All India Muslim Personal Law Board
6.12K members
1.06K photos
9 videos
170 files
1.09K links
Download Telegram
to view and join the conversation
*🕌 حضور پاک ﷺ کے عمدہ اخلاق*

_خاتم النبیین رحمت اللعالمین حضرت محمد ﷺ کے عمدہ اور پاکیزہ اخلاق پر آسان اور عام فہم انداز میں لکھا گیا بہت ہی اہم مضمون۔_
*برادران اسلام سے گذارش ہے کہ اس مختصر مضمون کو ضرور پڑھیں۔*

https://www.facebook.com/688818667987814/posts/1408080742728266/

ہمارے پیغمبر نبی آخرالزماں حضرت محمد مصطفی ﷺ بچپن سے ہی بہت بااخلاق، رحمدل اور ملنسار تھے، وہ ہمیشہ سچ بولتے تھے، لوگ انہیں صادق اور امین کہتے تھے، صادق کا مطلب ہوتا ہے سچا اور امین کا مطلب ہوتا ہے امانت دار، دوستوں کو خوب نوازتے تھے،دشمنوں کے ساتھ بھی دوستانہ رویہ رکھتے تھے، اگر کوئی بیمار ہوتا تو اس کی عیادت کرنے جاتے، ضرورت مند کی مدد کرتے، کسی سے گفتگو کرتے تو بہت دھیان سے اس کی بات سنتے، اور جب تک بات مکمل نہ ہوجائے آپﷺ کچھ نہیں کہتے تھے، پوری بات سننے کے بعد پھر آپﷺ اپنی بات کہتے۔کسی سے ملتے وقت ہمیشہ پہلے خود سلام مصافحہ فرماتے کوئی شخص جھک کر آپﷺ کے کان میں کوئی بات کہتا تو اس وقت تک آپﷺ اس کی طرف سے رخ نہیں پھیرتے تھے جب تک کہ وہ اپنی بات پوری نہ کرے، مصافحہ میں بھی یہی معمول تھا کہ جب کسی سے ہاتھ ملاتے تھے تو اس وقت تک اپنا ہاتھ واپس نہیں کھینچتے تھے جب تک کہ وہ خود اپنا ہاتھ واپس نہ کھینچ لے، اکثر غلام اور باندیاں کسی برتن میں پانی لیکر آتے کہ آپ ﷺاپنا مبارک ہاتھ اس میں ڈال دیں تو وہ پانی برکت والا ہوجائے، سخت سردی کے دنوں میں بھی صبح کےوقت لوگ آتے تب بھی آپ ﷺمنع نہیں فرماتے تھے۔

آپ ﷺ اپنے چچا ابوطالب کے ساتھ تجارت کرتے تھے، آپ ﷺ کے اخلاق اور ملنساری کی وجہ سے تجارت میں بہت نفع ہوتا تھا، *آپ ﷺ اپنے خاندان والوں سے بڑی محبت سے پیش آتے تھے، کسی کی دل آزاری نہ کرتے بلکہ اگر کوئی غمگین یا اداس ہوتا تو اس کی دلجوئی کرتے اور اُسے خوش رکھنے کی کوشش کرتے،* اس کے علاوہ آپﷺ مشرکین وکافروں کے ساتھ بھی اچھا سلوک کرتے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے بھی اچھا سلوک کرنے کی تلقین کرتے، جنگ کیلئے اگر کسی لشکر کو آپﷺ روانہ کرتے تو یہ تاکید ضرور کرتے تھےکہ جنگ میں دشمنوں کے بچوں ، عورتوں، بیماروں اور بوڑھوں پررحم کرنا انہیں قتل نہ کرنا ، فتح مکہ کے وقت آپ ﷺنے تمام دشمنوں کو معاف کرنے کا اعلان کیا۔
آپ ﷺ راستے سے تکلیف دہ چیزوں کوہٹاتے اور دوسروں کو بھی اس کا حکم دیتے، ایک مرتبہ ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ ﷺ سے پوچھا کہ’’ اے اللہ کے رسولﷺ آپ کی زندگی کا سب سے زیادہ تکلیف دہ واقعہ کون سا ہے؟‘‘ آپ ﷺ کی آنکھوں میں آنسو آگئے، اور فرمایا کہ’’ وہ جب میں طائف میں گیا تھا۔ وہ دن میری زندگی کا سب سے تکلیف دہ دن تھا، میں جس قبیلے کے سردار کے پاس جاتا وہ میری دعوت کو قبول نہ کرتا اور مجھے دھکے دے کر نکال دیتا‘‘ طائف کا وہ واقعہ کہ جب آپ ﷺ دین کی دعوت کیلئے گئے تھے تو وہاں کے لوگوں نے آپ ﷺ کا مذاق اڑایا اور نوجوان بچے اور لڑکے آپ ﷺ پر پتھر مارتے تھے، یہاں تک کہ آپ ﷺ کی جوتیاں خون سے بھر گئی تھیں، مگر آپ ﷺ نے ان کو بددعا نہ دی بلکہ ان کے حق میں رحمت کی دعا کی۔
*آپ ﷺ فرض نمازوں کے ساتھ ساتھ نوافل کا بھی اہتمام کرتے تھے، راتوں کو اٹھ کر عبادت کیا کرتے تھے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ’’ آنحضرت ﷺ نےکبھی رات کی عبادت چھوڑی نہیں ، اگر کبھی طبیعت ناساز ہوتی یا تھکن ہوتی تو نماز بیٹھ کر ادا کرتے تھے‘‘* مسجدنبوی میں جگہ بہت کم ہوتی تھی جو لوگ پہلے سے آکر بیٹھ جاتے تھے ان کے بعد جگہ باقی نہیں رہتی تھی، ایسے موقع پر اگر کوئی آجاتا تو اس کیلئے آپ ﷺخود اپنی چادر مبارک بچھا دیتے تھے، آپ ﷺ کے اخلاق وعادات میں جو وصف سب سے زیادہ نمایاں اور جس کا اثر ہر موقع پر نظر آتا تھا وہ ایثار تھا۔
اولاد سے آپ ﷺ کو بے انتہا محبت تھی اور ان میں سب سے زیادہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا عزیز اور محبوب تھیں جب وہ آتیں تو فرط محبت سے کھڑے ہوجاتے پیشانی کو بوسہ دیتے اور اپنی جگہ پر بٹھاتے، حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی غربت اور تنگدستی کا یہ حال تھا کہ گھر میں کوئی خادمہ نہ تھی خود چکی پیستیں، خود ہی پانی کی مشک بھرتیں، چکی پیستے پیستے ہاتھوں میں چھالے پڑگئے تھے، ایک مرتبہ آپ ﷺ کے پاس کچھ کنیزیں اور خدام تھے جو کہ کسی غزوہ میں سے آپ ﷺ کے پاس آئے تھے، حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو خبر ملی تووہ آپ ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئیں اور چاہا کہ آپ ﷺ سے ایک کنیز لے لیں، مگر انہیں حیاء آگئی اور وہ واپس چلی آئیں اس واقعے کا علم آپ ﷺ کو ہوا تو انہوں نے کہا کہ’’ سب کنیزیں اور خدام تو تقسیم ہوگئے ہیں اگر پہلے علم ہوتا تو تمہیں دے دیتا، ‘‘ پھر آپ ﷺ نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہاکو کہا کہ ’’بیٹی رات میں سوتے وقت ۳۳ ؍مرتبہ سبحان اللہ، ۳۳؍مرتبہ الحمدللہ اور ۳۴ ؍مرتبہ اللہ اکبر پڑھ کر سویا کرو اس سے تمہا
ری دن بھر کی تھکن دور ہوجائے گی‘‘۔
*اس واقعہ میں ایثار کا پہلو تو ہے ہی ساتھ ہی یہ بات بھی لائق توجہ ہے کہ حضور اکرم ﷺ کا انداز تربیت کتنا پیارا تھا، ایک طرف بیٹی سے اس قدر محبت ہے اور دوسری طرف انہیں عیش وعشرت سے دور رکھ کر محنت مشقت اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کی تعلیم فرمارہے ہیں، اللہ پاک کا ذکر سکھارہے ہیں، اور ان کو آخرت کیلئے اعمال کا ذخیرہ اکٹھا کرنے کا درس دے رہے ہیں۔*
حضور اکرم ﷺ بڑے سخی اور فیاض تھے، غریبوں، مسکینوں، رشتہ داروں اور ضرورت مندوں کو خوب نوازتے تھے، ایک مرتبہ آپﷺ کی خدمت میں ایک شخص آیا اس نے دیکھا کہ آپ ﷺ کے پاس ڈھیر ساری بکریاں ہیں اس نے آپﷺ سے چند بکریاں مانگیں آپ ﷺ نے وہ ساری بکریاں اس شخص کو دے دیں، اس شخص نے اپنے قبیلے میں جاکر اس سخاوت کی خوب تعریف کی، اور قبیلے والوں سے کہا کہ’’ تم سب اسلام قبول کرلو، محمدﷺ اتنے سخی ہیںکہ مفلس ہوجانے کا خوف نہیں رکھتے،‘‘ آپ ﷺ کھانے پینے کی چیزوں میں بھی دوسروں کو شریک فرماتے تھے، کھانے کی کوئی معمولی یا تھوڑی سی چیز ہوتی تو اس میں سے بھی دوسروں کوحصہ عنایت فرماتے تھے، ایک مرتبہ آپﷺ نے ایک بکری خریدی، پھر اسے ذبح کروایا، اور اس کی کلیجی بھنوائی، جب کلیجی بھن کر تیار ہوگئی تو جو لوگ موجود تھے ان کو اس میں سے کھلایا اور جو موجود نہیں تھے ان کا حصہ الگ کرکے محفوظ کرلیا۔
*آپ ﷺ کی سخاوت اس درجے کی تھی کی آپ ﷺکے پاس جو کچھ آتا اسے اللہ پاک کی راہ میں خرچ کئے بغیر آپ کو چین نہیں آتا تھا،* ام المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ حضورا کرم ﷺ گھر تشریف لائے، کہ آپ کے چہرے کا رنگ اڑا ہوا تھا، حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا ’’اللہ کے رسول خیریت تو ہے، آپ کے چہرے کا رنگ کیوں اڑا ہوا ہے؟‘‘ آپ ﷺ نے فرمایا’’ کل جو سات دینار آئے تھے وہ ابھی خرچ نہیں ہوئے اور شام ہوگئی ہے‘‘۔
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ’’ ایک مرتبہ میں اللہ کے رسول ﷺ کے ساتھ کہیں جارہا تھا‘‘ اتنے میں آپ ﷺ نے فرمایا’’ ابوذر! اگر احد پہاڑ میرے لئے سونے کا بنادیا جائے تو میں کبھی نہیں پسند کروں گا کہ تین رات گذر جانے کے بعد میرے پاس ایک دینار بھی باقی رہے،‘‘ یعنی تین دن میں سب کا سب خرچ کردونگا ۔ اللہ اکبر ! یہ کیسی سخاوت ہے!
*حضور اکرم ﷺ میں حیا تھی، آپ کو قریب سے دیکھنے والے بیان کرتے ہیں کہ شرم وحیا کا اثر آپﷺ کی ایک ایک ادا سے ظاہر ہوتا تھا،* آپﷺ نے کبھی کسی کے ساتھ بدزبانی نہیں کی، کسی کو برا بھلا نہیں کہا ، کسی کا دل نہیں دکھایا، صرف مسکراتے تھے، قہقہہ لگا کر ہنسنے کی عادت آپ ﷺکو نہیں تھی، *یہ حضور اکرم ﷺ کے پیارے اخلاق ہیں، جن کو اپنے اندر پید اکرنے کی کوشش ہر مسلمان کو کرنی چاہئے، پاکیزہ اور عمدہ اخلاق کے ملنے کی دعا بھی اللہ پاک سے کرنی چاہئے۔*


*✍️ حضرت مولانا محمد عمرین محفوظ رحمانی صاحب دامت برکاتہم*
(سکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ)

*_🎁 سوشل میڈیا ڈیسک آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ_*
🌹🕌 #دل_کے_سو_ٹکڑے_ہیں_ہر_ٹکڑے_پہ_تیرا_نام_ہے! 🕌🌹

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=1409836085886065&id=688818667987814


اُمت پر رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کا ایک اہم حق آپﷺ سے محبت ہے ، ایسی محبت جو تمام محبتوں سے فائق ہو ، جو مؤمن کے رگ و ریشہ میں سمائی ہوئی ہو ، خدا کے بعد اس درجہ کی محبت میں کوئی اور شریک نہ ہو ، ایسی محبت جو اپنی ذات ، اپنی اولاد اور اپنے ماں باپ سے بھی بڑھ کر ہو ، جس میں وارفتگی ، جاں نثاری ، فدائیت اور خود سپردگی ہو ، جس محبت کا سایہ محبوب کے تمام متعلقین تک وسیع ہو؛ چنانچہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ’’کوئی شخص اس وقت تک صاحب ِایمان نہیں ہوسکتا، جب تک اس کے دل میں میری محبت اپنی ذات سے ، اپنے ماں باپ اور اپنی اولاد سے اور تمام لوگوں سے بڑھ کر نہ ہوجائے (صحیح البخاری، حدیث نمبر: ۱۵) صحابہؓ نے واقعی حضور صلی ﷲ علیہ وسلم سے ایسی ہی محبت کرکے دکھائی ، جو صرف زبان سے حضور صلی ﷲ علیہ وسلم پر اپنی جان و اولاد کو قربان کرنے کا دعویٰ نہیں کرتے تھے ، بلکہ عمل سے اس کا ثبوت بھی فراہم کرتے تھے اور اپنی جان اور اولاد کو حضور صلی ﷲ علیہ وسلم پر اس خوشی سے نچھاور کرتے تھے کہ گویا ان کی جان کی قیمت وصول ہوگئی ۔

حضرت خبیب رضی اللہ عنہ اہل مکہ کے ہاتھ آگئے، بعض لوگوں نے– جن کے مورثِ اعلیٰ غزوۂ بدر میں مسلمانوں کے ہاتھ مارے گئے تھے،– قصاص و انتقام کے طورپر انھیں خرید لیا ، پھر مکہ سے باہر ایک انبوہ کے ساتھ انھیں لے جایا گیا اور اذیت پہنچا پہنچا کر سولی پر چڑھایا گیا ، عین اس وقت جب آزمائش کا یہ پہاڑ اس مردِ مومن کے اوپر ڈھایا جارہا تھا ، پوچھا گیا : کیا تمہیں یہ پسند نہیں ہے کہ آج تمہاری جگہ ’’ محمد ‘‘ ( صلی ﷲ علیہ وسلم ) ہوتے اور تم اس مصیبت سے بچ جاتے ؟ حالانکہ ایسی مصیبت کے وقت میں دل کے اطمینان کے ساتھ زبان سے کلمۂ کفر ادا کرلینے کی بھی اجازت ہے ، ( الموسوعۃ الفقہیہ : ۶؍۱۰۷ ، مادہ اکراہ ) لیکن حضرت خبیب رضی اللہ عنہ کے جذبۂ محبت پر قربان جائیے کہ اس وقت بھی فرماتے ہیں : ’’ خدائے عظیم کی قسم ! مجھے تویہ بھی گوارا نہیں کہ اس تکلیف سے بچ جاؤں اور میرے آقا کے قدم مبارک میں ایک کانٹا بھی چبھے ‘‘ ۔ ( البدایہ والنہایہ : ۴؍۶۶ )

حضرت زید بن دثنہ رضی اللہ عنہ ابوسفیان کی گرفت میں ہیں ،( جو اس وقت تک مشرف بہ اسلام نہیں ہوئے تھے ) زید رضی اللہ عنہ کے قتل کی تیاری ہورہی ہے اور سرقلم کئے جانے کو چند لمحہ رہ گیا ہے ، اتنے میں ابوسفیان نے استفسار کیا : اے زیدؓ ! میں تم سے خدا کی قسم دے کر پوچھتا ہوں: کیا تمہیں یہ پسند نہیں کہ اس وقت تمہارے بجائے محمد ( صلی ﷲ علیہ وسلم ) یہاں ہوتے ہم ان کا سرکاٹ لئے ہوتے اور تم اپنے گھر میں آرام سے ہوتے ؟ حضرت زید نے عین تلوار کی چھاؤں میں فرمایا : ’’ مجھے تو یہ بھی پسند نہیں کہ اِس وقت میں اِس تکلیف سے بچ کر اپنے گھر میں رہوں اور رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کواپنے گھر میں رہتے ہوئے ایک کانٹا بھی چبھ جائے ‘‘ ۔( البدایہ والنہایہ : ۴؍۶۵ )

غزوۂ بدر کے موقع سے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے مقابلہ میں خود ان کے صاحبزادے آگئے ، جو ابھی کفر کی حالت میں تھے ، وقت گذرا ، یہاں تک کہ ﷲ تعالیٰ نے ان کو ایمان کی توفیق عطا فرمائی ، پھر صاحبزادے نے عرض کیا : ابا جان ! غزوۂ بدر میں ایک وقت ایسا آیا کہ آپ میرے نرغہ میں آگئے تھے ، لیکن باپ کی محبت غالب آگئی ، حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ’’ لیکن اسلام و کفر کی اس جنگ میں اگر تم میرے نرغہ میں آگئے ہوتے تو میں تمہیں معاف نہیں کرتا ‘‘ ۔( دیکھئے : الإستیعاب ، ذکر عبدالرحمن بن ابی بکر )

عبدﷲ بن ابی خود منافق تھا ، ان کے لڑکے حضرت عبدﷲ رضی اللہ عنہ مخلص مسلمان تھے ، ان پر اپنے والد کا منافق ہونا بھی ظاہر تھا ، مدینہ میں افواہ تھی کہ حضور صلی ﷲ علیہ وسلم ان کے نفاق کی وجہ سے ان کے قتل کا حکم دینے والے ہیں ، جب حضرت عبدﷲ رضی اللہ عنہ کو اس کی اطلاع ہوئی ، تو بارگاہِ نبویﷺ میں حاضر ہوئے اور عرض کیا : سنا ہے کہ آپﷺ میرے والد کے قتل کا حکم دینے والے ہیں ، اگر آپﷺ کا یہ منشاء ہوتو میں خود اپنے والد کا سرقلم کرکے آپﷺ کی خدمت میں پیش کرتا ہوں ، آپ نے منع فرمادیا ، (الروض الأنف : ۷؍۲۳) گویا حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کی محبت اولاد اور والدین کی محبت پر غالب تھی ۔

حضور صلی ﷲ علیہ وسلم کی محبت کے تقاضہ میں یہ بات بھی داخل ہے کہ آپﷺ کے تمام متعلقین سے محبت ہو ، آپ اکے اہل بیت سے محبت ہو ، صحابہ کرام رضی اللہ عنھم اجمعین سے محبت ہو ، یہ محبت کا فطری تقاضہ ہے ، کہ جو چیز عزیز ہوتی ہے، اس سے تعلق رکھنے والی ساری ہی چیزیں انسان کو عزیز ہوتی ہیں ، اس لئے سلف صالحین اہل بیت سے بھی محبت رکھتے تھے اور صحابہ سے بھی ، اہل بیت سے محبت نہ ہو اور ان کی توقیر و احترام کا جذبہ نہ ہوتو یہ حضور صلی اﷲ علی
شراب و کباب جیسی بری عادتوں میں مبتلا ہو ، دین سے نابلد اور احکام شریعت سے ناواقف ہو؛ لیکن اس کے سینے میں حب نبوی کی چنگاری ضرور موجود ہوتی ہے ، جو وقت پڑنے پر شعلہ ٔ و آتش بلکہ آتش فشاں بن جاتی ہے ، اس جذبۂ محبت کو حقیر نہ سمجھنا چاہئے؛ بلکہ اس کی لَو کو اور بڑھانا اور تیز کرنا چاہئے اور ہمیں اپنے آباء واجداد سے حاصل ہونے والی اس امانت کو اگلی نسلوں تک پہنچانا چاہئے ، یہ محبت اسی وقت پروان چڑھے گی ، جب رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کی پہچان ان میں پیدا ہو اور یہ پہچان کیوں کر پیدا ہوگی اگر وہ سیرت نبوی سے آگاہ نہ ہوں؟ مقام افسوس ہے کہ ہمارے بچے رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کے بارے میں بنیادی باتوں سے بھی واقف نہیں ہیں ، انھیں صحیح طورپر آپ کا اور آپ کے قریبی متعلقین کا نام تک معلوم نہیں ، کیا اپنے بچوں کو سیرت محمدی سے واقف کرانے میں بھی ہمارے لئے کوئی رکاوٹ ہے ؟ حق محبت کا ایک ادنیٰ حصہ بھی اسی وقت ادا ہوگا جب ہم محبت کی اس امانت کو اپنی نسلوں تک پہنچائیں گے ۔

✍️ حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب دامت برکاتہم
(سکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ)

🎁پیشکش: سوشل میڈیا ڈیسک آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ
ہ وسلم کی کما حقہ محبت سے محرومی ہے ؛ کیوں کہ اہل بیت کی محبت اس نسبت کی وجہ سے ہے جو انھیں حضور صلی ﷲ علیہ وسلم سے حاصل ہے، اور ان کی محبت سے محروم ہونا اس نسبت کی ناقدری ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علیؓ ، حضرت فاطمہؓ ، حضرت حسنؓ اور حضرت حسین ؓ کے بارے میں فرمایا : جس کی ان حضرات سے لڑائی ہو ، میری اس سے لڑائی ہے اور جس کی ان حضرات سے صلح ہو میری ان سے صلح ہے ’’ أنا حرب لمن حاربھم وسلم سالمھم ‘‘ (سنن ترمذی ، حدیث نمبر : ۴۹۶۵) سیدنا علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ کی محبت اور ان سے بغض کو آپ نے ایمان اور کفر کے لئے معیار بنایا ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : حضرت علی ؓ سے اسی کو محبت ہوگی جس کے اندر ایمان ہوگا ، اور حضرت علیؓ سے اسی کو بغض ہوگا جس میں نفاق ہوگا ’’ لا یجب علیاً إلا مؤمن ولا یبغضہ إلا منافق ‘‘ ( المعجم الکبیر للطبرانی ، حدیث نمبر : ۸۸۶ )

اسی طرح رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کے صحابہ آپﷺ کے وہ رفقاء ہیں ، جنھوں نے آپﷺ کے لائے ہوئے دین کی سربلندی کے لئے اپنے جان و مال کی قربانی دی ہے ، جن کو براہِ راست صحبت ِنبوی اسے فیض اُٹھانے کا موقع ملا ہے ، جو بلا واسطہ آپﷺ کے پرداختہ اور تربیت یافتہ ہیں ، ان سے بغض رکھنا یا ان کی تنقیص کرنا دراصل بالواسطہ آپﷺ کی تربیت پر حرف گیری کرنا ہے ، آپﷺ نے ان کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ میرے صحابہؓ کو بُرا بھلا نہ کہو ، اگر تم میں سے کوئی اُحد پہاڑ کے برابر سونا خرچ کرے تو ان کے ایک مُد یا نصف مُد خرچ کرنے کے برابر بھی نہیں ہوگا : ’’ فلو أن أحدکم أنفق مثل أحد ذھباً ما بلغ مد أحدھم ولا نصفہ ‘‘ (بخاری ، حدیث نمبر : ۷۳۳۶ ) ’’ مُد ‘‘ ایک پیمانہ ہے ، جس میں بہت کم مقدار آتی ہے ، اسی لئے اہل سنت و الجماعت کا اتفاق ہے کہ تمام صحابہ ث قابل احترام اور قابل محبت ہیں اور یہ سب کے سب مسلمانوں کی آنکھوں کا نور اور دل کا سرور ہیں ، بدقسمتی سے اِدھر کچھ عرصہ سے برصغیر میں بعض ایسی تحریریں منظر عام پر آئیں ، جن میں اہل بیت یا دوسرے صحابہؓ کے بارے میں بے توقیری اور بغض و کدورت کا رویہ اختیار کیا گیا ، ایسی باتوں کو قبول کرنا آپﷺ کی محبت اور تعظیم و توقیر کے مغائر ہے ۔

حضور صلی ﷲ علیہ وسلم کے متعلقین میں آپﷺ کی اُمت بھی شامل ہے ؛ کیوں کہ حضور صلی ﷲ علیہ وسلم کی نسبت نے اس اُمت کو ایک عالم گیر اور آفاقی خاندان بنادیا ہے ، جیسے انسان کو باپ دادا کے رشتہ سے وجود میں آنے والے خاندان سے محبت ہوتی ہے ، وہ ایک دوسرے کا خیر خواہ اور معاون و مددگار ہوتا ہے اور دشمنوں کے مقابلہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر کھڑا ہوجاتا ہے ، اسی طرح پوری اُمت ایک خاندان کا درجہ رکھتی ہے ، جیساکہ حضور صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تم لوگوں کے باپ کے درجہ میں ہوں (سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر: ۳۱۳) اور جیساکہ قرآن مجید کا ارشاد ہے کہ تمام اہل ایمان بھائی بھائی ہیں ۔ (حجرات:۱۰)
افسوس کہ اُمت کے ایک وسیع خاندان ہونے کا تصور ہمارے ذہنوں سے نکل گیا اورمسلکوں ، تنظیموں ، جماعتوں ، درسگاہوں ، خانقاہی نسبتوں ، علاقوں ، زبانوں ، پیشوں اوربرادریوں کے دائرہ میں ہماری محبت سکڑ کر رہ گئی ہے ، ہم نے اس حقیقت کو بھلا دیا کہ رسول ﷲﷺ اپنی اُمت کے ایک ایک فرد سے محبت فرماتے تھے ، نہ عرب و عجم کی تفریق تھی ، نہ کالے گورے کی تمیز ، نہ مہاجرین و انصار کی تفریق ، نہ دولت مندوں اور غریبوں میں امتیاز ، یہاں تک کہ اُمت کے کسی فرد سے گناہ کا ارتکاب ہوتا تو آپﷺ کو گناہ سے نفرت ضرور ہوتی؛ لیکن آپ کا سینۂ مبارک اس گناہ گار اُمتی کی محبت سے بھی معمور ہوتا ، اگر اس کے بارے میں کوئی شخص ناروا فقرہ کہہ دیتا تو آپﷺ سخت ناراض ہوتے ، کاش ! مسلمان اس حقیقت پر توجہ دیں کہ ہمارے نبی صلی ﷲ علیہ وسلم نے ہمیں ایک اُمت بنایا تھا؛ لیکن آج ہم نے اپنے درمیان فرقہ واریت اور گروہ بندی کی اتنی اونچی دیوار کھینچ لی ہے کہ ہم ایک دوسرے کو دیکھنے سے بھی قاصر ہیں ، حضور صلی ﷲ علیہ وسلم سے محبت کے تقاضوں میں یہ بات شامل ہے کہ ہمیں اس پوری اُمت سے بھی محبت ہو ، جس اُمت کی تشکیل آپﷺ کے مبارک ہاتھوں سے ہوئی ۔

بہر حال نبی سے اُمت کا تعلق محض قانونی اطاعت اور آئینی احترام کا نہیں ہے ؛ بلکہ ضروری ہے کہ اس کے پیچھے بے پناہ محبت کار فرما ہو ، ایسی محبت کہ انسان لٹ کر محسوس کرے کہ اس نے پایا ہے ، ایسی محبت کہ انسان کھو کر سمجھے کہ اس نے حاصل کیا ہے ، ایسی محبت جس میں کانٹوں کا بستر پھولوں کی سیج کا لطف دے اور شعلہ و آتش کے فرش میں بھی انسان شبنم کی خنکی محسوس کرے ، جنون کو چھوتی ہوئی محبت اور فدا کاری کے جذبہ سے معمور اتھاہ چاہت ، یہی محبت آپ صلی ﷲ علیہ وسلم سے حضرات صحابہؓ کی تھی ۔
یہ حب نبویﷺ ایمان کی حفاظت کا بہت بڑا اثاثہ ہے ، ﷲ کا شکر ہے کہ مسلمان کتنا بھی گیا گذرا ہو ، بے نمازی ہو ، فرائض سے غافل ہو ،
🌹🕌 *دل کے سو ٹکڑے ہیں ، ہر ٹکڑے پہ تیرا نام ہے!* 🕌🌹


اُمت پر رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کا ایک اہم حق آپﷺ سے محبت ہے ، ایسی محبت جو تمام محبتوں سے فائق ہو ، جو مؤمن کے رگ و ریشہ میں سمائی ہوئی ہو ، خدا کے بعد اس درجہ کی محبت میں کوئی اور شریک نہ ہو ، ایسی محبت جو اپنی ذات ، اپنی اولاد اور اپنے ماں باپ سے بھی بڑھ کر ہو ، جس میں وارفتگی ، جاں نثاری ، فدائیت اور خود سپردگی ہو ، جس محبت کا سایہ محبوب کے تمام متعلقین تک وسیع ہو؛ چنانچہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : *’’کوئی شخص اس وقت تک صاحب ِایمان نہیں ہوسکتا، جب تک اس کے دل میں میری محبت اپنی ذات سے ، اپنے ماں باپ اور اپنی اولاد سے اور تمام لوگوں سے بڑھ کر نہ ہوجائے* (صحیح البخاری، حدیث نمبر: ۱۵) صحابہؓ نے واقعی حضور صلی ﷲ علیہ وسلم سے ایسی ہی محبت کرکے دکھائی ، جو صرف زبان سے حضور صلی ﷲ علیہ وسلم پر اپنی جان و اولاد کو قربان کرنے کا دعویٰ نہیں کرتے تھے ، بلکہ عمل سے اس کا ثبوت بھی فراہم کرتے تھے اور اپنی جان اور اولاد کو حضور صلی ﷲ علیہ وسلم پر اس خوشی سے نچھاور کرتے تھے کہ گویا ان کی جان کی قیمت وصول ہوگئی ۔

حضرت خبیب رضی اللہ عنہ اہل مکہ کے ہاتھ آگئے، بعض لوگوں نے– جن کے مورثِ اعلیٰ غزوۂ بدر میں مسلمانوں کے ہاتھ مارے گئے تھے،– قصاص و انتقام کے طورپر انھیں خرید لیا ، پھر مکہ سے باہر ایک انبوہ کے ساتھ انھیں لے جایا گیا اور اذیت پہنچا پہنچا کر سولی پر چڑھایا گیا ، عین اس وقت جب آزمائش کا یہ پہاڑ اس مردِ مومن کے اوپر ڈھایا جارہا تھا ، پوچھا گیا : کیا تمہیں یہ پسند نہیں ہے کہ آج تمہاری جگہ ’’ محمد ‘‘ ( صلی ﷲ علیہ وسلم ) ہوتے اور تم اس مصیبت سے بچ جاتے ؟ حالانکہ ایسی مصیبت کے وقت میں دل کے اطمینان کے ساتھ زبان سے کلمۂ کفر ادا کرلینے کی بھی اجازت ہے ، ( الموسوعۃ الفقہیہ : ۶؍۱۰۷ ، مادہ اکراہ ) لیکن حضرت خبیب رضی اللہ عنہ کے جذبۂ محبت پر قربان جائیے کہ اس وقت بھی فرماتے ہیں : ’’ خدائے عظیم کی قسم ! مجھے تویہ بھی گوارا نہیں کہ اس تکلیف سے بچ جاؤں اور میرے آقا کے قدم مبارک میں ایک کانٹا بھی چبھے ‘‘ ۔ ( البدایہ والنہایہ : ۴؍۶۶ )

حضرت زید بن دثنہ رضی اللہ عنہ ابوسفیان کی گرفت میں ہیں ،( جو اس وقت تک مشرف بہ اسلام نہیں ہوئے تھے ) زید رضی اللہ عنہ کے قتل کی تیاری ہورہی ہے اور سرقلم کئے جانے کو چند لمحہ رہ گیا ہے ، اتنے میں ابوسفیان نے استفسار کیا : اے زیدؓ ! میں تم سے خدا کی قسم دے کر پوچھتا ہوں: کیا تمہیں یہ پسند نہیں کہ اس وقت تمہارے بجائے محمد ( صلی ﷲ علیہ وسلم ) یہاں ہوتے ہم ان کا سرکاٹ لئے ہوتے اور تم اپنے گھر میں آرام سے ہوتے ؟ حضرت زید نے عین تلوار کی چھاؤں میں فرمایا : ’’ مجھے تو یہ بھی پسند نہیں کہ اِس وقت میں اِس تکلیف سے بچ کر اپنے گھر میں رہوں اور رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کواپنے گھر میں رہتے ہوئے ایک کانٹا بھی چبھ جائے ‘‘ ۔( البدایہ والنہایہ : ۴؍۶۵ )

غزوۂ بدر کے موقع سے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے مقابلہ میں خود ان کے صاحبزادے آگئے ، جو ابھی کفر کی حالت میں تھے ، وقت گذرا ، یہاں تک کہ ﷲ تعالیٰ نے ان کو ایمان کی توفیق عطا فرمائی ، پھر صاحبزادے نے عرض کیا : ابا جان ! غزوۂ بدر میں ایک وقت ایسا آیا کہ آپ میرے نرغہ میں آگئے تھے ، لیکن باپ کی محبت غالب آگئی ، حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ’’ لیکن اسلام و کفر کی اس جنگ میں اگر تم میرے نرغہ میں آگئے ہوتے تو میں تمہیں معاف نہیں کرتا ‘‘ ۔( دیکھئے : الإستیعاب ، ذکر عبدالرحمن بن ابی بکر )

عبدﷲ بن ابی خود منافق تھا ، ان کے لڑکے حضرت عبدﷲ رضی اللہ عنہ مخلص مسلمان تھے ، ان پر اپنے والد کا منافق ہونا بھی ظاہر تھا ، مدینہ میں افواہ تھی کہ حضور صلی ﷲ علیہ وسلم ان کے نفاق کی وجہ سے ان کے قتل کا حکم دینے والے ہیں ، جب حضرت عبدﷲ رضی اللہ عنہ کو اس کی اطلاع ہوئی ، تو بارگاہِ نبویﷺ میں حاضر ہوئے اور عرض کیا : سنا ہے کہ آپﷺ میرے والد کے قتل کا حکم دینے والے ہیں ، اگر آپﷺ کا یہ منشاء ہوتو میں خود اپنے والد کا سرقلم کرکے آپﷺ کی خدمت میں پیش کرتا ہوں ، آپ نے منع فرمادیا ، (الروض الأنف : ۷؍۲۳) *گویا حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کی محبت اولاد اور والدین کی محبت پر غالب تھی ۔*

*حضور صلی ﷲ علیہ وسلم کی محبت کے تقاضہ میں یہ بات بھی داخل ہے کہ آپﷺ کے تمام متعلقین سے محبت ہو ، آپ اکے اہل بیت سے محبت ہو ، صحابہ کرام رضی اللہ عنھم اجمعین سے محبت ہو ، یہ محبت کا فطری تقاضہ ہے ، کہ جو چیز عزیز ہوتی ہے، اس سے تعلق رکھنے والی ساری ہی چیزیں انسان کو عزیز ہوتی ہیں ، اس لئے سلف صالحین اہل بیت سے بھی محبت رکھتے تھے اور صحابہ سے بھی ، اہل بیت سے محبت نہ ہو اور ان کی توقیر و احترام کا جذبہ نہ ہوتو یہ حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کی کما حقہ محبت سے محرومی ہے ؛* کیوں کہ اہل بیت کی محبت اس نسبت کی
حکام شریعت سے ناواقف ہو؛ لیکن اس کے سینے میں حب نبوی کی چنگاری ضرور موجود ہوتی ہے ، جو وقت پڑنے پر شعلہ ٔ و آتش بلکہ آتش فشاں بن جاتی ہے ، اس جذبۂ محبت کو حقیر نہ سمجھنا چاہئے؛ بلکہ اس کی لَو کو اور بڑھانا اور تیز کرنا چاہئے اور ہمیں اپنے آباء واجداد سے حاصل ہونے والی اس امانت کو اگلی نسلوں تک پہنچانا چاہئے ، *یہ محبت اسی وقت پروان چڑھے گی ، جب رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کی پہچان ان میں پیدا ہو اور یہ پہچان کیوں کر پیدا ہوگی اگر وہ سیرت نبوی سے آگاہ نہ ہوں؟* مقام افسوس ہے کہ ہمارے بچے رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کے بارے میں بنیادی باتوں سے بھی واقف نہیں ہیں ، انھیں صحیح طورپر آپ کا اور آپ کے قریبی متعلقین کا نام تک معلوم نہیں ، کیا اپنے بچوں کو سیرت محمدی سے واقف کرانے میں بھی ہمارے لئے کوئی رکاوٹ ہے ؟ *حق محبت کا ایک ادنیٰ حصہ بھی اسی وقت ادا ہوگا جب ہم محبت کی اس امانت کو اپنی نسلوں تک پہنچائیں گے ۔*

*_✍️ حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب دامت برکاتہم_*
(سکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ)

🎁پیشکش: *سوشل میڈیا ڈیسک آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ*
وجہ سے ہے جو انھیں حضور صلی ﷲ علیہ وسلم سے حاصل ہے، اور ان کی محبت سے محروم ہونا اس نسبت کی ناقدری ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علیؓ ، حضرت فاطمہؓ ، حضرت حسنؓ اور حضرت حسین ؓ کے بارے میں فرمایا : جس کی ان حضرات سے لڑائی ہو ، میری اس سے لڑائی ہے اور جس کی ان حضرات سے صلح ہو میری ان سے صلح ہے ’’ أنا حرب لمن حاربھم وسلم سالمھم ‘‘ (سنن ترمذی ، حدیث نمبر : ۴۹۶۵) سیدنا علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ کی محبت اور ان سے بغض کو آپ نے ایمان اور کفر کے لئے معیار بنایا ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : حضرت علی ؓ سے اسی کو محبت ہوگی جس کے اندر ایمان ہوگا ، اور حضرت علیؓ سے اسی کو بغض ہوگا جس میں نفاق ہوگا ’’ لا یجب علیاً إلا مؤمن ولا یبغضہ إلا منافق ‘‘ ( المعجم الکبیر للطبرانی ، حدیث نمبر : ۸۸۶ )

*اسی طرح رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کے صحابہ آپﷺ کے وہ رفقاء ہیں ، جنھوں نے آپﷺ کے لائے ہوئے دین کی سربلندی کے لئے اپنے جان و مال کی قربانی دی ہے ، جن کو براہِ راست صحبت ِنبوی اسے فیض اُٹھانے کا موقع ملا ہے ، جو بلا واسطہ آپﷺ کے پرداختہ اور تربیت یافتہ ہیں ، ان سے بغض رکھنا یا ان کی تنقیص کرنا دراصل بالواسطہ آپﷺ کی تربیت پر حرف گیری کرنا ہے ،* آپﷺ نے ان کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ میرے صحابہؓ کو بُرا بھلا نہ کہو ، اگر تم میں سے کوئی اُحد پہاڑ کے برابر سونا خرچ کرے تو ان کے ایک مُد یا نصف مُد خرچ کرنے کے برابر بھی نہیں ہوگا : ’’ فلو أن أحدکم أنفق مثل أحد ذھباً ما بلغ مد أحدھم ولا نصفہ ‘‘ (بخاری ، حدیث نمبر : ۷۳۳۶ ) ’’ مُد ‘‘ ایک پیمانہ ہے ، جس میں بہت کم مقدار آتی ہے ، اسی لئے اہل سنت و الجماعت کا اتفاق ہے کہ تمام صحابہ ث قابل احترام اور قابل محبت ہیں اور یہ سب کے سب مسلمانوں کی آنکھوں کا نور اور دل کا سرور ہیں ، بدقسمتی سے اِدھر کچھ عرصہ سے برصغیر میں بعض ایسی تحریریں منظر عام پر آئیں ، جن میں اہل بیت یا دوسرے صحابہؓ کے بارے میں بے توقیری اور بغض و کدورت کا رویہ اختیار کیا گیا ، *ایسی باتوں کو قبول کرنا آپﷺ کی محبت اور تعظیم و توقیر کے مغائر ہے ۔*

حضور صلی ﷲ علیہ وسلم کے متعلقین میں آپﷺ کی اُمت بھی شامل ہے ؛ کیوں کہ حضور صلی ﷲ علیہ وسلم کی نسبت نے اس اُمت کو ایک عالم گیر اور آفاقی خاندان بنادیا ہے ، جیسے انسان کو باپ دادا کے رشتہ سے وجود میں آنے والے خاندان سے محبت ہوتی ہے ، وہ ایک دوسرے کا خیر خواہ اور معاون و مددگار ہوتا ہے اور دشمنوں کے مقابلہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر کھڑا ہوجاتا ہے ، اسی طرح پوری اُمت ایک خاندان کا درجہ رکھتی ہے ، جیساکہ حضور صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تم لوگوں کے باپ کے درجہ میں ہوں (سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر: ۳۱۳) اور جیساکہ قرآن مجید کا ارشاد ہے کہ تمام اہل ایمان بھائی بھائی ہیں ۔ (حجرات:۱۰)
*افسوس کہ اُمت کے ایک وسیع خاندان ہونے کا تصور ہمارے ذہنوں سے نکل گیا اورمسلکوں ، تنظیموں ، جماعتوں ، درسگاہوں ، خانقاہی نسبتوں ، علاقوں ، زبانوں ، پیشوں اوربرادریوں کے دائرہ میں ہماری محبت سکڑ کر رہ گئی ہے ، ہم نے اس حقیقت کو بھلا دیا کہ رسول ﷲﷺ اپنی اُمت کے ایک ایک فرد سے محبت فرماتے تھے ، نہ عرب و عجم کی تفریق تھی ، نہ کالے گورے کی تمیز ، نہ مہاجرین و انصار کی تفریق ، نہ دولت مندوں اور غریبوں میں امتیاز ، یہاں تک کہ اُمت کے کسی فرد سے گناہ کا ارتکاب ہوتا تو آپﷺ کو گناہ سے نفرت ضرور ہوتی؛ لیکن آپ کا سینۂ مبارک اس گناہ گار اُمتی کی محبت سے بھی معمور ہوتا ، اگر اس کے بارے میں کوئی شخص ناروا فقرہ کہہ دیتا تو آپﷺ سخت ناراض ہوتے ، *کاش ! مسلمان اس حقیقت پر توجہ دیں کہ ہمارے نبی صلی ﷲ علیہ وسلم نے ہمیں ایک اُمت بنایا تھا؛ لیکن آج ہم نے اپنے درمیان فرقہ واریت اور گروہ بندی کی اتنی اونچی دیوار کھینچ لی ہے کہ ہم ایک دوسرے کو دیکھنے سے بھی قاصر ہیں ، حضور صلی ﷲ علیہ وسلم سے محبت کے تقاضوں میں یہ بات شامل ہے کہ ہمیں اس پوری اُمت سے بھی محبت ہو ، جس اُمت کی تشکیل آپﷺ کے مبارک ہاتھوں سے ہوئی ۔*

*_بہر حال نبی سے اُمت کا تعلق محض قانونی اطاعت اور آئینی احترام کا نہیں ہے ؛ بلکہ ضروری ہے کہ اس کے پیچھے بے پناہ محبت کار فرما ہو ، ایسی محبت کہ انسان لٹ کر محسوس کرے کہ اس نے پایا ہے ، ایسی محبت کہ انسان کھو کر سمجھے کہ اس نے حاصل کیا ہے ، ایسی محبت جس میں کانٹوں کا بستر پھولوں کی سیج کا لطف دے اور شعلہ و آتش کے فرش میں بھی انسان شبنم کی خنکی محسوس کرے ، جنون کو چھوتی ہوئی محبت اور فدا کاری کے جذبہ سے معمور اتھاہ چاہت ، یہی محبت آپ صلی ﷲ علیہ وسلم سے حضرات صحابہؓ کی تھی ۔_*
یہ حب نبویﷺ ایمان کی حفاظت کا بہت بڑا اثاثہ ہے ، ﷲ کا شکر ہے کہ مسلمان کتنا بھی گیا گذرا ہو ، بے نمازی ہو ، فرائض سے غافل ہو ، شراب و کباب جیسی بری عادتوں میں مبتلا ہو ، دین سے نابلد اور ا
آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کی سوشل میڈیا ڈیسک(AIMPLB) کی جانب سے ٹویٹر ٹرینڈ کا اعلان

ناموس رسالت کی حفاظت ہمارا دینی اور ایمانی فریضہ ہے، حضور اکرم ﷺ ہمیں اپنی اولاد ،والدین اور اپنی جانوں سے زیادہ عزیز اور محبوب ہیں۔ ان کی شان اقدس میں کسی بھی طرح کی گستاخی ناقابل برداشت ہے۔ آئے دن رسول اللہ ﷺ کی شان میں گستاخی کے واقعات سامنے آرہے ہیں ۔ چاہے وہ گستاخیاں کارٹون کے ذریعہ ہوں جیسے فرانس کے بدنام زمانہ میگزین چارلی ہیبدو نے سن ۲۰۰۶ اور ۲۰۱۳ میں رسول اللہ ﷺ کے بارے میں کارٹون شائع کیا تھا ۔ یا پھر کبھی نازیبا بیانات کی شکل میں ۔ جیسے ابھی حال ہی میں فرانس کے صدر میکرون نے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف دل آزار بیان دیا، اور فرانس کی مختلف عمارتوں پر گستاخانہ خاکے آویزاں کیےگئے،
چونکہ یہ ربیع الاول کا مہینہ چل رہا ہے اس ماہ کی نسبت سرور کائنات ﷺ کے ساتھ ہے کیونکہ اسی ماہ ربیع الاول میں آپ ﷺ کی ولادت بھی ہوئی اور آپ کی وفات بھی ۔ اسی نسبت سے رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات اور سیرت طیبہ کو عام کرنے کےغرض سےدعوتی نقطہ نظرکو پیش نظر رکھتے ہوئےسوشل میڈیا ڈیسک آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی طرف سے Twitter پر ٹرینڈ رکھا جا رہا ہے ۔ ان شاءاللہ یہ اقدام گستاخانہ خاکوں اور حرکتوں کا مثبت جواب ھوگا۔

ٹرینڈ کیلئے۱۱ ربیع الاول مطابق ۲۹ اکتوبر بروز جمعرات شام سات بجے کا وقت طے کیا گیا ھے۔ وقت سے پہلے پیش ٹیگ کا اعلان کیا جائے گا ان شاءاللہ۔ تمام برادران اسلام سے گذارش ہے کہ اس ٹرینڈ میں بھرپور حصہ لیکر محبت رسول ﷺ کا ثبوت دیں ۔

والسلام

✍🏼 منجانب : محمدعمرین محفوظ رحمانی
( انچارج سوشل میڈیا ڈیسک آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ)

https://twitter.com/AIMPLB_Official?s=09
*All India Muslim Personal Law Board ke Social Media Desk (AIMPLB)* ki jaanib se *Twitter Trend* ka elaan

Namoos-E-risalat ki hifazat hamara deeni aur imani fareeza hai, Huzoor akram SAW hamen apni aulad,waledain aur apni jaano se zyada azeez aur mehboob Hain. Inki shaan-e-aqdas me kisi bhi tarah ki gustakhi na qabile bardasht hai. Aaye din Rasool Allah SAW ki shaan me gustakhi ke Waqeat samne aarahe hain. Chahe wo gustakhiyan cartoon ke zariye ho jaise France ke badnaam zamana magazine charliehedro ne 2006 aur 2013 me Rasool Allah SAW ke baare me cartoon shaye kiya tha.Ya phir kabhi nazeba bayanat ki shakl me jaise abhi haal hi me france ke president Macron ne Islam aur musalmano ke khilaaf dil aazar bayan diya, aur France ki mukhtalif imaarto pr gustakhana posters aawaza kiye gaye, chunke ye rabeulawwal ka mahena chal raha hai is maah ki nisbat sarwa-E-kaenat SAW ke saath hai kyunki isi maah rabeulawwal men Huzoor SAW ki wiladat bhi hui aur aapki wafat bhi. Isi nisbat se Rasool Allah SAW ki taalemat aur seerat-E-tayyaba ko aam krne ki garz se daawati nuqta nazar ko pesh nazar rakhte hue Social Media Desk All India Muslim Personal Law Board ke taraf se Twitter pr Trend rakha ja raha hai. In sha Allah ye qadam gustakhana posters aur harkato ka positive jawab hoga.

Trend ke liye 11 rabeulawwal, 29 october baroz jumerat sham 7 baje ka waqt tai kiya gaya hai.Waqt se pahle #hashtag ka elaan kiya jayega in sha Allah. Tamaam Baradran Islam se guzarish hai ke is trend me bharpoor hissa lekr mubatt-E-Rasool SAW ka saboot den.

Wassalam

Minjabib : Mohammed Umrain Mehfooz Rahmani
Incharge Social Media Desk All India Muslim Personal Law Board

https://twitter.com/AIMPLB_Official?s=09
*आॅल इंडिया मुस्लिम पर्सनल लॉ बोर्ड के सोशल मीडिया डेस्क (AIMPLB) की जानिब से ट्विटर ट्रेंड की घोषणा*

पैग़म्बर ﷺ के सम्मान की रक्षा करना हमारा दीनी एवं ईमानी कर्तव्य है। हुज़ूर अकरम ﷺ हमारे बच्चों, माता-पिता और हमारे जीवन की तुलना में हमारे लिए सर्वाधिक प्रिय हैं। उनके पवित्र व्यक्तित्व के बारे में किसी भी प्रकार के अपशब्द असहनीय हैं। आए दिन पवित्र पैग़म्बर के बारे में अशोभनीय टिप्पणियों की घटनाएं प्रकाश में आ रही हैं। कभी कभी अपमान कार्टून के माध्यम से हो रहा है जैसा कि फ्रांसीसी पत्रिका चार्ली हेब्दो ने वर्ष 2006 और 2013 में पैग़म्बर के बारे में कार्टून प्रकाशित किया था या कभी कभी अशिष्ट कथनों के रूप में जैसा कि हाल ही में फ्रांस के राष्ट्रपति मैक्रोन ने इस्लाम और मुस्लिमों के ख़िलाफ़ एक हृदयविदारक भाषण दिया और फ्रांस के विभिन्न भवनों पर ईश निंदा के निशान लगाए गए। चूंकि यह रबी उल अव्वल का महीना चल रहा है, यह महीना सरवर ए कायनात ﷺ से संबंधित है क्योंकि इसी महीने रबी उल अव्वल में आप ﷺ पैदा भी हुए और आपकी मृत्यु भी हुयी। इस संबंध में पवित्र पैग़म्बर ﷺ की शिक्षाओं और सीरत-ए-तय्यबा (पैगंबर ﷺ की जीवनी )को लोकप्रिय बनाने के लिए निमन्त्रण के दृष्टिकोण को ध्यान में रखते हुए सोशल मीडिया डेस्क ऑल इंडिया मुस्लिम पर्सनल लॉ बोर्ड द्वारा ट्विटर पर एक ट्रेंड रखा जा रहा है। इंशाअल्लाह यह क़दम निन्दात्मक रेखाचित्रों और कार्यों के लिए एक सकारात्मक प्रतिक्रिया होगी।
ट्रेंड के लिए 11 रबी उल अव्वल, 29 अक्टूबर दिन गुरुवार को शाम 7 बजे ट्रेंड का समय निर्धारित किया गया है। समय से पूर्व हैश टैग की घोषणा कर दी जाएगी इंशाअल्लाह। सभी मुस्लिम भाइयों से विनम्रतापूर्वक अनुरोध है कि वे इस ट्रेंड में भरपूर हिस्सा लें और पैग़म्बर ﷺ के प्रति अपने सच्चे प्रेम को सिद्ध करें।

वस्सलाम

प्रेषक : मुहम्मद उमरैन महफ़ुज़ रहमानी
प्रभारी सोशल मीडिया डेस्क ऑल इंडिया मुस्लिम पर्सनल लॉ बोर्ड

https://twitter.com/AIMPLB_Official?s=09