Forwarded from Gulam Mustafa Razvi
*سازشیں اور قومی تقاضے*
_دشمنانِ اسلام کی سازشوں سے بیدار رہ کر مشرکین کے رسم و رواج سے احتیاط میں عافیت_
غلام مصطفیٰ رضوی
[نوری مشن مالیگاؤں]
’’عزیزانِ وطن! پاک مذہب اسلام جس کی ساری تعلیمات کا جوہر توحید و خدا پرستی ہے اُس کا دشمن تم صرف انگریزوں کو کیوں قرار دیتے ہو؛ ہر وہ مذہبِ باطل جو دُنیا میں موجود ہے؛ یا کسی وقت اختراع کیا جا سکتا ہے، وہ اس دین قویم اور صراطِ مستقیم کا دشمن جانی ہے؛ کفر و اسلام میں جب کہ تضاد ذاتی ہے؛ پس یہ محالِ عقلی ہے کہ کوئی مذہبِ کفر ٹھنڈی آنکھوں سے اسلام کو دیکھنا گوارا کرے؛ ہاں! مجبوری معذوری کی اور بات ہے، قرآن کریم نے سیکڑوں جگہ اسی کی خبر دی ہے، پس مسلمانوں کو خود اپنے آپ میں قوت پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔نہ کہ غیر قوم میں جذب و مدغم ہونا۔یہی شریعت کا فتویٰ ہے اور یہی عقلِ سلیم کا حکم۔‘‘[النور،ص۲۰۹، مطبوعہ ۱۹۲۱ء]
مذکورہ تمہیدی اقتباس ایک صدی پیش تر مفکر اسلام پروفیسر سید سلیمان اشرف بہاری (خلیفۂ اعلیٰ حضرت و سابق صدر شعبۂ دینیات مسلم یونی ورسٹی علی گڑھ)نے ارشاد فرمائے، جنھوں نے اسی زمانے میں ہندوؤں کی اسلام دشمنی کو بھانپ لیا تھا، اور ہندو مسلم اتحاد کی اس وجہ سے مخالفت کی تھی کہ اس سے اسلامی شعائر رفتہ رفتہ زد میں لائے جا رہے تھے۔ اسلامی تشخص مٹانے کی کوششیں کی جارہی تھیں۔
اسلام سب سے بڑی سچائی ہے۔ تمام مذاہبِ باطل؛ اسلام کے دشمن ہیں۔ اسلام کے مقابل انگریز نے سازشوں کے جال بنے۔ مسلمان! انگریز کے خلاف تھے لیکن ہندوؤں سے اشتراک و اتحاد کر لیا جس کا مقصدِ ظاہری ملک کو انگریزی استبداد سے آزاد کرانا تھا۔ جب کہ انگریز بھی دشمن تھے اور ہنود بھی۔ پھر ہنود سے اتحاد کی مہم جو ایک صدی قبل چلائی گئی اس کے منفی اثرات اسی زمانے میں ظاہر ہونے شروع ہوئے۔
*نتائج:*
[۱] آزادی کے وقت حکومت بجائے مسلمانوں کو لوٹانے کے مشرک لیڈران کو دی گئی تا کہ مسلمان دوبارہ اقتدار نہ پا سکیں۔جب کہ انگریز نے حکومت مسلمانوں سے چھینی تھی۔
[۲] ادغام و اشتراک کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہندوؤں کے کئی مراسم مسلم معاشرے میں اپنے پنجے گاڑنے میں کامیاب ہوئے، مذہبی روح اس سے متاثر ہوئی۔ جن مراسم سے نفرت کرنی تھی؛ ان سے انسیت بڑھی؛ آج جو بعض افراد ہولی، دیوالی، گنپتی جیسے شرکیہ معاملات میں شامل ہو جاتے ہیں یہ اسی ادغام و اشتراک کا نتیجہ ہے۔
[۳] حالات کے زیر اثر جہاں جہاں مسلمانوں نے مشرکین سے مل کر تحریکیں چلائیں وہیں ہماری ترقی کا گراف زوال پذیر ہوا۔ نان کو آپریشن کے نتیجے میں مسلم یونی ورسٹی علی گڑھ ، مدرسہ عالیہ کلکتہ اور اسلامیہ کالج لاہور تعلیمی دھارے میں پیچھے رہ گئے۔ اس خلا کے اثرات آج بھی محسوس کیے جا رہے ہیں۔
[۴] موجودہ حالات میں تحریکیں بے اثر ہو کر رہ گئیں، کہیں کوئی اثر مسلمانوں کے نہیں ظاہر ہو رہے جس کا سبب یہی ہے کہ ادغام و اشتراک نے مسلمانوں کی کمزوری ظاہر کی ہے جس کا فائدہ فرقہ پرست قوتیں پورا اٹھا رہی ہیں۔ کہیں کہیں قیادت در پردہ مشرکین سے متحد ہے یا کم از کم مرعوبیت کا شکار ہے-
[۵] انگریز کو ہم نے دشمن جانا، مشرکین سے کو دوست سمجھا، جب کہ دونوں ہی دشمن ہیں، آج یہی وجہ ہے کہ فرقہ پرست قیادت کہیں اسرائیل سے معاہدے کر رہی، کہیں امریکہ سے دفاعی اشیا کے سودے کر رہی، ان کے اتحاد کا میدان تمام دشمنانِ اسلام ہیں۔ پھر کیوں یہ ہمارے ہمدرد ہو سکتے ہیں؟
[٦] جب کہ ان مسلم مخالف طاقتوں سے اشتراک کا ہی نتیجہ ہے کہ آج بعض مسلم مراکز کی حکومتیں اسرائیل و امریکہ کے آگے جھکی ہوئی ہیں؛ لیکن اپنوں سے ملنے کا شعور نہیں آ رہا ہے...
*ہماری ذمہ داری:* ہمیں جو تکالیف پہنچ رہی ہیں وہ ہمارے ہی اعمال کا نتیجہ ہیں۔ ہماری ہی غفلت کے سبب وارد ہوئی ہیں، قرآن پاک کا ارشاد ہے:
وَمَآ اَصَابَکُمْ مِّنْ مُّصِیْبَۃٍ فَبِمَا کَسَبَتْ اَیْدِیْکُمْ وَیَعْفُوْا عَنْ کَثِیْرٍ ۔ (سورۂ شوریٰ: ۴۲؍۳۰) ’’اور تمہیں جو مصیبت پہنچی وہ اس کے سبب سے ہے جو تمہارے ہاتھوں نے کمایااور بہت کچھ تو معاف فرما دیتا ہے۔‘‘ (کنزالایمان)
جو مصائب و آلام ہیں یہ ایک صدی پیش تر غلط قیادت یا قیادت کے غلط فیصلوں کے تسلیم و قبول کے نتائج ہیں۔ مشرکین سے مذہبی بنیادوں پر محبت کی جو کوششیں ہوئیں ان سے مسلمان اپنے اسلامی فیصلوں سے دور جا پڑے، اپنے ہی ہاتھوں مشرکین کو مسلط کرنے میں مدد دی، اپنے ہی ہاتھوں اپنے شعائر سے دوری بنائی، ذبح، معمولات، حرمتِ منبر کو تج دیا۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ کسی دور میں چاہے آزادی سے قبل کا دور ہو یا بعد کا مشرکین نے کوئی رو رعایت نہیں کی۔ مسلمانوں کو نقصان پہنچایا۔ اور مسلمان اس امید پر کہ اتحاد نہ ٹوٹے؛ سب برداشت کیا۔ جس کے خوف ناک اثرات آج جھیل رہے ہیں۔ ہم نے مشرکین کو مسلط کیا اب وہ جو غالب آئے اس پر چیخ رہے ہیں۔ اس کا حل صرف یہ ہے کہ:
[۱]ہم احکامِ الٰہی و قوانین اسلام کے پابند ہو جائیں۔ مشرکین سے اتحاد سے بچی
_دشمنانِ اسلام کی سازشوں سے بیدار رہ کر مشرکین کے رسم و رواج سے احتیاط میں عافیت_
غلام مصطفیٰ رضوی
[نوری مشن مالیگاؤں]
’’عزیزانِ وطن! پاک مذہب اسلام جس کی ساری تعلیمات کا جوہر توحید و خدا پرستی ہے اُس کا دشمن تم صرف انگریزوں کو کیوں قرار دیتے ہو؛ ہر وہ مذہبِ باطل جو دُنیا میں موجود ہے؛ یا کسی وقت اختراع کیا جا سکتا ہے، وہ اس دین قویم اور صراطِ مستقیم کا دشمن جانی ہے؛ کفر و اسلام میں جب کہ تضاد ذاتی ہے؛ پس یہ محالِ عقلی ہے کہ کوئی مذہبِ کفر ٹھنڈی آنکھوں سے اسلام کو دیکھنا گوارا کرے؛ ہاں! مجبوری معذوری کی اور بات ہے، قرآن کریم نے سیکڑوں جگہ اسی کی خبر دی ہے، پس مسلمانوں کو خود اپنے آپ میں قوت پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔نہ کہ غیر قوم میں جذب و مدغم ہونا۔یہی شریعت کا فتویٰ ہے اور یہی عقلِ سلیم کا حکم۔‘‘[النور،ص۲۰۹، مطبوعہ ۱۹۲۱ء]
مذکورہ تمہیدی اقتباس ایک صدی پیش تر مفکر اسلام پروفیسر سید سلیمان اشرف بہاری (خلیفۂ اعلیٰ حضرت و سابق صدر شعبۂ دینیات مسلم یونی ورسٹی علی گڑھ)نے ارشاد فرمائے، جنھوں نے اسی زمانے میں ہندوؤں کی اسلام دشمنی کو بھانپ لیا تھا، اور ہندو مسلم اتحاد کی اس وجہ سے مخالفت کی تھی کہ اس سے اسلامی شعائر رفتہ رفتہ زد میں لائے جا رہے تھے۔ اسلامی تشخص مٹانے کی کوششیں کی جارہی تھیں۔
اسلام سب سے بڑی سچائی ہے۔ تمام مذاہبِ باطل؛ اسلام کے دشمن ہیں۔ اسلام کے مقابل انگریز نے سازشوں کے جال بنے۔ مسلمان! انگریز کے خلاف تھے لیکن ہندوؤں سے اشتراک و اتحاد کر لیا جس کا مقصدِ ظاہری ملک کو انگریزی استبداد سے آزاد کرانا تھا۔ جب کہ انگریز بھی دشمن تھے اور ہنود بھی۔ پھر ہنود سے اتحاد کی مہم جو ایک صدی قبل چلائی گئی اس کے منفی اثرات اسی زمانے میں ظاہر ہونے شروع ہوئے۔
*نتائج:*
[۱] آزادی کے وقت حکومت بجائے مسلمانوں کو لوٹانے کے مشرک لیڈران کو دی گئی تا کہ مسلمان دوبارہ اقتدار نہ پا سکیں۔جب کہ انگریز نے حکومت مسلمانوں سے چھینی تھی۔
[۲] ادغام و اشتراک کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہندوؤں کے کئی مراسم مسلم معاشرے میں اپنے پنجے گاڑنے میں کامیاب ہوئے، مذہبی روح اس سے متاثر ہوئی۔ جن مراسم سے نفرت کرنی تھی؛ ان سے انسیت بڑھی؛ آج جو بعض افراد ہولی، دیوالی، گنپتی جیسے شرکیہ معاملات میں شامل ہو جاتے ہیں یہ اسی ادغام و اشتراک کا نتیجہ ہے۔
[۳] حالات کے زیر اثر جہاں جہاں مسلمانوں نے مشرکین سے مل کر تحریکیں چلائیں وہیں ہماری ترقی کا گراف زوال پذیر ہوا۔ نان کو آپریشن کے نتیجے میں مسلم یونی ورسٹی علی گڑھ ، مدرسہ عالیہ کلکتہ اور اسلامیہ کالج لاہور تعلیمی دھارے میں پیچھے رہ گئے۔ اس خلا کے اثرات آج بھی محسوس کیے جا رہے ہیں۔
[۴] موجودہ حالات میں تحریکیں بے اثر ہو کر رہ گئیں، کہیں کوئی اثر مسلمانوں کے نہیں ظاہر ہو رہے جس کا سبب یہی ہے کہ ادغام و اشتراک نے مسلمانوں کی کمزوری ظاہر کی ہے جس کا فائدہ فرقہ پرست قوتیں پورا اٹھا رہی ہیں۔ کہیں کہیں قیادت در پردہ مشرکین سے متحد ہے یا کم از کم مرعوبیت کا شکار ہے-
[۵] انگریز کو ہم نے دشمن جانا، مشرکین سے کو دوست سمجھا، جب کہ دونوں ہی دشمن ہیں، آج یہی وجہ ہے کہ فرقہ پرست قیادت کہیں اسرائیل سے معاہدے کر رہی، کہیں امریکہ سے دفاعی اشیا کے سودے کر رہی، ان کے اتحاد کا میدان تمام دشمنانِ اسلام ہیں۔ پھر کیوں یہ ہمارے ہمدرد ہو سکتے ہیں؟
[٦] جب کہ ان مسلم مخالف طاقتوں سے اشتراک کا ہی نتیجہ ہے کہ آج بعض مسلم مراکز کی حکومتیں اسرائیل و امریکہ کے آگے جھکی ہوئی ہیں؛ لیکن اپنوں سے ملنے کا شعور نہیں آ رہا ہے...
*ہماری ذمہ داری:* ہمیں جو تکالیف پہنچ رہی ہیں وہ ہمارے ہی اعمال کا نتیجہ ہیں۔ ہماری ہی غفلت کے سبب وارد ہوئی ہیں، قرآن پاک کا ارشاد ہے:
وَمَآ اَصَابَکُمْ مِّنْ مُّصِیْبَۃٍ فَبِمَا کَسَبَتْ اَیْدِیْکُمْ وَیَعْفُوْا عَنْ کَثِیْرٍ ۔ (سورۂ شوریٰ: ۴۲؍۳۰) ’’اور تمہیں جو مصیبت پہنچی وہ اس کے سبب سے ہے جو تمہارے ہاتھوں نے کمایااور بہت کچھ تو معاف فرما دیتا ہے۔‘‘ (کنزالایمان)
جو مصائب و آلام ہیں یہ ایک صدی پیش تر غلط قیادت یا قیادت کے غلط فیصلوں کے تسلیم و قبول کے نتائج ہیں۔ مشرکین سے مذہبی بنیادوں پر محبت کی جو کوششیں ہوئیں ان سے مسلمان اپنے اسلامی فیصلوں سے دور جا پڑے، اپنے ہی ہاتھوں مشرکین کو مسلط کرنے میں مدد دی، اپنے ہی ہاتھوں اپنے شعائر سے دوری بنائی، ذبح، معمولات، حرمتِ منبر کو تج دیا۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ کسی دور میں چاہے آزادی سے قبل کا دور ہو یا بعد کا مشرکین نے کوئی رو رعایت نہیں کی۔ مسلمانوں کو نقصان پہنچایا۔ اور مسلمان اس امید پر کہ اتحاد نہ ٹوٹے؛ سب برداشت کیا۔ جس کے خوف ناک اثرات آج جھیل رہے ہیں۔ ہم نے مشرکین کو مسلط کیا اب وہ جو غالب آئے اس پر چیخ رہے ہیں۔ اس کا حل صرف یہ ہے کہ:
[۱]ہم احکامِ الٰہی و قوانین اسلام کے پابند ہو جائیں۔ مشرکین سے اتحاد سے بچی
Forwarded from Gulam Mustafa Razvi
ں جس سے مذہبی امور میں مداخلت کا اندیشہ ہو۔
[۲] شرعی فیصلوں کی پابندی کریں تو کسی خلافِ شرع قانون کی حیثیت باقی نہیں رہ سکے گی۔
[۳] غیر شرعی کورٹوں میں اپنے مقدمات نہ لے جائیں بلکہ شرعی اصولوں کی پیروی کریں۔
[۴] طلاق سے گریز کریں، نوبت آجائے تو شریعت کی پاس داری لازم جانیں۔
[۵] اپنے شعائر کی پابندی کریں۔
[٦] دینی تعلیم سے رغبت پیدا کریں۔ بچوں میں دین داری کو رواج دیں۔ پھر دنیوی تعلیم کے منفی اثرات سے بچ سکیں گے۔
[۷] ملک سے وفاداری کریں لیکن شرکیہ مراسم کو ہرگز قبول نہ کریں بلکہ ان سے نفرت کریں، بچوں کو مراسم شرک سے نفرت دلائیں۔
[۸] مشرکین یا مذاہبِ باطل کے تہواروں میں شرکت سے بچیں اور بچائیں۔
[۹] علم دین سیکھنے سکھانے میں مدد دیں۔ مدارسِ اسلامیہ سے رشتے بحال کریں۔
[۱۰] ایسی قیادت سے گریز کریں جو مشرک قائدین سے اتحاد برتے، اور مشرکین کی تکریم کر کے مسلمانوں کو غلط روی کی دعوت دے۔
اسلام پر استقامت اختیار کریں۔ یاد رکھیں! اللہ کی رحمتوں کا نزول اللہ و رسول کی رضا میں ہے۔ جو مشرکین کو خوش کرنے کو کوشاں ہیں ان سے ہمیں کوئی عزت نہیں مل سکتی۔ ہمیں سرخروئی احکام الٰہی و قوانین اسلام کی اطاعت و پیروی میں ملنی ہے۔ اس لیے اپنے مذہبی تشخص کی سلامتی کے لیے بیدار رہ کر جئیں۔
٭٭٭
شذرہ: یہ تحریر کچھ عرصہ قبل لکھی گئی... حال کے شامیانے میں جزوی ترمیم کے ساتھ پیشِ مطالعہ ہے...
١٤ نومبر ٢٠٢٠ء
[۲] شرعی فیصلوں کی پابندی کریں تو کسی خلافِ شرع قانون کی حیثیت باقی نہیں رہ سکے گی۔
[۳] غیر شرعی کورٹوں میں اپنے مقدمات نہ لے جائیں بلکہ شرعی اصولوں کی پیروی کریں۔
[۴] طلاق سے گریز کریں، نوبت آجائے تو شریعت کی پاس داری لازم جانیں۔
[۵] اپنے شعائر کی پابندی کریں۔
[٦] دینی تعلیم سے رغبت پیدا کریں۔ بچوں میں دین داری کو رواج دیں۔ پھر دنیوی تعلیم کے منفی اثرات سے بچ سکیں گے۔
[۷] ملک سے وفاداری کریں لیکن شرکیہ مراسم کو ہرگز قبول نہ کریں بلکہ ان سے نفرت کریں، بچوں کو مراسم شرک سے نفرت دلائیں۔
[۸] مشرکین یا مذاہبِ باطل کے تہواروں میں شرکت سے بچیں اور بچائیں۔
[۹] علم دین سیکھنے سکھانے میں مدد دیں۔ مدارسِ اسلامیہ سے رشتے بحال کریں۔
[۱۰] ایسی قیادت سے گریز کریں جو مشرک قائدین سے اتحاد برتے، اور مشرکین کی تکریم کر کے مسلمانوں کو غلط روی کی دعوت دے۔
اسلام پر استقامت اختیار کریں۔ یاد رکھیں! اللہ کی رحمتوں کا نزول اللہ و رسول کی رضا میں ہے۔ جو مشرکین کو خوش کرنے کو کوشاں ہیں ان سے ہمیں کوئی عزت نہیں مل سکتی۔ ہمیں سرخروئی احکام الٰہی و قوانین اسلام کی اطاعت و پیروی میں ملنی ہے۔ اس لیے اپنے مذہبی تشخص کی سلامتی کے لیے بیدار رہ کر جئیں۔
٭٭٭
شذرہ: یہ تحریر کچھ عرصہ قبل لکھی گئی... حال کے شامیانے میں جزوی ترمیم کے ساتھ پیشِ مطالعہ ہے...
١٤ نومبر ٢٠٢٠ء
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
اعلٰی حضرت کےسابقہ عقیدت منداور موجودہ معاندنوشادعالم چشتی کا پوسٹ مارٹم:
تحریر: مولانافداءالمصطفی قادری مصباحی
پہلی قسط
جناب نوشاد چشتی صاحب! اعلی حضرت کی عناد میں جہالت آپ کے سر چڑھ کر بولنے لگی ہے۔
جناب والا! تکفیر کلامی کا معیار اگر آپ کو پتہ ہوتا تو شاید اس طرح کی لایعنی باتیں نہ کرتے، اعلی حضرت نے تکفیر کیوں نہیں کی اسے جاننے کے لئے کفری فقہی، کفری کلامی، لزوم و التزام، احتمالات کےاقسام نیز کلام، تکلم اور متکلم کی حیثیتوں کو جاننا ضروری ہے۔ جو آپ کے بس کا نہیں۔
اہل علم پر یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ ایسے ہزاروں واقعات ہیں جن میں ایک شخص کسی کے نزدیک کافرہے اور کسی کے نزدیک مسلمان، کسی کے یہاں کفر کلامی ثابت ہے اور کسی کے یہاں کفری فقہی، کہیں لزوم پایا جاتا ہے تو کہیں التزام،کسی کے نزدیک ایک ہی جملہ فقط اپنے معنی میں متبین ہے اور کسی کے نزدیک متعین بھی۔
کسی فرد نے اگر کسی کی تکفیر کی اور دوسرے کو سبب کفر معلوم نہیں اور وہ حقیقت حال سے ناواقفیت کی وجہ سے کف لسان کرے تو درست بلکہ اس کے لئے یہی انسب ہے یا پھر اس کی درست تاویل کرکے اگر ایمانی پہلو نکال سکتا ہے تو یہ بھی جائز ہے، زمانہ کے بُعد کی وجہ سے اگر احتمال فی التکلم یا متکلم پیدا ہوجائے تب بھی سکوت بہتر ہے۔کماثبت بالنصوص الکلامیہ ۔
اسماعیل دہلوی کی تکفیر کی وجہ سے حضرت علامہ فضل حق خیرآبادی سے وہابیت خوف زدہ ہے مگر اعلی نے چاروں ائمہ دیابنہ کی تکفیر کی پھر بھی وہابیت کو فائدہ پہنچا؟ واہ رے انصاف!
جناب والا! میری رائے میں آپ جیسے پینٹ شرٹ والے شتر بے مہار کو علم کلام کی موشگافیوں میں پڑنا مناسب نہیں ورنہ دماغ چکرا کر عقل ویسے ہی غائب ہوجائے گی جیسے گدھے کے سرسے سنگ اور پھر اسی طرح کی جہالتوں کا صدور ہوتارہےگا۔جہاں تک بات اعلی حضرت کے فتاوے یا ان کی تحقیقات پر تنقید کرنے کی ہےتو اس کے لئے کتنا علم درکار ہے کسی اہل علم سے دریافت کریں ۔
چشتی صاحب! شاید آپ کو معلوم ہو کہ عموما لوگ تین درجے کے ہوتے ہیں ۔ 1 معتقد 2 معاند 3 معتدل (جسےانصاف پسند بھی کہاجاتاہے )
1 معتقِد وہ ہوتاہے جو اپنے معتقَد کی خامیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے اس کی خوبیوں پر نظر رکھتا۔
2 معاند وہ ہوتا ہے جو اپنے مخالف کی تمام تر خوبیوں سے صرف نظرکرتے ہوئے صرف اس کی خامیوں کو پیش کرتاہے ۔
3 معتدل و منصف وہ ہوتا ہے جو خامیوں پر تنقید کرتے ہوئے خوبیوں کو سراہتا ہے ۔
ان تینوں قسموں میں بدترین معاند ہے، ایسا آدمی شرعا اور عرفا دونوں اعتبارسے ذلیل و مذموم ہوتاہے۔ ہاں!معاند کے لئے بھی ایک بات ضروری ہوتی ہے، وہ یہ کہ جس سے وہ عناد رکھتا ہے وہ اس کا ہم پلہ ہو ورنہ پہاڑ پر ڈھیلہ مارنے والے کو معاند نہیں بلکہ پاگل کہتے ہیں ۔
چشتی صاحب! اگراعلی حضرت علیہ الرحمۃ کے معاملہ میں ان تینوں قسموں پر آپ کو پرکھا جائے تو دوسری قسم یعنی معاند کے تمام اوصاف آپ میں موجود ہیں مگر بدقسمتی سے ہم پلہ ہونے والی شرط کا دور دور تک کوئی پتہ نہیں اسی لئے آپ بھی اسی پہاڑ پر دھیلہ مارنے والے کی طرح ٹھہرے۔
جہاں تک وہابیوں کو فائدہ یا نقصان پہچانے کی بات ہے تو اس طرح کے عناوین پر آپ جیسے بغیر پیندے کے لوٹے کو بات ہی نہیں کرنی چاہئے کیونکہ دیابنہ اور وہابیہ تو آپ کے ہم پیالہ ہم نوالہ ہیں، وہابیوں کی تو جانے دیں آپ تو اتنے ملنسار آدمی ہیں کہ ہندؤں کے ساتھ ہولی اور دیوالی مناتے ہیں پھر باضابطہ اس کی تصویریں کھنچواکر بڑی بے شرمی سے شوسل میڈیا پر پوسٹ بھی کرتے ہیں ۔لاحول ولا قوۃ الاباللہ العلی العظیم ۔۔
جناب والا! اپنے ایمان کی خیر منائیں،جس آدمی کو ایمان و کفر بلکہ شرک میں کوئی فرق نہیں معلوم ہوتا وہ چلاہے ہے علم کلام کی گتھیاں سلجھانے؟؟؟ یہ منھ اور مسور کی دال!!!!
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2863646973914611&id=100008080090753
تحریر: مولانافداءالمصطفی قادری مصباحی
پہلی قسط
جناب نوشاد چشتی صاحب! اعلی حضرت کی عناد میں جہالت آپ کے سر چڑھ کر بولنے لگی ہے۔
جناب والا! تکفیر کلامی کا معیار اگر آپ کو پتہ ہوتا تو شاید اس طرح کی لایعنی باتیں نہ کرتے، اعلی حضرت نے تکفیر کیوں نہیں کی اسے جاننے کے لئے کفری فقہی، کفری کلامی، لزوم و التزام، احتمالات کےاقسام نیز کلام، تکلم اور متکلم کی حیثیتوں کو جاننا ضروری ہے۔ جو آپ کے بس کا نہیں۔
اہل علم پر یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ ایسے ہزاروں واقعات ہیں جن میں ایک شخص کسی کے نزدیک کافرہے اور کسی کے نزدیک مسلمان، کسی کے یہاں کفر کلامی ثابت ہے اور کسی کے یہاں کفری فقہی، کہیں لزوم پایا جاتا ہے تو کہیں التزام،کسی کے نزدیک ایک ہی جملہ فقط اپنے معنی میں متبین ہے اور کسی کے نزدیک متعین بھی۔
کسی فرد نے اگر کسی کی تکفیر کی اور دوسرے کو سبب کفر معلوم نہیں اور وہ حقیقت حال سے ناواقفیت کی وجہ سے کف لسان کرے تو درست بلکہ اس کے لئے یہی انسب ہے یا پھر اس کی درست تاویل کرکے اگر ایمانی پہلو نکال سکتا ہے تو یہ بھی جائز ہے، زمانہ کے بُعد کی وجہ سے اگر احتمال فی التکلم یا متکلم پیدا ہوجائے تب بھی سکوت بہتر ہے۔کماثبت بالنصوص الکلامیہ ۔
اسماعیل دہلوی کی تکفیر کی وجہ سے حضرت علامہ فضل حق خیرآبادی سے وہابیت خوف زدہ ہے مگر اعلی نے چاروں ائمہ دیابنہ کی تکفیر کی پھر بھی وہابیت کو فائدہ پہنچا؟ واہ رے انصاف!
جناب والا! میری رائے میں آپ جیسے پینٹ شرٹ والے شتر بے مہار کو علم کلام کی موشگافیوں میں پڑنا مناسب نہیں ورنہ دماغ چکرا کر عقل ویسے ہی غائب ہوجائے گی جیسے گدھے کے سرسے سنگ اور پھر اسی طرح کی جہالتوں کا صدور ہوتارہےگا۔جہاں تک بات اعلی حضرت کے فتاوے یا ان کی تحقیقات پر تنقید کرنے کی ہےتو اس کے لئے کتنا علم درکار ہے کسی اہل علم سے دریافت کریں ۔
چشتی صاحب! شاید آپ کو معلوم ہو کہ عموما لوگ تین درجے کے ہوتے ہیں ۔ 1 معتقد 2 معاند 3 معتدل (جسےانصاف پسند بھی کہاجاتاہے )
1 معتقِد وہ ہوتاہے جو اپنے معتقَد کی خامیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے اس کی خوبیوں پر نظر رکھتا۔
2 معاند وہ ہوتا ہے جو اپنے مخالف کی تمام تر خوبیوں سے صرف نظرکرتے ہوئے صرف اس کی خامیوں کو پیش کرتاہے ۔
3 معتدل و منصف وہ ہوتا ہے جو خامیوں پر تنقید کرتے ہوئے خوبیوں کو سراہتا ہے ۔
ان تینوں قسموں میں بدترین معاند ہے، ایسا آدمی شرعا اور عرفا دونوں اعتبارسے ذلیل و مذموم ہوتاہے۔ ہاں!معاند کے لئے بھی ایک بات ضروری ہوتی ہے، وہ یہ کہ جس سے وہ عناد رکھتا ہے وہ اس کا ہم پلہ ہو ورنہ پہاڑ پر ڈھیلہ مارنے والے کو معاند نہیں بلکہ پاگل کہتے ہیں ۔
چشتی صاحب! اگراعلی حضرت علیہ الرحمۃ کے معاملہ میں ان تینوں قسموں پر آپ کو پرکھا جائے تو دوسری قسم یعنی معاند کے تمام اوصاف آپ میں موجود ہیں مگر بدقسمتی سے ہم پلہ ہونے والی شرط کا دور دور تک کوئی پتہ نہیں اسی لئے آپ بھی اسی پہاڑ پر دھیلہ مارنے والے کی طرح ٹھہرے۔
جہاں تک وہابیوں کو فائدہ یا نقصان پہچانے کی بات ہے تو اس طرح کے عناوین پر آپ جیسے بغیر پیندے کے لوٹے کو بات ہی نہیں کرنی چاہئے کیونکہ دیابنہ اور وہابیہ تو آپ کے ہم پیالہ ہم نوالہ ہیں، وہابیوں کی تو جانے دیں آپ تو اتنے ملنسار آدمی ہیں کہ ہندؤں کے ساتھ ہولی اور دیوالی مناتے ہیں پھر باضابطہ اس کی تصویریں کھنچواکر بڑی بے شرمی سے شوسل میڈیا پر پوسٹ بھی کرتے ہیں ۔لاحول ولا قوۃ الاباللہ العلی العظیم ۔۔
جناب والا! اپنے ایمان کی خیر منائیں،جس آدمی کو ایمان و کفر بلکہ شرک میں کوئی فرق نہیں معلوم ہوتا وہ چلاہے ہے علم کلام کی گتھیاں سلجھانے؟؟؟ یہ منھ اور مسور کی دال!!!!
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2863646973914611&id=100008080090753
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
*آخر اکابر دیوبند کیا تھے؟*
آپ اس سوال کو ہلکا پھلکا سوال نہ سمجھیں درجنوں کتب علماء دیوبند کی دیکھ چکا سمجھ نہیں آتا کہ انہیں کیا کہوں؟
جب دیوبندیوں کے حجۃ الاسلام نانوتوی کو دیکھا تو وہ بچوں کے کمر بند کھول رہے تھے
سوچا تھانوی صاحب حکیم الامت ہیں ان سے ملتے ہیں ان کو پڑھنا شروع کیا تو جناب مسخرہ پن میں اپنا ثانی نہیں رکھتے جناب خود ہی لکھتے ہیں کہ '' بچپن میں بھائ کے سر پر پیشاب کیا تھا
پھر سوچا چلو دیوبندی قطب عالم مولوی رشید گنگوہی سے ملیں ممکن ہے ان کی عادت مذکورہ بالا مولوی سے اچھی ہو یقین جاننے پڑھنے لگا تو مارے شرم کے کتاب ہی بند کرنی پڑی
رشید گنگوہی صاحب تو سارے دیوبندی سے آگے نکلے آں جناب دن دہاڑے اپنی خانقاہ میں نانوتوی کو لٹا کر سینے پر ہاتھ رکھ کر عاشق صادق 😬 ہونے کا ثبوت دیا صداقت یہاں تک پہنچی کہ جناب نے ہی فرمایا نانوتوی کے ساتھ میرا نکاح ہوا اور مجھے وہی لذت ملی جو ایک بیوی سے شوہر کو ملنا چاہیے
پھر سر پکڑ کر بیٹھ کر سوچنے لگا کہ
*آخر اکابر دیوبند کیا تھے؟*
پھر دل نے کہا ایک بار اور پڑھو
میں نے سوچا چلو مان لیا کہ دیوبندیوں میں شرم و حیا نام کی کوئی چیز نہیں کیوں کہ تھانوی صاحب ہی کہتے ہیں کہ
وہابی بے ادب ہوتا ہے
اب دیکھیں ان میں انسانیت کا کوئی عنصر بچا ہے یا نہیں؟
پھر ذہن میں عنوان قائم کیا
*آخر اکابر دیوبند کیا تھے؟*
سب سے پہلے میں نے اکابر کا مقام تواضع نامی کتاب ص 204 دیکھا تو حیران رہ گیا
تھانوی صاحب کہتے ہیں کہ *مسلمان اس وقت تک مسلمان نہیں ہو سکتا جب تک خود کو کافر فرنگ سے بدتر نہ سمجھے*
دل بھر آیا کتاب سائڈ میں رکھ کر دوسری کتاب اٹھایا
ارواح ثلاثہ اٹھایا سوچا یہ کرامات پر مبنی کتاب ہے ممکن ہے تسلی ملے
پڑھتے پڑھتے ص 118 پر پہنچا تو دیکھ کر مزید حیرانی بڑھ گئی کہ سید احمد رائے بریلوی انسان کے بجائے '' کتا'' نکلا
اور وہ بھی بدصورت کتا
پھر سوچنے لگا کہ
گنگوہی تھانوی نانوتوی اور سید احمد رائے بریلوی کو پڑھ لیا کوئ کمر بند کھولتا ہے تو کوئ بھائی کے سر پر پیشاب تو کوئی دن دہاڑے خانقاہ ہی میں ازدواجی تعلقات مرد سے قائم کرنا چاہتا ہے
پھر سر پکڑ کر بیٹھ گیا اور سوچنے لگا کہ
*آخر اکابر دیوبند کیا تھے؟*
خیال رہے دیوبندی علماء کو پرکھنے کے لیے انہی کی کتابوں کو پڑھا گیا ہے اور ہرجگہ حقیقی معنی ہی مراد لیا گیا کیونکہ دیوبندی ساجد خان نقشبندی جس کی ہم کر رہے ہیں نسبندی اس نالائق نا مراد نے
امام اہلسنت اعلی حضرت رضی اللہ عنہ کا مشہور شعر
*کوئی کیوں پوچھے تیری بات رضا*
*تجھ سے کتے ہزار پھرتے ہیں*
اس کے اوپر ٹائٹل دیا
---آوارہ کتا----
اور تبصرہ میں لفظ کتے کو حقیقی معنی میں لیا جب دیوبندی مجازی معنی لیتے ہی نہیں تو اب ہم حقیقی کتا بنا کر ہی چھوڑیں گے
ساجد دیوبندی سن لو
*نہ صدمے تم ہمیں دیتے نہ یوں فریاد ہم کرتے*
*نہ کھلتے راز سربستہ نہ یوں رسوائیاں ہوتیں*
*ابھی جاری*
حسن نوری گونڈوی
+918485880123
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2864450517167590&id=100008080090753
آپ اس سوال کو ہلکا پھلکا سوال نہ سمجھیں درجنوں کتب علماء دیوبند کی دیکھ چکا سمجھ نہیں آتا کہ انہیں کیا کہوں؟
جب دیوبندیوں کے حجۃ الاسلام نانوتوی کو دیکھا تو وہ بچوں کے کمر بند کھول رہے تھے
سوچا تھانوی صاحب حکیم الامت ہیں ان سے ملتے ہیں ان کو پڑھنا شروع کیا تو جناب مسخرہ پن میں اپنا ثانی نہیں رکھتے جناب خود ہی لکھتے ہیں کہ '' بچپن میں بھائ کے سر پر پیشاب کیا تھا
پھر سوچا چلو دیوبندی قطب عالم مولوی رشید گنگوہی سے ملیں ممکن ہے ان کی عادت مذکورہ بالا مولوی سے اچھی ہو یقین جاننے پڑھنے لگا تو مارے شرم کے کتاب ہی بند کرنی پڑی
رشید گنگوہی صاحب تو سارے دیوبندی سے آگے نکلے آں جناب دن دہاڑے اپنی خانقاہ میں نانوتوی کو لٹا کر سینے پر ہاتھ رکھ کر عاشق صادق 😬 ہونے کا ثبوت دیا صداقت یہاں تک پہنچی کہ جناب نے ہی فرمایا نانوتوی کے ساتھ میرا نکاح ہوا اور مجھے وہی لذت ملی جو ایک بیوی سے شوہر کو ملنا چاہیے
پھر سر پکڑ کر بیٹھ کر سوچنے لگا کہ
*آخر اکابر دیوبند کیا تھے؟*
پھر دل نے کہا ایک بار اور پڑھو
میں نے سوچا چلو مان لیا کہ دیوبندیوں میں شرم و حیا نام کی کوئی چیز نہیں کیوں کہ تھانوی صاحب ہی کہتے ہیں کہ
وہابی بے ادب ہوتا ہے
اب دیکھیں ان میں انسانیت کا کوئی عنصر بچا ہے یا نہیں؟
پھر ذہن میں عنوان قائم کیا
*آخر اکابر دیوبند کیا تھے؟*
سب سے پہلے میں نے اکابر کا مقام تواضع نامی کتاب ص 204 دیکھا تو حیران رہ گیا
تھانوی صاحب کہتے ہیں کہ *مسلمان اس وقت تک مسلمان نہیں ہو سکتا جب تک خود کو کافر فرنگ سے بدتر نہ سمجھے*
دل بھر آیا کتاب سائڈ میں رکھ کر دوسری کتاب اٹھایا
ارواح ثلاثہ اٹھایا سوچا یہ کرامات پر مبنی کتاب ہے ممکن ہے تسلی ملے
پڑھتے پڑھتے ص 118 پر پہنچا تو دیکھ کر مزید حیرانی بڑھ گئی کہ سید احمد رائے بریلوی انسان کے بجائے '' کتا'' نکلا
اور وہ بھی بدصورت کتا
پھر سوچنے لگا کہ
گنگوہی تھانوی نانوتوی اور سید احمد رائے بریلوی کو پڑھ لیا کوئ کمر بند کھولتا ہے تو کوئ بھائی کے سر پر پیشاب تو کوئی دن دہاڑے خانقاہ ہی میں ازدواجی تعلقات مرد سے قائم کرنا چاہتا ہے
پھر سر پکڑ کر بیٹھ گیا اور سوچنے لگا کہ
*آخر اکابر دیوبند کیا تھے؟*
خیال رہے دیوبندی علماء کو پرکھنے کے لیے انہی کی کتابوں کو پڑھا گیا ہے اور ہرجگہ حقیقی معنی ہی مراد لیا گیا کیونکہ دیوبندی ساجد خان نقشبندی جس کی ہم کر رہے ہیں نسبندی اس نالائق نا مراد نے
امام اہلسنت اعلی حضرت رضی اللہ عنہ کا مشہور شعر
*کوئی کیوں پوچھے تیری بات رضا*
*تجھ سے کتے ہزار پھرتے ہیں*
اس کے اوپر ٹائٹل دیا
---آوارہ کتا----
اور تبصرہ میں لفظ کتے کو حقیقی معنی میں لیا جب دیوبندی مجازی معنی لیتے ہی نہیں تو اب ہم حقیقی کتا بنا کر ہی چھوڑیں گے
ساجد دیوبندی سن لو
*نہ صدمے تم ہمیں دیتے نہ یوں فریاد ہم کرتے*
*نہ کھلتے راز سربستہ نہ یوں رسوائیاں ہوتیں*
*ابھی جاری*
حسن نوری گونڈوی
+918485880123
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2864450517167590&id=100008080090753
👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
علم غیب عطا ہو کر بھی غیب ہی کہلاتا ہے
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
محترم قارئینِ کرام : علم غیب عطا ہو کر بھی غیب ہی کہلاتا ہے کیونکہ قرآن حکیم کے مطابق ﷲ تعالیٰ نے جب حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کو حضرت یوسف علیہ السلام کے واقعات کی خبر دی تو اس باب میں ارشاد فرمایا : ذَلِكَ مِنْ أَنبَاءِ الْغَيْبِ نُوحِيهِ إِلَيْكَ ۔ (سورہ يوسف آیت نمبر 102)
ترجمہ : یہ کچھ غیب کی خبریں ہیں جو ہم تمہاری طرف وحی کرتے ہیں ۔
اس سے ثابت ہوا کہ علم غیب وحی کے ذریعے عطا ہونے کے بعد بھی قرآنی اصطلاح میں ’’غیب‘‘ ہی کہلاتا ہے ۔
ذٰلِکَ مِنْ اَنۡۢبَآءِ الْغَیۡبِ : یہ کچھ غیب کی خبریں ہیں ۔ اس آیت کا معنی یہ ہے کہ اے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ، حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے جو واقعات ذکر کئے گئے یہ کچھ غیب کی خبریں ہیں جو کہ وحی نازل ہونے سے پہلے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو معلوم نہ تھیں کیونکہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اس وقت حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے بھائیوں کے پاس نہ تھے جب انہوں نے اپنے بھائی حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو کنویں میں ڈالنے کا پختہ ارادہ کر لیا تھا ا ور وہ حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے بارے میں سازش کر رہے تھے ، اس کے باوجود اے اَنبیاء علیہم السّلام کے سردار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ، آپ کا ان تمام واقعات کو اس تفصیل سے بیان فرمانا غیبی خبر اور معجزہ ہے ۔ (تفسیر خازن، یوسف، تحت الآیۃ: ۱۰۲، ۳/۴۷-۴۸)(تفسیر مدارک، یوسف، الآیۃ: ۱۰۲، ص۵۴۶-۵۴۷)
جمہور مفسرین کرام علیہم الرّحمہ کے نزدیک غیب وہ ہے جو حِس سے چھپا ہوا ہو ۔ (تفسیر کبیر ، جلد اول ، صفحہ نمبر ۲۷۳)
یعنی آنکھ ، ناک،کان وغیرہ جو علم حاصل کرنے کے ذرائع ہیں ، اُن سے جو معلوم نہ کیا جا سکے وہ غیب ہے ۔ آپ یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ غیب وہ چیز ہے جسے کوئی بھی انسان اپنی عقل اور سوچ وفکر کے ذریعے خود سے حاصل نہ کر سکے ۔ واضح رہے کہ یہ تعریف انسان کے لحاظ سے ہے ، نہ کہ اللہ عزّ و جل کے لحاظ سے ۔ کیو نکہ ربِّ قدیر کے نزدیک تو دنیا کی کوئی چیزپو شیدہ ہی نہیں ، بلکہ ہر چیز اس کے نزدیک خوب روشن وظا ہر ہے ۔
منکرینِ علم غیبِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کہتے ہیں : جب اللہ تعالیٰ نے وحی نازل کر کے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کو بتا ہی دیا تو پھر وہ علم غیب کہاں رہا ؟
جواب : وہ غیب ہی رہا ، کیو نکہ خود اللہ تعالیٰ نے اُسے غیب ہی قرار دیا ہے ۔ جیسا کہ ارشاد رب العالمین ہے : وما ھو علی الغیب بضنین ۔
ترجمہ : اور وہ (محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم) غیب کی بات بتانے پر بخیل (کنجوس) نہیں ۔ (سورہ تکویر،آیت:۲۴)
پھر یہ کہ اگر آپ کی بات مان لی جائے تو لازم آئے گا کہ اللہ تعالیٰ کے لئے بھی یہ کہنا درست نہ ہو کہ اللہ غیب جانتا ہے کیو نکہ اللہ کے نزدیک کوئی چیز غیب ہی نہیں بلکہ تمام چیزیں نہایت روشن اور ظاہر ہیں ۔
منکرین کہتے ہیں : پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کو “عالم الغیب”کہنا صحیح ہو نا چا ہئے ؟
جواب : نہیں،کیو نکہ ”عالم الغیب” کا لفظ اللہ تعالیٰ کے لئے خاص ہے ۔ البتہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کو “عالِمِ غیب ” عالمِ ما کان و ما یکون (جو کچھ ہو چکا ، ہوتا ہے اور ہوگا ان سب کا جاننے والا ) اور عالمِ اولین و آخرین کہا جائے گا۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا علم مَاکَانَ وَمَایَکُوْن
محترم قارئین کرام : ہمارا عقیدہ ہے کہ جو ہوچکا ہے جو ہو رہا ہے اور جو ہوگا ہمارے نبی صلی ﷲ علیہ وسلّم جانتے ہیں آیئے اس پر دلائل کی روشنی میں جائزہ لیتے ہیں :
جو ہوچکا جو ہوگا حضور جانتے ہیں
تیری عطاء سے خدایا حضور جانتے ہیں
(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم)
مخالفین اہلسنت کے اس عقیدے کو جو کہ قران و حدیث سے ماخوذ ہے مشرکانہ عقیدہ بتاتے ہیں حالانکہ ایسا کہنا ازلی شقاوت کے اظہار کے علاوہ کچھ حیثیت نہیں رکھتا جب کہ اس کے برعکس حضور صلی اﷲعلیہ وسلم کیلئے علم ماکان ومایکون کا عقیدہ دراصل اکابرین و سلف صالحین کا عقیدہ ہے ۔
ﷲ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : اَلرَّحْمٰنُۙ O عَلَّمَ الْقُرْاٰنَؕ ، خَلَقَ الْاِنْسَانَۙ عَلَّمَهُ الْبَيَانَ ۔ (سورہ رحمٰن)
ترجمہ : اسی نے انسان کو پیدا کیا اور اسے بولنا سکھایا ۔ (ترجمہ محمد جونا گڑھی غیر مقلد وہابی)
ان آیات کی تفسیر میں مفسرین نے بہت کچھ لکھا ہے ان میں سے چند اکابرین مفسرین علیہم الرّحمہ کی تفاسیر پیش خدمت ہیں :
خَلَقَ الْاِنْسَانَ : انسان کو پیدا کیا ۔ اس آیت اور ا س کے بعد والی آیت میں ’’انسان‘‘ اور’’ بیان‘‘ کے مِصداق کے بارے میں مفسرین کے مختلف قول ہیں ۔ ایک قول یہ ہے کہ یہاں انسان سے مراد دو عالَم کے سردار محمد مصطفی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ و
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
محترم قارئینِ کرام : علم غیب عطا ہو کر بھی غیب ہی کہلاتا ہے کیونکہ قرآن حکیم کے مطابق ﷲ تعالیٰ نے جب حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کو حضرت یوسف علیہ السلام کے واقعات کی خبر دی تو اس باب میں ارشاد فرمایا : ذَلِكَ مِنْ أَنبَاءِ الْغَيْبِ نُوحِيهِ إِلَيْكَ ۔ (سورہ يوسف آیت نمبر 102)
ترجمہ : یہ کچھ غیب کی خبریں ہیں جو ہم تمہاری طرف وحی کرتے ہیں ۔
اس سے ثابت ہوا کہ علم غیب وحی کے ذریعے عطا ہونے کے بعد بھی قرآنی اصطلاح میں ’’غیب‘‘ ہی کہلاتا ہے ۔
ذٰلِکَ مِنْ اَنۡۢبَآءِ الْغَیۡبِ : یہ کچھ غیب کی خبریں ہیں ۔ اس آیت کا معنی یہ ہے کہ اے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ، حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے جو واقعات ذکر کئے گئے یہ کچھ غیب کی خبریں ہیں جو کہ وحی نازل ہونے سے پہلے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو معلوم نہ تھیں کیونکہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اس وقت حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے بھائیوں کے پاس نہ تھے جب انہوں نے اپنے بھائی حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو کنویں میں ڈالنے کا پختہ ارادہ کر لیا تھا ا ور وہ حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے بارے میں سازش کر رہے تھے ، اس کے باوجود اے اَنبیاء علیہم السّلام کے سردار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ، آپ کا ان تمام واقعات کو اس تفصیل سے بیان فرمانا غیبی خبر اور معجزہ ہے ۔ (تفسیر خازن، یوسف، تحت الآیۃ: ۱۰۲، ۳/۴۷-۴۸)(تفسیر مدارک، یوسف، الآیۃ: ۱۰۲، ص۵۴۶-۵۴۷)
جمہور مفسرین کرام علیہم الرّحمہ کے نزدیک غیب وہ ہے جو حِس سے چھپا ہوا ہو ۔ (تفسیر کبیر ، جلد اول ، صفحہ نمبر ۲۷۳)
یعنی آنکھ ، ناک،کان وغیرہ جو علم حاصل کرنے کے ذرائع ہیں ، اُن سے جو معلوم نہ کیا جا سکے وہ غیب ہے ۔ آپ یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ غیب وہ چیز ہے جسے کوئی بھی انسان اپنی عقل اور سوچ وفکر کے ذریعے خود سے حاصل نہ کر سکے ۔ واضح رہے کہ یہ تعریف انسان کے لحاظ سے ہے ، نہ کہ اللہ عزّ و جل کے لحاظ سے ۔ کیو نکہ ربِّ قدیر کے نزدیک تو دنیا کی کوئی چیزپو شیدہ ہی نہیں ، بلکہ ہر چیز اس کے نزدیک خوب روشن وظا ہر ہے ۔
منکرینِ علم غیبِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کہتے ہیں : جب اللہ تعالیٰ نے وحی نازل کر کے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کو بتا ہی دیا تو پھر وہ علم غیب کہاں رہا ؟
جواب : وہ غیب ہی رہا ، کیو نکہ خود اللہ تعالیٰ نے اُسے غیب ہی قرار دیا ہے ۔ جیسا کہ ارشاد رب العالمین ہے : وما ھو علی الغیب بضنین ۔
ترجمہ : اور وہ (محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم) غیب کی بات بتانے پر بخیل (کنجوس) نہیں ۔ (سورہ تکویر،آیت:۲۴)
پھر یہ کہ اگر آپ کی بات مان لی جائے تو لازم آئے گا کہ اللہ تعالیٰ کے لئے بھی یہ کہنا درست نہ ہو کہ اللہ غیب جانتا ہے کیو نکہ اللہ کے نزدیک کوئی چیز غیب ہی نہیں بلکہ تمام چیزیں نہایت روشن اور ظاہر ہیں ۔
منکرین کہتے ہیں : پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کو “عالم الغیب”کہنا صحیح ہو نا چا ہئے ؟
جواب : نہیں،کیو نکہ ”عالم الغیب” کا لفظ اللہ تعالیٰ کے لئے خاص ہے ۔ البتہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کو “عالِمِ غیب ” عالمِ ما کان و ما یکون (جو کچھ ہو چکا ، ہوتا ہے اور ہوگا ان سب کا جاننے والا ) اور عالمِ اولین و آخرین کہا جائے گا۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا علم مَاکَانَ وَمَایَکُوْن
محترم قارئین کرام : ہمارا عقیدہ ہے کہ جو ہوچکا ہے جو ہو رہا ہے اور جو ہوگا ہمارے نبی صلی ﷲ علیہ وسلّم جانتے ہیں آیئے اس پر دلائل کی روشنی میں جائزہ لیتے ہیں :
جو ہوچکا جو ہوگا حضور جانتے ہیں
تیری عطاء سے خدایا حضور جانتے ہیں
(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم)
مخالفین اہلسنت کے اس عقیدے کو جو کہ قران و حدیث سے ماخوذ ہے مشرکانہ عقیدہ بتاتے ہیں حالانکہ ایسا کہنا ازلی شقاوت کے اظہار کے علاوہ کچھ حیثیت نہیں رکھتا جب کہ اس کے برعکس حضور صلی اﷲعلیہ وسلم کیلئے علم ماکان ومایکون کا عقیدہ دراصل اکابرین و سلف صالحین کا عقیدہ ہے ۔
ﷲ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : اَلرَّحْمٰنُۙ O عَلَّمَ الْقُرْاٰنَؕ ، خَلَقَ الْاِنْسَانَۙ عَلَّمَهُ الْبَيَانَ ۔ (سورہ رحمٰن)
ترجمہ : اسی نے انسان کو پیدا کیا اور اسے بولنا سکھایا ۔ (ترجمہ محمد جونا گڑھی غیر مقلد وہابی)
ان آیات کی تفسیر میں مفسرین نے بہت کچھ لکھا ہے ان میں سے چند اکابرین مفسرین علیہم الرّحمہ کی تفاسیر پیش خدمت ہیں :
خَلَقَ الْاِنْسَانَ : انسان کو پیدا کیا ۔ اس آیت اور ا س کے بعد والی آیت میں ’’انسان‘‘ اور’’ بیان‘‘ کے مِصداق کے بارے میں مفسرین کے مختلف قول ہیں ۔ ایک قول یہ ہے کہ یہاں انسان سے مراد دو عالَم کے سردار محمد مصطفی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ و
م کو خداوند ِعالَم نے یہ معجزہ عطا فرمایا تھا کہ آپ گھوڑے پر زِین کسنے کا حکم دیتے تھے اور ساءیس گھوڑے کی زین باندھ کر درست کر تا تھا اتنی دیر میں آپ ایک ختم ’’زبور شریف ‘‘کی تلاوت کرلیتے تھے (صحیح البخاری،کتاب احادیث الانبیائ،باب قول اللّٰہ تعالی۔۔۔الخ، الحدیث:۳۴۱۷، ج۲، صفحہ ۴۴۷ ، چشتی)
تو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نبی آخرالزمان جو تمام انبیاء علیہم السلام کے معجزات کے جامع ہیں اگر دن بھر میں قیامت تک کے تمام احوال و واقعات کو بیان فرمادیں تو اس میں کونسا تعجب کا مقام ہے ۔
اس حدیث سے مندرجہ ذیل مسائل پر روشنی پڑتی ہے
حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو خدا وند ِعالِم ُا لْغَیْب و الشَّہادَۃ نے جس طرح بہت سے معجزانہ کمالات سے نوازااور تمام انبیاء اور رسولوں میں آپ کو ممتاز فرماکر’’سید الانبیاء‘‘ اور’’افضل الرسل‘‘بنایا اسی طرح علمی کمالات کا بھی آپ کو وہ کمال بخشا کہ’’ مَاکَانَ وَمَا یَکُوْنُ ‘‘ یعنی روز ازل سے قیامت تک کے تمام علوم کا خزانہ آپ کے سینہ نبوت میں بھر دیا ۔
مشکوۃ شریف کی حدیث ہے کہ : حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے اپنے رب عزوجل کو بہترین صورت میں دیکھا تو اس نے مجھ سے فرمایا کہ اوپر والی جماعت کس چیز میں بحث کر رہی ہے؟ تو میں نے عرض کیا کہ یااللہ! عزوجل تو ہی اس کو زیادہ جاننے والا ہے پھر خدا وند ِعالَم نے اپنی (قدرت کی) ہتھیلی کو میرے دونوں شانوں کے درمیان رکھ دیا تو میں نے اس کی ٹھنڈک کو اپنی دونوں چھاتیوں کے درمیان میں پایا اور جو کچھ آسمان و زمین میں ہے سب کو میں نے جان لیا ۔ (مشکواۃ المصابیح،کتاب الصلاۃ،باب المساجد ومواضع الصلاۃ، الحدیث:۷۲۵،ج۱، ص۱۵۲)(مشکوٰۃ،باب المساجد،ص۷۰)
اللہ عزوجل نے میرے لیے دُنیا کو اٹھا کر اسطرح میرے سامنے پیش فرمادیا کہ میں تمام دنیاکو اور اس میں قیامت تک جو کچھ بھی ہونے والا ہے ان سب کو اسطرح دیکھ رہا ہوں جس طرح میں اپنی ہتھیلی کو دیکھ رہا ہوں ۔(شرح الزرقانی علی المواہب، المقصد الثامن، الفصل الثالث، ج۱۰، ص۱۲۳، وحلیۃ الاولیاء، حدیر بن کریب، الحدیث۷۹۷۹، ج۶، ص۱۰۷)(زرقانی علی المواہب،جلد۷،ص۲۳۴)
جس طرح حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ’’اَفضل الْخَلق ‘‘ہیں اسی طرح آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ’’اَعلم ُالْخَلق ‘‘ بھی ہیں کہ تمام جن و انس اور ملائکہ کے علوم سے بڑھ کر آپکا علم ہے یہاں تک کہ حضرت علامہ بوصیری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اپنے قصیدۂ بُردَہ میں فرمایا کہ :
فَاِنَّ مِنْ جُوْدِکَ الدُّنْیَا وَضَرَّتَھَا وَمِنْ عُلُوْمِکَ عِلْمَ اللَّوْحِ وَالْقَلَمٖ
(القصیدۃ البردۃ، الفصل العاشر فی المناجات وعرض الحال)
ترجمہ : یارسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیک وسلم دنیا اور اس کی سوکن (یعنی آخرت) یہ دونوں آپ کی سخاوت کے ثمرات میں سے ہیں اور ’’لوح و قلم کا علم ‘‘ آپ کے علوم کا ایک جزو ہے ۔ (طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2864627153816593&id=100008080090753
تو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نبی آخرالزمان جو تمام انبیاء علیہم السلام کے معجزات کے جامع ہیں اگر دن بھر میں قیامت تک کے تمام احوال و واقعات کو بیان فرمادیں تو اس میں کونسا تعجب کا مقام ہے ۔
اس حدیث سے مندرجہ ذیل مسائل پر روشنی پڑتی ہے
حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو خدا وند ِعالِم ُا لْغَیْب و الشَّہادَۃ نے جس طرح بہت سے معجزانہ کمالات سے نوازااور تمام انبیاء اور رسولوں میں آپ کو ممتاز فرماکر’’سید الانبیاء‘‘ اور’’افضل الرسل‘‘بنایا اسی طرح علمی کمالات کا بھی آپ کو وہ کمال بخشا کہ’’ مَاکَانَ وَمَا یَکُوْنُ ‘‘ یعنی روز ازل سے قیامت تک کے تمام علوم کا خزانہ آپ کے سینہ نبوت میں بھر دیا ۔
مشکوۃ شریف کی حدیث ہے کہ : حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے اپنے رب عزوجل کو بہترین صورت میں دیکھا تو اس نے مجھ سے فرمایا کہ اوپر والی جماعت کس چیز میں بحث کر رہی ہے؟ تو میں نے عرض کیا کہ یااللہ! عزوجل تو ہی اس کو زیادہ جاننے والا ہے پھر خدا وند ِعالَم نے اپنی (قدرت کی) ہتھیلی کو میرے دونوں شانوں کے درمیان رکھ دیا تو میں نے اس کی ٹھنڈک کو اپنی دونوں چھاتیوں کے درمیان میں پایا اور جو کچھ آسمان و زمین میں ہے سب کو میں نے جان لیا ۔ (مشکواۃ المصابیح،کتاب الصلاۃ،باب المساجد ومواضع الصلاۃ، الحدیث:۷۲۵،ج۱، ص۱۵۲)(مشکوٰۃ،باب المساجد،ص۷۰)
اللہ عزوجل نے میرے لیے دُنیا کو اٹھا کر اسطرح میرے سامنے پیش فرمادیا کہ میں تمام دنیاکو اور اس میں قیامت تک جو کچھ بھی ہونے والا ہے ان سب کو اسطرح دیکھ رہا ہوں جس طرح میں اپنی ہتھیلی کو دیکھ رہا ہوں ۔(شرح الزرقانی علی المواہب، المقصد الثامن، الفصل الثالث، ج۱۰، ص۱۲۳، وحلیۃ الاولیاء، حدیر بن کریب، الحدیث۷۹۷۹، ج۶، ص۱۰۷)(زرقانی علی المواہب،جلد۷،ص۲۳۴)
جس طرح حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ’’اَفضل الْخَلق ‘‘ہیں اسی طرح آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ’’اَعلم ُالْخَلق ‘‘ بھی ہیں کہ تمام جن و انس اور ملائکہ کے علوم سے بڑھ کر آپکا علم ہے یہاں تک کہ حضرت علامہ بوصیری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اپنے قصیدۂ بُردَہ میں فرمایا کہ :
فَاِنَّ مِنْ جُوْدِکَ الدُّنْیَا وَضَرَّتَھَا وَمِنْ عُلُوْمِکَ عِلْمَ اللَّوْحِ وَالْقَلَمٖ
(القصیدۃ البردۃ، الفصل العاشر فی المناجات وعرض الحال)
ترجمہ : یارسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیک وسلم دنیا اور اس کی سوکن (یعنی آخرت) یہ دونوں آپ کی سخاوت کے ثمرات میں سے ہیں اور ’’لوح و قلم کا علم ‘‘ آپ کے علوم کا ایک جزو ہے ۔ (طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2864627153816593&id=100008080090753
َاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ہیں اور بیان سے’’مَاکَانَ وَمَا یَکُوْنُ‘‘یعنی جو کچھ ہو چکا اور جو کچھ آئندہ ہو گا، کا بیان مراد ہے کیونکہ نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اَوّلین و آخرین اور قیامت کے دن کی خبریں دیتے تھے۔ ایک قول یہ ہے کہ یہاں انسان سے مراد حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ہیں اور بیان سے مراد تمام چیزوں کے اَسماء اور تما م زبانوں کا بیان مراد ہے اور ایک قول یہ ہے کہ یہاں انسان سے اس کی جنس یعنی حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور ان کی تمام اولاد مراد ہے اور بیان سے مراد گفتگو کی صلاحیت ہے جس کی وجہ سے انسان دیگر حیوانوں سے ممتاز ہوتا ہے۔( خازن، الرحمن، تحت الآیۃ: ۳-۴، ۴/۲۰۸، صاوی، الرحمن، تحت الآیۃ: ۳-۴، ۶ /۲۲۷۳ -۲۲۷۴،چشتی)
مشہور مفسّر امام بغوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : خلق الانسان یعنی محمداً صلیﷲ علیہ وسلم علمہ البیان یعنی بیان ماکان ومایکون ۔
ترجمہ : اس آیت میں انسان سے مراد محمد صلیﷲ علیہ وسلم ہیں اور بیان سے مراد ماکان ومایکون کا بیان ہے ۔ (تفسیر البغوی (معالم التنزیل) صفحہ ١٢٥٧) ابی محمد حسین بن مسعود البغوی رحمۃ اللہ علیہ (متوفی ٥١٦ھ)
امام قرطبی رحمۃ اللہ علیہ یوں فرماتے ہیں : الانسان ھاھنا یراد بہ محمد صلیﷲعلیہ وسلم صلی ﷲعلیہ وسلم والبیان وقیل ماکان ومایکون ۔
ترجمہ : اس آیت میں انسان سے مراد محمد صلیﷲ علیہ وسلم ہیں اور بیان سے مراد (بعض کہتے ہیں) ماکان ومایکون کا بیان ہے ۔ (الجامع الاحکام القرآن والمبین لما تضمنہ من السنتہ وآی الفرقان الجزءالعشرون صفحہ١١٣) ابی عبد ﷲ محمد بن احمد بن ابی بکر القرطبی رحمۃ اللہ علیہ ۔ (متوفی ٦٧١ھ)
امام ابن عادل حنبلی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : المراد بالانسان ھنا محمد علیہ السلام علمہ البیان وقیل ماکان ومایکون ۔
ترجمہ : اس آیت میں انسان سے مراد محمد صلیﷲ علیہ وسلم ہیں اور بیان سے مراد (بعض کہتے ہیں) ماکان ومایکون کا بیان ہے ۔
(اللباب فی علوم الکتاب المشہور تفسیر ابن عادل الجزء الثامن عشر صفحہ٢٩٣-٢٩٤)ابی حفص عمر بن علی ابن عادل الدمشقی الحنبلی رحمۃ اللہ علیہ (متوفی ٨٨٠ھ،چشتی)
امام ثعلبی رحمۃ اللہ علیہ کی تفسیر میں موجود ہے : خلق الانسان یعنی محمداً صلیﷲ علیہ وسلم علمہ البیان یعنی بیان ماکان ومایکون ۔
ترجمہ : اس آیت میں انسان سے مراد محمد صلیﷲ علیہ وسلم ہیں اور بیان سے مراد ماکان ومایکون کا بیان ہے ۔ (الکشف والبیان فی تفسیر القران المشہور تفسیر الثعلبی الجزء السادس صفحہ٤٨ ، العلامہ ابی اسحٰق احمد بن محمد بن ابراھیم الثعلبی رحمۃ اللہ علیہ (متوفی ٤٢٧ھ)
اَلرَّحْمٰنُ : رحمن ۔ اس آیت کے شانِ نزول کے بارے میں ایک قول یہ ہے کہ جب سورۂ فرقان کی آیت نمبر60 نازل ہوئی جس میں رحمن کو سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا توکفارِ مکہ نے کہا کہ رحمن کیا ہے ہم نہیں جانتے ،اس پر اللہ تعالیٰ نے سورۃُ الرّحمن نازل فرمائی کہ رحمن جس کا تم انکار کرتے ہو وہی ہے جس نے قرآن نازل فرمایا ۔ اور ایک قول یہ ہے کہ اہل ِمکہ نے جب کہا کہ محمد (مصطفی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ) کو کوئی بشر سکھاتا ہے تو یہ آیت نازل ہوئی اور اللہ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی نے فرمایا کہ رحمن نے قرآن اپنے حبیب محمد مصطفی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو سکھایا ۔ (تفسیر خازن، الرحمن، تحت الآیۃ: ۱-۲، ۴/۲۰۸)
اِس معنی کے اعتبار سے ان آیات سے 5 باتیں معلوم ہوئیں
(1) قرآنِ پاک اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے اسی لئے سب سے پہلے اس کا ذکر فرمایا ۔
(2) حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے پاس قرآن پاک بظاہر حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَام کے واسطے سے آیا لیکن در حقیقت اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو قرآن سکھایا ۔
(3) مخلوق میں سے حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا کوئی استاد نہیں بلکہ آپ کا علم مخلوق کے واسطے کے بغیر اللہ تعالیٰ کی عطا سے ہے ۔
(4) حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو قرآنِ پاک کے مُتَشابہات کا علم بھی دیا گیا ہے کیونکہ جب اللہ تعالیٰ نے سارا قرآن اپنے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو سکھادیا تو اس میں متشابہات کا علم بھی آگیا کہ یہ بھی قرآنِ پاک کا حصہ ہی ہیں ۔
(5) اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو تمام اَشیاء کے نام سکھائے،جیساکہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے : ’’وَ عَلَّمَ اٰدَمَ الْاَسْمَآءَ كُلَّهَا‘‘ ۔ (سورہ بقرہ:۳۱)
ترجمہ : اور اللہ تعالیٰ نے آدم کو تمام اشیاء کے نام سکھادیے ۔
حضرت داؤد عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو زِرہ بنانا سکھائی ،چنانچہ ارشاد فرمایا : ’’وَ عَلَّمْنٰهُ صَنْعَةَ لَبُوْسٍ لَّكُمْ‘‘ ۔(انبیاء:۸۰)
ترجمہ : اور ہم نے تمہار
مشہور مفسّر امام بغوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : خلق الانسان یعنی محمداً صلیﷲ علیہ وسلم علمہ البیان یعنی بیان ماکان ومایکون ۔
ترجمہ : اس آیت میں انسان سے مراد محمد صلیﷲ علیہ وسلم ہیں اور بیان سے مراد ماکان ومایکون کا بیان ہے ۔ (تفسیر البغوی (معالم التنزیل) صفحہ ١٢٥٧) ابی محمد حسین بن مسعود البغوی رحمۃ اللہ علیہ (متوفی ٥١٦ھ)
امام قرطبی رحمۃ اللہ علیہ یوں فرماتے ہیں : الانسان ھاھنا یراد بہ محمد صلیﷲعلیہ وسلم صلی ﷲعلیہ وسلم والبیان وقیل ماکان ومایکون ۔
ترجمہ : اس آیت میں انسان سے مراد محمد صلیﷲ علیہ وسلم ہیں اور بیان سے مراد (بعض کہتے ہیں) ماکان ومایکون کا بیان ہے ۔ (الجامع الاحکام القرآن والمبین لما تضمنہ من السنتہ وآی الفرقان الجزءالعشرون صفحہ١١٣) ابی عبد ﷲ محمد بن احمد بن ابی بکر القرطبی رحمۃ اللہ علیہ ۔ (متوفی ٦٧١ھ)
امام ابن عادل حنبلی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : المراد بالانسان ھنا محمد علیہ السلام علمہ البیان وقیل ماکان ومایکون ۔
ترجمہ : اس آیت میں انسان سے مراد محمد صلیﷲ علیہ وسلم ہیں اور بیان سے مراد (بعض کہتے ہیں) ماکان ومایکون کا بیان ہے ۔
(اللباب فی علوم الکتاب المشہور تفسیر ابن عادل الجزء الثامن عشر صفحہ٢٩٣-٢٩٤)ابی حفص عمر بن علی ابن عادل الدمشقی الحنبلی رحمۃ اللہ علیہ (متوفی ٨٨٠ھ،چشتی)
امام ثعلبی رحمۃ اللہ علیہ کی تفسیر میں موجود ہے : خلق الانسان یعنی محمداً صلیﷲ علیہ وسلم علمہ البیان یعنی بیان ماکان ومایکون ۔
ترجمہ : اس آیت میں انسان سے مراد محمد صلیﷲ علیہ وسلم ہیں اور بیان سے مراد ماکان ومایکون کا بیان ہے ۔ (الکشف والبیان فی تفسیر القران المشہور تفسیر الثعلبی الجزء السادس صفحہ٤٨ ، العلامہ ابی اسحٰق احمد بن محمد بن ابراھیم الثعلبی رحمۃ اللہ علیہ (متوفی ٤٢٧ھ)
اَلرَّحْمٰنُ : رحمن ۔ اس آیت کے شانِ نزول کے بارے میں ایک قول یہ ہے کہ جب سورۂ فرقان کی آیت نمبر60 نازل ہوئی جس میں رحمن کو سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا توکفارِ مکہ نے کہا کہ رحمن کیا ہے ہم نہیں جانتے ،اس پر اللہ تعالیٰ نے سورۃُ الرّحمن نازل فرمائی کہ رحمن جس کا تم انکار کرتے ہو وہی ہے جس نے قرآن نازل فرمایا ۔ اور ایک قول یہ ہے کہ اہل ِمکہ نے جب کہا کہ محمد (مصطفی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ) کو کوئی بشر سکھاتا ہے تو یہ آیت نازل ہوئی اور اللہ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی نے فرمایا کہ رحمن نے قرآن اپنے حبیب محمد مصطفی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو سکھایا ۔ (تفسیر خازن، الرحمن، تحت الآیۃ: ۱-۲، ۴/۲۰۸)
اِس معنی کے اعتبار سے ان آیات سے 5 باتیں معلوم ہوئیں
(1) قرآنِ پاک اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے اسی لئے سب سے پہلے اس کا ذکر فرمایا ۔
(2) حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے پاس قرآن پاک بظاہر حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَام کے واسطے سے آیا لیکن در حقیقت اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو قرآن سکھایا ۔
(3) مخلوق میں سے حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا کوئی استاد نہیں بلکہ آپ کا علم مخلوق کے واسطے کے بغیر اللہ تعالیٰ کی عطا سے ہے ۔
(4) حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو قرآنِ پاک کے مُتَشابہات کا علم بھی دیا گیا ہے کیونکہ جب اللہ تعالیٰ نے سارا قرآن اپنے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو سکھادیا تو اس میں متشابہات کا علم بھی آگیا کہ یہ بھی قرآنِ پاک کا حصہ ہی ہیں ۔
(5) اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو تمام اَشیاء کے نام سکھائے،جیساکہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے : ’’وَ عَلَّمَ اٰدَمَ الْاَسْمَآءَ كُلَّهَا‘‘ ۔ (سورہ بقرہ:۳۱)
ترجمہ : اور اللہ تعالیٰ نے آدم کو تمام اشیاء کے نام سکھادیے ۔
حضرت داؤد عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو زِرہ بنانا سکھائی ،چنانچہ ارشاد فرمایا : ’’وَ عَلَّمْنٰهُ صَنْعَةَ لَبُوْسٍ لَّكُمْ‘‘ ۔(انبیاء:۸۰)
ترجمہ : اور ہم نے تمہار
ے فائدے کیلئے اسے (جنگی) لباس کی صنعت سکھا دی ۔
حضرت سلیمان عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو پرندوں کی زبان سکھائی ،جیسا کہ حضرت سلیمان عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے ا س کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا:’’ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ عُلِّمْنَا مَنْطِقَ الطَّیْرِ‘‘۔(سورہ نمل:۱۶)
ترجمہ : اے لوگو!ہمیں پرندوں کی بولی سکھائی گئی ہے۔
حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو طب ، تورات اور انجیل کا علم عطا فرمایا، ارشادِباری تعالیٰ ہے:’’وَ یُعَلِّمُهُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ التَّوْرٰىةَ وَ الْاِنْجِیْلَ‘‘ ۔ (اٰل عمران:۴۸)
ترجمہ : اور اللہ اسے کتاب اور حکمت اور توریت اور انجیل سکھائے گا۔
حضرت خضر عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو علمِ لدُنی عطا فرمایا،چنانچہ ارشاد فرمایا:’’وَ عَلَّمْنٰهُ مِنْ لَّدُنَّا عِلْمًا‘‘ ۔ (کہف:۶۵)
ترجمہ : اور اسے اپنا علم لدنی عطا فرمایا ۔
اور اپنے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو جو کچھ سکھایا اس کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ : ’’ اَلرَّحْمٰنُۙ(۱) عَلَّمَ الْقُرْاٰنَ‘‘
ترجمہ : رحمن نے ، قرآن سکھایا ۔
ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا : ’’وَ اِنَّكَ لَتُلَقَّى الْقُرْاٰنَ مِنْ لَّدُنْ حَكِیْمٍ عَلِیْمٍ‘‘ ۔ (نمل:۶)
ترجمہ : اور (اے محبوب!) بیشک آپ کو حکمت والے، علم والے کی طرف سے قرآن سکھایا جاتا ہے ۔
اور ایک جگہ واضح طور پر فرمادیا کہ : ’’وَ عَلَّمَكَ مَا لَمْ تَكُنْ تَعْلَمُ‘‘(النساء:۱۱۳)
ترجمہ : اور آپ کو وہ سب کچھ سکھا دیا جو آپ نہ جانتے تھے ۔
اس سے معلوم ہوا کہ نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کاعلم تمام اَنبیاء ِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام بلکہ تمام مخلوق سے زیادہ ہے ۔
عَنْ عَمْرِو بْنِ اَخْطَبَ الْاَ نْصَارِیِّ قَالَ: صَلَّی بِنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَوْمًا الْفَجْرَ وَصَعِدَ عَلَی الْمِنْبَرِ فَخَطَبَنَا حَتّٰی حَضَرَتِ الظُّھْرُ فَنَزَلَ فَصَلَّی ثُمَّ صَعِدَ الْمِنْبَرَ فَخَطَبَنَا حَتّٰی حَضَرَتِ الْعَصْرُ ثُمَّ نَزَلَ فَصَلَّی ثُمَّ صَعِدَ الْمِنْبَرَ حَتّٰی غَرَبَتِ الشَّمْسُ فَاَخْبَرَنَا بِمَا ھُوَ کَاءنٌ اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ قَالَ: فَاَعْلَمُنَا اَحْفَظُنَا ۔ (مشکاۃ المصابیح،کتاب احوال القیامۃ وبدء الخلق،باب فی المعجزات، الحدیث:۵۹۳۶، ج۲،ص ۳۹۷ ، چشتی)۔(مشکوٰۃ،باب المعجزات،ص۵۴۳)
ترجمہ : حضرت عَمْرو بن اَخْطَب اَنصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا کہ ایک دن ہم لوگوں کو رسول اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فجر کی نماز پڑھائی اور منبر پر تشریف فرما ہوئے اور ظہر کی نماز تک خطبہ پڑھتے رہے پھر اُترے اور نماز پڑھ کر پھرمنبر پر تشریف فرما ہوئے اور خطبہ دیتے رہے یہاں تک کہ عصر کی نماز کا وقت آگیا پھر اُترے اور نماز پڑھی پھرمنبر پر تشریف فرما ہوئے اور سورج ڈوبنے تک خطبہ پڑھتے رہے تو (اس دن بھر کے خطبہ میں) ہم لوگوں کو حضور نے تمام ان چیزوں اور باتوں کی خبر دے دی جو قیامت تک ہونے والی ہیں تو ہم صحابہ میں سب سے بڑا عالم وہی ہے جس نے سب سے زیادہ اس خطبہ کو یاد رکھاہے ۔
حضرت عَمْرو بن اَخْطَب : اِس حدیث کے راوی حضرت عَمْرو بن اَخْطَب رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں ۔یہ اَنصاری ہیں اور ان کی کنیت ’’اَبو زید‘‘ہے اور محدثین کے نزدیک ان کی کنیت ان کے نام سے زیادہ مشہور ہے ۔ یہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ بہت سے غزوات میں شریک ِجہاد رہے۔حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ایک مرتبہ محبت اور پیار سے ان کے سر پر ہاتھ پھیر دیااور ان کی خوبصورتی کے لیے دعا فرمائیی۔جس کا یہ اثر ہوا کہ ان کی سو برس کی عمر ہوگئی تھی مگر سر اور داڑھی کے چند ہی بال سفید ہوئے تھے اور آخری عمر تک چہرے کا حسن و جمال باقی رہا ۔ (اکمال فی اسماء الرجال، حرف العین، فصل فی الصحابۃ، صفحہ نمبر ۶۰۷، چشتی)
مختصر شرحِ حدیث : یہ حدیث مسلم شریف میں بھی ہے ۔ اس حدیث کا خلاصہ یہ ہے کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نماز فجر سے غروب آفتاب تک بجز ظہر و عصر پڑھنے کے برابر دن بھر خطبہ ہی میں مشغول رہے اور سامعین سُنتے رہے اور اس خطبہ میں حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے قیامت تک کے ہونے والے تمام واقعات تمام چیزوں اور تمام باتوں کی سامعین کو خبر دے دی اور صحابہ میں سے جس نے جس قدر زیادہ اس خطبہ کو یاد رکھا اتنا ہی بڑا وہ عالم شمار کیا جاتا تھا ۔ (صحیح مسلم،کتاب الفتن واشراط الساعۃ،باب اخبارالنبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم۔۔۔الخ، الحدیث:۲۸۹۲،ص۱۵۴۶)
یہ حدیث حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے معجزات میں سے ہے کہ قیامت تک کے کروڑوں واقعات کو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے صرف دن بھر کے خطبہ میں بیان فرما دیا۔صحیح حدیثوں سے ثابت ہے کہ حضرت داود علیہ السلا
حضرت سلیمان عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو پرندوں کی زبان سکھائی ،جیسا کہ حضرت سلیمان عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے ا س کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا:’’ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ عُلِّمْنَا مَنْطِقَ الطَّیْرِ‘‘۔(سورہ نمل:۱۶)
ترجمہ : اے لوگو!ہمیں پرندوں کی بولی سکھائی گئی ہے۔
حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو طب ، تورات اور انجیل کا علم عطا فرمایا، ارشادِباری تعالیٰ ہے:’’وَ یُعَلِّمُهُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ التَّوْرٰىةَ وَ الْاِنْجِیْلَ‘‘ ۔ (اٰل عمران:۴۸)
ترجمہ : اور اللہ اسے کتاب اور حکمت اور توریت اور انجیل سکھائے گا۔
حضرت خضر عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو علمِ لدُنی عطا فرمایا،چنانچہ ارشاد فرمایا:’’وَ عَلَّمْنٰهُ مِنْ لَّدُنَّا عِلْمًا‘‘ ۔ (کہف:۶۵)
ترجمہ : اور اسے اپنا علم لدنی عطا فرمایا ۔
اور اپنے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو جو کچھ سکھایا اس کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ : ’’ اَلرَّحْمٰنُۙ(۱) عَلَّمَ الْقُرْاٰنَ‘‘
ترجمہ : رحمن نے ، قرآن سکھایا ۔
ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا : ’’وَ اِنَّكَ لَتُلَقَّى الْقُرْاٰنَ مِنْ لَّدُنْ حَكِیْمٍ عَلِیْمٍ‘‘ ۔ (نمل:۶)
ترجمہ : اور (اے محبوب!) بیشک آپ کو حکمت والے، علم والے کی طرف سے قرآن سکھایا جاتا ہے ۔
اور ایک جگہ واضح طور پر فرمادیا کہ : ’’وَ عَلَّمَكَ مَا لَمْ تَكُنْ تَعْلَمُ‘‘(النساء:۱۱۳)
ترجمہ : اور آپ کو وہ سب کچھ سکھا دیا جو آپ نہ جانتے تھے ۔
اس سے معلوم ہوا کہ نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کاعلم تمام اَنبیاء ِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام بلکہ تمام مخلوق سے زیادہ ہے ۔
عَنْ عَمْرِو بْنِ اَخْطَبَ الْاَ نْصَارِیِّ قَالَ: صَلَّی بِنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَوْمًا الْفَجْرَ وَصَعِدَ عَلَی الْمِنْبَرِ فَخَطَبَنَا حَتّٰی حَضَرَتِ الظُّھْرُ فَنَزَلَ فَصَلَّی ثُمَّ صَعِدَ الْمِنْبَرَ فَخَطَبَنَا حَتّٰی حَضَرَتِ الْعَصْرُ ثُمَّ نَزَلَ فَصَلَّی ثُمَّ صَعِدَ الْمِنْبَرَ حَتّٰی غَرَبَتِ الشَّمْسُ فَاَخْبَرَنَا بِمَا ھُوَ کَاءنٌ اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ قَالَ: فَاَعْلَمُنَا اَحْفَظُنَا ۔ (مشکاۃ المصابیح،کتاب احوال القیامۃ وبدء الخلق،باب فی المعجزات، الحدیث:۵۹۳۶، ج۲،ص ۳۹۷ ، چشتی)۔(مشکوٰۃ،باب المعجزات،ص۵۴۳)
ترجمہ : حضرت عَمْرو بن اَخْطَب اَنصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا کہ ایک دن ہم لوگوں کو رسول اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فجر کی نماز پڑھائی اور منبر پر تشریف فرما ہوئے اور ظہر کی نماز تک خطبہ پڑھتے رہے پھر اُترے اور نماز پڑھ کر پھرمنبر پر تشریف فرما ہوئے اور خطبہ دیتے رہے یہاں تک کہ عصر کی نماز کا وقت آگیا پھر اُترے اور نماز پڑھی پھرمنبر پر تشریف فرما ہوئے اور سورج ڈوبنے تک خطبہ پڑھتے رہے تو (اس دن بھر کے خطبہ میں) ہم لوگوں کو حضور نے تمام ان چیزوں اور باتوں کی خبر دے دی جو قیامت تک ہونے والی ہیں تو ہم صحابہ میں سب سے بڑا عالم وہی ہے جس نے سب سے زیادہ اس خطبہ کو یاد رکھاہے ۔
حضرت عَمْرو بن اَخْطَب : اِس حدیث کے راوی حضرت عَمْرو بن اَخْطَب رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں ۔یہ اَنصاری ہیں اور ان کی کنیت ’’اَبو زید‘‘ہے اور محدثین کے نزدیک ان کی کنیت ان کے نام سے زیادہ مشہور ہے ۔ یہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ بہت سے غزوات میں شریک ِجہاد رہے۔حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ایک مرتبہ محبت اور پیار سے ان کے سر پر ہاتھ پھیر دیااور ان کی خوبصورتی کے لیے دعا فرمائیی۔جس کا یہ اثر ہوا کہ ان کی سو برس کی عمر ہوگئی تھی مگر سر اور داڑھی کے چند ہی بال سفید ہوئے تھے اور آخری عمر تک چہرے کا حسن و جمال باقی رہا ۔ (اکمال فی اسماء الرجال، حرف العین، فصل فی الصحابۃ، صفحہ نمبر ۶۰۷، چشتی)
مختصر شرحِ حدیث : یہ حدیث مسلم شریف میں بھی ہے ۔ اس حدیث کا خلاصہ یہ ہے کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نماز فجر سے غروب آفتاب تک بجز ظہر و عصر پڑھنے کے برابر دن بھر خطبہ ہی میں مشغول رہے اور سامعین سُنتے رہے اور اس خطبہ میں حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے قیامت تک کے ہونے والے تمام واقعات تمام چیزوں اور تمام باتوں کی سامعین کو خبر دے دی اور صحابہ میں سے جس نے جس قدر زیادہ اس خطبہ کو یاد رکھا اتنا ہی بڑا وہ عالم شمار کیا جاتا تھا ۔ (صحیح مسلم،کتاب الفتن واشراط الساعۃ،باب اخبارالنبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم۔۔۔الخ، الحدیث:۲۸۹۲،ص۱۵۴۶)
یہ حدیث حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے معجزات میں سے ہے کہ قیامت تک کے کروڑوں واقعات کو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے صرف دن بھر کے خطبہ میں بیان فرما دیا۔صحیح حدیثوں سے ثابت ہے کہ حضرت داود علیہ السلا
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
منقول
*"مغالطہ"*
*آج کل کی بیویاں خاوند کو اس طرح بلاتی ہیں، جیسے بچے کو۔ اتنا بے تکلفانہ انداز۔ انجان بندہ سمجھ ہی نہیں پاتا کہ مخاطب شخص شوھر ہے یا کچھ اور۔*
*ایک خاتون بولیں:*
*" میں اس "فہد" سے بہت تنگ ہوں، پریشان کر رکھا ہے اس نے۔ اتنا گند ڈالتا ہے کہ کمرے کا حشر بگاڑ دیتا ہے۔"*
*ہم ہمدردی سے بولے:*
*" بس جی! آج کل کی اولاد ہے ہی نالائق۔"*
*خاتون بگڑ کر بولیں:*
*"ہائے دماغ ٹھیک ہے۔۔۔*
*فہد، اولاد نہیں، میری اولاد کا پاپا ہے۔"*
*"آپ ہی بتائیں، اِس میں ہمارا کیا قصور؟ ہم کو جو لگا، سو کہہ دیا۔"*
*آج کل میاں بیوی، انتہائی محبت کا اظہار کرتے ہوئے بات چیت بھی ایسے کرتے ہیں کہ اچھا خاصا بندہ دھوکا کھا جائے۔ معلوم ہی نہیں ہوتا کہ لاڈ بچوں سے ہو رہا کہ آپس میں۔*
*مائی بےبی،*
*مائی مونا،*
*مائی سوئٹو، شونو مونو۔*
*ایک دفعہ شادی کی دعوت کے دوران ایک فیملی کی طرف میری پشت تھی۔*
*ان میں سے ایک صاحب بار بار کہہ رھے تھے۔۔۔۔*
*"بےبی تم کھانا کھاؤ، مُجھے پریشان نہ کرو۔ "*
*میں نے ازراہِ ہمدری کہا:* *"بھائی آپ کھانا کھالیں۔۔۔*
*" بےبی "کو میں پکڑ لیتا ہوں۔"* 😜😜😜😜
*بس اچانک ایک مُکّا پڑا۔۔۔*
*اُس کے بعد چراغوں میں، روشنی نہ رہی ۔*
😏😏😏😏😏
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2864907693788539&id=100008080090753
*"مغالطہ"*
*آج کل کی بیویاں خاوند کو اس طرح بلاتی ہیں، جیسے بچے کو۔ اتنا بے تکلفانہ انداز۔ انجان بندہ سمجھ ہی نہیں پاتا کہ مخاطب شخص شوھر ہے یا کچھ اور۔*
*ایک خاتون بولیں:*
*" میں اس "فہد" سے بہت تنگ ہوں، پریشان کر رکھا ہے اس نے۔ اتنا گند ڈالتا ہے کہ کمرے کا حشر بگاڑ دیتا ہے۔"*
*ہم ہمدردی سے بولے:*
*" بس جی! آج کل کی اولاد ہے ہی نالائق۔"*
*خاتون بگڑ کر بولیں:*
*"ہائے دماغ ٹھیک ہے۔۔۔*
*فہد، اولاد نہیں، میری اولاد کا پاپا ہے۔"*
*"آپ ہی بتائیں، اِس میں ہمارا کیا قصور؟ ہم کو جو لگا، سو کہہ دیا۔"*
*آج کل میاں بیوی، انتہائی محبت کا اظہار کرتے ہوئے بات چیت بھی ایسے کرتے ہیں کہ اچھا خاصا بندہ دھوکا کھا جائے۔ معلوم ہی نہیں ہوتا کہ لاڈ بچوں سے ہو رہا کہ آپس میں۔*
*مائی بےبی،*
*مائی مونا،*
*مائی سوئٹو، شونو مونو۔*
*ایک دفعہ شادی کی دعوت کے دوران ایک فیملی کی طرف میری پشت تھی۔*
*ان میں سے ایک صاحب بار بار کہہ رھے تھے۔۔۔۔*
*"بےبی تم کھانا کھاؤ، مُجھے پریشان نہ کرو۔ "*
*میں نے ازراہِ ہمدری کہا:* *"بھائی آپ کھانا کھالیں۔۔۔*
*" بےبی "کو میں پکڑ لیتا ہوں۔"* 😜😜😜😜
*بس اچانک ایک مُکّا پڑا۔۔۔*
*اُس کے بعد چراغوں میں، روشنی نہ رہی ۔*
😏😏😏😏😏
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2864907693788539&id=100008080090753
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
ہم دین سمجھ کر نہیں کرتے وہابیہ دیابنہ کے فریب کا جواب
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
محترم قارٸینِ کرام : بدعت کے دوروں میں مبتلا لوگ ایک من گھڑت قاعدہ بیان کرتے ہیں کہ : ’’للدین‘‘ (یعنی دین کے لئے) نیا اچھا کام جائز ہے اور’’فی الدین‘‘(دین میں بدعت) نیا اچھا کام ایجاد کرنا ناجائز ہے۔یا پھر ’’لغوی بدعت ‘‘کہہ کر اپنے جدید کاموں کو جائز قرار دیتے ہیں جبکہ ذکر میلاد النبی صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم ،صلوۃ وسلام اورایصال ثواب کی محافل وغیرہ کو بدعت کہتے ہیں ۔
جواب
(1) سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ وہابی حضرات اپنے اصول کے مطابق ’’للدین ‘‘اور’’فی الدین‘‘ کایہ قاعدہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم سے ثابت کریں یا صحابہ کرامعلہیم الرضوان اجمعین سے ثابت کریں یا تابعین و تابع تابعین علہیم الرضوان اجمعین سے ثابت کریں۔عجیب بات ہے کہ ہم سنیوں سے تو ہر ہربات پر ثبوت مانگا جاتا ہے لیکن خود اتنے بڑے قاعدے جس پر شریعت کا دارومدار قائم کیا اس پر وہابی کوئی ایک بھی دلیل پیش نہیں کر سکتے لہذا ہم وہابیوں سے اس قاعدے کے ثبوت کا مطالبہ کرتے ہیں۔
(2) دوسری بات یہ ہے کہ منکرین تو حدیث ’’کل بدعۃ ضلالہ‘ ‘( ہرنیا کام گمراہی ہے ) کے تحت کہتے ہیں کہ یہاں ’’کل‘‘ عمومیت کیلئے ہے لہذا ہر نیا کام گمراہی ہے۔تو اب ہم وہابیوں سے سوال کرتے ہیں کہ ’’للدین‘‘’’یا’’ لغوی بدعت‘‘ وغیرہ کہہ جن نئے کاموں کو وہابی جائز قرار دیکر انہیں اختیار کرتے ہیں ۔وہ سب اس ’’کل‘‘کی عمومیت سے کس طرح خارج ہو گئے ہیں؟ جب ہر بدعت (نیا کام)گمراہی ہے تو پھریہ کہاں لکھا ہے کہ دین اسلام کے لئے (للدین) گمراہی نکالنا جائز ہے ؟گمراہی تو بہر صورت گمراہی ہے اور یہ بات حدیث شریف میں قطعاََ نہیں کہ دین کے لئے ’’للدین‘‘ گمراہی جائز و ضروری ہے۔اور اُس گمراہی پر عمل کرنا درست ہے۔ پس یا تو وہابیوں کے اس قاعدے میں خرابی ہے یا کہ (معاذ اللہ) اِس دین میں ،جسکی تقویت لئے گمراہی پر عمل کی ضرورت پڑے۔اب دین (اسلام ) میں تو ہر گز ہرگز خرابی نہیں اس لئے ماننا پڑے گا کہ وہابیہ کے اس من گھڑت قاعددے میں خرابی ہے ۔
(3) تیسری بات یہ ہے کہ پورا ماہِ رمضان تروایح با جماعت پڑھنے کا حکم حضور صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم کے وصال کے بعد حضرتِ عمر رضی اللہ عنہ نے دیا اور پھر اس کے بارے میں فرمایا ’’نعمۃ البدعۃِ ھذا‘‘ (یعنی) یہ اچھی بدعت ہے‘‘(بخاری شریف باب فصل من قام رمضان،مشکوۃ شریف جلد اول باب قیام شھر رمضان صفحہ ۲۷۶۔چشتی)
تو اب ہم بدعت کے دوروں میں مبتلا لوگوں سے سوال کرتے ہیں کہ یہ تراویح کا طریقہ نماز ’’للدین‘‘ہے یا ’’فی الدین‘‘؟اب وہابی جو بھی جواب دیں اس کا ثبوت پیش کریں۔اگر للدین ہے تو کیا اس کو عبادت کا درجہ دینا اور کار ثواب سمجھنا جائز ہو گا؟اور اگر یہ عمل ’’فی الدین‘‘ہے تو کیا یہ ’’کل بدعۃ ضلالہ‘‘کے مخالف ہے کہ نہیں؟اور دین میں اضافہ ہے کہ نہیں ؟
اسی طرح وہابی یہ بھی کہہ دیتے ہیں کہ نماز تراویح کا مذکورہ عمل ’’لغوی بدعت ‘‘ہے تو ناچیز یہ سوال کرتا ہے کہ باالفرض یہی مان لیا جائے تو کیا یہ لغوی بدعت ’’عبادت ‘‘ہے کہ نہیں؟اس پر اجر و ثواب ملے گا کہ نہیں؟اور اسی طرح اگر کوئی محفل میلاد النبی صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم کو للدین سمجھ کر اختیار کرتا ہے تو یہ عمل بدعت ضلالہ سے خارج ہو کر جائز قرار پائے گا کہ نہیں ؟
(4) چوتھی بات یہ ہے کہ مخالفین کا یہ خود ساختہ قاعدہ نبی پاک صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم پر عدم اعتماد کا مظہر ہے۔کیونکہ نبی پاک صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم تو فی الدین (دین اسلام میں)کو مستحسن فرما رہے ہیں اور جو دین اسلام میں نہ ہو للدین سے منع فر ما رہے ہیں۔ چنانچہ حضورصلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم نے فرمایاکہ’من سن فی الاسلامہ سنہ حسنہ فلہ اجرھا و اجر من عمل بھا من بعد ہ من غیر ان ینقض من اجور ھم شئی‘‘جو کوئی (دین) اسلام میں اچھا طریقہ جاری کرے گا اِس کو اُس (نئے طریقہ کے جاری کرنے پر) ثواب ملے گا۔اور اُس کو بھی جو اس پر عمل کریں گے۔اور ان کے ثواب سے کچھ کم نہ ہو گا۔(صحیح مسلم کتاب الزکوۃ ۱/ ۳۲۷۔ترمذی کتاب العلم ۲/۹۲۔نسائی ۱/۱۹۱۔ابن ماجہ شریف ۱۸۔چشتی)
لہذا حضور صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم تودین اسلام میں نیا طریقہ، اچھے نئے کام کو ایجاد کرنے پر اجر و ثواب کی خوشخبری سنا رہے ہیں لیکن اعتراض کرنے والے نبی پاک صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم کی مخالفت کرتے ہوئے’’فی الاسلام‘‘(یعنی دین اسلام میں) ایجاد ات کو منع کر رہے ہیں ۔ اب خود سوچئے حضور فی الدین( دین اسلام میں نئے کاموں)کو جائز فرما رہے ہیں اور اعتراض کرنے والے فی الدین(دین اسلام میں نئے کاموں) کو گمراہی و جہالت کہہ رہے ہیں۔معاذ ﷲیہ کلیہ حضور صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم کے خلاف ہوا کہ نہیں ؟ کیا یہ حضور صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم کی مخ
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
محترم قارٸینِ کرام : بدعت کے دوروں میں مبتلا لوگ ایک من گھڑت قاعدہ بیان کرتے ہیں کہ : ’’للدین‘‘ (یعنی دین کے لئے) نیا اچھا کام جائز ہے اور’’فی الدین‘‘(دین میں بدعت) نیا اچھا کام ایجاد کرنا ناجائز ہے۔یا پھر ’’لغوی بدعت ‘‘کہہ کر اپنے جدید کاموں کو جائز قرار دیتے ہیں جبکہ ذکر میلاد النبی صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم ،صلوۃ وسلام اورایصال ثواب کی محافل وغیرہ کو بدعت کہتے ہیں ۔
جواب
(1) سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ وہابی حضرات اپنے اصول کے مطابق ’’للدین ‘‘اور’’فی الدین‘‘ کایہ قاعدہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم سے ثابت کریں یا صحابہ کرامعلہیم الرضوان اجمعین سے ثابت کریں یا تابعین و تابع تابعین علہیم الرضوان اجمعین سے ثابت کریں۔عجیب بات ہے کہ ہم سنیوں سے تو ہر ہربات پر ثبوت مانگا جاتا ہے لیکن خود اتنے بڑے قاعدے جس پر شریعت کا دارومدار قائم کیا اس پر وہابی کوئی ایک بھی دلیل پیش نہیں کر سکتے لہذا ہم وہابیوں سے اس قاعدے کے ثبوت کا مطالبہ کرتے ہیں۔
(2) دوسری بات یہ ہے کہ منکرین تو حدیث ’’کل بدعۃ ضلالہ‘ ‘( ہرنیا کام گمراہی ہے ) کے تحت کہتے ہیں کہ یہاں ’’کل‘‘ عمومیت کیلئے ہے لہذا ہر نیا کام گمراہی ہے۔تو اب ہم وہابیوں سے سوال کرتے ہیں کہ ’’للدین‘‘’’یا’’ لغوی بدعت‘‘ وغیرہ کہہ جن نئے کاموں کو وہابی جائز قرار دیکر انہیں اختیار کرتے ہیں ۔وہ سب اس ’’کل‘‘کی عمومیت سے کس طرح خارج ہو گئے ہیں؟ جب ہر بدعت (نیا کام)گمراہی ہے تو پھریہ کہاں لکھا ہے کہ دین اسلام کے لئے (للدین) گمراہی نکالنا جائز ہے ؟گمراہی تو بہر صورت گمراہی ہے اور یہ بات حدیث شریف میں قطعاََ نہیں کہ دین کے لئے ’’للدین‘‘ گمراہی جائز و ضروری ہے۔اور اُس گمراہی پر عمل کرنا درست ہے۔ پس یا تو وہابیوں کے اس قاعدے میں خرابی ہے یا کہ (معاذ اللہ) اِس دین میں ،جسکی تقویت لئے گمراہی پر عمل کی ضرورت پڑے۔اب دین (اسلام ) میں تو ہر گز ہرگز خرابی نہیں اس لئے ماننا پڑے گا کہ وہابیہ کے اس من گھڑت قاعددے میں خرابی ہے ۔
(3) تیسری بات یہ ہے کہ پورا ماہِ رمضان تروایح با جماعت پڑھنے کا حکم حضور صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم کے وصال کے بعد حضرتِ عمر رضی اللہ عنہ نے دیا اور پھر اس کے بارے میں فرمایا ’’نعمۃ البدعۃِ ھذا‘‘ (یعنی) یہ اچھی بدعت ہے‘‘(بخاری شریف باب فصل من قام رمضان،مشکوۃ شریف جلد اول باب قیام شھر رمضان صفحہ ۲۷۶۔چشتی)
تو اب ہم بدعت کے دوروں میں مبتلا لوگوں سے سوال کرتے ہیں کہ یہ تراویح کا طریقہ نماز ’’للدین‘‘ہے یا ’’فی الدین‘‘؟اب وہابی جو بھی جواب دیں اس کا ثبوت پیش کریں۔اگر للدین ہے تو کیا اس کو عبادت کا درجہ دینا اور کار ثواب سمجھنا جائز ہو گا؟اور اگر یہ عمل ’’فی الدین‘‘ہے تو کیا یہ ’’کل بدعۃ ضلالہ‘‘کے مخالف ہے کہ نہیں؟اور دین میں اضافہ ہے کہ نہیں ؟
اسی طرح وہابی یہ بھی کہہ دیتے ہیں کہ نماز تراویح کا مذکورہ عمل ’’لغوی بدعت ‘‘ہے تو ناچیز یہ سوال کرتا ہے کہ باالفرض یہی مان لیا جائے تو کیا یہ لغوی بدعت ’’عبادت ‘‘ہے کہ نہیں؟اس پر اجر و ثواب ملے گا کہ نہیں؟اور اسی طرح اگر کوئی محفل میلاد النبی صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم کو للدین سمجھ کر اختیار کرتا ہے تو یہ عمل بدعت ضلالہ سے خارج ہو کر جائز قرار پائے گا کہ نہیں ؟
(4) چوتھی بات یہ ہے کہ مخالفین کا یہ خود ساختہ قاعدہ نبی پاک صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم پر عدم اعتماد کا مظہر ہے۔کیونکہ نبی پاک صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم تو فی الدین (دین اسلام میں)کو مستحسن فرما رہے ہیں اور جو دین اسلام میں نہ ہو للدین سے منع فر ما رہے ہیں۔ چنانچہ حضورصلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم نے فرمایاکہ’من سن فی الاسلامہ سنہ حسنہ فلہ اجرھا و اجر من عمل بھا من بعد ہ من غیر ان ینقض من اجور ھم شئی‘‘جو کوئی (دین) اسلام میں اچھا طریقہ جاری کرے گا اِس کو اُس (نئے طریقہ کے جاری کرنے پر) ثواب ملے گا۔اور اُس کو بھی جو اس پر عمل کریں گے۔اور ان کے ثواب سے کچھ کم نہ ہو گا۔(صحیح مسلم کتاب الزکوۃ ۱/ ۳۲۷۔ترمذی کتاب العلم ۲/۹۲۔نسائی ۱/۱۹۱۔ابن ماجہ شریف ۱۸۔چشتی)
لہذا حضور صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم تودین اسلام میں نیا طریقہ، اچھے نئے کام کو ایجاد کرنے پر اجر و ثواب کی خوشخبری سنا رہے ہیں لیکن اعتراض کرنے والے نبی پاک صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم کی مخالفت کرتے ہوئے’’فی الاسلام‘‘(یعنی دین اسلام میں) ایجاد ات کو منع کر رہے ہیں ۔ اب خود سوچئے حضور فی الدین( دین اسلام میں نئے کاموں)کو جائز فرما رہے ہیں اور اعتراض کرنے والے فی الدین(دین اسلام میں نئے کاموں) کو گمراہی و جہالت کہہ رہے ہیں۔معاذ ﷲیہ کلیہ حضور صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم کے خلاف ہوا کہ نہیں ؟ کیا یہ حضور صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم کی مخ
الفت نہیں کی جا ر ہی ؟
اور پھریہ لوگ جو فی الدین سے خارج ہو اس کو ’’للدین‘‘ (دین اسلام کے لئے) کانام دیکر اچھا قرار دیتے ہیں جبکہ حضور صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم فی دین سے خارج کو بُرا فرماتے ہیں جیسا کہ خود پیارے آقا صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم نے ارشاد فرمایا’ما لیس منہ‘‘جو دین میں سے نہ ہو‘‘یعنی جس کی اصل دین میں ثابت نہ ہو وہ رد ہے۔پس ان فی الدین کے منکروں کو ’’جو دین میں سے نہ ہو‘‘کے الفاظ پر غور کر نا چاہیے ۔
نہ معلوم ان لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ جو دین میں نہ ہو’’یعنی جس کو حضور صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم رد فر ما رہے ہیں ‘‘اُس’’مردود‘‘کویہ منکر ’’للدین کا نام دیکر اچھا کہہ رہے ہیں اور جس کو حضور صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم ’’سنہ حسنہ ‘‘کہہ کر ’’فی الاسلام‘‘میں داخل کر کے رہے ہیں اس کو یہ منکر ’’فی الدین‘‘ کا نام دے کر ناجائز قرار دے رہے ہیں۔گو کہ جس کام کو حضور صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم اچھا فرما رہے ہیں اس کو یہ ناجائز کہہ رہے ہیں اور جس کو حضور صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم مردود فرما رہے ہیں اس کویہ منکرین جائز کہہ رہے ہیں ۔ معاذﷲ ! ! لہذااعتراض کرنے والوں کا یہ کلیہ سراسر ارشاداتِ نبوی صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم کے خلاف ہے اس لئے وہابیہ کا ’’للدین‘‘ کایہ قاعددہ، کلیہ مخالف حدیث نبوی صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم ہونے کے باعث مردودوباطل ٹھہرا ۔
(5) پھر بدعت کے دوروں میں مبتلا لوگوں کے نزدیک صرف میلاد ، عرس ، ذکر ، صلوۃ وسلام ہی ایسے کام ہیں جو فی الدین ہیں اور باقی وہابیوں کی محافل ، جلسے جلوس ، اجتماعات کو وہابی حضرات’’ للدین‘‘ کہہ کر جائز قرار دیتے ہیں؟للدین اور فی ا لدین کا یہ معیار کسی اصولِ شریعت کے مطابق نہیں اگر ایسا ہوتا تو وہ اصول شریعت بتایا جاتا محض للدین اور فی الدین کی لفاظی کا چکر نہ چلایا جاتا۔
خدا را انصاف فرمائیے!شرک و بدعت کی اس خانہ ساز شریعت میں میلاد و عرس جیسے کام (جن میں عظمتِ انبیاء علیہم السّلام کرام و اولیاء عظام علیہم الرّحمہ ہے) بدعت و حرام ہیں ۔ اور ان پر اپنی طرف سے فی الدین کا چکر چلاتے ہیں لیکن ان کے علاوہ ان کے اپنے من گھڑت نئے کام بدعات کے کی فہرست سے نکل کرجائز ہو جاتے ہیں۔کیا کتاب و سنت سے کوئی ایسا حوالہ پیش کیا جا سکتا ہے جس میں میلاد و عرس وغیرہ کو تو بدعت و حرام قرار دیا ہو اور دیگر متذکرہ امور کو سنت و جائز قرار دیا ہو؟ھا تو ابرھانکم ان کنتم صدیقین۔(طالبِ دعا ڈاکٹر فیض احمد چشتی)
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2868831276729514&id=100008080090753
اور پھریہ لوگ جو فی الدین سے خارج ہو اس کو ’’للدین‘‘ (دین اسلام کے لئے) کانام دیکر اچھا قرار دیتے ہیں جبکہ حضور صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم فی دین سے خارج کو بُرا فرماتے ہیں جیسا کہ خود پیارے آقا صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم نے ارشاد فرمایا’ما لیس منہ‘‘جو دین میں سے نہ ہو‘‘یعنی جس کی اصل دین میں ثابت نہ ہو وہ رد ہے۔پس ان فی الدین کے منکروں کو ’’جو دین میں سے نہ ہو‘‘کے الفاظ پر غور کر نا چاہیے ۔
نہ معلوم ان لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ جو دین میں نہ ہو’’یعنی جس کو حضور صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم رد فر ما رہے ہیں ‘‘اُس’’مردود‘‘کویہ منکر ’’للدین کا نام دیکر اچھا کہہ رہے ہیں اور جس کو حضور صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم ’’سنہ حسنہ ‘‘کہہ کر ’’فی الاسلام‘‘میں داخل کر کے رہے ہیں اس کو یہ منکر ’’فی الدین‘‘ کا نام دے کر ناجائز قرار دے رہے ہیں۔گو کہ جس کام کو حضور صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم اچھا فرما رہے ہیں اس کو یہ ناجائز کہہ رہے ہیں اور جس کو حضور صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم مردود فرما رہے ہیں اس کویہ منکرین جائز کہہ رہے ہیں ۔ معاذﷲ ! ! لہذااعتراض کرنے والوں کا یہ کلیہ سراسر ارشاداتِ نبوی صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم کے خلاف ہے اس لئے وہابیہ کا ’’للدین‘‘ کایہ قاعددہ، کلیہ مخالف حدیث نبوی صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم ہونے کے باعث مردودوباطل ٹھہرا ۔
(5) پھر بدعت کے دوروں میں مبتلا لوگوں کے نزدیک صرف میلاد ، عرس ، ذکر ، صلوۃ وسلام ہی ایسے کام ہیں جو فی الدین ہیں اور باقی وہابیوں کی محافل ، جلسے جلوس ، اجتماعات کو وہابی حضرات’’ للدین‘‘ کہہ کر جائز قرار دیتے ہیں؟للدین اور فی ا لدین کا یہ معیار کسی اصولِ شریعت کے مطابق نہیں اگر ایسا ہوتا تو وہ اصول شریعت بتایا جاتا محض للدین اور فی الدین کی لفاظی کا چکر نہ چلایا جاتا۔
خدا را انصاف فرمائیے!شرک و بدعت کی اس خانہ ساز شریعت میں میلاد و عرس جیسے کام (جن میں عظمتِ انبیاء علیہم السّلام کرام و اولیاء عظام علیہم الرّحمہ ہے) بدعت و حرام ہیں ۔ اور ان پر اپنی طرف سے فی الدین کا چکر چلاتے ہیں لیکن ان کے علاوہ ان کے اپنے من گھڑت نئے کام بدعات کے کی فہرست سے نکل کرجائز ہو جاتے ہیں۔کیا کتاب و سنت سے کوئی ایسا حوالہ پیش کیا جا سکتا ہے جس میں میلاد و عرس وغیرہ کو تو بدعت و حرام قرار دیا ہو اور دیگر متذکرہ امور کو سنت و جائز قرار دیا ہو؟ھا تو ابرھانکم ان کنتم صدیقین۔(طالبِ دعا ڈاکٹر فیض احمد چشتی)
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2868831276729514&id=100008080090753
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
کوئی ہم مسلک ، ہم سے دور ہونےلگے ، تو اُسے پیار محبت سے قریب کرنے کی کوشش کرنی چاہیے ، نہ کہ دو چار دھکے دے کر مزید دور کردینا چاہیے ۔
اپنے ، اپنے ہوتے ہیں ؛ اور بیگانوں سے ہزار درجے بہتر ہوتے ہیں ۔
✍️لقمان شاہد
14-11-2020 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3015113638768805&id=100008105947430
اپنے ، اپنے ہوتے ہیں ؛ اور بیگانوں سے ہزار درجے بہتر ہوتے ہیں ۔
✍️لقمان شاہد
14-11-2020 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3015113638768805&id=100008105947430
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
یہ پنجابی شعر جب بھی یاد آتا ہے ، میری ہنسی نکل جاتی ہے ؛ اور اس کا " مصداق " آنکھوں کے سامنے گھومنے لگتا ہے ۔ ؎
لَتھی چَڑھی دا فرق نہ کوئی ، کھانا تے خوش رہنا
سچ پُچھو تے مَوٹی عقل وی ، رب دا دِتا گَہنا
بعض باتیں ہوتی ہی ایسی ظریفانہ ہیں ، جنھیں سن کر انسان ہنسی روک نہیں پاتا ۔
رحمتِ عالمﷺ بھی بعض باتیں سن کر ہنس پڑتے تھے ، بعض دفعہ تو اتنا ہنستے کہ مبارک داڑھیں ظاہر ہوجاتیں ۔
حضور کب ہنستے ، کہاں ہنستے ، کتنا ہنستے ، اور کیسے ہنستے ؟
یہ سب جاننے کے لیے ، کتاب: " ضحک النبی ﷺ " ملاحظہ فرمائیں !
اللہ نے چاہا تو آپ ہنسیں گے بھی ، اور ہنسنے مسکرانے کا درست انداز بھی سیکھ جائیں گے ۔
کائنات کی ساری بہاریں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پھولوں کی مہکیں ، شاخوں کی لہکیں ، چڑیوں کی چہکیں ۔۔۔۔۔۔۔ اُس سید المعصومین ﷺ کی ایک ہنسی پر قربان ۔
✍لقمان شاہد
19-11-2020 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3018797058400463&id=100008105947430
لَتھی چَڑھی دا فرق نہ کوئی ، کھانا تے خوش رہنا
سچ پُچھو تے مَوٹی عقل وی ، رب دا دِتا گَہنا
بعض باتیں ہوتی ہی ایسی ظریفانہ ہیں ، جنھیں سن کر انسان ہنسی روک نہیں پاتا ۔
رحمتِ عالمﷺ بھی بعض باتیں سن کر ہنس پڑتے تھے ، بعض دفعہ تو اتنا ہنستے کہ مبارک داڑھیں ظاہر ہوجاتیں ۔
حضور کب ہنستے ، کہاں ہنستے ، کتنا ہنستے ، اور کیسے ہنستے ؟
یہ سب جاننے کے لیے ، کتاب: " ضحک النبی ﷺ " ملاحظہ فرمائیں !
اللہ نے چاہا تو آپ ہنسیں گے بھی ، اور ہنسنے مسکرانے کا درست انداز بھی سیکھ جائیں گے ۔
کائنات کی ساری بہاریں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پھولوں کی مہکیں ، شاخوں کی لہکیں ، چڑیوں کی چہکیں ۔۔۔۔۔۔۔ اُس سید المعصومین ﷺ کی ایک ہنسی پر قربان ۔
✍لقمان شاہد
19-11-2020 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3018797058400463&id=100008105947430
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM