Al-Islaam-Urdu
84 members
1 file
133 links
Download Telegram
to view and join the conversation
•°•° Al-Islaam.co.za-299 •°•°
•┄┅❂❀❖❖❀❂┅┈•

🌹باغِ محبّت🌹

جنت کی ملکہ

حضرت فاطمہ رضی الله عنہا نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کی سب سے چھوٹی اور سب سے پیاری صاحبزادی تھیں۔ حضرت فاطمہ رضی الله عنہا سے رسول کریم صلی الله علیہ وسلم کی محبّت کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ آپ صلی الله علیہ وسلم کسی سفر میں جانے سے پہلے جس انسان سے سب سے آخر میں ملاقات کرتے تھے اور سفر سے واپسی پر جس انسان سے سب سے پہلے ملاقات کرتے تھے وہ حضرت فاطمہ رضی الله عنہا تھیں۔ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے اپنی وفات سے پہلے حضرت فاطمہ رضی الله عنہا کو خوش خبری دی تھی کہ"تم جنّت کی ساری عورتوں کی ملکہ بنوگی۔" (بخاری شریف)

حضرت فاطمہ رضی الله عنہا کا بلند مقام و مرتبہ سمجھنے کے لیے بس اتنا کافی ہے کہ الله تعالیٰ نے ان کو دنیا کی تمام عورتوں میں سے سب سے افضل بنایا اور آخرت میں ان کو منتخب کر کے جنّت کی ساری عورتوں کی ملکہ ہونے کا شرف عطا فرمایا ہے۔ اگر حضرت فاطمہ رضی الله عنہا کی زندگی پر نظر ڈال لیا جائے، تو ان کی حیاتِ طیّبہ کا ہر پہلو درخشاں، مبارک اور قابلِ تقلید نظر آئےگا اور ان کی مبارک زندگی میں اس امّت کی خواتین کے لیے بے شمار ہدایات و اسباق ہیں۔ حضرت فاطمہ رضی الله عنہا کی حیاتِ طیّبہ کا ایک مبارک پہلو یہ ہے کہ وہ اپنی پوری زندگی اسلام کی روشن تعلیمات کے مطابق گزارتی تھیں، وہ ہمیشہ الله تعالیٰ اور اس کے رسول صلی الله علیہ وسلم کی اطاعت و فرماں برداری پر چلتی تھیں اور تقوی و طہارت سے لازم پکڑتی تھیں اسی طرح وہ اپنی زندگی کی تمام شعبوں میں آپ صلی الله علیہ وسلم کی سنت کو زندہ کرتی تھیں اور خاص طور پر وہ پردہ کا بہت زیادہ اہتمام کرتی تھیں کہ وہ اپنے آپ کو اجنبی مردوں کی نگاہوں سے ہر وقت بچائے رکھے۔

ایک مرتبہ رسول کریم صلی الله علیہ وسلم نے صحابۂ کرام رضی الله عنہم سے سوال کیا کہ عورتوں کے لیے کون سی چیز سب سے بہتر ہے ان کے دین کے لئے؟ صحابۂ کرام رضی الله عنہم میں سے کسی نے کوئی جواب نہیں دیا۔ جب حضرت علی رضی الله عنہ گھر پہونچے، تو انہوں نے حضور صلی الله علیہ وسلم کا سوال حضرت فاطمہ رضی الله عنہا کے سامنے پیش کیا۔ حضرت فاطمہ رضی الله عنہا نے فوراً جواب دیا کہ عورتوں کے لیے سب سے بہترین چیز یہ ہے کہ وہ اجنبی مردوں کو نہ دیکھیں اور اجنبی مرد ان کو نہ دیکھیں۔ جب حضرت علی رضی الله عنہ نے حضور صلی الله علیہ وسلم کو حضرت فاطمہ رضی الله عنہا کا یہ جواب ذکر کیا، تو آپ بہت مسرور ہوئے اور ارشاد فرمایا: "فاطمہ میرے بدن کا ٹکڑا ہے۔" (مجمع الزوائد، کنزالعمال)

حضرت فاطمہ رضی الله عنہا "پردہ" کے حوالے سے نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کے احکامات کو بہت زیادہ اہمیّت دیتی تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اپنی زندگی کے آخری لمحہ تک ہر موقع پر پردہ کا پورے طور پر خیال رکھا اور کبھی بھی اپنے آپ کو اجنبی مردوں کے سامنے ظاہر نہیں کیا۔ انہوں نے پردہ کا اتنا زیادہ اہتمام فرمایا کہ انہوں نے اپنی وفات سے قبل حضرت اسماء بنت عُمیس رضی الله عنہا سے فرمایا کہ "میں اس کو بہت خراب سمجھتی ہوں کہ موت کے بعد عورتوں کے جسموں پر ایک کپڑا ڈالا جاتا ہے، جس سے ان کے جسموں کی ہیئت ان مردوں کو نظر آتی ہے، جو جنازہ اٹھاتے ہیں۔"حضرت اسماء بنت عُمیس رضی الله عنہا نے جواب دیا: "اے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی صاحبزادی ! کیا میں تمہیں ایک طریقہ نہ بتاؤں، جو میں نے حبشہ میں دیکھا ہے۔ اس کے بعد انہوں نے کھجور کی کچھ ٹہنیاں منگوائیں اور ان سے فریم کی شکل بنا کر اس پر کپڑا ڈال دیا (اس طریقہ پر عمل کرنے سے مرحومہ کا جسم پورے طور پر چُھپ جاتا ہے)۔" جب حضرت فاطمہ رضی الله عنہا نے یہ دیکھا، تو فرمایا: "(اے اسماء) الله تعالیٰ تمہارے عیوب کی پردہ پوشی فرمائے، کیوں کہ تو نے میری اس سلسلہ میں مدد کی اور مجھے بتایا کہ کیسے میرا جنازہ میری وفات کے بعد مردوں کی نظروں سے چھپایا جائے۔" (اُسد الغابہ)

اس واقعہ سے یہ اچھی طرح ظاہر ہے کہ حضرت فاطمہ رضی الله عنہا پردہ کا کتنا زیادہ اہتمام فرماتی تھیں۔یہاں تک کہ انہوں نے یہ بھی برداشت نہیں کیا کہ کوئی مرد انتقال کے بعد بھی ان کے بدن کی ہیئت کو دیکھے۔ الله سبحانہ و تعالیٰ امّت محمدیہ کی عورتوں کو حضرت فاطمہ رضی الله عنہا کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔

••⊰❉⊱•═•⊰❉⊱•═•⊰❉⊱═•⊰❉⊱••

📚 حوالہ دیکھنے کے لئے
👇
http://al-islaam.co.za/?p=6772&lang=ur
┄┅─═══════─┅┄

🌐 الإسلام بروڈ کاسٹ

اگر آپ مختصر علمى مسائل يا دينى مضامين واٹس ايپ پر حاصل کرنا چاہتے ہیں تو اس نمبر کو اپنے فون ميں محفوظ کر ليں اور لکھ کر ہمیں بتا ديں۔
📱 https://wa.me/+27631823770
┄┅─═══════─┅┄
🌐 الإسلام ٹیلیگرام چینل

👇
https://t.me/AlislaamUrdu
•°•° Al-Islaam.co.za-300 •°•°
•┄┅❂❀❖❖❀❂┅┈•

🌸 نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کی شفاعت کا حصول

عن أبي الدرداء قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من صلى علي حين يصبح عشرا وحين يمسي عشرا أدركته شفاعتي يوم القيامة (رواه الطبراني بإسنادين وإسناد أحدهما جيد ورجاله وثقوا كذا في مجمع الزوائد، الرقم: ۱۷٠۲۲)

حضرت ابو درداء رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ”جو شخص مجھ پر صبح کے وقت دس بار درود بھیجتا ہے اور شام کے وقت دس بار درود بھیجتا ہے، وہ قیامت کے دن میری شفاعت سے شرف یاب ہوگا۔“

🌸 نبی کریم صلی الله علیہ وسلم سے صحابۂ کرام رضی الله عنہم کی محبّت

ایک شخص نے ایک مرتبہ حضرت علی رضی الله عنہ سے سوال کیا کہ صحابۂ کرام رضی الله عنہم کے دلوں میں رسولِ کریم صلی الله علیہ وسلم کی کتنی محبّت تھی؟ حضرت علی رضی الله عنہ نے جواب دیا کہ ”میں الله تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ رسولِ کریم صلی الله علیہ وسلم ہمارے لیے ہمارے مال، ہمارے بچّوں اور ہماری ماؤں سے زیادہ عزیز اور محبوب تھے اور آپ صلی الله علیہ وسلم کی صحبت ہمارے لیے سخت پیاس کی حالت میں ٹھنڈے پانی سے زیادہ مرغوب اور پسندیدہ تھی۔“

🌺 يَا رَبِّ صَلِّ وَ سَلِّم دَائِمًا أَبَدًا عَلَى حَبِيبِكَ خَيرِ الْخَلْقِ كُلِّهِمِ 🌺

••⊰❉⊱•═•⊰❉⊱•═•⊰❉⊱═•⊰❉⊱••

📚 حوالہ دیکھنے کے لئے📚
👇
http://al-islaam.co.za/?p=6799&lang=ur
┄┅─═══════─┅┄
🌐 الإسلام بروڈ کاسٹ

اگر آپ مختصر علمى مسائل يا دينى مضامين واٹس ايپ پر حاصل کرنا چاہتے ہیں تو اس نمبر کو اپنے فون ميں محفوظ کر ليں او لکھ کر ہمیں بتا ديں۔

📱https://wa.me/+27631823770
┄┅─═══════─┅┄
🌐 الإسلام ٹیلیگرام چینل
👇
https://t.me/AlislaamUrdu
•°•° Al-Islaam.co.za-301 •°•°
•┄┅❂❀❖❖❀❂┅┈•

مسائلِ متفرّقہ

❁ جنازہ اٹھانے کا طریقہ

(۱) میّت کو مندرجہ ذیل طریقہ کے مطابق اٹھانا مستحب ہے:

(الف) سب سے پہلے میّت کی چارپائی کے اگلے حصّہ کے بائیں پیر کو اٹھا کر اپنے دائیں کندھے پر رکھے اور اس کے ساتھ کم سے کم دس قدم چلے۔

(ب) میّت کی چارپائی کے پچھلے حصّہ کے بائیں پیر کو اٹھائے اور اپنے دائیں کندھے پر رکھے پھر اس کے ساتھ کم سے کم دس قدم چلے۔

(ج) میّت کی چارپائی کے اگلے حصّہ کے دائیں پیر کو اٹھائے اور اپنے بائیں کندھے پر رکھے پھر اس کے ساتھ کم از کم دس قدم چلے۔

(د) آخر میں میّت کی چارپائی کے پچھلے حصّہ کے دائیں پیر کو اٹھائے اور اپنے بائیں کندھے پر رکھے پھر اس کے ساتھ کم از کم دس قدم چلے۔

اس طریقہ پر عمل کرنے سے میّت کو چالیس قدم اٹھا کر چلنا ہوگا؛ لیکن اگر بھیڑ کی وجہ سے ایسا ممکن نہ ہو، تو جتنی دیر کے لیے جنازہ کے ساتھ چلنا ممکن ہو سکے آپ میّت کی چارپائی کو اٹھا کر چلے۔

(۲) جنازہ کو تیزی سے لے کر چلنا مسنون ہے؛ لیکن دوڑنا نہیں چاہیئے اور نہ ہی اتنا زیادہ تیز چلنا چاہیئے کہ میّت کا جسم ایک طرف سے دوسری طرف ہلنے لگے۔

(۳) جو لوگ جنازے کے ساتھ چلتے ہیں، ان کے لیے جنازہ کو زمین پر رکھنے سے پہلے بیٹھنا مکروہ ہے؛ لیکن اگر کوئی کسی وجہ سے معذور ہو (مثلاً: بیماری یا بڑھاپے کی وجہ سے معذور ہو)، تو اس کے لیے بیٹھنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
(جاری ہے)

••⊰❉⊱•═•⊰❉⊱•═•⊰❉⊱═•⊰❉⊱••

📚حوالہ دیکھنے کے لئے📚
👇
http://al-islaam.co.za/?p=6808&lang=ur
┄┅─═══════─┅┄
🌐 الإسلام بروڈ کاسٹ

اگر آپ مختصر علمى مسائل يا دينى مضامين واٹس ايپ پر حاصل کرنا چاہتے ہیں تو اس نمبر کو اپنے فون ميں محفوظ کر ليں او لکھ کر ہمیں بتا ديں۔

📱https://wa.me/+27631823770
┄┅─═══════─┅┄
🌐 الإسلام ٹیلیگرام چینل
👇
https://t.me/AlislaamUrdu
•°•° Al-Islaam.co.za-302 •°•°
•┄┅❂❀❖❖❀❂┅┈•

🕌 مسجد کی سنتیں اور آداب

(۱) مسجد میں کسی آدمی کو اس کی جگہ سے اٹھانا تاکہ اس کی جگہ دوسرا آدمی بیٹھے، جائز نہیں ہے۔

عن ابن عمر عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه نهى أن يقام الرجل من مجلسه ويجلس فيه آخر ولكن تفسحوا وتوسعوا (صحيح البخاري رقم ٦۲۷٠)

حضرت عبد الله بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ کسی آدمی کو (مسجد میں) اس کی جگہ سے اٹھایا جائے اور دوسرا شخص اس کی جگہ پر بیٹھے۔ بلکہ (لوگوں کو کہنا چاہیئے کہ) بیٹھنے کے لیے گنجائش نکالیے (آنے والوں کو بیٹھنے کی جگہ دیں)۔

(۲) مسجد میں انگلیاں مت چٹخاؤ اور انگلیوں کو ایک دوسرے میں مت داخل کرو۔

عن مولى لأبي سعيد الخدري قال بينا أنا مع أبي سعيد وهو مع رسول الله صلى الله عليه وسلم إذ دخلنا المسجد فإذا رجل جالس في وسط المسجد محتبيا مشبكا أصابعه بعضها في بعض فأشار إليه رسول الله صلى الله عليه وسلم فلم يفطن الرجل لإشارة رسول الله صلى الله عليه وسلم فالتفت إلى أبي سعيد فقال إذا كان أحدكم في المسجد فلا يشبكن فإن التشبيك من الشيطان وإن أحدكم لا يزال في صلاة ما كان في المسجد حتى يخرج منه (مجمع الزوائد رقم ۲٠٤۷، الترغيب والترهيب رقم ٤۵٠)

حضرت ابو سعید خدری رضی الله عنہ کا غلام فرماتا ہے کہ میں ایک مرتبہ حضرت ابو سعید خدری رضی الله عنہ کے ساتھ تھا اور وہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ ہم لوگ مسجد میں داخل ہوئے، تو (ہم نے دیکھا کہ) ایک شخص مسجد کے بیچ میں اکڑوں بیٹھا ہوا تھا اور اپنی انگلیوں کو ایک دوسرے میں داخل کر کے بیٹھا ہے، تو رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے اس آدمی کی طرف اشارہ کیا؛ لیکن اس نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے اشارہ کو نہیں سمجھا۔ تو آپ صلی الله علیہ وسلم حضرت ابو سعید خدری رضی الله عنہ کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی مسجد میں ہو، تو ہرگز تشبیک نہ کرے (انگلیوں کو انگلیوں میں داخل نہ کرے) کیوں کہ تشبیک شیطان کی طرف سے ہے (نیز آپ نے فرمایا کہ) بے شک تم میں سے کوئی شخص جب تک مسجد میں رہتا ہے، تو برابر وہ نماز میں رہتا ہے (یعنی اس کو نماز کا ثواب ملتا رہتا ہے) تا آں کہ وہ مسجد سے نکل جائے۔

(جاری ہے)

••⊰❉⊱•═•⊰❉⊱•═•⊰❉⊱═•⊰❉⊱••

📚حوالہ دیکھنے کے لئے
👇
http://al-islaam.co.za/?p=6484&lang=ur
┄┅─═══════─┅┄
🌐 الإسلام بروڈ کاسٹ

اگر آپ مختصر علمى مسائل يا دينى مضامين واٹس ايپ پر حاصل کرنا چاہتے ہیں تو اس نمبر کو اپنے فون ميں محفوظ کر ليں اور لکھ کر ہمیں بتا ديں۔

📱 https://wa.me/+27631823770
┄┅─═══════─┅┄
🌐 الإسلام ٹیلیگرام چینل
👇
https://t.me/AlislaamUrdu
•°•° Al-Islaam.co.za-303 •°•°
•┄┅❂❀❖❖❀❂┅┈•

🌹نکاح میں کفو (برابری)🌹

اگر لڑکا اور لڑکی دونوں کے والد اور دادا مسلمان ہوں، تو اس صورت میں لڑکا اور لڑکی کے درمیان مندرجہ ذیل امور میں کفاءت کا اعتبار کیا جائےگا۔

(۱) دین داری : دین داری میں برابری کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص متّبع شریعت نہ ہو اور بے حیائی کے کاموں اور گناہوں میں مبتلا ہو، وہ کسی پاک دامن، نیک سیرت اور دین دار خاتون کے لیے کفو نہیں ہوگا۔

(۲) سماجی حیثیت میں برابری : سماجی حیثیت میں مساوات اور برابری کی بنیاد پیشے پر ہے؛ لہذا اگر لڑکے کا پیشہ لڑکی کے خاندان کے پیشے کی طرح باوقار نہ ہو، تو وہ لڑکا اس لڑکی کے لیے موزوں نہیں ہوگا؛ مثلا اگر لڑکی جوہری (سُنار ) کے خاندان سے ہو اور لڑکا جاروب کش ہو یا معمولی درجہ کا مزدور ہو، تو وہ مرتبہ کے لحاظ سے اس لڑکی کا کفو اور برابر نہیں ہوگا۔

(۳) مالداری : مالداری میں برابری کا مطلب یہ ہے کہ ایک مفلس و مسکین لڑکا مال دار لڑکی کے ہم پلہ نہیں ہوگا۔ البتہ اگر لڑکا مال دار لڑکی کو مہر اور ماہانہ نان و نفقہ دے سکتا ہو، تو وہ اس لڑکی کے لیے مناسب جوڑا شمار کیا جائےگا، اگر چہ وہ لڑکی کی طرح اتنا مال دار نہ ہو۔

(٤) حسب و نسب : حسب و نسب میں برابری کا اعتبار صرف عرب خاندانوں میں ہے، چناں چہ اگر کوئی لڑکی عرب خاندان سے ہوں، تو نسب میں بھی مساوات کا لحاظ رکھا جائےگا اور ایسی لڑکی کا کفو عرب لڑکا ہوگا؛ لہذا اگر لڑکا عجمی ہے، تو وہ کسی عربی لڑکی کے لیے کفو نہیں ہوگا۔ جہاں تک غیر عربوں (عجمیوں) کا معاملہ ہے، تو ان کے درمیان نسبی مساوات کا لحاظ نہیں کیا جائےگا۔

(۵) آزادی : آزادی میں برابری کا اعتبار کیا جائےگا؛ لہذا ایک لڑکا جو مملوک اور غلام ہو، کسی آزاد لڑکی کے لیے مناسب جوڑا نہیں شمار کیا جائےگا۔

نوٹ : اگر لڑکا لڑکی کے مساوی اور برابر نہ ہو (سماجی اور معاشرتی حیثیت میں لڑکا لڑکی سے کم تر ہو یا یہ کہ لڑکی عرب خاندان سے ہو یا سیّدہ ہو اور لڑکا عجمی ہو)؛ مگر لڑکا دین دار، متّبع شریعت اور اچھے اخلاق و کِردار کا مالک ہو اور لڑکی اس سے شادی کرنے کے لیے راضی ہو اور لڑکی کے والدین بھی لڑکے کے صلاح اور اعلیٰ اخلاق، عالی کردار اور تقویٰ و دین داری سے خوش ہو، تو اس صورت ميں باوجود یہ کہ لڑکا لڑکی کا کفو نہیں ہے لڑکی کے ماں باپ کے لیے جائز ہے کہ وہ اپنی لڑکی کا نکاح اس سے کرائے۔

•┄┅❂❀❖❖❀❂┅┈•

📚 حوالہ دیکھنے کے لیے
👇
http://al-islaam.co.za/?p=6896&lang=ur
〰️〰️〰️〰️〰️〰️〰️〰️
🌐 الإسلام بروڈ کاسٹ

اگر آپ مختصر علمى مسائل يا دينى مضامين واٹس ايپ پر حاصل کرنا چاہتے ہیں تو اس نمبر کو اپنے فون ميں محفوظ کر ليں اور لکھ کر ہمیں بتا ديں۔

📱 https://wa.me/+27631823770
〰️〰️〰️〰️〰️〰️〰️〰️
🌐 الإسلام ٹیلیگرام چینل
👇
https://t.me/AlislaamUrdu
━━━━━━⊱✿⊰━━━━━━
•°•° Al-Islaam.co.za-304 •°•°
•┄┅❂❀❖❖❀❂┅┈•

✳️ سورۃ العلق کی تفسیر

کَلَّاۤ اِنَّ الۡاِنۡسَانَ لَیَطۡغٰۤی ۙ﴿٦﴾ اَنۡ رَّاٰہُ اسۡتَغۡنٰی﴿ؕ۷﴾

سَچ مُچ بے شک آدمی حد سے نکل جاتا ہے﴿٦﴾ اس وجہ سے کہ وہ اپنے کو مستغنی (بے نیاز) دیکھتا ہے﴿۷﴾

الله سبحانہ و تعالیٰ نے انسان کو بہت سی صلاحیتیں اور قوّتیں عطا فرمائی، جن کے ذریعہ وہ علم و فہم حاصل کرتا ہے؛ لیکن انسان الله تعالیٰ کو اور الله تعالیٰ کی ساری نعمتوں کو بھول جاتا ہے اور وہ اپنی کامیابی اور ترقّی اپنی محنت اور مجاہدہ کا نتیجہ سمجھتا ہے۔ جب انسان الله تعالیٰ سے پورے طور پر غافل ہو جاتا ہے۔ تو اس کا نتیجہ یہ ہے کہ وہ اپنے نفس کا غلام بن جاتا ہے اور الله تعالیٰ کی معصیت و نافرمانی میں زندگی گزارتا ہے اور بالآخر وہ شریعت کے تمام حدود و قیود سے آگے نکل جاتاہے۔

اس آیتِ کریمہ میں الله تعالیٰ بیان فرما رہے ہیں کہ انسان کی طغیانی، سرکشی اور احکامِ الٰہی سے روگردانی کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو مستغنی اور بے نیاز سمجھتا ہے۔ وہ اس غلط زعم میں مبتلا ہو جاتا ہے کہ جب اس کے پاس طاقت اور قوّت ہے اور وہ مال و دولت کا مالک ہے، تو وہ کسی کا محتاج نہیں ہے اور اسے کسی کی بات سننے کی ضرورت نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جب تک انسان اپنی ضعف و کمزوری کو یاد رکھے کہ کیسے الله تعالیٰ نے اس کو ناپاک خون کے لوتھڑے سے پیدا فرمایا (اور پوری زندگی اس پر فضل و کرم فرمایا،) تو وہ صراطِ مستقیم اور سیدھے راستہ پر قائم رہےگا۔

اس آیتِ کریمہ میں جس شخص کا تذکرہ کیا گیا ہے وہ ابو جہل ہے، جو اپنے کو مستغنی سمجھتا تھا اور تمام حدود سے آگے بڑھ چکا تھا۔ اگر چہ الله تعالیٰ نے اس کو عزّت و شرافت، مال و دولت اور شہرت اور تمام نعمتیں عطا کی تھیں؛ لیکن اس کے باوجود اس نے الله تعالیٰ کی نافرمانی کی اور اپنی تمام صلاحیتوں اور نعمتوں کو اپنا ذاتی کمال سمجھا اور باوجود یہ کہ وہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کے خاندان سے تھا، اس نے آپ صلی الله علیہ وسلم کی نبوّت کا انکار کیا اور دن و رات اسلام کے خلاف سازش کی۔ اس کے سامنے نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کا نبی برحق ہونا بالکل واضح تھا؛ لیکن اس نے صرف انانیت اور تکبّر کی وجہ سے آپ کی رسالت کو تسلیم نہیں کیا اور حد سے نکل گیا۔

اِنَّ اِلٰی رَبِّکَ الرُّجۡعٰی ؕ﴿۸﴾

(اے مخاطب) بے شک تیرے رب ہی کی طرف سب کا لوٹنا ہوگا ﴿۸﴾

اس آیتِ کریمہ میں الله تعالیٰ انسان کو مخاطب کر کے فرما رہے ہیں کہ ایک دن تمہیں ضرور مرنا ہے اور تمہیں الله تبارک و تعالیٰ کے پاس ضرور واپس جانا ہے یعنی تمہیں اس دنیوی زندگی کو چھوڑ کر ہمیشہ کے لیے باقی رہنے والی آخرت کی زندگی کی طرف جانا ہے، جہاں تمہیں اپنے اعمال کا حساب دینا پڑےگا؛ لہذا اخروی زندگی کو ذہن میں رکھو؛ کیوں کہ انسان جب اخروی زندگی کو ذہن میں رکھتا ہے، اس کے ليے محنت کرتا ہے اور وہاں کے حساب کتاب سے ڈرتے ہوئے اس دارِ فانی میں زندگی بسر کرتا ہے، تو وہ ہمیشہ صحیح راہ پر قائم رہےگا۔
(جاری ہے)

•┄┅❂❀❖❖❀❂┅┈•

📚 پوری تفسیر پڑھنے کے لیے
👇
http://in.alislaam.com/?p=6917&lang=ur
〰️〰️〰️〰️〰️〰️〰️〰️
🌐 الإسلام بروڈ کاسٹ

اگر آپ مختصر علمى مسائل يا دينى مضامين واٹس ايپ پر حاصل کرنا چاہتے ہیں تو اس نمبر کو اپنے فون ميں محفوظ کر ليں اور لکھ کر ہمیں بتا ديں۔

📱 https://wa.me/+27631823770
〰️〰️〰️〰️〰️〰️〰️〰️
🌐 الإسلام ٹیلیگرام چینل
👇
https://t.me/AlislaamUrdu
•°•° Al-Islaam.co.za-305 •°•°
•┄┅❂❀❖❖❀❂┅┈•

حالتِ مصیبت کے احکام

حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ الله نے ایک مرتبہ ارشاد فرمایا:

حالتِ مصیبت کے احکام حسبِ ذیل ہیں :

(۱) فرمایا کہ حالتِ مصیبت میں ابتلا ہو تو صبر کیا جاوے کہ مومن کی یہی شان ہے۔چنانچہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

إن أصابته سراء شكر، فكان خيرا له، وإن أصابته ضراء، صبر فكان خيرا له

”مومن کی عجیب حالت ہے کہ اگر اس کو کوئی خوشی پہنچتی ہے شکر کرتا ہے اور اگر مصیبت پہنچتی ہے صبر کرتا ہے تو دونوں حالتوں میں نفع رہا۔“

(۲) فرمایا کہ خدا کی رحمت سے مصیبت میں مایوس نہ ہو ؛بلکہ فضل و کرمِ الٰہی کا امید وار رہے، کیونکہ اسباب سے فوق بھی تو کوئی چیز ہے تو یاس کی بات وہ کہے جس کا ایمان تقدیر پر نہ ہو۔ اہلِ دین کا طریقہ تو رضا بقضا ہے۔

(۳) مصیبت کی وجہ سے دوسرے احکامِ شرعیہ میں کوتاہی نہ کرے۔

(٤) خدا سے اس مشکل کے آسان کردینے کی دعا کرتے رہے اور تدابیر میں مشغول رہے؛ مگر تدبیر کو کارگر نہ سمجھے (اور دعا کا حکم اس لیے ہے کہ تدبیر میں بغیر دعا کے برکت نہیں ہوتی)۔

(۵) استغفار کرتے رہو یعنی اپنے گناہوں سے معافی چاہو۔

(٦) اگر مصیبت ہمارے کسی بھائی مسلمان پر نازل ہو تو اس کو اپنے اوپر نازل سمجھا جاوے اس کے لیے ویسی ہی تدبیر کی جائے جیساکہ اگر اپنے اوپر مصیبت نازل ہوتی تو اس وقت خود کرتے۔


•┄┅❂❀❖❖❀❂┅┈•

📚 حوالہ دیکھنے کے لئے
👇
http://in.alislaam.com/?p=6957&lang=ur
〰️〰️〰️〰️〰️〰️〰️〰️
🌍 الإسلام بروڈ کاسٹ

اگر آپ مختصر علمى مسائل يا دينى مضامين واٹس ايپ پر حاصل کرنا چاہتے ہیں تو اس نمبر کو اپنے فون ميں محفوظ کر ليں اور لکھ کر ہمیں بتا ديں۔

📱 https://wa.me/+27631823770
〰️〰️〰️〰️〰️〰️〰️〰️
🌍 الإسلام ٹیلیگرام چینل
👇
https://t.me/AlislaamUrdu
•°•° Al-Islaam.co.za-306 •°•°
•┄┅❂❀❖❖❀❂┅┈•

🌸 درود شریف پڑھنے والوں کے لیے مغفرت کی دُعا

عن عمر بن الخطاب رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: أكثروا الصلاة علي في الليلة الزهراء واليوم الأزهر فإن صلاتكم تعرض علي فأدعو لكم وأستغفر (القربة لابن بشكوال، الرقم: ١٠٧، وسنده ضعيف كما في المقاصد الحسنة، الرقم: ١٤٨)

حضرت عمر بن خطاب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ”روشن رات اور روشن دن میں (جمعہ کی رات اور جمعہ کے دن) مجھ پر خوب درود بھیجا کرو، کیوں کہ تمہارا درود میرے سامنے پیش کیا جاتا ہے پھر میں تمہارے لیے الله تعالیٰ سے تمہارے گناہوں کی مغفرت کی دُعا کرتا ہوں۔“

🌸 سونے سے پہلے درود شریف پڑھنا

حضرت محمد بن سعید بن مُطرِّف رضی الله عنہ ایک نیک اور متّقی شخص تھے انہوں نے اپنا واقعہ بیان کیا کہ

میرا معمول تھا کہ میں ہر رات بستر پر لیٹنے سے پہلے ایک خاص تعداد میں درود شریف پڑھا کرتا تھا۔

ایک رات میں اپنے کمرے میں تھا۔ میں نے دورد شریف پڑھنے کا معمول پورا کیا اور لیٹ گیا۔ جوں ہی مجھے نیند آئی، میں نے ایک خواب دیکھا کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم میرے کمرے میں داخل ہوئے اور آپ کی روشنی سے پورا کمرہ روشن ہو گیا۔

پھر رسول الله صلی الله علیہ وسلم میری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا : "اپنا منھ میرے قریب لاؤ، جس سے تم بکثرت مجھ پر درود بھیجتے ہو؛ تاکہ میں اس کا بوسہ لوں۔" مجھے شرم محسوس ہوئی کہ میں اپنا منھ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کے سامنے کروں، لہذا میں نے اپنا رخسار آپ کے قریب کر دیا۔ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے اپنا مبارک منھ میرے رخسار پر رکھا اور اس کو چوما۔

اس کے بعد میں فوراً خوشی خوشی بیدار ہوا اور اپنی اہلیہ کو بھی بیدار کیا جو میرے قریب سو رہی تھی۔ بیدار ہونے کے بعد ہم نے اپنا پورا کمرہ مشک کی خوشبو سے مُعطّر پایا؛ کیونکہ اس کمرے میں نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کے جسدِ اطہر کی خوشبو بس گئی تھی۔ نیز میرے رخسار پر آٹھ دنوں تک مشک کی وہ خوشبو باقی رہی، جو نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کے بوسہ لینے سے پیدا ہوئی تھی۔ آٹھ دنوں تک ہر دن میری اہلیہ میرے رخسار پر مشک کی خوشبو محسوس کرتی رہیں۔

🌺 يَا رَبِّ صَلِّ وَ سَلِّم دَائِمًا أَبَدًا عَلَى حَبِيبِكَ خَيرِ الْخَلْقِ كُلِّهِمِ 🌺

••⊰❉⊱•═•⊰❉⊱•═•⊰❉⊱═•⊰❉⊱••

📚 حوالہ دیکھنے کے لئے
👇
http://in.alislaam.com/?p=6978&lang=ur
┄┅─═══════─┅┄
🌐 الإسلام بروڈ کاسٹ

اگر آپ مختصر علمى مسائل يا دينى مضامين واٹس ايپ پر حاصل کرنا چاہتے ہیں تو اس نمبر کو اپنے فون ميں محفوظ کر ليں او لکھ کر ہمیں بتا ديں۔

📱https://wa.me/+27631823770
┄┅─═══════─┅┄
🌐 الإسلام ٹیلیگرام چینل
👇
https://t.me/AlislaamUrdu
•°•° Al-Islaam.co.za-307 •°•°
•┄┅❂❀❖❖❀❂┅┈•

مسائلِ متفرّقہ

❁ جنازہ اٹھانے کا طریقہ

(۱) اگر جنازہ لوگوں کے سامنے سے گزر جائے، تو جنازے کو دیکھ کر لوگوں کو کھڑا نہیں ہونا چاہیئے۔ آغازِ اسلام میں صحابۂ کرام رضی الله عنہم کو حکم دیا گیا تھا کہ وہ جنازے کو دیکھ کر کھڑے ہو جائیں؛ لیکن یہ حکم بعد میں منسوخ ہو گیا تھا۔

(۲) جب لوگ جنازے کے ساتھ چلیں، تو جنازے کے پیچھے چلنا مستحب اور زیادہ ثواب کے باعث ہے بنسبت جنازے کے آگے چلنے سے۔ اگر چہ جنازے کے آگے چلنا بھی جائز ہے۔ البتہ اگر سارے لوگ جنازے کے آگے چلیں اور جنازے کو اپنے پیچھے چھوڑیں، تو یہ مکروہ ہوگا۔

(٣) جنازے کے ساتھ چلنے والوں کے لیے مستحب یہ ہے کہ وہ قبرستان پیدل جائیں؛ لیکن اگر کوئی معقول عذر ہو تو سواری سے جانا بھی جائز ہے (مثلاً: قبرستان دور ہو یا کوئی بیمار ہو یا کوئی بوڑھا ہو)۔ اگر لوگ جنازے کو قبرستان پیدل لے کر جاویں، تو جو لوگ سواری سے جانے والے ہیں ان کو جنازے کے پیچھے چلنا چاہیئے۔ ان کے لیے جنازے سے آگے بڑھنا مکروہ ہے۔

(٤) جنازے کے ساتھ چلنے والوں کے لیے بلند آواز سے دعا کرنا یا ذکر کرنا مکروہ ہے؛ لیکن ان کے لیے بہتر یہ ہے کہ خاموش رہیں یا آہستہ آہستہ دل میں الله تعالیٰ کا ذکر کریں۔

(٥) جنازے کے ساتھ چلنے والے دنیوی بات چیت یا ہنسی مذاق سے اجتناب کریں۔

••⊰❉⊱•═•⊰❉⊱•═•⊰❉⊱═•⊰❉⊱••

📚حوالہ دیکھنے کے لئے

👇
http://in.alislaam.com/?p=6993&lang=ur
┄┅─═══════─┅┄
🌐 الإسلام بروڈ کاسٹ

اگر آپ مختصر علمى مسائل يا دينى مضامين واٹس ايپ پر حاصل کرنا چاہتے ہیں تو اس نمبر کو اپنے فون ميں محفوظ کر ليں او لکھ کر ہمیں بتا ديں۔

📱https://wa.me/+27631823770
┄┅─═══════─┅┄
🌐 الإسلام ٹیلیگرام چینل
👇
https://t.me/AlislaamUrdu
•°•° Al-Islaam.co.za-308 •°•°
•┄┅❂❀❖❖❀❂┅┈•

🕌 مسجد کی سنتیں اور آداب

(۱) مسجد میں گندگی پھیلانا ممنوع ہے۔ مثال کے طور پر مسجد میں تھوکنا، ناک صاف کرنا اور مسجد کے فرش پر گندی چیزیں ڈالنا یہ سب ممنوع ہیں۔

عن أبي ذر رضي الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم عرضت علي أعمال أمتي حسنها وسيئها فوجدت في محاسن أعمالها الأذى يماط عن الطريق ووجدت في مساوئ أعمالها النخاعة تكون في المسجد لا تدفن (صحيح مسلم رقم ۵۵۳)

حضرت ابو ذر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ”میرے سامنے میری امت کے اچھے اور برے دونوں قسم کے اعمال پیش کیے گئے، تو میں نے ان کے اچھے اعمال میں ایک یہ عمل پایا کہ راستہ سے کسی تکلیف دہ چیز کا ہٹا دینا اور برے اعمال میں ایک یہ عمل پایا کہ مسجد میں ناک صاف کرنا اور اس کو (ناک کی ریزش کو) دفن نہ کرنا۔“

عن أنس قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم البزاق في المسجد خطيئة وكفارتها دفنها (صحيح البخاري رقم ٤۱۵)

حضرت انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ”مسجد میں تھوکنا گناہ ہے اور اس کا کفارہ یہ ہے کہ اس کو (تھوک کو) گاڑ دیا جائے (حضور صلی الله علیہ وسلم کے زمانہ میں مسجد کا حال یہ تھا کہ لوگ مٹی پر نماز پڑھتے تھے اس وجہ سے آپ صلی الله علیہ وسلم نے یہ حکم دیا۔ آجکل مساجد میں قالین اور چٹائی بچھی ہوئی ہیں؛ لہذا یہ حکم متعلق نہیں ہے)۔“

(۲) مسجد میں سکون و وقار کے ساتھ رہیئے اور مسجد کی عظمت و حرمت اور اس کے آداب سے غفلت مت برتیئے۔ بعض لوگ نماز کے انتظار میں اپنے کپڑوں یا موبائل فون سے کھیلتے ہیں۔ یہ مسجد کی عظمت و حرمت کے خلاف ہے۔

(جاری ہے)

••⊰❉⊱•═•⊰❉⊱•═•⊰❉⊱═•⊰❉⊱••

📚حوالہ دیکھنے کے لئے
👇
http://in.alislaam.com/?p=7016&lang=ur
┄┅─═══════─┅┄
🌐 الإسلام بروڈ کاسٹ

اگر آپ مختصر علمى مسائل يا دينى مضامين واٹس ايپ پر حاصل کرنا چاہتے ہیں تو اس نمبر کو اپنے فون ميں محفوظ کر ليں اور لکھ کر ہمیں بتا ديں۔

📱 https://wa.me/+27631823770
┄┅─═══════─┅┄
🌐 الإسلام ٹیلیگرام چینل
👇
https://t.me/AlislaamUrdu
•°•° Al-Islaam.co.za-309 •°•°
•┄┅❂❀❖❖❀❂┅┈•

تبلیغِ دین میں محنت

حضرت مولانا محمد الیاس صاحب رحمہ الله نے ایک مرتبہ ارشاد فرمایا:

”سیّدنا رسول الله صلی الله علیہ وسلم ابتدائے اسلام کے زمانہ میں (جب دین ضعیف تھا اور دنیا قوی تھی) بے طلب لوگوں کے گھر جا جا کر ان کی مجلس میں بلا طلب پہنچ کر دعوت دیتے تھے، طلب کے منتظر نہیں رہے۔ بعض مقامات پر حضرات صحابہ رضی الله تعالیٰ عنہم کو از خود بھیجا ہے کہ فلاں جگہ تبلیغ کرو۔ اِس وقت (امّت میں) وہی ضعف کی حالت ہے تو اب ہم کو بھی بے طلب لوگوں کے پاس خود جانا چاہیئے۔“


•┄┅❂❀❖❖❀❂┅┈•

📚 حوالہ دیکھنے کے لئے
👇
http://in.alislaam.com/?p=7030&lang=ur
〰️〰️〰️〰️〰️〰️〰️〰️
🌍 الإسلام بروڈ کاسٹ

اگر آپ مختصر علمى مسائل يا دينى مضامين واٹس ايپ پر حاصل کرنا چاہتے ہیں تو اس نمبر کو اپنے فون ميں محفوظ کر ليں اور لکھ کر ہمیں بتا ديں۔

📱 https://wa.me/+27631823770
〰️〰️〰️〰️〰️〰️〰️〰️
🌍 الإسلام ٹیلیگرام چینل
👇
https://t.me/AlislaamUrdu
•°•° Al-Islaam.co.za-310 •°•°
•┄┅❂❀❖❖❀❂┅┈•

✳️ سورۃ العلق کی تفسیر

اَرَءَیۡتَ الَّذِیۡ یَنۡهٰی ۙ﴿۹﴾ عَبۡدًا اِذَا صَلّٰی ﴿ؕ۱۰﴾

(اے مخاطب) بھلا یہ تو بتلا، جو شخص (ابو جہل) ایک بندہ (حضرت محمد صلی الله علیہ وسلم) کو منع کرتا ہے، جب وہ نماز پڑھتا ہے﴿۹﴾﴿۱۰﴾

اس آیتِ کریمہ میں الله تعالیٰ ابو جہل کے ایک انتہائی بُرے عمل کو بیان کر رہے ہیں۔ ابو جہل کی یہ عادت تھی کہ جب بھی وہ رسولِ کریم صلی الله علیہ وسلم کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھتا، تو وہ آگ بگولہ ہو جاتا اور آپ صلی الله علیہ وسلم کو نماز سے روکنے کی کوشش کرتا تھا۔

ایک مرتبہ ابو جہل نے نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کو حرم شریف میں نماز پڑھتے دیکھا، تو بہت غصہ ہوا اور آپ صلی الله علیہ وسلم سے کہنے لگا کہ کیا میں نے تم کو نماز پڑھنے سے منع نہیں کیا تھا؟ پھر اس نے آپ صلی الله علیہ وسلم کو دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ اگر میں نے تم کو دوبارہ نماز پڑھتے دیکھا، تو (نعوذ بالله) میں تمہاری گردن کو اپنے پاؤں سے کُچل دوں گا۔

اس آیتِ کریمہ میں الله تعالیٰ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کو یقین دلا رہے ہیں کہ الله تعالیٰ ہرگز ابو جہل کو آپ تک پہونچنے نہیں دےگا اور اس کے بُرے ارادے میں ہرگز اس کو کامیاب نہیں کرےگا، کیوں کہ آپ ہر وقت الله تعالیٰ کی حفاظت میں ہیں۔

اَرَءَیۡتَ اِنۡ کَانَ عَلَی الۡهُدٰۤی ﴿ۙ۱۱﴾ اَوۡ اَمَرَ بِالتَّقۡوٰی ﴿ؕ۱۲﴾ اَرَءَیۡتَ اِنۡ کَذَّبَ وَ تَوَلّٰی ﴿ؕ۱۳﴾ اَلَمۡ یَعۡلَمۡ بِاَنَّ اللّٰهَ یَرٰی ﴿ؕ١٤﴾

(اے مخاطب) بھلا یہ تو بتلا کہ اگر وہ بندہ(محمد صلی الله علیہ وسلم) ہدایت پر ہو ﴿۱۱﴾ یا وہ تقویٰ کی تعلیم دیتا ہو ﴿۱۲﴾ (اے مخاطب) بھلا یہ تو بتلا کہ اگر وہ شخص(ابو جہل) جھٹلاتا ہو اور روگردانی کرتا ہو ﴿۱۳﴾ کیا اس شخص کو یہ خبر نہیں کہ اللہ تعالیٰ دیکھ رہا ہے ﴿١٤﴾


اس آیتِ شریفہ میں الله تعالیٰ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کی تعریف فرما رہے ہیں اور واضح طور پر بیان کر رہے ہیں کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کامل رُشدو ہدایت کے راستہ پر ہیں اور لوگوں کو اچھائی اور تقوٰی کا حکم دیتے رہتے ہیں۔ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کی تعریف کرنے کے بعد الله سبحانہ وتعالیٰ نے ابو جہل کی سرکشی اور روگردانی کو بیان کیا ہے کہ یہ (ابو جہل) حق کو جھٹلا رہا ہے، اور دینِ اسلام سے مُنھ موڑ رہا ہے اور نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کو الله تعالیٰ کی عبادت سے روک رہا ہے۔

الله تعالیٰ فرما رہے ہیں اَلَمۡ یَعۡلَمۡ بِاَنَّ اللّٰهَ یَرٰی ”کیا اس شخص کو خبر نہیں کہ الله تعالیٰ دیکھ رہا ہے؟“ اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ الله تعالیٰ ابو جھل کو اس کے کفر اور نافرمانی کے بدلے نہایت درد ناک سزا دیں گے۔
(جاری ہے)

•┄┅❂❀❖❖❀❂┅┈•

📚 پوری تفسیر پڑھنے کے لیے
👇
http://in.alislaam.com/?p=7049&lang=ur
〰️〰️〰️〰️〰️〰️〰️〰️
🌐 الإسلام بروڈ کاسٹ

اگر آپ مختصر علمى مسائل يا دينى مضامين واٹس ايپ پر حاصل کرنا چاہتے ہیں تو اس نمبر کو اپنے فون ميں محفوظ کر ليں اور لکھ کر ہمیں بتا ديں۔

📱 https://wa.me/+27631823770
〰️〰️〰️〰️〰️〰️〰️〰️
🌐 الإسلام ٹیلیگرام چینل
👇
https://t.me/AlislaamUrdu
•°•° Al-Islaam.co.za-311 •°•°
•┄┅❂❀❖❖❀❂┅┈•

🌹باغِ محبّت🌹

اسلام کس چیز کی دعوت دیتا ہے؟

رسولِ کریم صلی الله علیہ وسلم کے مبارک دور میں جب لوگ مشرّف باسلام ہونے لگے اور مختلف علاقوں میں اشاعتِ اسلام کی خبر پہونچنے لگی، تو بنو تمیم کے سردار اکثم بن صیفی رحمہ الله کے دل میں اسلام کے بارے میں جاننے کا شوق پیدا ہوا، چناں چہ انہوں نے اپنے قبیلے کے دو آدمیوں کو منتخب کر کے مدینہ منوّرہ بھیجا؛ تاکہ وہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم اور ان کے دینِ اسلام کے بارے میں تحقیق کر کے انہیں صورتِ حال سے مطلع کریں۔

یہ دونوں قاصد نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنے سفر کا مقصد بیان کیا۔ اس کے بعد انہوں نے رسولِ کریم صلی الله علیہ وسلم کے سامنے اپنے سردار کے دونوں سوالوں کو پیش کیا۔ انہوں نے پوچھا: آپ کون ہیں؟ اور آپ کس چیز کی دعوت دیتے ہیں؟

نبی کریم صلی الله علی وسلم نے جواب دیا: میں محمد بن عبد الله ہوں اور اسلام کی دعوت دیتا ہوں۔ اس کے بعد آپ صلی الله علیہ وسلم نے سورۂ نحل کی یہ آیت تلاوت فرمائی:

اِنَّ اللّٰهَ یَاۡمُرُ بِالۡعَدۡلِ وَ الۡاِحۡسَانِ وَ اِیۡتَآیِٔ ذِی الۡقُرۡبٰی وَ یَنۡهٰی عَنِ الۡفَحۡشَآءِ وَ الۡمُنۡکَرِ وَ الۡبَغۡیِ ۚ یَعِظُکُمۡ لَعَلَّکُمۡ تَذَکَّرُوۡنَ ﴿۹۰﴾

”بے شک الله تعالیٰ عدل (انصاف) اور احسان اور اہلِ قرابت کو دینے کا حکم فرماتے ہیں اور کھلی برائی (بے حیائی) اور مطلق برائی اور ظلم کرنے سے منع فرماتے ہیں الله تعالیٰ تم کو اس لیے نصیحت فرماتے ہیں کہ تم نصیحت قبول کرو۔“

جب ان دونوں قاصدوں نے اس آیتِ کریمہ کو سُنا، تو اس کے جامع معانی سے متأثر ہوئے اور انہوں نے حضور صلی الله علیہ وسلم سے درخواست کی کہ آپ ہمیں یہ آیت پھر سنایئے؛ تاکہ ہم اس کو یاد کر سکیں۔ اس کے بعد دونوں قاصد اکثم بن صیفی کے پاس واپس آئیں اور اپنی ملاقات کی کارگزاری سنائی۔ انہوں نے اپنے سردار اکثم بن صیفی کو بتلایا کہ ہم نے آپ صلی الله علیہ وسلم سے ان کے نسب کے بارے میں پوچھا۔ مگر آپ صلی الله علیہ وسلم نے اس پر زیادہ توجہ نہ دی، صرف اپنا نام اور اپنے والد کا نام بیان کر دینے پر اکتفا کیا، آپنے اپنے عالی نسب کا تذکرہ بالکل نہیں فرمایا، جیسا کہ عام بادشاہوں اور حکمرانوں کا طریقہ ہے۔ مگر جب ہم نے دوسروں سے آپ کے نسب کی تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ آپ صلی الله علیہ وسلم کا نسب مبارک بہت ہی عالی تھا اور آپ شریف خاندان میں سے تھے۔ اس کے بعد دونوں قاصدوں نے اکثم بن صیفی کے سامنے اس آیتِ کریمہ کی تلاوت کی جو آپ صلی الله علیہ وسلم نے ان کے سامنے تلاوت فرمائی تھی۔

آیت سنتے ہی اکثم رحمہ الله نے کہا کہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ شخص مکارمِ اخلاق کی طرف لوگوں کو دعوت دیتے ہیں اور بُرے اور رذیل اخلاق سے روکتے ہیں، پھر اپنی قوم کو خطاب کر کے کہا: تم کو چاہیئے کہ اس آدمی کے دین میں جلدی داخل ہو جاؤ اور دوسروں سے مقدّم اور آگے رہو۔ اس دین میں داخل ہونے میں تم تاخیر نہ کرو؛ یہاں تک کہ تم تمام لوگوں میں سے اخیر والے ہو جاؤ۔ ( اصابۃ، ج۱، ص۱۸۸، ابن کثیر ،ج۲، ص۵۸۳)

حقیقت یہ ہے کہ یہ آیتِ کریمہ ایسی کامل و جامع ہے کہ وہ اسلام کی پوری تعلیمات کو شامل ہے اور اس میں اسلام کی روح کو چند الفاظ میں جذب کردیا گیا ہے۔ اس آیتِ کریمہ میں الله تعالیٰ نے حقوق الله اور حقوق العباد کی ادائیگی کی بڑی تاکید فرمائی ہے اور آپس میں موّدت و محبت اور تقوی و طہارت کے ساتھ زندگی گزارنے کا حکم دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت عبد الله بن مسعود رضی الله عنہ نے اس آیت کریمہ کو قرآنِ پاک کی سب سے جامع آیت قرار دیا ہے۔

اس آیتِ کریمہ کا لُبّ لُباب یہ ہے کہ الله تعالیٰ نے ایمان والوں کو حکم دیا ہے کہ وہ اپنی زندگی میں تین چیزوں کو اختیار کریں اور تین چیزوں سے اجتناب کریں۔ اگر تمام مسلمان اس آیتِ کریمہ کے مقتضیات کے مطابق زندگی گزاریں، تو ان کو اسلام کی اصل روح حاصل ہو جائےگی۔ جن تین چیزوں پر عمل کرنے کا حکم دیا گیا ہے، وہ یہ ہیں:

(۱)عدل (الله تعالیٰ اور مخلوق کے حقوق کو انصاف کے ساتھ ادا کرنا)،
(۲) احسان (لوگوں کے ساتھ حسن سلوک کرنا اور شفقت و محبت کے ساتھ معاملہ کرنا )،
(۳) صلہ رحمی (رشتہ داروں کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا)۔


اور جن تین چیزوں سے منع کیا گیا ہے، وہ یہ ہیں:
(۱) فحش کام سے اجتناب کرنا،
(۲) ہر بُرے کام سے دور رہنا،
(۳) ظلم و تعدّی سے بچنا۔


••⊰❉⊱•═•⊰❉⊱•═•⊰❉⊱═•⊰❉⊱••

📚 حوالہ دیکھنے کے لئے
👇
http://in.alislaam.com/?p=7069&lang=ur
┄┅─═══════─┅┄

🌐 الإسلام بروڈ کاسٹ

اگر آپ مختصر علمى مسائل يا دينى مضامين واٹس ايپ پر حاصل کرنا چاہتے ہیں تو اس نمبر کو اپنے فون ميں محفوظ کر ليں اور لکھ کر ہمیں بتا ديں۔
📱 https://wa.me/+27631823770
┄┅─═══════─┅┄
🌐 الإسلام ٹیلیگرام چینل
👇
https://t.me/AlislaamUrdu
•°•° Al-Islaam.co.za-312 •°•°
•┄┅❂❀❖❖❀❂┅┈•

🌸 جمعہ کے دن درود شریف پڑھنے کی برکت سے دینی اور دنیوی ضرورتوں کی تکمیل

عن أنس بن مالك خادم النبي صلى الله عليه وسلم قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم: إن أقربكم مني ‏يوم القيامة في كل موطن أكثركم علي صلاة في الدنيا من صلى علي في يوم الجمعة وليلة الجمعة قضى الله ‏له مائة حاجة سبعين من حوائج الآخرة وثلاثين من حوائج الدنيا ثم يوكل الله بذلك ملكا يدخله في قبره ‏كما يدخل عليكم الهدايا يخبرني من صلى علي باسمه ونسبه إلى عشيرته فأثبته عندي في صحيفة بيضاء‎ ‌‌‏(شعب الإيمان، الرقم: ۲۷۷۳، وسنده ضعيف كما في القول البديع صـ ۳۲۹)

حضرت انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ”قیامت کے دن ہر مرحلہ میں وہ شخص مجھ سے سب سے زیادہ قریب ہوگا جو دنیا میں مجھ پر سب سے زیادہ درود بھیجتا تھا۔ جو شخص جمعہ کی شب اور جمعہ کے دن مجھ پر درود بھیجتا ہے، الله تعالیٰ اس کی سو (۱۰۰) ضرورتیں پوری کریں گے: ستر (۷۰) ضرورتیں اس کے اُخروی زندگی کے بارے میں اور تیس (۳۰) ضرورتیں اس کے دُنیوی زندگی کے متعلق۔ پھر اس کے درود پڑھنے کے بعد الله تعالیٰ اس درود پر ایک فرشتے کو مقرر کر دیتے ہیں، جو اس کو میرے پاس قبر میں لے کر آتا ہے جس طرح تمہارے پاس تحفے اور ہدایا لائے جاتے ہیں اور فرشتہ درود شریف پڑھنے والے کا نام اور خاندان کی وضاحت کے ساتھ میرے سامنے پیش کرتا ہے۔ پھر میں اس کو (درود کو) ایک سفید کاغذ میں محفوظ کر لیتا ہوں۔“

نوٹ:- امام بیہقی رحمہ الله نے یہ حدیث "قبروں میں انبیائے کرام علیہم السلام کے زندہ رہنے کا بیان" کے تحت ذکر کی ہے۔

🌸 رسول کریم صلی الله علیہ وسلم کے لیے حضرت عثمان رضی الله عنہ کی محبّت

صلح حدیبیہ کے موقع پر نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے حضرت عثمان رضی الله عنہ کو مکہ مکرمہ بھیجا؛ تاکہ وہ مکہ مکرمہ میں قریش سے بات چیت کریں۔ جب حضرت عثمان رضی الله عنہ مکہ مکرمہ روانہ ہوئے، تو بعض صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کہنے لگے کہ حضرت عثمان رضی الله عنہ کو ہم سے پہلے بیت الله کے طواف کا موقع مل گیا۔ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کو جب یہ خبر پہونچی، تو آپ نے فرمایا کہ ”مجھے نہیں لگتا کہ وہ میرے بغیر بیت الله کا طواف کریں گے۔“

جب حضرت عثمان رضی الله عنہ مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے، تو ابان بن سعید نے ان کو اپنی پناہ میں لے لیا اور ان سے کہا: تم جہاں چاہو، آزادی سے گھومو۔ کوئی تمہیں ہاتھ نہیں لگا سکتا۔

حضرت عثمان رضی الله عنہ نے چند دن مکہ مکرمہ میں گزارے اور مکہ مکرمہ کے سرداروں سے ملے: ابو سفیان وغیرہ سے گفتگو کی۔ جب آپ لوٹنے والے تھے، تو قریش نے خود ہی یہ پیش کش کی کہ جب تم مکہ مکرمہ میں آئے ہو، تو لوٹنے سے پہلے خانۂ کعبہ کا طواف کر لو۔ حضرت عثمان رضی الله عنہ نے جواب دیا کہ میں رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے بغیر ہرگز طواف نہیں کروں گا۔

قریش کو یہ جواب بہت ناگوار لگا اور انہوں نے حضرت عثمان رضی الله عنہ کو مکہ مکرمہ میں اپنے پاس روک لیا۔ اُدھر مسلمانوں کو کسی نے خبر دے دی کہ حضرت عثمان رضی الله عنہ شہید کر دیئے گئے۔ جوں ہی آپ صلی الله علیہ وسلم نے یہ سنا، فوراً تمام صحابۂ کرام رضی الله عنہم سے اس بات پر بیعت لی کہ جب تک جان میں جان ہے قریش سے قتال کریں گے اور راہِ فرار اختیار نہیں کریں گے۔ جب قریش کو یہ معلوم ہوا، تو ان کے اوپر خوف طاری ہوگیا اور انہوں نے فوراً حضرت عثمان رضی الله عنہ کو چھوڑ دیا۔

🌺 يَا رَبِّ صَلِّ وَ سَلِّم دَائِمًا أَبَدًا عَلَى حَبِيبِكَ خَيرِ الْخَلْقِ كُلِّهِمِ 🌺

••⊰❉⊱•═•⊰❉⊱•═•⊰❉⊱═•⊰❉⊱••

📚 حوالہ دیکھنے کے لئے
👇
http://in.alislaam.com/?p=7102&lang=ur
┄┅─═══════─┅┄
🌐 الإسلام بروڈ کاسٹ

اگر آپ مختصر علمى مسائل يا دينى مضامين واٹس ايپ پر حاصل کرنا چاہتے ہیں تو اس نمبر کو اپنے فون ميں محفوظ کر ليں او لکھ کر ہمیں بتا ديں۔

📱https://wa.me/+27631823770
┄┅─═══════─┅┄
🌐 الإسلام ٹیلیگرام چینل
👇
https://t.me/AlislaamUrdu
•°•° Al-Islaam.co.za-313 •°•°
•┄┅❂❀❖❖❀❂┅┈•

مسائلِ متفرّقہ

❁ جنازے کو قبرستان تک منتقل کرنے کے متعلق مسائل

(۱) اگر میّت شیر خوار بچہ ہو یا اس سے کچھ بڑا ہو، تو اس کو قبرستان لے جانے میں نعش (چار پائی) پر نہیں اٹھایا جائےگا؛ بلکہ اس کو ہاتھ پر اٹھا کر لے جایا جائےگا۔ لوگ اس کو یکے بعد دیگرے ہاتھ پر اٹھائیں گے، یہاں تک کہ وہ قبرستان پہونچ جائیں۔

(۲) اگر میّت بالغ ہو، تو اس کو نعش (چار پائی) پر اٹھایا جائےگا۔ اس کو چار آدمی اٹھائیں، ہر آدمی ایک ایک کونہ اپنے کندھے پر اٹھا کر عزّت و احترام کے ساتھ قبرستان تک لے جائے۔

(٣)اگر قبرستان دور ہو، تو لوگ میّت کو گھر سے قبرستان تک سواری سے لے جائیں اور پھر قبرستان پہونچ کر ہاتھوں پر اٹھا کر قبر تک لے جائیں۔

(٤) شرعی عذر کے بغیر میّت کو قبرستان تک سواری سے لے جانا مکروہ ہے۔ البتہ اگر شرعی عذر ہو مثال کے طور پر قبرستان دور ہو، تو سواری سے لے جانا جائز ہے۔


••⊰❉⊱•═•⊰❉⊱•═•⊰❉⊱═•⊰❉⊱••

📚حوالہ دیکھنے کے لئے
👇
http://in.alislaam.com/?p=7121&lang=ur
┄┅─═══════─┅┄
🌐 الإسلام بروڈ کاسٹ

اگر آپ مختصر علمى مسائل يا دينى مضامين واٹس ايپ پر حاصل کرنا چاہتے ہیں تو اس نمبر کو اپنے فون ميں محفوظ کر ليں او لکھ کر ہمیں بتا ديں۔

📱https://wa.me/+27631823770
┄┅═══════─┅┄
🌐 الإسلام ٹیلیگرام چینل
👇
https://t.me/AlislaamUrdu
•°•° Al-Islaam.co.za-314 •°•°
•┄┅❂❀❖❖❀❂┅┈•

🕌 مسجد کی سنتیں اور آداب

(۱) مسجد کو صاف ستھرا رکھیے۔

عن أبي سعيد الخدري قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم من أخرج أذى من المسجد بنى الله له بيتا في الجنة (سنن ابن ماجة رقم ۷۵۷)

حضرت ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص مسجد سے گندگی صاف کرے، الله تعالیٰ اس کے لیے جنت میں گھر بنائیں گے۔“

(۲) شیر خوار بچوں، پاگل لوگوں اور کم عمر بچوں کو (جو مسجد کے آداب سے ناواقف ہوں) مسجد میں نہ لائیں۔

(۳)‏ جتنی دیر مسجد میں ٹھہریئے، اپنے آپ کو ذکر الله میں مشغول رکھیے۔

(جاری ہے)

••⊰❉⊱•═•⊰❉⊱•═•⊰❉⊱═•⊰❉⊱••

📚 حوالہ دیکھنے کے لئے
👇
http://in.alislaam.com/?p=7141&lang=ur
┄┅─═══════─┅┄
🌐 الإسلام بروڈ کاسٹ

اگر آپ مختصر علمى مسائل يا دينى مضامين واٹس ايپ پر حاصل کرنا چاہتے ہیں تو اس نمبر کو اپنے فون ميں محفوظ کر ليں اور لکھ کر ہمیں بتا ديں۔

📱 https://wa.me/+27631823770
┄┅─═══════─┅┄
🌐 الإسلام ٹیلیگرام چینل
👇
https://t.me/AlislaamUrdu
•°•° Al-Islaam.co.za-315 •°•°
•┄┅❂❀❖❖❀❂┅┈•

🌹نکاح اور ولیمہ کی سنتیں اور آداب🌹

(۱) نکاح کا اعلان کرنا چاہیئے (مثال کے طور پر مسجد میں لوگوں کے سامنے نکاح پڑھایا جائے) فقہائے کرام نے بیان کیا ہے کہ مستحب یہ ہے کہ نکاح جمعہ کے دن مسجد میں پڑھایا جائے۔

(۲) جہاں تک ہو سکے نکاح سادگی کے ساتھ کیا جائے؛ کیوں کہ سادگی ہی سنّت کی روح ہے۔

(۳) ولیمہ بھی سادگی کے ساتھ کیا جائے۔ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کا مبارک فرمان ہے کہ ”سب سے بابرکت والا نکاح وہ ہے، جس میں کم خرچ ہو (یعنی نکاح اور ولیمہ سادہ کیا جائے اور اسراف اور فضول خرچی سے بچا جائے)۔“

(٤) نکاح اور ولیمہ میں دکھاوا اور اظہارِ تفاخر ہرگز نہ ہو۔

(۵) ولیمہ میں بہت سے لوگوں کو دعوت دینا ضروری نہیں ہے۔ اگر کوئی شخص صرف چند لوگوں کو اپنے گھر بلائے اور ولیمہ کی نیّت سے ان کو کھانا کھلا دے، تو بھی ولیمہ کی سنّت ادا ہوجائےگی۔

(٦) ولیمہ میں غریبوں کو بھی دعوت دینی چاہیئے۔ رسول کریم صلی الله علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ ”سب سے خراب کھانا (یعنی جو کھانا برکت سے خالی ہو) اس ولیمہ کا کھانا ہے، جس میں صرف مالداروں کو دعوت دی جائے اور غریبوں کو دعوت نہ دی جائے۔

(۷) افضل اور سنّت سے زیادہ قریب یہ ہے کہ ولیمہ کی دعوت گھر پر کی جائے، ولیمہ کی دعوت ہال میں نہ کی جائے؛ کیوں کہ مشاہدہ یہ ہے کہ ہال میں بہت سے خلافِ شرع کام ہوتے ہیں۔ البتہ اگر کسی وجہ سے ہال میں ولیمہ کیا جائے، تو اس بات کا پورا خیال رکھا جائے کہ الله تعالیٰ کے احکام میں سے کسی بھی حکم کی خلاف ورزی نہ کی جائے، جیسے فرض نماز کو قضا کرنا، مرد و زن کا اختلاط کرنا اور پردہ کا اہتمام نہ کرنا، تصویر کھینچنا اور سودی قرض لے کر ولیمہ کرنا اور گانا بجانا اور ناچنا وغیرہ وغیرہ کرنا۔
(جاری ہے)


•┄┅❂❀❖❖❀❂┅┈•

📚 حوالہ دیکھنے کے لیے
👇
http://in.alislaam.com/?p=7161&lang=ur
〰️〰️〰️〰️〰️〰️〰️〰️
🌐 الإسلام بروڈ کاسٹ

اگر آپ مختصر علمى مسائل يا دينى مضامين واٹس ايپ پر حاصل کرنا چاہتے ہیں تو اس نمبر کو اپنے فون ميں محفوظ کر ليں اور لکھ کر ہمیں بتا ديں۔

📱 https://wa.me/+27631823770
〰️〰️〰️〰️〰️〰️〰️〰️
🌐 الإسلام ٹیلیگرام چینل
👇
https://t.me/AlislaamUrdu
•°•° Al-Islaam.co.za-316 •°•°
•┄┅❂❀❖❖❀❂┅┈•

✳️ سورۃ العلق کی تفسیر

کَلَّا لَئِنۡ لَّمۡ یَنۡتَهِ ۬ۙ لَنَسۡفَعًۢا بِالنَّاصِیَةِ ﴿ۙ۱۵﴾ نَاصِیَةٍ کَاذِبَةٍ خَاطِئَةٍ ﴿ۚ١٦﴾ فَلۡیَدۡعُ نَادِیَهُ ﴿ۙ۱۷﴾ سَنَدۡعُ الزَّبَانِیَةَ ﴿ۙ۱۸﴾ کَلَّا ؕ لَا تُطِعۡهُ وَ اسۡجُدۡ وَ اقۡتَرِبۡ ﴿۱۹﴾

ہرگز نہیں اگر یہ شخص(ابو جہل) باز نہیں آئےگا،تو ہم پیشانی کے بال جو کہ دروغ (جھوٹ) اور خطا میں آلودہ بال ہیں پکڑ کر گھسیٹیں گے ﴿۱۵﴾ ﴿١٦﴾ سو یہ اپنے ہم جلسہ لوگوں کو بلالے ﴿۱۷﴾ ہم بھی دوزخ کے پیادوں کو بُلا لیں گے ﴿۱۸﴾ ہرگز نہیں، آپ (محمد صلی الله علیہ وسلم) اس کا کہنا نہ مانیئے اور آپ نماز پڑھتے رہیئے اور (اپنے رب کا) قرب حاصل کرتے رہیئے﴿۱۹﴾


ابو جہل بے انتہا متکبّر اور مغرور شخص تھا۔ اس کو اپنے مال و دولت اور سرداری پر بہت ناز تھا۔ اس کا یہ خیال تھا کہ اس کو لوگوں کی حمایت و نصرت اور پُشت پناہی حاصل ہے اور جب بھی وہ ان کو بُلائےگا، وہ اس کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے حاضر ہو جائیں گے اور اس کے حکم کو بجا لائیں گے۔ چناں چہ ان آیاتِ کریمہ میں الله تعالیٰ ابو جہل کو آگاہ کر رہے ہیں کہ اگر وہ آپ صلی الله علیہ وسلم کو نماز ادا کرنے سے روکےگا، تو اس کا انجام نہایت ہولناک ہوگا اور الله تعالیٰ اس کو المناک سزا دیں گے۔

الله تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ وہ (ابو جہل) آگاہ ہو جائے کہ اگر وہ اپنی بری حرکت سے باز نہیں آئےگا، تو ہم اس کی دروغ اور خطا میں آلودہ پیشانی کے بال پکڑ کر گھسیٹیں گے۔ اگر وہ چاہے تو وہ اپنی مجلس والوں کو بُلا لے۔ ہم بھی اپنے خاص فرشتوں کی جماعت کو بُلائیں گے۔ دوسرے الفاظ میں یوں کہیے کہ ہمارے فرشتے اس کو ہلاک و برباد کردیں گے اور اس کے خلاف ہمارے رسولِ کریم صلی الله علیہ وسلم کی مدد کریں گے۔ اگر وہ آئندہ آپ صلی الله علیہ وسلم کو نماز سے روکنے کی کوشش کرےگا، تو ہمارے فرشتے اس کو صفحۂ ہستی سے مٹا دیں گے اور اس کے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیں گے۔

حدیث شریف میں منقول ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم سجدے میں تھے ابو جہل بُرے ارادے سے آگے بڑھا؛ تاکہ وہ آپ صلی الله علیہ وسلم کی مبارک گردن کو اپنے پیر سے کچل دے ؛لیکن ڈر کی وجہ سے فوراً پیچھے ہٹ گیا۔ جب لوگوں نے اُس کو اِس حالت میں دیکھا، تو پوچھا کہ کیا ہوا؟ پیچھے کیوں ہٹ گئے؟ تم نے تو قسم کھائی تھی کہ تُو اس شخص (رسول الله صلی الله علیہ وسلم) کی گردن کو پاؤں سے کُچل دےگا۔ اس نے کہا: جوں ہی میں آگے بڑھا، میں نے آگ کا گڑھا دیکھا اور مجھے کچھ چیزیں اس میں اُڑتی ہوئی نظر آئیں۔ نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ چیزیں جو اس نے دیکھا وہ الله تعالیٰ کے فرشتے تھے۔اگر وہ آگے قدم بڑھاتا، تو فرشتے اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیتے۔
•┄┅❂❀❖❖❀❂┅┈•

📚 پوری تفسیر پڑھنے کے لیے
👇
http://in.alislaam.com/?p=7049&lang=ur
〰️〰️〰️〰️〰️〰️〰️〰️
🌐 الإسلام بروڈ کاسٹ

اگر آپ مختصر علمى مسائل يا دينى مضامين واٹس ايپ پر حاصل کرنا چاہتے ہیں تو اس نمبر کو اپنے فون ميں محفوظ کر ليں اور لکھ کر ہمیں بتا ديں۔

📱 https://wa.me/+27631823770
〰️〰️〰️〰️〰️〰️〰️〰️
🌐 الإسلام ٹیلیگرام چینل
👇
https://t.me/AlislaamUrdu