حجره پڑا ہے سونا اور پیر جی ہیں غائب
حجرے میں کیا ہوا تھا، یہ عرض پھر کروں گا
دولہا دلہن تھے راضی، آیا تھا پھر بھی قاضی
قاضی نے کیا کِیا تھا، یہ عرض پھر کروں گا
عِرق النساء کا نسخہ، مہر النساء نے لکھا
نسخے میں کیا لکھا تھا، یہ عرض پھر کروں گا
شانے پہ جو پڑا تھا، کہنے کو تھا دوپٹہ
کتنا سا تھا دوپٹہ، یہ عرض پھر کروں گا
دونوں تھے روٹھے روٹھے، بیوی میاں ہوں جیسے
دونوں میں کیا تھا رشتہ، یہ عرض پھر کروں گا
لڑکی نے بھی قبولا، لڑکے نے بھی قبولا
دونوں نے کیا قبولا، یہ عرض پھر کروں گا
بے وزن سب تھے مصرعے، شاعر مگر تھا وزنی
شاعر کا وزن کیا تھا، یہ عرض پھر کروں گا
کچھ عرض کر دیا ہے، کچھ عرض پھر کروں گا
پھر عرض کیا کروں گا، یہ عرض پھر کروں گا
(نقل وچسپاں)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
انتخاب از ایڈمن: “الف،ب،نون”
واٹس ایپ:
https://chat.whatsapp.com/CTx8JZEe5sx9tHTVlV8KcA
ٹیلی گرام:
t.me/CutPiece
حجرے میں کیا ہوا تھا، یہ عرض پھر کروں گا
دولہا دلہن تھے راضی، آیا تھا پھر بھی قاضی
قاضی نے کیا کِیا تھا، یہ عرض پھر کروں گا
عِرق النساء کا نسخہ، مہر النساء نے لکھا
نسخے میں کیا لکھا تھا، یہ عرض پھر کروں گا
شانے پہ جو پڑا تھا، کہنے کو تھا دوپٹہ
کتنا سا تھا دوپٹہ، یہ عرض پھر کروں گا
دونوں تھے روٹھے روٹھے، بیوی میاں ہوں جیسے
دونوں میں کیا تھا رشتہ، یہ عرض پھر کروں گا
لڑکی نے بھی قبولا، لڑکے نے بھی قبولا
دونوں نے کیا قبولا، یہ عرض پھر کروں گا
بے وزن سب تھے مصرعے، شاعر مگر تھا وزنی
شاعر کا وزن کیا تھا، یہ عرض پھر کروں گا
کچھ عرض کر دیا ہے، کچھ عرض پھر کروں گا
پھر عرض کیا کروں گا، یہ عرض پھر کروں گا
(نقل وچسپاں)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
انتخاب از ایڈمن: “الف،ب،نون”
واٹس ایپ:
https://chat.whatsapp.com/CTx8JZEe5sx9tHTVlV8KcA
ٹیلی گرام:
t.me/CutPiece
“جاپانی نظامِ تعلیم”
ﺟﺎﭘﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﻮ ﭘﮩﻠﯽ ﮐﻼﺱ ﺳﮯ ﻟﮯ ﮐﺮ ﭘﻨﺠﻢ ﮐﻼﺱ ﺗﮏ ﺍﯾﮏ ﻣﻀﻤﻮﻥ "ﺍﯾﭩﯿﮑﯿﭩﺲ" ﮐﮯﻧﺎﻡ ﺳﮯ ﭘﮍﮬﺎﯾﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮬﮯ ﺍﺱ ﭘﯿﺮﯾﮉ ﻣﯿﮟ ﺑﭽﮧ ﺍﺧﻼﻕ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺳﺮﻭﮞ ﺳﮯ ﮐﯿﺴﮯ ﭘﯿﺶ ﺁﻧﺎ ﮬﮯ؟ ﯾﮧ ﺳﯿﮑﮭﺘﺎ ﮬﮯ ۔
ﭘﮩﻠﯽ ﺳﮯ ﻟﮯ ﮐﺮ ﻣﮉﻝ ﯾﻌﻨﯽ ﺁﭨﮭﻮﯾﮟ ﺗﮏ ﺑﭽﮯ ﮐﻮ ﮐﮩﯿﮟ ﻓﯿﻞ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯿﺎﺟﺎﺗﺎ ۔ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﮐﮧ ﺍﺱ ﻋﻤﺮ ﻣﯿﮟ ﺗﻌﻠﯿﻢ ﮐﺎ ﻣﻘﺼﺪ ﺗﺮﺑﯿﺖ ،ﻣﻌﻨﯽ ﻭ ﻣﻔﮩﻮﻡ ﺳﮑﮭﺎﻧﺎ ﺍﻭﺭ ﺗﻌﻤﯿﺮ ﺷﺨﺼﯿﺖ ﮨﻮﺗﺎ ﮬﮯ۔ ﺻﺮﻑ ﺭﭨﻨﺎ ﺭﭨﺎﻧﺎ ﻧﮩﯿﮟ۔
ﺟﺎﭘﺎﻧﯽ ﺍﮔﺮﭼﮧ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﯽ ﺍﻣﯿﺮ ﺗﺮﯾﻦ ﻗﻮﻣﻮﮞ ﻤﯿﮟ ﺳﮯ ﮨﯿﮟ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﻥ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﺧﺎﺩﻡ ﺍﻭﺭ ﺁﯾﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﯽ۔ ﺑﺎﭖ ﺍﻭﺭ ﻣﺎﮞ ﮨﯽ ﮔﮭﺮ ﮐﯽ ﺩﯾﮑﮫ ﺑﮭﺎﻝ ﺍﻭﺭ ﺍﻭﻻﺩ ﮐﯽ ﺗﺮﺑﯿﺖ ﻭ ﺗﻌﻠﯿﻢ ﮐﮯ ﺫﻣﮧ ﺩﺍﺭ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔
ﺟﺎﭘﺎﻧﯽ ﺑﭽﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﺳﺎﺗﺬﮦ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻣﻞ ﮐﺮ ﺭﻭﺯﺍﻧﮧ ۱۵ ﻣﻨﭧ ﺗﮏ ﺍﭘﻨﺎ ﻣﺪﺭﺳﮧ ﺻﺎﻑ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ۔ﻧﺘﯿﺠﮧ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﭘﻮﺭﯼ ﻗﻮﻡ ﻋﺠﺰ ﻭ ﺍﻧﮑﺴﺎﺭ ﮐﺎ ﭘﯿﮑﺮ ﺍﻭﺭ ﺻﻔﺎﺋﯽ ﺳﺘﮭﺮﺍﺋﯽ ﮐﯽ ﺷﯿﺪﺍﺋﯽ ﮨﮯ ۔
ﺟﺎﭘﺎﻧﯽ ﺍﺳﮑﻮﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﭽﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﭨﻮﺗﮫ ﺑﺮﺵ ﺳﺎﺗﮫ ﻟﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ۔ﻣﺪﺭﺳﮧ ﻣﯿﮟ ﮨﯽ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺩﺍﻧﺘﻮﮞ ﮐﯽ ﺻﻔﺎﺋﯽ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ۔ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﭼﮭﻮﭨﯽ ﻋﻤﺮ ﻣﯿﮟ ﮨﯽ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺣﻔﻈﺎﻥ ﺻﺤﺖ ﮐﯽ ﺗﻌﻠﯿﻢ ﺍﻭﺭ ﺗﺮﺑﯿﺖ ﻣﻠﺘﯽ ﭼﻠﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ۔
ﻣﺪﺭﺳﮧ ﮐﮯ ﺍﺳﺎﺗﺬﮦ ﺍﻭﺭ ﺩﯾﮕﺮ ﻣﻨﺘﻈﻤﯿﻦ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﺎ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﺳﮯ ﺁﺩﮬﺎ ﮔﮭﻨﭩﮧ ﻗﺒﻞ ﺧﻮﺩ ﯾﮩﯽ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﮐﮭﺎ ﮐﺮ ﭼﯿﮏ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﭨﮭﯿﮏ ﮬﮯ ﯾﺎ ﻧﮩﯿﮟ ؟ ﺍﺳﺎﺗﺬﮦ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﻮ ﺟﺎﭘﺎﻥ ﮐﺎ ﻣﺴﺘﻘﺒﻞ ﺳﻤﺠﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻟﮩﺬﺍ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺻﺤﺖ ﮐﯽ ﺣﻔﺎﻇﺖ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﻣﻘﺪﻡ ﺭﮐﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔
ﺟﺎﭘﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺻﻔﺎﺋﯽ ﮐﮯ ﻋﻤﻠﮯ ﮐﻮ "ﮨﯿﻠﺘﮫ ﺍﻧﺠﻨﺌﯿﺮ " ﮐﮩﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮬﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻣﺎﮨﺎﻧﮧ ﺗﻨﺨﻮﺍﮦ ۵۰۰۰ ﺳﮯ ۸۰۰۰ ﮈﺍﻟﺮ ﺗﮏ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ۔ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﻭﺭﮐﺮﺯ ﮐﻮ ﺑﺎﻗﺎﻋﺪﮦ ﭨﯿﺴﭧ ﺍﻧﭩﺮﻭﯾﻮ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﮨﯽ ﺟﺎﺏ ﭘﺮ ﺭﮐﮭﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮬﮯ ۔
ﺭﯾﻞ ﮔﺎﮌﯼ، ﮨﻮﭨﻠﺰ ﺍﻭﺭ ﺑﻨﺪ ﺟﮕﮩﻮﮞ ﭘﺮ ﻣﻮﺑﺎﺋﻞ ﮐﺎ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﻣﻤﻨﻮﻉ ﮨﮯ۔ ﻣﻮﺑﺎﺋﻞ ﻣﯿﮞﺴﺎﺋﻠﻨﭧ ﮐﯽ ﺟﮕﮧ ﺍﺧﻼﻕ ﻟﮑﮭﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﮬﮯ ۔
ﺭﯾﺴﭩﻮﺭﻧﭧ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﺗﻮ ﺁﭖ ﺩﯾﮑﮭﯿﮟ ﮨﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﺗﻨﺎ ﮨﯽ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﻟﮯ ﮔﺎ ﺟﺲ ﻗﺪﺭ ﮐﮧ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﮬﮯ ۔ﮐﻮﺋﯽ ﻓﺮﺩ ﭘﻠﯿﭧ ﻣﯿﮟ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﭼﮭﻮﮌﺗﺎ۔
ﺟﺎﭘﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺭﯾﻞ ﮔﺎﮌﯾﻮﮞ ﮐﮯ ﻟﯿﭧ ﮨﻮﻧﮯﮐﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﺗﺼﻮﺭ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ۔ ﺍﺳﯽ ﻟﯿﮯ ﺗﺎﺧﯿﺮ ﮐﺎ ﺗﻨﺎﺳﺐ ﺻﺮﻑ ۷ ﺳﯿﮑﻨﮉ ﭘﺮ ﺍﺋﯿﺮ ﮬﮯ۔ ﺟﺎﭘﺎﻧﯽ ﻗﻮﻡ ﻭﻗﺖ ﮐﯽ ﻗﺪﺭ ﺍﻭﺭ ﻗﯿﻤﺖ ﮐﻮ ﺍﭼﮭﯽ ﻃﺮﺡ ﺳﮯ ﺟﺎﻧﺘﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﮏ ﺳﯿﮑﻨﮉ ﺍﻭﺭ ﻣﻨﭧ ﮐﺎ ﭘﻮﺭﺍ ﭘﻮﺭﺍ ﺣﺴﺎﺏ ﺭﮐﮭﺘﯽ ﮨﮯ..!!
(نقل وچسپاں)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
انتخاب از ایڈمن: “الف،ب،نون”
واٹس ایپ:
https://chat.whatsapp.com/CTx8JZEe5sx9tHTVlV8KcA
ٹیلی گرام:
t.me/CutPiece
ﺟﺎﭘﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﻮ ﭘﮩﻠﯽ ﮐﻼﺱ ﺳﮯ ﻟﮯ ﮐﺮ ﭘﻨﺠﻢ ﮐﻼﺱ ﺗﮏ ﺍﯾﮏ ﻣﻀﻤﻮﻥ "ﺍﯾﭩﯿﮑﯿﭩﺲ" ﮐﮯﻧﺎﻡ ﺳﮯ ﭘﮍﮬﺎﯾﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮬﮯ ﺍﺱ ﭘﯿﺮﯾﮉ ﻣﯿﮟ ﺑﭽﮧ ﺍﺧﻼﻕ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺳﺮﻭﮞ ﺳﮯ ﮐﯿﺴﮯ ﭘﯿﺶ ﺁﻧﺎ ﮬﮯ؟ ﯾﮧ ﺳﯿﮑﮭﺘﺎ ﮬﮯ ۔
ﭘﮩﻠﯽ ﺳﮯ ﻟﮯ ﮐﺮ ﻣﮉﻝ ﯾﻌﻨﯽ ﺁﭨﮭﻮﯾﮟ ﺗﮏ ﺑﭽﮯ ﮐﻮ ﮐﮩﯿﮟ ﻓﯿﻞ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯿﺎﺟﺎﺗﺎ ۔ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﮐﮧ ﺍﺱ ﻋﻤﺮ ﻣﯿﮟ ﺗﻌﻠﯿﻢ ﮐﺎ ﻣﻘﺼﺪ ﺗﺮﺑﯿﺖ ،ﻣﻌﻨﯽ ﻭ ﻣﻔﮩﻮﻡ ﺳﮑﮭﺎﻧﺎ ﺍﻭﺭ ﺗﻌﻤﯿﺮ ﺷﺨﺼﯿﺖ ﮨﻮﺗﺎ ﮬﮯ۔ ﺻﺮﻑ ﺭﭨﻨﺎ ﺭﭨﺎﻧﺎ ﻧﮩﯿﮟ۔
ﺟﺎﭘﺎﻧﯽ ﺍﮔﺮﭼﮧ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﯽ ﺍﻣﯿﺮ ﺗﺮﯾﻦ ﻗﻮﻣﻮﮞ ﻤﯿﮟ ﺳﮯ ﮨﯿﮟ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﻥ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﺧﺎﺩﻡ ﺍﻭﺭ ﺁﯾﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﯽ۔ ﺑﺎﭖ ﺍﻭﺭ ﻣﺎﮞ ﮨﯽ ﮔﮭﺮ ﮐﯽ ﺩﯾﮑﮫ ﺑﮭﺎﻝ ﺍﻭﺭ ﺍﻭﻻﺩ ﮐﯽ ﺗﺮﺑﯿﺖ ﻭ ﺗﻌﻠﯿﻢ ﮐﮯ ﺫﻣﮧ ﺩﺍﺭ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔
ﺟﺎﭘﺎﻧﯽ ﺑﭽﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﺳﺎﺗﺬﮦ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻣﻞ ﮐﺮ ﺭﻭﺯﺍﻧﮧ ۱۵ ﻣﻨﭧ ﺗﮏ ﺍﭘﻨﺎ ﻣﺪﺭﺳﮧ ﺻﺎﻑ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ۔ﻧﺘﯿﺠﮧ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﭘﻮﺭﯼ ﻗﻮﻡ ﻋﺠﺰ ﻭ ﺍﻧﮑﺴﺎﺭ ﮐﺎ ﭘﯿﮑﺮ ﺍﻭﺭ ﺻﻔﺎﺋﯽ ﺳﺘﮭﺮﺍﺋﯽ ﮐﯽ ﺷﯿﺪﺍﺋﯽ ﮨﮯ ۔
ﺟﺎﭘﺎﻧﯽ ﺍﺳﮑﻮﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﭽﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﭨﻮﺗﮫ ﺑﺮﺵ ﺳﺎﺗﮫ ﻟﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ۔ﻣﺪﺭﺳﮧ ﻣﯿﮟ ﮨﯽ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺩﺍﻧﺘﻮﮞ ﮐﯽ ﺻﻔﺎﺋﯽ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ۔ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﭼﮭﻮﭨﯽ ﻋﻤﺮ ﻣﯿﮟ ﮨﯽ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺣﻔﻈﺎﻥ ﺻﺤﺖ ﮐﯽ ﺗﻌﻠﯿﻢ ﺍﻭﺭ ﺗﺮﺑﯿﺖ ﻣﻠﺘﯽ ﭼﻠﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ۔
ﻣﺪﺭﺳﮧ ﮐﮯ ﺍﺳﺎﺗﺬﮦ ﺍﻭﺭ ﺩﯾﮕﺮ ﻣﻨﺘﻈﻤﯿﻦ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﺎ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﺳﮯ ﺁﺩﮬﺎ ﮔﮭﻨﭩﮧ ﻗﺒﻞ ﺧﻮﺩ ﯾﮩﯽ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﮐﮭﺎ ﮐﺮ ﭼﯿﮏ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﭨﮭﯿﮏ ﮬﮯ ﯾﺎ ﻧﮩﯿﮟ ؟ ﺍﺳﺎﺗﺬﮦ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﻮ ﺟﺎﭘﺎﻥ ﮐﺎ ﻣﺴﺘﻘﺒﻞ ﺳﻤﺠﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻟﮩﺬﺍ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺻﺤﺖ ﮐﯽ ﺣﻔﺎﻇﺖ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﻣﻘﺪﻡ ﺭﮐﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔
ﺟﺎﭘﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺻﻔﺎﺋﯽ ﮐﮯ ﻋﻤﻠﮯ ﮐﻮ "ﮨﯿﻠﺘﮫ ﺍﻧﺠﻨﺌﯿﺮ " ﮐﮩﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮬﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻣﺎﮨﺎﻧﮧ ﺗﻨﺨﻮﺍﮦ ۵۰۰۰ ﺳﮯ ۸۰۰۰ ﮈﺍﻟﺮ ﺗﮏ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ۔ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﻭﺭﮐﺮﺯ ﮐﻮ ﺑﺎﻗﺎﻋﺪﮦ ﭨﯿﺴﭧ ﺍﻧﭩﺮﻭﯾﻮ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﮨﯽ ﺟﺎﺏ ﭘﺮ ﺭﮐﮭﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮬﮯ ۔
ﺭﯾﻞ ﮔﺎﮌﯼ، ﮨﻮﭨﻠﺰ ﺍﻭﺭ ﺑﻨﺪ ﺟﮕﮩﻮﮞ ﭘﺮ ﻣﻮﺑﺎﺋﻞ ﮐﺎ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﻣﻤﻨﻮﻉ ﮨﮯ۔ ﻣﻮﺑﺎﺋﻞ ﻣﯿﮞﺴﺎﺋﻠﻨﭧ ﮐﯽ ﺟﮕﮧ ﺍﺧﻼﻕ ﻟﮑﮭﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﮬﮯ ۔
ﺭﯾﺴﭩﻮﺭﻧﭧ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﺗﻮ ﺁﭖ ﺩﯾﮑﮭﯿﮟ ﮨﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﺗﻨﺎ ﮨﯽ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﻟﮯ ﮔﺎ ﺟﺲ ﻗﺪﺭ ﮐﮧ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﮬﮯ ۔ﮐﻮﺋﯽ ﻓﺮﺩ ﭘﻠﯿﭧ ﻣﯿﮟ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﭼﮭﻮﮌﺗﺎ۔
ﺟﺎﭘﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺭﯾﻞ ﮔﺎﮌﯾﻮﮞ ﮐﮯ ﻟﯿﭧ ﮨﻮﻧﮯﮐﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﺗﺼﻮﺭ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ۔ ﺍﺳﯽ ﻟﯿﮯ ﺗﺎﺧﯿﺮ ﮐﺎ ﺗﻨﺎﺳﺐ ﺻﺮﻑ ۷ ﺳﯿﮑﻨﮉ ﭘﺮ ﺍﺋﯿﺮ ﮬﮯ۔ ﺟﺎﭘﺎﻧﯽ ﻗﻮﻡ ﻭﻗﺖ ﮐﯽ ﻗﺪﺭ ﺍﻭﺭ ﻗﯿﻤﺖ ﮐﻮ ﺍﭼﮭﯽ ﻃﺮﺡ ﺳﮯ ﺟﺎﻧﺘﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﮏ ﺳﯿﮑﻨﮉ ﺍﻭﺭ ﻣﻨﭧ ﮐﺎ ﭘﻮﺭﺍ ﭘﻮﺭﺍ ﺣﺴﺎﺏ ﺭﮐﮭﺘﯽ ﮨﮯ..!!
(نقل وچسپاں)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
انتخاب از ایڈمن: “الف،ب،نون”
واٹس ایپ:
https://chat.whatsapp.com/CTx8JZEe5sx9tHTVlV8KcA
ٹیلی گرام:
t.me/CutPiece
“بہادر شاہ ظفر کا دسترخوان”
• چاولوں میں
یخنی پلاؤ، موتی پلاؤ، نکتی پلاؤ، نورمحلی پلاؤ، کشمش پلاؤ، نرگسی پلاؤ، لال پلاؤ، مزعفر پلاؤ، فالسائی پلاؤ، آبی پلاؤ، سنہری پلاؤ، روپہلی پلاؤ، مرغ پلاؤ، بیضہ پلاؤ، انناس پلاؤ، کوفتہ پلاؤ، بریانی پلاؤ، سالم بکرے کا پلاؤ، بونٹ پلاؤ، کھچڑی، شوالہ (گوشت میں پکی ہوئی کھچڑی) اور قبولی ظاہری۔
• سالنوں میں
امید ہے میری طرح آپ نے یہ نام بھی نہ سنے ہوں گے۔۔۔
قلیہ، دوپیازہ، ہرن کا قورمہ، مرغ کا قورمہ، مچھلی، بینگن کا بھرتا، آلو کا بھرتہ، چنے کی دال کا بھرتہ، بینگن کا دلمہ، کریلوں کا دلمہ، بادشاہ پسند کریلے، بادشاہ پسند دال، سیخ کباب، شامی کباب، گولیوں کے کباب، تیتر کے کباب، بٹیر کے کباب، نکتی کباب، خطائی کباب اور حسینی کباب شامل ہوتے تھے۔
• روٹیوں کی اقسام
شاید آپ نے انٹرنیٹ پر بھی نہ دیکھی ہوں۔۔
۔ چپاتیاں، پھلکے، پراٹھے، روغنی روٹی، خمیری روٹی، گاؤدیدہ، گاؤ زبان، کلچہ، غوصی روٹی، بادام کی روٹی، پستے کی روٹی، چاول کی روٹی، گاجر کی روٹی، مصری کی روٹی، نان، نان پنبہ، نان گلزار، نان تنکی اور شیرمال۔
• میٹھے میں
۔متنجن، زردہ مزعفر، کدو کی کھیر، گاجر کی کھیر، کنگنی کی کھیر، یاقوتی، نمش، روے کا حلوہ، گاجر کا حلوہ، کدو کا حلوہ، ملائی کا حلوہ، بادام کا حلوہ، پستے کا حلوہ، رنگترے کا حلوہ۔
• مربے
۔ آم کا مربا، سیب کا مربا، بہی کا مربا، ترنج کا مربا، کریلے کا مربا، رنگترے کا مربا، لیموں کا مربا، انناس کا مربا، گڑھل کا مربا، ککروندے کا مربا، بانس کا مربا۔
• مٹھائیوں کی اقسام
۔ جلیبی، امرتی، برفی، پھینی، قلاقند، موتی پاک، بالو شاہی، در بہشت، اندرسے کی گولیاں، حلوہ سوہن، حلوہ حبشی، حلوہ گوندے کا، حلوہ پیڑی کا، لڈو موتی چور کے، مونگے کے، بادام کے، پستے کے، ملاتی کے، لوزیں مونگ کی، دودھ کی، پستے کی بادم کی، جامن کی، رنگترے کی، فالسے کی، پیٹھے کی مٹھائی اور پستہ مغزی۔
یہ مزےدار رنگا رنگ کھانے سونے اور چاندی کی قابوں، رکابیوں، طشتریوں اور پیالوں پیالیوں میں سجے اور مشک، زعفران اور کیوڑے کی خوشبو سے مہکا کرتے تھے۔ چاندی کے ورق الگ سے جھلملاتے تھے۔ کھانے کے وقت پورا شاہی خاندان موجود ہوتا تھا۔
(انتظار حسین کی کتاب ،،دلی جو ایک شہر تھا،، سے اقتباس)
جس وقت یہ فضول لوگ اس قسم کے کھانوں سے لطف لے رہے تھے اس وقت انگریز اپنے لشکر اور توپوں کو درست اور جدید سہولیات سے مرفہ کرنے میں مصروف تھے... اور وقت گواہ ہے کہ پھر یہی بہادر شاہ ظفر رنگون کی جیل میں سوکھے نان کو پانی میں بھگو بھگو کر کھا رہا تھا اور اللہ تعالٰی سے اپنے گناہوں اور کوتاہیوں پر معافی مانگنے کے بجائے (نہ کسی کی آنکھ کا نور ہوں نہ کسی کے دل کا قرار ہوں) میں اپنی مظلومیت قلمبند کررہا تھا جس کو پڑھ کر واقعی بہت ترس آتا ہے....
شاید آپکو ناگوار گزرے لیکن یہ اک حقیقت ہے کہ اس کے برعکس ایک 65 سالہ بوڑھی کافرہ عورت... گولڈا مئیر جسکو ہسٹری آئرن لیڈی کے نام سے یاد کرتی ہے جس نے عربوں کو آگے لگا کر بھاگنے پر مجبور کیا تھا اور اپنی شرائط پر صلح کیا تھا اس سے واشنگٹن پوسٹ کے ایک صحافی نے پوچھا تھا کہ...
میڈم آپ نے امریکہ کے ساتھ اسلحہ خریدنے کے لیے جنگ کے دوران ایک انتہائی مہنگی ڈیل کی تھی حالانکہ اس وقت اسرائیل کی معیشت بہت زیادہ خراب تھی جسکی وجہ سے آپ کے خلاف مظاہرے بھی ہوئے تو کیا آپ کو امید تھی کہ آپ یہ جنگ جیت لیں گی اور آپ کو اس وقت کیا محسوس ہوتا تھا جب آپ یہ ڈیل کر رہی تھیں؟
اس عورت نے کیا جواب دیا...... جب آپ عیاشی کے لیے پیسے وقف کرنا شروع کر دیتے ہیں تو آپ کے ارادے اور ادارے کمزور ہو جاتے ہیں اور آپکی دفاعی حکمت عملی زیرو ہو جاتی ہے اور مجھے پتا تھا کہ میں یہ سب کچھ اپنی قوم کے لئے کر رہی ہوں۔ میں نے کہیں پڑھا تھا کہ مسلمانوں کے نبی(حضرت محمد صل اللہ علیہ و آلہ و سلم) کے گھر کی دیوار پر انتہائی فاقوں کے باوجود آخری وقت میں بھی تین تلواریں ٹانگی ہوئی تھیں اور اسی واقعہ نے مجھ کو ہمت دی تھی کہ میں یہ ڈیل کروں. اور نتیجہ آپ کے سامنے ہے...
آج بحثیت مسلمان ہم انتہائی گراوٹ کی جن حدود کو چھو رہے ہیں اللہ تعالٰی رحم کرے... کیونکہ دو دو سو منزلہ عمارتیں بنانے کے لیے اور ایک ایک رات میں ڈانسرز پر پچاس پچاس کروڑ روپے اڑانے کے لئے تو ہمارے پاس بہت کچھ ہے جب کہ غریب مسلمان ممالک میں بچے ایک وقت کی روٹی بھی حاصل نہیں کر سکتے ہیں.. پینے کا پانی نہیں ہے.. باقی سہولیات تو بہت بعد میں آتی ہیں... آج ہماری ترجیحات عیاشیاں ہیں نہ کہ اسلام کی بقا کے لئے تیاری...
اللہ تعالٰی ہم سب کو ہدایت دے آمین۔۔ کیونکہ مسلمانوں کا شیوہ عیاشی نہیں فقر اور غیرت ہے موجودہ فلسطینی معاملے میں بھی بالآخر جیت اسرائیل کی ہی ہوگی کیونکہ ہمارے مسلمان سربراہان کے ناپاک اجسام کو گندگی کے ڈھیر اور عیاشی کے سامان امریکہ اور اسرائیل ہی فراہم کرتے ہیں اور یہ بے غیرت اس کے بغیر رہ نہیں
• چاولوں میں
یخنی پلاؤ، موتی پلاؤ، نکتی پلاؤ، نورمحلی پلاؤ، کشمش پلاؤ، نرگسی پلاؤ، لال پلاؤ، مزعفر پلاؤ، فالسائی پلاؤ، آبی پلاؤ، سنہری پلاؤ، روپہلی پلاؤ، مرغ پلاؤ، بیضہ پلاؤ، انناس پلاؤ، کوفتہ پلاؤ، بریانی پلاؤ، سالم بکرے کا پلاؤ، بونٹ پلاؤ، کھچڑی، شوالہ (گوشت میں پکی ہوئی کھچڑی) اور قبولی ظاہری۔
• سالنوں میں
امید ہے میری طرح آپ نے یہ نام بھی نہ سنے ہوں گے۔۔۔
قلیہ، دوپیازہ، ہرن کا قورمہ، مرغ کا قورمہ، مچھلی، بینگن کا بھرتا، آلو کا بھرتہ، چنے کی دال کا بھرتہ، بینگن کا دلمہ، کریلوں کا دلمہ، بادشاہ پسند کریلے، بادشاہ پسند دال، سیخ کباب، شامی کباب، گولیوں کے کباب، تیتر کے کباب، بٹیر کے کباب، نکتی کباب، خطائی کباب اور حسینی کباب شامل ہوتے تھے۔
• روٹیوں کی اقسام
شاید آپ نے انٹرنیٹ پر بھی نہ دیکھی ہوں۔۔
۔ چپاتیاں، پھلکے، پراٹھے، روغنی روٹی، خمیری روٹی، گاؤدیدہ، گاؤ زبان، کلچہ، غوصی روٹی، بادام کی روٹی، پستے کی روٹی، چاول کی روٹی، گاجر کی روٹی، مصری کی روٹی، نان، نان پنبہ، نان گلزار، نان تنکی اور شیرمال۔
• میٹھے میں
۔متنجن، زردہ مزعفر، کدو کی کھیر، گاجر کی کھیر، کنگنی کی کھیر، یاقوتی، نمش، روے کا حلوہ، گاجر کا حلوہ، کدو کا حلوہ، ملائی کا حلوہ، بادام کا حلوہ، پستے کا حلوہ، رنگترے کا حلوہ۔
• مربے
۔ آم کا مربا، سیب کا مربا، بہی کا مربا، ترنج کا مربا، کریلے کا مربا، رنگترے کا مربا، لیموں کا مربا، انناس کا مربا، گڑھل کا مربا، ککروندے کا مربا، بانس کا مربا۔
• مٹھائیوں کی اقسام
۔ جلیبی، امرتی، برفی، پھینی، قلاقند، موتی پاک، بالو شاہی، در بہشت، اندرسے کی گولیاں، حلوہ سوہن، حلوہ حبشی، حلوہ گوندے کا، حلوہ پیڑی کا، لڈو موتی چور کے، مونگے کے، بادام کے، پستے کے، ملاتی کے، لوزیں مونگ کی، دودھ کی، پستے کی بادم کی، جامن کی، رنگترے کی، فالسے کی، پیٹھے کی مٹھائی اور پستہ مغزی۔
یہ مزےدار رنگا رنگ کھانے سونے اور چاندی کی قابوں، رکابیوں، طشتریوں اور پیالوں پیالیوں میں سجے اور مشک، زعفران اور کیوڑے کی خوشبو سے مہکا کرتے تھے۔ چاندی کے ورق الگ سے جھلملاتے تھے۔ کھانے کے وقت پورا شاہی خاندان موجود ہوتا تھا۔
(انتظار حسین کی کتاب ،،دلی جو ایک شہر تھا،، سے اقتباس)
جس وقت یہ فضول لوگ اس قسم کے کھانوں سے لطف لے رہے تھے اس وقت انگریز اپنے لشکر اور توپوں کو درست اور جدید سہولیات سے مرفہ کرنے میں مصروف تھے... اور وقت گواہ ہے کہ پھر یہی بہادر شاہ ظفر رنگون کی جیل میں سوکھے نان کو پانی میں بھگو بھگو کر کھا رہا تھا اور اللہ تعالٰی سے اپنے گناہوں اور کوتاہیوں پر معافی مانگنے کے بجائے (نہ کسی کی آنکھ کا نور ہوں نہ کسی کے دل کا قرار ہوں) میں اپنی مظلومیت قلمبند کررہا تھا جس کو پڑھ کر واقعی بہت ترس آتا ہے....
شاید آپکو ناگوار گزرے لیکن یہ اک حقیقت ہے کہ اس کے برعکس ایک 65 سالہ بوڑھی کافرہ عورت... گولڈا مئیر جسکو ہسٹری آئرن لیڈی کے نام سے یاد کرتی ہے جس نے عربوں کو آگے لگا کر بھاگنے پر مجبور کیا تھا اور اپنی شرائط پر صلح کیا تھا اس سے واشنگٹن پوسٹ کے ایک صحافی نے پوچھا تھا کہ...
میڈم آپ نے امریکہ کے ساتھ اسلحہ خریدنے کے لیے جنگ کے دوران ایک انتہائی مہنگی ڈیل کی تھی حالانکہ اس وقت اسرائیل کی معیشت بہت زیادہ خراب تھی جسکی وجہ سے آپ کے خلاف مظاہرے بھی ہوئے تو کیا آپ کو امید تھی کہ آپ یہ جنگ جیت لیں گی اور آپ کو اس وقت کیا محسوس ہوتا تھا جب آپ یہ ڈیل کر رہی تھیں؟
اس عورت نے کیا جواب دیا...... جب آپ عیاشی کے لیے پیسے وقف کرنا شروع کر دیتے ہیں تو آپ کے ارادے اور ادارے کمزور ہو جاتے ہیں اور آپکی دفاعی حکمت عملی زیرو ہو جاتی ہے اور مجھے پتا تھا کہ میں یہ سب کچھ اپنی قوم کے لئے کر رہی ہوں۔ میں نے کہیں پڑھا تھا کہ مسلمانوں کے نبی(حضرت محمد صل اللہ علیہ و آلہ و سلم) کے گھر کی دیوار پر انتہائی فاقوں کے باوجود آخری وقت میں بھی تین تلواریں ٹانگی ہوئی تھیں اور اسی واقعہ نے مجھ کو ہمت دی تھی کہ میں یہ ڈیل کروں. اور نتیجہ آپ کے سامنے ہے...
آج بحثیت مسلمان ہم انتہائی گراوٹ کی جن حدود کو چھو رہے ہیں اللہ تعالٰی رحم کرے... کیونکہ دو دو سو منزلہ عمارتیں بنانے کے لیے اور ایک ایک رات میں ڈانسرز پر پچاس پچاس کروڑ روپے اڑانے کے لئے تو ہمارے پاس بہت کچھ ہے جب کہ غریب مسلمان ممالک میں بچے ایک وقت کی روٹی بھی حاصل نہیں کر سکتے ہیں.. پینے کا پانی نہیں ہے.. باقی سہولیات تو بہت بعد میں آتی ہیں... آج ہماری ترجیحات عیاشیاں ہیں نہ کہ اسلام کی بقا کے لئے تیاری...
اللہ تعالٰی ہم سب کو ہدایت دے آمین۔۔ کیونکہ مسلمانوں کا شیوہ عیاشی نہیں فقر اور غیرت ہے موجودہ فلسطینی معاملے میں بھی بالآخر جیت اسرائیل کی ہی ہوگی کیونکہ ہمارے مسلمان سربراہان کے ناپاک اجسام کو گندگی کے ڈھیر اور عیاشی کے سامان امریکہ اور اسرائیل ہی فراہم کرتے ہیں اور یہ بے غیرت اس کے بغیر رہ نہیں
محبت بھیک ہوتی تو
تمھارے در پہ جھک جاتے
خدا کا واسطہ دے کر
یہ تم سے مانگ لیتے ہم
صدا دیتے
خدا کے واسطے یہ ڈال دو جھولی ہماری میں
مگر یہ بھیک تھوڑی ہے
جو جھک کے مانگ لی جائے
فقط احساس ہے جاناں
محبت آس ہے جاناں
بہت حساس ہے جاناں
کبھی احساس کو بازار میں بِکتے ہوئے دیکھا؟
کسی بھی آس کو کشکول میں ڈالا نہیں جاتا
محبت ایک جذبہ ہے
جو مانگے سے نہیں ملتا
اگر یہ بھیک ہوتی تو
بھکاری بن گئے ہوتے
مگر یہ بھیک تھوڑی ہے
سہولت سے جو مل جائے
سہولت سے نہیں ملتی
بڑی مشکل سے ملتی ہے
یہ دل کو دل سے ملتی ہے
تمہیں احساس ہی کب ہے۔۔؟
ہماری آس ہی کب ہے۔۔؟
تمہیں احساس ہوتا تو
ہمارے ہو گئے ہوتے۔۔۔
فقط یہ سوچ کے تم سے جدائی کا ارادہ ہے
محبت بھیک تھوڑی ہے
جو تم سے مانگتے پھرتے
مگر یہ ذہن میں رکھنا
زمانہ بیت جائے تو
ہماری یاد آئے تو
ہمیں آواز دے لینا
ہمیشہ پاس پاؤ گے
ہمارے دل میں چاہت کا
سدا احساس پاؤ گے
(نقل وچسپاں)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
انتخاب: جناب “خلیل احمد” صاحب (ممبئی)
واٹس ایپ:
https://chat.whatsapp.com/CTx8JZEe5sx9tHTVlV8KcA
ٹیلی گرام:
t.me/CutPiece
تمھارے در پہ جھک جاتے
خدا کا واسطہ دے کر
یہ تم سے مانگ لیتے ہم
صدا دیتے
خدا کے واسطے یہ ڈال دو جھولی ہماری میں
مگر یہ بھیک تھوڑی ہے
جو جھک کے مانگ لی جائے
فقط احساس ہے جاناں
محبت آس ہے جاناں
بہت حساس ہے جاناں
کبھی احساس کو بازار میں بِکتے ہوئے دیکھا؟
کسی بھی آس کو کشکول میں ڈالا نہیں جاتا
محبت ایک جذبہ ہے
جو مانگے سے نہیں ملتا
اگر یہ بھیک ہوتی تو
بھکاری بن گئے ہوتے
مگر یہ بھیک تھوڑی ہے
سہولت سے جو مل جائے
سہولت سے نہیں ملتی
بڑی مشکل سے ملتی ہے
یہ دل کو دل سے ملتی ہے
تمہیں احساس ہی کب ہے۔۔؟
ہماری آس ہی کب ہے۔۔؟
تمہیں احساس ہوتا تو
ہمارے ہو گئے ہوتے۔۔۔
فقط یہ سوچ کے تم سے جدائی کا ارادہ ہے
محبت بھیک تھوڑی ہے
جو تم سے مانگتے پھرتے
مگر یہ ذہن میں رکھنا
زمانہ بیت جائے تو
ہماری یاد آئے تو
ہمیں آواز دے لینا
ہمیشہ پاس پاؤ گے
ہمارے دل میں چاہت کا
سدا احساس پاؤ گے
(نقل وچسپاں)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
انتخاب: جناب “خلیل احمد” صاحب (ممبئی)
واٹس ایپ:
https://chat.whatsapp.com/CTx8JZEe5sx9tHTVlV8KcA
ٹیلی گرام:
t.me/CutPiece
“یہ بیٹیاں...”
ہماری ایک عزیزہ ہیں۔ شادی کو پندرہ سال ہوگئے۔ اللہ نے اوپر تلے چار بیٹے دیے لیکن بیٹی کوئی نہیں تھی۔ انہیں بیٹی کی بہت خواہش تھی۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ بیٹے بہت شرارتی تھے سارا دن ناک میں دم کرکے رکھتے۔ ماں بے چاری کام کرکرکے ہلکان ہوجاتی لیکن انہیں کوئی پرواہ نہیں تھی۔ جتنا وہ انہیں صفائی رکھنے کا کہتی اتنا ہی وہ گند مچاتے۔ میں جب کبھی بھی ان سے ملنے گئی انہیں پریشان اور شکوہ کناں ہی دیکھا۔
دوسال پہلے اللہ نے انکی دعا قبول کر لی اور انہیں ایک بیٹی عطا کی۔ مصروفیت کی وجہ سے میرا انکی طرف جانا ممکن ہی نہ ہوسکا۔ چند دن پہلے ان سے ملنے گئی۔ اللہ نے بڑی پیاری بیٹی دی تھی ۔ چند دن پہلے ہی اس بچی نے چلنا سیکھا تھا تو ماشاءاللہ سارے گھر میں بھاگی پھر رہی تھی۔ وہ کمرے میں آئی تو میں نے پکڑ کر گود میں بٹھا لیا اور خوب پیار کیا۔میری گود سے اتر کر اس نے ایک عجیب حرکت کی۔ کمرے میں دو تین جگہ پر بسکٹ اور ٹافیوں کے ریپرز پڑے تھے اس ڈیڑھ سال کی بچی نے اپنے ننھے ننھے ہاتھوں سے وہ سارے ریپرز اٹھائے اور صحن کے کونے میں پڑی ڈسٹ بن میں ڈال دیے۔ میں حیرانی سے اسے دیکھ رہی تھی کہ اس کی والدہ کمرے میں آگئی۔ میرے استفسار پر انہوں نے مجھے کہا۔ حوریہ میں اسی لیے تو اللہ سے بیٹی مانگا کرتی تھی کیونکہ بیٹیاں ماں کی مددگار ہوتی ہے۔ یہ ابھی ڈیڑھ سال کی ہے لیکن ابھی سے میری مدد کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ بھائی کچھ کھا کر پلیٹ وہیں رکھ دیتے ہیں تو یہ اٹھا کر کچن میں رکھ کر آتی ہے۔ وہ ریپرز کمرے میں ہی پھینک دیتے ہیں تو یہ سارے اکٹھے کرکے ڈسٹ بن میں پھینک کر آتی ہے۔ فیڈرز میں دودھ ڈال کر رکھتی ہوں تو پہلے اپنے بڑے بھائی کا فیڈر اٹھا کر اسے دے کر آتی ہے پھر اپنا فیڈر لیتی ہے۔ میرے چاروں بیٹوں نے آج تک کبھی میرا ہاتھ بٹانے کی کوشش نہیں کی۔ انہیں بس اپنے پڑھنے، کھیلنے اورکھانے سے مطلب ہے جبکہ میری بیٹی نے اتنی سی عمرسے ہی میرا خیال رکھنا شروع کردیا۔
کتنی عجیب بات ہے نا کہ لوگ پھر بھی بیٹی کو پسند نہیں کرتے، وہ ہمیشہ اللہ سے اولادِ نرینہ کی ہی دعا مانگتے ہیں حالانکہ اللہ سے دعا تو یہ کرنی چاہیے کہ اللہ جو بھی اولاد دے نیک اور فرمابردار دے۔ میں نے بہت سے ایسے ماں باپ کو بھی بڑھاپے میں رلتے دیکھا ہے جن کے چار چار بیٹے تھے۔ بیٹی نہ صرف گھر کے کام کاج میں ماں کا ہاتھ بٹاتی ہے بلکہ اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ ماں کو بیٹی کے روپ میں ایک سہیلی مل جاتی ہے جس سے وہ اپنے دل کی ہر بات کرلیتی ہے۔
یہ ٹھیک ہے کہ بیٹوں کو بھی والدین سے پیار ہوتا ہے لیکن جو پیار بیٹی کو اپنے ماں باپ سے ہوتا ہے اس کی مثال نہیں ملتی۔ شادی ہوجانے کے بعد بھی اس کا دھیان اپنے ماں باپ کی طرف ہی لگا رہتا ہے اور وہاں رہتے ہوئے بھی اس سے جتنا ہوسکے وہ اپنے ماں باپ کے لیے کرتی ہے۔
بیٹیوں کو بوجھ سمجھنے والے یہ بات جان لیں کہ ضروری نہیں بیٹا ساری عمر ہی آپ کا بیٹا رہے لیکن بیٹی مرتے دم تک بیٹی ہی رہتی ہے۔
(نقل وچسپاں)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
انتخاب از ایڈمن: “الف،ب،نون”
واٹس ایپ:
https://chat.whatsapp.com/CTx8JZEe5sx9tHTVlV8KcA
ٹیلی گرام:
t.me/CutPiece
ہماری ایک عزیزہ ہیں۔ شادی کو پندرہ سال ہوگئے۔ اللہ نے اوپر تلے چار بیٹے دیے لیکن بیٹی کوئی نہیں تھی۔ انہیں بیٹی کی بہت خواہش تھی۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ بیٹے بہت شرارتی تھے سارا دن ناک میں دم کرکے رکھتے۔ ماں بے چاری کام کرکرکے ہلکان ہوجاتی لیکن انہیں کوئی پرواہ نہیں تھی۔ جتنا وہ انہیں صفائی رکھنے کا کہتی اتنا ہی وہ گند مچاتے۔ میں جب کبھی بھی ان سے ملنے گئی انہیں پریشان اور شکوہ کناں ہی دیکھا۔
دوسال پہلے اللہ نے انکی دعا قبول کر لی اور انہیں ایک بیٹی عطا کی۔ مصروفیت کی وجہ سے میرا انکی طرف جانا ممکن ہی نہ ہوسکا۔ چند دن پہلے ان سے ملنے گئی۔ اللہ نے بڑی پیاری بیٹی دی تھی ۔ چند دن پہلے ہی اس بچی نے چلنا سیکھا تھا تو ماشاءاللہ سارے گھر میں بھاگی پھر رہی تھی۔ وہ کمرے میں آئی تو میں نے پکڑ کر گود میں بٹھا لیا اور خوب پیار کیا۔میری گود سے اتر کر اس نے ایک عجیب حرکت کی۔ کمرے میں دو تین جگہ پر بسکٹ اور ٹافیوں کے ریپرز پڑے تھے اس ڈیڑھ سال کی بچی نے اپنے ننھے ننھے ہاتھوں سے وہ سارے ریپرز اٹھائے اور صحن کے کونے میں پڑی ڈسٹ بن میں ڈال دیے۔ میں حیرانی سے اسے دیکھ رہی تھی کہ اس کی والدہ کمرے میں آگئی۔ میرے استفسار پر انہوں نے مجھے کہا۔ حوریہ میں اسی لیے تو اللہ سے بیٹی مانگا کرتی تھی کیونکہ بیٹیاں ماں کی مددگار ہوتی ہے۔ یہ ابھی ڈیڑھ سال کی ہے لیکن ابھی سے میری مدد کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ بھائی کچھ کھا کر پلیٹ وہیں رکھ دیتے ہیں تو یہ اٹھا کر کچن میں رکھ کر آتی ہے۔ وہ ریپرز کمرے میں ہی پھینک دیتے ہیں تو یہ سارے اکٹھے کرکے ڈسٹ بن میں پھینک کر آتی ہے۔ فیڈرز میں دودھ ڈال کر رکھتی ہوں تو پہلے اپنے بڑے بھائی کا فیڈر اٹھا کر اسے دے کر آتی ہے پھر اپنا فیڈر لیتی ہے۔ میرے چاروں بیٹوں نے آج تک کبھی میرا ہاتھ بٹانے کی کوشش نہیں کی۔ انہیں بس اپنے پڑھنے، کھیلنے اورکھانے سے مطلب ہے جبکہ میری بیٹی نے اتنی سی عمرسے ہی میرا خیال رکھنا شروع کردیا۔
کتنی عجیب بات ہے نا کہ لوگ پھر بھی بیٹی کو پسند نہیں کرتے، وہ ہمیشہ اللہ سے اولادِ نرینہ کی ہی دعا مانگتے ہیں حالانکہ اللہ سے دعا تو یہ کرنی چاہیے کہ اللہ جو بھی اولاد دے نیک اور فرمابردار دے۔ میں نے بہت سے ایسے ماں باپ کو بھی بڑھاپے میں رلتے دیکھا ہے جن کے چار چار بیٹے تھے۔ بیٹی نہ صرف گھر کے کام کاج میں ماں کا ہاتھ بٹاتی ہے بلکہ اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ ماں کو بیٹی کے روپ میں ایک سہیلی مل جاتی ہے جس سے وہ اپنے دل کی ہر بات کرلیتی ہے۔
یہ ٹھیک ہے کہ بیٹوں کو بھی والدین سے پیار ہوتا ہے لیکن جو پیار بیٹی کو اپنے ماں باپ سے ہوتا ہے اس کی مثال نہیں ملتی۔ شادی ہوجانے کے بعد بھی اس کا دھیان اپنے ماں باپ کی طرف ہی لگا رہتا ہے اور وہاں رہتے ہوئے بھی اس سے جتنا ہوسکے وہ اپنے ماں باپ کے لیے کرتی ہے۔
بیٹیوں کو بوجھ سمجھنے والے یہ بات جان لیں کہ ضروری نہیں بیٹا ساری عمر ہی آپ کا بیٹا رہے لیکن بیٹی مرتے دم تک بیٹی ہی رہتی ہے۔
(نقل وچسپاں)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
انتخاب از ایڈمن: “الف،ب،نون”
واٹس ایپ:
https://chat.whatsapp.com/CTx8JZEe5sx9tHTVlV8KcA
ٹیلی گرام:
t.me/CutPiece
"وہ مریض جو میں کبھی نہیں بھلا پاؤنگا"
زیر نظر چند واقعات ایک عرب بلاگر نے مختلف ڈاکٹروں کی یاداشتوں کو جمع کر کے بعنوان "وہ مریض جو میں کبھی نہیں بھلا پاؤنگا" شائع کیئے ہیں۔ ترجمہ کے بعد آپ کی نظر کر رہا ہوں:
*
"وہ مریض جو میں کبھی نہیں بھلا پاؤنگا"
میں نے ایک بار، ایک ہی دن، ایک ہی ہسپتال میں، ایک ہی خاوند کی ایسی دو بیویوں کی دو مختلف کمروں میں ڈیلیوری کی جنہیں یہ پتہ نہیں تھا کہ وہ دونوں ایک ہی مرد کی منکوحہ ہیں۔
*
"وہ مریض جو میں کبھی نہیں بھلا پاؤنگا"
ایمرجنسی وارڈ میں، جان لیوا حادثے میں بچ جانے والے ایک نوجون کی خوشی دیدنی تھی جو ملنے کیلیئے ہر آتے جاتے دوست رشتے داروں کو بتا رہا تھا کہ وہ کتنا خوش قسمت ہے جسے نئی زندگی مل گئی ہے۔ نوجوان کے اندرونی زخموں سے بہتے خون کی زیادتی سے یہ نوجوان چند ہی لمحوں بعد بازی ہار گیا۔
*
"وہ مریض جو میں کبھی نہیں بھلا پاؤنگا"
سعودیہ میں کمائی کیلیئے آیا ہوا ایک انڈین جو ایک خونی حادثے میں کٹا پھٹا، ہسپتال میں پڑا تھا، بچوں کی طرح بلک بلک کر اس لیئے رو رہا تھا کہ وہ یہاں پردیس میں اکیلا پڑا تھا اور حادثے کے وقت اس کے اپنے اس کے ساتھ نہیں تھے۔
*
"وہ مریض جو میں کبھی نہیں بھلا پاؤنگا"
آپریشن کے ذریعے بچے کی ڈیلیوری کے بعد ڈاکٹر نے اسے صحت قرار دیکر گھر جانے کی پرچی لکھ دی۔ خاتون بچے کو لیئے ، اس بات سے بے خبر انتظار کر رہی تھی کہ اس کے خاوند کا گھر سے آتے ہوئے راستے میں حادثہ ہوا ہے اور وہ ملک عدم کو سدھار چکا ہے۔
*
"وہ مریض جو میں کبھی نہیں بھلا پاؤنگا"
ایک معمر عورت جو میرے زیر علاج تھی، ہر بار مجھ سے نسخہ لکھوا چکنے کے ، میری جیب میں کبھی ٹافیاں اور کبھی دو ریال ڈال کر چلی جاتی تھی۔
*
"وہ مریض جو میں کبھی نہیں بھلا پاؤنگا"
ایک ماں اپنے نومولود بچے کے پاس، جسے انتہائی نگہداشت میں رکھ دیا گیا تھاکو، مامتا اور شفقت سے لبریز بار بار کہہ رہی تھی؛ میری جان، میں نے تیرا بیس سال انتظار کیا ہے۔
*
"وہ مریض جو میں کبھی نہیں بھلا پاؤنگا"
ایک عمر رسیدہ مریضہ کو جیسے ہی میں نے کہا کہ : ماں جی اب آپ اپنے دل کے والو تبدیل کر ہی لیجیئے۔ خاتون نے حیرت زدہ ہوتے ہوئے مجھے دیکھتے ہوئے کہا: پُتر، ایمان سے مجھے یہ کرنا نہیں آتا، تو ہی کر دے ناں۔
*
"وہ مریض جو میں کبھی نہیں بھلا پاؤنگا"
ایک بزرگ عورت ، ہسپتال کے کمرے میں، اپنے ملاقاتی رشتہ داروں کو جب اپنے خاوند کی وجاہت اور عظمت کے قصے سنا رہی تھی، اس وقت اُن کے کمرے کے باہر پرچہ لکھا ہوا تھا کہ "ازراہ کرم ہماری امی کو مت بتائیے کہ ہمارے والد صاحب کا انتقال ہو گیا ہے"۔
*
"وہ مریض جو میں کبھی نہیں بھلا پاؤنگا"
ستتر سال کی بوڑھی عورت ، جیسے ہی اُس کے کچھ ٹیسٹ شروع کیئے گئے، اس کا ڈر دیدنی تھا۔ کہنے لگی: مجھے اپنی ساری زندگی میں ہمیشہ بس دو ہی چیزوں سے ڈر لگا ہے؛ ایک دانتوں کے ڈاکٹر سے، دوسرا اپنے خاوند کے غصے سے۔
*
"وہ مریض جو میں کبھی نہیں بھلا پاؤنگا"
میں نے جب ڈرتے ڈرتے اُسے اطلاع دی کہ آپ کو کینسر ہو چکا ہے تو اس کی سنجیدگی اور پرسکون دھیما پن دیدنی تھا۔ کہنے لگے: تو جسے کینسر نہیں ہے اُس نے نہیں مرنا کیا؟ کوئی علاج ویلاج ہے آپ کے پاس یا پھر میں جاؤں اپنے گھر؟
*
"وہ مریض جو میں کبھی نہیں بھلا پاؤنگا"
ایک عجیب الخلقت بچے کو جسے اُس کے سارے گھر والے ہسپتال میں ہی چھوڑ کر چلے تھے، ہم نے آخری کوشش کے طور پر بچے کے والد کو فون کیا تو اُس نے کہا؛ کسی یتیم خانے میں جمع کرا دو اسے۔
*
"وہ مریض جو میں کبھی نہیں بھلا پاؤنگا"
ایک بوڑھی عورت کو جب بتایا گیا کہ اُسے خبیث مرض کینسر ہو گیا ہے تو اُس کا غصہ دیدنی تھا۔ کہنے لگی: اللہ پاک بہت رحیم ہیں اور مرض بندے کیلیئے امتحان ہوتی ہے۔ وہ کس طرح اپنے بندوں کیلیئے خبیث مرض بنا سکتے ہیں۔ مرض مرض ہوتا ہے اور اسے بس مرض ہی کہو۔
*
"وہ مریض جو میں کبھی نہیں بھلا پاؤنگا"
جاں بلب بوڑھی عورت کے کمرے سے نکلتے ہوئے نوجون بُڑبُڑا رہا تھا کہ اس بُڈھی نے تو باندھ کے رکھ دیا ہے مجھے۔ اور بوڑھی عورت اندر نرسوں سے کہہ رہی کہ میرے بیٹے کو ابھی نہ جانے دو۔
*
"وہ مریض جو میں کبھی نہیں بھلا پاؤنگا"
ایک عورت ،جس کا عجیب الخلقت بچہ پیدا ہوتے ہوئے ہی فوت ہو گیا تھا، کو گلے سے لگائے ہوئے رو رو کر کہہ رہی تھی؛ میری جان، تو میرے باقی کے بچوں سے زیادہ پیارا تھا۔ جا، اللہ کے حوالے میرے جگر گوشے۔
*
"وہ مریض جو میں کبھی نہیں بھلا پاؤنگا"
اس کا باپ میرے پاس آیا تھا ایک بار، روتے ہوئے بتایا تھا کہ بیٹے نے مجھ پر ہاتھ اُٹھایا ہے۔ اب اس کا بیٹا میرے پاس علاج کیلیئے آتا ہے۔ آٹھ سال ہوگئے ہیں، تین شادیاں کر چکا ہے، ابھی تک اولاد سے محروم ہے۔
*
"وہ مریض جو میں کبھی نہیں بھلا پاؤنگا"
میں اُسے بتایا کہ تیرے بیٹے شاید آل اولاد والے عمل میں کمزور رہیں۔ شادی سے پہل
زیر نظر چند واقعات ایک عرب بلاگر نے مختلف ڈاکٹروں کی یاداشتوں کو جمع کر کے بعنوان "وہ مریض جو میں کبھی نہیں بھلا پاؤنگا" شائع کیئے ہیں۔ ترجمہ کے بعد آپ کی نظر کر رہا ہوں:
*
"وہ مریض جو میں کبھی نہیں بھلا پاؤنگا"
میں نے ایک بار، ایک ہی دن، ایک ہی ہسپتال میں، ایک ہی خاوند کی ایسی دو بیویوں کی دو مختلف کمروں میں ڈیلیوری کی جنہیں یہ پتہ نہیں تھا کہ وہ دونوں ایک ہی مرد کی منکوحہ ہیں۔
*
"وہ مریض جو میں کبھی نہیں بھلا پاؤنگا"
ایمرجنسی وارڈ میں، جان لیوا حادثے میں بچ جانے والے ایک نوجون کی خوشی دیدنی تھی جو ملنے کیلیئے ہر آتے جاتے دوست رشتے داروں کو بتا رہا تھا کہ وہ کتنا خوش قسمت ہے جسے نئی زندگی مل گئی ہے۔ نوجوان کے اندرونی زخموں سے بہتے خون کی زیادتی سے یہ نوجوان چند ہی لمحوں بعد بازی ہار گیا۔
*
"وہ مریض جو میں کبھی نہیں بھلا پاؤنگا"
سعودیہ میں کمائی کیلیئے آیا ہوا ایک انڈین جو ایک خونی حادثے میں کٹا پھٹا، ہسپتال میں پڑا تھا، بچوں کی طرح بلک بلک کر اس لیئے رو رہا تھا کہ وہ یہاں پردیس میں اکیلا پڑا تھا اور حادثے کے وقت اس کے اپنے اس کے ساتھ نہیں تھے۔
*
"وہ مریض جو میں کبھی نہیں بھلا پاؤنگا"
آپریشن کے ذریعے بچے کی ڈیلیوری کے بعد ڈاکٹر نے اسے صحت قرار دیکر گھر جانے کی پرچی لکھ دی۔ خاتون بچے کو لیئے ، اس بات سے بے خبر انتظار کر رہی تھی کہ اس کے خاوند کا گھر سے آتے ہوئے راستے میں حادثہ ہوا ہے اور وہ ملک عدم کو سدھار چکا ہے۔
*
"وہ مریض جو میں کبھی نہیں بھلا پاؤنگا"
ایک معمر عورت جو میرے زیر علاج تھی، ہر بار مجھ سے نسخہ لکھوا چکنے کے ، میری جیب میں کبھی ٹافیاں اور کبھی دو ریال ڈال کر چلی جاتی تھی۔
*
"وہ مریض جو میں کبھی نہیں بھلا پاؤنگا"
ایک ماں اپنے نومولود بچے کے پاس، جسے انتہائی نگہداشت میں رکھ دیا گیا تھاکو، مامتا اور شفقت سے لبریز بار بار کہہ رہی تھی؛ میری جان، میں نے تیرا بیس سال انتظار کیا ہے۔
*
"وہ مریض جو میں کبھی نہیں بھلا پاؤنگا"
ایک عمر رسیدہ مریضہ کو جیسے ہی میں نے کہا کہ : ماں جی اب آپ اپنے دل کے والو تبدیل کر ہی لیجیئے۔ خاتون نے حیرت زدہ ہوتے ہوئے مجھے دیکھتے ہوئے کہا: پُتر، ایمان سے مجھے یہ کرنا نہیں آتا، تو ہی کر دے ناں۔
*
"وہ مریض جو میں کبھی نہیں بھلا پاؤنگا"
ایک بزرگ عورت ، ہسپتال کے کمرے میں، اپنے ملاقاتی رشتہ داروں کو جب اپنے خاوند کی وجاہت اور عظمت کے قصے سنا رہی تھی، اس وقت اُن کے کمرے کے باہر پرچہ لکھا ہوا تھا کہ "ازراہ کرم ہماری امی کو مت بتائیے کہ ہمارے والد صاحب کا انتقال ہو گیا ہے"۔
*
"وہ مریض جو میں کبھی نہیں بھلا پاؤنگا"
ستتر سال کی بوڑھی عورت ، جیسے ہی اُس کے کچھ ٹیسٹ شروع کیئے گئے، اس کا ڈر دیدنی تھا۔ کہنے لگی: مجھے اپنی ساری زندگی میں ہمیشہ بس دو ہی چیزوں سے ڈر لگا ہے؛ ایک دانتوں کے ڈاکٹر سے، دوسرا اپنے خاوند کے غصے سے۔
*
"وہ مریض جو میں کبھی نہیں بھلا پاؤنگا"
میں نے جب ڈرتے ڈرتے اُسے اطلاع دی کہ آپ کو کینسر ہو چکا ہے تو اس کی سنجیدگی اور پرسکون دھیما پن دیدنی تھا۔ کہنے لگے: تو جسے کینسر نہیں ہے اُس نے نہیں مرنا کیا؟ کوئی علاج ویلاج ہے آپ کے پاس یا پھر میں جاؤں اپنے گھر؟
*
"وہ مریض جو میں کبھی نہیں بھلا پاؤنگا"
ایک عجیب الخلقت بچے کو جسے اُس کے سارے گھر والے ہسپتال میں ہی چھوڑ کر چلے تھے، ہم نے آخری کوشش کے طور پر بچے کے والد کو فون کیا تو اُس نے کہا؛ کسی یتیم خانے میں جمع کرا دو اسے۔
*
"وہ مریض جو میں کبھی نہیں بھلا پاؤنگا"
ایک بوڑھی عورت کو جب بتایا گیا کہ اُسے خبیث مرض کینسر ہو گیا ہے تو اُس کا غصہ دیدنی تھا۔ کہنے لگی: اللہ پاک بہت رحیم ہیں اور مرض بندے کیلیئے امتحان ہوتی ہے۔ وہ کس طرح اپنے بندوں کیلیئے خبیث مرض بنا سکتے ہیں۔ مرض مرض ہوتا ہے اور اسے بس مرض ہی کہو۔
*
"وہ مریض جو میں کبھی نہیں بھلا پاؤنگا"
جاں بلب بوڑھی عورت کے کمرے سے نکلتے ہوئے نوجون بُڑبُڑا رہا تھا کہ اس بُڈھی نے تو باندھ کے رکھ دیا ہے مجھے۔ اور بوڑھی عورت اندر نرسوں سے کہہ رہی کہ میرے بیٹے کو ابھی نہ جانے دو۔
*
"وہ مریض جو میں کبھی نہیں بھلا پاؤنگا"
ایک عورت ،جس کا عجیب الخلقت بچہ پیدا ہوتے ہوئے ہی فوت ہو گیا تھا، کو گلے سے لگائے ہوئے رو رو کر کہہ رہی تھی؛ میری جان، تو میرے باقی کے بچوں سے زیادہ پیارا تھا۔ جا، اللہ کے حوالے میرے جگر گوشے۔
*
"وہ مریض جو میں کبھی نہیں بھلا پاؤنگا"
اس کا باپ میرے پاس آیا تھا ایک بار، روتے ہوئے بتایا تھا کہ بیٹے نے مجھ پر ہاتھ اُٹھایا ہے۔ اب اس کا بیٹا میرے پاس علاج کیلیئے آتا ہے۔ آٹھ سال ہوگئے ہیں، تین شادیاں کر چکا ہے، ابھی تک اولاد سے محروم ہے۔
*
"وہ مریض جو میں کبھی نہیں بھلا پاؤنگا"
میں اُسے بتایا کہ تیرے بیٹے شاید آل اولاد والے عمل میں کمزور رہیں۔ شادی سے پہل
ے ان کے مناسب چیک اپ ضرور کرا لینا۔ کہنے لگا: میں نے اپنے خاندان میں ہی ایک شخص سے زیادتی کی تھی۔ لگتا ہے ُس کی دعا پوری ہو گئی ہے۔
*
"وہ مریض جو میں کبھی نہیں بھلا پاؤنگا"
اپنے باپ کے علاج کیلیئے ہسپتال میں باپ کے ساتھ ہی رہ رہا تھا۔ باپ کے کمرے سے نکل کر ساتھ والے کمرے میں سوئے ہوئے مریض کی تیمار داری کیلیئے اندر چلا گیا۔ مریض نے روتے ہوئے کہا؛ پُتر، کئی مہینوں کے بعدڈاکٹروں اور نرسوں کے علاوہ کوئی بندہ اگر میرے کمرے میں آیا ہے تو وہ تم ہو۔
*
"وہ مریض جو میں کبھی نہیں بھلا پاؤنگا"
عمر رسیدہ خاتون کو دل کے دورے میں جانبر کرنے کیلیئے سینے پر بجلی کے جھٹکے لگا ئے گئے۔ ہوش میں آنے پر اس نے سب سے پہلے اپنے کپڑے درست کیئے تھے
---
نوٹ: اوپر والا سٹیٹس کسی کا دل دکھانے یا دل آزاری کیلیئے نہیں لکھا۔ صرف یہ بتانے کیلیئے کہ عافیت اور صحت ہزار نعمت ہے۔ اللہ کا ہر حال میں شکر گزار رہنا چاہیئے۔ شکریہ
(نقل وچسپاں)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
انتخاب از ایڈمن: “الف،ب،نون”
واٹس ایپ:
https://chat.whatsapp.com/CTx8JZEe5sx9tHTVlV8KcA
ٹیلی گرام:
t.me/CutPiece
*
"وہ مریض جو میں کبھی نہیں بھلا پاؤنگا"
اپنے باپ کے علاج کیلیئے ہسپتال میں باپ کے ساتھ ہی رہ رہا تھا۔ باپ کے کمرے سے نکل کر ساتھ والے کمرے میں سوئے ہوئے مریض کی تیمار داری کیلیئے اندر چلا گیا۔ مریض نے روتے ہوئے کہا؛ پُتر، کئی مہینوں کے بعدڈاکٹروں اور نرسوں کے علاوہ کوئی بندہ اگر میرے کمرے میں آیا ہے تو وہ تم ہو۔
*
"وہ مریض جو میں کبھی نہیں بھلا پاؤنگا"
عمر رسیدہ خاتون کو دل کے دورے میں جانبر کرنے کیلیئے سینے پر بجلی کے جھٹکے لگا ئے گئے۔ ہوش میں آنے پر اس نے سب سے پہلے اپنے کپڑے درست کیئے تھے
---
نوٹ: اوپر والا سٹیٹس کسی کا دل دکھانے یا دل آزاری کیلیئے نہیں لکھا۔ صرف یہ بتانے کیلیئے کہ عافیت اور صحت ہزار نعمت ہے۔ اللہ کا ہر حال میں شکر گزار رہنا چاہیئے۔ شکریہ
(نقل وچسپاں)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
انتخاب از ایڈمن: “الف،ب،نون”
واٹس ایپ:
https://chat.whatsapp.com/CTx8JZEe5sx9tHTVlV8KcA
ٹیلی گرام:
t.me/CutPiece
ہم کریں بات دلیلوں سے تو رد ہوتی ہے
اس کے ہونٹوں کی خموشی بھی سند ہوتی ہے
سانس لیتے ہوئے انساں بھی ہیں لاشوں کی طرح
اب دھڑکتے ہوئے دل کی بھی لحد ہوتی ہے
اپنی آواز کے پتھر بھی نہ اس تک پہنچے
اس کی آنکھوں کے اشارے میں بھی زد ہوتی ہے
جس کی گردن میں ہے پھندا وہی انسان بڑا
سولیوں سے یہاں پیمائش قد ہوتی ہے
شعبدہ گر بھی پہنتے ہیں خطیبوں کا لباس
بولتا جہل ہے بدنام خرد ہوتی ہے
کچھ نہ کہنے سے بھی چھن جاتا ہے اعزاز سخن
ظلم سہنے سے بھی ظالم کی مدد ہوتی ہے !!
مظفر وارثی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
انتخاب از ایڈمن: “الف،ب،نون”
واٹس ایپ:
https://chat.whatsapp.com/CTx8JZEe5sx9tHTVlV8KcA
ٹیلی گرام:
t.me/CutPiece
اس کے ہونٹوں کی خموشی بھی سند ہوتی ہے
سانس لیتے ہوئے انساں بھی ہیں لاشوں کی طرح
اب دھڑکتے ہوئے دل کی بھی لحد ہوتی ہے
اپنی آواز کے پتھر بھی نہ اس تک پہنچے
اس کی آنکھوں کے اشارے میں بھی زد ہوتی ہے
جس کی گردن میں ہے پھندا وہی انسان بڑا
سولیوں سے یہاں پیمائش قد ہوتی ہے
شعبدہ گر بھی پہنتے ہیں خطیبوں کا لباس
بولتا جہل ہے بدنام خرد ہوتی ہے
کچھ نہ کہنے سے بھی چھن جاتا ہے اعزاز سخن
ظلم سہنے سے بھی ظالم کی مدد ہوتی ہے !!
مظفر وارثی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
انتخاب از ایڈمن: “الف،ب،نون”
واٹس ایپ:
https://chat.whatsapp.com/CTx8JZEe5sx9tHTVlV8KcA
ٹیلی گرام:
t.me/CutPiece
“فرمانبردار بِیوِی کیسی ہوتی ہے”
شوہر : آج کھانے میں کیا بناؤ گی ؟
بِیوِی : جو آپ کہیں .
شوہر : واہ بھئی واہ ایسا کرو دال چاول بنا لو .
بِیوِی : ابھی کل ہی تو کھائے تھے .
شوہر : تو سبزی روٹی بنا لو .
بِیوِی : بچے نہیں کھائیں گے .
شوہر : تو چھولے پوری بنا لو چینج ہو جائے گا .
بِیوِی : جی سا متلا جاتا ہے مجھے ہیوی ہیوی لگتا ہے .
شوہر : یار آلُو قیمہ بنا لو اچھا سا .
بِیوِی : آج منگل ہے گوشت نہیں ملے گا .
شوہر : پراٹھا انڈا ؟
بِیوِی : صبح ناشتے میں روز کون کھاتا ہے ؟
شوہر : چلو چھوڑو یار ہوٹل سے منگوا لیتے ہیں .
بِیوِی : روز روز باہر کا كھانا نقصان دہ ہوتا ہے جانتے ہیں آپ .
شوہر : کڑھی چاول .
بِیوِی : دہی کہاں ملے گا اِس وقت .
شوہر : پلاؤ بنا لو چکن کا .
بِیوِی : اِس میں ٹائم لگے گا پہلے بتاتے .
شوہر : پکوڑے ہی بنا لو اس میں ٹائم نہیں لگے گا .
بِیوِی : وہ کوئی كھانا تھوڑی ہے كھانا بتائیں پروپر .
شوہر : پِھر کیا بناؤ گی ؟
بِیوِی : جو آپ کہیں سرتاج . .
(نقل وچسپاں)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
انتخاب از ایڈمن: “الف،ب،نون”
واٹس ایپ:
https://chat.whatsapp.com/CTx8JZEe5sx9tHTVlV8KcA
ٹیلی گرام:
t.me/CutPiece
شوہر : آج کھانے میں کیا بناؤ گی ؟
بِیوِی : جو آپ کہیں .
شوہر : واہ بھئی واہ ایسا کرو دال چاول بنا لو .
بِیوِی : ابھی کل ہی تو کھائے تھے .
شوہر : تو سبزی روٹی بنا لو .
بِیوِی : بچے نہیں کھائیں گے .
شوہر : تو چھولے پوری بنا لو چینج ہو جائے گا .
بِیوِی : جی سا متلا جاتا ہے مجھے ہیوی ہیوی لگتا ہے .
شوہر : یار آلُو قیمہ بنا لو اچھا سا .
بِیوِی : آج منگل ہے گوشت نہیں ملے گا .
شوہر : پراٹھا انڈا ؟
بِیوِی : صبح ناشتے میں روز کون کھاتا ہے ؟
شوہر : چلو چھوڑو یار ہوٹل سے منگوا لیتے ہیں .
بِیوِی : روز روز باہر کا كھانا نقصان دہ ہوتا ہے جانتے ہیں آپ .
شوہر : کڑھی چاول .
بِیوِی : دہی کہاں ملے گا اِس وقت .
شوہر : پلاؤ بنا لو چکن کا .
بِیوِی : اِس میں ٹائم لگے گا پہلے بتاتے .
شوہر : پکوڑے ہی بنا لو اس میں ٹائم نہیں لگے گا .
بِیوِی : وہ کوئی كھانا تھوڑی ہے كھانا بتائیں پروپر .
شوہر : پِھر کیا بناؤ گی ؟
بِیوِی : جو آپ کہیں سرتاج . .
(نقل وچسپاں)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
انتخاب از ایڈمن: “الف،ب،نون”
واٹس ایپ:
https://chat.whatsapp.com/CTx8JZEe5sx9tHTVlV8KcA
ٹیلی گرام:
t.me/CutPiece
“وہ بچہ...”
آج سہہ پہر ایک دوست سے میٹنگ تھی۔ میٹنگ کے لیے کافی پلینٹ جوہر ٹاون پہنچنا تھا۔ میں وہاں پہنچا۔ ایک گھنٹہ میٹنگ جاری رہی۔ جب واپس جانے لگے تو پونے چھے کا وقت تھا ۔ ابھی مکمل اندھیرا نہیں چھایا تھا کافی پلینٹ کے سامنے سے ایک چھوٹا سا بچہ گرم انڈے کی صدا لگاتا گزر رہا تھا۔ اس کی عمر دس سے گیارہ سال رہی ہو گی۔ ننھے ننھے بازووں میں کولر اٹھا رکھا یقینا ان میں گرم انڈے تھے۔میں نے دل ہی دل میں اس کے لیے دعا کی۔ اور روانہ ہو گیا۔
ابھی ایک گھنٹہ قبل اپنی رہائش گاہ کے نزدیک ایک ہوٹل سے ڈنر کر کے باہر نکلا تو مجھے ایک مانوس سے آواز سنائی دی۔
“گرم انڈے۔”
میں نے فورا سوچا یہ تو اسی بچے کی آواز ہے یہ یہاں کہاں۔ شام کو یہ مجھے جہاں ملا وہ جگہ تین سے چار کلومیٹر دور ہے۔ میں نے دیکھا کہ بچے کے ہاتھ خالی ہیں اس کے ساتھ پندرہ سولہ سال کا ایک لڑکا ہے کولر اس کے ہاتھ میں ہے۔ بچہ صرف گرم انڈے کی آوازیں لگا رہا تھا۔
میں نے انھیں روکا اور دو انڈے خریدے
“تم کچھ دیر پہلے جوہر ٹاون تھے نا۔ شادی وال چوک کے پاس؟” میں نے پوچھا
“جی ہاں استاد جی۔” اس نے جواب دیا
“اس وقت تو اکیلے تھے اور کولر بھی خود اٹھا رکھا تھا۔ اب دو لوگ ہو ۔ کیا چکر ہے۔؟”
جواب میں اس نے جو کچھ بتایا اس کا یہ خلاصہ ہے۔
“اس کا نام اویس ہے۔ عمر نو سال ہے۔ والد فوت ہو چکے ہیں۔ ماں اور اےک چھوٹی بہن ہے۔ ماں دن میں ایک فیکٹری میں کام کرتی ہے۔ چھوٹی بہن کو ساتھ لے جاتی ہے۔ یہ دن میں ورکشاپ پر کام کرتا ہے۔ عصر کے وقت ماں آ کر انڈے ابالتی ہے۔ مغرب سے عشاء تک یہ انڈے سیل کر دیتا ہے کیوں کہ اس کے پاس صرف بیس یا پچیس انڈے ہوتے ہیں۔ اس کے بعد اس کا پڑوسی ( وہی پندرہ سولہ سالہ لڑکا جو ساتھ کھڑا تھا) انڈے بیچنے نکلتا ہے وہ گونگا ہے۔ ا سکی جگہ یہ صدائیں لگاتا ہے۔ گونگے کا کام چل رہا ہے اور وہ اسے روزانہ کے پچیس روپے دیتا ہے۔ اس گونگے لڑکے کے پاس پچاس سے ساٹھ انڈے ہوتے ہیں اپنے انڈوں کا پرافٹ اور گونگے لڑکے سے ملنے والے بیس پچیس روپے کے بعد وہ لڑکا دو سو بیس سے اڑھائی سو روپے لے کر گھر جاتا ہے لیکن ان اڑھائی سو روپے کے لیے وہ عصر سے لے کر سخت سردی کی رات میں دس بجے تک گلیوں میں دربدر پھرتا ہے۔”
میں نے اس کی ساری داستان سنی تو صیح معنوں میں میری آنکھوں میں آنسو آ گئے۔
“زندگی بہت مشکل ہے۔ بہت زیادہ۔ کچھ انسان صرف دکھ دیکھنے کو ہی پیدا ہوتے ہیں۔اللہ پاک آخرت میں ان دکھوں کے بدلے صبر کا اجر دے۔ آمین”
میں اس لڑکے کی زیادہ مدد نہیں کر سکا لیکن جتنا ممکن ہو سکا میں نے اسے پیسے دیے۔ پہلے تو انکاری رہا لیکن یقینا اس کی آنکھوں کے سامنے مجبوریاں آ گئیں ہوں گے پھر اس نے ننھے منے ہاتھوں سے وہ پیسے پکڑ لیے۔
(نقل وچسپاں)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
انتخاب از ایڈمن: “الف،ب،نون”
واٹس ایپ:
https://chat.whatsapp.com/CTx8JZEe5sx9tHTVlV8KcA
ٹیلی گرام:
t.me/CutPiece
آج سہہ پہر ایک دوست سے میٹنگ تھی۔ میٹنگ کے لیے کافی پلینٹ جوہر ٹاون پہنچنا تھا۔ میں وہاں پہنچا۔ ایک گھنٹہ میٹنگ جاری رہی۔ جب واپس جانے لگے تو پونے چھے کا وقت تھا ۔ ابھی مکمل اندھیرا نہیں چھایا تھا کافی پلینٹ کے سامنے سے ایک چھوٹا سا بچہ گرم انڈے کی صدا لگاتا گزر رہا تھا۔ اس کی عمر دس سے گیارہ سال رہی ہو گی۔ ننھے ننھے بازووں میں کولر اٹھا رکھا یقینا ان میں گرم انڈے تھے۔میں نے دل ہی دل میں اس کے لیے دعا کی۔ اور روانہ ہو گیا۔
ابھی ایک گھنٹہ قبل اپنی رہائش گاہ کے نزدیک ایک ہوٹل سے ڈنر کر کے باہر نکلا تو مجھے ایک مانوس سے آواز سنائی دی۔
“گرم انڈے۔”
میں نے فورا سوچا یہ تو اسی بچے کی آواز ہے یہ یہاں کہاں۔ شام کو یہ مجھے جہاں ملا وہ جگہ تین سے چار کلومیٹر دور ہے۔ میں نے دیکھا کہ بچے کے ہاتھ خالی ہیں اس کے ساتھ پندرہ سولہ سال کا ایک لڑکا ہے کولر اس کے ہاتھ میں ہے۔ بچہ صرف گرم انڈے کی آوازیں لگا رہا تھا۔
میں نے انھیں روکا اور دو انڈے خریدے
“تم کچھ دیر پہلے جوہر ٹاون تھے نا۔ شادی وال چوک کے پاس؟” میں نے پوچھا
“جی ہاں استاد جی۔” اس نے جواب دیا
“اس وقت تو اکیلے تھے اور کولر بھی خود اٹھا رکھا تھا۔ اب دو لوگ ہو ۔ کیا چکر ہے۔؟”
جواب میں اس نے جو کچھ بتایا اس کا یہ خلاصہ ہے۔
“اس کا نام اویس ہے۔ عمر نو سال ہے۔ والد فوت ہو چکے ہیں۔ ماں اور اےک چھوٹی بہن ہے۔ ماں دن میں ایک فیکٹری میں کام کرتی ہے۔ چھوٹی بہن کو ساتھ لے جاتی ہے۔ یہ دن میں ورکشاپ پر کام کرتا ہے۔ عصر کے وقت ماں آ کر انڈے ابالتی ہے۔ مغرب سے عشاء تک یہ انڈے سیل کر دیتا ہے کیوں کہ اس کے پاس صرف بیس یا پچیس انڈے ہوتے ہیں۔ اس کے بعد اس کا پڑوسی ( وہی پندرہ سولہ سالہ لڑکا جو ساتھ کھڑا تھا) انڈے بیچنے نکلتا ہے وہ گونگا ہے۔ ا سکی جگہ یہ صدائیں لگاتا ہے۔ گونگے کا کام چل رہا ہے اور وہ اسے روزانہ کے پچیس روپے دیتا ہے۔ اس گونگے لڑکے کے پاس پچاس سے ساٹھ انڈے ہوتے ہیں اپنے انڈوں کا پرافٹ اور گونگے لڑکے سے ملنے والے بیس پچیس روپے کے بعد وہ لڑکا دو سو بیس سے اڑھائی سو روپے لے کر گھر جاتا ہے لیکن ان اڑھائی سو روپے کے لیے وہ عصر سے لے کر سخت سردی کی رات میں دس بجے تک گلیوں میں دربدر پھرتا ہے۔”
میں نے اس کی ساری داستان سنی تو صیح معنوں میں میری آنکھوں میں آنسو آ گئے۔
“زندگی بہت مشکل ہے۔ بہت زیادہ۔ کچھ انسان صرف دکھ دیکھنے کو ہی پیدا ہوتے ہیں۔اللہ پاک آخرت میں ان دکھوں کے بدلے صبر کا اجر دے۔ آمین”
میں اس لڑکے کی زیادہ مدد نہیں کر سکا لیکن جتنا ممکن ہو سکا میں نے اسے پیسے دیے۔ پہلے تو انکاری رہا لیکن یقینا اس کی آنکھوں کے سامنے مجبوریاں آ گئیں ہوں گے پھر اس نے ننھے منے ہاتھوں سے وہ پیسے پکڑ لیے۔
(نقل وچسپاں)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
انتخاب از ایڈمن: “الف،ب،نون”
واٹس ایپ:
https://chat.whatsapp.com/CTx8JZEe5sx9tHTVlV8KcA
ٹیلی گرام:
t.me/CutPiece
کتاب سادہ رہے گی کب تک، کبھی تو آغازِ باب ہو گا
جنہوں نے بستی اجاڑ ڈالی، کبھی تو ان کا حساب ہو گا
وہ دن گئے جب کہ ہر ستم کو ادائے محبوب کہہ کے چپ تھے
اٹھی جو اب ہم پہ اینٹ کوئی تو اس کا پتھر جواب ہو گا
سحر کی خوشیاں منانے والو، سحر کے تیور بتا رہے ہیں
ابھی تو اتنی گھٹن بڑھے گی کہ سانس لینا عذاب ہو گا
سکوتِ صحرا میں بسنے والو، ذرا رُتوں کا مزاج سمجھو
جو آج کا دن سکوں سے گزرا تو کل کا موسم خراب ہو گا
نہیں کہ یہ صرف شاعری ہے، غزل میں تاریخِ بے حسی ہے
جو آج شعروں میں کہہ دیا ہے، وہ کل شریکِ نصاب ہو گا
مرتضٰی برلاس
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
انتخاب: جناب “شبلی اعجازی” صاحب(بھوپال)
واٹس ایپ:
https://chat.whatsapp.com/CTx8JZEe5sx9tHTVlV8KcA
ٹیلی گرام:
t.me/CutPiece
جنہوں نے بستی اجاڑ ڈالی، کبھی تو ان کا حساب ہو گا
وہ دن گئے جب کہ ہر ستم کو ادائے محبوب کہہ کے چپ تھے
اٹھی جو اب ہم پہ اینٹ کوئی تو اس کا پتھر جواب ہو گا
سحر کی خوشیاں منانے والو، سحر کے تیور بتا رہے ہیں
ابھی تو اتنی گھٹن بڑھے گی کہ سانس لینا عذاب ہو گا
سکوتِ صحرا میں بسنے والو، ذرا رُتوں کا مزاج سمجھو
جو آج کا دن سکوں سے گزرا تو کل کا موسم خراب ہو گا
نہیں کہ یہ صرف شاعری ہے، غزل میں تاریخِ بے حسی ہے
جو آج شعروں میں کہہ دیا ہے، وہ کل شریکِ نصاب ہو گا
مرتضٰی برلاس
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
انتخاب: جناب “شبلی اعجازی” صاحب(بھوپال)
واٹس ایپ:
https://chat.whatsapp.com/CTx8JZEe5sx9tHTVlV8KcA
ٹیلی گرام:
t.me/CutPiece
"رابطے کی اخلاقیات"
ہمارے ہاں اس وقت جس رویے کی تہذیب کی اشد ضرورت ہے وہ "رابطے کی اخلاقیات" ہیں۔
آپ کے ہاتھ میں اگر موبائل ہے اور آپ کے پاس کسی کا نمبر ہے تو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ جس وقت چاہیں دوسرے کو لائن حاضر کردیں۔
یہی معاملہ whatsapp کاہے ،کوئی انسان غلطی سےواٹس ایپ پر اگر موجود ہے تو کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ روز صبح اسے السلام علیکم کے میسج کے ساتھ ایک دعا ،دو ہاضمے کے نسخے، ایک لیموں سے داغ صاف کرنے کا ٹوٹکا اور ایک عبرت والی کہانی بھیج دی جائے؟
یہاں ان چند اصلاح طلب پہلووں کی جانب توجہ دلانا چاہتا ہوں جن کا ہمیں روز سامنا کرنا پڑتا ہے۔
۱-کسی اجنبی کا بغیر کسی اطلاع کے کال کرنا:
ایک شخص اگر آپ کو جانتا نہیں ہے،تو آپ اسے براہ راست کال کیسے ملا سکتے ہیں،اگلا آپ سے بات کرنے کی پوزیشن میں ہے ،آپ سے بات کرنے میں comfortable ہے، وہ آپ سے آپ کے تعارف کے بارے میں تحقیق میں اپنا وقت صرف کرنا چاہتا ہے یا نہیں اس کا مارجن اسے ملنا چاہیے۔
لہذا کسی ایسے آدمی کو جو آپ کو جانتا نہیں ہے ہمیشہ ایک مختصر میسج کرنا چاہیے، جس مںں
1-اپنا تعارف
2-جس کے ذریعے نمبر ملا اس کا حوالہ
3-رابطہ کرنے کا مقصد
4- بات کرنے کے مناسب وقت کا پوچھا جائے۔
اس کے بعد آرام سے کم از کم تین دن کی خاموشی اختیار کی جائے تاکہ اگلا آدمی جس وقت فری ہو جواب دے دے۔
اس دوران بار بار ٹن ٹن کر کے یاد دلانا کہ آپ نے میرے میسج کا جواب نہیں دیا بہت ہی غلط حرکت ہے۔
۲-کال پر بات کرنے کا اصرار:
جب کسی کو فون ملایا جاتا ہے تو لازمی رسمی کلمات کا تبادلہ ہوتا ہے، حال چال پوچھا جاتا ہے، اسی طرح سے اصل مدعے تک آنے میں ذرا وقت لگتا ہے، پھر گفتگو کا آغاز ہوتا ہے۔
یہ رسمی تبادلہ خیالات سامنے والا کرنے کی خواہش رکھتا ہے، سامنے والا انسان اس کیفیت میں ہے کہ ابتدا سے راگ اٹھائے پھر کسی کو براہ راست مخاطب کرنا بھی ایک دباؤ کا کام ہے۔لہذا حتمی الامکان کوشش ہونی چاہیے کے کال سے پرہیز کیا جائے۔اس کا بہترین حل ہے voice msg ہے۔ جب چاہیں بھیج دیں۔اگلا بھی جب چاہے سن کر جواب دے دے گا
3-آدمی کی مصروفیات کا خیال کرنا:
میسج کیا جائے یا کال دونوں صورتوں میں اس بات کیا خیال رکھا جائے کہ اگلا بھی انسان ہے، اس کے فون پر بات کرنے کے علاوہ بھی کوئی مصروفیات ہیں، اس کا خاندان ہے، دوست ہیں، اس کے کھیل، کھانے کا وقت کا ہے، وہ تفریح پر باہر نکلا ہوا ہے۔چاہے وہ پلمبر ہو، الیکٹریشن ہو یا پھر ڈاکٹر ہو یا دین کا عالم ہو ہر ایک کی زندگی کی اپنی مصروفیات ہوتی ہیں۔لہذا ان مصروفیات کا مارجن دیے بغیر اس سے تقاضہ کرنا کہ وہ ہر وقت آپ کے لیے حاضر رہیں ایک بڑی زیادتی ہے۔
لہذا کسی سے کوئی کام ہو تو
1-کوشش کریں working hours میں فون کریں.
2-فون کرتے ہی معذرت کریں،
3-پھر اسے بتائیں کہ میں اتنی دیر بات کرنا چاہتا ہوں.
4-اگر ممکن نہیں آپ مصروف ہوں تو جب کہیں کال کر لوں گا۔
5-اور اگر کال نہیں اٹھائی گئی تو ایک دفعہ سے زیادہ کال نہ کریں۔اگرچہ آپ کو یقین ہو کہ اگلا انسان بہت فارغ آدمی ہے لیکن فارغ انسانوں کو بھی کبھی کبھار واش روم جانا پڑ جاتا ہے۔
(مجھے ایک صاحب نے بار بار کال کی، اٹھا نہیں سکا، بعد میں بتایا بھیا وہاں تھا، کہنے لگے اچھا تو آپ بتا دیتے،میں بار بار کال نہ کرتا گویا اب یہ بھی بتانے کی بات رہ گئی ہے)
4-مختصر پر اثر:
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ انسانی طبائع میں اختلاف واقع ہوا ہے لوگوں کی اپنی اپنی حساسیتیں ہیں، بعض لوگ لمبی بات کرنے کا مزاج رکھتے ہیں، اگر رکھتے ہیں تو وہ یہ بھی جان لیں کہ سامنے والا ممکن ہے فطری طور پر مختصر بات کا مزاج رکھتا ہو، اب جب آپ کو قائل نہیں کیا جا سکتا کہ مختصر رکھیں تو اسے کیسے مجبور کیا جا سکتا ہے کہ لمبی سنے۔ لہذا اپنے ساتھ ساتھ دوسرے کے ذوق کا بھی خیال رکھیے۔اور کوشش کیجئے کہ بات اگلے کے لحاظ سے ہو نہ کہ اپنے لحاظ سے۔
5 کسی public figuresسے رابطے میں احتیاط:
جب کوئی آدمی کسی منصبی تقاضے، ذمےداری یا پھر صلاحیت کے لحاظ سے لوگوں میں کوئی مقام رکھتا ہو اور اس وجہ سے معروف ہو تو آپ غور کیجیے کتنے لوگ اس سے رابطے کی کوشش میں ہوتے ہوں گے۔سیکنڑوں، لہذا کوشش کیجئے کہ ضرورت پیدا ہونے پر رابطہ کیجئے ،آپ اپنی محبت کے اظہار کے لیے بھی یقینا رابطہ کر سکتے ہیں لیکن یہ بات ذہن میں رکھتے ہوئے کہ بیسیوں لوگ یہی معاملہ اس کے ساتھ کر رہے ہیں لہذا اگر وہ آپ کو attend نہیں کرتا تو اس وجہ سے مایوس نہ ہوں بلکہ اسے اس بات کا مارجن دیں۔
6-واٹس ایپ گروپ، ایک مہلک وبا:
واٹس ایپ گروپس نے رابطوں اور زندگی کی خوشیوں کو شیئر کرنے کی نئی راہیں کھولی ہیں، لیکن نئی راہوں کا مطلب یہ ہر گز نہیں ہے کہ موجود راہوں کو جام کر دیا جائے۔ اپنے آپ کو ان گروپس سے نکالیں جہاں دس بیس سے زائد لوگ ہوں اور وہ گروپ بغیر قواعد کے چلتا ہو۔ ورنہ آپ بیگم کے پاس بیٹھے ہیں اور ٹن ٹن جاری ہے، ابو کے ساتھ بات کر
ہمارے ہاں اس وقت جس رویے کی تہذیب کی اشد ضرورت ہے وہ "رابطے کی اخلاقیات" ہیں۔
آپ کے ہاتھ میں اگر موبائل ہے اور آپ کے پاس کسی کا نمبر ہے تو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ جس وقت چاہیں دوسرے کو لائن حاضر کردیں۔
یہی معاملہ whatsapp کاہے ،کوئی انسان غلطی سےواٹس ایپ پر اگر موجود ہے تو کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ روز صبح اسے السلام علیکم کے میسج کے ساتھ ایک دعا ،دو ہاضمے کے نسخے، ایک لیموں سے داغ صاف کرنے کا ٹوٹکا اور ایک عبرت والی کہانی بھیج دی جائے؟
یہاں ان چند اصلاح طلب پہلووں کی جانب توجہ دلانا چاہتا ہوں جن کا ہمیں روز سامنا کرنا پڑتا ہے۔
۱-کسی اجنبی کا بغیر کسی اطلاع کے کال کرنا:
ایک شخص اگر آپ کو جانتا نہیں ہے،تو آپ اسے براہ راست کال کیسے ملا سکتے ہیں،اگلا آپ سے بات کرنے کی پوزیشن میں ہے ،آپ سے بات کرنے میں comfortable ہے، وہ آپ سے آپ کے تعارف کے بارے میں تحقیق میں اپنا وقت صرف کرنا چاہتا ہے یا نہیں اس کا مارجن اسے ملنا چاہیے۔
لہذا کسی ایسے آدمی کو جو آپ کو جانتا نہیں ہے ہمیشہ ایک مختصر میسج کرنا چاہیے، جس مںں
1-اپنا تعارف
2-جس کے ذریعے نمبر ملا اس کا حوالہ
3-رابطہ کرنے کا مقصد
4- بات کرنے کے مناسب وقت کا پوچھا جائے۔
اس کے بعد آرام سے کم از کم تین دن کی خاموشی اختیار کی جائے تاکہ اگلا آدمی جس وقت فری ہو جواب دے دے۔
اس دوران بار بار ٹن ٹن کر کے یاد دلانا کہ آپ نے میرے میسج کا جواب نہیں دیا بہت ہی غلط حرکت ہے۔
۲-کال پر بات کرنے کا اصرار:
جب کسی کو فون ملایا جاتا ہے تو لازمی رسمی کلمات کا تبادلہ ہوتا ہے، حال چال پوچھا جاتا ہے، اسی طرح سے اصل مدعے تک آنے میں ذرا وقت لگتا ہے، پھر گفتگو کا آغاز ہوتا ہے۔
یہ رسمی تبادلہ خیالات سامنے والا کرنے کی خواہش رکھتا ہے، سامنے والا انسان اس کیفیت میں ہے کہ ابتدا سے راگ اٹھائے پھر کسی کو براہ راست مخاطب کرنا بھی ایک دباؤ کا کام ہے۔لہذا حتمی الامکان کوشش ہونی چاہیے کے کال سے پرہیز کیا جائے۔اس کا بہترین حل ہے voice msg ہے۔ جب چاہیں بھیج دیں۔اگلا بھی جب چاہے سن کر جواب دے دے گا
3-آدمی کی مصروفیات کا خیال کرنا:
میسج کیا جائے یا کال دونوں صورتوں میں اس بات کیا خیال رکھا جائے کہ اگلا بھی انسان ہے، اس کے فون پر بات کرنے کے علاوہ بھی کوئی مصروفیات ہیں، اس کا خاندان ہے، دوست ہیں، اس کے کھیل، کھانے کا وقت کا ہے، وہ تفریح پر باہر نکلا ہوا ہے۔چاہے وہ پلمبر ہو، الیکٹریشن ہو یا پھر ڈاکٹر ہو یا دین کا عالم ہو ہر ایک کی زندگی کی اپنی مصروفیات ہوتی ہیں۔لہذا ان مصروفیات کا مارجن دیے بغیر اس سے تقاضہ کرنا کہ وہ ہر وقت آپ کے لیے حاضر رہیں ایک بڑی زیادتی ہے۔
لہذا کسی سے کوئی کام ہو تو
1-کوشش کریں working hours میں فون کریں.
2-فون کرتے ہی معذرت کریں،
3-پھر اسے بتائیں کہ میں اتنی دیر بات کرنا چاہتا ہوں.
4-اگر ممکن نہیں آپ مصروف ہوں تو جب کہیں کال کر لوں گا۔
5-اور اگر کال نہیں اٹھائی گئی تو ایک دفعہ سے زیادہ کال نہ کریں۔اگرچہ آپ کو یقین ہو کہ اگلا انسان بہت فارغ آدمی ہے لیکن فارغ انسانوں کو بھی کبھی کبھار واش روم جانا پڑ جاتا ہے۔
(مجھے ایک صاحب نے بار بار کال کی، اٹھا نہیں سکا، بعد میں بتایا بھیا وہاں تھا، کہنے لگے اچھا تو آپ بتا دیتے،میں بار بار کال نہ کرتا گویا اب یہ بھی بتانے کی بات رہ گئی ہے)
4-مختصر پر اثر:
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ انسانی طبائع میں اختلاف واقع ہوا ہے لوگوں کی اپنی اپنی حساسیتیں ہیں، بعض لوگ لمبی بات کرنے کا مزاج رکھتے ہیں، اگر رکھتے ہیں تو وہ یہ بھی جان لیں کہ سامنے والا ممکن ہے فطری طور پر مختصر بات کا مزاج رکھتا ہو، اب جب آپ کو قائل نہیں کیا جا سکتا کہ مختصر رکھیں تو اسے کیسے مجبور کیا جا سکتا ہے کہ لمبی سنے۔ لہذا اپنے ساتھ ساتھ دوسرے کے ذوق کا بھی خیال رکھیے۔اور کوشش کیجئے کہ بات اگلے کے لحاظ سے ہو نہ کہ اپنے لحاظ سے۔
5 کسی public figuresسے رابطے میں احتیاط:
جب کوئی آدمی کسی منصبی تقاضے، ذمےداری یا پھر صلاحیت کے لحاظ سے لوگوں میں کوئی مقام رکھتا ہو اور اس وجہ سے معروف ہو تو آپ غور کیجیے کتنے لوگ اس سے رابطے کی کوشش میں ہوتے ہوں گے۔سیکنڑوں، لہذا کوشش کیجئے کہ ضرورت پیدا ہونے پر رابطہ کیجئے ،آپ اپنی محبت کے اظہار کے لیے بھی یقینا رابطہ کر سکتے ہیں لیکن یہ بات ذہن میں رکھتے ہوئے کہ بیسیوں لوگ یہی معاملہ اس کے ساتھ کر رہے ہیں لہذا اگر وہ آپ کو attend نہیں کرتا تو اس وجہ سے مایوس نہ ہوں بلکہ اسے اس بات کا مارجن دیں۔
6-واٹس ایپ گروپ، ایک مہلک وبا:
واٹس ایپ گروپس نے رابطوں اور زندگی کی خوشیوں کو شیئر کرنے کی نئی راہیں کھولی ہیں، لیکن نئی راہوں کا مطلب یہ ہر گز نہیں ہے کہ موجود راہوں کو جام کر دیا جائے۔ اپنے آپ کو ان گروپس سے نکالیں جہاں دس بیس سے زائد لوگ ہوں اور وہ گروپ بغیر قواعد کے چلتا ہو۔ ورنہ آپ بیگم کے پاس بیٹھے ہیں اور ٹن ٹن جاری ہے، ابو کے ساتھ بات کر
رہے ہیں اور میسج پر میسج آرہا ہے۔یہ آپ کے ارد گرد لوگوں کی حق تلفی ہے۔لہذا موبائل کے استعمال کو گھر میں محدود سے محدود تر رکھنا انتہائی ضروری ہوتا جا رہا ہے۔
ہم سب کو اس پر غور کرنا چاہیے۔
محمد حسن الیاس
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
انتخاب از ایڈمن: “الف،ب،نون”
واٹس ایپ:
https://chat.whatsapp.com/CTx8JZEe5sx9tHTVlV8KcA
ٹیلی گرام:
t.me/CutPiece
ہم سب کو اس پر غور کرنا چاہیے۔
محمد حسن الیاس
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
انتخاب از ایڈمن: “الف،ب،نون”
واٹس ایپ:
https://chat.whatsapp.com/CTx8JZEe5sx9tHTVlV8KcA
ٹیلی گرام:
t.me/CutPiece
“کمرے”
پہلے انسان کمروں کو استعمال کرتا تھا، اب کمرے انسانوں کو استعمال کرتے ہیں، پہلے سادہ سا کچا پکا کمرہ ہوتا تھا، جو فرشی نشست سے آراستہ اور. sophisticated اور فکسڈ فرنچر کی ضرورت سے، بے نیاز ہوتا تھا، اس لیے وہ کمرہ، بوقت ضرورت sitting روم بھی بن جاتا تھا، بیڈ روم بھی بن جاتا تھا، ڈرائنگ روم بھی بن جاتا تھا، حتی کہ دستر خوان یا چٹائی بچھا کر، dining room بھی بن جاتا تھا، بچے فرنیچر کم ہونے کی وجہ سے، بآسانی کھیلتے تھے، اور سردیوں میں، چھوٹا موٹا کچن بھی یہی کمرہ بن سکتا تھا، گویا ایک کمرہ پورا گھر بھی تھا، اور پورا گھر ایک کمرہ بھی ہو سکتا تھا... اس طرح کے سادہ کمرے کی ترتیب بدلنا آسان تھا، صفائی کرنا آسان تھی ، بجلی نہ بھی ہوتی، تو بھی کمرہ، پانی کے چھڑکاؤ سے ٹھنڈا، اور سردیوں میں، انگیٹھی جلا کر گرم رکھا جا سکتا تھا.. اب تو مصنوعی طریقوں سے ٹھنڈا گرم کا انتظام کیے بغیر، ان. جدید کمروں میں رہائش رکھنے کا تصور محال ہے....
اب بے شمار کمرے ہیں، لیکن کوئی کمرہ بھی وہ آزادی فراہم نہیں کرتا، جو وہ بغیر فرنیچر والا ایک کمرہ کرتا تھا... اب ڈبل بیڈ فکسڈ ہوتے ہیں، آپ اس کی جگہ نہیں تبدیل کر سکتے، آپ بیڈ روم میں کھا نہیں سکتے، حتی کہ سائیڈ ٹیبل کی جگہ تبدیل کرنے سے پہلے سو بار سوچنا پڑتا ہے، ڈائننگ روم میں لازماً ڈائٹنگ ٹیبل چاہیے، نہ لائیں تو اسے ڈائٹنگ روم کیسے کہیں، لے آئیں تو دستر خوان کہاں بچھائیں....
ڈرائنگ روم میں صوفہ سیٹ ہی جچتا ہے، اگر صوفہ نہ بچھائیں تو وہ ڈرائنگ روم لگتا ہی نہیں، اور اگر بچھا لیں، تو ان کی محدود نشستوں پر کون کون بیٹھے اور اس کی جگہ بار بار کیسے تبدیل کریں... پہلے باتھ روم ایک تھا، وہ بھی. صحن کے ایک کونے میں، اور اتنا سادہ، کہ آپ کا زیادہ وقت گزارنے کا دل ہی نہیں چاہتا تھا، اب اٹیچ باتھ ہیں اور اتنے مرصع کہ پورا دن بھی وہاں گزارا جا سکتا ہے.... لیکن اس مرصع باتھ روم میں ہر جگہ فکس ہے، آپ اس میں ردوبدل نہیں کرسکتے...
ہمیں سوچنا چاہیے، کہ مغربی طرز رہائش ہمیں liberate کرتی ہے یا روبوٹ بنا کر غلام بناتی ہے اور من چاہے انداز سے استعمال کرتی ہے ...
(نقل وچسپاں)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
انتخاب: جناب “خالد حیدر” صاحب (حال مقیم:اعظم گڑھ)
واٹس ایپ:
https://chat.whatsapp.com/CTx8JZEe5sx9tHTVlV8KcA
ٹیلی گرام:
t.me/CutPiece
پہلے انسان کمروں کو استعمال کرتا تھا، اب کمرے انسانوں کو استعمال کرتے ہیں، پہلے سادہ سا کچا پکا کمرہ ہوتا تھا، جو فرشی نشست سے آراستہ اور. sophisticated اور فکسڈ فرنچر کی ضرورت سے، بے نیاز ہوتا تھا، اس لیے وہ کمرہ، بوقت ضرورت sitting روم بھی بن جاتا تھا، بیڈ روم بھی بن جاتا تھا، ڈرائنگ روم بھی بن جاتا تھا، حتی کہ دستر خوان یا چٹائی بچھا کر، dining room بھی بن جاتا تھا، بچے فرنیچر کم ہونے کی وجہ سے، بآسانی کھیلتے تھے، اور سردیوں میں، چھوٹا موٹا کچن بھی یہی کمرہ بن سکتا تھا، گویا ایک کمرہ پورا گھر بھی تھا، اور پورا گھر ایک کمرہ بھی ہو سکتا تھا... اس طرح کے سادہ کمرے کی ترتیب بدلنا آسان تھا، صفائی کرنا آسان تھی ، بجلی نہ بھی ہوتی، تو بھی کمرہ، پانی کے چھڑکاؤ سے ٹھنڈا، اور سردیوں میں، انگیٹھی جلا کر گرم رکھا جا سکتا تھا.. اب تو مصنوعی طریقوں سے ٹھنڈا گرم کا انتظام کیے بغیر، ان. جدید کمروں میں رہائش رکھنے کا تصور محال ہے....
اب بے شمار کمرے ہیں، لیکن کوئی کمرہ بھی وہ آزادی فراہم نہیں کرتا، جو وہ بغیر فرنیچر والا ایک کمرہ کرتا تھا... اب ڈبل بیڈ فکسڈ ہوتے ہیں، آپ اس کی جگہ نہیں تبدیل کر سکتے، آپ بیڈ روم میں کھا نہیں سکتے، حتی کہ سائیڈ ٹیبل کی جگہ تبدیل کرنے سے پہلے سو بار سوچنا پڑتا ہے، ڈائننگ روم میں لازماً ڈائٹنگ ٹیبل چاہیے، نہ لائیں تو اسے ڈائٹنگ روم کیسے کہیں، لے آئیں تو دستر خوان کہاں بچھائیں....
ڈرائنگ روم میں صوفہ سیٹ ہی جچتا ہے، اگر صوفہ نہ بچھائیں تو وہ ڈرائنگ روم لگتا ہی نہیں، اور اگر بچھا لیں، تو ان کی محدود نشستوں پر کون کون بیٹھے اور اس کی جگہ بار بار کیسے تبدیل کریں... پہلے باتھ روم ایک تھا، وہ بھی. صحن کے ایک کونے میں، اور اتنا سادہ، کہ آپ کا زیادہ وقت گزارنے کا دل ہی نہیں چاہتا تھا، اب اٹیچ باتھ ہیں اور اتنے مرصع کہ پورا دن بھی وہاں گزارا جا سکتا ہے.... لیکن اس مرصع باتھ روم میں ہر جگہ فکس ہے، آپ اس میں ردوبدل نہیں کرسکتے...
ہمیں سوچنا چاہیے، کہ مغربی طرز رہائش ہمیں liberate کرتی ہے یا روبوٹ بنا کر غلام بناتی ہے اور من چاہے انداز سے استعمال کرتی ہے ...
(نقل وچسپاں)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
انتخاب: جناب “خالد حیدر” صاحب (حال مقیم:اعظم گڑھ)
واٹس ایپ:
https://chat.whatsapp.com/CTx8JZEe5sx9tHTVlV8KcA
ٹیلی گرام:
t.me/CutPiece
عمر بھر عشق کسی طور نہ کم ہو آمین
دل کو ہر روز عطا نعمت غم ہو آمین
میرے کاسے کو ہے بس چار ہی سکوں کی طلب
عشق ہو وقت ہو کاغذ ہو قلم ہو آمین
حجرۂ ذات میں یا محفل یاراں میں رہوں
فکر دنیا کی مجھے ہو بھی تو کم ہو آمین
جب میں خاموش رہوں رونق محفل ٹھہروں
اور جب بات کروں بات میں دم ہو آمین
لوگ چاہیں بھی تو ہم کو نہ جدا کر پائیں
یوں مری ذات تری ذات میں ضم ہو آمین
عشق میں ڈوب کے جو کچھ بھی لکھوں کاغذ پر
خود بخود لوح زمانہ پہ رقم ہو آمین
نہ ڈرا پائے مجھے تیرگئ دشت فراق
ہر طرف روشنئ دیدۂ نم ہو آمین
میرؔ کے صدقے مرے حرف کو درویشی ملے
دور مجھ سے ہوس دام و درم ہو آمین
میرے کانوں نے سنا ہے ترے بارے میں بہت
میری آنکھوں پہ بھی تھوڑا سا کرم ہو آمین
جب زمیں آخری حدت سے پگھلنے لگ جائے
عشق کی چھاؤں مرے سر کو بہم ہو آمین
رحمان فارس
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
انتخاب از ایڈمن: “الف،ب،نون”
واٹس ایپ:
https://chat.whatsapp.com/CTx8JZEe5sx9tHTVlV8KcA
ٹیلی گرام:
t.me/CutPiece
دل کو ہر روز عطا نعمت غم ہو آمین
میرے کاسے کو ہے بس چار ہی سکوں کی طلب
عشق ہو وقت ہو کاغذ ہو قلم ہو آمین
حجرۂ ذات میں یا محفل یاراں میں رہوں
فکر دنیا کی مجھے ہو بھی تو کم ہو آمین
جب میں خاموش رہوں رونق محفل ٹھہروں
اور جب بات کروں بات میں دم ہو آمین
لوگ چاہیں بھی تو ہم کو نہ جدا کر پائیں
یوں مری ذات تری ذات میں ضم ہو آمین
عشق میں ڈوب کے جو کچھ بھی لکھوں کاغذ پر
خود بخود لوح زمانہ پہ رقم ہو آمین
نہ ڈرا پائے مجھے تیرگئ دشت فراق
ہر طرف روشنئ دیدۂ نم ہو آمین
میرؔ کے صدقے مرے حرف کو درویشی ملے
دور مجھ سے ہوس دام و درم ہو آمین
میرے کانوں نے سنا ہے ترے بارے میں بہت
میری آنکھوں پہ بھی تھوڑا سا کرم ہو آمین
جب زمیں آخری حدت سے پگھلنے لگ جائے
عشق کی چھاؤں مرے سر کو بہم ہو آمین
رحمان فارس
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
انتخاب از ایڈمن: “الف،ب،نون”
واٹس ایپ:
https://chat.whatsapp.com/CTx8JZEe5sx9tHTVlV8KcA
ٹیلی گرام:
t.me/CutPiece
“سردیوں کا احترام کیجئے”
نہایت افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ لگ بھگ آدھا نومبر گذرجانے کے باوجود کئی لوگ سویٹر نہیں پہن رہے۔ گرم پانی سے نہیں نہارہے۔مونگ پھلی نہیں خرید رہے۔ پنکھے نہیں بند کر رہے۔ رضائیاں نہیں نکال رہے۔گرم کپڑے نکال کر دھوپ نہیں لگوا رہے۔خشک میوہ جات کی دوکانوں پر نہیں جارہے۔سوپ نہیں پی رہے۔اُبلے انڈے نہیں کھا رہے۔ائیرکولروں پر پلاسٹک شیٹ نہیں باندھ رہے۔ہیٹر نہیں چلا رہے۔جوشاندہ نہیں پی رہے۔دھوپ میں نہیں بیٹھ رہے۔کوٹ نہیں ڈرائی کلین کروا رہے۔لنڈا بازار کا چکر نہیں لگارہے۔دستانے نہیں خرید رہے۔ اونی ٹوپیاں نہیں لے رہے۔گھر کی چھت پر باربی کیو نہیں کررہے۔کپکپا نہیں رہے۔ دانت نہیں بجا رہے۔ہاتھ نہیں رگڑ رہے۔مٹھی بند کرکے پھونکیں نہیں مار رہے۔بھنے ہوئے چنے نہیں کھارہے۔تارے میرے کے تیل کی مالش نہیں کروا رہے اورموٹر سائیکل چلاتے ہوئے کسی ٹرک یا بس کے سائلنسرکا قرب بھی حاصل نہیں کر رہے۔
باوثوق ذرائع کے مطابق یہ خوفناک حقیقت بھی سامنے آئی ہے کہ ابھی تک کئی نامعلوم افرادمالٹے بھی نہیں کھا رہے۔گاجریں بھی نہیں خرید رہے۔ مولیاں بھی نہیں ٹرائی کررہے۔مچھلی کی دوکانوں کا رخ بھی نہیں کر رہے۔گاڑیوں کے اے سی بھی نہیں بند کر رہے۔چادریں بھی نہیں لپیٹ رہے۔کمرے کی کھڑکیوں کے شیشے بھی نہیں بند کررہے۔۔۔اور تو اور دودھ جلیبی کو بھی نظر انداز کر رہے ہیں۔یہ وہ لوگ ہیں جنہیں موجودہ موسم میں مختلف اوقات میں ٹی شرٹس بھی پہنے دیکھا گیا ہے اور پھلوں کی دوکانوں پر آم کی ڈیمانڈ کرتے ہوئے بھی۔سورس بتاتے ہیں کہ ایسے لوگ گنے کا رس بھی پیتے ہوئے پائے گئے ہیں اور کچھ تو ایسے ہیں جو سرعام مینتھول والا صابن اور ٹوتھ پیسٹ خریدتے پھر رہے ہیں۔
یہ گستاخانِ سرما ابھی تک فریج کا پانی استعمال کر رہے ہیں۔انہوں نے ابھی تک چہرے پر لوشن بھی نہیں لگانا شروع کیا۔ ویزلین بھی نہیں خریدی اور چھت کے پنکھوں پر اخبار بھی نہیں چڑھایا۔دل کانپ رہا ہے لیکن تلخ بات بتائے بغیر چارہ بھی نہیں۔ تو لیجئے سنئے۔۔۔اندر کی خبر ہے کہ ایسے متعدد لوگ روزانہ نہا رہے ہیں۔ کچی لسی پی رہے ہیں اورتربوز کی تلاش میں بھی سرگرداں پائے گئے ہیں۔مجھے شک ہے کہ میرے محلے دار اشفاق بیٹریوں والے بھی اِن میں شامل ہیں کیونکہ کل وہ سیڑھی لگائے اپنے گھرکے اے سی کا آؤٹرچیک کر رہے تھے۔ گلی میں سے گذرتے ہوئے میری اُن پر نظر پڑی تو میں نے ڈرتے ڈرتے وجہ پوچھی‘ جواب ملا’’کولنگ نہیں کر رہا شائد گیس ختم ہوگئی ہے‘‘۔
یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ شائد ابھی سردی شروع ہی نہیں ہوئی۔ اس بارے میں راسپوٹین نے کیا خوب کہا تھا’’دل کے بہلانے کو غالب یہ خیال اچھا ہے‘‘۔نومبر بے شک اپریل میں آئے اسے سردی کا مہینہ ہی سمجھنا چاہیے۔اس کی عزت کرنی چاہیے اور پورا پروٹوکول دینا چاہیے۔یاد رہے عظیم لوگ صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں یا سردیوں میں۔تاریخ گواہ ہے کہ جن قوموں نے سردیوں کی پرواہ نہیں کی وہ برباد ہوگئیں۔منکرینِ سرما کی یہ دلیل ہے کہ سردیوں میں دن چھوٹے ہوجاتے ہیں ۔ لاعلموں کو یہ نہیں پتا کہ صرف دن ہی نہیں چھوٹے ہوتے۔۔۔سننا چاہتے ہیں تو سن لیں۔ بجلی اور پانی کے بل بھی چھوٹے ہوجاتے ہیں۔اخراجات بھی چھوٹے ہوجاتے ہیں۔دفتری اوقات بھی چھوٹے ہوجاتے ہیں ۔۔۔اور سب سے بڑی بات چھپکلیاں‘ کاکروچز اور دیگر حشرات الارض زیر زمین چلے جاتے ہیں۔
سردیوں کا احسان مانئے کہ یہ دوریاں ختم کرنے کا موسم ہے۔نومبر اورسردی کے مہینے کی اہمیت تو گیتوں اور شعرو ں میں بھی جابجا نظر آتی ہے۔ مثلاً’’اُسے کہنا نومبر آگیا ہے۔۔۔نیلے نیلے نومبر پہ چاندجب آئے۔۔۔بھیگا بھیگا سا یہ نومبر ہے۔۔۔میرے سردی کے دن کتنے اچھے تھے دن۔۔۔سردی آئی ہے آئی ہے سردی آئی ہے۔۔۔وغیرہ وغیرہ۔جن لوگوں نے ابھی تک سرما کا استقبال نہیں کیا اُنہیں اپنی فرینڈ ز لسٹ سے نکال دینا چاہیے۔ لیکن اس سے پہلے ایک کوشش کرلینی چاہیے، شائد یہ سدھر جائیں۔ میں نے اس مقصد کے لیے کئی دوستوں کو نہایت مفید لیکچر دیئے‘ سمجھایا کہ سردی آچکی ہے لہذا اب ہمیں قلفی گرم کر کے کھانی چاہیے۔ لیکن ظاہری بات ہے سر پھرے دوست ہیں، کہتے ہیں سردی کہاں ابھی تو بہار جیسا موسم ہے۔ یہ نالائق نہیں جانتے کہ یہ بہار بہت جلد بیمار کرنے کی صلاحیتوں سے مالا مال ہے۔ سردی آنا اور سردی لگنا دو مختلف چیزیں ہیں۔ سردی تو آچکی ہے۔ میرے ایک کولیگ کا کہنا ہے کہ نومبر کی بجائے دسمبر میں جرسی پہنوں گا۔ میں نے اسے سمجھایا کہ چلو یکم نومبر سے نہ سہی‘ دس نومبر سے ہی جرسی پہن لو۔ اس نے کچھ سوچا ‘ پھر نفی میں سرہلادیا۔ میں نے پانچ دن مزید بڑھا دیے۔ اس کی طرف سے پھر انکار ہوگیا۔ اب کی بار میں نے دل پر پتھر رکھ کر بیس نومبر کی تاریخ دی۔ لیکن جب وہ اس پر بھی نہیں مانا تو میں بھی مایوس ہوگیا‘ اس سے زیادہ ’وارا‘ ہی نہیں کھاتا۔نومبر کی اتنی انسلٹ مجھ سے برداشت نہیں ہوتی۔نومبر کے بارے میں توبڑے بڑے مفکرین کے اقوال موجود ہیں۔مثلاً ارسطو اپنی کتاب’مینوں ٹھنڈلگدی‘ میں لکھ
نہایت افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ لگ بھگ آدھا نومبر گذرجانے کے باوجود کئی لوگ سویٹر نہیں پہن رہے۔ گرم پانی سے نہیں نہارہے۔مونگ پھلی نہیں خرید رہے۔ پنکھے نہیں بند کر رہے۔ رضائیاں نہیں نکال رہے۔گرم کپڑے نکال کر دھوپ نہیں لگوا رہے۔خشک میوہ جات کی دوکانوں پر نہیں جارہے۔سوپ نہیں پی رہے۔اُبلے انڈے نہیں کھا رہے۔ائیرکولروں پر پلاسٹک شیٹ نہیں باندھ رہے۔ہیٹر نہیں چلا رہے۔جوشاندہ نہیں پی رہے۔دھوپ میں نہیں بیٹھ رہے۔کوٹ نہیں ڈرائی کلین کروا رہے۔لنڈا بازار کا چکر نہیں لگارہے۔دستانے نہیں خرید رہے۔ اونی ٹوپیاں نہیں لے رہے۔گھر کی چھت پر باربی کیو نہیں کررہے۔کپکپا نہیں رہے۔ دانت نہیں بجا رہے۔ہاتھ نہیں رگڑ رہے۔مٹھی بند کرکے پھونکیں نہیں مار رہے۔بھنے ہوئے چنے نہیں کھارہے۔تارے میرے کے تیل کی مالش نہیں کروا رہے اورموٹر سائیکل چلاتے ہوئے کسی ٹرک یا بس کے سائلنسرکا قرب بھی حاصل نہیں کر رہے۔
باوثوق ذرائع کے مطابق یہ خوفناک حقیقت بھی سامنے آئی ہے کہ ابھی تک کئی نامعلوم افرادمالٹے بھی نہیں کھا رہے۔گاجریں بھی نہیں خرید رہے۔ مولیاں بھی نہیں ٹرائی کررہے۔مچھلی کی دوکانوں کا رخ بھی نہیں کر رہے۔گاڑیوں کے اے سی بھی نہیں بند کر رہے۔چادریں بھی نہیں لپیٹ رہے۔کمرے کی کھڑکیوں کے شیشے بھی نہیں بند کررہے۔۔۔اور تو اور دودھ جلیبی کو بھی نظر انداز کر رہے ہیں۔یہ وہ لوگ ہیں جنہیں موجودہ موسم میں مختلف اوقات میں ٹی شرٹس بھی پہنے دیکھا گیا ہے اور پھلوں کی دوکانوں پر آم کی ڈیمانڈ کرتے ہوئے بھی۔سورس بتاتے ہیں کہ ایسے لوگ گنے کا رس بھی پیتے ہوئے پائے گئے ہیں اور کچھ تو ایسے ہیں جو سرعام مینتھول والا صابن اور ٹوتھ پیسٹ خریدتے پھر رہے ہیں۔
یہ گستاخانِ سرما ابھی تک فریج کا پانی استعمال کر رہے ہیں۔انہوں نے ابھی تک چہرے پر لوشن بھی نہیں لگانا شروع کیا۔ ویزلین بھی نہیں خریدی اور چھت کے پنکھوں پر اخبار بھی نہیں چڑھایا۔دل کانپ رہا ہے لیکن تلخ بات بتائے بغیر چارہ بھی نہیں۔ تو لیجئے سنئے۔۔۔اندر کی خبر ہے کہ ایسے متعدد لوگ روزانہ نہا رہے ہیں۔ کچی لسی پی رہے ہیں اورتربوز کی تلاش میں بھی سرگرداں پائے گئے ہیں۔مجھے شک ہے کہ میرے محلے دار اشفاق بیٹریوں والے بھی اِن میں شامل ہیں کیونکہ کل وہ سیڑھی لگائے اپنے گھرکے اے سی کا آؤٹرچیک کر رہے تھے۔ گلی میں سے گذرتے ہوئے میری اُن پر نظر پڑی تو میں نے ڈرتے ڈرتے وجہ پوچھی‘ جواب ملا’’کولنگ نہیں کر رہا شائد گیس ختم ہوگئی ہے‘‘۔
یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ شائد ابھی سردی شروع ہی نہیں ہوئی۔ اس بارے میں راسپوٹین نے کیا خوب کہا تھا’’دل کے بہلانے کو غالب یہ خیال اچھا ہے‘‘۔نومبر بے شک اپریل میں آئے اسے سردی کا مہینہ ہی سمجھنا چاہیے۔اس کی عزت کرنی چاہیے اور پورا پروٹوکول دینا چاہیے۔یاد رہے عظیم لوگ صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں یا سردیوں میں۔تاریخ گواہ ہے کہ جن قوموں نے سردیوں کی پرواہ نہیں کی وہ برباد ہوگئیں۔منکرینِ سرما کی یہ دلیل ہے کہ سردیوں میں دن چھوٹے ہوجاتے ہیں ۔ لاعلموں کو یہ نہیں پتا کہ صرف دن ہی نہیں چھوٹے ہوتے۔۔۔سننا چاہتے ہیں تو سن لیں۔ بجلی اور پانی کے بل بھی چھوٹے ہوجاتے ہیں۔اخراجات بھی چھوٹے ہوجاتے ہیں۔دفتری اوقات بھی چھوٹے ہوجاتے ہیں ۔۔۔اور سب سے بڑی بات چھپکلیاں‘ کاکروچز اور دیگر حشرات الارض زیر زمین چلے جاتے ہیں۔
سردیوں کا احسان مانئے کہ یہ دوریاں ختم کرنے کا موسم ہے۔نومبر اورسردی کے مہینے کی اہمیت تو گیتوں اور شعرو ں میں بھی جابجا نظر آتی ہے۔ مثلاً’’اُسے کہنا نومبر آگیا ہے۔۔۔نیلے نیلے نومبر پہ چاندجب آئے۔۔۔بھیگا بھیگا سا یہ نومبر ہے۔۔۔میرے سردی کے دن کتنے اچھے تھے دن۔۔۔سردی آئی ہے آئی ہے سردی آئی ہے۔۔۔وغیرہ وغیرہ۔جن لوگوں نے ابھی تک سرما کا استقبال نہیں کیا اُنہیں اپنی فرینڈ ز لسٹ سے نکال دینا چاہیے۔ لیکن اس سے پہلے ایک کوشش کرلینی چاہیے، شائد یہ سدھر جائیں۔ میں نے اس مقصد کے لیے کئی دوستوں کو نہایت مفید لیکچر دیئے‘ سمجھایا کہ سردی آچکی ہے لہذا اب ہمیں قلفی گرم کر کے کھانی چاہیے۔ لیکن ظاہری بات ہے سر پھرے دوست ہیں، کہتے ہیں سردی کہاں ابھی تو بہار جیسا موسم ہے۔ یہ نالائق نہیں جانتے کہ یہ بہار بہت جلد بیمار کرنے کی صلاحیتوں سے مالا مال ہے۔ سردی آنا اور سردی لگنا دو مختلف چیزیں ہیں۔ سردی تو آچکی ہے۔ میرے ایک کولیگ کا کہنا ہے کہ نومبر کی بجائے دسمبر میں جرسی پہنوں گا۔ میں نے اسے سمجھایا کہ چلو یکم نومبر سے نہ سہی‘ دس نومبر سے ہی جرسی پہن لو۔ اس نے کچھ سوچا ‘ پھر نفی میں سرہلادیا۔ میں نے پانچ دن مزید بڑھا دیے۔ اس کی طرف سے پھر انکار ہوگیا۔ اب کی بار میں نے دل پر پتھر رکھ کر بیس نومبر کی تاریخ دی۔ لیکن جب وہ اس پر بھی نہیں مانا تو میں بھی مایوس ہوگیا‘ اس سے زیادہ ’وارا‘ ہی نہیں کھاتا۔نومبر کی اتنی انسلٹ مجھ سے برداشت نہیں ہوتی۔نومبر کے بارے میں توبڑے بڑے مفکرین کے اقوال موجود ہیں۔مثلاً ارسطو اپنی کتاب’مینوں ٹھنڈلگدی‘ میں لکھ
تا ہے ’سردی بہترین انتقام ہے‘۔
اصولی طور پر ہیلمٹ کی طرح یکم نومبر سے جرسیاں پہننے کی بھی پابندی ہونی چاہیے ۔جو بندہ سردیوں کی خلاف ورزی کرتا نظر آئے اس کے گھر ای چالان بھیجنا چاہیے۔ایسے لوگوں کی نشاندہی کرنے والوں کو انعام دینا چاہیے جو ابھی تک کانجی پیئے جارہے ہیں۔میری تجویز ہے کہ ایسے گمراہ لوگوں پر دفعہ 10-11-18 کے تحت مقدمات درج ہونے چاہئیں جنہیں سردیوں کا کچھ احترام ہی نہیں۔غضب خدا کا یعنی ابھی تک بغیر جرابوں کے بوٹ پہن رہے ہیں اوردودھ سوڈے پیئے جارہے ہیں۔ریاست کو پوری طاقت کے ساتھ اِن سے نمٹنا چاہیے۔ملک میں فلو اور زکام کی بڑی وجہ بھی یہی لوگ ہیں کیونکہ انہی کی وجہ سے عام لوگ سردی لگنے کے باوجود شرمندگی کے باعث جرسی نہیں پہنتے۔لائقِ تحسین ہیں وہ لوگ جنہوں نے نہ صرف سردی کی آواز پر لبیک کہا بلکہ کپڑے استری کرتے ہوئے گرم شرٹ سے ہاتھ بھی سینکنے شروع کر دیے۔ یہ قیمتی لوگ جانتے ہیں کہ رضائی لینے کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ تصور کیا جائے گویا رضائی کے باہر فائرنگ ہورہی ہے لہذاہاتھ ‘منہ ‘پیراور گردن سمیت سر کا کوئی بال بھی رضائی سے باہر نہیں رہنا چاہیے۔ایسے لوگوں کی بدولت ہی سردیاں ہر دفعہ آجاتی ہیں ورنہ کب کی رخصت ہوچکی ہوتیں ۔ماشاء اللہ ابھی تھوڑی دیر پہلے ایسے ہی ایک محترم دوکاندار کو دیکھ کر آرہا ہوں جنہوں نے اپنی لوہے کی کرسی کے نیچے چولہا رکھوا لیا ہے اور اب ہر گاہک سے انتہائی گرم جوشی سے پیش آرہے ہیں۔
گل نوخیزاختر
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
انتخاب از ایڈمن: “الف،ب،نون”
واٹس ایپ:
https://chat.whatsapp.com/CTx8JZEe5sx9tHTVlV8KcA
ٹیلی گرام:
t.me/CutPiece
اصولی طور پر ہیلمٹ کی طرح یکم نومبر سے جرسیاں پہننے کی بھی پابندی ہونی چاہیے ۔جو بندہ سردیوں کی خلاف ورزی کرتا نظر آئے اس کے گھر ای چالان بھیجنا چاہیے۔ایسے لوگوں کی نشاندہی کرنے والوں کو انعام دینا چاہیے جو ابھی تک کانجی پیئے جارہے ہیں۔میری تجویز ہے کہ ایسے گمراہ لوگوں پر دفعہ 10-11-18 کے تحت مقدمات درج ہونے چاہئیں جنہیں سردیوں کا کچھ احترام ہی نہیں۔غضب خدا کا یعنی ابھی تک بغیر جرابوں کے بوٹ پہن رہے ہیں اوردودھ سوڈے پیئے جارہے ہیں۔ریاست کو پوری طاقت کے ساتھ اِن سے نمٹنا چاہیے۔ملک میں فلو اور زکام کی بڑی وجہ بھی یہی لوگ ہیں کیونکہ انہی کی وجہ سے عام لوگ سردی لگنے کے باوجود شرمندگی کے باعث جرسی نہیں پہنتے۔لائقِ تحسین ہیں وہ لوگ جنہوں نے نہ صرف سردی کی آواز پر لبیک کہا بلکہ کپڑے استری کرتے ہوئے گرم شرٹ سے ہاتھ بھی سینکنے شروع کر دیے۔ یہ قیمتی لوگ جانتے ہیں کہ رضائی لینے کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ تصور کیا جائے گویا رضائی کے باہر فائرنگ ہورہی ہے لہذاہاتھ ‘منہ ‘پیراور گردن سمیت سر کا کوئی بال بھی رضائی سے باہر نہیں رہنا چاہیے۔ایسے لوگوں کی بدولت ہی سردیاں ہر دفعہ آجاتی ہیں ورنہ کب کی رخصت ہوچکی ہوتیں ۔ماشاء اللہ ابھی تھوڑی دیر پہلے ایسے ہی ایک محترم دوکاندار کو دیکھ کر آرہا ہوں جنہوں نے اپنی لوہے کی کرسی کے نیچے چولہا رکھوا لیا ہے اور اب ہر گاہک سے انتہائی گرم جوشی سے پیش آرہے ہیں۔
گل نوخیزاختر
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
انتخاب از ایڈمن: “الف،ب،نون”
واٹس ایپ:
https://chat.whatsapp.com/CTx8JZEe5sx9tHTVlV8KcA
ٹیلی گرام:
t.me/CutPiece
*"عورت"*
اگر عورت کو غصہ آ جائے تو جوتا
اٹھا کر نہیں مار سکتی
کیونکہ اسے تعلیم دی گئی ہے
کہ میاں بیوی کو ایک دوسرے
کا احترام کرنا چاہیے.
اگر بدزبانی کرے تو مرد اس سے
زیادہ بدزبانی کرنے کو موجود ہوتا ہے
اور اگر گالی دے تو کسے دے؟
ہر گالی تو ماں بہن کے بارے میں
ہوتی ہے، تو کیا اپنے آپ کو گالی دے؟
مرد کے ہاتھوں عورت کی تضحیک
کا رویہ ہمارے معاشرے میں عام ہے.
گو کہ انگریز بھی پیچھے نہیں.
ان کے ہاں بھی عورت کو برے ناموں
سے پکارا جاتا ہے اور مرد کے لیے
چند گنی چُنی گالیاں ہیں.
لیکن برِصغیر میں تو اوّل سے آخر
تک ساری گالیاں صرف اور صرف
عورت سے منسوب ہیں.
گالیاں ہی نہیں…
اکثر محاورے بھی عورت کی
تذلیل کرنے کے لئے بنائے گئے ہیں.
پیر کی جوتی عورت،
عورت کا تو دماغ ہی چھوٹا ہے،
عورت مکار ہوتی ہے،
عورت کے پیٹ میں بات ہی نہیں ٹھہرتی،
عورت کمزور ہوتی ہے،
عورت لگائی بجھائی کرتی ہے،
عورت کو مرد سے زیادہ
زیور سے پیار ہوتا ہے،
عورت بے وفا ہوتی ہے،
عورت بد زبان ہوتی ہے
کیا یہ ایک تلخحقیقت نہیں کہ
ہمارے معاشرے میں50 فیصد سے
بھی زیادہ مرد آج بھی اپنی بیوی
کو ہلکی پھلکی گالی دے دینا
اپنا حق سمجھتے ہیں،
کیا یہ حقیقت نہیںکہ ہمارے ہاںیہی
50 فیصد سے زیادہ مرد جو
عورت کو نازیبا بات کہہ دینا اپنا
حق سمجھتے ہیںیہی مرد عورت
کو اپنا ذاتی ملازم بھی سمجھتے ہیں؟
کوئی سمجھائے تو کہیںگے
اللہ معاف کرے ایسی کوئی
بات ہمارے ذہن میںنہیںمگر
کیا یہ بھی حقیقت نہیں
کہ بات ذہن میںنہ ہونے سے کوئی
فرق نہیںپڑتا اگر آپ کا رویہ
ہی ٹھیک نہ ہو تو؟
ناشتے میں چائے ٹھنڈی ہوگئی
میرا موڈ آف ہوگیا
اب مجھ سے بات مت کرو….
میںنے کہا تھا میرے کپڑے ٹھیک سے
استری کیا کرو یہ کیا بیڑہ غرق کردیا ہے
کچھ تو میری عزت کا خیال کرو…
ایسی باتیںگھروںمیںکون کرتا ہے؟
کیا خاوند کے علاوہ بیوی کبھی
یہ جرات کرے ایسی گستاخی کرے
تو معاف کیا جائے گا؟؟؟
گوارا کرلیا جائے گا؟؟؟
برداشت کرے گا کوئی؟؟؟
ہمارے ہاںمردوںکو اللہ کا لاکھ لاکھ
شکر ادا کرنا چاہئیے کہ ایسی گائے
جیسے بیویاںمل جاتی ہیں
کسی مغربی عورت کے پلے اس قسم
کے انا پرست خاوند کو 2 دن ڈال کر دیکھیں
لگ پتا جائے گا کہ دنیا کہاںکی
کہاںپنہچ گئی ہے!!!!
یہ صرف ہم پاکستانی عورتیں ہیں
جو برداشت کا اس قدر عظیم
جذبہ رکھتی ہیںکیونکہ ہم مسلمان ہیں….
اللہ کا خوف دلوںمیں باقی ہے!
جس عزت کو ہمارے مرد اپنا حق س
مجھتے ہیں وہ ہم عورتوںکی قربانی ہے،
ہماری زندگی کی بس یہی وقعت ہے؟؟؟
اپنے نفس پر جتنا قابو ایک مسلمان
عورت رکھتی ہے مرد سوچ بھی نہیںسکتا.
میڈیا کی کیا مجال ہے خراب کرے.
کسی غیر ملکی عورت سے شادی کرکے
دکھاؤ چار دن گزارہ کرکے دیکھو
دن میںتارے نظر آجائیں گے
یہاںتو جمائما عمران جیسے آئیڈیل
کے ساتھ نہ رہ پائی ہم عورتیں جیسے
گزارہ کرتی ہیں ان مردوں کو
ساری زندگی اندازہ بھی نہیں ہو سکتا.
یہ سب باتیں عورت کے حوالے سے
ہمارے رویے کو ظاہر کرنے کے لیے کافی ہیں.
حقیقت یہ ہے کہ معاشرے میں توازن قائم
رکھنے کے لیے عورت اور مرد کا آپس
میں دوستانہ رویہ، باہمی
عزت و احترام اور اور آپس میں مکالمہ
انسانیت کی قدروں کا اساس ہے.
اس کے مقابلے میں عورت اور مرد
کے درمیان گالیوں کا تبادلہ انسانیت
کی ضد ہے.
بچہ جب خاندان اور علاقے میں
استعمال ہونے والی گالیاں سیکھتا ہے
تو اس کی نفسیات کو بھی
نقصان پہنچتا ہے.
اس کے اندر بڑوں بالخصوص
عورتوں کا احترام کرنے کا جذبہ
ختم ہو جاتا ہے. ماں جسے سب سے
زیادہ احترام کا درجہ ملنا چاہیے،
پھر اسی کے ساتھ تُو تڑاخ سے
بولنے کو عین مردانگی سمجھتا ہے.
معاشرتی سطح پر دیکھیں تو ہر بے جان
اور نحیف چیز کو نسوانیت سے
منسلک کرنا اور طاقتور کو مردانگی
کا درجہ دیا جاتا ہے.
جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ عورت
کی نفاست، سلیقہ مندی اور آداب ہیں
جو ایک مرد کو مرد بناتے ہیں.
میرے اپنے دل کی بات ہے کہ جو
ہمارے بھائی یہ کہتے ہیںکہ میڈیا نے
عورت کو آزاد خیال کردیا ہے
باغی کردیا ہے
انہیںیہ بھی سوچنا چاہئیے
کہ اگر ایسا ہوا ہے تو ہوا کیوںہے؟
کہیںاس کی وجہ ماضی کا بے پناہ
متشدد رویہ، ہروقت کی گھٹن،
سسک سسک کر جینا،
شوہر کے ڈر اور خوف سے
ہروقت کانپتے رہنا
اور جا بیٹی اب سسرال سے
تیرا جنازہ ہی نکلے گا تو نہ نکلنا
جیسی گھناؤنی بازگشت تو نہیں؟
سوچ کر تو دیکھیں…
جواب آپ کے ہم سب کے دلوں
کے اندر پہلے سے ہی موجود ہے.
اللہ ہم سب کو ہدایت دے
کاش ہم اپنے پیارے
نبی محمد صلى الله عليه وسلم کا
حسنِ سلوک اُن ازواج مطہرات کے
ساتھ غور سے دیکھیں
تو عورت کو کیا پڑی ہے
خراب ہوتی پھرے؟
آزادی مانگتی پھرے؟
بغاوتیںکرتی پھرے؟
حق مارا گیا ہے جناب…
بہت مارا گیا ہے!!!
جو مرد اپنی بیوی سے مساوات اور
نرمی کا سلوک رکھے
اور اسے اپنی زندگی
اگر عورت کو غصہ آ جائے تو جوتا
اٹھا کر نہیں مار سکتی
کیونکہ اسے تعلیم دی گئی ہے
کہ میاں بیوی کو ایک دوسرے
کا احترام کرنا چاہیے.
اگر بدزبانی کرے تو مرد اس سے
زیادہ بدزبانی کرنے کو موجود ہوتا ہے
اور اگر گالی دے تو کسے دے؟
ہر گالی تو ماں بہن کے بارے میں
ہوتی ہے، تو کیا اپنے آپ کو گالی دے؟
مرد کے ہاتھوں عورت کی تضحیک
کا رویہ ہمارے معاشرے میں عام ہے.
گو کہ انگریز بھی پیچھے نہیں.
ان کے ہاں بھی عورت کو برے ناموں
سے پکارا جاتا ہے اور مرد کے لیے
چند گنی چُنی گالیاں ہیں.
لیکن برِصغیر میں تو اوّل سے آخر
تک ساری گالیاں صرف اور صرف
عورت سے منسوب ہیں.
گالیاں ہی نہیں…
اکثر محاورے بھی عورت کی
تذلیل کرنے کے لئے بنائے گئے ہیں.
پیر کی جوتی عورت،
عورت کا تو دماغ ہی چھوٹا ہے،
عورت مکار ہوتی ہے،
عورت کے پیٹ میں بات ہی نہیں ٹھہرتی،
عورت کمزور ہوتی ہے،
عورت لگائی بجھائی کرتی ہے،
عورت کو مرد سے زیادہ
زیور سے پیار ہوتا ہے،
عورت بے وفا ہوتی ہے،
عورت بد زبان ہوتی ہے
کیا یہ ایک تلخحقیقت نہیں کہ
ہمارے معاشرے میں50 فیصد سے
بھی زیادہ مرد آج بھی اپنی بیوی
کو ہلکی پھلکی گالی دے دینا
اپنا حق سمجھتے ہیں،
کیا یہ حقیقت نہیںکہ ہمارے ہاںیہی
50 فیصد سے زیادہ مرد جو
عورت کو نازیبا بات کہہ دینا اپنا
حق سمجھتے ہیںیہی مرد عورت
کو اپنا ذاتی ملازم بھی سمجھتے ہیں؟
کوئی سمجھائے تو کہیںگے
اللہ معاف کرے ایسی کوئی
بات ہمارے ذہن میںنہیںمگر
کیا یہ بھی حقیقت نہیں
کہ بات ذہن میںنہ ہونے سے کوئی
فرق نہیںپڑتا اگر آپ کا رویہ
ہی ٹھیک نہ ہو تو؟
ناشتے میں چائے ٹھنڈی ہوگئی
میرا موڈ آف ہوگیا
اب مجھ سے بات مت کرو….
میںنے کہا تھا میرے کپڑے ٹھیک سے
استری کیا کرو یہ کیا بیڑہ غرق کردیا ہے
کچھ تو میری عزت کا خیال کرو…
ایسی باتیںگھروںمیںکون کرتا ہے؟
کیا خاوند کے علاوہ بیوی کبھی
یہ جرات کرے ایسی گستاخی کرے
تو معاف کیا جائے گا؟؟؟
گوارا کرلیا جائے گا؟؟؟
برداشت کرے گا کوئی؟؟؟
ہمارے ہاںمردوںکو اللہ کا لاکھ لاکھ
شکر ادا کرنا چاہئیے کہ ایسی گائے
جیسے بیویاںمل جاتی ہیں
کسی مغربی عورت کے پلے اس قسم
کے انا پرست خاوند کو 2 دن ڈال کر دیکھیں
لگ پتا جائے گا کہ دنیا کہاںکی
کہاںپنہچ گئی ہے!!!!
یہ صرف ہم پاکستانی عورتیں ہیں
جو برداشت کا اس قدر عظیم
جذبہ رکھتی ہیںکیونکہ ہم مسلمان ہیں….
اللہ کا خوف دلوںمیں باقی ہے!
جس عزت کو ہمارے مرد اپنا حق س
مجھتے ہیں وہ ہم عورتوںکی قربانی ہے،
ہماری زندگی کی بس یہی وقعت ہے؟؟؟
اپنے نفس پر جتنا قابو ایک مسلمان
عورت رکھتی ہے مرد سوچ بھی نہیںسکتا.
میڈیا کی کیا مجال ہے خراب کرے.
کسی غیر ملکی عورت سے شادی کرکے
دکھاؤ چار دن گزارہ کرکے دیکھو
دن میںتارے نظر آجائیں گے
یہاںتو جمائما عمران جیسے آئیڈیل
کے ساتھ نہ رہ پائی ہم عورتیں جیسے
گزارہ کرتی ہیں ان مردوں کو
ساری زندگی اندازہ بھی نہیں ہو سکتا.
یہ سب باتیں عورت کے حوالے سے
ہمارے رویے کو ظاہر کرنے کے لیے کافی ہیں.
حقیقت یہ ہے کہ معاشرے میں توازن قائم
رکھنے کے لیے عورت اور مرد کا آپس
میں دوستانہ رویہ، باہمی
عزت و احترام اور اور آپس میں مکالمہ
انسانیت کی قدروں کا اساس ہے.
اس کے مقابلے میں عورت اور مرد
کے درمیان گالیوں کا تبادلہ انسانیت
کی ضد ہے.
بچہ جب خاندان اور علاقے میں
استعمال ہونے والی گالیاں سیکھتا ہے
تو اس کی نفسیات کو بھی
نقصان پہنچتا ہے.
اس کے اندر بڑوں بالخصوص
عورتوں کا احترام کرنے کا جذبہ
ختم ہو جاتا ہے. ماں جسے سب سے
زیادہ احترام کا درجہ ملنا چاہیے،
پھر اسی کے ساتھ تُو تڑاخ سے
بولنے کو عین مردانگی سمجھتا ہے.
معاشرتی سطح پر دیکھیں تو ہر بے جان
اور نحیف چیز کو نسوانیت سے
منسلک کرنا اور طاقتور کو مردانگی
کا درجہ دیا جاتا ہے.
جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ عورت
کی نفاست، سلیقہ مندی اور آداب ہیں
جو ایک مرد کو مرد بناتے ہیں.
میرے اپنے دل کی بات ہے کہ جو
ہمارے بھائی یہ کہتے ہیںکہ میڈیا نے
عورت کو آزاد خیال کردیا ہے
باغی کردیا ہے
انہیںیہ بھی سوچنا چاہئیے
کہ اگر ایسا ہوا ہے تو ہوا کیوںہے؟
کہیںاس کی وجہ ماضی کا بے پناہ
متشدد رویہ، ہروقت کی گھٹن،
سسک سسک کر جینا،
شوہر کے ڈر اور خوف سے
ہروقت کانپتے رہنا
اور جا بیٹی اب سسرال سے
تیرا جنازہ ہی نکلے گا تو نہ نکلنا
جیسی گھناؤنی بازگشت تو نہیں؟
سوچ کر تو دیکھیں…
جواب آپ کے ہم سب کے دلوں
کے اندر پہلے سے ہی موجود ہے.
اللہ ہم سب کو ہدایت دے
کاش ہم اپنے پیارے
نبی محمد صلى الله عليه وسلم کا
حسنِ سلوک اُن ازواج مطہرات کے
ساتھ غور سے دیکھیں
تو عورت کو کیا پڑی ہے
خراب ہوتی پھرے؟
آزادی مانگتی پھرے؟
بغاوتیںکرتی پھرے؟
حق مارا گیا ہے جناب…
بہت مارا گیا ہے!!!
جو مرد اپنی بیوی سے مساوات اور
نرمی کا سلوک رکھے
اور اسے اپنی زندگی
میںبرابر کا ساتھی سمجھے اس
کی بیوی کو آزادی کی ہرگز
ضرورت نہیں ہوتی کیونکہ وہ اپنے
گھر میںپہلے سے ہی آزاد ہوتی ہے
اور عورت کو صرف اپنے گھر میں
آزادی چاہیے جو مرد اسے وہ دے دیتا ہے
اُس کی بیوی کبھی باہر کی آزادی
نہیںمانگتی عورت کا گلشن اس
کی دُنیا گھر ہے
اسے اس کی کائنات کا
پورا اختیار دیں
محبت اور عزت کے ساتھ…
پھر دیکھیں زندگی میں
کیسے پھول کھلتے ہیں۔┅═<❁✿✿✿❁>═┅
انتخاب از : *"شکیل فانی ملتان، پاکستان،،*
واٹس ایپ لنک:
https://chat.whatsapp.com/CTx8JZEe5sx9tHTVlV8KcA
ٹیلی گرام لنک:
http://t.me/CutPiece
کی بیوی کو آزادی کی ہرگز
ضرورت نہیں ہوتی کیونکہ وہ اپنے
گھر میںپہلے سے ہی آزاد ہوتی ہے
اور عورت کو صرف اپنے گھر میں
آزادی چاہیے جو مرد اسے وہ دے دیتا ہے
اُس کی بیوی کبھی باہر کی آزادی
نہیںمانگتی عورت کا گلشن اس
کی دُنیا گھر ہے
اسے اس کی کائنات کا
پورا اختیار دیں
محبت اور عزت کے ساتھ…
پھر دیکھیں زندگی میں
کیسے پھول کھلتے ہیں۔┅═<❁✿✿✿❁>═┅
انتخاب از : *"شکیل فانی ملتان، پاکستان،،*
واٹس ایپ لنک:
https://chat.whatsapp.com/CTx8JZEe5sx9tHTVlV8KcA
ٹیلی گرام لنک:
http://t.me/CutPiece
استاد کا احسان !
علامہ اقبال سے کسی نے پوچھا کہ آپ نے اپنے کسی استاد کو بھی کبھی شاعری میں فی البدیہہ جواب دیا ھے ؟
فرمانے لگے میرے ایک استاد تھے جو بازار جا رھے تھے ، ان کے ساتھ ان کا ایک پوتا بھی تھا جس کا نام احسان تھا - پوتا اگرچہ عمر میں چھوٹا تھا مگر وزن اس کا دس برس کے بچے جتنا تھا ،، میں نے مروت کے مارے اس کو اٹھا تو لیا مگر اسے اٹھا کر چلنا محال ھو گیا ،میں تھوڑا سا چلتا پھر اسے نیچے اتارتا تھوڑا دم لے کر پھر اٹھاتا ،، میں جب کافی پیچھے رہ گیا تو استاد جی کھڑے ھو گئے اور میرے پاس پہنچنے پہ کہنے لگے ،،
؎
اس کے اٹھانے میں کچھ دشواری ھے ؟
آپ کا احسان بھی تو بھاری ھے ،،
میں نے فی البدیہہ جواب دیا ،
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
انتخاب از ایڈمن: “الف،ب،نون”
واٹس ایپ:
https://chat.whatsapp.com/CTx8JZEe5sx9tHTVlV8KcA
ٹیلی گرام:
t.me/CutPieceن
علامہ اقبال سے کسی نے پوچھا کہ آپ نے اپنے کسی استاد کو بھی کبھی شاعری میں فی البدیہہ جواب دیا ھے ؟
فرمانے لگے میرے ایک استاد تھے جو بازار جا رھے تھے ، ان کے ساتھ ان کا ایک پوتا بھی تھا جس کا نام احسان تھا - پوتا اگرچہ عمر میں چھوٹا تھا مگر وزن اس کا دس برس کے بچے جتنا تھا ،، میں نے مروت کے مارے اس کو اٹھا تو لیا مگر اسے اٹھا کر چلنا محال ھو گیا ،میں تھوڑا سا چلتا پھر اسے نیچے اتارتا تھوڑا دم لے کر پھر اٹھاتا ،، میں جب کافی پیچھے رہ گیا تو استاد جی کھڑے ھو گئے اور میرے پاس پہنچنے پہ کہنے لگے ،،
؎
اس کے اٹھانے میں کچھ دشواری ھے ؟
آپ کا احسان بھی تو بھاری ھے ،،
میں نے فی البدیہہ جواب دیا ،
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
انتخاب از ایڈمن: “الف،ب،نون”
واٹس ایپ:
https://chat.whatsapp.com/CTx8JZEe5sx9tHTVlV8KcA
ٹیلی گرام:
t.me/CutPieceن
ظہورِ قدسی صلی اللہ علیہ وسلم
_________________
امام الہند مولانا ابو الکلام آزاد رحمہ اللہ
ظہورِ قدسی صلی اللہ علیہ وسلم
’’رات لیلۃ القدر بنی سنوری ہوئی نکلی اور خَیْرٌ مِّنْ اَلْفِ شَھْرِِکی بانسری بجاتی ہوئی ساری دنیا میں پھیل گئی ۔ موکلان شب قدر نے مِنْ کُلِّ اَمرِِ سَلَام کی سیجیں بچھا دیں۔ ملائیکان ملاء الا علیٰ نے تَنَزَّ لُ الْمَلائکَۃُ وَالرُّوْحُ فِیْھَا کی شہنائیاں شام سے بجانی شروع کردیں ۔حوریں بِاِذْنِ رَبِّھِمْ کے پروانے ہاتھوں میں لے کر فردوس سے چل کھڑی ہوئیں اور ھِیَ حَتّٰی مَطْلَعِ الْفَجْرِکی میعادی اجازت نے فرشتگانِ مغرب کو دنیا میں آنے کی رخصت دے دی ۔تارے نکلے اور طلوع ماہتاب سے پہلے عروسِ کائنات کی مانگ میں موتی بھر کر غائب ہو گئے ۔ چاند نکلا اور اس نے فضا ئے عالم کو اپنی نورانی ردائے سیمیں سے ڈھک دیا ۔ آسمان کی گھومنے والی قوسیں آپ اپنے مرکز پر ٹھہر گئیں ۔ بروج نے سیاروں کے پاؤں میں کیلیں ٹھونک دیں ۔ ہواجنبش سے‘ افلاک گردش سے ‘زمین چکر سے اور دریا بہنے سے رک گئے ۔ کارخانۂ قدرت کسی مقدس مہمان کا خیر مقدم کرنے کے لئے رات کے بعد اور صبح سے پہلے بالکل خاموش ہوگیا ۔ انتظام و اہتمام کی تکان نے چاند کی آنکھوں کوجھپکا دیا ، نسیم سحری کی آنکھیں جوشِ خواب سے بند ہونے لگیں ۔ پھولوں میں نگہت ،کلیوں میں خوشبو ، کونپلوں میں مہک محوِ خواب ہوگئی ۔ درختوں کے مشام خوشبو ئے قدس سے ایسے مہکے کہ پتا پتا مخمور ہو کر سربسجود ہوگیا ۔ ناقوس نے مندروں میں بتوں کے سامنے سرجھکانے کے بہانے آنکھ جھپکائی ۔برہمن سجدے کے حیلے سر بہ زمین ہوگیا۔ غرضیکہ کائنات کا ذرہ ذرہ اور قطرہ قطرہ ایک منٹ کے لئے غیر متحرک ہوگیا ۔ اس کے بعد وہ لمحہ آگیا ،جس کے لئے یہ سب انتظامات تھے ۔ فرشتوں کے پرے خوشیوں سے بھرے آسمانوں سے زمین پر اترنے لگے اور دنیا کے جمود میں ایک بیدارانقلاب پوشیدہ طور پر کام کرتا ہوا نظر آنے لگا۔ ملہم غیب نے منادی کی کہ افضل البشر ، خاتم الانبیاء ، سراپردۂ لاہوت سے عالم ناسوت میں تشریف لانے والے ہیں ۔ رات نے کہا : میں نے شام سے یکساں انتظار کیا ہے کہ اس گوہرِ رسالت کو میرے دامن میں ڈال دیا جائے ۔ دن نے کہا : میرا رتبہ رات سے بلند ہے ، مجھے کیوں محروم رکھا جائے ۔ دونوں کی حسرتیں قابلِ نوازش نظر آئیں ۔ کچھ حصہ دن کا لیا ، کچھ رات کا ۔ نورکے تڑکے نورعلیٰ نور کی نورانی آوازوں کے ساتھ دستِ قدرت نے دامنِ کائنات پر وہ لعل با بہار رکھ دیا ، جس کے ایک سرسری جلوے سے دنیا بھر سے ظلمت کدے منور اور روشن ہوگئے ۔ سرزمین حجاز جلوۂ حقیقت سے لبریز ہوگئی۔ دنیا جو سروروجمود کی کیفیت میں تھی اک دم متحرک نظر آنے لگی ۔ پھولوں نے پہلو کھول دیے ، کلیوں نے آنکھیں وا کیں ، دریا بہنے لگے ، ہوائیں چلنے لگیں ، آتش کدوں کی آگ سرد ہوگئی ، صنم خانوں میں خاک اڑنے لگی ، لات و منات ،حبل و عزّا کی توقیر پامال ہونے لگی، قیصر وکسریٰ کے فلک بوس بروج گر کر پاش پاش وگئے ، درختوں نے سجدۂ شکرسے سر اٹھایا ، رات کچھ روٹھی ہوئی سی ،چاند کچھ شرمایا ہواسا ،تارے نادم و محجوب ہوکر رخصت ہوئے اور آفتاب شان و فخر کے ساتھ مسرت و مباہات کے اجالے لئے ہوئے کرنوں کے ہارہاتھ میں ، قندیل نورتھال میں ، ہزاروں ناز وادا کے ساتھ اُفقِ مشرق سے نمایاں ہوا، حضرت عبداللہ کے گھر میں ، آمنہ کی گود میں ،عبدالمطلب کے گھرانے میں ،ہاشم کے خاندان میں اور مکہ کے ایک مقدس مکان میں خلاصۂ کائنات ،فخر موجودات ، محبوب خدا، امام الانبیاء ، خاتم النبیین ، رحمۃ للعلمین یعنی حضرت محمد مصطفی احمد مجتبیٰ تشریف فرمائے بصد عزو جلال ہوئے۔ سبحان اللہ ربیع الاوّل کی بارہویں تاریخ کتنی مقدس جس نے ایسی سعادت پائی اور پیر کاروز کتنا مبارک تھا جس میں حضورا نے نزولِ اجلال فرمایا :
فَتَبَارَکَ اللّٰہُ اَحْسَنُ الْخَالِقِیْنَ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
واٹس ایپ:
https://chat.whatsapp.com/CTx8JZEe5sx9tHTVlV8KcA
ٹیلی گرام:
t.me/CutPiece
_________________
امام الہند مولانا ابو الکلام آزاد رحمہ اللہ
ظہورِ قدسی صلی اللہ علیہ وسلم
’’رات لیلۃ القدر بنی سنوری ہوئی نکلی اور خَیْرٌ مِّنْ اَلْفِ شَھْرِِکی بانسری بجاتی ہوئی ساری دنیا میں پھیل گئی ۔ موکلان شب قدر نے مِنْ کُلِّ اَمرِِ سَلَام کی سیجیں بچھا دیں۔ ملائیکان ملاء الا علیٰ نے تَنَزَّ لُ الْمَلائکَۃُ وَالرُّوْحُ فِیْھَا کی شہنائیاں شام سے بجانی شروع کردیں ۔حوریں بِاِذْنِ رَبِّھِمْ کے پروانے ہاتھوں میں لے کر فردوس سے چل کھڑی ہوئیں اور ھِیَ حَتّٰی مَطْلَعِ الْفَجْرِکی میعادی اجازت نے فرشتگانِ مغرب کو دنیا میں آنے کی رخصت دے دی ۔تارے نکلے اور طلوع ماہتاب سے پہلے عروسِ کائنات کی مانگ میں موتی بھر کر غائب ہو گئے ۔ چاند نکلا اور اس نے فضا ئے عالم کو اپنی نورانی ردائے سیمیں سے ڈھک دیا ۔ آسمان کی گھومنے والی قوسیں آپ اپنے مرکز پر ٹھہر گئیں ۔ بروج نے سیاروں کے پاؤں میں کیلیں ٹھونک دیں ۔ ہواجنبش سے‘ افلاک گردش سے ‘زمین چکر سے اور دریا بہنے سے رک گئے ۔ کارخانۂ قدرت کسی مقدس مہمان کا خیر مقدم کرنے کے لئے رات کے بعد اور صبح سے پہلے بالکل خاموش ہوگیا ۔ انتظام و اہتمام کی تکان نے چاند کی آنکھوں کوجھپکا دیا ، نسیم سحری کی آنکھیں جوشِ خواب سے بند ہونے لگیں ۔ پھولوں میں نگہت ،کلیوں میں خوشبو ، کونپلوں میں مہک محوِ خواب ہوگئی ۔ درختوں کے مشام خوشبو ئے قدس سے ایسے مہکے کہ پتا پتا مخمور ہو کر سربسجود ہوگیا ۔ ناقوس نے مندروں میں بتوں کے سامنے سرجھکانے کے بہانے آنکھ جھپکائی ۔برہمن سجدے کے حیلے سر بہ زمین ہوگیا۔ غرضیکہ کائنات کا ذرہ ذرہ اور قطرہ قطرہ ایک منٹ کے لئے غیر متحرک ہوگیا ۔ اس کے بعد وہ لمحہ آگیا ،جس کے لئے یہ سب انتظامات تھے ۔ فرشتوں کے پرے خوشیوں سے بھرے آسمانوں سے زمین پر اترنے لگے اور دنیا کے جمود میں ایک بیدارانقلاب پوشیدہ طور پر کام کرتا ہوا نظر آنے لگا۔ ملہم غیب نے منادی کی کہ افضل البشر ، خاتم الانبیاء ، سراپردۂ لاہوت سے عالم ناسوت میں تشریف لانے والے ہیں ۔ رات نے کہا : میں نے شام سے یکساں انتظار کیا ہے کہ اس گوہرِ رسالت کو میرے دامن میں ڈال دیا جائے ۔ دن نے کہا : میرا رتبہ رات سے بلند ہے ، مجھے کیوں محروم رکھا جائے ۔ دونوں کی حسرتیں قابلِ نوازش نظر آئیں ۔ کچھ حصہ دن کا لیا ، کچھ رات کا ۔ نورکے تڑکے نورعلیٰ نور کی نورانی آوازوں کے ساتھ دستِ قدرت نے دامنِ کائنات پر وہ لعل با بہار رکھ دیا ، جس کے ایک سرسری جلوے سے دنیا بھر سے ظلمت کدے منور اور روشن ہوگئے ۔ سرزمین حجاز جلوۂ حقیقت سے لبریز ہوگئی۔ دنیا جو سروروجمود کی کیفیت میں تھی اک دم متحرک نظر آنے لگی ۔ پھولوں نے پہلو کھول دیے ، کلیوں نے آنکھیں وا کیں ، دریا بہنے لگے ، ہوائیں چلنے لگیں ، آتش کدوں کی آگ سرد ہوگئی ، صنم خانوں میں خاک اڑنے لگی ، لات و منات ،حبل و عزّا کی توقیر پامال ہونے لگی، قیصر وکسریٰ کے فلک بوس بروج گر کر پاش پاش وگئے ، درختوں نے سجدۂ شکرسے سر اٹھایا ، رات کچھ روٹھی ہوئی سی ،چاند کچھ شرمایا ہواسا ،تارے نادم و محجوب ہوکر رخصت ہوئے اور آفتاب شان و فخر کے ساتھ مسرت و مباہات کے اجالے لئے ہوئے کرنوں کے ہارہاتھ میں ، قندیل نورتھال میں ، ہزاروں ناز وادا کے ساتھ اُفقِ مشرق سے نمایاں ہوا، حضرت عبداللہ کے گھر میں ، آمنہ کی گود میں ،عبدالمطلب کے گھرانے میں ،ہاشم کے خاندان میں اور مکہ کے ایک مقدس مکان میں خلاصۂ کائنات ،فخر موجودات ، محبوب خدا، امام الانبیاء ، خاتم النبیین ، رحمۃ للعلمین یعنی حضرت محمد مصطفی احمد مجتبیٰ تشریف فرمائے بصد عزو جلال ہوئے۔ سبحان اللہ ربیع الاوّل کی بارہویں تاریخ کتنی مقدس جس نے ایسی سعادت پائی اور پیر کاروز کتنا مبارک تھا جس میں حضورا نے نزولِ اجلال فرمایا :
فَتَبَارَکَ اللّٰہُ اَحْسَنُ الْخَالِقِیْنَ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
واٹس ایپ:
https://chat.whatsapp.com/CTx8JZEe5sx9tHTVlV8KcA
ٹیلی گرام:
t.me/CutPiece