اعتماد
آپ نے دیکھا ہوگا بطخ کے بچے جب انڈوں سے نکلتے ہیں، تو پہلے پہل جھیل میں بطخ کے اوپر سوار ہوتے ہیں۔بطخ انکو لیکر تیرتی ہے۔چند دن بعد اچانک ایک دن بطخ اپنا بدن جھٹکتی ہے اور بچے پانی میں گر جاتے ہیں۔
فطرت راہنمائی کرتی ہے اور جبلت کچھ ہی دیر میں انکو تیراک بنا دیتی ہے۔
فرض کرتے ہیں بطخ یہ نہ کرے تو کیا ہوگا.؟
اگر بطخ نہ کرے تو ہر گزرتے دن کے ساتھ بچوں کا وزن بڑھتا چلا جائے گا. اور بطخ ان کے وزن سے ہی ڈوب جائے گی۔ اسی طرح اگر مرغی اپنے بچوں کو دانہ دُنکا چُگنا نہ سکھائے تو وہ چوزے بلی کا شکار ہو جائیں گے ۔
یہی حال ہم انسانوں کا ہے۔
ہم بچوں کو سرد و گرم سے بچاتے بچاتے فطرت کی راہ میں مزاحمت شروع کر دیتے ہیں. یہ بھول جاتے ہیں جس رب نے ہمارے لئے انکے تحفظ کی قوت و ہمت ودیعت کی ہے اُسی رب کے ہی یہ بندے ہیں. ہم ان کی زندگیوں کو ریموٹ کنٹرول کی طرح پیرنٹ گائڈ کنٹرول سے باندھ دیتے ہیں. وقت گزرتا ہے، ان کا بوجھ بڑھ جاتا ہے. اور ہم تھک ہار کر ایک دن کوئی ایک قصہ کوئی ایک وجہ پکڑ کر انکو جھٹک کر دور کردیئے ہیں۔
اچانک بڑا بچہ دنیا کے بازار میں تنہا اپنی ذمہ داری کیلئے کوشاں ہو جاتا ہے، تب اس کے پاس سب کچھ ہوتے بھی اعتماد نہیں ہوتا، کہ اعتماد لینے کے دور میں ہم نے اپنے خود ساختہ خوف کے پردوں میں انکو چھپا رکھا ہوتا ہے۔
اپنے بچوں پر اعتماد کریں۔
انکو زندگی کے بازار کو سمجھنے دیں۔ یاد رکھیں !! چلنا سکھانے کیلئے انگلی پکڑی جاتی ہے۔کندھوں پر بٹھا کر رکھنے سے وہ چلنا نہیں سیکھے گا.
انتخاب: احمد بن نذر
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــ
واٹس ایپ:
https://chat.whatsapp.com/Db588KoA6AcKOVBGxdPSvZ
ٹیلی گرام:
t.me/CutPiece
فیسبک:
https://www.facebook.com/fbcutpiece/
انسٹاگرام:
https://instagram.com/cut_piece_?igshid=YmMyMTA2M2Y
آپ نے دیکھا ہوگا بطخ کے بچے جب انڈوں سے نکلتے ہیں، تو پہلے پہل جھیل میں بطخ کے اوپر سوار ہوتے ہیں۔بطخ انکو لیکر تیرتی ہے۔چند دن بعد اچانک ایک دن بطخ اپنا بدن جھٹکتی ہے اور بچے پانی میں گر جاتے ہیں۔
فطرت راہنمائی کرتی ہے اور جبلت کچھ ہی دیر میں انکو تیراک بنا دیتی ہے۔
فرض کرتے ہیں بطخ یہ نہ کرے تو کیا ہوگا.؟
اگر بطخ نہ کرے تو ہر گزرتے دن کے ساتھ بچوں کا وزن بڑھتا چلا جائے گا. اور بطخ ان کے وزن سے ہی ڈوب جائے گی۔ اسی طرح اگر مرغی اپنے بچوں کو دانہ دُنکا چُگنا نہ سکھائے تو وہ چوزے بلی کا شکار ہو جائیں گے ۔
یہی حال ہم انسانوں کا ہے۔
ہم بچوں کو سرد و گرم سے بچاتے بچاتے فطرت کی راہ میں مزاحمت شروع کر دیتے ہیں. یہ بھول جاتے ہیں جس رب نے ہمارے لئے انکے تحفظ کی قوت و ہمت ودیعت کی ہے اُسی رب کے ہی یہ بندے ہیں. ہم ان کی زندگیوں کو ریموٹ کنٹرول کی طرح پیرنٹ گائڈ کنٹرول سے باندھ دیتے ہیں. وقت گزرتا ہے، ان کا بوجھ بڑھ جاتا ہے. اور ہم تھک ہار کر ایک دن کوئی ایک قصہ کوئی ایک وجہ پکڑ کر انکو جھٹک کر دور کردیئے ہیں۔
اچانک بڑا بچہ دنیا کے بازار میں تنہا اپنی ذمہ داری کیلئے کوشاں ہو جاتا ہے، تب اس کے پاس سب کچھ ہوتے بھی اعتماد نہیں ہوتا، کہ اعتماد لینے کے دور میں ہم نے اپنے خود ساختہ خوف کے پردوں میں انکو چھپا رکھا ہوتا ہے۔
اپنے بچوں پر اعتماد کریں۔
انکو زندگی کے بازار کو سمجھنے دیں۔ یاد رکھیں !! چلنا سکھانے کیلئے انگلی پکڑی جاتی ہے۔کندھوں پر بٹھا کر رکھنے سے وہ چلنا نہیں سیکھے گا.
انتخاب: احمد بن نذر
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــ
واٹس ایپ:
https://chat.whatsapp.com/Db588KoA6AcKOVBGxdPSvZ
ٹیلی گرام:
t.me/CutPiece
فیسبک:
https://www.facebook.com/fbcutpiece/
انسٹاگرام:
https://instagram.com/cut_piece_?igshid=YmMyMTA2M2Y
WhatsApp.com
📃📑کَٹ پِیس📜📄 (1)
WhatsApp Group Invite
کسی نے سوچے بغیر یا سوچ سمجھ کر ایک جملہ داغ دیا کہ شوہر کی محبت یہ ہے کہ وہ ناشتہ کئے بغیر دفتر چلا جائے۔ لیکن بیوی کو نہ جگائے۔ اس "خوبصورت" جملے نے پاپا کی پریوں کو بے حد متاثر کیا اور انہوں نے دھڑا دھڑ جملہ شئیر کرنا شروع کر دیا۔
معصوم لڑکیو سنو ! بیوی کی محبت یہ ہے کہ وہ شوہر اور بچوں کو غیر معیاری کھانے کھلانے کی بجائے گھر کا بنا صاف ستھرا ناشتہ کروا کر بھیجتی ہے اور ان کے واپس آنے سے پہلے اس کو فکر ہوتی ہے کہ بچے اور میاں گھر آ کر کیا کھائیں گے۔ یعنی کھانا تیار رکھتی ہے۔ ہاں ایک فکر مند بیوی کی طرح شوہر کو بھی احساس کرنے والا ہونا چاہیے۔ اگر افراد خانہ کو ہر وقت گھر پر تیار کھانا میسر ہوتا ہے لیکن کسی وقت بیوی کی طبیعت اس کا ساتھ نہیں دے رہی تو اس دن سب کے کھانے پینے کا انتظام شوہر خود کرے۔ یہ شوہر کی محبت ہو گی۔
شادی کے بعد جہاں مرد پر بیوی بچوں کے نان نفقے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے وہاں ہی عورت پر گھر کی دیکھ بھال کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ بیوی کو اگر گھر میں فارغ بیٹھا شوہر اچھا نہیں لگتا تو شوہر کو کام کاج سے جی چرانے والی بیوی کیوں اچھی لگے گی؟ ایک آدمی رزق کی تلاش میں صبح کا نکلا شام کو گھر لوٹتا ہے۔ صرف اپنی گزر بسر کے لائق نہیں بلکہ بوڑھے ماں باپ اور بیوی بچوں کے لئیے کمانے کا پریشر بھی ہے تو گویا گھر چلانے کے لئیے اسے دوہری ، تہری سے بھی زیادہ رقم کمانا ہو گی۔ پانچ، سات افراد کا معاشی بوجھ اکیلے ہی ڈھونا ہے۔ ایسی صورت میں اگر وہ یہ توقع کرتا ہے کہ اسے گھر میں آرام ملے۔ صاف ستھرا گھر، کھانا اور لباس ملے تو وہ حق بجانب ہے۔ اگر بیوی بھی جاب کرتی ہے اور گھر کے خرچ میں برابر حصہ ڈالتی ہے تب بیوی کا یہ مطالبہ مبنی بر انصاف ہے کہ گھر میں مرد و عورت دونوں برابر کام کریں۔
منزہ ذوالفقار
انتخاب: احمد بن نذر
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــ
واٹس ایپ:
https://chat.whatsapp.com/Db588KoA6AcKOVBGxdPSvZ
ٹیلی گرام:
t.me/CutPiece
فیسبک:
https://www.facebook.com/fbcutpiece/
انسٹاگرام:
https://instagram.com/cut_piece_?igshid=YmMyMTA2M2Y
معصوم لڑکیو سنو ! بیوی کی محبت یہ ہے کہ وہ شوہر اور بچوں کو غیر معیاری کھانے کھلانے کی بجائے گھر کا بنا صاف ستھرا ناشتہ کروا کر بھیجتی ہے اور ان کے واپس آنے سے پہلے اس کو فکر ہوتی ہے کہ بچے اور میاں گھر آ کر کیا کھائیں گے۔ یعنی کھانا تیار رکھتی ہے۔ ہاں ایک فکر مند بیوی کی طرح شوہر کو بھی احساس کرنے والا ہونا چاہیے۔ اگر افراد خانہ کو ہر وقت گھر پر تیار کھانا میسر ہوتا ہے لیکن کسی وقت بیوی کی طبیعت اس کا ساتھ نہیں دے رہی تو اس دن سب کے کھانے پینے کا انتظام شوہر خود کرے۔ یہ شوہر کی محبت ہو گی۔
شادی کے بعد جہاں مرد پر بیوی بچوں کے نان نفقے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے وہاں ہی عورت پر گھر کی دیکھ بھال کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ بیوی کو اگر گھر میں فارغ بیٹھا شوہر اچھا نہیں لگتا تو شوہر کو کام کاج سے جی چرانے والی بیوی کیوں اچھی لگے گی؟ ایک آدمی رزق کی تلاش میں صبح کا نکلا شام کو گھر لوٹتا ہے۔ صرف اپنی گزر بسر کے لائق نہیں بلکہ بوڑھے ماں باپ اور بیوی بچوں کے لئیے کمانے کا پریشر بھی ہے تو گویا گھر چلانے کے لئیے اسے دوہری ، تہری سے بھی زیادہ رقم کمانا ہو گی۔ پانچ، سات افراد کا معاشی بوجھ اکیلے ہی ڈھونا ہے۔ ایسی صورت میں اگر وہ یہ توقع کرتا ہے کہ اسے گھر میں آرام ملے۔ صاف ستھرا گھر، کھانا اور لباس ملے تو وہ حق بجانب ہے۔ اگر بیوی بھی جاب کرتی ہے اور گھر کے خرچ میں برابر حصہ ڈالتی ہے تب بیوی کا یہ مطالبہ مبنی بر انصاف ہے کہ گھر میں مرد و عورت دونوں برابر کام کریں۔
منزہ ذوالفقار
انتخاب: احمد بن نذر
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــ
واٹس ایپ:
https://chat.whatsapp.com/Db588KoA6AcKOVBGxdPSvZ
ٹیلی گرام:
t.me/CutPiece
فیسبک:
https://www.facebook.com/fbcutpiece/
انسٹاگرام:
https://instagram.com/cut_piece_?igshid=YmMyMTA2M2Y
WhatsApp.com
📃📑کَٹ پِیس📜📄 (1)
WhatsApp Group Invite
صبح تین بجے اٹھ کر موٹر چلا کر ٹینکی بھرنے کے بعد
مسجد کی لاٸٹیں آن کیں اور
اذان دے کر صفاٸی شروع کردی
جماعت کروا کر بچوں کو پڑھانا شروع کردیا
سب گھروں کو چلے گٸے اور وہ ابھی مسجد میں ہے
کیونکہ مسجد کے تین ، چار کام کروانے ہیں
کچھ چیزیں ٹھیک کروانے والی ہیں اور کچھ نٸی خریدنے والی ہیں
ظہر کا وقت سر پر آن پہنچا اور وہ ابھی مارکیٹ میں ہی ہے
مسجد کا دروازہ حاجی نے کھولا اور اتنی دیر میں امام صاحب بھی آگٸے
حاجی صاحب نے کھڑے کھڑے دو چار باتیں سنا دیں کہ مسجد کا دروازہ تو ٹاٸم پر کھلنا چاہیے
وہ بیچارہ وضاحت دے رہا تھا لیکن حاجی صاحب سننے کو تیار نہیں تھے
ظہر پڑھاٸی اور آرام کرنا چاہا لیکن فون آیا کہ چودھری ششماد صاحب کے آخری پھوپھا چودہ سال پہلے شراب پیتے ہوٸے مر گٸے تھے ان کے لیے ختم پڑھنا ہے
یہ بیچارہ پھر اٹھا اور دوڑ لگا دی
مولوی صاحب نے ختم پڑھا تو چودھری صاحب نے کہا کہ قاری صاحب روٹی گھر پہنچ جاٸے گی
بڑے بڑے چوہدریوں میں بیٹھ کر یہ مسکین کیسے روٹی کھا سکتا ہے
اتنی دیر میں عصر کا ٹاٸم آ پہنچا
عصر پڑھاٸی تو دل چاہا بچوں کو گھمانے لے جاوں
لیکن
مسجد سے نکلتے ہی ہمساٸے میں رہنے والے رحمانی صاحب نے پکڑ لیا
اخے مولوی صاحب کہاں جا رہے ہیں
ہر وقت سیر سپاٹے پر ہی نکلے ہوٸے ہوتے ہیں
مغرب کے بعد پھر بچوں کو پڑھانا شروع کر دیا ہے
عشإ کی سترہ رکعتیں پڑھنے کے بعد گھر کے دروازہ پر پہنچے ہی تھے کہ
پیر صاحب کی کال آگٸی
کہ بڑے حضرت جی نے مولوی صاحب کو یاد کیا ہے
اس مسجد میں بڑے حضرت جی ہی مولوی صاحب کو لے کر آٸے تھے
مولوی صاحب پہنچے تو
بڑے حضرت جی جن کے چوبیس گھنٹے اے سی میں اور دیسی خوارکیں کھا کھا کر چہرہ نورانی وجدانی ہوا پڑا تھا کہنے لگے
تم مولوی لوگ سارا دن ویلے رہتے ہو ، کھاتے پیتے بھی بہت اچھا ہو لیکن
تمہارے مر جھاٸے ہوٸے چہروں کی سمجھ نہیں آتی
مولوی صاحب اپنی نیند کی کمی اور دن بھر کی بھاگ دوڑ بیان کرنے ہی والے تھے کہ
مرید صادق بول اٹھا
بڑے حضرت جی یہ ظاہری عبادتیں کرتے ہیں
اصل عبادت تو آپ جیسے ولی اللہ کرتے ہیں
جیسے تیسے مولوی صاحب گھر کو پہنچے ، کھانا کھایا
سو گٸے
لیکن جسمانی تھکاوٹ اس قدر تھی کہ یوں لگا کہ آنکھیں بند کرکے کھول لی ہیں
اور پھر چل سو چل
اس مزدور کی تنخواہ جمع کرتے ہوٸے محلے کے چوہڑے چمار بھی کہہ رہے ہوتے ہیں کہ
مولوی صاحب کے کون سا اتنے اخراجات ہیں
ان کا گزارہ ہوجاتا ہے
پانچ ہزار بہت ہیں۔“
افسوس!
(نقل و چسپاں)
انتخاب: احمد بن نذر
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــ
واٹس ایپ:
https://chat.whatsapp.com/Db588KoA6AcKOVBGxdPSvZ
ٹیلی گرام:
t.me/CutPiece
فیسبک:
https://www.facebook.com/fbcutpiece/
انسٹاگرام:
https://instagram.com/cut_piece_?igshid=YmMyMTA2M2Y
مسجد کی لاٸٹیں آن کیں اور
اذان دے کر صفاٸی شروع کردی
جماعت کروا کر بچوں کو پڑھانا شروع کردیا
سب گھروں کو چلے گٸے اور وہ ابھی مسجد میں ہے
کیونکہ مسجد کے تین ، چار کام کروانے ہیں
کچھ چیزیں ٹھیک کروانے والی ہیں اور کچھ نٸی خریدنے والی ہیں
ظہر کا وقت سر پر آن پہنچا اور وہ ابھی مارکیٹ میں ہی ہے
مسجد کا دروازہ حاجی نے کھولا اور اتنی دیر میں امام صاحب بھی آگٸے
حاجی صاحب نے کھڑے کھڑے دو چار باتیں سنا دیں کہ مسجد کا دروازہ تو ٹاٸم پر کھلنا چاہیے
وہ بیچارہ وضاحت دے رہا تھا لیکن حاجی صاحب سننے کو تیار نہیں تھے
ظہر پڑھاٸی اور آرام کرنا چاہا لیکن فون آیا کہ چودھری ششماد صاحب کے آخری پھوپھا چودہ سال پہلے شراب پیتے ہوٸے مر گٸے تھے ان کے لیے ختم پڑھنا ہے
یہ بیچارہ پھر اٹھا اور دوڑ لگا دی
مولوی صاحب نے ختم پڑھا تو چودھری صاحب نے کہا کہ قاری صاحب روٹی گھر پہنچ جاٸے گی
بڑے بڑے چوہدریوں میں بیٹھ کر یہ مسکین کیسے روٹی کھا سکتا ہے
اتنی دیر میں عصر کا ٹاٸم آ پہنچا
عصر پڑھاٸی تو دل چاہا بچوں کو گھمانے لے جاوں
لیکن
مسجد سے نکلتے ہی ہمساٸے میں رہنے والے رحمانی صاحب نے پکڑ لیا
اخے مولوی صاحب کہاں جا رہے ہیں
ہر وقت سیر سپاٹے پر ہی نکلے ہوٸے ہوتے ہیں
مغرب کے بعد پھر بچوں کو پڑھانا شروع کر دیا ہے
عشإ کی سترہ رکعتیں پڑھنے کے بعد گھر کے دروازہ پر پہنچے ہی تھے کہ
پیر صاحب کی کال آگٸی
کہ بڑے حضرت جی نے مولوی صاحب کو یاد کیا ہے
اس مسجد میں بڑے حضرت جی ہی مولوی صاحب کو لے کر آٸے تھے
مولوی صاحب پہنچے تو
بڑے حضرت جی جن کے چوبیس گھنٹے اے سی میں اور دیسی خوارکیں کھا کھا کر چہرہ نورانی وجدانی ہوا پڑا تھا کہنے لگے
تم مولوی لوگ سارا دن ویلے رہتے ہو ، کھاتے پیتے بھی بہت اچھا ہو لیکن
تمہارے مر جھاٸے ہوٸے چہروں کی سمجھ نہیں آتی
مولوی صاحب اپنی نیند کی کمی اور دن بھر کی بھاگ دوڑ بیان کرنے ہی والے تھے کہ
مرید صادق بول اٹھا
بڑے حضرت جی یہ ظاہری عبادتیں کرتے ہیں
اصل عبادت تو آپ جیسے ولی اللہ کرتے ہیں
جیسے تیسے مولوی صاحب گھر کو پہنچے ، کھانا کھایا
سو گٸے
لیکن جسمانی تھکاوٹ اس قدر تھی کہ یوں لگا کہ آنکھیں بند کرکے کھول لی ہیں
اور پھر چل سو چل
اس مزدور کی تنخواہ جمع کرتے ہوٸے محلے کے چوہڑے چمار بھی کہہ رہے ہوتے ہیں کہ
مولوی صاحب کے کون سا اتنے اخراجات ہیں
ان کا گزارہ ہوجاتا ہے
پانچ ہزار بہت ہیں۔“
افسوس!
(نقل و چسپاں)
انتخاب: احمد بن نذر
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــ
واٹس ایپ:
https://chat.whatsapp.com/Db588KoA6AcKOVBGxdPSvZ
ٹیلی گرام:
t.me/CutPiece
فیسبک:
https://www.facebook.com/fbcutpiece/
انسٹاگرام:
https://instagram.com/cut_piece_?igshid=YmMyMTA2M2Y
WhatsApp.com
📃📑کَٹ پِیس📜📄 (1)
WhatsApp Group Invite
کمال ہے بھئی!
ہمارے گھر کے قریب ایک بیکری ہے۔ اکثرشام کے وقت کام سے واپسی پر میں وہاں سے صبح ناشتے کے لئے کچھ سامان لے کے گھر جاتا ہوں۔ آج جب سامان لے کے بیکری سے باہر نکل رہا تھا کہ ہمارے پڑوسی عرفان بھائی مل گئے۔ وہ بھی بیکری سے باہر آرہے تھے۔ میں نے سلام دعا کی اور پوچھا.
"کیا لے لیا عرفان بھائی؟"
کہنے لگے۔
"کچھ نہیں حنیف بھائی! وہ چکن پیٹس تھے اور جلیبیاں تھیں بیگم اور بچوں کے لئے"
میں نے ہنستے ہوئے کہا۔
"کیوں..آج کیا بھابھی نے کھانا نہیں پکایا"
کہنے لگے۔
"نہیں نہیں حنیف بھائی! یہ بات نہیں ہے... دراصل آج دفتر میں شام کے وقت کچھ بھوک لگی تھی تو ساتھیوں نے چکن پیٹس اور جلیبیاں منگوائیں ... میں نے وہاں کھائے تھے تو سوچا بیچاری گھر میں جو بیٹھی ہے وہ کہاں کھانے جائے گی.. اس کے لئے بھی لے لوں... یہ تو مناسب نہ ہوا نا کہ میں خود تو آفس میں جس چیز کا دل چاہے وہ کھالوں اور بیوی بچوں سے کہوں کہ وہ جو گھر میں پکے صرف وہی کھائیں"
میں حیرت سے ان کا منہ تکنے لگا کیونکہ میں نے آج تک اس انداز سے سوچا ہی نہیں تھا.
میں نے کہا۔
"اس میں حرج ہی کیا ہے عرفان بھائی! آپ اگر دفتر میں کچھ کھاتے ہیں تو بھئی بھابھی اور بچوں کا گھر میں جس چیز کا دل چاہے گا، کھاتے ہونگے"
وہ کہنے لگے۔
"نہیں نہیں حنیف بھائی!
وہ بیچاری تو اتنی سی چیز بھی ہوتی ہے میرے لئے الگ رکھتی ہے... یہاں تک کہ اڑوس پڑوس سے بھی اگر کسی کے گھر سے کوئی چیز آتی ہے تو اس میں سے پہلے میرا حصّہ رکھتی ہے.. بعد میں بچوں کو دیتی ہے... اب یہ تو خود غرضی ہوئی نا کہ میں وہاں دوستوں میں گل چھڑے اڑاؤں"
میں نے حیرت سے کہا۔
"گل چھڑے اڑاؤں؟ یہ چکن پیٹس... یہ جلیبیاں... یہ گل چھڑے اڑآنا ہے عرفان بھائی؟ اتنی معمولی سی چیزیں"
وہ کہنے لگے۔
" کچھ بھی ہے حنیف بھائی! مجھے تو ڈر لگتا ہے کہ آخرت میں کہیں میری اسی بات پر پکڑ نہ ہو کہ کسی کی بہن بیٹی کو بیاہ کے لائے تھے... خود دوستوں میں مزے کر رہے تھے اور وہ بیچاری گھر میں بیٹھی دال روٹی کھارہی تھی"
میں حیرت سے انہیں دیکھتا رہا.. اور وہ بولے جارہے تھے. "دیکھئے...ہم جو کسی کی بہن بیٹی بیاہ کے لاتے ہیں نا... وہ بھی ہماری طرح انسان ہوتی ہے.. اسے بھی بھوک لگتی ہے... اس کی بھی خواہشات ہوتی ہیں... اس کا بھی دل کرتا ہے طرح طرح کی چیزیں کھانے کا..... پہنے اوڑھنے کا... گھومنے پھرنے کا... اسے گھر میں پرندوں کی طرح بند کردینا... اور دو وقت کی روٹی دے کے اترانا ... کہ بڑا تیر مارا... یہ انسانیت نہیں...یہ خود غرضی ہے... اور پھر ہم جیسا دوسرے کی بہن اور بیٹی کے ساتھ کرتے ہیں... وہی ہماری بہن اور بیٹی کے ساتھ ہوتا ہے"
ان کے آخری جملے نے مجھے ہلا کے رکھ دیا... میں نے تو آج تک اس انداز سے سوچا ہی نہیں تھا.
میں نے کہا۔
"آفرین ہے عرفان بھائی! آپ نے مجھے سوچنے کا ایک نیا زاویہ دیا"
میں واپس پلٹا تو وہ بولے۔
"آپ کہاں جارہے ہیں؟"
میں نے کہا۔
" آئسکریم لینے.......... وہ آج دوپہر میں آفس میں آئسکریم کھائی تھی"
حنیف سمانا
انتخاب: احمد بن نذر
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــ
واٹس ایپ:
https://chat.whatsapp.com/Db588KoA6AcKOVBGxdPSvZ
ٹیلی گرام:
t.me/CutPiece
فیسبک:
https://www.facebook.com/fbcutpiece/
انسٹاگرام:
https://instagram.com/cut_piece_?igshid=YmMyMTA2M2Y
ہمارے گھر کے قریب ایک بیکری ہے۔ اکثرشام کے وقت کام سے واپسی پر میں وہاں سے صبح ناشتے کے لئے کچھ سامان لے کے گھر جاتا ہوں۔ آج جب سامان لے کے بیکری سے باہر نکل رہا تھا کہ ہمارے پڑوسی عرفان بھائی مل گئے۔ وہ بھی بیکری سے باہر آرہے تھے۔ میں نے سلام دعا کی اور پوچھا.
"کیا لے لیا عرفان بھائی؟"
کہنے لگے۔
"کچھ نہیں حنیف بھائی! وہ چکن پیٹس تھے اور جلیبیاں تھیں بیگم اور بچوں کے لئے"
میں نے ہنستے ہوئے کہا۔
"کیوں..آج کیا بھابھی نے کھانا نہیں پکایا"
کہنے لگے۔
"نہیں نہیں حنیف بھائی! یہ بات نہیں ہے... دراصل آج دفتر میں شام کے وقت کچھ بھوک لگی تھی تو ساتھیوں نے چکن پیٹس اور جلیبیاں منگوائیں ... میں نے وہاں کھائے تھے تو سوچا بیچاری گھر میں جو بیٹھی ہے وہ کہاں کھانے جائے گی.. اس کے لئے بھی لے لوں... یہ تو مناسب نہ ہوا نا کہ میں خود تو آفس میں جس چیز کا دل چاہے وہ کھالوں اور بیوی بچوں سے کہوں کہ وہ جو گھر میں پکے صرف وہی کھائیں"
میں حیرت سے ان کا منہ تکنے لگا کیونکہ میں نے آج تک اس انداز سے سوچا ہی نہیں تھا.
میں نے کہا۔
"اس میں حرج ہی کیا ہے عرفان بھائی! آپ اگر دفتر میں کچھ کھاتے ہیں تو بھئی بھابھی اور بچوں کا گھر میں جس چیز کا دل چاہے گا، کھاتے ہونگے"
وہ کہنے لگے۔
"نہیں نہیں حنیف بھائی!
وہ بیچاری تو اتنی سی چیز بھی ہوتی ہے میرے لئے الگ رکھتی ہے... یہاں تک کہ اڑوس پڑوس سے بھی اگر کسی کے گھر سے کوئی چیز آتی ہے تو اس میں سے پہلے میرا حصّہ رکھتی ہے.. بعد میں بچوں کو دیتی ہے... اب یہ تو خود غرضی ہوئی نا کہ میں وہاں دوستوں میں گل چھڑے اڑاؤں"
میں نے حیرت سے کہا۔
"گل چھڑے اڑاؤں؟ یہ چکن پیٹس... یہ جلیبیاں... یہ گل چھڑے اڑآنا ہے عرفان بھائی؟ اتنی معمولی سی چیزیں"
وہ کہنے لگے۔
" کچھ بھی ہے حنیف بھائی! مجھے تو ڈر لگتا ہے کہ آخرت میں کہیں میری اسی بات پر پکڑ نہ ہو کہ کسی کی بہن بیٹی کو بیاہ کے لائے تھے... خود دوستوں میں مزے کر رہے تھے اور وہ بیچاری گھر میں بیٹھی دال روٹی کھارہی تھی"
میں حیرت سے انہیں دیکھتا رہا.. اور وہ بولے جارہے تھے. "دیکھئے...ہم جو کسی کی بہن بیٹی بیاہ کے لاتے ہیں نا... وہ بھی ہماری طرح انسان ہوتی ہے.. اسے بھی بھوک لگتی ہے... اس کی بھی خواہشات ہوتی ہیں... اس کا بھی دل کرتا ہے طرح طرح کی چیزیں کھانے کا..... پہنے اوڑھنے کا... گھومنے پھرنے کا... اسے گھر میں پرندوں کی طرح بند کردینا... اور دو وقت کی روٹی دے کے اترانا ... کہ بڑا تیر مارا... یہ انسانیت نہیں...یہ خود غرضی ہے... اور پھر ہم جیسا دوسرے کی بہن اور بیٹی کے ساتھ کرتے ہیں... وہی ہماری بہن اور بیٹی کے ساتھ ہوتا ہے"
ان کے آخری جملے نے مجھے ہلا کے رکھ دیا... میں نے تو آج تک اس انداز سے سوچا ہی نہیں تھا.
میں نے کہا۔
"آفرین ہے عرفان بھائی! آپ نے مجھے سوچنے کا ایک نیا زاویہ دیا"
میں واپس پلٹا تو وہ بولے۔
"آپ کہاں جارہے ہیں؟"
میں نے کہا۔
" آئسکریم لینے.......... وہ آج دوپہر میں آفس میں آئسکریم کھائی تھی"
حنیف سمانا
انتخاب: احمد بن نذر
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــ
واٹس ایپ:
https://chat.whatsapp.com/Db588KoA6AcKOVBGxdPSvZ
ٹیلی گرام:
t.me/CutPiece
فیسبک:
https://www.facebook.com/fbcutpiece/
انسٹاگرام:
https://instagram.com/cut_piece_?igshid=YmMyMTA2M2Y
WhatsApp.com
📃📑کَٹ پِیس📜📄 (1)
WhatsApp Group Invite
لڑکے کو اپنی آمدنی میں اضافہ کرنا چاہیے یہی حل ہے۔
لیکن ایک تلخ حقیقت بتاتا چلوں ۔۔۔۔
شادیوں میں یہ تمام شرائط ۔۔۔۔
جب کہ ۔۔۔
کالج اور یونیورسٹی میں
ایسی کوئی شرطیں نہیں ہوتیں ۔۔۔۔
ریلیش بنتا ہے پھر دونوں فزیکل ہو جاتے ہیں ۔۔
یہ سلسلہ دو سے چار سال تک مسلسل جاری رہتا ہے ۔۔
اس کے بعد دونوں الگ ہو جاتے ہیں ۔۔۔
آج نوجوانوں کو دو راستے دیے گئے ہیں ایک انتہائی مشکل مگر حلال ۔۔۔
دوسرا حد سے زیادہ آسان ۔۔۔
مگر حرام ۔۔۔۔
حلال رشتے شرائط کے پابند ہیں ۔۔۔
حرام رشتے مکمل آزاد ہیں ۔۔۔۔
کوئی بھی باشعور آسانی سے سمجھ سکتا ہے کہ پھر نوجوان کس راستے کا انتخاب کریں گے ؟
اور یہی کچھ ہو رہا ہے ۔۔۔۔
میں یہاں سو فیصد کی بات نہیں کروں گا ۔۔۔
لیکن نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کی اکثریت اب اسی آسان مگر حرام راستے کا انتخاب کر رہے ہیں ۔۔۔
اس کے نتائج پھر ساری زندگی اور آنے والی نسلیں بھگتیں گی ۔۔۔۔۔
جہاں دل لگایا وہاں خواب دیکھے لمحے گزارے سب کچھ کر لیا تمام حدیں پار کر دی گئیں ۔۔۔۔
پھر شادی کسی اور سے ۔۔۔۔
لیکن
پرانے رابطے بحال رکھے گئے ۔۔۔
ماضی ساتھ لے کر چلنے والوں کا مستقبل ہمیشہ تاریک ہوتا ہے ۔۔۔۔۔۔
میری والدین سے صرف اتنی گزارش ہے کہ نظر رکھیں توجہ دیں ۔۔۔
آپ کے بچے اور بچیاں کس عمر میں بالغ ہو رہے ہیں آپ کو بخوبی علم ہے ۔۔۔۔
پھر بلوغت طاری ہونے کے بعد بھی دس بارہ سال تک ان کی شادیاں نہ کرنا ۔۔۔۔
پھر یہ سمجھنا کہ آپ کے بچے محفوظ ہیں آپ کی بیوقوفی کے سوا کچھ نہیں ۔۔۔۔
نوجوانوں لڑکوں سے گزارش ہے کہ اگر آپ خود کو معاشی طور پر جلد مضبوط کر لیتے ہیں تو اچھی بات ہے ۔۔۔
وقت لگتا ہے تو پھر کسی ایسی لڑکی کے چکر میں نہ پڑیں جو کہتی ہے پہلے کچھ بن جاؤ پھر دیکھیں گے ۔۔
میرے ابا کہتے ہیں کہ لڑکے کا اپنا گھر ہو ویل سیٹلڈ ہو وغیرہ وغیرہ ۔۔۔۔
ایسی لڑکی کو اللہ حافظ کہہ دیں کسی حرام تعلق کی بنیاد مت رکھیں کسی کی عزت پامال مت کریں اور ایسی جگہ شادی کر لیں جہاں آپ کو موجودہ حالت میں قبول کر لیا جائے ۔۔۔
لڑکیوں سے گزارش ہے ۔۔۔۔
اپنی آنکھیں کھلی رکھیں اپنے ضمیر کی آواز سنتی رہیں ۔۔۔۔
آپ جانتی ہیں کہ یہاں شادی نہیں ہو سکتی تو کیوں باولی ہو رہی ہیں ؟
کیوں فزیکل ریلیشن بنا کر اپنی عزت کو تار تار کرنے کا موقع فراہم کر رہی ہیں ؟
لعنت بھیجیں اور گھر والوں کی مرضی سے شادی کر لیں ویل سیٹلڈ سے کریں یا امیر سے کوئی مسئلہ نہیں ہے ۔۔۔۔
کیوں کہ جسے آپ " محبت" سمجھ کر یا محبت کا نام دے کر آگے بڑھ رہی ہیں وہ محبت نہیں بلکہ آپ کی جسمانی ضرورت ہے ۔۔۔۔
صرف اسے " محبت" کا لباس پہنا کر " میوچئل انڈرسٹینڈنگ" کا حجاب پہنا دیا جاتا ہے ۔۔۔۔
محبتیں سلامت رہیں 🌹
وسیم قریشی
انتخاب: احمد بن نذر
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــ
واٹس ایپ:
https://chat.whatsapp.com/Db588KoA6AcKOVBGxdPSvZ
ٹیلی گرام:
t.me/CutPiece
فیسبک:
https://www.facebook.com/fbcutpiece/
انسٹاگرام:
https://instagram.com/cut_piece_?igshid=YmMyMTA2M2Y
لیکن ایک تلخ حقیقت بتاتا چلوں ۔۔۔۔
شادیوں میں یہ تمام شرائط ۔۔۔۔
جب کہ ۔۔۔
کالج اور یونیورسٹی میں
ایسی کوئی شرطیں نہیں ہوتیں ۔۔۔۔
ریلیش بنتا ہے پھر دونوں فزیکل ہو جاتے ہیں ۔۔
یہ سلسلہ دو سے چار سال تک مسلسل جاری رہتا ہے ۔۔
اس کے بعد دونوں الگ ہو جاتے ہیں ۔۔۔
آج نوجوانوں کو دو راستے دیے گئے ہیں ایک انتہائی مشکل مگر حلال ۔۔۔
دوسرا حد سے زیادہ آسان ۔۔۔
مگر حرام ۔۔۔۔
حلال رشتے شرائط کے پابند ہیں ۔۔۔
حرام رشتے مکمل آزاد ہیں ۔۔۔۔
کوئی بھی باشعور آسانی سے سمجھ سکتا ہے کہ پھر نوجوان کس راستے کا انتخاب کریں گے ؟
اور یہی کچھ ہو رہا ہے ۔۔۔۔
میں یہاں سو فیصد کی بات نہیں کروں گا ۔۔۔
لیکن نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کی اکثریت اب اسی آسان مگر حرام راستے کا انتخاب کر رہے ہیں ۔۔۔
اس کے نتائج پھر ساری زندگی اور آنے والی نسلیں بھگتیں گی ۔۔۔۔۔
جہاں دل لگایا وہاں خواب دیکھے لمحے گزارے سب کچھ کر لیا تمام حدیں پار کر دی گئیں ۔۔۔۔
پھر شادی کسی اور سے ۔۔۔۔
لیکن
پرانے رابطے بحال رکھے گئے ۔۔۔
ماضی ساتھ لے کر چلنے والوں کا مستقبل ہمیشہ تاریک ہوتا ہے ۔۔۔۔۔۔
میری والدین سے صرف اتنی گزارش ہے کہ نظر رکھیں توجہ دیں ۔۔۔
آپ کے بچے اور بچیاں کس عمر میں بالغ ہو رہے ہیں آپ کو بخوبی علم ہے ۔۔۔۔
پھر بلوغت طاری ہونے کے بعد بھی دس بارہ سال تک ان کی شادیاں نہ کرنا ۔۔۔۔
پھر یہ سمجھنا کہ آپ کے بچے محفوظ ہیں آپ کی بیوقوفی کے سوا کچھ نہیں ۔۔۔۔
نوجوانوں لڑکوں سے گزارش ہے کہ اگر آپ خود کو معاشی طور پر جلد مضبوط کر لیتے ہیں تو اچھی بات ہے ۔۔۔
وقت لگتا ہے تو پھر کسی ایسی لڑکی کے چکر میں نہ پڑیں جو کہتی ہے پہلے کچھ بن جاؤ پھر دیکھیں گے ۔۔
میرے ابا کہتے ہیں کہ لڑکے کا اپنا گھر ہو ویل سیٹلڈ ہو وغیرہ وغیرہ ۔۔۔۔
ایسی لڑکی کو اللہ حافظ کہہ دیں کسی حرام تعلق کی بنیاد مت رکھیں کسی کی عزت پامال مت کریں اور ایسی جگہ شادی کر لیں جہاں آپ کو موجودہ حالت میں قبول کر لیا جائے ۔۔۔
لڑکیوں سے گزارش ہے ۔۔۔۔
اپنی آنکھیں کھلی رکھیں اپنے ضمیر کی آواز سنتی رہیں ۔۔۔۔
آپ جانتی ہیں کہ یہاں شادی نہیں ہو سکتی تو کیوں باولی ہو رہی ہیں ؟
کیوں فزیکل ریلیشن بنا کر اپنی عزت کو تار تار کرنے کا موقع فراہم کر رہی ہیں ؟
لعنت بھیجیں اور گھر والوں کی مرضی سے شادی کر لیں ویل سیٹلڈ سے کریں یا امیر سے کوئی مسئلہ نہیں ہے ۔۔۔۔
کیوں کہ جسے آپ " محبت" سمجھ کر یا محبت کا نام دے کر آگے بڑھ رہی ہیں وہ محبت نہیں بلکہ آپ کی جسمانی ضرورت ہے ۔۔۔۔
صرف اسے " محبت" کا لباس پہنا کر " میوچئل انڈرسٹینڈنگ" کا حجاب پہنا دیا جاتا ہے ۔۔۔۔
محبتیں سلامت رہیں 🌹
وسیم قریشی
انتخاب: احمد بن نذر
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــ
واٹس ایپ:
https://chat.whatsapp.com/Db588KoA6AcKOVBGxdPSvZ
ٹیلی گرام:
t.me/CutPiece
فیسبک:
https://www.facebook.com/fbcutpiece/
انسٹاگرام:
https://instagram.com/cut_piece_?igshid=YmMyMTA2M2Y
WhatsApp.com
📃📑کَٹ پِیس📜📄 (1)
WhatsApp Group Invite
تعلیمی دور میں جب ادب پڑھنے پڑھانے کا شوق ہوا۔ والد صاحب کو سروسز کلب کی طرف سے دیگر کتب کے ساتھ ساتھ کلیاتِ اقبال بھی ملی۔ مجھے بہت پسند تھی بلکہ محبوب کہنا چاہیے۔
چند دن بعد ایک دوست کی آمد ہوئی۔ کلیاتِ اقبال پر نظر پڑی۔ بیٹھے بیٹھے کچھ ورق گردانی کی اور جاتے جاتے ساتھ لے گئے۔
میں مروت میں کچھ کہہ بھی نہ سکا۔
دن گزرے، ہفتے گزرے، مہینے گزرے لیکن واپسی کی صورت نہ ہوئی۔
کچھ عرصہ مزید گزرا تو اِن صاحب کو بیرونِ ملک شہریت مل گئی۔ الوداعی ملاقات کے لیے ہم کچھ ساتھی اُن کے گھر گئے۔ ملاقات کے آخری لمحات میں جھجھکتے جھجھکتے میں نے کلیاتِ اقبال واپس کرنے کی بات کی۔
حیران کن بات کیا ہے؟
وہ ساتھی ایسے حیران ہوئے گویا میں نے غلط مطالبہ کردیا ہو۔
مجھے ایسے لگا گویا کتاب میری ملکیت ہی نہ تھی۔
وہ بے دلی سے اٹھے، کتاب لائے اور بے دلی سے میرے حوالے کردی۔
جو کتاب انہیں از خود خوشی بخوشی واپس کرنی چاہیے تھی، وہ ایسے کراہت سے واپس ہوئی۔
اپنی کتاب اس طرز واپس لیتے ہوئے پہلا تجربہ تھا۔
آنے والے وقت میں معلوم ہوا کہ یہ طرز تو بہت عام ہے۔
کسی سے کتاب مستعار لی اور پھر واپسی کی کوئی صورت نہیں۔
معاملہ مستعار سے شروع ہوا اور خاموش ملکیت تصور کرتے ہوئے اپنے حق میں کرلیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس سے قدرے مختلف تجربہ پہلے بھی ہوچکا تھا۔
تب کتاب کی واپسی نہ ہوسکی۔
لڑکپن میں سکول کی طرف سے دیگر کتب کے ساتھ ساتھ
ابنِ انشاء کی کتاب
چلتے ہو تو چین کو چلیے
انعام میں ملی۔
ایک قریبی عزیز کی نظر پڑی تو ریک سے نکالی اور یہ جا وہ جا۔
انعام کی کتاب تو ویسے ہی محبوب ہوا کرتی ہے۔
کافی عرصہ واپسی کی کوئی صورت نہ دیکھی تو ڈرتے ڈرتے کتاب کا پوچھ لیا۔
کمال بے نیازی سے معلوم ہوا کہ وہ آگے کسی اور دوست کو دے چکے ہیں۔
اب کیا کرتا، خاموشی کے علاوہ چارہ نہ تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کسی سے کتاب لیں تو بروقت واپس کردیجیے۔
یہ تو دوسرے کا احسان ہوا کہ اپنی کتاب دے دی۔
ساتھ یہ بھی خیال ہو کہ خراب نہ کیا جائے۔
اسی طرح کسی بھی قسم کی مستعار لی گئیں اشیاء کا معاملہ ہے۔
ہلکا نہ لیں، ذمہ داری کا ثبوت دیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آفاق احمد
انتخاب: احمد بن نذر
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــ
واٹس ایپ:
https://chat.whatsapp.com/Db588KoA6AcKOVBGxdPSvZ
ٹیلی گرام:
t.me/CutPiece
فیسبک:
https://www.facebook.com/fbcutpiece/
انسٹاگرام:
https://instagram.com/cut_piece_?igshid=YmMyMTA2M2Y
چند دن بعد ایک دوست کی آمد ہوئی۔ کلیاتِ اقبال پر نظر پڑی۔ بیٹھے بیٹھے کچھ ورق گردانی کی اور جاتے جاتے ساتھ لے گئے۔
میں مروت میں کچھ کہہ بھی نہ سکا۔
دن گزرے، ہفتے گزرے، مہینے گزرے لیکن واپسی کی صورت نہ ہوئی۔
کچھ عرصہ مزید گزرا تو اِن صاحب کو بیرونِ ملک شہریت مل گئی۔ الوداعی ملاقات کے لیے ہم کچھ ساتھی اُن کے گھر گئے۔ ملاقات کے آخری لمحات میں جھجھکتے جھجھکتے میں نے کلیاتِ اقبال واپس کرنے کی بات کی۔
حیران کن بات کیا ہے؟
وہ ساتھی ایسے حیران ہوئے گویا میں نے غلط مطالبہ کردیا ہو۔
مجھے ایسے لگا گویا کتاب میری ملکیت ہی نہ تھی۔
وہ بے دلی سے اٹھے، کتاب لائے اور بے دلی سے میرے حوالے کردی۔
جو کتاب انہیں از خود خوشی بخوشی واپس کرنی چاہیے تھی، وہ ایسے کراہت سے واپس ہوئی۔
اپنی کتاب اس طرز واپس لیتے ہوئے پہلا تجربہ تھا۔
آنے والے وقت میں معلوم ہوا کہ یہ طرز تو بہت عام ہے۔
کسی سے کتاب مستعار لی اور پھر واپسی کی کوئی صورت نہیں۔
معاملہ مستعار سے شروع ہوا اور خاموش ملکیت تصور کرتے ہوئے اپنے حق میں کرلیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس سے قدرے مختلف تجربہ پہلے بھی ہوچکا تھا۔
تب کتاب کی واپسی نہ ہوسکی۔
لڑکپن میں سکول کی طرف سے دیگر کتب کے ساتھ ساتھ
ابنِ انشاء کی کتاب
چلتے ہو تو چین کو چلیے
انعام میں ملی۔
ایک قریبی عزیز کی نظر پڑی تو ریک سے نکالی اور یہ جا وہ جا۔
انعام کی کتاب تو ویسے ہی محبوب ہوا کرتی ہے۔
کافی عرصہ واپسی کی کوئی صورت نہ دیکھی تو ڈرتے ڈرتے کتاب کا پوچھ لیا۔
کمال بے نیازی سے معلوم ہوا کہ وہ آگے کسی اور دوست کو دے چکے ہیں۔
اب کیا کرتا، خاموشی کے علاوہ چارہ نہ تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کسی سے کتاب لیں تو بروقت واپس کردیجیے۔
یہ تو دوسرے کا احسان ہوا کہ اپنی کتاب دے دی۔
ساتھ یہ بھی خیال ہو کہ خراب نہ کیا جائے۔
اسی طرح کسی بھی قسم کی مستعار لی گئیں اشیاء کا معاملہ ہے۔
ہلکا نہ لیں، ذمہ داری کا ثبوت دیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آفاق احمد
انتخاب: احمد بن نذر
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــ
واٹس ایپ:
https://chat.whatsapp.com/Db588KoA6AcKOVBGxdPSvZ
ٹیلی گرام:
t.me/CutPiece
فیسبک:
https://www.facebook.com/fbcutpiece/
انسٹاگرام:
https://instagram.com/cut_piece_?igshid=YmMyMTA2M2Y
WhatsApp.com
📃📑کَٹ پِیس📜📄 (1)
WhatsApp Group Invite
میں نے کچھ جگہ یہ چلن دیکھا کہ کسی کی شادی میں یا کسی خوشی کے موقع پہ یا نجی تقریب میں یا دعوت میں un invited پہنچ جاو اور اس مسلط ہونے کو فرینک نیس کا نام دو تعلقات اچھے ہونے کا نام دو۔
بعض لوگوں میں دیکھا کسی ایک بندے کو انوائٹ کیا وہ اپنے ساتھ انوائٹ کر کے چار اور بندے ساتھ لے گیا۔
ایک اور عجیب حرکت کی جاتی ہے ایک بندے کو دعوت نامہ دیا وہ کسی وجہ سے خود نہیں جا سکا اس نے اپنی جگہ دوسرے بھائی کی فیملی کو شرکت کے لیے بھیج دیا جو انوائٹڈ نہیں تھے۔
کچھ لوگ یہ کہتے پائے جاتے ہیں کہ تم ہمیں فلاں تقریب میں بلاو نا بلاو ہم خود ہی آ جائیں گے۔
یہ سب بہت معیوب باتیں ہیں اور ان کو سختی سے منع کیس گیا ہے۔
بلکہ سخت وعید ہے کہ کسی کی تقریب میں بن بلائے مت جاو۔
دو تین باتیں یاد رکھ لیں۔
کسی کی نجی تقریب میں یا کسی ایسی محفل میں جس میں کچھ لوگوں کو باقائدہ دعوت دے کے مدعو کیا گیا ہے اس میں بن بلائے کبھی نا جائیں۔
جس کو بلایا ہے وہی جائے۔ اپنے ساتھ اہل و عیال کو نا لے جائیں یا ہاتھ پکڑ لے چار مذید دوستوں کو ساتھ نا لے جائیں یا دوسروں کو دعوتیں نا دیتے پھرئیں جس جگہ آپ خود انوائٹڈ ہیں وہاں آپ کو حق نہیں ہے کہ خود سے کسی اور کو انوائٹ کریں۔ آپ مہمان ہیں میزبان نہیں ہیں آپ کی بہت ہی کوئی فرینک نیس ہے تو میزبان کو یاد کرا دیں کہ آپ فلاں کو بھول تو نہیں گئے اگر چاہے گا تو وہ خود انوائٹ کر لے گا۔ آپ نہیں کر سکتے۔
اس کے علاوہ جس کو بلایا وہ ہی جائے گا نہیں جا سکتا تو معذرت کر لے کوئی لین دین ہے تو بعد میں کر لے یہ نہیں کہ اپنا کارڈ آگے چلا دیا اپنے کارڈ پہ بھائی کو بھیج دیا یا داماد کو بھیج دیا۔ یہ کوئی سرکس یا کرکٹ میچ نہیں ہو رہا کہ ٹکٹ ضائع نا ہو اس لیے ایک کے ٹکٹ پہ دوسرا چلا جائے اگر اس بندے کے تعلقات آپ کے بھائی یا کسی اور رشتے دار سے اتنے اچھے ہوتے تو وہ خود بلا لیتا اگر اس نے نہیں بلایا تو وہ نہیں جائے گا۔
اسی طرح جن کو ڈائریکٹ بلایا نہیں جا رہا وہ بھی کسی دوسرے تیسرے کے بلاوے پہ منہ اٹھا کے پہنچ نا جایا کریں اپنی عزت اگر ہے تو اس کا تھوڑا خیال کیا کریں اس طرح لوگوں کی تقریبات میں زبردستی گھس کے آپ اچھے نہیں بلکے حقیر لگیں گے۔
یہ بنیادی آداب معاشرت ہیں ان کو سمجھیں سیکھیں اور اپنی حدود کا خیال رکھیں۔
جویریہ ساجد
انتخاب: احمد بن نذر
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــ
واٹس ایپ:
https://chat.whatsapp.com/Db588KoA6AcKOVBGxdPSvZ
ٹیلی گرام:
t.me/CutPiece
فیسبک:
https://www.facebook.com/fbcutpiece/
انسٹاگرام:
https://instagram.com/cut_piece_?igshid=YmMyMTA2M2Y
بعض لوگوں میں دیکھا کسی ایک بندے کو انوائٹ کیا وہ اپنے ساتھ انوائٹ کر کے چار اور بندے ساتھ لے گیا۔
ایک اور عجیب حرکت کی جاتی ہے ایک بندے کو دعوت نامہ دیا وہ کسی وجہ سے خود نہیں جا سکا اس نے اپنی جگہ دوسرے بھائی کی فیملی کو شرکت کے لیے بھیج دیا جو انوائٹڈ نہیں تھے۔
کچھ لوگ یہ کہتے پائے جاتے ہیں کہ تم ہمیں فلاں تقریب میں بلاو نا بلاو ہم خود ہی آ جائیں گے۔
یہ سب بہت معیوب باتیں ہیں اور ان کو سختی سے منع کیس گیا ہے۔
بلکہ سخت وعید ہے کہ کسی کی تقریب میں بن بلائے مت جاو۔
دو تین باتیں یاد رکھ لیں۔
کسی کی نجی تقریب میں یا کسی ایسی محفل میں جس میں کچھ لوگوں کو باقائدہ دعوت دے کے مدعو کیا گیا ہے اس میں بن بلائے کبھی نا جائیں۔
جس کو بلایا ہے وہی جائے۔ اپنے ساتھ اہل و عیال کو نا لے جائیں یا ہاتھ پکڑ لے چار مذید دوستوں کو ساتھ نا لے جائیں یا دوسروں کو دعوتیں نا دیتے پھرئیں جس جگہ آپ خود انوائٹڈ ہیں وہاں آپ کو حق نہیں ہے کہ خود سے کسی اور کو انوائٹ کریں۔ آپ مہمان ہیں میزبان نہیں ہیں آپ کی بہت ہی کوئی فرینک نیس ہے تو میزبان کو یاد کرا دیں کہ آپ فلاں کو بھول تو نہیں گئے اگر چاہے گا تو وہ خود انوائٹ کر لے گا۔ آپ نہیں کر سکتے۔
اس کے علاوہ جس کو بلایا وہ ہی جائے گا نہیں جا سکتا تو معذرت کر لے کوئی لین دین ہے تو بعد میں کر لے یہ نہیں کہ اپنا کارڈ آگے چلا دیا اپنے کارڈ پہ بھائی کو بھیج دیا یا داماد کو بھیج دیا۔ یہ کوئی سرکس یا کرکٹ میچ نہیں ہو رہا کہ ٹکٹ ضائع نا ہو اس لیے ایک کے ٹکٹ پہ دوسرا چلا جائے اگر اس بندے کے تعلقات آپ کے بھائی یا کسی اور رشتے دار سے اتنے اچھے ہوتے تو وہ خود بلا لیتا اگر اس نے نہیں بلایا تو وہ نہیں جائے گا۔
اسی طرح جن کو ڈائریکٹ بلایا نہیں جا رہا وہ بھی کسی دوسرے تیسرے کے بلاوے پہ منہ اٹھا کے پہنچ نا جایا کریں اپنی عزت اگر ہے تو اس کا تھوڑا خیال کیا کریں اس طرح لوگوں کی تقریبات میں زبردستی گھس کے آپ اچھے نہیں بلکے حقیر لگیں گے۔
یہ بنیادی آداب معاشرت ہیں ان کو سمجھیں سیکھیں اور اپنی حدود کا خیال رکھیں۔
جویریہ ساجد
انتخاب: احمد بن نذر
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــ
واٹس ایپ:
https://chat.whatsapp.com/Db588KoA6AcKOVBGxdPSvZ
ٹیلی گرام:
t.me/CutPiece
فیسبک:
https://www.facebook.com/fbcutpiece/
انسٹاگرام:
https://instagram.com/cut_piece_?igshid=YmMyMTA2M2Y
WhatsApp.com
📃📑کَٹ پِیس📜📄 (1)
WhatsApp Group Invite
ٹی وی شو ختم ہونے بعد کبھی کبھار میں گیارہ بجے رات کو سیدھا اسلام آباد کی ایک اولڈ بک شاپ جاتا ہوں۔ کوئی نہ کوئی کام کی کتاب مل جاتی ہے۔
بارہ بجے رات دکان بند ہوتی ہے۔کتابوں کے ڈھیر سے کتابیں ڈھونڈنا مجھے پرسکون کر دیتا ہے۔وہ ایک گھنٹہ مجھے فریش کرتا ہے۔
وہاں پر دو سیلز مین ہیں۔دونوں بہت اچھے اور کتابوں کی اہمیت کو سمجھنے والے سمجھدار۔ بہت کم سیلز مین اپنے کام کو انجوائے کرتے ہیں یا اسے صرف ڈیوٹی نہیں سمجھتے۔یہ دونوں سیلز پرسنز بھی وہ ہیں جنہیں کتاب کا بھی شعور ہے اور جو گاہک اولڈ شاپ میں آتے ہیں ان کے ذوق کی بھی خوب خبر ہے۔ اس دکان کے مالک ان دونوں پر بھروسہ کرتے ہیں اور یہ دونوں ہی دکان چلاتے ہیں۔
گیارہ بجے گاہک نہ ہونے کے برابر ہوتے ہیں میں کتابوں کے اس خوبصورت خزانے میں اکیلا بادشاہ ہوتا ہوں۔ پرانی کتاب چننا بھی ایک فن ہے۔ارٹ ہے اور کام ہے۔ میں کتاب کا ٹائٹل، بیک کور پر تعارف اور اندر فہرست پڑھ کر فیصلہ کرتا ہوں کہ کتاب میں میرے لیے کیا ہے۔ وہ دونوں بھی میرا مزاج سمجھ چکے ہیں لہذا مجھے کچھ نہ کچھ ریکمنڈ کرتے رہتے ہیں۔
پرسوں رات ان میں سے ایک سیلز مین سے پوچھا آپ کب سے اس شاپ پر کام کررہے ہیں؟ بولے دو سال ہونے والے ہیں۔ کچھ افسردہ ہو کر بولے میں نے قریب ہی ایک اور اولڈ شاپ پر بیس سال کام کیا تھا۔ کووڈ کے دنوں میں مجھے انہوں نے نکال دیا کہ کام نہیں چل رہا۔ میں سڑک پر آگیا کہ اب گھر کیسے چلے گا۔ بولے اللہ بھلا کرے اس اولڈ بکس شاپ کے مالک/مالکن کا انہیں جونہی پتہ چلا فورا مجھے بلا کر رکھ کیا کہ آپ جیسا اولڈ بکس میں تجربہ رکھنے والا بندہ کہاں ملے گا۔ یہ دکان چلائیں۔ یہ میرا بڑا خیال رکھتے ہیں۔
باہر نکلے تو مجھے اس اولڈ بکس کی طرف اشارہ کر کے کہا وہاں بیس سال کام کیا۔ اس کی آنکھوں میں ابھری افسردگی مجھے بھی اداس کر گئی کہ جہاں آپ نے بیس سال کام کیا ہو وہ آپ کو کیسے کھڑے کھڑے فارغ کر دیتے ہیں؟ گھر ہو یا دکان آپ کو اس کی دیواروں تک سے انسیت اور پیار ہو جاتا ہے۔ اگر گھر کے مکین مشکل میں ہیں تو وہاں کام کرنے والے بھی تو مشکل میں ہیں۔ اگر آپ اپنے بچوں کو گھر سے نہیں نکال رہے تو اس ملازم کو کیسے نکال رہے ہیں جس نے بیس سال ساتھ دیا۔
اس بندے کی آنکھوں میں ابھری اداسی میں خاموش شکوہ گلہ اور شاید اپنے ساتھ دھوکے کا احساس بھی تھا۔
ایک دکان مالک کے لیے وہ بیس سال کارآمد رہا لیکن مشکل وقت میں وہ اسے ایک سال افورڈ کرنے کو تیار نہ تھا کہ چلیں اکھٹے مشکل وقت کاٹ لیتے ہیں۔
پرانے مالک کےلیے وہ اب ایک بوجھ تھا لیکن ساتھ والی اولڈ بکس دکان مالک کے لیے اس کا بیس سالہ تجربہ ہی بہت بڑا اثاثہ تھا۔
ایک دکاندار نے بحران میں اسے نکال دیا، دوسرے دکاندار نے اس بحران کے دنوں میں ہی اپنی دکان اس کے حوالے کر دی۔ سمجھدار محنتی لوگوں کے لیے بحران عذاب نہیں بلکہ ایک شاندار موقع ہوتا ہےاپنی صلاحیتوں کو آزمانے اور دوسروں کو کچھ کر دکھانے کا۔
رؤف کلاسرا
انتخاب: احمد بن نذر
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــ
واٹس ایپ:
https://chat.whatsapp.com/Db588KoA6AcKOVBGxdPSvZ
ٹیلی گرام:
t.me/CutPiece
فیسبک:
https://www.facebook.com/fbcutpiece/
انسٹاگرام:
https://instagram.com/cut_piece_?igshid=YmMyMTA2M2Y
بارہ بجے رات دکان بند ہوتی ہے۔کتابوں کے ڈھیر سے کتابیں ڈھونڈنا مجھے پرسکون کر دیتا ہے۔وہ ایک گھنٹہ مجھے فریش کرتا ہے۔
وہاں پر دو سیلز مین ہیں۔دونوں بہت اچھے اور کتابوں کی اہمیت کو سمجھنے والے سمجھدار۔ بہت کم سیلز مین اپنے کام کو انجوائے کرتے ہیں یا اسے صرف ڈیوٹی نہیں سمجھتے۔یہ دونوں سیلز پرسنز بھی وہ ہیں جنہیں کتاب کا بھی شعور ہے اور جو گاہک اولڈ شاپ میں آتے ہیں ان کے ذوق کی بھی خوب خبر ہے۔ اس دکان کے مالک ان دونوں پر بھروسہ کرتے ہیں اور یہ دونوں ہی دکان چلاتے ہیں۔
گیارہ بجے گاہک نہ ہونے کے برابر ہوتے ہیں میں کتابوں کے اس خوبصورت خزانے میں اکیلا بادشاہ ہوتا ہوں۔ پرانی کتاب چننا بھی ایک فن ہے۔ارٹ ہے اور کام ہے۔ میں کتاب کا ٹائٹل، بیک کور پر تعارف اور اندر فہرست پڑھ کر فیصلہ کرتا ہوں کہ کتاب میں میرے لیے کیا ہے۔ وہ دونوں بھی میرا مزاج سمجھ چکے ہیں لہذا مجھے کچھ نہ کچھ ریکمنڈ کرتے رہتے ہیں۔
پرسوں رات ان میں سے ایک سیلز مین سے پوچھا آپ کب سے اس شاپ پر کام کررہے ہیں؟ بولے دو سال ہونے والے ہیں۔ کچھ افسردہ ہو کر بولے میں نے قریب ہی ایک اور اولڈ شاپ پر بیس سال کام کیا تھا۔ کووڈ کے دنوں میں مجھے انہوں نے نکال دیا کہ کام نہیں چل رہا۔ میں سڑک پر آگیا کہ اب گھر کیسے چلے گا۔ بولے اللہ بھلا کرے اس اولڈ بکس شاپ کے مالک/مالکن کا انہیں جونہی پتہ چلا فورا مجھے بلا کر رکھ کیا کہ آپ جیسا اولڈ بکس میں تجربہ رکھنے والا بندہ کہاں ملے گا۔ یہ دکان چلائیں۔ یہ میرا بڑا خیال رکھتے ہیں۔
باہر نکلے تو مجھے اس اولڈ بکس کی طرف اشارہ کر کے کہا وہاں بیس سال کام کیا۔ اس کی آنکھوں میں ابھری افسردگی مجھے بھی اداس کر گئی کہ جہاں آپ نے بیس سال کام کیا ہو وہ آپ کو کیسے کھڑے کھڑے فارغ کر دیتے ہیں؟ گھر ہو یا دکان آپ کو اس کی دیواروں تک سے انسیت اور پیار ہو جاتا ہے۔ اگر گھر کے مکین مشکل میں ہیں تو وہاں کام کرنے والے بھی تو مشکل میں ہیں۔ اگر آپ اپنے بچوں کو گھر سے نہیں نکال رہے تو اس ملازم کو کیسے نکال رہے ہیں جس نے بیس سال ساتھ دیا۔
اس بندے کی آنکھوں میں ابھری اداسی میں خاموش شکوہ گلہ اور شاید اپنے ساتھ دھوکے کا احساس بھی تھا۔
ایک دکان مالک کے لیے وہ بیس سال کارآمد رہا لیکن مشکل وقت میں وہ اسے ایک سال افورڈ کرنے کو تیار نہ تھا کہ چلیں اکھٹے مشکل وقت کاٹ لیتے ہیں۔
پرانے مالک کےلیے وہ اب ایک بوجھ تھا لیکن ساتھ والی اولڈ بکس دکان مالک کے لیے اس کا بیس سالہ تجربہ ہی بہت بڑا اثاثہ تھا۔
ایک دکاندار نے بحران میں اسے نکال دیا، دوسرے دکاندار نے اس بحران کے دنوں میں ہی اپنی دکان اس کے حوالے کر دی۔ سمجھدار محنتی لوگوں کے لیے بحران عذاب نہیں بلکہ ایک شاندار موقع ہوتا ہےاپنی صلاحیتوں کو آزمانے اور دوسروں کو کچھ کر دکھانے کا۔
رؤف کلاسرا
انتخاب: احمد بن نذر
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــ
واٹس ایپ:
https://chat.whatsapp.com/Db588KoA6AcKOVBGxdPSvZ
ٹیلی گرام:
t.me/CutPiece
فیسبک:
https://www.facebook.com/fbcutpiece/
انسٹاگرام:
https://instagram.com/cut_piece_?igshid=YmMyMTA2M2Y
WhatsApp.com
📃📑کَٹ پِیس📜📄 (1)
WhatsApp Group Invite
یہ رات ایک بجے کا وقت تھا جب ایک لڑکی کسی لڑکے کی گود میں اپنی ٹانگیں لٹکائے بیٹھی تھی۔ وہ بات بات پر اس لڑکے کے کان پکڑ کر کھینچتی تھی اور لڑکا بہانے سے اس کے جسم کے مختلف حصوں پر ہاتھ لگاتا تھا۔ دوسری جانب ایک لڑکی تین لڑکوں کے ساتھ بیٹھ کر تاش کھیل رہی تھی وہ لڑکے بات بات پر گالیاں دیتے باری باری مزاق کرتے ہوئے اس لڑکی کے ہاتھ پر ہاتھ مارتے۔۔ وہ لڑکی بھی وقتاً فوقتاً گالیاں دے رہی تھی۔۔۔۔
یہ لاہور کی ایک رات تھی۔ ہم پانچ چھ دوست بیٹھے ہوئے چائے پی رہے تھے۔ وہ ایک کپل کئی طرح کی اوچھی حرکتیں سب کے سامنے کر رہے تھے لیکن یہاں پر یہ سب کچھ اتنا نارمل تھا کہ کسی کو کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ نہ ہوٹل والوں کی طرف سے کوئی روک ٹوک تھی کیوں کہ ہزاروں روپے صرف چائے اور فرائز کے وصول کرنے والے اخلاقیات پر توجہ دیں گے تو ان کا کسٹمر کون بنے گا ؟ ۔۔۔۔
رات کے تقریباً تین بجے ہم وہاں سے واپس نکلے تو وہ کپل بھی باہر نکل آیا ۔۔۔۔۔
وہ میاں بیوی بھی ہو سکتے ہیں ۔۔۔
کئی لوگ یہ کہیں گے ۔۔ جی یقیناََ وہ میاں بیوی بھی ہو سکتے ہیں لیکن میرا خیال ہے کہ میاں بیوی اس طرح کی حرکتیں یوں سر عام نہیں کرتے ۔۔ باہر نکل کر وہ لڑکا اپنی گاڑی میں بیٹھ کر چلا گیا اور لڑکی پارکنگ کی طرف جانے لگی۔۔ صاف ظاہر ہے وہ میاں بیوی نہیں تھے۔۔۔
ایلیٹ کلاس فیملیز میں یہ سب عام ہے ۔۔۔
ہم میں سے اکثر کی یہی سوچ ہے چلیں اس کا جائزہ بھی لیتے ہیں۔ جب وہ لڑکی اندر موجود تھی تو دوپٹہ گلے میں ڈال رکھا تھا بال کھلے ہوئے تھے۔ پارکنگ سے گاڑی لے کر نکلی تو مکمل حجاب تھا ۔۔ یعنی وہ ایلیٹ کلاس فیملی سے تعلق رکھتی تھی لیکن اس کے باوجود اسے اجازت نہیں تھی تبھی وہ اپنے چہرے بدل رہی تھی۔ جس کا مطلب ہے کہ ایلیٹ کلاس فیملیز بھی اپنے بچوں کو ایسی حرکتوں کی اجازت نہیں دیتیں ۔۔۔۔۔
دیکھیے آزادی کے نام پر اپنی فیملی کی آنکھوں میں دھول جھونکنے سے آپ کو کچھ حاصل نہیں ہوگا۔
ایک دوست بتا رہا تھا کہ کسی ٹوور پر 13 لڑکے تھے اور صرف ایک لڑکی تھی جو اپنے گھر سے جھوٹ بول کر آئی تھی حجاب پہنا ہوا تھا۔ پھر گاڑی میں بیٹھتے ہی حجاب اتار کر گلے میں دوپٹہ ڈالا سارے راستے ان سب لڑکوں کے ساتھ ہنسی مذاق ، گپ شپ ، رقص وغیرہ جاری رہا۔۔ اس لڑکی پر محنت کی گئی تھی کہ کچھ نہیں ہوتا زندگی انجوائے منٹ کا نام ہے۔ ہم تو اپنی بہن کو کبھی نہ روکتے۔ حالاں کہ ان 13 لڑکوں میں سے کوئی بھی اپنے گھر کی کسی عورت کو لانے یا ایسے ٹوور پر بھیجنے کے لیے راضی نہیں تھا ۔۔۔
ہمارے پروفیسر صاحب کہتے تھے
" عورت کو آزادی کے نام پر کچھ لوگ باغی اور برہنہ کرنا چاہتے ہیں وہ سب سے پہلے عورت کو احساس دلاتے ہیں کہ وہ انتہائی مظلوم ہے اور یہ معاشرہ بہت ظالم ہے۔ وہ اسے بغاوت پر آمادہ کرتے ہیں اسے اپنے گھر کے مردوں سے بیزار کرتے ہیں تاکہ وہ کسی بھی گہری کھائی میں گرتے ہوئے ان کا سہارا نہ لے۔ وہ اسے شادی اور نکاح سے بد ظن کر دیتے ہیں تاکہ وہ حلال کو چھوڑ کر حرام کو ترجیح دینے لگے ایسا کرنے سے عورت ان کے لیے ایک اوبجیکٹ ، سیکس ٹوائے اور آسان ٹارگٹ بن جاتی ہے جسے وہ جب چاہیں جیسے چاہیں استعمال کر سکتے ہیں۔ ایسا کرنے کے لیے وہ کئی مہینوں سالوں ایک عورت پر محنت کرتے ہیں اسے باور کرانے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں کہ ہم بہت مثبت سوچ رکھتے ہیں آزاد خیال ہیں ہم عورت کے خیر خواہ ہیں اسے اس کے حقوق دلانا چاہتے ہیں۔ وہ پانی کے قطرے کی طرح آہستہ آہستہ سرائیت کرتے ہیں اور خلا پیدا کرنے کے بعد اپنے مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں" ۔۔
آپ بس یہ پہچان کرنا سیکھ لیں کہ کون آپ کا خیر خواہ ہے اور کون شکاری ہے ؟ ۔۔۔
محبتیں سلامت رہیں
وسیم قریشی
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــ
واٹس ایپ:
https://chat.whatsapp.com/Db588KoA6AcKOVBGxdPSvZ
ٹیلی گرام:
t.me/CutPiece
فیسبک:
https://www.facebook.com/fbcutpiece/
انسٹاگرام:
https://instagram.com/cut_piece_?igshid=YmMyMTA2M2Y
یہ لاہور کی ایک رات تھی۔ ہم پانچ چھ دوست بیٹھے ہوئے چائے پی رہے تھے۔ وہ ایک کپل کئی طرح کی اوچھی حرکتیں سب کے سامنے کر رہے تھے لیکن یہاں پر یہ سب کچھ اتنا نارمل تھا کہ کسی کو کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ نہ ہوٹل والوں کی طرف سے کوئی روک ٹوک تھی کیوں کہ ہزاروں روپے صرف چائے اور فرائز کے وصول کرنے والے اخلاقیات پر توجہ دیں گے تو ان کا کسٹمر کون بنے گا ؟ ۔۔۔۔
رات کے تقریباً تین بجے ہم وہاں سے واپس نکلے تو وہ کپل بھی باہر نکل آیا ۔۔۔۔۔
وہ میاں بیوی بھی ہو سکتے ہیں ۔۔۔
کئی لوگ یہ کہیں گے ۔۔ جی یقیناََ وہ میاں بیوی بھی ہو سکتے ہیں لیکن میرا خیال ہے کہ میاں بیوی اس طرح کی حرکتیں یوں سر عام نہیں کرتے ۔۔ باہر نکل کر وہ لڑکا اپنی گاڑی میں بیٹھ کر چلا گیا اور لڑکی پارکنگ کی طرف جانے لگی۔۔ صاف ظاہر ہے وہ میاں بیوی نہیں تھے۔۔۔
ایلیٹ کلاس فیملیز میں یہ سب عام ہے ۔۔۔
ہم میں سے اکثر کی یہی سوچ ہے چلیں اس کا جائزہ بھی لیتے ہیں۔ جب وہ لڑکی اندر موجود تھی تو دوپٹہ گلے میں ڈال رکھا تھا بال کھلے ہوئے تھے۔ پارکنگ سے گاڑی لے کر نکلی تو مکمل حجاب تھا ۔۔ یعنی وہ ایلیٹ کلاس فیملی سے تعلق رکھتی تھی لیکن اس کے باوجود اسے اجازت نہیں تھی تبھی وہ اپنے چہرے بدل رہی تھی۔ جس کا مطلب ہے کہ ایلیٹ کلاس فیملیز بھی اپنے بچوں کو ایسی حرکتوں کی اجازت نہیں دیتیں ۔۔۔۔۔
دیکھیے آزادی کے نام پر اپنی فیملی کی آنکھوں میں دھول جھونکنے سے آپ کو کچھ حاصل نہیں ہوگا۔
ایک دوست بتا رہا تھا کہ کسی ٹوور پر 13 لڑکے تھے اور صرف ایک لڑکی تھی جو اپنے گھر سے جھوٹ بول کر آئی تھی حجاب پہنا ہوا تھا۔ پھر گاڑی میں بیٹھتے ہی حجاب اتار کر گلے میں دوپٹہ ڈالا سارے راستے ان سب لڑکوں کے ساتھ ہنسی مذاق ، گپ شپ ، رقص وغیرہ جاری رہا۔۔ اس لڑکی پر محنت کی گئی تھی کہ کچھ نہیں ہوتا زندگی انجوائے منٹ کا نام ہے۔ ہم تو اپنی بہن کو کبھی نہ روکتے۔ حالاں کہ ان 13 لڑکوں میں سے کوئی بھی اپنے گھر کی کسی عورت کو لانے یا ایسے ٹوور پر بھیجنے کے لیے راضی نہیں تھا ۔۔۔
ہمارے پروفیسر صاحب کہتے تھے
" عورت کو آزادی کے نام پر کچھ لوگ باغی اور برہنہ کرنا چاہتے ہیں وہ سب سے پہلے عورت کو احساس دلاتے ہیں کہ وہ انتہائی مظلوم ہے اور یہ معاشرہ بہت ظالم ہے۔ وہ اسے بغاوت پر آمادہ کرتے ہیں اسے اپنے گھر کے مردوں سے بیزار کرتے ہیں تاکہ وہ کسی بھی گہری کھائی میں گرتے ہوئے ان کا سہارا نہ لے۔ وہ اسے شادی اور نکاح سے بد ظن کر دیتے ہیں تاکہ وہ حلال کو چھوڑ کر حرام کو ترجیح دینے لگے ایسا کرنے سے عورت ان کے لیے ایک اوبجیکٹ ، سیکس ٹوائے اور آسان ٹارگٹ بن جاتی ہے جسے وہ جب چاہیں جیسے چاہیں استعمال کر سکتے ہیں۔ ایسا کرنے کے لیے وہ کئی مہینوں سالوں ایک عورت پر محنت کرتے ہیں اسے باور کرانے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں کہ ہم بہت مثبت سوچ رکھتے ہیں آزاد خیال ہیں ہم عورت کے خیر خواہ ہیں اسے اس کے حقوق دلانا چاہتے ہیں۔ وہ پانی کے قطرے کی طرح آہستہ آہستہ سرائیت کرتے ہیں اور خلا پیدا کرنے کے بعد اپنے مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں" ۔۔
آپ بس یہ پہچان کرنا سیکھ لیں کہ کون آپ کا خیر خواہ ہے اور کون شکاری ہے ؟ ۔۔۔
محبتیں سلامت رہیں
وسیم قریشی
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــ
واٹس ایپ:
https://chat.whatsapp.com/Db588KoA6AcKOVBGxdPSvZ
ٹیلی گرام:
t.me/CutPiece
فیسبک:
https://www.facebook.com/fbcutpiece/
انسٹاگرام:
https://instagram.com/cut_piece_?igshid=YmMyMTA2M2Y
WhatsApp.com
📃📑کَٹ پِیس📜📄 (1)
WhatsApp Group Invite
اچھے وقت کے ساتھ ساتھ زندگی میں برا وقت بھی آ سکتا ہے مگر آخر میں جیتتا وہ ہے جو صبر کا مظاہرہ کر کے برے وقت کا سامنا دلیری سے کرتا ہے۔ 2004 میں دنیش کارتک نامی نوجوان وکٹ کیپر نے ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے لیے ڈیبیو کیا۔ ان کا کرکٹ کیریئر شروع ہو رہا تھا اور 2007 میں انہوں نے اپنی بچپن کی دوست نکیتا ونجارا سے شادی کر لی۔ دنیش اور نکیتا اپنی شادی شدہ زندگی میں بہت خوش تھے۔ دنیش کارتک رانجی ٹرافی میں تامل ناڈو کی ٹیم کی کپتانی بھی کر رہے تھے۔ تامل ناڈو کی ٹیم میں ان کی مرلی وجے سے گہری دوستی تھی جو بعد میں ہندوستانی ٹیم کا حصہ بھی بنے۔ ایک دن، نکیتا مرلی وجے سے ملاقات کرتی ہے اور یہی ملاقات آگے چل کر مزید میل ملاقاتوں کا باعث بنتی ہے جسکا نتیجہ سرعام میل ملاقاتوں کی صورت میں نکلتا ہے۔ دنیش کارتک کو چھوڑ کر تامل ناڈو کی پوری ٹیم جانتی تھی کہ مرلی وجے کا دنیش کارتک کی بیوی نکیتا کے ساتھ افئیر ہے۔ پھر سال 2012 آیا اور نکیتا حاملہ ہو گئی لیکن اس نے یہ کہہ کر سب کو حیران کر دیا کہ بچہ مرلی وجے کا ہے۔ دنیش کارتک نے نکیتا کو طلاق دے دی۔ طلاق کے اگلے ہی دن نکیتا نے مرلی وجے سے شادی کر لی اور صرف 3 ماہ بعد ہی اس نے مرلی وجے کے بچے کو جنم دیا۔ دنیش کارتک ٹوٹ گیا اور ڈپریشن میں چلا گیا۔ اسے دماغی صحت کے مسائل نے آ گھیرا۔ وہ اپنی بیوی اور دوست مرلی کی بےوفائی کو بھول نہیں پا رہا تھا۔ وہ صبح سے رات تک شراب پیتا۔ اسے ہندوستانی ٹیم سے باہر کردیا گیا۔ وہ رانجی ٹرافی میں بھی ناکام رہا۔ اس سے تامل ناڈو ٹیم کی کپتانی چھین لی گئی اور مرلی وجے کو نیا کپتان بنایا گیا۔ ناکامی کا یہ سلسلہ یہیں نہیں رکا۔ اگلے سال اسے آئی پی ایل میں بھی نہیں کھلایا گیا۔ اس نے جم جانا چھوڑ دیا۔ آخر میں دنیش کارتک اتنا ناامید ہو گیا کہ اس نے خودکشی کی باتیں شروع کر دیں۔ پھر ایک دن جم سے اس کا ٹرینر اس کے گھر آیا۔ اس نے دنیش کارتک کو بری حالت میں پایا۔ وہ دنیش کارتک کو سیدھا جم لے گیا۔ دنیش نے اسکی بات سننے سے انکار کر دیا، لیکن اس کے ٹرینر نے ہمت نہیں ہاری۔ اسی جم میں ہندوستانی اسکواش چیمپئن دپیکا پالیکل آیا کرتی تھی۔ جب اس نے دنیش کارتک کی حالت دیکھی تو اس نے ٹرینر کے ساتھ مل کر دنیش کارتک کی کونسلنگ شروع کردی۔ ٹرینر اور دپیکا کی محنت کے نتائج سامنے آنے لگے۔ دنیش کارتک بہتری کی راہ پر چل پڑا۔ اس دوران مرلی وجے کا کھیل مسلسل زوال پذیر ہونے لگا۔ مرلی وجے کو بری پرفارمنس پر بھارتی ٹیم سے باہر کردیا گیا۔ بعد میں ان کی خراب فارم کو دیکھ کر چنئی سپر کنگز نے بھی انہیں آئی پی ایل سے باہر کا راستہ دکھایا۔ دوسری جانب دپیکا پالیکل کے تعاون سے دنیش کارتک نے نیٹ پر بھرپور پریکٹس شروع کردی۔ اس کا اثر ہونا شروع ہوا اور دنیش کارتک نے ڈومیسٹک کرکٹ میں بڑا اسکور کرنا شروع کیا۔ جلد ہی، وہ آئی پی ایل میں بھی منتخب ہو کر کولکتہ نائٹ رائیڈرز کا کپتان بن گیا۔ وہ اور دپیکا پالیکل بہت قریب ہو گئے تھے لہذا دونوں نے شادی کر لی۔ دنیش کارتک نے محسوس کیا کہ اس کا کیریئر تقریباً ختم ہو چکا ہے۔ انہوں نے کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا فیصلہ کر لیا۔ دوسری جانب ان کی اہلیہ دپیکا پالیکل حاملہ ہوگئیں اور اس نے جڑواں بچوں کو جنم دیا۔ دپیکا کا اسکواش کیریئر بھی رک گیا۔ 2021 میں دنیش نے چنئی کے ایک پوش علاقے میں گھر خریدنے کا فیصلہ کیا۔ سب حیران تھے کہ جب دپیکا اور دنیش دونوں کھیلوں کی دنیا سے تقریباً ریٹائر ہو چکے تھے تو وہ پوش ایریا میں اتنا مہنگا گھر کیسے خریدیں گے؟ تب دنیش کو یہ اطلاع ملی کہ چنئی سپر کنگز کے کپتان مہندر سنگھ دھونی انہیں ایک وکٹ کیپر کے طور پر ٹیم میں واپس دیکھنا چاہتے ہیں۔ آئی پی ایل 2022 کی نیلامی شروع ہو گئی۔ لیکن اس بار، چنئی سپر کنگز کی بجائے رائل چیلنجر بنگلور نے دنیش کو خرید لیا۔ دنیش کی اہلیہ دپیکا نے بھی کھیلنا شروع کیا اور ان کے جڑواں بچوں کی پیدائش کے صرف 6 ماہ بعد ہی انہوں نے گلاسگو میں ہونے والی عالمی چیمپئن شپ میں جوشنا چنپا کے ساتھ خواتین کے ڈبلز کا ٹائٹل جیتا۔ دنیش کارتک کی کامیابی کی کہانی سب کو معلوم ہونی چاہیے۔ گرنا اور گر کر دوبارہ اٹھنا کیسے ہے یہ دنیش کارتک کی زندگی بتاتی ہے۔ لہذا ہمت مت ہاریں اور ہمیشہ مشکلات سے لڑتے رہیں۔
مجاہد ملک
انتخاب: احمد بن نذر
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــ
واٹس ایپ:
https://chat.whatsapp.com/Db588KoA6AcKOVBGxdPSvZ
ٹیلی گرام:
t.me/CutPiece
فیسبک:
https://www.facebook.com/fbcutpiece/
انسٹاگرام:
https://instagram.com/cut_piece_?igshid=YmMyMTA2M2Y
مجاہد ملک
انتخاب: احمد بن نذر
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــ
واٹس ایپ:
https://chat.whatsapp.com/Db588KoA6AcKOVBGxdPSvZ
ٹیلی گرام:
t.me/CutPiece
فیسبک:
https://www.facebook.com/fbcutpiece/
انسٹاگرام:
https://instagram.com/cut_piece_?igshid=YmMyMTA2M2Y
WhatsApp.com
📃📑کَٹ پِیس📜📄 (1)
WhatsApp Group Invite
عورت کی گواہی
::::::::::::::::::
خواتین کا موضوع چھڑ ہی گیا ہے تو لگے ہاتھوں عورت کی گواہی والے مسئلے پر بھی بات کر لیتے ہیں
اس معاملے کے دو پہلو ہیں۔ آیئے پہلا پہلو سمجھتے ہیں۔ بات کچھ یوں ہے کہ گواہی کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ کوئی پھڈا ہے جو عدالت پہنچا ہے۔ اب پھڈے یا حادثے میں عورت کا اپنی نفسیات کے مطابق عین فطری ردعمل یہ ہوتا ہے کہ یہ گھبرا جاتی ہے، چلانے لگتی ہے اور ایک جگہ ٹک کر سین پر فوکس نہیں کرتی بلکہ متحرک رہتی ہے۔ کبھی سین کو دیکھتی ہے تو کبھی یکدم آسمان کو تک کر "اے اللہ جی !" چلا رہی ہے، اور پھر لوگوں کو دیکھ کر کچھ غیر مربوط باتیں کرنے لگتی ہے۔ کیا یہ سب کوئی عیب ہے ؟ قطعا نہیں، یہ اس کی نیچر ہے۔ نیچر کیسے غلط ہوسکتی ہے ؟ اس کا صرف جسم ہی نہیں بلکہ نفسیات بھی نازک ہے۔ اور مت بھولیں کہ اللہ نے اسے آؤٹ ڈور معاملات سے چھوٹ دے رکھی ہے تو کوئی وجہ بھی ہے اس کی۔ اس کے برخلاف مرد کی کنسنٹریشن ایسی ہے کہ ہجوم میں کوئی سامنے آجائے تو اسے بھی کہتا ہے
"ذرا ہٹ یار دیکھنے دے مجھے"
چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ مرد آپسی گفتگو میں یہ بات کرکے عورت پر ہنستے ہیں کہ اگر وہ ڈرائیو کر رہی ہو اور ذرا سا بھی اس سے گاڑی لگ جائے تو اس کی سیٹ گیلی ہوجاتی ہے۔ مرد اس کی اس حالت پر ہنستا اس لئے ہے کہ اسے معاملے کی سمجھ ہی نہیں۔ ہم اسے حدیث سے سمجھا دیتے ہیں۔ مشہور حدیث ہے کہ حضرت انجشہ رضی اللہ عنہ اونٹ پر خواتین کو بٹھا کر اسے تیز رفتاری سے لے جا رہے تھے تو اللہ کے رسول ﷺ نے انہیں متنبہ کرتے ہوئے فرمایا
رویدك ياانجشة ان ركبك القوارير
"اے انجشہ احتیاط سے، تیری سواریاں آبگینے ہیں"
سو جانِ عزیز "آبگینے" کا مطلب سمجھ آیا ؟ سیٹ آبگینے سے گیلی ہوتی ہے مرد جیسے مٹکے سے نہیں۔
اب چونکہ عورت کی نفسیات ایسی ہے کہ یہ غیر معمولی صورتحال میں گھبرا جاتی ہے جس سے اس کی کنسنٹریشن بری طرح متاثر ہوجاتی ہے تو اس لئے کہا گیا کہ خواتین دو ہوں گی تو گواہی قبول ہوگی۔ امید ہے آپ کو یہ بات سمجھ آگئی ہوگی اس کی گواہی نصف ہونے کا اس کے کمتر ہونے سے کوئی تعلق نہیں۔ بلکہ معاملہ اس کی نیچر کی وجہ سے متاثر ہوجانی والی کنسنٹریشن کا ہے۔
عورت کی گواہی کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ ہم سب جانتے ہیں جب کوئی قابل دست اندازی پولیس واقعہ ہوجاتا ہے۔ اور پولیس کی گاڑی دور سے آتی نظر آجائے تو آدھے سے زیادہ لوگ تتربتر ہوجاتے ہیں۔ پتہ ہے کیوں ؟ کیونکہ گواہی سے ڈرتے ہیں۔ جو پیچھے رہ بھی جائیں ان سے جب پولیس افسر پوچھتا ہے
"ہاں بھئی گواہ کون کون ہے اس وقوعے کا ؟ چوہدری صاحب کو کس نے قتل کیا ؟"
تو سب مکر جاتے ہیں، اور یہ موقف اختیار کر لیتے ہیں
"سر جی میں تو ہجوم دیکھ کر اس طرف آیا، اور جب آکر دیکھا تو چوہدری صاحب کی لاش پڑی تھی۔ میں نے بس اتنا ہی دیکھا ہے"
سو ان حالات میں عورت کے لئے دو گواہوں والی شرط ایک بڑی رعایت بنی کہ نہیں ؟ فرض کیجئے عورت نے سب بچشم خود دیکھا بھی ہے۔ اور قاضی ابو یوسف کی عدالت سے سمن آجائے کہ آؤ اور گواہی دو تو وہ اس سمن کے پیچھے یہ لکھ کر بھجوادے
"میں اکیلی تھی کوئی دوسری عورت موجود نہیں تھی۔ میں نہیں آرہی عدالت، میں نہیں دے رہی گواہی"
جان چھوٹ گئی کہ نہیں ؟ گواہی دینا اتنا خوشگوار عمل کب سے بن گیا کہ ہمارے لبرل اس پر یہ واویلا مچاتے پھرتے ہیں کہ عورت کی گواہی نصف کیوں کردی گئی ؟ گواہی کے بدلے کوئی نوبل پیس پرائز ملتا ہے کیا کہ عورت اس سے محروم ہوجائے گی ؟ گواہی سے تو مرد بھی دور بھاگتا ہے۔ مرد تو جھوٹ بول کر گواہی سے جان چھراتا ہے۔ جبکہ عورت کے پاس یہ آپشن ہے کہ اپنے تنہاء ہونے کا کہہ کر عدالت کے دھکوں سے بچ سکتی ہے !
رعایت اللہ فاروقی
انتخاب: احمد بن نذر
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــ
واٹس ایپ:
https://chat.whatsapp.com/Db588KoA6AcKOVBGxdPSvZ
ٹیلی گرام:
t.me/CutPiece
فیسبک:
https://www.facebook.com/fbcutpiece/
انسٹاگرام:
https://instagram.com/cut_piece_?igshid=YmMyMTA2M2Y
::::::::::::::::::
خواتین کا موضوع چھڑ ہی گیا ہے تو لگے ہاتھوں عورت کی گواہی والے مسئلے پر بھی بات کر لیتے ہیں
اس معاملے کے دو پہلو ہیں۔ آیئے پہلا پہلو سمجھتے ہیں۔ بات کچھ یوں ہے کہ گواہی کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ کوئی پھڈا ہے جو عدالت پہنچا ہے۔ اب پھڈے یا حادثے میں عورت کا اپنی نفسیات کے مطابق عین فطری ردعمل یہ ہوتا ہے کہ یہ گھبرا جاتی ہے، چلانے لگتی ہے اور ایک جگہ ٹک کر سین پر فوکس نہیں کرتی بلکہ متحرک رہتی ہے۔ کبھی سین کو دیکھتی ہے تو کبھی یکدم آسمان کو تک کر "اے اللہ جی !" چلا رہی ہے، اور پھر لوگوں کو دیکھ کر کچھ غیر مربوط باتیں کرنے لگتی ہے۔ کیا یہ سب کوئی عیب ہے ؟ قطعا نہیں، یہ اس کی نیچر ہے۔ نیچر کیسے غلط ہوسکتی ہے ؟ اس کا صرف جسم ہی نہیں بلکہ نفسیات بھی نازک ہے۔ اور مت بھولیں کہ اللہ نے اسے آؤٹ ڈور معاملات سے چھوٹ دے رکھی ہے تو کوئی وجہ بھی ہے اس کی۔ اس کے برخلاف مرد کی کنسنٹریشن ایسی ہے کہ ہجوم میں کوئی سامنے آجائے تو اسے بھی کہتا ہے
"ذرا ہٹ یار دیکھنے دے مجھے"
چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ مرد آپسی گفتگو میں یہ بات کرکے عورت پر ہنستے ہیں کہ اگر وہ ڈرائیو کر رہی ہو اور ذرا سا بھی اس سے گاڑی لگ جائے تو اس کی سیٹ گیلی ہوجاتی ہے۔ مرد اس کی اس حالت پر ہنستا اس لئے ہے کہ اسے معاملے کی سمجھ ہی نہیں۔ ہم اسے حدیث سے سمجھا دیتے ہیں۔ مشہور حدیث ہے کہ حضرت انجشہ رضی اللہ عنہ اونٹ پر خواتین کو بٹھا کر اسے تیز رفتاری سے لے جا رہے تھے تو اللہ کے رسول ﷺ نے انہیں متنبہ کرتے ہوئے فرمایا
رویدك ياانجشة ان ركبك القوارير
"اے انجشہ احتیاط سے، تیری سواریاں آبگینے ہیں"
سو جانِ عزیز "آبگینے" کا مطلب سمجھ آیا ؟ سیٹ آبگینے سے گیلی ہوتی ہے مرد جیسے مٹکے سے نہیں۔
اب چونکہ عورت کی نفسیات ایسی ہے کہ یہ غیر معمولی صورتحال میں گھبرا جاتی ہے جس سے اس کی کنسنٹریشن بری طرح متاثر ہوجاتی ہے تو اس لئے کہا گیا کہ خواتین دو ہوں گی تو گواہی قبول ہوگی۔ امید ہے آپ کو یہ بات سمجھ آگئی ہوگی اس کی گواہی نصف ہونے کا اس کے کمتر ہونے سے کوئی تعلق نہیں۔ بلکہ معاملہ اس کی نیچر کی وجہ سے متاثر ہوجانی والی کنسنٹریشن کا ہے۔
عورت کی گواہی کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ ہم سب جانتے ہیں جب کوئی قابل دست اندازی پولیس واقعہ ہوجاتا ہے۔ اور پولیس کی گاڑی دور سے آتی نظر آجائے تو آدھے سے زیادہ لوگ تتربتر ہوجاتے ہیں۔ پتہ ہے کیوں ؟ کیونکہ گواہی سے ڈرتے ہیں۔ جو پیچھے رہ بھی جائیں ان سے جب پولیس افسر پوچھتا ہے
"ہاں بھئی گواہ کون کون ہے اس وقوعے کا ؟ چوہدری صاحب کو کس نے قتل کیا ؟"
تو سب مکر جاتے ہیں، اور یہ موقف اختیار کر لیتے ہیں
"سر جی میں تو ہجوم دیکھ کر اس طرف آیا، اور جب آکر دیکھا تو چوہدری صاحب کی لاش پڑی تھی۔ میں نے بس اتنا ہی دیکھا ہے"
سو ان حالات میں عورت کے لئے دو گواہوں والی شرط ایک بڑی رعایت بنی کہ نہیں ؟ فرض کیجئے عورت نے سب بچشم خود دیکھا بھی ہے۔ اور قاضی ابو یوسف کی عدالت سے سمن آجائے کہ آؤ اور گواہی دو تو وہ اس سمن کے پیچھے یہ لکھ کر بھجوادے
"میں اکیلی تھی کوئی دوسری عورت موجود نہیں تھی۔ میں نہیں آرہی عدالت، میں نہیں دے رہی گواہی"
جان چھوٹ گئی کہ نہیں ؟ گواہی دینا اتنا خوشگوار عمل کب سے بن گیا کہ ہمارے لبرل اس پر یہ واویلا مچاتے پھرتے ہیں کہ عورت کی گواہی نصف کیوں کردی گئی ؟ گواہی کے بدلے کوئی نوبل پیس پرائز ملتا ہے کیا کہ عورت اس سے محروم ہوجائے گی ؟ گواہی سے تو مرد بھی دور بھاگتا ہے۔ مرد تو جھوٹ بول کر گواہی سے جان چھراتا ہے۔ جبکہ عورت کے پاس یہ آپشن ہے کہ اپنے تنہاء ہونے کا کہہ کر عدالت کے دھکوں سے بچ سکتی ہے !
رعایت اللہ فاروقی
انتخاب: احمد بن نذر
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــ
واٹس ایپ:
https://chat.whatsapp.com/Db588KoA6AcKOVBGxdPSvZ
ٹیلی گرام:
t.me/CutPiece
فیسبک:
https://www.facebook.com/fbcutpiece/
انسٹاگرام:
https://instagram.com/cut_piece_?igshid=YmMyMTA2M2Y
WhatsApp.com
📃📑کَٹ پِیس📜📄 (1)
WhatsApp Group Invite
لاہور کا ایک بہت نامور میڈیا مالک، کھربوں چھوڑ کر مرا. رمضان تھا، دعا کرنے والے عصر کے بعد آئے۔ ورثا نے مبینہ طور پر مہمانوں کو افطار سے پہلے رخصت کر دیا۔ ترکے میں سے چند کپ چائے بھی دینا پسند نہیں کیا.
دولت آپ کی وہی ہے جو کھا لی، جو پہن لی یا جو بھیج دی، بھیجنے سے یہاں مراد زکوٰۃ، صدقہ، خیرات اور فلاحی خدمات ہیں ! ان کے علاوہ آپ جو پسماندگان کیلئے چھوڑ جائیں گے اسے گویا آپ نے دریا بُرد کر دیا۔
(اقتباس:محمد اظہار الحق کے کالم “تلخ نوائی” سے)
انتخاب: احمد بن نذر
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــ
واٹس ایپ:
https://chat.whatsapp.com/Db588KoA6AcKOVBGxdPSvZ
ٹیلی گرام:
t.me/CutPiece
فیسبک:
https://www.facebook.com/fbcutpiece/
انسٹاگرام:
https://instagram.com/cut_piece_?igshid=YmMyMTA2M2Y
دولت آپ کی وہی ہے جو کھا لی، جو پہن لی یا جو بھیج دی، بھیجنے سے یہاں مراد زکوٰۃ، صدقہ، خیرات اور فلاحی خدمات ہیں ! ان کے علاوہ آپ جو پسماندگان کیلئے چھوڑ جائیں گے اسے گویا آپ نے دریا بُرد کر دیا۔
(اقتباس:محمد اظہار الحق کے کالم “تلخ نوائی” سے)
انتخاب: احمد بن نذر
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــ
واٹس ایپ:
https://chat.whatsapp.com/Db588KoA6AcKOVBGxdPSvZ
ٹیلی گرام:
t.me/CutPiece
فیسبک:
https://www.facebook.com/fbcutpiece/
انسٹاگرام:
https://instagram.com/cut_piece_?igshid=YmMyMTA2M2Y
WhatsApp.com
📃📑کَٹ پِیس📜📄 (1)
WhatsApp Group Invite
استاد نے کلاس کے ہر بچے کو ایک لذیز ٹافی دی اور پھر عجیب ہدایت دی:
’’سنو بچو! آپ سب نے دس منٹ تک اپنی ٹافی نہیں کھانی۔‘‘
یہ کہہ کر وہ کلاس روم سے باہر چلے گئے۔
کلاس میں خاموشی چھاگئی، ہر بچہ اپنی ٹافی کو بے تابی سے دیکھ رہا تھا۔ وقت گزرتا گیا اور دس منٹ پورے ہوئے۔ استاد واپس آئے اور کلاس کا جائزہ لیا۔ سات بچے ایسے تھے جن کی ٹافیاں جوں کی توں تھیں، جبکہ باقی سب بچے ٹافی کھا چکے تھے۔ استاد نے چپکے سے ان سات بچوں کے نام اپنی ڈائری میں نوٹ کیے اور پڑھانا شروع کیا۔
اس استاد کا نام پروفیسر والٹر مشال تھا۔
کچھ سالوں بعد پروفیسر والٹر نے دوبارہ ان بچوں کے بارے میں تحقیق کی۔ انہیں معلوم ہوا کہ وہ سات بچے زندگی میں کامیابیاں حاصل کر چکے تھے، جبکہ باقی طلبہ عام زندگی گزار رہے تھے اور کچھ سخت معاشی اور معاشرتی حالات کا سامنا کر رہے تھے۔
پروفیسر والٹر نے اس تحقیق کا نتیجہ ایک جملے میں نکالا:
’’جو انسان دس منٹ تک صبر نہیں کر سکتا، وہ زندگی میں ترقی نہیں کر سکتا۔‘‘
اس تحقیق کو عالمی سطح پر پذیرائی ملی اور اس کا نام ’’مارش میلو تھیوری‘‘ پڑ گیا، کیونکہ بچوں کو دی گئی ٹافی کا نام ’’مارش میلو‘‘ تھا۔
اس تھیوری کے مطابق، دنیا کے کامیاب ترین افراد میں ایک خوبی ’’صبر‘‘ بھی پائی جاتی ہے، جو انسان کی قوتِ برداشت کو بڑھاتی ہے۔ اس کی بدولت انسان سخت حالات میں بھی مایوس نہیں ہوتا اور ایک غیر معمولی شخصیت بن جاتا ہے۔
تاہم ذہن میں رہے کہ یہ مجبوری والا صبر نہیں، مرضی والا صبر ہے.
یہی قوتِ برداشت انہیں کامیابی کی بلندیوں تک پہنچاتی ہے۔
عارف انیس
انتخاب: احمد بن نذر
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــ
واٹس ایپ:
https://chat.whatsapp.com/Db588KoA6AcKOVBGxdPSvZ
ٹیلی گرام:
t.me/CutPiece
فیسبک:
https://www.facebook.com/fbcutpiece/
انسٹاگرام:
https://instagram.com/cut_piece_?igshid=YmMyMTA2M2Y
’’سنو بچو! آپ سب نے دس منٹ تک اپنی ٹافی نہیں کھانی۔‘‘
یہ کہہ کر وہ کلاس روم سے باہر چلے گئے۔
کلاس میں خاموشی چھاگئی، ہر بچہ اپنی ٹافی کو بے تابی سے دیکھ رہا تھا۔ وقت گزرتا گیا اور دس منٹ پورے ہوئے۔ استاد واپس آئے اور کلاس کا جائزہ لیا۔ سات بچے ایسے تھے جن کی ٹافیاں جوں کی توں تھیں، جبکہ باقی سب بچے ٹافی کھا چکے تھے۔ استاد نے چپکے سے ان سات بچوں کے نام اپنی ڈائری میں نوٹ کیے اور پڑھانا شروع کیا۔
اس استاد کا نام پروفیسر والٹر مشال تھا۔
کچھ سالوں بعد پروفیسر والٹر نے دوبارہ ان بچوں کے بارے میں تحقیق کی۔ انہیں معلوم ہوا کہ وہ سات بچے زندگی میں کامیابیاں حاصل کر چکے تھے، جبکہ باقی طلبہ عام زندگی گزار رہے تھے اور کچھ سخت معاشی اور معاشرتی حالات کا سامنا کر رہے تھے۔
پروفیسر والٹر نے اس تحقیق کا نتیجہ ایک جملے میں نکالا:
’’جو انسان دس منٹ تک صبر نہیں کر سکتا، وہ زندگی میں ترقی نہیں کر سکتا۔‘‘
اس تحقیق کو عالمی سطح پر پذیرائی ملی اور اس کا نام ’’مارش میلو تھیوری‘‘ پڑ گیا، کیونکہ بچوں کو دی گئی ٹافی کا نام ’’مارش میلو‘‘ تھا۔
اس تھیوری کے مطابق، دنیا کے کامیاب ترین افراد میں ایک خوبی ’’صبر‘‘ بھی پائی جاتی ہے، جو انسان کی قوتِ برداشت کو بڑھاتی ہے۔ اس کی بدولت انسان سخت حالات میں بھی مایوس نہیں ہوتا اور ایک غیر معمولی شخصیت بن جاتا ہے۔
تاہم ذہن میں رہے کہ یہ مجبوری والا صبر نہیں، مرضی والا صبر ہے.
یہی قوتِ برداشت انہیں کامیابی کی بلندیوں تک پہنچاتی ہے۔
عارف انیس
انتخاب: احمد بن نذر
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــ
واٹس ایپ:
https://chat.whatsapp.com/Db588KoA6AcKOVBGxdPSvZ
ٹیلی گرام:
t.me/CutPiece
فیسبک:
https://www.facebook.com/fbcutpiece/
انسٹاگرام:
https://instagram.com/cut_piece_?igshid=YmMyMTA2M2Y
WhatsApp.com
📃📑کَٹ پِیس📜📄 (1)
WhatsApp Group Invite
آپ قبرستان کے پاس سے گزر رہے ہیں، وہاں ایک اچھے حلیے والا شخص کھڑا قہقہے لگا رہا ہے۔
آپ کے ذہن میں کیا آیا؟
یہی کہ کیسا فضول انسان ہے، قبروں پہ کھڑا ہو کر زور زور سے ہنس رہا ہے۔
آپ نے یہ نہیں سوچا کہ ممکن ہے کسی صدمے سے اس کا دماغی توازن خراب ہو گیا ہو اور وہ ہنسنے رونے کا شعور کھو چکا ہو۔
آپ بس میں سفر کر رہے ہیں۔ ایک بزرگ سیٹ نہ ہونے کی وجہ سے کھڑے ہو کر سفر کر رہے ہیں۔ وہاں پاس ہی ایک نوجوان سیٹ پہ بیٹھا ہوا ہے لیکن اس نے اٹھ کر بزرگ کو سیٹ نہیں دی۔
آپ کے ذہن میں کیا آیا؟
کہ اس لڑکے میں انسانیت ہی نہیں، یہ بنیادی اخلاقیات سے ہی محروم ہے۔
آپ نے یہ نہیں سوچا کہ ممکن ہے وہ لڑکا خود بیمار ہو، ہسپتال سے واپس آ رہا ہو یا کسی وجہ سے بہت زیادہ تھکا ہوا ہو اور کھڑے ہونے کی ہمت نہ رکھتا ہو۔ آپ نے بس ایک واقعہ دیکھا اور رائے قائم کر لی۔
آپ مسجد جاتے ہیں، ایک جوان بندہ سکون سے چلتا ہوا آتا ہے اور کرسی پہ بیٹھ کر نماز پڑھنا شروع کر دیتا ہے۔
آپ کے ذہن میں کیا آیا؟
کیسا برا مسلمان ہے، ٹھیک ٹھاک چلتا آیا اور بلاوجہ کرسی پہ بیٹھ کر نماز پڑھنی شروع کر دی۔
آپ نے یہ نہیں سوچا کہ ممکن ہے اسے جوڑوں کا درد ہو، اس کا گھٹنہ فریکچر ہو، ٹانگ میں کوئی چوٹ ہو، پاؤں میں موچ ہو۔۔۔۔۔
جس کی وجہ سے وہ زمین پہ بیٹھنے کی تکلیف برداشت نہ کر سکتا ہو۔
وہیں مسجد میں ایک لڑکا پندرہ منٹ سے موبائل چلانے میں مگن ہے۔
آپ نے کیا محسوس کیا؟
یہی کہ کیسا فضول لڑکا ہے، مسجد آ کر بھی موبائل میں لگا ہوا ہے۔ ممکن ہے آپ اس کے والدین کی تربیت پہ بھی افسوس کر چکے ہوں۔
آپ نے یہ نہیں سوچا کہ ممکن ہے وہ موبائل پہ قرآن پاک پڑھ رہا ہو، کوئی حدیث دیکھ رہا ہو۔
بچوں کے سکول کا رزلٹ آیا۔ آپ نے ایک ہزار نمبر لینے والے کو قابل سمجھ لیا، پانچ سو نمبر لینے والے کو نالائق سمجھ لیا۔
آپ نے یہ نہیں سوچا کہ ممکن ہے ہزار نمبر لینے والے کا سکول اچھا ہو، گھر کا ماحول پڑھائی والا ہو۔ پانچ سو نمبر لینے والا غیر معیاری سکول میں پڑھتا ہو، سکول کے بعد نوکری کرتا ہو، گھر میں باپ کی گالیاں سنتا ہو، مار کھاتا ہو۔
آپ نے بس نمبر دیکھے اور اپنی رائے قائم کر لی۔
آپ نے دوسروں کو جانچنے میں اتنی جلدی کیسے کر دی؟ آپ نے ان پہ کوئی لیبل کیوں لگا دیا جب کہ آپ پوری حقیقت جانتے ہی نہیں تھے۔
آپ نے دوسروں کی نیتوں کے متعلق اندازے کیوں لگانے شروع کر دیے؟ آپ نے دوسروں کے اچھا برا ہونے کا فیصلہ کرنا کیوں شروع کر دیا؟
دوسروں کا ایمان کیوں ناپنا شروع کر دیا۔ یہ فیصلہ، یہ اختیار تو خدا کی طرف سے آپ کو دیا ہی نہیں گیا۔
نیتوں کا حال تو بس خدا جانتا ہے نا، اچھائی برائی کا فیصلہ تو بس وہی کر سکتا ہے۔ انسانوں کی کمیوں کوتاہیوں کا فیصلہ تو ان کے حالات اور معاملات جان کر کیا جا سکتا ہے تو ہم اتنی جلدی کیوں یہ فیصلے کرنے لگ جاتے ہیں۔
کوئی مسجد سے جوتیاں اٹھا کر لے جا رہا ہو تو کیا ضروری ہے کہ اسے چور ہی سمجھا جائے؟
ممکن ہے اس نے خود ہی اضافی جوتیاں کسی وجہ سے لا کر وہاں رکھی ہوئی ہوں، جو اب واپس لے کر جا رہا ہو۔
کسی کے گھر جائیں اور وہ دن کو سو رہا ہو تو ضروری نہیں کہ وہ سست اور کاہل ہو۔ ممکن ہے اس نے رات نوکری کی ہو یا کسی اور مجبوری کی وجہ سے رات جاگ کر کاٹی ہو۔
کوئی میزبان آپ کو صرف سادہ پانی پلا کر ٹرخا دیتا ہے تو ضروری نہیں اس کی مہمان نوازی پہ سوال اٹھائیں۔ ممکن ہے حالات کی سختی کی وجہ سے ٹھیک نظر آنے والے کے گھر میں بھی پیش کرنے کے لیے پانی کے سوا کچھ نہ ہو۔
کوئی آپ کے کال یا میسج کا جواب نہیں دے رہا تو ضروری نہیں وہ نخرے کر رہا ہو، آپ کی تضحیک کر رہا ہو۔ ممکن ہے وہ اپنے کسی معاملے میں اتنا الجھا ہوا ہو کہ کسی سے بات کرنے کی پوزیشن میں ہی نہ ہو۔
کوئی خاتون بائیک چلا رہی ہو، رات کے وقت اکیلی سڑک پہ چل رہی ہو تو کیا ضروری ہے کہ اسے عجیب نظروں سے دیکھا جائے؟ اس کو خراب سمجھا جائے۔
ہم دوسروں کی مجبوریاں نہیں جانتے، ان کے حالات سے واقفیت نہیں رکھتے۔ ہم نے ان کی پریشانیاں نہیں دیکھیں۔ ہم ان کے متعلق رائے کیسے قائم کر سکتے ہیں؟
ہمارا حسنِ ظن کہاں چلا گیا ہے؟ ہماری مثبت سوچ کم کیوں ہو گئی ہے۔ ہم منفیت سے بھرے ہوئے کیوں ہو گئے ہیں۔ ہم دوسروں کو ذرا سی گنجائش دینے پہ بھی تیار کیوں نہیں۔
ہمیں دوسروں کے متعلق رائے قائم کرنے میں جلدی نہیں کرنی چاہیے، ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ جو نظر آ رہا ہے اس کے پیچھے بہت سی ان دیکھی کہانیاں ہیں۔ ان کہانیوں سے واقف ہوئے بغیر صرف دیکھے ہوئے کی بنا پہ فیصلے نہیں کیے جا سکتے۔
آپ کے ذہن میں کیا آیا؟
یہی کہ کیسا فضول انسان ہے، قبروں پہ کھڑا ہو کر زور زور سے ہنس رہا ہے۔
آپ نے یہ نہیں سوچا کہ ممکن ہے کسی صدمے سے اس کا دماغی توازن خراب ہو گیا ہو اور وہ ہنسنے رونے کا شعور کھو چکا ہو۔
آپ بس میں سفر کر رہے ہیں۔ ایک بزرگ سیٹ نہ ہونے کی وجہ سے کھڑے ہو کر سفر کر رہے ہیں۔ وہاں پاس ہی ایک نوجوان سیٹ پہ بیٹھا ہوا ہے لیکن اس نے اٹھ کر بزرگ کو سیٹ نہیں دی۔
آپ کے ذہن میں کیا آیا؟
کہ اس لڑکے میں انسانیت ہی نہیں، یہ بنیادی اخلاقیات سے ہی محروم ہے۔
آپ نے یہ نہیں سوچا کہ ممکن ہے وہ لڑکا خود بیمار ہو، ہسپتال سے واپس آ رہا ہو یا کسی وجہ سے بہت زیادہ تھکا ہوا ہو اور کھڑے ہونے کی ہمت نہ رکھتا ہو۔ آپ نے بس ایک واقعہ دیکھا اور رائے قائم کر لی۔
آپ مسجد جاتے ہیں، ایک جوان بندہ سکون سے چلتا ہوا آتا ہے اور کرسی پہ بیٹھ کر نماز پڑھنا شروع کر دیتا ہے۔
آپ کے ذہن میں کیا آیا؟
کیسا برا مسلمان ہے، ٹھیک ٹھاک چلتا آیا اور بلاوجہ کرسی پہ بیٹھ کر نماز پڑھنی شروع کر دی۔
آپ نے یہ نہیں سوچا کہ ممکن ہے اسے جوڑوں کا درد ہو، اس کا گھٹنہ فریکچر ہو، ٹانگ میں کوئی چوٹ ہو، پاؤں میں موچ ہو۔۔۔۔۔
جس کی وجہ سے وہ زمین پہ بیٹھنے کی تکلیف برداشت نہ کر سکتا ہو۔
وہیں مسجد میں ایک لڑکا پندرہ منٹ سے موبائل چلانے میں مگن ہے۔
آپ نے کیا محسوس کیا؟
یہی کہ کیسا فضول لڑکا ہے، مسجد آ کر بھی موبائل میں لگا ہوا ہے۔ ممکن ہے آپ اس کے والدین کی تربیت پہ بھی افسوس کر چکے ہوں۔
آپ نے یہ نہیں سوچا کہ ممکن ہے وہ موبائل پہ قرآن پاک پڑھ رہا ہو، کوئی حدیث دیکھ رہا ہو۔
بچوں کے سکول کا رزلٹ آیا۔ آپ نے ایک ہزار نمبر لینے والے کو قابل سمجھ لیا، پانچ سو نمبر لینے والے کو نالائق سمجھ لیا۔
آپ نے یہ نہیں سوچا کہ ممکن ہے ہزار نمبر لینے والے کا سکول اچھا ہو، گھر کا ماحول پڑھائی والا ہو۔ پانچ سو نمبر لینے والا غیر معیاری سکول میں پڑھتا ہو، سکول کے بعد نوکری کرتا ہو، گھر میں باپ کی گالیاں سنتا ہو، مار کھاتا ہو۔
آپ نے بس نمبر دیکھے اور اپنی رائے قائم کر لی۔
آپ نے دوسروں کو جانچنے میں اتنی جلدی کیسے کر دی؟ آپ نے ان پہ کوئی لیبل کیوں لگا دیا جب کہ آپ پوری حقیقت جانتے ہی نہیں تھے۔
آپ نے دوسروں کی نیتوں کے متعلق اندازے کیوں لگانے شروع کر دیے؟ آپ نے دوسروں کے اچھا برا ہونے کا فیصلہ کرنا کیوں شروع کر دیا؟
دوسروں کا ایمان کیوں ناپنا شروع کر دیا۔ یہ فیصلہ، یہ اختیار تو خدا کی طرف سے آپ کو دیا ہی نہیں گیا۔
نیتوں کا حال تو بس خدا جانتا ہے نا، اچھائی برائی کا فیصلہ تو بس وہی کر سکتا ہے۔ انسانوں کی کمیوں کوتاہیوں کا فیصلہ تو ان کے حالات اور معاملات جان کر کیا جا سکتا ہے تو ہم اتنی جلدی کیوں یہ فیصلے کرنے لگ جاتے ہیں۔
کوئی مسجد سے جوتیاں اٹھا کر لے جا رہا ہو تو کیا ضروری ہے کہ اسے چور ہی سمجھا جائے؟
ممکن ہے اس نے خود ہی اضافی جوتیاں کسی وجہ سے لا کر وہاں رکھی ہوئی ہوں، جو اب واپس لے کر جا رہا ہو۔
کسی کے گھر جائیں اور وہ دن کو سو رہا ہو تو ضروری نہیں کہ وہ سست اور کاہل ہو۔ ممکن ہے اس نے رات نوکری کی ہو یا کسی اور مجبوری کی وجہ سے رات جاگ کر کاٹی ہو۔
کوئی میزبان آپ کو صرف سادہ پانی پلا کر ٹرخا دیتا ہے تو ضروری نہیں اس کی مہمان نوازی پہ سوال اٹھائیں۔ ممکن ہے حالات کی سختی کی وجہ سے ٹھیک نظر آنے والے کے گھر میں بھی پیش کرنے کے لیے پانی کے سوا کچھ نہ ہو۔
کوئی آپ کے کال یا میسج کا جواب نہیں دے رہا تو ضروری نہیں وہ نخرے کر رہا ہو، آپ کی تضحیک کر رہا ہو۔ ممکن ہے وہ اپنے کسی معاملے میں اتنا الجھا ہوا ہو کہ کسی سے بات کرنے کی پوزیشن میں ہی نہ ہو۔
کوئی خاتون بائیک چلا رہی ہو، رات کے وقت اکیلی سڑک پہ چل رہی ہو تو کیا ضروری ہے کہ اسے عجیب نظروں سے دیکھا جائے؟ اس کو خراب سمجھا جائے۔
ہم دوسروں کی مجبوریاں نہیں جانتے، ان کے حالات سے واقفیت نہیں رکھتے۔ ہم نے ان کی پریشانیاں نہیں دیکھیں۔ ہم ان کے متعلق رائے کیسے قائم کر سکتے ہیں؟
ہمارا حسنِ ظن کہاں چلا گیا ہے؟ ہماری مثبت سوچ کم کیوں ہو گئی ہے۔ ہم منفیت سے بھرے ہوئے کیوں ہو گئے ہیں۔ ہم دوسروں کو ذرا سی گنجائش دینے پہ بھی تیار کیوں نہیں۔
ہمیں دوسروں کے متعلق رائے قائم کرنے میں جلدی نہیں کرنی چاہیے، ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ جو نظر آ رہا ہے اس کے پیچھے بہت سی ان دیکھی کہانیاں ہیں۔ ان کہانیوں سے واقف ہوئے بغیر صرف دیکھے ہوئے کی بنا پہ فیصلے نہیں کیے جا سکتے۔
WhatsApp.com
📃📑کَٹ پِیس📜📄 (1)
WhatsApp Group Invite
ہمیں دوسروں کی عزتِ نفس، ان کے احترام کا خیال رکھنا چاہیے۔ اپنے اندر بغیر کسی ٹھوس وجہ کے ان کے لیے نفرت یا ناپسندیدگی نہیں پالنی چاہیے۔ یہ منفیت دوسروں سے ہمارے تعلقات تو خراب کرے گی ہی، ہماری خوشیوں کو بھی گہنا دے گی۔ ہمارا سکون برباد کر دے گی کہ ہمیں ہر انسان ہی برا لگنے لگے گا۔ ہر فرد میں بس خامیاں ہی نظر آنے لگیں گی۔
ڈاکٹر نوید خالد تارڑ
انتخاب: احمد بن نذر
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــ
واٹس ایپ:
https://chat.whatsapp.com/Db588KoA6AcKOVBGxdPSvZ
ٹیلی گرام:
t.me/CutPiece
فیسبک:
https://www.facebook.com/fbcutpiece/
انسٹاگرام:
https://instagram.com/cut_piece_?igshid=YmMyMTA2M2Y
ڈاکٹر نوید خالد تارڑ
انتخاب: احمد بن نذر
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــ
واٹس ایپ:
https://chat.whatsapp.com/Db588KoA6AcKOVBGxdPSvZ
ٹیلی گرام:
t.me/CutPiece
فیسبک:
https://www.facebook.com/fbcutpiece/
انسٹاگرام:
https://instagram.com/cut_piece_?igshid=YmMyMTA2M2Y
WhatsApp.com
📃📑کَٹ پِیس📜📄 (1)
WhatsApp Group Invite
اکثر لوگ پوچھتے ہیں کہ جب سگے رشتے ٹاکسک بن جائیں تو کیا کریں۔
خاص طور پہ جب وہ ہمارے چھوٹے چھوٹے بچوں کے ساتھ ناروا سلوک کریں۔
ان پہ طنز کریں۔
یا ان کو دیکھ کے بڑے کزنز آپس میں سرگوشیاں کریں
یا ان کو ساتھ نا کھیلانے کے لیے گروپنگ کریں۔
یا ان کے والدین کے حوالے سے ان کی بے عزتی کریں۔
یا والدین کے سٹیٹس کے حساب سے بچوں کو کم اہمیت دیں نظر انداز کریں۔
اور بچے ان سب باتوں کو محسوس کرتے ہوں
تو ایسے میں رشتوں کو کیسے بچایا جائے اور بچوں کو کیسے سمجھایا جائے۔
میرا جواب:
پہلی بات یہ ہے کہ رشتے چلانے کی ساری زمہ داری صرف ہماری نہیں ہے دوسروں کی بھی ہے۔ ایک بندہ اگر گھر کے دروازے بند کر لے تو کیا رشتہ نبھانے کے لیے دیوار پھلانگ کے جائیں۔۔۔۔۔؟
اپنی معصوم بچوں کو ٹاکسک لوگوں کی بھینٹ نا چڑھائیں ان کی منفی تسکین کا باعث نا بنائیں۔
بچوں کو بالکل ڈی گریڈ نا کریں۔
ان کو کہیں وہ خود فیصلہ کریں اگر وہ خود کمفرٹیبل نہیں ہیں تو مت جائیں مت ساتھ کھیلیں ہمیں اپنے بچوں کو ٹاسک لوگوں سے پیچھے ہٹ جانا بھی سیکھانا چاہیے۔
روز مرہ میں قریبی مگر ٹاکسک رشتوں سے فاصلہ اس لیے بھی ضروری ہے تاکہ خاص خاص خوشی غمی میں ایک ساتھ کھڑے ہو سکیں ورنہ یہ چھوٹی چھوٹی باتیں اس قدر دل میلا کرتی ہیں کہ ایک دن ہم نا خوشی کے رہتے ہیں نا غم کے۔
دوسرا یہ کہ بچوں کو سمجھانا چاہیے عزت وہ نہیں ہوتی جو دوسرے ہماری کرتے ہیں دوسرے تو صرف اپنا آپ شو کرتے ہیں عزت وہ ہوتی ہے جو ہم خود اپنی کرتے ہیں ہمیں خود کو اپنی نظر میں عزت دار بنانا ہے کبھی اپنی ہی نظروں سے گر جانے والا عمل نہیں کرنا دوسرے اپنی تربیت اور ذہنیت کے مطابق عمل کرتے ہیں ہمارے کردار کے مطابق نہیں۔
اس لیے عزت کا پیمانہ دوسروں کے ہاتھ میں نہیں ہے جو دوسروں کو اپنے تئیں بے عزت کر رہے ہوتے ہیں دراصل وہ خود عزت دار نہیں ہوتے وہ خود اپنی نظروں میں بے عزت ہوتے ہیں انسان دوسرے کو وہی کچھ دیتا ہے جو اس کے پاس ہوتا ہے جس کے پاس خود عزت کا بحران ہو وہ دوسرے کو عزت کیا دے گا۔
جویریہ ساجد
انتخاب: احمد بن نذر
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــ
واٹس ایپ:
https://chat.whatsapp.com/Db588KoA6AcKOVBGxdPSvZ
ٹیلی گرام:
t.me/CutPiece
فیسبک:
https://www.facebook.com/fbcutpiece/
انسٹاگرام:
https://instagram.com/cut_piece_?igshid=YmMyMTA2M2Y
خاص طور پہ جب وہ ہمارے چھوٹے چھوٹے بچوں کے ساتھ ناروا سلوک کریں۔
ان پہ طنز کریں۔
یا ان کو دیکھ کے بڑے کزنز آپس میں سرگوشیاں کریں
یا ان کو ساتھ نا کھیلانے کے لیے گروپنگ کریں۔
یا ان کے والدین کے حوالے سے ان کی بے عزتی کریں۔
یا والدین کے سٹیٹس کے حساب سے بچوں کو کم اہمیت دیں نظر انداز کریں۔
اور بچے ان سب باتوں کو محسوس کرتے ہوں
تو ایسے میں رشتوں کو کیسے بچایا جائے اور بچوں کو کیسے سمجھایا جائے۔
میرا جواب:
پہلی بات یہ ہے کہ رشتے چلانے کی ساری زمہ داری صرف ہماری نہیں ہے دوسروں کی بھی ہے۔ ایک بندہ اگر گھر کے دروازے بند کر لے تو کیا رشتہ نبھانے کے لیے دیوار پھلانگ کے جائیں۔۔۔۔۔؟
اپنی معصوم بچوں کو ٹاکسک لوگوں کی بھینٹ نا چڑھائیں ان کی منفی تسکین کا باعث نا بنائیں۔
بچوں کو بالکل ڈی گریڈ نا کریں۔
ان کو کہیں وہ خود فیصلہ کریں اگر وہ خود کمفرٹیبل نہیں ہیں تو مت جائیں مت ساتھ کھیلیں ہمیں اپنے بچوں کو ٹاسک لوگوں سے پیچھے ہٹ جانا بھی سیکھانا چاہیے۔
روز مرہ میں قریبی مگر ٹاکسک رشتوں سے فاصلہ اس لیے بھی ضروری ہے تاکہ خاص خاص خوشی غمی میں ایک ساتھ کھڑے ہو سکیں ورنہ یہ چھوٹی چھوٹی باتیں اس قدر دل میلا کرتی ہیں کہ ایک دن ہم نا خوشی کے رہتے ہیں نا غم کے۔
دوسرا یہ کہ بچوں کو سمجھانا چاہیے عزت وہ نہیں ہوتی جو دوسرے ہماری کرتے ہیں دوسرے تو صرف اپنا آپ شو کرتے ہیں عزت وہ ہوتی ہے جو ہم خود اپنی کرتے ہیں ہمیں خود کو اپنی نظر میں عزت دار بنانا ہے کبھی اپنی ہی نظروں سے گر جانے والا عمل نہیں کرنا دوسرے اپنی تربیت اور ذہنیت کے مطابق عمل کرتے ہیں ہمارے کردار کے مطابق نہیں۔
اس لیے عزت کا پیمانہ دوسروں کے ہاتھ میں نہیں ہے جو دوسروں کو اپنے تئیں بے عزت کر رہے ہوتے ہیں دراصل وہ خود عزت دار نہیں ہوتے وہ خود اپنی نظروں میں بے عزت ہوتے ہیں انسان دوسرے کو وہی کچھ دیتا ہے جو اس کے پاس ہوتا ہے جس کے پاس خود عزت کا بحران ہو وہ دوسرے کو عزت کیا دے گا۔
جویریہ ساجد
انتخاب: احمد بن نذر
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــ
واٹس ایپ:
https://chat.whatsapp.com/Db588KoA6AcKOVBGxdPSvZ
ٹیلی گرام:
t.me/CutPiece
فیسبک:
https://www.facebook.com/fbcutpiece/
انسٹاگرام:
https://instagram.com/cut_piece_?igshid=YmMyMTA2M2Y
WhatsApp.com
📃📑کَٹ پِیس📜📄 (1)
WhatsApp Group Invite
"چاچا جی! دعا کرنا آج بارش نہ ہو۔" ابو جائے نماز پر کھڑے ہوئے تو میری کزن نے آسمان پہ چھاتے بادل دیکھ کر کہا۔ کزن کے بھائی کی شادی تھی اور اس زمانے میں اکثر شادیاں ٹینٹ لگا کر کھلے میدان میں کی جاتی تھیں۔
"چاچا جی! لگتا ہے آپ کی دعا قبول ہو گئی اور بارش نہیں ہوئی۔" رخصتی کے کے بعد کزن نے خوشی سے ابو سے کہا۔
"الحمدللہ۔۔۔ میں نے دعا کی تھی کہ شادی خیریت سے ہو جائے، کسی قسم کی بد مزگی نہ ہو۔" ابو ہمیشہ جامع دعا مانگنے کے حق میں ہیں۔
میرے میٹرک کے امتحان ہونے والے تھے جب امی ابو حج پہ گئے۔ صرف ایک دعا کہی تھی کہ میٹرک میں اچھے نمبر آ جائیں۔
"ابو آپ نے میرے لیے دعا مانگی کہ میرا میٹرک کا امتحان اچھا ہو جائے۔" مجھے یاد ہے میں نے واپسی پہ ابو سے پوچھا تھا۔
"نہیں ۔۔۔ میں نے دعا مانگی کہ دنیا اور آخرت کے تمام امتحانات میں کامیاب ہو جاؤ۔" اس وقت دل بڑا خراب ہوا کہ خاص طور پر میٹرک کی کیوں نہیں مانگی۔ بعد میں سمجھ آیا کہ میٹرک تو کوئی چیز ہی نہیں۔
امی ہمیشہ کہتی ہیں کہ کوئی دعا مانگنی ہو تو سیدھا مدعے کی بات کرو۔ اللہ کو راستے نہ بتایا کرو کہ اللہ کرے پیپر میں یہ سوال آ جائے کیونکہ یہ مجھے یاد ہے۔ بلکہ مانگو پیپر میں نمبر اچھے آئیں۔
یا یہ کہ فلاں کھلاڑی آؤٹ نہ ہو، اس اوور میں چھکا لگ جائے وغیرہ ۔ راستہ کیوں بتانا؟ سیدھی دعا مانگو کہ میچ جیت جائیں۔
ہماری عقل بہت محدود ہے۔ ہماری دعائیں ہر پہلو کا احاطہ نہیں کر پاتی۔
چھوٹے چھوٹے مسائل کی دعا بھی مانگنی چاہیے۔ ہر لمحہ، ہر پل ہر مسئلے کا حل اللہ سے ہی مانگیں۔
مگر ساتھ کوشش ہونی چاہیے کہ قرآنی اور مسنون دعاؤں کو بھی روز کی دعاؤں میں شامل رکھیں۔
جویریہ صدیقی
انتخاب: احمد بن نذر
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــ
واٹس ایپ:
https://chat.whatsapp.com/Db588KoA6AcKOVBGxdPSvZ
ٹیلی گرام:
t.me/CutPiece
فیسبک:
https://www.facebook.com/fbcutpiece/
انسٹاگرام:
https://instagram.com/cut_piece_?igshid=YmMyMTA2M2Y
"چاچا جی! لگتا ہے آپ کی دعا قبول ہو گئی اور بارش نہیں ہوئی۔" رخصتی کے کے بعد کزن نے خوشی سے ابو سے کہا۔
"الحمدللہ۔۔۔ میں نے دعا کی تھی کہ شادی خیریت سے ہو جائے، کسی قسم کی بد مزگی نہ ہو۔" ابو ہمیشہ جامع دعا مانگنے کے حق میں ہیں۔
میرے میٹرک کے امتحان ہونے والے تھے جب امی ابو حج پہ گئے۔ صرف ایک دعا کہی تھی کہ میٹرک میں اچھے نمبر آ جائیں۔
"ابو آپ نے میرے لیے دعا مانگی کہ میرا میٹرک کا امتحان اچھا ہو جائے۔" مجھے یاد ہے میں نے واپسی پہ ابو سے پوچھا تھا۔
"نہیں ۔۔۔ میں نے دعا مانگی کہ دنیا اور آخرت کے تمام امتحانات میں کامیاب ہو جاؤ۔" اس وقت دل بڑا خراب ہوا کہ خاص طور پر میٹرک کی کیوں نہیں مانگی۔ بعد میں سمجھ آیا کہ میٹرک تو کوئی چیز ہی نہیں۔
امی ہمیشہ کہتی ہیں کہ کوئی دعا مانگنی ہو تو سیدھا مدعے کی بات کرو۔ اللہ کو راستے نہ بتایا کرو کہ اللہ کرے پیپر میں یہ سوال آ جائے کیونکہ یہ مجھے یاد ہے۔ بلکہ مانگو پیپر میں نمبر اچھے آئیں۔
یا یہ کہ فلاں کھلاڑی آؤٹ نہ ہو، اس اوور میں چھکا لگ جائے وغیرہ ۔ راستہ کیوں بتانا؟ سیدھی دعا مانگو کہ میچ جیت جائیں۔
ہماری عقل بہت محدود ہے۔ ہماری دعائیں ہر پہلو کا احاطہ نہیں کر پاتی۔
چھوٹے چھوٹے مسائل کی دعا بھی مانگنی چاہیے۔ ہر لمحہ، ہر پل ہر مسئلے کا حل اللہ سے ہی مانگیں۔
مگر ساتھ کوشش ہونی چاہیے کہ قرآنی اور مسنون دعاؤں کو بھی روز کی دعاؤں میں شامل رکھیں۔
جویریہ صدیقی
انتخاب: احمد بن نذر
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــ
واٹس ایپ:
https://chat.whatsapp.com/Db588KoA6AcKOVBGxdPSvZ
ٹیلی گرام:
t.me/CutPiece
فیسبک:
https://www.facebook.com/fbcutpiece/
انسٹاگرام:
https://instagram.com/cut_piece_?igshid=YmMyMTA2M2Y
WhatsApp.com
📃📑کَٹ پِیس📜📄 (1)
WhatsApp Group Invite
" نوکری نہیں چاہیے”
آج جو شخص میری داڑھی بنا رہا تھا وہ کم عمر لڑکا نہم جماعت کا طالب علم تھا۔ عید کے دن بھی اس عمر میں کام کرنے کی آخر کیا وجہ تھی؟ بالآخر میں نے گفتگو کرتے ہوئے پوچھا " یہ آپ کا شوق ہے یا پھر کوئی مجبوری ؟" ۔ کہنے لگا کہ شوق بھی ہے اور مجبوری بھی ہے۔ میں اپنی تعلیم جاری رکھنا چاہتا تھا مگر ہمارے پاس وسائل نہیں تھے۔ یوں میں نے پارٹ ٹائم یہ والا کام شروع کر دیا مجھے ابھی چھ ماہ ہوئے ہیں۔ شروع میں سو یا ڈیڑھ سو روپے روزانہ مل جاتے تھے اور میں سکول کے بعد یہاں آ جاتا تھا۔ اب میں پانچ سو یا سات سو روپے روزانہ گھر لے کر جاتا ہوں اور جب پیسے آتے ہیں تو شوق خود ہی بن جاتا ہے ۔ ہاں جانتا ہوں کہ آج عید ہے لیکن رات کو آٹھ سو یا ایک ہزار روپے لے کر جاؤں گا تو پانچ سو روپے اماں کو دوں گا وہ خوش ہو جائیں گی اور دو تین گھنٹے باہر دوستوں کے ساتھ گزاروں گا میرے پاس بھی پیسے ہوں گے تھکاوٹ خود ہی دور ہو جائے گی۔۔۔
مجھے اب اس کام سے بھی محبت ہے کیوں کہ اسی کی بدولت میں نے اپنا تعلیم حاصل کرنے کا خواب بکھرنے سے بچایا ہے۔ اب میں تعلیم بھی حاصل کر رہا ہوں اور پیسے بھی کما رہا ہوں۔ اماں کو پیسے دیتا ہوں تو گھر میں آسانیاں آتی ہیں اور میری اپنی پاکٹ بھی خالی نہیں ہے الحمدللہ کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں کسی کا محتاج ہونے سے بچا لیا۔ تعلیم کو کتنا وقت دیتے ہیں؟ " دو گھنٹے روزانہ، یہ بہت ہیں۔ میں سکول کے سارے ٹیسٹ تیار کر لیتا ہوں۔ میرا رزلٹ بھی اچھا ہی آتا ہے" ۔ ابھی آپ نہم جماعت میں ہیں تو میٹرک کے بعد کیا کریں گے ؟ " دو سال بعد تو میں بہت بڑا کاریگر بن جاؤں گا ان شاءاللہ ۔ جیسے جیسے پیسے زیادہ ملنا شروع ہو جائیں گے تو میں پیسے جمع کروں گا کمیٹیاں ڈال کر پیسے جوڑ کر انٹر میں داخلہ لینے سے پہلے اپنی ایک چھوٹی سی دکان لگا لوں گا یہاں پھر دو تین شاگرد تیار کروں گا تاکہ تعلیم میں زیادہ وقت لگے تو مجھے کم از کم پیسے آتے رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ میری مدد ضرور کرے گا ۔ ان شاءاللہ
واہ شہزادے۔ واہ ماشاءاللہ آپ تو کوئی بہت بڑے ٹرینر معلوم ہوتے ہیں۔ ہم جیسے تو آج تک گفتگو کی کشتی میں سوار ہیں جب کہ آپ اس کشتی سے قدم نکال کر عمل کی دنیا میں داخل ہو چکے ہیں اور جو شخص عمل کی دنیا میں داخل ہو جائے اس کے مقابل کوئی کھڑا نہیں ہو سکتا۔ آپ کا یہی جذبہ اور سوچ رہی تو آپ ایک عظیم شخصیت بنیں گے ان شاءاللہ ۔ اور آپ کے انداز سے ہی معلوم ہو رہا تھا کہ آپ تعلیم یافتہ اور باشعور ہیں ۔۔۔ وہ خاموشی سے سنتا رہا اور خوشی اس کے چہرے سے عیاں ہو رہی تھی۔۔
اچھا کتنے پیسے ہوئے ؟ " سر ۔ ایک سو پچاس روپے" ۔ اور اس میں آپ کے کتنے ہیں ؟ " میرے پچاس روپے ہیں اس میں" ۔۔ صرف پچاس روپے ؟ " جی ابھی میں کام سیکھ رہا ہوں نا تو شاید آپ کے کام میں بھی کوئی کمی رہ گئی ہو" ۔ نہیں شہزادے ۔ آپ کے ہاتھوں میں مہارت کے ساتھ ساتھ جادو بھی ہے ماشاءاللہ
باقی سیکھنا جاری رکھیں اور بہت بڑے کاریگر بننے کا سفر طے کریں۔ میں نے رقم ادا کرنے کے بعد تین سو روپے اضافی دیئے تو انکار کر دیا۔ ۔۔
" یار ۔۔ آج میں گھر سے دور ہوں ۔ ہر عید پر چھوٹی بہن کو عیدی دیتا ہوں ۔ اس بار گھر نہیں ہوں تو یہ نہ تو کوئی ٹپ ہے نہ احسان ہے ۔ چھوٹی بہن نہیں تو چھوٹا بھائی سہی ۔ چھوٹا بھائی سمجھ کر عیدی دے رہا ہوں مگر پہلے عید ملیں گے" ۔ اس نے گھٹ کر جپھی ڈالی اور اپنی عیدی وصول کرتے ہوئے سمائل دی اور میں اس عیدی کے بدلے سکون جیسا انمول تحفہ لے کر واپس آ گیا ۔۔۔۔
اس نوجوان سے آپ بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔ مجبوری میں بھی پیشن کو ساتھ لے کر چلنے کا ہنر، مجبوری کو شوق بنا کر خوشی خوشی کام کرنے کا ہنر ، تعلیم کے ساتھ سکلز ، غربت میں آسانیاں پیدا کرنے کے طریقے ، مستقبل میں آگے بڑھنے کا ہنر اور جذبہ ، محنت کی عظمت ، بڑے خواب مگر گفتگو نہیں عمل کے ساتھ، ۔۔ آج اس ملک کو ایسے ہی نوجوانوں کی ضرورت ہے ۔ اپنے بچوں کو تعلیم کے ساتھ سکلز سیکھنے کی طرف متوجہ کریں۔ تعلیم بھی ہو اور ہنر بھی تو کیا کہنے ۔
محبتیں سلامت رہیں!
وسیم قریشی
انتخاب: احمد بن نذر
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــ
واٹس ایپ:
https://chat.whatsapp.com/Db588KoA6AcKOVBGxdPSvZ
ٹیلی گرام:
t.me/CutPiece
فیسبک:
https://www.facebook.com/fbcutpiece/
انسٹاگرام:
https://instagram.com/cut_piece_?igshid=YmMyMTA2M2Y
آج جو شخص میری داڑھی بنا رہا تھا وہ کم عمر لڑکا نہم جماعت کا طالب علم تھا۔ عید کے دن بھی اس عمر میں کام کرنے کی آخر کیا وجہ تھی؟ بالآخر میں نے گفتگو کرتے ہوئے پوچھا " یہ آپ کا شوق ہے یا پھر کوئی مجبوری ؟" ۔ کہنے لگا کہ شوق بھی ہے اور مجبوری بھی ہے۔ میں اپنی تعلیم جاری رکھنا چاہتا تھا مگر ہمارے پاس وسائل نہیں تھے۔ یوں میں نے پارٹ ٹائم یہ والا کام شروع کر دیا مجھے ابھی چھ ماہ ہوئے ہیں۔ شروع میں سو یا ڈیڑھ سو روپے روزانہ مل جاتے تھے اور میں سکول کے بعد یہاں آ جاتا تھا۔ اب میں پانچ سو یا سات سو روپے روزانہ گھر لے کر جاتا ہوں اور جب پیسے آتے ہیں تو شوق خود ہی بن جاتا ہے ۔ ہاں جانتا ہوں کہ آج عید ہے لیکن رات کو آٹھ سو یا ایک ہزار روپے لے کر جاؤں گا تو پانچ سو روپے اماں کو دوں گا وہ خوش ہو جائیں گی اور دو تین گھنٹے باہر دوستوں کے ساتھ گزاروں گا میرے پاس بھی پیسے ہوں گے تھکاوٹ خود ہی دور ہو جائے گی۔۔۔
مجھے اب اس کام سے بھی محبت ہے کیوں کہ اسی کی بدولت میں نے اپنا تعلیم حاصل کرنے کا خواب بکھرنے سے بچایا ہے۔ اب میں تعلیم بھی حاصل کر رہا ہوں اور پیسے بھی کما رہا ہوں۔ اماں کو پیسے دیتا ہوں تو گھر میں آسانیاں آتی ہیں اور میری اپنی پاکٹ بھی خالی نہیں ہے الحمدللہ کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں کسی کا محتاج ہونے سے بچا لیا۔ تعلیم کو کتنا وقت دیتے ہیں؟ " دو گھنٹے روزانہ، یہ بہت ہیں۔ میں سکول کے سارے ٹیسٹ تیار کر لیتا ہوں۔ میرا رزلٹ بھی اچھا ہی آتا ہے" ۔ ابھی آپ نہم جماعت میں ہیں تو میٹرک کے بعد کیا کریں گے ؟ " دو سال بعد تو میں بہت بڑا کاریگر بن جاؤں گا ان شاءاللہ ۔ جیسے جیسے پیسے زیادہ ملنا شروع ہو جائیں گے تو میں پیسے جمع کروں گا کمیٹیاں ڈال کر پیسے جوڑ کر انٹر میں داخلہ لینے سے پہلے اپنی ایک چھوٹی سی دکان لگا لوں گا یہاں پھر دو تین شاگرد تیار کروں گا تاکہ تعلیم میں زیادہ وقت لگے تو مجھے کم از کم پیسے آتے رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ میری مدد ضرور کرے گا ۔ ان شاءاللہ
واہ شہزادے۔ واہ ماشاءاللہ آپ تو کوئی بہت بڑے ٹرینر معلوم ہوتے ہیں۔ ہم جیسے تو آج تک گفتگو کی کشتی میں سوار ہیں جب کہ آپ اس کشتی سے قدم نکال کر عمل کی دنیا میں داخل ہو چکے ہیں اور جو شخص عمل کی دنیا میں داخل ہو جائے اس کے مقابل کوئی کھڑا نہیں ہو سکتا۔ آپ کا یہی جذبہ اور سوچ رہی تو آپ ایک عظیم شخصیت بنیں گے ان شاءاللہ ۔ اور آپ کے انداز سے ہی معلوم ہو رہا تھا کہ آپ تعلیم یافتہ اور باشعور ہیں ۔۔۔ وہ خاموشی سے سنتا رہا اور خوشی اس کے چہرے سے عیاں ہو رہی تھی۔۔
اچھا کتنے پیسے ہوئے ؟ " سر ۔ ایک سو پچاس روپے" ۔ اور اس میں آپ کے کتنے ہیں ؟ " میرے پچاس روپے ہیں اس میں" ۔۔ صرف پچاس روپے ؟ " جی ابھی میں کام سیکھ رہا ہوں نا تو شاید آپ کے کام میں بھی کوئی کمی رہ گئی ہو" ۔ نہیں شہزادے ۔ آپ کے ہاتھوں میں مہارت کے ساتھ ساتھ جادو بھی ہے ماشاءاللہ
باقی سیکھنا جاری رکھیں اور بہت بڑے کاریگر بننے کا سفر طے کریں۔ میں نے رقم ادا کرنے کے بعد تین سو روپے اضافی دیئے تو انکار کر دیا۔ ۔۔
" یار ۔۔ آج میں گھر سے دور ہوں ۔ ہر عید پر چھوٹی بہن کو عیدی دیتا ہوں ۔ اس بار گھر نہیں ہوں تو یہ نہ تو کوئی ٹپ ہے نہ احسان ہے ۔ چھوٹی بہن نہیں تو چھوٹا بھائی سہی ۔ چھوٹا بھائی سمجھ کر عیدی دے رہا ہوں مگر پہلے عید ملیں گے" ۔ اس نے گھٹ کر جپھی ڈالی اور اپنی عیدی وصول کرتے ہوئے سمائل دی اور میں اس عیدی کے بدلے سکون جیسا انمول تحفہ لے کر واپس آ گیا ۔۔۔۔
اس نوجوان سے آپ بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔ مجبوری میں بھی پیشن کو ساتھ لے کر چلنے کا ہنر، مجبوری کو شوق بنا کر خوشی خوشی کام کرنے کا ہنر ، تعلیم کے ساتھ سکلز ، غربت میں آسانیاں پیدا کرنے کے طریقے ، مستقبل میں آگے بڑھنے کا ہنر اور جذبہ ، محنت کی عظمت ، بڑے خواب مگر گفتگو نہیں عمل کے ساتھ، ۔۔ آج اس ملک کو ایسے ہی نوجوانوں کی ضرورت ہے ۔ اپنے بچوں کو تعلیم کے ساتھ سکلز سیکھنے کی طرف متوجہ کریں۔ تعلیم بھی ہو اور ہنر بھی تو کیا کہنے ۔
محبتیں سلامت رہیں!
وسیم قریشی
انتخاب: احمد بن نذر
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــ
واٹس ایپ:
https://chat.whatsapp.com/Db588KoA6AcKOVBGxdPSvZ
ٹیلی گرام:
t.me/CutPiece
فیسبک:
https://www.facebook.com/fbcutpiece/
انسٹاگرام:
https://instagram.com/cut_piece_?igshid=YmMyMTA2M2Y
Telegram
📃📑کَٹ پِیس📜📄
میگزین،اخبار،کتاب اور سوشل میڈیا سے منتخب دل چسپ وکارآمد تحریریں،اشعار،لطائف،ون لائنرز،اقوال،کالمز اور کوٹیشنز!
@AlifBNoon
@AlifBNoon
دوران ، انٹرویو ۔۔
آپ اس جاب کے لئے کتنی سیلری کی توقع رکھتی ہیں ۔۔؟
کم از کم نوے ہزار ۔۔۔ خاتون نے پر اعتماد انداز میں جواب دیا ۔۔
کسی کھیل سے دلچسپی ؟؟؟
باس نے پوچھا ۔۔
جی ہاں ۔۔ شطرنج کھیلتی ہوں ۔۔
آہاں ۔۔چلیں اسی حوالے سے بات کرتے ہیں ۔۔
شطرنج کی کون سی گوٹی آپکو زیادہ پسند ہے ۔۔۔ یا یوں کہہ لیں کہ کس گوٹی سے متاثر ہیں ۔۔۔
خاتون نے مسکراتے ہوئے جواب دیا ۔ وزیر ۔۔
زبردست ،لیکن کیوں ؟ جبکہ میرے خیال میں گھوڑے کی چال سب سے منفرد ہے ۔۔ باس نے تجسس سے پوچھا ۔۔
بیشک ۔لیکن میں سمجھتی ہوں کہ وزیر میں وہ تمام خوبیاں شامل ہیں جوسب گوٹیوں میں الگ الگ سے پائی جاتی ہیں ۔ وہ پیادے کی طرح ایک قدم چل کر بادشاہ کو بچا لیتا ہے اور کبھی فيلے کی طرح ترچھا چل پڑتا ہے اور کبھی توپ بن کر بچا لیتا ہے ۔
ویری انٹرسٹڈ۔۔ باس نے متاثرکن انداز میں پوچھا ۔ بادشاہ کے متعلق آپکی کیا رائے ہے۔؟؟
سر ، بادشاہ کو میں سب سے زیادہ کمزور سمجھتی ہوں ،کیوں کہ وہ خود کو بچانے میں صرف ایک قدم چل سکتا ہے جبکہ وزیر اسے چاروں اطراف سے بچا سکتا ہے ۔۔ خاتون کا جواب ۔
نہایت متاثر کن ۔۔ چلیں یہ بتائیے ان تمام گوٹیوں میں سے آپ خود کو کون سی گوٹی تصور کرتی ہیں ۔۔
خاتون نے جھٹ سے جواب دیا ۔۔
بادشاہ ۔۔
لیکن وہ تو آپکے مطابق مجبور ہوتا ہے ،خود کو بچا نہیں پاتا اور وزیر کا مرہون منت ہوتا ہے ۔۔ باس نے حیرانی سے پوچھا ۔۔۔
جی ہاں ،میرے مطابق یہی ہے ۔ میں بادشاہ ہوں اور وزیر میرے شوہر جو میری حفاظت مجھ سے بڑھ کر، کر سکتے ھیں ۔۔۔
ویری نائس ۔ انٹرویو لینے والے نے باقاعدہ ہلکے ہاتھوں تالی بجاتے ہوئے کہا ۔۔
اچھا ایک آخری سوال ، آپ یہ جاب کیوں کرنا چاہتی ہیں ۔ باس نے دلچسب انٹرویو کا
احتتام کرتے ہوئے پوچھا ۔۔
خاتون نے بھرائی ہوئی آواز میں جواب دیا ۔۔۔
کیوں کہ میرا وزیر اب اس دنیا میں نہیں رہا ۔۔
(نقل و چسپاں)
انتخاب: احمد بن نذر
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــ
واٹس ایپ:
https://chat.whatsapp.com/Db588KoA6AcKOVBGxdPSvZ
ٹیلی گرام:
t.me/CutPiece
فیسبک:
https://www.facebook.com/fbcutpiece/
انسٹاگرام:
https://instagram.com/cut_piece_?igshid=YmMyMTA2M2Y
آپ اس جاب کے لئے کتنی سیلری کی توقع رکھتی ہیں ۔۔؟
کم از کم نوے ہزار ۔۔۔ خاتون نے پر اعتماد انداز میں جواب دیا ۔۔
کسی کھیل سے دلچسپی ؟؟؟
باس نے پوچھا ۔۔
جی ہاں ۔۔ شطرنج کھیلتی ہوں ۔۔
آہاں ۔۔چلیں اسی حوالے سے بات کرتے ہیں ۔۔
شطرنج کی کون سی گوٹی آپکو زیادہ پسند ہے ۔۔۔ یا یوں کہہ لیں کہ کس گوٹی سے متاثر ہیں ۔۔۔
خاتون نے مسکراتے ہوئے جواب دیا ۔ وزیر ۔۔
زبردست ،لیکن کیوں ؟ جبکہ میرے خیال میں گھوڑے کی چال سب سے منفرد ہے ۔۔ باس نے تجسس سے پوچھا ۔۔
بیشک ۔لیکن میں سمجھتی ہوں کہ وزیر میں وہ تمام خوبیاں شامل ہیں جوسب گوٹیوں میں الگ الگ سے پائی جاتی ہیں ۔ وہ پیادے کی طرح ایک قدم چل کر بادشاہ کو بچا لیتا ہے اور کبھی فيلے کی طرح ترچھا چل پڑتا ہے اور کبھی توپ بن کر بچا لیتا ہے ۔
ویری انٹرسٹڈ۔۔ باس نے متاثرکن انداز میں پوچھا ۔ بادشاہ کے متعلق آپکی کیا رائے ہے۔؟؟
سر ، بادشاہ کو میں سب سے زیادہ کمزور سمجھتی ہوں ،کیوں کہ وہ خود کو بچانے میں صرف ایک قدم چل سکتا ہے جبکہ وزیر اسے چاروں اطراف سے بچا سکتا ہے ۔۔ خاتون کا جواب ۔
نہایت متاثر کن ۔۔ چلیں یہ بتائیے ان تمام گوٹیوں میں سے آپ خود کو کون سی گوٹی تصور کرتی ہیں ۔۔
خاتون نے جھٹ سے جواب دیا ۔۔
بادشاہ ۔۔
لیکن وہ تو آپکے مطابق مجبور ہوتا ہے ،خود کو بچا نہیں پاتا اور وزیر کا مرہون منت ہوتا ہے ۔۔ باس نے حیرانی سے پوچھا ۔۔۔
جی ہاں ،میرے مطابق یہی ہے ۔ میں بادشاہ ہوں اور وزیر میرے شوہر جو میری حفاظت مجھ سے بڑھ کر، کر سکتے ھیں ۔۔۔
ویری نائس ۔ انٹرویو لینے والے نے باقاعدہ ہلکے ہاتھوں تالی بجاتے ہوئے کہا ۔۔
اچھا ایک آخری سوال ، آپ یہ جاب کیوں کرنا چاہتی ہیں ۔ باس نے دلچسب انٹرویو کا
احتتام کرتے ہوئے پوچھا ۔۔
خاتون نے بھرائی ہوئی آواز میں جواب دیا ۔۔۔
کیوں کہ میرا وزیر اب اس دنیا میں نہیں رہا ۔۔
(نقل و چسپاں)
انتخاب: احمد بن نذر
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــ
واٹس ایپ:
https://chat.whatsapp.com/Db588KoA6AcKOVBGxdPSvZ
ٹیلی گرام:
t.me/CutPiece
فیسبک:
https://www.facebook.com/fbcutpiece/
انسٹاگرام:
https://instagram.com/cut_piece_?igshid=YmMyMTA2M2Y
Telegram
📃📑کَٹ پِیس📜📄
میگزین،اخبار،کتاب اور سوشل میڈیا سے منتخب دل چسپ وکارآمد تحریریں،اشعار،لطائف،ون لائنرز،اقوال،کالمز اور کوٹیشنز!
@AlifBNoon
@AlifBNoon
پچیس لفظی کہانیاں لکھنے والے اردو کے اکلوتے اور پہلے کہانی کار احمد بن نذر کی پچیس لفظی کہانیاں سوشل میڈیا پر پسندیدگی حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ ملک و بیرون ملک کے جن اخبارات،رسائل و جرائد کا حصہ بھی بنتی رہیں ان میں:
روزنامہ “راشٹریہ سہارا”(ممبئی)،ہفت روزہ “بچوں کا اسلام” (پاکستان)،روزنامہ “پندار”(پٹنہ)،ماہنامہ “ھادیہ”ای-میگزین،نئے چہرے منتخب افسانے،اور ماہنامہ “الفاظ ہند” کے علاوہ بھی متعدد نام شامل ہیں۔
اب 2025ء کے جاتے جاتے 125 پچیس لفظی کہانیاں کتابی صورت میں شائع ہو رہی ہیں۔
آرٹ پیپر پر خوب صورت تصاویر کے ساتھ چھپنے والی اس کتاب کی قیمت یوں تو 225₹ ہے،البتہ 15 دسمبر 2025ء سے پہلے پہلے پیشگی بکنگ کی صورت میں مفت ڈیلیوری کی سہولت کے ساتھ ایک عدد محض 150₹،دو عدد 250₹ اور تین عدد 300₹ میں دست یاب ہے۔
پیشگی بکنگ کےلیے بغیر کسی تاخیر کے اس لنک پر کلک کیجیے!:
https://wa.me/919471713294
-ناشر
روزنامہ “راشٹریہ سہارا”(ممبئی)،ہفت روزہ “بچوں کا اسلام” (پاکستان)،روزنامہ “پندار”(پٹنہ)،ماہنامہ “ھادیہ”ای-میگزین،نئے چہرے منتخب افسانے،اور ماہنامہ “الفاظ ہند” کے علاوہ بھی متعدد نام شامل ہیں۔
اب 2025ء کے جاتے جاتے 125 پچیس لفظی کہانیاں کتابی صورت میں شائع ہو رہی ہیں۔
آرٹ پیپر پر خوب صورت تصاویر کے ساتھ چھپنے والی اس کتاب کی قیمت یوں تو 225₹ ہے،البتہ 15 دسمبر 2025ء سے پہلے پہلے پیشگی بکنگ کی صورت میں مفت ڈیلیوری کی سہولت کے ساتھ ایک عدد محض 150₹،دو عدد 250₹ اور تین عدد 300₹ میں دست یاب ہے۔
پیشگی بکنگ کےلیے بغیر کسی تاخیر کے اس لنک پر کلک کیجیے!:
https://wa.me/919471713294
-ناشر