اردو حدیث
1.62K subscribers
29 photos
30 links
انتخاب حدیث کے اس چینل میں نوے سے زیادہ موضوعات پر سینکڑوں احادیث کا انتخاب دستیاب ہے.

Contact us :- @IslamicLecture_bot
Download Telegram
. اللہ کی رحمت ومغفرت بہت وسیع ہے

🌼 🎋 🌼


اللہ رب العالمین فرماتا ہے:

﴿وَاسْتَغْفِرِ اللَّهَ ۖ إِنَّ اللَّهَ كَانَ غَفُورًا رَّحِيمًا﴾

🔘 اور اللہ تعالیٰ سے بخشش مانگو بے شک اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔


🖌 امام سعدی -رحمہ اللہ- بیان کرتے ہیں:

﴿وَّاسْتَغْفِرِ اللَّـهَ﴾ ”اور اللہ سے مغفرت طلب کریں۔“ اگر آپ سے کوئی کوتاہی صادر ہوئی ہے تو اس کی بخشش طلب کیجیے۔ ﴿إِنَّ اللَّـهَ كَانَ غَفُورًا رَّحِيمًا﴾ ”بے شک اللہ بہت بخشنے والا، نہایت مہربان ہے“ جو کوئی اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتا ہے اور توبہ کر کے اس کی طرف رجوع کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے بڑے بڑے گناہوں کو بخش دیتا ہے اور اس کے بعد اس کو عمل صالح کی توفیق سے نوازتا ہے جو اللہ تعالیٰ کے ثواب کے حصول اور اس کے عقاب کے زوال کا موجب بنتا ہے.

📚 تفسیر السعدی (سورۃ النساء: 106)

•┈•❀•🍃🌼🌼🌼🍃•❀•┈•
.

روزہ دار کے کیلئے سحری سنت ہے، اور اس میں برکت ہے.

انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:


"سحری کھاؤ کیونکہ سحری میں
برکت ہے".


📚 [بخاری: 1923، مسلم: 1095]

🍃🌼🌼🌼🍃
.
✍️افطار میں جلدی کرنا سنت نبوی ہے.

🍎🍑🍌🍐🍉🍏


حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے

رسول اکرم صلہ اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے:

"لوگوں میں اس وقت تک خیر باقی رہے گی جب تک وہ افطار میں جلدی کرتے رہیں گے ".

📚[بخاری: 1957، مسلم: 1098]


🍃🌼🌼🌼🍃
.
✍️ سحری میں تاخیر کرنا سنت ہے.

🌘🥀🌘🥀🌘

حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:

ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سحری کھائی،
پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز کیلئے کھڑے ہوئے، پوچھا گیا کہ اذان فجر اور سحری کے درمیان کتنا وقت تھا؟
تو انہوں نے کہ پچاس آیات کے برابر.

📚[بخاری: 1921]

🍃🌼🌼🌼🍃
.
کھجور یا پانی سے افطار کرنا.

انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھنے سے پہلے رطب (تازہ کھجور) سے افطار کرتے، اگر وہ نہ ہوتیں تو خشک کھجور سے اور اگر وہ بھی میسر نہ ہوتی تو پانی کے چند گھونٹ پی لیتے.

📚 [مسند احمد 12676]


🍃🌼🌼🌼🍃
افطار کے بعد کی دعا🤲

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم افطار کے بعد یہ دعا پڑھتے:

ذهب الظمأُ وابتلَّت العروقُ وثبت الأجرُ إن شاء اللهُ

پیاس بجھ گئی، رگیں تر ہوگئیں اور اللہ نے چاہا تو اجر بھی ثابت ہوگیا.

📚 [ابوداؤد 2357]


🍃🌼🌼🌼🍃
.

روزہ دار اگر بھول کر کھا پی لے.

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

اگر کوئی شخص روزے کی حالت میں بھول کر کھا پی لے، تو وہ اپنے روزے کو پورا کرے، کیونکہ یہ اللہ تعالی نے اسے کھلایا پلایا ہے.

Agar koi shakhs roze ki halat me bhool kr kha pee le to woh apne roze ko poora kare, kyunki ye Allah ne use khilaya pilaya hai.

📚 [بخاري1933، مسلم1155]


🍃🌼🌼🌼🍃
.

روزہ دار کی دعا رد نہیں ہوتی.

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

تین لوگوں کی دعا رد نہیں ہوتی:

1⃣ روزہ دار جب تک کہ روزہ افطار نہ کرلے
2⃣ عدل وانصاف کرنے والا حکمران
3⃣ اور مظلوم.

📚 [ترمذی: 3598]

Plz share this msg.

🍃🌼🌼🌼🍃
.

روزہ کی حالت میں جھوٹ اور فحش گوئی سے اجتناب کریں.

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ

🌿نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"جو شخص جھوٹ بولنا، اسکے مطابق عمل کرنا اور جہالت کی باتیں ترک نہ کرے، تو اللہ تعالیٰ کو (اس کے روزے کی) کوئی ضرورت نہیں کہ وہ کھانا پینا ترک کرے".

📚 [بخاری: 6057]

Plz share this msg.

🍃🌼🌼🌼🍃
.

پاکیزہ صدقے کی اہمیت اور اس کا عظیم اجر.
🍃🌿🍃🌿🍃

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ

🌿 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"جو شخص پاکیزہ مال سے صدقہ دیتا ہے، اور اللہ تعالیٰ پاکیزہ (حلال) مال ہی قبول فرماتا ہے،(پھر جب کوئی صدقہ دیتا ہے) تو رحمن اسے اپنے دائیں ہاتھ میں لے لیتا ہے اگرچہ وہ ایک کھجور ہی کیوں نہ ہو، تو وہ رحمن کی ہتھیلی میں پروان چڑھتی ہے، یہاں تک کہ پہاڑ سے بھی بڑی ہوجاتی ہے، (اسی طرح) جیسے تم میں سے کوئی ایک اپنے گھوڑے یا اونٹ کے بچے کو پالتا ہے".

📚 [صحیح مسلم: 1014]

Plz share this msg.

🍃🌼🌼🌼🍃
.

روزے دار کو افطاری کروانے کا اجر.

🍃🌿🍃🌿🍃

🌿 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"جس نے کسی روزے دار کو افطار کروایا تو اسے بھی اس کے برابر ثواب ملے گا اور روزہ دار کا ثواب ذرا بھی کم نہیں ہوگا"

📚 [جامع ترمذی: 807]

🍃🌼🌼🌼🍃
.

رمضان اور قیام.

🍃🌿🍃🌿🍃

🍃 ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ

🌿 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"جو شخص رمضان میں ایمان کے ساتھ، حصول ثواب کے لئے رات کو قیام کرے گا تو اس کے سابقہ گناہ معاف کردیے جائیں گے"

📚 [بخاری: 27، مسلم:759]


🍃🌼🌼🌼🍃
.

رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف کرنا.

🍃🌿🍃🌿🍃

🍃 عبد للہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ

🌿 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف فرماتے تھے"

📚 [بخاری: 2025، مسلم:1171]

🍃🌼🌼🌼🍃
.

رمضان کا آخری عشرہ اور بہ کثرت عبادت.

🍃🌿🍃🌿🍃

🍃 ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ

🌿 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (رمضان کے) آخری دس دن (عبادت) میں اس قدر محنت کرتے جتنی عام دنوں میں نہیں کرتے تھے.

📚 [مسلم: 1175]

🍃🌼🌼🌼🍃
.

رمضان میں قرآن کا دور اور بھلائی کے کاموں میں کثرت کرنا.

🍃🌿🍃🌿🍃

🌿 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ سخی تھے، خصوصا رمضان میں جب جبریل علیہ السلام سے آپ کی ملاقات ہوتی تو بہت سخاوت کرتے، جبریل علیہ السلام رمضان میں ہر رات آپ سے ملاقات کرتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قرآن مجید کا دور فرماتے، الغرض رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صدقہ کرنے میں کھلی تیز ہوا سے بھی زیادہ تیز رفتار ہوتے.

📚 [بخاری: 6]


🍃🌼🌼🌼🍃
.

شب قدر کا قیام زندگی بھر کے گناہوں کی معافی.

🍃🌿🍃🌿🍃

🌿 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
جس شخص نے ایمان ویقین کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے قیام کیا تو اس کے سابقہ گناہ معاف کردیے جائیں گے.

Jis shakhs ne iman w yaqeen k saath aur sawab ki niyat se qeyam kiya to uske sabiqa (pichle) gunaah maaf kar diye jayenge.

📚 [صحیح بخاری: 1901، صحیح مسلم: 760]

🍃🌼🌼🌼🍃
. شوال کے 6 روِزوں کی فضیلت
🍂🍁🍂🍁🍂

✍🏻حضرت ابو ایوب انصاری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”جس نے رمضان کے روزے رکھے پھر اس کے بعد شوال کے چھ (نفلی) روزے رکھے تو یہی صوم الدھر ہے“
📚 [مسلم: ١١٦٤]


🌱🌺🌱 ”ایک نیکی کا ثواب کم از کم دس گنا ہے“ کے اصول کے مطابق رمضان کے روزے... دس مہینوں کے روزوں کے برابر ہوئے اور اس کے بعد شوال کے چھ روزے اگر رکھ لیے جائیں تو یہ دو مہینے کے روزوں کے برابر ہوں گے، اس طرح اسے پورے سال کے روزوں کا ثواب مل جائے گا.

🌱 جس بندے کا یہ مستقل معمول ہو جائے اس کا شمار اللہ کے نزدیک ہمیشہ روزہ رکھنے والوں میں ہوگا.

🌱 شوال کے یہ روزے نفلی ہیں انہیں متواتر بھی رکھا جا سکتا ہے اور ناغہ کر کے بھی.

🌱 شوال ہی میں ان روزوں کی تکمیل ضروری ہے ۔

═══☆ ❁✿❁ ☆═══
.


لیلة القدر

ایک عظیم الشان اور بابرکت رات ہے جو رمضان المبارک کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں آتی ہے، خصوصاً 21ویں، 23ویں، 25ویں، 27ویں یا 29ویں شب میں۔ اس رات کو قرآن کریم میں "ہزار مہینوں سے بہتر" قرار دیا گیا ہے (سورۃ القدر: 3)، یعنی اس ایک رات کی عبادت کا ثواب 83 سال اور 4 ماہ کی عبادت سے زیادہ ہے۔


┉┈┉┉┈┅┉┈┅┉┈┅┉┈┅┉┈┅┉┈
پیش کردہ :- گروپ بکھرے موتی
https://t.me/muslimkatib1
┉┈┉┉┈┅┉┈┅┉┈┅┉┈┅┉┈┅┉┈


لیلة القدر کی فضیلت:
نزولِ قرآن: اسی رات اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کو لوحِ محفوظ سے آسمانِ دنیا پر نازل فرمایا (سورۃ القدر: 1)۔

فرشتوں کا نزول: جبرائیل علیہ السلام اور دیگر فرشتے زمین پر خیر و برکت لے کر اترتے ہیں (سورۃ القدر: 4)۔

گناہوں کی بخشش: جو شخص ایمان اور اخلاص کے ساتھ اس رات میں عبادت کرے، اس کے تمام پچھلے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں (بخاری، مسلم)۔

سلامتی اور رحمت: یہ رات طلوعِ فجر تک سلامتی اور رحمت کی رات ہوتی ہے (سورۃ القدر: 5)۔

لیلة القدر میں عبادات:
نماز: نوافل ادا کرنا۔
تلاوتِ قرآن: قرآن مجید کی تلاوت کرنا۔
ذکر و اذکار: سبحان اللہ، الحمدللہ، اللہ اکبر اور دیگر اذکار کا ورد۔
دعا: خاص طور پر یہ دعا پڑھنا:
اللَّهُمَّ إِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ العَفْوَ فَاعْفُ عَنِّي
(ترجمہ: اے اللہ! تو معاف کرنے والا ہے، معافی کو پسند کرتا ہے، پس مجھے معاف فرما)
صدقہ و خیرات: غریبوں اور مستحقین کی مدد کرنا۔

لیلة القدر کب ہوتی ہے؟

رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ لیلة القدر کو رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرو (بخاری، مسلم)۔ زیادہ تر علماء 27ویں شب کو لیلة القدر سمجھتے ہیں، لیکن یہ یقینی طور پر کسی ایک رات کا تعین کرنا مشکل ہے، اس لیے آخری عشرے کی تمام طاق راتوں میں عبادت کرنی چاہیے۔

یہ رات ہر مومن کے لیے اللہ کی قربت حاصل کرنے کا بہترین موقع ہے، اس لیے اسے غفلت میں نہیں گزارنا چاہیے۔
.


چاندرات، یعنی اسلامی مہینے کی آخری رات، خاص طور پر رمضان المبارک کے بعد آنے والی شوال کی پہلی رات (عید کی رات)، اسلامی اعتبار سے ایک بابرکت اور فضیلت والی رات سمجھی جاتی ہے۔

چاندرات کی فضیلت:

┉┈┉┉┈┅┉┈┅┉┈┅┉┈┅┉┈┅┉┈
پیش کردہ :- گروپ بکھرے موتی
https://t.me/muslimkatib1
┉┈┉┉┈┅┉┈┅┉┈┅┉┈┅┉┈┅┉┈


دعاؤں کی قبولیت:
عید کی رات کو "لیلۃ الجائزہ" (انعام کی رات) کہا جاتا ہے۔ حدیث کے مطابق، رمضان کے روزے رکھنے والوں کو اس رات اللہ تعالیٰ کی طرف سے اجر و ثواب عطا کیا جاتا ہے۔

اللہ کی خاص رحمت:
اس رات اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی مغفرت فرماتا ہے اور انعام و اکرام کی بارش کرتا ہے۔

عبادت اور نوافل کا اجر:
جو لوگ اس رات عبادت، توبہ، استغفار اور ذکر و اذکار میں مشغول رہتے ہیں، ان کے گناہ معاف کیے جاتے ہیں۔

فرشتوں کی دعا:
حدیث میں آتا ہے کہ عید کی رات فرشتے نازل ہوتے ہیں اور عبادت گزاروں کے حق میں دعا کرتے ہیں۔

عید کی تیاری اور خوشی:
یہ رات خوشی اور شکر گزاری کی رات ہوتی ہے، جس میں مسلمان اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں کہ اس نے رمضان المبارک کے روزے رکھنے اور عبادات کی توفیق عطا فرمائی۔

کیا کرنا چاہیے؟
مغرب اور عشاء کی نماز باجماعت ادا کرنا
نوافل اور تہجد پڑھنا
استغفار اور درود شریف کی کثرت
اللہ سے اپنی اور امت مسلمہ کے لیے خیر و برکت اور مغفرت کی دعا کرنا
مستحق افراد کی مدد کرنا
یہ رات اللہ کے انعامات سمیٹنے اور قربت حاصل کرنے کا بہترین موقع ہے، لہٰذا اسے غفلت میں گزارنے کے بجائے عبادت اور دعا میں مشغول رہنا چاہیے۔
🌊 ORAL SEX منہ کے ذریعے سیکس کرنا

ہمارے نئے چینل پر
https://t.me/Blissful_Married_life