📃📑کَٹ پِیس📜📄
864 subscribers
27 photos
2.02K links
میگزین،اخبار،کتاب اور سوشل میڈیا سے منتخب دل چسپ وکارآمد تحریریں،اشعار،لطائف،ون لائنرز،اقوال،کالمز اور کوٹیشنز!
@AlifBNoon
Download Telegram
لو بھلا بتاؤ۔ ۔ ۔ گھر میں برکت ہو، تو کیسے ہو؟

ابّا دکان پر کھڑے۔ ۔ ۔ ''کُوپیکس'' کیڑے مار پاؤڈر کو گھورتے ہوئے بڑبڑا رہے تھے۔
ارے۔ ۔ ۔ شاہ صاحب۔ ۔ ۔! بہترین دوا ہے یہ ۔ ۔ ۔ منٹوں میں چیونٹیاں مر جاتی ہیں اس سے۔ دکاندار نے ابّا سے کہتے ہوئے ماڈرن خاتون کی جانب پریشانی سے دیکھا، جو ابّا کے اس جملے پر چونک گئی تھیں اور ان کو وضاحت طلب نگاہوں سے دیکھ رہی تھیں۔
ٹھیک ہے بھائی ۔ ۔ ۔ تم ایسا کہہ سکتے ہو، تمہاری دکانداری کا معاملہ ہے۔ ۔ ۔ مگر گھر میں آئی چیونٹیوں کو بھگانے کے لئے یہ طریقہ ٹھیک نہیں۔ ابّا اپنی بات پر قائم تھے۔
یہ 1986ء کی بات ہے۔ ۔ ۔ میں کچھ دیر پہلے ہی مہینے بھر کی گراسری کے لئے ابّا کے ساتھ دکان پر آیا تھا، ہم ہمیشہ اسی دکان سے سودا لیا کرتے تھے۔ آج بھی جب ہم دکان پر پہنچے اور سودا لینے لگے تو اُسی دم وہ ماڈرن خاتون اپنے کاندھے پر دوپٹہ ٹھیک کرتی ہوئی کاؤنٹر پر آ پہنچیں۔
ستاربھائی۔ ۔ ۔ وہ چیونٹیاں مارنے والا پاؤڈر ہے؟ انہوں نے آتے ہی دکاندار سے سوال کیا تھا، جو اسوقت ہمارے لئے کالی مرچ تول رہا تھا۔
جی باجی۔ ۔ ۔ ابھی لایا۔ وہ ہماری کالی مرچوں کو چھوڑ کر اندرونی حصے میں چلا گیا اور کچھ دیر بعد کوپیکس پاؤڈر کے گول ڈبے کو جھاڑتا ہوا لے آیا۔
یہ کیا ہے ؟ ابّا کے ماتھے پر بل آگئے۔
ارے۔ ۔ ۔ شاہ صاحب۔ ۔ ۔ یہ بڑا بہترین پاؤڈر ہے، چیونٹیوں کو مارنے کے لئے۔ ۔ ۔ منٹوں میں چیونٹیوں کا خاتمہ کر دیتا ہے۔ ۔ ۔ اور یہ انسانی صحت کے لئے مضر بھی نہیں۔ ۔ ۔ میں تو اپنی پوری دکان میں یہی استعمال کرتا ہوں۔
ابّا کے استفسار پر ستار بھائی کی آنکھوں میں پاؤڈر والوں کا کمیشن لہرانے لگا۔
ہاں ۔ ۔ ۔ وہ تو ٹھیک ہے ۔ ۔ ۔ مگر چیونٹیوں کو کون مارتا ہے بھلا ؟ آخر وہ کسی کا کیا بگاڑتی ہیں؟ ابّا نے حیرانی سے خاتون کی جانب دیکھتے ہوئے سوال کیا۔
تو کیا کروں انکل؟ میں تو پریشان ہو گئی ہوں ان چیونٹیوں سے۔ ۔ ۔ بچوں والا گھر ہے میرا۔ ۔ ۔ شوہر سے کہا تو انہوں نے بھی جھاڑ پلا دی۔ ۔ ۔ کہنے لگے، ''امی کی زندگی میں تو کبھی ہمیں چیونٹیوں نے پریشان نہیں کیا۔ ۔ ۔ کیونکہ وہ گھر کو بالکل صاف رکھا کرتی تھیں'' ۔ ۔ ۔ اب آپ ہی بتائیں۔ ۔ ۔ آپ کو کیا لگتا ہے؟ کیا میں گھر کی صفائی نہیں کرتی ہونگی؟ کیا میں آپ کو ایسی پھوہڑ دکھائی دیتی ہوں؟
خاتون نے نہ صرف اپنا دکھڑا رونا شروع کردیا، بلکہ ابّا سے سوالات بھی کرنا شروع کردئے۔
اور ابّا جو ان سوالات کے لئے بالکل تیار نہ تھے، ایکدم پریشان ہو گئے۔
نہیں بیٹا۔ ۔ ۔ میں تو بس یہ کہہ رہا ہوں کہ ۔ ۔ ۔ چیونٹیوں سے نجات کے لئے تم ایک مٹھی آٹا ڈال دیا کرو۔ ۔ ۔ یہ بیچاری ننھی مخلوق تو صرف رزق کے لئے باہر آتی ہے۔ ۔ ۔ اور بس۔ ۔ ۔!
ابّا کے لہجے میں زمانے بھر کی شفقت دیکھ کر، خاتون نے غیر محسوس انداذ میں دوپٹہ سر پر لے لیا۔
جی جی انکل۔ ۔ ۔ مگر کیا اس سے چیونٹیوں سے چھٹکارہ مل جائے گا؟ وہ اب بھی غیر یقینی انداذ میں ابّا سے پوچھ رہی تھیں۔
کیوں نہیں بیٹا۔ ۔ ۔ پرانے زمانے سے یہی رواج چلا آرہا ہے۔ ۔ ۔ اِدھر گھر میں چیونٹیاں نظر آئیں، اور اُدھر بڑی بوڑھیوں نے مٹھی بھر آٹا کونوں میں ڈال دیا۔ ۔ ۔ چیونٹیوں سے بھی نجات۔ ۔ ۔ اور صدقے کی نیکی مفت میں۔
ابّا ہنسنے لگے تو خاتون کے چہرے پر بھی مسکراہٹ آگئی۔
چلیں میں بھی پھر۔ ۔ ۔ آٹا۔ ۔ ۔ ہی ٹرائے کرتی ہوں۔ وہ کچھ سوچتے ہوئے کوپیکس پاؤڈر وہیں کاؤنٹر پر رکھ کر واپسی کے لئے مڑ گئیں۔
اور ستاربھائی نے ابّا کو خشمگیں نگاہوں سے دیکھتے ہوئے کالی مرچوں کو تولنا شروع کردیا۔
ابّا۔ ۔ ۔ تم نے ستار بھائی کی دکانداری خراب کردی ۔
واپسی پر میں نے ابّا سے ہنستے ہوئے کہا۔
نہیں بیٹا۔ ۔ ۔ یہ بات نہیں۔ ۔ ۔ ہمارے گھروں سے برکتیں اسی لئے اٹھ گئی ہیں ۔ ۔ ۔ لوگ اللّہ کی مخلوق کا خیال رکھنا بھول چکے ہیں۔ ۔ ۔ پہلے کسی گھر کے سامنے کُتا بھی آکر بیٹھ جاتا تھا، تو گھر کی خواتین اسکے سامنے بھی کچھ نہ کچھ بچا کھچا سالن روٹی رکھ دیا کرتی تھیں۔ ۔ ۔ مگر اب ایسا نہیں ہوتا، کیونکہ اب ۔ ۔ ۔ روٹیاں بھی گن کر پکائی جاتی ہیں۔ ۔ ۔ برکتیں کہاں سے آئیں گی پھر؟ ۔ ۔ ۔ اس قوم پر بومب نہ گریں۔ ۔ ۔ زلزلے نہ آئیں۔ ۔ ۔ سیلاب نہ آئیں۔ ۔ ۔ تو اور کیا ہو؟
ابّا تاسف کے اظہار کے ساتھ ساتھ مجھے آسان زندگی کے گُر سمجھانے کی کوشش بھی کر رہے تھے۔
عرصہ گذر گیا۔ ۔ ۔
میں بھی اس واقعے کو بھول گیا۔
پھر ایک دن بڑے بھائی جان کے ہاں جانا ہوا۔ ابھی ڈور بیل بجانے ہی لگا تھا کہ، چڑیوں کے جُھنڈ کے اڑنے کی زوردار آواز کانوں میں پڑی، چونک کر اوپر دیکھا تو پتہ چلا کہ مین گیٹ کے دونوں جانب مٹی کے کُونڈے رکھے تھے، اور ان کُونڈوں سے چند لمحے قبل یقیناً وہ چڑیاں دانہ چگ رہی تھیں ۔ ۔ ۔ اور اب میری آمد سے ڈر کر اانہوں نے اڑان بھری تھی۔ مگر ابھی بھی۔ ۔ ۔ وہ اڑ کر دور نہیں گئیں تھیں۔ ۔ ۔ بلکہ اوپری مُنڈیر پر اِدھر اُدھر پھدک کر میرے جانے کا انتظار کر رہی تھیں۔
بھ
تیجی نے دروازہ کھولا تو میں اندر داخل ہوگیا۔
یہ کیا ؟۔ ۔ ۔ اتنی ساری چڑیاں۔ ۔ ۔؟ میں نے سلام کے بعد خوشگوار حیرت سے بھابھی سے پوچھا۔ جو کچن کی کھڑکی سے کھانا پکاتے ہوئے مجھے دیکھ کر مسکرا رہی تھیں۔
تمہارے بھائی جان نے رکھے ہیں یہ کُونڈے لا کر۔ ۔ ۔ چڑیوں کے دانے کے لئے۔
وہ معنی خیز انداز میں بڑی بھتیجی کو دیکھ کر مسکرائیں تو مجھے اچنبھا سا محسوس ہوا۔
شام کو بھائی جان آئے تو مجھ سے رہا نہ گیا۔
بھائی جان۔ ۔ ۔ یہ چڑیوں کے لئے دانہ رکھنے کی کوئی خاص وجہ ہے کیا؟
نہیں بس ۔ ۔ ۔ ایسے ہی ۔ ۔ ۔ اچھا ہوتا ہے۔ ۔ ۔صدقہ دیتے رہنا چاہئے۔
بھائی جان نے آہستہ سے سمجھایا۔ ۔ ۔ یہ بہت ضروری ہوتا ہے۔ ۔ ۔ خصوصًا جس گھر میں بیٹیاں ہوں۔ ۔ ۔ پھر بتانے لگے کہ
کسی بزرگ کے پاس ایک شخص نے آکر بتایا کہ وہ غریب آدمی ہے اور پریشان ہے کہ اپنی جوان بیٹیوں کی شادی کس طرح کر پائے گا، کیونکہ غربت کی وجہ سے کوئی اسکی بیٹیوں سے شادی کرنے کو تیار نہیں۔
بزرگ نے مشورہ دیا کہ۔ ۔ ۔ روز دو سو بھوکوں کو کھانا کھلاؤ۔ ۔ ۔ تمہارا مسئلہ حل ہوجائے گا۔
غریب آدمی مارے احترام کے بزرگ کو تو کچھ نہ بول پایا، البتہ آستانے سے باہر آکر زاروقطار رونے لگا۔
پاس سے گذرتے کسی دانا نے پوچھا روتے کیوں ہو؟
غریب نے جواب دیا ۔ ۔ ۔ غربت نے پہلے ہی مار مار کر ادھ موا کیا ہوا ہے۔ ۔ ۔ اور سرکار نے فرمایا ہے کہ ۔ ۔ ۔ روز دو سو بھوکوں کو کھانا کھلاؤ ۔ ۔ ۔ تب بیٹیوں کی شادی ممکن ہوگی۔
دانا آدمی مسکرا کر بولا
بھلے آدمی۔ ۔ ۔ بھوکا کیا صرف انسان ہوتا ہے؟ اللّہ کی مخلوق ۔ ۔ ۔ چھوٹی ہو یا بڑی ۔ ۔ ۔ بھوک تو سب کو ستاتی ہے۔ ۔ ۔ اگر تم ایک مٹھی آٹا بھی چیونٹیوں کو ڈال دو گے تو سمجھو تمہارا صدقہ ہوگیا۔
دانا آدمی تو یہ کہہ کر اپنی راہ چل دیا۔ ۔ ۔ اور غریب اپنی ناقص عقل پر ہنستے ہوئے اپنے گھر کو چلا۔ کچھ عرصے بعد ہی صدقے کی برکات سے نہ صرف وہ اپنی بیٹیوں کے فرائض سے سبکدوش ہوا بلکہ گھر میں بھی خوشحالی آگئی۔
بھائی جان جس وقت یہ واقعہ ہم کو سنا رہے تھے۔ ۔ ۔ مجھے ابا کی ''مٹھی بھر آٹے'' والی بات یاد آرہی تھی۔
میں نے آنے والے دنوں میں دیکھا کہ بھائی جان نے اپنی چاروں بیٹیوں کی شادیاں ان کی صحیح عمر میں ۔ ۔ ۔ بالکل درست موقعے پر کر دیں۔
شاید اسی لئے۔ ۔ ۔ جب میں نے اپنا گھر لیا تو سب سے پہلے اپنے دروازے کے پاس چڑیوں کے لئے دانہ رکھ دیا۔
کئی بار گھر بدلا۔ ۔ ۔ ہر بار یہ چڑیاں، کبوتر اور کوّے میرے رزق کی آسانیوں کا سبب بنتے رہے۔
بیماریاں بھی آئیں۔ ۔ ۔
پریشانیوں نے بھی گھیرا تنگ کرنے کی کوشش کی۔ ۔ ۔ مگر ہمیشہ یہ پرندے مجھے آسرا دیتے رہے۔ ۔ ۔
اِنّا مَعَ العُسرِ یُّسرًا ۔ ۔ ۔ کے معنی سمجھاتے رہے۔ ۔ ۔ اللّہ رب العزت کی بڑائی کا یقین دلاتے رہے۔
الحمداللہ۔ ۔ ۔
ثُمَّ الحمداللہ۔ ۔ ۔
میں نے آج تک اپنے بچوں کا بہتا خون نہیں دیکھا۔ ۔ ۔ انہیں کسی تکلیف سے تڑپتے نہیں دیکھا۔
ایک وقت ایسا بھی آیا جب میرے گھر کا سب سے بڑا مسئلہ یہ تھا کہ۔ ۔ ۔ ہماری مرغی کُڑک ہوجانے کے باوجود انڈوں پر کیوں نہیں بیٹھ رہی ہے۔ ۔ ۔ اور یہ وہ دور تھا۔ ۔ ۔ جب میرا گھر ''کبوتروں والا گھر'' کے نام سے مشہور ہوچکا تھا۔
یقین مانئیے۔ ۔ ۔ کہ یہ تمام باتیں اس لئے نہیں لکھی ہیں کہ نعوذ بااللہ۔ ۔ ۔ ۔ میں اپنی نیکیوں کا پرچار کرنا چاہتا تھا۔ ۔ ۔ بلکہ میں اس راز کو کھول کر بیان کرنا چاہتا ہوں جو سوال کی صورت میں مجھ سے اکثر کیا جاتا ہے کہ ۔ ۔ ۔ آخر کیسے گذا را کر لیتے ہو؟۔ ۔ ۔ ہم سے تو نہیں ہوتا۔
میں نے اپنی زندگی کو اسی ننھی مخلوق کی خدمت کرکے آسان بنایا ہے۔
تمام بڑائیاں اس رب کے لئے جس نے مجھے اس قابل بنایا کہ میں یہ کر سکوں۔
اللّہ ہم سب کو صدقات کی توفیق دے۔ آمین۔
(نقل وچسپاں)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
انتخاب از ایڈمن: “الف،ب،نون”

واٹس ایپ:
https://chat.whatsapp.com/CBzhqJzdoyx0mrMIYvcVVe
ٹیلی گرام:
t.me/CutPiece
ایک لڑکا بڑے غصے میں گھر سے چلا آیا .

اتنا غصہ تھا کہ غلطی سے پاپا کے جوتے پہن کے نکل گیا
میں آج بس گھر چھوڑ دوں گا!! اور تبھی لوٹوں گا جب بہت بڑا آدمی بن جاؤں گا۔!!

جب موٹر سائیکل نہیں دلوا سکتے تھے، تو کیوں انجینئر بنانے کے خواب دیکھتے ہیں ؟!!

آج میں پاپا کا پرس بھی اٹھا لایا تھا .... جسے کسی کو ہاتھ تک نہ لگانے دیتے تھے .

مجھے پتہ ہے اس پرس میں ضرور پیسوں کے حساب کی ڈائری ہوگی ....

پتہ تو چلے کتنا مال چھپا ہے ماں سے بھی .

اسے ہاتھ نہیں لگانے دیتے کسی کو .

جیسے ہی میں عام راستے سے سڑک پر آیا، مجھے لگا جوتوں میں کچھ چبھ رہا ہے ....
میں نے جوتا نکال کر دیکھا .
میری ایڑھی سے تھوڑا سا خون رس آیا تھا .
جوتے کی کوئی کیل نکلی ہوئی تھی، درد تو ہوا پر غصہ بہت تھا .

اور مجھے جانا ہی تھا گھر چھوڑ کر .

جیسے ہی کچھ دور چلا ....
مجھے پاؤں میں گیلا گیلا سا لگا، سڑک پر پانی پھیلا ہوا تھا .
پاؤں اٹھا کے دیکھا تو جوتے کی تلی پھٹی ہوئی تھی .

جیسے تیسے لنگڑا كر بس سٹاپ پر پہنچا پتہ چلا ایک گھنٹے تک بس نہیں آئے گی.

میں نے سوچا کیوں نہ پرس کی تلاشی لی جائے .

میں نے پرس کھولا، ایک پرچی دکھائی دی، لکھا تھا .

لیپ ٹاپ کے لئے 40 ہزار قرضے لئے پر !!!

لیپ ٹاپ تو گھر میں میرے پاس ہے؟

دوسرا ایک جوڑ مڑا دیکھا، اس میں ان کے آفس کی کسی شوق ڈے کا لکھا تھا
انہوں نے شوق لکھا: اچھے جوتے پہننا .
اوہ .... اچھے جوتے پہننا ؟؟؟
پر انکے جوتے تو . !!!!

ماں گذشتہ چار ماہ سے ہر پہلی کو کہتی ہے: نئے جوتے لے لو ...
اور وہ ہر بار کہتے: "ابھی تو 6 ماہ جوتے اور چل جائیں گے .."
میں اب سمجھا کتنے چل جائیں گے؟؟؟

تیسری پرچی .
پرانا سکوٹر دیجئے ایکسچینج میں نئی موٹر سائیکل لے جائیں .
پڑھتے ہی دماغ گھوم گیا .
پاپا کا سکوٹر .
اوہ ہ ہ ہ ہ

میں گھر کی طرف بھاگا .
اب پاؤں میں وہ کیل نہیں چبھ رہی تھی .
میں گھر پہنچا .
نہ پاپا تھے نہ سکوٹر .
اوههه!!
نہیں!!
میں سمجھ گیا کہاں گئے؟ .

میں بھاگا .
اور
ایجنسی پر پہنچا .
پاپا وہیں تھے .

میں نے ان کو گلے سے لگا لیا، اور آنسؤوں سے ان کا کندھا بھیگ گیا .

نہیں ... پاپا نہیں ........ مجھے نہیں چاہئے موٹر سائیکل .

بس آپ نئے جوتے لے لو اور مجھے اب بڑا آدمی بننا ہے .

وہ بھی آپ کے طریقے سے .

"ماں" ایک ایسی بینک ہے جہاں آپ ہر احساس اور دکھ جمع کر سکتے ہیں .

اور

"پاپا" ایک ایسا کریڈٹ کارڈ ہے جن کے پاس بیلنس نہ ہوتے ہوئے بھی ہمارے خواب پورے کرنے کی کوشش ہے..!!
(نقل وچسپاں)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
انتخاب از ایڈمن: “مجاہد حسین پِہراوی”

واٹس ایپ:
https://chat.whatsapp.com/CBzhqJzdoyx0mrMIYvcVVe
ٹیلی گرام:
t.me/CutPiece
اتنی مدّت بعد ملے ہو
ڪن سوچوں میں گم پھرتے ہو؟

اتنے خائف ڪیوں رہتے ہو؟
ہر آہٹ سے ڈر جاتے ہو

تیز ہوا نے مجھ سے پوچھا
ریت پہ ڪیا لڪھتے رہتے ہو؟

ڪاش ڪوئی ہم سے بھی پوچھے
رات گئے تڪ ڪیوں جاگے ہو؟

میں دریا سے بھی ڈرتا ہوں
تم دریا سے بھی گہرے ہو!

ڪون سی بات ہے تم میں ایسی
اتنے اچھے ڪیوں لگتے ہو؟

پیچھے مڑ ڪر ڪیوں دیڪھا تھا
پتھر بن ڪر ڪیا تڪتے ہو

جاؤ جیت ڪا جشن مناؤ
میں جھوٹا ہوں تم سچّے ہو

اپنے شہر ڪے سب لوگوں سے
میری خاطر ڪیوں الجھے ہو؟

ڪہنے ڪو رہتے ہو دل میں!
پھر بھی ڪتنے دور ڪھڑے ہو

رات ہمیں ڪچھ یاد نہیں تھا
رات بہت ہی یاد آئے ہو

ہم سے نہ ہوچھو ہجر ڪے قصّے
اپنی ڪہو اب تم ڪیسے ہو؟

محسن تم بدنام بہت ہو
جیسے ہو پھر بھی اچھّے ہو
محسن نقوی
(“برگ صحرا” صفحہ 96/97)

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
انتخاب: جناب “عبداللہ اعظمی” صاحب،اعظم گڑھ

واٹس ایپ:
https://chat.whatsapp.com/CBzhqJzdoyx0mrMIYvcVVe
ٹیلی گرام:
t.me/CutPiece
حبیب جالب کی بیگم ایک دن اُن سے ملاقات کیلئے جیل گئیں اور جالب سے کہنے لگیں۔ آپ تو جیل میں آگئے ہو یہ بھی سوچا ہے کہ بچوں کی فیس کا کیا بنے گا اور گھر میں آٹا بھی ختم ہونے والا ہے۔ حبیب جالب نے اس ملاقات کے بارے میں ایک نظم لکھی۔ جس کا عنوان ”ملاقات“ رکھا۔ ملاحظہ فرمائیں!

“ملاقات”

جو ہو نہ سکی بات وہ چہروں سے عیاں تھی
حالات کا ماتم تھا ملاقات کہاں تھی

اس نے نہ ٹھہرنے دیا پہروں مرے دل کو
جو تیری نگاہوں میں شکایت مری جاں تھی

گھر میں بھی کہاں چین سے سوئے تھے کبھی ہم
جو رات ہے زنداں میں وہی رات وہاں تھی

یکساں ہیں مری جان قفس اور نشیمن
انسان کی توقیر یہاں ہے نہ وہاں تھی

شاہوں سے جو کچھ ربط نہ قائم ہوا اپنا
عادت کا بھی کچھ جبر تھا کچھ اپنی زباں تھی

صیاد نے یونہی تو قفس میں نہیں ڈالا
مشہور گلستاں میں بہت میری فغاں تھی

تو ایک حقیقت ہے مری جاں مری ہم دم
جو تھی مری غزلوں میں وہ اک وہم و گماں تھی

محسوس کیا میں نے ترے غم سے غم دہر
ورنہ مرے اشعار میں یہ بات کہاں تھی
(نقل وچسپاں)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
انتخاب از ممبر: جناب “محمد بشارت نواز” صاحب،خانیوال(پنجاب،پاکستان)

واٹس ایپ:
https://chat.whatsapp.com/CBzhqJzdoyx0mrMIYvcVVe
ٹیلی گرام:
t.me/CutPiece
“صرف 21 گرام”

لاس اینجل کے ڈاکٹر ابراہام نےانسانی روح کا وزن معلوم کرنے کے لئیے نزع کے شکار لوگوں پر پانج سال میں بارہ سؤ تجربے کیئے۔اس سلسلے میں اس نے شیشے کے باکس کا ایک انتھائی حساس ترازو بنایا،وہ مریض کو اس ترازو پر لٹاتا،مریض کی پھیپھڑوں کی آکسیجن کا وزن کرتا، مریض کا کے جسم کا وزن کرتا ہے اور اس کے مرنے کا انتظار کرتا ہے مرنے کے فورن بعد اس کا وزن نوٹ کرتا ہے۔ڈاکٹر ابراہام نے سینکڑوں تجربات کے بعد اعلان کیا کہ انسانی روح کا وزن 21 گرام ہے ابراہام کا کھنا تھا کہ انسانی روح اس 21 گرام آکسیجن کا نام ہے جو پھیپھڑوں کے کونوں،کھدروں،درزوں اور لکیروں میں چھپی رہتی ہے،موت ہچکی کی صورت میں انسانی جسم پر وار کرتی ہے اور پھیپھڑوں کی تہوں میں چھپی اس 21 گرام آکسیجن کو باہر دھکیل دیتی ہے اس کے بعد انسانی جسم کے سارے سیل مر جاتے ہیں اور انسان فوت ہوجاتا ہے ۔۔۔
ہم نے کبھی سوچا ہے کہ یہ 21 گرام کتنے ہوتے ہیں ۔۔؟؟
21 گرام لوہے کے 14چھوٹے سے دانے ہوتے ہیں ،ایک ٹماٹر ،پیاز کی ایک پرت،ریت کی چھہ چٹکیاں اور پانج ٹشو پیپر ہوتے ہیں ۔۔ یہ آپ اور ہماری اوقات ہے لیکن ہم بھی کیا لوگ ہیں ہم 21 گرام کے انسان خود کو کھربوں ٹن وزنی کائنات کا خدا سمجھتے ہیں .
یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر روح کا وزن 21 گرام ہے تو ان 21 گراموں میں ہماری خواھشوں کا وزن کتنا ہے؟؟؟
اس میں ہماری نفرتیں،لالچ،ہیراپھیری،چالاکی،سازشیں،ہماری گردن کی اکڑ ،ہمارے لھجے کے غرور کا وزن کتنا ہے ؟؟؟؟؟۔۔۔
میں نے کسی جگہ پڑھا تھا کہ تبت کے لوگ 21 گرامون کی اس زندگی کو موم سمجھتے ہیں،یہ لوگ صبح کے وقت موم کے دس بیس مجسمے بناتے ہیں ان میں ہر مجسمہ ان کی کسی نا کسی خواھش کی نمائندگی کرتا ہے،دن کو سورج کی تپش میں اضافہ ہوتا ہے تو یہ مجسمے پگھلتے ہیں شام تک ان کی دھلیز پر موم کے چند آنسؤں کی سوا کچھ نہیں بچتا یہ لوگ ان آنسؤں کو دیکھتے ہیں اور اپنے آپ سے پوچھتے ہیں کہ کیا یہ تھی میری ساری خواھشیں اور اس کے بعد ان کی آنکھیں نم ہوجاتی ہیں۔۔
ہم 21 گرام کے انسان جوخود کو 21 گرام کے کروڑوں انسانوں کا حکمران سمجھتے ہیں ہم وقت کو اپنا غلام اور زمانے کو اپنا ملازم سمجھتے ہیں اور یہ بھول جاتے ہیں بس ذرا سی تپش ،بس ذرا سی ایک ہچکی ہمارے اختیار ہمارے اقتدار ہماری اکڑ،غرور اور چلاکی کی موم کو پگھلا دے گی ،اور جب یہ 21 گرام ھوا ہمارے جسم سے باہر نکل جائی گی تو ہم تاریخ کی سلوں تلےدفن ہوجائیں گے اور 21 گرام کا کوئی دوسرا انسان ہماری جگہ لے لے گا..!!
(نقل وچسپاں)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
انتخاب از ممبر: جناب “آریا” صاحب،فیصل آباد

واٹس ایپ:
https://chat.whatsapp.com/CBzhqJzdoyx0mrMIYvcVVe
ٹیلی گرام:
t.me/CutPiece
اللہ اگر توفیق نہ دے انسان کے بس کا کام نہیں
فیضان محبت عام سہی عرفان محبت عام نہیں

یہ تو نے کہا کیا اے ناداں فیاضی قدرت عام نہیں
تو فکر و نظر تو پیدا کر کیا چیز ہے جو انعام نہیں

یارب یہ مقام عشق ہے کیا گو دیدہ و دل ناکام نہیں
تسکین ہے اور تسکین نہیں آرام ہے اور آرام نہیں

کیوں مست شراب عیش و طرب تکلیف توجہ فرمائیں
آواز شکست دل ہی تو ہے آواز شکست جام نہیں

آنا ہے جو بزم جاناں میں پندار خودی کو توڑ کے آ
اے ہوش و خرد کے دیوانے یاں ہوش و خرد کا کام نہیں

زاہد نے کچھ اس انداز سے پی ساقی کی نگاہیں پڑنے لگیں
مے کش یہی اب تک سمجھے تھے شائستہ دور جام نہیں

عشق اور گوارا خود کر لے بے شرط شکست فاش اپنی
دل کی بھی کچھ ان کے سازش ہے تنہا یہ نظر کا کام نہیں

سب جس کو اسیری کہتے ہیں وہ تو ہے امیری ہی لیکن
وہ کون سی آزادی ہے یہاں جو آپ خود اپنا دام نہیں
جگرمرادآبادی

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
انتخاب: جناب “خلیل احمد” صاحب(ممبئی)

واٹس ایپ:
https://chat.whatsapp.com/CBzhqJzdoyx0mrMIYvcVVe
ٹیلی گرام:
t.me/CutPiece
“طلاق”

“ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﯿﻮﯼ ﮐﻮ ﻃﻼﻕ ﺩﮮ ﺭﮨﺎ ﮨﻮﮞ ...‘‘ ﻣﻘﺒﻮﻝ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﭘﮩﻠﯽ ﺑﺎﺭ ﯾﮧ ﺑﺎﺕ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﮐﯽ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﭼﻮﻧﮏ ﺍﭨﮭﺎ۔ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﻧﺪﺍﺯﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺣﺎﻻﺕ ﺍِﺱ ﻧﮩﺞ ﭘﺮ ﭘﮩﻨﭻ ﭼﮑﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﻟﯿﮑﻦ ﺍُﻥ ﮐﮯ ﻟﮩﺠﮯ ﺳﮯ ﺻﺎﻑ ﺍﻧﺪﺍﺯﮦ ﮨﻮ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﻭﺍﻗﻌﯽ ﺣﺘﻤﯽ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﮐﺮ ﭼﮑﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﻣﯿﮟ ﮐﺴﯽ ﮐﮯ ﮔﮭﺮﯾﻠﻮ ﻣﻌﺎﻣﻼﺕ ﻣﯿﮟ ﺩﺧﻞ ﺍﻧﺪﺍﺯﯼ ﮐﮯ ﺧﻼﻑ ﮨﻮﮞ ﻟﯿﮑﻦ ﭼﻮﻧﮑﮧ ﺑﺎﺕ ﺧﻮﺩ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻧﮩﺎﯾﺖ ﻣﺤﺘﺎﻁ ﺍﻧﺪﺍﺯ ﻣﯿﮟ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﮐﮧ ﻭﺟﮧ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ؟
ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺌﯽ ﻭﺟﻮﮨﺎﺕ ﮔﻨﻮﺍ ﺩﯾﮟ۔ ﻣﺜﻼً ﯾﮧ ﮐﮧ ﺟﺐ ﻣﯿﮟ ﺩﻓﺘﺮ ﺳﮯ ﺗﮭﮑﺎ ﮨﺎﺭﺍ ﮔﮭﺮ ﺁﺗﺎ ﮨﻮﮞ ﺗﻮ ﻭﮦ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﮐﮩﺘﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﮨﻤﯿﮟ ﮐﮩﯿﮟ ﺑﺎﮨﺮ ﮔﮭﻤﺎﻧﮯ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺟﺎﺋﯿﮟ۔ ﺍﻧﮑﺎﺭ ﮐﺮﻭﮞ ﺗﻮ ﻣﻨﮧ ﺑﻨﺎ ﮐﺮ ﺑﯿﭩﮫ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ۔ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﻼ ﻭﺟﮧ ﮈﺍﻧﭩﺘﯽ ﺭﮨﺘﯽ ﮨﮯ۔ ﻣﯿﮟ ﮔﮭﺮ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻓﺮﻭﭦ ﺑﮭﯽ ﺧﻮﺩ ﺳﮯ ﺧﺮﯾﺪ ﮐﺮ ﻻﺋﻮﮞ ﺗﻮ ﺍُﺱ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺳﻮ ﺳﻮ ﻧﻘﺺ ﻧﮑﺎﻟﺘﯽ ﮨﮯ۔ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﺍﻧﺘﮩﺎﺋﯽ ﺑﺪ ﻣﺰﮦ ﺑﻨﺎﺗﯽ ﮨﮯ۔ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﮨﺮ ﻭﻗﺖ ﺍﯾﮏ ﻟﮍﺍﺋﯽ ﮐﯽ ﮐﯿﻔﯿﺖ ﻃﺎﺭﯼ ﮐﯿﮯ ﺭﮐﮭﺘﯽ ﮨﮯ۔ ﺣﺎﻻﻧﮑﮧ ﺑﯿﮉ ﺭﻭﻡ ﻣﯿﮟ ﮨﺮ ﻭﻗﺖ ﺍﮮ ﺳﯽ ﭼﻠﺘﺎ ﺭﮨﺘﺎ ﭘﮭﺮ ﺑﮭﯽ ﺍُﺱ ﮐﺎ ﭼﮍﭼﮍﺍ ﭘﻦ ﺧﺘﻢ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺗﺎ۔ ‘‘ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮔﮩﺮﯼ ﺳﺎﻧﺲ ﻟﯽ۔ '' ﻭﺟﻮﮨﺎﺕ ﺗﻮ ﻭﺍﻗﻌﯽ ﺑﮍﯼ ﭨﮭﻮﺱ ﮨﯿﮟ ‘ ﯾﮧ ﺑﺘﺎﺋﯿﮯ ﮐﮧ ﺍﯾﺴﮯ ﻣﻌﺎﻣﻼﺕ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﯾﻘﯿﻨﺎ ﺁﭖ ﮐﻮ ﻏﺼﮧ ﺁﺗﺎ ﮨﻮ ﮔﺎ؟ ‘‘ ۔ ﻭﮦ ﺗﻠﻤﻼﺋﮯ '' ﻇﺎﮨﺮﯼ ﺑﺎﺕ ﮨﮯ، ﻣﯿﮟ ﺍﺗﻨﯽ ﮔﺮﻣﯽ ﺍﻭﺭ ﺣﺒﺲ ﻣﯿﮟ ﮔﮭﺮ ﺁﺗﺎ ﮨﻮﮞ ﺗﻮ ﺳﮑﻮﻥ ﻧﺎﻡ ﮐﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﭼﯿﺰ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﻠﺘﯽ ‘ ﺯﭺ ﮨﻮ ﮐﺮ ﮐﺌﯽ ﺩﻓﻌﮧ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﮐﮭﺎﺋﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﺑﺎﮨﺮ ﻧﮑﻞ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﻮﮞ ‘‘ ۔ ﻣﯿﮟ ﺳﯿﺪﮬﺎ ﮨﻮﺍ '' ﺍﻭﮨﻮ ! ﭘﮭﺮ ﺗﻮ ﺁﭖ ﺑﮭﻮﮐﮯ ﺭﮦ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﻮﮞ ﮔﮯ؟ ‘‘ ۔ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﭘﯿﺮ ﭘﮭﯿﻼﺋﮯ '' ﻧﮩﯿﮟ ! ﺑﺎﮨﺮ ﮐﺴﯽ ﮨﻮﭨﻞ ﺳﮯ ﮐﮭﺎ ﻟﯿﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﯾﺎ ﮐﺴﯽ ﺩﻭﺳﺖ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﭼﻼ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﻮﮞ۔ ‘‘ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺳﺮ ﮨﻼﯾﺎ '' ﻇﺎﮨﺮﯼ ﺑﺎﺕ ﮨﮯ ﺑﻨﺪﮮ ﻧﮯ ﺑﮭﻮﮐﺎ ﺗﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﺮﻧﺎ ‘ ﯾﮧ ﻓﺮﻣﺎﺋﯿﮯ ﮐﮧ ﺟﺐ ﺁﭖ ﺍﭘﻨﯽ ﺍﮨﻠﯿﮧ ﺳﮯ ﻟﮍﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﮐﮭﺎﺋﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﭼﻠﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﻭﮦ ﮐﮩﺎﮞ ﺳﮯ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﮐﮭﺎﺗﯽ ﮨﯿﮟ؟ ‘‘ ۔ ﻣﻘﺒﻮﻝ ﺻﺎﺣﺐ ﮨﮍﺑﮍﺍﺋﮯ '' ﮐﯿﺎ ﻣﻄﻠﺐ؟ ﻭﮦ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﮨﯽ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ‘ ﮔﮭﺮ ﮐﺎ ﮨﯽ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﮐﮭﺎﺗﯽ ﮨﮯ ﺍُﺱ ﻧﮯ ﺑﮭﻼ ﮐﮩﺎﮞ ﺟﺎﻧﺎ ﮨﮯ؟ ‘‘ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍُﻥ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﻏﻮﺭ ﺳﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ '' ﺍﺱ ﮐﺎ ﻣﻄﻠﺐ ﮨﮯ ‘ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﺍﭼﮭﺎ ﻧﮧ ﺑﻨﮯ ﺗﻮ ﺁﭖ ﮐﻮ ﯾﮧ ﺳﮩﻮﻟﺖ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺁﭖ ﺑﺎﮨﺮ ﺟﺎ ﮐﺮ ﮐﮭﺎ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ؟ ‘‘ ﻭﮦ ﺍﯾﮏ ﻟﻤﺤﮯ ﻣﯿﮟ ﺑﺎﺕ ﺳﻤﺠﮫ ﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﭘﮩﻠﻮ ﺑﺪﻻ '' ﺩﯾﮑﮭﺌﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﻥ ﺳﺎ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﺮﺿﯽ ﺳﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﻮﮞ، ﮔﮭﺮ ﮐﺎ ﻣﺎﺣﻮﻝ ﺍﻭﺭ ﺍُﺱ ﮐﯽ ﺑﺪ ﺗﻤﯿﺰﯼ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﺟﺎﻧﮯ ﭘﺮ ﻣﺠﺒﻮﺭ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﮯ۔ ‘‘
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺻﻮﻓﮯ ﮐﯽ ﭘﺸﺖ ﺳﮯ ﭨﯿﮏ ﻟﮕﺎﺋﯽ '' ﺑﺎﻟﮑﻞ ﭨﮭﯿﮏ ﮐﮩﺎ ‘ ﺍﭼﮭﺎ ﯾﮧ ﺑﺘﺎﺋﯿﮯ ﮐﮧ ﺁﭖ ﮐﯽ ﮈﺭﯾﺴﻨﮓ ﺑﮍﯼ ﺍﭼﮭﯽ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ‘ ﺷﺮﭦ ‘ ﭨﺎﺋﯽ ‘ ﭘﯿﻨﭧ ﭘﮩﻨﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺟﺘﻨﯽ ﺑﮭﯽ ﮔﺮﻣﯽ ﮨﻮ ﺟﺮﺍﺑﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺑﻮﭦ ﭘﮩﻨﺘﮯ ﮨﯿﮟ ‘ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺍِﺱ ﻣﻮﺳﻢ ﻣﯿﮟ ﺍﻟﺠﮭﻦ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﯽ؟ ‘‘ ۔ ﻭﮦ ﮨﻨﺲ ﭘﮍﮮ '' ﯾﮧ ﮐﯿﺎ ﺳﻮﺍﻝ ﮨﮯ ‘ ﺁﭖ ﺟﺎﻧﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﻟﺤﻤﺪﻟﻠﮧ ﮔﺎﮌﯼ ﮐﺎ ﺍﮮ ﺳﯽ ﺑﮭﯽ ﺑﮩﺖ ﺍﭼﮭﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﺮﺍ ﺩﻓﺘﺮ ﺑﮭﯽ ﺳﻨﭩﺮﻟﯽ ﺍﯾﺌﺮﮐﻨﮉﯾﺸﻨﮉ ﮨﮯ۔ ‘‘ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﻣﺴﮑﺮﺍﯾﺎ '' ﺍﭼﮭﺎ ﯾﮧ ﺑﺘﺎﺋﯿﮯ ﺁﭖ ﺁﻓﺲ ﮐﮯ ﮈﺭﯾﺲ ﻣﯿﮟ ﮐﺘﻨﯽ ﺩﯾﺮ ﺩﮬﻮﭖ ﻣﯿﮟ ﮐﮭﮍﮮ ﮨﻮ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ؟ ‘‘ ﻭﮦ ﺑﻮﮐﮭﻼﺋﮯ '' ﺩﮬﻮﭖ ﻣﯿﮟ ؟ ﺳﻮﺍﻝ ﮨﯽ ﭘﯿﺪﺍ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ ‘ ﺍﯾﮏ ﻣﻨﭧ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮭﮍﺍ ﮨﻮ ﺳﮑﺘﺎ۔ ‘‘ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﭽﮫ ﺁﺳﺎﻧﯽ ﭘﯿﺪﺍ ﮐﯽ '' ﭼﻠﯿﮟ ﺍﮔﺮ ﺁﭖ ﮐﻮ ﻧﺎﺭﻣﻞ ﺳﺎ ﭨﺮﺍﺋﻮﺯﺭ ﺍﻭﺭ ﭨﯽ ﺷﺮﭦ ﭘﮩﻨﺎ ﺩﯼ ﺟﺎﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﭘﯿﺮﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﭼﭙﻞ ﮨﻮ ‘ ﭘﮭﺮ ﺁﭖ ﮐﺘﻨﯽ ﺩﯾﺮ ﺩﮬﻮﭖ ﻣﯿﮟ ﺭﮦ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ؟ ‘‘ ۔ ﻭﮦ ﭼﻼ ﺍﭨﮭﮯ '' ﯾﮧ ﺁﭖ ﮐﯿﻮﮞ ﻣﺠﮭﮯ ﺩﮬﻮﭖ ﻣﯿﮟ ﮐﮭﮍﺍ ﮐﺮﻧﮯ ﭘﺮ ﺗﻠﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮨﯿﮟ، ﺑﮭﺎﺋﯽ ﺻﺎﺣﺐ ﺍﺱ ﻣﻮﺳﻢ ﻣﯿﮟ ﺗﻮ ﺳﺎﺩﮦ ﮐﻤﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﭩﮭﻨﺎ ﻣﺤﺎﻝ ﮨﮯ ﺁﭖ ﺩﮬﻮﭖ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ ‘‘ ﻣﯿﮟ ﮨﻨﺲ ﭘﮍﺍ '' ﭼﻠﯿﮟ ﺩﮬﻮﭖ ﮐﻮ ﭼﮭﻮﮌﺗﮯ ﮨﯿﮟ، ﯾﮧ ﺑﺘﺎﺋﯿﮟ ﺁﭖ ﮨﯿﭩﺮ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺑﯿﭩﮫ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ؟ ‘‘ ۔ ﺍُﻥ ﮐﺎ ﺑﮯ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﻗﮩﻘﮩﮧ ﻧﮑﻞ ﮔﯿﺎ '' ﮨﺎﮞ ﺳﺮﺩﯾﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﭘﻮﺭﺍ ﺩﻥ ﺑﯿﭩﮫ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﻟﯿﮑﻦ ﺍِﻥ ﺩِﻧﻮﮞ ﺗﻮ ﮨﯿﭩﺮ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﺳﻦ ﮐﺮ ﺑﮭﯽ ﭘﺴﯿﻨﮯ ﭼﮭﻮﭦ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ ‘‘ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺗﯿﺴﺮﯼ ﺁﭘﺸﻦ ﭘﯿﺶ ﮐﯽ '' ﭼﻠﯿﮟ ﮨﯿﭩﺮ ﺑﮭﯽ ﺭﮨﻨﮯ ﺩﯾﮟ ‘ ﺍﮔﺮ ﺍﯾﮏ ﭼﮭﻮﭨﮯ ﺳﮯ ﮐﻤﺮﮮ ﮐﮯ ﺍﯾﮏ ﮐﻮﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﺁﮒ ﺟﻼ ﺩﯾﮟ ﺗﻮ ﻭﮨﺎﮞ ﺁﭖ ﻣﻮﺟﻮﺩﮦ ﻣﻮﺳﻢ ﻣﯿﮟ ﮐﺘﻨﯽ ﺩﯾﺮ ﺑﯿﭩﮫ ﭘﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ؟ ‘‘ ۔ ﻣﻘﺒﻮﻝ ﺻﺎﺣﺐ ﺟﮭﻨﺠﮭﻼ ﮔﺌﮯ '' ﺁﭖ ﮐﯿﻮﮞ ﻣﺠﮭﮯ ﺯﻧﺪﮦ ﺟﻼﻧﮯ ﭘﺮ ﺗﻠﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮨﯿﮟ ‘ ﻇﺎﮨﺮﯼ ﺑﺎﺕ ﮨﮯ ﭼﮭﻮﭨﮯ ﺳﮯ ﮐﻤﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺁﮒ ﺟﻞ ﺭﮨﯽ ﮨﻮ ﮔﯽ ﺗﻮ ﺍِﺱ ﻣﻮﺳﻢ ﻣﯿﮟ ﺗﻮ ﻭﮦ ﮐﻤﺮﮦ ﺗﻨﺪﻭﺭ ﺑﻨﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﻮ ﮔﺎ، ﯾﮩﺎﮞ ﮐﻮﺋﯽ ﭘﺎﮔﻞ ﮨﯽ ﺭﮦ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ ‘‘ ۔
'' ﺩﺭﺳﺖ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ... ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺑﯿﻮﯾﺎﮞ ﮨﯽ ﻭﮦ ﭘﺎﮔﻞ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﺍﯾﺴﮯ ﻣﻮﺳﻢ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﮐﭽﻦ ﺟﯿﺴﮯ ﭼﮭﻮﭨﮯ ﮐﻤﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﻟﯿﮯ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﺗﯿﺎﺭ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﯿﮟ ‘ ﭼﺎﺋﮯ ﺑﻨﺎﺗﯽ ﮨﯿﮟ ‘ ﺭﻭﭨﯿﺎﮞ ﭘﮑﺎﺗﯽ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﭨﮭﻨﮉﮮ ﮐﻤﺮﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﻻ ﮐﺮ ﭘﯿﺶ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﯿﮟ۔ ﯾﮧ ﺩﻥ ﻣﯿﮟ ﺗﯿﻦ ﺩﻓﻌﮧ ﺑﺎﻗﺎﻋﺪﮦ ﺍﺱ ﺟﮩﻨﻢ ﻧﻤﺎ ﮐﻤﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﮏ ﮔﮭﻨﭩﮯ ﺳﮯ ﺯﺍﺋﺪ ﮔﺰﺍﺭﺗﯽ ﮨﯿﮟ۔ ﺍﺱ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﺍِﻥ ﺳﮯ ﮐﺒﮭﯽ ﻏﻠﻄﯽ ﺳﮯ ﻧﻤﮏ ﺑﮭﯽ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮈﻝ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ‘ ﻣﺮﭼﻮﮞ ﮐﮯ ﺗﻨﺎﺳﺐ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﮐﻤﯽ ﺑﯿﺸﯽ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﯾﮧ ﺍﭘﻨﺎ ﮐﺎﻡ ﺍﺩﮬﻮﺭﺍ ﻧﮩﯿﮟ ﭼﮭﻮﮌﺗﯿﮟ۔ ﺑﭽﮯ ﺍﮐﺜﺮ ﺗﯿﻦ ﭨﺎﺋﻢ ﮐﮯ ﻋﻼﻭﮦ ﺑﮭﯽ ﻧﻮﮈﻟﺰ ﭨﺎﺋﭗ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﯾﺴﯽ ﻓﺮﻣﺎﺋﺶ ﮐﺮ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﺻﺮﻑ ﮐﭽﻦ ﻣﯿﮟ ﮨﯽ ﺗﯿﺎﺭ ﮨﻮ ﺳﮑﺘﯽ ﮨﮯ۔ ﯾﮧ ﺍُﻥ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﻣﺎﯾﻮﺱ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﯿﮟ۔ ﺷﺎﻡ ﮐﻮ ﺟﺐ ﺗﮭﮑﮯ ﮨﺎﺭﮮ ﮔﮭﺮ ﺁﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﯾﮧ ﮨﻢ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺗﮭﮑﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﯿﮟ ‘ ﻟﯿﮑﻦ ﺍِﺱ ﺍُﻣﯿﺪ ﭘﺮ ﺳﺎﺭﺍ ﺩﻥ ﮔﺰﺍﺭﺗﯽ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺷﺎﻡ ﮐﻮ ﺟﺐ ﺷﻮﮨﺮ ﻭﺍﭘﺲ ﺁﺋﯿﮟ ﮔﮯ ﺗﻮ ﺍُﻥ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﭼﻨﺪ ﻟﻤﺤﺎﺕ ﮔﮭﺮ ﮐﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﮐﯽ ﻓﻀﺎ ﻣﯿﮟ ﮔﺰﺍﺭﻧﮯ ﮐﺎ ﻣﻮﻗﻊ ﻣﻠﮯ ﮔﺎ ‘ ﺗﮭﻮﮌﯼ ﺗﺒﺪﯾﻠﯽ ﻣﻞ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ۔ ﻟﯿﮑﻦ ﮨﻢ ﻧﮯ ﭼﻮﻧﮑﮧ ﺍِﻥ ﮐﻮ ﺩﻥ
ﮐﮯ ﻭﻗﺖ ﮐﭽﻦ ﮐﯽ ﺁﮒ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺟﮭﻠﺴﺘﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﮨﻤﯿﮟ ﻟﮕﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺍﮮ ﺳﯽ ﭼﻞ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﻟﮩٰﺬﺍ ﯾﮧ ﺳﺎﺭﺍ ﻭﻗﺖ ﺍﮮ ﺳﯽ ﮨﯽ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﭩﮭﯽ ﺭﮨﺘﯽ ﮨﯿﮟ۔
ﺭﮨﯽ ﺑﺎﺕ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺧﺮﯾﺪﯼ ﮨﻮﺋﯽ ﭼﯿﺰﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﻧﻘﺺ ﻧﮑﺎﻟﻨﮯ ﮐﯽ ... ﺗﻮ ﻣﺤﺘﺮﻡ ! ﯾﺎﺩ ﮐﯿﺠﺌﮯ ... ﺟﻮ ﻓﺮﻭﭦ ﮨﻢ ﮔﮭﺮ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻻﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍُﺱ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﮨﻢ ﺍﻭﺭ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺑﭽﮯ ﮐﺘﻨﺎ ﮐﮭﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺑﯿﻮﯾﺎﮞ ﮐﺘﻨﺎ؟ ﯾﮧ ﺑﯿﭽﺎﺭﯼ ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﻧﻘﺺ ﻧﮑﺎﻟﺘﯽ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﮔﻠﮯ ﺳﮍﮮ ﭘﮭﻞ ﮐﮭﺎ ﮐﺮ ﺍِﻥ ﮐﮯ ﺑﭽﮯ ﯾﺎ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﺎ ﺑﺎﭖ ﻧﮧ ﺑﯿﻤﺎﺭ ﭘﮍ ﺟﺎﺋﮯ۔ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﻟﮍﺍﺋﯽ ﮐﯽ ﮐﯿﻔﯿﺖ ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﺑﮭﯽ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﮨﻢ ﺑﺎﮨﺮ ﮐﯽ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻧﮩﺎﯾﺖ ﻣﯿﭩﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﮨﻨﺲ ﻣُﮑﮫ ﺑﻨﮯ ﺭﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻟﯿﮑﻦ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺩﺍﺧﻞ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯽ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﮨﯿﺒﺖ ﺟﺎﮒ ﺍﭨﮭﺘﯽ ﮨﮯ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﻃﮯ ﭘﺎ ﭼﮑﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺻﺮﻑ ﺑﯿﻮﯼ ﮐﺎ ﮐﺎﻡ ﮨﯽ ﺷﻮﮨﺮ ﮐﻮ ﺧﻮﺵ ﺭﮐﮭﻨﺎ ﮨﮯ۔
ﮨﻤﯿﮟ ﮔﺮﻣﯽ ﻟﮕﮯ ﺗﻮ ﮨﻢ ﺗﮍﭖ ﺍﭨﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ‘ ﮐﺎﭦ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﮐﻮ ﺩﻭﮌﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﻟﯿﮑﻦ ﺑﯿﻮﯾﺎﮞ ﮐﭽﻦ ﻣﯿﮟ ﺁﮒ ﮐﮯ ﺳﺮﮨﺎﻧﮯ ﮐﮭﮍﯼ ﺭﮦ ﮐﺮ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﭘﯿﭧ ﭘﻮﺟﺎ ﮐﺎ ﺍﻧﺘﻈﺎﻡ ﮐﺮﯾﮟ ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﺑﮭﯽ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺧﻮﺍﮨﺶ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﻟﮩﺠﮯ ﮐﺎ ﻣﯿﭩﮭﺎ ﭘﻦ ﺑﺮﻗﺮﺍﺭ ﺭﮐﮭﯿﮟ۔ ﮨﻢ ﺍﮮ ﺳﯽ ﻭﺍﻟﯽ ﮔﺎﮌﯼ ﺳﮯ ﺍﺗﺮ ﮐﺮ ﺍﮮ ﺳﯽ ﻭﺍﻟﮯ ﺩﻓﺘﺮ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﭩﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ‘ ﻭﺍﭘﺴﯽ ﭘﺮ ﮔﮭﺮ ﮐﮯ ﺍﮮ ﺳﯽ ﻭﺍﻟﮯ ﮐﻤﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺁ ﮐﺮ ﻟﯿﭧ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ‘ ﭘﮭﺮ ﺑﮭﯽ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﻣﺰﺍﺝ ﭨﮭﻨﮉﮮ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﮯ؟ ﺟﺐ ﮨﻢ ﮔﮭﺮ ﮐﺎ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﭼﮭﻮﮌ ﮐﺮ ﮨﻮﭨﻞ ﻣﯿﮟ ﯾﺎ ﺩﻭﺳﺘﻮﮞ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﺟﺎ ﮐﺮ ﭘﯿﭧ ﮐﯽ ﺑﮭﻮﮎ ﻣﭩﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﻭﮨﺎﮞ ﺑﮭﯽ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﮨﺰﺍﺭ ﻧﻘﺺ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﻮﮞ ﮔﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﻭﮦ ﮨﻤﯿﮟ ﮐﯿﻮﮞ ﻗﺎﺑﻞ ﻗﺒﻮﻝ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ؟ ﺻﺮﻑ ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﮐﮧ ﺗﺐ ﮨﻤﯿﮟ ﭘﺘﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﯾﮩﺎﮞ ﮐﻮﺋﯽ ﺩﺍﺩﺍ ﮔﯿﺮﯼ ﻧﮩﯿﮟ ﭼﻠﮯ ﮔﯽ۔ ‘‘
ﻣﻘﺒﻮﻝ ﺻﺎﺣﺐ ﺩﻡ ﺑﺨﻮﺩ ﻣﯿﺮﯼ ﺳﺎﺭﯼ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﺳﻨﺘﮯ ﺭﮨﮯ۔ ﺍُﻥ ﮐﯽ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮨﻠﮑﯽ ﮨﻠﮑﯽ ﺳﯽ ﻧﻤﯽ ﺁ ﮔﺌﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺷﮑﺮ ﺍﺩﺍ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﻋﯿﻦ ﻣﻮﻗﻊ ﭘﺮ ﻭﮦ ﺑﺎﺕ ﺳﻤﺠﮫ ﮔﺌﮯ ﺗﮭﮯ؛ ﺗﺎﮨﻢ ﺍﯾﮏ ﮨﻔﺘﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﻃﻼﻉ ﻣﻠﯽ ﮐﮧ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺍﮨﻠﯿﮧ ﮐﻮ ﻃﻼﻕ ﺩﮮ ﮐﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﺩﻓﺘﺮ ﮐﯽ ﮐﺴﯽ ﮐﻮﻟﯿﮓ ﺳﮯ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﺮ ﻟﯽ ﮨﮯ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺑﮍﺍ ﺳﻮﭼﺎ ﮐﮧ ﻣﻘﺒﻮﻝ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﺍﯾﺴﺎ ﮐﯿﻮﮞ ﮐﯿﺎ؟ ﺍﯾﮏ ﮨﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﻤﺠﮫ ﻣﯿﮟ ﺁﺋﯽ ﮐﮧ ﻭﮦ ﭼﻮﻧﮑﮧ ﮐﻮﻟﯿﮓ ﺳﮯ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﺎ ﺍﺭﺍﺩﮦ ﮐﺮ ﭼﮑﮯ ﺗﮭﮯ ﻟﮩٰﺬﺍ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﮩﺎﻧﮧ ﺩﺭﮐﺎﺭ ﺗﮭﺎ۔ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﮐﯽ ﺑﺠﺎﺋﮯ ﮐﺌﯽ ﺑﮩﺎﻧﮯ ﺗﺮﺍﺷﮯ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﻋﻤﻞ ﮐﺮ ﮔﺰﺭﮮ۔ ﺍُﻥ ﮐﯽ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﻮ ﮈﯾﮍﮪ ﺳﺎﻝ ﮐﺎ ﻋﺮﺻﮧ ﮔﺰﺭ ﭼﮑﺎ ﮨﮯ۔ ﺍﺱ ﻋﺮﺻﮯ ﻣﯿﮟ ﺍُﻥ ﺳﮯ ﺑﮩﺖ ﮐﻢ ﻣﻼﻗﺎﺗﯿﮟ ﺭﮨﯿﮟ۔ ﮐﻞ ﻭﮦ ﺍﭼﺎﻧﮏ ﺭﺍﺕ ﮐﮯ 9 ﺑﺠﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﺍﻃﻼﻉ ﺗﺸﺮﯾﻒ ﻟﮯ ﺁﺋﮯ۔ ﺑﮍﮮ ﺧﻮﺵ ﻧﻈﺮ ﺁ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﮈﺭﺍﺋﻨﮓ ﺭﻭﻡ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﭩﮭﺘﮯ ﮨﯽ ﺑﮯ ﺗﮑﻠﻔﯽ ﺳﮯ ﺑﻮﻟﮯ '' ﯾﺎﺭ ﺑﺎﻗﯽ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﺑﻌﺪ ﻣﯿﮟ ‘ ﺑﮭﻮﮎ ﺑﮩﺖ ﻟﮕﯽ ﮨﮯ ‘ ﺟﻮ ﺑﮭﯽ ﭘﮑﺎ ﮨﮯ ﻟﮯ ﺁﺋﻮ ‘‘!!
گل نوخیز اختر
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
انتخاب از ممبر: جناب “خلیل احمد” صاحب،ممبئی

واٹس ایپ:
https://chat.whatsapp.com/CBzhqJzdoyx0mrMIYvcVVe
ٹیلی گرام:
t.me/CutPiece
“قاتل سپاہی”

دوپہر کے ساڑھے بارہ بجے ہیں۔ جون کا مہینہ ہے، سمن آباد میں ایک ڈاکیہ پسینے میں شرابور بوکھلایا بوکھلایا سا پھر رہا ہے محلے کو لوگ بڑی حیرت سے اس کی طرف دیکھ رہے ہیں۔۔ اصل میں آج اس کی ڈیوٹی کا پہلا دن ہے۔۔ وہ کچھ دیر ادھر ادھر دیکھتا ہے پھر ایک پرچون والے کی دکان کے پاس سائیکل کھڑی کر کے دکان دار کی طرف بڑھتا ہے
'قاتل سپاہی کا گھر کون سا ہے ' ؟ اس نے آہستہ سے پوچھا۔۔
دکان دار کے پیروں تلے زمین نکل گئی۔۔ اس کی آنکھیں خوف سے ابل پڑیں۔۔
قق قاتل سپاہی۔۔ مم مجھے کیا پتا ؟ اس نے جلدی سے دکان کا شٹر گرا دیا۔۔
ڈاکیہ پھر پریشان ہو گیا۔۔ اس نے بہت کوشش کی کہ کسی طریقے سے قاتل سپاہی کا پتا چل جائے لیکن جو کوئی بھی اس کی بات سنتا چپکے سے کھسک جاتا۔۔ ڈاکیہ نیا تھا نہ جان نہ پہچان اور اوپر سے قاتل سپاہی کے نام کی رجسٹری آکر وہ کرے تو کیا کرے کہاں سے ڈھونڈھے قاتل سپاہی کو؟؟ اس نے پھر نام پڑھا نام اگرچہ انگلش میں تھا لیکن آخر وہ بھی مڈل پاس تھا، تھوڑی بہت انگلش سمجھ سکتا تھا بڑے واضح الفاظ میں۔۔
قاتل سپاہی "غالب اسٹریٹ" سمن آباد لکھا ہوا تھا۔۔ دو گھنٹے تک گلیوں کی خاک چھاننے کے بعد وہ ہانپنے لگا۔ پہلے روز ہی اسے ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔۔ اب وہ اپنے پوسٹ ماسٹر کو کیا منہ دکھائے گا۔۔ اس کا حلق خشک ہو گیا اور پانی کی طلب محسوس ہوئی وہ بے اختیار اٹھا اور گھر کے دروازے پر لگی بیل پر انگلی رکھ دی۔۔ اچانک اسے زور دار جٹھکا لگا۔۔ جھٹکے کی اصل وجہ یہ نہیں تھی کہ بیل میں کرنٹ تھا بلکہ بیل کے نیچے لگی ہوئی پلیٹ پر انگلش میں 'قاتل سپاہی' لکھا ہوا تھا۔۔
خوشی کی لہر اس کے اندر دور گئی۔۔ اتنی دیر میں دروازہ کھلا اور ایک نوجوان باہر نکلا۔۔ ڈاکیے نے جلدی سے رجسٹری اس کے سامنے کر دی۔۔
کیا آپ کا ہی یہ نام ہے ؟
نوجوان نے نام پڑھا اور کہا نہیں یہ میرے دادا ہیں۔۔
ڈاکیے نے جلدی سے پوچھا ۔۔ ''کیا نام ہے ان کا؟
نوجوان نے بڑے اطمینان سے کہا
'' قتیل شفائی '' ..... ''Qatil Shiphai"
گل نوخیزاختر
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
انتخاب از ایڈمن: “الف،ب،نون”

واٹس ایپ:
https://chat.whatsapp.com/CBzhqJzdoyx0mrMIYvcVVe
ٹیلی گرام:
t.me/CutPiece
بڑا دشوار ہوتا ہے
ذرا سا فیصلہ کرنا
کہ جیون کی کہانی کو
بیانِ بے زبانی کو
کہاں سے یاد رکھنا ہے
کہاں سے بھول جانا ہے
اِسے کتنا بتانا ہے
اِسے کتنا چھپانا ہے
کہاں رو رو کے ہنسنا ہے
کہاں ہنس ہنس کے رونا ہے
کہاں آواز دینی ہے
کہاں خاموش رہنا ہے
کہاں رَستہ بدلنا ہے
کہاں سے لوَٹ آنا ہے
بڑا دشوار ہوتا ہے
ذرا سا فیصلہ کرنا
(نقل وچسپاں)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
انتخاب از ایڈمن: “الف،ب،نون”

واٹس ایپ:
https://chat.whatsapp.com/CBzhqJzdoyx0mrMIYvcVVe
ٹیلی گرام:
t.me/CutPiece
“سب برابر”

40 سال کی عمر میں زیادہ پڑھے لکھے اور کم پڑھے لکھے کا فرق ختم ہو جاتا ہے۔ بعض دفعہ تو کم تعلیم یافتہ افراد کہیں زیادہ پیسے کماتے ہیں۔
50 سال کی عمر میں بدصورتی اور خوبصورتی کا فرق ختم ہو جاتا ہے۔ اپنے زمانے کے حسین ترین انسان کے چہرے پر بھی جھریاں نظر آنے لگتی ہے۔
60 سال کی عمر میں بڑے عہدے اور چھوٹے عہدے کی حیثیت ختم ہو جاتی ہے۔ سر پھرے بیوروکریٹ کو ریٹائرمنٹ کے بعد دفتر کا چپڑاسی چوکیدار بھی سلام نہیں کرتا۔
70 سال کی عمر میں چھوٹے گھر اور بڑے گھر کا فرق ختم ہوجاتا ہے۔ گھٹنوں کی درد اور کمر کی تکلیف کی وجہ سے صرف بیٹھنے کی جگہ ہی تو چاہئیے۔
80 سال کی عمر میں پیسے کی قدر و قیمت ختم ہوجاتی ہے۔ اگر اکاونٹ میں کروڑوں اور جیب میں لاکھوں روپے بھی ہوں تو کونسا سکھ خریدلو گے؟
90 سال کی عمر میں سونا اور جاگنا ایک برابر ہو جاتا ہے۔ جاگ کر بھی کیا تیر مار لو گے؟؟
لہذا آج سے ہی اپنی زندگی کے ایک ایک پل کو انجوائے کرو اور ہر حال میں اللہ پاک کا شکر ادا کرتے رہو۔

فبائ آلاء ربکما تکذبان
(نقل وچسپاں)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
انتخاب از ایڈمن: “الف،ب،نون”

واٹس ایپ:
https://chat.whatsapp.com/CBzhqJzdoyx0mrMIYvcVVe
ٹیلی گرام:
t.me/CutPiece
“مہربان”

منٹو صاحب چند دوستوں کے ساتھ لکشمی چوک سے گزر رہے تھے۔ رتن سینما کے پاس ایک نوجوان نظر آیا جو ریڑھی پر آم رکھے بیچ رہا تھا۔ چھیل چھبیلا خوبصورت۔۔۔۔۔ پاس پہنچ کر رک کر اسے دیکھنے لگے۔
بھاو کیا نا تاو، سب آم بندھوا لیے۔ پیسےدے کر کہنے لگے برخوردار سیدھا گھر جانا ، پھر کہنے لگے رکو
یہ دو روپے کی مٹھائئ بھی لیتے جانا
ساتھی حیران تھے کہ منٹو کو کیا سوجھی کہ سارے آم خرید لیے اور ساتھ مٹھائئ کیلیے الگ سے پیسے بھی دے دیے۔
آموں سے لدے لداے منٹو جب چٹان کے آفس پہنچے تو سانس پھولا ہوا تھا ایک دوست نے پوچھا
آج یہ الٹی گنگا کیسی۔۔۔۔۔ انگور کی بیٹی کی جگہ آم کے بیٹے
مسکراتے ہوے جواب دیا
تم نے اس نوجوان کو غور سے دیکھا۔۔۔۔۔
آنکھ میں سرمہ، انگلی میں سونے کی انگوٹھی، ہاتھ پر تازہ تازہ مہندی۔
ارے پگلو نئی نئی شادی ہوئی ہے اسکی
آم نجانے کب بکتے، میں نے بس یہی سوچ کر خرید لیے کہ بچہ جلدی گھر چلا جاے تو نوبیاہتا دلہن خوش ہوجاے گی۔
آج ہماری طرف سے ہی موج میلہ کر لے، موسم اچھا ہے....
ہائے رے منٹو ۔۔صدقے تمہارے !
(نقل وچسپاں)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
انتخاب از ایڈمن: “الف،ب،نون”

واٹس ایپ:
https://chat.whatsapp.com/CBzhqJzdoyx0mrMIYvcVVe
ٹیلی گرام:
t.me/CutPiece
کسک رہی گر، گنوائیں نیندیں، نہ چین پایا تو کیا کرو گے
گئی رُتوں نے مِری طرح سے تمہیں رُلایا تو کیا کرو گے

یہ شان، عہدہ، یہ رُتبہ، درجہ، ترقیوں کا یہ طنطنہ سا
کسی بھی لمحے نے کر دیا گر تمہیں پرایا تو کیا کرو گے

ابھی ہیں معقول عُذر سارے، جواز بھی ہیں بجا تمہارے
کبھی جو مصروف ہو کے میں نے تمہیں بھلایا تو کیا کرو گے

چراؤ نظریں، چھڑاؤ دامن، بدل کے رَستہ بڑھاؤ اُلجھن
تمہیں دُعاؤں سے پھر بھی میں نے، خدا سے پایا، تو کیا کرو گے

رحیم ہے وہ، کریم ہے وہ، وہی مسیحا، وہی خدا ہے
اسی نے سُن لیں مِری دعائیں، جو رحم کھایا تو کیا کرو گے
پریا تابیتا
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
انتخاب از ایڈمن: “الف،ب،نون”

واٹس ایپ:
https://chat.whatsapp.com/CBzhqJzdoyx0mrMIYvcVVe
ٹیلی گرام:
t.me/CutPiece
“ریال و درہم کمانے والوں کے حالات اورانکی قربانیاں”

تعلیم سے زیادہ پیسہ اور کتاب سے زیادہ پاسپورٹ کی اہمیت رکھنے والی ہماری سوچ اور روایت کے مطابق ابا نے بھی پڑھائی چھوڑ کر پاسپورٹ بنوایا اور ریال و درہم سے گھر کی تقدیر بدلنے کا خواب سجائے سعودی عرب چلے گئے، اس میں کوئی شک نہیں کہ ریال و درہم سے ہمارے معاشی حالات بدلے ہیں، طرز زندگی بدلی ہے، نمائش و زیبائش کا چلن بدلا ہے امیر و غریب کا معیار بدلا ہے اگر کچھ نہیں بدلا تو تعلیمی معیار اور سیاسی سوچ نہیں بدلی سالوں پہلے تعلیمی اور سیاسی طور پر ہم جہاں تھے آج بھی وہیں ہیں بلکہ اب تو اور بھی پسماندہ ، نہ ہم سیاست میں ہیں نہ حکومت میں نہ صحافت میں نہ عدالت میں، کسی بھی موڑ پرکسی بھی وقت کسی بھی دھرم سینا اور بھیڑ کے ہاتھوں مار دیئے جائیں نہ تو ہماری کوئی آواز ہے اور نہ ہی کوئی پرسان حال ، درہم و دینار کی بدولت گاڑی ، گھوڑے ، بنگلے ، محلات تو بنے لیکن ڈاکٹر انجینیئر، ٹیچر آئی ایس ، پی سی ایس نہیں - عرب ممالک پر انحصاری ، تعلیمی پستی ، سیاست اور شریعت میں آپسی رساکشی کے باعث ملک میں ہم وہ مقام حاصل نہیں کر سکے جو مقام ملک میں رہ کر تعلیم و معاش حاصل کرنے والی دوسری قوموں نے کیا،
قسمت سنوارنے کی خاطر ابا نے ملک چھوڑ تو دیا لیکن آج کے اس ٹکنیکل دور میں اعلیٰ تعلیم یافتہ ، ہنرمند لوگوں کو نوکری کا حصول مشکل ہے تو غیر تعلیم یافتہ اور بے ہنر لوگوں کے لئے نوکری کہاں ، سعودی عرب کے بدلتے حالات اور بڑھتی ہوئی بے روزگاری کے سبب جب ابا کو کوئی کام نہیں ملا تو انھوں نے بھی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے نوکری کے حصول کے لئےسب سے آسان اور ہمارے نوجوانوں کا پسندیدہ پیشہ ڈرائیونگ گاوں کے دوستوں کی مدد سے سیکھ ہی لی اور ایک سعودی کے گھر میں سواق خاص بن گئے ، گھر خان صاحب کہے جانے والے ابا اب سعودی میں سواق " فیملی ڈرائیور"کہے جانے لگے ، معاشرے کے اس روئیے پر قربان جاوں کہ گھر جس کام کو کرنے میں عار محسوس ہوتی ہے سماج حقارت کی ترچھی نگاہ سے دیکھتا ہے پردیس میں وہ سارے کام کرنے میں کوئی عار کوئی شرم نہیں اپنے ملک میں سبزی اور پھل بیچنے والے کے گھر رشتہ نہ کرنے والا معاشرہ سعودی میں سبزی اور مچھلی بیچنے والوں کے گھر فخریہ انداز میں بیٹا بیچ دیتا ہے سبزی بیچ کر روپیہ کمانے والوں کی عزت تو نہیں لیکن برف بیچ کر ریال و درہم کمانے والوں کی عزت میں کوئی کمی نہیں،
خدا کی حکمت ، اپنی قسمت اور خلیجی حالات سے بےخبر دنیا کی چمک دمک دیکھ کر ابا سعودی عرب تو گئے لیکن قسمت سے آگے نہیں جا سکے بڑی مشقت کے بعد کہیں کام ملتا تو تنخواہ نہیں کہیں تنخواہ ملتی تو کام نہیں مشکل سے ملنے والی ڈرائیور کی یہ نوکری بھی چھوٹ گئی لیکن حسن اتفاق کہ ابا اس بار جس کفیل کے یہاں ڈرائیور تھے وہ ایک ڈاکٹر تھا اسکو ہاسپیٹل چھوڑنا اور واپس لانا یہی انکی کل ڈیوٹی تھی ڈرائیور کی اس نوکری نے ابا کو بہت پیسہ تو نہیں دیا لیکن ڈاکٹر کی صحبت نے انکے اندر یہ احساس ضرور پیدا کیا کہ کاش میں بھی پڑھا ہوتا اور یہی احساس سعوی عرب میں ابا کی کل کمائی تھی اور اسی احساس کے ساتھ انھوں نے اپنے آپ سے وعدہ کیا کہ گھر اس وقت تک نہیں جاونگا جب تک بچوں کو پڑھا نہ لوں،

اللہ نے ابا کی قسمت میں رزق تنگ تو نہیں لیکن اس قدر مختصر لکھا تھا کہ سعودی عرب کی تپتی ریت گرم ہواوں میں دن بھر پسینہ نچوڑنے کے بعد بھی انکی آمدنی وہیں ختم ہو جاتی جہاں سے غربت شروع ہوتی لیکن دنیا کی نظر میں ابا سعودی رہتے تھے عرب ممالک ریال و درہم کمانے والوں کے گھر میں تنگی ہوگی گاوں ، محلہ ، پڑوس معاشرہ نہ کبھی اس بات کو ماننے کو تیار ہوتا اور نہ سمجھنے کو اپنی ہانڈی پر نظر رکھنے کے بجائے دوسروں کی ہانڈی پر نظر رکھنے والے اس معزز معاشرے میں ، اپنی عزت اور خاندانی وقارکا بھرم رکھنے کے لئے اماں ہر روز جیتیں اور ہر روز مرتیں ابا کے بھیجے گئے ہر مینے پانچ سے سات ہزار میں گھر کی عزت کو سفید کپڑوں میں ملبوس رکھنا دو دو جوان بہنوں کی شادی کا جہیز بنانا ، ہمیں اسکول بھیجنا ، آرزوں اور خواہشوں کو مار کر پڑوسیوں کے سامنے خوشی کا اظہار کرنا اماں کے لئے کس قدر مشکل تھا رات کی تنہائی میں کبھی کبھی انکی آنکھوں سے بہنے والے آنسو سب ظاہر کر دیتے انکی آنکھوں سے ٹپکے ہوئے موتی اگر غلطی سے ہمیں بیدار کر دیتے تو یہی کہتی کہ ایک حسین خواب تھا جو آنکھوں کو نم کرگیا مجبوریوں اور پریشانیوں میں بھیگا ہوا اماں کا یہ لہجہ بتاتا کہ پرییشان آنکھوں میں حسین خواب کہا ہوتے ہیں،
لیکن ماں کی ممتا ہمیں خوش رکھنے کے لئے آنسووں کے ساتھ اپنے غموں کو بھی پی جاتی لیکن کسی پریشانی کا اظہار نہیں کرتی، ہم سفید پوش لوگوں کا المیہ ہے کہ بھوکے مر جائیں گے لیکن اپنی خوداری اپنی غیرت اپنے خاندانی وقار کا بھرم رکھنے کی خاطر نہ کسی کے سامنے ہاتھ پھیلا سکتے ہیں اور نہ ہی کسی کے سامنے اپنی حالت زار بیان کر سکتے ، اماں اسی سات ہزار م
یں اپنی ساری خواہشوں کا گلا گھونٹ کر جیسے تیسے ہماری ضرورتوں کو پورا کر کے دنیا کے سامنے مسکراتی رہتی، ہمارے اچھے مستقبل کی خاطر ابا کا سالوں سال سعودی عرب رہنا ہمیں دکھ تو دیتا ویڈو کال پر انکی محبت اور حسرت بھری نگاہیں دیکھ کر دل خون کے آنسو تو روتا اولاد کے لئے ماں باپ کی اس ایثار اور قربانی پر دکھ اور ملال تو تھا لیکن کلیجہ اس وقت پھٹ گیا جب اماں مجبور ہوکر میرے اسکول کی فیس کے لئے محض ایک ہزار ادھار مانگنے مجھے رحمان دادا کے گھر بھیج دیا ایک ہزار لینے کے لئے میں انکے گھر کے سنگ مر مر لگے منقش ستون کی آڑ میں شرمندگی چھپائے، نظریں جھکائے، مجبوری اٹھائے گھنٹوں کھڑا رہا لیکن جیسے کسی نے سنا ہی نہیں گھنٹوں کھڑے رہنے کے بعد جب مایوسی لئے واپس جانے لگا تو انکی بڑی بہو نے کہہ دیا کہ جب دیکھو پیسے کے لئے منھ اٹھائے کھڑے رہتے ہیں جیسے یہاں پیسوں کے پیڑ لگے ہیں جب اوقات نہیں تو کیا ضرورت پڑھانے کی کھانے کو نہیں لیکن خواب نوابوں والے پتا نہیں کون سا تمغہ مل جائے گا پڑھا کے،
لفظوں کے دانت تو نہیں ہوتے لیکن جب وہ کاٹتے ہیں تو جسم کو نہیں روح کو زخمی کرجاتے ہیں اس دن ان کا طنزیہ جملہ مغروری لہجہ میرے سینے میں خنجر کی طرح اتر گیا میری غربت اور ماں کی تربیت نے میرے اندر اتنی ہمت نہیں پیدا کی کہ میں انکا جواب دے پاتا،
پیسے کی جگہ انکا نشتری لہجہ دل میں چبھائے گھر واپس آیا اور ماں کے پہلو میں پھوٹ پھوٹ کر رو پڑا اماں نے کہا کوئی بات نہیں بیٹا دولت سمجھنے والے تعلیم نہیں سمجھتے وقت بہت بڑا مرہم ہے یہ زخم بھی بھر دیگا دوسرے دن ابا کا فون آیا ان سے کہ دیا کہ ابا مجھے پڑھانے کا خواب چھوڑ کر سعودی عرب بلا لیں بھوک تو برداشت ہوجاتی ہے لیکن لوگوں کی تلخ باتیں اور لفظوں کی چوٹ برداشت نہیں ہوتی کسی بھی رنج و الم پر نہ پسیجنے والی ابا کی آنکھ میری باتوں پر بے تہاشہ برس پڑیں خود کو سنبھالتے ہوئے کانپتے لہجے میں کہا بیٹا اگر تم چاہتے ہو کہ تماری اولاد اور آنے والی نسلوں کو لفظوں کے زخم نہ سہنا پڑے تو میری طرح سعودی آنے کی ضد مت کرو اس وقت پریشانی ضرور ہے تنگی ضرور ہے اپنی قسمت اور خدا کی مشیئت سمجھ کر لوگوں کی باتوں کو نظر انداز کرکے آدھی روٹی اور پھٹے کپڑے پر گزارا کرلو لیکن پڑ ھنے سے انکار مت کرو بیٹا میں تمہیں پڑھانے کے لئے اپنے خون کا آخری قطرہ سعودی عرب کی اس تپتی ریت میں نچوڑ دونگا لیکن ہار نہیں مانونگا پھر تم کیوں ہار مانتے ہو انٹر میڈیٹ کے بعد تمہیں میڈیکل کی تیاری کرنی ہے ایم بی بی ایس کا ٹیسٹ دینا ہے بیٹا میں اپنی قسمت ، اللہ کے فیصلےاور اسکے دئیے گئے رزق سے آگے تو نہیں جا سکتا لیکن تم سے وعدہ کرتا کہ اپنی آنے والی نسل کے مستقبل کی خاطر اپنی جوانی کے قیمتی سال اس صحرا میں گزار دونگا لیکن میں گھر آکر پوری زندگی لوگوں کے سامنے اپنی اولادوں کو رسوا ہوتے نہیں دیھ سکتا بیٹا میری قربانی اور جذبات کی قدر کرنا تمہاری کامیابی میری آنکھوں میں روشنی بھر دے گی عرب کی تپتی ریت میں کام کرنے کا حوصلہ دے گی ، ایک ڈاکٹر کا باپ کہلائے جانے پر میرے یہ سارے زخم بھر جائیں گے،
ابا کا مشفقانہ انداز، جذباتی لہجہ حوصلہ بن کر مرے دل و دماغ میں اتر گیا اور میں نے بھی اپنے آپ سے وعدہ کیا کہ ، انکی اس قربانی کو رائیگا نہیں جانے دونگا انکے خوابوں کی تکمیل اپنا مقصد بنایا کتابوں سے پیار کیا نیندوں کو حرام کیا اور پہلے ہی ٹیسٹ میں ایم بی بی ایس کا امتحان پاس کرلیا ابا نے سنا تو انکی خوشی کی انتہا نہ رہی پیسوں کا انتظام کر کے میرا ایڈمیشن کرا یا اور خود چھ سال گھر نہیں آئے، میرے ڈاکٹر بننے کے کچھ مہینوں بعد ابا گھر آئے میں اسوقت دلہی کے ایک ہاسپیٹل میں پریکٹس شروع کر چکا تھا اور ایم ڈی کی تیاری کر رہا تھا ابا گھر پہونچے دوسرے دن میں فلائٹ سے گھر پہونچا آٹھ سال بعد ابا کو دیکھ کر جذبات پر قابو نہ پاسکا انکی اس قربانی اور اماں کی جفاکشی کو سوچ کر آنکھیں بے تحاشہ چھلک پڑیں کچھ دن ابا کے ساتھ گزارنے کے بعد دہلی واپس چلا گیا دو مہینے بعد ایم ایس کاٹیسٹ بھی نکال لیا اور نیرو سرجن بن گیا کچھ سالوں بعد ابا کے نام سے اپنا ہاسپیٹل بنوایا تو ابا کی خواہش کے مطابق گاوں کے لوگوں کا علاج فری رکھا، ایک دن رات کو جیسے گھر پہونچا ہاسپیٹل سے فون آیا کہ سر ایک ایمرجنسی کیس ہے وہ بھی آپکے گاوں کا کھانا ٹیبل پر رکھا چھوڑ کر ہاسپیٹل پہونچا دیکھا تو رحیم دادا باہر کھڑے ہیں جلدی سے گاڑی سے باہر نکلا انکو سلام کیا حال دریافت کرتے ہوئے ایمرجنسی وارڈ گیا دیکھا تو ایک عورت اسٹریچر پر زندگی اور موت کے بیچ لیٹی ہوئی جلدی سے آئی سی یوICU میں داخل کیا علاج شروع کیا دوسرے دن ڈاکٹروں کی ایک ٹیم کے ساتھ آپیریشن کیا کئی ہاسپیٹل سے لاعلاج ہونے کے بعد بالآخر اللہ نے جب انھیں میرے ہاتھوں شفا دی تو ہوش میں آنے کے بعد مجھے دیکھ کر رو پڑیں شاید انکو وہ بات یاد آگئی جب میں انکے گھر اپنی اسی تعلیم ک
ے لئے ایک ہزار ادھار مانگنے گیا تھا تو انھوں کہا تھا کہ جب اوقات نہیں تو کیا ضرورت ہے پڑھانے کی اور پڑھ کر کون سا تمغہ جیت لوگے، وہ میرا ہاتھ پکڑ کر مجھ سے معافی مانگنے لگیں میں انکو اچھی صحت کی دعاء دیتے ہوئے صرف اتنا کہا کہ بھابھی دولت خوشحالی دیتی ہے اور تعلیم زندگی امیری پیسہ دیتی ہے اور تعلیم سلیقہ غربت پر طنز کریئے لیکن تعلیم پر نہیں، میرے علاج نے انکی زنگی بھی بدل دی اور انکی دنیا بھی کچھ دن بعد انھوں نے میرے نام سے ایک اسکول بنوایا جس میں غریب بچوں کی تعلیم کو فری رکھا،
اللہ انکو جزائے خیر دے اور ہمیں والدین کی عظمت اور انکے تقدس کے احترام کی توفیق دے،آمین جزاکم اللہ!
عزیز اعظمی،اسرولی،سرائے میر،اعظم گڑھ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
انتخاب از ممبر: جناب “عبدالقادر” صاحب،مرادآباد

واٹس ایپ:
https://chat.whatsapp.com/CBzhqJzdoyx0mrMIYvcVVe
ٹیلی گرام:
t.me/CutPiece
“مُلّا”

لیبارٹری میں پروفیسر ہمیں مینڈک کے پھیپھڑوں کے خلیات کا نظارہ خورد بین سے باری باری کروا رہے تھے اور ہم ابکائیاں لے لے کر نظارے سے محظوظ ہو رہے تھے۔ مُلا کی باری آئی (قریباً ہر کلاس میں ایک داڑھی والا لڑکا ہوتا ہے جس کا نام مُلا ہی پڑ جاتا ہے) تو عادت کے مطابق اس نے خوب تسلی سے خلیات دیکھے اور مستقل سبحان اللہ کا ورد کرتا رہا۔ اس پر ہمارے روشن خیال پروفیسر کا چہرہ کچھ مزید ترچھا سا ہوتا چلا گیا اور ناپسندیدگی کے تاثرات چہرے پر بد نما پھوڑوں کی طرح ابھر آئے۔
"سر مجھے اجازت مل سکتی ہے؟ ظہر کا وقت ہو گیا ہے۔" ملا نے سر اٹھا کر پروفیسر سے سوال کیا۔
"ہاں ہاں بالکل جاؤ بھئی۔ ویسے بھی یہاں تو تمہارے مطلب کی باتیں زیادہ ہوتی بھی نہیں۔ مجھے لگتا ہے تمہیں زیادہ تر وقت مسجد مدرسوں میں ہی گزارنا چاہیے۔ تم اسی قابل ہو۔"
پروفیسر صاحب الفاظ میں جتنے نشتر چھپا کر چلا سکتے تھے چلا دیے۔ مُلا نے مسکراتے ہوئے شکریہ ادا کیا اور لیب سے باہر نکل گیا۔
"دنیا چاند پر پہنچ گئی ہے اور یہ ملا آج بھی زمین پر ٹکریں مارنے میں مصروف ہے۔"
پروفیسر باآوازِ بلند بڑبڑائے۔ کلاس میں سارے ہی مسلمان تھے مگر "نمبر" چونکہ پروفیسر صاحب کے ہاتھ میں تھے اس لیے بعض لڑکے لڑکیاں خاموش رہے اور باقیوں نے مسکرا کر یا ہنس کر پروفیسر صاحب کو خوش کرنے کی کوشش کی۔ سر کی بدقسمتی کہ کلاس میں مجھ جیسا بد زبان بھی موجود تھا جسے اگر مُلا کی کوئی خاص پروا نہیں تھی تو "نمبروں'' کی تو بالکل بھی نہیں تھی۔
"سر ۔ ۔ ۔ آپ کتنی بار چاند پر جا چکے ہیں؟" میں نے معصومیت سے پوچھا۔
"کیا مطلب؟"
پروفیسر ایک جھٹکے سے سیدھے ہو گئے۔
''مطلب سر آپ کو تو زمین پر ٹکریں مارتے کبھی نہیں دیکھا اور آپ نے جو ابھی ابھی مُلا کی چاند پر نہ جا سکنے کی وجہ بتائی ہے اس اعتبار سے تو آپ کئی بار چاند کی سیر کر کے آ چکے ہونگے۔ پلیز بتائیں نا کیسا ہوتا ہے چاند اور کیا واقعی چاند پر پریاں رہتی ہیں؟"
میں بولنا شروع ہوا تو روانی میں بولتا ہی چلا گیا۔ جب پروفیسر کی طرف دیکھا تو ان کی آنکھیں غصے کے مارے ابل کر باہر آنے کا راستہ ڈھونڈ رہی تھیں۔
"شٹ اپ۔ یو بلڈی سٹوپڈ۔ میں بیالوجسٹ ہوں۔ میرا کام چاند پر جانا نہیں ہے!!!"پروفیسر چلائے۔
"اوہ ہ ۔ ۔ ۔ تو آپ کو شاید کسی نے یہ بتا دیا ہے کہ مُلا خلاء باز ہے اور بیالوجی پڑھنے شوقیہ آتا ہے!" چڑے ہوئے کو مزید چڑانا میرا پسندیدہ مشغلہ تھا۔ ویسے بھی اب تو سر نے مجھے شٹ اپ اور سٹوپڈ جیسے سخت الفاظ کہہ کر باقاعدہ اعلانِ جنگ کر دیا تھا۔
"اگر خود نہیں ہے تو دوسروں کو بھی نہیں بننے دینا اس نے اور اس کی قبیل نے۔ یہ مُلے مسجدوں میں بیٹھ کر لوگوں کو لوٹے سے وضو کرنا سکھاتے ہیں یہ نہیں بتاتے کہ راکٹ بناؤ مشینیں بناؤ۔" پروفیسر نے مٹھیاں بھینچ کر بے ربط اور نامکمل سا جواب دیا۔ ان کا بس نہیں چل رہا تھا کہ مینڈک کے بجائے میرے ٹکڑے کر کے خورد بین کے نیچے ڈال دیں۔
"سر معاف کیجیے گا۔ مگر امریکہ کے چرچ میں بیٹھا پادری بھی لوگوں کو مشینیں بنانے کا نہیں کہتا۔ وہ بھی لوگوں کا بپتسمہ ہی کرتا ہے، لہک لہک کر آرکیسٹرا کے ساتھ عبادات کرتا ہے اور "مقدس روح" کے ساتھ باتیں کرکے لوگوں کے مسئلے حل کرتا ہے۔ مگر وہاں کا کوئی دانشور کوئی سائنس دان یہ کہتا ہوا نہیں نظر آتا کہ پادری ابھی تک لوگوں کو مقدس دعائیں یاد کرواتا ہے۔ کیونکہ وہاں ہر کوئی اپنی اپنی ذمہ داری سمجھتا ہے اور اپنی اپنی ناکامی اور نااہلی کو تسلیم کرتا ہے۔ اگر ہمارے ہاں کا سائنسدان چاند پر نہیں پہنچ سکا تو اس کی وجہ یہ نہیں کہ مُلا نے اس کا پائنچہ پکڑ رکھا ہے، بلکہ وجہ اس کی اپنی نااہلی ہے۔ جب تک ہم میں سے ہر کوئی اپنی اپنی کمزوریوں کو تسلیم کر کے ان پر محنت کرنے کی بجائے دوسروں پر الزام لگاتا رہے گا، ہم زمین پر ہی رہیں گے، ہمارا چاند کبھی نہیں چڑھے گا۔"
میں نے "لیکچر" ختم کیا تو سر شعلے برساتی آنکھوں سے مجھے گھور رہے تھے۔ لیب میں بھی مکمل سناٹا تھا۔ ذرا سی نظریں گھمائیں تو محسوس ہوا ہر کوئی ہی مجھے گھور رہا ہے۔ میرے پسینے چھوٹ گئے۔
"سر میں بھی نماز پڑھ کر آتا ہوں۔"
میں نے "بہانہ" بنا کر بیگ اٹھایا اور جو دوڑ لگائی تو سیدھا کینٹین آ کر رکا۔
بات پرانی ہوئی۔ امتحانات ہوئے۔ نتائج لگے۔ پوری کلاس اچھے نمبروں سے پاس ہو گئی۔ جشن کا سماں تھا۔ حتی کہ مُلا بھی اپنے ساٹھ نمبر لے کر پاس ہونے پر الحمداللہ کا ورد کر کے جھوم رہا تھا۔ خوشی کے مارے سب ہواؤں میں اڑ رہے تھے۔
صرف میں اکیلا تھا جو چاند پر اڑ رہا تھا۔
اور کیوں نہ اُڑتا۔ میرے پیپر میں جو آج چاند نکلا تھا۔ چودھویں کا۔۔۔مگر کچھ بیضوی سا۔۔۔ کمبختوں نے چاند پر جا جا کر اس کا حلیہ ہی بگاڑ ڈالا۔۔!!
(نقل وچسپاں)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
انتخاب: جناب “نصرت اللہ خان” صاحب(ہاپوڑ،یوپی،انڈیا)

واٹس ایپ:
https://chat.whatsapp.com/CBzhqJzdoyx0mrMIYvcVVe
ٹیلی گرام:
t.me/CutPiece
اشعار مرے یوں تو زمانے کے لیے ہیں
کچھ شعر فقط ان کو سنانے کے لیے ہیں

اب یہ بھی نہیں ٹھیک کہ ہر درد مٹا دیں
کچھ درد کلیجے سے لگانے کے لیے ہیں

سوچو تو بڑی چیز ہے تہذیب بدن کی
ورنہ یہ فقط آگ بجھانے کے لیے ہیں

آنکھوں میں جو بھر لو گے تو کانٹوں سے چبھیں گے
یہ خواب تو پلکوں پہ سجانے کے لیے ہیں

دیکھوں ترے ہاتھوں کو تو لگتا ہے ترے ہاتھ
مندر میں فقط دیپ جلانے کے لیے ہیں

یہ علم کا سودا یہ رسالے یہ کتابیں
اک شخص کی یادوں کو بھلانے کے لیے ہیں
جاں نثار اختر
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
انتخاب از ایڈمن: “الف،ب،نون”

واٹس ایپ:
https://chat.whatsapp.com/CBzhqJzdoyx0mrMIYvcVVe
ٹیلی گرام:
t.me/CutPiece
“نئی اڑان”

ایک عقاب کی عمر 70سال کے قریب ہوتی ہے۔اس عمر تک پہنچنے کے لیے اسے سخت مشکلات سے گزرنا ہو تا ہے۔جب اس کی عمر چالیس سال ہوتی ہے تو اس کے پنچے کند ہو جاتے ہیں جس سے وہ شکار نہیں کر پاتا،اسی طرح اس کی مظبوط چونچ بھی عمر کے بڑھنے سے شدید ٹیڑھی ہو جاتی ہے،اس کے پر جس سے وہ پرواز کرتا ہے بہت بھاری ہو جاتے ہیں اور سینے کے ساتھ چپک جاتے ہیں جس سے اڑان بھرنے میں اسے سخت دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے،ان سب مشکلات کے ہوتے ہوے اس کے سامنے راستے ہوتے ہیں یا تو وہ موت کو تسلیم کر لے یا پھر 150 دن کی سخت ترین مشقت کے لیے تیار ہو جائے۔
چنانچہ وہ پہاڑوں میں جاتا ہے ۔اور سب سے پہلے اپنی چونچ کو پتھروں پہ مارتا ہے یہاں تک کہ وہ ٹوٹ جاتی ہے۔کچھ دن بعد جب نئی چونچ نکلتی ہے تو وہ اس سے اپنے سارے ناخن جڑ سے کاٹ پھینکتا ہے۔پھر جن اس کے نئے ناخن نکل آتے ہیں وہ وہ چونچ اور ناخن سے اپنا ایک ایک بال اکھاڑ دیتا ہے۔اس سارے عمل میں اسے پانچ ماہ کی طویل تکلیف اور مشقت سے گزرنا ہوتا ہے۔پانچ ماہ بعد جب وہ اڑان پھرتا ہے تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے اس نے نیا جنم لیا ہو اس طرح وہ تیس سال مزید زندہ رہ پاتا ہے۔ عقاب کی زندگی اوران ساری باتوں سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے بعض دفعہ ہمارے لیے اپنی زندگی کو بدلنا بہت ضروری ہوتا ہے تاکہ ہم اس سے بہتر زندگی گزار سکیں اگرچہ اس زندگی کو بدلنے کے لیے ہمیں سخت جد وجہد کیوں نا کرنی پڑے.
(نقل وچسپاں)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
انتخاب: جناب “زخمی پرندہ” صاحب(پھول پور،اعظم گڑھ)

واٹس ایپ:
https://chat.whatsapp.com/CBzhqJzdoyx0mrMIYvcVVe
ٹیلی گرام:
t.me/CutPiece