اسلامک اسٹیٹ 🏴(داعش)عالمی حالات کے تناظر میں
https://youtu.be/KYTLREdV-JY
اسلامک اسٹیٹ کے حملے کے نتیجے میں افغانستان سے فوری انخلا کے بعد دیے گئے خطاب میں دھشت گردی کے خلاف عالمی قیادت کرتے ہوئے امریکہ کے صدر جوبائیڈن نے دھشت گردی کے خلاف اپنی جنگی حکمت عملی بدلنے کا اعلان کر دیا ہے۔
جوبائیڈن کا کہنا ہے:"دھشتگردی رکنے میں نہیں آ رہی اور اپنی شیطانی فطرت کے ساتھ رواں دواں ہے۔ لیکن اب اس دھشتگردی نے اپنا رخ بدل لیا ہے۔اب یہ کسی خاص جگہ تک محدود نہیں رہی بلکہ اب یہ دیگر ممالک میں پھیل رہی ہے۔
اس لیے ہماری سٹریٹیجی(جنگی حکمت عملی)کو بھی بدلنا ہو گا۔
ہم سب کو افغانستان سمیت دیگر ممالک میں دھشتگردی کا سدباب کرنے کے لئے اب گروانڈ وار(زمینی جنگ)کی قطعا ضرورت نہیں رہی۔ اپنی ٹیکنالوجی میں ترقی کے ساتھ اب ہم اپنے فوجیوں کو زمینی جنگ میں دھشتگردوں کے ہاتھوں قیمہ بنتے دیکھنے کے بجائے دھشت گردوں اور اپنے اھداف کو نشانہ بنا سکتے ہیں سوائے زمینی جنگ میں ان چند امریکنز کی جن کی واقعی ضرورت پڑے۔
اور ہم نے پچھلے ہفتے اپنی یہ قابلیت دکھائی بھی ہے جب ہم نے اسلامک اسٹیٹ خراسان کو ریموٹ کنٹرول(ڈرونز) کے ذریعے نشانہ بنایا۔
جبISIS-K نے ہمارے 13 آن ڈیوٹی(حاضر سروس) ممبرز اور درجنوں بے گناہ افغان عوام کو قتل کیا۔
اور خراسان میں موجود داعش کو میرا پیغام ہے
"We Are Not Done With You Yet"
"ابھی تک ہم تم سے نہیں نمٹے"
کمانڈر انچیف مجھے پختہ یقین ہے کہ ہماری سیکیورٹی اور حفاظت کا واحد راستہ صرف یہی ہے کہ ہماری سٹریٹیجی درگزر کیے بغیر بیہمانہ طور پر نشانہ بنانا ہو۔
دھشتگردی کے خلاف جنگ میں ہماری دو دہائیاں گزر گئی ہیں۔
اب ایک انتہائی خطرے والی بات یہ بھی ہے کہ دنیا بدل رہی ہے۔ہم چین کے ساتھ ایک انتہائی سنجیدہ مقابلے میں ہیں۔روس جیسا حریف بھی ہمارے سامنے ہے۔ساتھ ہی ساتھ ہمیں سائیبر اٹیکس اور نیوکلیائی خطرات کا سامنا ہے۔
ہمیں اکیسویں صدی کے ان تمام چیلنجز کا سامنا کرنا ہے۔
اور ہم ان دونوں کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔
ہم دھشت گردی کے خلاف بھی لڑ سکتے ہیں
اور ان نئے چیلنجز کو بھی محدود کر سکتے ہیں اب بھی اور مستقبل میں بھی۔
لیکن اس مسابقت میں آج روس اور چائنہ چاہتا ہے کہ ہم تیسری دہائی بھی افغانستان میں گزارے۔
ہمیں پچھلی دو دہائیوں میں اپنی غلطیوں سے سبق سیکھ کر نئی حکمت عملی کے ساتھ میدان میں آنا ہے۔
مجھے دو چیزیں نظر آتی ہیں
ایک یہ کہ ہمیں اپنے مشن کو واضح اور حاصل ہو جانے والے اھداف کے ساتھ مرتب کرنا ہے نا یہ کہ حاصل نا ہونے اھداف کے ساتھ۔
دوسرا یہ کہ ہمیں یونائیٹڈ اسٹیٹس امریکہ کے بنیادی سیکیورٹی تحفظات کے اوپر واضح طور پر اپنی توجہ مرکوز رکھنی ہو گی۔
افغانستان کے بارے میں ہمارا یہ فیصلہ فقط افغانستان کے بارے میں نہیں بلک اب تک جتنے بھی طویل فوجی آپریشن ہوئے ہیں فقط اس لیے تاکہ ہم ان ممالک کی تعمیر نو کریں۔
افغانستان کے اندر ہم نے عالمی دہشت گردی کے سدباب کے مشن کو دھشت گردی کے سدباب سے زیادہ قوم کی تعمیر نو کے حوالے سے دیکھا ہے۔ہم نے افغانستان میں ایک مشترکہ ڈیموکریٹک(جمہوری)حکومت قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو افغانستان کی تاریخ میں صدیوں سے نہیں ہوا۔
اس قسم کی بڑی اور طویل ترین فوجی مداخلت کے پیچھے ہمیشہ سے ہمارا یہی مائنڈ سیٹ رہا ہے کہ یہ ہمیں زیادہ مؤثر،مضبوط اور اپنے گھر میں محفوظ بناتا ہے۔
ہر اس شخص کو جو غلط تاثر لینا چاہتا ہے ہمارے اس فیصلے سے میں اس پر یہ بات واضح کر دینا چاہتا ہوں۔ان کو جو امریکہ کو نقصان پہنچانے کی خواہش رکھتے ہیں جو ہمارے اور ہمارے اتحادیوں کے خلاف دھشتگردی میں مصروف رہنا چاہتے ہیں وہ جان لیں اس بات کو کہ یونائیٹڈ سٹیٹس کبھی دم نہیں لے گی نا تو ہم معاف کریں گے اور نا ہی ہم بھولیں گے ہم زمین کی تہ تک بھی تمہارا شکار کریں گے اور تمہیں حتمی قیمت چھکانا پڑے گی۔
اور میں آپ پر یہ بات واضح کر دوں کہ ہم اپنی ڈپلومیسی،بین الاقوامی مداخلت اور امدادی اداروں کے ذریعے افغانستان کے لوگوں کی مدد کریں گے اور شدت کو ختم کر کے امن بحال کرنے کی کوشش کریں گے۔خاص طور پر افغانستان کی عورتوں اور لڑکیوں کے حقوق پر خاص توجہ مرکوز رکھیں گے جیسا کہ ہم عالمی طور پر اس بارے میں اقدامات کر رہے ہیں۔لیکن اب فوجی مداخلت کی جگہ اپنی ڈپلومیسی کے ذریعے ایسا کریں گے۔
افغانستان میں جنگ کا اب اختتام ہوا چاہتا ہے میں چوتھا صدر ہوں جو اس جنگ کے مسئلے کو ختم کرنے کے خم و پیچ کا سامنا کر رہا ہوں۔میں نے امریکی عوام سے وعدہ کیا تھا کہ میں اس جنگ کو ختم کر دوں گا اور آج میں اس وعدے کو پورا کرنے جا رہا ہوں۔یہ وقت امریکی عوام کے ساتھ مخلص اور سچا ہونے کا ہے ۔دو دہائیوں کے اس لایعنی جنگ کے بعد میں نے امریکی بچوں اور بچیوں کی انگلی نسل کو اس جنگ کے لیے بھیجنے سے انکار کر دیا جس کو بہت پہلے ہی ختم ہو جانا چاہیے تھا۔
دھشتگردی کے خلاف اس جنگ میں 2 ٹریلین ڈالرز سے زیادہ افغانستان میں صرف کر چکے ہیں۔
جوبائیڈن کا کہنا ہے:"دھشتگردی رکنے میں نہیں آ رہی اور اپنی شیطانی فطرت کے ساتھ رواں دواں ہے۔ لیکن اب اس دھشتگردی نے اپنا رخ بدل لیا ہے۔اب یہ کسی خاص جگہ تک محدود نہیں رہی بلکہ اب یہ دیگر ممالک میں پھیل رہی ہے۔
اس لیے ہماری سٹریٹیجی(جنگی حکمت عملی)کو بھی بدلنا ہو گا۔
ہم سب کو افغانستان سمیت دیگر ممالک میں دھشتگردی کا سدباب کرنے کے لئے اب گروانڈ وار(زمینی جنگ)کی قطعا ضرورت نہیں رہی۔ اپنی ٹیکنالوجی میں ترقی کے ساتھ اب ہم اپنے فوجیوں کو زمینی جنگ میں دھشتگردوں کے ہاتھوں قیمہ بنتے دیکھنے کے بجائے دھشت گردوں اور اپنے اھداف کو نشانہ بنا سکتے ہیں سوائے زمینی جنگ میں ان چند امریکنز کی جن کی واقعی ضرورت پڑے۔
اور ہم نے پچھلے ہفتے اپنی یہ قابلیت دکھائی بھی ہے جب ہم نے اسلامک اسٹیٹ خراسان کو ریموٹ کنٹرول(ڈرونز) کے ذریعے نشانہ بنایا۔
جبISIS-K نے ہمارے 13 آن ڈیوٹی(حاضر سروس) ممبرز اور درجنوں بے گناہ افغان عوام کو قتل کیا۔
اور خراسان میں موجود داعش کو میرا پیغام ہے
"We Are Not Done With You Yet"
"ابھی تک ہم تم سے نہیں نمٹے"
کمانڈر انچیف مجھے پختہ یقین ہے کہ ہماری سیکیورٹی اور حفاظت کا واحد راستہ صرف یہی ہے کہ ہماری سٹریٹیجی درگزر کیے بغیر بیہمانہ طور پر نشانہ بنانا ہو۔
دھشتگردی کے خلاف جنگ میں ہماری دو دہائیاں گزر گئی ہیں۔
اب ایک انتہائی خطرے والی بات یہ بھی ہے کہ دنیا بدل رہی ہے۔ہم چین کے ساتھ ایک انتہائی سنجیدہ مقابلے میں ہیں۔روس جیسا حریف بھی ہمارے سامنے ہے۔ساتھ ہی ساتھ ہمیں سائیبر اٹیکس اور نیوکلیائی خطرات کا سامنا ہے۔
ہمیں اکیسویں صدی کے ان تمام چیلنجز کا سامنا کرنا ہے۔
اور ہم ان دونوں کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔
ہم دھشت گردی کے خلاف بھی لڑ سکتے ہیں
اور ان نئے چیلنجز کو بھی محدود کر سکتے ہیں اب بھی اور مستقبل میں بھی۔
لیکن اس مسابقت میں آج روس اور چائنہ چاہتا ہے کہ ہم تیسری دہائی بھی افغانستان میں گزارے۔
ہمیں پچھلی دو دہائیوں میں اپنی غلطیوں سے سبق سیکھ کر نئی حکمت عملی کے ساتھ میدان میں آنا ہے۔
مجھے دو چیزیں نظر آتی ہیں
ایک یہ کہ ہمیں اپنے مشن کو واضح اور حاصل ہو جانے والے اھداف کے ساتھ مرتب کرنا ہے نا یہ کہ حاصل نا ہونے اھداف کے ساتھ۔
دوسرا یہ کہ ہمیں یونائیٹڈ اسٹیٹس امریکہ کے بنیادی سیکیورٹی تحفظات کے اوپر واضح طور پر اپنی توجہ مرکوز رکھنی ہو گی۔
افغانستان کے بارے میں ہمارا یہ فیصلہ فقط افغانستان کے بارے میں نہیں بلک اب تک جتنے بھی طویل فوجی آپریشن ہوئے ہیں فقط اس لیے تاکہ ہم ان ممالک کی تعمیر نو کریں۔
افغانستان کے اندر ہم نے عالمی دہشت گردی کے سدباب کے مشن کو دھشت گردی کے سدباب سے زیادہ قوم کی تعمیر نو کے حوالے سے دیکھا ہے۔ہم نے افغانستان میں ایک مشترکہ ڈیموکریٹک(جمہوری)حکومت قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو افغانستان کی تاریخ میں صدیوں سے نہیں ہوا۔
اس قسم کی بڑی اور طویل ترین فوجی مداخلت کے پیچھے ہمیشہ سے ہمارا یہی مائنڈ سیٹ رہا ہے کہ یہ ہمیں زیادہ مؤثر،مضبوط اور اپنے گھر میں محفوظ بناتا ہے۔
ہر اس شخص کو جو غلط تاثر لینا چاہتا ہے ہمارے اس فیصلے سے میں اس پر یہ بات واضح کر دینا چاہتا ہوں۔ان کو جو امریکہ کو نقصان پہنچانے کی خواہش رکھتے ہیں جو ہمارے اور ہمارے اتحادیوں کے خلاف دھشتگردی میں مصروف رہنا چاہتے ہیں وہ جان لیں اس بات کو کہ یونائیٹڈ سٹیٹس کبھی دم نہیں لے گی نا تو ہم معاف کریں گے اور نا ہی ہم بھولیں گے ہم زمین کی تہ تک بھی تمہارا شکار کریں گے اور تمہیں حتمی قیمت چھکانا پڑے گی۔
اور میں آپ پر یہ بات واضح کر دوں کہ ہم اپنی ڈپلومیسی،بین الاقوامی مداخلت اور امدادی اداروں کے ذریعے افغانستان کے لوگوں کی مدد کریں گے اور شدت کو ختم کر کے امن بحال کرنے کی کوشش کریں گے۔خاص طور پر افغانستان کی عورتوں اور لڑکیوں کے حقوق پر خاص توجہ مرکوز رکھیں گے جیسا کہ ہم عالمی طور پر اس بارے میں اقدامات کر رہے ہیں۔لیکن اب فوجی مداخلت کی جگہ اپنی ڈپلومیسی کے ذریعے ایسا کریں گے۔
افغانستان میں جنگ کا اب اختتام ہوا چاہتا ہے میں چوتھا صدر ہوں جو اس جنگ کے مسئلے کو ختم کرنے کے خم و پیچ کا سامنا کر رہا ہوں۔میں نے امریکی عوام سے وعدہ کیا تھا کہ میں اس جنگ کو ختم کر دوں گا اور آج میں اس وعدے کو پورا کرنے جا رہا ہوں۔یہ وقت امریکی عوام کے ساتھ مخلص اور سچا ہونے کا ہے ۔دو دہائیوں کے اس لایعنی جنگ کے بعد میں نے امریکی بچوں اور بچیوں کی انگلی نسل کو اس جنگ کے لیے بھیجنے سے انکار کر دیا جس کو بہت پہلے ہی ختم ہو جانا چاہیے تھا۔
دھشتگردی کے خلاف اس جنگ میں 2 ٹریلین ڈالرز سے زیادہ افغانستان میں صرف کر چکے ہیں۔
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM