“ریال و درہم کمانے والوں کے حالات اورانکی قربانیاں”
تعلیم سے زیادہ پیسہ اور کتاب سے زیادہ پاسپورٹ کی اہمیت رکھنے والی ہماری سوچ اور روایت کے مطابق ابا نے بھی پڑھائی چھوڑ کر پاسپورٹ بنوایا اور ریال و درہم سے گھر کی تقدیر بدلنے کا خواب سجائے سعودی عرب چلے گئے، اس میں کوئی شک نہیں کہ ریال و درہم سے ہمارے معاشی حالات بدلے ہیں، طرز زندگی بدلی ہے، نمائش و زیبائش کا چلن بدلا ہے امیر و غریب کا معیار بدلا ہے اگر کچھ نہیں بدلا تو تعلیمی معیار اور سیاسی سوچ نہیں بدلی سالوں پہلے تعلیمی اور سیاسی طور پر ہم جہاں تھے آج بھی وہیں ہیں بلکہ اب تو اور بھی پسماندہ ، نہ ہم سیاست میں ہیں نہ حکومت میں نہ صحافت میں نہ عدالت میں، کسی بھی موڑ پرکسی بھی وقت کسی بھی دھرم سینا اور بھیڑ کے ہاتھوں مار دیئے جائیں نہ تو ہماری کوئی آواز ہے اور نہ ہی کوئی پرسان حال ، درہم و دینار کی بدولت گاڑی ، گھوڑے ، بنگلے ، محلات تو بنے لیکن ڈاکٹر انجینیئر، ٹیچر آئی ایس ، پی سی ایس نہیں - عرب ممالک پر انحصاری ، تعلیمی پستی ، سیاست اور شریعت میں آپسی رساکشی کے باعث ملک میں ہم وہ مقام حاصل نہیں کر سکے جو مقام ملک میں رہ کر تعلیم و معاش حاصل کرنے والی دوسری قوموں نے کیا،
قسمت سنوارنے کی خاطر ابا نے ملک چھوڑ تو دیا لیکن آج کے اس ٹکنیکل دور میں اعلیٰ تعلیم یافتہ ، ہنرمند لوگوں کو نوکری کا حصول مشکل ہے تو غیر تعلیم یافتہ اور بے ہنر لوگوں کے لئے نوکری کہاں ، سعودی عرب کے بدلتے حالات اور بڑھتی ہوئی بے روزگاری کے سبب جب ابا کو کوئی کام نہیں ملا تو انھوں نے بھی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے نوکری کے حصول کے لئےسب سے آسان اور ہمارے نوجوانوں کا پسندیدہ پیشہ ڈرائیونگ گاوں کے دوستوں کی مدد سے سیکھ ہی لی اور ایک سعودی کے گھر میں سواق خاص بن گئے ، گھر خان صاحب کہے جانے والے ابا اب سعودی میں سواق " فیملی ڈرائیور"کہے جانے لگے ، معاشرے کے اس روئیے پر قربان جاوں کہ گھر جس کام کو کرنے میں عار محسوس ہوتی ہے سماج حقارت کی ترچھی نگاہ سے دیکھتا ہے پردیس میں وہ سارے کام کرنے میں کوئی عار کوئی شرم نہیں اپنے ملک میں سبزی اور پھل بیچنے والے کے گھر رشتہ نہ کرنے والا معاشرہ سعودی میں سبزی اور مچھلی بیچنے والوں کے گھر فخریہ انداز میں بیٹا بیچ دیتا ہے سبزی بیچ کر روپیہ کمانے والوں کی عزت تو نہیں لیکن برف بیچ کر ریال و درہم کمانے والوں کی عزت میں کوئی کمی نہیں،
خدا کی حکمت ، اپنی قسمت اور خلیجی حالات سے بےخبر دنیا کی چمک دمک دیکھ کر ابا سعودی عرب تو گئے لیکن قسمت سے آگے نہیں جا سکے بڑی مشقت کے بعد کہیں کام ملتا تو تنخواہ نہیں کہیں تنخواہ ملتی تو کام نہیں مشکل سے ملنے والی ڈرائیور کی یہ نوکری بھی چھوٹ گئی لیکن حسن اتفاق کہ ابا اس بار جس کفیل کے یہاں ڈرائیور تھے وہ ایک ڈاکٹر تھا اسکو ہاسپیٹل چھوڑنا اور واپس لانا یہی انکی کل ڈیوٹی تھی ڈرائیور کی اس نوکری نے ابا کو بہت پیسہ تو نہیں دیا لیکن ڈاکٹر کی صحبت نے انکے اندر یہ احساس ضرور پیدا کیا کہ کاش میں بھی پڑھا ہوتا اور یہی احساس سعوی عرب میں ابا کی کل کمائی تھی اور اسی احساس کے ساتھ انھوں نے اپنے آپ سے وعدہ کیا کہ گھر اس وقت تک نہیں جاونگا جب تک بچوں کو پڑھا نہ لوں،
اللہ نے ابا کی قسمت میں رزق تنگ تو نہیں لیکن اس قدر مختصر لکھا تھا کہ سعودی عرب کی تپتی ریت گرم ہواوں میں دن بھر پسینہ نچوڑنے کے بعد بھی انکی آمدنی وہیں ختم ہو جاتی جہاں سے غربت شروع ہوتی لیکن دنیا کی نظر میں ابا سعودی رہتے تھے عرب ممالک ریال و درہم کمانے والوں کے گھر میں تنگی ہوگی گاوں ، محلہ ، پڑوس معاشرہ نہ کبھی اس بات کو ماننے کو تیار ہوتا اور نہ سمجھنے کو اپنی ہانڈی پر نظر رکھنے کے بجائے دوسروں کی ہانڈی پر نظر رکھنے والے اس معزز معاشرے میں ، اپنی عزت اور خاندانی وقارکا بھرم رکھنے کے لئے اماں ہر روز جیتیں اور ہر روز مرتیں ابا کے بھیجے گئے ہر مینے پانچ سے سات ہزار میں گھر کی عزت کو سفید کپڑوں میں ملبوس رکھنا دو دو جوان بہنوں کی شادی کا جہیز بنانا ، ہمیں اسکول بھیجنا ، آرزوں اور خواہشوں کو مار کر پڑوسیوں کے سامنے خوشی کا اظہار کرنا اماں کے لئے کس قدر مشکل تھا رات کی تنہائی میں کبھی کبھی انکی آنکھوں سے بہنے والے آنسو سب ظاہر کر دیتے انکی آنکھوں سے ٹپکے ہوئے موتی اگر غلطی سے ہمیں بیدار کر دیتے تو یہی کہتی کہ ایک حسین خواب تھا جو آنکھوں کو نم کرگیا مجبوریوں اور پریشانیوں میں بھیگا ہوا اماں کا یہ لہجہ بتاتا کہ پرییشان آنکھوں میں حسین خواب کہا ہوتے ہیں،
لیکن ماں کی ممتا ہمیں خوش رکھنے کے لئے آنسووں کے ساتھ اپنے غموں کو بھی پی جاتی لیکن کسی پریشانی کا اظہار نہیں کرتی، ہم سفید پوش لوگوں کا المیہ ہے کہ بھوکے مر جائیں گے لیکن اپنی خوداری اپنی غیرت اپنے خاندانی وقار کا بھرم رکھنے کی خاطر نہ کسی کے سامنے ہاتھ پھیلا سکتے ہیں اور نہ ہی کسی کے سامنے اپنی حالت زار بیان کر سکتے ، اماں اسی سات ہزار م
تعلیم سے زیادہ پیسہ اور کتاب سے زیادہ پاسپورٹ کی اہمیت رکھنے والی ہماری سوچ اور روایت کے مطابق ابا نے بھی پڑھائی چھوڑ کر پاسپورٹ بنوایا اور ریال و درہم سے گھر کی تقدیر بدلنے کا خواب سجائے سعودی عرب چلے گئے، اس میں کوئی شک نہیں کہ ریال و درہم سے ہمارے معاشی حالات بدلے ہیں، طرز زندگی بدلی ہے، نمائش و زیبائش کا چلن بدلا ہے امیر و غریب کا معیار بدلا ہے اگر کچھ نہیں بدلا تو تعلیمی معیار اور سیاسی سوچ نہیں بدلی سالوں پہلے تعلیمی اور سیاسی طور پر ہم جہاں تھے آج بھی وہیں ہیں بلکہ اب تو اور بھی پسماندہ ، نہ ہم سیاست میں ہیں نہ حکومت میں نہ صحافت میں نہ عدالت میں، کسی بھی موڑ پرکسی بھی وقت کسی بھی دھرم سینا اور بھیڑ کے ہاتھوں مار دیئے جائیں نہ تو ہماری کوئی آواز ہے اور نہ ہی کوئی پرسان حال ، درہم و دینار کی بدولت گاڑی ، گھوڑے ، بنگلے ، محلات تو بنے لیکن ڈاکٹر انجینیئر، ٹیچر آئی ایس ، پی سی ایس نہیں - عرب ممالک پر انحصاری ، تعلیمی پستی ، سیاست اور شریعت میں آپسی رساکشی کے باعث ملک میں ہم وہ مقام حاصل نہیں کر سکے جو مقام ملک میں رہ کر تعلیم و معاش حاصل کرنے والی دوسری قوموں نے کیا،
قسمت سنوارنے کی خاطر ابا نے ملک چھوڑ تو دیا لیکن آج کے اس ٹکنیکل دور میں اعلیٰ تعلیم یافتہ ، ہنرمند لوگوں کو نوکری کا حصول مشکل ہے تو غیر تعلیم یافتہ اور بے ہنر لوگوں کے لئے نوکری کہاں ، سعودی عرب کے بدلتے حالات اور بڑھتی ہوئی بے روزگاری کے سبب جب ابا کو کوئی کام نہیں ملا تو انھوں نے بھی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے نوکری کے حصول کے لئےسب سے آسان اور ہمارے نوجوانوں کا پسندیدہ پیشہ ڈرائیونگ گاوں کے دوستوں کی مدد سے سیکھ ہی لی اور ایک سعودی کے گھر میں سواق خاص بن گئے ، گھر خان صاحب کہے جانے والے ابا اب سعودی میں سواق " فیملی ڈرائیور"کہے جانے لگے ، معاشرے کے اس روئیے پر قربان جاوں کہ گھر جس کام کو کرنے میں عار محسوس ہوتی ہے سماج حقارت کی ترچھی نگاہ سے دیکھتا ہے پردیس میں وہ سارے کام کرنے میں کوئی عار کوئی شرم نہیں اپنے ملک میں سبزی اور پھل بیچنے والے کے گھر رشتہ نہ کرنے والا معاشرہ سعودی میں سبزی اور مچھلی بیچنے والوں کے گھر فخریہ انداز میں بیٹا بیچ دیتا ہے سبزی بیچ کر روپیہ کمانے والوں کی عزت تو نہیں لیکن برف بیچ کر ریال و درہم کمانے والوں کی عزت میں کوئی کمی نہیں،
خدا کی حکمت ، اپنی قسمت اور خلیجی حالات سے بےخبر دنیا کی چمک دمک دیکھ کر ابا سعودی عرب تو گئے لیکن قسمت سے آگے نہیں جا سکے بڑی مشقت کے بعد کہیں کام ملتا تو تنخواہ نہیں کہیں تنخواہ ملتی تو کام نہیں مشکل سے ملنے والی ڈرائیور کی یہ نوکری بھی چھوٹ گئی لیکن حسن اتفاق کہ ابا اس بار جس کفیل کے یہاں ڈرائیور تھے وہ ایک ڈاکٹر تھا اسکو ہاسپیٹل چھوڑنا اور واپس لانا یہی انکی کل ڈیوٹی تھی ڈرائیور کی اس نوکری نے ابا کو بہت پیسہ تو نہیں دیا لیکن ڈاکٹر کی صحبت نے انکے اندر یہ احساس ضرور پیدا کیا کہ کاش میں بھی پڑھا ہوتا اور یہی احساس سعوی عرب میں ابا کی کل کمائی تھی اور اسی احساس کے ساتھ انھوں نے اپنے آپ سے وعدہ کیا کہ گھر اس وقت تک نہیں جاونگا جب تک بچوں کو پڑھا نہ لوں،
اللہ نے ابا کی قسمت میں رزق تنگ تو نہیں لیکن اس قدر مختصر لکھا تھا کہ سعودی عرب کی تپتی ریت گرم ہواوں میں دن بھر پسینہ نچوڑنے کے بعد بھی انکی آمدنی وہیں ختم ہو جاتی جہاں سے غربت شروع ہوتی لیکن دنیا کی نظر میں ابا سعودی رہتے تھے عرب ممالک ریال و درہم کمانے والوں کے گھر میں تنگی ہوگی گاوں ، محلہ ، پڑوس معاشرہ نہ کبھی اس بات کو ماننے کو تیار ہوتا اور نہ سمجھنے کو اپنی ہانڈی پر نظر رکھنے کے بجائے دوسروں کی ہانڈی پر نظر رکھنے والے اس معزز معاشرے میں ، اپنی عزت اور خاندانی وقارکا بھرم رکھنے کے لئے اماں ہر روز جیتیں اور ہر روز مرتیں ابا کے بھیجے گئے ہر مینے پانچ سے سات ہزار میں گھر کی عزت کو سفید کپڑوں میں ملبوس رکھنا دو دو جوان بہنوں کی شادی کا جہیز بنانا ، ہمیں اسکول بھیجنا ، آرزوں اور خواہشوں کو مار کر پڑوسیوں کے سامنے خوشی کا اظہار کرنا اماں کے لئے کس قدر مشکل تھا رات کی تنہائی میں کبھی کبھی انکی آنکھوں سے بہنے والے آنسو سب ظاہر کر دیتے انکی آنکھوں سے ٹپکے ہوئے موتی اگر غلطی سے ہمیں بیدار کر دیتے تو یہی کہتی کہ ایک حسین خواب تھا جو آنکھوں کو نم کرگیا مجبوریوں اور پریشانیوں میں بھیگا ہوا اماں کا یہ لہجہ بتاتا کہ پرییشان آنکھوں میں حسین خواب کہا ہوتے ہیں،
لیکن ماں کی ممتا ہمیں خوش رکھنے کے لئے آنسووں کے ساتھ اپنے غموں کو بھی پی جاتی لیکن کسی پریشانی کا اظہار نہیں کرتی، ہم سفید پوش لوگوں کا المیہ ہے کہ بھوکے مر جائیں گے لیکن اپنی خوداری اپنی غیرت اپنے خاندانی وقار کا بھرم رکھنے کی خاطر نہ کسی کے سامنے ہاتھ پھیلا سکتے ہیں اور نہ ہی کسی کے سامنے اپنی حالت زار بیان کر سکتے ، اماں اسی سات ہزار م
یں اپنی ساری خواہشوں کا گلا گھونٹ کر جیسے تیسے ہماری ضرورتوں کو پورا کر کے دنیا کے سامنے مسکراتی رہتی، ہمارے اچھے مستقبل کی خاطر ابا کا سالوں سال سعودی عرب رہنا ہمیں دکھ تو دیتا ویڈو کال پر انکی محبت اور حسرت بھری نگاہیں دیکھ کر دل خون کے آنسو تو روتا اولاد کے لئے ماں باپ کی اس ایثار اور قربانی پر دکھ اور ملال تو تھا لیکن کلیجہ اس وقت پھٹ گیا جب اماں مجبور ہوکر میرے اسکول کی فیس کے لئے محض ایک ہزار ادھار مانگنے مجھے رحمان دادا کے گھر بھیج دیا ایک ہزار لینے کے لئے میں انکے گھر کے سنگ مر مر لگے منقش ستون کی آڑ میں شرمندگی چھپائے، نظریں جھکائے، مجبوری اٹھائے گھنٹوں کھڑا رہا لیکن جیسے کسی نے سنا ہی نہیں گھنٹوں کھڑے رہنے کے بعد جب مایوسی لئے واپس جانے لگا تو انکی بڑی بہو نے کہہ دیا کہ جب دیکھو پیسے کے لئے منھ اٹھائے کھڑے رہتے ہیں جیسے یہاں پیسوں کے پیڑ لگے ہیں جب اوقات نہیں تو کیا ضرورت پڑھانے کی کھانے کو نہیں لیکن خواب نوابوں والے پتا نہیں کون سا تمغہ مل جائے گا پڑھا کے،
لفظوں کے دانت تو نہیں ہوتے لیکن جب وہ کاٹتے ہیں تو جسم کو نہیں روح کو زخمی کرجاتے ہیں اس دن ان کا طنزیہ جملہ مغروری لہجہ میرے سینے میں خنجر کی طرح اتر گیا میری غربت اور ماں کی تربیت نے میرے اندر اتنی ہمت نہیں پیدا کی کہ میں انکا جواب دے پاتا،
پیسے کی جگہ انکا نشتری لہجہ دل میں چبھائے گھر واپس آیا اور ماں کے پہلو میں پھوٹ پھوٹ کر رو پڑا اماں نے کہا کوئی بات نہیں بیٹا دولت سمجھنے والے تعلیم نہیں سمجھتے وقت بہت بڑا مرہم ہے یہ زخم بھی بھر دیگا دوسرے دن ابا کا فون آیا ان سے کہ دیا کہ ابا مجھے پڑھانے کا خواب چھوڑ کر سعودی عرب بلا لیں بھوک تو برداشت ہوجاتی ہے لیکن لوگوں کی تلخ باتیں اور لفظوں کی چوٹ برداشت نہیں ہوتی کسی بھی رنج و الم پر نہ پسیجنے والی ابا کی آنکھ میری باتوں پر بے تہاشہ برس پڑیں خود کو سنبھالتے ہوئے کانپتے لہجے میں کہا بیٹا اگر تم چاہتے ہو کہ تماری اولاد اور آنے والی نسلوں کو لفظوں کے زخم نہ سہنا پڑے تو میری طرح سعودی آنے کی ضد مت کرو اس وقت پریشانی ضرور ہے تنگی ضرور ہے اپنی قسمت اور خدا کی مشیئت سمجھ کر لوگوں کی باتوں کو نظر انداز کرکے آدھی روٹی اور پھٹے کپڑے پر گزارا کرلو لیکن پڑ ھنے سے انکار مت کرو بیٹا میں تمہیں پڑھانے کے لئے اپنے خون کا آخری قطرہ سعودی عرب کی اس تپتی ریت میں نچوڑ دونگا لیکن ہار نہیں مانونگا پھر تم کیوں ہار مانتے ہو انٹر میڈیٹ کے بعد تمہیں میڈیکل کی تیاری کرنی ہے ایم بی بی ایس کا ٹیسٹ دینا ہے بیٹا میں اپنی قسمت ، اللہ کے فیصلےاور اسکے دئیے گئے رزق سے آگے تو نہیں جا سکتا لیکن تم سے وعدہ کرتا کہ اپنی آنے والی نسل کے مستقبل کی خاطر اپنی جوانی کے قیمتی سال اس صحرا میں گزار دونگا لیکن میں گھر آکر پوری زندگی لوگوں کے سامنے اپنی اولادوں کو رسوا ہوتے نہیں دیھ سکتا بیٹا میری قربانی اور جذبات کی قدر کرنا تمہاری کامیابی میری آنکھوں میں روشنی بھر دے گی عرب کی تپتی ریت میں کام کرنے کا حوصلہ دے گی ، ایک ڈاکٹر کا باپ کہلائے جانے پر میرے یہ سارے زخم بھر جائیں گے،
ابا کا مشفقانہ انداز، جذباتی لہجہ حوصلہ بن کر مرے دل و دماغ میں اتر گیا اور میں نے بھی اپنے آپ سے وعدہ کیا کہ ، انکی اس قربانی کو رائیگا نہیں جانے دونگا انکے خوابوں کی تکمیل اپنا مقصد بنایا کتابوں سے پیار کیا نیندوں کو حرام کیا اور پہلے ہی ٹیسٹ میں ایم بی بی ایس کا امتحان پاس کرلیا ابا نے سنا تو انکی خوشی کی انتہا نہ رہی پیسوں کا انتظام کر کے میرا ایڈمیشن کرا یا اور خود چھ سال گھر نہیں آئے، میرے ڈاکٹر بننے کے کچھ مہینوں بعد ابا گھر آئے میں اسوقت دلہی کے ایک ہاسپیٹل میں پریکٹس شروع کر چکا تھا اور ایم ڈی کی تیاری کر رہا تھا ابا گھر پہونچے دوسرے دن میں فلائٹ سے گھر پہونچا آٹھ سال بعد ابا کو دیکھ کر جذبات پر قابو نہ پاسکا انکی اس قربانی اور اماں کی جفاکشی کو سوچ کر آنکھیں بے تحاشہ چھلک پڑیں کچھ دن ابا کے ساتھ گزارنے کے بعد دہلی واپس چلا گیا دو مہینے بعد ایم ایس کاٹیسٹ بھی نکال لیا اور نیرو سرجن بن گیا کچھ سالوں بعد ابا کے نام سے اپنا ہاسپیٹل بنوایا تو ابا کی خواہش کے مطابق گاوں کے لوگوں کا علاج فری رکھا، ایک دن رات کو جیسے گھر پہونچا ہاسپیٹل سے فون آیا کہ سر ایک ایمرجنسی کیس ہے وہ بھی آپکے گاوں کا کھانا ٹیبل پر رکھا چھوڑ کر ہاسپیٹل پہونچا دیکھا تو رحیم دادا باہر کھڑے ہیں جلدی سے گاڑی سے باہر نکلا انکو سلام کیا حال دریافت کرتے ہوئے ایمرجنسی وارڈ گیا دیکھا تو ایک عورت اسٹریچر پر زندگی اور موت کے بیچ لیٹی ہوئی جلدی سے آئی سی یوICU میں داخل کیا علاج شروع کیا دوسرے دن ڈاکٹروں کی ایک ٹیم کے ساتھ آپیریشن کیا کئی ہاسپیٹل سے لاعلاج ہونے کے بعد بالآخر اللہ نے جب انھیں میرے ہاتھوں شفا دی تو ہوش میں آنے کے بعد مجھے دیکھ کر رو پڑیں شاید انکو وہ بات یاد آگئی جب میں انکے گھر اپنی اسی تعلیم ک
لفظوں کے دانت تو نہیں ہوتے لیکن جب وہ کاٹتے ہیں تو جسم کو نہیں روح کو زخمی کرجاتے ہیں اس دن ان کا طنزیہ جملہ مغروری لہجہ میرے سینے میں خنجر کی طرح اتر گیا میری غربت اور ماں کی تربیت نے میرے اندر اتنی ہمت نہیں پیدا کی کہ میں انکا جواب دے پاتا،
پیسے کی جگہ انکا نشتری لہجہ دل میں چبھائے گھر واپس آیا اور ماں کے پہلو میں پھوٹ پھوٹ کر رو پڑا اماں نے کہا کوئی بات نہیں بیٹا دولت سمجھنے والے تعلیم نہیں سمجھتے وقت بہت بڑا مرہم ہے یہ زخم بھی بھر دیگا دوسرے دن ابا کا فون آیا ان سے کہ دیا کہ ابا مجھے پڑھانے کا خواب چھوڑ کر سعودی عرب بلا لیں بھوک تو برداشت ہوجاتی ہے لیکن لوگوں کی تلخ باتیں اور لفظوں کی چوٹ برداشت نہیں ہوتی کسی بھی رنج و الم پر نہ پسیجنے والی ابا کی آنکھ میری باتوں پر بے تہاشہ برس پڑیں خود کو سنبھالتے ہوئے کانپتے لہجے میں کہا بیٹا اگر تم چاہتے ہو کہ تماری اولاد اور آنے والی نسلوں کو لفظوں کے زخم نہ سہنا پڑے تو میری طرح سعودی آنے کی ضد مت کرو اس وقت پریشانی ضرور ہے تنگی ضرور ہے اپنی قسمت اور خدا کی مشیئت سمجھ کر لوگوں کی باتوں کو نظر انداز کرکے آدھی روٹی اور پھٹے کپڑے پر گزارا کرلو لیکن پڑ ھنے سے انکار مت کرو بیٹا میں تمہیں پڑھانے کے لئے اپنے خون کا آخری قطرہ سعودی عرب کی اس تپتی ریت میں نچوڑ دونگا لیکن ہار نہیں مانونگا پھر تم کیوں ہار مانتے ہو انٹر میڈیٹ کے بعد تمہیں میڈیکل کی تیاری کرنی ہے ایم بی بی ایس کا ٹیسٹ دینا ہے بیٹا میں اپنی قسمت ، اللہ کے فیصلےاور اسکے دئیے گئے رزق سے آگے تو نہیں جا سکتا لیکن تم سے وعدہ کرتا کہ اپنی آنے والی نسل کے مستقبل کی خاطر اپنی جوانی کے قیمتی سال اس صحرا میں گزار دونگا لیکن میں گھر آکر پوری زندگی لوگوں کے سامنے اپنی اولادوں کو رسوا ہوتے نہیں دیھ سکتا بیٹا میری قربانی اور جذبات کی قدر کرنا تمہاری کامیابی میری آنکھوں میں روشنی بھر دے گی عرب کی تپتی ریت میں کام کرنے کا حوصلہ دے گی ، ایک ڈاکٹر کا باپ کہلائے جانے پر میرے یہ سارے زخم بھر جائیں گے،
ابا کا مشفقانہ انداز، جذباتی لہجہ حوصلہ بن کر مرے دل و دماغ میں اتر گیا اور میں نے بھی اپنے آپ سے وعدہ کیا کہ ، انکی اس قربانی کو رائیگا نہیں جانے دونگا انکے خوابوں کی تکمیل اپنا مقصد بنایا کتابوں سے پیار کیا نیندوں کو حرام کیا اور پہلے ہی ٹیسٹ میں ایم بی بی ایس کا امتحان پاس کرلیا ابا نے سنا تو انکی خوشی کی انتہا نہ رہی پیسوں کا انتظام کر کے میرا ایڈمیشن کرا یا اور خود چھ سال گھر نہیں آئے، میرے ڈاکٹر بننے کے کچھ مہینوں بعد ابا گھر آئے میں اسوقت دلہی کے ایک ہاسپیٹل میں پریکٹس شروع کر چکا تھا اور ایم ڈی کی تیاری کر رہا تھا ابا گھر پہونچے دوسرے دن میں فلائٹ سے گھر پہونچا آٹھ سال بعد ابا کو دیکھ کر جذبات پر قابو نہ پاسکا انکی اس قربانی اور اماں کی جفاکشی کو سوچ کر آنکھیں بے تحاشہ چھلک پڑیں کچھ دن ابا کے ساتھ گزارنے کے بعد دہلی واپس چلا گیا دو مہینے بعد ایم ایس کاٹیسٹ بھی نکال لیا اور نیرو سرجن بن گیا کچھ سالوں بعد ابا کے نام سے اپنا ہاسپیٹل بنوایا تو ابا کی خواہش کے مطابق گاوں کے لوگوں کا علاج فری رکھا، ایک دن رات کو جیسے گھر پہونچا ہاسپیٹل سے فون آیا کہ سر ایک ایمرجنسی کیس ہے وہ بھی آپکے گاوں کا کھانا ٹیبل پر رکھا چھوڑ کر ہاسپیٹل پہونچا دیکھا تو رحیم دادا باہر کھڑے ہیں جلدی سے گاڑی سے باہر نکلا انکو سلام کیا حال دریافت کرتے ہوئے ایمرجنسی وارڈ گیا دیکھا تو ایک عورت اسٹریچر پر زندگی اور موت کے بیچ لیٹی ہوئی جلدی سے آئی سی یوICU میں داخل کیا علاج شروع کیا دوسرے دن ڈاکٹروں کی ایک ٹیم کے ساتھ آپیریشن کیا کئی ہاسپیٹل سے لاعلاج ہونے کے بعد بالآخر اللہ نے جب انھیں میرے ہاتھوں شفا دی تو ہوش میں آنے کے بعد مجھے دیکھ کر رو پڑیں شاید انکو وہ بات یاد آگئی جب میں انکے گھر اپنی اسی تعلیم ک
ے لئے ایک ہزار ادھار مانگنے گیا تھا تو انھوں کہا تھا کہ جب اوقات نہیں تو کیا ضرورت ہے پڑھانے کی اور پڑھ کر کون سا تمغہ جیت لوگے، وہ میرا ہاتھ پکڑ کر مجھ سے معافی مانگنے لگیں میں انکو اچھی صحت کی دعاء دیتے ہوئے صرف اتنا کہا کہ بھابھی دولت خوشحالی دیتی ہے اور تعلیم زندگی امیری پیسہ دیتی ہے اور تعلیم سلیقہ غربت پر طنز کریئے لیکن تعلیم پر نہیں، میرے علاج نے انکی زنگی بھی بدل دی اور انکی دنیا بھی کچھ دن بعد انھوں نے میرے نام سے ایک اسکول بنوایا جس میں غریب بچوں کی تعلیم کو فری رکھا،
اللہ انکو جزائے خیر دے اور ہمیں والدین کی عظمت اور انکے تقدس کے احترام کی توفیق دے،آمین جزاکم اللہ!
عزیز اعظمی،اسرولی،سرائے میر،اعظم گڑھ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
انتخاب از ممبر: جناب “عبدالقادر” صاحب،مرادآباد
واٹس ایپ:
https://chat.whatsapp.com/CBzhqJzdoyx0mrMIYvcVVe
ٹیلی گرام:
t.me/CutPiece
اللہ انکو جزائے خیر دے اور ہمیں والدین کی عظمت اور انکے تقدس کے احترام کی توفیق دے،آمین جزاکم اللہ!
عزیز اعظمی،اسرولی،سرائے میر،اعظم گڑھ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
انتخاب از ممبر: جناب “عبدالقادر” صاحب،مرادآباد
واٹس ایپ:
https://chat.whatsapp.com/CBzhqJzdoyx0mrMIYvcVVe
ٹیلی گرام:
t.me/CutPiece
“مُلّا”
لیبارٹری میں پروفیسر ہمیں مینڈک کے پھیپھڑوں کے خلیات کا نظارہ خورد بین سے باری باری کروا رہے تھے اور ہم ابکائیاں لے لے کر نظارے سے محظوظ ہو رہے تھے۔ مُلا کی باری آئی (قریباً ہر کلاس میں ایک داڑھی والا لڑکا ہوتا ہے جس کا نام مُلا ہی پڑ جاتا ہے) تو عادت کے مطابق اس نے خوب تسلی سے خلیات دیکھے اور مستقل سبحان اللہ کا ورد کرتا رہا۔ اس پر ہمارے روشن خیال پروفیسر کا چہرہ کچھ مزید ترچھا سا ہوتا چلا گیا اور ناپسندیدگی کے تاثرات چہرے پر بد نما پھوڑوں کی طرح ابھر آئے۔
"سر مجھے اجازت مل سکتی ہے؟ ظہر کا وقت ہو گیا ہے۔" ملا نے سر اٹھا کر پروفیسر سے سوال کیا۔
"ہاں ہاں بالکل جاؤ بھئی۔ ویسے بھی یہاں تو تمہارے مطلب کی باتیں زیادہ ہوتی بھی نہیں۔ مجھے لگتا ہے تمہیں زیادہ تر وقت مسجد مدرسوں میں ہی گزارنا چاہیے۔ تم اسی قابل ہو۔"
پروفیسر صاحب الفاظ میں جتنے نشتر چھپا کر چلا سکتے تھے چلا دیے۔ مُلا نے مسکراتے ہوئے شکریہ ادا کیا اور لیب سے باہر نکل گیا۔
"دنیا چاند پر پہنچ گئی ہے اور یہ ملا آج بھی زمین پر ٹکریں مارنے میں مصروف ہے۔"
پروفیسر باآوازِ بلند بڑبڑائے۔ کلاس میں سارے ہی مسلمان تھے مگر "نمبر" چونکہ پروفیسر صاحب کے ہاتھ میں تھے اس لیے بعض لڑکے لڑکیاں خاموش رہے اور باقیوں نے مسکرا کر یا ہنس کر پروفیسر صاحب کو خوش کرنے کی کوشش کی۔ سر کی بدقسمتی کہ کلاس میں مجھ جیسا بد زبان بھی موجود تھا جسے اگر مُلا کی کوئی خاص پروا نہیں تھی تو "نمبروں'' کی تو بالکل بھی نہیں تھی۔
"سر ۔ ۔ ۔ آپ کتنی بار چاند پر جا چکے ہیں؟" میں نے معصومیت سے پوچھا۔
"کیا مطلب؟"
پروفیسر ایک جھٹکے سے سیدھے ہو گئے۔
''مطلب سر آپ کو تو زمین پر ٹکریں مارتے کبھی نہیں دیکھا اور آپ نے جو ابھی ابھی مُلا کی چاند پر نہ جا سکنے کی وجہ بتائی ہے اس اعتبار سے تو آپ کئی بار چاند کی سیر کر کے آ چکے ہونگے۔ پلیز بتائیں نا کیسا ہوتا ہے چاند اور کیا واقعی چاند پر پریاں رہتی ہیں؟"
میں بولنا شروع ہوا تو روانی میں بولتا ہی چلا گیا۔ جب پروفیسر کی طرف دیکھا تو ان کی آنکھیں غصے کے مارے ابل کر باہر آنے کا راستہ ڈھونڈ رہی تھیں۔
"شٹ اپ۔ یو بلڈی سٹوپڈ۔ میں بیالوجسٹ ہوں۔ میرا کام چاند پر جانا نہیں ہے!!!"پروفیسر چلائے۔
"اوہ ہ ۔ ۔ ۔ تو آپ کو شاید کسی نے یہ بتا دیا ہے کہ مُلا خلاء باز ہے اور بیالوجی پڑھنے شوقیہ آتا ہے!" چڑے ہوئے کو مزید چڑانا میرا پسندیدہ مشغلہ تھا۔ ویسے بھی اب تو سر نے مجھے شٹ اپ اور سٹوپڈ جیسے سخت الفاظ کہہ کر باقاعدہ اعلانِ جنگ کر دیا تھا۔
"اگر خود نہیں ہے تو دوسروں کو بھی نہیں بننے دینا اس نے اور اس کی قبیل نے۔ یہ مُلے مسجدوں میں بیٹھ کر لوگوں کو لوٹے سے وضو کرنا سکھاتے ہیں یہ نہیں بتاتے کہ راکٹ بناؤ مشینیں بناؤ۔" پروفیسر نے مٹھیاں بھینچ کر بے ربط اور نامکمل سا جواب دیا۔ ان کا بس نہیں چل رہا تھا کہ مینڈک کے بجائے میرے ٹکڑے کر کے خورد بین کے نیچے ڈال دیں۔
"سر معاف کیجیے گا۔ مگر امریکہ کے چرچ میں بیٹھا پادری بھی لوگوں کو مشینیں بنانے کا نہیں کہتا۔ وہ بھی لوگوں کا بپتسمہ ہی کرتا ہے، لہک لہک کر آرکیسٹرا کے ساتھ عبادات کرتا ہے اور "مقدس روح" کے ساتھ باتیں کرکے لوگوں کے مسئلے حل کرتا ہے۔ مگر وہاں کا کوئی دانشور کوئی سائنس دان یہ کہتا ہوا نہیں نظر آتا کہ پادری ابھی تک لوگوں کو مقدس دعائیں یاد کرواتا ہے۔ کیونکہ وہاں ہر کوئی اپنی اپنی ذمہ داری سمجھتا ہے اور اپنی اپنی ناکامی اور نااہلی کو تسلیم کرتا ہے۔ اگر ہمارے ہاں کا سائنسدان چاند پر نہیں پہنچ سکا تو اس کی وجہ یہ نہیں کہ مُلا نے اس کا پائنچہ پکڑ رکھا ہے، بلکہ وجہ اس کی اپنی نااہلی ہے۔ جب تک ہم میں سے ہر کوئی اپنی اپنی کمزوریوں کو تسلیم کر کے ان پر محنت کرنے کی بجائے دوسروں پر الزام لگاتا رہے گا، ہم زمین پر ہی رہیں گے، ہمارا چاند کبھی نہیں چڑھے گا۔"
میں نے "لیکچر" ختم کیا تو سر شعلے برساتی آنکھوں سے مجھے گھور رہے تھے۔ لیب میں بھی مکمل سناٹا تھا۔ ذرا سی نظریں گھمائیں تو محسوس ہوا ہر کوئی ہی مجھے گھور رہا ہے۔ میرے پسینے چھوٹ گئے۔
"سر میں بھی نماز پڑھ کر آتا ہوں۔"
میں نے "بہانہ" بنا کر بیگ اٹھایا اور جو دوڑ لگائی تو سیدھا کینٹین آ کر رکا۔
بات پرانی ہوئی۔ امتحانات ہوئے۔ نتائج لگے۔ پوری کلاس اچھے نمبروں سے پاس ہو گئی۔ جشن کا سماں تھا۔ حتی کہ مُلا بھی اپنے ساٹھ نمبر لے کر پاس ہونے پر الحمداللہ کا ورد کر کے جھوم رہا تھا۔ خوشی کے مارے سب ہواؤں میں اڑ رہے تھے۔
صرف میں اکیلا تھا جو چاند پر اڑ رہا تھا۔
اور کیوں نہ اُڑتا۔ میرے پیپر میں جو آج چاند نکلا تھا۔ چودھویں کا۔۔۔مگر کچھ بیضوی سا۔۔۔ کمبختوں نے چاند پر جا جا کر اس کا حلیہ ہی بگاڑ ڈالا۔۔!!
(نقل وچسپاں)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
انتخاب: جناب “نصرت اللہ خان” صاحب(ہاپوڑ،یوپی،انڈیا)
واٹس ایپ:
https://chat.whatsapp.com/CBzhqJzdoyx0mrMIYvcVVe
ٹیلی گرام:
t.me/CutPiece
لیبارٹری میں پروفیسر ہمیں مینڈک کے پھیپھڑوں کے خلیات کا نظارہ خورد بین سے باری باری کروا رہے تھے اور ہم ابکائیاں لے لے کر نظارے سے محظوظ ہو رہے تھے۔ مُلا کی باری آئی (قریباً ہر کلاس میں ایک داڑھی والا لڑکا ہوتا ہے جس کا نام مُلا ہی پڑ جاتا ہے) تو عادت کے مطابق اس نے خوب تسلی سے خلیات دیکھے اور مستقل سبحان اللہ کا ورد کرتا رہا۔ اس پر ہمارے روشن خیال پروفیسر کا چہرہ کچھ مزید ترچھا سا ہوتا چلا گیا اور ناپسندیدگی کے تاثرات چہرے پر بد نما پھوڑوں کی طرح ابھر آئے۔
"سر مجھے اجازت مل سکتی ہے؟ ظہر کا وقت ہو گیا ہے۔" ملا نے سر اٹھا کر پروفیسر سے سوال کیا۔
"ہاں ہاں بالکل جاؤ بھئی۔ ویسے بھی یہاں تو تمہارے مطلب کی باتیں زیادہ ہوتی بھی نہیں۔ مجھے لگتا ہے تمہیں زیادہ تر وقت مسجد مدرسوں میں ہی گزارنا چاہیے۔ تم اسی قابل ہو۔"
پروفیسر صاحب الفاظ میں جتنے نشتر چھپا کر چلا سکتے تھے چلا دیے۔ مُلا نے مسکراتے ہوئے شکریہ ادا کیا اور لیب سے باہر نکل گیا۔
"دنیا چاند پر پہنچ گئی ہے اور یہ ملا آج بھی زمین پر ٹکریں مارنے میں مصروف ہے۔"
پروفیسر باآوازِ بلند بڑبڑائے۔ کلاس میں سارے ہی مسلمان تھے مگر "نمبر" چونکہ پروفیسر صاحب کے ہاتھ میں تھے اس لیے بعض لڑکے لڑکیاں خاموش رہے اور باقیوں نے مسکرا کر یا ہنس کر پروفیسر صاحب کو خوش کرنے کی کوشش کی۔ سر کی بدقسمتی کہ کلاس میں مجھ جیسا بد زبان بھی موجود تھا جسے اگر مُلا کی کوئی خاص پروا نہیں تھی تو "نمبروں'' کی تو بالکل بھی نہیں تھی۔
"سر ۔ ۔ ۔ آپ کتنی بار چاند پر جا چکے ہیں؟" میں نے معصومیت سے پوچھا۔
"کیا مطلب؟"
پروفیسر ایک جھٹکے سے سیدھے ہو گئے۔
''مطلب سر آپ کو تو زمین پر ٹکریں مارتے کبھی نہیں دیکھا اور آپ نے جو ابھی ابھی مُلا کی چاند پر نہ جا سکنے کی وجہ بتائی ہے اس اعتبار سے تو آپ کئی بار چاند کی سیر کر کے آ چکے ہونگے۔ پلیز بتائیں نا کیسا ہوتا ہے چاند اور کیا واقعی چاند پر پریاں رہتی ہیں؟"
میں بولنا شروع ہوا تو روانی میں بولتا ہی چلا گیا۔ جب پروفیسر کی طرف دیکھا تو ان کی آنکھیں غصے کے مارے ابل کر باہر آنے کا راستہ ڈھونڈ رہی تھیں۔
"شٹ اپ۔ یو بلڈی سٹوپڈ۔ میں بیالوجسٹ ہوں۔ میرا کام چاند پر جانا نہیں ہے!!!"پروفیسر چلائے۔
"اوہ ہ ۔ ۔ ۔ تو آپ کو شاید کسی نے یہ بتا دیا ہے کہ مُلا خلاء باز ہے اور بیالوجی پڑھنے شوقیہ آتا ہے!" چڑے ہوئے کو مزید چڑانا میرا پسندیدہ مشغلہ تھا۔ ویسے بھی اب تو سر نے مجھے شٹ اپ اور سٹوپڈ جیسے سخت الفاظ کہہ کر باقاعدہ اعلانِ جنگ کر دیا تھا۔
"اگر خود نہیں ہے تو دوسروں کو بھی نہیں بننے دینا اس نے اور اس کی قبیل نے۔ یہ مُلے مسجدوں میں بیٹھ کر لوگوں کو لوٹے سے وضو کرنا سکھاتے ہیں یہ نہیں بتاتے کہ راکٹ بناؤ مشینیں بناؤ۔" پروفیسر نے مٹھیاں بھینچ کر بے ربط اور نامکمل سا جواب دیا۔ ان کا بس نہیں چل رہا تھا کہ مینڈک کے بجائے میرے ٹکڑے کر کے خورد بین کے نیچے ڈال دیں۔
"سر معاف کیجیے گا۔ مگر امریکہ کے چرچ میں بیٹھا پادری بھی لوگوں کو مشینیں بنانے کا نہیں کہتا۔ وہ بھی لوگوں کا بپتسمہ ہی کرتا ہے، لہک لہک کر آرکیسٹرا کے ساتھ عبادات کرتا ہے اور "مقدس روح" کے ساتھ باتیں کرکے لوگوں کے مسئلے حل کرتا ہے۔ مگر وہاں کا کوئی دانشور کوئی سائنس دان یہ کہتا ہوا نہیں نظر آتا کہ پادری ابھی تک لوگوں کو مقدس دعائیں یاد کرواتا ہے۔ کیونکہ وہاں ہر کوئی اپنی اپنی ذمہ داری سمجھتا ہے اور اپنی اپنی ناکامی اور نااہلی کو تسلیم کرتا ہے۔ اگر ہمارے ہاں کا سائنسدان چاند پر نہیں پہنچ سکا تو اس کی وجہ یہ نہیں کہ مُلا نے اس کا پائنچہ پکڑ رکھا ہے، بلکہ وجہ اس کی اپنی نااہلی ہے۔ جب تک ہم میں سے ہر کوئی اپنی اپنی کمزوریوں کو تسلیم کر کے ان پر محنت کرنے کی بجائے دوسروں پر الزام لگاتا رہے گا، ہم زمین پر ہی رہیں گے، ہمارا چاند کبھی نہیں چڑھے گا۔"
میں نے "لیکچر" ختم کیا تو سر شعلے برساتی آنکھوں سے مجھے گھور رہے تھے۔ لیب میں بھی مکمل سناٹا تھا۔ ذرا سی نظریں گھمائیں تو محسوس ہوا ہر کوئی ہی مجھے گھور رہا ہے۔ میرے پسینے چھوٹ گئے۔
"سر میں بھی نماز پڑھ کر آتا ہوں۔"
میں نے "بہانہ" بنا کر بیگ اٹھایا اور جو دوڑ لگائی تو سیدھا کینٹین آ کر رکا۔
بات پرانی ہوئی۔ امتحانات ہوئے۔ نتائج لگے۔ پوری کلاس اچھے نمبروں سے پاس ہو گئی۔ جشن کا سماں تھا۔ حتی کہ مُلا بھی اپنے ساٹھ نمبر لے کر پاس ہونے پر الحمداللہ کا ورد کر کے جھوم رہا تھا۔ خوشی کے مارے سب ہواؤں میں اڑ رہے تھے۔
صرف میں اکیلا تھا جو چاند پر اڑ رہا تھا۔
اور کیوں نہ اُڑتا۔ میرے پیپر میں جو آج چاند نکلا تھا۔ چودھویں کا۔۔۔مگر کچھ بیضوی سا۔۔۔ کمبختوں نے چاند پر جا جا کر اس کا حلیہ ہی بگاڑ ڈالا۔۔!!
(نقل وچسپاں)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
انتخاب: جناب “نصرت اللہ خان” صاحب(ہاپوڑ،یوپی،انڈیا)
واٹس ایپ:
https://chat.whatsapp.com/CBzhqJzdoyx0mrMIYvcVVe
ٹیلی گرام:
t.me/CutPiece
اشعار مرے یوں تو زمانے کے لیے ہیں
کچھ شعر فقط ان کو سنانے کے لیے ہیں
اب یہ بھی نہیں ٹھیک کہ ہر درد مٹا دیں
کچھ درد کلیجے سے لگانے کے لیے ہیں
سوچو تو بڑی چیز ہے تہذیب بدن کی
ورنہ یہ فقط آگ بجھانے کے لیے ہیں
آنکھوں میں جو بھر لو گے تو کانٹوں سے چبھیں گے
یہ خواب تو پلکوں پہ سجانے کے لیے ہیں
دیکھوں ترے ہاتھوں کو تو لگتا ہے ترے ہاتھ
مندر میں فقط دیپ جلانے کے لیے ہیں
یہ علم کا سودا یہ رسالے یہ کتابیں
اک شخص کی یادوں کو بھلانے کے لیے ہیں
جاں نثار اختر
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
انتخاب از ایڈمن: “الف،ب،نون”
واٹس ایپ:
https://chat.whatsapp.com/CBzhqJzdoyx0mrMIYvcVVe
ٹیلی گرام:
t.me/CutPiece
کچھ شعر فقط ان کو سنانے کے لیے ہیں
اب یہ بھی نہیں ٹھیک کہ ہر درد مٹا دیں
کچھ درد کلیجے سے لگانے کے لیے ہیں
سوچو تو بڑی چیز ہے تہذیب بدن کی
ورنہ یہ فقط آگ بجھانے کے لیے ہیں
آنکھوں میں جو بھر لو گے تو کانٹوں سے چبھیں گے
یہ خواب تو پلکوں پہ سجانے کے لیے ہیں
دیکھوں ترے ہاتھوں کو تو لگتا ہے ترے ہاتھ
مندر میں فقط دیپ جلانے کے لیے ہیں
یہ علم کا سودا یہ رسالے یہ کتابیں
اک شخص کی یادوں کو بھلانے کے لیے ہیں
جاں نثار اختر
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
انتخاب از ایڈمن: “الف،ب،نون”
واٹس ایپ:
https://chat.whatsapp.com/CBzhqJzdoyx0mrMIYvcVVe
ٹیلی گرام:
t.me/CutPiece
“نئی اڑان”
ایک عقاب کی عمر 70سال کے قریب ہوتی ہے۔اس عمر تک پہنچنے کے لیے اسے سخت مشکلات سے گزرنا ہو تا ہے۔جب اس کی عمر چالیس سال ہوتی ہے تو اس کے پنچے کند ہو جاتے ہیں جس سے وہ شکار نہیں کر پاتا،اسی طرح اس کی مظبوط چونچ بھی عمر کے بڑھنے سے شدید ٹیڑھی ہو جاتی ہے،اس کے پر جس سے وہ پرواز کرتا ہے بہت بھاری ہو جاتے ہیں اور سینے کے ساتھ چپک جاتے ہیں جس سے اڑان بھرنے میں اسے سخت دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے،ان سب مشکلات کے ہوتے ہوے اس کے سامنے راستے ہوتے ہیں یا تو وہ موت کو تسلیم کر لے یا پھر 150 دن کی سخت ترین مشقت کے لیے تیار ہو جائے۔
چنانچہ وہ پہاڑوں میں جاتا ہے ۔اور سب سے پہلے اپنی چونچ کو پتھروں پہ مارتا ہے یہاں تک کہ وہ ٹوٹ جاتی ہے۔کچھ دن بعد جب نئی چونچ نکلتی ہے تو وہ اس سے اپنے سارے ناخن جڑ سے کاٹ پھینکتا ہے۔پھر جن اس کے نئے ناخن نکل آتے ہیں وہ وہ چونچ اور ناخن سے اپنا ایک ایک بال اکھاڑ دیتا ہے۔اس سارے عمل میں اسے پانچ ماہ کی طویل تکلیف اور مشقت سے گزرنا ہوتا ہے۔پانچ ماہ بعد جب وہ اڑان پھرتا ہے تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے اس نے نیا جنم لیا ہو اس طرح وہ تیس سال مزید زندہ رہ پاتا ہے۔ عقاب کی زندگی اوران ساری باتوں سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے بعض دفعہ ہمارے لیے اپنی زندگی کو بدلنا بہت ضروری ہوتا ہے تاکہ ہم اس سے بہتر زندگی گزار سکیں اگرچہ اس زندگی کو بدلنے کے لیے ہمیں سخت جد وجہد کیوں نا کرنی پڑے.
(نقل وچسپاں)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
انتخاب: جناب “زخمی پرندہ” صاحب(پھول پور،اعظم گڑھ)
واٹس ایپ:
https://chat.whatsapp.com/CBzhqJzdoyx0mrMIYvcVVe
ٹیلی گرام:
t.me/CutPiece
ایک عقاب کی عمر 70سال کے قریب ہوتی ہے۔اس عمر تک پہنچنے کے لیے اسے سخت مشکلات سے گزرنا ہو تا ہے۔جب اس کی عمر چالیس سال ہوتی ہے تو اس کے پنچے کند ہو جاتے ہیں جس سے وہ شکار نہیں کر پاتا،اسی طرح اس کی مظبوط چونچ بھی عمر کے بڑھنے سے شدید ٹیڑھی ہو جاتی ہے،اس کے پر جس سے وہ پرواز کرتا ہے بہت بھاری ہو جاتے ہیں اور سینے کے ساتھ چپک جاتے ہیں جس سے اڑان بھرنے میں اسے سخت دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے،ان سب مشکلات کے ہوتے ہوے اس کے سامنے راستے ہوتے ہیں یا تو وہ موت کو تسلیم کر لے یا پھر 150 دن کی سخت ترین مشقت کے لیے تیار ہو جائے۔
چنانچہ وہ پہاڑوں میں جاتا ہے ۔اور سب سے پہلے اپنی چونچ کو پتھروں پہ مارتا ہے یہاں تک کہ وہ ٹوٹ جاتی ہے۔کچھ دن بعد جب نئی چونچ نکلتی ہے تو وہ اس سے اپنے سارے ناخن جڑ سے کاٹ پھینکتا ہے۔پھر جن اس کے نئے ناخن نکل آتے ہیں وہ وہ چونچ اور ناخن سے اپنا ایک ایک بال اکھاڑ دیتا ہے۔اس سارے عمل میں اسے پانچ ماہ کی طویل تکلیف اور مشقت سے گزرنا ہوتا ہے۔پانچ ماہ بعد جب وہ اڑان پھرتا ہے تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے اس نے نیا جنم لیا ہو اس طرح وہ تیس سال مزید زندہ رہ پاتا ہے۔ عقاب کی زندگی اوران ساری باتوں سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے بعض دفعہ ہمارے لیے اپنی زندگی کو بدلنا بہت ضروری ہوتا ہے تاکہ ہم اس سے بہتر زندگی گزار سکیں اگرچہ اس زندگی کو بدلنے کے لیے ہمیں سخت جد وجہد کیوں نا کرنی پڑے.
(نقل وچسپاں)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
انتخاب: جناب “زخمی پرندہ” صاحب(پھول پور،اعظم گڑھ)
واٹس ایپ:
https://chat.whatsapp.com/CBzhqJzdoyx0mrMIYvcVVe
ٹیلی گرام:
t.me/CutPiece
"الحمدللہ! "
معروف شاعرجمیل مظہری(1904-1979) آل انڈیااردولٹریری کانفرنس کے صدرکی حیثیت سے مولاناابوالکلام آزادکو دعوتِ کانفرنس دینے گئے،واپس ہونے لگے،توکسی دن تفصیلی ملاقات کی اجازت چاہی،رمضان کا مہینہ تھا،مولانانے فرمایاکہ:فلاں دن افطارمیرے ساتھ کرو؛چنانچہ وہ حاضر ہوگئے،افطارساتھ کیا،لکھتے ہیں:
’’افطار کے بعد چائے آئی اور مولانا نے خود اپنے ہاتھوں سے چائے کی ایک پیالی بناکر میری طرف سرکائی،مجھے اس دن زکام کی شکایت تھی،میں نے عذر کیا،میرے اس عذر پر مولانا کچھ گھبراسے گئے اور کہنے لگے:آپ چائے بالکل نہیں پیتے ہیںیااس وقت کسی خاص وجہ سے نہیں پی رہے ہیں؟میں نے عرض کیا:جی نہیں،پیتاتوہوں اور شوق سے پیتا ہوں؛لیکن اس وقت زکام میں مبتلاہوں،یہ سن کر ذرابلند سے آواز سے فرمایا:الحمدللہ!میں نے نہایت ادب سے عرض کیا:مولانا!خداکاشکر توبہر حال اداکرنا چاہیے،مگراس وقت الحمدللہ کہنے کا کوئی خاص سبب؟توکہنے لگے:بھائی!معاملہ یہ ہے کہ ایسے لوگ،جو چائے پینے سے پرہیز کرنے والے تھے،جب جب میری زندگی میں آئے،تومیرے لیے خطرناک ثابت ہوئے اور میں ایسے لوگوں سے ڈرنے لگا،جو چائے جیسی نعمت سے پرہیز کرتے ہوں،یہ معلوم کرکے کہ تم چائے ایک خاص وجہ سے نہیں پی رہے ہو،اطمینان سا ہوا اور میں نے خداکاشکر اداکیا‘‘۔ 😊
(جمیل مظہری ،مولاناآزاد:کچھ نجی یادیں ،ایوانِ اردو،مولاناابوالکلام آزادنمبر،دسمبر1988ء،ص:35)
محترم “نایاب حسن” صاحب کی ف ب وال سے ماخوذ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
انتخاب از ایڈمن: “الف،ب،نون”
واٹس ایپ:
https://chat.whatsapp.com/CBzhqJzdoyx0mrMIYvcVVe
ٹیلی گرام:
t.me/CutPiece
معروف شاعرجمیل مظہری(1904-1979) آل انڈیااردولٹریری کانفرنس کے صدرکی حیثیت سے مولاناابوالکلام آزادکو دعوتِ کانفرنس دینے گئے،واپس ہونے لگے،توکسی دن تفصیلی ملاقات کی اجازت چاہی،رمضان کا مہینہ تھا،مولانانے فرمایاکہ:فلاں دن افطارمیرے ساتھ کرو؛چنانچہ وہ حاضر ہوگئے،افطارساتھ کیا،لکھتے ہیں:
’’افطار کے بعد چائے آئی اور مولانا نے خود اپنے ہاتھوں سے چائے کی ایک پیالی بناکر میری طرف سرکائی،مجھے اس دن زکام کی شکایت تھی،میں نے عذر کیا،میرے اس عذر پر مولانا کچھ گھبراسے گئے اور کہنے لگے:آپ چائے بالکل نہیں پیتے ہیںیااس وقت کسی خاص وجہ سے نہیں پی رہے ہیں؟میں نے عرض کیا:جی نہیں،پیتاتوہوں اور شوق سے پیتا ہوں؛لیکن اس وقت زکام میں مبتلاہوں،یہ سن کر ذرابلند سے آواز سے فرمایا:الحمدللہ!میں نے نہایت ادب سے عرض کیا:مولانا!خداکاشکر توبہر حال اداکرنا چاہیے،مگراس وقت الحمدللہ کہنے کا کوئی خاص سبب؟توکہنے لگے:بھائی!معاملہ یہ ہے کہ ایسے لوگ،جو چائے پینے سے پرہیز کرنے والے تھے،جب جب میری زندگی میں آئے،تومیرے لیے خطرناک ثابت ہوئے اور میں ایسے لوگوں سے ڈرنے لگا،جو چائے جیسی نعمت سے پرہیز کرتے ہوں،یہ معلوم کرکے کہ تم چائے ایک خاص وجہ سے نہیں پی رہے ہو،اطمینان سا ہوا اور میں نے خداکاشکر اداکیا‘‘۔ 😊
(جمیل مظہری ،مولاناآزاد:کچھ نجی یادیں ،ایوانِ اردو،مولاناابوالکلام آزادنمبر،دسمبر1988ء،ص:35)
محترم “نایاب حسن” صاحب کی ف ب وال سے ماخوذ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
انتخاب از ایڈمن: “الف،ب،نون”
واٹس ایپ:
https://chat.whatsapp.com/CBzhqJzdoyx0mrMIYvcVVe
ٹیلی گرام:
t.me/CutPiece
اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں
جس طرح سوکھے ہوئے پھول کتابوں میں ملیں
ڈھونڈ اجڑے ہوئے لوگوں میں وفا کے موتی
یہ خزانے تجھے ممکن ہے خرابوں میں ملیں
غم دنیا بھی غم یار میں شامل کر لو
نشہ بڑھتا ہے شرابیں جو شرابوں میں ملیں
تو خدا ہے نہ مرا عشق فرشتوں جیسا
دونوں انساں ہیں تو کیوں اتنے حجابوں میں ملیں
آج ہم دار پہ کھینچے گئے جن باتوں پر
کیا عجب کل وہ زمانے کو نصابوں میں ملیں
اب نہ وہ میں نہ وہ تو ہے نہ وہ ماضی ہے فرازؔ
جیسے دو سائے تمنا کے سرابوں میں ملیں
احمدفراز
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
انتخاب از ایڈمن: “الف،ب،نون”
واٹس ایپ:
https://chat.whatsapp.com/CBzhqJzdoyx0mrMIYvcVVe
ٹیلی گرام:
t.me/CutPiece
جس طرح سوکھے ہوئے پھول کتابوں میں ملیں
ڈھونڈ اجڑے ہوئے لوگوں میں وفا کے موتی
یہ خزانے تجھے ممکن ہے خرابوں میں ملیں
غم دنیا بھی غم یار میں شامل کر لو
نشہ بڑھتا ہے شرابیں جو شرابوں میں ملیں
تو خدا ہے نہ مرا عشق فرشتوں جیسا
دونوں انساں ہیں تو کیوں اتنے حجابوں میں ملیں
آج ہم دار پہ کھینچے گئے جن باتوں پر
کیا عجب کل وہ زمانے کو نصابوں میں ملیں
اب نہ وہ میں نہ وہ تو ہے نہ وہ ماضی ہے فرازؔ
جیسے دو سائے تمنا کے سرابوں میں ملیں
احمدفراز
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
انتخاب از ایڈمن: “الف،ب،نون”
واٹس ایپ:
https://chat.whatsapp.com/CBzhqJzdoyx0mrMIYvcVVe
ٹیلی گرام:
t.me/CutPiece
“تبدیلی”
محبت کی شادیاں عام طور پر چند ” ڈیٹس ” ، کچھ فلموں اور تھوڑے بہت تحفے تحائف کا نتیجہ ہوتی ہیں ۔ لڑکیاں اور لڑکے سمجھتے ہیں کہ ہماری باقی زندگی بھی ویسے ہی گذرے گی جیسا فلموں میں دکھاتے ہیں ، لیکن فلموں میں کبھی شادی کے بعد کی کہانی دکھائی ہی نہیں جاتی ہے ۔ اس سے فلم فلاپ ہونے کا ڈر ہوتا ہے ۔ الیکٹرانک میڈیا نے گوٹھ گاؤں اور کچی بستیوں میں رہنے والی لڑکیوں تک کے دل میں ” شاہ رخ خان “جیسا آئیڈیل پیدا کر دیا ہے ۔
آپ ہماری جینے مرنے کی قسمیں کھانے والی نسل کی سچی محبت کا اندازہ اس بات سے کریں کہ 2017 میں 50000 خلع کے کیسسز آئے جن میں سے 30000 ” لو میرجز ” تھیں ۔
آپ حیران ہونگے صرف گجرانوالہ شہر میں 2005 سے 2008 تک طلاق کے 75000 مقدمات درج ہوئے ہیں ۔
آپ کراچی کی مثال لے لیں جہاں 2010 میں طلاق کے40410کیسسز رجسٹرڈ ہوئے ۔ 2015 میں صرف خلع کے 13433 سے زیادہ کیسسز نمٹائے گئے ۔
گھریلو زندگی کی تباہی میں سب سے بڑا عنصر ناشکری بھی ہے ۔ کم ہو یا زیادہ ، ملے یا نہ ملے یا کبھی کم ملے پھر بھی ہر حال میں اپنے شوہر کی شکر گزار رہیں ۔
سب سے بڑی تباہی اس واٹس ایپ اور فیس بک سوشل میڈیا نے مچائی ہے ۔
پہلے لڑکیاں غصے میں ہوتی تھیں یا ناراض ہوتی تھیں تو ان کے پاس اماں ابا اور دیگر لوگوں تک رسائی کا کوئی ذریعہ نہیں ہوتا تھا ۔شوہر شام میں گھر آتا ، بیوی کا ہاتھ تھام کر محبت کے چار جملے بولتا ، کبھی آئسکریم کھلانے لے جاتا اور کبھی ٹہلنے کے بہانے کچھ دیر کا ساتھ مل جاتا اور اس طرح دن بھر کا غصہ اور شکایات رفع ہوجایا کرتی تھیں ۔
لیکن ابھی ادھر غصہ آیا نہیں اور ادھر واٹس ایپ پر سارے گھر والوں تک پہنچا نہیں ۔
یہاں میڈم صاحبہ کا ” موڈ آف ” ہوا اور ادھر فیس بک پر اسٹیٹس اپ لوڈ ہو گیا ۔ اور اس کے بعد یہ سوشل میڈیا کا جادو وہ وہ گل کھلاتا ہے کہ پورے کا پورا خاندان تباہ و برباد ہوجاتا ہے یا نتیجہ خود کشیوں کی صورت میں نکلتا ہے ۔
مائیں لڑکیوں کو سمجھائیں کہ خدارا ! اپنے شوہر کا مقابلہ اپنے باپوں سے نہ کریں ۔ ہوسکتا ہے آپکا شوہر آپ کو وہ سب نہ دے سکے جو آپ کو باپ کے گھر میں میسر تھا ۔
لیکن یاد رکھیں آپ کے والد کی زندگی کے پچاس ، ساٹھ سال اس دشت کی سیاحی میں گذر چکے ہیں اور آپ کے شوہر نے ابھی اس دشت میں قدم رکھا ہے ۔ آپ کو سب ملے گا اور انشاء اللہ اپنی ماں سے زیادہ بہتر ملے گا اگر نہ بھی ملے تو بھی شکر گذاری کی عادت ڈالیں سکون اور اطمینان ضرور ملے گا ۔
بیویاں شوہروں کی اور شوہر بیویوں کی چھوٹی چھوٹی باتوں پر تعریف کرنا اور درگذر کرنا سیکھیں ۔
زندگی میں معافی کو عادت بنالیں ۔
خدا کے لئیے باہر والوں سے زیادہ اپنے شوہر کے لئیے تیار ہونے اور رہنے کی عادت ڈالیں ۔ساری دنیا کو دکھانے کے لئیے تو خوب ” میک اپ” لیکن شوہر کے لئیے ” سر جھاڑ منہ پھاڑ ” ایسا نہ کریں ۔
جتنی دفعہ ممکن ہو محبت کا اظہار کریں کبھی تحفے تحائف دے کر بھی کیا کریں ۔
یاد رکھیں
مرد کی گھر میں وہی حیثیت ہے جو سربراہ حکومت کی ریاست میں ہوتی ہے ۔ اگر آپ ریاست کی بہتری کی بجائے ہر وقت سربراہ سے بغاوت پر آمادہ رہینگے تو ریاست کا قائم رہنا مشکل ہوجائیگا ۔ جس کو اللہ نے جو عزت اور مقام دیا ہے اس کو وہی عزت اور مقام دینا سیکھیں چاہے آپ مرد ہیں یا عورت ۔
ایک مثالی گھر ایک مثالی خاندان تشکیل دیتا ہے جو کہ ایک مثالی معاشرے کی پہچان ہوتی ہے۔
: آج عورت گوشت کی دکان لگتی ھے اور باھر کتے انتظار مین کھڑے ھین کہ۔۔۔۔
۔
آج عورت کے پھٹے کپڑے سے اسکی غربت کا احساس نہین ھوتا بلکہ جسم دیکھنے کی سوچ ھوتی ھے۔۔۔
۔
اِسلام نے عَورت کو عِزَّت دِی ہے یا آج کے جَدِید و تَرَقِّى يافتہ مُعاشرے نے؟ آج اگر ایک پاؤ گوشت لیں تو شاپِنگ بیگ میں بَند کر کے لے جاتے ہیں، اور پَچاس کِلو کی عَورت بغیر پَردے کے بازاروں میں گُهومتی ہے. کیا یہی ہے آج كا جَدِيد مُعاشره کہ کهانا تو پاکِیزه ہو اور پَکانے والی چاہےجیسی بِهی ہو؟
جَدِيد مُعاشرے كا عَجِيب فَلسَفہ:
لوگ اپنی گاڑیوں کو تو ڈھانپ کر رکهتے ہیں تاکہ اُنہیں دُهول مِٹِّی سے بَچا سکیں، مگر اپنی عَورتوں کو بے پَرده گُهومنے دیتے ہیں چاہے اُن پر کِتنی ہِی گَندی نَظریں کِیوں نہ پَڑیں؟
دَورِ جَدِید کی جاہِلیَّت:
عَورت کی تَصاوِیر اِستِعمال کر کے چَهوٹى بڑی تمام کمپنِیاں اپنی تِجارت کو فَروغ دیتی ہیں، یہاں تک کہ شَيوِنگ كَرِيم میں بِهی اِس کی تَصاوِير ہوتی ہیں. فَرانس و اَمرِیکہ میں جِسم فَروشی کا شُمار نَفع بَخش تِجارت کے زُمرے میں آتا ہے. اُن لوگوں نے اِسلامی مُمالِک میں بِهی ڈَورے ڈال لِئے ہيں. مُسَلمان عَورت کو بِهی جَہَنَّم کی طرف لے جا رہے ہیں. چُنانچہ مُسَلمان عَورت تَہذِیبِ جَدِید کے نام پر بے پَردہ پِهرنے لگی ہے.
ماسٹر پَلان كے ذريعے نئى نَسل کو تَباه کِیا جا رہا ہے:
غَور کِیجِئے!
ہر اِشتِہار میں لڑکا لڑکی کے عِشق کی کہانی مِلے گی.
ذرا سوچِیئے!
- سَ
محبت کی شادیاں عام طور پر چند ” ڈیٹس ” ، کچھ فلموں اور تھوڑے بہت تحفے تحائف کا نتیجہ ہوتی ہیں ۔ لڑکیاں اور لڑکے سمجھتے ہیں کہ ہماری باقی زندگی بھی ویسے ہی گذرے گی جیسا فلموں میں دکھاتے ہیں ، لیکن فلموں میں کبھی شادی کے بعد کی کہانی دکھائی ہی نہیں جاتی ہے ۔ اس سے فلم فلاپ ہونے کا ڈر ہوتا ہے ۔ الیکٹرانک میڈیا نے گوٹھ گاؤں اور کچی بستیوں میں رہنے والی لڑکیوں تک کے دل میں ” شاہ رخ خان “جیسا آئیڈیل پیدا کر دیا ہے ۔
آپ ہماری جینے مرنے کی قسمیں کھانے والی نسل کی سچی محبت کا اندازہ اس بات سے کریں کہ 2017 میں 50000 خلع کے کیسسز آئے جن میں سے 30000 ” لو میرجز ” تھیں ۔
آپ حیران ہونگے صرف گجرانوالہ شہر میں 2005 سے 2008 تک طلاق کے 75000 مقدمات درج ہوئے ہیں ۔
آپ کراچی کی مثال لے لیں جہاں 2010 میں طلاق کے40410کیسسز رجسٹرڈ ہوئے ۔ 2015 میں صرف خلع کے 13433 سے زیادہ کیسسز نمٹائے گئے ۔
گھریلو زندگی کی تباہی میں سب سے بڑا عنصر ناشکری بھی ہے ۔ کم ہو یا زیادہ ، ملے یا نہ ملے یا کبھی کم ملے پھر بھی ہر حال میں اپنے شوہر کی شکر گزار رہیں ۔
سب سے بڑی تباہی اس واٹس ایپ اور فیس بک سوشل میڈیا نے مچائی ہے ۔
پہلے لڑکیاں غصے میں ہوتی تھیں یا ناراض ہوتی تھیں تو ان کے پاس اماں ابا اور دیگر لوگوں تک رسائی کا کوئی ذریعہ نہیں ہوتا تھا ۔شوہر شام میں گھر آتا ، بیوی کا ہاتھ تھام کر محبت کے چار جملے بولتا ، کبھی آئسکریم کھلانے لے جاتا اور کبھی ٹہلنے کے بہانے کچھ دیر کا ساتھ مل جاتا اور اس طرح دن بھر کا غصہ اور شکایات رفع ہوجایا کرتی تھیں ۔
لیکن ابھی ادھر غصہ آیا نہیں اور ادھر واٹس ایپ پر سارے گھر والوں تک پہنچا نہیں ۔
یہاں میڈم صاحبہ کا ” موڈ آف ” ہوا اور ادھر فیس بک پر اسٹیٹس اپ لوڈ ہو گیا ۔ اور اس کے بعد یہ سوشل میڈیا کا جادو وہ وہ گل کھلاتا ہے کہ پورے کا پورا خاندان تباہ و برباد ہوجاتا ہے یا نتیجہ خود کشیوں کی صورت میں نکلتا ہے ۔
مائیں لڑکیوں کو سمجھائیں کہ خدارا ! اپنے شوہر کا مقابلہ اپنے باپوں سے نہ کریں ۔ ہوسکتا ہے آپکا شوہر آپ کو وہ سب نہ دے سکے جو آپ کو باپ کے گھر میں میسر تھا ۔
لیکن یاد رکھیں آپ کے والد کی زندگی کے پچاس ، ساٹھ سال اس دشت کی سیاحی میں گذر چکے ہیں اور آپ کے شوہر نے ابھی اس دشت میں قدم رکھا ہے ۔ آپ کو سب ملے گا اور انشاء اللہ اپنی ماں سے زیادہ بہتر ملے گا اگر نہ بھی ملے تو بھی شکر گذاری کی عادت ڈالیں سکون اور اطمینان ضرور ملے گا ۔
بیویاں شوہروں کی اور شوہر بیویوں کی چھوٹی چھوٹی باتوں پر تعریف کرنا اور درگذر کرنا سیکھیں ۔
زندگی میں معافی کو عادت بنالیں ۔
خدا کے لئیے باہر والوں سے زیادہ اپنے شوہر کے لئیے تیار ہونے اور رہنے کی عادت ڈالیں ۔ساری دنیا کو دکھانے کے لئیے تو خوب ” میک اپ” لیکن شوہر کے لئیے ” سر جھاڑ منہ پھاڑ ” ایسا نہ کریں ۔
جتنی دفعہ ممکن ہو محبت کا اظہار کریں کبھی تحفے تحائف دے کر بھی کیا کریں ۔
یاد رکھیں
مرد کی گھر میں وہی حیثیت ہے جو سربراہ حکومت کی ریاست میں ہوتی ہے ۔ اگر آپ ریاست کی بہتری کی بجائے ہر وقت سربراہ سے بغاوت پر آمادہ رہینگے تو ریاست کا قائم رہنا مشکل ہوجائیگا ۔ جس کو اللہ نے جو عزت اور مقام دیا ہے اس کو وہی عزت اور مقام دینا سیکھیں چاہے آپ مرد ہیں یا عورت ۔
ایک مثالی گھر ایک مثالی خاندان تشکیل دیتا ہے جو کہ ایک مثالی معاشرے کی پہچان ہوتی ہے۔
: آج عورت گوشت کی دکان لگتی ھے اور باھر کتے انتظار مین کھڑے ھین کہ۔۔۔۔
۔
آج عورت کے پھٹے کپڑے سے اسکی غربت کا احساس نہین ھوتا بلکہ جسم دیکھنے کی سوچ ھوتی ھے۔۔۔
۔
اِسلام نے عَورت کو عِزَّت دِی ہے یا آج کے جَدِید و تَرَقِّى يافتہ مُعاشرے نے؟ آج اگر ایک پاؤ گوشت لیں تو شاپِنگ بیگ میں بَند کر کے لے جاتے ہیں، اور پَچاس کِلو کی عَورت بغیر پَردے کے بازاروں میں گُهومتی ہے. کیا یہی ہے آج كا جَدِيد مُعاشره کہ کهانا تو پاکِیزه ہو اور پَکانے والی چاہےجیسی بِهی ہو؟
جَدِيد مُعاشرے كا عَجِيب فَلسَفہ:
لوگ اپنی گاڑیوں کو تو ڈھانپ کر رکهتے ہیں تاکہ اُنہیں دُهول مِٹِّی سے بَچا سکیں، مگر اپنی عَورتوں کو بے پَرده گُهومنے دیتے ہیں چاہے اُن پر کِتنی ہِی گَندی نَظریں کِیوں نہ پَڑیں؟
دَورِ جَدِید کی جاہِلیَّت:
عَورت کی تَصاوِیر اِستِعمال کر کے چَهوٹى بڑی تمام کمپنِیاں اپنی تِجارت کو فَروغ دیتی ہیں، یہاں تک کہ شَيوِنگ كَرِيم میں بِهی اِس کی تَصاوِير ہوتی ہیں. فَرانس و اَمرِیکہ میں جِسم فَروشی کا شُمار نَفع بَخش تِجارت کے زُمرے میں آتا ہے. اُن لوگوں نے اِسلامی مُمالِک میں بِهی ڈَورے ڈال لِئے ہيں. مُسَلمان عَورت کو بِهی جَہَنَّم کی طرف لے جا رہے ہیں. چُنانچہ مُسَلمان عَورت تَہذِیبِ جَدِید کے نام پر بے پَردہ پِهرنے لگی ہے.
ماسٹر پَلان كے ذريعے نئى نَسل کو تَباه کِیا جا رہا ہے:
غَور کِیجِئے!
ہر اِشتِہار میں لڑکا لڑکی کے عِشق کی کہانی مِلے گی.
ذرا سوچِیئے!
- سَ
یون اَپ کے اِشتِہار میں مَحَبَّت کا کیا کام؟
- تَرَنگ چائے کے اِشتِہار میں گَلے لگنے اور ناچنے کا کیا کام؟
- موبائِل کے اِشتِہار میں لڑکے لڑکِیوں کی مَحَبَّت کا کیا کام؟
دیکِهيئے!
آج کوئی نوجوان اِس فحاشی سے بَچ نہیں پایا. سِکهایا جا رہا ہے کہ آپ بِهی شیطان کی پَیروی کریں، فحاشی کریں، مَوج کریں.
آج عَورت خُود اِتنی بے حِس ہو چُکی ہے کہ جو بِهی پَردے کی بات کرے اُس کے خِلاف سَڑکوں پر نِکل آتی ہے. جبكہ ایک ایک روپے کی ٹافِیوں، جُوتوں، حَتّٰى كہ مَردوں كى شَيو كرنے كے سامان تک کے ساتھ بِکنے پر کوئی اِحتِجاج نہیں کرتی، بلکہ اِسے رَوشَن خیالِی کی عَلامَت سمجهتی ہے.
لمحۂ شَرمِندگى:
آج ہر بِکنے والی چِیز کے ساتھ عَورت کی حَیاء اور مَرد کی غَیرت بِهی بِک رہی ہے.
نام نِہاد پَرده… صِرف فَيشن كيلِئے:
فِی زَمانہ بُرقَعہ اِتنا دِلكَش و دِلفَريب ہے کہ اُس کے اُوپر ايک اور بُرقَعہ اَوڑهنے کى ضُرُورت ہے.
”پَرده نَظَر کا ہوتا ہے.“
اِسی سوچ نے آدِهی قَوم کو بے پَرده کر دِیا ہے.
مَرد آنکهیں نِیچِی نہیں کرنا چاہتا، عَورت پَرده كرنے کو جہالت سمجهتی ہے… مگر دونوں کو مُعاشرے ميں عِزَّت و اِحتِرام کی تلاش ہے.
بے پَرده نَظَر آئِيں كَل جو چَند بِيبِياں…
اَكبؔر زَمِيں ميں غَيرَتِ قَومِى سے گَڑھ گيا.
پُوچها جو اُن سے آپ كا پَرده وه كيا ہُوا…؟
كہنے لگِيں كہ عَقل پَہ مَردوں كى پَڑ گيا.
(اَكبؔر اِلہٰ آبَادِى)
پَرده عَورت کے چہرے پر ہوتا ہے، اگر چہرے پر نہیں تو سمجھ لِیجِئے کہ عَقل پَہ پَڑا ہُوا ہے.
اگر جِسم کی نُمائِش کرنا ماڈَرن و تَرَقِّی یافتہ ہونے کی عَلامَت ہے تو پِهر جانور اِنسَانوں سے بہت زیاده ماڈَرن و تَرَقِّی یافتہ ہیں.
پہلے شَرم کی وجہ سے پَرده کِیا جاتا تها اور اَب پَرده کرتے ہُوئے شَرم آتی ہے.
۔پڑھ کر اگنور کرنا ہے یا واہ واہ کرنا ہے عمل کرو گے تو لوگ کیا کہیں گے...
(نقل وچسپاں)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
انتخاب از ایڈمن: “الف،ب،نون”
واٹس ایپ:
https://chat.whatsapp.com/CBzhqJzdoyx0mrMIYvcVVe
ٹیلی گرام:
t.me/CutPiece
- تَرَنگ چائے کے اِشتِہار میں گَلے لگنے اور ناچنے کا کیا کام؟
- موبائِل کے اِشتِہار میں لڑکے لڑکِیوں کی مَحَبَّت کا کیا کام؟
دیکِهيئے!
آج کوئی نوجوان اِس فحاشی سے بَچ نہیں پایا. سِکهایا جا رہا ہے کہ آپ بِهی شیطان کی پَیروی کریں، فحاشی کریں، مَوج کریں.
آج عَورت خُود اِتنی بے حِس ہو چُکی ہے کہ جو بِهی پَردے کی بات کرے اُس کے خِلاف سَڑکوں پر نِکل آتی ہے. جبكہ ایک ایک روپے کی ٹافِیوں، جُوتوں، حَتّٰى كہ مَردوں كى شَيو كرنے كے سامان تک کے ساتھ بِکنے پر کوئی اِحتِجاج نہیں کرتی، بلکہ اِسے رَوشَن خیالِی کی عَلامَت سمجهتی ہے.
لمحۂ شَرمِندگى:
آج ہر بِکنے والی چِیز کے ساتھ عَورت کی حَیاء اور مَرد کی غَیرت بِهی بِک رہی ہے.
نام نِہاد پَرده… صِرف فَيشن كيلِئے:
فِی زَمانہ بُرقَعہ اِتنا دِلكَش و دِلفَريب ہے کہ اُس کے اُوپر ايک اور بُرقَعہ اَوڑهنے کى ضُرُورت ہے.
”پَرده نَظَر کا ہوتا ہے.“
اِسی سوچ نے آدِهی قَوم کو بے پَرده کر دِیا ہے.
مَرد آنکهیں نِیچِی نہیں کرنا چاہتا، عَورت پَرده كرنے کو جہالت سمجهتی ہے… مگر دونوں کو مُعاشرے ميں عِزَّت و اِحتِرام کی تلاش ہے.
بے پَرده نَظَر آئِيں كَل جو چَند بِيبِياں…
اَكبؔر زَمِيں ميں غَيرَتِ قَومِى سے گَڑھ گيا.
پُوچها جو اُن سے آپ كا پَرده وه كيا ہُوا…؟
كہنے لگِيں كہ عَقل پَہ مَردوں كى پَڑ گيا.
(اَكبؔر اِلہٰ آبَادِى)
پَرده عَورت کے چہرے پر ہوتا ہے، اگر چہرے پر نہیں تو سمجھ لِیجِئے کہ عَقل پَہ پَڑا ہُوا ہے.
اگر جِسم کی نُمائِش کرنا ماڈَرن و تَرَقِّی یافتہ ہونے کی عَلامَت ہے تو پِهر جانور اِنسَانوں سے بہت زیاده ماڈَرن و تَرَقِّی یافتہ ہیں.
پہلے شَرم کی وجہ سے پَرده کِیا جاتا تها اور اَب پَرده کرتے ہُوئے شَرم آتی ہے.
۔پڑھ کر اگنور کرنا ہے یا واہ واہ کرنا ہے عمل کرو گے تو لوگ کیا کہیں گے...
(نقل وچسپاں)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
انتخاب از ایڈمن: “الف،ب،نون”
واٹس ایپ:
https://chat.whatsapp.com/CBzhqJzdoyx0mrMIYvcVVe
ٹیلی گرام:
t.me/CutPiece
“مجھے لکھنا کیسے آئے گا ؟؟”
بے نام خاں نے اس بار پرسنل اٹیک کیا ، واہ مولوی صاحب ، اچھے مفاد پرست نکلے ، کب سے مجھے بدنام کر رکھا ہے لیکن کبھی یہ نہیں بتایا کہ یہ لکھنے کا ہنر مجھے بھی کیسے آئے گا ۔ ارے بھائی ، ایسا تھوڑی ہی ہے کہ مجھے لکھنا آ جائے گا تو تمہاری اہمیت گھٹ جائے گی ، ایسے بھی سکنڈ جنریشن تیار کرکے ہی دنیا سے رخصت لینی چاہیے ۔ سوچو ، کل کو تم مر گئے ( اب پریشان مت ہونا ، یہ کوئی بد دعا نہیں ہے ، بس ایک حقیقت کا ننگا اظہار ہے ) جب مر جاؤگے تو کوئی تو ہوجو تمہاری وراثت آگے بڑھا سکے ۔ بو لو ، تو اگر میں بھی لکھنا چاہوں تو مجھے کیا کرنا چاہیے ؟
میں نے خان صاحب کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے مجھے اس قابل سمجھا کہ مجھ سے لکھنے کا ہنر جانیں ورنہ وہ کسی کو کسی قابل سمجھتے کب ہیں ، پھر یہ کہ انہوں نے یہ بھی کہا کہ میرے مرنے کے بعد میری وراثت باقی رہنی چاہیے ، گویا بلفظ ديگر انہوں نے یہ اعتراف کیا کہ میں کچھ واقعی اچھا کررہا ہوں ۔ مجھے خان صاحب نے پھر روکا : لو ، اتر آئے مولویت پر ، ارے بھائی وہ تو تم سے لکھنے کاطریقہ معلوم کرنا تھا ، سو تمہیں پھلانے کے لیے ایسے ہی کہ دیا ۔ اب بتاؤگے بھی یا بنتے ہی رہوگے ۔
میں نے کہا : خان صاحب ، لکھنے کا سب سے اچھا طریقہ یہ ہے کہ لکھنا شروع کردیجیے اور لکھتے رہیے ،لکھنا آجائے گا ۔
خان صاحب : یہی بقراطی مجھے پسند نہیں ، تھوڑی اہمیت نہیں دیجیے کہ لوگ اپنی اوقات دکھلانے لگتے ہیں ، ارے یہ بتاؤ کہ لکھنے کا طریقہ کیا ہے ؟ ٹپس دو ٹپس ۔۔۔سمجھ ميں آیا ملے !! یا تمہیں اور کچھ سمجھاؤں ۔
میں : اف خان صاحب ، آپ تو خواہ مخواہ ناراض ہونے لگے ، ارے بھائی ، طریقہ ہی تو بتا رہا تھا ۔ سوچو تمہیں کسی منزل تک پہنچنا ہو ، سڑک جارہی ہو تو کیا کروگے ۔ طریقہ یہی ہے کہ نا کہ سڑک پر چلتے رہو یہاں تک منزل تک پہنچ جاؤ ۔ لکھنا اسی طرح آئے گا کہ لکھنا شروع کردو اور لکھتے رہو ، پھر دیکھنا رفتہ رفتہ لکھنا آجائے گا ۔ یہ کوئی دو چار کی گنتی تھوڑی ہی ہے کہ ایک بار یاد کرلو اور ہوگيا ۔ یہ تو زندگی بھر کا کام ہے ، جتنا لگوگے اتنا اچھا آئے گا ۔ کوئی ایسا معلوم طریقہ بھی نہیں ہے سوائے اس کے کہ بس جو جی میں آئے ، لکھتے جاؤ ، لکھتے لکھتے لکھنا آجائے گا ۔ معروف صحافی ، استاذ محترم جناب شیخ شکیل احمد اثری حفظہ اللہ سے ہم طلبہ اکثر یہی سوال کرتے تھے اور وہ یہی جواب دیتے تھے کہ لکھنے لگو ، لکھنا آجائے گا ۔ اس وقت ہمیں بھی اندر ہی اندر خراب لگتا تھا لیکن پھر سمجھ میں آيا کہ ان کی با ت میں کتنی جان تھی ۔ سعودی عرب کے روزنامہ اخبار جریدہ الریاض میں فہد عامر الاحمدی کا کالم چھپتا ہے ، انہوں نے بھی ایک روز اسی مسئلے پر روشنی ڈالی تھی اور مجھے حیرت انگيزخوشی ہوئی کہ انہوں نے بھی وہی نسخہ بتایا جو ہمارے استاذ محترم بتایا کرتے تھے ۔انہوں نے تو یہاں تک لکھا تھا کہ وہ اب بھی ہر روز لکھنے کے معاملے میں کچھ نہ کچھ سیکھنے کی کوشش کرتے ہیں اور سیکھتے ہیں ۔
بے نام خاں تھوڑے ٹھنڈے ہوئے اور کہا : یار ، پھر بھی اس لکھنے کی شروعات کیسے کی جائے ؟
میں نے کہا : خان صاحب ، ایسا ہے کہ اگر کہیں جاؤ تو اس کی تفصیل اپنی زبان میں لکھ دو ، کسی کہانی کو پڑھو تو اس کہانی کو اپنے الفاظ میں لکھ دو ، کسی مولانا یا لیڈر کی تقریر سنو تو اسے لکھ دو ، کسی کتاب کا خلاصہ تیار کرو ، کسی منظر کو لفظوں میں بیان کرو ، دوستوں کے نام خطوط لکھو ، اخبارات میں مراسلے بھیجو ، کسی کا مضمون چھپے ، اچھا لگے تو تعریف لکھ کر بھیج دو ، خراب لگے تو تنقید لکھ کر بھیج دو ، فلمیں دیکھتے ہو ، فلمیں یاد رہ جاتی ہیں ، انہیں اپنی یادداشت سے لکھ دو ، کسی کا حسن ، کسی کی کوئی ادا ، کسی کی کوئی خوبی یا کوئی خصلت تمہیں پسندآتی ہے ، اپنی پسندیدگی کو لکھو ، کسی کی کوئی چيز بری لگتی ہے ، اسے بھی لکھو ۔۔ میرا مطلب ہے کہ اس طرح لکھو ، لکھنا آجائے گا ۔۔۔اور ہاں کسی کی تنقید سے گھبرانا بھی نہیں اور تعریف پر اٹھلانا بھی نہیں ۔ بس اپنا سفر جاری رکھنا ، ایک نہ ایک دن منزل تک پہنچنا نصیب ہو جائے گا ۔
خان صاحب : یہ ہوئی نا بات مولانا ، کب سے ویسے ہی صرف چاٹے جارہے تھے ۔ اب سمجھ میں آيا کہ یہ کتنا آسان کام ہے ۔ اب دیکھنا میں کیسے تمہیں لکھ کر دکھاتا ہوں ۔ آئندہ سے میرے بھی مضامین ۔۔۔۔۔
لیکن یار مولانا ، یہ مضامین کے لیے عنوانات ، مواد اور ۔۔۔۔۔۔ یہ سب کہاں سے کیسے آئے گا ؟
میں : خان صاحب ، اوپر والی بات کامطلب یہ تھا کہ ویسا کرنے سے تمہیں لکھنا آجائے گا لیکن کیا لکھنا ہے ، بات کیسی ہونی چاہیے ، اس میں وزن کسے پیدا ہوگا ، یہ تو مستقل ایک باب ہے اور اس کے لیے تمہیں مطالعہ کرنا ہوگا ، لکھنا بھی تبھی آئے گا جب پڑھنا آئے گا ، جتنا وسیع مطالعہ ہوگا ، اتنی وسیع معلومات ہوگی ، اتنا مضبوط ، محکم اور مستقل اسلوب ہوگا ۔مطالعہ تمہارے لیے نئے نئے دروازے کھولے گا ، فکرو نظر کے بالکل منفرد دھارے بہیں گے ، انہیں
بے نام خاں نے اس بار پرسنل اٹیک کیا ، واہ مولوی صاحب ، اچھے مفاد پرست نکلے ، کب سے مجھے بدنام کر رکھا ہے لیکن کبھی یہ نہیں بتایا کہ یہ لکھنے کا ہنر مجھے بھی کیسے آئے گا ۔ ارے بھائی ، ایسا تھوڑی ہی ہے کہ مجھے لکھنا آ جائے گا تو تمہاری اہمیت گھٹ جائے گی ، ایسے بھی سکنڈ جنریشن تیار کرکے ہی دنیا سے رخصت لینی چاہیے ۔ سوچو ، کل کو تم مر گئے ( اب پریشان مت ہونا ، یہ کوئی بد دعا نہیں ہے ، بس ایک حقیقت کا ننگا اظہار ہے ) جب مر جاؤگے تو کوئی تو ہوجو تمہاری وراثت آگے بڑھا سکے ۔ بو لو ، تو اگر میں بھی لکھنا چاہوں تو مجھے کیا کرنا چاہیے ؟
میں نے خان صاحب کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے مجھے اس قابل سمجھا کہ مجھ سے لکھنے کا ہنر جانیں ورنہ وہ کسی کو کسی قابل سمجھتے کب ہیں ، پھر یہ کہ انہوں نے یہ بھی کہا کہ میرے مرنے کے بعد میری وراثت باقی رہنی چاہیے ، گویا بلفظ ديگر انہوں نے یہ اعتراف کیا کہ میں کچھ واقعی اچھا کررہا ہوں ۔ مجھے خان صاحب نے پھر روکا : لو ، اتر آئے مولویت پر ، ارے بھائی وہ تو تم سے لکھنے کاطریقہ معلوم کرنا تھا ، سو تمہیں پھلانے کے لیے ایسے ہی کہ دیا ۔ اب بتاؤگے بھی یا بنتے ہی رہوگے ۔
میں نے کہا : خان صاحب ، لکھنے کا سب سے اچھا طریقہ یہ ہے کہ لکھنا شروع کردیجیے اور لکھتے رہیے ،لکھنا آجائے گا ۔
خان صاحب : یہی بقراطی مجھے پسند نہیں ، تھوڑی اہمیت نہیں دیجیے کہ لوگ اپنی اوقات دکھلانے لگتے ہیں ، ارے یہ بتاؤ کہ لکھنے کا طریقہ کیا ہے ؟ ٹپس دو ٹپس ۔۔۔سمجھ ميں آیا ملے !! یا تمہیں اور کچھ سمجھاؤں ۔
میں : اف خان صاحب ، آپ تو خواہ مخواہ ناراض ہونے لگے ، ارے بھائی ، طریقہ ہی تو بتا رہا تھا ۔ سوچو تمہیں کسی منزل تک پہنچنا ہو ، سڑک جارہی ہو تو کیا کروگے ۔ طریقہ یہی ہے کہ نا کہ سڑک پر چلتے رہو یہاں تک منزل تک پہنچ جاؤ ۔ لکھنا اسی طرح آئے گا کہ لکھنا شروع کردو اور لکھتے رہو ، پھر دیکھنا رفتہ رفتہ لکھنا آجائے گا ۔ یہ کوئی دو چار کی گنتی تھوڑی ہی ہے کہ ایک بار یاد کرلو اور ہوگيا ۔ یہ تو زندگی بھر کا کام ہے ، جتنا لگوگے اتنا اچھا آئے گا ۔ کوئی ایسا معلوم طریقہ بھی نہیں ہے سوائے اس کے کہ بس جو جی میں آئے ، لکھتے جاؤ ، لکھتے لکھتے لکھنا آجائے گا ۔ معروف صحافی ، استاذ محترم جناب شیخ شکیل احمد اثری حفظہ اللہ سے ہم طلبہ اکثر یہی سوال کرتے تھے اور وہ یہی جواب دیتے تھے کہ لکھنے لگو ، لکھنا آجائے گا ۔ اس وقت ہمیں بھی اندر ہی اندر خراب لگتا تھا لیکن پھر سمجھ میں آيا کہ ان کی با ت میں کتنی جان تھی ۔ سعودی عرب کے روزنامہ اخبار جریدہ الریاض میں فہد عامر الاحمدی کا کالم چھپتا ہے ، انہوں نے بھی ایک روز اسی مسئلے پر روشنی ڈالی تھی اور مجھے حیرت انگيزخوشی ہوئی کہ انہوں نے بھی وہی نسخہ بتایا جو ہمارے استاذ محترم بتایا کرتے تھے ۔انہوں نے تو یہاں تک لکھا تھا کہ وہ اب بھی ہر روز لکھنے کے معاملے میں کچھ نہ کچھ سیکھنے کی کوشش کرتے ہیں اور سیکھتے ہیں ۔
بے نام خاں تھوڑے ٹھنڈے ہوئے اور کہا : یار ، پھر بھی اس لکھنے کی شروعات کیسے کی جائے ؟
میں نے کہا : خان صاحب ، ایسا ہے کہ اگر کہیں جاؤ تو اس کی تفصیل اپنی زبان میں لکھ دو ، کسی کہانی کو پڑھو تو اس کہانی کو اپنے الفاظ میں لکھ دو ، کسی مولانا یا لیڈر کی تقریر سنو تو اسے لکھ دو ، کسی کتاب کا خلاصہ تیار کرو ، کسی منظر کو لفظوں میں بیان کرو ، دوستوں کے نام خطوط لکھو ، اخبارات میں مراسلے بھیجو ، کسی کا مضمون چھپے ، اچھا لگے تو تعریف لکھ کر بھیج دو ، خراب لگے تو تنقید لکھ کر بھیج دو ، فلمیں دیکھتے ہو ، فلمیں یاد رہ جاتی ہیں ، انہیں اپنی یادداشت سے لکھ دو ، کسی کا حسن ، کسی کی کوئی ادا ، کسی کی کوئی خوبی یا کوئی خصلت تمہیں پسندآتی ہے ، اپنی پسندیدگی کو لکھو ، کسی کی کوئی چيز بری لگتی ہے ، اسے بھی لکھو ۔۔ میرا مطلب ہے کہ اس طرح لکھو ، لکھنا آجائے گا ۔۔۔اور ہاں کسی کی تنقید سے گھبرانا بھی نہیں اور تعریف پر اٹھلانا بھی نہیں ۔ بس اپنا سفر جاری رکھنا ، ایک نہ ایک دن منزل تک پہنچنا نصیب ہو جائے گا ۔
خان صاحب : یہ ہوئی نا بات مولانا ، کب سے ویسے ہی صرف چاٹے جارہے تھے ۔ اب سمجھ میں آيا کہ یہ کتنا آسان کام ہے ۔ اب دیکھنا میں کیسے تمہیں لکھ کر دکھاتا ہوں ۔ آئندہ سے میرے بھی مضامین ۔۔۔۔۔
لیکن یار مولانا ، یہ مضامین کے لیے عنوانات ، مواد اور ۔۔۔۔۔۔ یہ سب کہاں سے کیسے آئے گا ؟
میں : خان صاحب ، اوپر والی بات کامطلب یہ تھا کہ ویسا کرنے سے تمہیں لکھنا آجائے گا لیکن کیا لکھنا ہے ، بات کیسی ہونی چاہیے ، اس میں وزن کسے پیدا ہوگا ، یہ تو مستقل ایک باب ہے اور اس کے لیے تمہیں مطالعہ کرنا ہوگا ، لکھنا بھی تبھی آئے گا جب پڑھنا آئے گا ، جتنا وسیع مطالعہ ہوگا ، اتنی وسیع معلومات ہوگی ، اتنا مضبوط ، محکم اور مستقل اسلوب ہوگا ۔مطالعہ تمہارے لیے نئے نئے دروازے کھولے گا ، فکرو نظر کے بالکل منفرد دھارے بہیں گے ، انہیں
موجوں سے تم اپنی الگ راہ بنانے میں ایک دن کامیاب ہوجاؤگے بالکل ویسے ہی جیسے ریاض کرنے والا آدمی مستقل ریاض کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ اسی ریاض سے ہوتے ہوتے اسے بالکل کسی نئے سر کا پتہ لگ جاتا ہے جس کا وہ موجد کہلاتا ہے ۔ مطالعہ کی راہ غیر محدود اور بے انتہا ہے ، اس سمندر کا کوئی ساحل نہیں لیکن جو کوئی بھی اس سمندر میں مستقل غوطہ زنی کرے گا وہ ضرور بالضرور نئے نئے اور منفرد موتیوں سے ہمکنار ہوگا ۔
خان صاحب : تمہارا مطلب ہے کہ لکھنے سے کہیں زیادہ پڑھنے کی اہمیت ہے ؟
میں : خان صاحب ، تم نے بالکل صحیح سمجھا ، ہماری نسل کا مسئلہ یہ ہے کہ یہ صرف لکھنا اور چھپنا چاہتی ہے ، پڑھنا نہیں چاہتی ۔ یہی وجہ ہے کہ کوئی جدت ، کوئی انوکھی بات ، کوئی نيا گوشہ عام طور سے دیکھنے کو نہیں ملتا ۔ مطالعہ ہی آنکھیں کھولتا ہے ، وہی بتلاتا ہے کہ کہاں کیا کیا اضافے کی گنجائش ہے ، کہاں کیا ہے اور کہاں کیا نہیں ہے ، کب اور کیسے کیا لکھا جانا چاہیے ، معلومات کو تو چھوڑ دو اسلوب بھی مطالعے کی وسعت سے ہی محکم ہوتا ہے ورنہ آدمی باتوں کے ساتھ ساتھ استعارے ، تشبیہیں ، تلمیحات ، اشارے ، کنایے ، اشعار ، ضرب الامثال سب کچھ دہرانے لگتا ہے اور علم وحکمت کی گلیوں میں معشوق تک پہنچنے سے پہلے ہی خودکشی کا مرتکب ہوجاتا ہے ۔
خان صاحب : یار مولانا ، آج تمہارا ہاتھ چومنے کو دل کرتا ہے ، واہ آج تم نے دوستی کا حق ادا کردیا ۔آج کی چائے میری طرف سے ۔ ۔۔۔۔۔۔
ثناءاللہ صادق تیمی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
انتخاب: جناب “خالدحیدر” صاحب(حال مقیم:اعظم گڑھ)
واٹس ایپ:
https://chat.whatsapp.com/CBzhqJzdoyx0mrMIYvcVVe
ٹیلی گرام:
t.me/CutPiece
خان صاحب : تمہارا مطلب ہے کہ لکھنے سے کہیں زیادہ پڑھنے کی اہمیت ہے ؟
میں : خان صاحب ، تم نے بالکل صحیح سمجھا ، ہماری نسل کا مسئلہ یہ ہے کہ یہ صرف لکھنا اور چھپنا چاہتی ہے ، پڑھنا نہیں چاہتی ۔ یہی وجہ ہے کہ کوئی جدت ، کوئی انوکھی بات ، کوئی نيا گوشہ عام طور سے دیکھنے کو نہیں ملتا ۔ مطالعہ ہی آنکھیں کھولتا ہے ، وہی بتلاتا ہے کہ کہاں کیا کیا اضافے کی گنجائش ہے ، کہاں کیا ہے اور کہاں کیا نہیں ہے ، کب اور کیسے کیا لکھا جانا چاہیے ، معلومات کو تو چھوڑ دو اسلوب بھی مطالعے کی وسعت سے ہی محکم ہوتا ہے ورنہ آدمی باتوں کے ساتھ ساتھ استعارے ، تشبیہیں ، تلمیحات ، اشارے ، کنایے ، اشعار ، ضرب الامثال سب کچھ دہرانے لگتا ہے اور علم وحکمت کی گلیوں میں معشوق تک پہنچنے سے پہلے ہی خودکشی کا مرتکب ہوجاتا ہے ۔
خان صاحب : یار مولانا ، آج تمہارا ہاتھ چومنے کو دل کرتا ہے ، واہ آج تم نے دوستی کا حق ادا کردیا ۔آج کی چائے میری طرف سے ۔ ۔۔۔۔۔۔
ثناءاللہ صادق تیمی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
انتخاب: جناب “خالدحیدر” صاحب(حال مقیم:اعظم گڑھ)
واٹس ایپ:
https://chat.whatsapp.com/CBzhqJzdoyx0mrMIYvcVVe
ٹیلی گرام:
t.me/CutPiece
آہٹ سی کوئی آئے تو لگتا ہے کہ تم ہو
سایہ کوئی لہرائے تو لگتا ہے کہ تم ہو
جب شاخ کوئی ہاتھ لگاتے ہی چمن میں
شرمائے لچک جائے تو لگتا ہے کہ تم ہو
صندل سے مہکتی ہوئی پر کیف ہوا کا
جھونکا کوئی ٹکرائے تو لگتا ہے کہ تم ہو
اوڑھے ہوئے تاروں کی چمکتی ہوئی چادر
ندی کوئی بل کھائے تو لگتا ہے کہ تم ہو
جب رات گئے کوئی کرن میرے برابر
چپ چاپ سی سو جائے تو لگتا ہے کہ تم ہو
جاں نثاراختر
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
انتخاب از ایڈمن: “الف،ب،نون”
واٹس ایپ:
https://chat.whatsapp.com/CBzhqJzdoyx0mrMIYvcVVe
ٹیلی گرام:
t.me/CutPiece
سایہ کوئی لہرائے تو لگتا ہے کہ تم ہو
جب شاخ کوئی ہاتھ لگاتے ہی چمن میں
شرمائے لچک جائے تو لگتا ہے کہ تم ہو
صندل سے مہکتی ہوئی پر کیف ہوا کا
جھونکا کوئی ٹکرائے تو لگتا ہے کہ تم ہو
اوڑھے ہوئے تاروں کی چمکتی ہوئی چادر
ندی کوئی بل کھائے تو لگتا ہے کہ تم ہو
جب رات گئے کوئی کرن میرے برابر
چپ چاپ سی سو جائے تو لگتا ہے کہ تم ہو
جاں نثاراختر
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
انتخاب از ایڈمن: “الف،ب،نون”
واٹس ایپ:
https://chat.whatsapp.com/CBzhqJzdoyx0mrMIYvcVVe
ٹیلی گرام:
t.me/CutPiece
“ہم نے ترقی کر لی ہے “
👈پہلے تعلیم حا toصل کی جاتی تھی جو عموماً نظر آتی تھی پھر ہم نے ترقی کر لی اور ڈگریاں لینے لگے پر تعلیم کہیں گم ہو گئی۔۔۔!!!
👈پہلے ماں کی نظریں بتا دیتی تھی کہ غلطی کر رہے ہیں اور سزا ملے گی پھر ہم نے ترقی کر لی اور ماں موم (Mom) بن گئیں اتنی موم ہو گئی کہ اچھے برے کا فرق بتانے کے لیے سختی کرنا بھول گئیں۔۔۔!!!
👈پہلے شام ہوتے ہی ابو کے آنے کا انتظار ہوتا تھا پھر ہم نے ترقی کر لی اور ابو ڈیڈ(Dad) بن گے اور جنریشن گیپ کے نام پہ یہ رشتہ ہی ڈیڈ(Dead) ہو گیا۔۔۔!!!
👈پہلے پھوپھو کے آنے پہ بہترین بستر بہترین برتن نکالے جاتے تھے بتایا جاتا تھا یہ ابو کی بہن ہیں تو یہ گھر ان کا بھی ہے پھر ہم نے ترقی کر لی اور پتہ چلا پھوپھو فساد اور فتنہ ہے۔۔۔!!!
👈پہلے محلہ کے لوگوں میں آنا جانا تھا روز حثیت کے مطابق کھانا پھل ایک دوسرے کو دیئے جاتے تھے پھر ہم نے ترقی کر لی اور پڑوسی بھوک سے خودکشی کرنے لگے بچے بیچنے لگے۔۔۔!!!
👈پہلے عید اور دیگر تہوار ماں باپ اور خاندان میں گزرتے تھے پھر ہم نے ترقی کر لی اور عید تہوار دوستوں بازاروں میں گزارنے لگے۔۔۔!!!
👈پہلے شادی بیاہ کے معاملات خاندان کے بڑے طے کرتے تھے پھر ہم نے ترقی کر لی اور پسند کی شادی کے لئے گھر سے بھاگنے لگے۔۔۔!!!
👈پہلے شادی شدہ بیٹی کو صبر اور خدمت کی تلقین کی جاتی تھی پھر ہم نے ترقی کر لی اور برانڈڈ سوٹ اور سمارٹ فون افورڈ نہ کرنے والے شوہر سے علیحدگی ہو سکتی ہے۔۔۔!!!
👈پہلے شوہر سے جھگڑا کرنے والی بیوی رات کو شوہر کی واپسی تک جھگڑا بھول چکی ہوتی تھی پھر ہم نے ترقی کر لی اور چھوٹے چھوٹے جھگڑوں کی خبریں واٹسیپ گروپوں میں شیئر ہونے لگی اور جھگڑے طول پکڑتےگئے۔۔۔!!!
👈پہلے شادی سے پہلے منگیتر سے ملنا غلط تھا پھر ہم نے ترقی کر لی اور انڈرسٹینڈنگ کے لیے بات ہونے لگی۔۔۔!!!
👈پہلے گھر میں بھی پردہ کرنا سیکھایا جاتا تھا پھر ہم نے ترقی کر لی اور سب کزنز ہو گے....!!!
👈پہلےپردے لیے چادریں اور برقعے ہوتے تھے پھر ہم نے ترقی کر لی اور پردہ نظروں میں آگیا ۔۔۔!!!
👈پہلے مرد کی وجاہت داڑھی میں ہوتی تھی پھر ہم نے ترقی کر لی اور داڑھی کو مذاق بنا دیا۔۔۔!!!
👈پہلے بزرگ گھر کی رونق ہوتے تھے پھر ہم نے ترقی کر لی اور وہ بوجھ بن گئے۔۔۔!!!!
اور پھر ہوا یوں کہ ہم نے ترقی کر لی۔۔۔۔!!!!
(نقل وچسپاں)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
انتخاب: جناب “عبداللہ اعظمی” صاحب(اعظم گڑھ)
واٹس ایپ:
https://chat.whatsapp.com/CBzhqJzdoyx0mrMIYvcVVe
ٹیلی گرام:
t.me/CutPiece
👈پہلے تعلیم حا toصل کی جاتی تھی جو عموماً نظر آتی تھی پھر ہم نے ترقی کر لی اور ڈگریاں لینے لگے پر تعلیم کہیں گم ہو گئی۔۔۔!!!
👈پہلے ماں کی نظریں بتا دیتی تھی کہ غلطی کر رہے ہیں اور سزا ملے گی پھر ہم نے ترقی کر لی اور ماں موم (Mom) بن گئیں اتنی موم ہو گئی کہ اچھے برے کا فرق بتانے کے لیے سختی کرنا بھول گئیں۔۔۔!!!
👈پہلے شام ہوتے ہی ابو کے آنے کا انتظار ہوتا تھا پھر ہم نے ترقی کر لی اور ابو ڈیڈ(Dad) بن گے اور جنریشن گیپ کے نام پہ یہ رشتہ ہی ڈیڈ(Dead) ہو گیا۔۔۔!!!
👈پہلے پھوپھو کے آنے پہ بہترین بستر بہترین برتن نکالے جاتے تھے بتایا جاتا تھا یہ ابو کی بہن ہیں تو یہ گھر ان کا بھی ہے پھر ہم نے ترقی کر لی اور پتہ چلا پھوپھو فساد اور فتنہ ہے۔۔۔!!!
👈پہلے محلہ کے لوگوں میں آنا جانا تھا روز حثیت کے مطابق کھانا پھل ایک دوسرے کو دیئے جاتے تھے پھر ہم نے ترقی کر لی اور پڑوسی بھوک سے خودکشی کرنے لگے بچے بیچنے لگے۔۔۔!!!
👈پہلے عید اور دیگر تہوار ماں باپ اور خاندان میں گزرتے تھے پھر ہم نے ترقی کر لی اور عید تہوار دوستوں بازاروں میں گزارنے لگے۔۔۔!!!
👈پہلے شادی بیاہ کے معاملات خاندان کے بڑے طے کرتے تھے پھر ہم نے ترقی کر لی اور پسند کی شادی کے لئے گھر سے بھاگنے لگے۔۔۔!!!
👈پہلے شادی شدہ بیٹی کو صبر اور خدمت کی تلقین کی جاتی تھی پھر ہم نے ترقی کر لی اور برانڈڈ سوٹ اور سمارٹ فون افورڈ نہ کرنے والے شوہر سے علیحدگی ہو سکتی ہے۔۔۔!!!
👈پہلے شوہر سے جھگڑا کرنے والی بیوی رات کو شوہر کی واپسی تک جھگڑا بھول چکی ہوتی تھی پھر ہم نے ترقی کر لی اور چھوٹے چھوٹے جھگڑوں کی خبریں واٹسیپ گروپوں میں شیئر ہونے لگی اور جھگڑے طول پکڑتےگئے۔۔۔!!!
👈پہلے شادی سے پہلے منگیتر سے ملنا غلط تھا پھر ہم نے ترقی کر لی اور انڈرسٹینڈنگ کے لیے بات ہونے لگی۔۔۔!!!
👈پہلے گھر میں بھی پردہ کرنا سیکھایا جاتا تھا پھر ہم نے ترقی کر لی اور سب کزنز ہو گے....!!!
👈پہلےپردے لیے چادریں اور برقعے ہوتے تھے پھر ہم نے ترقی کر لی اور پردہ نظروں میں آگیا ۔۔۔!!!
👈پہلے مرد کی وجاہت داڑھی میں ہوتی تھی پھر ہم نے ترقی کر لی اور داڑھی کو مذاق بنا دیا۔۔۔!!!
👈پہلے بزرگ گھر کی رونق ہوتے تھے پھر ہم نے ترقی کر لی اور وہ بوجھ بن گئے۔۔۔!!!!
اور پھر ہوا یوں کہ ہم نے ترقی کر لی۔۔۔۔!!!!
(نقل وچسپاں)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
انتخاب: جناب “عبداللہ اعظمی” صاحب(اعظم گڑھ)
واٹس ایپ:
https://chat.whatsapp.com/CBzhqJzdoyx0mrMIYvcVVe
ٹیلی گرام:
t.me/CutPiece
خود کو عورت کی آنکھ سے دیکھا اور اک رمز کی سمجھ آئی..!
عورت کو کبھی سیکس کی نظر کے علاوہ بھی دیکھنا ،بہت کچھ نظر آئے گا تم منہ پھاڑ کر کہ دیتے ہو کہ "جاؤ تم میں تو عورت جتنا حوصلہ بھی نہیں "..تمہاری ہوا بھی نہیں جانتی کہ حوصلے اور ہردے میں جہاں عورت کھڑی ہے ،تم مر کر بھی وہاں نہیں آ سکتے ..تم عورت کو محض ایک قطرہ سونپتے ہو اور بدلے میں پورا وجود حاصل کرتے ہو ..کیا قطرے سے وجود تک کی یہ کتھا ! یہ بار - امانت کسی تعظیم کا حقدار نہیں ؟؟
تمہیں دوسری غلط فہمی یہ دلا دی گئی کہ "نہیں بھائی نہیں عورت کو سمجھنا نا ممکن ہے "..یہ بات اور یہ قول یقینی طور پر کسی ایسے بزدل ترین شخص کا ہوگا جس کا سامنا اپنے سچ سے ہوا ہوگا اور وہ بھاگ کر اس غلط فہمی میں چھپ گیا ہوگا ..تم عورت کو بلکل سمجھ سکتے ہو ،...عورت پیچیدہ نہیں ہے "عورت" ہے ..یعنی "پردہ" پردہ بازار میں کیسے سمجھ آئے گا ؟؟ پردہ جاننے کے لئے پردے کے اندر جانا پڑے گا ،اور اندر کون جھانکے .. .وہ تمہاری "غیر " نہیں ہے ...غیر ہوتی تو تمہاری "جنس " سے نہ ہوتی ..
عورت کا ادراک اور عورت کے اسرار آج تک اگر کہیں پوری طرح کھلتے اور کھولتے نظر آئے ہیں وہ تصوف ہے ....تم نے بہت سنا ہوگا ..کہ امیر خسرو ،شاہ حسین، بللھا شاہ اور دوسرے کئی مرد جوان اپنی کافیوں میں ،اپنے سائیں حضور "سہاگن ،باندی ،گولی " بن کر سیس نواتے ہیں ،بہت شوق سے سنتے ہو جب امیر خسرو کہتے ہیں "موہے سہاگن کی رے موسے نیناں ملائی کے " بہت سر دھنتے ہو جب بلھے شاہ کی یہ کوک سنتے ہو کہ "چہیتی آویں وے طبیبا ! نئیں تے میں مر گیاں"..لیکن کبھی آج تک دھیان کیا ؟؟ کہ سائیں آگے بات کہنے ،عرض گزارنے کے لئے آخر ایسا ہی انداز کیوں کرنا پڑا ؟ اور جب سائیں کا دھیان کرو گے تب سمجھ آئے گی کہ ایسا کیوں تھا ،کیوں ہے ...
عورت کی تعظیم کرو ..اور اس عورت کی جو تمہارے اندر ہے ..جب تم اپنے وجود پر دھیان کرو گے تو تمہیں وہ عورت پوری طرح جاگتی ہوئی ملے گی جو سائیں آگے سہاگن ہو جاتی ہے اور جب تمہیں اپنے اندر کی عورت اور مرد کا پتا چلے گا تب تم پر وہ حقیقت روشن ہو گی جسے عرفان - وجود کہتے ہیں ..! خیر ہو !
علی زریون
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
انتخاب: جناب “محمد احرار” صاحب
واٹس ایپ:
https://chat.whatsapp.com/CBzhqJzdoyx0mrMIYvcVVe
ٹیلی گرام:
t.me/CutPiece
عورت کو کبھی سیکس کی نظر کے علاوہ بھی دیکھنا ،بہت کچھ نظر آئے گا تم منہ پھاڑ کر کہ دیتے ہو کہ "جاؤ تم میں تو عورت جتنا حوصلہ بھی نہیں "..تمہاری ہوا بھی نہیں جانتی کہ حوصلے اور ہردے میں جہاں عورت کھڑی ہے ،تم مر کر بھی وہاں نہیں آ سکتے ..تم عورت کو محض ایک قطرہ سونپتے ہو اور بدلے میں پورا وجود حاصل کرتے ہو ..کیا قطرے سے وجود تک کی یہ کتھا ! یہ بار - امانت کسی تعظیم کا حقدار نہیں ؟؟
تمہیں دوسری غلط فہمی یہ دلا دی گئی کہ "نہیں بھائی نہیں عورت کو سمجھنا نا ممکن ہے "..یہ بات اور یہ قول یقینی طور پر کسی ایسے بزدل ترین شخص کا ہوگا جس کا سامنا اپنے سچ سے ہوا ہوگا اور وہ بھاگ کر اس غلط فہمی میں چھپ گیا ہوگا ..تم عورت کو بلکل سمجھ سکتے ہو ،...عورت پیچیدہ نہیں ہے "عورت" ہے ..یعنی "پردہ" پردہ بازار میں کیسے سمجھ آئے گا ؟؟ پردہ جاننے کے لئے پردے کے اندر جانا پڑے گا ،اور اندر کون جھانکے .. .وہ تمہاری "غیر " نہیں ہے ...غیر ہوتی تو تمہاری "جنس " سے نہ ہوتی ..
عورت کا ادراک اور عورت کے اسرار آج تک اگر کہیں پوری طرح کھلتے اور کھولتے نظر آئے ہیں وہ تصوف ہے ....تم نے بہت سنا ہوگا ..کہ امیر خسرو ،شاہ حسین، بللھا شاہ اور دوسرے کئی مرد جوان اپنی کافیوں میں ،اپنے سائیں حضور "سہاگن ،باندی ،گولی " بن کر سیس نواتے ہیں ،بہت شوق سے سنتے ہو جب امیر خسرو کہتے ہیں "موہے سہاگن کی رے موسے نیناں ملائی کے " بہت سر دھنتے ہو جب بلھے شاہ کی یہ کوک سنتے ہو کہ "چہیتی آویں وے طبیبا ! نئیں تے میں مر گیاں"..لیکن کبھی آج تک دھیان کیا ؟؟ کہ سائیں آگے بات کہنے ،عرض گزارنے کے لئے آخر ایسا ہی انداز کیوں کرنا پڑا ؟ اور جب سائیں کا دھیان کرو گے تب سمجھ آئے گی کہ ایسا کیوں تھا ،کیوں ہے ...
عورت کی تعظیم کرو ..اور اس عورت کی جو تمہارے اندر ہے ..جب تم اپنے وجود پر دھیان کرو گے تو تمہیں وہ عورت پوری طرح جاگتی ہوئی ملے گی جو سائیں آگے سہاگن ہو جاتی ہے اور جب تمہیں اپنے اندر کی عورت اور مرد کا پتا چلے گا تب تم پر وہ حقیقت روشن ہو گی جسے عرفان - وجود کہتے ہیں ..! خیر ہو !
علی زریون
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
انتخاب: جناب “محمد احرار” صاحب
واٹس ایپ:
https://chat.whatsapp.com/CBzhqJzdoyx0mrMIYvcVVe
ٹیلی گرام:
t.me/CutPiece
تہذیب جدید کا عجیب فلسفہ !
پروپیگنڈوں کی قوتوں نے یہ عجیب و غریب فلسفہ ذہنوں پر مسلط کر دیا ہے کہ عورت اگر اپنے گھر میں اپنے اور اپنے شوہر، اپنے ماں باپ، بہن بھائیوں اور اولاد کے لیے خانہ داری کا انتظام کریں تو یہ قید وذلت ہے ، لیکن وہی عورت اجنبی مردوں کے لیے کھانہ پکائے، ان کے کمروں کی صفائی کرے، ہوٹلوں اور جہازوں میں اس کی میزبانی کرے، دکانوں پر اپنی مسکراہٹوں سے گاہکوں کو متوجہ کرے اور دفاتر میں اپنے افسروں کی ناز برداری کرے تو یہ 'آزادی' اور 'اعزاز' ہے۔۔
مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
انتخاب: “مجاہدحسین پہراوی”
واٹس ایپ:
https://chat.whatsapp.com/26r2qsk6DrVKfGR9XqcqXF
ٹیلی گرام:
t.me/CutPiece
پروپیگنڈوں کی قوتوں نے یہ عجیب و غریب فلسفہ ذہنوں پر مسلط کر دیا ہے کہ عورت اگر اپنے گھر میں اپنے اور اپنے شوہر، اپنے ماں باپ، بہن بھائیوں اور اولاد کے لیے خانہ داری کا انتظام کریں تو یہ قید وذلت ہے ، لیکن وہی عورت اجنبی مردوں کے لیے کھانہ پکائے، ان کے کمروں کی صفائی کرے، ہوٹلوں اور جہازوں میں اس کی میزبانی کرے، دکانوں پر اپنی مسکراہٹوں سے گاہکوں کو متوجہ کرے اور دفاتر میں اپنے افسروں کی ناز برداری کرے تو یہ 'آزادی' اور 'اعزاز' ہے۔۔
مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
انتخاب: “مجاہدحسین پہراوی”
واٹس ایپ:
https://chat.whatsapp.com/26r2qsk6DrVKfGR9XqcqXF
ٹیلی گرام:
t.me/CutPiece
WhatsApp.com
WhatsApp Group Invite
اللّٰہ، امّاں اور میں
اللہ سے میری دوستی ہوئے عرصہ ہو گیا۔۔۔!
لیکن امّاں میری سمجھ میں اب بھی نہیں آتی تھیں۔۔۔!
شادی کے بعد جب بھی کبھی امّاں سے شوہر کی شکایت کی تو انہیں میں ہی غلط لگی۔۔۔!
سارے جہان کی غلطیاں مجھ ہی میں تھیں۔۔۔!
جیسے خاور ان کے بیٹے ہیں اور میں غیر۔۔۔!
بھلا امّاں سے دُکھ سُکھ نہ کرتی تو اور کس سے کرتی۔۔۔!
ایک روز فقط اتنا کہہ بیٹھی۔۔۔! نہ کوئی پیار کی بات نہ کوئی لاڈ نخرہ۔۔۔! محبت ہے ہی نہیں ان کو میرے ساتھ۔۔۔! مجھے کس کھونٹے سے باندھ دیا امّاں۔۔۔؟
فالتو تھی نا،، بوجھ تھی آپ پر۔۔۔؟
بس پھر کیا تھا امّاں کا لیکچر شروع۔۔۔!
زرا نہیں بدلی تھیں امّاں۔۔۔!
اس دن بھی ایسا ہی ہوا،،،، خاور کو میری سالگرہ یاد ہی نہیں تھی۔۔۔!
تحفہ تو دور کی بات، مبارک تک نہ دی،،،، میں ساری رات روتی اور کُڑھتی رہی۔۔۔!
اگلے دن کپڑے بیگ میں ڈالے اور امّاں کے گھر۔۔۔!
امّاں خاموشی سے میرے گلے شکوے سنتی رہیں۔۔۔!
مگر ان کے چہرے پر ناگواری تھی۔۔۔!
کہنے لگیں۔۔۔!
*محبت کہنے کی چیز نہیں، کرنے کی ہے۔۔۔!*
تُو اس کی بیوی ہے، تجھے بیاہ کر لے گیا ہے۔۔۔!
اس کے عمل دیکھ، دن بھر تم لوگوں کے لئے محنت کرتا ہے، کولہو کے بیل کی طرح تمہاری ضرورتیں پوری کرنے میں لگا ہے۔۔۔!
ایک دن باہر خوار ہونا پڑے، دو وقت کی روٹی کما کر لانی پڑے تو عقل ٹھکانے آ جاۓ تیری۔۔۔!
تُو ناشکری نہ کر،، تیرا بُت بنا کر بیٹھا پوجتا رہے، تو گھر کا چولہا کیسے جلے۔۔۔؟
تُو اس کے بچوں کی ماں ہے۔۔۔! محبت کو لفظوں میں نہیں عمل میں ڈُھونڈ۔۔۔!
*اور ہاں بند کر دے اللہ سے گلے شکوے،، اللہ سب جانتا ہے۔۔۔!*
ستر ماؤں سے زیادہ پیار کرنے والا ہے، تُو جس کھونٹے کی گَیّا تھی وہیں لے جا کر باندھا اُس نے۔۔۔!
شکر کر ورنہ پچھتاۓ گی۔۔۔!
خاور میں کوئی ایک بھی برائی نہیں، سگریٹ تک نہیں پیتا۔۔۔!
عورتیں بہت بُرے بُرے مردوں کے ساتھ بھی گزارا کرتی ہیں ماریں کھاتی ہیں ۔۔۔!
لیکن اپنی عزت کی خاطر چُپ رہتی ہیں ۔۔۔!
اندھی ہے اپنی عینک بدل کر دیکھ۔۔۔!
کبھی تجھے اُس کا تھکن سے اترا چہرا نظر نہیں آیا ۔۔۔؟؟
*زندگی کوئی فلم نہیں حقیقت کی دنیا میں رہنا سیکھ میری بچی ۔۔۔!*
جن کے جیسی تو بننا چاہتی ہے کبھی ان سے جا کر پوچھ وہ اس زندگی کو کیسے ترستی ہیں جو اللہ نے تُجھے دی ہے۔۔۔!
کچھ عقل کر۔۔۔!
امّاں نے میری ٹھیک ٹھاک کلاس لے ڈالی۔۔۔!
اور ہاں اب تو رات ہو گئی، صبح تجھے چھوڑ آؤں گی اور آج کے بعد خبر دار جو اس طرح نا شُکری کر کے میرے پاس آئی تُو۔۔۔!
مُجھےاماں پر بہت غصہ تھا ۔۔۔! یہاں بھی ساری رات روتے گزری۔۔۔!
امّاں جانے کیوں بے چین تھیں،، پتہ نہیں کیا گُم گیا تھا جو ساری رات مصلے پر ڈھونڈتی رہیں۔۔۔!
بہت غمگین سِسکیاں تھیں امّاں کی ۔۔۔!
صبح صبح کیا دیکھتی ہوں “یہ” باہر امّاں کے پاس بیٹھے باتیں کر رہے تھے۔۔۔!
داماد کی خوب خاطر تواضح ہو رہی تھی۔۔۔!
“امّاں کچھ دن سے آفس میں بہت پریشانی چل رہی تھی۔۔۔!غبن کا معاملہ تھا شکر ہے اللہ کا اس نے سرخرو کیا۔۔۔!
آپ مجھے معاف کردیں میں آپ کی بیٹی کا خیال نہیں رکھ پاتا۔۔۔!”
امّاں کہہ رہی تھیں پتر یہ توجھلی ہے تو معاف کر دیا کر ۔۔۔!
اور میں۔۔۔! میں نے نظر بھر کر خاور کی طرف دیکھا،،، ان کے چہرے پر تھکن لکھی تھی،،،، اس ایک نظر نے مُجھے ہوش کی دنیا میں لا کھڑا کیا۔۔۔!
آنکھوں سے ذرا سی پٹی سرکی تو سب کچھ صاف نظر آنے لگا۔۔۔!
میں شرمندہ تھی۔۔۔!
ان کی تھکن میری رَگ رَگ میں سما گئی۔۔۔!
اور پھر رختِ تھکن سمیٹنے کی عادت ہو گئی۔۔۔!
اب دِل کی جھولی بہت کشادہ تھی۔۔۔!
صبر شُکر اور قناعت نے میرے گھر کو جنّت بنا دیا ۔۔۔!
امّاں کی اُس رات کی سِسکیاں اب تک میرے کانوں میں گونجتی اور میرے دِل کو بے چین کرتی ہیں ۔۔۔!
میری سمجھ میں اچھی طرح آگیا تھا کہ امّاں اُس رات مصلّے پر کیا ڈھونڈتی رہیں۔۔۔
(نقل و چسپاں)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
انتخاب از : “مجاہدحسین پہراوی”
واٹس ایپ:
https://chat.whatsapp.com/CBzhqJzdoyx0mrMIYvcVVe
ٹیلی گرام:
t.me/CutPiece
اللہ سے میری دوستی ہوئے عرصہ ہو گیا۔۔۔!
لیکن امّاں میری سمجھ میں اب بھی نہیں آتی تھیں۔۔۔!
شادی کے بعد جب بھی کبھی امّاں سے شوہر کی شکایت کی تو انہیں میں ہی غلط لگی۔۔۔!
سارے جہان کی غلطیاں مجھ ہی میں تھیں۔۔۔!
جیسے خاور ان کے بیٹے ہیں اور میں غیر۔۔۔!
بھلا امّاں سے دُکھ سُکھ نہ کرتی تو اور کس سے کرتی۔۔۔!
ایک روز فقط اتنا کہہ بیٹھی۔۔۔! نہ کوئی پیار کی بات نہ کوئی لاڈ نخرہ۔۔۔! محبت ہے ہی نہیں ان کو میرے ساتھ۔۔۔! مجھے کس کھونٹے سے باندھ دیا امّاں۔۔۔؟
فالتو تھی نا،، بوجھ تھی آپ پر۔۔۔؟
بس پھر کیا تھا امّاں کا لیکچر شروع۔۔۔!
زرا نہیں بدلی تھیں امّاں۔۔۔!
اس دن بھی ایسا ہی ہوا،،،، خاور کو میری سالگرہ یاد ہی نہیں تھی۔۔۔!
تحفہ تو دور کی بات، مبارک تک نہ دی،،،، میں ساری رات روتی اور کُڑھتی رہی۔۔۔!
اگلے دن کپڑے بیگ میں ڈالے اور امّاں کے گھر۔۔۔!
امّاں خاموشی سے میرے گلے شکوے سنتی رہیں۔۔۔!
مگر ان کے چہرے پر ناگواری تھی۔۔۔!
کہنے لگیں۔۔۔!
*محبت کہنے کی چیز نہیں، کرنے کی ہے۔۔۔!*
تُو اس کی بیوی ہے، تجھے بیاہ کر لے گیا ہے۔۔۔!
اس کے عمل دیکھ، دن بھر تم لوگوں کے لئے محنت کرتا ہے، کولہو کے بیل کی طرح تمہاری ضرورتیں پوری کرنے میں لگا ہے۔۔۔!
ایک دن باہر خوار ہونا پڑے، دو وقت کی روٹی کما کر لانی پڑے تو عقل ٹھکانے آ جاۓ تیری۔۔۔!
تُو ناشکری نہ کر،، تیرا بُت بنا کر بیٹھا پوجتا رہے، تو گھر کا چولہا کیسے جلے۔۔۔؟
تُو اس کے بچوں کی ماں ہے۔۔۔! محبت کو لفظوں میں نہیں عمل میں ڈُھونڈ۔۔۔!
*اور ہاں بند کر دے اللہ سے گلے شکوے،، اللہ سب جانتا ہے۔۔۔!*
ستر ماؤں سے زیادہ پیار کرنے والا ہے، تُو جس کھونٹے کی گَیّا تھی وہیں لے جا کر باندھا اُس نے۔۔۔!
شکر کر ورنہ پچھتاۓ گی۔۔۔!
خاور میں کوئی ایک بھی برائی نہیں، سگریٹ تک نہیں پیتا۔۔۔!
عورتیں بہت بُرے بُرے مردوں کے ساتھ بھی گزارا کرتی ہیں ماریں کھاتی ہیں ۔۔۔!
لیکن اپنی عزت کی خاطر چُپ رہتی ہیں ۔۔۔!
اندھی ہے اپنی عینک بدل کر دیکھ۔۔۔!
کبھی تجھے اُس کا تھکن سے اترا چہرا نظر نہیں آیا ۔۔۔؟؟
*زندگی کوئی فلم نہیں حقیقت کی دنیا میں رہنا سیکھ میری بچی ۔۔۔!*
جن کے جیسی تو بننا چاہتی ہے کبھی ان سے جا کر پوچھ وہ اس زندگی کو کیسے ترستی ہیں جو اللہ نے تُجھے دی ہے۔۔۔!
کچھ عقل کر۔۔۔!
امّاں نے میری ٹھیک ٹھاک کلاس لے ڈالی۔۔۔!
اور ہاں اب تو رات ہو گئی، صبح تجھے چھوڑ آؤں گی اور آج کے بعد خبر دار جو اس طرح نا شُکری کر کے میرے پاس آئی تُو۔۔۔!
مُجھےاماں پر بہت غصہ تھا ۔۔۔! یہاں بھی ساری رات روتے گزری۔۔۔!
امّاں جانے کیوں بے چین تھیں،، پتہ نہیں کیا گُم گیا تھا جو ساری رات مصلے پر ڈھونڈتی رہیں۔۔۔!
بہت غمگین سِسکیاں تھیں امّاں کی ۔۔۔!
صبح صبح کیا دیکھتی ہوں “یہ” باہر امّاں کے پاس بیٹھے باتیں کر رہے تھے۔۔۔!
داماد کی خوب خاطر تواضح ہو رہی تھی۔۔۔!
“امّاں کچھ دن سے آفس میں بہت پریشانی چل رہی تھی۔۔۔!غبن کا معاملہ تھا شکر ہے اللہ کا اس نے سرخرو کیا۔۔۔!
آپ مجھے معاف کردیں میں آپ کی بیٹی کا خیال نہیں رکھ پاتا۔۔۔!”
امّاں کہہ رہی تھیں پتر یہ توجھلی ہے تو معاف کر دیا کر ۔۔۔!
اور میں۔۔۔! میں نے نظر بھر کر خاور کی طرف دیکھا،،، ان کے چہرے پر تھکن لکھی تھی،،،، اس ایک نظر نے مُجھے ہوش کی دنیا میں لا کھڑا کیا۔۔۔!
آنکھوں سے ذرا سی پٹی سرکی تو سب کچھ صاف نظر آنے لگا۔۔۔!
میں شرمندہ تھی۔۔۔!
ان کی تھکن میری رَگ رَگ میں سما گئی۔۔۔!
اور پھر رختِ تھکن سمیٹنے کی عادت ہو گئی۔۔۔!
اب دِل کی جھولی بہت کشادہ تھی۔۔۔!
صبر شُکر اور قناعت نے میرے گھر کو جنّت بنا دیا ۔۔۔!
امّاں کی اُس رات کی سِسکیاں اب تک میرے کانوں میں گونجتی اور میرے دِل کو بے چین کرتی ہیں ۔۔۔!
میری سمجھ میں اچھی طرح آگیا تھا کہ امّاں اُس رات مصلّے پر کیا ڈھونڈتی رہیں۔۔۔
(نقل و چسپاں)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
انتخاب از : “مجاہدحسین پہراوی”
واٹس ایپ:
https://chat.whatsapp.com/CBzhqJzdoyx0mrMIYvcVVe
ٹیلی گرام:
t.me/CutPiece
تمہارے خط میں نیا اک سلام کس کا تھا
نہ تھا رقیب تو آخر وہ نام کس کا تھا
وہ قتل کر کے مجھے ہر کسی سے پوچھتے ہیں
یہ کام کس نے کیا ہے یہ کام کس کا تھا
وفا کریں گے نباہیں گے بات مانیں گے
تمہیں بھی یاد ہے کچھ یہ کلام کس کا تھا
رہا نہ دل میں وہ بے درد اور درد رہا
مقیم کون ہوا ہے مقام کس کا تھا
نہ پوچھ گچھ تھی کسی کی وہاں نہ آؤ بھگت
تمہاری بزم میں کل اہتمام کس کا تھا
تمام بزم جسے سن کے رہ گئی مشتاق
کہو وہ تذکرۂ ناتمام کس کا تھا
ہمارے خط کے تو پرزے کئے پڑھا بھی نہیں
سنا جو تو نے بہ دل وہ پیام کس کا تھا
اٹھائی کیوں نہ قیامت عدو کے کوچے میں
لحاظ آپ کو وقت خرام کس کا تھا
گزر گیا وہ زمانہ کہوں تو کس سے کہوں
خیال دل کو مرے صبح و شام کس کا تھا
ہمیں تو حضرت واعظ کی ضد نے پلوائی
یہاں ارادۂ شرب مدام کس کا تھا
اگرچہ دیکھنے والے ترے ہزاروں تھے
تباہ حال بہت زیر بام کس کا تھا
وہ کون تھا کہ تمہیں جس نے بے وفا جانا
خیال خام یہ سودائے خام کس کا تھا
انہیں صفات سے ہوتا ہے آدمی مشہور
جو لطف عام وہ کرتے یہ نام کس کا تھا
ہر اک سے کہتے ہیں کیا داغؔ بے وفا نکلا
یہ پوچھے ان سے کوئی وہ غلام کس کا تھا
داغ دہلوی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
انتخاب از ایڈمن: “الف،ب،نون”
واٹس ایپ:
https://chat.whatsapp.com/CBzhqJzdoyx0mrMIYvcVVe
ٹیلی گرام:
t.me/CutPiece
نہ تھا رقیب تو آخر وہ نام کس کا تھا
وہ قتل کر کے مجھے ہر کسی سے پوچھتے ہیں
یہ کام کس نے کیا ہے یہ کام کس کا تھا
وفا کریں گے نباہیں گے بات مانیں گے
تمہیں بھی یاد ہے کچھ یہ کلام کس کا تھا
رہا نہ دل میں وہ بے درد اور درد رہا
مقیم کون ہوا ہے مقام کس کا تھا
نہ پوچھ گچھ تھی کسی کی وہاں نہ آؤ بھگت
تمہاری بزم میں کل اہتمام کس کا تھا
تمام بزم جسے سن کے رہ گئی مشتاق
کہو وہ تذکرۂ ناتمام کس کا تھا
ہمارے خط کے تو پرزے کئے پڑھا بھی نہیں
سنا جو تو نے بہ دل وہ پیام کس کا تھا
اٹھائی کیوں نہ قیامت عدو کے کوچے میں
لحاظ آپ کو وقت خرام کس کا تھا
گزر گیا وہ زمانہ کہوں تو کس سے کہوں
خیال دل کو مرے صبح و شام کس کا تھا
ہمیں تو حضرت واعظ کی ضد نے پلوائی
یہاں ارادۂ شرب مدام کس کا تھا
اگرچہ دیکھنے والے ترے ہزاروں تھے
تباہ حال بہت زیر بام کس کا تھا
وہ کون تھا کہ تمہیں جس نے بے وفا جانا
خیال خام یہ سودائے خام کس کا تھا
انہیں صفات سے ہوتا ہے آدمی مشہور
جو لطف عام وہ کرتے یہ نام کس کا تھا
ہر اک سے کہتے ہیں کیا داغؔ بے وفا نکلا
یہ پوچھے ان سے کوئی وہ غلام کس کا تھا
داغ دہلوی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
انتخاب از ایڈمن: “الف،ب،نون”
واٹس ایپ:
https://chat.whatsapp.com/CBzhqJzdoyx0mrMIYvcVVe
ٹیلی گرام:
t.me/CutPiece
*سائنس ہمیں کہاں سے کہاں لے آئی۔۔۔*
*پہلے:-* وہ کنویں کا میلہ کچیلہ پانی پی کر بھی ۱۰۰ سال جی لیتے تھے۔۔
*اب:-* آر-او (RO) کا خالص شفاف پانی پی کر بھی چالیس سال میں بوڑھے ہو رہے ہیں۔۔۔۔
*پہلے:-* وہ گھانی کا میلہ سا تیل کھا کر بڑھاپے میں بھی محنت کر لیتے تھے۔۔۔
*اب:-* ہم ڈبل-ٹرپل فلٹر تیل کھا کر جوانی ہی میں ہانپ رہے ہیں۔۔
*پہلے:-* وہ ڈللے والا نمک کھا کر بیمار نہ پڑھتے تھے۔۔۔
*اب:-* ہم آیوڈین والا نمک کھا کر ہائ اور لو بلیڈ پریشر کا شکار ہے۔۔۔۔
*پہلے:-* وہ نیم، ببول،کوئلہ اور نمک سے دانت چمکاتے تھے اور ۸۰ سال کی عمر تک بھی چبا چبا کر کھاتے تھے۔۔۔۔
*اب:-* کولگیٹ والے روز ڈینٹیسٹ کے چکر لگاتے ہیں۔۔۔۔
*پہلے:-* وہ نبض پکڑ کر بیماری بتا دیتے تھے۔۔۔۔
*اب:-* ساری جانچ کرانے پر بھی بیماری نہی جان پاتے ہے۔۔۔۔
*پہلے:-* وہ سات آٹھ بچے پیدا کرنے والی مائیں، ۸۰ سال کی ہونے پر بھی کھیتوں میں کام کرتی تھی۔۔۔
*اب:-* پہلے مہینے سے ڈاکٹر کی دیکھ ریکھ میں رہیتے ہوئے بھی بچے آپریشن سے ہوتے ہے۔۔۔۔۔
*پہلے:-* کالے گڈ کی میٹھاییاں ٹھوک ٹھوک کر کھاتے تھے۔۔۔۔
*اب:-* کھانے سے پہلے ہی شوگر کی بیماری ہوجاتی ہے۔۔۔
*پہلے:-* بزرگوں کے کبھی گھٹنے نہی دکھتے تھے۔۔۔
*اب:-* جوان بھی گھٹنوں اور کمر درد سے کہارتا ہے۔۔۔
*پہلے:-* ۱۰۰ والٹ(100w) کے بلب جلاتے تھے تو بجلی کا بل ۲۰۰ روپیہ مہینہ آتا تھا۔۔۔
*اب:-* ۹ والٹ(09w) کی سی ایف ایل(cfl) میں ۲۰۰۰ فی مہینہ کا بل آتا ہے۔۔۔۔۔۔۔
سمجھ نہیں آتا کے ہم کہاں کھڑےہے؟ کیوں کھڑے ہے؟ کیا کھویا کیا پایا؟ (نقل وچسپاں)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
انتخاب: جناب “زخمی پرندہ” صاحب(پھول پور،اعظم گڑھ)
واٹس ایپ:
https://chat.whatsapp.com/CBzhqJzdoyx0mrMIYvcVVe
ٹیلی گرام:
t.me/CutPiece
*پہلے:-* وہ کنویں کا میلہ کچیلہ پانی پی کر بھی ۱۰۰ سال جی لیتے تھے۔۔
*اب:-* آر-او (RO) کا خالص شفاف پانی پی کر بھی چالیس سال میں بوڑھے ہو رہے ہیں۔۔۔۔
*پہلے:-* وہ گھانی کا میلہ سا تیل کھا کر بڑھاپے میں بھی محنت کر لیتے تھے۔۔۔
*اب:-* ہم ڈبل-ٹرپل فلٹر تیل کھا کر جوانی ہی میں ہانپ رہے ہیں۔۔
*پہلے:-* وہ ڈللے والا نمک کھا کر بیمار نہ پڑھتے تھے۔۔۔
*اب:-* ہم آیوڈین والا نمک کھا کر ہائ اور لو بلیڈ پریشر کا شکار ہے۔۔۔۔
*پہلے:-* وہ نیم، ببول،کوئلہ اور نمک سے دانت چمکاتے تھے اور ۸۰ سال کی عمر تک بھی چبا چبا کر کھاتے تھے۔۔۔۔
*اب:-* کولگیٹ والے روز ڈینٹیسٹ کے چکر لگاتے ہیں۔۔۔۔
*پہلے:-* وہ نبض پکڑ کر بیماری بتا دیتے تھے۔۔۔۔
*اب:-* ساری جانچ کرانے پر بھی بیماری نہی جان پاتے ہے۔۔۔۔
*پہلے:-* وہ سات آٹھ بچے پیدا کرنے والی مائیں، ۸۰ سال کی ہونے پر بھی کھیتوں میں کام کرتی تھی۔۔۔
*اب:-* پہلے مہینے سے ڈاکٹر کی دیکھ ریکھ میں رہیتے ہوئے بھی بچے آپریشن سے ہوتے ہے۔۔۔۔۔
*پہلے:-* کالے گڈ کی میٹھاییاں ٹھوک ٹھوک کر کھاتے تھے۔۔۔۔
*اب:-* کھانے سے پہلے ہی شوگر کی بیماری ہوجاتی ہے۔۔۔
*پہلے:-* بزرگوں کے کبھی گھٹنے نہی دکھتے تھے۔۔۔
*اب:-* جوان بھی گھٹنوں اور کمر درد سے کہارتا ہے۔۔۔
*پہلے:-* ۱۰۰ والٹ(100w) کے بلب جلاتے تھے تو بجلی کا بل ۲۰۰ روپیہ مہینہ آتا تھا۔۔۔
*اب:-* ۹ والٹ(09w) کی سی ایف ایل(cfl) میں ۲۰۰۰ فی مہینہ کا بل آتا ہے۔۔۔۔۔۔۔
سمجھ نہیں آتا کے ہم کہاں کھڑےہے؟ کیوں کھڑے ہے؟ کیا کھویا کیا پایا؟ (نقل وچسپاں)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
انتخاب: جناب “زخمی پرندہ” صاحب(پھول پور،اعظم گڑھ)
واٹس ایپ:
https://chat.whatsapp.com/CBzhqJzdoyx0mrMIYvcVVe
ٹیلی گرام:
t.me/CutPiece
“ﺩﻧﯿﺎﻭﯼ ﮐﺎﻣﯿﺎﺑﯽ ﮐﮯ 11 ﺭﮨﻨﻤﺎ ﺍﺻﻮﻝ”
01 ۔ ﺑﮍﯼ ﺗﻨﺨﻮﺍﮦ ﻭﺍﻟﯽ ﺟﺎﺏ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﭼﮭﻮﭨﮯﮐﺎﺭﻭﺑﺎﺭ ﮐﻮ ﺗﺮﺟﯿﻊ ﺩﯾﮟ . ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺟﺎﺏ ﺁﭘﮑﻮﮐﺒﮭﯽ ﺩﻭﻟﺘﻤﻨﺪﻧﮩﯿﮟ ﺑﻨﺎﺳﮑﺘﯽ۔
02 ۔ ﺫﺍﺗﯽ ﺭﻗﻢ ﺳﮯﮐﺒﮭﯽ ﺍﻧﻮﯾﺴﻤﻨﭧ ﻧﮧ ﮐﺮﯾﮟ ‘ ﺫﺍﺗﯽ ﺭﻗﻢ ﺻﺮﻑ ﺁﭘﮑﮯﺍﻧﻮﯾﺴﻤﻨﭧ ﮐﯽ ﻣﺤﺎﻓﻆ ﮨﮯ ﺟﻮﺁﭘﮑﯽ ﺍﻧﻮﯾﺴﻤﻨﭧ ﮐﻮ ﺑﭽﺎ ﺳﮑﺘﯽ ﮬﮯ ﺑﮍﮬﺎﻧﮩﯿﮟ ﺳﮑﺘﯽ . ﻧﯿﻮﺑﺰﻧﺲ ﮐﯽ ﺷﺮﻭﻋﺎﺕ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯﺁﭘﮑﻮ ﺳﺮﻣﺎﯾﺎ ﭘﯿﺪﺍﮐﺮﻧﺎﭼﺎﮨﯿﮯ۔
03 ۔ ﺁﭖ ﺭﻭﺯﺍﻧﮧ 10 ﮐﺎﺭﻭﺑﺎﺭﯼ ﺁﺋﯿﮉﯾﺎﺯ ﺳﻮﭼﯿﮟ . ﯾﮧ 10 ﺁﺋﯿﮉﯾﺎﺯ ﺁﭘﮑﻮ ﺳﺎﻻﻧﮧ 3600 ﻧﯿﻮﺑﺰﻧﺲ ﮐﮯ ﻣﻮﺍﻗﻌﮯ ﻓﺮﺍﮨﻢ ﮐﺮﯾﻨﮕﮯ ﺟﻦ ﻣﯿﮟ ﺳﮯﭼﻨﺪ ﺁﺋﯿﮉﯾﺎﺯ ﺁﭖ ﮐﯿﻠﺌﮯﺧﻮﺷﺤﺎﻟﯽ ﮐﺎﺳﺒﺐ ﺿﺮﻭﺭ ﺛﺎﺑﺖ ﮨﻮﻧﮕﮯ۔
04 ۔ ﺁﭖ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﮐﺒﮭﯽ ﭼﺎﺋﮯﮐﺎﻓﯽ ﺍﻭﺭﭨﯿﮑﺴﯽ ﮐﯽ ﺑﭽﺖ ﻧﮧ ﮐﺮﯾﮟ ‘ ﭘﯿﺴﮯﺑﭽﺎﻧﮯﮐﯿﻠﺌﮯﺏﺱ ﮐﺎﺳﻔﺮ ﻧﮧ ﮐﺮﯾﮟ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺩﻧﯿﺎﻣﯿﮟ ﺁﺝ ﺗﮏ ﮐﻮﺋﯽ ﺷﺨﺺ ﺑﭽﺖ ﺳﮯﺍﻣﯿﺮﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺍ ‘ ﺍﻣﯿﺮﯼ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺁﻣﺪﻥ ﮐﮯ ﺫﺭﺍﺋﻊ ﺳﮯ ﺁﺗﯽ ﮨﮯ ﺑﭽﺖ ﺳﮯ ﻧﮩﯿﮟ۔
05 ۔ ﺁﭖ ﺗﻌﻠﯿﻢ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮﯾﮟ ﺗﻌﻠﯿﻢ ﺳﮯ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﮯ ﺳﻮﭼﻨﮯ ﺳﻤﺠﮭﻨﮯ ﮐﯽ ﺻﻼﺣﯿﺖ ﻣﯿﮟ ﺍﺿﺎﻓﮧ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ‘ ﺍﻭﺭ ﮐﺎﺭﻭﺑﺎﺭﯼ ﺍﮨﻠﯿﺖ ﺑﮍﮬﺘﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺳﻮﺟﮫ ﺑﻮﺟﮫ ﺭﮐﮭﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﻟﻮﮒ ﮐﺒﮭﯽ ﺗﻨﮕﺪﺳﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﺘﮯ۔
06 ۔ ﺁﭘﮑﮯﭘﺎﺱ ﺍﮔﺮ ﺭﻗﻢ ﮨﮯﺗﻮﺁﭖ ﮐﺒﮭﯽ ﺍﺱ ﺭﻗﻢ ﮐﺎ 2 ﻓﯿﺼﺪ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺳﺮﻣﺎﯾﮧ ﮐﺎﺭﯼ ﭘﺮﺧﺮﭺ ﻧﮧ ﮐﺮﯾﮟ ‘ ﺑﻠﮑﮧ 98 ﻓﯿﺼﺪ ﺭﻗﻢ ﺍﭘﻨﮯ ﭘﺎﺱ ﺭﮐﮭﯿﮟ ‘ ﯾﮧ 98 ﻓﯿﺼﺪ ﺭﻗﻢ ﺁﭘﮑﮯﺍﻋﺘﻤﺎﺩ ﻣﯿﮟ ﺍﺿﺎﻓﮧ ﮐﺮﮮ ﮔﯽ ‘ ﻣﯿﮟ ﻧﮯﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﺑﮯﺷﻤﺎﺭﺍﯾﺴﮯﺍﻣﯿﺮ ﺩﯾﮑﮭﮯ ﺟﻨﮩﯿﮟ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻧﮯﺑﮯﺍﻧﺘﮩﺎﺩﻭﻟﺖ ﺳﮯ ﻧﻮﺍﺯ ﺭﮐﮭﺎ ﺗﮭﺎ ‘ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺩﻭﻟﺖ ﻣﺨﺘﻠﻒ ﻣﻨﺼﻮﺑﻮﮞ ﭘﺮ ﻟﮕﺎ ﺭﮐﮭﯽ ﺗﮭﯽ .
ﮐﺮﻭﮌﭘﺘﯽ ﮨﻮﻧﮯﮐﮯﺑﺎﻭﺟﻮﺩﺍﻧﮏﯼ ﺟﯿﺒﯿﮟ ﺍﮐﺜﺮﺧﺎﻟﯽ ﺗﮭﯿﮟ۔
07 ۔ ﺁﭖ ﮐﺒﮭﯽ ﺍﯾﺴﺎ ﮐﺎﺭﻭﺑﺎﺭ ﻧﮧ ﮐﺮﯾﮟ ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻣﻘﺎﺑﻠﮧ ﮨﻮ ‘
ﺑﻠﮑﮧ ﺍﯾﺴﺎ ﮐﺎﺭﻭﺑﺎﺭ ﮐﺮﯾﮟ ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﺁﭖ ﺍﭘﻨﯽ ﺍﺟﺎﺭﮦ ﺩﺍﺭﯼ ﻗﺎﺋﻢ ﮐﺮ ﺳﮑﯿﮟ۔
08 ۔ 24 ﮔﮭﻨﭩﮯ ﻣﯿﮟ 8 ﮔﮭﻨﭩﮯ ﺳﻮﻧﺎ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺍﭼﮭﯽ ﺳﺮﻣﺎﯾﮧ ﮐﺎﺭﯼ ﮨﮯ۔
09 ۔ ﺁﭖ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﺍﻥ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﻭﻗﺖ ﺩﯾﮟ ﺟﻮ ﺁﭖ ﺳﮯ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﻧﮧ ﮐﮧ ﺍﻥ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﺟﻦ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺁﭖ ﺑﮯﻭﻗﻌﺖ ﮨﯿﮟ ﯾﺎ ﺟﻨﮩﯿﮟ ﺁﭘﮑﮯ ﮨﻮﻧﮯ ﯾﺎ ﻧﮧ ﮨﻮﻧﮯ ﺳﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﻓﺮﻕ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﮍﺗﺎ۔
10 ۔ ﺁﭖ ﺳﺎﺭﺍ ﺩﻥ ﺍﻥ ﻧﻌﻤﺘﻮﮞ ﭘﺮ ﺷﮑﺮ ﺍﺩﺍ ﮐﺮﯾﮟ
‘ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻧﮯ ﺟﻮ ﺁﭖ ﮐﻮ ﻋﻨﺎﯾﺖ ﮐﺮ ﺭﮐﮭﯽ ﮨﯿﮟ ‘ ﺷﮑﺮ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﯽ ﺗﻮﺍﻧﺎﺋﯽ ﻣﯿﮟ ﺍﺿﺎﻓﮧ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ۔
11 ۔ ﺁﭖ ﺧﻮﺩ ﭘﺮ , ﺍﭘﻨﯽ ﺫﮨﻦ ﺻﻼﺣﯿﺘﻮﮞ ﭘﺮ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯﺗﺠﺮﺑﮯﭘﺮﺍﻋﺘﻢﺍﺩﮐﺮﯾﮟ ‘ ﺁﭖ ﺻﺤﯿﺢ ﺍﻭﺭ ﻏﻠﻂ ﮐﮯﺑﺎﺭﮮﻣﯿﮟ ﺩﻭﺳﺮﻭﮞ ﺳﮯﭘﻮﭼﮭﻨﮯﮐﮯﺑﺠﺎﺋﮯ
ﺣﺎﻻﺕ ﭘﺮﺧﻮﺩﻏﻮﺭﮐﺮﯾﮟ ,
ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺩﻧﯿﺎﻣﯿﮟ ﺁﭘﮑﺎﺁﭖ ﺳﮯﺑﮍﺍ ﮐﻮﺋﯽ ﺩﻭﺳﺖ ﻧﮩﯿﮟ ‘ ﺁﭖ ﺧﻮﺩﮐﻮﺩﮬﻮﮐﺎﻧﮩﯿﮟ ﺩﮮﺳﮑﺘﮯ۔
(نقل وچسپاں)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
انتخاب: جناب “عبدالقادر”صاحب(مرادآباد)
واٹس ایپ:
https://chat.whatsapp.com/CBzhqJzdoyx0mrMIYvcVVe
ٹیلی گرام:
t.me/CutPiece
01 ۔ ﺑﮍﯼ ﺗﻨﺨﻮﺍﮦ ﻭﺍﻟﯽ ﺟﺎﺏ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﭼﮭﻮﭨﮯﮐﺎﺭﻭﺑﺎﺭ ﮐﻮ ﺗﺮﺟﯿﻊ ﺩﯾﮟ . ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺟﺎﺏ ﺁﭘﮑﻮﮐﺒﮭﯽ ﺩﻭﻟﺘﻤﻨﺪﻧﮩﯿﮟ ﺑﻨﺎﺳﮑﺘﯽ۔
02 ۔ ﺫﺍﺗﯽ ﺭﻗﻢ ﺳﮯﮐﺒﮭﯽ ﺍﻧﻮﯾﺴﻤﻨﭧ ﻧﮧ ﮐﺮﯾﮟ ‘ ﺫﺍﺗﯽ ﺭﻗﻢ ﺻﺮﻑ ﺁﭘﮑﮯﺍﻧﻮﯾﺴﻤﻨﭧ ﮐﯽ ﻣﺤﺎﻓﻆ ﮨﮯ ﺟﻮﺁﭘﮑﯽ ﺍﻧﻮﯾﺴﻤﻨﭧ ﮐﻮ ﺑﭽﺎ ﺳﮑﺘﯽ ﮬﮯ ﺑﮍﮬﺎﻧﮩﯿﮟ ﺳﮑﺘﯽ . ﻧﯿﻮﺑﺰﻧﺲ ﮐﯽ ﺷﺮﻭﻋﺎﺕ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯﺁﭘﮑﻮ ﺳﺮﻣﺎﯾﺎ ﭘﯿﺪﺍﮐﺮﻧﺎﭼﺎﮨﯿﮯ۔
03 ۔ ﺁﭖ ﺭﻭﺯﺍﻧﮧ 10 ﮐﺎﺭﻭﺑﺎﺭﯼ ﺁﺋﯿﮉﯾﺎﺯ ﺳﻮﭼﯿﮟ . ﯾﮧ 10 ﺁﺋﯿﮉﯾﺎﺯ ﺁﭘﮑﻮ ﺳﺎﻻﻧﮧ 3600 ﻧﯿﻮﺑﺰﻧﺲ ﮐﮯ ﻣﻮﺍﻗﻌﮯ ﻓﺮﺍﮨﻢ ﮐﺮﯾﻨﮕﮯ ﺟﻦ ﻣﯿﮟ ﺳﮯﭼﻨﺪ ﺁﺋﯿﮉﯾﺎﺯ ﺁﭖ ﮐﯿﻠﺌﮯﺧﻮﺷﺤﺎﻟﯽ ﮐﺎﺳﺒﺐ ﺿﺮﻭﺭ ﺛﺎﺑﺖ ﮨﻮﻧﮕﮯ۔
04 ۔ ﺁﭖ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﮐﺒﮭﯽ ﭼﺎﺋﮯﮐﺎﻓﯽ ﺍﻭﺭﭨﯿﮑﺴﯽ ﮐﯽ ﺑﭽﺖ ﻧﮧ ﮐﺮﯾﮟ ‘ ﭘﯿﺴﮯﺑﭽﺎﻧﮯﮐﯿﻠﺌﮯﺏﺱ ﮐﺎﺳﻔﺮ ﻧﮧ ﮐﺮﯾﮟ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺩﻧﯿﺎﻣﯿﮟ ﺁﺝ ﺗﮏ ﮐﻮﺋﯽ ﺷﺨﺺ ﺑﭽﺖ ﺳﮯﺍﻣﯿﺮﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺍ ‘ ﺍﻣﯿﺮﯼ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺁﻣﺪﻥ ﮐﮯ ﺫﺭﺍﺋﻊ ﺳﮯ ﺁﺗﯽ ﮨﮯ ﺑﭽﺖ ﺳﮯ ﻧﮩﯿﮟ۔
05 ۔ ﺁﭖ ﺗﻌﻠﯿﻢ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮﯾﮟ ﺗﻌﻠﯿﻢ ﺳﮯ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﮯ ﺳﻮﭼﻨﮯ ﺳﻤﺠﮭﻨﮯ ﮐﯽ ﺻﻼﺣﯿﺖ ﻣﯿﮟ ﺍﺿﺎﻓﮧ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ‘ ﺍﻭﺭ ﮐﺎﺭﻭﺑﺎﺭﯼ ﺍﮨﻠﯿﺖ ﺑﮍﮬﺘﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺳﻮﺟﮫ ﺑﻮﺟﮫ ﺭﮐﮭﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﻟﻮﮒ ﮐﺒﮭﯽ ﺗﻨﮕﺪﺳﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﺘﮯ۔
06 ۔ ﺁﭘﮑﮯﭘﺎﺱ ﺍﮔﺮ ﺭﻗﻢ ﮨﮯﺗﻮﺁﭖ ﮐﺒﮭﯽ ﺍﺱ ﺭﻗﻢ ﮐﺎ 2 ﻓﯿﺼﺪ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺳﺮﻣﺎﯾﮧ ﮐﺎﺭﯼ ﭘﺮﺧﺮﭺ ﻧﮧ ﮐﺮﯾﮟ ‘ ﺑﻠﮑﮧ 98 ﻓﯿﺼﺪ ﺭﻗﻢ ﺍﭘﻨﮯ ﭘﺎﺱ ﺭﮐﮭﯿﮟ ‘ ﯾﮧ 98 ﻓﯿﺼﺪ ﺭﻗﻢ ﺁﭘﮑﮯﺍﻋﺘﻤﺎﺩ ﻣﯿﮟ ﺍﺿﺎﻓﮧ ﮐﺮﮮ ﮔﯽ ‘ ﻣﯿﮟ ﻧﮯﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﺑﮯﺷﻤﺎﺭﺍﯾﺴﮯﺍﻣﯿﺮ ﺩﯾﮑﮭﮯ ﺟﻨﮩﯿﮟ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻧﮯﺑﮯﺍﻧﺘﮩﺎﺩﻭﻟﺖ ﺳﮯ ﻧﻮﺍﺯ ﺭﮐﮭﺎ ﺗﮭﺎ ‘ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺩﻭﻟﺖ ﻣﺨﺘﻠﻒ ﻣﻨﺼﻮﺑﻮﮞ ﭘﺮ ﻟﮕﺎ ﺭﮐﮭﯽ ﺗﮭﯽ .
ﮐﺮﻭﮌﭘﺘﯽ ﮨﻮﻧﮯﮐﮯﺑﺎﻭﺟﻮﺩﺍﻧﮏﯼ ﺟﯿﺒﯿﮟ ﺍﮐﺜﺮﺧﺎﻟﯽ ﺗﮭﯿﮟ۔
07 ۔ ﺁﭖ ﮐﺒﮭﯽ ﺍﯾﺴﺎ ﮐﺎﺭﻭﺑﺎﺭ ﻧﮧ ﮐﺮﯾﮟ ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻣﻘﺎﺑﻠﮧ ﮨﻮ ‘
ﺑﻠﮑﮧ ﺍﯾﺴﺎ ﮐﺎﺭﻭﺑﺎﺭ ﮐﺮﯾﮟ ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﺁﭖ ﺍﭘﻨﯽ ﺍﺟﺎﺭﮦ ﺩﺍﺭﯼ ﻗﺎﺋﻢ ﮐﺮ ﺳﮑﯿﮟ۔
08 ۔ 24 ﮔﮭﻨﭩﮯ ﻣﯿﮟ 8 ﮔﮭﻨﭩﮯ ﺳﻮﻧﺎ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺍﭼﮭﯽ ﺳﺮﻣﺎﯾﮧ ﮐﺎﺭﯼ ﮨﮯ۔
09 ۔ ﺁﭖ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﺍﻥ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﻭﻗﺖ ﺩﯾﮟ ﺟﻮ ﺁﭖ ﺳﮯ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﻧﮧ ﮐﮧ ﺍﻥ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﺟﻦ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺁﭖ ﺑﮯﻭﻗﻌﺖ ﮨﯿﮟ ﯾﺎ ﺟﻨﮩﯿﮟ ﺁﭘﮑﮯ ﮨﻮﻧﮯ ﯾﺎ ﻧﮧ ﮨﻮﻧﮯ ﺳﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﻓﺮﻕ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﮍﺗﺎ۔
10 ۔ ﺁﭖ ﺳﺎﺭﺍ ﺩﻥ ﺍﻥ ﻧﻌﻤﺘﻮﮞ ﭘﺮ ﺷﮑﺮ ﺍﺩﺍ ﮐﺮﯾﮟ
‘ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻧﮯ ﺟﻮ ﺁﭖ ﮐﻮ ﻋﻨﺎﯾﺖ ﮐﺮ ﺭﮐﮭﯽ ﮨﯿﮟ ‘ ﺷﮑﺮ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﯽ ﺗﻮﺍﻧﺎﺋﯽ ﻣﯿﮟ ﺍﺿﺎﻓﮧ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ۔
11 ۔ ﺁﭖ ﺧﻮﺩ ﭘﺮ , ﺍﭘﻨﯽ ﺫﮨﻦ ﺻﻼﺣﯿﺘﻮﮞ ﭘﺮ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯﺗﺠﺮﺑﮯﭘﺮﺍﻋﺘﻢﺍﺩﮐﺮﯾﮟ ‘ ﺁﭖ ﺻﺤﯿﺢ ﺍﻭﺭ ﻏﻠﻂ ﮐﮯﺑﺎﺭﮮﻣﯿﮟ ﺩﻭﺳﺮﻭﮞ ﺳﮯﭘﻮﭼﮭﻨﮯﮐﮯﺑﺠﺎﺋﮯ
ﺣﺎﻻﺕ ﭘﺮﺧﻮﺩﻏﻮﺭﮐﺮﯾﮟ ,
ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺩﻧﯿﺎﻣﯿﮟ ﺁﭘﮑﺎﺁﭖ ﺳﮯﺑﮍﺍ ﮐﻮﺋﯽ ﺩﻭﺳﺖ ﻧﮩﯿﮟ ‘ ﺁﭖ ﺧﻮﺩﮐﻮﺩﮬﻮﮐﺎﻧﮩﯿﮟ ﺩﮮﺳﮑﺘﮯ۔
(نقل وچسپاں)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
انتخاب: جناب “عبدالقادر”صاحب(مرادآباد)
واٹس ایپ:
https://chat.whatsapp.com/CBzhqJzdoyx0mrMIYvcVVe
ٹیلی گرام:
t.me/CutPiece
یاد رکھ خود کو مٹائے گا تو چھا جائے گا
ﻋﺸﻖ ﻣﯿﮟ ﻋﺠﺰ ﻣﻼﺋﮯ ﮔﺎ ﺗﻮ ﭼﮭﺎﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ
ﺍﭼﮭﯽ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﮐﮯ ﭘﺠﺎﺭﯼ ﮨﯿﮟ ﻣﯿﺮﮮﺷﮩﺮ ﮐﮯ ﻟﻮﮒ
ﺗﻮ ﻣﯿﺮﮮ ﺷﮩﺮ ﻣﯿﮟ ﺁﺋﮯ ﮔﺎ ﺗﻮﭼﮭﺎﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ
ﻗﯿﺎﻣﺖ ﺑﮭﯽ ﺍﭨﮭﺎ ﺩﯾﻨﮕﮯ ﺗﻮ ﮐﻮﺋﯽﻓﺮﻕ ﻧﮩﯿﮟ
ﺗﻮ ﻓﻘﻂ ﺁﻧﮑﮫ ﺍﭨﮭﺎﺋﮯ ﮔﺎ ﺗﻮ ﭼﮭﺎ ﺟﺎﺋﮯﮔﺎ
ﭘﮭﻮﻝ ﺗﻮ ﭘﮭﻮﻝ ﮨﯿﮟ ﻭﮦ ﺷﺨﺺ ﺍﮔﺮﮐﺎﻧﭩﮯ ﺑﮭﯽ
ﺍﭘﻨﮯ ﺑﺎﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﺠﺎﺋﮯ ﮔﺎ ﺗﻮ ﭼﮭﺎﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ
ﯾﻮﮞ ﺗﻮ ﮨﺮ ﺭﻧﮓ ﮨﯽ ﺳﺠﺘﺎ ﮨﮯ ﺑﺮﺍﺑﺮﺗﺠﮫ ﭘﺮ
ﺳﺮﺥ ﭘﻮﺷﺎﮎ ﻣﯿﮟ ﺁﺋﮯ ﮔﺎ ﺗﻮ ﭼﮭﺎ ﺟﺎﺋﮯﮔﺎ
ﭘﻨﮑﮭﮍﯼ ﮨﻮﻧﭧ, ﻣﺪﮬﺮ ﻟﮩﺠﮧ ﺍﻭﺭ ﺁﻭﺍﺯﺍﺩﺍﺱ
ﯾﺎﺭ ﺗﻮ ﺷﻌﺮ ﺳﻨﺎﺋﮯ ﮔﺎ ﺗﻮ ﭼﮭﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ
رحمان فارس
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
انتخاب از ایڈمن: “الف،ب،نون”
واٹس ایپ:
https://chat.whatsapp.com/CBzhqJzdoyx0mrMIYvcVVe
ٹیلی گرام:
t.me/CutPiece
ﻋﺸﻖ ﻣﯿﮟ ﻋﺠﺰ ﻣﻼﺋﮯ ﮔﺎ ﺗﻮ ﭼﮭﺎﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ
ﺍﭼﮭﯽ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﮐﮯ ﭘﺠﺎﺭﯼ ﮨﯿﮟ ﻣﯿﺮﮮﺷﮩﺮ ﮐﮯ ﻟﻮﮒ
ﺗﻮ ﻣﯿﺮﮮ ﺷﮩﺮ ﻣﯿﮟ ﺁﺋﮯ ﮔﺎ ﺗﻮﭼﮭﺎﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ
ﻗﯿﺎﻣﺖ ﺑﮭﯽ ﺍﭨﮭﺎ ﺩﯾﻨﮕﮯ ﺗﻮ ﮐﻮﺋﯽﻓﺮﻕ ﻧﮩﯿﮟ
ﺗﻮ ﻓﻘﻂ ﺁﻧﮑﮫ ﺍﭨﮭﺎﺋﮯ ﮔﺎ ﺗﻮ ﭼﮭﺎ ﺟﺎﺋﮯﮔﺎ
ﭘﮭﻮﻝ ﺗﻮ ﭘﮭﻮﻝ ﮨﯿﮟ ﻭﮦ ﺷﺨﺺ ﺍﮔﺮﮐﺎﻧﭩﮯ ﺑﮭﯽ
ﺍﭘﻨﮯ ﺑﺎﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﺠﺎﺋﮯ ﮔﺎ ﺗﻮ ﭼﮭﺎﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ
ﯾﻮﮞ ﺗﻮ ﮨﺮ ﺭﻧﮓ ﮨﯽ ﺳﺠﺘﺎ ﮨﮯ ﺑﺮﺍﺑﺮﺗﺠﮫ ﭘﺮ
ﺳﺮﺥ ﭘﻮﺷﺎﮎ ﻣﯿﮟ ﺁﺋﮯ ﮔﺎ ﺗﻮ ﭼﮭﺎ ﺟﺎﺋﮯﮔﺎ
ﭘﻨﮑﮭﮍﯼ ﮨﻮﻧﭧ, ﻣﺪﮬﺮ ﻟﮩﺠﮧ ﺍﻭﺭ ﺁﻭﺍﺯﺍﺩﺍﺱ
ﯾﺎﺭ ﺗﻮ ﺷﻌﺮ ﺳﻨﺎﺋﮯ ﮔﺎ ﺗﻮ ﭼﮭﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ
رحمان فارس
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
انتخاب از ایڈمن: “الف،ب،نون”
واٹس ایپ:
https://chat.whatsapp.com/CBzhqJzdoyx0mrMIYvcVVe
ٹیلی گرام:
t.me/CutPiece