*📚اجراء النحو کورس🌹**سبق نمبر 5*
*🌻فعل کا اجراء کرنے کا طریقہ*
کلمہ پر پہلا سوال ہوگا ہوگا.
*1-- لفظ موضوع کی کونسی قسم ہے مفرد یا مرکب..?*
اگر مفرد ہو تو دوسرا سوال ہوگا.
*2--- مفرد کی کونسی قسم ہے, اسم, فعل یا حرف..?*
اگر فعل ہو تو تیسرا سوال ہوگا.
*3--- فعل کی کونسی علامت ہے...?*
پھر چوتھا سوال ہوگا.
*4--- معرب ہے یا مبنی..?*
*فائدہ*
*اگر وہ فعل مضارع ہو تو معرب ہی ہوگا بشرطیکہ وہ نون جمع مؤنث اور نون تاکید ثقیلہ اور خفیفہ سے خالی ہو.*( یعنی جمع مؤنث غائب اور جمع مؤنث حاضر کا صیغہ نہ ہو , اور نہ ہی نون ثقلیہ اور خفیفہ والے صیغے ہوں)
*اور اگر وہ فعل مضارع نہ ہو بلکہ فعل ماضی یا فعل امر حاضر معروف ہو تو وہ مبنی ہوگا.*
اگر معرب ہو تو پانچواں سوال.
*5--- فعل مضارع کی وجوہ اعراب کے اعتبار سے 4 قسمیں ہیں , یہ کونسی قسم ہے..?*
چھٹا سوال.
*6--- عامل ہے یا معمول..?*
*فائدہ*
*ہر فعل عامل ہوتا ہے سواۓ فعل مضارع کے, وہ بیک وقت عامل بھی ہوتا ہے اور معمول بھی ہوسکتا ہے, کیونکہ اس پر حروف نواصب و جوازم داخل ہوکر عمل کرتے ہیں, اس لحاظ سے یہ معمول ہے اور فاعل و مفعول کو چاہنے کے لحاظ سے عامل ہے.*
اگر عامل ہو تو ساتواں سوال.
*7--- افعال عاملہ میں سے کونسی قسم ہے..?*
*🌹افعال عاملہ کی اقسام🌹*
*1=* فعل لازم
*2=* فعل متعدی
*3=* فعل امر
*4=* فعل نہی
*5=* فعل ماضی
*6=* فعل مضارع
*7=* افعال ناقصہ
*8=* افعال مدح و ذم
*9=* افعال قلوب
*10=* افعال مقاربہ
*🌹اجراء کی مشق🌻*
درج ذیل عبارت میں موجود اسماء اور افعال کا مکمل اجراء لکھیں.
*لو اختلط أوان أكثرها طاهر تحري للتوضؤ والشرب وإن كان أكثرها نجسا لايتحرى إلا للشرب.*
*لکھنے کا طریقہ کار.*
*اختلط*
لفظ + موضوع
مفرد + فعل ( فعل ماضی)
مبنی (مبنی الاصل <>فعل ماضی)
عامل ( فعل ماضی).
*نوٹ*
*اجراء کا طریقہ مکمل سمجھانے کے بعد عربی عبارت سے چند دن اجراء کی مشق کروائی جاۓ گی , اس کے بعد وجوہ اعراب پہچاننے کا طریقہ سمجھایا جاۓ گا, اور اس کے بعد ترکیب اور ترکیب کے قواعد سمجھاۓ جائیں گے. جنکی عربی عبارات سے مشق اور اجراء کروانے کی کوشش کی جاۓ گی,*
*اللہ پاک ہم سبکا حامی و ناصر ہو آمین.*
اپنے جاننے والوں کو اجراء النحو کورس میں ایڈ کروائیں تاکہ سب کا فائدہ ہو سکے. اور آگے شیئر بھی کریں
جزاکم اللہ خیرا.
*🌻فعل کا اجراء کرنے کا طریقہ*
کلمہ پر پہلا سوال ہوگا ہوگا.
*1-- لفظ موضوع کی کونسی قسم ہے مفرد یا مرکب..?*
اگر مفرد ہو تو دوسرا سوال ہوگا.
*2--- مفرد کی کونسی قسم ہے, اسم, فعل یا حرف..?*
اگر فعل ہو تو تیسرا سوال ہوگا.
*3--- فعل کی کونسی علامت ہے...?*
پھر چوتھا سوال ہوگا.
*4--- معرب ہے یا مبنی..?*
*فائدہ*
*اگر وہ فعل مضارع ہو تو معرب ہی ہوگا بشرطیکہ وہ نون جمع مؤنث اور نون تاکید ثقیلہ اور خفیفہ سے خالی ہو.*( یعنی جمع مؤنث غائب اور جمع مؤنث حاضر کا صیغہ نہ ہو , اور نہ ہی نون ثقلیہ اور خفیفہ والے صیغے ہوں)
*اور اگر وہ فعل مضارع نہ ہو بلکہ فعل ماضی یا فعل امر حاضر معروف ہو تو وہ مبنی ہوگا.*
اگر معرب ہو تو پانچواں سوال.
*5--- فعل مضارع کی وجوہ اعراب کے اعتبار سے 4 قسمیں ہیں , یہ کونسی قسم ہے..?*
چھٹا سوال.
*6--- عامل ہے یا معمول..?*
*فائدہ*
*ہر فعل عامل ہوتا ہے سواۓ فعل مضارع کے, وہ بیک وقت عامل بھی ہوتا ہے اور معمول بھی ہوسکتا ہے, کیونکہ اس پر حروف نواصب و جوازم داخل ہوکر عمل کرتے ہیں, اس لحاظ سے یہ معمول ہے اور فاعل و مفعول کو چاہنے کے لحاظ سے عامل ہے.*
اگر عامل ہو تو ساتواں سوال.
*7--- افعال عاملہ میں سے کونسی قسم ہے..?*
*🌹افعال عاملہ کی اقسام🌹*
*1=* فعل لازم
*2=* فعل متعدی
*3=* فعل امر
*4=* فعل نہی
*5=* فعل ماضی
*6=* فعل مضارع
*7=* افعال ناقصہ
*8=* افعال مدح و ذم
*9=* افعال قلوب
*10=* افعال مقاربہ
*🌹اجراء کی مشق🌻*
درج ذیل عبارت میں موجود اسماء اور افعال کا مکمل اجراء لکھیں.
*لو اختلط أوان أكثرها طاهر تحري للتوضؤ والشرب وإن كان أكثرها نجسا لايتحرى إلا للشرب.*
*لکھنے کا طریقہ کار.*
*اختلط*
لفظ + موضوع
مفرد + فعل ( فعل ماضی)
مبنی (مبنی الاصل <>فعل ماضی)
عامل ( فعل ماضی).
*نوٹ*
*اجراء کا طریقہ مکمل سمجھانے کے بعد عربی عبارت سے چند دن اجراء کی مشق کروائی جاۓ گی , اس کے بعد وجوہ اعراب پہچاننے کا طریقہ سمجھایا جاۓ گا, اور اس کے بعد ترکیب اور ترکیب کے قواعد سمجھاۓ جائیں گے. جنکی عربی عبارات سے مشق اور اجراء کروانے کی کوشش کی جاۓ گی,*
*اللہ پاک ہم سبکا حامی و ناصر ہو آمین.*
اپنے جاننے والوں کو اجراء النحو کورس میں ایڈ کروائیں تاکہ سب کا فائدہ ہو سکے. اور آگے شیئر بھی کریں
جزاکم اللہ خیرا.
*📚اجراء النحو کورس🌻*
*سبق نمبر 4*
*آج کے سبق میں بتایا جاۓ گا کہ اسم کا اجراء کرتے ہوۓ کتنے اور کونسے نحوی سوال ہونگے.*
اسم کے اجراء میں ہونے والے 18 سوال.
*1--- لفظ موضوع کی کونسی قسم ہے..?*
اگر مفرد ہو تو دوسرا سوال.
*2--- مفرد کی کونسی قسم ہے ..?*
اگر اسم ہو تو تیسرا سوال.
*3--- معرب ہے یا مبنی..?*
اگر معرب ہو تو چوتھا سوال.
*4--- معرب کلام عرب میں فقط دو چیزیں ہیں یہ ان میں کونسی ہے..?*
اگر مبنی ہو تو پانچواں سوال.
*5--- مبنی کی کونسی قسم ہے , مبنی الاصل یا مشابہ مبنی الاصل..?*
اگر مبنی الاصل ہو تو چھٹا سوال.
*6--- مبنی الاصل تین چیزیں ہیں یہ ان میں سے کونسی قسم ہے...?*
اگر مشابہ مبنی الاصل ہو تو ساتواں سوال.
*7--- مشابہ مبنی الاصل کی آٹھ قسمیں ہیں یہ ان میں سے کونسی قسم ہے..?*
اسم پر ہونے والا آٹھواں سوال.
*8--- معرفہ ہے یا نکرہ.*
اگر معرفہ ہو تو نواں سوال.
*9--- معرفہ کی سات قسمیں ہیں یہ کونسی قسم ہے..?*
اسم پر ہونے والا دسواں سوال.
*10--- مذکر ہے یا مؤنث ہے*
اگر مؤنث ہو تو گیارہواں سوال.
*11--- مؤنث کی چار علامتیں ہیں اس میں کونسی علامت ہے?*
اسم پر ہونے والا بارہواں سوال.
*12--- واحد ہے, تثنیہ ہے یا جمع ہے ?*
اگر جمع ہو تو تیرہواں سوال.
*13--- جمع کی کونسی قسم ہے, جمع سالم یا جمع مکسر..?*
اگر جمع مکسر ہو تو چودہواں سوال.
*14--- جمع قلت ہے یا جمع کثرت..?*
اگر جمع قلت ہو تو پندرہواں سوال.
*15--- جمع قلت کے چار یا چھ اوزان میں سے کونسا وزن ہے..?*
اسم معرب پر ہونے والا سولہواں سوال.
*16--- اسم متمکن کی وجوہ اعراب کے اعتبار سے سولہ اقسام میں سے کونسی قسم ہے...?*
اسم پر ہونے والا سترہواں سوال.
*17--- عامل ہے یا معمول..?*
اگر عامل ہو تو اٹھارہواں سوال.
*18--- اسماء عاملہ کی نو اقسام میں سے کونسی قسم ہے..?*
اسماء عاملہ کی نو اقسام درج ذیل ہیں:
*1-- اسم فاعل*
*2-- اسم مفعول*
*3-- اسم تفضیل*
*4-- صفت مشبہ*
*5-- اسماء افعال*
*6-- اسماء کنایات*
*7-- اسماء شرط*
*8-- مصدر*
*9-- مضاف*
🌹 *حل شدہ اجراء*
والغلبة في مخالطة الجامدات بإخراج الماء عن رقته وسيلانه .
*الغلبة*
= لفظ موضوع +
= مفرد +
= اسم (علامت; الف لام اور تاء تانیث)
= معرب (اسم ترکیب میں واقع ہے)
= معرفہ ( قسم : معرف باللام)
= مؤنث ( علامت: تاء تانیث)
= واحد +
= مفرد منصرف صحیح +
= معمول .
= اعراب بالحرکت ہے اور تینوں حالتوں میں لفظی ہے.
*نوٹ*
*مذکورہ بالا عبارت میں فقط اسماء کا اجراء حل کر کے چیک کروائیں.*
👆👆👆
*تنبیہ*
اسم کے اجراء میں جتنی بھی اصطلاحات یا اقسام کا اس سبق میں ذکر ہوا انکو نحو کی کسی کتاب سے یاد کر لیں.
*سبق نمبر 4*
*آج کے سبق میں بتایا جاۓ گا کہ اسم کا اجراء کرتے ہوۓ کتنے اور کونسے نحوی سوال ہونگے.*
اسم کے اجراء میں ہونے والے 18 سوال.
*1--- لفظ موضوع کی کونسی قسم ہے..?*
اگر مفرد ہو تو دوسرا سوال.
*2--- مفرد کی کونسی قسم ہے ..?*
اگر اسم ہو تو تیسرا سوال.
*3--- معرب ہے یا مبنی..?*
اگر معرب ہو تو چوتھا سوال.
*4--- معرب کلام عرب میں فقط دو چیزیں ہیں یہ ان میں کونسی ہے..?*
اگر مبنی ہو تو پانچواں سوال.
*5--- مبنی کی کونسی قسم ہے , مبنی الاصل یا مشابہ مبنی الاصل..?*
اگر مبنی الاصل ہو تو چھٹا سوال.
*6--- مبنی الاصل تین چیزیں ہیں یہ ان میں سے کونسی قسم ہے...?*
اگر مشابہ مبنی الاصل ہو تو ساتواں سوال.
*7--- مشابہ مبنی الاصل کی آٹھ قسمیں ہیں یہ ان میں سے کونسی قسم ہے..?*
اسم پر ہونے والا آٹھواں سوال.
*8--- معرفہ ہے یا نکرہ.*
اگر معرفہ ہو تو نواں سوال.
*9--- معرفہ کی سات قسمیں ہیں یہ کونسی قسم ہے..?*
اسم پر ہونے والا دسواں سوال.
*10--- مذکر ہے یا مؤنث ہے*
اگر مؤنث ہو تو گیارہواں سوال.
*11--- مؤنث کی چار علامتیں ہیں اس میں کونسی علامت ہے?*
اسم پر ہونے والا بارہواں سوال.
*12--- واحد ہے, تثنیہ ہے یا جمع ہے ?*
اگر جمع ہو تو تیرہواں سوال.
*13--- جمع کی کونسی قسم ہے, جمع سالم یا جمع مکسر..?*
اگر جمع مکسر ہو تو چودہواں سوال.
*14--- جمع قلت ہے یا جمع کثرت..?*
اگر جمع قلت ہو تو پندرہواں سوال.
*15--- جمع قلت کے چار یا چھ اوزان میں سے کونسا وزن ہے..?*
اسم معرب پر ہونے والا سولہواں سوال.
*16--- اسم متمکن کی وجوہ اعراب کے اعتبار سے سولہ اقسام میں سے کونسی قسم ہے...?*
اسم پر ہونے والا سترہواں سوال.
*17--- عامل ہے یا معمول..?*
اگر عامل ہو تو اٹھارہواں سوال.
*18--- اسماء عاملہ کی نو اقسام میں سے کونسی قسم ہے..?*
اسماء عاملہ کی نو اقسام درج ذیل ہیں:
*1-- اسم فاعل*
*2-- اسم مفعول*
*3-- اسم تفضیل*
*4-- صفت مشبہ*
*5-- اسماء افعال*
*6-- اسماء کنایات*
*7-- اسماء شرط*
*8-- مصدر*
*9-- مضاف*
🌹 *حل شدہ اجراء*
والغلبة في مخالطة الجامدات بإخراج الماء عن رقته وسيلانه .
*الغلبة*
= لفظ موضوع +
= مفرد +
= اسم (علامت; الف لام اور تاء تانیث)
= معرب (اسم ترکیب میں واقع ہے)
= معرفہ ( قسم : معرف باللام)
= مؤنث ( علامت: تاء تانیث)
= واحد +
= مفرد منصرف صحیح +
= معمول .
= اعراب بالحرکت ہے اور تینوں حالتوں میں لفظی ہے.
*نوٹ*
*مذکورہ بالا عبارت میں فقط اسماء کا اجراء حل کر کے چیک کروائیں.*
👆👆👆
*تنبیہ*
اسم کے اجراء میں جتنی بھی اصطلاحات یا اقسام کا اس سبق میں ذکر ہوا انکو نحو کی کسی کتاب سے یاد کر لیں.
#حكايات_أزهرية
{ نعم الدين ليس بالمظهر بل بالجوهر }
كان الأستاذ الإمام محمد عبده جالسا في الجامع الأزهر الشريف فساله أحد الناس سؤالا فأحاب بقوله : "الله اعلم"
فرد السائل : علي راسك عمامة وتقول: "الله اعلم".
فقال له الإمام: هذه العمامة ووضعها علي راس السائل .
وقال له اجب إذا ؟!!
------
لا تنسونا من صالح دعائكم
#الشيخ_أحمد_ربيع_الأزهري
{ نعم الدين ليس بالمظهر بل بالجوهر }
كان الأستاذ الإمام محمد عبده جالسا في الجامع الأزهر الشريف فساله أحد الناس سؤالا فأحاب بقوله : "الله اعلم"
فرد السائل : علي راسك عمامة وتقول: "الله اعلم".
فقال له الإمام: هذه العمامة ووضعها علي راس السائل .
وقال له اجب إذا ؟!!
------
لا تنسونا من صالح دعائكم
#الشيخ_أحمد_ربيع_الأزهري
دروس اليوم
اتصل بي. Call me
ارسل لي Send me
ساعدني Help me
راقبني. Watch me
علمني. Teach me
اتبعني. Follow me
اتركني. Leave me
اُنظُر إليَّ Look at me
اِغفِر لي. Forgive me
تكلّم معي Talk to me
اِكتب لي Write to me
اِقرأ لي Read to me
اِفتح الباب Open the door
أغلِق الباب Close
Listen to me اِسمَعني
اتصل بي. Call me
ارسل لي Send me
ساعدني Help me
راقبني. Watch me
علمني. Teach me
اتبعني. Follow me
اتركني. Leave me
اُنظُر إليَّ Look at me
اِغفِر لي. Forgive me
تكلّم معي Talk to me
اِكتب لي Write to me
اِقرأ لي Read to me
اِفتح الباب Open the door
أغلِق الباب Close
Listen to me اِسمَعني
*DAILY MORNING DHIKR*
*أَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْمِ*
➡ *1. Read Ayatul Kursi (1x)*
اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الْحَـيُّ الْقَيُّوْمُ ۚ لَا تَأْخُذُهٗ سِنَةٌ وَّلَا نَوْمٌ ۗ لَهٗ مَا فِى السَّمٰوٰتِ وَمَا فِى الْاَ رْضِ ۗ مَنْ ذَا الَّذِيْ يَشْفَعُ عِنْدَهٗۤ اِلَّا بِاِ ذْنِهٖ ۗ يَعْلَمُ مَا بَيْنَ اَيْدِيْهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ ۚ وَلَا يُحِيْطُوْنَ بِشَيْءٍ مِّنْ عِلْمِهٖۤ اِلَّا بِمَا شَآءَ ۚ وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمٰوٰتِ وَا لْاَ رْضَ ۚ وَلَا يَــئُوْدُهٗ حِفْظُهُمَا ۚ وَ هُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيْمُ
Allahu laaa ilaaha illaa huwal haiyul qai-yoom
laa taakhuzuhoo sinatunw wa laa nawm; lahoo maa fissamaawaati wa maa fil ard
man zallazee yashfa’u indahooo illaa be iznih
ya’lamu maa baina aideehim wa maa khalfahum
wa laa yuheetoona beshai ‘immin ‘ilmihee illa be maa shaaaa
wasi’a kursiyyuhus samaa waati wal arda wa la ya’ooduho hifzuhumaa
wa huwal aliyyul ‘azeem (1)
➡ *2. Read Surah Al-Ikhlas (3x)*
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ اللَّهُ الصَّمَدُ لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُن لَّهُ كُفُوًا أَحَدٌ
Qul huwal laahu ahad
Allah hus-samad
Lam yalid wa lam yoolad
Wa lam yakul-lahoo kufuwan ahad (2)
➡ *3. Read Surah Al-Falaq (3x)*
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِۙ ,مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَۙ وَمِنْ شَرِّ غَاسِقٍ اِذَا وَقَبَۙ وَمِنْ شَرِّ النَّفّٰثٰتِ فِى الْعُقَدِۙ وَمِنْ شَرِّ حَاسِدٍ اِذَا حَسَدَ
Qul a'oozu bi rabbil-falaq
Min sharri maa khalaq
Wa min sharri ghaasiqin izaa waqab
Wa min sharrin-naffaa-taati fil 'uqad
Wa min sharri haasidin izaa hasad (3)
➡ *4. Read Surah An-Naas (3x)*
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ مَلِكِ النَّاسِ إِلَهِ النَّاسِ مِن شَرِّ الْوَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ الَّذِي يُوَسْوِسُ فِي صُدُورِ النَّاسِ مِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ
Qul a'oozu birabbin naas
Malikin naas
Ilaahin naas
Min sharril waswaasil khannaas
Allazee yuwaswisu fee sudoorin naas
Minal jinnati wannaas (4)
➡ *5. Read this ➷ (1x)* :
أَصْبَحْنَا وَأَصْبَحَ الْمُلْكُ لِلَّهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، لاَ إِلَـهَ إِلاَّ اللهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيْكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرُ. رَبِّ أَسْأَلُكَ خَيْرَ مَا فِيْ هَذَا الْيَوْمِ وَخَيْرَ مَا بَعْدَهُ، وَأَعُوْذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا فِيْ هَذَا الْيَوْمِ وَشَرِّ مَا بَعْدَهُ، رَبِّ أَعُوْذُ بِكَ مِنَ الْكَسَلِ وَسُوْءِ الْكِبَرِ، رَبِّ أَعُوْذُ بِكَ مِنْ عَذَابٍ فِي النَّارِ وَعَذَابٍ فِي الْقَبْرِ.
*Ash-bahnaa wa ash-bahal mulku lillah walhamdulillah, laa ilaha illallah wahdahu laa syarika lah, lahul mulku walahul hamdu wa huwa ‘ala kulli syai-in qodir. Robbi as-aluka khoiro maa fii hadzal yaum wa khoiro maa ba’dahu, wa a’udzu bika min syarri maa fii hadzal yaum wa syarri maa ba’dahu. Robbi a’udzu bika minal kasali wa su-il kibar. Robbi a’udzu bika min ‘adzabin fin naari wa ‘adzabin fil qobri.* (5)
➡ *6. Read this ➷ (1x)* :
اَللَّهُمَّ بِكَ أَصْبَحْنَا، وَبِكَ أَمْسَيْنَا، وَبِكَ نَحْيَا، وَبِكَ نَمُوْتُ وَإِلَيْكَ النُّشُوْرُ
*Allahumma bika ash-bahnaa wa bika amsaynaa wa bika nahyaa wa bika namuutu wa ilaikan nusyuur. [6]
➡ *7. Read Sayyidul Istighfar (1x)*
اَللَّهُمَّ أَنْتَ رَبِّيْ لاَ إِلَـهَ إِلاَّ أَنْتَ، خَلَقْتَنِيْ وَأَنَا عَبْدُكَ، وَأَنَا عَلَى عَهْدِكَ وَوَعْدِكَ مَا اسْتَطَعْتُ، أَعُوْذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا صَنَعْتُ، أَبُوْءُ لَكَ بِنِعْمَتِكَ عَلَيَّ، وَأَبُوْءُ بِذَنْبِيْ فَاغْفِرْ لِيْ فَإِنَّهُ لاَ يَغْفِرُ الذُّنُوْبَ إِلاَّ أَنْتَ
*Allahumma anta robbii laa ilaha illa anta, kholaqtanii wa anaa ‘abduka wa anaa ‘ala ‘ahdika wa wa’dika mas-tatho’tu. A’udzu bika min syarri maa shona’tu. Abu-u laka bi ni’matika ‘alayya wa abu-u bi dzambii. Fagh-firlii fainnahu laa yagh-firudz dzunuuba illa anta.* [7]
➡ *8. Read this ➷ (3x)* :
اَللَّهُمَّ عَافِنِيْ فِيْ بَدَنِيْ، اَللَّهُمَّ عَافِنِيْ فِيْ سَمْعِيْ، اَللَّهُمَّ عَافِنِيْ فِيْ بَصَرِيْ، لاَ إِلَـهَ إِلاَّ أَنْتَ. اَللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوْذُ بِكَ مِنَ الْكُفْرِ وَالْفَقْرِ، وَأَعُوْذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، لاَ إِلَـهَ إِلاَّ أَنْتَ
*أَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْمِ*
➡ *1. Read Ayatul Kursi (1x)*
اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الْحَـيُّ الْقَيُّوْمُ ۚ لَا تَأْخُذُهٗ سِنَةٌ وَّلَا نَوْمٌ ۗ لَهٗ مَا فِى السَّمٰوٰتِ وَمَا فِى الْاَ رْضِ ۗ مَنْ ذَا الَّذِيْ يَشْفَعُ عِنْدَهٗۤ اِلَّا بِاِ ذْنِهٖ ۗ يَعْلَمُ مَا بَيْنَ اَيْدِيْهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ ۚ وَلَا يُحِيْطُوْنَ بِشَيْءٍ مِّنْ عِلْمِهٖۤ اِلَّا بِمَا شَآءَ ۚ وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمٰوٰتِ وَا لْاَ رْضَ ۚ وَلَا يَــئُوْدُهٗ حِفْظُهُمَا ۚ وَ هُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيْمُ
Allahu laaa ilaaha illaa huwal haiyul qai-yoom
laa taakhuzuhoo sinatunw wa laa nawm; lahoo maa fissamaawaati wa maa fil ard
man zallazee yashfa’u indahooo illaa be iznih
ya’lamu maa baina aideehim wa maa khalfahum
wa laa yuheetoona beshai ‘immin ‘ilmihee illa be maa shaaaa
wasi’a kursiyyuhus samaa waati wal arda wa la ya’ooduho hifzuhumaa
wa huwal aliyyul ‘azeem (1)
➡ *2. Read Surah Al-Ikhlas (3x)*
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ اللَّهُ الصَّمَدُ لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُن لَّهُ كُفُوًا أَحَدٌ
Qul huwal laahu ahad
Allah hus-samad
Lam yalid wa lam yoolad
Wa lam yakul-lahoo kufuwan ahad (2)
➡ *3. Read Surah Al-Falaq (3x)*
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِۙ ,مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَۙ وَمِنْ شَرِّ غَاسِقٍ اِذَا وَقَبَۙ وَمِنْ شَرِّ النَّفّٰثٰتِ فِى الْعُقَدِۙ وَمِنْ شَرِّ حَاسِدٍ اِذَا حَسَدَ
Qul a'oozu bi rabbil-falaq
Min sharri maa khalaq
Wa min sharri ghaasiqin izaa waqab
Wa min sharrin-naffaa-taati fil 'uqad
Wa min sharri haasidin izaa hasad (3)
➡ *4. Read Surah An-Naas (3x)*
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ مَلِكِ النَّاسِ إِلَهِ النَّاسِ مِن شَرِّ الْوَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ الَّذِي يُوَسْوِسُ فِي صُدُورِ النَّاسِ مِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ
Qul a'oozu birabbin naas
Malikin naas
Ilaahin naas
Min sharril waswaasil khannaas
Allazee yuwaswisu fee sudoorin naas
Minal jinnati wannaas (4)
➡ *5. Read this ➷ (1x)* :
أَصْبَحْنَا وَأَصْبَحَ الْمُلْكُ لِلَّهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، لاَ إِلَـهَ إِلاَّ اللهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيْكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرُ. رَبِّ أَسْأَلُكَ خَيْرَ مَا فِيْ هَذَا الْيَوْمِ وَخَيْرَ مَا بَعْدَهُ، وَأَعُوْذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا فِيْ هَذَا الْيَوْمِ وَشَرِّ مَا بَعْدَهُ، رَبِّ أَعُوْذُ بِكَ مِنَ الْكَسَلِ وَسُوْءِ الْكِبَرِ، رَبِّ أَعُوْذُ بِكَ مِنْ عَذَابٍ فِي النَّارِ وَعَذَابٍ فِي الْقَبْرِ.
*Ash-bahnaa wa ash-bahal mulku lillah walhamdulillah, laa ilaha illallah wahdahu laa syarika lah, lahul mulku walahul hamdu wa huwa ‘ala kulli syai-in qodir. Robbi as-aluka khoiro maa fii hadzal yaum wa khoiro maa ba’dahu, wa a’udzu bika min syarri maa fii hadzal yaum wa syarri maa ba’dahu. Robbi a’udzu bika minal kasali wa su-il kibar. Robbi a’udzu bika min ‘adzabin fin naari wa ‘adzabin fil qobri.* (5)
➡ *6. Read this ➷ (1x)* :
اَللَّهُمَّ بِكَ أَصْبَحْنَا، وَبِكَ أَمْسَيْنَا، وَبِكَ نَحْيَا، وَبِكَ نَمُوْتُ وَإِلَيْكَ النُّشُوْرُ
*Allahumma bika ash-bahnaa wa bika amsaynaa wa bika nahyaa wa bika namuutu wa ilaikan nusyuur. [6]
➡ *7. Read Sayyidul Istighfar (1x)*
اَللَّهُمَّ أَنْتَ رَبِّيْ لاَ إِلَـهَ إِلاَّ أَنْتَ، خَلَقْتَنِيْ وَأَنَا عَبْدُكَ، وَأَنَا عَلَى عَهْدِكَ وَوَعْدِكَ مَا اسْتَطَعْتُ، أَعُوْذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا صَنَعْتُ، أَبُوْءُ لَكَ بِنِعْمَتِكَ عَلَيَّ، وَأَبُوْءُ بِذَنْبِيْ فَاغْفِرْ لِيْ فَإِنَّهُ لاَ يَغْفِرُ الذُّنُوْبَ إِلاَّ أَنْتَ
*Allahumma anta robbii laa ilaha illa anta, kholaqtanii wa anaa ‘abduka wa anaa ‘ala ‘ahdika wa wa’dika mas-tatho’tu. A’udzu bika min syarri maa shona’tu. Abu-u laka bi ni’matika ‘alayya wa abu-u bi dzambii. Fagh-firlii fainnahu laa yagh-firudz dzunuuba illa anta.* [7]
➡ *8. Read this ➷ (3x)* :
اَللَّهُمَّ عَافِنِيْ فِيْ بَدَنِيْ، اَللَّهُمَّ عَافِنِيْ فِيْ سَمْعِيْ، اَللَّهُمَّ عَافِنِيْ فِيْ بَصَرِيْ، لاَ إِلَـهَ إِلاَّ أَنْتَ. اَللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوْذُ بِكَ مِنَ الْكُفْرِ وَالْفَقْرِ، وَأَعُوْذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، لاَ إِلَـهَ إِلاَّ أَنْتَ
*Allaahumma 'aafinii fii badanii, allaahumma 'aafinii fii sam'ii, allaahumma 'aafinii fii bashorii, laa ilaaha illaa anta. Allaahumma innii a'uudzu bika minal kufri wal faqr, allaahumma innii a'uudzu bika min 'adzaabil qobr, laa ilaaha illaa anta.* [8]
➡ *9. Read this ➷ (1x)* :
اَللَّهُمَّ إِنِّيْ أَسْأَلُكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَاْلآخِرَةِ، اَللَّهُمَّ إِنِّيْ أَسْأَلُكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي دِيْنِيْ وَدُنْيَايَ وَأَهْلِيْ وَمَالِيْ اللَّهُمَّ اسْتُرْ عَوْرَاتِى وَآمِنْ رَوْعَاتِى. اَللَّهُمَّ احْفَظْنِيْ مِنْ بَيْنِ يَدَيَّ، وَمِنْ خَلْفِيْ، وَعَنْ يَمِيْنِيْ وَعَنْ شِمَالِيْ، وَمِنْ فَوْقِيْ، وَأَعُوْذُ بِعَظَمَتِكَ أَنْ أُغْتَالَ مِنْ تَحْتِيْ
*Allahumma innii as-alukal ‘afwa wal ‘aafiyah fid dunyaa wal aakhiroh. Allahumma innii as-alukal ‘afwa wal ‘aafiyah fii diinii wa dun-yaya wa ahlii wa maalii. Allahumas-tur ‘awrootii wa aamin row’aatii. Allahumah fadni min bayni yadayya wa min kholfii wa ‘an yamiinii wa ‘an syimaalii wa min fawqii wa a’udzu bi ‘azhomatik an ughtala min tahtii.* [9]
➡ *10. Read this ➷ (1x)* :
اَللَّهُمَّ عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ فَاطِرَ السَّمَاوَاتِ وَاْلأَرْضِ، رَبَّ كُلِّ شَيْءٍ وَمَلِيْكَهُ، أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَـهَ إِلاَّ أَنْتَ، أَعُوْذُ بِكَ مِنْ شَرِّ نَفْسِيْ، وَمِنْ شَرِّ الشَّيْطَانِ وَشِرْكِهِ، وَأَنْ أَقْتَرِفَ عَلَى نَفْسِيْ سُوْءًا أَوْ أَجُرُّهُ إِلَى مُسْلِمٍ
*Allahumma ‘aalimal ghoybi wasy syahaadah faathiros samaawaati wal ardh. Robba kulli syai-in wa maliikah. Asyhadu alla ilaha illa anta. A’udzu bika min syarri nafsii wa min syarrisy syaythooni wa syirkihi, wa an aqtarifa ‘alaa nafsii suu-an aw ajurruhu ilaa muslim.* [10]
➡ *11. Read this ➷ (3x)* :
بِسْمِ اللهِ الَّذِي لاَ يَضُرُّ مَعَ اسْمِهِ شَيْءٌ فِي اْلأَرْضِ وَلاَ فِي السَّمَاءِ وَهُوَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ
*Bismillahilladzi laa yadhurru ma’asmihi syai-un fil ardhi wa laa fis samaa’ wa huwas samii’ul ‘aliim.* [11]
➡ *12. Read this ➷ (3x)* :
رَضِيْتُ بِاللهِ رَبًّا، وَبِاْلإِسْلاَمِ دِيْنًا، وَبِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَبِيًّا
*Rodhiitu billaahi robbaa wa bil-islaami diinaa, wa bi-muhammadin shallallaahu ‘alaihi wa sallama nabiyya.* [12]
➡ *13. Read this ➷ (1x)* :
يَا حَيُّ يَا قَيُّوْمُ بِرَحْمَتِكَ أَسْتَغِيْثُ، وَأَصْلِحْ لِيْ شَأْنِيْ كُلَّهُ وَلاَ تَكِلْنِيْ إِلَى نَفْسِيْ طَرْفَةَ عَيْنٍ
*Yaa Hayyu Yaa Qoyyum, bi-rohmatika as-taghiits, wa ash-lih lii sya’nii kullahu wa laa takilnii ilaa nafsii thorfata ‘ainin* [13]
➡ *14. Read this ➷ (1x)* :
أَصْبَحْنَا عَلَى فِطْرَةِ اْلإِسْلاَمِ وَعَلَى كَلِمَةِ اْلإِخْلاَصِ، وَعَلَى دِيْنِ نَبِيِّنَا مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَعَلَى مِلَّةِ أَبِيْنَا إِبْرَاهِيْمَ، حَنِيْفًا مُسْلِمًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ
*Ash-bahnaa ‘ala fithrotil islaam wa ‘alaa kalimatil ikhlaash, wa ‘alaa diini nabiyyinaa Muhammadin shallallahu ‘alaihi wa sallam, wa ‘alaa millati abiina Ibraahiima haniifam muslimaaw wa maa kaana minal musyrikin* [14]
➡ *15. Read this ➷ (1x or 10x or 100x)* :
لاَ إِلَـهَ إِلاَّ اللهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيْكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرُ.
*Laa ilaha illallah wahdahu laa syarika lah, lahul mulku walahul hamdu wa huwa ‘ala kulli syai-in qodiir.*
[15],[16],[17]
➡ *16. Read this ➷ (3x)* :
سُبْحَانَ اللهِ وَبِحَمْدِهِ: عَدَدَ خَلْقِهِ، وَرِضَا نَفْسِهِ، وَزِنَةَ عَرْشِهِ وَمِدَادَ كَلِمَاتِهِ
*Subhanallah wa bi-hamdih, ‘adada kholqih wa ridhoo nafsih. wa zinata ‘arsyih, wa midaada kalimaatih.* [18]
➡ *17. Read this ➷ (1x)* :
اَللَّهُمَّ إِنِّيْ أَسْأَلُكَ عِلْمًا نَافِعًا، وَرِزْقًا طَيِّبًا، وَعَمَلاً مُتَقَبَّلاً
*Allahumma innii as-aluka ‘ilman naafi’a, wa rizqon thoyyibaa, wa ‘amalan mutaqobbalaa.* [19]
➡ *18. Read this ➷ (100x)* :
سُبْحَانَ اللهِ وَبِحَمْدِهِ
*Subhanallah wa bi-hamdih.* [20]
➡ *19. Read this ➷ (100x morning and evening)* :
أَسْتَغْفِرُ اللهَ وَأَتُوْبُ إِلَيْهِ
*Astagh-firullah wa atuubu ilaih.* [21]
ᨏᨐᨓ ♥︎⃟✿ ᨓᨐᨏ
📝 Fote Note :
➡ *9. Read this ➷ (1x)* :
اَللَّهُمَّ إِنِّيْ أَسْأَلُكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَاْلآخِرَةِ، اَللَّهُمَّ إِنِّيْ أَسْأَلُكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي دِيْنِيْ وَدُنْيَايَ وَأَهْلِيْ وَمَالِيْ اللَّهُمَّ اسْتُرْ عَوْرَاتِى وَآمِنْ رَوْعَاتِى. اَللَّهُمَّ احْفَظْنِيْ مِنْ بَيْنِ يَدَيَّ، وَمِنْ خَلْفِيْ، وَعَنْ يَمِيْنِيْ وَعَنْ شِمَالِيْ، وَمِنْ فَوْقِيْ، وَأَعُوْذُ بِعَظَمَتِكَ أَنْ أُغْتَالَ مِنْ تَحْتِيْ
*Allahumma innii as-alukal ‘afwa wal ‘aafiyah fid dunyaa wal aakhiroh. Allahumma innii as-alukal ‘afwa wal ‘aafiyah fii diinii wa dun-yaya wa ahlii wa maalii. Allahumas-tur ‘awrootii wa aamin row’aatii. Allahumah fadni min bayni yadayya wa min kholfii wa ‘an yamiinii wa ‘an syimaalii wa min fawqii wa a’udzu bi ‘azhomatik an ughtala min tahtii.* [9]
➡ *10. Read this ➷ (1x)* :
اَللَّهُمَّ عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ فَاطِرَ السَّمَاوَاتِ وَاْلأَرْضِ، رَبَّ كُلِّ شَيْءٍ وَمَلِيْكَهُ، أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَـهَ إِلاَّ أَنْتَ، أَعُوْذُ بِكَ مِنْ شَرِّ نَفْسِيْ، وَمِنْ شَرِّ الشَّيْطَانِ وَشِرْكِهِ، وَأَنْ أَقْتَرِفَ عَلَى نَفْسِيْ سُوْءًا أَوْ أَجُرُّهُ إِلَى مُسْلِمٍ
*Allahumma ‘aalimal ghoybi wasy syahaadah faathiros samaawaati wal ardh. Robba kulli syai-in wa maliikah. Asyhadu alla ilaha illa anta. A’udzu bika min syarri nafsii wa min syarrisy syaythooni wa syirkihi, wa an aqtarifa ‘alaa nafsii suu-an aw ajurruhu ilaa muslim.* [10]
➡ *11. Read this ➷ (3x)* :
بِسْمِ اللهِ الَّذِي لاَ يَضُرُّ مَعَ اسْمِهِ شَيْءٌ فِي اْلأَرْضِ وَلاَ فِي السَّمَاءِ وَهُوَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ
*Bismillahilladzi laa yadhurru ma’asmihi syai-un fil ardhi wa laa fis samaa’ wa huwas samii’ul ‘aliim.* [11]
➡ *12. Read this ➷ (3x)* :
رَضِيْتُ بِاللهِ رَبًّا، وَبِاْلإِسْلاَمِ دِيْنًا، وَبِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَبِيًّا
*Rodhiitu billaahi robbaa wa bil-islaami diinaa, wa bi-muhammadin shallallaahu ‘alaihi wa sallama nabiyya.* [12]
➡ *13. Read this ➷ (1x)* :
يَا حَيُّ يَا قَيُّوْمُ بِرَحْمَتِكَ أَسْتَغِيْثُ، وَأَصْلِحْ لِيْ شَأْنِيْ كُلَّهُ وَلاَ تَكِلْنِيْ إِلَى نَفْسِيْ طَرْفَةَ عَيْنٍ
*Yaa Hayyu Yaa Qoyyum, bi-rohmatika as-taghiits, wa ash-lih lii sya’nii kullahu wa laa takilnii ilaa nafsii thorfata ‘ainin* [13]
➡ *14. Read this ➷ (1x)* :
أَصْبَحْنَا عَلَى فِطْرَةِ اْلإِسْلاَمِ وَعَلَى كَلِمَةِ اْلإِخْلاَصِ، وَعَلَى دِيْنِ نَبِيِّنَا مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَعَلَى مِلَّةِ أَبِيْنَا إِبْرَاهِيْمَ، حَنِيْفًا مُسْلِمًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ
*Ash-bahnaa ‘ala fithrotil islaam wa ‘alaa kalimatil ikhlaash, wa ‘alaa diini nabiyyinaa Muhammadin shallallahu ‘alaihi wa sallam, wa ‘alaa millati abiina Ibraahiima haniifam muslimaaw wa maa kaana minal musyrikin* [14]
➡ *15. Read this ➷ (1x or 10x or 100x)* :
لاَ إِلَـهَ إِلاَّ اللهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيْكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرُ.
*Laa ilaha illallah wahdahu laa syarika lah, lahul mulku walahul hamdu wa huwa ‘ala kulli syai-in qodiir.*
[15],[16],[17]
➡ *16. Read this ➷ (3x)* :
سُبْحَانَ اللهِ وَبِحَمْدِهِ: عَدَدَ خَلْقِهِ، وَرِضَا نَفْسِهِ، وَزِنَةَ عَرْشِهِ وَمِدَادَ كَلِمَاتِهِ
*Subhanallah wa bi-hamdih, ‘adada kholqih wa ridhoo nafsih. wa zinata ‘arsyih, wa midaada kalimaatih.* [18]
➡ *17. Read this ➷ (1x)* :
اَللَّهُمَّ إِنِّيْ أَسْأَلُكَ عِلْمًا نَافِعًا، وَرِزْقًا طَيِّبًا، وَعَمَلاً مُتَقَبَّلاً
*Allahumma innii as-aluka ‘ilman naafi’a, wa rizqon thoyyibaa, wa ‘amalan mutaqobbalaa.* [19]
➡ *18. Read this ➷ (100x)* :
سُبْحَانَ اللهِ وَبِحَمْدِهِ
*Subhanallah wa bi-hamdih.* [20]
➡ *19. Read this ➷ (100x morning and evening)* :
أَسْتَغْفِرُ اللهَ وَأَتُوْبُ إِلَيْهِ
*Astagh-firullah wa atuubu ilaih.* [21]
ᨏᨐᨓ ♥︎⃟✿ ᨓᨐᨏ
📝 Fote Note :
[1] The Prophet Sallallahu Alaihi Wasallam said: "Whoever reads this verse in the morning, he will be protected from (disturbing) jinn until the evening. And whoever says it in the evening, then he is protected from (disturbing) jinn until the morning." (HR. Al-Hakim (1/562), Sahih at-Targhiib wat Tarhiib (1/418, no. 662), Sahih).
[2] HR. Abu Dawud (no. 5082), an-Nasa-i (VIII/250) and at-Tirmidhi (no. 3575), Ahmad (V/312), Shahiih at-Tirmidhi (no. 2829), Tuhfatul Ahwadzi (no. 3646), Shahiih at-Targhiib wat Tarhiib (1/411, no. 649), hasan sahih.
[3] Ibid.
[4] "Whoever reads these three surahs every morning and evening, then (these three surahs) are sufficient for him for everything." Namely preventing him from various crimes. HR. Abu Dawud (no. 5082), Sahih Abu Dawud (no. 4241), Annasa-i (VIII 250) and At-Tirmizi (no. 3575), At-Tarmizi said "This hadith is authentic." Ahmad (V/312), from Abdullah bin Khubaib radhiyallahu 'anhu. Shahiih at-Tirmidhi (no. 2829), Tuhfatul Ahwadzi (no. 3646), Shahiih at-Targhiib wat Tarhiib (1/411 no. 649), hasan shahih.
[5] HR. Muslim (no. 2723), Abu Dawud (no. 5071), and at-Tirmidhi (3390), authentic from Abdullah Ibn Mas'ud.
[6] HR. Al-Bukhari in al-Adabul Mufrad no. 1199, this lafazh is al-Bukhari's lafazh, at-Tirmidhi no. 3391, Abu Dawud no. 5068, Ahmad 11/354, Ibn Majah no. 3868, From Abu Hurairah Radhiyallahu 'anhu. Sahih al-Adabil Mufrad no. 911, authentic. See also Silsilah al-Ahaadiits ash-Shahiihah no. 262.
[7] "Whoever reads it with confidence in the morning and then dies before it reaches the evening, then he is among the experts in Heaven. And whoever reads it with confidence in the evening and then dies before morning, then he is one of the experts in Heaven." (HR. Al-Bukhari no. 6306, 6323, Ahmad IV/122-125, an-Nasa-i VIII/279-280) from Syaddad bin Aus Radhiyallahu 'anhu.
[8] HR. Al-Bukhari in Shahiib al-Adabil Mufrad no. 701, Abu Dawud no. 5090, Ahmad V/42, hasan. See Shahiih Al-Adabil Mufrad no.539
[9] HR. Al-Bukhari in al-Adabul Mufrad no. 1200, Abu Dawud no. 5074, An-Nasa-i VIII / 282, Ibnu Majah no. 3871, al-Hakim 1/517-518, and others from Ibnu Umar radhiyallahu ‘anhumaa. See Shahiih al-Adabul Mufrad no. 912, shahih
[10] The Prophet صلي الله عليه وسلم said to Abu Bakr ash-Siddiq رضي الله عنه "Say morning and evening and when you want to sleep." HR. Al-Bukhari in Al-Adabul Mufrad 1202, at-Tirmidhi no.3392 and Abu Daud no. 5067, See Sahih At-Tirmidhi no. 2798, Sahih al-Adabil Mufrad no. 914, authentic. See Silsilah al-Ahaadiits ash-Shahiihah no. 2753
[11] "Whoever reads it three times in the morning and evening, nothing will harm him." HR. At-Tirmidhi no. 3388, Abu Dawud no. 5088, Ibn Majah no. 3869, al-Hakim 1/514, Dan Ahmad no. 446 and 474, Tahqiq Ahmad Syakir. From 'Uthman bin 'Affan radhiyallahu 'anhu, see Shahiih Ibni Majah no. 3120, al-Hakim 1/513, Shahiih al-Adabil Mufrad no. 513, Shahiih at-Targhiib wat Tarhiib 1/413 no. 655, the sanad is authentic.
[12] "Whoever reads it three times in the morning and evening, Allah will grant His pleasure to him on the Day of Resurrection." HR. Ahmad IV/337, Abu Dawud no. 5072, at-Tirmidhi no. 3389, Ibn Majah no. 3870, an-Nasa-i in 'Amalul Yaum wal Lailah no. 4 and Ibnus Sunni no. 68, validated by Imam al-Hakim in al-Mustadrak 1/518 and approved by Imam adz-Dzahabi, Hasan. See Shahiih At Targhiib wat Tarhiib I/415 no. 657, Sahih At Targhiib wat Tarhiib al-Waabilish Shayyib p. 170, Zaadul Ma'aad II/372, Silsilah al-Ahaadiits ash-Shahiihah no. 2686.
[13] HR. Ibn As Sunni in 'Amalul Yaum wal Lailah no. 46, An Nasai in Al Kubro 381: 570, Al Bazzar in his musnad 4/ 25/ 3107, Al Hakim 1: 545. This hadith hasan as stated by Shaykh Al Albani in As Silsilah Ash Sahihah no. 227
[14] HR. Ahmad III/406, 407, ad-Darimi II/292 and Ibnus Sunni in Amalul Yaum Wol Lailah no. 34, Misykaatul Mashaabiih no. 2415, Shahiihal-Jaami'ish Shaghiir no. 4674, authentic
[2] HR. Abu Dawud (no. 5082), an-Nasa-i (VIII/250) and at-Tirmidhi (no. 3575), Ahmad (V/312), Shahiih at-Tirmidhi (no. 2829), Tuhfatul Ahwadzi (no. 3646), Shahiih at-Targhiib wat Tarhiib (1/411, no. 649), hasan sahih.
[3] Ibid.
[4] "Whoever reads these three surahs every morning and evening, then (these three surahs) are sufficient for him for everything." Namely preventing him from various crimes. HR. Abu Dawud (no. 5082), Sahih Abu Dawud (no. 4241), Annasa-i (VIII 250) and At-Tirmizi (no. 3575), At-Tarmizi said "This hadith is authentic." Ahmad (V/312), from Abdullah bin Khubaib radhiyallahu 'anhu. Shahiih at-Tirmidhi (no. 2829), Tuhfatul Ahwadzi (no. 3646), Shahiih at-Targhiib wat Tarhiib (1/411 no. 649), hasan shahih.
[5] HR. Muslim (no. 2723), Abu Dawud (no. 5071), and at-Tirmidhi (3390), authentic from Abdullah Ibn Mas'ud.
[6] HR. Al-Bukhari in al-Adabul Mufrad no. 1199, this lafazh is al-Bukhari's lafazh, at-Tirmidhi no. 3391, Abu Dawud no. 5068, Ahmad 11/354, Ibn Majah no. 3868, From Abu Hurairah Radhiyallahu 'anhu. Sahih al-Adabil Mufrad no. 911, authentic. See also Silsilah al-Ahaadiits ash-Shahiihah no. 262.
[7] "Whoever reads it with confidence in the morning and then dies before it reaches the evening, then he is among the experts in Heaven. And whoever reads it with confidence in the evening and then dies before morning, then he is one of the experts in Heaven." (HR. Al-Bukhari no. 6306, 6323, Ahmad IV/122-125, an-Nasa-i VIII/279-280) from Syaddad bin Aus Radhiyallahu 'anhu.
[8] HR. Al-Bukhari in Shahiib al-Adabil Mufrad no. 701, Abu Dawud no. 5090, Ahmad V/42, hasan. See Shahiih Al-Adabil Mufrad no.539
[9] HR. Al-Bukhari in al-Adabul Mufrad no. 1200, Abu Dawud no. 5074, An-Nasa-i VIII / 282, Ibnu Majah no. 3871, al-Hakim 1/517-518, and others from Ibnu Umar radhiyallahu ‘anhumaa. See Shahiih al-Adabul Mufrad no. 912, shahih
[10] The Prophet صلي الله عليه وسلم said to Abu Bakr ash-Siddiq رضي الله عنه "Say morning and evening and when you want to sleep." HR. Al-Bukhari in Al-Adabul Mufrad 1202, at-Tirmidhi no.3392 and Abu Daud no. 5067, See Sahih At-Tirmidhi no. 2798, Sahih al-Adabil Mufrad no. 914, authentic. See Silsilah al-Ahaadiits ash-Shahiihah no. 2753
[11] "Whoever reads it three times in the morning and evening, nothing will harm him." HR. At-Tirmidhi no. 3388, Abu Dawud no. 5088, Ibn Majah no. 3869, al-Hakim 1/514, Dan Ahmad no. 446 and 474, Tahqiq Ahmad Syakir. From 'Uthman bin 'Affan radhiyallahu 'anhu, see Shahiih Ibni Majah no. 3120, al-Hakim 1/513, Shahiih al-Adabil Mufrad no. 513, Shahiih at-Targhiib wat Tarhiib 1/413 no. 655, the sanad is authentic.
[12] "Whoever reads it three times in the morning and evening, Allah will grant His pleasure to him on the Day of Resurrection." HR. Ahmad IV/337, Abu Dawud no. 5072, at-Tirmidhi no. 3389, Ibn Majah no. 3870, an-Nasa-i in 'Amalul Yaum wal Lailah no. 4 and Ibnus Sunni no. 68, validated by Imam al-Hakim in al-Mustadrak 1/518 and approved by Imam adz-Dzahabi, Hasan. See Shahiih At Targhiib wat Tarhiib I/415 no. 657, Sahih At Targhiib wat Tarhiib al-Waabilish Shayyib p. 170, Zaadul Ma'aad II/372, Silsilah al-Ahaadiits ash-Shahiihah no. 2686.
[13] HR. Ibn As Sunni in 'Amalul Yaum wal Lailah no. 46, An Nasai in Al Kubro 381: 570, Al Bazzar in his musnad 4/ 25/ 3107, Al Hakim 1: 545. This hadith hasan as stated by Shaykh Al Albani in As Silsilah Ash Sahihah no. 227
[14] HR. Ahmad III/406, 407, ad-Darimi II/292 and Ibnus Sunni in Amalul Yaum Wol Lailah no. 34, Misykaatul Mashaabiih no. 2415, Shahiihal-Jaami'ish Shaghiir no. 4674, authentic
[15] HR. Abu Dawud no. 5077, Ibnu Majah no. 3867, dari Ab ‘Ayyasy Azzurraqy radhiyallahu ‘anhu, Shahiih Jaami’ish Shaghiir no. 6418, Misykaatul Mashaabiih no. 2395, Shahiih at-Targhiib 1/414 no. 656, shahih.
[16] HR. An-Nasa-i dalam 'Amalul wal Lailah (no. 24), Ahmad (V/420), dari Abu Ayyun al-Anshari. Lihat Silsilah al-Ahaadits ash-Shahiihah (no. 113 dan 114) dan Shahiih at-Targhiib wat Tarhiib (I/416, no. 660), shahih.
[17] "Whoever reads it 100 times a day, then for him (the reward) is like freeing ten slaves, writing a hundred good deeds, erasing from them a hundred bad deeds, getting protection from the devil on that day until the evening. No one can bring anything better than what he brings unless he does more than that.” HR. Al-Bukhari no. 3293 and 6403, Muslim IV/2071 no. 2691 (28), at-Tirmidhi no. 3468, Ibn Majah no. 3798, from the Companion of Abu Hurairah رضي الله عنه. Explanation: In the history of an-Nasa-i ('Amalul Yaum wal Lailah no. 580) and Ibnus Sunni no. 75 from 'Amr bin Syu'aib from his father from his grandfather with the lafadz: "Whoever recites 100x in the morning and 100x in the afternoon."... So, this dhikr is read 100x in the morning and 100x in the afternoon. See Silsilah al-Ahaadiits ash-Shahiihah no. 2762
[18] HR. Muslim no. 2726. Syarah Muslim XVII/44. From Juwairiyah binti al- Harits radhiyallahu ‘anhuma
[19] HR. Ibnu Majah no. 925, Shahiih Ibni Majah 1/152 no. 753 Ibnus Sunni in ‘Amalul Yaum wal Lailah no. 54,110, dan Ahmad VI / 294, 305, 318, 322. From Ummu Salamah, shahih.
[20] HR. Muslim no. 2691 and no. 2692, from Abu Hurairah radhiyallahu 'anhu Syarah Muslim XVII / 17-18, Shahiih at-Targhiib wat Tarhiib 1/413 no. 653. The greatest number of dhikrs of the Prophet is one hundred in the morning and one hundred in the evening. There is a history that says up to a thousand is evil, because the hadith is dha'if. (Silsilah al-Ahaadiits adh-Dha-'iifah no. 5296).
[21] HR. Al-Bukhari/ Fat-hul Baari XI/101 and Muslim no.2702
عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ:قَالَ رَسُو لُ اللهِ صلي الله عليه وسلم : يَااَيُّهَا النَّسُ، تُوبُواإِلَيْ اللهِ. فَإِنِّيْ اَتُوبُ فِيْ الْيَومِ إِلَيْهِ مِانَةً مَرَّةٍ
From Ibn 'Umar he said: "The Messenger of Allah صلي الله عليه وسلم said: 'O people, repent to Allah, indeed I repent to Him a hundred times a day.'" HR. Muslim no. 2702 (42).
In another history from Agharr al-Muzani, Rasulullah صلي الله عليه وسلم said:
[إِنَّهُ لَيُغَانُ عَلَى قَلْبِيْ وَإِنِّيْ لأَسْتَغْفِرُ اللهَ فِي الْيَوْمِ مِائَةَ مَرَّةٍ]
"Indeed, my heart sometimes forgets, and indeed I apologize (ask forgiveness) to Allah a hundred times a day." (HR. Muslim no. 2702 (41)
The Prophet صلي الله عليه وسلم said: "Whoever says:
أَسْتَغْفِرُ اللهَ الْعَظِيْمَ الَّذِيْ لاَ إِلَـهَ إِلاَّ هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّوْمُ وَأَتُوْبُ إِلَيْهِ
'I ask forgiveness from Allah, the Most Great, There is no god worthy of worship except Him, the Almighty, Almighty and Almighty, and I repent to Him.'
Then Allah will forgive his sins even though he once ran away from the battlefield." HR. Abu Dawud no. 1517, at-Tirmidhi no. 3577 and al-Hakim I/511. See Sahih at-Tirmidhi III/282 no. 2381.
Verses that recommend istighfar and repentance include: (QS. Huud: 3), (QS. An-Nuur: 31), (QS. At-Tahriim: 8) and others.
[16] HR. An-Nasa-i dalam 'Amalul wal Lailah (no. 24), Ahmad (V/420), dari Abu Ayyun al-Anshari. Lihat Silsilah al-Ahaadits ash-Shahiihah (no. 113 dan 114) dan Shahiih at-Targhiib wat Tarhiib (I/416, no. 660), shahih.
[17] "Whoever reads it 100 times a day, then for him (the reward) is like freeing ten slaves, writing a hundred good deeds, erasing from them a hundred bad deeds, getting protection from the devil on that day until the evening. No one can bring anything better than what he brings unless he does more than that.” HR. Al-Bukhari no. 3293 and 6403, Muslim IV/2071 no. 2691 (28), at-Tirmidhi no. 3468, Ibn Majah no. 3798, from the Companion of Abu Hurairah رضي الله عنه. Explanation: In the history of an-Nasa-i ('Amalul Yaum wal Lailah no. 580) and Ibnus Sunni no. 75 from 'Amr bin Syu'aib from his father from his grandfather with the lafadz: "Whoever recites 100x in the morning and 100x in the afternoon."... So, this dhikr is read 100x in the morning and 100x in the afternoon. See Silsilah al-Ahaadiits ash-Shahiihah no. 2762
[18] HR. Muslim no. 2726. Syarah Muslim XVII/44. From Juwairiyah binti al- Harits radhiyallahu ‘anhuma
[19] HR. Ibnu Majah no. 925, Shahiih Ibni Majah 1/152 no. 753 Ibnus Sunni in ‘Amalul Yaum wal Lailah no. 54,110, dan Ahmad VI / 294, 305, 318, 322. From Ummu Salamah, shahih.
[20] HR. Muslim no. 2691 and no. 2692, from Abu Hurairah radhiyallahu 'anhu Syarah Muslim XVII / 17-18, Shahiih at-Targhiib wat Tarhiib 1/413 no. 653. The greatest number of dhikrs of the Prophet is one hundred in the morning and one hundred in the evening. There is a history that says up to a thousand is evil, because the hadith is dha'if. (Silsilah al-Ahaadiits adh-Dha-'iifah no. 5296).
[21] HR. Al-Bukhari/ Fat-hul Baari XI/101 and Muslim no.2702
عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ:قَالَ رَسُو لُ اللهِ صلي الله عليه وسلم : يَااَيُّهَا النَّسُ، تُوبُواإِلَيْ اللهِ. فَإِنِّيْ اَتُوبُ فِيْ الْيَومِ إِلَيْهِ مِانَةً مَرَّةٍ
From Ibn 'Umar he said: "The Messenger of Allah صلي الله عليه وسلم said: 'O people, repent to Allah, indeed I repent to Him a hundred times a day.'" HR. Muslim no. 2702 (42).
In another history from Agharr al-Muzani, Rasulullah صلي الله عليه وسلم said:
[إِنَّهُ لَيُغَانُ عَلَى قَلْبِيْ وَإِنِّيْ لأَسْتَغْفِرُ اللهَ فِي الْيَوْمِ مِائَةَ مَرَّةٍ]
"Indeed, my heart sometimes forgets, and indeed I apologize (ask forgiveness) to Allah a hundred times a day." (HR. Muslim no. 2702 (41)
The Prophet صلي الله عليه وسلم said: "Whoever says:
أَسْتَغْفِرُ اللهَ الْعَظِيْمَ الَّذِيْ لاَ إِلَـهَ إِلاَّ هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّوْمُ وَأَتُوْبُ إِلَيْهِ
'I ask forgiveness from Allah, the Most Great, There is no god worthy of worship except Him, the Almighty, Almighty and Almighty, and I repent to Him.'
Then Allah will forgive his sins even though he once ran away from the battlefield." HR. Abu Dawud no. 1517, at-Tirmidhi no. 3577 and al-Hakim I/511. See Sahih at-Tirmidhi III/282 no. 2381.
Verses that recommend istighfar and repentance include: (QS. Huud: 3), (QS. An-Nuur: 31), (QS. At-Tahriim: 8) and others.
میڈیا کی عربی میں مستعمل مشہور الفاظ
جہاد نعیم الہادی
٢١. الحُرِّيَّةُ — آزادی
٢٢. الحَظْرُ — پابندی، روک
٢٣. الإِضْرَابُ — ہڑتال
٢٤. التَّظَاهُرُ — مظاہرہ
٢٥. المُنَاقَشَةُ — بحث، گفتگو
٢٦. البَيَانُ — اعلامیہ، بیان
٢٧. الخِطَابُ — تقریر، خطاب
٢٨. المُقَابَلَةُ — انٹرویو، ملاقات
٢٩. النَّشْرُ — اشاعت، پھیلانا
٣٠. البَثُّ — نشر، براہِ راست دکھانا
جہاد نعیم الہادی
٢١. الحُرِّيَّةُ — آزادی
٢٢. الحَظْرُ — پابندی، روک
٢٣. الإِضْرَابُ — ہڑتال
٢٤. التَّظَاهُرُ — مظاہرہ
٢٥. المُنَاقَشَةُ — بحث، گفتگو
٢٦. البَيَانُ — اعلامیہ، بیان
٢٧. الخِطَابُ — تقریر، خطاب
٢٨. المُقَابَلَةُ — انٹرویو، ملاقات
٢٩. النَّشْرُ — اشاعت، پھیلانا
٣٠. البَثُّ — نشر، براہِ راست دکھانا
🔰خدا كا وجود اور كائنات كی شہادت
🖋مولانا خالد سیف اللہ رحمانی
#شمع_فروزاں🕯
https://whatsapp.com/channel/0029Va9wjem47Xe94AA3CF37
گزشته دنوں ملك میں ایك اهم موضوع پر اهل علم كے درمیان مذاكره هوا، اور وه هے خدا كا وجود، جس كا مذهب سے گهرا تعلق هے، دنیا میں جو مذاهب پائے جاتے هیں، ان میں خدا كے وجود كا مشترك تصور هے، خدا كا یقین هی انسان كو ایك غیبی طاقت كا مطیع وفرمانبردار بناتا اور اس كے اندر جواب دهی كا یقین پیدا كرتا هے، اور یه بات اس كو خیروصلاح اور عدل وانصاف پر قائم ركھتی هے؛ مگر اس وقت مغربی تهذیب كی بنیادی دعوت خدا پرستی كے بجائے شهوت پرستی كی هے، اور اس فلسفه میں سب سے بڑی ركاوٹ خدا كا یقین هے، بدقسمتی سے مختلف صورتوں میں الحاد هماری نئی نسلوں میں بڑھتا جا رها هے؛ اسی لئے ضروری هے كه مسلمان اپنے بال بچوں كی تربیت میں اس پهلو كو ملحوظ ركھیں۔
الله تعالیٰ كے وجود كو ماننے سے یه یقین ركھنا مراد ہے کہ اگرچہ ہم اللہ کو اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھتے ہیں ؛ لیکن وہ موجود ہے ، اسی نے پوری کائنات کو پیدا کیا ہے اور اسی کے حکم سے اس کا نظام جاری وساری ہے؛ اس لئے همیں اس كی اطاعت وفرماں برداری كرنی چاهئے۔
غور كریں تو اس کائنات کا ذرہ ذرہ اللہ کے وجود کی دلیل ہے ؛ لیکن چند اہم دلیلیں یہ ہیں :
(الف) ہم دن و رات اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں کہ کوئی چیز بنانے والے کے بغیر وجود میں نہیں آتی ، سوئی سے لے کر جہاز تک ہر چیز کسی صانع کے ذریعہ وجود میں آتی ہے ، اگر کوئی شخص کسی مکان کے بارے میں دعویٰ کرے کہ یہ از خود بن کر کھڑا ہوگیا ہے تو لوگ اسے پاگل سمجھیں گے ، تو یہ وسیع وعریض کائنات کسی خالق کے بغیر کیسے وجود میں آسکتی ہے ؟ قرآن مجید میں بار بار اس کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ، جیسے ارشاد ہے :
اَفِی اللّٰهِ شَكٌّ فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ ۔ (ابراہیم: ۱۰)
كیا آسمان وزمین كے پیدا كرنے والے خدا كے بارے میں كوئی شك هے؟
(ب) کائنات میں ہر لمحہ تغیر کا عمل جاری ہے ، ہر دن کے بعد رات آتی ہے ، اور رات کے بعد دن آتا ہے ، انسان بیمار پڑتا ہے ، پھر صحت حاصل ہوتی ہے ، بچہ بڑھ کر جوان اور پھر بوڑھا ہوتا ہے ، مختلف مخلوقات پیدا ہوتی ہیں ، پھر موت اور فنا سے دوچار بھی ہوتی ہیں ، تبدیلی اور ترقی کسی محرک اور عامل کی محتاج ہوتی ہے ، ایسا نہیں ہے کہ لکڑی کے تختے رکھ دیئے جائیں ، وہ خود بخود ٹکڑے بن جائیں اور یہ ٹکڑے جڑ کر کرسی اور پلنگ کی صورت اختیار کرلیں ، ہر تبدیلی کے پیچھے کاریگر کا عمل ہوتا ہے ، یہ بھی اس بات کی دلیل ہے کہ کائنات جو مسلسل تغیر ، حرکت وسکون اور ترقی کی منزل سے گزر رہی ہے ، اس کے پیچھے ایک طاقت کار فرما ہے اور اسی طاقت کا نام اللہ ہے ؛ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا :
اِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ اخْتِلَافِ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ لَاٰیٰتٍ لِّاُولِی الْاَلْبَابِ ۔ (آل عمران: ۱۹۰)
بے شك آسمان وزمین كی بناوٹ اور رات دن كے آنے جانے میں عقل والوں كے لئے بڑی نشانیاں هیں
اس میں اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر’ اختلاف اللیل والنہار‘ (شب وروز كی تبدیلی) کا ذکر فرمایا ہے ۔
(ج) کائنات میں جو چیزیں پائی جاتی ہیں ، وہ اپنے مقررہ کام میں مشغول ہیں ، ان کے درمیان ایک خاص قسم کا توازن وارتباط ہے ، جیسے : فضا میں ہزاروں سیارے گردش کررہے ہیں ، انسان جن گاڑیوں کو چلاتا ہے ، آئے دن ان میں ایکسیڈنٹ ہوتا رہتا ہے ؛ لیکن کبھی سورج اور چاند میں کوئی تصادم نہیں ہوا اور نہ فضا میں تیرتے ہوئے ہزاروں ستاروں کے درمیان ایکسیڈنٹ کی نوبت آئی ، جب تک کوئی ایسی ذات موجود نہ ہوجو حکمت کے ساتھ کائنات کی تمام مخلوقات کو کنٹرول میں رکھتے ہوئے ان سے کام لے ، اس وقت تک یہ نظام برقرار نہیں رہ سکتا ، خدا کے بغیر کائنات کے اس نظام کے چلتے رہنے کا دعویٰ کرنا ایسا ہی ہے ، جیسا کوئی شخص کہے کہ جہاز اور ٹرین بغیر کسی کپتان اور ڈرائیور کے یا الیکٹرونک کنٹرول کے خود بخود چل رہے ہیں ، اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں اس کی طرف اشارہ فرمایا ہے ، جیسے فرمایا گیا :
= اَلشَّمْسُ وَ الْقَمَرُ بِحُسْبَانٍ ۔ (سورہ رحمٰن: ۵)
سورج اور چاند ایك حساب كے پابند هیں۔
= اِنَّا كُلَّ شَیْءٍ خَلَقْنٰهُ بِقَدَرٍ ۔ (قمر: ۴۹)
بے شك هم نے هر چیز كو ایك اندازے سے پیدا كیا هے۔
(د) انسان کا وجود بجائے خود اللہ تعالیٰ کے وجود کی دلیل ہے ، ایک ہی ماں باپ سے کئی بچے پیدا ہوتے ہیں ، ان کی شکل وصورت میں فرق ہوتا ہے ، آواز میں فرق ہوتا ہے ، مزاج اور رویہ میں فرق ہوتا ہے ، ایک ہی مادہ اشتقاق سے تعلق رکھنے کے باوجود ان کے درمیان فرق کا پایا جانا کسی قادر مطلق اور حکیم ودانا منتظم و مدبر کے بغیر نہیں ہوسکتا ، اگر لکڑی سرخی مائل ہو تو اس سے جو چیز بنے گی ، وہ اسی رنگ کی ہوگی ، سونے سے جو چیز بھی بنائی جائے گی ، وہ زرد ہوگی ؛ لیکن انسان کی ذات میں غیر معمولی تنوع پایا
🖋مولانا خالد سیف اللہ رحمانی
#شمع_فروزاں🕯
https://whatsapp.com/channel/0029Va9wjem47Xe94AA3CF37
گزشته دنوں ملك میں ایك اهم موضوع پر اهل علم كے درمیان مذاكره هوا، اور وه هے خدا كا وجود، جس كا مذهب سے گهرا تعلق هے، دنیا میں جو مذاهب پائے جاتے هیں، ان میں خدا كے وجود كا مشترك تصور هے، خدا كا یقین هی انسان كو ایك غیبی طاقت كا مطیع وفرمانبردار بناتا اور اس كے اندر جواب دهی كا یقین پیدا كرتا هے، اور یه بات اس كو خیروصلاح اور عدل وانصاف پر قائم ركھتی هے؛ مگر اس وقت مغربی تهذیب كی بنیادی دعوت خدا پرستی كے بجائے شهوت پرستی كی هے، اور اس فلسفه میں سب سے بڑی ركاوٹ خدا كا یقین هے، بدقسمتی سے مختلف صورتوں میں الحاد هماری نئی نسلوں میں بڑھتا جا رها هے؛ اسی لئے ضروری هے كه مسلمان اپنے بال بچوں كی تربیت میں اس پهلو كو ملحوظ ركھیں۔
الله تعالیٰ كے وجود كو ماننے سے یه یقین ركھنا مراد ہے کہ اگرچہ ہم اللہ کو اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھتے ہیں ؛ لیکن وہ موجود ہے ، اسی نے پوری کائنات کو پیدا کیا ہے اور اسی کے حکم سے اس کا نظام جاری وساری ہے؛ اس لئے همیں اس كی اطاعت وفرماں برداری كرنی چاهئے۔
غور كریں تو اس کائنات کا ذرہ ذرہ اللہ کے وجود کی دلیل ہے ؛ لیکن چند اہم دلیلیں یہ ہیں :
(الف) ہم دن و رات اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں کہ کوئی چیز بنانے والے کے بغیر وجود میں نہیں آتی ، سوئی سے لے کر جہاز تک ہر چیز کسی صانع کے ذریعہ وجود میں آتی ہے ، اگر کوئی شخص کسی مکان کے بارے میں دعویٰ کرے کہ یہ از خود بن کر کھڑا ہوگیا ہے تو لوگ اسے پاگل سمجھیں گے ، تو یہ وسیع وعریض کائنات کسی خالق کے بغیر کیسے وجود میں آسکتی ہے ؟ قرآن مجید میں بار بار اس کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ، جیسے ارشاد ہے :
اَفِی اللّٰهِ شَكٌّ فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ ۔ (ابراہیم: ۱۰)
كیا آسمان وزمین كے پیدا كرنے والے خدا كے بارے میں كوئی شك هے؟
(ب) کائنات میں ہر لمحہ تغیر کا عمل جاری ہے ، ہر دن کے بعد رات آتی ہے ، اور رات کے بعد دن آتا ہے ، انسان بیمار پڑتا ہے ، پھر صحت حاصل ہوتی ہے ، بچہ بڑھ کر جوان اور پھر بوڑھا ہوتا ہے ، مختلف مخلوقات پیدا ہوتی ہیں ، پھر موت اور فنا سے دوچار بھی ہوتی ہیں ، تبدیلی اور ترقی کسی محرک اور عامل کی محتاج ہوتی ہے ، ایسا نہیں ہے کہ لکڑی کے تختے رکھ دیئے جائیں ، وہ خود بخود ٹکڑے بن جائیں اور یہ ٹکڑے جڑ کر کرسی اور پلنگ کی صورت اختیار کرلیں ، ہر تبدیلی کے پیچھے کاریگر کا عمل ہوتا ہے ، یہ بھی اس بات کی دلیل ہے کہ کائنات جو مسلسل تغیر ، حرکت وسکون اور ترقی کی منزل سے گزر رہی ہے ، اس کے پیچھے ایک طاقت کار فرما ہے اور اسی طاقت کا نام اللہ ہے ؛ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا :
اِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ اخْتِلَافِ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ لَاٰیٰتٍ لِّاُولِی الْاَلْبَابِ ۔ (آل عمران: ۱۹۰)
بے شك آسمان وزمین كی بناوٹ اور رات دن كے آنے جانے میں عقل والوں كے لئے بڑی نشانیاں هیں
اس میں اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر’ اختلاف اللیل والنہار‘ (شب وروز كی تبدیلی) کا ذکر فرمایا ہے ۔
(ج) کائنات میں جو چیزیں پائی جاتی ہیں ، وہ اپنے مقررہ کام میں مشغول ہیں ، ان کے درمیان ایک خاص قسم کا توازن وارتباط ہے ، جیسے : فضا میں ہزاروں سیارے گردش کررہے ہیں ، انسان جن گاڑیوں کو چلاتا ہے ، آئے دن ان میں ایکسیڈنٹ ہوتا رہتا ہے ؛ لیکن کبھی سورج اور چاند میں کوئی تصادم نہیں ہوا اور نہ فضا میں تیرتے ہوئے ہزاروں ستاروں کے درمیان ایکسیڈنٹ کی نوبت آئی ، جب تک کوئی ایسی ذات موجود نہ ہوجو حکمت کے ساتھ کائنات کی تمام مخلوقات کو کنٹرول میں رکھتے ہوئے ان سے کام لے ، اس وقت تک یہ نظام برقرار نہیں رہ سکتا ، خدا کے بغیر کائنات کے اس نظام کے چلتے رہنے کا دعویٰ کرنا ایسا ہی ہے ، جیسا کوئی شخص کہے کہ جہاز اور ٹرین بغیر کسی کپتان اور ڈرائیور کے یا الیکٹرونک کنٹرول کے خود بخود چل رہے ہیں ، اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں اس کی طرف اشارہ فرمایا ہے ، جیسے فرمایا گیا :
= اَلشَّمْسُ وَ الْقَمَرُ بِحُسْبَانٍ ۔ (سورہ رحمٰن: ۵)
سورج اور چاند ایك حساب كے پابند هیں۔
= اِنَّا كُلَّ شَیْءٍ خَلَقْنٰهُ بِقَدَرٍ ۔ (قمر: ۴۹)
بے شك هم نے هر چیز كو ایك اندازے سے پیدا كیا هے۔
(د) انسان کا وجود بجائے خود اللہ تعالیٰ کے وجود کی دلیل ہے ، ایک ہی ماں باپ سے کئی بچے پیدا ہوتے ہیں ، ان کی شکل وصورت میں فرق ہوتا ہے ، آواز میں فرق ہوتا ہے ، مزاج اور رویہ میں فرق ہوتا ہے ، ایک ہی مادہ اشتقاق سے تعلق رکھنے کے باوجود ان کے درمیان فرق کا پایا جانا کسی قادر مطلق اور حکیم ودانا منتظم و مدبر کے بغیر نہیں ہوسکتا ، اگر لکڑی سرخی مائل ہو تو اس سے جو چیز بنے گی ، وہ اسی رنگ کی ہوگی ، سونے سے جو چیز بھی بنائی جائے گی ، وہ زرد ہوگی ؛ لیکن انسان کی ذات میں غیر معمولی تنوع پایا
WhatsApp.com
Khalid Saifullah Rahmani
Channel • 3.8K followers • President @All India Muslim Personal Law Board | General Secretary: Islamic Fiqh Academy India | Director: Al Mahad Ul Aali Al Islami Hyd*
*♦Stay connected for all his writings, latest books, academic articles, Fatawas, Speeches…
*♦Stay connected for all his writings, latest books, academic articles, Fatawas, Speeches…
جاتا ہے ، یہ کسی حکم حاکم کے بغیر نہیں ہوسکتا ؛ چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
اور آسمانوں كا اور زمین كا پیدا كرنا اور تمهاری زبانوں اور رنگوں كا الگ الگ هونا بھی اس كی نشانیوں میں سے هے، یقیناََ اس میں سمجھ دار لوگوں كے لئے دلیلیں هیں۔
( ہ) انسانی فطرت تقاضا کرتی ہے کہ وہ اس کائنات کے پیچھے خالق ومالک کے وجود کو تسلیم کرے ؛ اسی لئے انسانی تاریخ میں ہمیشہ انسان کی غالب ترین اکثریت نے کسی نہ کسی صورت میں خدا کے وجود کو تسلیم کیا ہے ، اگرچہ بہت سی قوموں نے اس کی ذات وصفات کی معرفت میں ٹھوکر کھائی ہے ؛ چنانچہ تاریخ میں ہمیشہ خدا کا انکار کرنے والے بہت کم رہے ہیں ، تمام مذہبی صحائف کے مطالعہ سے یہی بات معلوم ہوتی ہے اور آج بھی دنیا میں خدا کا انکار کرنے والوں کی تعداد بہت کم ہے ۔
جو لوگ خدا کے وجود کو نہیں مانتے ، ان کے پاس اپنے دعوی پر کوئی دلیل نہیں ہے ، یہ سمجھنا کہ چوںکہ خدا نظر نہیں آتا ؛ اس لئے اس کا وجود نہیں ہے ، ایسی بات ہے جس کو عقل سلیم قبول نہیں کرسکتی ، دنیا میں کتنی ایسی چیزیں ہیں ، جو نظر نہیں آتی ہیں ، یا جن کو حواس خمسہ ظاہرہ سے محسوس نہیں کیا جاسکتا ہے ؛ لیکن ہر شخص اس کے وجود کو تسلیم کرتا ہے ، انسان کے اندر روح اور زندگی کا ہونا اور موت کے وقت اس کا نکل جانا سب کو تسلیم ہے ؛ لیکن انسانی آنکھیں اس کا مشاہدہ نہیں کرسکتیں ، فضا ہر وقت ’ہوا ‘سے معمور رہتی ہے ؛ لیکن ہم اسے دیکھ نہیں سکتے اور جب تک اس کی حرکت بڑھ نہ جائے ، اس وقت تک ہم اپنے حواس سے بھی محسوس نہیں کرسکتے ، اللہ تعالیٰ نے انسان کو عقل وفہم کی دولت عطا فرمائی ہے ، ہم انسان کے رویہ کو دیکھ کر اس کے اندر عقل کو تسلیم کرتے ہیں ؛ لیکن ہم ہاتھ پاؤں کی طرح نہ اس کا ادراک کرسکتے ہیں اور نہ کسی پیمانے سے اس کی مقدار کو جانچ سکتے ہیں ؛ اس لئے کسی چیز کا نظر نہ آنا یا حواس ظاہرہ کے ذریعہ اس کا ادراک نہ ہونا اس کے موجودنہ ہونے کی دلیل نہیں ہوسکتی ۔
ملحدین اور خدا کے منکرین کائنات میں جاری حرکت وسکون کی توجیہ کرتے ہیں کہ یہ چیز اس کی فطرت میں رکھ دی گئی ہے اور فطرت کی بنا پر مسلسل ایسا ہورہا ہے ؛ لیکن یہ بھی ایک ایسا دعویٰ ہے جس پر کوئی دلیل نہیں ہے ، اگر کسی چیز کو فعال رکھنے کے لئے فطرت کافی ہوتی تو ان کے درمیان یکسانیت ہونی چاہئے تھی ، ہر پودا جو ایک طرح کی زمین میں لگایا جائے ، اس کی نشو ونما ایک ہی طرح پر ہوتی ، ہر سیب کے سائز اور مٹھاس میں یکسانیت ہوتی ، ہرشوہر و بیوی جن میں ماں باپ بننے کی صلاحیت ہے ، ضرور ہی ماں باپ بنتے ، انسان کے وجود میں جو اجزاء شامل ہیں ، جیسے : لوہا ، پتھر ، چونا ، پانی وغیرہ ، اگر انسان ان سب کو ملا کر ایک پُتلا بنا دیتا تو اس میں انسان ہی کی طرح بولنے ، سننے ، اور لکھنے پڑھنے کی صلاحیت پیدا ہوجاتی ؛ لیکن ایسا نہیں ہے ، اس سے معلوم ہوا کہ مادّہ از خود کسی چیز کی تخلیق یا تشکیل نہیں کرتا ؛ بلکہ کوئی ذات ہے جس کے حکم سے چیزیں وجود میں آتی ہیں اور وہ مختلف شکلیں اختیار کرتی ہیں ، وہی حاکم خدا کی ذات ہے ۔
۰ ۰ ۰
اور آسمانوں كا اور زمین كا پیدا كرنا اور تمهاری زبانوں اور رنگوں كا الگ الگ هونا بھی اس كی نشانیوں میں سے هے، یقیناََ اس میں سمجھ دار لوگوں كے لئے دلیلیں هیں۔
( ہ) انسانی فطرت تقاضا کرتی ہے کہ وہ اس کائنات کے پیچھے خالق ومالک کے وجود کو تسلیم کرے ؛ اسی لئے انسانی تاریخ میں ہمیشہ انسان کی غالب ترین اکثریت نے کسی نہ کسی صورت میں خدا کے وجود کو تسلیم کیا ہے ، اگرچہ بہت سی قوموں نے اس کی ذات وصفات کی معرفت میں ٹھوکر کھائی ہے ؛ چنانچہ تاریخ میں ہمیشہ خدا کا انکار کرنے والے بہت کم رہے ہیں ، تمام مذہبی صحائف کے مطالعہ سے یہی بات معلوم ہوتی ہے اور آج بھی دنیا میں خدا کا انکار کرنے والوں کی تعداد بہت کم ہے ۔
جو لوگ خدا کے وجود کو نہیں مانتے ، ان کے پاس اپنے دعوی پر کوئی دلیل نہیں ہے ، یہ سمجھنا کہ چوںکہ خدا نظر نہیں آتا ؛ اس لئے اس کا وجود نہیں ہے ، ایسی بات ہے جس کو عقل سلیم قبول نہیں کرسکتی ، دنیا میں کتنی ایسی چیزیں ہیں ، جو نظر نہیں آتی ہیں ، یا جن کو حواس خمسہ ظاہرہ سے محسوس نہیں کیا جاسکتا ہے ؛ لیکن ہر شخص اس کے وجود کو تسلیم کرتا ہے ، انسان کے اندر روح اور زندگی کا ہونا اور موت کے وقت اس کا نکل جانا سب کو تسلیم ہے ؛ لیکن انسانی آنکھیں اس کا مشاہدہ نہیں کرسکتیں ، فضا ہر وقت ’ہوا ‘سے معمور رہتی ہے ؛ لیکن ہم اسے دیکھ نہیں سکتے اور جب تک اس کی حرکت بڑھ نہ جائے ، اس وقت تک ہم اپنے حواس سے بھی محسوس نہیں کرسکتے ، اللہ تعالیٰ نے انسان کو عقل وفہم کی دولت عطا فرمائی ہے ، ہم انسان کے رویہ کو دیکھ کر اس کے اندر عقل کو تسلیم کرتے ہیں ؛ لیکن ہم ہاتھ پاؤں کی طرح نہ اس کا ادراک کرسکتے ہیں اور نہ کسی پیمانے سے اس کی مقدار کو جانچ سکتے ہیں ؛ اس لئے کسی چیز کا نظر نہ آنا یا حواس ظاہرہ کے ذریعہ اس کا ادراک نہ ہونا اس کے موجودنہ ہونے کی دلیل نہیں ہوسکتی ۔
ملحدین اور خدا کے منکرین کائنات میں جاری حرکت وسکون کی توجیہ کرتے ہیں کہ یہ چیز اس کی فطرت میں رکھ دی گئی ہے اور فطرت کی بنا پر مسلسل ایسا ہورہا ہے ؛ لیکن یہ بھی ایک ایسا دعویٰ ہے جس پر کوئی دلیل نہیں ہے ، اگر کسی چیز کو فعال رکھنے کے لئے فطرت کافی ہوتی تو ان کے درمیان یکسانیت ہونی چاہئے تھی ، ہر پودا جو ایک طرح کی زمین میں لگایا جائے ، اس کی نشو ونما ایک ہی طرح پر ہوتی ، ہر سیب کے سائز اور مٹھاس میں یکسانیت ہوتی ، ہرشوہر و بیوی جن میں ماں باپ بننے کی صلاحیت ہے ، ضرور ہی ماں باپ بنتے ، انسان کے وجود میں جو اجزاء شامل ہیں ، جیسے : لوہا ، پتھر ، چونا ، پانی وغیرہ ، اگر انسان ان سب کو ملا کر ایک پُتلا بنا دیتا تو اس میں انسان ہی کی طرح بولنے ، سننے ، اور لکھنے پڑھنے کی صلاحیت پیدا ہوجاتی ؛ لیکن ایسا نہیں ہے ، اس سے معلوم ہوا کہ مادّہ از خود کسی چیز کی تخلیق یا تشکیل نہیں کرتا ؛ بلکہ کوئی ذات ہے جس کے حکم سے چیزیں وجود میں آتی ہیں اور وہ مختلف شکلیں اختیار کرتی ہیں ، وہی حاکم خدا کی ذات ہے ۔
۰ ۰ ۰