تعمیراتی انڈسٹری: 463 ارب روپے کی لاگت سے 86،323 ہاؤسنگ یونٹس زیرِ تعمیر
وزیراعظم عمران خان کو بتایا گیا کہ ہاؤسنگ اینڈ ورکس کی وزارت 463 ارب روپے کی مجموعی لاگت سے 86،323 ہاؤسنگ یونٹس تعمیر کر رہی ہے اور اس کے مختلف منصوبوں کے تحت ملک میں تعمیراتی سرگرمیوں میں تیزی سے دو لاکھ سے زائد ملازمتیں پیدا ہو رہی ہیں۔
اس سلسلے میں ، وزیر اعظم عمران خان نے قومی رابطہ کمیٹی برائے ہاؤسنگ ، کنسٹرکشن اور ڈویلپمنٹ کے ایک اجلاس کی صدارت کی ، جس میں یہ بھی بتایا گیا کہ 2314 ارب روپے سے زائد کی معاشی سرگرمیاں پیدا کی جائیں گی۔
وزیراعظم کو لاہور میں جاری کیڈاسٹرل میپنگ مشق پر بریفنگ دی گئی۔ انہیں بتایا گیا کہ منصوبہ ٹریک پر ہے اور 15 نومبر 2021 تک مکمل ہو جائے گا۔
وزیراعظم نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ وہ لاہور اراضی کے ریکارڈ کو جلد از جلد ڈیجیٹل کرنے کی تکمیل پر توجہ دیں تاکہ عام آدمی کو زمینوں پر قبضہ مافیا اور تجاوزات سے نجات مل سکے۔ انہیں وزارت ہاؤسنگ اور ورکس کے تحت مختلف ہاؤسنگ منصوبوں کی پیش رفت سے بھی آگاہ کیا گیا۔
وزیر اعظم نے اس بات کا اعادہ کیا کہ اونچی عمارتوں کی شکل میں عمودی رہائش حکومت کی ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کی رہائشی ضروریات کو پورا کرے گا ، انہوں نے مزید کہا کہ ڈیجیٹل زید کیڈاسٹرل میپنگ شہری زمین کے موثر استعمال کو بھی یقینی بنائے گی
Source: PropertyPost
--------------------------------------------------------
for News and Updates of Regulatory & Business Join "Regulatory Updates of Pakistan" by using this link: t.me/RegulatoryUpdatesOfPakistan
& for Real estate Join "Real Estate Updates of Pakistan" by using this link: t.me/RealEstateUpdatesOfPakistan
So hurry up
Don't wait, to get Updates🔔
وزیراعظم عمران خان کو بتایا گیا کہ ہاؤسنگ اینڈ ورکس کی وزارت 463 ارب روپے کی مجموعی لاگت سے 86،323 ہاؤسنگ یونٹس تعمیر کر رہی ہے اور اس کے مختلف منصوبوں کے تحت ملک میں تعمیراتی سرگرمیوں میں تیزی سے دو لاکھ سے زائد ملازمتیں پیدا ہو رہی ہیں۔
اس سلسلے میں ، وزیر اعظم عمران خان نے قومی رابطہ کمیٹی برائے ہاؤسنگ ، کنسٹرکشن اور ڈویلپمنٹ کے ایک اجلاس کی صدارت کی ، جس میں یہ بھی بتایا گیا کہ 2314 ارب روپے سے زائد کی معاشی سرگرمیاں پیدا کی جائیں گی۔
وزیراعظم کو لاہور میں جاری کیڈاسٹرل میپنگ مشق پر بریفنگ دی گئی۔ انہیں بتایا گیا کہ منصوبہ ٹریک پر ہے اور 15 نومبر 2021 تک مکمل ہو جائے گا۔
وزیراعظم نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ وہ لاہور اراضی کے ریکارڈ کو جلد از جلد ڈیجیٹل کرنے کی تکمیل پر توجہ دیں تاکہ عام آدمی کو زمینوں پر قبضہ مافیا اور تجاوزات سے نجات مل سکے۔ انہیں وزارت ہاؤسنگ اور ورکس کے تحت مختلف ہاؤسنگ منصوبوں کی پیش رفت سے بھی آگاہ کیا گیا۔
وزیر اعظم نے اس بات کا اعادہ کیا کہ اونچی عمارتوں کی شکل میں عمودی رہائش حکومت کی ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کی رہائشی ضروریات کو پورا کرے گا ، انہوں نے مزید کہا کہ ڈیجیٹل زید کیڈاسٹرل میپنگ شہری زمین کے موثر استعمال کو بھی یقینی بنائے گی
Source: PropertyPost
--------------------------------------------------------
for News and Updates of Regulatory & Business Join "Regulatory Updates of Pakistan" by using this link: t.me/RegulatoryUpdatesOfPakistan
& for Real estate Join "Real Estate Updates of Pakistan" by using this link: t.me/RealEstateUpdatesOfPakistan
So hurry up
Don't wait, to get Updates🔔
نیا پاکستان ہاؤسنگ اسکیم میں قرض کیلئے شرائط نرم اور فارم آسانیاں کردی گئیں
وفاقی حکومت کی جانب سے نیا پاکستان ہاؤسنگ اسکیم میں قرض کیلئے شرائط نرم اور فارم مزید آسان کیا جارہا ہے، جس کے بعد وہ لوگ جو سخت شرائط اور پیچیدہ فارم کی وجہ سے اس اسکیم سے فائدہ نہیں اٹھاسکے تھے وہ بھی بینکوں کی مدد سے اپنے گھر کے مالک بن سکیں گے۔
اسکیم سے متعلق ایک سرکاری افسر کے مطابق سرکاری رہائشی اسکیم کا اصل ہدف کم آمدن طبقہ ہے لیکن کم آمدن افراد کو روزگار اور آمدن کی تصدیق کے حوالے سے بینکوں کے تقاضے پورے کرنے میں مشکل پیش آرہی ہے جس کو دیکھتے ہوئے نئے اقدامات اٹھائے جارہے ہیں، جن میں ایک تو نیا فارم مرتب کیا گیا ہے جو انتہائی سادہ اور ایک صفحے کا ہوگا۔
اس فارم میں صرف بنیادی معلومات جیسے نام، ولدیت، شناختی کارڈ نمبر اور گھر کا پتہ لئے جائیں گے اور فارم موصول ہونے کے بعد بینک اسسمنٹ کا مرحلہ اہم ہوگا جس میں بینک اہلکار بجلی کے بل اور رہائشی کرائے کا جائزہ لے کر درخواست کی منظوری دیں گے۔
افسر کا کہنا ہے کہ بنیادی شرائط پورے کرنے والا درخواست کنندہ رکشہ چلانے والا ہی کیوں نہ ہو، اگر وہ ماہانہ 15 ہزار روپے بچا سکتا ہے تو اس کیلئے 30 لاکھ روپے قرض کی منظوری دیدی جائے گی۔
اسٹیٹ بینک کے ایک افسر نے بھی ان اطلاعات کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ بینک رسک گائیڈ لائنز کو فالو کرتے ہوئے روزگار اور آمدن کا دستاویزی ثبوت مانگتے ہیںجس کو ایک ٹھیلا چلانے والا ماہانہ 50 ہزار روپے کمانے کے باجود پورا نہیں کر پاتا، کم آمدن طبقہ اکثریت انفارمل سیکٹر سے تعلق رکھتا ہے جس کا بینک اسٹیٹمنٹ اور لون ہسٹری نہیں دیکھا جاسکتا کیونکہ ایک بڑی تعداد کا تو بینک اکاؤنٹ ہی نہیں ہوتا، انہی مشکلات کو دیکھتے ہوئے آسانیاں لائی جارہی ہیں۔انہوں نے بتایا کہ اس ضمن میں اسٹیٹ بینک کی جانب سے فارم کی منظوری دیدی گئی ہے اور جلد ایک ایس آر او بھی جاری ہونے کی توقع ہے۔
Source: PropertyPost
--------------------------------------------------------
for News and Updates of Regulatory & Business Join "Regulatory Updates of Pakistan" by using this link: t.me/RegulatoryUpdatesOfPakistan
& for Real estate Join "Real Estate Updates of Pakistan" by using this link: t.me/RealEstateUpdatesOfPakistan
So hurry up
Don't wait, to get Updates🔔
وفاقی حکومت کی جانب سے نیا پاکستان ہاؤسنگ اسکیم میں قرض کیلئے شرائط نرم اور فارم مزید آسان کیا جارہا ہے، جس کے بعد وہ لوگ جو سخت شرائط اور پیچیدہ فارم کی وجہ سے اس اسکیم سے فائدہ نہیں اٹھاسکے تھے وہ بھی بینکوں کی مدد سے اپنے گھر کے مالک بن سکیں گے۔
اسکیم سے متعلق ایک سرکاری افسر کے مطابق سرکاری رہائشی اسکیم کا اصل ہدف کم آمدن طبقہ ہے لیکن کم آمدن افراد کو روزگار اور آمدن کی تصدیق کے حوالے سے بینکوں کے تقاضے پورے کرنے میں مشکل پیش آرہی ہے جس کو دیکھتے ہوئے نئے اقدامات اٹھائے جارہے ہیں، جن میں ایک تو نیا فارم مرتب کیا گیا ہے جو انتہائی سادہ اور ایک صفحے کا ہوگا۔
اس فارم میں صرف بنیادی معلومات جیسے نام، ولدیت، شناختی کارڈ نمبر اور گھر کا پتہ لئے جائیں گے اور فارم موصول ہونے کے بعد بینک اسسمنٹ کا مرحلہ اہم ہوگا جس میں بینک اہلکار بجلی کے بل اور رہائشی کرائے کا جائزہ لے کر درخواست کی منظوری دیں گے۔
افسر کا کہنا ہے کہ بنیادی شرائط پورے کرنے والا درخواست کنندہ رکشہ چلانے والا ہی کیوں نہ ہو، اگر وہ ماہانہ 15 ہزار روپے بچا سکتا ہے تو اس کیلئے 30 لاکھ روپے قرض کی منظوری دیدی جائے گی۔
اسٹیٹ بینک کے ایک افسر نے بھی ان اطلاعات کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ بینک رسک گائیڈ لائنز کو فالو کرتے ہوئے روزگار اور آمدن کا دستاویزی ثبوت مانگتے ہیںجس کو ایک ٹھیلا چلانے والا ماہانہ 50 ہزار روپے کمانے کے باجود پورا نہیں کر پاتا، کم آمدن طبقہ اکثریت انفارمل سیکٹر سے تعلق رکھتا ہے جس کا بینک اسٹیٹمنٹ اور لون ہسٹری نہیں دیکھا جاسکتا کیونکہ ایک بڑی تعداد کا تو بینک اکاؤنٹ ہی نہیں ہوتا، انہی مشکلات کو دیکھتے ہوئے آسانیاں لائی جارہی ہیں۔انہوں نے بتایا کہ اس ضمن میں اسٹیٹ بینک کی جانب سے فارم کی منظوری دیدی گئی ہے اور جلد ایک ایس آر او بھی جاری ہونے کی توقع ہے۔
Source: PropertyPost
--------------------------------------------------------
for News and Updates of Regulatory & Business Join "Regulatory Updates of Pakistan" by using this link: t.me/RegulatoryUpdatesOfPakistan
& for Real estate Join "Real Estate Updates of Pakistan" by using this link: t.me/RealEstateUpdatesOfPakistan
So hurry up
Don't wait, to get Updates🔔
سرکاری اسکیمز کے تحت سینئر افسرانوں نے ہی پُرتعیش مکانات ہتھیا لیے
اسلام آباد ہائی کورٹ نے اعلیٰ بیوروکریٹس کو سرکاری اخراجات پر ایک سے زائد پلاٹ کی الاٹمنٹ کے خلاف فیصلہ دیا ہے، ایسے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ گریڈ 20 سے 22 کے 588 سینئر افسران نے رعایتی نرخوں پر پُرتعیش 2 منزلہ مکانات حاصل کر رکھے ہیں۔
ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ نے پیر کے روز وفاقی دارالحکومت کے نئے سیکٹرز میں الاٹمنٹ کو عارضی طور پر معطل کرتے ہوئے معاملہ اس بات پر غور کے لیے حکومت کو بھیج دیا تھا کہ کیا بیوروکریٹس اور ججز کو پلاٹوں کی الاٹمنٹ جائز ہے۔
ڈان کو حاصل کردہ دستاویزات کے مطابق مزید یہ کہ ان میں سے ایک بڑی تعداد خوش قسمت ہے کہ وہ قیمتی پلاٹس حاصل کر سکی، جن میں سے کچھ کو اسلام آباد کے سیکٹر ایف-14 اور 15 میں دو پلاٹس ملے۔
دستاویزات کے مطابق 588 بیوروکریٹس میں سے وہ 185 جنہیں کیپٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کی اراضی پر قائم پاکستان ہاؤسنگ اتھارٹی فاؤنڈیشن (پی ایچ اے ایف) کی ہاؤسنگ اسکیم میں گھر الاٹ کیے گئے، انہیں بھی سیکٹر-14 اور 15 میں پلاٹس ملے ہیں۔
پی ایچ اے ایف اسکیم کے تحت اعلیٰ بیوروکریٹس کو کوری کی ریونیو اسٹیٹ میں ایک کنال، 13 مرلے اور 7 مرلے کے دو منزلہ مکانات کے ‘سرمئی ڈھانچے’ الاٹ کیے گئے تھے۔
جو سی ڈی اے کے ایلیٹ ہاؤسنگ پروجیکٹ پارک انکلیو اور نجی ہاؤسنگ اسکیم بحریہ انکلیو کے نزدیک ہے۔
پی ایچ اے ایف نے روایتی طور پر اپنے اراکین کے لیے کم لاگت کی رہائشی اسکیمیں بنائی ہیں اور یہ پہلا موقع تھا جب اس نے کسی علاقے میں سینئر بیوروکریٹس کے لیے اسکیم متعارف کروائی۔
یہاں یہ بات مدِنظر رہے کہ سال 2016 میں اس وقت کے وزیر اعظم نے اسی علاقے میں بااثر بیوروکریٹس کو ’پسندیدہ‘ اپارٹمنٹس کی الاٹمنٹ منسوخ کر دی تھی اور پی ایچ اے ایف کی جانب سے کی جانے والی ’ہیرا پھیری والی قرعہ اندازی‘ کی تحقیقات کا حکم دیا تھا۔
اسی طرح ایک قرعہ اندازی کے بعد فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاؤسنگ اتھارٹی (ایف جی ای ایچ اے) نے حال ہی میں سینئر بیوروکریٹس، اعلیٰ عدلیہ کے ججز، اسلام آباد کی ماتحت عدلیہ کے وکلا اور جوڈیشل افسران کو پلاٹ الاٹ کیے۔
تاہم اسلام آباد ہائی کورٹ نے زمین کے متاثرہ مالکان کے علاوہ تمام الاٹمنٹس معطل کردی تھیں۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے کابینہ کے حالیہ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے غریب گاؤں والوں کی زمین پر حکمران اشرافیہ کو جگہ دینے کے اقدام کو افسوسناک قرار دیا۔
وفاقی وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم نے ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں الاٹمنٹ کا جائزہ لیا جائے گا جس میں سول سرونٹس کو ایک سے زیادہ پلاٹ کی الاٹمنٹ آئین کی دفعہ 25 کے تحت غیر قانونی قرار دی گئی ہے۔
مزید یہ کہ سال 1996 میں حمید اختر خان نیازی کیس کے فیصلے میں سپریم کورٹ نے سرکاری ملازمین کے درمیان امتیازی سلوک کے خلاف فیصلہ دیا تھا اور تعینات افسران کو یکساں مواقع فراہم کرنے کا حکم دیا تھا۔
خیال رہے کہ ایف جی ای ایچ اے صرف وفاقی حکومت کے ملازمین کو جائے قیام دینے کے لیے قائم کی گئی تھی۔
ابتدائی طور پر سرکاری ملازمین صرف ایک پلاٹ کے حقدار تھے تاہم سال 2006 میں اس وقت کے وزیر اعظم نے گریڈ 22 کے عہدیداروں کے لیے 2 پلاٹوں کی اجازت دی، جس کے بعد سپریم کورٹ کے ججز نے بھی دو پلاٹوں کا دعویٰ کیا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ دو نئے سیکٹرز کے لیے ایف جی ای ایچ اے کی قرعہ اندازی کے دوران گریڈ 22 کے 19 بیوروکریٹس کو دو، دو پلاٹ الاٹ کیے گئے جبکہ انہیں پہلے ہی پی ایچ اے ایف اسکیم میں ایک، دو منزلہ مکان الاٹ کر دیا گیا تھا، لہٰذا اس طرح ان خوش قسمت بیوروکریٹس نے 3، 3 ہاؤسنگ یونٹس حاصل کرلیے۔
پی ایچ اے ایف کے منیجنگ ڈائریکٹر عامر محی الدین سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ چونکہ انہوں نے اس سال یکم جولائی کو عہدہ سنبھالا تھا اور پھر لازمی پروموشن کورس میں آگے بڑھا تھا، اس لیے انہیں گزشتہ الاٹمنٹ کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں۔
تاہم پی ایچ اے ایف کے ایک افسر نے ڈان کو بتایا کہ ایف جی ای ایچ اے کے پلاٹوں کے لیے ‘پہلے آئیے پہلے پائیے’ کی بنیاد پر ان افسران کی درخواست سے قبل انہیں سرمئی ڈھانچے والے مکانات الاٹ کردیے گئے تھے۔
دوسری جانب اندرونی ذرائع نے کہا کہ اس طرح کی الاٹمنٹ کرنے کی پالیسی کو وفاقی حکومت نے کبھی منظور نہیں کیا تھا۔
Source: PropertyPost
--------------------------------------------------------
for News and Updates of Regulatory & Business Join "Regulatory Updates of Pakistan" by using this link: t.me/RegulatoryUpdatesOfPakistan
& for Real estate Join "Real Estate Updates of Pakistan" by using this link: t.me/RealEstateUpdatesOfPakistan
So hurry up
Don't wait, to get Updates🔔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے اعلیٰ بیوروکریٹس کو سرکاری اخراجات پر ایک سے زائد پلاٹ کی الاٹمنٹ کے خلاف فیصلہ دیا ہے، ایسے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ گریڈ 20 سے 22 کے 588 سینئر افسران نے رعایتی نرخوں پر پُرتعیش 2 منزلہ مکانات حاصل کر رکھے ہیں۔
ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ نے پیر کے روز وفاقی دارالحکومت کے نئے سیکٹرز میں الاٹمنٹ کو عارضی طور پر معطل کرتے ہوئے معاملہ اس بات پر غور کے لیے حکومت کو بھیج دیا تھا کہ کیا بیوروکریٹس اور ججز کو پلاٹوں کی الاٹمنٹ جائز ہے۔
ڈان کو حاصل کردہ دستاویزات کے مطابق مزید یہ کہ ان میں سے ایک بڑی تعداد خوش قسمت ہے کہ وہ قیمتی پلاٹس حاصل کر سکی، جن میں سے کچھ کو اسلام آباد کے سیکٹر ایف-14 اور 15 میں دو پلاٹس ملے۔
دستاویزات کے مطابق 588 بیوروکریٹس میں سے وہ 185 جنہیں کیپٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کی اراضی پر قائم پاکستان ہاؤسنگ اتھارٹی فاؤنڈیشن (پی ایچ اے ایف) کی ہاؤسنگ اسکیم میں گھر الاٹ کیے گئے، انہیں بھی سیکٹر-14 اور 15 میں پلاٹس ملے ہیں۔
پی ایچ اے ایف اسکیم کے تحت اعلیٰ بیوروکریٹس کو کوری کی ریونیو اسٹیٹ میں ایک کنال، 13 مرلے اور 7 مرلے کے دو منزلہ مکانات کے ‘سرمئی ڈھانچے’ الاٹ کیے گئے تھے۔
جو سی ڈی اے کے ایلیٹ ہاؤسنگ پروجیکٹ پارک انکلیو اور نجی ہاؤسنگ اسکیم بحریہ انکلیو کے نزدیک ہے۔
پی ایچ اے ایف نے روایتی طور پر اپنے اراکین کے لیے کم لاگت کی رہائشی اسکیمیں بنائی ہیں اور یہ پہلا موقع تھا جب اس نے کسی علاقے میں سینئر بیوروکریٹس کے لیے اسکیم متعارف کروائی۔
یہاں یہ بات مدِنظر رہے کہ سال 2016 میں اس وقت کے وزیر اعظم نے اسی علاقے میں بااثر بیوروکریٹس کو ’پسندیدہ‘ اپارٹمنٹس کی الاٹمنٹ منسوخ کر دی تھی اور پی ایچ اے ایف کی جانب سے کی جانے والی ’ہیرا پھیری والی قرعہ اندازی‘ کی تحقیقات کا حکم دیا تھا۔
اسی طرح ایک قرعہ اندازی کے بعد فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاؤسنگ اتھارٹی (ایف جی ای ایچ اے) نے حال ہی میں سینئر بیوروکریٹس، اعلیٰ عدلیہ کے ججز، اسلام آباد کی ماتحت عدلیہ کے وکلا اور جوڈیشل افسران کو پلاٹ الاٹ کیے۔
تاہم اسلام آباد ہائی کورٹ نے زمین کے متاثرہ مالکان کے علاوہ تمام الاٹمنٹس معطل کردی تھیں۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے کابینہ کے حالیہ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے غریب گاؤں والوں کی زمین پر حکمران اشرافیہ کو جگہ دینے کے اقدام کو افسوسناک قرار دیا۔
وفاقی وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم نے ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں الاٹمنٹ کا جائزہ لیا جائے گا جس میں سول سرونٹس کو ایک سے زیادہ پلاٹ کی الاٹمنٹ آئین کی دفعہ 25 کے تحت غیر قانونی قرار دی گئی ہے۔
مزید یہ کہ سال 1996 میں حمید اختر خان نیازی کیس کے فیصلے میں سپریم کورٹ نے سرکاری ملازمین کے درمیان امتیازی سلوک کے خلاف فیصلہ دیا تھا اور تعینات افسران کو یکساں مواقع فراہم کرنے کا حکم دیا تھا۔
خیال رہے کہ ایف جی ای ایچ اے صرف وفاقی حکومت کے ملازمین کو جائے قیام دینے کے لیے قائم کی گئی تھی۔
ابتدائی طور پر سرکاری ملازمین صرف ایک پلاٹ کے حقدار تھے تاہم سال 2006 میں اس وقت کے وزیر اعظم نے گریڈ 22 کے عہدیداروں کے لیے 2 پلاٹوں کی اجازت دی، جس کے بعد سپریم کورٹ کے ججز نے بھی دو پلاٹوں کا دعویٰ کیا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ دو نئے سیکٹرز کے لیے ایف جی ای ایچ اے کی قرعہ اندازی کے دوران گریڈ 22 کے 19 بیوروکریٹس کو دو، دو پلاٹ الاٹ کیے گئے جبکہ انہیں پہلے ہی پی ایچ اے ایف اسکیم میں ایک، دو منزلہ مکان الاٹ کر دیا گیا تھا، لہٰذا اس طرح ان خوش قسمت بیوروکریٹس نے 3، 3 ہاؤسنگ یونٹس حاصل کرلیے۔
پی ایچ اے ایف کے منیجنگ ڈائریکٹر عامر محی الدین سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ چونکہ انہوں نے اس سال یکم جولائی کو عہدہ سنبھالا تھا اور پھر لازمی پروموشن کورس میں آگے بڑھا تھا، اس لیے انہیں گزشتہ الاٹمنٹ کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں۔
تاہم پی ایچ اے ایف کے ایک افسر نے ڈان کو بتایا کہ ایف جی ای ایچ اے کے پلاٹوں کے لیے ‘پہلے آئیے پہلے پائیے’ کی بنیاد پر ان افسران کی درخواست سے قبل انہیں سرمئی ڈھانچے والے مکانات الاٹ کردیے گئے تھے۔
دوسری جانب اندرونی ذرائع نے کہا کہ اس طرح کی الاٹمنٹ کرنے کی پالیسی کو وفاقی حکومت نے کبھی منظور نہیں کیا تھا۔
Source: PropertyPost
--------------------------------------------------------
for News and Updates of Regulatory & Business Join "Regulatory Updates of Pakistan" by using this link: t.me/RegulatoryUpdatesOfPakistan
& for Real estate Join "Real Estate Updates of Pakistan" by using this link: t.me/RealEstateUpdatesOfPakistan
So hurry up
Don't wait, to get Updates🔔
پراپرٹی کے ملکیتی حقوق کے دستاویز ‘رجسٹری’ کے طریقہ کار کے چار آسان مراحل
عام طور پر گھر، دکان یا پلاٹ غرض یہ کہ کسی بھی قسم کی غیر منقولہ جائیداد کے ملکیتی حقوق کا دستاویز رجسٹری کہلاتاہے۔ لفظ رجسٹری دراصل رجسٹر سے ماخذ ہے جس کا مطلب ہے کسی بھی چیز کا کہیں اندراج کرنا۔ مثال کے طور پر اگر آپ کوئی گاڑی خریدتے ہیں تو محکمہ ایکسائز میں گاڑی کی خرید، اس کے ماڈل، برانڈ، انجن نمبر، چیسیز نمبر وغیرہ کی کمکمل تفصیلات کے اندراج کے بعد محکمہ آپ کو ایک دستاویز فراہم کرتا ہے جو کہ رجسٹریشن بُک کہلاتی ہے۔ یہ بُک اس بات کا دستاویزی ثبوت ہے کہ آپ خریدی گئی گاڑی کے اصل اور قانونی مالک ہیں۔ مکان، دکان یا کسی بھی شکل میں پراپرٹی کی خرید و فروخت میں رجسٹری کا دستاویز انتہائی اہمیت کا حامل ہے جو کہ اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ آپ دستاویز میں درج اثاثہ جات کے اصل اور قانونی مالک ہیں۔
پاکستانی قوانین میں رجسٹریشن ایکٹ 1908 کی شق 17 کے مطابق غیر منقولہ جائیداد کے انتقال کے لیے رجسٹریشن کا عمل لازمی ہے۔
زمین، مکان کی یا کسی بھی شکل میں جائیداد کی رجسٹری کے طریقہ کار سے متعلق آگاہی ہم سب کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ پاکستانی قوانین کے مطابق نیچے دیے گئے طریقہ کار کو اپناتے ہوئے آپ محفوظ انداز میں اپنی جائیداد کے ملکیتی حقوق کا تحفظ کر سکتے ہیں۔
قارئین کی آسانی کے لیے رجسٹری کے عمل کو یہاں چار مراحل میں تقسیم کیا جا رہا ہے تاکہ آپ ہر مرحلے کو با آسانی سمجھ سکیں۔
مرحلہ اول
فردِ بیع کا دستاویز
مکان ہو یا دکان، زرعی اراضی ہو یا پلاٹ غرض یہ کہ کسی بھی شکل میں پراپرٹی کی خرید کے عمل میں آپ سب سے پہلے اس پراپرٹی کی فرد بیع کا دستاویز نکلوائیں گے۔ یاد رکھیے پراپرٹی کی رجسٹری کے لیے فرد ِبیع کا دستاویز ہونا لازمی ہے کیونکہ یہ دستاویز آپ کو متعلقہ پراپرٹی کے اصل مالک سے متعلق تصدیقی معلومات فراہم کرے گا۔ علاوہ ازیں اس دستاویز سے آپ یہ معلومات بھی حاصل کر سکتے ہیں کہ آیا متعلقہ پراپرٹی کو سٹے بازی یا عدالتی مقدمات کا سامنا تو نہیں رہا۔ ہاں! ایک اہم بات اور وہ یہ کہ ایک وقت میں صرف ایک ہی فرد بیع نکلوائی جا سکتی ہے اور فرد بیع نکلوانے کے 14 روز کے اندر اگر پراپرٹی کی رجسٹری نہ کروائی جائے تو یہ دستاویز منسوخ تصور کیا جاتا ہے اور فرد بیع کے دوبارہ حصول کے لیے آپ کو دوبارہ ساری محنت کرنی پڑ سکتی ہے۔
مرحلہ دوئم
اسٹامپ پیپر
فرد بیع کی مدد سے پراپراٹی کے اصل مالک کی تصدیق کے بعد آپ اسٹامپ پیپر نکلوائیں گے۔ بنیادی طور پر اسٹامپ پیپر پراپرٹی کے ڈی سی ریٹ کے مطابق مالیت اور حکومت پاکستان کے طے شدہ قوانین کے مطابق قیمت ادا کر کے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اسٹامپ پیپر کی پشت پر پراپرٹی کے خریدار اور پراپرٹی بیچنے والے کا نام، ان کے شناختی کارڈ نمبر زاور مستقل پتہ درج کیا جاتا ہے اور خریدار اور بیچنے والے کے علاوہ اسٹامپ پیپر جاری کرنے والے شخص کے دستخط اور مہر بھی درج ہوتی ہے۔ علاوہ ازیں اسٹامپ لکھتے وقت اس دستاویز میں پراپرٹی کا ڈی سی ریٹ اور قیمتِ فروخت بھی درج کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ اسٹامپ پیپر میں پراپرٹی بیچنے اور خریدنے والے کی مکمل تفصیلات، اس پراپرٹی کا محل وقوع اور گواہان کے نام، شناختی کارڈ نمبرز، مستقل پتہ اور دستخطوں کے علاوہ انگھوٹوں کے نشان بھی درج کیے جاتے ہیں۔ اس سارے تفصیلی عمل کا بنیادی مقصد متعلقہ پراپرٹی یا زمین کو غیر قانونی کرداروں اور قبضہ مافیا کے اوچھے ہتھکنڈوں سے محفوظ بنانا ہے۔
مرحلہ سوئم
پراپرٹی کی رجسٹری کے عمل میں متعلقہ ضلع کے رجسٹرار کا کردار
وثیقہ نویس سے اسٹامپ پیپر تیار کروانے کے بعد اس بات کی اچھی طرح تسلی کر لیں کہ اسٹامپ پیپر میں درج پراپراٹی کے محل وقوع، قیمت، خرید اور فروخت کنندگان سمیت گواہان کی تفصیلات حقائق پر مبنی ہیں۔ اسٹامپ پیپر میں درج فریقین کے دستخطوں اور انگوٹھوں کے نشانات سے متعلق بھی اچھی طرض تسلی کر لیں۔ اب اسٹامپ پیپر کے ساتھ فرد بیع ، دونوں فریقین خرید کنندہ اور فروخت کنندہ کے شناختی کارڈزکی نقول کے علاوہ تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشن، ٹیکس اتھارٹیز کی جانب سے پرپراٹی سے متعلق تمام ٹیکسز کی ادائیگی کی رسیدیں منسلک کرنے کے بعد فائل متعلقہ ضلع کے رجسٹرار کے پاس لے جائیں ۔
عام طور پر گھر، دکان یا پلاٹ غرض یہ کہ کسی بھی قسم کی غیر منقولہ جائیداد کے ملکیتی حقوق کا دستاویز رجسٹری کہلاتاہے۔ لفظ رجسٹری دراصل رجسٹر سے ماخذ ہے جس کا مطلب ہے کسی بھی چیز کا کہیں اندراج کرنا۔ مثال کے طور پر اگر آپ کوئی گاڑی خریدتے ہیں تو محکمہ ایکسائز میں گاڑی کی خرید، اس کے ماڈل، برانڈ، انجن نمبر، چیسیز نمبر وغیرہ کی کمکمل تفصیلات کے اندراج کے بعد محکمہ آپ کو ایک دستاویز فراہم کرتا ہے جو کہ رجسٹریشن بُک کہلاتی ہے۔ یہ بُک اس بات کا دستاویزی ثبوت ہے کہ آپ خریدی گئی گاڑی کے اصل اور قانونی مالک ہیں۔ مکان، دکان یا کسی بھی شکل میں پراپرٹی کی خرید و فروخت میں رجسٹری کا دستاویز انتہائی اہمیت کا حامل ہے جو کہ اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ آپ دستاویز میں درج اثاثہ جات کے اصل اور قانونی مالک ہیں۔
پاکستانی قوانین میں رجسٹریشن ایکٹ 1908 کی شق 17 کے مطابق غیر منقولہ جائیداد کے انتقال کے لیے رجسٹریشن کا عمل لازمی ہے۔
زمین، مکان کی یا کسی بھی شکل میں جائیداد کی رجسٹری کے طریقہ کار سے متعلق آگاہی ہم سب کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ پاکستانی قوانین کے مطابق نیچے دیے گئے طریقہ کار کو اپناتے ہوئے آپ محفوظ انداز میں اپنی جائیداد کے ملکیتی حقوق کا تحفظ کر سکتے ہیں۔
قارئین کی آسانی کے لیے رجسٹری کے عمل کو یہاں چار مراحل میں تقسیم کیا جا رہا ہے تاکہ آپ ہر مرحلے کو با آسانی سمجھ سکیں۔
مرحلہ اول
فردِ بیع کا دستاویز
مکان ہو یا دکان، زرعی اراضی ہو یا پلاٹ غرض یہ کہ کسی بھی شکل میں پراپرٹی کی خرید کے عمل میں آپ سب سے پہلے اس پراپرٹی کی فرد بیع کا دستاویز نکلوائیں گے۔ یاد رکھیے پراپرٹی کی رجسٹری کے لیے فرد ِبیع کا دستاویز ہونا لازمی ہے کیونکہ یہ دستاویز آپ کو متعلقہ پراپرٹی کے اصل مالک سے متعلق تصدیقی معلومات فراہم کرے گا۔ علاوہ ازیں اس دستاویز سے آپ یہ معلومات بھی حاصل کر سکتے ہیں کہ آیا متعلقہ پراپرٹی کو سٹے بازی یا عدالتی مقدمات کا سامنا تو نہیں رہا۔ ہاں! ایک اہم بات اور وہ یہ کہ ایک وقت میں صرف ایک ہی فرد بیع نکلوائی جا سکتی ہے اور فرد بیع نکلوانے کے 14 روز کے اندر اگر پراپرٹی کی رجسٹری نہ کروائی جائے تو یہ دستاویز منسوخ تصور کیا جاتا ہے اور فرد بیع کے دوبارہ حصول کے لیے آپ کو دوبارہ ساری محنت کرنی پڑ سکتی ہے۔
مرحلہ دوئم
اسٹامپ پیپر
فرد بیع کی مدد سے پراپراٹی کے اصل مالک کی تصدیق کے بعد آپ اسٹامپ پیپر نکلوائیں گے۔ بنیادی طور پر اسٹامپ پیپر پراپرٹی کے ڈی سی ریٹ کے مطابق مالیت اور حکومت پاکستان کے طے شدہ قوانین کے مطابق قیمت ادا کر کے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اسٹامپ پیپر کی پشت پر پراپرٹی کے خریدار اور پراپرٹی بیچنے والے کا نام، ان کے شناختی کارڈ نمبر زاور مستقل پتہ درج کیا جاتا ہے اور خریدار اور بیچنے والے کے علاوہ اسٹامپ پیپر جاری کرنے والے شخص کے دستخط اور مہر بھی درج ہوتی ہے۔ علاوہ ازیں اسٹامپ لکھتے وقت اس دستاویز میں پراپرٹی کا ڈی سی ریٹ اور قیمتِ فروخت بھی درج کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ اسٹامپ پیپر میں پراپرٹی بیچنے اور خریدنے والے کی مکمل تفصیلات، اس پراپرٹی کا محل وقوع اور گواہان کے نام، شناختی کارڈ نمبرز، مستقل پتہ اور دستخطوں کے علاوہ انگھوٹوں کے نشان بھی درج کیے جاتے ہیں۔ اس سارے تفصیلی عمل کا بنیادی مقصد متعلقہ پراپرٹی یا زمین کو غیر قانونی کرداروں اور قبضہ مافیا کے اوچھے ہتھکنڈوں سے محفوظ بنانا ہے۔
مرحلہ سوئم
پراپرٹی کی رجسٹری کے عمل میں متعلقہ ضلع کے رجسٹرار کا کردار
وثیقہ نویس سے اسٹامپ پیپر تیار کروانے کے بعد اس بات کی اچھی طرح تسلی کر لیں کہ اسٹامپ پیپر میں درج پراپراٹی کے محل وقوع، قیمت، خرید اور فروخت کنندگان سمیت گواہان کی تفصیلات حقائق پر مبنی ہیں۔ اسٹامپ پیپر میں درج فریقین کے دستخطوں اور انگوٹھوں کے نشانات سے متعلق بھی اچھی طرض تسلی کر لیں۔ اب اسٹامپ پیپر کے ساتھ فرد بیع ، دونوں فریقین خرید کنندہ اور فروخت کنندہ کے شناختی کارڈزکی نقول کے علاوہ تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشن، ٹیکس اتھارٹیز کی جانب سے پرپراٹی سے متعلق تمام ٹیکسز کی ادائیگی کی رسیدیں منسلک کرنے کے بعد فائل متعلقہ ضلع کے رجسٹرار کے پاس لے جائیں ۔
مرحلہ چہارم
رجسٹرار کے سامنے بیانات اور تصاویر کا عمل
رجسٹرار آفس میں فروخت کنندہ بیچی گئی پراپرٹی سے متعلق خرید کنندہ کے حق میں بیان دے گا جسے رجسٹرار باقاعدہ رجسٹر میں ریکارڈ کرے گا۔ بعد ازاں اسٹامپ پیپر میں درج گواہان دونوں فریقین کے پیچھے کھڑے ہو کر اپنی تصاویر بنوائیں گے اور اس سارے عمل کی تکمیل کے بعد آپ کو ایک رسید فراہم کی جائے گی اور قانونی تقاضے پورے ہونے کے بعد چند ہی دنوں میں اصل رجسٹری خرید کنندہ کے بتائے گئے مستقل پتہ پر ارسال کر دی جاتی ہے۔ دوسری صورت میں آپ رجسٹرار آفس سے رجسٹری کے براہ راست حصول کے لیے بھی درخواست کر سکتے ہیں۔
رجسٹری اور انتقال میں بنیادی فرق
یاد رکھیے ! رجسٹری اور انتقال میں بنیادی طور پر کوئی خاص فرق نہیں ہے دونوں ہی دستاویز پراپراٹی کے ملکیتی حقوق کی ترجمانی کرتے ہیں۔ رجسٹری کے بعد اگلہ مرحلہ پراپراٹی کے انتقال کا ہوتا ہے۔ رجسٹری حاصل کرنے کے بعد پراپرٹی کا مالک متعلقہ پٹواری سے رجوع کرتا ہے جو کہ رجسٹری کی مصدقہ نقل دیکھنے کے بعد آپ کی پراپرٹی کا انتقال نامہ بنانے کا پابند ہے۔
Source: GraanaBlog
--------------------------------------------------------
for News and Updates of Regulatory & Business Join "Regulatory Updates of Pakistan" by using this link: t.me/RegulatoryUpdatesOfPakistan
& for Real estate Join "Real Estate Updates of Pakistan" by using this link: t.me/RealEstateUpdatesOfPakistan
So hurry up
Don't wait, to get Updates🔔
رجسٹرار کے سامنے بیانات اور تصاویر کا عمل
رجسٹرار آفس میں فروخت کنندہ بیچی گئی پراپرٹی سے متعلق خرید کنندہ کے حق میں بیان دے گا جسے رجسٹرار باقاعدہ رجسٹر میں ریکارڈ کرے گا۔ بعد ازاں اسٹامپ پیپر میں درج گواہان دونوں فریقین کے پیچھے کھڑے ہو کر اپنی تصاویر بنوائیں گے اور اس سارے عمل کی تکمیل کے بعد آپ کو ایک رسید فراہم کی جائے گی اور قانونی تقاضے پورے ہونے کے بعد چند ہی دنوں میں اصل رجسٹری خرید کنندہ کے بتائے گئے مستقل پتہ پر ارسال کر دی جاتی ہے۔ دوسری صورت میں آپ رجسٹرار آفس سے رجسٹری کے براہ راست حصول کے لیے بھی درخواست کر سکتے ہیں۔
رجسٹری اور انتقال میں بنیادی فرق
یاد رکھیے ! رجسٹری اور انتقال میں بنیادی طور پر کوئی خاص فرق نہیں ہے دونوں ہی دستاویز پراپراٹی کے ملکیتی حقوق کی ترجمانی کرتے ہیں۔ رجسٹری کے بعد اگلہ مرحلہ پراپراٹی کے انتقال کا ہوتا ہے۔ رجسٹری حاصل کرنے کے بعد پراپرٹی کا مالک متعلقہ پٹواری سے رجوع کرتا ہے جو کہ رجسٹری کی مصدقہ نقل دیکھنے کے بعد آپ کی پراپرٹی کا انتقال نامہ بنانے کا پابند ہے۔
Source: GraanaBlog
--------------------------------------------------------
for News and Updates of Regulatory & Business Join "Regulatory Updates of Pakistan" by using this link: t.me/RegulatoryUpdatesOfPakistan
& for Real estate Join "Real Estate Updates of Pakistan" by using this link: t.me/RealEstateUpdatesOfPakistan
So hurry up
Don't wait, to get Updates🔔
Latest Prices of BTK
Bahria Town Karachi is a diverse market based on multiple precincts. This is how; the prices keep updating as per the latest standards of property in Karachi. It is also vital to understand these trends in order to gain the best results.
Updates: September 16, 2021
Report: REA-R008/2108
👉🏼 https://bit.ly/3BG62MH
Overall upward trend is being seen in Bahria Town Karachi, so hurry up, and don't miss this opportunity.
Do not hesitate to contact us on whatsApp: wa.me/923332445210 & wa.me/923362516347, for any information related to BTK.
readvisors
ceritified real estate professionals
Bahria Town Karachi is a diverse market based on multiple precincts. This is how; the prices keep updating as per the latest standards of property in Karachi. It is also vital to understand these trends in order to gain the best results.
Updates: September 16, 2021
Report: REA-R008/2108
👉🏼 https://bit.ly/3BG62MH
Overall upward trend is being seen in Bahria Town Karachi, so hurry up, and don't miss this opportunity.
Do not hesitate to contact us on whatsApp: wa.me/923332445210 & wa.me/923362516347, for any information related to BTK.
readvisors
ceritified real estate professionals
Google Docs
Report - BTK Rates - 16Sep21.pdf
آبادکا اثاثے ظاہرکرنیوالوں کوٹیکس جمع کرانے کی اجازت دینے کامطالبہ
ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈیولپرز (آباد) کے چیئرمین فیاض الیاس نے وزیراعظم عمران خان، وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین اور ایف بی آر چیئرمین محمد اشفاق احمد سے مطالبہ کیا ہے کہ ایسٹس ڈیکلریشن آرڈیننس 2019ء کے بعد اثاثہ جات ظاہر کرنیوالوں کو ٹیکس جمع کرانے کی اجازت دی جائے۔
چیئرمین آباد فیاض الیاس نے ایف بی آر کی جانب سے تمام ٹیکس دہندگان / افراد جنہوں نے 3 جولائی 2019ء کو ٹیکس جمع کرائے لیکن اپنے اثاثہ جات ظاہر نہیں کئے، کیلئے اثاثہ جات ظاہر کرنے کی تاریخ میں 25 ستمبر 2021ء تک توسیع کے فیصلے کو خوش آئند قرار دیا۔
انہوں نے اس فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ آرڈیننس کے بعد بہت سارے افراد نے اپنے اثاثہ جات تو ظاہر کردیئے لیکن وہ 3 جولائی 2019ء تک ٹیکس جمع نہیں کراسکے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایسے اثاثہ جات ظاہر کرنیوالے افراد کو ٹیکس جمع کرانے کی اجازت دی جائے۔ فیاض الیاس کا کہنا ہے کہ ایسے افراد کو ٹیکس جمع کرانے کی اجازت دینے سے ملکی خزانے کو اربوں روپے کا فائدہ ہوگا۔
چیئرمین آباد نے مزید کہا کہ حکومت کی جانب سے یہ اقدام ایف بی آر کا سال 2021-22ء کا ٹیکس وصولی کا ہدف 5800 ارب روپے پورا کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔
وزیراعظم عمران خان کی جانب سے ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کے ذریعے تعمیرات کی صنعت کیلئے بھی خصوصی پیکیج کا اعلان کیا گیا تھا، اس کے بعد سے ملک میں تعمیراتی سرگرمیاں کافی عروج پر ہیں،
Source: SamaaTv
--------------------------------------------------------
for News and Updates of Regulatory & Business Join "Regulatory Updates of Pakistan" by using this link: t.me/RegulatoryUpdatesOfPakistan
& for Real estate Join "Real Estate Updates of Pakistan" by using this link: t.me/RealEstateUpdatesOfPakistan
So hurry up
Don't wait, to get Updates🔔
ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈیولپرز (آباد) کے چیئرمین فیاض الیاس نے وزیراعظم عمران خان، وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین اور ایف بی آر چیئرمین محمد اشفاق احمد سے مطالبہ کیا ہے کہ ایسٹس ڈیکلریشن آرڈیننس 2019ء کے بعد اثاثہ جات ظاہر کرنیوالوں کو ٹیکس جمع کرانے کی اجازت دی جائے۔
چیئرمین آباد فیاض الیاس نے ایف بی آر کی جانب سے تمام ٹیکس دہندگان / افراد جنہوں نے 3 جولائی 2019ء کو ٹیکس جمع کرائے لیکن اپنے اثاثہ جات ظاہر نہیں کئے، کیلئے اثاثہ جات ظاہر کرنے کی تاریخ میں 25 ستمبر 2021ء تک توسیع کے فیصلے کو خوش آئند قرار دیا۔
انہوں نے اس فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ آرڈیننس کے بعد بہت سارے افراد نے اپنے اثاثہ جات تو ظاہر کردیئے لیکن وہ 3 جولائی 2019ء تک ٹیکس جمع نہیں کراسکے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایسے اثاثہ جات ظاہر کرنیوالے افراد کو ٹیکس جمع کرانے کی اجازت دی جائے۔ فیاض الیاس کا کہنا ہے کہ ایسے افراد کو ٹیکس جمع کرانے کی اجازت دینے سے ملکی خزانے کو اربوں روپے کا فائدہ ہوگا۔
چیئرمین آباد نے مزید کہا کہ حکومت کی جانب سے یہ اقدام ایف بی آر کا سال 2021-22ء کا ٹیکس وصولی کا ہدف 5800 ارب روپے پورا کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔
وزیراعظم عمران خان کی جانب سے ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کے ذریعے تعمیرات کی صنعت کیلئے بھی خصوصی پیکیج کا اعلان کیا گیا تھا، اس کے بعد سے ملک میں تعمیراتی سرگرمیاں کافی عروج پر ہیں،
Source: SamaaTv
--------------------------------------------------------
for News and Updates of Regulatory & Business Join "Regulatory Updates of Pakistan" by using this link: t.me/RegulatoryUpdatesOfPakistan
& for Real estate Join "Real Estate Updates of Pakistan" by using this link: t.me/RealEstateUpdatesOfPakistan
So hurry up
Don't wait, to get Updates🔔
▪️3 years easy installments plan
▪️Approved by SBCA and MDA
▪️5 min drive from Dream World Resort
▪️Gated society wd supervision
▪️Theme Park
▪️International Standard School, Hospital, Masjid & World class facilities
▪️Near Gulshan-e-Maymar, Karachi
▪️100 & 200 square yards Commercial Plots
▪️120 & 160 square yards Residential Plot available for booking
For booking & visit or any information related to the project, do not hesitate to contact us.
readvisors
ceritified real estate professionals
▪️Approved by SBCA and MDA
▪️5 min drive from Dream World Resort
▪️Gated society wd supervision
▪️Theme Park
▪️International Standard School, Hospital, Masjid & World class facilities
▪️Near Gulshan-e-Maymar, Karachi
▪️100 & 200 square yards Commercial Plots
▪️120 & 160 square yards Residential Plot available for booking
For booking & visit or any information related to the project, do not hesitate to contact us.
readvisors
ceritified real estate professionals
SC directs Sindh to compensate affectees of Orangi, Gujjar Nullah
The Supreme Court (SC) of Pakistan Karachi Registry on Tuesday (September 21) directed the provincial government to pay the affectees of the Orangi and Gujjar Nullah anti-encroachment drive, news sources reported. The Supreme Court urged the involved authorities to take immediate action to resolve the matter and minimise inconvenience.
Reportedly, the apex court directed the Sindh government to expedite the process of allocating alternate plots to the 6,000 people affected by the operation as soon as possible. The Sindh government informed the supreme judicial body that the government has already purchased land for the purpose and that building of 6,500 houses would begin shortly when the necessary finances are secured.
On the question of the illegal allotments of the plots to the people along the storm drains, Sindh Advocate General Salman Talibuddin said it was a 40-year-old issue. Moreover, the bench also lifted the stay order on an anti-encroachment effort along city storm drains, ordering officials to conduct the work without delay and before the monsoon season. The anti-encroachment operation along with Gujjar and Orangi Nullah started in 2020 following a severe urban flood that claimed many lives and properties due to the choking of the waterways. The Sindh government started the operation, and according to the reports submitted by the authorities to the court, 98% of the task has been completed.
Source: Zameen
--------------------------------------------------------
for News and Updates of Regulatory & Business Join "Regulatory Updates of Pakistan" by using this link: t.me/RegulatoryUpdatesOfPakistan
& for Real estate Join "Real Estate Updates of Pakistan" by using this link: t.me/RealEstateUpdatesOfPakistan
So hurry up
Don't wait, to get Updates🔔
The Supreme Court (SC) of Pakistan Karachi Registry on Tuesday (September 21) directed the provincial government to pay the affectees of the Orangi and Gujjar Nullah anti-encroachment drive, news sources reported. The Supreme Court urged the involved authorities to take immediate action to resolve the matter and minimise inconvenience.
Reportedly, the apex court directed the Sindh government to expedite the process of allocating alternate plots to the 6,000 people affected by the operation as soon as possible. The Sindh government informed the supreme judicial body that the government has already purchased land for the purpose and that building of 6,500 houses would begin shortly when the necessary finances are secured.
On the question of the illegal allotments of the plots to the people along the storm drains, Sindh Advocate General Salman Talibuddin said it was a 40-year-old issue. Moreover, the bench also lifted the stay order on an anti-encroachment effort along city storm drains, ordering officials to conduct the work without delay and before the monsoon season. The anti-encroachment operation along with Gujjar and Orangi Nullah started in 2020 following a severe urban flood that claimed many lives and properties due to the choking of the waterways. The Sindh government started the operation, and according to the reports submitted by the authorities to the court, 98% of the task has been completed.
Source: Zameen
--------------------------------------------------------
for News and Updates of Regulatory & Business Join "Regulatory Updates of Pakistan" by using this link: t.me/RegulatoryUpdatesOfPakistan
& for Real estate Join "Real Estate Updates of Pakistan" by using this link: t.me/RealEstateUpdatesOfPakistan
So hurry up
Don't wait, to get Updates🔔
Demolished & sealed site offices of unapproved housing projects
Authority (RDA) on Tuesday (September 21) razed three site offices of illegal housing projects and sealed five sites offices, according to news sources.
According to a spokesperson, RDA launched an operation against unauthorised constructions and unapproved housing schemes. He further added that notices were issued to the owners of illegal housing schemes under the Punjab Private Housing Schemes and Land Subdivision Rules 2010. Also, cases were registered with the police against the owners for operating site offices of the housing projects.
RDA requests the citizens not to invest in illegal housing schemes. The citizens are requested to be diligent and check the status of the approved housing schemes on the authority’s website. The spokesperson stated that RDA has asked Sui Northern Gas Pipeline (SNGPL), PTCL, and Islamabad Electric Supply Company (IESCO) not to provide services to unapproved schemes.
Source: Zameen
--------------------------------------------------------
for News and Updates of Regulatory & Business Join "Regulatory Updates of Pakistan" by using this link: t.me/RegulatoryUpdatesOfPakistan
& for Real estate Join "Real Estate Updates of Pakistan" by using this link: t.me/RealEstateUpdatesOfPakistan
So hurry up
Don't wait, to get Updates🔔
Authority (RDA) on Tuesday (September 21) razed three site offices of illegal housing projects and sealed five sites offices, according to news sources.
According to a spokesperson, RDA launched an operation against unauthorised constructions and unapproved housing schemes. He further added that notices were issued to the owners of illegal housing schemes under the Punjab Private Housing Schemes and Land Subdivision Rules 2010. Also, cases were registered with the police against the owners for operating site offices of the housing projects.
RDA requests the citizens not to invest in illegal housing schemes. The citizens are requested to be diligent and check the status of the approved housing schemes on the authority’s website. The spokesperson stated that RDA has asked Sui Northern Gas Pipeline (SNGPL), PTCL, and Islamabad Electric Supply Company (IESCO) not to provide services to unapproved schemes.
Source: Zameen
--------------------------------------------------------
for News and Updates of Regulatory & Business Join "Regulatory Updates of Pakistan" by using this link: t.me/RegulatoryUpdatesOfPakistan
& for Real estate Join "Real Estate Updates of Pakistan" by using this link: t.me/RealEstateUpdatesOfPakistan
So hurry up
Don't wait, to get Updates🔔
Latest Prices of BTK | Sept 23, 2021
Bahria Town Karachi (BTK) is a diverse market based on multiple precincts. This is how; the prices keep updating as per the latest standards of property in Karachi. It is also vital to understand these trends in order to gain the best results.
Rate List 👉🏼 : https://bit.ly/3kA1vWa
Overall upward trend is being seen in BTK & Scheme 45, so hurry up, and don't miss this opportunity and don't hesitate to contact us, for any information related to BTK & Scheme 45.
Regards,
readvisors
ceritified real estate professionals
Bahria Town Karachi (BTK) is a diverse market based on multiple precincts. This is how; the prices keep updating as per the latest standards of property in Karachi. It is also vital to understand these trends in order to gain the best results.
Rate List 👉🏼 : https://bit.ly/3kA1vWa
Overall upward trend is being seen in BTK & Scheme 45, so hurry up, and don't miss this opportunity and don't hesitate to contact us, for any information related to BTK & Scheme 45.
Regards,
readvisors
ceritified real estate professionals
Google Docs
Report - BTK Karachi Rates.pdf
Implement E-tendering for transparency
The Punjab Housing Department on Wednesday (September 22) decided to implement an online system for tendering of government projects all over the province, news sources reported.
The decision was taken in a meeting presided over by the Provincial Minister for Housing Malik Asad Khokhar and attended by the Additional Secretary Housing Umar Farooq, Deputy Secretary Mumtaz Ahmed and PITB officials. The government will engage PITB for a centralised system to eradicate bribery culture. According to the information shared, the proposed E-tendering system would be implemented in the Housing Department, Lahore Development Authority (LDA), Water and Sanitation Agency (WASA), and all other subordinate departments.
Following the system’s deployment, individuals will be able to bid for projects from the comfort of their own homes with a transparent system. A call centre will also be developed to help consumers with general questions. The tender applicants will be given a unique code, and the computer will designate the qualifying firm for the respective tender award. During a press conference, the housing minister stated that only firms on the department’s approved list will be able to participate in the tendering process.
Source: Zameen
--------------------------------------------------------
for News and Updates of Regulatory & Business Join "Regulatory Updates of Pakistan" by using this link: t.me/RegulatoryUpdatesOfPakistan
& for Real estate Join "Real Estate Updates of Pakistan" by using this link: t.me/RealEstateUpdatesOfPakistan
So hurry up
Don't wait, to get Updates🔔
The Punjab Housing Department on Wednesday (September 22) decided to implement an online system for tendering of government projects all over the province, news sources reported.
The decision was taken in a meeting presided over by the Provincial Minister for Housing Malik Asad Khokhar and attended by the Additional Secretary Housing Umar Farooq, Deputy Secretary Mumtaz Ahmed and PITB officials. The government will engage PITB for a centralised system to eradicate bribery culture. According to the information shared, the proposed E-tendering system would be implemented in the Housing Department, Lahore Development Authority (LDA), Water and Sanitation Agency (WASA), and all other subordinate departments.
Following the system’s deployment, individuals will be able to bid for projects from the comfort of their own homes with a transparent system. A call centre will also be developed to help consumers with general questions. The tender applicants will be given a unique code, and the computer will designate the qualifying firm for the respective tender award. During a press conference, the housing minister stated that only firms on the department’s approved list will be able to participate in the tendering process.
Source: Zameen
--------------------------------------------------------
for News and Updates of Regulatory & Business Join "Regulatory Updates of Pakistan" by using this link: t.me/RegulatoryUpdatesOfPakistan
& for Real estate Join "Real Estate Updates of Pakistan" by using this link: t.me/RealEstateUpdatesOfPakistan
So hurry up
Don't wait, to get Updates🔔
Media is too big
VIEW IN TELEGRAM
پاکستان میں گھر کیلئے کم قیمت قرضہ حاصل کرنے کاطریقہ
کس طرح کم قیمت قرضہ حاصل کیا جاسکتا ہے، یہ قرضہ میرا پاکستان میرا گھر اسکیم کے تحت جاری کیا جارہا ہے۔
اس کے لیے کون سی دستاویز درکار ہوتی ہیں اور کن شرائط میں یہ قرضہ مل سکے گا، یہ تمام باتیں اس ویڈیو میں موجود ہیں۔
ذریعہ: سماء بزنس
ری ایڈ وائزرز
سرٹیفائیڈ رئیل اسٹیٹ پروفیشنلس
کس طرح کم قیمت قرضہ حاصل کیا جاسکتا ہے، یہ قرضہ میرا پاکستان میرا گھر اسکیم کے تحت جاری کیا جارہا ہے۔
اس کے لیے کون سی دستاویز درکار ہوتی ہیں اور کن شرائط میں یہ قرضہ مل سکے گا، یہ تمام باتیں اس ویڈیو میں موجود ہیں۔
ذریعہ: سماء بزنس
ری ایڈ وائزرز
سرٹیفائیڈ رئیل اسٹیٹ پروفیشنلس
Forwarded from Regulatory Updates Of Pakistan
Join "Real Estate Updates of Pakistan" on WhatsApp by using any ONE of the following Group Links:
Group 1: https://bit.ly/303PZsk
Group 2: https://bit.ly/2zZafAI
Group 3: https://bit.ly/3cr4by4
Group 4: https://bit.ly/3cuV4fN
Group 5: https://bit.ly/370zGy4
Group 6: https://bit.ly/375Zgle
Group 7: https://bit.ly/3cw0bfN
Group 8: https://bit.ly/3ePcUfa
Group 9: https://bit.ly/3eHy92i
Group 10: https://bit.ly/2MxLLB3
Group 11: https://bit.ly/307QP7o
Group 12: https://bit.ly/375azKj
Group 13: https://bit.ly/2z29Rkz
Group 14: https://bit.ly/372DRJI
So hurry up
Don't wait, to get Updates🔔
Group 1: https://bit.ly/303PZsk
Group 2: https://bit.ly/2zZafAI
Group 3: https://bit.ly/3cr4by4
Group 4: https://bit.ly/3cuV4fN
Group 5: https://bit.ly/370zGy4
Group 6: https://bit.ly/375Zgle
Group 7: https://bit.ly/3cw0bfN
Group 8: https://bit.ly/3ePcUfa
Group 9: https://bit.ly/3eHy92i
Group 10: https://bit.ly/2MxLLB3
Group 11: https://bit.ly/307QP7o
Group 12: https://bit.ly/375azKj
Group 13: https://bit.ly/2z29Rkz
Group 14: https://bit.ly/372DRJI
So hurry up
Don't wait, to get Updates🔔
For news and updates related to Real Estate of Karachi,
Join readvisors
WhatsApp BroadCast Group
to save this number wa.me/923332445210 in your contact list, then write your Name, City & Profession and send WhatsApp message to us.
So hurry up
Don't wait, to get Updates🔔
Join readvisors
WhatsApp BroadCast Group
to save this number wa.me/923332445210 in your contact list, then write your Name, City & Profession and send WhatsApp message to us.
So hurry up
Don't wait, to get Updates🔔
Free Workshop
Register 👉🏻: bit.ly/rea-ws21
Topic: 5 Steps to becoming "Eligible Real Estate Business & Professional"
FBR's recent notification, FATF, stipulates that under the Money Laundering, Terror Financing Act, persons involved in the property / real estate business are required to register with the FBR as Non-Financial Business and Profession DNFBPs. After which the unregistered persons will not be able to continue their business while the transfer or registration of immovable property will not be possible.
So hurry up
Don't wait, get registered
Register 👉🏻: bit.ly/rea-ws21
Topic: 5 Steps to becoming "Eligible Real Estate Business & Professional"
FBR's recent notification, FATF, stipulates that under the Money Laundering, Terror Financing Act, persons involved in the property / real estate business are required to register with the FBR as Non-Financial Business and Profession DNFBPs. After which the unregistered persons will not be able to continue their business while the transfer or registration of immovable property will not be possible.
So hurry up
Don't wait, get registered
Free Workshop
Register 👉🏻: bit.ly/rea-ws21
Topic: 5 Steps to becoming "Eligible Real Estate Business & Professional"
FBR's recent notification, FATF, stipulates that under the Money Laundering, Terror Financing Act, persons involved in the property / real estate business are required to register with the FBR as Non-Financial Business and Profession DNFBPs. After which the unregistered persons will not be able to continue their business while the transfer or registration of immovable property will not be possible.
So hurry up
Don't wait, get registered
Register 👉🏻: bit.ly/rea-ws21
Topic: 5 Steps to becoming "Eligible Real Estate Business & Professional"
FBR's recent notification, FATF, stipulates that under the Money Laundering, Terror Financing Act, persons involved in the property / real estate business are required to register with the FBR as Non-Financial Business and Profession DNFBPs. After which the unregistered persons will not be able to continue their business while the transfer or registration of immovable property will not be possible.
So hurry up
Don't wait, get registered
فری ورکشاپ
رجسٹر کریں 👈🏻: bit.ly/rea-ws21
موضوع: "سرٹیفائیڈ و اہل رئیل اسٹیٹ بزنس اور پروفیشنل" بننے کے 5 اقدامات
کوئی بھی پبلک یا پرائیویٹ ڈویلپمنٹ اتھارٹی کسی بھی رئیل اسٹیٹ ایجنٹ کے ساتھ غیر منقولہ جائیداد کی منتقلی یا رجسٹریشن کے لیے کاروباری سرگرمی نہیں کرے گی جب تک کہ رئیل اسٹیٹ ایجنٹ FBR کے ساتھ بطور نامزد غیر مالیاتی کاروبار اور پیشہ (DNFBP) رجسٹرڈ نہ ہو۔ یہ شرط یکم جنوری 2022 سے نافذ العمل ہوگی۔
درخواست: جائیداد کے کاروبار سے وابستہ لوگوں کو مطلع کریں اور ان کے ساتھ شئیر کریں۔
تو جلدی کیجئے
انتظار نہ کریں اور رجسٹر ہوجائیے
رجسٹر کریں 👈🏻: bit.ly/rea-ws21
موضوع: "سرٹیفائیڈ و اہل رئیل اسٹیٹ بزنس اور پروفیشنل" بننے کے 5 اقدامات
کوئی بھی پبلک یا پرائیویٹ ڈویلپمنٹ اتھارٹی کسی بھی رئیل اسٹیٹ ایجنٹ کے ساتھ غیر منقولہ جائیداد کی منتقلی یا رجسٹریشن کے لیے کاروباری سرگرمی نہیں کرے گی جب تک کہ رئیل اسٹیٹ ایجنٹ FBR کے ساتھ بطور نامزد غیر مالیاتی کاروبار اور پیشہ (DNFBP) رجسٹرڈ نہ ہو۔ یہ شرط یکم جنوری 2022 سے نافذ العمل ہوگی۔
درخواست: جائیداد کے کاروبار سے وابستہ لوگوں کو مطلع کریں اور ان کے ساتھ شئیر کریں۔
تو جلدی کیجئے
انتظار نہ کریں اور رجسٹر ہوجائیے
The owner of this channel has been inactive for the last 11 months. If they remain inactive for the next 29 days, they may lose their account and admin rights in this channel. The channel will remain accessible for all users.