🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
Abde Mustafa Organisation
میں خان تو انصاری (پارٹ 2) جب یہ آیت نازل ہوئی تو عرب میں سیکڑوں قبیلے، خاندان اور قومیں تھی، کسی کا نام مضر تھا، کسی کا ربیعہ، کسی کا اوس، کسی کا خزرج، کوئی عبد القیس اور کوئی بنو ہاشم اور بنو عبد المطلب۔ ظاہر ہے کہ یہ تمام اسماء (نام) ان قوموں کے آسمان…
میں خان تو انصاری (پارٹ 3)

(جو اس میں حد سے بڑھ کر یہ تک کہہ جاتے ہیں کہ سید وغیرہ ماننا کفر ہے تو)
اس پر ایک دوسرے پہلو سے غور کیجئے کہ جو کہتے ہیں کہ قرآن میں سید نہیں تو سید کو نہیں مانا جائے گا تو معلوم نہیں ہے انہوں نے کیا مراد لیا ہے، کیا وہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ پورے قرآن میں سید کا لفظ کہیں نہیں آیا ہے تو یہ غلط ہے حضرت یحییٰ علیہ السلام کے تذکرے میں انھیں سید کہا گیا ہے اور اگر یہ مطلب ہے کہ امام حسن اور حسین کی اولاد کو قران میں سید نہیں کہا گیا تو صحیح ہے لیکن اس بنیاد پر سید ماننے اور کہنے سے انکار نیری جہالت اور لا علمی ہے۔

حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو ہاشمی اور مطلبی بھی کہا جاتا ہے حالانکہ قرآن میں آپ کو ہاشمی اور مطلبی نہیں کہا گیا تو کیا اب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاشمی ہونے کا بھی انکار کریں گے اور آپ کو مطلبی کہنے کو کفر کہیں گے؟

ایک بات اور قابل غور ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے امامین کریمین کے لئے فرمایا:

سیدا شباب اھل الجنۃ (البدایۃ والنھایۃ لابن کثیر، ج8، ص179)

امام حسن کے لیے فرمایا؛

ان ابنی ھذا سید (مشکوٰۃ، کتاب الفضائل، فصل اول)

عربی سادات کرام کی جڑ بنیاد انہی دونوں بزرگوں سے ہے سوال یہ ہے کہ یہ دونوں بزرگ سادات میں داخل ہیں یا خارج اگر داخل ہے تو بتائیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو سید کہہ کر کیا ہوئے اور اگر خارج ہے تو سادات کی ابتداء کہاں سے ہے کیا اب ان کو سید کہنے کے لیے رسول اللہ کی حدیث کافی نہیں؟
ہم نے شروع میں کہا اور اب ہم بھی کہتے ہیں کہ جس آیت میں اللہ تعالی نے پرہیزگاری کو ہی بزرگی قرار دیا ہے تو وہ حق ہے اور حضور نے فرمایا:

لا فضل لعربی علی اعجمی... الخ (مسند احمد بن حنبل، ج5، ص411)

"عربی کو عجمی پر فضیلت حاصل نہیں"

یہ صحیح ہے، بیشک آیات و احادیث میں فرمایا گیا کہ نسب خاندان پر فخر کرنا ناجائز و ممنوع ہے فضیلت کا مدار تقویٰ اور عمل پر ہے جو آدمی بھی قومیت اور نسب پر جھوٹا فخر کرے گا مجرم اور گناہ گار ہوگا سید ہو یا غیر سید۔

جاری ہے........

عبد مصطفیٰ آفیشل
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
میں خان تو انصاری (پارٹ 4)

لیکن دوسری طرف یہ آیت بھی ہے :

قل کا اسالکم علیہ اجرا الا المودۃ فی القربی
(الشوری:23)

تفسیر کی جن کتابوں کا ذکر آیا ہے ان سب میں آیت کا یہ مطلب بیان کیا گیا اے پیغمبر آپ مسلمانوں سے یہ کہہ دیں کہ ہمیں تبلیغ کا معاوضہ نہیں چاہیے، تم ہماری اٰل اور ہماری عطرت سے محبت کرو اور محبت کی تین قسمیں ہیں، شہوت کی وجہ سے محبت جیسے میاں بیوی کی، تعظیم کی وجہ سے جیسے باپ سے محبت اور ظاہر ہے کہ اہل بیت کی محبت تعظیم کی وجہ سے ہے تو قرآن کریم سادات کی تعظیم کا حکم دیتا ہے۔

کثیر التعداد (تعداد میں بہت) حدیثیں ہیں جن میں رسول اللہ کے اہل قرابت سے محبت و تعظیم کا حکم ہے، تفصیل کے لیے اعلی حضرت فاضل بریلوی مولانا احمد رضا خان رحمہ اللہ تعالیٰ کی کتاب :
"ارادۃ الادب لفاضل النسب"
دیکھی جائے۔
پس یک طرفہ آیت و احادیث دیکھنا اور قرآن و حدیث میں جو ان کی تعظیم و تکریم کا حکم آیا ہے ان سے آنکھیں بند کر لینا کہاں کا انصاف ہے اور اگر غور کیا جائے تو صاف پتا چل جائے گا کہ جس آیت اور حدیث کا پہلے ذکر ہوا ان میں آبا (باپ دادا) پر فخر کی ممانعت کا حکم ہے تو اس کے مکلف وہی لوگ ہوں گے جن کو عرف عام میں نسبی بر تری حاصل ہو وہی فخر بالآبا کے مرتکب ہو سکیں گے بھلا وہ لوگ فخر کیسے کریں جن کے نسب ایسے ہو ہی نہیں پس معلوم ہوا کہ اس آیت کے مکلف صاحبانِ انساب (نسب والے حضرات) ہیں اور دوسری آیت و احادیث میں سب لوگوں کو سادات کی تعظیم کرنا چاہیے تو ان دونوں آیتوں میں تعارض نہیں، سادات اور صاحبانِ نسب کی ڈیوٹی فخر سے پرہیز اور سادات کرام کے ساتھ حسنِ سلوک اور احترام کا بقیہ لوگوں کو حکم۔
جب تک دونوں اپنے وظیفے پر عمل کریں صحیح اسلامی صورتِ حال ہے۔

جاری ہے........

عبد مصطفی آفیشل
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
میں خان تو انصاری (پارٹ 5)

لیکن فرض کیجیے کسی سید نے اعلان كے ساتھ اپنے آبا پر فخر کرنے کی حرکت کی تو وہ فاسق معلن ہو گیا، امامت میں اب اس کا ترجیحی حق ختم ہو گیا بلکہ اب غير سید جو فاسق نہیں ہے اس کے ( یعنی سید صاحب كے ) مقابلے میں امامت کا اہل زیادہ ہو گا اور آخرت میں اس کا درجہ بھی بلند ہوگا۔
اب اگر کوئی چاہے كہ ان سید صاحب کی سزا سب سیدوں کو دی جائے جو آبا پر فخر نہیں کرتے اور سب سے امامت كے حقوق چھین لیے جائیں، یہ شریعت کو پسند نہیں۔

امامت کی ایک مثال میں نے پیش کی (اسی طرح) قاضی بنانا یا معاشرتی برتاؤ جیسے تعظیم كے لیے کھڑا ہونا یا ابتداء کرنا سلام میں سارے مسائل کا یہی حکم ہوگا، اسی طرح آخرت میں فضائل درجات کا حال ہوگا،
اور فرض کیجیے كے سید اور غیر سید تمام تر مذہبی ترجیحات میں برابر ہیں تو یہاں سید کو ضرور ترجیح حقوق حاصل ہونا چاہیے كے قرآن میں ہے :

الا المودة فى القربى

اب جو آیت ہے كہ اللہ تعالی كے نزدیک پرہیزگاری اور تقویٰ ہی بُزُرْگی ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں كے سید کی کوئی فضیلت ہی نہیں یا یہ جو فرمایا گیا كہ میری آل سے محبت کرو تو اس کا یہ مطلب بھی نہیں كہ سید کیسا ہی بدکردار ہو محض سید ہونے كے ناطے غیر سید علما، صلحا كے تمام حقوق پر بالا ہوگا۔

جاری یے...

عبد مصطفی آفیشل
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
میں خان تو انصاری (پارٹ 6)

سوال میں ایک ایسے شخص کا ذکر کیا گیا تھا جس نے کہا کہ علما نے بعد میں سیدوں کو بڑھا دیا ہے یعنی ان کا مرتبہ بڑھا کر بیان کیا ورنہ اسلام میں سب برابر ہیں تو آپ رحمہ اللہ تعالیٰ لکھتے ہیں کہ سوال میں ایک بات اور بھی نہایت تکلیف دہ کہی گئی ہے کہ بعد کے علما نے سیدوں کو بڑھا دیا، حدیث شریف میں ہے کہ :

اذکر کم اللہ فی اھل بیتی (سنن ابن ماجہ، باب فضائل الصحابہ، 36)

ترمذی نے اس حدیث کو حسن کہا، طبرانی اور حاکم نے بھی روایت کیا۔
اللہ تعالیٰ جس نے قرآن اتارا اور رسول اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم جن سے فضائل اہل بیت میں کثیر حدیثیں مروی ہیں، کیا بعد کے علما میں شمار ہوں گے؟

بخاری شریف میں ہے،
حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ :

لقرابۃ رسول اللہ احب الی ان اصل من قرابتی
(کتاب فضائل الصحابہ)

میرے نزدیک قرابت دارو سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے قرابت دارصلہ رحمی کے مستحق ہیں، حدیث کی کتابوں میں ہے حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ نے اہل بیت کا وظیفہ دوسروں سے زیادہ مقرر کیا۔
کیا یہ دونوں حضرات بعد کے علما میں سے ہیں؟

جاری ہے........

عبد مصطفی آفیشل
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
میں خان تو انصاری (پارٹ 7)

حق یہ ہے کہ سیدوں کو جو کچھ عزت ملی ہے وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی طرف سے ہے، علما کو کیا اختیار ہے کہ اپنے پاس سے کچھ دیں۔

(مزید لکھتے ہیں کہ) اونچ نیچ کا مطلب اگر یہ ہے کہ جس طرح ہندو دھرم میں تھا کہ برہمن کوئی گناہ کرے تو ہلکی سزا اور شودر وہی گناہ کرے تو سخت سزا، اسلام میں اس قسم کی کوئی تفریق نہیں، حدیث شریف تو سب جانتے ہیں :

ان فاطمۃ بنت محمد لو سرقت لقطعۃ یدھا
(صحیح البخاری، 1003/2)

دوسرے مذاہب میں جس طرح اونچ نیچ ذاتوں کے عبادت کھانے بنے ہیں کہ تم لوگ اونچے لوگوں کے عبادت کھانوں میں جا نہیں سکتے اور تم لوگ مذہب کی مقدس کتاب پڑھ نہیں سکتے، اسلام میں ایسی کوئی تفریق نہیں ہے کہ ذات کی بنیاد میں کسی مسجد میں جانے یا قرآن و حدیث کی تعلیم و تعلم اور علما کے درجے پر فائز ہونے سے روکا جائے۔

اسی طرح معاشرتی معاملات میں جو چیزیں چھوت چھات کے نام سے مروج ہیں کہ کوئی کسی کا جھوٹا نہیں کھا سکتا، کوئی کسی کے کھانے کا برتن نہیں چھو سکتا، اس نا برابری کا بھی اسلام میں کوئی مقام نہیں بلکہ یہ سارے معاملاتِ اسلامی عام طور سے اسی طرح رائج ہیں جیسا شریعت نے حکم دیا ہے۔
استثناء کا ذکر نہیں کیا جا سکتا مگر ہمارے خیال میں اس کے عوامل بھی نسبی اونچ نیچ کے غلط اثرات ہیں۔
آج ایک بنیا اور ساہوکار چاہے کسی بھی برادری کا ہو جب اپنی کار پر آتا ہے تو بڑے بڑے نام و نسب والے کھڑے ہو کر آداب بجا لاتے ہیں اور کرسی خالی کر دیتے ہیں اس لیے علاج یہ ہے کہ آپس میں ایک دوسرے میں کیڑے نہ ڈالے جائیں، جو لوگ کسی طرح احساس کمتری کے شکار ہیں ہیں وہ علمی، اخلاقی اور تہزیبی حیثیت سے اپنے اندر کمال پیدا کریں پھر انیں کسی ترجیح و سلوک کی شکایت نہ ہوگی۔

(فتاوی بحر العلوم، ج6، ص385 تا 390، ملخصا و ملتقطا)

جاری ہے.....

عبد مصطفی آفیشل
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
یہ عشق ہی ہے

مولانا رومی فرماتے ہیں کہ ایک مزدور دن بھر اپنی کمر پر بوجھ اٹھا کر کام کرتا ہے اور ایک لوہار اپنی بھٹی میں سر منھ کالا کرنے کے بعد نہایت خوشی سے گھر واپس آتا ہے تاکہ اپنی گھر کی محبوبہ (اپنی بیوی) کو خوش کرے اور سامانِ حیات مہیا کر سکے۔
یہ کاروبارِ حیات جو صبح سے شام تک چلتا ہے، اس میں یہی عشق کا جذبہ کار فرما نظر آتا ہے ورنہ کون ہے کہ جو کسی کی خاطر اپنے آپ کو پریشانی اور مصیبت میں ڈالے۔
یہ سب عشق کی بدولت ہے،
عشق ایک روحانی چیز ہے اور یہ ایسی جنس نہیں کہ جس کو بازار سے خرید لیا جائے۔

مولانا فرماتے ہیں کہ مال و دولت اور دنیا کی چیزیں سب مردہ ہیں، مگر ان سب کے حصول کی کوشش زندہ لوگوں کے لیے ہوتی ہے۔

(سوز و ساز رومی)

جس گھرانے میں محبت کا جادو چلتا ہے اس کے رہنے والے جنتِ فردوس کی سی زندگی گزارتے ہیں اور کم آمدنی میں خوش و خرم رہتے ہیں۔
یہ عشق کی برکت ہے کہ مال و دولت سے جو چیز خریدی نہیں جا سکتی، اسے پاتے ہیں۔
اگر عشق ہو جو شہوت پرستی سے جدا ہو تو پھر عشق کم نہیں ہوتا بلکہ بڑھتا جاتا ہے اور یہ ایک ایسا رشتہ ہے جو مال و دولت سے بالا تر ہے۔
اسے اگر ہم مال و دولت کے ترازو میں لاتے ہیں تو اصل لذت باقی نہیں رہے گی۔

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں راہے عشق کا مسافر بنائے کہ یہ جس راہ میں ہر پست کا بلند، تلخ کا شیریں اور ناکام کا کامیاب بننا کوئی بڑی بات نہیں۔

عبد مصطفی
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
للہ الحمد میں دنیا سے مسلمان گیا

شیخ الحدیث علامہ حافظ خادم حسین رضوی قضاۓ الھی سے رحلت فرماگۓ۔

انا للّٰہ وانا الیہ راجعون

وہ تو چلے گۓ لیکن اپنوں بیگانوں کو ناموس رسالت کی اہمیت سمجھا گۓ

انکے آئیڈیل علامہ فضل حق خیر آبادی تھے جنھوں نے 1857 میں انگریز کے خلاف فتویٰ جہاد دیا تھا۔
وہ سلسلہ نقشبندیہ میں حاجی پیر عبد الواحد صدیقی کے ہاتھ پر بیعت تھے اور اعلٰی حضرت امام احمد رضا بریلوی علیہ الرحمہ سے گہری عقیدت کی وجہ سے اپنے نام کے ساتھ ہمیشہ رضوی لکھتے اور کہلاتے رہے۔
عربی گرامر میں انکی زبردست مہارت کے پیش نظر انہیں
امام الصرف والنحو کے لقب سے پکارا جاتا رہا۔
وہ طویل عرصہ جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور کی مسند تدریس پر بطور شیخ الحدیث فائز رہے۔ بلا مبالغہ انکے تلامذہ و مریدین کی تعداد ہزاروں میں ہے۔
ناموس رسالت پر کفار کی جانب سے یلغار کا مقابلہ آپ نے نہایت احسن انداز میں کیا۔اور عزت رسول کی اہمیت سے بچے بچے کو روشناس کروادیا ۔ انکی آواز پوری دنیا میں گونج رہی تھی

زمانہ بڑے غور سے سن رہا تھا
"تمھیں " سو گۓ داستان کہتے کہتے
انکی قیادت میں تحریک لبیک پاکستان انتخابات میں لیے گۓ ووٹوں کی بنیاد پر پانچویں بڑی جماعت قرار پائی۔ وہ علامہ اقبال کے فلسفۂ خودی کی مجسم تصویر تھے۔ انکا اعلان تھا کہ باطل انھیں تو کجا انکے جوتے کو خریدنے کی ہمت بھی نہیں رکھتا۔ چشم فلک نے انکے اس دعوے کو ثابت ہوتا بچشم خود دیکھا۔
انکی انہی ناقابل فراموش دینی خدمات کے پیش نظر
تاج الشریعہ مفتی اختر رضا خان الازہری اور نباض قوم ، ولئی کامل علامہ مفتی ابوداؤد محمد صادق قادری رضوی نے انہیں سلسلہ عالیہ قادریہ رضویہ کی خلافت سے نوازا تھا ۔
وہ سبھی اکابرین اہل سنت سے عقیدت رکھتے تھے لیکن اپنے اساتذہ مفتی اعظم پاکستان مولانا محمد عبد القیوم ہزاروی شرف ملت علامہ محمد عبد الحکیم شرف قادری ، علامہ حافظ محمد عبد الستار سعیدی سے محبت و الفت کا انداز نرالا تھا۔
بالخصوص حضرت نباض قوم مفتی ابوداؤد محمد صادق سے عقیدت کا ایک خاص انداز تھا
2015 میں جب وہ مسجد گلزار حبیب ای بلاک سبزہ زار لاہور تشریف لاۓ ، دوران محفل انہیں حضرت نباض قوم کی قمیص مبارک اور رومال شریف پیش کیا گیا تو انہوں نے عقیدت سے اپنے سر پر رکھ لیا۔
خلیفۂ اعلیٰ حضرت مفتی غلام جان ہزاروی کی سوانح عمری بنام حیات فقیہ زماں لکھنے کی انہوں نے راقم الحروف محمد عطاء الرحمٰن قادری رضوی کو بار بار تلقین فرمائی تھی۔ اصاغر نوازی کے پیش نظر وہ راقم الحروف کے لیے حوصلہ افزائی کے کلمات ارشاد فرماتے رہتے تھے۔
وصال پرملال سے تین دن قبل تیز بخار کے باوجود ناموس رسالت مارچ راولپنڈی میں شریک ہوۓ اورعلالت کے باوجود آخری خطاب فرمایا۔ بارش، سردی اور فیض آباد کی یخ بستہ ہواؤن نے بخار کی شدت میں اضافہ کردیا۔

آخر

شب جمعہ 4 ربیع الآخر کی رات، 19 نومبر کو تقریباً ساڑھے آٹھ بجے وہ دنیاۓ فانی سے رحلت فرماگۓ
انکا روشن، پر سکون، نورانی چہرہ دیکھ کر یوں محسوس ہوتا تھا کہ وہ زبان حال سے امام اہل سنت مولانا شاہ احمد رضا محدث بریلوی کاارشاد فرمودہ اور اپنا پسندیدہ شعر پڑھ رہے ہیں

انہیں جانا، انہیں مانا نہ رکھا غیر سے کام
للہ الحمد میں دنیا سے مسلمان گیا

اللہ تعالیٰ انکے لواحقین بالخصوص مولانا صاحب زادہ سعد حسین رضوی اور صاحب زادہ محمد انس رضوی اور تمام عاشقان رسول کو صبر جمیل عطا فرمائے۔

دعاگو و دعاجو
محمد عطاء الرحمٰن قادری رضوی
خطیب مسجد گلزار حبیب سبزہ زار لاہور
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
تجھے سلام....

فداے تاجدار ختم نبوت
و محافظِ ناموس رسالت
امیر المجاہدین علامہ خادم حسین رضوی کے وصال پر تعزیت
____

اسلام کے اے مَردِ مجاہد تجھے سلام
اے کاروانِ عشق کے مُرشِد تجھے سلام

خادم حسین رضوی امیر المجاھدین
اے مَہرِ انقلاب ، اے قائد تجھے سلام

آواز تیری شعلہ و شمشیر بن گئ
اے جانشینِ "طارق و خالد " تجھے سلام

تو دے گیا ہے عشقِ نبی کو نئ حیات
اعداد اور شمار سے زائد تجھے سلام

تاعمر کی حفاظتِ ناموسِ مصطفیٰ
اے سُنّیوں کے رہبرِ راشد تجھے سلام

نبضِ جہاں ٹھہر گئ تیری وفات پر
سب رو کے کہہ رہے ہیں اے قائد تجھے سلام

لکھّی ہوئ رہے گی دلوں پر تری حیات
تازہ رہیں گے تیرے شواہد ، تجھے سلام

جبر و ستم کی چھاؤں میں بھی تو ڈٹا رہا
رسمِ حُسَینیت کے مُجدّد تجھے سلام

میداں کو تو نے سجدہ گہِ عشق کر لیا
اے کربلاے وقت کے عابد تجھے سلام

پیغامِ حق سنایا بھی ، اُس پر چلایا بھی
اے عشقِ مصطفائ کے قاصد تجھے سلام

تجھ پر فدا اے ختم نبوت کے پہریدار
اے پاسبانِ باغِ عقائد تجھے سلام

کردار میں بھری تھیں عزیمت کی بجلیاں
تجھ کو جھکا سکے نہ شَدائد، تجھے سلام

ماں باپ سے بھی بڑھ کے ہمیں تو عزیز ہے
اے جلوۂ خودی کے مُشاہد تجھے سلام

اعزاز میں جبینِ جہاں ہے جھکی ہوئ
سب کر رہے ہیں غائب و شاہد، تجھے سلام

فکر رضا میں ڈھل گیا تیرا وجودِ ناز
محرابِ حق پرستی کے ساجد تجھے سلام

ملت میں روحِ عشق کو بیدار کردیا
ہیں سارے اہلِ حق ترے حامد ، تجھے
سلام

کرتا رہا تو آخری دم تک مقابلہ
اصحاب بدر کے اے مقلد تجھے سلام

اے سنیت کے شیر ، نہ بھولیں گے ہم تجھے
حاصل کریں گے تیرے مقاصد ، تجھے سلام

مشغول ہیں دعا میں فریدی کے جان و دل
فضلِ خدا ہو تیرا مُساعِد تجھے سلام

- - - - - - - - -
از فریدی صدیقی مصباحی
مسقط عمان
0096899633908
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
😔آہ

عاشقانِ رسول ﷺ کی آنکھوں کا تارا
محافظ عقیدۂ ختم نبوت
امیر المجاھدین
امیر عزیمت قبلہ استاذ العلماء حضرت علامہ خادم حسین رضوی رحمۃ اللہ علیہ داغِ مفارقت دے گئے۔

حضرت علامہ خادم حسین رضوی صاحب کے انتقال پر امیر اہل سنت مولانا الیاس عطار قادری صاحب کی براہ راست مدنی مذاکرے میں مدنی چینل پر لائیو تعزیت۔۔۔
دعا بھی فرمائی
‏"عالم اسلام کے لیے عظیم سانحہ"
*تبدیلی وقت جنازہ*
*کروڑوں عاشقان رسول کے دل کی دھڑکن، محافظ ختم نبوت و ناموس رسالت، شیخ الحدیث والتفسیر امیر المجاہدین قائد عالم اسلام علامہ حافظ خادم حسین رضوی دنیا فانی سے وصال فرما گئے،*
*نماز جنازہ*
*بروز جمعہ بعد از نماز جمعہ سے تبدیل کر کے*
*آپ کی نماز جنازہ 21 نومبر بروز ہفتہ صبح 10 بجے "مینارِ پاکستان" ادا کی جائے گی*
#موت_العالم_موت_العالم
قبلہ امیر المجاھدین کے انتقال پر ملال کا سن کر بہت گہرا صدمہ پہنچا اللہ رب العزت انکی بے حساب و کتاب مغفرت فرمائے
ایک بات ذہن نشین رکھیں کہ ہم نے انکو کھویا ہے مگر کہیں ہم انکے مقصد کو نہ کھو بیٹھے ان شاء اللہ ہمیں رضوی صاحب کے مشن کو آگے لیکر چلنا ہے
مسئلہ چاہے حرمت رسول کا ہو یا ختم نبوت کا ہم ان شاء اللہ آج یہ نیت کر لیں کہ تعلیمات اعلی حضرت پر عمل درآمد کرتے ہوئے کسی کو اسکی خلاف ورزی کرنے نہیں دینگے
#دانیال_رضا_مدنی
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM