتے ہیں:
قيل لابي بكر في مرضه : ماذا تقول لربك ، وقد وليت عمر؟ قال، اقول له: وليت عليهم خيرهم۔(تاریخ الخلفا للسيوطي:98)
"مرض الموت میں حضرت ابوبکر سے پوچھا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ سے حضرت عمر کو خلیفہ منتخب کرنے کے بارے میں سوال کیا تو کیا جواب دیں گے؟
حضرت ابوبکر نے فرمایا میں عرض کروں کہ میں نے لوگوں میں سب سے بہتر شخص کو اپنا خلیفہ منتخب کیا ہے۔"
یعنی حضرت ابوبکر صدیق پورے یقین سے جانتے تھے کہ بار خلافت کے لیے حضرت عمر سب سے زیادہ اہل اور موزوں ترین فرد تھے۔خلیفہ منتخب ہونے کے بعد آپ کے حسن تدبر، سیاسی بصیرت، معاملہ فہمی اور جنگی مہارت کا ایک زمانے نے اعتراف کیا-ثابت ہوگیا کہ صدیق اکبر کا فیصلہ ہر لحاظ سے بہترین تھا۔
وہ زمانہ انتہائی حساس تھا۔داخلی فتنوں کے ساتھ خارجی فتنے سر اٹھا رہے تھے۔لیکن آپ نے اپنی زیرکی ودانائی سے سارے معاملات کو بحسن و خوبی سنبھالا اور دیکھتے ہی دیکھتے فتوحات کا سلسلہ شروع ہوگیا۔
آپ کے عہد خلافت میں ایک ہزار چھتیس (1036) شہر مع مضافت فتح ہوئے۔900 جامع مسجد اور چار ہزار نئی مساجد تعمیر ہوئیں۔فتوحات کی وسعت کا یہ عالم تھا کہ 13 لاکھ 9 ہزار 501 مربع میل کا اضافہ ہوا۔دیکھتے ہی دیکھتے اسلامی سلطنت کا دائرہ حجاز سے نکل کر شام ، مصر، عراق ، جزیرہ ،آذر بائیجان ، جنوبی آرمینیا ،فارس، کرمان، روم ، اور ایران تک پھیل گیا۔ دنیا کی سپر پاور طاقتیں قیصر روم اور شاہ کسریٰ کا زور ختم کردیا گیا۔اس طرح دعائے محمدی نے اپنا اثر دکھایا اور اللہ تعالیٰ نے حضرت عمر فاروق کے ذریعے اسلام کو اس قدر غالب کیا کہ عرب کی چاروں سمتوں میں اسلام غالب ترین مذہب بن چکا تھا۔قریب دس سال پانچ مہینے اکیس دن کا زمانہ خلاف
فلما اسلم عمر قاتل قريشاً حتي صلي عند الكعبة وصلينا معه۔
(المعجم الکبیر للطبرانی،رقم: 8820)
"جب حضرت عمر اسلام لائے تو قریش مکہ سے خوب لڑے یہاں تک کہ کعبے میں نماز ادا فرمائی اور ان کے ساتھ ہم سب نے بھی نماز پڑھی۔"
اعلان نبوت کے بعد یہ پہلا موقع تھا کہ اسلام وکفر کے درمیان کھل کر فرق ظاہر ہوا۔آقائے کریم ﷺ نے خوش ہوکر حضرت عمر کو فاروق (کفر واسلام میں فرق پیدا کرنے والا) کا خطاب عطا فرمایا جو آج آپ کے نام کا جزو لاینفک بن چکا ہے۔
فارقِ حق و باطل امامُ الہُدیٰ
تیغِ مَسْلُولِ شدت پہ لاکھوں سلام
_حضرت عمر کی ہجرت کا واقعہ بھی ان کے مزاج کی طرح منفرد تھا۔آپ سے پہلے جتنے افراد نے ہجرت کی، چُھپ چُھپا کر کی۔کوئی رات کی تاریکی میں نکلا،کوئی علی الصبح روانہ ہوا تو کسی نے دوپہر کے وقت میں نکلنا مناسب سمجھا کہ اس وقت لوگ گھروں میں آرام کرتے ہوتے تھے۔لیکن بارگاہ رسالت سے عطا کردہ خطاب "فاروق" کا تقاضا تھا کہ آپ کی ہجرت کا انداز بھی اوروں سے مختلف ہو،ہوا بھی ایسا ہی!
جب آپ نے ہجرت کا ارادہ فرمایا تو جسم پر ہتھیار لگا کر بیت اللہ شریف پہنچے۔خانہ کعبہ کا طواف کیا، مقام ابراہیم پر دو رکعت نماز ادا فرمائی۔اس وقت صحن کعبہ میں کئی سرکردہ کافر موجود تھے۔مگر کوئی بھی آپ کو ٹوکنے کی ہمت نہ کر سکا۔مگر وہ فاروق ہی کیا جو اتنے پر ہی مان جائیں؟آپ خود ان کے پاس پہنچے اور فرمایا:
من أراد أن يثكل أمه أو يرمل زوجته أو ييتم ولده فليلقني وراء هذا الوادي۔
(تاریخ الخلفا للسيوطي:ص 95)
"جو شخص یہ چاہتا ہے کہ اس کی ماں اسے روئے ، اس کی بیوی، بیوہ اور بچے یتیم ہوجائیں تو مجھ سے اس وادی میں مقابلہ کرنے آجائے۔"
جو کافر دوسرے مسلمانوں کا پیچھا کرتے تھے۔مسلمانوں کے تحمل کے باعث خود کو بہادر سمجھتے تھے۔لیکن فاروقی للکار سن کر جواب دینے کی ہمت تک نہ ہوسکی۔اس طرح جس شان کے ساتھ آپ نے اسلام کا اعلان کیا اسی دھمک کے ساتھ ہجرت بھی فرمائی اور نہایت کروفر کے ساتھ مدینہ منورہ روانہ ہوگیے۔اس سفر پر آپ کے ساتھ 20 افراد اور بھی شامل تھے۔
__خلیفہ اول سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے وصال کے بعد آپ نے مسند خلافت کو رونق بخشی۔اس وقت بہت سارے لوگوں کو ایسا لگتا تھا کہ شاید اپنی پر جلال طبیعت کے باعث امور خلافت کو اس طرح انجام نہ دے پائیں جس کی ضرورت تھی۔مگر آپ کا جلال غیرت ایمانی کی بنیاد پر تھا ورنہ آپ علم انساب کے ماہر، اعلی درجے کے خطیب اور افہام و تفہیم کا شاندار ملکہ رکھتے تھے۔
کئی بار ایسا ہوتا ہے کہ کسی شخصیت کا کوئی ایک پہلو زیادہ مشتہر ہوجاتا ہے حالانکہ وہ شخصیت دیگر علوم و فنون میں بھی فقید المثال ہوتی ہے۔حضرت عمر کی غیرت ایمانی اور ہیبت ودبدبے کے باعث آپ کے دیگر اوصاف سے ذرا کم ہی لوگ واقف تھے۔مگر سیدنا صدیق اکبر آپ کے اوصاف وکمالات کو اچھی طرح جانتے تھے۔علامہ سیوطی طبقات ابن سعد کے حوالے سے لکھتے ہیں:
قيل لابي بكر في مرضه : ماذا تقول لربك ، وقد وليت عمر؟ قال، اقول له: وليت عليهم خيرهم۔(تاریخ الخلفا للسيوطي:98)
"مرض الموت میں حضرت ابوبکر سے پوچھا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ سے حضرت عمر کو خلیفہ منتخب کرنے کے بارے میں سوال کیا تو کیا جواب دیں گے؟
حضرت ابوبکر نے فرمایا میں عرض کروں کہ میں نے لوگوں میں سب سے بہتر شخص کو اپنا خلیفہ منتخب کیا ہے۔"
یعنی حضرت ابوبکر صدیق پورے یقین سے جانتے تھے کہ بار خلافت کے لیے حضرت عمر سب سے زیادہ اہل اور موزوں ترین فرد تھے۔خلیفہ منتخب ہونے کے بعد آپ کے حسن تدبر، سیاسی بصیرت، معاملہ فہمی اور جنگی مہارت کا ایک زمانے نے اعتراف کیا-ثابت ہوگیا کہ صدیق اکبر کا فیصلہ ہر لحاظ سے بہترین تھا۔
وہ زمانہ انتہائی حساس تھا۔داخلی فتنوں کے ساتھ خارجی فتنے سر اٹھا رہے تھے۔لیکن آپ نے اپنی زیرکی ودانائی سے سارے معاملات کو بحسن و خوبی سنبھالا اور دیکھتے ہی دیکھتے فتوحات کا سلسلہ شروع ہوگیا۔
آپ کے عہد خلافت میں ایک ہزار چھتیس (1036) شہر مع مضافت فتح ہوئے۔900 جامع مسجد اور چار ہزار نئی مساجد تعمیر ہوئیں۔فتوحات کی وسعت کا یہ عالم تھا کہ 13 لاکھ 9 ہزار 501 مربع میل کا اضافہ ہوا۔دیکھتے ہی دیکھتے اسلامی سلطنت کا دائرہ حجاز سے نکل کر شام ، مصر، عراق ، جزیرہ ،آذر بائیجان ، جنوبی آرمینیا ،فارس، کرمان، روم ، اور ایران تک پھیل گیا۔ دنیا کی سپر پاور طاقتیں قیصر روم اور شاہ کسریٰ کا زور ختم کردیا گیا۔اس طرح دعائے محمدی نے اپنا اثر دکھایا اور اللہ تعالیٰ نے حضرت عمر فاروق کے ذریعے اسلام کو اس قدر غالب کیا کہ عرب کی چاروں سمتوں میں اسلام غالب ترین مذہب بن چکا تھا۔قریب دس سال پانچ مہینے اکیس دن کا زمانہ خلاف
Forwarded from Ghulam Mustafa Naimi
ت گزارنے کے بعد آخر اپنے دوستوں سے ملنے کا وقت آیا۔26 ذوالحج کو دشمن کے ہاتھوں زخمی ہوئے اور درجہ شہادت سے سرفراز ہوکر یکم محرم الحرام 24ھ کو اپنے رفیق جانی سیدنا ابوبکر صدیق اور اپنے آقا و مولا سید عالم ﷺ کے پہلو میں آرام فرما ہوگیے۔
وہ عمر جس کے اعدا پہ شیدا سقر
اس خدا دوست حضرت پہ لاکھوں سلام
6 ربیع الثانی 1442ھ
22 نومبر 2020 بروز اتوار
وہ عمر جس کے اعدا پہ شیدا سقر
اس خدا دوست حضرت پہ لاکھوں سلام
6 ربیع الثانی 1442ھ
22 نومبر 2020 بروز اتوار
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from عتیق الرحمن رضوی
کردار کا غازی: علامہ خادم حسین رضوی رحمہ اللہ تعالیٰ
وہ گیا تاروں سے آگے آشیانہ چھوڑ کر.....
حفظِ ناموسِ رسالت ﷺ کے عظیم پہرے دار..... مصطفیٰ جانِ رحمت ﷺ کے عاشق زار..... کروڑوں عاشقانِ رسول ﷺ کے دلوں کی دھڑکن..... راہِ عزیمت کے راہی..... خلیفۂ حضور تاج الشریعہ، شیخ الحدیث والتفسیر، علامہ خادم حسین رضوی رحمہ اللہ تعالیٰ آج شب تقریبا پونے نو بجے کروڑوں عاشقانِ رسول ﷺ کو داغ مفارقت دے کر داعی اجل کو لبیک گئے..... اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّا اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَ۔
لاکھوں دلوں میں عشق رسول ﷺ کی شمع فروزاں کے لیے سعی پیہم کرنا..... ساری امت کو گستاخانِ رسول کے خلاف اقدامات کے لیے للکارنا، ترغیب دلانا..... اور میدان عمل میں خود بھی ڈٹ کر یہ باور کرادینا کہ "ہم صرف گفتار کے نہیں، کردار کے بھی غازی ہیں۔"..... سوتی ، سرد و سُست قوم کو جوش و جذبے سے سرشار کرنا..... حفظ ناموس رسالت ﷺ کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لینا..... حفظ ناموس رسالت کے لیے یخ بستہ سڑکوں پر، کھلے میدانوں میں بستر لگا دینا..... سو سو سے زائد جسمانی درجہ حرارت کے باوجود کھلے آسمان میں گستاخوں کے خلاف کھڑے رہنا..... اور استقامت کا ایسا کوہ مستحکم بن جانا کہ کفر و باطل کے ایوانوںکو لرزابراندام کر دینا..... جس کی آواز اور عشق کی حرارت نے ساری دنیا کے باطل ایوانوں میں عاشقانِ رسول ﷺ کا خوف بیٹھا دیا..... یہ سب جراءتیں، ہمتیں، ایک ایسا شخص کر گیا جو بظاہر پیروں سے معذور تھا..... اور ہم جیسے لاکھوں کروڑوں صحیح و سالم جسم و اعضاء کے ساتھ زندگی جینے والوں کو بتا دیا
اطلس و کمخاب کی پوشاک پر نازاں نہ ہو
اس تن بے جان پہ خاکی کفن رہ جائے گا
یہ عظیم مجاہد ہمیں خواب غفلت سے جگاتے رہے..... عشق رسالت مآب ﷺ سے آشنا کراتے رہے..... اور دیکھتے ہی دیکھتے اپنے مالکِ حقیقی سے جا ملے..... اے کاش! ہم اس مرد مجاہد کے آوازۂ سحر پر کان دھرتے..... وہ ہمارے بیدار ضمیروں کو جھنجھوڑتےرہے..... کاش ہم ان کا درد دُروں سمجھ پاتے..... ہم میں بعض نے ان کا لہجہ پکڑ لیا، مگر یہ نہ دیکھا یہ لہجہ کب سخت ہوتا ہے..... غور کریں معلوم ہو گا..... وہ بس عشق رسالت میںگرفتارتھے..... جب بھی محبوب کائنات ﷺ کے بارگاہ میں کسی کو جراءت کرتا پاتے ، سخت ہو جاتے..... یہ ایمان کامل کی علامت ہے..... وہ ہم سب کو بھی اسی درجہ کا مومن کامل بنانا چاہتے تھے..... اور اس عمر و حالت میں جہد مسلسل کرتے رہے..... آپ کو بھی تسلیم کرنا ہوگا ع
گل ساری سرکار دی اے
مگر اب افسوس کے سوا کچھ نہ رہا..... ہمیشہ کی طرح اس بار بھی ہمیںپھر ایک ستارہ غروب ہونے کے بعد اس کی چمک، دمک، رمق اور تابانی کا احساس ہوا..... ایک بار پھر عظیم ہیرا کھونے بعد ہمیں اس کی قدر و قیمت کا اندازہ ہوا..... عجیب مرد قلند ہے.....بظاہر دنیا سے رخصت ہو گئے مگر کفر و ظلمت کے اندھیارےایوانوں میں ان کے رعب اب بھی قائم ہے ..... سوشل میڈیا پر آپ کا نام لینے والوں، آپ کے لیے تعزیت کرنے والوں کو بلاک کر دیا جارہا ہے..... واہ! مجاہد اسلام تیری عظمت کو سلام ..... دنیا سے جاتے جاتے بھی کفار و مشرقین کو ہلا کر رکھ دیا..... اب ہم میں یہ مرد مجاہد، درویش قلندر نہیں رہے..... جو وہیل چیئر پر بیٹھ کر سارے عالم کفر کی اسلام مخالف سازشوں کے خلاف جراءت و بہادری، بے باکی، کے ساتھ جواب دیتے رہے.....اس میں کوئی شک نہیں گزشتہ چند برسوں میں تحفظ ناموسِ رسالت ﷺکے حوالے سے اٹھنے والی آواز کا سہرا باباجی کے سر جاتا ہے..... حفظِ ناموس رسالت کے حوالے سے عالمیان اسلام میں ایک نئی روح پھونک دینے والامجاہد عاشقانِ رسول کو یتیم چھور گیا..... آپ کا وصال حقیقتاً نا قابل تلافی نقصان ہے..... آپ کا وجود گستاخوں کے لیے قیامت سے کم نا تھا..... اللہ جل مجدہٗ اپنے پیاروں کے طفیل حضور باباجی علیہ الرحمۃ کو انبیا، اولیا، صلحا، شہدا کا قرب نصیب کرے..... اور ہم سب کو آپ کے مشن حفظِ ناموس رسالت کو استقامت کے ساتھ آگے بڑھانے کی توفیق عطا فرمائے..... اور مسلک اعلیٰ حضرت پر خاتمہ بالخیر نصیب فرمائےحضور سید العلماء مارہروی علیہ الرحمہ فرماتے تھے
حفظ ناموس رسالت کا جو ذمہ دار ہے
یا الٰہی مسلکِ احمد رضا خان زندہ باد
آمین بجاہ النبی الامین ﷺ و بحق الغوث الاعظم محی الدین رضی اللہ تعالیٰ عنہ
شریک غم و دعا گو:
فقیر قادری ابوسِنان عتیق الرحمٰن رضوی- جملہ اہل خانہ -
سہ ماہی المختار، مالیگاؤں- المختارڈاٹ اِن ٹیم
www.almukhtar.in
۱۹، نومبر، ۲۰۲۰ء-۱بج کر۴۵منٹ-شبِ جمعہ
وہ گیا تاروں سے آگے آشیانہ چھوڑ کر.....
حفظِ ناموسِ رسالت ﷺ کے عظیم پہرے دار..... مصطفیٰ جانِ رحمت ﷺ کے عاشق زار..... کروڑوں عاشقانِ رسول ﷺ کے دلوں کی دھڑکن..... راہِ عزیمت کے راہی..... خلیفۂ حضور تاج الشریعہ، شیخ الحدیث والتفسیر، علامہ خادم حسین رضوی رحمہ اللہ تعالیٰ آج شب تقریبا پونے نو بجے کروڑوں عاشقانِ رسول ﷺ کو داغ مفارقت دے کر داعی اجل کو لبیک گئے..... اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّا اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَ۔
لاکھوں دلوں میں عشق رسول ﷺ کی شمع فروزاں کے لیے سعی پیہم کرنا..... ساری امت کو گستاخانِ رسول کے خلاف اقدامات کے لیے للکارنا، ترغیب دلانا..... اور میدان عمل میں خود بھی ڈٹ کر یہ باور کرادینا کہ "ہم صرف گفتار کے نہیں، کردار کے بھی غازی ہیں۔"..... سوتی ، سرد و سُست قوم کو جوش و جذبے سے سرشار کرنا..... حفظ ناموس رسالت ﷺ کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لینا..... حفظ ناموس رسالت کے لیے یخ بستہ سڑکوں پر، کھلے میدانوں میں بستر لگا دینا..... سو سو سے زائد جسمانی درجہ حرارت کے باوجود کھلے آسمان میں گستاخوں کے خلاف کھڑے رہنا..... اور استقامت کا ایسا کوہ مستحکم بن جانا کہ کفر و باطل کے ایوانوںکو لرزابراندام کر دینا..... جس کی آواز اور عشق کی حرارت نے ساری دنیا کے باطل ایوانوں میں عاشقانِ رسول ﷺ کا خوف بیٹھا دیا..... یہ سب جراءتیں، ہمتیں، ایک ایسا شخص کر گیا جو بظاہر پیروں سے معذور تھا..... اور ہم جیسے لاکھوں کروڑوں صحیح و سالم جسم و اعضاء کے ساتھ زندگی جینے والوں کو بتا دیا
اطلس و کمخاب کی پوشاک پر نازاں نہ ہو
اس تن بے جان پہ خاکی کفن رہ جائے گا
یہ عظیم مجاہد ہمیں خواب غفلت سے جگاتے رہے..... عشق رسالت مآب ﷺ سے آشنا کراتے رہے..... اور دیکھتے ہی دیکھتے اپنے مالکِ حقیقی سے جا ملے..... اے کاش! ہم اس مرد مجاہد کے آوازۂ سحر پر کان دھرتے..... وہ ہمارے بیدار ضمیروں کو جھنجھوڑتےرہے..... کاش ہم ان کا درد دُروں سمجھ پاتے..... ہم میں بعض نے ان کا لہجہ پکڑ لیا، مگر یہ نہ دیکھا یہ لہجہ کب سخت ہوتا ہے..... غور کریں معلوم ہو گا..... وہ بس عشق رسالت میںگرفتارتھے..... جب بھی محبوب کائنات ﷺ کے بارگاہ میں کسی کو جراءت کرتا پاتے ، سخت ہو جاتے..... یہ ایمان کامل کی علامت ہے..... وہ ہم سب کو بھی اسی درجہ کا مومن کامل بنانا چاہتے تھے..... اور اس عمر و حالت میں جہد مسلسل کرتے رہے..... آپ کو بھی تسلیم کرنا ہوگا ع
گل ساری سرکار دی اے
مگر اب افسوس کے سوا کچھ نہ رہا..... ہمیشہ کی طرح اس بار بھی ہمیںپھر ایک ستارہ غروب ہونے کے بعد اس کی چمک، دمک، رمق اور تابانی کا احساس ہوا..... ایک بار پھر عظیم ہیرا کھونے بعد ہمیں اس کی قدر و قیمت کا اندازہ ہوا..... عجیب مرد قلند ہے.....بظاہر دنیا سے رخصت ہو گئے مگر کفر و ظلمت کے اندھیارےایوانوں میں ان کے رعب اب بھی قائم ہے ..... سوشل میڈیا پر آپ کا نام لینے والوں، آپ کے لیے تعزیت کرنے والوں کو بلاک کر دیا جارہا ہے..... واہ! مجاہد اسلام تیری عظمت کو سلام ..... دنیا سے جاتے جاتے بھی کفار و مشرقین کو ہلا کر رکھ دیا..... اب ہم میں یہ مرد مجاہد، درویش قلندر نہیں رہے..... جو وہیل چیئر پر بیٹھ کر سارے عالم کفر کی اسلام مخالف سازشوں کے خلاف جراءت و بہادری، بے باکی، کے ساتھ جواب دیتے رہے.....اس میں کوئی شک نہیں گزشتہ چند برسوں میں تحفظ ناموسِ رسالت ﷺکے حوالے سے اٹھنے والی آواز کا سہرا باباجی کے سر جاتا ہے..... حفظِ ناموس رسالت کے حوالے سے عالمیان اسلام میں ایک نئی روح پھونک دینے والامجاہد عاشقانِ رسول کو یتیم چھور گیا..... آپ کا وصال حقیقتاً نا قابل تلافی نقصان ہے..... آپ کا وجود گستاخوں کے لیے قیامت سے کم نا تھا..... اللہ جل مجدہٗ اپنے پیاروں کے طفیل حضور باباجی علیہ الرحمۃ کو انبیا، اولیا، صلحا، شہدا کا قرب نصیب کرے..... اور ہم سب کو آپ کے مشن حفظِ ناموس رسالت کو استقامت کے ساتھ آگے بڑھانے کی توفیق عطا فرمائے..... اور مسلک اعلیٰ حضرت پر خاتمہ بالخیر نصیب فرمائےحضور سید العلماء مارہروی علیہ الرحمہ فرماتے تھے
حفظ ناموس رسالت کا جو ذمہ دار ہے
یا الٰہی مسلکِ احمد رضا خان زندہ باد
آمین بجاہ النبی الامین ﷺ و بحق الغوث الاعظم محی الدین رضی اللہ تعالیٰ عنہ
شریک غم و دعا گو:
فقیر قادری ابوسِنان عتیق الرحمٰن رضوی- جملہ اہل خانہ -
سہ ماہی المختار، مالیگاؤں- المختارڈاٹ اِن ٹیم
www.almukhtar.in
۱۹، نومبر، ۲۰۲۰ء-۱بج کر۴۵منٹ-شبِ جمعہ
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
مرحوم اپنے آپ کو اکثر :
" کُتا پاک رسول اللہ دا " کہتے تھے ۔
شاید ان کی یہی عاجزی قبول ہو گئی ، کہ زمانہ سلامی کو امنڈ آیا ۔
😥😥😥😥
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3020855281527974&id=100008105947430
" کُتا پاک رسول اللہ دا " کہتے تھے ۔
شاید ان کی یہی عاجزی قبول ہو گئی ، کہ زمانہ سلامی کو امنڈ آیا ۔
😥😥😥😥
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3020855281527974&id=100008105947430
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
آج ہم اس پیارے کو ہمیشہ کے لیے الوداع کَہ آئے ، جو کہتا تھا :
" ساری کائنات کی عزتیں اُس خاک پر قربان ، جہاں میرے آقا و مولا نے ایک بار پاؤں رکھا ، بس۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اِس سے بڑا جملہ میرے پاس کوئی نہیں !!
( اگرچہ ) یہ بھی حضور کی شان کے مطابق نہیں ، لیکن ( مثال دینے کے لیے ) ہمارے پاس یہی کچھ ہے ؛ حضور کی شان تو اس سے بھی آگے ہے ۔ "
اس عاشق رسول کا اچانک جدا ہوجانا بھی بڑا عجیب ہے ؎
رُخصت ہوا تو آنکھ مِلا کر نہیں گیا
وہ کیوں گیا ہے ؟ یہ بھی بتا کر نہیں گیا!
وہ یوں گیا کہ بادِ صبا یاد آ گئی
احساس تک بھی ہم کو دِلا کر نہیں گیا
یوں لگ رہا ہے جیسے ابھی لوٹ آئے گا
جاتے ہوئے چراغ بجھا کر نہیں گیا
بس اک لکیر کھینچ گیا درمیان میں
دیوار راستے میں بنا کر نہیں گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
😥😥😥
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3020916208188548&id=100008105947430
" ساری کائنات کی عزتیں اُس خاک پر قربان ، جہاں میرے آقا و مولا نے ایک بار پاؤں رکھا ، بس۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اِس سے بڑا جملہ میرے پاس کوئی نہیں !!
( اگرچہ ) یہ بھی حضور کی شان کے مطابق نہیں ، لیکن ( مثال دینے کے لیے ) ہمارے پاس یہی کچھ ہے ؛ حضور کی شان تو اس سے بھی آگے ہے ۔ "
اس عاشق رسول کا اچانک جدا ہوجانا بھی بڑا عجیب ہے ؎
رُخصت ہوا تو آنکھ مِلا کر نہیں گیا
وہ کیوں گیا ہے ؟ یہ بھی بتا کر نہیں گیا!
وہ یوں گیا کہ بادِ صبا یاد آ گئی
احساس تک بھی ہم کو دِلا کر نہیں گیا
یوں لگ رہا ہے جیسے ابھی لوٹ آئے گا
جاتے ہوئے چراغ بجھا کر نہیں گیا
بس اک لکیر کھینچ گیا درمیان میں
دیوار راستے میں بنا کر نہیں گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
😥😥😥
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3020916208188548&id=100008105947430
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
ہم سُوئے حشر چلیں گے شہِ اَبرار کے ساتھ
قافلہ ہو گا رواں ، قافلہ سالار کے ساتھ
بخت بیدار ہے ، یاور ہے مُقدر اُس کا
جس نے دیکھا ہے اُنھیں دِیدۂ بیدار کے ساتھ
یہ تو طیبہ کی محبت کا اثر ہے ورنہ۔۔۔۔۔۔۔
کون روتا ہے لپٹ کر در و دیوار کے ساتھ !
پُل سے مجھ سابھی گنہ گار گزر جائے گا
ہوگی سرکار کی رحمت جو گنہ گار کے ساتھ
ہم بھی مظؔہر سے سنیں گے کوئی نعتِ رنگیں
گر ملاقات ہوئی شاعرِ دربار کے ساتھ
( حافظ مظہرالدین مظؔہر )
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3021475361465966&id=100008105947430
قافلہ ہو گا رواں ، قافلہ سالار کے ساتھ
بخت بیدار ہے ، یاور ہے مُقدر اُس کا
جس نے دیکھا ہے اُنھیں دِیدۂ بیدار کے ساتھ
یہ تو طیبہ کی محبت کا اثر ہے ورنہ۔۔۔۔۔۔۔
کون روتا ہے لپٹ کر در و دیوار کے ساتھ !
پُل سے مجھ سابھی گنہ گار گزر جائے گا
ہوگی سرکار کی رحمت جو گنہ گار کے ساتھ
ہم بھی مظؔہر سے سنیں گے کوئی نعتِ رنگیں
گر ملاقات ہوئی شاعرِ دربار کے ساتھ
( حافظ مظہرالدین مظؔہر )
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3021475361465966&id=100008105947430
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
حضرت رحمہ اللہ کی جد و جہد کا تین شعروں میں خلاصہ ؎
دو حق و صداقت کی شہادت سرِ مقتل
اُٹھو ! کہ یہی وقت کا فرمانِ جَلی ہے
کب اشک بہانے سے کَٹی ہے شبِ ہِجراں
کب کوئی بَلا صِرف دُعاؤں سے ٹَلی ہے
ہم راہ روِ دَشتِ بَلا ، روزِ اَزَل سے
اور قافلہ سالار " حسین ابنِ علی " ہے
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3021570174789818&id=100008105947430
دو حق و صداقت کی شہادت سرِ مقتل
اُٹھو ! کہ یہی وقت کا فرمانِ جَلی ہے
کب اشک بہانے سے کَٹی ہے شبِ ہِجراں
کب کوئی بَلا صِرف دُعاؤں سے ٹَلی ہے
ہم راہ روِ دَشتِ بَلا ، روزِ اَزَل سے
اور قافلہ سالار " حسین ابنِ علی " ہے
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3021570174789818&id=100008105947430
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
*سیرت امیر المجاہدین علامہ خادم حسین رضوی علیہ الرحمہ*
*✍محمد ساجد مدنی*
*متعلم تخصص فی الحدیث*
*ابتدائی حالات:*
علامہ خادم حسین رضوی صاحب ضلع اٹک کے ایک گاوں نگا کلاں میں ایک زمیندار گھرانے میں 22نومبر 1966 کو پیدا ہوئے
آپ کے والد کا نام لعل خان ہے
آپ کا ایک بھائی جسکا نام امیر حسین ہے اور چار بہنیں ہیں
آپ کے والد کا انتقال 2008 میں ہوا
اور والدہ کا 2010میں انتقال ہوا
*تعلیمی سفر:*
آپ نے سکول میں صرف چار جماعتیں پڑھیں تھیں اور آٹھ سال کی عمر میں ضلع جہلم کی طرف طلب علم دین کیلئے رخت سفر باندھا اور مدرسہ جامع غوثیہ اشاعت العلوم میں قاری غلام یسین صاحب سے حفظ قرآن شروع کیا
آپ نے چار سال کے عرصے میں حفظ قرآن مکمل کیا اس وقت آپ کی عمر 12 سال تھی
پھر آپ نے ضلع گجرات کے کے قصبے دینہ میں 2 سال قرات کورس کیا
14 سال کی عمر میں لاہور تعلیم کیلئے آئے
1988 کو آپ نے دورہ حدیث شریف مکمل فرمایا آپ عربی کے ساتھ ساتھ فارسی پر بھی عبور رکھتے تھے
آپ نے پہلی ملازمت 1993 میں محکمہ اوقاف پنجاب میں کی اور داتا دربار کے قریب پیر مکی مسجد میں خطبہ دیا کرتے تھے
پھر ختم نبوت اور ناموس رسالت تحریک چلانے کی وجہ سے آپ نے نوکری چھوڑ دی اور یتیم خانہ روڈ لاہور کے قریب واقع مسجد رحمة للعالمين میں خطابت کرتے رہے اور ساری زندگی مشاہرہ صرف 15000 لیتے رہے
*رشتہ ازدواج:*
آپ کی شادی اپنی چچا زاد بہن سے ہوئی اور اللہ تعالی نے 2 بیٹوں اور 4 بیٹیوں سے نوازا
بڑے صاحب زادے کا نام حافظ سعد حسین رضوی اور چھوٹے صاحبزادے کا نام حافظ انس حسین رضوی ہے آپ کے دونوں بیٹے حافظ قرآن اور درس نظامی عالم کورس کیا ہوا ہے
*اقبال سے عشق کی وجہ:*
آپ فرماتے ہیں کہ دوران تعلیم درسی کتب کے علاوہ جن کتب کا مطالعہ کرتا تھا ان میں ڈاکٹر اقبال کا فارسی مجموعہ کلام سر فہرست تھا
1988 میں کلیات اقبال خریدی لی تھی اور نو عمری میں ہی اس قلندر شاعر کے افکار کا مطالعہ شروع کردیا
آپ فرماتے ہیں کہ گویا کہ اقبال کی روح نے مجھے اپنی طرف کھینچ لیا ہے
اقبال کے کلام کے بعد علامہ اقبال کے شاعری کے استاذ مولانا روم علیہ الرحمہ کو پڑھا اور اور انکے بیشتر کلام کو ازبر یاد کرلیا تھا
آپ فرماتے ہیں کہ مجھے اقبال، مولانا روم اور اعلی حضرت فاضل بریلوی کی شاعری نے بہت زیادہ متاثر کیا اور یہ حضرات عشق رسول کے وہ جام پلاتے ہیں جنھیں پینے کے بعد کسی چیز کی حاجت نہیں رہتی اور اردو شعراء میں اکبر الہ آبادی کی شاعری پسند تھی
آپ کو مطالعہ کا جنون رہتا تھا آپ سفرنامے بہت پڑھتے تھے آپ نے حکیم محمد سعید اور مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ الرحمہ کے تمام سفر نامے پڑھ ڈالے
تاریخ اسلام کا مطالعہ آپ کی اولیں ترجیح تھی اور تمام مسلم سپہ سالار کی سیرت کا مطالعہ کرتے رہتے
آپ فرماتے ہیں اسلام کے تمام سپہ سالار اپنی مثال آپ ہیں لیکن حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالی عنہ نے مجھے بہت زیادہ متاثر کیا ہے اور آپ کے مزار پر حاضری دینا ایک دیرینہ خواہش تھی اور الحمد للہ پوری ہوئی
*تحریک لبیک یارسول اللہ کا آغاز:*
آپ اپنی زندگی معمول کے مطابق گزار رہے تھے کہ غازی ممتاز حسین قادری علیہ الرحمہ نے جب گستاخ رسول سلمان تاثیر کو واصل جہنم کیا اور پھر غازی صاحب کو گرفتار کیا گیا اور انکو پھانسی دے دی گئی اس واقعہ نے آپ کی زندگی میں انقلاب برپا کردیا
پھر جب ختم نبوت قانون میں تبدیلی کرنے کی کوشش کی گئی تو ملک گیر احتجاج ہوا اور فیض آباد میں بھرپور احتجاج کیا گیا جسکی وجہ سے اس تحریک کو بہت مقبولیت ملی اور 2018 میں 26 لاکھ کے قریب ووٹ حاصل کیے اتنے کم عرصے میں پاکستان کی 5 بڑی تحریک بن گئی اس تحریک کا اسلام مقصد نظام مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کا نفاذ رہا ہے اور علامہ خادم حسین رضوی صاحب آخری دم تک اسی نظام کے نفاذ کیلئے لڑتے رہے
*ملفوظات:*
1: آپ فرماتے ہیں کہ مجھے عشق رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم اپنی ماں کی گود سے ملا ہے میری والدہ اٹھتے بیٹھتے ہربات میں *"میں صدقے یارسول اللہ "* کہا کرتی تھیں اور یہ جملہ میری روح و بدن میں بس گیا
علامہ اقبال بھی ایک فارسی شعر میں کہتے ہیں جسکا ترجمہ کچھ یوں ہے
یہ جو عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم مجھے ملا ہے یہ میری ماں کی گود اور ندا سے ملا ہے
2: آپ فرماتے ہیں جب غازی ممتاز حسین قادری علیہ الرحمہ کی رہائی کی تحریک چلائی ہوئی تھی اور اسکی پاداش میں لکھپت جیل میں مجھے ڈال دیا تھا تو اس دوران غازی صاحب کا خط آیا تھا اور اس خط کو میں اپنی بخشش کا بہانہ سمجھتا ہوں
3: آپ فرماتے ہیں علامہ اقبال کا یہ فرمان "انسان دلیر اسی وقت ہوتا ہے جب سینے میں محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہو" یہی جملہ میری زندگی کی اصل ہے
4: آپ فرماتے ہیں میں ساری زندگی مدینے نہیں گیا اس کی وجہ یہ ہے کہ میں آقا نامدار مدینے کے تاجدار صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا منہ دیکھاوں گا کہ آپ کی ناموس پہ حملے
*✍محمد ساجد مدنی*
*متعلم تخصص فی الحدیث*
*ابتدائی حالات:*
علامہ خادم حسین رضوی صاحب ضلع اٹک کے ایک گاوں نگا کلاں میں ایک زمیندار گھرانے میں 22نومبر 1966 کو پیدا ہوئے
آپ کے والد کا نام لعل خان ہے
آپ کا ایک بھائی جسکا نام امیر حسین ہے اور چار بہنیں ہیں
آپ کے والد کا انتقال 2008 میں ہوا
اور والدہ کا 2010میں انتقال ہوا
*تعلیمی سفر:*
آپ نے سکول میں صرف چار جماعتیں پڑھیں تھیں اور آٹھ سال کی عمر میں ضلع جہلم کی طرف طلب علم دین کیلئے رخت سفر باندھا اور مدرسہ جامع غوثیہ اشاعت العلوم میں قاری غلام یسین صاحب سے حفظ قرآن شروع کیا
آپ نے چار سال کے عرصے میں حفظ قرآن مکمل کیا اس وقت آپ کی عمر 12 سال تھی
پھر آپ نے ضلع گجرات کے کے قصبے دینہ میں 2 سال قرات کورس کیا
14 سال کی عمر میں لاہور تعلیم کیلئے آئے
1988 کو آپ نے دورہ حدیث شریف مکمل فرمایا آپ عربی کے ساتھ ساتھ فارسی پر بھی عبور رکھتے تھے
آپ نے پہلی ملازمت 1993 میں محکمہ اوقاف پنجاب میں کی اور داتا دربار کے قریب پیر مکی مسجد میں خطبہ دیا کرتے تھے
پھر ختم نبوت اور ناموس رسالت تحریک چلانے کی وجہ سے آپ نے نوکری چھوڑ دی اور یتیم خانہ روڈ لاہور کے قریب واقع مسجد رحمة للعالمين میں خطابت کرتے رہے اور ساری زندگی مشاہرہ صرف 15000 لیتے رہے
*رشتہ ازدواج:*
آپ کی شادی اپنی چچا زاد بہن سے ہوئی اور اللہ تعالی نے 2 بیٹوں اور 4 بیٹیوں سے نوازا
بڑے صاحب زادے کا نام حافظ سعد حسین رضوی اور چھوٹے صاحبزادے کا نام حافظ انس حسین رضوی ہے آپ کے دونوں بیٹے حافظ قرآن اور درس نظامی عالم کورس کیا ہوا ہے
*اقبال سے عشق کی وجہ:*
آپ فرماتے ہیں کہ دوران تعلیم درسی کتب کے علاوہ جن کتب کا مطالعہ کرتا تھا ان میں ڈاکٹر اقبال کا فارسی مجموعہ کلام سر فہرست تھا
1988 میں کلیات اقبال خریدی لی تھی اور نو عمری میں ہی اس قلندر شاعر کے افکار کا مطالعہ شروع کردیا
آپ فرماتے ہیں کہ گویا کہ اقبال کی روح نے مجھے اپنی طرف کھینچ لیا ہے
اقبال کے کلام کے بعد علامہ اقبال کے شاعری کے استاذ مولانا روم علیہ الرحمہ کو پڑھا اور اور انکے بیشتر کلام کو ازبر یاد کرلیا تھا
آپ فرماتے ہیں کہ مجھے اقبال، مولانا روم اور اعلی حضرت فاضل بریلوی کی شاعری نے بہت زیادہ متاثر کیا اور یہ حضرات عشق رسول کے وہ جام پلاتے ہیں جنھیں پینے کے بعد کسی چیز کی حاجت نہیں رہتی اور اردو شعراء میں اکبر الہ آبادی کی شاعری پسند تھی
آپ کو مطالعہ کا جنون رہتا تھا آپ سفرنامے بہت پڑھتے تھے آپ نے حکیم محمد سعید اور مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ الرحمہ کے تمام سفر نامے پڑھ ڈالے
تاریخ اسلام کا مطالعہ آپ کی اولیں ترجیح تھی اور تمام مسلم سپہ سالار کی سیرت کا مطالعہ کرتے رہتے
آپ فرماتے ہیں اسلام کے تمام سپہ سالار اپنی مثال آپ ہیں لیکن حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالی عنہ نے مجھے بہت زیادہ متاثر کیا ہے اور آپ کے مزار پر حاضری دینا ایک دیرینہ خواہش تھی اور الحمد للہ پوری ہوئی
*تحریک لبیک یارسول اللہ کا آغاز:*
آپ اپنی زندگی معمول کے مطابق گزار رہے تھے کہ غازی ممتاز حسین قادری علیہ الرحمہ نے جب گستاخ رسول سلمان تاثیر کو واصل جہنم کیا اور پھر غازی صاحب کو گرفتار کیا گیا اور انکو پھانسی دے دی گئی اس واقعہ نے آپ کی زندگی میں انقلاب برپا کردیا
پھر جب ختم نبوت قانون میں تبدیلی کرنے کی کوشش کی گئی تو ملک گیر احتجاج ہوا اور فیض آباد میں بھرپور احتجاج کیا گیا جسکی وجہ سے اس تحریک کو بہت مقبولیت ملی اور 2018 میں 26 لاکھ کے قریب ووٹ حاصل کیے اتنے کم عرصے میں پاکستان کی 5 بڑی تحریک بن گئی اس تحریک کا اسلام مقصد نظام مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کا نفاذ رہا ہے اور علامہ خادم حسین رضوی صاحب آخری دم تک اسی نظام کے نفاذ کیلئے لڑتے رہے
*ملفوظات:*
1: آپ فرماتے ہیں کہ مجھے عشق رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم اپنی ماں کی گود سے ملا ہے میری والدہ اٹھتے بیٹھتے ہربات میں *"میں صدقے یارسول اللہ "* کہا کرتی تھیں اور یہ جملہ میری روح و بدن میں بس گیا
علامہ اقبال بھی ایک فارسی شعر میں کہتے ہیں جسکا ترجمہ کچھ یوں ہے
یہ جو عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم مجھے ملا ہے یہ میری ماں کی گود اور ندا سے ملا ہے
2: آپ فرماتے ہیں جب غازی ممتاز حسین قادری علیہ الرحمہ کی رہائی کی تحریک چلائی ہوئی تھی اور اسکی پاداش میں لکھپت جیل میں مجھے ڈال دیا تھا تو اس دوران غازی صاحب کا خط آیا تھا اور اس خط کو میں اپنی بخشش کا بہانہ سمجھتا ہوں
3: آپ فرماتے ہیں علامہ اقبال کا یہ فرمان "انسان دلیر اسی وقت ہوتا ہے جب سینے میں محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہو" یہی جملہ میری زندگی کی اصل ہے
4: آپ فرماتے ہیں میں ساری زندگی مدینے نہیں گیا اس کی وجہ یہ ہے کہ میں آقا نامدار مدینے کے تاجدار صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا منہ دیکھاوں گا کہ آپ کی ناموس پہ حملے