🌙 سیرت کا سفر، کردار کی منزل
قسط نمبر 3 | وعدہ — الفاظ سے آگے ایک ذمہ داری
🪝 ایک چھوٹا سا سوال…
کبھی کسی بچے نے کہا:
"امی! میں پکا وعدہ کرتا ہوں!"
اور کچھ دیر بعد وہ وعدہ بھول گیا؟
ہم اکثر بچوں کے وعدے کو معمولی سمجھ کر کہتے ہیں:
"کوئی بات نہیں، بچہ ہی تو ہے۔"
لیکن ذرا رک کر سوچیے…
اگر بچہ بار بار وعدہ کرے اور بار بار پورا نہ کرے تو آہستہ آہستہ اس کے الفاظ کی اہمیت کم نہیں ہونے لگتی؟
سیرت ہمیں سکھاتی ہے کہ اچھا کردار صرف سچ بولنے کا نام نہیں؛ اپنے الفاظ کو ذمہ داری سمجھنے کا نام بھی ہے۔ 🌱
🌿 وعدہ صرف زبان سے نکلا ہوا جملہ نہیں
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
وَأَوْفُوا بِالْعَهْدِ ۖ إِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْئُولًا
"اور عہد کو پورا کرو، بے شک عہد کے بارے میں پوچھا جائے گا۔"
📖 سورۃ الإسراء: 34
غور کیجیے…
قرآن ہمیں وعدہ پورا کرنے کا حکم دے رہا ہے۔
یعنی جب ہم کسی سے کہتے ہیں:
"میں یہ کام کر دوں گا۔"
تو ہمارے الفاظ کے ساتھ ایک ذمہ داری بھی جڑ جاتی ہے۔
🌙 سیرتِ مصطفیٰ ﷺ سے کیا سیکھتے ہیں؟
رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں سچائی، امانت داری اور وعدہ نبھانا آپس میں جڑے ہوئے اوصاف تھے۔
آپ ﷺ لوگوں کے اعتماد کو معمولی نہیں سمجھتے تھے۔
اسی لیے ایک مسلمان کے لیے یہ کافی نہیں کہ وہ صرف یہ دیکھے:
"میں نے جھوٹ تو نہیں بولا؟"
بلکہ اسے یہ بھی دیکھنا ہے:
"میں نے جو کہا تھا، کیا اسے پورا کرنے کی کوشش بھی کی؟"
یہی وہ مقام ہے جہاں الفاظ کردار بننے لگتے ہیں۔ 🌿
👧👦 بچے کے لیے وعدہ کیا ہے؟
بچے سے یہ نہ کہیں:
❌ "تم نے وعدہ کیا تھا، اب ہر حال میں پورا کرو!"
بلکہ اسے یہ سمجھائیں:
"وعدہ کرنے سے پہلے سوچو کہ کیا تم واقعی اسے پورا کر سکتے ہو؟"
کیونکہ بچے کبھی خوشی، جوش یا کسی دباؤ میں آ کر ایسے وعدے کر لیتے ہیں جنہیں پورا کرنا ان کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔
مثلاً:
"میں روز سب کا کام کر دوں گا!"
"میں کبھی دوبارہ غلطی نہیں کروں گا!"
"میں روز دو گھنٹے پڑھوں گا!"
ایسے بڑے بڑے وعدوں کے بجائے بچے کو چھوٹے، واضح اور قابلِ عمل وعدے کرنا سکھائیں۔
مثلاً:
🌱 "میں آج اپنی کتابیں جگہ پر رکھوں گا۔"
🌱 "میں کھیل ختم ہونے کے بعد کھلونے سمیٹوں گا۔"
🌱 "میں امی سے کیا ہوا یہ کام مغرب سے پہلے مکمل کرنے کی کوشش کروں گا۔"
🎯 آج کا کردار چیلنج
آج بچے سے کہیں:
"آج صرف ایک چھوٹا سا وعدہ کرو… اور اسے پورا کرکے دکھاؤ۔"
لیکن وعدہ بچہ خود منتخب کرے۔
مثلاً:
"میں آج اپنی چیزیں خود سمیٹوں گا۔"
پھر رات کو اس سے صرف ایک سوال کریں:
"تم نے اپنے وعدے کے ساتھ کیا کیا؟"
اگر اس نے پورا کیا تو کہیں:
"تم نے اپنے لفظ کو اپنے عمل سے سچا کر دکھایا۔" ❤️
اور اگر پورا نہ کر سکا تو اسے شرمندہ کرنے کے بجائے پوچھیں:
"کیا وعدہ بہت مشکل تھا؟ اگلی بار ہم اسے کیسے بہتر بنا سکتے ہیں؟"
یہاں بچہ صرف وعدہ پورا کرنا نہیں سیکھ رہا…
وہ اپنے الفاظ کی ذمہ داری لینا سیکھ رہا ہے۔
🏡 والدین کے لیے ایک بہت اہم بات
بچے صرف ہمارے لیکچر سے وعدہ نبھانا نہیں سیکھتے…
وہ ہمیں دیکھ کر سیکھتے ہیں۔
اگر ہم بچے سے کہیں:
"میں شام کو تمہارے ساتھ ضرور بیٹھوں گی۔"
اور پھر بار بار بھول جائیں…
تو بچہ ہمارے الفاظ سے زیادہ ہمارے عمل کو یاد رکھتا ہے۔
اس لیے کبھی ایسا وعدہ نہ کریں جسے پورا کرنا ہمارے لیے ممکن نہ ہو۔
اور اگر کسی وجہ سے وعدہ پورا نہ ہو سکے تو بچے کے سامنے یہ کہنا بھی کردار سازی ہے:
"میں نے تم سے یہ وعدہ کیا تھا، لیکن میں پورا نہیں کر سکی۔ مجھے افسوس ہے۔"
یہ جملہ بچے کو ایک بہت بڑا سبق دیتا ہے:
وعدہ کرنا آسان ہے، مگر اپنے الفاظ کی ذمہ داری لینا اصل کردار ہے۔ 🌱
💭 ذرا سوچیں…
ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا بچہ بڑا ہو کر ایسا انسان بنے کہ جب وہ کہے:
"میں آؤں گا۔"
تو لوگ اس کا انتظار کر سکیں۔
جب کہے:
"میں یہ کام کروں گا۔"
تو لوگ اس پر بھروسا کر سکیں۔
اور جب کوئی ذمہ داری قبول کرے تو اسے صرف الفاظ نہ سمجھے۔
کیا یہ اعتماد کی ایک خوبصورت شکل نہیں؟ ❤️
🌙 آج کا سوال
آپ کے خیال میں بچے کو وعدہ نبھانا سکھانے کا بہترین طریقہ کیا ہے؟
💬 چھوٹے وعدے کروانا؟
💬 والدین کا اپنا وعدہ پورا کرنا؟
💬 وعدہ پورا ہونے پر بچے کی حوصلہ افزائی کرنا؟
💬 یا وعدہ کرنے سے پہلے سوچنا سکھانا؟
اپنی رائے ضرور بتائیے۔ 🌿
🌱 کردار سازی کا سبق
بچے کو بڑے بڑے وعدے کرنا نہ سکھائیں؛ اسے اپنے چھوٹے چھوٹے الفاظ کی قدر کرنا سکھائیں۔
کیونکہ…
کردار اس وقت مضبوط ہوتا ہے جب زبان کا وعدہ عمل کا حصہ بن جاتا ہے۔
سچائی نے اعتماد بنایا…
امانت داری نے اس اعتماد کو محفوظ رکھا…
اور وعدہ پورا کرنا سکھاتا ہے کہ:
"میرے الفاظ بھی میری ذمہ داری ہیں۔" 🌱
🌙 سیرت کا سفر، کردار کی منزل
نبی ﷺ کی زندگی سے بچوں کی تربیت تک
🌙 اگلی قسط میں…
ہم نے سچائی سیکھی…
امانت داری سیکھی…
وعدہ پورا کرنا سیکھا…
قسط نمبر 3 | وعدہ — الفاظ سے آگے ایک ذمہ داری
🪝 ایک چھوٹا سا سوال…
کبھی کسی بچے نے کہا:
"امی! میں پکا وعدہ کرتا ہوں!"
اور کچھ دیر بعد وہ وعدہ بھول گیا؟
ہم اکثر بچوں کے وعدے کو معمولی سمجھ کر کہتے ہیں:
"کوئی بات نہیں، بچہ ہی تو ہے۔"
لیکن ذرا رک کر سوچیے…
اگر بچہ بار بار وعدہ کرے اور بار بار پورا نہ کرے تو آہستہ آہستہ اس کے الفاظ کی اہمیت کم نہیں ہونے لگتی؟
سیرت ہمیں سکھاتی ہے کہ اچھا کردار صرف سچ بولنے کا نام نہیں؛ اپنے الفاظ کو ذمہ داری سمجھنے کا نام بھی ہے۔ 🌱
🌿 وعدہ صرف زبان سے نکلا ہوا جملہ نہیں
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
وَأَوْفُوا بِالْعَهْدِ ۖ إِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْئُولًا
"اور عہد کو پورا کرو، بے شک عہد کے بارے میں پوچھا جائے گا۔"
📖 سورۃ الإسراء: 34
غور کیجیے…
قرآن ہمیں وعدہ پورا کرنے کا حکم دے رہا ہے۔
یعنی جب ہم کسی سے کہتے ہیں:
"میں یہ کام کر دوں گا۔"
تو ہمارے الفاظ کے ساتھ ایک ذمہ داری بھی جڑ جاتی ہے۔
🌙 سیرتِ مصطفیٰ ﷺ سے کیا سیکھتے ہیں؟
رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں سچائی، امانت داری اور وعدہ نبھانا آپس میں جڑے ہوئے اوصاف تھے۔
آپ ﷺ لوگوں کے اعتماد کو معمولی نہیں سمجھتے تھے۔
اسی لیے ایک مسلمان کے لیے یہ کافی نہیں کہ وہ صرف یہ دیکھے:
"میں نے جھوٹ تو نہیں بولا؟"
بلکہ اسے یہ بھی دیکھنا ہے:
"میں نے جو کہا تھا، کیا اسے پورا کرنے کی کوشش بھی کی؟"
یہی وہ مقام ہے جہاں الفاظ کردار بننے لگتے ہیں۔ 🌿
👧👦 بچے کے لیے وعدہ کیا ہے؟
بچے سے یہ نہ کہیں:
❌ "تم نے وعدہ کیا تھا، اب ہر حال میں پورا کرو!"
بلکہ اسے یہ سمجھائیں:
"وعدہ کرنے سے پہلے سوچو کہ کیا تم واقعی اسے پورا کر سکتے ہو؟"
کیونکہ بچے کبھی خوشی، جوش یا کسی دباؤ میں آ کر ایسے وعدے کر لیتے ہیں جنہیں پورا کرنا ان کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔
مثلاً:
"میں روز سب کا کام کر دوں گا!"
"میں کبھی دوبارہ غلطی نہیں کروں گا!"
"میں روز دو گھنٹے پڑھوں گا!"
ایسے بڑے بڑے وعدوں کے بجائے بچے کو چھوٹے، واضح اور قابلِ عمل وعدے کرنا سکھائیں۔
مثلاً:
🌱 "میں آج اپنی کتابیں جگہ پر رکھوں گا۔"
🌱 "میں کھیل ختم ہونے کے بعد کھلونے سمیٹوں گا۔"
🌱 "میں امی سے کیا ہوا یہ کام مغرب سے پہلے مکمل کرنے کی کوشش کروں گا۔"
🎯 آج کا کردار چیلنج
آج بچے سے کہیں:
"آج صرف ایک چھوٹا سا وعدہ کرو… اور اسے پورا کرکے دکھاؤ۔"
لیکن وعدہ بچہ خود منتخب کرے۔
مثلاً:
"میں آج اپنی چیزیں خود سمیٹوں گا۔"
پھر رات کو اس سے صرف ایک سوال کریں:
"تم نے اپنے وعدے کے ساتھ کیا کیا؟"
اگر اس نے پورا کیا تو کہیں:
"تم نے اپنے لفظ کو اپنے عمل سے سچا کر دکھایا۔" ❤️
اور اگر پورا نہ کر سکا تو اسے شرمندہ کرنے کے بجائے پوچھیں:
"کیا وعدہ بہت مشکل تھا؟ اگلی بار ہم اسے کیسے بہتر بنا سکتے ہیں؟"
یہاں بچہ صرف وعدہ پورا کرنا نہیں سیکھ رہا…
وہ اپنے الفاظ کی ذمہ داری لینا سیکھ رہا ہے۔
🏡 والدین کے لیے ایک بہت اہم بات
بچے صرف ہمارے لیکچر سے وعدہ نبھانا نہیں سیکھتے…
وہ ہمیں دیکھ کر سیکھتے ہیں۔
اگر ہم بچے سے کہیں:
"میں شام کو تمہارے ساتھ ضرور بیٹھوں گی۔"
اور پھر بار بار بھول جائیں…
تو بچہ ہمارے الفاظ سے زیادہ ہمارے عمل کو یاد رکھتا ہے۔
اس لیے کبھی ایسا وعدہ نہ کریں جسے پورا کرنا ہمارے لیے ممکن نہ ہو۔
اور اگر کسی وجہ سے وعدہ پورا نہ ہو سکے تو بچے کے سامنے یہ کہنا بھی کردار سازی ہے:
"میں نے تم سے یہ وعدہ کیا تھا، لیکن میں پورا نہیں کر سکی۔ مجھے افسوس ہے۔"
یہ جملہ بچے کو ایک بہت بڑا سبق دیتا ہے:
وعدہ کرنا آسان ہے، مگر اپنے الفاظ کی ذمہ داری لینا اصل کردار ہے۔ 🌱
💭 ذرا سوچیں…
ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا بچہ بڑا ہو کر ایسا انسان بنے کہ جب وہ کہے:
"میں آؤں گا۔"
تو لوگ اس کا انتظار کر سکیں۔
جب کہے:
"میں یہ کام کروں گا۔"
تو لوگ اس پر بھروسا کر سکیں۔
اور جب کوئی ذمہ داری قبول کرے تو اسے صرف الفاظ نہ سمجھے۔
کیا یہ اعتماد کی ایک خوبصورت شکل نہیں؟ ❤️
🌙 آج کا سوال
آپ کے خیال میں بچے کو وعدہ نبھانا سکھانے کا بہترین طریقہ کیا ہے؟
💬 چھوٹے وعدے کروانا؟
💬 والدین کا اپنا وعدہ پورا کرنا؟
💬 وعدہ پورا ہونے پر بچے کی حوصلہ افزائی کرنا؟
💬 یا وعدہ کرنے سے پہلے سوچنا سکھانا؟
اپنی رائے ضرور بتائیے۔ 🌿
🌱 کردار سازی کا سبق
بچے کو بڑے بڑے وعدے کرنا نہ سکھائیں؛ اسے اپنے چھوٹے چھوٹے الفاظ کی قدر کرنا سکھائیں۔
کیونکہ…
کردار اس وقت مضبوط ہوتا ہے جب زبان کا وعدہ عمل کا حصہ بن جاتا ہے۔
سچائی نے اعتماد بنایا…
امانت داری نے اس اعتماد کو محفوظ رکھا…
اور وعدہ پورا کرنا سکھاتا ہے کہ:
"میرے الفاظ بھی میری ذمہ داری ہیں۔" 🌱
🌙 سیرت کا سفر، کردار کی منزل
نبی ﷺ کی زندگی سے بچوں کی تربیت تک
🌙 اگلی قسط میں…
ہم نے سچائی سیکھی…
امانت داری سیکھی…
وعدہ پورا کرنا سیکھا…
❤4
لیکن ایک اور چیز ہے جو بچے کے کردار کو اندر سے مضبوط کرتی ہے۔
جب کوئی اسے تکلیف دے تو وہ کیا کرے؟
جواب دینا آسان ہے…
مگر معاف کرنا؟ 🌿
کیا معافی کمزوری ہے؟
یا سیرتِ مصطفیٰ ﷺ ہمیں اس سے کہیں خوبصورت راستہ دکھاتی ہے؟
اگلی قسط: "معافی — بدلہ لینے سے بڑا کردار"
سیرت کا سفر جاری ہے… 🌙
🌱 بچوں کی کردار سازی
علم • عمل • کردار
✍️ تحریر و تحقیق: فاطمہ عائشہ
جب کوئی اسے تکلیف دے تو وہ کیا کرے؟
جواب دینا آسان ہے…
مگر معاف کرنا؟ 🌿
کیا معافی کمزوری ہے؟
یا سیرتِ مصطفیٰ ﷺ ہمیں اس سے کہیں خوبصورت راستہ دکھاتی ہے؟
اگلی قسط: "معافی — بدلہ لینے سے بڑا کردار"
سیرت کا سفر جاری ہے… 🌙
🌱 بچوں کی کردار سازی
علم • عمل • کردار
✍️ تحریر و تحقیق: فاطمہ عائشہ
Media is too big
VIEW IN TELEGRAM
🍿
Be Good to Others | Beautiful Islamic Hadith | Hadees Abdul Bari teaches Naved a lesson UrduMedia is too big
VIEW IN TELEGRAM
🍿
Galti pe bhi neki kaise mile tawbah dua with Abdul Bari Ansharah cartoon friendsThis media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Bismillah song - Abdul Bari & Ansharah |
Media is too big
VIEW IN TELEGRAM
🎬 Nanhe Nabi Ka Dil💚 | Kids vs Shaitaan EP 30 | Urdu Hindi Islamic Cartoon | Paigham Kids
👤 Paigham Kids
👤 Paigham Kids
❤1👍1
Media is too big
VIEW IN TELEGRAM
🎬 Munna Ne Cricket Khelte Hue Shisha Tore Dia, Phir Kia Hua? | Kids vs Shaitaan EP 29 |Islamic Cartoon
👤 Paigham Kids
👤 Paigham Kids
Media is too big
VIEW IN TELEGRAM
🍿
Faizan Ne Clock Tor Di | Gulam Rasool Cartoon Series | Islamic Cartoon | Kids Land🌿 🌟 *40 دن، 40 سنتیں — دن 10* 🌟
🎁 آج کی پیاری سنت: *تحفہ دینا*
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“آپس میں تحفے دیا کرو، اس سے محبت بڑھتی ہے۔” 📖 الأدب المفرد
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
“رسول اللہ ﷺ تحفہ قبول فرماتے اور اس کا بدلہ بھی دیتے تھے۔” 📖 صحیح البخاری
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“اے مسلمان عورتو! کوئی پڑوسن اپنی پڑوسن کے معمولی تحفے کو بھی حقیر نہ سمجھے، خواہ وہ بکری کا ایک پایہ ہی کیوں نہ ہو۔” 📖 صحیح البخاری
تحفہ قیمتی یا غیر معمولی ہونا ضروری نہیں؛ اصل مقصد محبت بڑھانا، دل خوش کرنا اور تعلق مضبوط کرنا ہے۔
*🎁 تحفے میں کیا دیا جا سکتا ہے؟*
مسواک، خوشبو، تسبیح، کوئی کھانے پینے کی چیز، یا کوئی دینی کتاب؛ مثلاً قرآنِ پاک، سیرتِ طیبہ یا اخلاقِ حسنہ سے متعلق کتاب۔ اسی طرح کسی مسلمان کی ضرورت کی کوئی چیزجس سے اس کی زندگی آسان ہو جائے۔
*🎯 آج کا چیلنج:*
آج اللہ کی رضا کے لیے اپنے والدین، استاد، کسی عزیز یا کسی بھی مسلمان کو محبت سے تحفہ دیں۔ تحفہ دیتے وقت دل میں یہ نیت رکھیں کہ اس کے ذریعے محبت بڑھے، دل خوش ہو اور اللہ تعالیٰ راضی ہوں۔
*🌿 یاد رہے!* پچھلے دنوں کی تمام سنتیں بھی جاری رکھنی ہیں: مسواک، سلام، کھانے کے آداب، خوش اخلاقی، روزہ، معاف کرنا، سونے کے مسنون آداب، پڑوسی کا خیال اور قرآن سے روزانہ تعلق۔
*❤️ سنت صرف جاننی نہیں، اپنانی ہے!*
بہ شکریہ اطفال البرہان
🎁 آج کی پیاری سنت: *تحفہ دینا*
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“آپس میں تحفے دیا کرو، اس سے محبت بڑھتی ہے۔” 📖 الأدب المفرد
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
“رسول اللہ ﷺ تحفہ قبول فرماتے اور اس کا بدلہ بھی دیتے تھے۔” 📖 صحیح البخاری
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“اے مسلمان عورتو! کوئی پڑوسن اپنی پڑوسن کے معمولی تحفے کو بھی حقیر نہ سمجھے، خواہ وہ بکری کا ایک پایہ ہی کیوں نہ ہو۔” 📖 صحیح البخاری
تحفہ قیمتی یا غیر معمولی ہونا ضروری نہیں؛ اصل مقصد محبت بڑھانا، دل خوش کرنا اور تعلق مضبوط کرنا ہے۔
*🎁 تحفے میں کیا دیا جا سکتا ہے؟*
مسواک، خوشبو، تسبیح، کوئی کھانے پینے کی چیز، یا کوئی دینی کتاب؛ مثلاً قرآنِ پاک، سیرتِ طیبہ یا اخلاقِ حسنہ سے متعلق کتاب۔ اسی طرح کسی مسلمان کی ضرورت کی کوئی چیزجس سے اس کی زندگی آسان ہو جائے۔
*🎯 آج کا چیلنج:*
آج اللہ کی رضا کے لیے اپنے والدین، استاد، کسی عزیز یا کسی بھی مسلمان کو محبت سے تحفہ دیں۔ تحفہ دیتے وقت دل میں یہ نیت رکھیں کہ اس کے ذریعے محبت بڑھے، دل خوش ہو اور اللہ تعالیٰ راضی ہوں۔
*🌿 یاد رہے!* پچھلے دنوں کی تمام سنتیں بھی جاری رکھنی ہیں: مسواک، سلام، کھانے کے آداب، خوش اخلاقی، روزہ، معاف کرنا، سونے کے مسنون آداب، پڑوسی کا خیال اور قرآن سے روزانہ تعلق۔
*❤️ سنت صرف جاننی نہیں، اپنانی ہے!*
بہ شکریہ اطفال البرہان
🌿 🌟 *40 دن، 40 سنتیں — دن 11* 🌟
🕌 آج کی پیاری سنت: *اذان کا جواب دینا*
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“جب تم اذان سنو تو مؤذن کے الفاظ دہراؤ۔” 📖 صحیح مسلم
البتہ جب مؤذن کہے:
حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ
تو جواب میں کہیں:
لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ
یعنی: “اللہ کی مدد کے بغیر نہ کسی گناہ سے بچنے کی طاقت ہے اور نہ نیکی کرنے کی قوت۔”
اذان کے بعد رسول اللہ ﷺ پر درود بھیجیں اور یہ دعا کریں:
اللّٰهُمَّ رَبَّ هَذِهِ الدَّعْوَةِ التَّامَّةِ، وَالصَّلَاةِ الْقَائِمَةِ، آتِ مُحَمَّدًا الْوَسِيلَةَ وَالْفَضِيلَةَ، وَابْعَثْهُ مَقَامًا مَحْمُودًا الَّذِي وَعَدْتَهُ
"اے اللہ! اس کامل دعوت اور قائم ہونے والی نماز کے رب! محمد ﷺ کو وسیلہ اور فضیلت عطا فرما، اور انہیں مقامِ محمود پر فائز فرما جس کا تو نے ان سے وعدہ فرمایا ہے۔"
📖 صحیح البخاری
*رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص اذان کے بعد یہ دعا پڑھتا ہے، اس کے لیے میری شفاعت واجب ہو جاتی ہے۔*
*🎯 آج کا چیلنج:* آج سے ہر اذان کو توجہ سے سنیں، مؤذن کے الفاظ کا جواب دیں، “حی علی الصلاۃ” اور “حی علی الفلاح” کے جواب میں “لا حول ولا قوۃ إلا باللہ” پڑھیں، اور اذان کے بعد مسنون دعا کا اہتمام کریں۔
🌿 یاد رہے! پچھلے دنوں کی تمام سنتیں بھی جاری رکھنی ہیں: مسواک، سلام، کھانے کے آداب، خوش اخلاقی، روزہ، معاف کرنا، سونے کے مسنون آداب، پڑوسی کا خیال، قرآن سے روزانہ تعلق اور تحفہ دینا۔
*❤️ سنت صرف جاننی نہیں، اپنانی ہے!*
بہ شکریہ اطفال البرہان
🕌 آج کی پیاری سنت: *اذان کا جواب دینا*
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“جب تم اذان سنو تو مؤذن کے الفاظ دہراؤ۔” 📖 صحیح مسلم
البتہ جب مؤذن کہے:
حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ
تو جواب میں کہیں:
لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ
یعنی: “اللہ کی مدد کے بغیر نہ کسی گناہ سے بچنے کی طاقت ہے اور نہ نیکی کرنے کی قوت۔”
اذان کے بعد رسول اللہ ﷺ پر درود بھیجیں اور یہ دعا کریں:
اللّٰهُمَّ رَبَّ هَذِهِ الدَّعْوَةِ التَّامَّةِ، وَالصَّلَاةِ الْقَائِمَةِ، آتِ مُحَمَّدًا الْوَسِيلَةَ وَالْفَضِيلَةَ، وَابْعَثْهُ مَقَامًا مَحْمُودًا الَّذِي وَعَدْتَهُ
"اے اللہ! اس کامل دعوت اور قائم ہونے والی نماز کے رب! محمد ﷺ کو وسیلہ اور فضیلت عطا فرما، اور انہیں مقامِ محمود پر فائز فرما جس کا تو نے ان سے وعدہ فرمایا ہے۔"
📖 صحیح البخاری
*رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص اذان کے بعد یہ دعا پڑھتا ہے، اس کے لیے میری شفاعت واجب ہو جاتی ہے۔*
*🎯 آج کا چیلنج:* آج سے ہر اذان کو توجہ سے سنیں، مؤذن کے الفاظ کا جواب دیں، “حی علی الصلاۃ” اور “حی علی الفلاح” کے جواب میں “لا حول ولا قوۃ إلا باللہ” پڑھیں، اور اذان کے بعد مسنون دعا کا اہتمام کریں۔
🌿 یاد رہے! پچھلے دنوں کی تمام سنتیں بھی جاری رکھنی ہیں: مسواک، سلام، کھانے کے آداب، خوش اخلاقی، روزہ، معاف کرنا، سونے کے مسنون آداب، پڑوسی کا خیال، قرآن سے روزانہ تعلق اور تحفہ دینا۔
*❤️ سنت صرف جاننی نہیں، اپنانی ہے!*
بہ شکریہ اطفال البرہان
📓اپنے بچوں کو سماجی مہارتیں سکھائیں -
✒️ تحریر:ام مسفرہ مبشرہ کھوت
*پہلی قسط _*
*_______*
ہمارا سماج ہماری زندگی کا ایک اٹوٹ حصہ ہے۔ اس معاشرے میں رہنے کے کچھ اصول اور آداب ہیں جنھیں ہم سب کو اپنانا ہوتا ہے۔ ہمارے بچے بھی اسی سماج کا حصہ ہیں اور آنے والے وقت میں اسی سماج کی اقدار، تہذیب اور روایات کے امین ہوں گے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم ان کی تعلیمی اور اخلاقی تربیت کے ساتھ ساتھ ان کی سماجی تربیت پر بھی توجہ دیں۔
اس مضمون میں ہم یہ جاننے کی کوشش کریں گے کہ:
بچوں کو سماجی مہارتیں کیوں سکھائیں،
سماجی مہارتوں کی اہمیت کیا ہے،
اور ہم اپنے بچوں میں یہ مہارتیں کس طرح پروان چڑھا سکتے ہیں۔
*(الف) بچوں کو سماجی مہارتیں کیوں سکھائیں؟*
ہمیں بچوں کو سماجی مہارتیں اس لیے سکھانی ہیں کہ وہ سماج کے خوف میں نہیں بلکہ سماج کے شعور کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔ وہ دوسروں کے جذبات اور حقوق کو سمجھیں، اختلافِ رائے کو برداشت کرنا سیکھیں، اپنی بات احترام کے ساتھ کہہ سکیں، دوسروں کی بات سن سکیں اور ضرورت پڑنے پر اپنی حدود قائم کر سکیں۔
بچہ محض ’’اچھا بچہ‘‘ بن کر لوگوں کو خوش نہ کرے، بلکہ ایک ایسا انسان بنے جو جانتا ہو کہ کب دوسروں کا خیال رکھنا ہے اور کب اپنی بات کے لیے کھڑا ہونا ہے؛ کب معذرت کرنی ہے اور کب اپنی غلطی تسلیم کرنی ہے؛ کب تعاون کرنا ہے اور کب ’’نہیں‘‘ کہنا ہے۔
سماجی مہارتوں کا اصل مقصد بچے کو قابلِ قبول بنانا نہیں، قابلِ تعلق بنانا ہے۔ ایسا انسان جو اپنی ذات سے جڑا ہوا ہو، مگر دوسروں سے کٹا ہوا نہ ہو؛ جو اپنی آزادی کو سمجھتا ہو، مگر دوسروں کے حقوق کا بھی احترام کرتا ہو۔
ہم اپنے بچوں کو سماج میں گھلنا ملنا سکھائیں، مگر اس طرح نہیں کہ وہ اپنی ذات ہی کھو بیٹھیں۔ انھیں یہ سکھائیں کہ معاشرے کا حصہ بننے کا مطلب اپنی آواز خاموش کرنا نہیں، بلکہ اپنی آواز کو اس انداز میں استعمال کرنا ہے کہ اس میں خود کی عزت بھی باقی رہے اور دوسروں کی عزت بھی۔ ہمیں تربیت ایسی نہیں کرنی ہے جو یہ سکھائے کہ صرف اچھا برتاؤ کریں کہ ’’لوگ کیا کہیں گے؟‘‘ ہمیں ایسے انسان تیار کرنے ہیں جو اس لیے اچھا برتاؤ کریں کہ وہ سمجھتے ہیں کہ ایک بہتر معاشرہ بہتر انسانوں سے بنتا ہے۔
#مبشرہ
✒️ تحریر:ام مسفرہ مبشرہ کھوت
*پہلی قسط _*
*_______*
ہمارا سماج ہماری زندگی کا ایک اٹوٹ حصہ ہے۔ اس معاشرے میں رہنے کے کچھ اصول اور آداب ہیں جنھیں ہم سب کو اپنانا ہوتا ہے۔ ہمارے بچے بھی اسی سماج کا حصہ ہیں اور آنے والے وقت میں اسی سماج کی اقدار، تہذیب اور روایات کے امین ہوں گے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم ان کی تعلیمی اور اخلاقی تربیت کے ساتھ ساتھ ان کی سماجی تربیت پر بھی توجہ دیں۔
اس مضمون میں ہم یہ جاننے کی کوشش کریں گے کہ:
بچوں کو سماجی مہارتیں کیوں سکھائیں،
سماجی مہارتوں کی اہمیت کیا ہے،
اور ہم اپنے بچوں میں یہ مہارتیں کس طرح پروان چڑھا سکتے ہیں۔
*(الف) بچوں کو سماجی مہارتیں کیوں سکھائیں؟*
ہمیں بچوں کو سماجی مہارتیں اس لیے سکھانی ہیں کہ وہ سماج کے خوف میں نہیں بلکہ سماج کے شعور کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔ وہ دوسروں کے جذبات اور حقوق کو سمجھیں، اختلافِ رائے کو برداشت کرنا سیکھیں، اپنی بات احترام کے ساتھ کہہ سکیں، دوسروں کی بات سن سکیں اور ضرورت پڑنے پر اپنی حدود قائم کر سکیں۔
بچہ محض ’’اچھا بچہ‘‘ بن کر لوگوں کو خوش نہ کرے، بلکہ ایک ایسا انسان بنے جو جانتا ہو کہ کب دوسروں کا خیال رکھنا ہے اور کب اپنی بات کے لیے کھڑا ہونا ہے؛ کب معذرت کرنی ہے اور کب اپنی غلطی تسلیم کرنی ہے؛ کب تعاون کرنا ہے اور کب ’’نہیں‘‘ کہنا ہے۔
سماجی مہارتوں کا اصل مقصد بچے کو قابلِ قبول بنانا نہیں، قابلِ تعلق بنانا ہے۔ ایسا انسان جو اپنی ذات سے جڑا ہوا ہو، مگر دوسروں سے کٹا ہوا نہ ہو؛ جو اپنی آزادی کو سمجھتا ہو، مگر دوسروں کے حقوق کا بھی احترام کرتا ہو۔
ہم اپنے بچوں کو سماج میں گھلنا ملنا سکھائیں، مگر اس طرح نہیں کہ وہ اپنی ذات ہی کھو بیٹھیں۔ انھیں یہ سکھائیں کہ معاشرے کا حصہ بننے کا مطلب اپنی آواز خاموش کرنا نہیں، بلکہ اپنی آواز کو اس انداز میں استعمال کرنا ہے کہ اس میں خود کی عزت بھی باقی رہے اور دوسروں کی عزت بھی۔ ہمیں تربیت ایسی نہیں کرنی ہے جو یہ سکھائے کہ صرف اچھا برتاؤ کریں کہ ’’لوگ کیا کہیں گے؟‘‘ ہمیں ایسے انسان تیار کرنے ہیں جو اس لیے اچھا برتاؤ کریں کہ وہ سمجھتے ہیں کہ ایک بہتر معاشرہ بہتر انسانوں سے بنتا ہے۔
#مبشرہ
❤1
Media is too big
VIEW IN TELEGRAM
🍿
Istighfar Dua | Ask Allah for Forgiveness Abdul Bari on Dua maghfirah Urdu🌿 🌟 *40 دن، 40 سنتیں — دن 13* 🌟
🌹 آج کی پیاری سنت *: درود شریف پڑھنا*
اللہ تعالیٰ قرآنِ کریم میں فرماتے ہیں:
“بے شک اللہ اور اس کے فرشتے نبی ﷺ پر رحمت بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود اور خوب سلام بھیجا کرو۔” 📖 سورۃ الأحزاب: 56
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“جس نے مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجا، اللہ تعالیٰ اس پر دس رحمتیں نازل فرمائے گا۔” 📖 صحیح مسلم
آپ ﷺ نے فرمایا:
“قیامت کے دن میرے سب سے زیادہ قریب وہ شخص ہوگا جو مجھ پر سب سے زیادہ درود بھیجتا ہوگا۔” 📖 جامع الترمذی
درود شریف پڑھنا نبی کریم ﷺ سے محبت، عقیدت اور وفاداری کا اظہار ہے۔ اس سے دل کو سکون ملتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی رحمتیں نصیب ہوتی ہیں۔
*🎯 آج کا چیلنج:*
آج درود شریف پڑھنے کی ایک مقدار مقرر کریں، مثلاً کم از کم 100 مرتبہ، اور اسے روزانہ کا معمول بنانے کی کوشش کریں۔ چلتے پھرتے، فارغ وقت میں اور نماز کے بعد درود شریف پڑھنے کا اہتمام کریں۔
🌿 یاد رہے! پچھلے دنوں کی تمام سنتیں بھی جاری رکھنی ہیں: مسواک، سلام، کھانے کے آداب، خوش اخلاقی، روزہ، معاف کرنا، سونے کے مسنون آداب، پڑوسی کا خیال، قرآن سے روزانہ تعلق، تحفہ دینا، اذان کا جواب دینا اور والدین کے ساتھ حسنِ سلوک۔
*❤️ سنت صرف جاننی نہیں، اپنانی ہے!*
بہ شکریہ اطفال البرہان
🌹 آج کی پیاری سنت *: درود شریف پڑھنا*
اللہ تعالیٰ قرآنِ کریم میں فرماتے ہیں:
“بے شک اللہ اور اس کے فرشتے نبی ﷺ پر رحمت بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود اور خوب سلام بھیجا کرو۔” 📖 سورۃ الأحزاب: 56
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“جس نے مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجا، اللہ تعالیٰ اس پر دس رحمتیں نازل فرمائے گا۔” 📖 صحیح مسلم
آپ ﷺ نے فرمایا:
“قیامت کے دن میرے سب سے زیادہ قریب وہ شخص ہوگا جو مجھ پر سب سے زیادہ درود بھیجتا ہوگا۔” 📖 جامع الترمذی
درود شریف پڑھنا نبی کریم ﷺ سے محبت، عقیدت اور وفاداری کا اظہار ہے۔ اس سے دل کو سکون ملتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی رحمتیں نصیب ہوتی ہیں۔
*🎯 آج کا چیلنج:*
آج درود شریف پڑھنے کی ایک مقدار مقرر کریں، مثلاً کم از کم 100 مرتبہ، اور اسے روزانہ کا معمول بنانے کی کوشش کریں۔ چلتے پھرتے، فارغ وقت میں اور نماز کے بعد درود شریف پڑھنے کا اہتمام کریں۔
🌿 یاد رہے! پچھلے دنوں کی تمام سنتیں بھی جاری رکھنی ہیں: مسواک، سلام، کھانے کے آداب، خوش اخلاقی، روزہ، معاف کرنا، سونے کے مسنون آداب، پڑوسی کا خیال، قرآن سے روزانہ تعلق، تحفہ دینا، اذان کا جواب دینا اور والدین کے ساتھ حسنِ سلوک۔
*❤️ سنت صرف جاننی نہیں، اپنانی ہے!*
بہ شکریہ اطفال البرہان
Media is too big
VIEW IN TELEGRAM
🍿
Bablo Ne Chupkali Pakarli | Gulam Rasool Cartoon Series | Islamic Cartoon | Kids LandMedia is too big
VIEW IN TELEGRAM
🍿
Allah Allah | Beautiful Islamic Kids Hamd | 3D Islamic Cartoon Animation | Allahu Allahu Kids Video