📃📑کَٹ پِیس📜📄
865 subscribers
27 photos
2.02K links
میگزین،اخبار،کتاب اور سوشل میڈیا سے منتخب دل چسپ وکارآمد تحریریں،اشعار،لطائف،ون لائنرز،اقوال،کالمز اور کوٹیشنز!
@AlifBNoon
Download Telegram
ایک وقت تھا مرد کو شرم آتی تھی کہ اس کی بیوی نوکری کرے اسے فخر ہوتا تھا کہ وہ کما رہا ہے اور بیوی کو بھی بہت مان ہوتا تھا
لیکن پھر وقت کے ساتھ ساتھ سوچ بدلی
مہنگائی کے معاشرے پر اثرات پڑے اور کچھ مغرب کو دیکھ کر لوگوں نے اپنی بیٹیوں کو گھر سے کمانے کیلئے نکالا،
بعض لوگوں کی مجبوری تھی
کیونکہ ان کا بیٹا کوئی نہیں تھا
وہاں بیٹی ہی بیٹا بن جاتی ہے ،
اب ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ مرد ذمہ داری کا مظاہرہ کرتا اور عورت کو گھر کے باہر بھی پروٹیکشن دیتا
لیکن ہمارے معاشرے میں گھر سے باہر قدم رکھنے والی لڑکی کو شکار سمجھا جانے لگا،
لڑکیوں کے آگے بڑھنے کا اثر یہ ہوا کہ شادی کیلئے ان لڑکیوں کی مانگ بڑھ گئی جو نوکریاں کرتی ہیں
اور نقصان گھر میں بیٹھنے والی لڑکی کا ہوا
وہ بے چاری گھر میں بیٹھی بیٹھی بوڑھی ہونے لگی،
ایک نقصان یہ بھی ہوا کہ مرد بھلے بیوی کو نوکری کرنے دیتا ہے وہ ساتھ میں یہ بھی چاہتا ہے کہ بیوی گھر کی ذمہ داری بھی پوری کرے
یعنی 8 گھنٹے باہر ڈیوٹی اور باقی دن گھر ڈیوٹی اس کی وجہ سے گھر میں جھگڑے شروع ہوگئے
اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ عورت جو پہلے مرد پر انحصار کرتی تھی
جب کمانے لگی تو اتنی نڈر بھی ہوگئی کہ اس نے طلاق کا ڈر ہی نکال دیا
ہمارے معاشرے میں ایسی لڑکیاں اب عام ہیں جو نوکری بھی کرتی ہیں خودمختار ہیں اور طلاق یافتہ بھی ہیں،
مردوں کا اس میں کافی قصور ہے وہ یہ سوچتا ہی نہیں کہ عورت کمائے بھی گھر چلانے میں حصہ ڈالے اور پھر گھر کے کام بھی کرے وہ بھی انسان ہے کوئی مشین تو نہیں
لیکن مردوں کی اکثریت کی تربیت ہی ایسی ہوئی ہے کہ وہ خود کو بدلتے نہیں اور جو بدلتے ہیں ان کو ایسے جاہل لوگ زن مرید کا نام دیدیتے ہیں،
یاد رکھیں میاں بیوی کے تعلق میں عزت سب سے اہم چیز ہے،
عورت کی عزت اور احترام ہی ایک مرد کا کام ہے، اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی بیوی آپ کا ہاتھ بٹائے تو اس کو بھی تھکن اتارنے کا وقت دیں
اسے انسان ہی سمجھیں،
عورت کو اللہ نے دل کا بہت ہی اچھا بنایا ہے آپ پیار محبت سے بات کریں گھر جنت بن جائے گا
یہ دولت یہاں ہی رہ جانی ہے رشتوں کی قدر کریں..!!
(نقل وچسپاں)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
انتخاب از ایڈمن: “الف،ب،نون”

واٹس ایپ:
https://chat.whatsapp.com/CBzhqJzdoyx0mrMIYvcVVe
ٹیلی گرام:
t.me/CutPiece
“آپ کی ترقی آپ کے ہاتھ میں ہے!!”


ایک کمپنی کا ایک ملازم اپنے دفتر پہنچا تو اس کی نگاہ دفتر کے گیٹ پر لگے ہوئے ایک نوٹس پر پڑی، جس پر لکھا تھا:

"جو شخص کمپنی میں آپ کی ترقی اور بہتری میں رکاوٹ تھا، کل رات اس کا انتقال ہو گیا ہے۔ آپ سے گزارش ہے کہ اس کی آخری رسومات اور جنازے کے لیے کانفرنس ہال میں تشریف لے آئیں، جہاں اس کی میت رکھی ہوئی ہے۔"

یہ پڑھتے ہی وہ اداس ہو گیا کہ اس کا کوئی ساتھی ہمیشہ کے لیے اس سے جدا ہو گیا ہے، لیکن چند لمحوں بعد اس پر تجسس غالب آ گیا کہ آخر وہ شخص کون تھا، جو اس کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ تھا۔ اس تجسس کو ساتھ لیے وہ جلدی سے کانفرس ہال میں پہنچا تو وہاں اس کے دفتر کے باقی سارے ساتھی بھی اسی نوٹس کو پڑھ کر آئے ہوئے تھے۔ سب حیران تھے کہ آخر یہ شخص کون تھا؟!
کانفرس ہال کے باہر میت کو دیکھنے کے لیے لوگوں کا اس قدر ہجوم ہو گیا کہ سکیورٹی گارڈ کو یہ حکم جاری کرنا پڑا کہ سب لوگ ایک ایک کر کے اندر جائیں اور میت کا چہرہ دیکھ لیں۔ سب ملازمین ایک ایک کر کے اندر جانے لگے۔ جو بھی اندر جاتا اور میت کے چہرے سے کفن ہٹا کر اسے دیکھتا تو ایک لمحے کی لیے حیرت زدہ اور گنگ ہو کر رہ جاتا۔ اس کی زبان گویا تالو سے چپک جاتی۔ یوں لگتا گویا کسی نے اس کے دل پر گہری ضرب لگائی ہو۔ باری آنے پر وہ شخص بھی اندر گیا اور میت کے چہرے سے کپڑا ہٹا کر دیکھا تو اس کا حال بھی دوسروں جیسا ہی ہوا۔ کفن کے اندر ایک بڑا سا آئینہ رکھا ہوا ہے۔ اور اس کے ایک کونے پر لکھا تھا:

“دنیا میں ایک ہی شخص ہے، جو آپ کی صلاحتیوں کو محدود کر کے آپ کی ترقی میں رکاوٹ بن سکتا ہے اور وہ آپ خود ہیں۔ یاد رکھیے! آپ کی زندگی میں تبدیلی آپ کی کمپنی تبدیل ہونے سے، آپ کا باس تبدیل ہونے سے یا آپ کے دوست احباب تبدیل ہونے سے نہیں آتی۔ آپ کی زندگی میں تبدیلی تب آتی ہے، جب آپ اپنی صلاحیتوں پر اعتبار کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ ناممکن کو ممکن اور مشکلات کو چیلنج سمجھتے ہیں۔ اپنا تجزیہ کریں۔ اپنے آپ کو آزمائیں۔ مشکلات، نقصانات اور نا ممکنات سے گھبرانا چھوڑ دیں اور ایک فاتح کی طرح جیئں۔"
(نقل وچسپاں)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
انتخاب از ایڈمن: “الف،ب،نون”

واٹس ایپ:
https://chat.whatsapp.com/CBzhqJzdoyx0mrMIYvcVVe
ٹیلی گرام:
t.me/CutPiece
کسے خبر ہے کہ عمر بس اس پہ غور کرنے میں کٹ رہی ہے
کہ یہ اداسی ہمارے جسموں سے کس خوشی میں لپٹ رہی ہے

عجیب دکھ ہے ہم اس کے ہو کر بھی اس کو چھونے سے ڈر رہے ہیں
عجیب دکھ ہے ہمارے حصے کی آگ اوروں میں بٹ رہی ہے

میں اس کو ہر روز بس یہی ایک جھوٹ سننے کو فون کرتا
سنو یہاں کوئی مسئلہ ہے تمہاری آواز کٹ رہی ہے

مجھ ایسے پیڑوں کے سوکھنے اور سبز ہونے سے کیا کسی کو
یہ بیل شاید کسی مصیبت میں ہے جو مجھ سے لپٹ رہی ہے

یہ وقت آنے پہ اپنی اولاد اپنے اجداد بیچ دے گی
جو فوج دشمن کو اپنا سالار گروی رکھ کر پلٹ رہی ہے

سو اس تعلق میں جو غلط فہمیاں تھیں اب دور ہو رہی ہیں
رکی ہوئی گاڑیوں کے چلنے کا وقت ہے دھندھ چھٹ رہی ہے
تہذیب حافی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
انتخاب از ایڈمن: “الف،ب،نون”

واٹس ایپ:
https://chat.whatsapp.com/CBzhqJzdoyx0mrMIYvcVVe
ٹیلی گرام:
t.me/CutPiece
“ڈگری”

پروفیسر صاحب انتہائی اہم موضوع پر لیکچر دے رہے تھے، جیسے ہی آپ نے تختہ سیاہ پر کچھ لکھنے کیلئے رخ پلٹا کسی طالب علم بے سیٹی ماری۔
پروفیسر صاحب نے مڑ کر پوچھا کس نے سیٹی ماری ہے تو کوئی بھی جواب دینے پر آمادہ نا ہوا۔ آپ نے قلم بند کر کے جیب میں رکھا اور رجسٹر اٹھا کر چلتے ہوئے کہا؛ میرا لیکچر اپنے اختتام کو پہنچا اور بس آج کیلئے اتنا ہی کافی ہے۔
پھر انہوں نے تھوڑا سا توقف کیا، رجسٹر واپس رکھتے ہوئے کہا، چلو میں آپ کو ایک قصہ سناتا ہوں تاکہ پیریڈ کا وقت بھی پورا ہوجائے۔
کہنے لگے: رات میں نے سونے کی بڑی کوشش کی مگر نیند کوسوں دور تھی۔ سوچا جا کر کار میں پٹرول ڈلوا آتا ہوں تاکہ اس وقت پیدا ہوئی کچھ یکسانیت ختم ہو، سونے کا موڈ بنے اور میں صبح سویرے پیٹرول ڈلوانے کی اس زحمت سے بھی بچ جاؤں۔
پھر میں نے پیٹرول ڈلوا کر اُسی علاقے میں ہی وقت گزاری کیلئے ادھر اُدھر ڈرائیو شروع کردی۔
کافی مٹرگشت کے بعد گھر واپسی کیلئے کار موڑی تو میری نظر سڑک کے کنارے کھڑی ایک لڑکی پر پڑی، نوجوان اور خوبصورت تو تھی مگر ساتھ میں بنی سنوری ہوئی بھی، لگ رہا تھا کسی پارٹی سے واپس آ رہی ہے۔
میں نے کار ساتھ جا کر روکی اور پوچھا، کیا میں آپ کو آپ کے گھر چھوڑ دوں؟
کہنے لگی: اگر آپ ایسا کر دیں تو بہت مہربانی ہوگی، مجھے رات کے اس پہر سواری نہیں مل پا رہی۔
لڑکی اگلی سیٹ پر میرے ساتھ ہی بیٹھ گئی، گفتگو انتہائی مہذب اور سلجھی ہوئی کرتی تھی، ہر موضوع پر مکمل عبور اور ملکہ حاصل تھا، گویا علم اور ثقافت کا شاندار امتزاج تھی۔
میں جب اس کے بتائے ہوئے پتے ہر اُس کے گھر پہنچا تو اُس نے اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ اُس نے مجھ جیسا باشعور اور نفیس انسان نہیں دیکھا، اور اُس کے دل میں میرے لیئے پیار پیدا ہو گیا ہے۔
میں نے بھی اُسے صاف صاف بتاتے ہوئے کہا، سچ تو یہ ہے کہ آپ بھی ایک شاہکار خاتوں ہیں، مجھے بھی آپ سے انتہائی پیار ہو گیا ہے۔ ساتھ ہی میں نے اُسے بتایا کہ میں یونیوسٹی میں پروفیسر ہوں، پی ایچ ڈی ڈاکٹراور معاشرے کا مفید فرد ہوں۔ لڑکی نے میرا ٹیلیفون نمبر مانگا جو میں نے اُسے بلا چوں و چرا دیدیا۔
میری یونیورسٹی کا سُن کر اُس نے خوش ہوتے ہوئے کہا؛ میری آپ سے ایک گزارش ہے۔
میں نے کہا؛ گزارش نہیں، حکم کرو۔
کہنے لگی؛ میرا ایک بھائی آپ کی یونیوسٹی میں پڑھتا ہے، آپ سے گزارش ہے کہ اُس کا خیال رکھا کیجیئے۔
میں نے کہا؛ یہ تو کوئی بڑی بات نہیں ہے، آپ اس کا نام بتا دیں۔
کہنے لگی؛ میں اُس کا نام نہیں بتاتی لیکن آپ کو ایک نشانی بتاتی ہوں، آپ اُسے فوراً ہی پہچان جائیں گے۔
میں نے کہا؛ کیا ہے وہ خاص نشانی، جس سے میں اُسے پہچان لوں گا۔
کہنے لگی؛ وہ سیٹیاں مارنا بہت پسند کرتا ہے۔
پروفیسر صاحب کا اتنا کہنا تھا کہ کلاس کے ہر طالب علم کی نظر غیر ارادی طور پر اُس لڑکے کی طرف اُٹھ گئی جس نے سیٹی ماری تھی۔
پروفیسر صاحب نے اُس لڑکے کو مخاطب ہوتے ہوئے کہا، اُٹھ اوئے جانور، تو کیا سمجھتا ہے میں نے یہ پی ایچ ڈی کی ڈگری گھاس چرا کر لی ہے کیا؟
(نقل وچسپاں)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
انتخاب از ایڈمن: “مجاہد حسین پِہراوی”

واٹس ایپ:
https://chat.whatsapp.com/CBzhqJzdoyx0mrMIYvcVVe
ٹیلی گرام:
t.me/CutPiece
پی ڈی ایف کتاب بھی کوئی کتاب ہوتی ہے!!
نہ ہاتھوں میں اٹھائی جاسکے۔ نہ بانہوں میں بھینچ کر دل کے قریب لائی جا سکے۔
نہ سرورق پر کندہ الفاظ کے نشیب و فراز کو محسوس کیا جاسکے۔ نہ کتاب کے خال و خد کو چھو کر اُس کی خوشنمائی معلوم کی جاسکے۔
نہ اندرونی سر ورق پر اپنا نام آویزاں کیا جا سکے۔ نہ نرم و نازک اوراق کے لمس سے دل کو ٹھنڈک پہنچائی جا سکے۔
نہ اُن کی سوندھی سوندھی خوشبو ناک میں کھینچ کر روح کی گہرائیوں میں اُتاری جا سکے۔ نہ ہوا کے جھونکے سے پلٹتے اوراق کی پھڑپھڑاہٹ کانوں میں رس گھولے۔
نہ کتاب کے ورق کو موڑ کر نشان رکھا جا سکے۔ نہ کتاب کو پیار سے بغل میں دبایا جا سکے۔
نہ اُس میں گلاب کا پھول رکھ کر بھول جایا جا سکے۔
نہ اُسے پڑھتے پڑھتے سینے پر رکھ کر سویا جا سکے۔
نہ وہ شیلف میں پڑی مسکرائے۔ نہ وہ میز کے کونے پر پڑی دل کو لبھائے۔
پی ڈی ایف کتاب بھی کوئی کتاب ہوتی ہے!!
(نقل وچسپاں)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
انتخاب: جناب “بشارت نواز” صاحب(خانیوال،پاکستان)

واٹس ایپ:
https://chat.whatsapp.com/CBzhqJzdoyx0mrMIYvcVVe
ٹیلی گرام:
t.me/CutPiece
“ماں مجھے بتاؤ ناں!!”

کم سنی کی شاموں میں
آرزو کی چادر کو
اوڑھ کر وہ اک بچہ
ماں کی گود میں رکھ کر
اپنے سر کو لیٹا ہے
اور پوچھتا ہے ماں....!
اک سوال پوچھوں میں
چند روز پہلے ہی
چھوڑ کر گئے بھیا
دن وہ کتنے اچھے تھے
روز کھانا کھاتے تھے
چند روز پہلے ہی
یہ پڑوس والے بھی
بھیجتے رہے کھانا
شام سے ذرا پہلے
بھائی جب گئے تھے ماں
چند روز پہلے ہی
بھوک تو نہیں تھی ماں
ورنہ کتنے سالوں سے
پوچھتا نہ تھا کوئی
خوش لباس تھے بھیا
اور ان کے جانے سے
روز شام ہونے پر
یہ پڑوس والے بھی
بھیجتے رہے کھانا
چند روز پہلے ہی!
ماں مجھے بتاؤ ناں
جب بھی کوئی جاتا ہے
زندگی کے دامن کو
چھوڑ کر کبھی ایسے
کیا پڑوس سے یونہی
روز کھانا آتا ہے؟
ماں مجھے بتاؤ ناں
چند روزگزرے ہیں
اور اب پڑوسی کیوں
بھیجتے نہیں کھانا
کیا کسی کے مرنے پر
ہم کو کھانا ملتا ہے؟
چند روز کی خاطر؟
ماں مجھے بتاؤ ناں
ہم کو سہتے رہنی ہے
بھوک اور کتنے دن
اور کتنے دن اے ماں
ہم کو فاقہ کرنا ہے
ماں مجھے بتاؤ ناں
کتنے روز باقی ہیں
ابا جی کو مرنے میں؟
فوزیہ رباب
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
انتخاب: جناب “احمد ارسلان” صاحب (اٹکی،رانچی)

واٹس ایپ:
https://chat.whatsapp.com/CTx8JZEe5sx9tHTVlV8KcA
ٹیلی گرام:
t.me/CutPiece
“اگر آپ استاد ہیں”



پڑھائے گا وہی جسے پڑھانا آتا ہے..........
ہر قابل شخص قابل استاد نہیں بن سکتا.........

اگر آپ " زبان (لینگویج) " پڑھاتے ہیں اس کے باوجود آپ کا شاگرد بد زبان اور بدگو ہے تو آپ کو زبان پڑھانے کے بجائے زبان " سکھانے " کی فکر کرنی چاہیے...........

آپ نے بچے کو ریاضی کا ہر سوال حل کرنے میں ماہر بنا دیا لیکن اگر وہ اپنی زندگی کے معمولی مسائل تک حل نہیں کرسکتا تو پھر آپ کو سوچنا چاہیے کہ آپ نے ریاضی تو اس کے لیے آسان کردی ہے لیکن زندگی مشکل کرگئے ہیں........

میرا ٹیچنگ میں جتنا بھی تجربہ ہے میں نے یہ سیکھا ہے کہ بچہ کتاب سے کچھ بھی نہیں سیکھتا.........
کتاب تو ایک بے جان چیز ہے وہ بھی نصاب کی کتاب..........
........سکھاتا تو استاد ہے.......

آپ قرآن کی مثال لے لیں بھلا اس سے زیادہ اور کوئی کتاب کیا پُر اثرکتاب ہوگی؟؟؟؟؟
لیکن ہمارے لیے.........
" رول ماڈل "
اللہ کے رسول صل اللہ علیہ و آلہ و سلم کی سیرت مبارکہ ہے.
تب ہی قرآن کی آیات ہم پر اثر انداز ہوتی ہیں..........

آپ بچے کو جو کچھ سکھانا چاہتے ہیں وہ بن کر دکھا دیں بچہ خود سب کچھ سیکھ لے گا..........
یاد رکھیں اگر استاد کی زندگی میں کوئی مقصد نہیں ہے تو وہ طلبہ کو کوئی مقصدیت نہیں دے سکتا_________
اگر استاد کی اپنی زندگی ہی بے معنی و بے مقصد ہو تو بھلا وہ اپنے طلبہ کی نیا پار لگانے میں کب کامیاب ہو سکے گا؟؟؟؟؟

سب سے اہم مسئلہ سننے اور سنانے کا ہے..........
اساتذہ کے اندر سنانے کی لگن ہوتی ہے.........
وہ کھری کھری بھی سناتے ہیں اور بعض دفعہ اتنا سناتے ہیں کہ بھری کلاس میں بچے کی"عزت نفس" تک مجروح ہوجائے............
لیکن سننے کی تڑپ اور جستجو ان میں نہیں ہوتی ہے_______
بلکہ وہ بچوں کی سنتے بھی سنانے کے ہی لیے ہیں..........
جو اساتذہ بچوں کو سمجھنے کے لیے سنتے ہیں کانوں سے نہیں بلکہ دل کے کانوں سے سنتے ہیں...........

.......... اور وہ بچوں کے دل میں اتر جاتے ہیں.........

اگر آپ چاہتے ہیں کہ بچے آپ کا احترام کریں " تکلف" کے لیے نہیں دل سے اٹھ کر آپ کا استقبال کریں تو پھر آپ کو انھیں دل سے سننا پڑے گا...........

بچوں کے لیے عام طور پر وہ مضمون خود بخود دلچسپ بن جاتا ہے جس مضمون کا استاد ان کے لیے دلچسپ بن جاتا ہے...........

آپ کی ٹیچنگ کی انتہا اور معراج یہ ہے کہ بچے " فری پیریڈ " میں آپ کو خود بلانے آجائیں اور جب آپ کلاس سے جانے لگیں تو ان کو تشنگی محسوس ہو...........

آپ جیسے ہوتے ہیں ویسی ہی "شعاعیں" آپ میں سے نکلنے لگتی ہیں سورج کو بتانا نہیں پڑتا ہے کہ میں نکل گیا ہوں صبح ہوگئی ہے..........

پھول اعلان نہیں کرتا ہے کہ میں کھل گیا ہوں اس کی خوشبو پورے باغ کو بتا دیتی ہے کہ کوئی پھول آج کھل گیا ہے.........

--------بالکل اسی طرح اگر آپ واقعی قابل استاد ہیں تو پھر طلبہ کو آپ میں سے وہ شعاعیں ہر لمحہ پھوٹتی محسوس ہونے لگیں گی-----
_____اگر آپ استاد نہیں ہیں اور حادثاتی طور پر ٹیچنگ میں
آ گئے ہیں تو کوشش کریں کہ اس کو اپنا شوق بھی بنالیں_________
■غالب فرماتے ہیں کہ■
" بندہ کام سے تھک جاتا ہے محبت سے نہیں تھکتا۔"

اس لیے کام سے محبت کرلیں.......
اس کے بے شمار فوائد ہیں........
سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ آپ کو " اطمینان قلب " نصیب ہوجائے گا......
یہ خدا کی وہ نعمت ہے جو دنیا میں کسی کسی کو ہی ملتی ہے_____
دوسرا آپ کی سیکھنے کی لگن بڑھ جائے گی........
سب سے بڑھ کر یہ کہ اللہ آپ کو اتنی عزت دے گا کہ شاید آپ نے سوچا بھی نہ ہو.........
استاد کو سب سے بڑا فائدہ جو اللہ دیتا ہے وہ یہ کہ اس کے رزق میں برکت ہوجاتی ہے........

آپ استاد ہیں تو پھر لوگوں کے دل اور خدا کی رضا دونوں آپ کے منتظر ہیں!!
(نقل وچسپاں)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
انتخاب: محترمہ “... ... ...” صاحبہ(پاکستان)

واٹس ایپ:
https://chat.whatsapp.com/CTx8JZEe5sx9tHTVlV8KcA
ٹیلی گرام:
t.me/CutPiece
“ننھی دکان”

میں نے دیکھا کہ ماں اپنے بیٹے کو آہستہ سے مارتی اور بچے کے ساتھ خود بھی رونے لگتی۔ میں نے آگے ہو کر پوچھا بہن کیوں بچے کو مار رہی ہو جبکہ خود بھی روتی ہو۔۔۔۔۔
اس نے جواب دیا کہ بھائی آپ کو تو معلوم ہے کہ اس کے والد اللہ کو پیارے ہو گئے ہیں اور ہم بہت غریب بھی ہیں۔ میں لوگوں کے گھروں میں مزدوری کرتی ہوں اور اس کی پڑھائی کا مشکل سے خرچ اٹھاتی ہوں۔ یہ کم بخت سکول روزانہ دیر سے جاتا ہے اور روزانہ گھر دیر سے آتا ہے۔ جاتے ہوئے راستے میں کہیں کھیل کود میں لگ جاتا ہے اور پڑھائی کی طرف ذرا بھی توجہ نہی دیتا۔ جس کی وجہ سے روزانہ اپنی سکول کی وردی گندی کر لیتا ہے۔ میں نے بچے اور اس کی ماں کو تھوڑا سمجھایا اور چل دیا۔۔۔۔
ایک دن صبح صبح سبزی منڈی کچھ سبزی وغیرہ لینے گیا تو اچانک میری نظر اسی دس سالہ بچے پر پڑی جو روزانہ گھر سے مار کھاتا تھا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ وہ بچہ منڈی میں پھر رہا ہے اور جو دوکاندار اپنی دوکانوں کے لیے سبزی خرید کر اپنی بوریوں میں ڈالتے تو ان سے کوئی سبزی زمین پر گر جاتی اور وہ بچہ اسے فوراً اٹھا کر اپنی جھولی میں ڈال لیتا۔ میں یہ ماجرہ دیکھ کر پریشانی میں مبتلا ہو رہا تھا کہ چکر کیا ہے۔ میں اس بچے کو چوری چوری فالو کرنے لگا۔جب اس کی جھولی سبزی سے بھر گئی تو وہ سڑک کے کنارے بیٹھ کر اونچی اونچی آوازیں لگا کر اسے بیچنے لگا۔ منہ پر مٹی گندی وردی اور آنکھوں میں نمی کے ساتھ ایسا دونکاندار زندگی میں پہلی بار دیکھ رہا تھا۔۔۔
دیکھتے دیکھتے اچانک ایک آدمی اپنی دوکان سے اٹھا جس کی دوکان کے سامنے اس بچے نے ننھی سی دکان لگائی تھی۔ اس شخص نے آتے ہی ایک زور دار پاؤں مار کر اس ننھی سی دکان کو ایک ہی جھٹکے میں ساری سڑک پر پھیلا دیا اور بازو سے پکڑ کر اس بچے کو بھی اٹھا کر دھکا دے دیا۔ ننھا دکاندار آنکھوں میں آنسو لیے دوبارہ اپنی سبزی کو اکٹھا کرنے لگا اور تھوڑی دیر بعد اپنی سبزی کسی دوسری دکان کے سامنے ڈرتے ڈرتے لگا لی۔بھلا ہو اس شخص کا جس کی دکان کے سامنے اب اس نے اپنی ننھی دکان لگائی اس شخص نے اس بچے کو کچھ نہی کہا۔ تھوڑی سی سبزی تھی جلد ہی فروخت ہو گئی۔اور وہ بچہ اٹھا اور بازار میں ایک کپڑے والی دکان میں داخل ہوا اور دکان دار کو وہ پیسے دیکر دکان میں پڑا اپنا سکول بیگ اٹھایا اور بنا کچھ کہے سکول کی جانب چل دیا۔ میں بھی اس کے پیچھے پیچھے چل رہا تھا۔ جب وہ بچہ سکول گیا تو ایک گھنٹا دیر ہو چکی تھی۔ جس پر اس کے استاد نے ڈنڈے سے اسے خوب مارا۔ میں نے جلدی سے جا کر استاد کو منع کیا کہ یتیم بچہ ہے اسے مت مارو۔ استاد فرمانے لگے کہ سر یہ روزانہ ایک گھنٹا دیر سے آتا ہے میں روزانہ اسے سزا دیتا ہوں کہ ڈر سے سکول ٹائم پر آئے اور کئی بار میں اس کے گھر بھی پیغام دے چکا ہوں۔ بچہ مار کھانے کے بعد کلاس میں بیٹھ کر پڑھنے لگا۔ میں نے اس کے استاد کا موبائل نمبر لیا اور گھر کی طرف چل دیا۔ گھر جاکر معلوم ہوا کہ میں جو سبزی لینے گیا تھا وہ تو بھول ہی گیا ہوں۔
حسب معمول بچے نے سکول سے گھر آکر ماں سے ایک بار پھر مار کھائی ھو گی۔ ساری رات میرا سر چکراتا رہا۔ اگلے دن صبح کی نماز ادا کی اور فوراً بچے کے استاد کو کال کی کہ منڈی ٹائم ہر حالت میں منڈی پہنچے۔ جس پر مجھے مثبت جواب ملا۔ سورج نکلا اور بچے کا سکول جانے کا وقت ہوا اور بچہ گھر سے سیدھا منڈی اپنی ننھی دکان کا بندوبست کرنے نکلا۔ میں نے اس کے گھر جا کر اس کی والدہ کو کہا کہ بہن میرے ساتھ چلو میں تمہیں بتاتا ہوں آپ کا بیٹا سکول کیوں دیر سے جاتا ہے۔ وہ فوراً میرے ساتھ منہ میں یہ کہتے ہوئے چل پڑی کہ آج اس لڑکے کی میرے ہاتھوں خیر نہی۔چھوڑوں گی نہیں اسے آج۔منڈی میں لڑکے کا استاد بھی آچکا تھا۔ ہم تینوں نے منڈی کی تین مختلف جگہوں پر پوزیشنیں سنبھال لیں اور ننھی دکان والے کو چھپ کر دیکھنے لگے۔ حسب معمول آج بھی اسے کافی لوگوں سے جھڑکیں لینی پڑیں اور آخر کار وہ لڑکا اپنی سبزی فروخت کر کے کپڑے والی دکان کی طرف چل دیا۔۔۔۔۔
اچانک میری نظر اس کی ماں پر پڑی تو کیا دیکھتا ہوں کہ بہت ہی درد بھری سیسکیاں لے کر زاروقطار رو رہی تھی اور میں نے فوراً اس کے استاد کی طرف دیکھا تو بہت شدت سے اس کے آنسو بہہ رہے تھے۔دونوں کے رونے میں مجھے ایسا لگ رہا تھا جیسے انہوں نے کسی مظلوم پر بہت ظلم کیا ہو اور آج ان کو اپنی غلطی کا احساس ہو رہا ہو۔
اس کی ماں روتے روتے گھر چلی گئی اور استاد بھی سسکیاں لیتے ہوئے سکول چلا گیا۔ حسب معمول بچے نے دکان دار کو پیسے دیے اور آج اس کو دکان دار نے ایک لیڈی سوٹ دیتے ہوئے کہا کہ بیٹا آج سوٹ کے سارے پیسے پورے ہوگئے ہیں۔ اپنا سوٹ لے لو۔ بچے نے اس سوٹ کو پکڑ کر سکول بیگ میں رکھا اور سکول چلا گیا۔ آج بھی ایک گھنٹا لیٹ تھا وہ سیدھا استاد کے پاس گیا اور بیگ ڈیسک پر رکھ کر مار کھانے کے لیے پوزیشن سنبھال لی اور ہاتھ آگئے بڑھا دیے کہ استاد ڈنڈے سے اس کو مار لے۔استاد کرسی سے اٹھا اور فوراً بچے
کو گلے لگا کر اس قدر زور سے رویا کہ میں بھی دیکھ کر اپنے آنسوؤں پر قابو نہ رکھ سکا۔ میں نے اپنے آپ کو سنبھالا اور آگے بڑھ کر استاد کو چپ کرایا اور بچے سے پوچھا کہ یہ جو بیگ میں سوٹ ہے وہ کس کے لیے ہے۔ بچے نے جواب دیا کہ میری ماں امیر لوگوں کے گھروں میں مزدوری کرنے جاتی ہے اور اس کے کپڑے پھٹے ہوئے ہوتے ہیں۔ اس کے پاس جسم کو مکمل ڈھانپنے والا کوئ سوٹ نہی ہے اس لیے میں نے اپنی ماں کے لیے یہ سوٹ خریدا ہے۔ یہ سوٹ اب گھر لے جا کر ماں کو دو گے؟؟؟ میں نے بچے سے سوال پوچھا ۔۔۔۔جواب نے میرے اور اس کے استاد کے پیروں کے نیچے سی زمین ہی نکال دی۔۔۔۔ بچے نے جواب دیا نہیں انکل جی چھٹی کے بعد میں اسے درزی کو سلائی کے لیے دے دوں گا اور روزانہ تھوڑے تھوڑے پیسے جمع کر کے سلائی دوں گا جب سلائی کے پیسے پورے ہوجائیں گئے تب میں اسے اپنی ماں کو دوں گا۔۔۔۔۔
استاد اور میں یہ سوچ کر روتے جا رہے تھے کہ ابھی اس معصوم کو اور منڈی جانا پڑے گا، اور لوگوں سے دھکے کھانے پڑیں گے اور ننھی دکان لگانی پڑے گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آخر کب تک غریبوں کے بچے ننھی دکانیں لگاتے رہیں گے۔آخر کب تک۔۔۔۔
...........
(نقل وچسپاں)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
انتخاب از ایڈمن: “الف،ب،نون”

واٹس ایپ:
https://chat.whatsapp.com/CTx8JZEe5sx9tHTVlV8KcA
ٹیلی گرام:
t.me/CutPiece
حجره پڑا ہے سونا اور پیر جی ہیں غائب
حجرے میں کیا ہوا تھا، یہ عرض پھر کروں گا

دولہا دلہن تھے راضی، آیا تھا پھر بھی قاضی
قاضی نے کیا کِیا تھا، یہ عرض پھر کروں گا

عِرق النساء کا نسخہ، مہر النساء نے لکھا
نسخے میں کیا لکھا تھا، یہ عرض پھر کروں گا

شانے پہ جو پڑا تھا، کہنے کو تھا دوپٹہ
کتنا سا تھا دوپٹہ، یہ عرض پھر کروں گا

دونوں تھے روٹھے روٹھے، بیوی میاں ہوں جیسے
دونوں میں کیا تھا رشتہ، یہ عرض پھر کروں گا

لڑکی نے بھی قبولا، لڑکے نے بھی قبولا
دونوں نے کیا قبولا، یہ عرض پھر کروں گا

بے وزن سب تھے مصرعے، شاعر مگر تھا وزنی
شاعر کا وزن کیا تھا، یہ عرض پھر کروں گا

کچھ عرض کر دیا ہے، کچھ عرض پھر کروں گا
پھر عرض کیا کروں گا، یہ عرض پھر کروں گا
(نقل وچسپاں)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
انتخاب از ایڈمن: “الف،ب،نون”

واٹس ایپ:
https://chat.whatsapp.com/CTx8JZEe5sx9tHTVlV8KcA
ٹیلی گرام:
t.me/CutPiece
“جاپانی نظامِ تعلیم”

ﺟﺎﭘﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﻮ ﭘﮩﻠﯽ ﮐﻼﺱ ﺳﮯ ﻟﮯ ﮐﺮ ﭘﻨﺠﻢ ﮐﻼﺱ ﺗﮏ ﺍﯾﮏ ﻣﻀﻤﻮﻥ "ﺍﯾﭩﯿﮑﯿﭩﺲ" ﮐﮯﻧﺎﻡ ﺳﮯ ﭘﮍﮬﺎﯾﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮬﮯ ﺍﺱ ﭘﯿﺮﯾﮉ ﻣﯿﮟ ﺑﭽﮧ ﺍﺧﻼﻕ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺳﺮﻭﮞ ﺳﮯ ﮐﯿﺴﮯ ﭘﯿﺶ ﺁﻧﺎ ﮬﮯ؟ ﯾﮧ ﺳﯿﮑﮭﺘﺎ ﮬﮯ ۔

ﭘﮩﻠﯽ ﺳﮯ ﻟﮯ ﮐﺮ ﻣﮉﻝ ﯾﻌﻨﯽ ﺁﭨﮭﻮﯾﮟ ﺗﮏ ﺑﭽﮯ ﮐﻮ ﮐﮩﯿﮟ ﻓﯿﻞ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯿﺎﺟﺎﺗﺎ ۔ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﮐﮧ ﺍﺱ ﻋﻤﺮ ﻣﯿﮟ ﺗﻌﻠﯿﻢ ﮐﺎ ﻣﻘﺼﺪ ﺗﺮﺑﯿﺖ ،ﻣﻌﻨﯽ ﻭ ﻣﻔﮩﻮﻡ ﺳﮑﮭﺎﻧﺎ ﺍﻭﺭ ﺗﻌﻤﯿﺮ ﺷﺨﺼﯿﺖ ﮨﻮﺗﺎ ﮬﮯ۔ ﺻﺮﻑ ﺭﭨﻨﺎ ﺭﭨﺎﻧﺎ ﻧﮩﯿﮟ۔

ﺟﺎﭘﺎﻧﯽ ﺍﮔﺮﭼﮧ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﯽ ﺍﻣﯿﺮ ﺗﺮﯾﻦ ﻗﻮﻣﻮﮞ ﻤﯿﮟ ﺳﮯ ﮨﯿﮟ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﻥ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﺧﺎﺩﻡ ﺍﻭﺭ ﺁﯾﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﯽ۔ ﺑﺎﭖ ﺍﻭﺭ ﻣﺎﮞ ﮨﯽ ﮔﮭﺮ ﮐﯽ ﺩﯾﮑﮫ ﺑﮭﺎﻝ ﺍﻭﺭ ﺍﻭﻻﺩ ﮐﯽ ﺗﺮﺑﯿﺖ ﻭ ﺗﻌﻠﯿﻢ ﮐﮯ ﺫﻣﮧ ﺩﺍﺭ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔

ﺟﺎﭘﺎﻧﯽ ﺑﭽﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﺳﺎﺗﺬﮦ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻣﻞ ﮐﺮ ﺭﻭﺯﺍﻧﮧ ۱۵ ﻣﻨﭧ ﺗﮏ ﺍﭘﻨﺎ ﻣﺪﺭﺳﮧ ﺻﺎﻑ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ۔ﻧﺘﯿﺠﮧ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﭘﻮﺭﯼ ﻗﻮﻡ ﻋﺠﺰ ﻭ ﺍﻧﮑﺴﺎﺭ ﮐﺎ ﭘﯿﮑﺮ ﺍﻭﺭ ﺻﻔﺎﺋﯽ ﺳﺘﮭﺮﺍﺋﯽ ﮐﯽ ﺷﯿﺪﺍﺋﯽ ﮨﮯ ۔

ﺟﺎﭘﺎﻧﯽ ﺍﺳﮑﻮﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﭽﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﭨﻮﺗﮫ ﺑﺮﺵ ﺳﺎﺗﮫ ﻟﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ۔ﻣﺪﺭﺳﮧ ﻣﯿﮟ ﮨﯽ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺩﺍﻧﺘﻮﮞ ﮐﯽ ﺻﻔﺎﺋﯽ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ۔ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﭼﮭﻮﭨﯽ ﻋﻤﺮ ﻣﯿﮟ ﮨﯽ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺣﻔﻈﺎﻥ ﺻﺤﺖ ﮐﯽ ﺗﻌﻠﯿﻢ ﺍﻭﺭ ﺗﺮﺑﯿﺖ ﻣﻠﺘﯽ ﭼﻠﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ۔

ﻣﺪﺭﺳﮧ ﮐﮯ ﺍﺳﺎﺗﺬﮦ ﺍﻭﺭ ﺩﯾﮕﺮ ﻣﻨﺘﻈﻤﯿﻦ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﺎ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﺳﮯ ﺁﺩﮬﺎ ﮔﮭﻨﭩﮧ ﻗﺒﻞ ﺧﻮﺩ ﯾﮩﯽ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﮐﮭﺎ ﮐﺮ ﭼﯿﮏ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﭨﮭﯿﮏ ﮬﮯ ﯾﺎ ﻧﮩﯿﮟ ؟ ﺍﺳﺎﺗﺬﮦ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﻮ ﺟﺎﭘﺎﻥ ﮐﺎ ﻣﺴﺘﻘﺒﻞ ﺳﻤﺠﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻟﮩﺬﺍ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺻﺤﺖ ﮐﯽ ﺣﻔﺎﻇﺖ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﻣﻘﺪﻡ ﺭﮐﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔

ﺟﺎﭘﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺻﻔﺎﺋﯽ ﮐﮯ ﻋﻤﻠﮯ ﮐﻮ "ﮨﯿﻠﺘﮫ ﺍﻧﺠﻨﺌﯿﺮ " ﮐﮩﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮬﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻣﺎﮨﺎﻧﮧ ﺗﻨﺨﻮﺍﮦ ۵۰۰۰ ﺳﮯ ۸۰۰۰ ﮈﺍﻟﺮ ﺗﮏ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ۔ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﻭﺭﮐﺮﺯ ﮐﻮ ﺑﺎﻗﺎﻋﺪﮦ ﭨﯿﺴﭧ ﺍﻧﭩﺮﻭﯾﻮ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﮨﯽ ﺟﺎﺏ ﭘﺮ ﺭﮐﮭﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮬﮯ ۔

ﺭﯾﻞ ﮔﺎﮌﯼ، ﮨﻮﭨﻠﺰ ﺍﻭﺭ ﺑﻨﺪ ﺟﮕﮩﻮﮞ ﭘﺮ ﻣﻮﺑﺎﺋﻞ ﮐﺎ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﻣﻤﻨﻮﻉ ﮨﮯ۔ ﻣﻮﺑﺎﺋﻞ ﻣﯿﮞﺴﺎﺋﻠﻨﭧ ﮐﯽ ﺟﮕﮧ ﺍﺧﻼﻕ ﻟﮑﮭﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﮬﮯ ۔

ﺭﯾﺴﭩﻮﺭﻧﭧ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﺗﻮ ﺁﭖ ﺩﯾﮑﮭﯿﮟ ﮨﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﺗﻨﺎ ﮨﯽ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﻟﮯ ﮔﺎ ﺟﺲ ﻗﺪﺭ ﮐﮧ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﮬﮯ ۔ﮐﻮﺋﯽ ﻓﺮﺩ ﭘﻠﯿﭧ ﻣﯿﮟ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﭼﮭﻮﮌﺗﺎ۔

ﺟﺎﭘﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺭﯾﻞ ﮔﺎﮌﯾﻮﮞ ﮐﮯ ﻟﯿﭧ ﮨﻮﻧﮯﮐﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﺗﺼﻮﺭ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ۔ ﺍﺳﯽ ﻟﯿﮯ ﺗﺎﺧﯿﺮ ﮐﺎ ﺗﻨﺎﺳﺐ ﺻﺮﻑ ۷ ﺳﯿﮑﻨﮉ ﭘﺮ ﺍﺋﯿﺮ ﮬﮯ۔ ﺟﺎﭘﺎﻧﯽ ﻗﻮﻡ ﻭﻗﺖ ﮐﯽ ﻗﺪﺭ ﺍﻭﺭ ﻗﯿﻤﺖ ﮐﻮ ﺍﭼﮭﯽ ﻃﺮﺡ ﺳﮯ ﺟﺎﻧﺘﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﮏ ﺳﯿﮑﻨﮉ ﺍﻭﺭ ﻣﻨﭧ ﮐﺎ ﭘﻮﺭﺍ ﭘﻮﺭﺍ ﺣﺴﺎﺏ ﺭﮐﮭﺘﯽ ﮨﮯ..!!
(نقل وچسپاں)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
انتخاب از ایڈمن: “الف،ب،نون”

واٹس ایپ:
https://chat.whatsapp.com/CTx8JZEe5sx9tHTVlV8KcA
ٹیلی گرام:
t.me/CutPiece
“بہادر شاہ ظفر کا دسترخوان”

• چاولوں میں
یخنی پلاؤ، موتی پلاؤ، نکتی پلاؤ، نورمحلی پلاؤ، کشمش پلاؤ، نرگسی پلاؤ، لال پلاؤ، مزعفر پلاؤ، فالسائی پلاؤ، آبی پلاؤ، سنہری پلاؤ، روپہلی پلاؤ، مرغ پلاؤ، بیضہ پلاؤ، انناس پلاؤ، کوفتہ پلاؤ، بریانی پلاؤ، سالم بکرے کا پلاؤ، بونٹ پلاؤ، کھچڑی، شوالہ (گوشت میں پکی ہوئی کھچڑی) اور قبولی ظاہری۔

• سالنوں میں
امید ہے میری طرح آپ نے یہ نام بھی نہ سنے ہوں گے۔۔۔

قلیہ، دوپیازہ، ہرن کا قورمہ، مرغ کا قورمہ، مچھلی، بینگن کا بھرتا، آلو کا بھرتہ، چنے کی دال کا بھرتہ، بینگن کا دلمہ، کریلوں کا دلمہ، بادشاہ پسند کریلے، بادشاہ پسند دال، سیخ کباب، شامی کباب، گولیوں کے کباب، تیتر کے کباب، بٹیر کے کباب، نکتی کباب، خطائی کباب اور حسینی کباب شامل ہوتے تھے۔

• روٹیوں کی اقسام
شاید آپ نے انٹرنیٹ پر بھی نہ دیکھی ہوں۔۔

۔ چپاتیاں، پھلکے، پراٹھے، روغنی روٹی، خمیری روٹی، گاؤدیدہ، گاؤ زبان، کلچہ، غوصی روٹی، بادام کی روٹی، پستے کی روٹی، چاول کی روٹی، گاجر کی روٹی، مصری کی روٹی، نان، نان پنبہ، نان گلزار، نان تنکی اور شیرمال۔

• میٹھے میں
۔متنجن، زردہ مزعفر، کدو کی کھیر، گاجر کی کھیر، کنگنی کی کھیر، یاقوتی، نمش، روے کا حلوہ، گاجر کا حلوہ، کدو کا حلوہ، ملائی کا حلوہ، بادام کا حلوہ، پستے کا حلوہ، رنگترے کا حلوہ۔

• مربے
۔ آم کا مربا، سیب کا مربا، بہی کا مربا، ترنج کا مربا، کریلے کا مربا، رنگترے کا مربا، لیموں کا مربا، انناس کا مربا، گڑھل کا مربا، ککروندے کا مربا، بانس کا مربا۔

• مٹھائیوں کی اقسام
۔ جلیبی، امرتی، برفی، پھینی، قلاقند، موتی پاک، بالو شاہی، در بہشت، اندرسے کی گولیاں، حلوہ سوہن، حلوہ حبشی، حلوہ گوندے کا، حلوہ پیڑی کا، لڈو موتی چور کے، مونگے کے، بادام کے، پستے کے، ملاتی کے، لوزیں مونگ کی، دودھ کی، پستے کی بادم کی، جامن کی، رنگترے کی، فالسے کی، پیٹھے کی مٹھائی اور پستہ مغزی۔

یہ مزےدار رنگا رنگ کھانے سونے اور چاندی کی قابوں، رکابیوں، طشتریوں اور پیالوں پیالیوں میں سجے اور مشک، زعفران اور کیوڑے کی خوشبو سے مہکا کرتے تھے۔ چاندی کے ورق الگ سے جھلملاتے تھے۔ کھانے کے وقت پورا شاہی خاندان موجود ہوتا تھا۔
(انتظار حسین کی کتاب ،،دلی جو ایک شہر تھا،، سے اقتباس)

جس وقت یہ فضول لوگ اس قسم کے کھانوں سے لطف لے رہے تھے اس وقت انگریز اپنے لشکر اور توپوں کو درست اور جدید سہولیات سے مرفہ کرنے میں مصروف تھے... اور وقت گواہ ہے کہ پھر یہی بہادر شاہ ظفر رنگون کی جیل میں سوکھے نان کو پانی میں بھگو بھگو کر کھا رہا تھا اور اللہ تعالٰی سے اپنے گناہوں اور کوتاہیوں پر معافی مانگنے کے بجائے (نہ کسی کی آنکھ کا نور ہوں نہ کسی کے دل کا قرار ہوں) میں اپنی مظلومیت قلمبند کررہا تھا جس کو پڑھ کر واقعی بہت ترس آتا ہے....

شاید آپکو ناگوار گزرے لیکن یہ اک حقیقت ہے کہ اس کے برعکس ایک 65 سالہ بوڑھی کافرہ عورت... گولڈا مئیر جسکو ہسٹری آئرن لیڈی کے نام سے یاد کرتی ہے جس نے عربوں کو آگے لگا کر بھاگنے پر مجبور کیا تھا اور اپنی شرائط پر صلح کیا تھا اس سے واشنگٹن پوسٹ کے ایک صحافی نے پوچھا تھا کہ...
میڈم آپ نے امریکہ کے ساتھ اسلحہ خریدنے کے لیے جنگ کے دوران ایک انتہائی مہنگی ڈیل کی تھی حالانکہ اس وقت اسرائیل کی معیشت بہت زیادہ خراب تھی جسکی وجہ سے آپ کے خلاف مظاہرے بھی ہوئے تو کیا آپ کو امید تھی کہ آپ یہ جنگ جیت لیں گی اور آپ کو اس وقت کیا محسوس ہوتا تھا جب آپ یہ ڈیل کر رہی تھیں؟

اس عورت نے کیا جواب دیا...... جب آپ عیاشی کے لیے پیسے وقف کرنا شروع کر دیتے ہیں تو آپ کے ارادے اور ادارے کمزور ہو جاتے ہیں اور آپکی دفاعی حکمت عملی زیرو ہو جاتی ہے اور مجھے پتا تھا کہ میں یہ سب کچھ اپنی قوم کے لئے کر رہی ہوں۔ میں نے کہیں پڑھا تھا کہ مسلمانوں کے نبی(حضرت محمد صل اللہ علیہ و آلہ و سلم) کے گھر کی دیوار پر انتہائی فاقوں کے باوجود آخری وقت میں بھی تین تلواریں ٹانگی ہوئی تھیں اور اسی واقعہ نے مجھ کو ہمت دی تھی کہ میں یہ ڈیل کروں. اور نتیجہ آپ کے سامنے ہے...

آج بحثیت مسلمان ہم انتہائی گراوٹ کی جن حدود کو چھو رہے ہیں اللہ تعالٰی رحم کرے... کیونکہ دو دو سو منزلہ عمارتیں بنانے کے لیے اور ایک ایک رات میں ڈانسرز پر پچاس پچاس کروڑ روپے اڑانے کے لئے تو ہمارے پاس بہت کچھ ہے جب کہ غریب مسلمان ممالک میں بچے ایک وقت کی روٹی بھی حاصل نہیں کر سکتے ہیں.. پینے کا پانی نہیں ہے.. باقی سہولیات تو بہت بعد میں آتی ہیں... آج ہماری ترجیحات عیاشیاں ہیں نہ کہ اسلام کی بقا کے لئے تیاری...

اللہ تعالٰی ہم سب کو ہدایت دے آمین۔۔ کیونکہ مسلمانوں کا شیوہ عیاشی نہیں فقر اور غیرت ہے موجودہ فلسطینی معاملے میں بھی بالآخر جیت اسرائیل کی ہی ہوگی کیونکہ ہمارے مسلمان سربراہان کے ناپاک اجسام کو گندگی کے ڈھیر اور عیاشی کے سامان امریکہ اور اسرائیل ہی فراہم کرتے ہیں اور یہ بے غیرت اس کے بغیر رہ نہیں
محبت بھیک ہوتی تو
تمھارے در پہ جھک جاتے
خدا کا واسطہ دے کر
یہ تم سے مانگ لیتے ہم
صدا دیتے
خدا کے واسطے یہ ڈال دو جھولی ہماری میں
مگر یہ بھیک تھوڑی ہے
جو جھک کے مانگ لی جائے
فقط احساس ہے جاناں
محبت آس ہے جاناں
بہت حساس ہے جاناں
کبھی احساس کو بازار میں بِکتے ہوئے دیکھا؟
کسی بھی آس کو کشکول میں ڈالا نہیں جاتا
محبت ایک جذبہ ہے
جو مانگے سے نہیں ملتا
اگر یہ بھیک ہوتی تو
بھکاری بن گئے ہوتے
مگر یہ بھیک تھوڑی ہے
سہولت سے جو مل جائے
سہولت سے نہیں ملتی
بڑی مشکل سے ملتی ہے
یہ دل کو دل سے ملتی ہے
تمہیں احساس ہی کب ہے۔۔؟
ہماری آس ہی کب ہے۔۔؟
تمہیں احساس ہوتا تو
ہمارے ہو گئے ہوتے۔۔۔
فقط یہ سوچ کے تم سے جدائی کا ارادہ ہے
محبت بھیک تھوڑی ہے
جو تم سے مانگتے پھرتے
مگر یہ ذہن میں رکھنا
زمانہ بیت جائے تو
ہماری یاد آئے تو
ہمیں آواز دے لینا
ہمیشہ پاس پاؤ گے
ہمارے دل میں چاہت کا
سدا احساس پاؤ گے
(نقل وچسپاں)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
انتخاب: جناب “خلیل احمد” صاحب (ممبئی)

واٹس ایپ:
https://chat.whatsapp.com/CTx8JZEe5sx9tHTVlV8KcA
ٹیلی گرام:
t.me/CutPiece
“یہ بیٹیاں...”

ہماری ایک عزیزہ ہیں۔ شادی کو پندرہ سال ہوگئے۔ اللہ نے اوپر تلے چار بیٹے دیے لیکن بیٹی کوئی نہیں تھی۔ انہیں بیٹی کی بہت خواہش تھی۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ بیٹے بہت شرارتی تھے سارا دن ناک میں دم کرکے رکھتے۔ ماں بے چاری کام کرکرکے ہلکان ہوجاتی لیکن انہیں کوئی پرواہ نہیں تھی۔ جتنا وہ انہیں صفائی رکھنے کا کہتی اتنا ہی وہ گند مچاتے۔ میں جب کبھی بھی ان سے ملنے گئی انہیں پریشان اور شکوہ کناں ہی دیکھا۔
دوسال پہلے اللہ نے انکی دعا قبول کر لی اور انہیں ایک بیٹی عطا کی۔ مصروفیت کی وجہ سے میرا انکی طرف جانا ممکن ہی نہ ہوسکا۔ چند دن پہلے ان سے ملنے گئی۔ اللہ نے بڑی پیاری بیٹی دی تھی ۔ چند دن پہلے ہی اس بچی نے چلنا سیکھا تھا تو ماشاءاللہ سارے گھر میں بھاگی پھر رہی تھی۔ وہ کمرے میں آئی تو میں نے پکڑ کر گود میں بٹھا لیا اور خوب پیار کیا۔میری گود سے اتر کر اس نے ایک عجیب حرکت کی۔ کمرے میں دو تین جگہ پر بسکٹ اور ٹافیوں کے ریپرز پڑے تھے اس ڈیڑھ سال کی بچی نے اپنے ننھے ننھے ہاتھوں سے وہ سارے ریپرز اٹھائے اور صحن کے کونے میں پڑی ڈسٹ بن میں ڈال دیے۔ میں حیرانی سے اسے دیکھ رہی تھی کہ اس کی والدہ کمرے میں آگئی۔ میرے استفسار پر انہوں نے مجھے کہا۔ حوریہ میں اسی لیے تو اللہ سے بیٹی مانگا کرتی تھی کیونکہ بیٹیاں ماں کی مددگار ہوتی ہے۔ یہ ابھی ڈیڑھ سال کی ہے لیکن ابھی سے میری مدد کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ بھائی کچھ کھا کر پلیٹ وہیں رکھ دیتے ہیں تو یہ اٹھا کر کچن میں رکھ کر آتی ہے۔ وہ ریپرز کمرے میں ہی پھینک دیتے ہیں تو یہ سارے اکٹھے کرکے ڈسٹ بن میں پھینک کر آتی ہے۔ فیڈرز میں دودھ ڈال کر رکھتی ہوں تو پہلے اپنے بڑے بھائی کا فیڈر اٹھا کر اسے دے کر آتی ہے پھر اپنا فیڈر لیتی ہے۔ میرے چاروں بیٹوں نے آج تک کبھی میرا ہاتھ بٹانے کی کوشش نہیں کی۔ انہیں بس اپنے پڑھنے، کھیلنے اورکھانے سے مطلب ہے جبکہ میری بیٹی نے اتنی سی عمرسے ہی میرا خیال رکھنا شروع کردیا۔
کتنی عجیب بات ہے نا کہ لوگ پھر بھی بیٹی کو پسند نہیں کرتے، وہ ہمیشہ اللہ سے اولادِ نرینہ کی ہی دعا مانگتے ہیں حالانکہ اللہ سے دعا تو یہ کرنی چاہیے کہ اللہ جو بھی اولاد دے نیک اور فرمابردار دے۔ میں نے بہت سے ایسے ماں باپ کو بھی بڑھاپے میں رلتے دیکھا ہے جن کے چار چار بیٹے تھے۔ بیٹی نہ صرف گھر کے کام کاج میں ماں کا ہاتھ بٹاتی ہے بلکہ اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ ماں کو بیٹی کے روپ میں ایک سہیلی مل جاتی ہے جس سے وہ اپنے دل کی ہر بات کرلیتی ہے۔
یہ ٹھیک ہے کہ بیٹوں کو بھی والدین سے پیار ہوتا ہے لیکن جو پیار بیٹی کو اپنے ماں باپ سے ہوتا ہے اس کی مثال نہیں ملتی۔ شادی ہوجانے کے بعد بھی اس کا دھیان اپنے ماں باپ کی طرف ہی لگا رہتا ہے اور وہاں رہتے ہوئے بھی اس سے جتنا ہوسکے وہ اپنے ماں باپ کے لیے کرتی ہے۔
بیٹیوں کو بوجھ سمجھنے والے یہ بات جان لیں کہ ضروری نہیں بیٹا ساری عمر ہی آپ کا بیٹا رہے لیکن بیٹی مرتے دم تک بیٹی ہی رہتی ہے۔
(نقل وچسپاں)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
انتخاب از ایڈمن: “الف،ب،نون”

واٹس ایپ:
https://chat.whatsapp.com/CTx8JZEe5sx9tHTVlV8KcA
ٹیلی گرام:
t.me/CutPiece
"وہ مریض جو میں کبھی نہیں بھلا پاؤنگا"

زیر نظر چند واقعات ایک عرب بلاگر نے مختلف ڈاکٹروں کی یاداشتوں کو جمع کر کے بعنوان "وہ مریض جو میں کبھی نہیں بھلا پاؤنگا" شائع کیئے ہیں۔ ترجمہ کے بعد آپ کی نظر کر رہا ہوں:
*
"وہ مریض جو میں کبھی نہیں بھلا پاؤنگا"
میں نے ایک بار، ایک ہی دن، ایک ہی ہسپتال میں، ایک ہی خاوند کی ایسی دو بیویوں کی دو مختلف کمروں میں ڈیلیوری کی جنہیں یہ پتہ نہیں تھا کہ وہ دونوں ایک ہی مرد کی منکوحہ ہیں۔
*

"وہ مریض جو میں کبھی نہیں بھلا پاؤنگا"
ایمرجنسی وارڈ میں، جان لیوا حادثے میں بچ جانے والے ایک نوجون کی خوشی دیدنی تھی جو ملنے کیلیئے ہر آتے جاتے دوست رشتے داروں کو بتا رہا تھا کہ وہ کتنا خوش قسمت ہے جسے نئی زندگی مل گئی ہے۔ نوجوان کے اندرونی زخموں سے بہتے خون کی زیادتی سے یہ نوجوان چند ہی لمحوں بعد بازی ہار گیا۔
*
"وہ مریض جو میں کبھی نہیں بھلا پاؤنگا"
سعودیہ میں کمائی کیلیئے آیا ہوا ایک انڈین جو ایک خونی حادثے میں کٹا پھٹا، ہسپتال میں پڑا تھا، بچوں کی طرح بلک بلک کر اس لیئے رو رہا تھا کہ وہ یہاں پردیس میں اکیلا پڑا تھا اور حادثے کے وقت اس کے اپنے اس کے ساتھ نہیں تھے۔
*

"وہ مریض جو میں کبھی نہیں بھلا پاؤنگا"
آپریشن کے ذریعے بچے کی ڈیلیوری کے بعد ڈاکٹر نے اسے صحت قرار دیکر گھر جانے کی پرچی لکھ دی۔ خاتون بچے کو لیئے ، اس بات سے بے خبر انتظار کر رہی تھی کہ اس کے خاوند کا گھر سے آتے ہوئے راستے میں حادثہ ہوا ہے اور وہ ملک عدم کو سدھار چکا ہے۔
*
"وہ مریض جو میں کبھی نہیں بھلا پاؤنگا"
ایک معمر عورت جو میرے زیر علاج تھی، ہر بار مجھ سے نسخہ لکھوا چکنے کے ، میری جیب میں کبھی ٹافیاں اور کبھی دو ریال ڈال کر چلی جاتی تھی۔
*

"وہ مریض جو میں کبھی نہیں بھلا پاؤنگا"
ایک ماں اپنے نومولود بچے کے پاس، جسے انتہائی نگہداشت میں رکھ دیا گیا تھاکو، مامتا اور شفقت سے لبریز بار بار کہہ رہی تھی؛ میری جان، میں نے تیرا بیس سال انتظار کیا ہے۔
*
"وہ مریض جو میں کبھی نہیں بھلا پاؤنگا"
ایک عمر رسیدہ مریضہ کو جیسے ہی میں نے کہا کہ : ماں جی اب آپ اپنے دل کے والو تبدیل کر ہی لیجیئے۔ خاتون نے حیرت زدہ ہوتے ہوئے مجھے دیکھتے ہوئے کہا: پُتر، ایمان سے مجھے یہ کرنا نہیں آتا، تو ہی کر دے ناں۔
*

"وہ مریض جو میں کبھی نہیں بھلا پاؤنگا"
ایک بزرگ عورت ، ہسپتال کے کمرے میں، اپنے ملاقاتی رشتہ داروں کو جب اپنے خاوند کی وجاہت اور عظمت کے قصے سنا رہی تھی، اس وقت اُن کے کمرے کے باہر پرچہ لکھا ہوا تھا کہ "ازراہ کرم ہماری امی کو مت بتائیے کہ ہمارے والد صاحب کا انتقال ہو گیا ہے"۔
*
"وہ مریض جو میں کبھی نہیں بھلا پاؤنگا"
ستتر سال کی بوڑھی عورت ، جیسے ہی اُس کے کچھ ٹیسٹ شروع کیئے گئے، اس کا ڈر دیدنی تھا۔ کہنے لگی: مجھے اپنی ساری زندگی میں ہمیشہ بس دو ہی چیزوں سے ڈر لگا ہے؛ ایک دانتوں کے ڈاکٹر سے، دوسرا اپنے خاوند کے غصے سے۔
*

"وہ مریض جو میں کبھی نہیں بھلا پاؤنگا"
میں نے جب ڈرتے ڈرتے اُسے اطلاع دی کہ آپ کو کینسر ہو چکا ہے تو اس کی سنجیدگی اور پرسکون دھیما پن دیدنی تھا۔ کہنے لگے: تو جسے کینسر نہیں ہے اُس نے نہیں مرنا کیا؟ کوئی علاج ویلاج ہے آپ کے پاس یا پھر میں جاؤں اپنے گھر؟
*
"وہ مریض جو میں کبھی نہیں بھلا پاؤنگا"
ایک عجیب الخلقت بچے کو جسے اُس کے سارے گھر والے ہسپتال میں ہی چھوڑ کر چلے تھے، ہم نے آخری کوشش کے طور پر بچے کے والد کو فون کیا تو اُس نے کہا؛ کسی یتیم خانے میں جمع کرا دو اسے۔
*

"وہ مریض جو میں کبھی نہیں بھلا پاؤنگا"
ایک بوڑھی عورت کو جب بتایا گیا کہ اُسے خبیث مرض کینسر ہو گیا ہے تو اُس کا غصہ دیدنی تھا۔ کہنے لگی: اللہ پاک بہت رحیم ہیں اور مرض بندے کیلیئے امتحان ہوتی ہے۔ وہ کس طرح اپنے بندوں کیلیئے خبیث مرض بنا سکتے ہیں۔ مرض مرض ہوتا ہے اور اسے بس مرض ہی کہو۔
*
"وہ مریض جو میں کبھی نہیں بھلا پاؤنگا"
جاں بلب بوڑھی عورت کے کمرے سے نکلتے ہوئے نوجون بُڑبُڑا رہا تھا کہ اس بُڈھی نے تو باندھ کے رکھ دیا ہے مجھے۔ اور بوڑھی عورت اندر نرسوں سے کہہ رہی کہ میرے بیٹے کو ابھی نہ جانے دو۔
*

"وہ مریض جو میں کبھی نہیں بھلا پاؤنگا"
ایک عورت ،جس کا عجیب الخلقت بچہ پیدا ہوتے ہوئے ہی فوت ہو گیا تھا، کو گلے سے لگائے ہوئے رو رو کر کہہ رہی تھی؛ میری جان، تو میرے باقی کے بچوں سے زیادہ پیارا تھا۔ جا، اللہ کے حوالے میرے جگر گوشے۔
*
"وہ مریض جو میں کبھی نہیں بھلا پاؤنگا"
اس کا باپ میرے پاس آیا تھا ایک بار، روتے ہوئے بتایا تھا کہ بیٹے نے مجھ پر ہاتھ اُٹھایا ہے۔ اب اس کا بیٹا میرے پاس علاج کیلیئے آتا ہے۔ آٹھ سال ہوگئے ہیں، تین شادیاں کر چکا ہے، ابھی تک اولاد سے محروم ہے۔
*

"وہ مریض جو میں کبھی نہیں بھلا پاؤنگا"
میں اُسے بتایا کہ تیرے بیٹے شاید آل اولاد والے عمل میں کمزور رہیں۔ شادی سے پہل
ے ان کے مناسب چیک اپ ضرور کرا لینا۔ کہنے لگا: میں نے اپنے خاندان میں ہی ایک شخص سے زیادتی کی تھی۔ لگتا ہے ُس کی دعا پوری ہو گئی ہے۔
*
"وہ مریض جو میں کبھی نہیں بھلا پاؤنگا"
اپنے باپ کے علاج کیلیئے ہسپتال میں باپ کے ساتھ ہی رہ رہا تھا۔ باپ کے کمرے سے نکل کر ساتھ والے کمرے میں سوئے ہوئے مریض کی تیمار داری کیلیئے اندر چلا گیا۔ مریض نے روتے ہوئے کہا؛ پُتر، کئی مہینوں کے بعدڈاکٹروں اور نرسوں کے علاوہ کوئی بندہ اگر میرے کمرے میں آیا ہے تو وہ تم ہو۔
*

"وہ مریض جو میں کبھی نہیں بھلا پاؤنگا"
عمر رسیدہ خاتون کو دل کے دورے میں جانبر کرنے کیلیئے سینے پر بجلی کے جھٹکے لگا ئے گئے۔ ہوش میں آنے پر اس نے سب سے پہلے اپنے کپڑے درست کیئے تھے
---
نوٹ: اوپر والا سٹیٹس کسی کا دل دکھانے یا دل آزاری کیلیئے نہیں لکھا۔ صرف یہ بتانے کیلیئے کہ عافیت اور صحت ہزار نعمت ہے۔ اللہ کا ہر حال میں شکر گزار رہنا چاہیئے۔ شکریہ
(نقل وچسپاں)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
انتخاب از ایڈمن: “الف،ب،نون”

واٹس ایپ:
https://chat.whatsapp.com/CTx8JZEe5sx9tHTVlV8KcA
ٹیلی گرام:
t.me/CutPiece
ہم کریں بات دلیلوں سے تو رد ہوتی ہے ​
اس کے ہونٹوں کی خموشی بھی سند ہوتی ہے ​


سانس لیتے ہوئے انساں بھی ہیں لاشوں کی طرح ​
اب دھڑکتے ہوئے دل کی بھی لحد ہوتی ہے​


اپنی آواز کے پتھر بھی نہ اس تک پہنچے ​
اس کی آنکھوں کے اشارے میں بھی زد ہوتی ہے ​


جس کی گردن میں ہے پھندا وہی انسان بڑا ​
سولیوں سے یہاں پیمائش قد ہوتی ہے


شعبدہ گر بھی پہنتے ہیں خطیبوں کا لباس ​
بولتا جہل ہے بدنام خرد ہوتی ہے


کچھ نہ کہنے سے بھی چھن جاتا ہے اعزاز سخن​
ظلم سہنے سے بھی ظالم کی مدد ہوتی ہے ​!!
مظفر وارثی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
انتخاب از ایڈمن: “الف،ب،نون”

واٹس ایپ:
https://chat.whatsapp.com/CTx8JZEe5sx9tHTVlV8KcA
ٹیلی گرام:
t.me/CutPiece
“فرمانبردار بِیوِی کیسی ہوتی ہے”

شوہر : آج کھانے میں کیا بناؤ گی ؟
بِیوِی : جو آپ کہیں .
شوہر : واہ بھئی واہ ایسا کرو دال چاول بنا لو .
بِیوِی : ابھی کل ہی تو کھائے تھے .
شوہر : تو سبزی روٹی بنا لو .
بِیوِی : بچے نہیں کھائیں گے .
شوہر : تو چھولے پوری بنا لو چینج ہو جائے گا .
بِیوِی : جی سا متلا جاتا ہے مجھے ہیوی ہیوی لگتا ہے .
شوہر : یار آلُو قیمہ بنا لو اچھا سا .
بِیوِی : آج منگل ہے گوشت نہیں ملے گا .
شوہر : پراٹھا انڈا ؟
بِیوِی : صبح ناشتے میں روز کون کھاتا ہے ؟
شوہر : چلو چھوڑو یار ہوٹل سے منگوا لیتے ہیں .
بِیوِی : روز روز باہر کا كھانا نقصان دہ ہوتا ہے جانتے ہیں آپ .
شوہر : کڑھی چاول .
بِیوِی : دہی کہاں ملے گا اِس وقت .
شوہر : پلاؤ بنا لو چکن کا .
بِیوِی : اِس میں ٹائم لگے گا پہلے بتاتے .
شوہر : پکوڑے ہی بنا لو اس میں ٹائم نہیں لگے گا .
بِیوِی : وہ کوئی كھانا تھوڑی ہے كھانا بتائیں پروپر .
شوہر : پِھر کیا بناؤ گی ؟
بِیوِی : جو آپ کہیں سرتاج . .
(نقل وچسپاں)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
انتخاب از ایڈمن: “الف،ب،نون”

واٹس ایپ:
https://chat.whatsapp.com/CTx8JZEe5sx9tHTVlV8KcA
ٹیلی گرام:
t.me/CutPiece
“وہ بچہ...”

آج سہہ پہر ایک دوست سے میٹنگ تھی۔ میٹنگ کے لیے کافی پلینٹ جوہر ٹاون پہنچنا تھا۔ میں وہاں پہنچا۔ ایک گھنٹہ میٹنگ جاری رہی۔ جب واپس جانے لگے تو پونے چھے کا وقت تھا ۔ ابھی مکمل اندھیرا نہیں چھایا تھا کافی پلینٹ کے سامنے سے ایک چھوٹا سا بچہ گرم انڈے کی صدا لگاتا گزر رہا تھا۔ اس کی عمر دس سے گیارہ سال رہی ہو گی۔ ننھے ننھے بازووں میں کولر اٹھا رکھا یقینا ان میں گرم انڈے تھے۔میں نے دل ہی دل میں اس کے لیے دعا کی۔ اور روانہ ہو گیا۔
ابھی ایک گھنٹہ قبل اپنی رہائش گاہ کے نزدیک ایک ہوٹل سے ڈنر کر کے باہر نکلا تو مجھے ایک مانوس سے آواز سنائی دی۔
“گرم انڈے۔”
میں نے فورا سوچا یہ تو اسی بچے کی آواز ہے یہ یہاں کہاں۔ شام کو یہ مجھے جہاں ملا وہ جگہ تین سے چار کلومیٹر دور ہے۔ میں نے دیکھا کہ بچے کے ہاتھ خالی ہیں اس کے ساتھ پندرہ سولہ سال کا ایک لڑکا ہے کولر اس کے ہاتھ میں ہے۔ بچہ صرف گرم انڈے کی آوازیں لگا رہا تھا۔
میں نے انھیں روکا اور دو انڈے خریدے
“تم کچھ دیر پہلے جوہر ٹاون تھے نا۔ شادی وال چوک کے پاس؟” میں نے پوچھا
“جی ہاں استاد جی۔” اس نے جواب دیا
“اس وقت تو اکیلے تھے اور کولر بھی خود اٹھا رکھا تھا۔ اب دو لوگ ہو ۔ کیا چکر ہے۔؟”
جواب میں اس نے جو کچھ بتایا اس کا یہ خلاصہ ہے۔
“اس کا نام اویس ہے۔ عمر نو سال ہے۔ والد فوت ہو چکے ہیں۔ ماں اور اےک چھوٹی بہن ہے۔ ماں دن میں ایک فیکٹری میں کام کرتی ہے۔ چھوٹی بہن کو ساتھ لے جاتی ہے۔ یہ دن میں ورکشاپ پر کام کرتا ہے۔ عصر کے وقت ماں آ کر انڈے ابالتی ہے۔ مغرب سے عشاء تک یہ انڈے سیل کر دیتا ہے کیوں کہ اس کے پاس صرف بیس یا پچیس انڈے ہوتے ہیں۔ اس کے بعد اس کا پڑوسی ( وہی پندرہ سولہ سالہ لڑکا جو ساتھ کھڑا تھا) انڈے بیچنے نکلتا ہے وہ گونگا ہے۔ ا سکی جگہ یہ صدائیں لگاتا ہے۔ گونگے کا کام چل رہا ہے اور وہ اسے روزانہ کے پچیس روپے دیتا ہے۔ اس گونگے لڑکے کے پاس پچاس سے ساٹھ انڈے ہوتے ہیں اپنے انڈوں کا پرافٹ اور گونگے لڑکے سے ملنے والے بیس پچیس روپے کے بعد وہ لڑکا دو سو بیس سے اڑھائی سو روپے لے کر گھر جاتا ہے لیکن ان اڑھائی سو روپے کے لیے وہ عصر سے لے کر سخت سردی کی رات میں دس بجے تک گلیوں میں دربدر پھرتا ہے۔”
میں نے اس کی ساری داستان سنی تو صیح معنوں میں میری آنکھوں میں آنسو آ گئے۔
“زندگی بہت مشکل ہے۔ بہت زیادہ۔ کچھ انسان صرف دکھ دیکھنے کو ہی پیدا ہوتے ہیں۔اللہ پاک آخرت میں ان دکھوں کے بدلے صبر کا اجر دے۔ آمین”
میں اس لڑکے کی زیادہ مدد نہیں کر سکا لیکن جتنا ممکن ہو سکا میں نے اسے پیسے دیے۔ پہلے تو انکاری رہا لیکن یقینا اس کی آنکھوں کے سامنے مجبوریاں آ گئیں ہوں گے پھر اس نے ننھے منے ہاتھوں سے وہ پیسے پکڑ لیے۔
(نقل وچسپاں)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
انتخاب از ایڈمن: “الف،ب،نون”

واٹس ایپ:
https://chat.whatsapp.com/CTx8JZEe5sx9tHTVlV8KcA
ٹیلی گرام:
t.me/CutPiece
کتاب سادہ رہے گی کب تک، کبھی تو آغازِ باب ہو گا​
جنہوں نے بستی اجاڑ ڈالی، کبھی تو ان کا حساب ہو گا​

وہ دن گئے جب کہ ہر ستم کو ادائے محبوب کہہ کے چپ تھے​
اٹھی جو اب ہم پہ اینٹ کوئی تو اس کا پتھر جواب ہو گا​

سحر کی خوشیاں منانے والو، سحر کے تیور بتا رہے ہیں​
ابھی تو اتنی گھٹن بڑھے گی کہ سانس لینا عذاب ہو گا​

سکوتِ صحرا میں بسنے والو، ذرا رُتوں کا مزاج سمجھو​
جو آج کا دن سکوں سے گزرا تو کل کا موسم خراب ہو گا​

نہیں کہ یہ صرف شاعری ہے، غزل میں تاریخِ بے حسی ہے​
جو آج شعروں میں کہہ دیا ہے، وہ کل شریکِ نصاب ہو گا
مرتضٰی برلاس
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
انتخاب: جناب “شبلی اعجازی” صاحب(بھوپال)

واٹس ایپ:
https://chat.whatsapp.com/CTx8JZEe5sx9tHTVlV8KcA
ٹیلی گرام:
t.me/CutPiece
"رابطے کی اخلاقیات"

ہمارے ہاں اس وقت جس رویے کی تہذیب کی اشد ضرورت ہے وہ "رابطے کی اخلاقیات" ہیں۔

آپ کے ہاتھ میں اگر موبائل ہے اور آپ کے پاس کسی کا نمبر ہے تو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ جس وقت چاہیں دوسرے کو لائن حاضر کردیں۔

یہی معاملہ whatsapp کاہے ،کوئی انسان غلطی سےواٹس ایپ پر اگر موجود ہے تو کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ روز صبح اسے السلام علیکم کے میسج کے ساتھ ایک دعا ،دو ہاضمے کے نسخے، ایک لیموں سے داغ صاف کرنے کا ٹوٹکا اور ایک عبرت والی کہانی بھیج دی جائے؟

یہاں ان چند اصلاح طلب پہلووں کی جانب توجہ دلانا چاہتا ہوں جن کا ہمیں روز سامنا کرنا پڑتا ہے۔

۱-کسی اجنبی کا بغیر کسی اطلاع کے کال کرنا:

ایک شخص اگر آپ کو جانتا نہیں ہے،تو آپ اسے براہ راست کال کیسے ملا سکتے ہیں،اگلا آپ سے بات کرنے کی پوزیشن میں ہے ،آپ سے بات کرنے میں comfortable ہے، وہ آپ سے آپ کے تعارف کے بارے میں تحقیق میں اپنا وقت صرف کرنا چاہتا ہے یا نہیں اس کا مارجن اسے ملنا چاہیے۔

لہذا کسی ایسے آدمی کو جو آپ کو جانتا نہیں ہے ہمیشہ ایک مختصر میسج کرنا چاہیے، جس مںں
1-اپنا تعارف
2-جس کے ذریعے نمبر ملا اس کا حوالہ
3-رابطہ کرنے کا مقصد
4- بات کرنے کے مناسب وقت کا پوچھا جائے۔

اس کے بعد آرام سے کم از کم تین دن کی خاموشی اختیار کی جائے تاکہ اگلا آدمی جس وقت فری ہو جواب دے دے۔

اس دوران بار بار ٹن ٹن کر کے یاد دلانا کہ آپ نے میرے میسج کا جواب نہیں دیا بہت ہی غلط حرکت ہے۔

۲-کال پر بات کرنے کا اصرار:

جب کسی کو فون ملایا جاتا ہے تو لازمی رسمی کلمات کا تبادلہ ہوتا ہے، حال چال پوچھا جاتا ہے، اسی طرح سے اصل مدعے تک آنے میں ذرا وقت لگتا ہے، پھر گفتگو کا آغاز ہوتا ہے۔

یہ رسمی تبادلہ خیالات سامنے والا کرنے کی خواہش رکھتا ہے، سامنے والا انسان اس کیفیت میں ہے کہ ابتدا سے راگ اٹھائے پھر کسی کو براہ راست مخاطب کرنا بھی ایک دباؤ کا کام ہے۔لہذا حتمی الامکان کوشش ہونی چاہیے کے کال سے پرہیز کیا جائے۔اس کا بہترین حل ہے voice msg ہے۔ جب چاہیں بھیج دیں۔اگلا بھی جب چاہے سن کر جواب دے دے گا

3-آدمی کی مصروفیات کا خیال کرنا:

میسج کیا جائے یا کال دونوں صورتوں میں اس بات کیا خیال رکھا جائے کہ اگلا بھی انسان ہے، اس کے فون پر بات کرنے کے علاوہ بھی کوئی مصروفیات ہیں، اس کا خاندان ہے، دوست ہیں، اس کے کھیل، کھانے کا وقت کا ہے، وہ تفریح پر باہر نکلا ہوا ہے۔چاہے وہ پلمبر ہو، الیکٹریشن ہو یا پھر ڈاکٹر ہو یا دین کا عالم ہو ہر ایک کی زندگی کی اپنی مصروفیات ہوتی ہیں۔لہذا ان مصروفیات کا مارجن دیے بغیر اس سے تقاضہ کرنا کہ وہ ہر وقت آپ کے لیے حاضر رہیں ایک بڑی زیادتی ہے۔
لہذا کسی سے کوئی کام ہو تو
1-کوشش کریں working hours میں فون کریں.
2-فون کرتے ہی معذرت کریں،
3-پھر اسے بتائیں کہ میں اتنی دیر بات کرنا چاہتا ہوں.
4-اگر ممکن نہیں آپ مصروف ہوں تو جب کہیں کال کر لوں گا۔
5-اور اگر کال نہیں اٹھائی گئی تو ایک دفعہ سے زیادہ کال نہ کریں۔اگرچہ آپ کو یقین ہو کہ اگلا انسان بہت فارغ آدمی ہے لیکن فارغ انسانوں کو بھی کبھی کبھار واش روم جانا پڑ جاتا ہے۔
(مجھے ایک صاحب نے بار بار کال کی، اٹھا نہیں سکا، بعد میں بتایا بھیا وہاں تھا، کہنے لگے اچھا تو آپ بتا دیتے،میں بار بار کال نہ کرتا گویا اب یہ بھی بتانے کی بات رہ گئی ہے)

4-مختصر پر اثر:

اس میں کوئی شبہ نہیں کہ انسانی طبائع میں اختلاف واقع ہوا ہے لوگوں کی اپنی اپنی حساسیتیں ہیں، بعض لوگ لمبی بات کرنے کا مزاج رکھتے ہیں، اگر رکھتے ہیں تو وہ یہ بھی جان لیں کہ سامنے والا ممکن ہے فطری طور پر مختصر بات کا مزاج رکھتا ہو، اب جب آپ کو قائل نہیں کیا جا سکتا کہ مختصر رکھیں تو اسے کیسے مجبور کیا جا سکتا ہے کہ لمبی سنے۔ لہذا اپنے ساتھ ساتھ دوسرے کے ذوق کا بھی خیال رکھیے۔اور کوشش کیجئے کہ بات اگلے کے لحاظ سے ہو نہ کہ اپنے لحاظ سے۔

5 کسی public figuresسے رابطے میں احتیاط:

جب کوئی آدمی کسی منصبی تقاضے، ذمےداری یا پھر صلاحیت کے لحاظ سے لوگوں میں کوئی مقام رکھتا ہو اور اس وجہ سے معروف ہو تو آپ غور کیجیے کتنے لوگ اس سے رابطے کی کوشش میں ہوتے ہوں گے۔سیکنڑوں، لہذا کوشش کیجئے کہ ضرورت پیدا ہونے پر رابطہ کیجئے ،آپ اپنی محبت کے اظہار کے لیے بھی یقینا رابطہ کر سکتے ہیں لیکن یہ بات ذہن میں رکھتے ہوئے کہ بیسیوں لوگ یہی معاملہ اس کے ساتھ کر رہے ہیں لہذا اگر وہ آپ کو attend نہیں کرتا تو اس وجہ سے مایوس نہ ہوں بلکہ اسے اس بات کا مارجن دیں۔

6-واٹس ایپ گروپ، ایک مہلک وبا:

واٹس ایپ گروپس نے رابطوں اور زندگی کی خوشیوں کو شیئر کرنے کی نئی راہیں کھولی ہیں، لیکن نئی راہوں کا مطلب یہ ہر گز نہیں ہے کہ موجود راہوں کو جام کر دیا جائے۔ اپنے آپ کو ان گروپس سے نکالیں جہاں دس بیس سے زائد لوگ ہوں اور وہ گروپ بغیر قواعد کے چلتا ہو۔ ورنہ آپ بیگم کے پاس بیٹھے ہیں اور ٹن ٹن جاری ہے، ابو کے ساتھ بات کر