This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
پولییسٹر رضائی کے بچوں کے لیے نقصانات
#ParentGuide
https://t.me/parentguide
https://fb.watch/FnDPweQ3MN/
#ParentGuide
https://t.me/parentguide
https://fb.watch/FnDPweQ3MN/
دنیا کے کن ممالک میں بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی ہے؟
دنیا بھر کے ممالک بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر مختلف قسم کی پابندیاں عائد کر رہے ہیں جن میں ایک خاص عمر سے کم بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال کو ممنوع قرار دیا جا رہا ہے۔
روئٹرز
دنیا بھر کے ممالک بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر مختلف قسم کی پابندیاں عائد کر رہے ہیں جن میں ایک خاص عمر سے کم بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال کو ممنوع قرار دیا جا رہا ہے یا استعمال کی اجازت والدین کی مرضی سے مشروط کی گئی ہے۔
اس رپورٹ میں ہم ان ممالک کا ایک جائزہ لیں گے جہاں سوشل میڈیا پر عمر کو مدنظر رکھ کر پابندی عائد کی گئی ہے۔
آسٹریلیا میں قانون سازی کے بعد گذشتہ سال دسمبر سے 16 سال سے کم عمر بچوں پر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پابندی لگائی جا چکی ہے۔ جو کمپنیاں اس قانون پر عمل نہیں کریں گی انہیں تقریباً پانچ کروڑ آسٹریلین ڈالرز تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔
برطانیہ میں بھی حکومت نے سوشل میڈیا کمپنیز کو خواتین پر تشدد کے خلاف ایمرجنسی اقدامات اٹھانے کے احکامات دیے ہیں۔ جبکہ 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے اے آئی بوٹس کے استعمال کے لیے قوانین سخت کیے جا رہے ہیں۔
چین میں بھی سائبر سپیس ریگولیٹر نے ’مائنر موڈ‘ کے نام سے ایک پروگرام نافذ کیا ہے، جس کے تحت ڈیوائس پر پابندیاں اور ایپس کے لیے مخصوص قواعد لاگو کیے گئے ہیں، تاکہ عمر کے مطابق سکرین ٹائم کو محدود کیا جا سکے۔
ڈنمارک نے نومبر میں اعلان کیا کہ وہ 15 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی عائد کرے گا، تاہم والدین کی اجازت سے 13 سال کی عمر کے بچوں کو محدود رسائی دی جا سکے گی۔
فرانس کی قومی اسمبلی نے جنوری میں ایک بل منظور کیا، جس کے تحت 15 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی ہوگی۔ تاہم قانون بننے کے لیے اس بل کو سینیٹ اور پھر نچلے ایوان سے حتمی منظوری درکار ہے۔
جرمنی میں 13 سے 16 سال کے بچوں کو سوشل میڈیا استعمال کے لیے والدین کی اجازت ضروری ہے، لیکن بچوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے حلقوں کا کہنا ہے کہ موجودہ قوانین ناکافی ہیں۔
یونان بھی اسی طرح کے اقدامات کے قریب ہے، اور فروری کے اوائل میں ایک حکومتی عہدیدار نے بتایا کہ حکومت 15 سال سے کم عمر بچوں پر پابندی کے اعلان کے بہت قریب ہے۔
انڈیا میں چیف اکنامک ایڈوائزر نے جنوری میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو ’شکاری‘ قرار دیتے ہوئے عمر کی پابندیوں کی سفارش کی، جبکہ ریاست گوا نے بھی آسٹریلیا کی طرز پر پابندیوں پر غور شروع کر رکھا ہے۔
اٹلی میں 14 سال سے کم عمر بچوں کو سوشل میڈیا اکاؤنٹ بنانے کے لیے والدین کی اجازت لازمی ہے، جبکہ اس سے زیادہ عمر کے لیے اجازت ضروری نہیں۔
ملائیشیا بھی 2026 سے 16 سال سے کم عمر صارفین کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی نافذ کر چکا ہے۔
ناروے کی حکومت نے اکتوبر 2024 میں تجویز دی کہ سوشل میڈیا استعمال کے لیے کم از کم عمر 13 سے بڑھا کر 15 سال کی جائے، جبکہ حکومت 15 سال کی مکمل کم از کم حد مقرر کرنے کے قانون پر بھی کام کر رہی ہے۔
سلووینیا بھی قانون تیار کر رہا ہے جس کے تحت 15 سال سے کم عمر بچوں کو سوشل میڈیا سے روکا جائے گا، نائب وزیراعظم میٹیج آرکون نے 6 فروری کو بتایا۔
سپین کے وزیراعظم پیڈرو سانچیز نے اعلان کیا کہ 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی عائد کی جائے گی، اور پلیٹ فارمز کو عمر کی تصدیق کے نظام متعارف کرانے ہوں گے، تاہم اس قانون کو پارلیمنٹ کی منظوری درکار ہو سکتی ہے۔
امریکہ میں پہلے سے موجود قوانین کے تحت کمپنیوں کو 13 سال سے کم عمر بچوں کا ڈیٹا والدین کی اجازت کے بغیر جمع کرنے سے روکا گیا ہے۔ کئی ریاستوں نے بھی والدین کی اجازت لازمی قرار دی ہے، تاہم ان قوانین کو عدالتوں میں چیلنج کیا جا رہا ہے۔
ادھر یورپی پارلیمنٹ بھی نومبر میں ایک قرارداد منظورکر چکی ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر 16 سال مقرر کرنے کی سفارش کی گئی، جبکہ پوری یورپی یونین میں کم از کم ڈیجیٹل عمر 13 سال مقرر کرنے پر بھی زور دیا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ اقدامات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ دنیا بھر کی حکومتیں بچوں کو آن لائن خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے سوشل میڈیا پر سخت کنٹرول کی طرف تیزی سے بڑھ رہی ہیں
https://www.independenturdu.com/node/184715
دنیا بھر کے ممالک بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر مختلف قسم کی پابندیاں عائد کر رہے ہیں جن میں ایک خاص عمر سے کم بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال کو ممنوع قرار دیا جا رہا ہے۔
روئٹرز
دنیا بھر کے ممالک بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر مختلف قسم کی پابندیاں عائد کر رہے ہیں جن میں ایک خاص عمر سے کم بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال کو ممنوع قرار دیا جا رہا ہے یا استعمال کی اجازت والدین کی مرضی سے مشروط کی گئی ہے۔
اس رپورٹ میں ہم ان ممالک کا ایک جائزہ لیں گے جہاں سوشل میڈیا پر عمر کو مدنظر رکھ کر پابندی عائد کی گئی ہے۔
آسٹریلیا میں قانون سازی کے بعد گذشتہ سال دسمبر سے 16 سال سے کم عمر بچوں پر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پابندی لگائی جا چکی ہے۔ جو کمپنیاں اس قانون پر عمل نہیں کریں گی انہیں تقریباً پانچ کروڑ آسٹریلین ڈالرز تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔
برطانیہ میں بھی حکومت نے سوشل میڈیا کمپنیز کو خواتین پر تشدد کے خلاف ایمرجنسی اقدامات اٹھانے کے احکامات دیے ہیں۔ جبکہ 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے اے آئی بوٹس کے استعمال کے لیے قوانین سخت کیے جا رہے ہیں۔
چین میں بھی سائبر سپیس ریگولیٹر نے ’مائنر موڈ‘ کے نام سے ایک پروگرام نافذ کیا ہے، جس کے تحت ڈیوائس پر پابندیاں اور ایپس کے لیے مخصوص قواعد لاگو کیے گئے ہیں، تاکہ عمر کے مطابق سکرین ٹائم کو محدود کیا جا سکے۔
ڈنمارک نے نومبر میں اعلان کیا کہ وہ 15 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی عائد کرے گا، تاہم والدین کی اجازت سے 13 سال کی عمر کے بچوں کو محدود رسائی دی جا سکے گی۔
فرانس کی قومی اسمبلی نے جنوری میں ایک بل منظور کیا، جس کے تحت 15 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی ہوگی۔ تاہم قانون بننے کے لیے اس بل کو سینیٹ اور پھر نچلے ایوان سے حتمی منظوری درکار ہے۔
جرمنی میں 13 سے 16 سال کے بچوں کو سوشل میڈیا استعمال کے لیے والدین کی اجازت ضروری ہے، لیکن بچوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے حلقوں کا کہنا ہے کہ موجودہ قوانین ناکافی ہیں۔
یونان بھی اسی طرح کے اقدامات کے قریب ہے، اور فروری کے اوائل میں ایک حکومتی عہدیدار نے بتایا کہ حکومت 15 سال سے کم عمر بچوں پر پابندی کے اعلان کے بہت قریب ہے۔
انڈیا میں چیف اکنامک ایڈوائزر نے جنوری میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو ’شکاری‘ قرار دیتے ہوئے عمر کی پابندیوں کی سفارش کی، جبکہ ریاست گوا نے بھی آسٹریلیا کی طرز پر پابندیوں پر غور شروع کر رکھا ہے۔
اٹلی میں 14 سال سے کم عمر بچوں کو سوشل میڈیا اکاؤنٹ بنانے کے لیے والدین کی اجازت لازمی ہے، جبکہ اس سے زیادہ عمر کے لیے اجازت ضروری نہیں۔
ملائیشیا بھی 2026 سے 16 سال سے کم عمر صارفین کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی نافذ کر چکا ہے۔
ناروے کی حکومت نے اکتوبر 2024 میں تجویز دی کہ سوشل میڈیا استعمال کے لیے کم از کم عمر 13 سے بڑھا کر 15 سال کی جائے، جبکہ حکومت 15 سال کی مکمل کم از کم حد مقرر کرنے کے قانون پر بھی کام کر رہی ہے۔
سلووینیا بھی قانون تیار کر رہا ہے جس کے تحت 15 سال سے کم عمر بچوں کو سوشل میڈیا سے روکا جائے گا، نائب وزیراعظم میٹیج آرکون نے 6 فروری کو بتایا۔
سپین کے وزیراعظم پیڈرو سانچیز نے اعلان کیا کہ 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی عائد کی جائے گی، اور پلیٹ فارمز کو عمر کی تصدیق کے نظام متعارف کرانے ہوں گے، تاہم اس قانون کو پارلیمنٹ کی منظوری درکار ہو سکتی ہے۔
امریکہ میں پہلے سے موجود قوانین کے تحت کمپنیوں کو 13 سال سے کم عمر بچوں کا ڈیٹا والدین کی اجازت کے بغیر جمع کرنے سے روکا گیا ہے۔ کئی ریاستوں نے بھی والدین کی اجازت لازمی قرار دی ہے، تاہم ان قوانین کو عدالتوں میں چیلنج کیا جا رہا ہے۔
ادھر یورپی پارلیمنٹ بھی نومبر میں ایک قرارداد منظورکر چکی ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر 16 سال مقرر کرنے کی سفارش کی گئی، جبکہ پوری یورپی یونین میں کم از کم ڈیجیٹل عمر 13 سال مقرر کرنے پر بھی زور دیا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ اقدامات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ دنیا بھر کی حکومتیں بچوں کو آن لائن خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے سوشل میڈیا پر سخت کنٹرول کی طرف تیزی سے بڑھ رہی ہیں
https://www.independenturdu.com/node/184715
Independent Urdu
دنیا کے کن ممالک میں بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی ہے؟
دنیا بھر کے ممالک بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر مختلف قسم کی پابندیاں عائد کر رہے ہیں جن میں ایک خاص عمر سے کم بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال کو ممنوع قرار دیا جا رہا ہے یا استعمال کی اجازت والدین
امریکہ میں علمی عصبیات (Cognitive Neuroscience) کے ماہر ڈاکٹر جیئرڈ کونی ہوروَتھ (Dr. Jared Cooney Horvath) نے ۱۵ جنوری ۲۰۲۶ء کو امریکی سینیٹ میں بات کرتے ہوئے کہا:
’’ایک افسوسناک حقیقت جس کا ہماری نسل کو سامنا ہے وہ یہ ہے کہ ہمارے بچے اس عمر میں ہم سے کم ذہنی صلاحیت کے حامل ہیں۔
……جدید تاریخ میں جنریشن زی (Gen Z) پہلی ایسی نسل ہے جو ہمارے پاس موجود تقریباً ہر ذہنی پیمانے پر ہم سے کم کارکردگی دکھا رہی ہے، بنیادی توجہ، یادداشت، خواندگی، عددی فہم، انتظامی ذہنی افعال، حتیٰ کہ عمومی آئی کیو میں بھی، حالانکہ یہ نسل سکول میں ہم سے زیادہ وقت گزارتی ہے۔ ‘‘
اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے وہ کہتا ہے اس مسئلے کی جڑ سکولوں میں سیکھنے کے عمل کو آگے بڑھانے والے ٹولز ہیں۔ اس کے بقول:
’’۸۰ ممالک کے اعداد و شمار پر اگر نظر ڈالیں تو جیسے ہی اسکولوں میں ڈجیٹل ٹیکنالوجی کو بڑے پیمانے پر اپنایا جاتا ہے، کارکردگی نمایاں طور پر کم ہو جاتی ہے۔ یہاں تک کہ وہ بچے جو تعلیمی مقاصد کے لیے روزانہ تقریباً پانچ گھنٹے کمپیوٹر استعمال کرتے ہیں، ان بچوں کے مقابلے میں، جو اسکول میں شاذ و نادر یا بالکل ٹیکنالوجی استعمال نہیں کرتے، معیاری پیمانے پر دو تہائی سے زیادہ درجے کم اسکور کرتے ہیں۔ ‘‘1Lawmakers Hold Hearing on the Impact of Screen Time on Kids – C-SPAN: January 15, 2026
#ParentGuide
فیسبک پیج
https://www.facebook.com/parentguidenmore
ٹیلی گرام
https://t.me/parentguide
واٹس ایپ
https://whatsapp.com/channel/0029Vb88UmR5Ui2eQdx2mk3B
’’ایک افسوسناک حقیقت جس کا ہماری نسل کو سامنا ہے وہ یہ ہے کہ ہمارے بچے اس عمر میں ہم سے کم ذہنی صلاحیت کے حامل ہیں۔
……جدید تاریخ میں جنریشن زی (Gen Z) پہلی ایسی نسل ہے جو ہمارے پاس موجود تقریباً ہر ذہنی پیمانے پر ہم سے کم کارکردگی دکھا رہی ہے، بنیادی توجہ، یادداشت، خواندگی، عددی فہم، انتظامی ذہنی افعال، حتیٰ کہ عمومی آئی کیو میں بھی، حالانکہ یہ نسل سکول میں ہم سے زیادہ وقت گزارتی ہے۔ ‘‘
اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے وہ کہتا ہے اس مسئلے کی جڑ سکولوں میں سیکھنے کے عمل کو آگے بڑھانے والے ٹولز ہیں۔ اس کے بقول:
’’۸۰ ممالک کے اعداد و شمار پر اگر نظر ڈالیں تو جیسے ہی اسکولوں میں ڈجیٹل ٹیکنالوجی کو بڑے پیمانے پر اپنایا جاتا ہے، کارکردگی نمایاں طور پر کم ہو جاتی ہے۔ یہاں تک کہ وہ بچے جو تعلیمی مقاصد کے لیے روزانہ تقریباً پانچ گھنٹے کمپیوٹر استعمال کرتے ہیں، ان بچوں کے مقابلے میں، جو اسکول میں شاذ و نادر یا بالکل ٹیکنالوجی استعمال نہیں کرتے، معیاری پیمانے پر دو تہائی سے زیادہ درجے کم اسکور کرتے ہیں۔ ‘‘1Lawmakers Hold Hearing on the Impact of Screen Time on Kids – C-SPAN: January 15, 2026
#ParentGuide
فیسبک پیج
https://www.facebook.com/parentguidenmore
ٹیلی گرام
https://t.me/parentguide
واٹس ایپ
https://whatsapp.com/channel/0029Vb88UmR5Ui2eQdx2mk3B
Parent Guide
Photo
کیا آپ بیٹھے بیٹھے پہاڑ جتنی نیکی کمانا چاہتے ہیں ؟
!! اگر ہاں تو اس پوسٹ کو شئیر کریں
اس بچے کا نام زاہد ہے،زاہد کی عمر چھ یا سات سال تھی،سال 2005 میں اپنی بہن کے ساتھ بکریاں چرانے گیا تھا۔ گھر لوٹتے ہوئے زاہد بہن سے الگ ہوا۔ بہن بکریوں کے پیچھے گئی ۔ زاہد گھر کا راستہ بھول گیا۔
رونا شروع کیا تو ایک شخص نے آکر پوچھا بیٹا کیا ہوا؟ زاہد نے کہا گھر نہیں مل رہا۔
اس شخص نے زاہد کو کہا بیٹا چلو تمہیں گھر پہنچاتا ہوں۔ زاہد خوشی خوشی ساتھ چلا۔
گھر کے بجائے وہ ظالم انسان ٹرین اسٹیشن آیا اور زاہد کو ٹرین میں ساتھ بٹھاکر کسی اور شہر لے گیا۔ زاہد کو ایک گھر میں لاکر بند کیا،اس گھر میں ایک خاتون بھی تھی۔
زاہد کا کہنا ہے کہ میں دو دنوں تک امی ابو کو یاد کرکے روتا رہا۔ ان سے منتیں کرتا رہا مجھے امی کے پاس لےچلو- مجھے جیسے ہی موقع ملا اس گھر سے فرار ہوگیا۔
فرار ہوکر شہر کی طرف آیا تو ایک صاحب کے ہاتھ لگا انہوں نے چند روز کوشش کی میرے گھر والوں کو ڈھونڈنے کی۔گھر والے نہیں ملے ۔ پھر مجھے وہ ملتان کے ایک شیلٹر میں چھوڑ کر گیا۔
میں نے اپنی فائل نکال کر دیکھی تو اس میں ملتان کے شیلٹر میں داخلے کی تاریخ 22 نومبر 2005 ہے۔
زاہد کو ملتان سے سینکڑوں کلو میٹر دور ایک اور شہر کے شیلٹر بھیج دیا گیا تھا- جہاں اس نے بیس سال کاٹے۔ اور آج وہ چوبیس پچیس سال کا جوان ہے۔
زاہد کو اب بمشکل رہائش ملی ہے۔ ماہانہ چھ ہزار روپے کے عوض کام لیا جارہا ہے۔ اور رہائش دی ہے۔ اپنا دکھ کسی سے بیان نہیں کرسکتا۔
گھر کے تمام افراد کے نام یاد ہیں۔ اپنا شہر اور علاقہ معلوم نہیں ہے۔
زاہد کے والد کا نام بدر اور والدہ کا نام ثمینہ ہے۔
دو بھائی ہیں ایک کا نام عادل اور دوسرے کا نام زاہد ہے۔ چار بہنیں ہیں۔ سلمیٰ ، عظمی، ثناء اور بانو۔
اور اتنا یاد ہے کہ پھوپھی کا گھر نیچے تھا اور انکا گھر اوپر تھا۔ گھر کے قریب کوئی اسکول تھا۔ مزید کسی رشتے دار یا جگہے کا نام معلوم نہیں ہے۔
آپ تمام دوستوں سے اپیل ہے کہ خدارا اس پوسٹ کو پاکستان کے کوچے کوچے میں پھیلا دیں ۔ فیملی ممبرز کے نام یاد ہیں یہ اس کیس کے کامیاب ہونے کے لیے کافی ہے۔
ان شاءاللہ آپ کا ایک شئیر کسی اجڑے چمن کو پھر سے آباد کرسکتا ہے۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر واٹس ایپ کریں۔
+923162529829
7 mar 2026
#waliullahmaroof #missingchildren
#punjab
فیسبک پیج
https://www.facebook.com/parentguidenmore
ٹیلی گرام
https://t.me/parentguide
واٹس ایپ
https://whatsapp.com/channel/0029Vb88UmR5Ui2eQdx2mk3B
!! اگر ہاں تو اس پوسٹ کو شئیر کریں
اس بچے کا نام زاہد ہے،زاہد کی عمر چھ یا سات سال تھی،سال 2005 میں اپنی بہن کے ساتھ بکریاں چرانے گیا تھا۔ گھر لوٹتے ہوئے زاہد بہن سے الگ ہوا۔ بہن بکریوں کے پیچھے گئی ۔ زاہد گھر کا راستہ بھول گیا۔
رونا شروع کیا تو ایک شخص نے آکر پوچھا بیٹا کیا ہوا؟ زاہد نے کہا گھر نہیں مل رہا۔
اس شخص نے زاہد کو کہا بیٹا چلو تمہیں گھر پہنچاتا ہوں۔ زاہد خوشی خوشی ساتھ چلا۔
گھر کے بجائے وہ ظالم انسان ٹرین اسٹیشن آیا اور زاہد کو ٹرین میں ساتھ بٹھاکر کسی اور شہر لے گیا۔ زاہد کو ایک گھر میں لاکر بند کیا،اس گھر میں ایک خاتون بھی تھی۔
زاہد کا کہنا ہے کہ میں دو دنوں تک امی ابو کو یاد کرکے روتا رہا۔ ان سے منتیں کرتا رہا مجھے امی کے پاس لےچلو- مجھے جیسے ہی موقع ملا اس گھر سے فرار ہوگیا۔
فرار ہوکر شہر کی طرف آیا تو ایک صاحب کے ہاتھ لگا انہوں نے چند روز کوشش کی میرے گھر والوں کو ڈھونڈنے کی۔گھر والے نہیں ملے ۔ پھر مجھے وہ ملتان کے ایک شیلٹر میں چھوڑ کر گیا۔
میں نے اپنی فائل نکال کر دیکھی تو اس میں ملتان کے شیلٹر میں داخلے کی تاریخ 22 نومبر 2005 ہے۔
زاہد کو ملتان سے سینکڑوں کلو میٹر دور ایک اور شہر کے شیلٹر بھیج دیا گیا تھا- جہاں اس نے بیس سال کاٹے۔ اور آج وہ چوبیس پچیس سال کا جوان ہے۔
زاہد کو اب بمشکل رہائش ملی ہے۔ ماہانہ چھ ہزار روپے کے عوض کام لیا جارہا ہے۔ اور رہائش دی ہے۔ اپنا دکھ کسی سے بیان نہیں کرسکتا۔
گھر کے تمام افراد کے نام یاد ہیں۔ اپنا شہر اور علاقہ معلوم نہیں ہے۔
زاہد کے والد کا نام بدر اور والدہ کا نام ثمینہ ہے۔
دو بھائی ہیں ایک کا نام عادل اور دوسرے کا نام زاہد ہے۔ چار بہنیں ہیں۔ سلمیٰ ، عظمی، ثناء اور بانو۔
اور اتنا یاد ہے کہ پھوپھی کا گھر نیچے تھا اور انکا گھر اوپر تھا۔ گھر کے قریب کوئی اسکول تھا۔ مزید کسی رشتے دار یا جگہے کا نام معلوم نہیں ہے۔
آپ تمام دوستوں سے اپیل ہے کہ خدارا اس پوسٹ کو پاکستان کے کوچے کوچے میں پھیلا دیں ۔ فیملی ممبرز کے نام یاد ہیں یہ اس کیس کے کامیاب ہونے کے لیے کافی ہے۔
ان شاءاللہ آپ کا ایک شئیر کسی اجڑے چمن کو پھر سے آباد کرسکتا ہے۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر واٹس ایپ کریں۔
+923162529829
7 mar 2026
#waliullahmaroof #missingchildren
#punjab
فیسبک پیج
https://www.facebook.com/parentguidenmore
ٹیلی گرام
https://t.me/parentguide
واٹس ایپ
https://whatsapp.com/channel/0029Vb88UmR5Ui2eQdx2mk3B
ہمارا واٹس ایپ چینل ضرور جوائن کرلیں
https://whatsapp.com/channel/0029Vb88UmR5Ui2eQdx2mk3B
https://whatsapp.com/channel/0029Vb88UmR5Ui2eQdx2mk3B
Media is too big
VIEW IN TELEGRAM
اپنے بچوں کا بچپن اور مستقبل محفوظ بنائیں۔ اے آئی کیا بلا ہے ، کتنی خطرناک ہوسکتی ہے اسکے متعلق کچھ تحقیق کرلیں اپکو سمجھ آجائے گی کہ آنے والے وقتوں میں یہ کیسا فساد برپا کرے گا۔
#AI #parentingtips
فیسبک پیج
https://www.facebook.com/parentguidenmore
ٹیلی گرام
https://t.me/parentguide
واٹس ایپ
https://whatsapp.com/channel/0029Vb88UmR5Ui2eQdx2mk3B
#AI #parentingtips
فیسبک پیج
https://www.facebook.com/parentguidenmore
ٹیلی گرام
https://t.me/parentguide
واٹس ایپ
https://whatsapp.com/channel/0029Vb88UmR5Ui2eQdx2mk3B
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Poisonous Parenting
زہریلی تربیت
#ParentGuide #parentingtips
فیسبک پیج
https://www.facebook.com/parentguidenmore
ٹیلی گرام
https://t.me/parentguide
واٹس ایپ
https://whatsapp.com/channel/0029Vb88UmR5Ui2eQdx2mk3B
زہریلی تربیت
#ParentGuide #parentingtips
فیسبک پیج
https://www.facebook.com/parentguidenmore
ٹیلی گرام
https://t.me/parentguide
واٹس ایپ
https://whatsapp.com/channel/0029Vb88UmR5Ui2eQdx2mk3B
جرمنی میں بچوں کے جسم میں پلاسٹیسائزرز کی موجودگی کا انکشاف
رابعہ بگٹی مارٹن کیوبلر، ڈی ڈبلیو
پلاسٹیسائزر کیا ہیں اور کیا یہ ہماری صحت کے لیے نقصان دہ ہیں؟
https://p.dw.com/p/5ADna
جرمنی میں کیے گئے ٹیسٹوں میں انکشاف ہوا ہے کہ بچوں اور نوعمروں کے جسموں میں ممنوعہ پلاسٹیسائزرز کے آثار پائے گئے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ آپ نے ممکنہ طور پر ان زہریلے کیمیکلز کے بارے میں کبھی نہ سنا ہو، لیکن یہ تقریباً ہر جگہ موجود ہوتے ہیں، حتیٰ کہ کپڑوں، کاسمیٹکس اور پیکنگ میٹیریئل میں بھی۔
پلاسٹیسائزر کیا ہیں؟
پلاسٹیسائزر کو عام الفاظ میں اس طرح بیان کیا جا سکتا ہے کہ یہ وہ کیمیکلز ہوتے ہیں جنہیں پلاسٹک اور ربڑ میں شامل کیا جاتا ہے تاکہ انہیں نرم اور آسانی سے موڑنے کے قابل بنایا جا سکے۔ یہ روزمرہ استعمال کی بے شمار اشیاءمیں پائے جاتے ہیں، مثلاً پلاسٹک کے پردے، پلاسٹک پیکنگ، پی وی سی کے رین کوٹ، گھروں میں استعمال ہونے والی لچکدار پائپس اور تاروں کی انسولیشن وغیرہ میں بھی۔
پلاسٹیسائزرز کو بعض اوقات فتھالیٹس بھی کہا جاتا ہے۔ یہ کاسمیٹکس جیسے نیل پالش، لوشن اور شیمپو وغیرہ میں بھی موجود ہوتا ہے۔ پلاسٹیسائزرز ایسی مصنوعات کو خراب ہونے سے بچاتے ہیں اور ان کی شکل و ساخت برقرار رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔ یہ لوشن اور کریم جیسی اشیاء کو پانی سے بچانے اور زیادہ دیر تک قابلِ استعمال بنانے میں بھی مدد دیتے ہیں۔
ان میں سے بعض پلاسٹیسائزرز کے استعمال اور مقدار پر یورپی یونین، امریکہ، کینیڈا اور جاپان میں صحت اور ماحول پر ممکنہ نقصان دہ اثرات کے باعث پابندی یا سخت پابندیاں عائد کی جا چکی ہیں، تاہم دنیا کے دیگر حصوں میں یہ اب بھی بڑے پیمانے پر استعمال ہو رہے ہیں۔
جرمنی، بچوں میں پلاسٹیسائزر کی موجودگی
اگرچہ بچوں کے کھلونوں میں پلاسٹیسائزر کے استعمال پر سخت پابندیاں ہیں، لیکن حالیہ برسوں میں جرمن محققین نے چھوٹے بچوں میں ایک ایسے پلاسٹیسائزر کی غیر معمولی زیادہ مقدار کا انکشاف کیا ہے، جو بہت سختی سے کنٹرول کیا جاتا ہے۔
گزشتہ سال کے موسم بہار اور گرمیوں کے دوران جرمنی بھر سے 259 بچوں اور نوعمر افراد کے پیشاب کے نمونے لیے گئے۔ ان میں سے 92 فیصد نمونوں میں مونواین ہیکسل فتھالیٹ (MnHexP) نامی پلاسٹیسائزر پایا گیا۔ یہ مادہ پلاسٹیسائزر کے ٹوٹنے سے بنتا ہے۔
اس سے پہلے سن 2024 میں ہونے والی ایک تحقیق میں جرمن صوبے نارتھ رائن ویسٹ فیلیا میں دو سے چھ سال کے تقریباً 250 بچوں کے پیشاب کے نمونے لیے گئے تھے۔ ان میں سے تقریباً دو تہائی نمونوں میں یہی مادہ پایا گیا، جو تین سال پہلے کے مقابلے میں تقریباً دس گنا زیادہ تھا۔
جرمنی کے وفاقی ادارے برائے ماحولیات (UBA) کی جانب سے قومی سطح پر کی گئی ایک تحقیق میں اس وقت بالغ افراد کی تقریباً ایک تہائی آبادی میں بھی اس کی موجودگی پائی گئی تھی۔ اس ادارے کے سربراہ ڈرک میسنر نے بتایا، ”حالیہ برسوں کے نتائج دیکھتے ہوئے ہمیں بچوں اور نوعمروں میں MnHexP کا ملنا تو اتنا حیران کن نہیں لگا، لیکن اتنے زیادہ نمونوں میں اس کی موجودگی اور بعض جگہوں پر اس کی بہت زیادہ مقدار واقعی حیران کن تھی۔"
کیا پلاسٹیسائزر صحت کے لیے نقصان دہ ہیں؟
ماہرین کے مطابق بعض بچوں میں MnHexP نامی مادے کی مقدار اتنی زیادہ تھی کہ صحت کے خطرےکو مکمل طور پر رد نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم زیادہ تر بچوں میں اس کی مقدار اب بھی اس حد سے کم تھی جسے عام طور پر نقصان دہ سمجھا جاتا ہے۔
یہ مادہ اس وقت بنتا ہے جبDnHexP جلد یا سانس کے ذریعے جسم میں داخل ہوتا ہے۔ یورپی کیمیکل ایجنسی نے 2013ء سے اسے انتہائی تشویش ناک مادہ قرار دے رکھا ہے۔
بعض ماہرین کے مطابق یہ مادے جسم کے ہارمون نظام میں مداخلت کر سکتے ہیں، جس سے نشوونما اور دیگر حیاتیاتی عمل متاثر ہو سکتے ہیں۔ کچھ تحقیقات کے مطابق طویل عرصے تک ان کے رابطے میں رہنے سے بچوں میں موٹاپا، ذیابیطس، بلند فشار خون اور اعصابی یا نظام تنفس سے جڑی بیماریوں کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
متبادل کیا ہیں؟
ان خدشات کے باعث سائنس دان پودوں سے تیار کردہ پلاسٹیسائزرز پر تحقیق کر رہے ہیں، مثلاً گندم، مکئی، چاول یا ریپ سیڈ کے تیل سے بنے متبادل۔ تاہم یہ ابھی تک روایتی پلاسٹیسائزرز جتنے مؤثر نہیں ہیں اور ان کی تیاری کے مراحل پر لاگت بھی زیادہ آتی ہے۔
ان سے بچاؤ کیسے ممکن ہے؟
ماہرین کے مطابق ایسی مصنوعات استعمال کرنا بہتر ہے جن پر "فتھالیٹ فری” لکھا ہو۔ اس کے علاوہ لکڑی کے کھلونے، شیشے یا دھات کے برتن استعمال کیے جا سکتے ہیں، کیونکہ ان میں یہ کیمیکل موجود نہیں ہوتے۔
مارٹن کیوبلر
#ParentGuide #parentingtips
فیسبک پیج
https://www.facebook.com/parentguidenmore
ٹیلی گرام
https://t.me/parentguide
واٹس ایپ
https://whatsapp.com/channel/0029Vb88UmR5Ui2eQdx2mk3B
رابعہ بگٹی مارٹن کیوبلر، ڈی ڈبلیو
پلاسٹیسائزر کیا ہیں اور کیا یہ ہماری صحت کے لیے نقصان دہ ہیں؟
https://p.dw.com/p/5ADna
جرمنی میں کیے گئے ٹیسٹوں میں انکشاف ہوا ہے کہ بچوں اور نوعمروں کے جسموں میں ممنوعہ پلاسٹیسائزرز کے آثار پائے گئے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ آپ نے ممکنہ طور پر ان زہریلے کیمیکلز کے بارے میں کبھی نہ سنا ہو، لیکن یہ تقریباً ہر جگہ موجود ہوتے ہیں، حتیٰ کہ کپڑوں، کاسمیٹکس اور پیکنگ میٹیریئل میں بھی۔
پلاسٹیسائزر کیا ہیں؟
پلاسٹیسائزر کو عام الفاظ میں اس طرح بیان کیا جا سکتا ہے کہ یہ وہ کیمیکلز ہوتے ہیں جنہیں پلاسٹک اور ربڑ میں شامل کیا جاتا ہے تاکہ انہیں نرم اور آسانی سے موڑنے کے قابل بنایا جا سکے۔ یہ روزمرہ استعمال کی بے شمار اشیاءمیں پائے جاتے ہیں، مثلاً پلاسٹک کے پردے، پلاسٹک پیکنگ، پی وی سی کے رین کوٹ، گھروں میں استعمال ہونے والی لچکدار پائپس اور تاروں کی انسولیشن وغیرہ میں بھی۔
پلاسٹیسائزرز کو بعض اوقات فتھالیٹس بھی کہا جاتا ہے۔ یہ کاسمیٹکس جیسے نیل پالش، لوشن اور شیمپو وغیرہ میں بھی موجود ہوتا ہے۔ پلاسٹیسائزرز ایسی مصنوعات کو خراب ہونے سے بچاتے ہیں اور ان کی شکل و ساخت برقرار رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔ یہ لوشن اور کریم جیسی اشیاء کو پانی سے بچانے اور زیادہ دیر تک قابلِ استعمال بنانے میں بھی مدد دیتے ہیں۔
ان میں سے بعض پلاسٹیسائزرز کے استعمال اور مقدار پر یورپی یونین، امریکہ، کینیڈا اور جاپان میں صحت اور ماحول پر ممکنہ نقصان دہ اثرات کے باعث پابندی یا سخت پابندیاں عائد کی جا چکی ہیں، تاہم دنیا کے دیگر حصوں میں یہ اب بھی بڑے پیمانے پر استعمال ہو رہے ہیں۔
جرمنی، بچوں میں پلاسٹیسائزر کی موجودگی
اگرچہ بچوں کے کھلونوں میں پلاسٹیسائزر کے استعمال پر سخت پابندیاں ہیں، لیکن حالیہ برسوں میں جرمن محققین نے چھوٹے بچوں میں ایک ایسے پلاسٹیسائزر کی غیر معمولی زیادہ مقدار کا انکشاف کیا ہے، جو بہت سختی سے کنٹرول کیا جاتا ہے۔
گزشتہ سال کے موسم بہار اور گرمیوں کے دوران جرمنی بھر سے 259 بچوں اور نوعمر افراد کے پیشاب کے نمونے لیے گئے۔ ان میں سے 92 فیصد نمونوں میں مونواین ہیکسل فتھالیٹ (MnHexP) نامی پلاسٹیسائزر پایا گیا۔ یہ مادہ پلاسٹیسائزر کے ٹوٹنے سے بنتا ہے۔
اس سے پہلے سن 2024 میں ہونے والی ایک تحقیق میں جرمن صوبے نارتھ رائن ویسٹ فیلیا میں دو سے چھ سال کے تقریباً 250 بچوں کے پیشاب کے نمونے لیے گئے تھے۔ ان میں سے تقریباً دو تہائی نمونوں میں یہی مادہ پایا گیا، جو تین سال پہلے کے مقابلے میں تقریباً دس گنا زیادہ تھا۔
جرمنی کے وفاقی ادارے برائے ماحولیات (UBA) کی جانب سے قومی سطح پر کی گئی ایک تحقیق میں اس وقت بالغ افراد کی تقریباً ایک تہائی آبادی میں بھی اس کی موجودگی پائی گئی تھی۔ اس ادارے کے سربراہ ڈرک میسنر نے بتایا، ”حالیہ برسوں کے نتائج دیکھتے ہوئے ہمیں بچوں اور نوعمروں میں MnHexP کا ملنا تو اتنا حیران کن نہیں لگا، لیکن اتنے زیادہ نمونوں میں اس کی موجودگی اور بعض جگہوں پر اس کی بہت زیادہ مقدار واقعی حیران کن تھی۔"
کیا پلاسٹیسائزر صحت کے لیے نقصان دہ ہیں؟
ماہرین کے مطابق بعض بچوں میں MnHexP نامی مادے کی مقدار اتنی زیادہ تھی کہ صحت کے خطرےکو مکمل طور پر رد نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم زیادہ تر بچوں میں اس کی مقدار اب بھی اس حد سے کم تھی جسے عام طور پر نقصان دہ سمجھا جاتا ہے۔
یہ مادہ اس وقت بنتا ہے جبDnHexP جلد یا سانس کے ذریعے جسم میں داخل ہوتا ہے۔ یورپی کیمیکل ایجنسی نے 2013ء سے اسے انتہائی تشویش ناک مادہ قرار دے رکھا ہے۔
بعض ماہرین کے مطابق یہ مادے جسم کے ہارمون نظام میں مداخلت کر سکتے ہیں، جس سے نشوونما اور دیگر حیاتیاتی عمل متاثر ہو سکتے ہیں۔ کچھ تحقیقات کے مطابق طویل عرصے تک ان کے رابطے میں رہنے سے بچوں میں موٹاپا، ذیابیطس، بلند فشار خون اور اعصابی یا نظام تنفس سے جڑی بیماریوں کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
متبادل کیا ہیں؟
ان خدشات کے باعث سائنس دان پودوں سے تیار کردہ پلاسٹیسائزرز پر تحقیق کر رہے ہیں، مثلاً گندم، مکئی، چاول یا ریپ سیڈ کے تیل سے بنے متبادل۔ تاہم یہ ابھی تک روایتی پلاسٹیسائزرز جتنے مؤثر نہیں ہیں اور ان کی تیاری کے مراحل پر لاگت بھی زیادہ آتی ہے۔
ان سے بچاؤ کیسے ممکن ہے؟
ماہرین کے مطابق ایسی مصنوعات استعمال کرنا بہتر ہے جن پر "فتھالیٹ فری” لکھا ہو۔ اس کے علاوہ لکڑی کے کھلونے، شیشے یا دھات کے برتن استعمال کیے جا سکتے ہیں، کیونکہ ان میں یہ کیمیکل موجود نہیں ہوتے۔
مارٹن کیوبلر
#ParentGuide #parentingtips
فیسبک پیج
https://www.facebook.com/parentguidenmore
ٹیلی گرام
https://t.me/parentguide
واٹس ایپ
https://whatsapp.com/channel/0029Vb88UmR5Ui2eQdx2mk3B
DW
جرمنی میں بچوں کے جسم میں پلاسٹیسائزرز کی موجودگی کا انکشاف
پلاسٹیسائزر کیا ہیں اور کیا یہ ہماری صحت کے لیے نقصان دہ ہیں؟
پشاور کے علاقے بازیدخیل میں سوشل میڈیا پر دوست کے اسٹیٹس پر ہنسی والا ایموجی 16سالہ فرحان کیلئے جان لیوا ثابت ہوا
دوست کے سٹیٹس پر ہنسنے والا ایموجی بنانے پر دوست نے فرحان کو فائرنگ کرکے قتل کردیا
قتل کرنے سے قبل فرحان کے والد کو کال کرکے دھمکی دی بعد ازاں فائرنگ کرکے فرحان کو قتل کردیا
#ParentGuide #parentingtips
فیسبک پیج
https://www.facebook.com/parentguidenmore
ٹیلی گرام
https://t.me/parentguide
واٹس ایپ
https://whatsapp.com/channel/0029Vb88UmR5Ui2eQdx2mk3B
دوست کے سٹیٹس پر ہنسنے والا ایموجی بنانے پر دوست نے فرحان کو فائرنگ کرکے قتل کردیا
قتل کرنے سے قبل فرحان کے والد کو کال کرکے دھمکی دی بعد ازاں فائرنگ کرکے فرحان کو قتل کردیا
#ParentGuide #parentingtips
فیسبک پیج
https://www.facebook.com/parentguidenmore
ٹیلی گرام
https://t.me/parentguide
واٹس ایپ
https://whatsapp.com/channel/0029Vb88UmR5Ui2eQdx2mk3B
Media is too big
VIEW IN TELEGRAM
بچے موبائل کے فتنوں سے محفوظ رہ سکیں اسکے لیے ایک ترکیب یہ بھی ہوسکتی ہے کہ انہیں معیاری دلچسپ مواد مہیا رہے جو تعلیمی و تربیتی بھی ہو انکی مثبت مصروفیت کا بھی سبب بنے اور انکی پسند ناپسند اسطرح develop ہو کہ ان میں بری چیزوں سے بیزاری اور مثبت چیزوں اور مواد میں دلچسپی بن سکے۔ بجائے اسکے کہ انکے پاس خلاء ہو اور وہ اس خلاء کو پر کرنے کے لیے کوئی منفی مصروفیت ڈھونڈیں ، انکے پاس مثبت مصروفیت کے لیے اچھی چوائس ہونی چاہئیے ۔۔۔
پل کیسے تعمیر ہوتا ہے ایک دلچسپ ویڈیو
#ParentGuide #parentingtips
فیسبک پیج
https://www.facebook.com/parentguidenmore
ٹیلی گرام
https://t.me/parentguide
واٹس ایپ
https://whatsapp.com/channel/0029Vb88UmR5Ui2eQdx2mk3B
پل کیسے تعمیر ہوتا ہے ایک دلچسپ ویڈیو
#ParentGuide #parentingtips
فیسبک پیج
https://www.facebook.com/parentguidenmore
ٹیلی گرام
https://t.me/parentguide
واٹس ایپ
https://whatsapp.com/channel/0029Vb88UmR5Ui2eQdx2mk3B
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
عیدی کے پیسوں سے تسبیح کاؤنٹر خریدا ہے ❤️
#ParentGuide #parentingtips
فیسبک پیج
https://www.facebook.com/parentguidenmore
ٹیلی گرام
https://t.me/parentguide
واٹس ایپ
https://whatsapp.com/channel/0029Vb88UmR5Ui
#ParentGuide #parentingtips
فیسبک پیج
https://www.facebook.com/parentguidenmore
ٹیلی گرام
https://t.me/parentguide
واٹس ایپ
https://whatsapp.com/channel/0029Vb88UmR5Ui
بچے کے نفسیاتی پہلو کی دیکھ بھال
اسلام اور تربیت اولاد
مصنف شیخ عبداللہ ناصح علوان رحمہ اللہ
ترجمہ : مولانا ڈاکٹر محمد حبیب اللہ مختار شہید رحمہ اللہ
#ParentGuide #parentingtips
فیسبک پیج
https://www.facebook.com/parentguidenmore
ٹیلی گرام
https://t.me/parentguide
واٹس ایپ
https://whatsapp.com/channel/0029Vb88UmR5Ui
اسلام اور تربیت اولاد
مصنف شیخ عبداللہ ناصح علوان رحمہ اللہ
ترجمہ : مولانا ڈاکٹر محمد حبیب اللہ مختار شہید رحمہ اللہ
#ParentGuide #parentingtips
فیسبک پیج
https://www.facebook.com/parentguidenmore
ٹیلی گرام
https://t.me/parentguide
واٹس ایپ
https://whatsapp.com/channel/0029Vb88UmR5Ui
💔1