*سازشیں اور قومی تقاضے*
_دشمنانِ اسلام کی سازشوں سے بیدار رہ کر مشرکین کے رسم و رواج سے احتیاط میں عافیت_
غلام مصطفیٰ رضوی
[نوری مشن مالیگاؤں]
’’عزیزانِ وطن! پاک مذہب اسلام جس کی ساری تعلیمات کا جوہر توحید و خدا پرستی ہے اُس کا دشمن تم صرف انگریزوں کو کیوں قرار دیتے ہو؛ ہر وہ مذہبِ باطل جو دُنیا میں موجود ہے؛ یا کسی وقت اختراع کیا جا سکتا ہے، وہ اس دین قویم اور صراطِ مستقیم کا دشمن جانی ہے؛ کفر و اسلام میں جب کہ تضاد ذاتی ہے؛ پس یہ محالِ عقلی ہے کہ کوئی مذہبِ کفر ٹھنڈی آنکھوں سے اسلام کو دیکھنا گوارا کرے؛ ہاں! مجبوری معذوری کی اور بات ہے، قرآن کریم نے سیکڑوں جگہ اسی کی خبر دی ہے، پس مسلمانوں کو خود اپنے آپ میں قوت پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔نہ کہ غیر قوم میں جذب و مدغم ہونا۔یہی شریعت کا فتویٰ ہے اور یہی عقلِ سلیم کا حکم۔‘‘[النور،ص۲۰۹، مطبوعہ ۱۹۲۱ء]
مذکورہ تمہیدی اقتباس ایک صدی پیش تر مفکر اسلام پروفیسر سید سلیمان اشرف بہاری (خلیفۂ اعلیٰ حضرت و سابق صدر شعبۂ دینیات مسلم یونی ورسٹی علی گڑھ)نے ارشاد فرمائے، جنھوں نے اسی زمانے میں ہندوؤں کی اسلام دشمنی کو بھانپ لیا تھا، اور ہندو مسلم اتحاد کی اس وجہ سے مخالفت کی تھی کہ اس سے اسلامی شعائر رفتہ رفتہ زد میں لائے جا رہے تھے۔ اسلامی تشخص مٹانے کی کوششیں کی جارہی تھیں۔
اسلام سب سے بڑی سچائی ہے۔ تمام مذاہبِ باطل؛ اسلام کے دشمن ہیں۔ اسلام کے مقابل انگریز نے سازشوں کے جال بنے۔ مسلمان! انگریز کے خلاف تھے لیکن ہندوؤں سے اشتراک و اتحاد کر لیا جس کا مقصدِ ظاہری ملک کو انگریزی استبداد سے آزاد کرانا تھا۔ جب کہ انگریز بھی دشمن تھے اور ہنود بھی۔ پھر ہنود سے اتحاد کی مہم جو ایک صدی قبل چلائی گئی اس کے منفی اثرات اسی زمانے میں ظاہر ہونے شروع ہوئے۔
*نتائج:*
[۱] آزادی کے وقت حکومت بجائے مسلمانوں کو لوٹانے کے مشرک لیڈران کو دی گئی تا کہ مسلمان دوبارہ اقتدار نہ پا سکیں۔جب کہ انگریز نے حکومت مسلمانوں سے چھینی تھی۔
[۲] ادغام و اشتراک کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہندوؤں کے کئی مراسم مسلم معاشرے میں اپنے پنجے گاڑنے میں کامیاب ہوئے، مذہبی روح اس سے متاثر ہوئی۔ جن مراسم سے نفرت کرنی تھی؛ ان سے انسیت بڑھی؛ آج جو بعض افراد ہولی، دیوالی، گنپتی جیسے شرکیہ معاملات میں شامل ہو جاتے ہیں یہ اسی ادغام و اشتراک کا نتیجہ ہے۔
[۳] حالات کے زیر اثر جہاں جہاں مسلمانوں نے مشرکین سے مل کر تحریکیں چلائیں وہیں ہماری ترقی کا گراف زوال پذیر ہوا۔ نان کو آپریشن کے نتیجے میں مسلم یونی ورسٹی علی گڑھ ، مدرسہ عالیہ کلکتہ اور اسلامیہ کالج لاہور تعلیمی دھارے میں پیچھے رہ گئے۔ اس خلا کے اثرات آج بھی محسوس کیے جا رہے ہیں۔
[۴] موجودہ حالات میں تحریکیں بے اثر ہو کر رہ گئیں، کہیں کوئی اثر مسلمانوں کے نہیں ظاہر ہو رہے جس کا سبب یہی ہے کہ ادغام و اشتراک نے مسلمانوں کی کمزوری ظاہر کی ہے جس کا فائدہ فرقہ پرست قوتیں پورا اٹھا رہی ہیں۔ کہیں کہیں قیادت در پردہ مشرکین سے متحد ہے یا کم از کم مرعوبیت کا شکار ہے-
[۵] انگریز کو ہم نے دشمن جانا، مشرکین سے کو دوست سمجھا، جب کہ دونوں ہی دشمن ہیں، آج یہی وجہ ہے کہ فرقہ پرست قیادت کہیں اسرائیل سے معاہدے کر رہی، کہیں امریکہ سے دفاعی اشیا کے سودے کر رہی، ان کے اتحاد کا میدان تمام دشمنانِ اسلام ہیں۔ پھر کیوں یہ ہمارے ہمدرد ہو سکتے ہیں؟
[٦] جب کہ ان مسلم مخالف طاقتوں سے اشتراک کا ہی نتیجہ ہے کہ آج بعض مسلم مراکز کی حکومتیں اسرائیل و امریکہ کے آگے جھکی ہوئی ہیں؛ لیکن اپنوں سے ملنے کا شعور نہیں آ رہا ہے...
*ہماری ذمہ داری:* ہمیں جو تکالیف پہنچ رہی ہیں وہ ہمارے ہی اعمال کا نتیجہ ہیں۔ ہماری ہی غفلت کے سبب وارد ہوئی ہیں، قرآن پاک کا ارشاد ہے:
وَمَآ اَصَابَکُمْ مِّنْ مُّصِیْبَۃٍ فَبِمَا کَسَبَتْ اَیْدِیْکُمْ وَیَعْفُوْا عَنْ کَثِیْرٍ ۔ (سورۂ شوریٰ: ۴۲؍۳۰) ’’اور تمہیں جو مصیبت پہنچی وہ اس کے سبب سے ہے جو تمہارے ہاتھوں نے کمایااور بہت کچھ تو معاف فرما دیتا ہے۔‘‘ (کنزالایمان)
جو مصائب و آلام ہیں یہ ایک صدی پیش تر غلط قیادت یا قیادت کے غلط فیصلوں کے تسلیم و قبول کے نتائج ہیں۔ مشرکین سے مذہبی بنیادوں پر محبت کی جو کوششیں ہوئیں ان سے مسلمان اپنے اسلامی فیصلوں سے دور جا پڑے، اپنے ہی ہاتھوں مشرکین کو مسلط کرنے میں مدد دی، اپنے ہی ہاتھوں اپنے شعائر سے دوری بنائی، ذبح، معمولات، حرمتِ منبر کو تج دیا۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ کسی دور میں چاہے آزادی سے قبل کا دور ہو یا بعد کا مشرکین نے کوئی رو رعایت نہیں کی۔ مسلمانوں کو نقصان پہنچایا۔ اور مسلمان اس امید پر کہ اتحاد نہ ٹوٹے؛ سب برداشت کیا۔ جس کے خوف ناک اثرات آج جھیل رہے ہیں۔ ہم نے مشرکین کو مسلط کیا اب وہ جو غالب آئے اس پر چیخ رہے ہیں۔ اس کا حل صرف یہ ہے کہ:
[۱]ہم احکامِ الٰہی و قوانین اسلام کے پابند ہو جائیں۔ مشرکین سے اتحاد سے بچی
_دشمنانِ اسلام کی سازشوں سے بیدار رہ کر مشرکین کے رسم و رواج سے احتیاط میں عافیت_
غلام مصطفیٰ رضوی
[نوری مشن مالیگاؤں]
’’عزیزانِ وطن! پاک مذہب اسلام جس کی ساری تعلیمات کا جوہر توحید و خدا پرستی ہے اُس کا دشمن تم صرف انگریزوں کو کیوں قرار دیتے ہو؛ ہر وہ مذہبِ باطل جو دُنیا میں موجود ہے؛ یا کسی وقت اختراع کیا جا سکتا ہے، وہ اس دین قویم اور صراطِ مستقیم کا دشمن جانی ہے؛ کفر و اسلام میں جب کہ تضاد ذاتی ہے؛ پس یہ محالِ عقلی ہے کہ کوئی مذہبِ کفر ٹھنڈی آنکھوں سے اسلام کو دیکھنا گوارا کرے؛ ہاں! مجبوری معذوری کی اور بات ہے، قرآن کریم نے سیکڑوں جگہ اسی کی خبر دی ہے، پس مسلمانوں کو خود اپنے آپ میں قوت پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔نہ کہ غیر قوم میں جذب و مدغم ہونا۔یہی شریعت کا فتویٰ ہے اور یہی عقلِ سلیم کا حکم۔‘‘[النور،ص۲۰۹، مطبوعہ ۱۹۲۱ء]
مذکورہ تمہیدی اقتباس ایک صدی پیش تر مفکر اسلام پروفیسر سید سلیمان اشرف بہاری (خلیفۂ اعلیٰ حضرت و سابق صدر شعبۂ دینیات مسلم یونی ورسٹی علی گڑھ)نے ارشاد فرمائے، جنھوں نے اسی زمانے میں ہندوؤں کی اسلام دشمنی کو بھانپ لیا تھا، اور ہندو مسلم اتحاد کی اس وجہ سے مخالفت کی تھی کہ اس سے اسلامی شعائر رفتہ رفتہ زد میں لائے جا رہے تھے۔ اسلامی تشخص مٹانے کی کوششیں کی جارہی تھیں۔
اسلام سب سے بڑی سچائی ہے۔ تمام مذاہبِ باطل؛ اسلام کے دشمن ہیں۔ اسلام کے مقابل انگریز نے سازشوں کے جال بنے۔ مسلمان! انگریز کے خلاف تھے لیکن ہندوؤں سے اشتراک و اتحاد کر لیا جس کا مقصدِ ظاہری ملک کو انگریزی استبداد سے آزاد کرانا تھا۔ جب کہ انگریز بھی دشمن تھے اور ہنود بھی۔ پھر ہنود سے اتحاد کی مہم جو ایک صدی قبل چلائی گئی اس کے منفی اثرات اسی زمانے میں ظاہر ہونے شروع ہوئے۔
*نتائج:*
[۱] آزادی کے وقت حکومت بجائے مسلمانوں کو لوٹانے کے مشرک لیڈران کو دی گئی تا کہ مسلمان دوبارہ اقتدار نہ پا سکیں۔جب کہ انگریز نے حکومت مسلمانوں سے چھینی تھی۔
[۲] ادغام و اشتراک کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہندوؤں کے کئی مراسم مسلم معاشرے میں اپنے پنجے گاڑنے میں کامیاب ہوئے، مذہبی روح اس سے متاثر ہوئی۔ جن مراسم سے نفرت کرنی تھی؛ ان سے انسیت بڑھی؛ آج جو بعض افراد ہولی، دیوالی، گنپتی جیسے شرکیہ معاملات میں شامل ہو جاتے ہیں یہ اسی ادغام و اشتراک کا نتیجہ ہے۔
[۳] حالات کے زیر اثر جہاں جہاں مسلمانوں نے مشرکین سے مل کر تحریکیں چلائیں وہیں ہماری ترقی کا گراف زوال پذیر ہوا۔ نان کو آپریشن کے نتیجے میں مسلم یونی ورسٹی علی گڑھ ، مدرسہ عالیہ کلکتہ اور اسلامیہ کالج لاہور تعلیمی دھارے میں پیچھے رہ گئے۔ اس خلا کے اثرات آج بھی محسوس کیے جا رہے ہیں۔
[۴] موجودہ حالات میں تحریکیں بے اثر ہو کر رہ گئیں، کہیں کوئی اثر مسلمانوں کے نہیں ظاہر ہو رہے جس کا سبب یہی ہے کہ ادغام و اشتراک نے مسلمانوں کی کمزوری ظاہر کی ہے جس کا فائدہ فرقہ پرست قوتیں پورا اٹھا رہی ہیں۔ کہیں کہیں قیادت در پردہ مشرکین سے متحد ہے یا کم از کم مرعوبیت کا شکار ہے-
[۵] انگریز کو ہم نے دشمن جانا، مشرکین سے کو دوست سمجھا، جب کہ دونوں ہی دشمن ہیں، آج یہی وجہ ہے کہ فرقہ پرست قیادت کہیں اسرائیل سے معاہدے کر رہی، کہیں امریکہ سے دفاعی اشیا کے سودے کر رہی، ان کے اتحاد کا میدان تمام دشمنانِ اسلام ہیں۔ پھر کیوں یہ ہمارے ہمدرد ہو سکتے ہیں؟
[٦] جب کہ ان مسلم مخالف طاقتوں سے اشتراک کا ہی نتیجہ ہے کہ آج بعض مسلم مراکز کی حکومتیں اسرائیل و امریکہ کے آگے جھکی ہوئی ہیں؛ لیکن اپنوں سے ملنے کا شعور نہیں آ رہا ہے...
*ہماری ذمہ داری:* ہمیں جو تکالیف پہنچ رہی ہیں وہ ہمارے ہی اعمال کا نتیجہ ہیں۔ ہماری ہی غفلت کے سبب وارد ہوئی ہیں، قرآن پاک کا ارشاد ہے:
وَمَآ اَصَابَکُمْ مِّنْ مُّصِیْبَۃٍ فَبِمَا کَسَبَتْ اَیْدِیْکُمْ وَیَعْفُوْا عَنْ کَثِیْرٍ ۔ (سورۂ شوریٰ: ۴۲؍۳۰) ’’اور تمہیں جو مصیبت پہنچی وہ اس کے سبب سے ہے جو تمہارے ہاتھوں نے کمایااور بہت کچھ تو معاف فرما دیتا ہے۔‘‘ (کنزالایمان)
جو مصائب و آلام ہیں یہ ایک صدی پیش تر غلط قیادت یا قیادت کے غلط فیصلوں کے تسلیم و قبول کے نتائج ہیں۔ مشرکین سے مذہبی بنیادوں پر محبت کی جو کوششیں ہوئیں ان سے مسلمان اپنے اسلامی فیصلوں سے دور جا پڑے، اپنے ہی ہاتھوں مشرکین کو مسلط کرنے میں مدد دی، اپنے ہی ہاتھوں اپنے شعائر سے دوری بنائی، ذبح، معمولات، حرمتِ منبر کو تج دیا۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ کسی دور میں چاہے آزادی سے قبل کا دور ہو یا بعد کا مشرکین نے کوئی رو رعایت نہیں کی۔ مسلمانوں کو نقصان پہنچایا۔ اور مسلمان اس امید پر کہ اتحاد نہ ٹوٹے؛ سب برداشت کیا۔ جس کے خوف ناک اثرات آج جھیل رہے ہیں۔ ہم نے مشرکین کو مسلط کیا اب وہ جو غالب آئے اس پر چیخ رہے ہیں۔ اس کا حل صرف یہ ہے کہ:
[۱]ہم احکامِ الٰہی و قوانین اسلام کے پابند ہو جائیں۔ مشرکین سے اتحاد سے بچی
ں جس سے مذہبی امور میں مداخلت کا اندیشہ ہو۔
[۲] شرعی فیصلوں کی پابندی کریں تو کسی خلافِ شرع قانون کی حیثیت باقی نہیں رہ سکے گی۔
[۳] غیر شرعی کورٹوں میں اپنے مقدمات نہ لے جائیں بلکہ شرعی اصولوں کی پیروی کریں۔
[۴] طلاق سے گریز کریں، نوبت آجائے تو شریعت کی پاس داری لازم جانیں۔
[۵] اپنے شعائر کی پابندی کریں۔
[٦] دینی تعلیم سے رغبت پیدا کریں۔ بچوں میں دین داری کو رواج دیں۔ پھر دنیوی تعلیم کے منفی اثرات سے بچ سکیں گے۔
[۷] ملک سے وفاداری کریں لیکن شرکیہ مراسم کو ہرگز قبول نہ کریں بلکہ ان سے نفرت کریں، بچوں کو مراسم شرک سے نفرت دلائیں۔
[۸] مشرکین یا مذاہبِ باطل کے تہواروں میں شرکت سے بچیں اور بچائیں۔
[۹] علم دین سیکھنے سکھانے میں مدد دیں۔ مدارسِ اسلامیہ سے رشتے بحال کریں۔
[۱۰] ایسی قیادت سے گریز کریں جو مشرک قائدین سے اتحاد برتے، اور مشرکین کی تکریم کر کے مسلمانوں کو غلط روی کی دعوت دے۔
اسلام پر استقامت اختیار کریں۔ یاد رکھیں! اللہ کی رحمتوں کا نزول اللہ و رسول کی رضا میں ہے۔ جو مشرکین کو خوش کرنے کو کوشاں ہیں ان سے ہمیں کوئی عزت نہیں مل سکتی۔ ہمیں سرخروئی احکام الٰہی و قوانین اسلام کی اطاعت و پیروی میں ملنی ہے۔ اس لیے اپنے مذہبی تشخص کی سلامتی کے لیے بیدار رہ کر جئیں۔
٭٭٭
شذرہ: یہ تحریر کچھ عرصہ قبل لکھی گئی... حال کے شامیانے میں جزوی ترمیم کے ساتھ پیشِ مطالعہ ہے...
١٤ نومبر ٢٠٢٠ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3523225237759163&id=100002151654486
[۲] شرعی فیصلوں کی پابندی کریں تو کسی خلافِ شرع قانون کی حیثیت باقی نہیں رہ سکے گی۔
[۳] غیر شرعی کورٹوں میں اپنے مقدمات نہ لے جائیں بلکہ شرعی اصولوں کی پیروی کریں۔
[۴] طلاق سے گریز کریں، نوبت آجائے تو شریعت کی پاس داری لازم جانیں۔
[۵] اپنے شعائر کی پابندی کریں۔
[٦] دینی تعلیم سے رغبت پیدا کریں۔ بچوں میں دین داری کو رواج دیں۔ پھر دنیوی تعلیم کے منفی اثرات سے بچ سکیں گے۔
[۷] ملک سے وفاداری کریں لیکن شرکیہ مراسم کو ہرگز قبول نہ کریں بلکہ ان سے نفرت کریں، بچوں کو مراسم شرک سے نفرت دلائیں۔
[۸] مشرکین یا مذاہبِ باطل کے تہواروں میں شرکت سے بچیں اور بچائیں۔
[۹] علم دین سیکھنے سکھانے میں مدد دیں۔ مدارسِ اسلامیہ سے رشتے بحال کریں۔
[۱۰] ایسی قیادت سے گریز کریں جو مشرک قائدین سے اتحاد برتے، اور مشرکین کی تکریم کر کے مسلمانوں کو غلط روی کی دعوت دے۔
اسلام پر استقامت اختیار کریں۔ یاد رکھیں! اللہ کی رحمتوں کا نزول اللہ و رسول کی رضا میں ہے۔ جو مشرکین کو خوش کرنے کو کوشاں ہیں ان سے ہمیں کوئی عزت نہیں مل سکتی۔ ہمیں سرخروئی احکام الٰہی و قوانین اسلام کی اطاعت و پیروی میں ملنی ہے۔ اس لیے اپنے مذہبی تشخص کی سلامتی کے لیے بیدار رہ کر جئیں۔
٭٭٭
شذرہ: یہ تحریر کچھ عرصہ قبل لکھی گئی... حال کے شامیانے میں جزوی ترمیم کے ساتھ پیشِ مطالعہ ہے...
١٤ نومبر ٢٠٢٠ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3523225237759163&id=100002151654486
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
اعتراض کا شوقین______
ﻋﻼﻣﮧ ﺍﺑﻦ ﻋﺎﺑﺪﯾﻦ ﺣﻨﻔﯽ شامی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں :-
*وَالْوَلُوعُ بِالِاعْتِرَاضِ يَمْنَعُ الِاهْتِدَاءَ إلَى طَرِيقِ الصَّوَابِ فَافْهَمْ*
ﺍﻋﺘﺮﺍﺿﺎﺕ ﮐﺎ شوقین ہدایت ﮐﮯ ﺭﺳﺘﮯ ﺳﮯ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﺩﻭﺭ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ ۔ ﺍﺳﮯ ہدایت ﻧﺼﯿﺐ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﯽ ۔ ﺍﺳﮯ ﺧﻮﺏ ﺳﻤﺠﮫ ﻟﻮ_
•[رد المحتار(فتاوی شامی) ج.6 ص.544 کتاب الوقف،دار الکتب علمیہ]
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3456716997779040&id=100003223204679
ﻋﻼﻣﮧ ﺍﺑﻦ ﻋﺎﺑﺪﯾﻦ ﺣﻨﻔﯽ شامی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں :-
*وَالْوَلُوعُ بِالِاعْتِرَاضِ يَمْنَعُ الِاهْتِدَاءَ إلَى طَرِيقِ الصَّوَابِ فَافْهَمْ*
ﺍﻋﺘﺮﺍﺿﺎﺕ ﮐﺎ شوقین ہدایت ﮐﮯ ﺭﺳﺘﮯ ﺳﮯ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﺩﻭﺭ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ ۔ ﺍﺳﮯ ہدایت ﻧﺼﯿﺐ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﯽ ۔ ﺍﺳﮯ ﺧﻮﺏ ﺳﻤﺠﮫ ﻟﻮ_
•[رد المحتار(فتاوی شامی) ج.6 ص.544 کتاب الوقف،دار الکتب علمیہ]
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3456716997779040&id=100003223204679
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
#شعار_کی_اہمیت_سازشیں_اور_ہماری_ذمہ_داری
غلام مصطفےٰ نعیمی
مدیر اعلیٰ سواد اعظم دہلی
نشانیاں منزل تو نہیں ہوتیں لیکن منزل تک پہنچنے کا سب سے اہم ذریعہ ہوتی ہیں۔آپ کو جامع مسجد سے بَلّی مَارَان جانا ہو تو پہلے کسی شناسا سے راستہ معلوم کریں گے۔راستے میں بھٹک نہ جائیں اس لیے راستوں کی کچھ نشانیاں بھی یاد رکھیں گے تاکہ بھٹکنے کا امکان ختم ہوجائے اور آپ خیر وعافیت سے اپنی منزل تک پہنچ جائیں۔کائنات ہستی کے ہر شعبے میں یہ اصول نافذ ہے کہ اصل چیز کے ساتھ اس کی نشانی وعلامت بھی اہم تسلیم کی جاتی ہے تاکہ اصل کی شناخت وتعارف میں دشواری نہ آئے۔
عربی میں نشانی کو شعار اور انگریزی میں سِمبل (symbol) کہا جاتا ہے۔شعار کی بنیادی تعریف اس طرح کی جاتی ہے:
الشعار هو عبارةٌ عن صورةٍ أو رسمةٍ بصريةٍ إيضاحيةٍ، وهو الوجه المحدد الذي يتمّ من خلاله التعرف على شخصٍ ما أو مؤسسةٍ أو شركة أو منتج محدد، أو حتّى دولة۔
"شعار(نشانی) ایک شبیہہ یا نظر آنے اور واضح کرنے والی چیز کا نام ہے۔ اور یہ وہ مخصوص چیز ہے جس کے ذریعہ کسی فرد، ادارے، کمپنی یا مخصوص سامان کی شناخت کی جاتی ہے۔ یہاں تک کہ ایک ملک کی بھی۔"
یعنی نشانی اصل چیزوں کی شناخت وتعارف کا اہم ذریعہ ہوتی ہے۔اسی لیے دنیا کے ہر شعبے اور زندگی کے ہر حصے میں نشانیوں کا اہم رول ہوتا ہے۔جن کے سہارے دنیا اور زندگی کا قافلہ رواں دواں رہتا ہے۔نشانیوں کا استعمال مذہبی، ملکی، علاقائی اور خاندانی سطح پر بھی کیا جاتا ہے۔قرآن کریم میں مختلف مقامات پر نشانیوں کی اہمیت کو بیان کیا گیا ہے:
قَالَ عِیۡسَی ابۡنُ مَرۡیَمَ اللّٰہُمَّ رَبَّنَاۤ اَنۡزِلۡ عَلَیۡنَا مَآئِدَۃً مِّنَ السَّمَآءِ تَکُوۡنُ لَنَا عِیۡدًا لِّاَوَّلِنَا وَ اٰخِرِنَا وَ اٰیَۃً مِّنۡکَ
"عیسیٰ بن مریم نے عرض کی، اے اللہ! اے رب ہمارے! ہم پر آسمان سے ایک خوان اتار کہ وہ ہمارے لیے عید ہو ہمارے اگلے پچھلوں کی، اور تیری طرف سے نشانی۔"
یعنی جنتی خوان کا آنا امت عیسیٰ کے لیے رضائے الہی کی نشانی بن جائے۔
اَنِّیۡ قَدۡ جِئۡتُکُمۡ بِاٰیَۃٍ مِّنۡ رَّبِّکُمۡ ۙ اَنِّیۡۤ اَخۡلُقُ لَکُمۡ مِّنَ الطِّیۡنِ کَہَیۡئَۃِ الطَّیۡرِ فَاَنۡفُخُ فِیۡہِ فَیَکُوۡنُ طَیۡرًۢا بِاِذۡنِ اللّٰہِ۔(سورہ آل عمران:49)
"میں تمہارے پاس ایک نشانی لایا ہوں تمہارے رب کی طرف سے کہ میں تمہارے لئے مٹی سے پرند کی سی مورت بناتا ہوں پھر اس میں پھونک مارتا ہوں تو وہ فوراً پرند ہوجاتی ہے اللہ کے حکم سے۔"
یعنی بے جان چیز کو زندگی دینا نبوت کی نشانی ہے۔
ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے مختلف چیزوں کے حصول اور یقین کے لیے بعض چیزوں کو بطور نشانی ذکر فرما کر نشانی کی اہمیت کو ظاہر فرمادیا ہے۔
_______معاشرتی طور مختلف مذاہب کے پیروکاروں نے مختلف نشانیاں اختیار کر رکھی ہیں۔جن کی بنا پر ان کے مذہب کی پہچان بآسانی ہوجاتی ہے۔سر پر چوٹی رکھنا،ماتھے پر تِلک لگانا اور زُنّار پہننا ہندوؤں کی نشانی مانا جاتا ہے۔سر پر پگڑی، ہاتھ میں میں کڑا پہننا سِکھوں اور گلے میں صلیب لٹکانا عیسائیوں کی نشانی وشعار مانا جاتا ہے۔ایک عام انسان بھی مذکورہ چیزوں سے ان کے مذہب کی پہچان کرلیتا ہے۔حالانکہ یہ چیزیں مذہب نہیں ہیں مگر مذہب کی شناخت وتعارف کا اہم ذریعہ ہیں۔بعض نشانیاں ایسی ہوتی ہیں جو براہ راست مذہب سے منقول ہوتی ہیں اور بعض نشانیاں علاقائی تقاضوں یا مقامی تہذیب کی بنا پر کسی خاص مذہب کی نشانیاں بن جاتی ہیں۔حالانکہ علاقائی نشانیاں محدود اور منقول نشانیاں وسیع معنی کو محیط ہوتی ہیں۔بطور مثال یوں سمجھ لیں کہ ظاہراً کسی مسلمان کی پہچان داڑھی/ٹوپی/عمامہ سے ہوجاتی ہے۔یہ پہچان مذہبی تعلیمات نے ہی متعین کی ہے۔اس کے علاوہ بعض نشانیاں ایسی ہوتی ہیں جو اگرچہ مذہبی نوعیت کی نہ ہوں مگر تہذیبی اعتبار سے کسی خاص مذہب کی نشانی بن جاتی ہیں جیسے عربی جبہ ورومال اور برقع کا استعمال مسلمانوں کی شناخت وپہچان مانا جاتا ہے۔
مذہبی نشانیوں کی آڑ میں اسلام پر نشانہ
ان دنوں مسلمانوں کے خلاف سازشوں کا دور چل رہا ہے۔مختلف جہات سے ہندوانہ تہذیب کو مسلط کرنے کی جان توڑ کوششیں کی جارہی ہیں۔سنیما اور میڈیا کے توسط سے ہندوانہ شعار کو festival culture کے نام پر رائج کیا جارہا ہے۔اس مہم میں جہاں شدت پسند ٹولے سرگرم عمل ہیں، وہیں لبرل طبقہ بھی soft انداز میں کفریہ مراسم کی تخم ریزی کرنے اور اس کی پرورش میں مصروف ہے۔اسی سازش کے تحت مسلم لڑکے لڑکیوں میں کَرْوَا چَوتھ ، راکھی، دیوالی اور ہولی جیسی رسموں کو پروان چڑھایا جارہا ہے۔نوجوان طبقہ بڑی تیزی کے ساتھ ان رسموں میں گرفتار ہوتا جارہا ہے۔گذشتہ کچھ وقت سے مسلم لڑکیوں میں کروا چوتھ کا وِرَت رکھنے کا رجحان بہت تیزی سے بڑھا ہے۔تنبیہ کی جائے تو مسلم لڑکیوں کا سیدھا جواب ہوتا ہے کہ شوہر کی لمبی عمر کے لیے وِرَت(ہندوانہ روزہ) رکھنا اور چاند نکلنے کے بعد چھلنی کی اوٹ سے شوہر کو دیکھ کر وِرَت کھولنے میں کیا
غلام مصطفےٰ نعیمی
مدیر اعلیٰ سواد اعظم دہلی
نشانیاں منزل تو نہیں ہوتیں لیکن منزل تک پہنچنے کا سب سے اہم ذریعہ ہوتی ہیں۔آپ کو جامع مسجد سے بَلّی مَارَان جانا ہو تو پہلے کسی شناسا سے راستہ معلوم کریں گے۔راستے میں بھٹک نہ جائیں اس لیے راستوں کی کچھ نشانیاں بھی یاد رکھیں گے تاکہ بھٹکنے کا امکان ختم ہوجائے اور آپ خیر وعافیت سے اپنی منزل تک پہنچ جائیں۔کائنات ہستی کے ہر شعبے میں یہ اصول نافذ ہے کہ اصل چیز کے ساتھ اس کی نشانی وعلامت بھی اہم تسلیم کی جاتی ہے تاکہ اصل کی شناخت وتعارف میں دشواری نہ آئے۔
عربی میں نشانی کو شعار اور انگریزی میں سِمبل (symbol) کہا جاتا ہے۔شعار کی بنیادی تعریف اس طرح کی جاتی ہے:
الشعار هو عبارةٌ عن صورةٍ أو رسمةٍ بصريةٍ إيضاحيةٍ، وهو الوجه المحدد الذي يتمّ من خلاله التعرف على شخصٍ ما أو مؤسسةٍ أو شركة أو منتج محدد، أو حتّى دولة۔
"شعار(نشانی) ایک شبیہہ یا نظر آنے اور واضح کرنے والی چیز کا نام ہے۔ اور یہ وہ مخصوص چیز ہے جس کے ذریعہ کسی فرد، ادارے، کمپنی یا مخصوص سامان کی شناخت کی جاتی ہے۔ یہاں تک کہ ایک ملک کی بھی۔"
یعنی نشانی اصل چیزوں کی شناخت وتعارف کا اہم ذریعہ ہوتی ہے۔اسی لیے دنیا کے ہر شعبے اور زندگی کے ہر حصے میں نشانیوں کا اہم رول ہوتا ہے۔جن کے سہارے دنیا اور زندگی کا قافلہ رواں دواں رہتا ہے۔نشانیوں کا استعمال مذہبی، ملکی، علاقائی اور خاندانی سطح پر بھی کیا جاتا ہے۔قرآن کریم میں مختلف مقامات پر نشانیوں کی اہمیت کو بیان کیا گیا ہے:
قَالَ عِیۡسَی ابۡنُ مَرۡیَمَ اللّٰہُمَّ رَبَّنَاۤ اَنۡزِلۡ عَلَیۡنَا مَآئِدَۃً مِّنَ السَّمَآءِ تَکُوۡنُ لَنَا عِیۡدًا لِّاَوَّلِنَا وَ اٰخِرِنَا وَ اٰیَۃً مِّنۡکَ
"عیسیٰ بن مریم نے عرض کی، اے اللہ! اے رب ہمارے! ہم پر آسمان سے ایک خوان اتار کہ وہ ہمارے لیے عید ہو ہمارے اگلے پچھلوں کی، اور تیری طرف سے نشانی۔"
یعنی جنتی خوان کا آنا امت عیسیٰ کے لیے رضائے الہی کی نشانی بن جائے۔
اَنِّیۡ قَدۡ جِئۡتُکُمۡ بِاٰیَۃٍ مِّنۡ رَّبِّکُمۡ ۙ اَنِّیۡۤ اَخۡلُقُ لَکُمۡ مِّنَ الطِّیۡنِ کَہَیۡئَۃِ الطَّیۡرِ فَاَنۡفُخُ فِیۡہِ فَیَکُوۡنُ طَیۡرًۢا بِاِذۡنِ اللّٰہِ۔(سورہ آل عمران:49)
"میں تمہارے پاس ایک نشانی لایا ہوں تمہارے رب کی طرف سے کہ میں تمہارے لئے مٹی سے پرند کی سی مورت بناتا ہوں پھر اس میں پھونک مارتا ہوں تو وہ فوراً پرند ہوجاتی ہے اللہ کے حکم سے۔"
یعنی بے جان چیز کو زندگی دینا نبوت کی نشانی ہے۔
ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے مختلف چیزوں کے حصول اور یقین کے لیے بعض چیزوں کو بطور نشانی ذکر فرما کر نشانی کی اہمیت کو ظاہر فرمادیا ہے۔
_______معاشرتی طور مختلف مذاہب کے پیروکاروں نے مختلف نشانیاں اختیار کر رکھی ہیں۔جن کی بنا پر ان کے مذہب کی پہچان بآسانی ہوجاتی ہے۔سر پر چوٹی رکھنا،ماتھے پر تِلک لگانا اور زُنّار پہننا ہندوؤں کی نشانی مانا جاتا ہے۔سر پر پگڑی، ہاتھ میں میں کڑا پہننا سِکھوں اور گلے میں صلیب لٹکانا عیسائیوں کی نشانی وشعار مانا جاتا ہے۔ایک عام انسان بھی مذکورہ چیزوں سے ان کے مذہب کی پہچان کرلیتا ہے۔حالانکہ یہ چیزیں مذہب نہیں ہیں مگر مذہب کی شناخت وتعارف کا اہم ذریعہ ہیں۔بعض نشانیاں ایسی ہوتی ہیں جو براہ راست مذہب سے منقول ہوتی ہیں اور بعض نشانیاں علاقائی تقاضوں یا مقامی تہذیب کی بنا پر کسی خاص مذہب کی نشانیاں بن جاتی ہیں۔حالانکہ علاقائی نشانیاں محدود اور منقول نشانیاں وسیع معنی کو محیط ہوتی ہیں۔بطور مثال یوں سمجھ لیں کہ ظاہراً کسی مسلمان کی پہچان داڑھی/ٹوپی/عمامہ سے ہوجاتی ہے۔یہ پہچان مذہبی تعلیمات نے ہی متعین کی ہے۔اس کے علاوہ بعض نشانیاں ایسی ہوتی ہیں جو اگرچہ مذہبی نوعیت کی نہ ہوں مگر تہذیبی اعتبار سے کسی خاص مذہب کی نشانی بن جاتی ہیں جیسے عربی جبہ ورومال اور برقع کا استعمال مسلمانوں کی شناخت وپہچان مانا جاتا ہے۔
مذہبی نشانیوں کی آڑ میں اسلام پر نشانہ
ان دنوں مسلمانوں کے خلاف سازشوں کا دور چل رہا ہے۔مختلف جہات سے ہندوانہ تہذیب کو مسلط کرنے کی جان توڑ کوششیں کی جارہی ہیں۔سنیما اور میڈیا کے توسط سے ہندوانہ شعار کو festival culture کے نام پر رائج کیا جارہا ہے۔اس مہم میں جہاں شدت پسند ٹولے سرگرم عمل ہیں، وہیں لبرل طبقہ بھی soft انداز میں کفریہ مراسم کی تخم ریزی کرنے اور اس کی پرورش میں مصروف ہے۔اسی سازش کے تحت مسلم لڑکے لڑکیوں میں کَرْوَا چَوتھ ، راکھی، دیوالی اور ہولی جیسی رسموں کو پروان چڑھایا جارہا ہے۔نوجوان طبقہ بڑی تیزی کے ساتھ ان رسموں میں گرفتار ہوتا جارہا ہے۔گذشتہ کچھ وقت سے مسلم لڑکیوں میں کروا چوتھ کا وِرَت رکھنے کا رجحان بہت تیزی سے بڑھا ہے۔تنبیہ کی جائے تو مسلم لڑکیوں کا سیدھا جواب ہوتا ہے کہ شوہر کی لمبی عمر کے لیے وِرَت(ہندوانہ روزہ) رکھنا اور چاند نکلنے کے بعد چھلنی کی اوٹ سے شوہر کو دیکھ کر وِرَت کھولنے میں کیا
442ھ
19 نومبر 2020 بروز جمعرات
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3462690573848349&id=100003223204679
19 نومبر 2020 بروز جمعرات
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3462690573848349&id=100003223204679
برائی ہے؟
راکھی کی رسم یہ کہہ کر اپنائی جارہی ہے کہ یہ رسم تو بھائی بہن جیسے مقدس رشتے کی اپنائیت دکھانے کے لیے نبھائی جاتی ہے بھلا اس میں کون سی شرعی خرابی ہے؟
دیوالی کو روشنی اور ہولی کو رنگوں کی رسم کہہ کر بڑی سادگی سے پوچھتے ہیں کہ
یہ تو محض خوش طبعی اور اپنائیت کے اظہار کا موقع ہیں۔ روشنی اور رنگوں میں کون سا شرک اور کیسا کفر؟
دنیوی نشے میں چُور ان نوجوانوں کو نہایت حکمت سے یہ سمجھانے کی ضرورت ہے کہ بعض رسمیں بھلے ہی خود میں کفر وشرک نہ ہوں، لیکن بالآخر یہ رسمیں ہندو دھرم کی نشانی وشعار ہیں۔شعار غیر کو اپنانا نفسیاتی طور پر ان کی تہذیب سے مغلوب ہونا اور مستقبل میں دیگر تہذیبی نشانیوں کو ماننے کی جانب قدم بڑھانا ہے۔اس باب میں حضور سید عالم ﷺ کا طرز عمل ہمارے لیے مشعل راہ ہے کہ ادائے نماز کے لیے نشانی مقرر کرنے میں آپ نے یہود ونصاری کی نشانیوں کو یکسر مسترد فرما دیا:
أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ، يَقُولُ: كَانَ الْمُسْلِمُونَ حِينَ قَدِمُوا الْمَدِينَةَ يَجْتَمِعُونَ فَيَتَحَيَّنُونَ الصَّلَاةَ لَيْسَ يُنَادَى لَهَا ، فَتَكَلَّمُوا يَوْمًا فِي ذَلِكَ ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ : اتَّخِذُوا نَاقُوسًا مِثْلَ نَاقُوسِ النَّصَارَى ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ : بَلْ بُوقًا مِثْلَ قَرْنِ الْيَهُودِ ، فَقَالَ عُمَرُ : أَوَلَا تَبْعَثُونَ رَجُلًا يُنَادِي بِالصَّلَاةِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا بِلَالُ قُمْ فَنَادِ بِالصَّلَاةِ۔(صحیح بخاری رقم الحدیث 604)
"جب مسلمان مدینہ پہنچے تو وقت مقرر کرکے نماز کے لیے آتے تھے۔اس کے لیے اذان نہیں دی جاتی تھی۔ ایک دن اس بارے میں مشورہ ہوا۔ کسی نے کہا نصاریٰ کی طرح ایک گھنٹہ لے لیا جائے اور کسی نے کہا کہ یہودیوں کی طرح نَرْسِنگا (بگل بنا لو، اس کو پھونک دیا کرو) لیکن حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ کسی شخص کو کیوں نہ بھیج دیا جائے جو نماز کے لیے آواز لگا دیا کرے۔ اس پر نبی کریم ﷺ نے (اسی رائے کو پسند فرمایا اور بلال سے) فرمایا کہ بلال! اٹھو اور نماز کے لیے اذان دو۔"
غور فرمائیں کہ گھنٹہ وباجے کا استعمال اپنے آپ میں کفر وشرک کا پہلو نہیں رکھتا۔ورنہ صحابہ ان کو ہرگز پیش نہ فرماتے مگر آپ ﷺ کی غیرت نے گوارا نہیں کیا کہ جو چیز غیروں کی نشانی مانی جاتی ہے اسے اہل اسلام اختیار کریں۔ایسا کرنا خود کو ان کے مقابلے میں عاجز اور ان کا فکری غلبہ تسلیم کرنا تھا۔پھر یہ بات بھی ذہن نشین رکھیں کہ نفس پر پابندی نہ لگائی جائے تو یہ کسی ایک شعار پر نہیں رکے گا بلکہ ایک نشانی سے دوسری نشانی پر چلتے ہوئے آخری سرے تک پہنچ جائے گا۔ہندوانہ رسموں کا آخری سِرا کفر وشرک سے جاکر ملتا ہے۔ہمارے درمیان ایسے کتنے ہی افراد ہیں جنہوں نے ہولی دیوالی جیسی رسموں کو عام سی رسم سمجھ کر اختیار کیا نتیجتاً آہستہ آہستہ پوجا وآرتی بھی کرنے لگے اور اپنے دین وایمان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
افسوس ناک پہلو !!
ایک طرف مخالفین تہذیب اسلامی پر حملہ آور ہیں تو دوسری جانب بعض مفاد پرست خانقاہی اور مجاورین بھی دشمنوں کا آلہ کار بن کر ہندوانہ تہذیب کے برانڈ ایمبیسڈر بنے ہوئے ہیں۔ارباب حکومت کو راضی کرنے کی خاطر اولیاے کرام کی خانقاہوں میں ہولی، دیوالی کا اہتمام بڑی فراخ دلی سے کیا جارہا ہے۔یہ لوگ دنیوی شہرت کی خاطر دشمنوں کے منصوبوں کو کھاد پانی فراہم کرنے میں مددگار بنے ہوئے ہیں۔
حالانکہ بزرگان دین کی ذات اس قسم کے ہندوانہ رسم ورواج سے بالکل بری ہے۔ان حضرات کی مکمل زندگی قرآن وسنت کی آئینہ دار تھی۔نور نبوت سے فیض یافتہ یہ جماعت کسی بھی کفریہ رسم کو قبول کرنے کی متحمل ہو ہی نہیں سکتی تھی۔ان کی غیرت ایمانی بھلا شرکیہ نشانیوں کو کس طرح برداشت کر سکتی تھی؟
وہ تو خود انسانوں کو کفر و شرک کی گندگی سے بچانے کے لیے مامور کیے گئے تھے۔اگر وہ ان رسموں کے ماننے والے ہوتے تو دیار کفر میں دین اسلام کی تبلیغ واشاعت کی ضرورت ہی کیا تھی؟
اسلام دین خالص ہے۔کسی طرح کی ملاوٹ پسند نہیں کرتا۔صوفیاے کرام تاحیات اسلامی افکار و نظریات کے ہی داعی ومبلغ رہے۔یہ ان کی تبلیغ کا ہی اثر تھا کہ سرزمین ہند پر اسلامی تہذیب وتمدن کا گلشن آباد ہوا۔بسنت منانا ہو یا ہولی دیوالی، ہندی بزرگوں کی سوانح اس طرح کی لغویات سے پاک وصاف ہیں۔کسی مذہب کے شعار کو اپنانا اور اسے بہتر جاننا اپنے ایمان کو داؤ پر لگانا ہے۔اس لیے دنیا پرست مجاورین کی کرتوت دیکھ کر بزرگان دین سے بدگمان نہ ہوں۔ایسے مجاورین اور آزاد خیالوں کا کھل کر بائکاٹ کریں تاکہ ہمارا تہذیب وتمدن کفر وشرک کی آلودگی سے محفوظ رہے۔
خوب یاد رہے!
مذہب اسلام کی کچھ حدود و قیود ہیں جو انھیں تسلیم کرے گا وہی مومن ہے۔جو لوگ خانقاہ وتصوف کے نام پر کفریہ رسموں کو پرموٹ کر رہے ہیں وہ لوگ ایک نیا دین گڑھ رہے ہیں۔ایسے دین ومشرب کو بھلے ہی کچھ بھی نام دیا جائے لیکن وہ "اسلام اور تصوف" ہرگز نہیں ہوسکتا۔
3 ربیع الثانی 1
راکھی کی رسم یہ کہہ کر اپنائی جارہی ہے کہ یہ رسم تو بھائی بہن جیسے مقدس رشتے کی اپنائیت دکھانے کے لیے نبھائی جاتی ہے بھلا اس میں کون سی شرعی خرابی ہے؟
دیوالی کو روشنی اور ہولی کو رنگوں کی رسم کہہ کر بڑی سادگی سے پوچھتے ہیں کہ
یہ تو محض خوش طبعی اور اپنائیت کے اظہار کا موقع ہیں۔ روشنی اور رنگوں میں کون سا شرک اور کیسا کفر؟
دنیوی نشے میں چُور ان نوجوانوں کو نہایت حکمت سے یہ سمجھانے کی ضرورت ہے کہ بعض رسمیں بھلے ہی خود میں کفر وشرک نہ ہوں، لیکن بالآخر یہ رسمیں ہندو دھرم کی نشانی وشعار ہیں۔شعار غیر کو اپنانا نفسیاتی طور پر ان کی تہذیب سے مغلوب ہونا اور مستقبل میں دیگر تہذیبی نشانیوں کو ماننے کی جانب قدم بڑھانا ہے۔اس باب میں حضور سید عالم ﷺ کا طرز عمل ہمارے لیے مشعل راہ ہے کہ ادائے نماز کے لیے نشانی مقرر کرنے میں آپ نے یہود ونصاری کی نشانیوں کو یکسر مسترد فرما دیا:
أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ، يَقُولُ: كَانَ الْمُسْلِمُونَ حِينَ قَدِمُوا الْمَدِينَةَ يَجْتَمِعُونَ فَيَتَحَيَّنُونَ الصَّلَاةَ لَيْسَ يُنَادَى لَهَا ، فَتَكَلَّمُوا يَوْمًا فِي ذَلِكَ ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ : اتَّخِذُوا نَاقُوسًا مِثْلَ نَاقُوسِ النَّصَارَى ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ : بَلْ بُوقًا مِثْلَ قَرْنِ الْيَهُودِ ، فَقَالَ عُمَرُ : أَوَلَا تَبْعَثُونَ رَجُلًا يُنَادِي بِالصَّلَاةِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا بِلَالُ قُمْ فَنَادِ بِالصَّلَاةِ۔(صحیح بخاری رقم الحدیث 604)
"جب مسلمان مدینہ پہنچے تو وقت مقرر کرکے نماز کے لیے آتے تھے۔اس کے لیے اذان نہیں دی جاتی تھی۔ ایک دن اس بارے میں مشورہ ہوا۔ کسی نے کہا نصاریٰ کی طرح ایک گھنٹہ لے لیا جائے اور کسی نے کہا کہ یہودیوں کی طرح نَرْسِنگا (بگل بنا لو، اس کو پھونک دیا کرو) لیکن حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ کسی شخص کو کیوں نہ بھیج دیا جائے جو نماز کے لیے آواز لگا دیا کرے۔ اس پر نبی کریم ﷺ نے (اسی رائے کو پسند فرمایا اور بلال سے) فرمایا کہ بلال! اٹھو اور نماز کے لیے اذان دو۔"
غور فرمائیں کہ گھنٹہ وباجے کا استعمال اپنے آپ میں کفر وشرک کا پہلو نہیں رکھتا۔ورنہ صحابہ ان کو ہرگز پیش نہ فرماتے مگر آپ ﷺ کی غیرت نے گوارا نہیں کیا کہ جو چیز غیروں کی نشانی مانی جاتی ہے اسے اہل اسلام اختیار کریں۔ایسا کرنا خود کو ان کے مقابلے میں عاجز اور ان کا فکری غلبہ تسلیم کرنا تھا۔پھر یہ بات بھی ذہن نشین رکھیں کہ نفس پر پابندی نہ لگائی جائے تو یہ کسی ایک شعار پر نہیں رکے گا بلکہ ایک نشانی سے دوسری نشانی پر چلتے ہوئے آخری سرے تک پہنچ جائے گا۔ہندوانہ رسموں کا آخری سِرا کفر وشرک سے جاکر ملتا ہے۔ہمارے درمیان ایسے کتنے ہی افراد ہیں جنہوں نے ہولی دیوالی جیسی رسموں کو عام سی رسم سمجھ کر اختیار کیا نتیجتاً آہستہ آہستہ پوجا وآرتی بھی کرنے لگے اور اپنے دین وایمان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
افسوس ناک پہلو !!
ایک طرف مخالفین تہذیب اسلامی پر حملہ آور ہیں تو دوسری جانب بعض مفاد پرست خانقاہی اور مجاورین بھی دشمنوں کا آلہ کار بن کر ہندوانہ تہذیب کے برانڈ ایمبیسڈر بنے ہوئے ہیں۔ارباب حکومت کو راضی کرنے کی خاطر اولیاے کرام کی خانقاہوں میں ہولی، دیوالی کا اہتمام بڑی فراخ دلی سے کیا جارہا ہے۔یہ لوگ دنیوی شہرت کی خاطر دشمنوں کے منصوبوں کو کھاد پانی فراہم کرنے میں مددگار بنے ہوئے ہیں۔
حالانکہ بزرگان دین کی ذات اس قسم کے ہندوانہ رسم ورواج سے بالکل بری ہے۔ان حضرات کی مکمل زندگی قرآن وسنت کی آئینہ دار تھی۔نور نبوت سے فیض یافتہ یہ جماعت کسی بھی کفریہ رسم کو قبول کرنے کی متحمل ہو ہی نہیں سکتی تھی۔ان کی غیرت ایمانی بھلا شرکیہ نشانیوں کو کس طرح برداشت کر سکتی تھی؟
وہ تو خود انسانوں کو کفر و شرک کی گندگی سے بچانے کے لیے مامور کیے گئے تھے۔اگر وہ ان رسموں کے ماننے والے ہوتے تو دیار کفر میں دین اسلام کی تبلیغ واشاعت کی ضرورت ہی کیا تھی؟
اسلام دین خالص ہے۔کسی طرح کی ملاوٹ پسند نہیں کرتا۔صوفیاے کرام تاحیات اسلامی افکار و نظریات کے ہی داعی ومبلغ رہے۔یہ ان کی تبلیغ کا ہی اثر تھا کہ سرزمین ہند پر اسلامی تہذیب وتمدن کا گلشن آباد ہوا۔بسنت منانا ہو یا ہولی دیوالی، ہندی بزرگوں کی سوانح اس طرح کی لغویات سے پاک وصاف ہیں۔کسی مذہب کے شعار کو اپنانا اور اسے بہتر جاننا اپنے ایمان کو داؤ پر لگانا ہے۔اس لیے دنیا پرست مجاورین کی کرتوت دیکھ کر بزرگان دین سے بدگمان نہ ہوں۔ایسے مجاورین اور آزاد خیالوں کا کھل کر بائکاٹ کریں تاکہ ہمارا تہذیب وتمدن کفر وشرک کی آلودگی سے محفوظ رہے۔
خوب یاد رہے!
مذہب اسلام کی کچھ حدود و قیود ہیں جو انھیں تسلیم کرے گا وہی مومن ہے۔جو لوگ خانقاہ وتصوف کے نام پر کفریہ رسموں کو پرموٹ کر رہے ہیں وہ لوگ ایک نیا دین گڑھ رہے ہیں۔ایسے دین ومشرب کو بھلے ہی کچھ بھی نام دیا جائے لیکن وہ "اسلام اور تصوف" ہرگز نہیں ہوسکتا۔
3 ربیع الثانی 1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
بھارت سے ایک تعزیت نامہ
کل بروز بدھ (2 ربیع الثانی 1442) کو یہ وحشت ناک خبر ملی کہ نمونہ اسلاف، پیکر خلوص ووفا حضرت مفتی جمیل احمد نعیمی اس دار فانی سے رخصت ہوگئے۔
انا للہ وانا الیہ راجعون
--------
مفتی صاحب قبلہ علیہ الرحمہ سے فقیر کو اس وقت شناسائی ہوئی جب آپ کی مرتبہ کتاب "تذکرہ تاج العلما" مطالعے سے گزری۔یہ مختصر سی کتاب آپ کے مشفق ومہربان استاذ نائب صدر الافاضل تاج العلما مفتی محمد عمر نعیمی قدس سرہ العزیز( سابق مہتمم جامعہ نعیمیہ مرادآباد وبانی جامعہ نعیمیہ کراچی) کے ابتدائی احوال وآثار پر مشتمل ہے۔بعد میں محب گرامی وقار محترم محمد احمد ترازی صاحب کے توسط سے مفتی صاحب سے برقی تبادلہ خیالات کا سلسلہ شروع ہوا۔ایک بار جب سلسلہ شروع ہوا تو انسیت بڑھتی چلی گئی۔نسبت نعیمی کے اشتراک نے محبت میں ہر لمحہ اضافہ کیا۔آپ عمر وتجربہ میں فقیر کے اساتذہ سے بھی بزرگ ہیں مگر آپ کی شفقتیں اس قدر تھیں کہ ایسا لگتا تھا کہ میں آپ کی درس گاہ کا ہی شاگرد ہوں۔آپ کے پیغامات آتے، سواد اعظم دہلی کے بارے میں دریافت فرماتے۔دعاؤں اور نیک مشوروں سے نوازتے۔یہ آپ کی خردہ نوازی تھی کہ تاج العلما کے تعارف پر مشتمل فقیر کی سوانحی تحریر "تاج العلما: ایک مینارہ نور" کو نہایت محبت کے ساتھ اپنے اہتمام کے ساتھ شائع کرایا۔جو محترم ترازی صاحب کے توسط بشکل پی ڈی ایف موصول ہوا۔بعد میں جب آپ نے تذکرہ سلسلہ نعیمیہ مرتب فرمایا تو اس رسالہ کو من و عن شامل فرما کر اپنی کشادہ قلبی اور اصاغر نوازی کا ثبوت دیا۔
شہزادہ تاج العلما، یادگار صدرالافاضل، حضرت مفتی محمد اطہر نعیمی مد ظلہ العالی نے بھی فقیر کو لکھے گئے کئی مکتوبات میں مفتی جمیل نعیمی صاحب کا تذکرہ بڑی محبت سے فرماتے رہے ہیں۔بھلے ہی انڈیا وپاکستان کے درمیان سرحدوں کا فاصلہ آزادانہ ملنے ملانے سے مانع ہوتا رہا ہے مگر مفتی صاحب کے خلوص سے کبھی ایسا محسوس ہی نہیں ہوا کہ آپ سے بالمشافہ ملاقات نہیں ہوپائی۔لیکن کل جب مفتی صاحب کی رحلت کی خبر ملی تو دل پر اداسی سی چھاگئی۔کلمہ ترجیع پڑھا اور آپ کے رفع درجات کے لیے بارگاہ مولیٰ میں دعا کی۔اس موقع پر بڑی شدت کے ساتھ سرحدی فاصلوں کی سختی کا احساس ہوا۔کاش یہ فاصلے نہ ہوتے، سفری دشواریاں نہ ہوتیں تو بھارتی علما کی کثیر جماعت نماز جنازہ پڑھنے کا شرف حاصل کرتی۔
عشا کی نماز پڑھ کر فارغ ہی ہوا تھا کہ استاذ گرامی حضرت مولانا یامین نعیمی (مہتمم جامعہ نعیمیہ مرادآباد) کا فون آیا، فرمانے لگے:
"مولانا جمیل صاحب کے انتقال سے میں بے حد غم زدہ ہوں۔وہ اسلاف کی یادگار اور سادگی وانکساری کی مورت تھے۔انہیں دیکھ کر اسلاف کی سادگی کی یاد آتی تھی۔اللہ تعالی انہیں غریق رحمت فرمائے۔آپ ان کے اہل خانہ کو اپنی اور میری جانب سے تعزیت نامہ لکھ کر ارسال کردو۔"
بچشم نم یہ تعزیتی تحریر لکھ رہا ہوں.. اللہ تعالیٰ مفتی صاحب کو اپنے اچھوں کے صدقے جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ان کے اہل خانہ ، محبین ومعتقدین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ملت اسلامیہ کو ان کی امثال عطا فرمائے۔
ابر رحمت تیری مرقد پہ گہرباری کرے.
سوگ وار
------
غلام مصطفےٰ نعیمی(خلیفہ حضور تاج الشریعہ ،ایڈیٹر سواد اعظم دہلی)
تعزیت کنندگان:۔
.........
حضرت مولانا محمد یامین نعیمی صاحب قبلہ مدظلہ،(مہتمم جامعہ نعیمیہ مرادآباد)حضرت مفتی محمد سلیمان نعیمی برکاتی صاحب قبلہ (شیخ الفقہ جامعہ نعیمیہ مرادآباد)حضرت مولانا اکبر علی نعیمی(استاذ جامعہ نعیمیہ مراد آباد) مولانا باقر علی نعیمی(نعیمیہ مراد آباد)ضیا اشرف نعیمی اشرفی
(مالک مکتبہ نعیمیہ دہلی)مفتی محمد منظم نعیمی ازہری(خطیب جامع مسجد کردم پوری دہلی)مفتی صغیر احمد نعیمی برکاتی(بدایوں شریف)ڈاکٹر محمد احمد نعیمی(ہمدرد یونیورسٹی دہلی)
مؤرخہ 3 ربیع الثانی 1442ھ (19 نومبر 2020 بروز جمعرات)
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=4690873857621826&id=100000977732076
کل بروز بدھ (2 ربیع الثانی 1442) کو یہ وحشت ناک خبر ملی کہ نمونہ اسلاف، پیکر خلوص ووفا حضرت مفتی جمیل احمد نعیمی اس دار فانی سے رخصت ہوگئے۔
انا للہ وانا الیہ راجعون
--------
مفتی صاحب قبلہ علیہ الرحمہ سے فقیر کو اس وقت شناسائی ہوئی جب آپ کی مرتبہ کتاب "تذکرہ تاج العلما" مطالعے سے گزری۔یہ مختصر سی کتاب آپ کے مشفق ومہربان استاذ نائب صدر الافاضل تاج العلما مفتی محمد عمر نعیمی قدس سرہ العزیز( سابق مہتمم جامعہ نعیمیہ مرادآباد وبانی جامعہ نعیمیہ کراچی) کے ابتدائی احوال وآثار پر مشتمل ہے۔بعد میں محب گرامی وقار محترم محمد احمد ترازی صاحب کے توسط سے مفتی صاحب سے برقی تبادلہ خیالات کا سلسلہ شروع ہوا۔ایک بار جب سلسلہ شروع ہوا تو انسیت بڑھتی چلی گئی۔نسبت نعیمی کے اشتراک نے محبت میں ہر لمحہ اضافہ کیا۔آپ عمر وتجربہ میں فقیر کے اساتذہ سے بھی بزرگ ہیں مگر آپ کی شفقتیں اس قدر تھیں کہ ایسا لگتا تھا کہ میں آپ کی درس گاہ کا ہی شاگرد ہوں۔آپ کے پیغامات آتے، سواد اعظم دہلی کے بارے میں دریافت فرماتے۔دعاؤں اور نیک مشوروں سے نوازتے۔یہ آپ کی خردہ نوازی تھی کہ تاج العلما کے تعارف پر مشتمل فقیر کی سوانحی تحریر "تاج العلما: ایک مینارہ نور" کو نہایت محبت کے ساتھ اپنے اہتمام کے ساتھ شائع کرایا۔جو محترم ترازی صاحب کے توسط بشکل پی ڈی ایف موصول ہوا۔بعد میں جب آپ نے تذکرہ سلسلہ نعیمیہ مرتب فرمایا تو اس رسالہ کو من و عن شامل فرما کر اپنی کشادہ قلبی اور اصاغر نوازی کا ثبوت دیا۔
شہزادہ تاج العلما، یادگار صدرالافاضل، حضرت مفتی محمد اطہر نعیمی مد ظلہ العالی نے بھی فقیر کو لکھے گئے کئی مکتوبات میں مفتی جمیل نعیمی صاحب کا تذکرہ بڑی محبت سے فرماتے رہے ہیں۔بھلے ہی انڈیا وپاکستان کے درمیان سرحدوں کا فاصلہ آزادانہ ملنے ملانے سے مانع ہوتا رہا ہے مگر مفتی صاحب کے خلوص سے کبھی ایسا محسوس ہی نہیں ہوا کہ آپ سے بالمشافہ ملاقات نہیں ہوپائی۔لیکن کل جب مفتی صاحب کی رحلت کی خبر ملی تو دل پر اداسی سی چھاگئی۔کلمہ ترجیع پڑھا اور آپ کے رفع درجات کے لیے بارگاہ مولیٰ میں دعا کی۔اس موقع پر بڑی شدت کے ساتھ سرحدی فاصلوں کی سختی کا احساس ہوا۔کاش یہ فاصلے نہ ہوتے، سفری دشواریاں نہ ہوتیں تو بھارتی علما کی کثیر جماعت نماز جنازہ پڑھنے کا شرف حاصل کرتی۔
عشا کی نماز پڑھ کر فارغ ہی ہوا تھا کہ استاذ گرامی حضرت مولانا یامین نعیمی (مہتمم جامعہ نعیمیہ مرادآباد) کا فون آیا، فرمانے لگے:
"مولانا جمیل صاحب کے انتقال سے میں بے حد غم زدہ ہوں۔وہ اسلاف کی یادگار اور سادگی وانکساری کی مورت تھے۔انہیں دیکھ کر اسلاف کی سادگی کی یاد آتی تھی۔اللہ تعالی انہیں غریق رحمت فرمائے۔آپ ان کے اہل خانہ کو اپنی اور میری جانب سے تعزیت نامہ لکھ کر ارسال کردو۔"
بچشم نم یہ تعزیتی تحریر لکھ رہا ہوں.. اللہ تعالیٰ مفتی صاحب کو اپنے اچھوں کے صدقے جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ان کے اہل خانہ ، محبین ومعتقدین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ملت اسلامیہ کو ان کی امثال عطا فرمائے۔
ابر رحمت تیری مرقد پہ گہرباری کرے.
سوگ وار
------
غلام مصطفےٰ نعیمی(خلیفہ حضور تاج الشریعہ ،ایڈیٹر سواد اعظم دہلی)
تعزیت کنندگان:۔
.........
حضرت مولانا محمد یامین نعیمی صاحب قبلہ مدظلہ،(مہتمم جامعہ نعیمیہ مرادآباد)حضرت مفتی محمد سلیمان نعیمی برکاتی صاحب قبلہ (شیخ الفقہ جامعہ نعیمیہ مرادآباد)حضرت مولانا اکبر علی نعیمی(استاذ جامعہ نعیمیہ مراد آباد) مولانا باقر علی نعیمی(نعیمیہ مراد آباد)ضیا اشرف نعیمی اشرفی
(مالک مکتبہ نعیمیہ دہلی)مفتی محمد منظم نعیمی ازہری(خطیب جامع مسجد کردم پوری دہلی)مفتی صغیر احمد نعیمی برکاتی(بدایوں شریف)ڈاکٹر محمد احمد نعیمی(ہمدرد یونیورسٹی دہلی)
مؤرخہ 3 ربیع الثانی 1442ھ (19 نومبر 2020 بروز جمعرات)
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=4690873857621826&id=100000977732076
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
خادمَ الإسلامْ! يا مخدوم العالمْ الوداعْ
الوداعْ يا سيد الأبطال همًّا الوداعْ
نحن نبكي من ذهابكْ يا إمام العاشقينْ
سُمعتُكْ في العالمِ كَيُوسفَ بْنِ تاشفينْ
ْ
يا للأسفِ! لم نزُرْك في حياتكْ سيّدا
بالمباشر، نحنُ نرجوا في النعيمِ قد نرىٰ
رعبُكَ في قلب فاسقْ حتى يوم موتِهِ
لا يزال صوتُك في العالم مع رعدِهِ
لمّا تنظرْ في الصلابة مثلَه عينُ الفلكْ
لمّا نظر الفاسقون كانوا كَالصَّيدِ الفكك
يغفر الله له يعطيه أجرًا كاملا
يلتجي تابش إلى الله تعالى دائما
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2779186402359031&id=100008030947838
الوداعْ يا سيد الأبطال همًّا الوداعْ
نحن نبكي من ذهابكْ يا إمام العاشقينْ
سُمعتُكْ في العالمِ كَيُوسفَ بْنِ تاشفينْ
ْ
يا للأسفِ! لم نزُرْك في حياتكْ سيّدا
بالمباشر، نحنُ نرجوا في النعيمِ قد نرىٰ
رعبُكَ في قلب فاسقْ حتى يوم موتِهِ
لا يزال صوتُك في العالم مع رعدِهِ
لمّا تنظرْ في الصلابة مثلَه عينُ الفلكْ
لمّا نظر الفاسقون كانوا كَالصَّيدِ الفكك
يغفر الله له يعطيه أجرًا كاملا
يلتجي تابش إلى الله تعالى دائما
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2779186402359031&id=100008030947838
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
[11/19, 12:41 AM] Zulfaqar Khan Naimi: طرزرضا کی پیروی عاصمؔ یہ تیری شاعری
آج سے چند سال قبل ماہنامہ جام نور میں جناب احسان اللہ صفوی علیگ صاحب کے درج ذیل شعر ؎
کفر و اسلام کی سرحد سے الگ دور کہیں
اک نئی دنیا محبت کی بسائے کوئی
کے دفاع میں صوفیاے کرام کے شطحیات کے حوالے سے جناب ذیشان مصباحی ثم سعیدی صاحب کاایک مضمون شائع ہوا تھا، جس کا فقیر نے’’ کارپاکاں را قیاس ازخود مگیر ‘‘کے عنوان سے مضمون ہی کی شکل میں تفصیلی جواب لکھا تھا جو الحمدللہ علمی حلقے میں بہت مقبول ہوا۔اوراس مضمون کو بعد میں کتابی شکل میں ’’تصوف کے بدلتے رنگ ‘‘ کے نام سے شائع کیا گیا تھا۔جواب کا کافی دنوں تک انتظار رہا مگر جواب ہوتا تو لکھا جاتا۔
خیر اس کے بعد ان کی تحریروں کے جواب لکھنا وقت کو ضائع کرنا سمجھ کر چھوڑدیا گیا۔مگر کافی عرصے بعد آج اچانک ان کی ایک تحریر نظر سے گزری جس میں انہوں نے شیخ بدایوں مولانا اسیدالحق بدایونی( اللہ انہیں غریق رحمت فرمائے)کے حوالے سے کچھ عجیب سی باتیں تحریرکی ہیں ۔تحریر کو دوحصوں میں تقسیم کیا جائے تو ایک حصہ افتراق امت کی بحث پر مشتمل ہے اور دوسرا امام اہل سنت اعلیٰ حضرت قدس سرہ سے شیخ صاحب کے بغض و عداوت کے اظہارپرمشتمل ہے۔
پہلا حصہ چوں کہ تفصیل طلب ہے اس لیے ہم اس سے بس اس لیے صرف نظر کررہے ہیں کہ یہ مقام تفصیل کا نہیں ۔نیز اس پر بہت کچھ اب تک لکھا جاچکاہے اور آگے بھی لکھا جاتارہے گا،لیکن ہم دوسرے حصے پر کلام کرنا ضروری سمجھتے ہیں تاکہ امام اہل سنت کے حوالے سے شیخ صاحب پرلگائے گئے الزام کی حقیقت سے اہل علم اوردانش ور طبقہ آگاہ ہوجائے اور جان لے کہ یہ اہل سنت میں آگ بھڑکانے کی نئی کوشش ہے۔
آمدم برسرمطلب! جناب ذیشان سعیدی صاحب شیخ صاحب کے حوالے سے لکھتے ہیں :
’’مولانا فرمایا کرتے تھے کہ بریلویوں کا دعویٰ ہے کہ اعلیٰ حضرت کا نام لیے بغیر کوئی بھی تحقیق مکمل نہیں ہوتی ، اس لیے میں نے اپنے اوپر لازم کرلیا ہے کہ مجھے کسی بھی تحقیق کے لیے فاضل بریلوی کے حوالے کی محتاجی نہیں ہے۔ جو محتاج ہوں وہ ان کا حوالہ ضرور دیں ، لیکن اللہ کا شکرہے کہ متقدمین علما نے مجھے اس احتیاج سے بے نیاز کردیا ہے۔‘‘
اولاً تو اہل علم بریلویوں کا ایسا کوئی دعوی نہیں اوراگرہوتا بھی تو یہ عقیدت پرمحمول کیا جاتاہے اوراس طرح کے دعوے ہر عقیدت مند اپنے ممدوح کے حوالے سے دینے کا مجازہوتاہے جس پر بہت سی مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں ۔
دوسری بات شیخ صاحب کے حوالے سے اس قدر گھٹیا نظریہ پیش کرنا وہ بھی ان کی شہادت کےبعد یقیناً ان کی روح کو اذیت وتکلیف میں مبتلا کرناہے۔
اس پوری عبارت سے جو خلاصہ نکل کرسامنے آتاہے وہ بس اسی قدر ہے کہ شیخ صاحب فاضل بریلوی اور بریلویت سے بیزارتھے اوران سے عداوت رکھتے تھے۔ہمیں ہرگزہرگزان سے اس طرح کے کسی نظریہ کی امید نہیں ہے ۔
اہل علم بخوبی جانتے ہیں کہ ان کے اساتذہ میں ایک خصوصی نام امام علم وفن خواجہ مظفرحسین رضوی علیہ الرحمہ کابھی ہے ،جو خالص بریلوی اور کٹررضوی تھے۔درس نظامی کے علاوہ بہت سی علمی وفنی کتابیں خواجہ صاحب سے ہی آپ نے پڑھی ہیں۔بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ آپ کی علمی صلاحیت ولیاقت اور علوم وفنون میں مہارت میں خواجہ صاحب کا سب سے بڑا ہاتھ رہاہے تو غلط نہیں ہوگا۔اورخواجہ صاحب کے پاس جو کچھ تھا جس کا وہ اپنی حیات میں اظہارکرتے تھے وہ سب فاضل بریلوی کافیضان تھا۔ امام اہل سنت کی کتابوں کے مطالعے سے خواجہ صاحب کو علمی عروج عطاہوا۔تو یہ بالواسطہ فاضل بریلوی سے ہی استفادہ ہوا۔اس کے علاوہ کتاب افتراق امت میں شیخ صاحب نےاپنے موقف کے ثبوت میں حضرت مدنی میاں دامت معالیہم کاحوالہ بھی پیش کیاہے جو ایک صفحہ پر محیط ہے۔اور اس سے کوئی انکار نہیں کرسکتاکہ شیخ الاسلام بریلوی ہیں۔اورایسے بریلوی کہ خود لکھاہے کہ میں اپنے بریلوی ہونے پر فخر محسوس کرتاہوں۔
ملاحظہ کریں وہ لکھتے ہیں:
’’امام احمد رضا قادری بریلوی کی عظمت و شان اور بارگاہ خدا اور رسول میں ان کی مقبولیت کو سمجھنے کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ ان کی ذات گرامی تو بڑی چیز ان کی شہر کی طرف نسبت اہل ایمان اور اس کے عاشق رسول ہونے کی دلیل بن گئ ہے اب میں الحمد للہ مسلکاحنفی نسبتاًجیلانی مشربًا اشرفی اور وطناً کچھوچھوی ہونے کے باوجود اپنے آپ کو بریلوی کہتے ہوۓ فخر محسوس کرتا ہوں۔‘‘[ماہنامہ حجاز جدید دہلی.؛ امام اہل سنت نمبر. ستمبر واکتوبر ۱۹۸۹ءصفحہ.۹۵،۹۴]
جناب ذیشان سعیدی صاحب کے بیان کردہ دعوے میں متقدمین علما کے حوالے سے جو بات کہی ہے اس کی کتاب کے مندرجات سے بھی تکذیب ہورہی ہے۔کیوں کہ کتاب میں علماے متاخرین ،معاصرین بشمول بریلوی حوالے موجود ہیں۔اگرچہ بالواسطہ ہی ہیں ۔کیوں کہ اگر بریلویوں کا دعوی ہے تو پھر بریلوی یہ کہنے کے بھی مجازہیں کہ بھلے ہی اس میں اعلیٰ حضرت کا نام نہیں ہے مگر
آج سے چند سال قبل ماہنامہ جام نور میں جناب احسان اللہ صفوی علیگ صاحب کے درج ذیل شعر ؎
کفر و اسلام کی سرحد سے الگ دور کہیں
اک نئی دنیا محبت کی بسائے کوئی
کے دفاع میں صوفیاے کرام کے شطحیات کے حوالے سے جناب ذیشان مصباحی ثم سعیدی صاحب کاایک مضمون شائع ہوا تھا، جس کا فقیر نے’’ کارپاکاں را قیاس ازخود مگیر ‘‘کے عنوان سے مضمون ہی کی شکل میں تفصیلی جواب لکھا تھا جو الحمدللہ علمی حلقے میں بہت مقبول ہوا۔اوراس مضمون کو بعد میں کتابی شکل میں ’’تصوف کے بدلتے رنگ ‘‘ کے نام سے شائع کیا گیا تھا۔جواب کا کافی دنوں تک انتظار رہا مگر جواب ہوتا تو لکھا جاتا۔
خیر اس کے بعد ان کی تحریروں کے جواب لکھنا وقت کو ضائع کرنا سمجھ کر چھوڑدیا گیا۔مگر کافی عرصے بعد آج اچانک ان کی ایک تحریر نظر سے گزری جس میں انہوں نے شیخ بدایوں مولانا اسیدالحق بدایونی( اللہ انہیں غریق رحمت فرمائے)کے حوالے سے کچھ عجیب سی باتیں تحریرکی ہیں ۔تحریر کو دوحصوں میں تقسیم کیا جائے تو ایک حصہ افتراق امت کی بحث پر مشتمل ہے اور دوسرا امام اہل سنت اعلیٰ حضرت قدس سرہ سے شیخ صاحب کے بغض و عداوت کے اظہارپرمشتمل ہے۔
پہلا حصہ چوں کہ تفصیل طلب ہے اس لیے ہم اس سے بس اس لیے صرف نظر کررہے ہیں کہ یہ مقام تفصیل کا نہیں ۔نیز اس پر بہت کچھ اب تک لکھا جاچکاہے اور آگے بھی لکھا جاتارہے گا،لیکن ہم دوسرے حصے پر کلام کرنا ضروری سمجھتے ہیں تاکہ امام اہل سنت کے حوالے سے شیخ صاحب پرلگائے گئے الزام کی حقیقت سے اہل علم اوردانش ور طبقہ آگاہ ہوجائے اور جان لے کہ یہ اہل سنت میں آگ بھڑکانے کی نئی کوشش ہے۔
آمدم برسرمطلب! جناب ذیشان سعیدی صاحب شیخ صاحب کے حوالے سے لکھتے ہیں :
’’مولانا فرمایا کرتے تھے کہ بریلویوں کا دعویٰ ہے کہ اعلیٰ حضرت کا نام لیے بغیر کوئی بھی تحقیق مکمل نہیں ہوتی ، اس لیے میں نے اپنے اوپر لازم کرلیا ہے کہ مجھے کسی بھی تحقیق کے لیے فاضل بریلوی کے حوالے کی محتاجی نہیں ہے۔ جو محتاج ہوں وہ ان کا حوالہ ضرور دیں ، لیکن اللہ کا شکرہے کہ متقدمین علما نے مجھے اس احتیاج سے بے نیاز کردیا ہے۔‘‘
اولاً تو اہل علم بریلویوں کا ایسا کوئی دعوی نہیں اوراگرہوتا بھی تو یہ عقیدت پرمحمول کیا جاتاہے اوراس طرح کے دعوے ہر عقیدت مند اپنے ممدوح کے حوالے سے دینے کا مجازہوتاہے جس پر بہت سی مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں ۔
دوسری بات شیخ صاحب کے حوالے سے اس قدر گھٹیا نظریہ پیش کرنا وہ بھی ان کی شہادت کےبعد یقیناً ان کی روح کو اذیت وتکلیف میں مبتلا کرناہے۔
اس پوری عبارت سے جو خلاصہ نکل کرسامنے آتاہے وہ بس اسی قدر ہے کہ شیخ صاحب فاضل بریلوی اور بریلویت سے بیزارتھے اوران سے عداوت رکھتے تھے۔ہمیں ہرگزہرگزان سے اس طرح کے کسی نظریہ کی امید نہیں ہے ۔
اہل علم بخوبی جانتے ہیں کہ ان کے اساتذہ میں ایک خصوصی نام امام علم وفن خواجہ مظفرحسین رضوی علیہ الرحمہ کابھی ہے ،جو خالص بریلوی اور کٹررضوی تھے۔درس نظامی کے علاوہ بہت سی علمی وفنی کتابیں خواجہ صاحب سے ہی آپ نے پڑھی ہیں۔بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ آپ کی علمی صلاحیت ولیاقت اور علوم وفنون میں مہارت میں خواجہ صاحب کا سب سے بڑا ہاتھ رہاہے تو غلط نہیں ہوگا۔اورخواجہ صاحب کے پاس جو کچھ تھا جس کا وہ اپنی حیات میں اظہارکرتے تھے وہ سب فاضل بریلوی کافیضان تھا۔ امام اہل سنت کی کتابوں کے مطالعے سے خواجہ صاحب کو علمی عروج عطاہوا۔تو یہ بالواسطہ فاضل بریلوی سے ہی استفادہ ہوا۔اس کے علاوہ کتاب افتراق امت میں شیخ صاحب نےاپنے موقف کے ثبوت میں حضرت مدنی میاں دامت معالیہم کاحوالہ بھی پیش کیاہے جو ایک صفحہ پر محیط ہے۔اور اس سے کوئی انکار نہیں کرسکتاکہ شیخ الاسلام بریلوی ہیں۔اورایسے بریلوی کہ خود لکھاہے کہ میں اپنے بریلوی ہونے پر فخر محسوس کرتاہوں۔
ملاحظہ کریں وہ لکھتے ہیں:
’’امام احمد رضا قادری بریلوی کی عظمت و شان اور بارگاہ خدا اور رسول میں ان کی مقبولیت کو سمجھنے کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ ان کی ذات گرامی تو بڑی چیز ان کی شہر کی طرف نسبت اہل ایمان اور اس کے عاشق رسول ہونے کی دلیل بن گئ ہے اب میں الحمد للہ مسلکاحنفی نسبتاًجیلانی مشربًا اشرفی اور وطناً کچھوچھوی ہونے کے باوجود اپنے آپ کو بریلوی کہتے ہوۓ فخر محسوس کرتا ہوں۔‘‘[ماہنامہ حجاز جدید دہلی.؛ امام اہل سنت نمبر. ستمبر واکتوبر ۱۹۸۹ءصفحہ.۹۵،۹۴]
جناب ذیشان سعیدی صاحب کے بیان کردہ دعوے میں متقدمین علما کے حوالے سے جو بات کہی ہے اس کی کتاب کے مندرجات سے بھی تکذیب ہورہی ہے۔کیوں کہ کتاب میں علماے متاخرین ،معاصرین بشمول بریلوی حوالے موجود ہیں۔اگرچہ بالواسطہ ہی ہیں ۔کیوں کہ اگر بریلویوں کا دعوی ہے تو پھر بریلوی یہ کہنے کے بھی مجازہیں کہ بھلے ہی اس میں اعلیٰ حضرت کا نام نہیں ہے مگر
بریلوی شیخ وعالم کا حوالہ اس میں درج ہے یہ بھی اعلیٰ حضرت ہی کا فیضان ہے۔
علاوہ ازیں اگر یہ بات درست مان لی جائے تو پھر وہ حدیث پاک کے مطابق ذوالوجھین کے مصداق ہوں گے جن کے بارے میں بہت سی وعیدیں احادیث نبویہ میں موجود ہیں ۔کیوں کہ انہوں نے مجھ فقیر سے اور بہت سے اہل علم حضرات سے امام اہل سنت کے حوالے سے اپنی عقیدتوں اورمحبتوں کا خوب اظہارکیاہے اوران کی کتابوں سے استفادے کی تفصیل سنائی ہے۔تویہ دو منہ والی بات ہوگئی جس کا فقیر کوبالکل یقین نہیں ہے۔اورشیخ صاحب ہرگزاس حدیث کے مصداق نہیں ہیں !!!
مولانا موصوف سے امام اہل سنت کے حوالے سے فقیر نے بارہا گفتگو کی، فون پر بھی اور ان کی خانقاہ میں بیٹھ کربھی۔ہمیشہ انہوں نے امام اہل سنت کی خدمات جلیلہ اوران کی نظریات دینیہ کے حوالے سے مثبت اور مدح آمیز انداز میں ہی بات کی۔امام اہل سنت کے حوالے سے شیخ صاحب سے جو کچھ بھی تبادلہ خیال ہوا وہ لفظ بہ لفظ تو یاد نہیں ہاں البتہ ع
کچھ کچھ تو ہمیں یاد ہے سب یاد نہیں ہے
جس قد ر یاد ہے اسے یہاں لکھنا ضروری سمجھتاہوں ۔ملاحظہ کریں:
فقیرنے پہلی بار ان سے۲۰۰۷ میں فون پر بات کی تھی ۔اورپھر غالباًاسی سال بدایوں شریف خانقاہ میں حاضری ہوئی اور پہلی بالمشافہ ملاقات مسجدمیں نماز ظہرکے بعد ہوئی ۔نماز کے بعد دفتر میں بیٹھے چائے وغیرہ آئی اور اسی دوران گفتگو چل پڑی۔اس وقت چاروں طرف سناٹا تھا میں اور شیخ صاحب وبس!
فقیر: آپ کے تعلق سے کچھ عجیب سی باتیں گردش کررہی ہیں
شیخ صاحب : کیا؟مسکراتے ہوئے!
فقیر: آپ ایک مشت داڑھی کے وجوب کے قائل نہیں ہیں !
شیخ صاحب : قہقیہ مارکرہنسے اورمنہ میں پڑیا ڈالتے ہوئے بولے جھوٹ سراسرجھوٹ۔میں وجوب کا قائل ہوں ورنہ میری داڑھی چھوٹی ہوتی ہے آپ دیکھ سکتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فقیر: آپ چاروں اماموں پرتقلیدسے بیزارہیں
شیخ صاحب : استغفراللہ توبہ!میں حنفی ہوں، قادری ہوں۔ اب پوری دنیامیں ڈھنڈورا پیٹتانہیں پھروں گا۔ قدرے غصہ وغضب میں ۔۔۔میں اپنے آبا واجدادکی فکرکا غلام ہوں مولانا!میں ان سے ہٹ کر اپنی عاقبت خراب کروں گا؟
فقیر: اچھا حضرت !بریلی شریف سے آپ کے خانقاہی اختلاف کے سبب آپ اعلیٰ حضرت کی مخالفت کرتے ہیں ایسا اگرکوئی کہتاہے تو ؟
شیخ صاحب : ثابت کرے!زندگی بھر کوئی ثابت نہیں کرپائے گا۔میرے اجدادنے جنہیں عزت دی میں انہیں ذلیل کرکے ان کی ذات پر کیچڑ اچھال کر اپنے اجدادکی پکڑیاں اچھالوں گا ؟ہرگزہرگزنہیں ؟فاضل بریلوی سے ہمارے خانقاہی اختلافات کے چند سال دیکھنے والوں کو پچھلی پوری صدی بھی دیکھنا چاہیے ۔اورپھر قدرے مسکراتے ہوئے بولے مولانا!یہ دیکھیں (میزپر دائیں طرف اشارہ کرتے ہوئے )فتاوی رضویہ رکھی ہوئی ہے ۔میں اسے پڑھتاہوں روز پڑھتاہوں اور بہت کچھ حاصل کرتاہوں اگرمجھے فاضل بریلوی سے عداوت ہوتی تو میں فتاوی رضویہ پڑھتاہی نہیں ۔ پڑھتابھی تو دکھانے کے لیے میز پرنہیں رکھتا۔میرے یہاں فتوے بھی اسی کی روشنی میں دیے جاتے ہیں پہلے فتاوی رضویہ دیکھی جاتی ہے تاکہ کوئی مسئلہ دارالافتاء سے ایسا نہ جائے جو اس سے مختلف ہو اورمزیداختلاف کو ہوا ملے۔اورسنیں مولانا!
ابھی جلدی کی بات ہے میں ردولی شریف حاضر ہواتھا ۔عمار میاں نے دوران گفتگو کسی بات پر کہا کہ ہمیں کیاضرورت پڑی ہے فتاوی رضویہ کے حوالے کی ؟تو میں نے انہیں صاف جواب دیا مولانا !کوئی اور ہوتاتو شاید خوش ہوتا ۔
میں نے کہا کہ اگر فتاوی رضویہ ،بہارشریعت ،قانون شریعت کا بدل ہوتو اس کی بات نہ کی جائے اورجب بدل نہیں ہے توپھراس کے بغیر چارہ کار نہیں ہے۔جس پر وہ خاموش ہوگئے۔
اورہاں مولانا ایک بات اوربتادوں :فاضل بریلوی کی جو خدمات ہیں ان سے کسی متعصب ہی کو اختلاف ہوسکتاہے۔ہمیں تو بہرحال نہ ان کی خدمات سے اختلاف ہے نہ ان کی تعلیمات ونظریات سے الحمدللہ۔
ایک دن میں اورمولاناڈاکٹر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مولانا عبدالحی لکھنوی کی حدیث دانی پربات کررہے تھے ان کا ماننا تھا کہ علم حدیث میں علامہ لکھنوی کو فاضل بریلوی سے زیادہ عبورحاصل تھا ۔میں اگر عداوت رکھتا تو حامی بھرتا مگر میں نے وہیں جواب دیا نہیں بالکل نہیں فاضل بریلوی کی حدیث واصول حدیث کے حوالے سے تین کتابیں ،
حاجزالبحرین ،منیرالعین ،اورالھادی الکاف کو ایک پلڑے میں رکھ دیں اور علامہ لکھنوی کی ساری کتابیں اس فن کی ایک پلڑے میں ،تو فاضل بریلوی کی یہ تین کتابیں بھاری پڑیں گی۔
(اسی دوران کہنے لگے یار !حاجزالبحرین پڑھتے وقت سمجھ میں نہیں آتا کہ بندے کے پاس کتابیں کہاں سے آتی تھیں۔دھڑادھڑحوالے دینا اور وہ بھی نایاب کتابوں کے حوالے جو اس دور میں بہت مشکل تھا۔ اس دور میں تو بہت آسان ہے سیڈیوں میں کتابیں موجود ہیں ۔کوریرسے منگالیں،کسی کو میل کردیں وہ تلاش کرکے اسکین کراکے بھیج دے گا مگر اس دور میں تو یہ کام بہت ہی مشکل بالکل ناممکن ساتھا۔یہ سب اللہ کی دین ہے)
اچھا ایک مزے ک
علاوہ ازیں اگر یہ بات درست مان لی جائے تو پھر وہ حدیث پاک کے مطابق ذوالوجھین کے مصداق ہوں گے جن کے بارے میں بہت سی وعیدیں احادیث نبویہ میں موجود ہیں ۔کیوں کہ انہوں نے مجھ فقیر سے اور بہت سے اہل علم حضرات سے امام اہل سنت کے حوالے سے اپنی عقیدتوں اورمحبتوں کا خوب اظہارکیاہے اوران کی کتابوں سے استفادے کی تفصیل سنائی ہے۔تویہ دو منہ والی بات ہوگئی جس کا فقیر کوبالکل یقین نہیں ہے۔اورشیخ صاحب ہرگزاس حدیث کے مصداق نہیں ہیں !!!
مولانا موصوف سے امام اہل سنت کے حوالے سے فقیر نے بارہا گفتگو کی، فون پر بھی اور ان کی خانقاہ میں بیٹھ کربھی۔ہمیشہ انہوں نے امام اہل سنت کی خدمات جلیلہ اوران کی نظریات دینیہ کے حوالے سے مثبت اور مدح آمیز انداز میں ہی بات کی۔امام اہل سنت کے حوالے سے شیخ صاحب سے جو کچھ بھی تبادلہ خیال ہوا وہ لفظ بہ لفظ تو یاد نہیں ہاں البتہ ع
کچھ کچھ تو ہمیں یاد ہے سب یاد نہیں ہے
جس قد ر یاد ہے اسے یہاں لکھنا ضروری سمجھتاہوں ۔ملاحظہ کریں:
فقیرنے پہلی بار ان سے۲۰۰۷ میں فون پر بات کی تھی ۔اورپھر غالباًاسی سال بدایوں شریف خانقاہ میں حاضری ہوئی اور پہلی بالمشافہ ملاقات مسجدمیں نماز ظہرکے بعد ہوئی ۔نماز کے بعد دفتر میں بیٹھے چائے وغیرہ آئی اور اسی دوران گفتگو چل پڑی۔اس وقت چاروں طرف سناٹا تھا میں اور شیخ صاحب وبس!
فقیر: آپ کے تعلق سے کچھ عجیب سی باتیں گردش کررہی ہیں
شیخ صاحب : کیا؟مسکراتے ہوئے!
فقیر: آپ ایک مشت داڑھی کے وجوب کے قائل نہیں ہیں !
شیخ صاحب : قہقیہ مارکرہنسے اورمنہ میں پڑیا ڈالتے ہوئے بولے جھوٹ سراسرجھوٹ۔میں وجوب کا قائل ہوں ورنہ میری داڑھی چھوٹی ہوتی ہے آپ دیکھ سکتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فقیر: آپ چاروں اماموں پرتقلیدسے بیزارہیں
شیخ صاحب : استغفراللہ توبہ!میں حنفی ہوں، قادری ہوں۔ اب پوری دنیامیں ڈھنڈورا پیٹتانہیں پھروں گا۔ قدرے غصہ وغضب میں ۔۔۔میں اپنے آبا واجدادکی فکرکا غلام ہوں مولانا!میں ان سے ہٹ کر اپنی عاقبت خراب کروں گا؟
فقیر: اچھا حضرت !بریلی شریف سے آپ کے خانقاہی اختلاف کے سبب آپ اعلیٰ حضرت کی مخالفت کرتے ہیں ایسا اگرکوئی کہتاہے تو ؟
شیخ صاحب : ثابت کرے!زندگی بھر کوئی ثابت نہیں کرپائے گا۔میرے اجدادنے جنہیں عزت دی میں انہیں ذلیل کرکے ان کی ذات پر کیچڑ اچھال کر اپنے اجدادکی پکڑیاں اچھالوں گا ؟ہرگزہرگزنہیں ؟فاضل بریلوی سے ہمارے خانقاہی اختلافات کے چند سال دیکھنے والوں کو پچھلی پوری صدی بھی دیکھنا چاہیے ۔اورپھر قدرے مسکراتے ہوئے بولے مولانا!یہ دیکھیں (میزپر دائیں طرف اشارہ کرتے ہوئے )فتاوی رضویہ رکھی ہوئی ہے ۔میں اسے پڑھتاہوں روز پڑھتاہوں اور بہت کچھ حاصل کرتاہوں اگرمجھے فاضل بریلوی سے عداوت ہوتی تو میں فتاوی رضویہ پڑھتاہی نہیں ۔ پڑھتابھی تو دکھانے کے لیے میز پرنہیں رکھتا۔میرے یہاں فتوے بھی اسی کی روشنی میں دیے جاتے ہیں پہلے فتاوی رضویہ دیکھی جاتی ہے تاکہ کوئی مسئلہ دارالافتاء سے ایسا نہ جائے جو اس سے مختلف ہو اورمزیداختلاف کو ہوا ملے۔اورسنیں مولانا!
ابھی جلدی کی بات ہے میں ردولی شریف حاضر ہواتھا ۔عمار میاں نے دوران گفتگو کسی بات پر کہا کہ ہمیں کیاضرورت پڑی ہے فتاوی رضویہ کے حوالے کی ؟تو میں نے انہیں صاف جواب دیا مولانا !کوئی اور ہوتاتو شاید خوش ہوتا ۔
میں نے کہا کہ اگر فتاوی رضویہ ،بہارشریعت ،قانون شریعت کا بدل ہوتو اس کی بات نہ کی جائے اورجب بدل نہیں ہے توپھراس کے بغیر چارہ کار نہیں ہے۔جس پر وہ خاموش ہوگئے۔
اورہاں مولانا ایک بات اوربتادوں :فاضل بریلوی کی جو خدمات ہیں ان سے کسی متعصب ہی کو اختلاف ہوسکتاہے۔ہمیں تو بہرحال نہ ان کی خدمات سے اختلاف ہے نہ ان کی تعلیمات ونظریات سے الحمدللہ۔
ایک دن میں اورمولاناڈاکٹر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مولانا عبدالحی لکھنوی کی حدیث دانی پربات کررہے تھے ان کا ماننا تھا کہ علم حدیث میں علامہ لکھنوی کو فاضل بریلوی سے زیادہ عبورحاصل تھا ۔میں اگر عداوت رکھتا تو حامی بھرتا مگر میں نے وہیں جواب دیا نہیں بالکل نہیں فاضل بریلوی کی حدیث واصول حدیث کے حوالے سے تین کتابیں ،
حاجزالبحرین ،منیرالعین ،اورالھادی الکاف کو ایک پلڑے میں رکھ دیں اور علامہ لکھنوی کی ساری کتابیں اس فن کی ایک پلڑے میں ،تو فاضل بریلوی کی یہ تین کتابیں بھاری پڑیں گی۔
(اسی دوران کہنے لگے یار !حاجزالبحرین پڑھتے وقت سمجھ میں نہیں آتا کہ بندے کے پاس کتابیں کہاں سے آتی تھیں۔دھڑادھڑحوالے دینا اور وہ بھی نایاب کتابوں کے حوالے جو اس دور میں بہت مشکل تھا۔ اس دور میں تو بہت آسان ہے سیڈیوں میں کتابیں موجود ہیں ۔کوریرسے منگالیں،کسی کو میل کردیں وہ تلاش کرکے اسکین کراکے بھیج دے گا مگر اس دور میں تو یہ کام بہت ہی مشکل بالکل ناممکن ساتھا۔یہ سب اللہ کی دین ہے)
اچھا ایک مزے ک
ی بات سناؤں ۔
میں اباحضور کے ساتھ بسولی(یاشیخوپور۔فقیرکو اچھے سے مقام کا نام یاد نہیں ) گیاتھا ۔وہاں جس کمرے میں میری رہائش تھی وہاں بھی لوگ ملنے آرہے تھے ایک مشہورشاعر بھی پہنچ گئے ۔دعا سلام کےبعد انہوں نے اپنی شاعری سنانا شروع کی اور پھر باتیں ہونے لگیں اسی دوران وہ تڑک کر بولے کہ حضور میں نے اعلیٰ حضرت کے دیوان حدائق بخشش میں دس غلطیاں نکالی ہیں ۔ان کو مجھ سے امیدتھی کہ میں انہیں سراہوں گا ،مگر میں نے برجستہ ان سے کہا اس کا مطلب ہندوستان میں اعلیٰ حضرت سے بڑا کوئی شاعرنہیں وہ ایک نمبر کے شاعرہیں ۔وہ حیرت سے بولے کیوں حضور؟تو میں نے کہا لوگوں کا دعوی ہے کہ داغ ،غالب وغیرہ مشہور شاعروں کے دیوان میں سیکڑوں غلطیاں ہیں اوراعلیٰ حضرت کے دیوان میں دس تو پھر اس سے تو یہی پتہ چلا کہ وہ بڑے شاعرتھے۔وہ وہیں خاموش ہوگئے اور پھرآخرتک نہیں بولے۔
اورہاں مولانا ہماری لائبریری میں اعلیٰ حضرت کے نایاب مخطوطات ہیں کئی اہم نادرتحریریں اورفتاوی ہم نے محفوظ رکھے ہیں کچھ آپ ان شیشوں کی الماری میں دیکھ سکتے ہیں ۔فقیرنے دیکھا بھی۔۔۔۔۔
ہم اعلیٰ حضرت سے بغض کیوں رکھیں گے؟ اگربغض ہوتاتو پھر ان کی تحریریں جس قدر ہوتیں ہمارے پاس ہم سب ضائع کردیتے مگر نہیں ۔ابھی چند دنوں قبل ہم نے اشرفیہ والوں کو اعلیٰ حضرت کے عربی قصائد کا مجموعہ دیا ہے مخطوطہ کی شکل میں ۔اورہم سے جو ہوسکے گا وہ ہم شائع کریں گے ان شاء اللہ تعالیٰ ۔اورپھرکہیں گے لو ہمیں فاضل بریلوی سے بغض ہے۔۔۔۔۔آپ نے میر امقدمہ پڑھا ؟
فقیر: کون سا؟
شیخ صاحب : قصیدتان رائعتان پر۔
فقیر: نہیں ۔
شیخ صاحب : پڑھیں ۔تو آپ کو پتہ چلے گا کہ میں کس قدر فاضل بریلوی سے بغض رکھتاہوں ۔شرم نہیں آتی لوگوں کو اس قدر بے کارکی باتیں کرتے ۔
فقیر نے واپسی پر مقدمہ پڑھا اور پڑھتا ہی چلا گیا۔کس کھلے دل سے شیخ صاحب نے امام اہل سنت کی عظمت وبرتری کا اعتراف کیا ہے اورامام اہل سنت کی عربی دانی کے قصیدے رقم کیے ہیں۔فصاحت وبلاغت ،شاعرانہ عظمت ،قواعد سخن بحوروعروض ،نحووصرف وغیرہ علوم پر امام اہل سنت کے عبور ومہارت کا بے باکانہ غیر متعصبانہ اعتراف اور پھرقصائد پر فاضل بغداد ڈاکٹر رشید عبیدی کے ذکرکردہ نقائص وعیوب اورشبہات کا زبردست علمی وتحقیقی انداز میں ازالہ کیاہے جسے پڑھنے کے بعد شیخ صاحب کے حوالے سے امام اہل سنت سے بغض وعداوت کی بات بے بنیاد اور جھوٹ ثابت ہوجاتی ہے۔ہم کچھ اقتباسات مولانا ذیشان صاحب کے لیے بھی نقل کیے دیتے ہیں۔ملاحظہ کریں۔ شیخ صاحب رقم طرازہیں:
’’یہ قصائد فقیہ اسلام حضرت مولانا شاہ احمد رضا خاں فاضل بریلوی علیہ الرحمہ …….اورعربی میں فاضل بریلوی کی شاعرانہ عظمت تینوں پہلو اجاگرہوتے ہیں۔………بین السطور اور حاشیے میں مصنف علام نے کہیں فارسی کہیں عربی میں مفردات کی تشریح وتوضیح کی خاطربہت سے لطیف اشارات فرمائے ہیں ،اشعار کی تشریح کے وقت ان اشارات سے مکمل استفادہ کیاگیاہے………قصائد کے شاعروناظم فقیہ اسلام حضرت مولانا شاہ احمد رضا خاں فاضل بریلوی علیہ الرحمہ کا نام کسی تعارف یا تعریف کا محتاج نہیں۔آپ کی شخصیت ،علمی مقام اوردینی خدمات کا ایک زمانہ معترف تھا اورآج بھی ہے۔چوں کہ ابتدا ہی سے آپ نے بدمذہبیت اورفکری انحراف کے رد وابطال کو اپنا خصوصی موضوع قراردیا تھا لہٰذا آپ سے پہلے جوحضرات اس میدان کے شہسوار رہ چکے تھے ان سے متاثرہوناایک فطری امرتھا۔…….پہلے طریقہ یہ تھا کہ عرس میں جوتازہ نعت ومناقب پیش کی جاتی تھیں وہ ایک مجموعے میں عرس کی مختصر رودادکے ساتھ شائع کردی جاتی تھیں سن ۱۳۰۰ھ کے عرس کی روداد’’ماہ تابان اوج معرفت‘‘کے تاریخی نام سے شائع ہوئی تھی اس میں قصیدہ ،دالیہ کو مندرجہ ذیل عنوان کے تحت شائع کیاگیا:
قصیدہ فریدہ عربیہ بہیہ۔نتیجہ طبع وقاد وذہن نقاد جناب مستطاب جامع الکمال قامع بنیان اہل ضلال حامی مراسم دین متین مولانا مولوی احمد رضاخان صاحب قادری برکاتی بریلوی دامت برکاتہم……….اس سے حضرت فاضل بریلوی کی شخصی جامعیت کی ایک نئی جہت سامنے آتی ہے ۔…..قصائد کا لسانی ،عروضی ،فکری،شعری اور موضوعاتی مطالعہ کرنے سے ایسا محسوس ہوتاہے کہ یہ کسی بہت کہنہ مشق شاعر کی فکر عالی کا نتیجہ ہے مگر آ پ کو شاید یہ سن کرحیرت ہوکہ جس وقت یہ قصیدے نظم کیے گئے اس وقت فاضل بریلوی کی عمر محض ۲۷؍سال پانچ ماہ تھی۔…..قصیدتان رائعتان کا ایک تیسرا پہلو بھی بہت اہم ہے۔۔۔۔۳۱۳؍اشعار کے ان دونوں قصیدوں میں کہیں پر قافیہ کی تکرارنہیں ہوئی ہے۔…..جب ہم ان کے شعری محاسن اورلسانی خصوصیات کا جائزہ لیتے ہیں تو یہ بات بہت نمایاں ہوکر سامنے آتی ہے کہ ان میں فکروفن اورزبان وبیان کی وہ خوبیاں اور محاسن موجودہیں جوکسی بھی فن پارے کو اہمیت ووقعت عطاکرتے ہیں۔….بلاغت اپنی تینوں اقسام معانی ،بیان،بدیع کے ساتھ زیرنظر قصائد میں جلوہ ریز ہے۔….عربی نحووصرف اورلغت پر گہری نظر اورمضبوط گرفت کے
میں اباحضور کے ساتھ بسولی(یاشیخوپور۔فقیرکو اچھے سے مقام کا نام یاد نہیں ) گیاتھا ۔وہاں جس کمرے میں میری رہائش تھی وہاں بھی لوگ ملنے آرہے تھے ایک مشہورشاعر بھی پہنچ گئے ۔دعا سلام کےبعد انہوں نے اپنی شاعری سنانا شروع کی اور پھر باتیں ہونے لگیں اسی دوران وہ تڑک کر بولے کہ حضور میں نے اعلیٰ حضرت کے دیوان حدائق بخشش میں دس غلطیاں نکالی ہیں ۔ان کو مجھ سے امیدتھی کہ میں انہیں سراہوں گا ،مگر میں نے برجستہ ان سے کہا اس کا مطلب ہندوستان میں اعلیٰ حضرت سے بڑا کوئی شاعرنہیں وہ ایک نمبر کے شاعرہیں ۔وہ حیرت سے بولے کیوں حضور؟تو میں نے کہا لوگوں کا دعوی ہے کہ داغ ،غالب وغیرہ مشہور شاعروں کے دیوان میں سیکڑوں غلطیاں ہیں اوراعلیٰ حضرت کے دیوان میں دس تو پھر اس سے تو یہی پتہ چلا کہ وہ بڑے شاعرتھے۔وہ وہیں خاموش ہوگئے اور پھرآخرتک نہیں بولے۔
اورہاں مولانا ہماری لائبریری میں اعلیٰ حضرت کے نایاب مخطوطات ہیں کئی اہم نادرتحریریں اورفتاوی ہم نے محفوظ رکھے ہیں کچھ آپ ان شیشوں کی الماری میں دیکھ سکتے ہیں ۔فقیرنے دیکھا بھی۔۔۔۔۔
ہم اعلیٰ حضرت سے بغض کیوں رکھیں گے؟ اگربغض ہوتاتو پھر ان کی تحریریں جس قدر ہوتیں ہمارے پاس ہم سب ضائع کردیتے مگر نہیں ۔ابھی چند دنوں قبل ہم نے اشرفیہ والوں کو اعلیٰ حضرت کے عربی قصائد کا مجموعہ دیا ہے مخطوطہ کی شکل میں ۔اورہم سے جو ہوسکے گا وہ ہم شائع کریں گے ان شاء اللہ تعالیٰ ۔اورپھرکہیں گے لو ہمیں فاضل بریلوی سے بغض ہے۔۔۔۔۔آپ نے میر امقدمہ پڑھا ؟
فقیر: کون سا؟
شیخ صاحب : قصیدتان رائعتان پر۔
فقیر: نہیں ۔
شیخ صاحب : پڑھیں ۔تو آپ کو پتہ چلے گا کہ میں کس قدر فاضل بریلوی سے بغض رکھتاہوں ۔شرم نہیں آتی لوگوں کو اس قدر بے کارکی باتیں کرتے ۔
فقیر نے واپسی پر مقدمہ پڑھا اور پڑھتا ہی چلا گیا۔کس کھلے دل سے شیخ صاحب نے امام اہل سنت کی عظمت وبرتری کا اعتراف کیا ہے اورامام اہل سنت کی عربی دانی کے قصیدے رقم کیے ہیں۔فصاحت وبلاغت ،شاعرانہ عظمت ،قواعد سخن بحوروعروض ،نحووصرف وغیرہ علوم پر امام اہل سنت کے عبور ومہارت کا بے باکانہ غیر متعصبانہ اعتراف اور پھرقصائد پر فاضل بغداد ڈاکٹر رشید عبیدی کے ذکرکردہ نقائص وعیوب اورشبہات کا زبردست علمی وتحقیقی انداز میں ازالہ کیاہے جسے پڑھنے کے بعد شیخ صاحب کے حوالے سے امام اہل سنت سے بغض وعداوت کی بات بے بنیاد اور جھوٹ ثابت ہوجاتی ہے۔ہم کچھ اقتباسات مولانا ذیشان صاحب کے لیے بھی نقل کیے دیتے ہیں۔ملاحظہ کریں۔ شیخ صاحب رقم طرازہیں:
’’یہ قصائد فقیہ اسلام حضرت مولانا شاہ احمد رضا خاں فاضل بریلوی علیہ الرحمہ …….اورعربی میں فاضل بریلوی کی شاعرانہ عظمت تینوں پہلو اجاگرہوتے ہیں۔………بین السطور اور حاشیے میں مصنف علام نے کہیں فارسی کہیں عربی میں مفردات کی تشریح وتوضیح کی خاطربہت سے لطیف اشارات فرمائے ہیں ،اشعار کی تشریح کے وقت ان اشارات سے مکمل استفادہ کیاگیاہے………قصائد کے شاعروناظم فقیہ اسلام حضرت مولانا شاہ احمد رضا خاں فاضل بریلوی علیہ الرحمہ کا نام کسی تعارف یا تعریف کا محتاج نہیں۔آپ کی شخصیت ،علمی مقام اوردینی خدمات کا ایک زمانہ معترف تھا اورآج بھی ہے۔چوں کہ ابتدا ہی سے آپ نے بدمذہبیت اورفکری انحراف کے رد وابطال کو اپنا خصوصی موضوع قراردیا تھا لہٰذا آپ سے پہلے جوحضرات اس میدان کے شہسوار رہ چکے تھے ان سے متاثرہوناایک فطری امرتھا۔…….پہلے طریقہ یہ تھا کہ عرس میں جوتازہ نعت ومناقب پیش کی جاتی تھیں وہ ایک مجموعے میں عرس کی مختصر رودادکے ساتھ شائع کردی جاتی تھیں سن ۱۳۰۰ھ کے عرس کی روداد’’ماہ تابان اوج معرفت‘‘کے تاریخی نام سے شائع ہوئی تھی اس میں قصیدہ ،دالیہ کو مندرجہ ذیل عنوان کے تحت شائع کیاگیا:
قصیدہ فریدہ عربیہ بہیہ۔نتیجہ طبع وقاد وذہن نقاد جناب مستطاب جامع الکمال قامع بنیان اہل ضلال حامی مراسم دین متین مولانا مولوی احمد رضاخان صاحب قادری برکاتی بریلوی دامت برکاتہم……….اس سے حضرت فاضل بریلوی کی شخصی جامعیت کی ایک نئی جہت سامنے آتی ہے ۔…..قصائد کا لسانی ،عروضی ،فکری،شعری اور موضوعاتی مطالعہ کرنے سے ایسا محسوس ہوتاہے کہ یہ کسی بہت کہنہ مشق شاعر کی فکر عالی کا نتیجہ ہے مگر آ پ کو شاید یہ سن کرحیرت ہوکہ جس وقت یہ قصیدے نظم کیے گئے اس وقت فاضل بریلوی کی عمر محض ۲۷؍سال پانچ ماہ تھی۔…..قصیدتان رائعتان کا ایک تیسرا پہلو بھی بہت اہم ہے۔۔۔۔۳۱۳؍اشعار کے ان دونوں قصیدوں میں کہیں پر قافیہ کی تکرارنہیں ہوئی ہے۔…..جب ہم ان کے شعری محاسن اورلسانی خصوصیات کا جائزہ لیتے ہیں تو یہ بات بہت نمایاں ہوکر سامنے آتی ہے کہ ان میں فکروفن اورزبان وبیان کی وہ خوبیاں اور محاسن موجودہیں جوکسی بھی فن پارے کو اہمیت ووقعت عطاکرتے ہیں۔….بلاغت اپنی تینوں اقسام معانی ،بیان،بدیع کے ساتھ زیرنظر قصائد میں جلوہ ریز ہے۔….عربی نحووصرف اورلغت پر گہری نظر اورمضبوط گرفت کے
بغیر اس پائے کے قصیدے نظم کرنا ممکن نہیں ہے قصیدوں کے حواشی اوربین السطور میں مصنف علامہ نے اسرارنحویہ اور لغویہ کی جانب جو اشارات کیے ہیں وہ مفید اور دل چسپ بھی ہیں اورقواعدولغت پر دسترس کی دلیل بھی۔‘‘[مقدمہ برقصیدتان رائعتان]
ہم پھر اپنی بات کی طرف آتے ہیں ۔
فقیر: خیر حضرت میری باتوں کا برا نہ مانیں میں نے جو سنا وہ پوچھ لیاہے ۔
شیخ صاحب : ارے نہیں کیسی باتیں کررہے ہیں ۔اچھا شروع کی دوباتیں داڑھی اور تقلید والی فلاں فلاں نے کہی ہیں ؟
فقیر: جی میں نے ان کا نام لینا مناسب نہیں سمجھا اس لیے یوں ہی اشاروں میں بات کی تھی ۔اب آپ جان ہی گئے ہیں تو کیا چھپانا۔
شیخ صاحب : مجھے اور بھی لوگوں نے بتایاہے کہ آج کل وہ میرے تعلق سے اسی طرح افواہ اڑارہے ہیں ۔خیر میں کس کس کو صفائی دیتا پھروں گا۔چھوڑیں مولانا ان باتوں کو ۔۔۔۔۔(اس کے بعد کچھ ذاتی باتیں ہوئیں ۔اورپھر نماز عصر کا وقت ہوچلا تھا نماز عصر کے بعد فقیروہاں سے رخصت ہوکر گھر آگیا۔)
فون پر بھی اکثر باتیں ہوتی رہتی تھیں ۔کئی بار ایسا بھی اتفاق ہوا کہ عید وغیرہ پر فون آیا کہ آپ ککرالہ نہیں آئے تو جواباً میں ہاں یا نہ کہتا اگرہاں میں جواب ہوتا تو کہتے کہ آجائیں پھر کسی وقت ۔اورفقیر حاضرہوجاتا۔اورپھر کھل کر بہت سے موضوعات پر تبادلہ خیالات کا سلسلہ چلتا۔ایک بار میں نے ڈاکٹر نوشاد عالم چشتی صاحب کے حوالے سے بھی پوچھا تو انہوں نے صاف طو رپرکہا کہ فاضل بریلوی کی مخالفت پرزیادہ زور رہتاہے ان کا ۔آپ نے میرا تبصرہ نہیں پڑھا جام نور میں ؟
میں نے نفی میں جواب دیا تو کہا پڑھ لیں! انہوں نے فاضل بریلوی کے حوالے سے جس طرح کا اسلوب اپنا رکھا ہے اس کے جواب میں اس سے زیادہ لکھنا بے سود ہے ۔(اور بھی بہت سی باتیں جن کا یہاں نقل کرنا ضروری نہیں )
میں نے جام نور سے وہ تبصرہ تلاش کرکے پڑھا جو بعد میں خامہ تلاشی کتاب میں شائع ہوا۔اس کے چند اقتباسات یہاں نقل کرنا فقیر ضروری سمجھتاہے تاکہ ڈاکٹرچشتی صاحب کی ذہنیت کے حوالے سے مولانا بدایونی کا نظریہ صاف ہوجائے ۔
ہم یہاں یہ بھی بتادیں کہ بعد میں شیخ صاحب سے خاصے اچھے مراسم چشتی صاحب نے بنالیے تھے مگر نظریہ اورمراسم میں خاصا فرق ہوتاہے جسے اہل علم بخوبی جانتے ہیں۔لکھتے ہیں:
’’ڈاکٹرنوشادچشتی صاحب نے ’’رضویات‘‘کے ایک اہم گوشہ پر قلم اٹھایاہے اورپہلی قسط میں موضوع سے پورا انصاف کیاہے جس میں تحقیقی وعلمی اسلوب کے ساتھ لب ولہجہ کی سنجیدگی اورمتانت کا بھی خاص خیال رکھاہے مگر پتانہیں کیوں دوسری قسط میں وہ تحقیقی اسلوب اورعلمی منہج سے دور جاپڑے اورکسی ’’معروف قاری صاحب‘‘کے متعلق عجیب وغریب حقائق کا انکشاف کرتے ہوئے ان کے بعض رازہاے دروں سے پردہ اٹھانے میں مصروف ہوگئے ۔اس کے لیے انہوں نے جام نور کے تین قیمتی صفحات کااستعمال کیاہے یہ عجیب وغریب حقائق نہ ان کے موضوع سے کوئی خاص واسطہ رکھتے ہیں اورنہ ہی جام نور کے مزاج ومعیار پرپورے اترتے ہیں اسی طرح انہوں نے مفتی اعظم کے خلفا کی جو بحث چھیڑی ہے وہ بھی حب علی میں کم بغض معاویہ میں زیادہ معلوم ہوتی ہے ۔پہلی قسط میں موصوف نے ایک جگہ ’’فاضل بریلوی مرحوم ‘‘تحریرفرمایاہے ،کسی وفات یافتہ شخص کو مرحوم لکھنا کوئی بری بات نہیں ہے مگر یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ
’’گر فرق مراتب نہ کنی زندیقی‘‘
الفاظ کے استعمال میں عرف کا بڑا دخل ہوتاہے آج مذہبی اورروحانی اعتبارسے کسی عظیم شخصیت کو مرحوم لکھنا معنوی اعتبارسے کتناہی درست کیوں نہ ہومگرعرف کے خلاف اورناپسندیدہ ہے ۔اوراگرکسی کی اہمیت کم کرنے کے لیے ہوتوقابل مذمت بھی ہے۔ممکن ہے کہ چشتی صاحب یہ دلیل دیں کہ خود (ان کے نقل کردہ حوالہ میں )فاضل بریلوی نے شاہ رفیع الدین دہلوی کو مرحوم لکھاہے تواگرمیں نے فاضل بریلوی کو مرحوم لکھ دیا تو کون ساگناہ کردیا؟
یہ دلیل بڑی کمزورہے اس لیے کہ ہرزمانہ کااپنا الگ عرف ہوتاہے ایک زمانہ میں بڑے سے بڑے علامہ کو مولوی لکھا اور بولا جاتاتھا جیسے مولوی فضل حق خیرآبادی ،مولوی عبدا لحی فرنگی محلی وغیرہ ۔مگر آج جماعت سادسہ یاسابعہ کے کسی طالب علم کو مولوی کہہ کر دعوت خطاب دیدی جائے تو وہ چراغ پاہوجائے گااوراس کو اپنی توہین تصورکرے گا اورپھر اس بات کو اس زاویہ سے بھی دیکھا جاسکتاہے کہ شاہ رفیع الدین صاحب کے مقابلہ میں فاضل بریلوی کی جو علمی حیثیت تھی کیا فاضل بریلوی کے مقابلہ میں وہی علمی حیثیت مضمون نگار کی بھی ہے ؟
ہم خوشتر صاحب سے درخواست کریں گے کہ وہ اس قسم کے غیر سنجیدہ اورغیرذمہ دارانہ مضامین شائع کرنے میں احتیاط برتیں تاکہ جام نور کا ہدف،تشخص،اورمعیارمتاثرنہ ہو‘‘[خامہ تلاشی:ص۲۲،۲۱]
شیخ صاحب کے مذکورہ تبصرہ کو پورا پڑھ جائیے توایک بات صاف نظر آئے گی کہ ان کی نظرمیں امام اہل سنت کی بڑی قدر تھی کہ لفظ مرحوم لکھے جانے پر چشتی صاحب کے غیر اخلاقی رویہ اور تعصبی ذہنیت کی تردیدکے ساتھ امام اہل سنت کی عظمت ورفعت کو ب
ہم پھر اپنی بات کی طرف آتے ہیں ۔
فقیر: خیر حضرت میری باتوں کا برا نہ مانیں میں نے جو سنا وہ پوچھ لیاہے ۔
شیخ صاحب : ارے نہیں کیسی باتیں کررہے ہیں ۔اچھا شروع کی دوباتیں داڑھی اور تقلید والی فلاں فلاں نے کہی ہیں ؟
فقیر: جی میں نے ان کا نام لینا مناسب نہیں سمجھا اس لیے یوں ہی اشاروں میں بات کی تھی ۔اب آپ جان ہی گئے ہیں تو کیا چھپانا۔
شیخ صاحب : مجھے اور بھی لوگوں نے بتایاہے کہ آج کل وہ میرے تعلق سے اسی طرح افواہ اڑارہے ہیں ۔خیر میں کس کس کو صفائی دیتا پھروں گا۔چھوڑیں مولانا ان باتوں کو ۔۔۔۔۔(اس کے بعد کچھ ذاتی باتیں ہوئیں ۔اورپھر نماز عصر کا وقت ہوچلا تھا نماز عصر کے بعد فقیروہاں سے رخصت ہوکر گھر آگیا۔)
فون پر بھی اکثر باتیں ہوتی رہتی تھیں ۔کئی بار ایسا بھی اتفاق ہوا کہ عید وغیرہ پر فون آیا کہ آپ ککرالہ نہیں آئے تو جواباً میں ہاں یا نہ کہتا اگرہاں میں جواب ہوتا تو کہتے کہ آجائیں پھر کسی وقت ۔اورفقیر حاضرہوجاتا۔اورپھر کھل کر بہت سے موضوعات پر تبادلہ خیالات کا سلسلہ چلتا۔ایک بار میں نے ڈاکٹر نوشاد عالم چشتی صاحب کے حوالے سے بھی پوچھا تو انہوں نے صاف طو رپرکہا کہ فاضل بریلوی کی مخالفت پرزیادہ زور رہتاہے ان کا ۔آپ نے میرا تبصرہ نہیں پڑھا جام نور میں ؟
میں نے نفی میں جواب دیا تو کہا پڑھ لیں! انہوں نے فاضل بریلوی کے حوالے سے جس طرح کا اسلوب اپنا رکھا ہے اس کے جواب میں اس سے زیادہ لکھنا بے سود ہے ۔(اور بھی بہت سی باتیں جن کا یہاں نقل کرنا ضروری نہیں )
میں نے جام نور سے وہ تبصرہ تلاش کرکے پڑھا جو بعد میں خامہ تلاشی کتاب میں شائع ہوا۔اس کے چند اقتباسات یہاں نقل کرنا فقیر ضروری سمجھتاہے تاکہ ڈاکٹرچشتی صاحب کی ذہنیت کے حوالے سے مولانا بدایونی کا نظریہ صاف ہوجائے ۔
ہم یہاں یہ بھی بتادیں کہ بعد میں شیخ صاحب سے خاصے اچھے مراسم چشتی صاحب نے بنالیے تھے مگر نظریہ اورمراسم میں خاصا فرق ہوتاہے جسے اہل علم بخوبی جانتے ہیں۔لکھتے ہیں:
’’ڈاکٹرنوشادچشتی صاحب نے ’’رضویات‘‘کے ایک اہم گوشہ پر قلم اٹھایاہے اورپہلی قسط میں موضوع سے پورا انصاف کیاہے جس میں تحقیقی وعلمی اسلوب کے ساتھ لب ولہجہ کی سنجیدگی اورمتانت کا بھی خاص خیال رکھاہے مگر پتانہیں کیوں دوسری قسط میں وہ تحقیقی اسلوب اورعلمی منہج سے دور جاپڑے اورکسی ’’معروف قاری صاحب‘‘کے متعلق عجیب وغریب حقائق کا انکشاف کرتے ہوئے ان کے بعض رازہاے دروں سے پردہ اٹھانے میں مصروف ہوگئے ۔اس کے لیے انہوں نے جام نور کے تین قیمتی صفحات کااستعمال کیاہے یہ عجیب وغریب حقائق نہ ان کے موضوع سے کوئی خاص واسطہ رکھتے ہیں اورنہ ہی جام نور کے مزاج ومعیار پرپورے اترتے ہیں اسی طرح انہوں نے مفتی اعظم کے خلفا کی جو بحث چھیڑی ہے وہ بھی حب علی میں کم بغض معاویہ میں زیادہ معلوم ہوتی ہے ۔پہلی قسط میں موصوف نے ایک جگہ ’’فاضل بریلوی مرحوم ‘‘تحریرفرمایاہے ،کسی وفات یافتہ شخص کو مرحوم لکھنا کوئی بری بات نہیں ہے مگر یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ
’’گر فرق مراتب نہ کنی زندیقی‘‘
الفاظ کے استعمال میں عرف کا بڑا دخل ہوتاہے آج مذہبی اورروحانی اعتبارسے کسی عظیم شخصیت کو مرحوم لکھنا معنوی اعتبارسے کتناہی درست کیوں نہ ہومگرعرف کے خلاف اورناپسندیدہ ہے ۔اوراگرکسی کی اہمیت کم کرنے کے لیے ہوتوقابل مذمت بھی ہے۔ممکن ہے کہ چشتی صاحب یہ دلیل دیں کہ خود (ان کے نقل کردہ حوالہ میں )فاضل بریلوی نے شاہ رفیع الدین دہلوی کو مرحوم لکھاہے تواگرمیں نے فاضل بریلوی کو مرحوم لکھ دیا تو کون ساگناہ کردیا؟
یہ دلیل بڑی کمزورہے اس لیے کہ ہرزمانہ کااپنا الگ عرف ہوتاہے ایک زمانہ میں بڑے سے بڑے علامہ کو مولوی لکھا اور بولا جاتاتھا جیسے مولوی فضل حق خیرآبادی ،مولوی عبدا لحی فرنگی محلی وغیرہ ۔مگر آج جماعت سادسہ یاسابعہ کے کسی طالب علم کو مولوی کہہ کر دعوت خطاب دیدی جائے تو وہ چراغ پاہوجائے گااوراس کو اپنی توہین تصورکرے گا اورپھر اس بات کو اس زاویہ سے بھی دیکھا جاسکتاہے کہ شاہ رفیع الدین صاحب کے مقابلہ میں فاضل بریلوی کی جو علمی حیثیت تھی کیا فاضل بریلوی کے مقابلہ میں وہی علمی حیثیت مضمون نگار کی بھی ہے ؟
ہم خوشتر صاحب سے درخواست کریں گے کہ وہ اس قسم کے غیر سنجیدہ اورغیرذمہ دارانہ مضامین شائع کرنے میں احتیاط برتیں تاکہ جام نور کا ہدف،تشخص،اورمعیارمتاثرنہ ہو‘‘[خامہ تلاشی:ص۲۲،۲۱]
شیخ صاحب کے مذکورہ تبصرہ کو پورا پڑھ جائیے توایک بات صاف نظر آئے گی کہ ان کی نظرمیں امام اہل سنت کی بڑی قدر تھی کہ لفظ مرحوم لکھے جانے پر چشتی صاحب کے غیر اخلاقی رویہ اور تعصبی ذہنیت کی تردیدکے ساتھ امام اہل سنت کی عظمت ورفعت کو ب
ھی بہت ہی اچھے انداز میں بیان فرماگئے ہیں۔نیزپورے تبصرے میں درج ذیل اقتباسات کافی دل چسپ ہیں۔
’’ ایک جگہ ’’فاضل بریلوی مرحوم ‘‘تحریرفرمایاہے ،کسی وفات یافتہ شخص کو مرحوم لکھنا کوئی بری بات نہیں ہے مگر یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ ’’گر فرق مراتب نہ کنی زندیقی‘‘
اور
’’ شاہ رفیع الدین صاحب کے مقابلہ میں فاضل بریلوی کی جو علمی حیثیت تھی کیا فاضل بریلوی کے مقابلہ میں وہی علمی حیثیت مضمون نگار کی بھی ہے ؟‘‘
اور’’ اس قسم کے غیر سنجیدہ اورغیرذمہ دارانہ مضامین‘‘
علاوہ ازیں امام اہل سنت سے شیخ صاحب کی وابستگی کی اسی طرح کی ایک اور مثال یاد آئی جو میں نے آپ کی شہادت کے بعد تعزیت نامہ میں بھی لکھی تھی اوراپنی کتاب دفع الخمامہ میں بھی ۔اس کا خلاصہ یہاں پیش کرتاہوں۔
مفتی ارشد جمال اشرفی کچھوچھوی صاحب کی ایک کتاب ہے عمامہ اور ٹوپی کے حوالے سے جس میں انہوں نے عمامہ کی فضیلیت پرمشتمل احادیث کی موضوعیت ثابت کرکے ٹوپی اورعمامہ کی مستوی العمل قراردیاہے۔فقیر کی اس حوالے سے شیخ صاحب سے بات ہوئی تو انہوں نے کہا کہ اس کتاب کو میں نے دیکھا ہے مجھے بادی النظر میں ٹھیک معلوم ہوئی مجھے نہیں لگتا کہ اس کا جواب لکھا جائے گا۔ فقیر نے کہا کہ میں ارادہ کرچکا ہوں اس کے جواب کا ان شاء اللہ ۔
اوراسی پر فقیر نے اس کتاب کی پہلی حدیث پر پیش کیے گئے استحالہ سے متعلق گفتگو شروع کی اور اس کے جوابات رکھے تو برجستہ کہا کہ واقعی اس کتاب پر تنقیدی نگاہ کی ضرورت ہے ۔جواب بھی معقول دیا آپ نے تحقیقی بھی ہے اور الزامی بھی۔خیر آپ کتاب لکھیں اس حوالے سے اس فن کی کسی کتاب کی ضرورت ہو تو بتادینا (چوں کہ اس وقت میرے پاس شاملہ نہیں تھااوراس فن کی کتابیں بھی نہیں تھیں)خیر میں نے کتاب لکھی ۔اسی دوران ایک دن اچانک قریب رات کے ساڑھے گیارہ بجے فون آیادعاسلام کے بعدفرمایاکہ آپ جس کتاب کاجواب لکھ رہے ہیں وہ کتاب چوں کہ پوری کی پوری فاضل بریلوی کی فتاوی رضویہ میں در ج احادیث کی تردیدمیں ہے اگربرانہ مانیں تومیں اس کتاب سے بس ایک عبارت کولے کرمضمون لکھنے کے موڈمیں ہوں میں نے کہااس میں براماننے والی کون سی بات ہے میں نے توابھی کتاب لکھنے کا آغازکیاہے بتائیں کہاں سے لکھ رہے ہیں بولے حدیث مبارک’’ اعتمواخالفواعلی الامم من قبلکم ‘‘سے ۔موصوف نے لکھاہے کہ اعلیٰ حضرت نے اس کاترجمہ غلط کیاہے اوروہ عبارت نہ سمجھ سکے ۔میں اس کاجواب لکھناچاہتاہوں میں نے کہاحضرت لکھیں مجھے بہت خوشی ہوگی۔ خیراس کے بعدآپ نے ’’ فتاوی رضویہ کی عبارت پرشبہہ کاازالہ ‘‘کے عنوان سے ایک معرکۃ الآرامضمون رقم فرمایا،جسے میں نے اپنی کتاب میں شامل کیااوربہت سے رسائل میں بھی اس کی اشاعت ہوئی۔
یوں ہی جب میں نے اعلیٰ حضرت کے ایک نایاب فتوی پرکام کیا۔ اوراسے کتابی شکل میں ’’ انبیاےکرام گناہ سے پاک ہیں ‘‘کے نام سے شائع کرایا تو اشاعت کے بعد بدایوں شریف جانے پردوسری کتابوں کے ساتھ شیخ صاحب کو یہ کتاب بھی پیش کی ۔(یہ فتوی چوں کہ میں نے ’’ ماہنامہ تحفہ حنفیہ پٹنہ‘‘سے لیاتھااسی لیے کہنے لگے کہ اعلیٰ حضرت کے اور بھی بہت سے فتاوی’’ماہنامہ تحفہ حنفیہ ‘‘ میں ہیں آپ ان کو بھی دیکھو اور کام کرو! فقیر نے کہاکہ کیسے ملیں گے توکہا کہ ہمارے پاس ہیں تھوڑا وقت دو ۔میں نے کہا بہتر۔
پھرایک بارمیں نے اس حوالہ سے بات کی توکہا کہ کسی کوبھیج دوفائلیں میں نے نکلوادی ہیں ۔میں نے اپنے ایک عزیزکوبھیج دیا۔موصوف نے تحفہ حنفیہ کی ساری فائلیں جن میں اکثربوسیدہ حالت میں تھیں انہیں دے دیں اور وہ میرے پاس پہنچ گئیں ۔ میں نے ان فائلوں سے استفادہ کیاکاپی کیااورحسب اجازت ڈبل کاپی سے ایک عددخودکے لیے رکھی۔اورسب کومہینے اورسال کے اعتبارسے ترتیب دیاجلدسازی کرائی اورپھرواپس بھیج دی۔بہت خوش ہوئے کہ آپ نے انہیں نئی جان بخشی ہے میں نے کہانہیں جب میں ان فائلوں سے استفادہ کرہی رہاتھاتومیراحق تھاکہ انہیں ترتیب دے کرانہیں محفوظ بھی کروں ۔
ایک اور بات یادآئی مجھے اپنی کتاب ’’فتوحات رضویہ ‘‘کے حوالے سے ایک کتاب کی ضرورت تھی مگر وہ لائبریریوں میں نہیں مل رہی تھی۔جن علما سے اس وقت رابطہ تھا ان سے بھی معلوم کیا مگر وہ کتاب نہیں ملی ۔جس کی وجہ سے کتاب کا کام ادھورا تھا۔اسی دوران بدایوں شریف جانا ہوا ۔باتوں باتوں میں اس کاذکر بھی آگیا کہ ۱۹۱۱ء میں مرادآباد میں امام اہل سنت اور مولوی اشرف علی تھانوی کے درمیان مناظرہ طے پایا تھا جس میں امام اہل سنت اور علماے رامپور وغیرہ شامل ہوئے تھے ۔دیوبندی کوئی بھی عالم میدان مناظرہ میں امام اہل سنت کے مقابلے میں حاضر نہیں ہوا۔چار روز تک جشن کے جلسے ہوتے رہے ۔اورپانچویں دن آپ نے بریلی شریف مراجعت فرمائی۔فقیر نے کہا کہ یہ سب تفصیل اخبارات مرادآباد ورامپور کے حوالے سے لکھ دی ہے مگر یہ مناظرہ مرادآباد میں کیوں ہوا اس تعلق سے ایک کتاب ’’دافع الفساد عن مرادآباد‘‘کی تلاش ہے ۔تلاش بسیار کے بعد بھی نہیں ملی ہے ۔دو تین طلبا
’’ ایک جگہ ’’فاضل بریلوی مرحوم ‘‘تحریرفرمایاہے ،کسی وفات یافتہ شخص کو مرحوم لکھنا کوئی بری بات نہیں ہے مگر یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ ’’گر فرق مراتب نہ کنی زندیقی‘‘
اور
’’ شاہ رفیع الدین صاحب کے مقابلہ میں فاضل بریلوی کی جو علمی حیثیت تھی کیا فاضل بریلوی کے مقابلہ میں وہی علمی حیثیت مضمون نگار کی بھی ہے ؟‘‘
اور’’ اس قسم کے غیر سنجیدہ اورغیرذمہ دارانہ مضامین‘‘
علاوہ ازیں امام اہل سنت سے شیخ صاحب کی وابستگی کی اسی طرح کی ایک اور مثال یاد آئی جو میں نے آپ کی شہادت کے بعد تعزیت نامہ میں بھی لکھی تھی اوراپنی کتاب دفع الخمامہ میں بھی ۔اس کا خلاصہ یہاں پیش کرتاہوں۔
مفتی ارشد جمال اشرفی کچھوچھوی صاحب کی ایک کتاب ہے عمامہ اور ٹوپی کے حوالے سے جس میں انہوں نے عمامہ کی فضیلیت پرمشتمل احادیث کی موضوعیت ثابت کرکے ٹوپی اورعمامہ کی مستوی العمل قراردیاہے۔فقیر کی اس حوالے سے شیخ صاحب سے بات ہوئی تو انہوں نے کہا کہ اس کتاب کو میں نے دیکھا ہے مجھے بادی النظر میں ٹھیک معلوم ہوئی مجھے نہیں لگتا کہ اس کا جواب لکھا جائے گا۔ فقیر نے کہا کہ میں ارادہ کرچکا ہوں اس کے جواب کا ان شاء اللہ ۔
اوراسی پر فقیر نے اس کتاب کی پہلی حدیث پر پیش کیے گئے استحالہ سے متعلق گفتگو شروع کی اور اس کے جوابات رکھے تو برجستہ کہا کہ واقعی اس کتاب پر تنقیدی نگاہ کی ضرورت ہے ۔جواب بھی معقول دیا آپ نے تحقیقی بھی ہے اور الزامی بھی۔خیر آپ کتاب لکھیں اس حوالے سے اس فن کی کسی کتاب کی ضرورت ہو تو بتادینا (چوں کہ اس وقت میرے پاس شاملہ نہیں تھااوراس فن کی کتابیں بھی نہیں تھیں)خیر میں نے کتاب لکھی ۔اسی دوران ایک دن اچانک قریب رات کے ساڑھے گیارہ بجے فون آیادعاسلام کے بعدفرمایاکہ آپ جس کتاب کاجواب لکھ رہے ہیں وہ کتاب چوں کہ پوری کی پوری فاضل بریلوی کی فتاوی رضویہ میں در ج احادیث کی تردیدمیں ہے اگربرانہ مانیں تومیں اس کتاب سے بس ایک عبارت کولے کرمضمون لکھنے کے موڈمیں ہوں میں نے کہااس میں براماننے والی کون سی بات ہے میں نے توابھی کتاب لکھنے کا آغازکیاہے بتائیں کہاں سے لکھ رہے ہیں بولے حدیث مبارک’’ اعتمواخالفواعلی الامم من قبلکم ‘‘سے ۔موصوف نے لکھاہے کہ اعلیٰ حضرت نے اس کاترجمہ غلط کیاہے اوروہ عبارت نہ سمجھ سکے ۔میں اس کاجواب لکھناچاہتاہوں میں نے کہاحضرت لکھیں مجھے بہت خوشی ہوگی۔ خیراس کے بعدآپ نے ’’ فتاوی رضویہ کی عبارت پرشبہہ کاازالہ ‘‘کے عنوان سے ایک معرکۃ الآرامضمون رقم فرمایا،جسے میں نے اپنی کتاب میں شامل کیااوربہت سے رسائل میں بھی اس کی اشاعت ہوئی۔
یوں ہی جب میں نے اعلیٰ حضرت کے ایک نایاب فتوی پرکام کیا۔ اوراسے کتابی شکل میں ’’ انبیاےکرام گناہ سے پاک ہیں ‘‘کے نام سے شائع کرایا تو اشاعت کے بعد بدایوں شریف جانے پردوسری کتابوں کے ساتھ شیخ صاحب کو یہ کتاب بھی پیش کی ۔(یہ فتوی چوں کہ میں نے ’’ ماہنامہ تحفہ حنفیہ پٹنہ‘‘سے لیاتھااسی لیے کہنے لگے کہ اعلیٰ حضرت کے اور بھی بہت سے فتاوی’’ماہنامہ تحفہ حنفیہ ‘‘ میں ہیں آپ ان کو بھی دیکھو اور کام کرو! فقیر نے کہاکہ کیسے ملیں گے توکہا کہ ہمارے پاس ہیں تھوڑا وقت دو ۔میں نے کہا بہتر۔
پھرایک بارمیں نے اس حوالہ سے بات کی توکہا کہ کسی کوبھیج دوفائلیں میں نے نکلوادی ہیں ۔میں نے اپنے ایک عزیزکوبھیج دیا۔موصوف نے تحفہ حنفیہ کی ساری فائلیں جن میں اکثربوسیدہ حالت میں تھیں انہیں دے دیں اور وہ میرے پاس پہنچ گئیں ۔ میں نے ان فائلوں سے استفادہ کیاکاپی کیااورحسب اجازت ڈبل کاپی سے ایک عددخودکے لیے رکھی۔اورسب کومہینے اورسال کے اعتبارسے ترتیب دیاجلدسازی کرائی اورپھرواپس بھیج دی۔بہت خوش ہوئے کہ آپ نے انہیں نئی جان بخشی ہے میں نے کہانہیں جب میں ان فائلوں سے استفادہ کرہی رہاتھاتومیراحق تھاکہ انہیں ترتیب دے کرانہیں محفوظ بھی کروں ۔
ایک اور بات یادآئی مجھے اپنی کتاب ’’فتوحات رضویہ ‘‘کے حوالے سے ایک کتاب کی ضرورت تھی مگر وہ لائبریریوں میں نہیں مل رہی تھی۔جن علما سے اس وقت رابطہ تھا ان سے بھی معلوم کیا مگر وہ کتاب نہیں ملی ۔جس کی وجہ سے کتاب کا کام ادھورا تھا۔اسی دوران بدایوں شریف جانا ہوا ۔باتوں باتوں میں اس کاذکر بھی آگیا کہ ۱۹۱۱ء میں مرادآباد میں امام اہل سنت اور مولوی اشرف علی تھانوی کے درمیان مناظرہ طے پایا تھا جس میں امام اہل سنت اور علماے رامپور وغیرہ شامل ہوئے تھے ۔دیوبندی کوئی بھی عالم میدان مناظرہ میں امام اہل سنت کے مقابلے میں حاضر نہیں ہوا۔چار روز تک جشن کے جلسے ہوتے رہے ۔اورپانچویں دن آپ نے بریلی شریف مراجعت فرمائی۔فقیر نے کہا کہ یہ سب تفصیل اخبارات مرادآباد ورامپور کے حوالے سے لکھ دی ہے مگر یہ مناظرہ مرادآباد میں کیوں ہوا اس تعلق سے ایک کتاب ’’دافع الفساد عن مرادآباد‘‘کی تلاش ہے ۔تلاش بسیار کے بعد بھی نہیں ملی ہے ۔دو تین طلبا
کہ بلایا اور کہا کہ لائبریری کے رجسٹروں میں اس نام کی کتاب تلاش کرو! کافی دیر کے بعد بچوں نے بتایاکہ اس نا م کی کوئی کتاب لائبریری کے رجسٹر میں موجود نہیں ہے۔خیر بات ختم ہوگئی۔اوراس کتاب کا کام ملتوی کرکے دوسری کتاب پر کام شروع کردیا ۔
پیپل سانہ مرادآبادسے کاشی پور آگیا قریب تین سال کے بعد ایک دن صبح دس بجے فون آیامیں اس وقت سوتاہوں رات کوجاگنے کے سبب۔اسی لیے آواز پہچان نہ سکاتعارف کے بعدمیں نے معذرت پیش کی کہ نیندمیں تھاپہچان نہ سکافرمایاکوئی بات نہیں آپ سوجائیں بعدمیں بات کرتاہوں میں نے کہانہیں فرمائیں اب جاگ چکاہوں فرمایاکہ کبھی آپ نے مجھ سے دافع الفسادکاذکرکیاتھاکیاآپ کووہ کتاب مل گئی ؟میں نے کہاابھی تک نہیں ۔کہا مجھے مل گئی ہے اورشام تک اسکین کراکے میل کردوں گا میں نے شکریہ اداکیا۔اورشام کودیکھاتووہ رسالہ میرے میل ان باکس میں موجودتھا۔ظاہر ہے کہ پورے رسالے میں رضویت کے سوا اور کچھ نہیں تھا۔ اگر امام اہل سنت یابریلویت سے انہیں بغض وعداوت ہوتی تو وہ اس نایاب کتاب کو تین سال یاد کیوں رکھتے اور ملنے پر مجھے کیوں دیتے؟
بالجملہ: فقیر نے جتنا انہیں سنا اورپڑھا اس سے یہی یقین ہوا کہ شیخ صاحب امام اہل سنت کی خدمات کے معترف اور آپ کے مداح تھے اورآپ کی فکری ونظریاتی تعلیمات، مسلکی ومشربی خیالات کے حامی بھی۔جس پر خود ان کے لکھے ہوئے کلام کے درج ذیل دو اشعار گواہ ہیں ۔ ملاحظہ کریں ؎
غرض کہ فرق نہیں کوئی ہم میں بنیادی
نہ فکر میں نہ عقیدے نہ دین ومذہب میں
نہ اختلاف خیالات کا نہ مسلک کا
نہ کوئی فرق ہمارے تمہارے مشرب میں
اوران کی بارگاہ کے مؤدب ہونے کے ساتھ ان کے عقیدت مند بھی۔لہٰذاان کے حوالے سے بے سروپاکی ، مکروفریب سے ملمع بیان بازی جس سے یہ ثابت ہو کہ وہ فاضل بریلوی اور بریلویت سے عداوت رکھتے تھے یقیناً ان پر بہتان اور بے بنیاد الزام تراشی ہے۔جس سے اہل سنت میں مزید آگ لگانے کی کوشش کے شیخ صاحب کی روح کو اذیت وتکلیف میں مبتلاکرنابھی ہے۔فقیر اپنی بات شیخ صاحب کے اس شعر پرتمام کررہاہے جس میں انہوں نے امام اہل سنت کی عقیدت ومحبت پر اپنی جانب سے بڑی دلیل پیش کی ہے ۔ ؎
طرزرضا کی پیروی عاصم ؔ یہ تیری شاعری
حسنِ سخن، فکرِ رَسا، یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں
گداے مشائخ بدایوں شریف وبریلی شریف
محمد ذوالفقارخان نعیمی ککرالوی عفی عنہ
نوری دارالافتاء مدینہ مسجد محلہ علی خاں کاشی پور اتراکھنڈ
[11/19, 12:41 AM] Zulfaqar Khan Naimi: پچھلی فائل سے کچھ چیزیں کاپی پیسٹ کرتے ہوئے چھوٹ گئی تھیں اس لیے یا توپی ڈی ایف والی فائل محفوظ کریں یا پھر اس بعد والی کو
پیپل سانہ مرادآبادسے کاشی پور آگیا قریب تین سال کے بعد ایک دن صبح دس بجے فون آیامیں اس وقت سوتاہوں رات کوجاگنے کے سبب۔اسی لیے آواز پہچان نہ سکاتعارف کے بعدمیں نے معذرت پیش کی کہ نیندمیں تھاپہچان نہ سکافرمایاکوئی بات نہیں آپ سوجائیں بعدمیں بات کرتاہوں میں نے کہانہیں فرمائیں اب جاگ چکاہوں فرمایاکہ کبھی آپ نے مجھ سے دافع الفسادکاذکرکیاتھاکیاآپ کووہ کتاب مل گئی ؟میں نے کہاابھی تک نہیں ۔کہا مجھے مل گئی ہے اورشام تک اسکین کراکے میل کردوں گا میں نے شکریہ اداکیا۔اورشام کودیکھاتووہ رسالہ میرے میل ان باکس میں موجودتھا۔ظاہر ہے کہ پورے رسالے میں رضویت کے سوا اور کچھ نہیں تھا۔ اگر امام اہل سنت یابریلویت سے انہیں بغض وعداوت ہوتی تو وہ اس نایاب کتاب کو تین سال یاد کیوں رکھتے اور ملنے پر مجھے کیوں دیتے؟
بالجملہ: فقیر نے جتنا انہیں سنا اورپڑھا اس سے یہی یقین ہوا کہ شیخ صاحب امام اہل سنت کی خدمات کے معترف اور آپ کے مداح تھے اورآپ کی فکری ونظریاتی تعلیمات، مسلکی ومشربی خیالات کے حامی بھی۔جس پر خود ان کے لکھے ہوئے کلام کے درج ذیل دو اشعار گواہ ہیں ۔ ملاحظہ کریں ؎
غرض کہ فرق نہیں کوئی ہم میں بنیادی
نہ فکر میں نہ عقیدے نہ دین ومذہب میں
نہ اختلاف خیالات کا نہ مسلک کا
نہ کوئی فرق ہمارے تمہارے مشرب میں
اوران کی بارگاہ کے مؤدب ہونے کے ساتھ ان کے عقیدت مند بھی۔لہٰذاان کے حوالے سے بے سروپاکی ، مکروفریب سے ملمع بیان بازی جس سے یہ ثابت ہو کہ وہ فاضل بریلوی اور بریلویت سے عداوت رکھتے تھے یقیناً ان پر بہتان اور بے بنیاد الزام تراشی ہے۔جس سے اہل سنت میں مزید آگ لگانے کی کوشش کے شیخ صاحب کی روح کو اذیت وتکلیف میں مبتلاکرنابھی ہے۔فقیر اپنی بات شیخ صاحب کے اس شعر پرتمام کررہاہے جس میں انہوں نے امام اہل سنت کی عقیدت ومحبت پر اپنی جانب سے بڑی دلیل پیش کی ہے ۔ ؎
طرزرضا کی پیروی عاصم ؔ یہ تیری شاعری
حسنِ سخن، فکرِ رَسا، یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں
گداے مشائخ بدایوں شریف وبریلی شریف
محمد ذوالفقارخان نعیمی ککرالوی عفی عنہ
نوری دارالافتاء مدینہ مسجد محلہ علی خاں کاشی پور اتراکھنڈ
[11/19, 12:41 AM] Zulfaqar Khan Naimi: پچھلی فائل سے کچھ چیزیں کاپی پیسٹ کرتے ہوئے چھوٹ گئی تھیں اس لیے یا توپی ڈی ایف والی فائل محفوظ کریں یا پھر اس بعد والی کو