قدس کا مسئلہ ہر ہر مسلمان کا ہے، لیکن ہم نے اسکے دفاع کا ٹھیکہ قدس و قسام کے مٹھی بھر مزاحمتیوں کے حوالے کر دیا ہوا ہے.
Media is too big
VIEW IN TELEGRAM
کتنا مبارک خون ہے شھید کا، اور اللہ کی راہ میں بہنے والا انگلیوں پر لگا یہ خون.....
ایک طبقہ ایسا ہے جن کی انگلیاں ان شہداء پر طعن و تشنیع لکھنے اور پھیلانے پر مصروفِ عمل ہے.
کتنا فرق ہے نا.....!
-------------------------------------------------
☀️ بصیرت افروز ☀️
ایک طبقہ ایسا ہے جن کی انگلیاں ان شہداء پر طعن و تشنیع لکھنے اور پھیلانے پر مصروفِ عمل ہے.
کتنا فرق ہے نا.....!
-------------------------------------------------
☀️ بصیرت افروز ☀️
اخوت و صداقت قصۂ پارینہ ہو چکیں ...
وھیب بن ورد رحمہ اللہ (١٥٣ه) فرماتے ہیں:
"میں نے پچاس سال لوگوں کے ساتھ زندگی گزاری، مگر مجھے ایک بھی ایسا شخص نہ ملا جو میرے اور اپنے درمیان ہونے والی رنجشوں سے درگزر کرتا، یا جب میں اس سے تعلق توڑتا تو وہ مجھ سے جوڑتا، یا میرے عیوب پر پردہ ڈالتا، یا غصے کی حالت میں بھی میں اُس سے بے خوف رہتا۔ لہٰذا ایسے لوگوں کے ساتھ وقت گزارنا بڑی حماقت ہے۔" (صفة الصفوة: ٤١٩/١)
حفص بن حمید رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
"میں نے پچاس سال لوگوں کو آزما کر دیکھ لیا، مگر ایسا کوئی دوست نہ ملا جو میری پردہ پوشی کرتا، میری کوتاہیوں کو معاف کرتا، میرے تعلق توڑنے پر بھی مجھ سے تعلق جوڑتا، یا غصے کے وقت میں اس سے مطمئن رہتا۔ ایسے لوگوں کے ساتھ زیادہ مشغول رہنا حماقت کے سوا کچھ نہیں۔ اگر تم ہر صبح یہ سوچو کہ آج میں کوئی دوست بناؤں گا، پھر تم اس کو خوش رکھنے کیلئے اس فکر میں رہو کہ اُسے کونسا تحفہ دوں؟ کیسے سلام کروں؟ کیسے اسکی دعوت کروں؟ تو تم ہمیشہ اس فکر میں ہی مشغول رہو گے۔" (مداراة الناس لابن ابي الدنيا | ص: ١٠٦)
مالک بن دینار رحمہ اللہ (١٢٧ه) فرماتے ہیں:
"اِس زمانے میں دوست ایسے ہی ہیں جیسے بازار سے ملنے والا شوربہ، خوشبو تو بہت اچھی ہوتی ہے مگر ذائقہ نہیں ہوتا۔" (الصداقة والصديق: ٩٩)
(یعنی ظاہری طور پر بہت اچھے نظر آتے ہیں مگر حقیقت میں ویسے نہیں ہوتے)
ابن الجوزی رحمہ اللہ (٥٩٧ه) فرماتے ہیں:
اس دور میں اخوت کی رسم مٹ چکی ہے، اب یہ صرف گزرے لوگوں کے قصے رہ گئے ہیں، لہذا اگر تم کہیں سچے دوستوں کا تذکرہ سنو تو فورا اس بات یقین نہ کر لینا۔" (التبصرة لابن الجوزي: ٢٨٠/٢)
ایک جگہ لکھتے ہیں:
"آج اکثر لوگ صرف جان پہچان والے ہیں، اور سچا دوست تو شاذ و نادر ہی میسر آتا ہے۔ رہی اخوت اور بے لوث محبت، تو وہ ناپید ہو چکی ہے، لہذا اسکی امید رکھنا فضول ہے۔ اور میں یہ سمجھتا ہوں کہ اب تو انسان کو اپنے نسبی رشتہ داروں میں بھی حقیقی اخوت نصیب نہیں ہوتی۔" (صيد الخاطر: ٣٩١)
سفارینی رحمہ اللہ (١١٨٨ه) لکھتے ہیں:
"یہ حال ان لوگوں کا تھا جو اسلام کے ابتدائی یا درمیانی ادوار میں گزرے، اُنہیں گزرے پانچ سے زائد صدیاں بِیت چکیں۔ جب اُنکا خیال یہ تھا کہ حقیقی اخوت مٹ چکی ہے اور دوستی کا بندھن ٹوٹ چکا ہے۔ تو اِس زمانے کے بارے میں تمھارا کیا خیال ہے کہ جس میں وفاداری ہی غداری بن گئی ہو، خیر شر میں بدل گیا ہو، نفع نقصان بن چکا ہو، سچ جھوٹ بن گیا ہو، نیکی گناہ بن گئی ہو، دوست خاںٔن اور دھوکے باز ہو چکے ہوں، گہرا رفیق بے وفا ہو، عبادت گزار فاجر ہو، عالم جاہل ہو، اور عذر قبول کرنے والا ہی ملامت کرنے والا بن گیا ہو۔
ہمارے زمانے کے لوگوں کی نماز عبادت کی بجائے محض ایک عادت رہ گئی ہے، انکے لئے زکوٰۃ ایک ایسا بوجھ ہے جسے وہ ناگواری سے ادا کرتے ہیں اور اسکے بدلے کسی اجر کی امید نہیں رکھتے، اور انکا روزہ چوپایوں کے بھوکے رہنے کی مانند ہو چکا ہے، انکا ذکر کرنا اونٹ کے بلبلانے جیسا ہے، پس جس شخص کی اپنی حالت ایسی ہو وہ اپنے بھائیوں، ہم عصروں اور اپنے گہرے دوستوں کی بے وفائی پر رنجیدہ اور پریشان کیسے ہو سکتا ہے؟"
(غذاء الألباب للسفاريني: ٤٨٥/٢)
-------------------------------------------------
☀️ بصیرت افروز ☀️
وھیب بن ورد رحمہ اللہ (١٥٣ه) فرماتے ہیں:
"میں نے پچاس سال لوگوں کے ساتھ زندگی گزاری، مگر مجھے ایک بھی ایسا شخص نہ ملا جو میرے اور اپنے درمیان ہونے والی رنجشوں سے درگزر کرتا، یا جب میں اس سے تعلق توڑتا تو وہ مجھ سے جوڑتا، یا میرے عیوب پر پردہ ڈالتا، یا غصے کی حالت میں بھی میں اُس سے بے خوف رہتا۔ لہٰذا ایسے لوگوں کے ساتھ وقت گزارنا بڑی حماقت ہے۔" (صفة الصفوة: ٤١٩/١)
حفص بن حمید رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
"میں نے پچاس سال لوگوں کو آزما کر دیکھ لیا، مگر ایسا کوئی دوست نہ ملا جو میری پردہ پوشی کرتا، میری کوتاہیوں کو معاف کرتا، میرے تعلق توڑنے پر بھی مجھ سے تعلق جوڑتا، یا غصے کے وقت میں اس سے مطمئن رہتا۔ ایسے لوگوں کے ساتھ زیادہ مشغول رہنا حماقت کے سوا کچھ نہیں۔ اگر تم ہر صبح یہ سوچو کہ آج میں کوئی دوست بناؤں گا، پھر تم اس کو خوش رکھنے کیلئے اس فکر میں رہو کہ اُسے کونسا تحفہ دوں؟ کیسے سلام کروں؟ کیسے اسکی دعوت کروں؟ تو تم ہمیشہ اس فکر میں ہی مشغول رہو گے۔" (مداراة الناس لابن ابي الدنيا | ص: ١٠٦)
مالک بن دینار رحمہ اللہ (١٢٧ه) فرماتے ہیں:
"اِس زمانے میں دوست ایسے ہی ہیں جیسے بازار سے ملنے والا شوربہ، خوشبو تو بہت اچھی ہوتی ہے مگر ذائقہ نہیں ہوتا۔" (الصداقة والصديق: ٩٩)
(یعنی ظاہری طور پر بہت اچھے نظر آتے ہیں مگر حقیقت میں ویسے نہیں ہوتے)
ابن الجوزی رحمہ اللہ (٥٩٧ه) فرماتے ہیں:
اس دور میں اخوت کی رسم مٹ چکی ہے، اب یہ صرف گزرے لوگوں کے قصے رہ گئے ہیں، لہذا اگر تم کہیں سچے دوستوں کا تذکرہ سنو تو فورا اس بات یقین نہ کر لینا۔" (التبصرة لابن الجوزي: ٢٨٠/٢)
ایک جگہ لکھتے ہیں:
"آج اکثر لوگ صرف جان پہچان والے ہیں، اور سچا دوست تو شاذ و نادر ہی میسر آتا ہے۔ رہی اخوت اور بے لوث محبت، تو وہ ناپید ہو چکی ہے، لہذا اسکی امید رکھنا فضول ہے۔ اور میں یہ سمجھتا ہوں کہ اب تو انسان کو اپنے نسبی رشتہ داروں میں بھی حقیقی اخوت نصیب نہیں ہوتی۔" (صيد الخاطر: ٣٩١)
سفارینی رحمہ اللہ (١١٨٨ه) لکھتے ہیں:
"یہ حال ان لوگوں کا تھا جو اسلام کے ابتدائی یا درمیانی ادوار میں گزرے، اُنہیں گزرے پانچ سے زائد صدیاں بِیت چکیں۔ جب اُنکا خیال یہ تھا کہ حقیقی اخوت مٹ چکی ہے اور دوستی کا بندھن ٹوٹ چکا ہے۔ تو اِس زمانے کے بارے میں تمھارا کیا خیال ہے کہ جس میں وفاداری ہی غداری بن گئی ہو، خیر شر میں بدل گیا ہو، نفع نقصان بن چکا ہو، سچ جھوٹ بن گیا ہو، نیکی گناہ بن گئی ہو، دوست خاںٔن اور دھوکے باز ہو چکے ہوں، گہرا رفیق بے وفا ہو، عبادت گزار فاجر ہو، عالم جاہل ہو، اور عذر قبول کرنے والا ہی ملامت کرنے والا بن گیا ہو۔
ہمارے زمانے کے لوگوں کی نماز عبادت کی بجائے محض ایک عادت رہ گئی ہے، انکے لئے زکوٰۃ ایک ایسا بوجھ ہے جسے وہ ناگواری سے ادا کرتے ہیں اور اسکے بدلے کسی اجر کی امید نہیں رکھتے، اور انکا روزہ چوپایوں کے بھوکے رہنے کی مانند ہو چکا ہے، انکا ذکر کرنا اونٹ کے بلبلانے جیسا ہے، پس جس شخص کی اپنی حالت ایسی ہو وہ اپنے بھائیوں، ہم عصروں اور اپنے گہرے دوستوں کی بے وفائی پر رنجیدہ اور پریشان کیسے ہو سکتا ہے؟"
(غذاء الألباب للسفاريني: ٤٨٥/٢)
-------------------------------------------------
☀️ بصیرت افروز ☀️
🔅 امام شعبی رحمہ اللہ اور روافض🔅
"امام شعبی رحمہ اللہ روافض کے بارے میں کیا رائے رکھتے تھے؟"
تو آپ حفظہ اللہ نے جواب دیا:
امام شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
"لَوْ كَانَتِ الشِّيعَةُ مِنَ الطَّيْرِ لَكَانُوا رَخَمًا، وَلَوْ كَانُوا مِنَ الْبَهَائِمِ لَكَانُوا حُمُرًا."
”اگر شیعہ پرندوں میں ہوتے، تو گِدھ ہوتے اور اگر جانوروں میں ہوتے، تو گدھے ہوتے۔“
(تاریخ ابن عساکر: 373/25، وسندہ صحیح)
امام شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
"حب أهل بَيت نبيك وَلَا تكن رَافِضِيًّا."
”اپنے نبی کے اہل بیت سے محبت کیجئے اور روافض مت بنئے۔“
(تاریخ ابن معین رواية الدوري: 1163#، وسند صحيح)
[فتاوى امن پوری، قسط: 172، صفحه: 22]
-------------------------------------------------
☀️ بصیرت افروز ☀️
"امام شعبی رحمہ اللہ روافض کے بارے میں کیا رائے رکھتے تھے؟"
تو آپ حفظہ اللہ نے جواب دیا:
امام شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
"لَوْ كَانَتِ الشِّيعَةُ مِنَ الطَّيْرِ لَكَانُوا رَخَمًا، وَلَوْ كَانُوا مِنَ الْبَهَائِمِ لَكَانُوا حُمُرًا."
”اگر شیعہ پرندوں میں ہوتے، تو گِدھ ہوتے اور اگر جانوروں میں ہوتے، تو گدھے ہوتے۔“
(تاریخ ابن عساکر: 373/25، وسندہ صحیح)
امام شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
"حب أهل بَيت نبيك وَلَا تكن رَافِضِيًّا."
”اپنے نبی کے اہل بیت سے محبت کیجئے اور روافض مت بنئے۔“
(تاریخ ابن معین رواية الدوري: 1163#، وسند صحيح)
[فتاوى امن پوری، قسط: 172، صفحه: 22]
-------------------------------------------------
☀️ بصیرت افروز ☀️
کامیابی کا راستہ کبھی ہموار نہیں ہوتا، جب انسان کسی عظیم مقصد کا انتخاب کرتا ہے اور عام راہ سے ہٹ کر کوئی نیا راستہ اختیار کرتا ہے، تو اسے نہ صرف بیرونی رکاوٹوں کا سامنا ہوتا ہے بلکہ سب سے بڑی آزمائش اپنے قریبی لوگوں کی تنقید اور حوصلہ شکنی کی صورت میں آتی ہے، اکثر اوقات رشتہ دار، دوست اور ہم عمر افراد اپنی محدود سوچ یا ناقص فہم کی بناء پر انسان کا حوصلہ پست کرنے لگتے ہیں، یہ عام سی بات ہے کہ جب کوئی باہمت انسان کسی بلند مقصد کے حصول کے لئے کوشاں ہوتا ہے، تو عام سوچ رکھنے والے افراد اس کے ہدف کی گہرائی کو سمجھنے سے قاصر رہتے ہیں، نتیجتاً وہ حوصلہ افزائی کرنے کے بجائے طنز و تنقید کا سلسلہ شروع کر دیتے ہیں، ایسے میں علم و کمال کا متلاشی لوگوں کی باتوں پر توجہ دینے کے بجائے اپنی تمام تر توانائی اپنے ہدف پر مرکوز رکھے، کٹھن حالات میں ثابت قدم رہنا، منفی رویوں کو نظر انداز کرنا اور تنہائی کے خوف سے بے نیاز ہو کر اپنی منزل کی طرف بڑھتے رہنا ہی ایک کامیاب انسان کی اصل پہچان ہے، یہی طنز و تنقید ماضی قریب و بعید کے جلیل القدر علماء کرام نے بھی برداشت کی، اور تب جا کر وہ آج اس بلند مقام پر فائز ہیں، چنانچہ اس سلسلہ میں شیخ صالح آل الشیخ حفظہ اللہ اپنا ذاتی تجربہ بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں :
"میں نے اپنی زندگی کے ایک دور میں حوصلہ شکنی کرنے والوں اور نکتہ چینوں کی کثرت کا شدت سے سامنا کیا، وہ طعنہ دیتے تھے کہ "اس کا کیا فائدہ؟ اس علم کا کیا حاصل؟ کیا تم دن رات بس اسی کام میں لگے رہتے ہو؟ دن رات پڑھنا، دن رات احادیث کی تخریج اور تحقیق کرنا... آخر اس سب کا فائدہ اور حاصل ہی کیا ہے؟
لیکن میرا ہدف بالکل واضح تھا، یاد رکھیں! کڑی تنقید کامیابی کی سب سے بڑی دشمن ہے، اور آپ پر سب سے زیادہ تنقید آپ کے اردگرد والے یا ہم عمر لوگ ہی کرتے ہیں، چنانچہ جب آپ کامیابی کی راہ پر گامزن ہوں گے تو دوست پیچھے چھوٹتے جائیں گے، پہلے ایک گروہ، پھر دوسرا، یہاں تک کہ ہدف تک پہنچتے پہنچتے آپ کے ساتھ چند گنے چنے لوگ بچتے ہیں یا پھر کوئی بھی نہیں ہوتا، تب آپ اپنے لئے ایک نیا معاشرہ اور نئے دوست بناتے ہیں.
زندگی کے اس مرحلہ نے مجھے یہ قیمتی سبق دیا ہے کہ
میں ان حوصلہ شکن لوگوں کی باتوں کو ہرگز خاطر میں نہ لاؤں جو ہمیشہ یہ تنقید کرتے ہیں کہ "تم کیا کر رہے ہو؟ کیوں کر رہے ہو؟ یہ کر کے تم کیا ہی بن جاؤ گے؟" درحقیقت ایسے لوگ آپ کی قدر و منزلت گھٹا کر آپ کو احساسِ کمتری کا شکار کر دیتے ہیں، اگر آپ ان کی باتوں پر کان دھرنے لگیں، تو فکری و علمی بلندی، عملی و تخلیقی صلاحیتوں، اور زندگی کے چیلنجز کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کے میدان میں آپ کبھی بھی کوئی بلند مقام حاصل نہیں کر سکیں گے".
شیخ حفظہ اللہ کی یہ قیمتی رہنمائی اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ کامیابی کی راہ میں پرانی رفاقتوں کا چھوٹ جانا اور تنقید کا سامنا کرنا ایک ناگزیر امر ہے، لہٰذا ایسے میں کامیابی کا تقاضا یہ ہے کہ انسان اپنے مقصد پر ثابت قدم رہے اور ہر قسم کے منفی رویوں کو نظر انداز کرتے ہوئے مثبت طرزِ فکر کے ساتھ اپنی منزل کی جانب گامزن رہے.
ام محمد خوشنما مصلح الدین
جامعہ ام القری مکہ مکرمہ
-------------------------------------------------
☀️ بصیرت افروز ☀️
"میں نے اپنی زندگی کے ایک دور میں حوصلہ شکنی کرنے والوں اور نکتہ چینوں کی کثرت کا شدت سے سامنا کیا، وہ طعنہ دیتے تھے کہ "اس کا کیا فائدہ؟ اس علم کا کیا حاصل؟ کیا تم دن رات بس اسی کام میں لگے رہتے ہو؟ دن رات پڑھنا، دن رات احادیث کی تخریج اور تحقیق کرنا... آخر اس سب کا فائدہ اور حاصل ہی کیا ہے؟
لیکن میرا ہدف بالکل واضح تھا، یاد رکھیں! کڑی تنقید کامیابی کی سب سے بڑی دشمن ہے، اور آپ پر سب سے زیادہ تنقید آپ کے اردگرد والے یا ہم عمر لوگ ہی کرتے ہیں، چنانچہ جب آپ کامیابی کی راہ پر گامزن ہوں گے تو دوست پیچھے چھوٹتے جائیں گے، پہلے ایک گروہ، پھر دوسرا، یہاں تک کہ ہدف تک پہنچتے پہنچتے آپ کے ساتھ چند گنے چنے لوگ بچتے ہیں یا پھر کوئی بھی نہیں ہوتا، تب آپ اپنے لئے ایک نیا معاشرہ اور نئے دوست بناتے ہیں.
زندگی کے اس مرحلہ نے مجھے یہ قیمتی سبق دیا ہے کہ
میں ان حوصلہ شکن لوگوں کی باتوں کو ہرگز خاطر میں نہ لاؤں جو ہمیشہ یہ تنقید کرتے ہیں کہ "تم کیا کر رہے ہو؟ کیوں کر رہے ہو؟ یہ کر کے تم کیا ہی بن جاؤ گے؟" درحقیقت ایسے لوگ آپ کی قدر و منزلت گھٹا کر آپ کو احساسِ کمتری کا شکار کر دیتے ہیں، اگر آپ ان کی باتوں پر کان دھرنے لگیں، تو فکری و علمی بلندی، عملی و تخلیقی صلاحیتوں، اور زندگی کے چیلنجز کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کے میدان میں آپ کبھی بھی کوئی بلند مقام حاصل نہیں کر سکیں گے".
شیخ حفظہ اللہ کی یہ قیمتی رہنمائی اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ کامیابی کی راہ میں پرانی رفاقتوں کا چھوٹ جانا اور تنقید کا سامنا کرنا ایک ناگزیر امر ہے، لہٰذا ایسے میں کامیابی کا تقاضا یہ ہے کہ انسان اپنے مقصد پر ثابت قدم رہے اور ہر قسم کے منفی رویوں کو نظر انداز کرتے ہوئے مثبت طرزِ فکر کے ساتھ اپنی منزل کی جانب گامزن رہے.
ام محمد خوشنما مصلح الدین
جامعہ ام القری مکہ مکرمہ
-------------------------------------------------
☀️ بصیرت افروز ☀️
جو اس مالک الملک پر بھروسہ کرے اسے وہ ذی عزت کر دیتا ہے کیونکہ عزت اس کی لونڈی ہے ، غلبہ اس کا غلام ہے وہ بلند جناب ہے وہ بڑا ذی شان ہے وہ سچا سلطان ہے ۔ وہ حکیم ہے اس کے سب کام الحکمت سے ہوتے ہیں وہ ہرچیز کو اس کی ٹھیک جگہ رکھتا ہے ۔ مستحقین امداد کی وہ مدد فرماتا ہے اور مستحقین ذلت کو وہ ذلیل کرتا ہے وہ سب کو خوب جانتا ہے ۔‘
-------------------------------------------------
☀️ بصیرت افروز ☀️
-------------------------------------------------
☀️ بصیرت افروز ☀️
👍2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
اپنے اندر کے ظلمات کو نظر انداز کر کے دنیا میں چراغاں کرنے کا خیال محض جنون ہے.
-------------------------------------------------
☀️ بصیرت افروز ☀️
-------------------------------------------------
☀️ بصیرت افروز ☀️
Media is too big
VIEW IN TELEGRAM
"إنما الأُمَمُ الأخلاقُ ما بَقِيَتْ فَإنْ هُمُ ذَهَبَتْ أَخلاقُهُمْ ذَهَبُوا".
ایک قوم کی بقاء اسکی اخلاقی اقدار سے قائم ہے،
جب اخلاق رخصت ہو جائے تو قوم فنا ہو جاتی ہے.
(ایک خوبصورت کہانی عربی زبان میں)
-------------------------------------------------
☀️ بصیرت افروز ☀️
ایک قوم کی بقاء اسکی اخلاقی اقدار سے قائم ہے،
جب اخلاق رخصت ہو جائے تو قوم فنا ہو جاتی ہے.
(ایک خوبصورت کہانی عربی زبان میں)
-------------------------------------------------
☀️ بصیرت افروز ☀️
"رات کے تاریک سناٹوں کی پیداوار لوگ، میکدوں میں سیرتِ خیر البشرﷺ پہ نکتہ چیں"
آغا شورش کاشمیری رحمه اللہ
-------------------------------------------------
☀️ بصیرت افروز ☀️
آغا شورش کاشمیری رحمه اللہ
-------------------------------------------------
☀️ بصیرت افروز ☀️
Forwarded from بصیرت افروز
Media is too big
VIEW IN TELEGRAM
مان لو کہ ہم آزاد نہیں ہیں!!
شیخ عبداللہ ناصر رحمانی حفظہ اللہ
-------------------------------------------------
☀️ بصیرت افروز ☀️
شیخ عبداللہ ناصر رحمانی حفظہ اللہ
-------------------------------------------------
☀️ بصیرت افروز ☀️
Forwarded from بصیرت افروز
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
آزادی کا جشن؟
.... پس انگریز تو یہاں سے چلا گیا. لیکن جو بیوروکریٹس سیاسی خاندان حکمران جرنیل طبقہ وغیرہ وہ اپنے دور میں تیار کر چکا تھا وہ یہیں باقی رہ گیا. مسلمانانِ ھند نے آزادی کا جو خواب دیکھا تھا وہ خواب ہی رہ گیا. حقیقت تو یہ ہے کہ بیچاری عوام انگریز کی غلامی سے نکل کر انگریز کے غلاموں کے غلام بن گئے. آزاد تو یہ حکمران طبقہ ہوا کیونکہ انہیں ملکی وسائل لوٹنے اور زمین میں فساد مچانے کی مکمل آزادی مل گئی. ہر سال منایا جانے والا یہ جشن ہماری نہیں، انہی کی آزادی کا جشن ہوتا ہے.
ہمیں تو ایک اور تحریک آزادی سے گزرنا ہو گا، خون کا ایک اور دریا پار کرنا ہو گا.....
‼️
-------------------------------------------------
☀️ بصیرت افروز ☀️
.... پس انگریز تو یہاں سے چلا گیا. لیکن جو بیوروکریٹس سیاسی خاندان حکمران جرنیل طبقہ وغیرہ وہ اپنے دور میں تیار کر چکا تھا وہ یہیں باقی رہ گیا. مسلمانانِ ھند نے آزادی کا جو خواب دیکھا تھا وہ خواب ہی رہ گیا. حقیقت تو یہ ہے کہ بیچاری عوام انگریز کی غلامی سے نکل کر انگریز کے غلاموں کے غلام بن گئے. آزاد تو یہ حکمران طبقہ ہوا کیونکہ انہیں ملکی وسائل لوٹنے اور زمین میں فساد مچانے کی مکمل آزادی مل گئی. ہر سال منایا جانے والا یہ جشن ہماری نہیں، انہی کی آزادی کا جشن ہوتا ہے.
ہمیں تو ایک اور تحریک آزادی سے گزرنا ہو گا، خون کا ایک اور دریا پار کرنا ہو گا.....
‼️
-------------------------------------------------
☀️ بصیرت افروز ☀️
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
یہ دعا روزانہ مانگیں
-------------------------------------------------
☀️ بصیرت افروز ☀️
-------------------------------------------------
☀️ بصیرت افروز ☀️
Media is too big
VIEW IN TELEGRAM
یہ کوچ حسن مدرب ہے. شام سے
اس نے ملبہ عمارت میں ٹریننگ شروع کی تھی اور بچوں اور لڑکوں کو تربیت دینا شروع کی تھی. ماشاء اللہ، آزادی شام کے بعد اللّٰہ تعالیٰ نے مزید برکتیں عطا فرمائی ہیں.
اس نے کراٹے کی ہر تکنیک، مارشل آرٹس، جمناسٹک، اور دیگر جسمانی مہارتوں کو شامل کر کے فنون قتال کا نام دیا ہے.
سب سے بڑھ کر جو عظیم تر بات ہے وہ نظریاتی تربیت اور خالص توحید ہے. جو اس نے اپنی تربیت میں شامل کی ہے.
یعنی یہ صرف جسمانی مہارتیں ہی نہیں ہیں. روحانی و ذہنی تربیت کا کمال بھی ہے. جو ایک مومن کی شان ہے.
-------------------------------------------------
☀️ بصیرت افروز ☀️
اس نے ملبہ عمارت میں ٹریننگ شروع کی تھی اور بچوں اور لڑکوں کو تربیت دینا شروع کی تھی. ماشاء اللہ، آزادی شام کے بعد اللّٰہ تعالیٰ نے مزید برکتیں عطا فرمائی ہیں.
اس نے کراٹے کی ہر تکنیک، مارشل آرٹس، جمناسٹک، اور دیگر جسمانی مہارتوں کو شامل کر کے فنون قتال کا نام دیا ہے.
سب سے بڑھ کر جو عظیم تر بات ہے وہ نظریاتی تربیت اور خالص توحید ہے. جو اس نے اپنی تربیت میں شامل کی ہے.
یعنی یہ صرف جسمانی مہارتیں ہی نہیں ہیں. روحانی و ذہنی تربیت کا کمال بھی ہے. جو ایک مومن کی شان ہے.
-------------------------------------------------
☀️ بصیرت افروز ☀️
Forwarded from زندگی بے بندگی شرمندگی
#نقابی اور #جھادی
دونوں ہی اجنبی ہو گئے!!!
لیکن
اللہ کی موجودگی کا ہمہ وقت شعور رکھنی والی یہ ارواح شاذ و نادر ہی کہیں اور صحبت اور دوستی کی متلاشی ہوتی ہی کہ وہ جانتی ہیں کہ صرف وہ( اللہ) ہی اُن کی پریشانیوں کو سمجھ سکتا ہے ‘ اُن کی کوششوں کی کما حقّہ قدر کرتا ہے اور اُن کے غموں کا ازالہ کر سکتا ہے؛اور یہ جانتے ہوئے کہ لوگ چاہے کچھ بھی سوچیں‘ اللہ تعالیٰ ہر اس چیز کا شمار کرتا ہے اور اس کا اجر دیتا ہے جو اوروں کی نظروں سے اوجھل ہوتی ہے.
دونوں ہی اجنبی ہو گئے!!!
لیکن
اللہ کی موجودگی کا ہمہ وقت شعور رکھنی والی یہ ارواح شاذ و نادر ہی کہیں اور صحبت اور دوستی کی متلاشی ہوتی ہی کہ وہ جانتی ہیں کہ صرف وہ( اللہ) ہی اُن کی پریشانیوں کو سمجھ سکتا ہے ‘ اُن کی کوششوں کی کما حقّہ قدر کرتا ہے اور اُن کے غموں کا ازالہ کر سکتا ہے؛اور یہ جانتے ہوئے کہ لوگ چاہے کچھ بھی سوچیں‘ اللہ تعالیٰ ہر اس چیز کا شمار کرتا ہے اور اس کا اجر دیتا ہے جو اوروں کی نظروں سے اوجھل ہوتی ہے.
’’جو کوئی ایران کو امت کا حصہ شمار کرتا ہے، اس کی مثال اس شخص کی سی ہے جو جسم میں ابھرنے والے ’’ناسور‘‘ (ٹیومر) کو جسم کا حصہ سمجھے۔ حالانکہ ناسور اسی چیز کا حقدار ہوتا ہے کہ اسے کاٹ کر پھینک دیا جائے۔ اس لیے اس کے خلاف ہماری جنگ اپنوں سے جنگ نہیں، بلکہ ایک ایسے گروہ سے جنگ ہے جو زبردستی خود کو ہم سے منسوب کرتا ہے۔ اے اللہ! یمن کو فتح و نصرت عطا فرما اور کسریٰ کے غرور کو پارہ پارہ کر دے۔
رہے وہ لوگ جو یہ اعتراض کرتے ہیں کہ ’’تم رافضیوں کے خلاف جہاد کیوں کرتے ہو اور یہودیوں سے کیوں نہیں لڑتے؟!‘‘ تو اس کا جواب یہ ہے کہ ہم رافضیوں سے نمٹنے کی قدرت رکھتے ہیں جبکہ یہودیوں کے خلاف لڑنے کی ہم میں فی الحال استطاعت نہیں۔ اور قدرت و استطاعت کا ہونا جہاد کی بنیادی شرط ہے۔ یہ ایک نہایت واضح اور سیدھی سی بات ہے، مگر تم ایسے احمق ہو جسے رافضیوں نے اپنی سواری بنا لیا ہے.. تاکہ وہ ہم پر اپنا تسلط قائم کر سکیں۔‘‘
د. ایوب عمر
-------------------------------------------------
☀️ بصیرت افروز ☀️
رہے وہ لوگ جو یہ اعتراض کرتے ہیں کہ ’’تم رافضیوں کے خلاف جہاد کیوں کرتے ہو اور یہودیوں سے کیوں نہیں لڑتے؟!‘‘ تو اس کا جواب یہ ہے کہ ہم رافضیوں سے نمٹنے کی قدرت رکھتے ہیں جبکہ یہودیوں کے خلاف لڑنے کی ہم میں فی الحال استطاعت نہیں۔ اور قدرت و استطاعت کا ہونا جہاد کی بنیادی شرط ہے۔ یہ ایک نہایت واضح اور سیدھی سی بات ہے، مگر تم ایسے احمق ہو جسے رافضیوں نے اپنی سواری بنا لیا ہے.. تاکہ وہ ہم پر اپنا تسلط قائم کر سکیں۔‘‘
د. ایوب عمر
-------------------------------------------------
☀️ بصیرت افروز ☀️
*حوثی تحریک : پس منظر، آغاز اور عقائد*
از شیخ ڈاکٹر صالح بن عبدالعزیز السندی حفظہ اللہ۔
https://drive.google.com/file/d/1gG8nE4b0K_LPMAsaRggfkdoygS63uaQT/view?usp=drivesdk
-------------------------------------------------
☀️ بصیرت افروز ☀️
از شیخ ڈاکٹر صالح بن عبدالعزیز السندی حفظہ اللہ۔
https://drive.google.com/file/d/1gG8nE4b0K_LPMAsaRggfkdoygS63uaQT/view?usp=drivesdk
-------------------------------------------------
☀️ بصیرت افروز ☀️