اس وقت معاشرے میں کسی چیز کو بیچنے کے لیے بس اتنا کافی ہے کہ اس کے تعارف میں یہ بتادیا جائے کہ اس سے آپ کو آسانی یا سہولت ہوگی۔
سہولت کا ملنا بُری بات نہیں لیکن لوگ اس بات پر غور نہیں کرتے کہ ہر سہولت اچھی نہیں ہوتی۔
وہ سہولت جو ہمیں اپنے ہاتھوں اور ٹانگوں کا استعمال کرنے سے روک دے وہ وقتی طور پر کارآمد ہونے کے باوجود ہمارے لیے خطرناک ہے۔
اس وقت دنیا میں عضلات کی کمزوری کے مسائل بے پناہ بڑھ چکے ہیں۔
جس زمانے میں باورچی خانے میں سہولت کے لیے جدید معاون آلات نہیں ایجاد ہوئے تھے اس وقت عورتوں کو پکانے کی زحمت تو ہوتی تھی لیکن وہ بہت سے ایسے جسمانی عوارض سے بچی ہوئی تھیں جو آلات کا عادی ہو جانے کے بعد پیدا ہوئے ہیں۔
جسمانی سرگرمیوں کے کم ہو جانے سے بیماریوں کی بے شمار نئی اقسام نے جنم لیا ہے۔ موٹاپا، جوڑوں کے مسائل اور کندھوں کا منجمد ہو جانا ان میں سے چند ہیں۔
#SalmanAsifSiddiqui #ERDCpk #parentingcoach
سہولت کا ملنا بُری بات نہیں لیکن لوگ اس بات پر غور نہیں کرتے کہ ہر سہولت اچھی نہیں ہوتی۔
وہ سہولت جو ہمیں اپنے ہاتھوں اور ٹانگوں کا استعمال کرنے سے روک دے وہ وقتی طور پر کارآمد ہونے کے باوجود ہمارے لیے خطرناک ہے۔
اس وقت دنیا میں عضلات کی کمزوری کے مسائل بے پناہ بڑھ چکے ہیں۔
جس زمانے میں باورچی خانے میں سہولت کے لیے جدید معاون آلات نہیں ایجاد ہوئے تھے اس وقت عورتوں کو پکانے کی زحمت تو ہوتی تھی لیکن وہ بہت سے ایسے جسمانی عوارض سے بچی ہوئی تھیں جو آلات کا عادی ہو جانے کے بعد پیدا ہوئے ہیں۔
جسمانی سرگرمیوں کے کم ہو جانے سے بیماریوں کی بے شمار نئی اقسام نے جنم لیا ہے۔ موٹاپا، جوڑوں کے مسائل اور کندھوں کا منجمد ہو جانا ان میں سے چند ہیں۔
#SalmanAsifSiddiqui #ERDCpk #parentingcoach
جوائنٹ فیملی میں رہتے ہوئے بچوں کو بڑوں کی چپقلشوں سے بچانے کا سب سے آسان طریقہ یہ ہے کہ انہیں ایسی باتوں سے دور رکھا جائے جن میں تلخی یا بحث شامل ہو۔ جب لگے کہ ماحول تھوڑا گرم ہونے والا ہے تو بچے کو کسی اور سرگرمی میں لگا دو — ہوم ورک، کھیل، یا باہر ہلکی سی واک۔ اس سے وہ غیر ضروری باتیں سننے اور سمجھنے سے محفوظ رہتا ہے۔
بچوں کے سامنے گھر کے کسی بھی بڑے کی برائی یا شکایت کرنے سے پوری کوشش کرو کہ بچو۔ بچے ہر لفظ دل پر لیتے ہیں اور رشتوں کو بھی انہی باتوں سے سمجھتے ہیں۔ اگر اُن کے سامنے سب کی عزت برقرار رہے تو اُن کا ذہن بھی صاف رہتا ہے۔
انہیں چھوٹی سی بات سمجھا دو کہ "بڑوں کے مسئلے بڑوں کے ہوتے ہیں"۔
یہ سکھانے کے لیے چند سادہ لائنیں کافی ہوتی ہیں:
تمہیں کسی کی حمایت یا مخالفت میں نہیں پڑنا چاہیے۔
تمہارا کام پڑھائی، کھیل اور اچھی عادتیں ہیں۔
گھر کے بڑے خود اپنی باتیں حل کر لیتے ہیں۔
اگر بچہ کبھی کوئی جھگڑا دیکھ لے اور سوال کرے تو نرم انداز میں بتا دو کہ کبھی کبھی بڑے ناراض ہو جاتے ہیں، لیکن یہ کوئی ضروری بات نہیں، یہ بڑوں کا معاملہ ہے۔ اس سے بچے کے ذہن میں بےچینی بھی نہیں آتی اور وہ خود کو اس صورتحال کا حصہ بھی نہیں سمجھتا۔
گھر میں چاہے کچھ بھی ہو، بچے کو یہ احساس دلاؤ کہ سب اس سے محبت کرتے ہیں۔ تھوڑا وقت، تھوڑی توجہ، اور اس کی باتوں کو سن لینا اس کی جذباتی سیکیورٹی کے لیے بہت اہم ہے۔ بچوں کی مصروفیات بڑھانا بھی بہت مدد دیتا ہے۔ جتنا بچہ مثبت سرگرمیوں میں رہے گا، اتنا کم وہ بڑوں کی باتوں میں الجھے گا۔ جیسے:
کھیل
ہوم ورک
قرآن/قواعد یا آرٹ کلاس
دوستوں کے ساتھ وقت
آپ صرف اپنے رویے کو پرسکون رکھو تو بچے سب سے پہلے وہی جذب کرتے ہیں۔ جوائنٹ فیملی میں سب کو بدلنا ممکن نہیں ہوتا، لیکن اپنے چھوٹے سے دائرے کو پرسکون رکھنا ہمیشہ ممکن ہوتا ہے۔
اگر کبھی مناسب لگے تو بڑوں سے الگ بیٹھ کر یہ بات بھی کر لی جائے کہ بچوں کے سامنے سخت باتوں سے بچنا چاہئیے ۔۔۔
نبیلہ ہارون کوثر
بچوں کے سامنے گھر کے کسی بھی بڑے کی برائی یا شکایت کرنے سے پوری کوشش کرو کہ بچو۔ بچے ہر لفظ دل پر لیتے ہیں اور رشتوں کو بھی انہی باتوں سے سمجھتے ہیں۔ اگر اُن کے سامنے سب کی عزت برقرار رہے تو اُن کا ذہن بھی صاف رہتا ہے۔
انہیں چھوٹی سی بات سمجھا دو کہ "بڑوں کے مسئلے بڑوں کے ہوتے ہیں"۔
یہ سکھانے کے لیے چند سادہ لائنیں کافی ہوتی ہیں:
تمہیں کسی کی حمایت یا مخالفت میں نہیں پڑنا چاہیے۔
تمہارا کام پڑھائی، کھیل اور اچھی عادتیں ہیں۔
گھر کے بڑے خود اپنی باتیں حل کر لیتے ہیں۔
اگر بچہ کبھی کوئی جھگڑا دیکھ لے اور سوال کرے تو نرم انداز میں بتا دو کہ کبھی کبھی بڑے ناراض ہو جاتے ہیں، لیکن یہ کوئی ضروری بات نہیں، یہ بڑوں کا معاملہ ہے۔ اس سے بچے کے ذہن میں بےچینی بھی نہیں آتی اور وہ خود کو اس صورتحال کا حصہ بھی نہیں سمجھتا۔
گھر میں چاہے کچھ بھی ہو، بچے کو یہ احساس دلاؤ کہ سب اس سے محبت کرتے ہیں۔ تھوڑا وقت، تھوڑی توجہ، اور اس کی باتوں کو سن لینا اس کی جذباتی سیکیورٹی کے لیے بہت اہم ہے۔ بچوں کی مصروفیات بڑھانا بھی بہت مدد دیتا ہے۔ جتنا بچہ مثبت سرگرمیوں میں رہے گا، اتنا کم وہ بڑوں کی باتوں میں الجھے گا۔ جیسے:
کھیل
ہوم ورک
قرآن/قواعد یا آرٹ کلاس
دوستوں کے ساتھ وقت
آپ صرف اپنے رویے کو پرسکون رکھو تو بچے سب سے پہلے وہی جذب کرتے ہیں۔ جوائنٹ فیملی میں سب کو بدلنا ممکن نہیں ہوتا، لیکن اپنے چھوٹے سے دائرے کو پرسکون رکھنا ہمیشہ ممکن ہوتا ہے۔
اگر کبھی مناسب لگے تو بڑوں سے الگ بیٹھ کر یہ بات بھی کر لی جائے کہ بچوں کے سامنے سخت باتوں سے بچنا چاہئیے ۔۔۔
نبیلہ ہارون کوثر
سرگودھا: انٹرن شپ کا جھانسہ دے کر نجی ہسپتال کے ڈاکٹر کاشف وحید کی میڈیکل طالبہ سے کئی ماہ تک زیادتی، مقدمہ درج
سرگودھا: اسلحہ کے زور پر زیادتی اور فحش ویڈیوز بنا کر بلیک میل کرنے کا انکشاف،
سرگودھا: متاثرہ طالبہ کا میڈیکل مکمل، پولیس نے بروقت کاروائی کرتے ہوئے ملزم ڈاکٹر کاشف وحید چک نمبر 40 شمالی کا رہائشی کو گرفتار کر لیا مزید تحقیقات جاری
سرگودھا: ملزم نے رحمت اللعالمین پارک کے باہر بلا کر نامعلوم مقام پر لے جا کر زیادتی کی ، طالبہ کا بیان
بشکریہ کورٹ رپورٹر شاہد حسین
https://x.com/ShahidHussainJM/status/1995336438620057704?t=matmdXV6GQyI31jTWUBX9w&s=19
تعلیمی اداروں میں اساتذہ کی جانب سے کبھی پاس کرنے کے بہانے یاکبھی کسی اور طریقے سے طالبات کو زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا ہے یا برائی کی طرف لایا جاتا ہے اور نوکریوں کے جھانسے دے کر زیادتی کے واقعات کی خبریں بھی معمول کا حصہ بن چکی ہیں۔
سرگودھا: اسلحہ کے زور پر زیادتی اور فحش ویڈیوز بنا کر بلیک میل کرنے کا انکشاف،
سرگودھا: متاثرہ طالبہ کا میڈیکل مکمل، پولیس نے بروقت کاروائی کرتے ہوئے ملزم ڈاکٹر کاشف وحید چک نمبر 40 شمالی کا رہائشی کو گرفتار کر لیا مزید تحقیقات جاری
سرگودھا: ملزم نے رحمت اللعالمین پارک کے باہر بلا کر نامعلوم مقام پر لے جا کر زیادتی کی ، طالبہ کا بیان
بشکریہ کورٹ رپورٹر شاہد حسین
https://x.com/ShahidHussainJM/status/1995336438620057704?t=matmdXV6GQyI31jTWUBX9w&s=19
تعلیمی اداروں میں اساتذہ کی جانب سے کبھی پاس کرنے کے بہانے یاکبھی کسی اور طریقے سے طالبات کو زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا ہے یا برائی کی طرف لایا جاتا ہے اور نوکریوں کے جھانسے دے کر زیادتی کے واقعات کی خبریں بھی معمول کا حصہ بن چکی ہیں۔
💔2
Forwarded from قلب ونظر
ہمارے اخلاق مشروط نہ ہوں!
🌹
آپﷺکا فرمان ہے؛
’’ تم دوسروں کی دیکھا دیکھی کام کرنے (اخلاق اپنانے) والے مت بنو،
کہ کہنے لگو کہ
اگر لوگ ہمارے ساتھ احسان کریں گے تو ہم بھی احسان کریں گے، لیکن
اگر وہ ظلم کریں گے
تو ہم بھی پھرظلم ہی کریں گے،
(نہیں ، یہ صحیح نہیں )
بلکہ اپنے دلوں کو اس پرجماؤ کہ
اگر دوسرے احسان کریں تو تم احسان کرو
اور اگر وہ برا سلوک کریں تب بھی تم بدلے میں ظلم اور برائی کا رویہ اختیار نہ کرو
(بلکہ احسان ہی کرو)
رواه الترمذی
.....
قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:
«لَا تَكُونُوا إِمَّعَةً تَقُولُونَ:
إِنْ أَحْسَنَ النَّاسُ أَحْسَنَّا وَإِنْ ظَلَمُوا ظَلَمْنَا،
وَلَكِنْ وَطِّنُوا أَنْفُسَكُمْ إِنْ أَحْسَنَ النَّاسُ أَنْ تُحْسِنُوا وَإِنْ أَسَاءُوا فَلَا تَظْلِمُوا»
(الترمذی)
🌹
آپﷺکا فرمان ہے؛
’’ تم دوسروں کی دیکھا دیکھی کام کرنے (اخلاق اپنانے) والے مت بنو،
کہ کہنے لگو کہ
اگر لوگ ہمارے ساتھ احسان کریں گے تو ہم بھی احسان کریں گے، لیکن
اگر وہ ظلم کریں گے
تو ہم بھی پھرظلم ہی کریں گے،
(نہیں ، یہ صحیح نہیں )
بلکہ اپنے دلوں کو اس پرجماؤ کہ
اگر دوسرے احسان کریں تو تم احسان کرو
اور اگر وہ برا سلوک کریں تب بھی تم بدلے میں ظلم اور برائی کا رویہ اختیار نہ کرو
(بلکہ احسان ہی کرو)
رواه الترمذی
.....
قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:
«لَا تَكُونُوا إِمَّعَةً تَقُولُونَ:
إِنْ أَحْسَنَ النَّاسُ أَحْسَنَّا وَإِنْ ظَلَمُوا ظَلَمْنَا،
وَلَكِنْ وَطِّنُوا أَنْفُسَكُمْ إِنْ أَحْسَنَ النَّاسُ أَنْ تُحْسِنُوا وَإِنْ أَسَاءُوا فَلَا تَظْلِمُوا»
(الترمذی)
❤1
ایک بار مینیجر سے ایک سادہ سا سوال پوچھا۔
آپ ہائرنگ کے وقت سب سے زیادہ کن چیزوں کو اہمیت دیتے ہیں؟
ڈگری؟
مہارت؟
یا تجربہ؟
انہوں نے بغیر سوچے کہا:
میرا فوکس اچھے انسان کی تلاش ہوتا ہے۔
پھر انہوں نے بات واضح کرتے ہوئے کہا:
ہنر سکھایا جا سکتا ہے،
ٹریننگ دلوا کر ہر کمی پوری کی جا سکتی ہے،
کمزور مہارت کو مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔
لیکن…
بد کردار اور بداخلاق آدمی
میری پوری ٹیم کو تباہ کر سکتا ہے۔
وہ ماحول خراب کرتا ہے،
اعتماد توڑتا ہے،
اور محنتی لوگوں کا حوصلہ مار دیتا ہے۔
انہوں نے کہا:
میں ایک کم ہنر مند مگر نیک انسان کے ساتھ کام کر سکتا ہوں،
مگر ایک قابل مگر بد نیت شخص
میرے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔
پاکستان میں بھی کاروباری افراد بتاتے ہیں کہ جھوٹے اور چور شخص کو چاہے وہ جتنا بھی قابل ہو اسے رکھنے کی بجائے کم ہنر والے نیک فرد کو ہی ترجیح دینگے
یہ بات مجھے اس دن سمجھ آئی کہ
جاب مارکیٹ میں اصل کمی
ہنر کی نہیں،
کردار کی ہے۔
نیکی اور پرہیزگاری
صرف عبادت تک محدود نہیں،
یہ ایمانداری،
ذمہ داری،
وقت کی پابندی
اور دوسروں کے حق کا خیال رکھنے کا نام ہے۔
ایسے لوگ دنیا میں بھی کامیاب ہوتے ہیں
اور دونوں جہانوں میں سرخرو رہتے ہیں۔
اسی لیےڈگری حاصل کریں,
ہنر سیکھیں،
مگر اصل توجہ
نیک انسان بننے پر رکھیں۔
کیونکہ ہنر نوکری دلا سکتا ہے،
مگر
نیکی اور پرہیزگاری
زندگی بھی سنوارتی ہے
اور آخرت بھی۔
آپ ہائرنگ کے وقت سب سے زیادہ کن چیزوں کو اہمیت دیتے ہیں؟
ڈگری؟
مہارت؟
یا تجربہ؟
انہوں نے بغیر سوچے کہا:
میرا فوکس اچھے انسان کی تلاش ہوتا ہے۔
پھر انہوں نے بات واضح کرتے ہوئے کہا:
ہنر سکھایا جا سکتا ہے،
ٹریننگ دلوا کر ہر کمی پوری کی جا سکتی ہے،
کمزور مہارت کو مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔
لیکن…
بد کردار اور بداخلاق آدمی
میری پوری ٹیم کو تباہ کر سکتا ہے۔
وہ ماحول خراب کرتا ہے،
اعتماد توڑتا ہے،
اور محنتی لوگوں کا حوصلہ مار دیتا ہے۔
انہوں نے کہا:
میں ایک کم ہنر مند مگر نیک انسان کے ساتھ کام کر سکتا ہوں،
مگر ایک قابل مگر بد نیت شخص
میرے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔
پاکستان میں بھی کاروباری افراد بتاتے ہیں کہ جھوٹے اور چور شخص کو چاہے وہ جتنا بھی قابل ہو اسے رکھنے کی بجائے کم ہنر والے نیک فرد کو ہی ترجیح دینگے
یہ بات مجھے اس دن سمجھ آئی کہ
جاب مارکیٹ میں اصل کمی
ہنر کی نہیں،
کردار کی ہے۔
نیکی اور پرہیزگاری
صرف عبادت تک محدود نہیں،
یہ ایمانداری،
ذمہ داری،
وقت کی پابندی
اور دوسروں کے حق کا خیال رکھنے کا نام ہے۔
ایسے لوگ دنیا میں بھی کامیاب ہوتے ہیں
اور دونوں جہانوں میں سرخرو رہتے ہیں۔
اسی لیےڈگری حاصل کریں,
ہنر سیکھیں،
مگر اصل توجہ
نیک انسان بننے پر رکھیں۔
کیونکہ ہنر نوکری دلا سکتا ہے،
مگر
نیکی اور پرہیزگاری
زندگی بھی سنوارتی ہے
اور آخرت بھی۔
❤2
"تعلیم کو تربیت سے الگ کیوں کیا گیا ہے؟"
یہ سوال ہمارے معاشرتی زوال کی ایک بڑی وجہ کو بےنقاب کرتا ہے۔ مثالی یا ترقی یافتہ معاشروں میں تعلیم اور تربیت ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوتیں — وہاں تعلیمی ادارے نہ صرف علم دیتے ہیں بلکہ بچوں کی کردار سازی (Character Building)، اخلاقی شعور، سماجی ذمہ داری، وقت کی پابندی، دیانت، اور صفائی جیسے اقدار بھی سکھاتے ہیں۔
تو ہمارے ہاں یہ فرق کیوں پیدا ہوا؟
یہ خلا چند بنیادی وجوہات کی بنیاد پر پیدا ہوا:
________
1. استعماری نظامِ تعلیم کا تسلسل
برصغیر میں جب انگریزوں نے تعلیمی نظام وضع کیا تو اس کا مقصد ایک ایسا طبقہ پیدا کرنا تھا جو صرف نوکری کے قابل ہو — ایسا طبقہ جو حکم ماننے والا ہو، سوال نہ کرے، اور صرف دفتری کاموں کا ماہر ہو۔ اس نظام میں نہ تربیت کی جگہ تھی اور نہ شخصیت سازی کی۔ افسوس کہ ہم نے آزادی کے بعد بھی اسی نظام کو بغیر نظرثانی کے جاری رکھا۔
________
2. والدین کا کردار اور تربیت کا تسلسل ٹوٹ جانا
پہلے گھروں میں بچوں کی تربیت نانی، دادی، والدین اور بزرگوں کی صحبت میں ہوتی تھی۔ وقت کے ساتھ جب معاشی دباؤ بڑھا، والدین مصروف ہو گئے، خاندانی نظام بکھر گیا، اور سوشل میڈیا نے بچوں کا وقت نگل لیا — تو تربیت کا ماحول ناپید ہوتا گیا۔
بدقسمتی سے، اس خراب تعلیمی اور تربیتی نظام کی وجہ سے جن بچوں کی نہ تعلیم مکمل تھی اور نہ تربیت، آج وہی بچے والدین بن چکے ہیں۔ جب ایک نسل خود تربیت یافتہ نہ ہو تو وہ آگے نئی نسل کی تربیت کیسے کرے گی؟
یوں یہ خلا وقت کے ساتھ نسل در نسل بڑھتا جا رہا ہے۔
________
3. اساتذہ کی تربیت کا فقدان
اساتذہ کسی بھی قوم کی ریڑھ کی ہڈی ہوتے ہیں، لیکن آج بہت سے اساتذہ خود تربیت یافتہ نہیں۔ ان کے پاس نہ وقت ہوتا ہے، نہ وسائل، اور نہ ہی بعض اوقات جذبہ کہ وہ بچوں کی شخصی اور اخلاقی تربیت کریں۔ جب استاد خود کردار سازی سے خالی ہو، تو وہ صرف رٹّا لگوا سکتا ہے، راہ نہیں دکھا سکتا۔
________
4. تعلیم کے مقاصد کی غلط ترجیحات
ہم نے تعلیم کو محض "اچھے نمبر" اور "اچھی نوکری" کا ذریعہ بنا دیا ہے۔ تعلیم کی اصل روح — یعنی انسان سازی، سوچنے کی صلاحیت، فیصلہ سازی، اور سچائی کا شعور — کہیں پیچھے رہ گئی ہے۔ جب مقصد صرف ڈگری ہو، تو تربیت غیرضروری معلوم ہونے لگتی ہے۔
________
ترقی یافتہ ممالک میں کیا ہوتا ہے؟
ان ممالک کے تعلیمی نصاب میں کردار سازی، سماجی رویّے، وقت کی پابندی، ٹیم ورک، اخلاقیات، اور کمیونٹی سروس جیسے عناصر لازمی شامل ہوتے ہیں۔
وہاں صرف IQ (ذہانت) نہیں بلکہ EQ (جذباتی ذہانت) پر بھی زور دیا جاتا ہے۔ بچے کو انسان بننے کی مشق دی جاتی ہے، محض روبوٹ نہیں بنایا جاتا۔
________
حل اور امید:
اگر ہم واقعی اس مسئلے کو حل کرنا چاہتے ہیں، تو محض ظاہری اصلاحات کافی نہیں۔ ہمیں نظامِ تعلیم کو ازسرِ نو ترتیب دینا ہوگا — ایسا نصاب تشکیل دینا ہوگا جو نہ صرف علم دے، بلکہ تربیت بھی کرے۔
• ہمیں تعلیم کے شعبے میں باصلاحیت، تربیت یافتہ، اور باکردار افراد کو لانا ہوگا۔
• استاد کو عزت اور تربیت دونوں دینی ہوں گی۔
• نصاب میں اخلاقیات، سماجی خدمت، اور عملی زندگی کی مہارتوں کو شامل کرنا ہوگا۔
اگر آج ہم اپنے تعلیمی نظام کی سمت درست کر لیں، تو آنے والی نسل — جو بیس سال بعد والدین اور اساتذہ بنے گی — نہ صرف تعلیم یافتہ ہو گی بلکہ تربیت یافتہ بھی ہوگی۔
تب جا کے ایک باکردار، باشعور، اور کامیاب معاشرہ تشکیل پائے گا۔
یہ سوال ہمارے معاشرتی زوال کی ایک بڑی وجہ کو بےنقاب کرتا ہے۔ مثالی یا ترقی یافتہ معاشروں میں تعلیم اور تربیت ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوتیں — وہاں تعلیمی ادارے نہ صرف علم دیتے ہیں بلکہ بچوں کی کردار سازی (Character Building)، اخلاقی شعور، سماجی ذمہ داری، وقت کی پابندی، دیانت، اور صفائی جیسے اقدار بھی سکھاتے ہیں۔
تو ہمارے ہاں یہ فرق کیوں پیدا ہوا؟
یہ خلا چند بنیادی وجوہات کی بنیاد پر پیدا ہوا:
________
1. استعماری نظامِ تعلیم کا تسلسل
برصغیر میں جب انگریزوں نے تعلیمی نظام وضع کیا تو اس کا مقصد ایک ایسا طبقہ پیدا کرنا تھا جو صرف نوکری کے قابل ہو — ایسا طبقہ جو حکم ماننے والا ہو، سوال نہ کرے، اور صرف دفتری کاموں کا ماہر ہو۔ اس نظام میں نہ تربیت کی جگہ تھی اور نہ شخصیت سازی کی۔ افسوس کہ ہم نے آزادی کے بعد بھی اسی نظام کو بغیر نظرثانی کے جاری رکھا۔
________
2. والدین کا کردار اور تربیت کا تسلسل ٹوٹ جانا
پہلے گھروں میں بچوں کی تربیت نانی، دادی، والدین اور بزرگوں کی صحبت میں ہوتی تھی۔ وقت کے ساتھ جب معاشی دباؤ بڑھا، والدین مصروف ہو گئے، خاندانی نظام بکھر گیا، اور سوشل میڈیا نے بچوں کا وقت نگل لیا — تو تربیت کا ماحول ناپید ہوتا گیا۔
بدقسمتی سے، اس خراب تعلیمی اور تربیتی نظام کی وجہ سے جن بچوں کی نہ تعلیم مکمل تھی اور نہ تربیت، آج وہی بچے والدین بن چکے ہیں۔ جب ایک نسل خود تربیت یافتہ نہ ہو تو وہ آگے نئی نسل کی تربیت کیسے کرے گی؟
یوں یہ خلا وقت کے ساتھ نسل در نسل بڑھتا جا رہا ہے۔
________
3. اساتذہ کی تربیت کا فقدان
اساتذہ کسی بھی قوم کی ریڑھ کی ہڈی ہوتے ہیں، لیکن آج بہت سے اساتذہ خود تربیت یافتہ نہیں۔ ان کے پاس نہ وقت ہوتا ہے، نہ وسائل، اور نہ ہی بعض اوقات جذبہ کہ وہ بچوں کی شخصی اور اخلاقی تربیت کریں۔ جب استاد خود کردار سازی سے خالی ہو، تو وہ صرف رٹّا لگوا سکتا ہے، راہ نہیں دکھا سکتا۔
________
4. تعلیم کے مقاصد کی غلط ترجیحات
ہم نے تعلیم کو محض "اچھے نمبر" اور "اچھی نوکری" کا ذریعہ بنا دیا ہے۔ تعلیم کی اصل روح — یعنی انسان سازی، سوچنے کی صلاحیت، فیصلہ سازی، اور سچائی کا شعور — کہیں پیچھے رہ گئی ہے۔ جب مقصد صرف ڈگری ہو، تو تربیت غیرضروری معلوم ہونے لگتی ہے۔
________
ترقی یافتہ ممالک میں کیا ہوتا ہے؟
ان ممالک کے تعلیمی نصاب میں کردار سازی، سماجی رویّے، وقت کی پابندی، ٹیم ورک، اخلاقیات، اور کمیونٹی سروس جیسے عناصر لازمی شامل ہوتے ہیں۔
وہاں صرف IQ (ذہانت) نہیں بلکہ EQ (جذباتی ذہانت) پر بھی زور دیا جاتا ہے۔ بچے کو انسان بننے کی مشق دی جاتی ہے، محض روبوٹ نہیں بنایا جاتا۔
________
حل اور امید:
اگر ہم واقعی اس مسئلے کو حل کرنا چاہتے ہیں، تو محض ظاہری اصلاحات کافی نہیں۔ ہمیں نظامِ تعلیم کو ازسرِ نو ترتیب دینا ہوگا — ایسا نصاب تشکیل دینا ہوگا جو نہ صرف علم دے، بلکہ تربیت بھی کرے۔
• ہمیں تعلیم کے شعبے میں باصلاحیت، تربیت یافتہ، اور باکردار افراد کو لانا ہوگا۔
• استاد کو عزت اور تربیت دونوں دینی ہوں گی۔
• نصاب میں اخلاقیات، سماجی خدمت، اور عملی زندگی کی مہارتوں کو شامل کرنا ہوگا۔
اگر آج ہم اپنے تعلیمی نظام کی سمت درست کر لیں، تو آنے والی نسل — جو بیس سال بعد والدین اور اساتذہ بنے گی — نہ صرف تعلیم یافتہ ہو گی بلکہ تربیت یافتہ بھی ہوگی۔
تب جا کے ایک باکردار، باشعور، اور کامیاب معاشرہ تشکیل پائے گا۔
👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
عبرت کا مقام ہے کہ اب مذہبی افراد بھی اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر میوزک کا استعمال بے دریغ کرنے لگے ہیں جیسے یہ نارمل ہوچکا ہے اور حلال بن چکا ہے۔ ہمارے بچے جب ہمیں اس طرح میوزک کے متعلق بے احتیاطی اور آزادانہ استعمال دیکھیں گے تو وہ اسے غلط اور حرام سمجھیں گے گیا ؟
👍3❤1
Forwarded from Pakistan Times International
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
اس نظام تعلیم سے ہم قوم کو شعور دے سکتے ہیں یا کسی بہتری کی امید کی جاسکتی یے ؟
#Pakistan #education #GovtSchool
#Pakistan #education #GovtSchool
Forwarded from BALOCHISTAN NEWS
اولاد کے لیے اگر دولت جمع کردی مگر تعلیم تربیت پر دھیان نہ دیا تو آپکی وفات کے بعد جائیداد اور گھر کے ساتھ آپکی لالچی اولاد ایسے کھلواڑ کرے گی
https://whatsapp.com/channel/0029Vb7q7VkAInPjT8pGTl3J
https://whatsapp.com/channel/0029Vb7q7VkAInPjT8pGTl3J
😭1
پاکستان اور دنیا میں سی سیکشن کی بڑھتی ہوئی لہر— حقیقت، خطرات اور انسانی نقصان
شعور نیوز
شعور نیوز( ویب ڈیسک):گزشتہ چند دہائیوں میں سی سیکشن (خاتون کا پیٹ کاٹ کر بچے کو رحم مادر سے نکالنے ) میں بے تحاشا اضافے نے پاکستان سمیت دنیا بھر میں ماں اور بچے کو نئے خطرات میں ڈال دیا ہے۔اس خطرناک طریقہ میں اضافے نے باضمیر طبی ماہرین سے بھی چیخیں نکلوا دیں ۔آرٹس کونسل آف پاکستان، کراچی کی میڈیکل کمیٹی نے "پاکستان میں سیزرین سیکشنز کا بڑھتا ہوا رجحان: اسباب، وجوہات اور حل" کے عنوان سے ایک سیمینار کرلیا۔سیمینار میں شریک ڈاکٹر مقررین نے صاف طور پر کہا کہ بچوں کی غیر ضروری سرجیکل پیدائش کی بڑھتی ہوئی تعداد نے کئی خطرات پیدا کر دیئے ہیں ۔ماہرین نے متنبہ کردیا ہے کہ مالی منافع پر مبنی یہ حریص طرز عمل، انسانوں کی صحت کے بجائے موت کی طرف دھکیلنے جیسا ہے ۔ملک کے معروف گائناکالوجسٹ نے پاکستان میں سی سیکشنز اور زچگی کی اموات کی بڑھتی ہوئی تعداد پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔
ماہرین کے مطابق پاکستان میں سالانہ 20,000 سے زائد خواتین بچے کی پیدائش کے دوران ہلاک ہو جاتی ہیں کیونکہ ڈاکٹروں نے منافع سے چلنے والی سرجریوں کو مستقل رستہ دیا ہے۔اس کے پیچھے ادویات کی کمپنیوں کا بہت بڑا کاروبار کھڑا ہوا ہے۔سیمینار سے معروف گائناکالوجسٹ پروفیسر ڈاکٹر شیر شاہ سید، ڈاکٹر شبینہ ناز مسعود، پروفیسر ڈاکٹر سونیا نقوی اور ڈاکٹر بشریٰ محسن نے خطاب کیا۔حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے، ڈاکٹر شیر شاہ سید نے سیزرین ڈیلیوری کی بڑھتی ہوئی تعداد کو ایک "سنگین اور پریشان کن سوال" قرار دیا، یہ پوچھا کہ اتنی زیادہ خواتین کیوں سرجری سے گزر رہی ہیں۔اُنہوں نے سوال کیا کہ "کیا عورت کو صرف پیٹ کاٹنے کے لیے بنایا گیا تھا؟"
باضمیر ماہرین نے صاف کہا کہ سی سیکشنز کے پیچھے مضبوط مالیاتی بنیادیں کھڑی ہیں۔حرص و ہوس سے بھرا یہ پیسہ تمام انسانی، مذہبی اخلاقیات کو ڈھانپ لیتا ہے یوں آسنای کے نام پر ان کا غیر ضروری استعمال بڑھ رہا ہے۔ "پہلی نارمل ڈیلیوری مشکل ہو سکتی ہے، لیکن دوسری اور تیسری عام طور پر آسان ہو جاتی ہے۔ اس کے برعکس، پہلا سی سیکشن آسان ہو سکتا ہے، لیکن اس کے بعد والے زیادہ خطرناک ہو جاتے ہیں۔ ماہرین نے یہ بھی نشاندہی کی کہ مالی طور پر کمزور علاقوں اور نئی بستیوں میں، تربیت یافتہ ماہر ین کے بجائے غیر تجربہ کار ، عطائی افراد ڈاکٹر یا سرجن بن کر سادہ لوح عوام کو لوٹ بھی رہے ہیں اور اُن کی زندگیوں سے بھی کھیل رہے ہیں۔
ڈاکٹر سید نے بتایا کہ امریکہ، ڈنمارک اور ناروے جیسے ممالک میں دائیاں اب کامیابی کے ساتھ نارمل ڈیلیوری کروارہی ہیں، جبکہ پاکستان میں یہ نایاب ہورہی ہیں ۔ڈاکٹر سید نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان میں سی سیکشن کی شرح 10 فیصد سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے۔
پروفیسر ڈاکٹر شبینہ ناز مسعود نے کہا کہ جدید مشینوں ، غیر ضروری ٹیسٹ اور گیجٹس کے بڑھتے ہوئے استعمال نے بھی سی سیکشنز میں اضافے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس نے نوٹ کیا کہ ڈاکٹروں کے سخت رویے بعض اوقات مریضوں کو خود دھکیل دیتے ہیں۔انہوں نے سی سیکشن نمبروں کو ہسپتال کی آمدنی سے جوڑنے کے عمل پر بھی تنقید کی۔
پروفیسر ڈاکٹر سونیا نے گائناکالوجسٹ کی آڑ میں کلینک چلانے والے نااہل افراد کی موجودگی پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا، "حمل کوئی بیماری نہیں ہے،" انہوں نے مزید کہا کہ خواتین کو سی سیکشنز پر مجبور کرنے کے لیے غیر ضروری خوف پیدا کیا جاتا ہے۔ انہوں نے ڈاکٹروں پر بھی تنقید کی جو وقت کی کمی کی وجہ سے مریضوں پر جراحی کے ذریعے پیدائش کے لیے دباؤ ڈالتے ہیں اور اسے ایک سنگین ناانصافی قرار دیتے ہیں۔
مقررین نے متفقہ طور پر سیزرین کے غیر ضروری طریقہ کار کو روکنے اور پاکستان بھر میں خواتین کے لیے محفوظ بچے کی پیدائش کو یقینی بنانے کے لیے سخت ضابطے، عوامی آگاہی اور اخلاقی طبی طریقوں پر زور دیا۔
📊 سی سیکشن کے اعداد و شمار — پاکستان میں صورتحال
پاکستان میں سی سیکشن کی شرح 1990 میں محض 3.2% تھی، جو 2018 تک تقریباً 19.6% تک بڑھ گئی۔
امیر خواتین اور شہری علاقوں میں سی سیکشن کی شرح 35% تک بھی ریکارڈ کی گئی ہے۔
پاکستان دنیا بھر میں تقریباً 7% سی سیکشن سے جڑی اموات میں حصہ ڈالتا ہے، یعنی ہر 1,000,000 بچوں پر تقریباً 348 ماں کی اموات۔
پاکستان کی مجموعی زچگی کے دوران اموات کی شرح ایک لاکھ میں تقریباً 186 ہے، جو اب بھی عالمی معیار سے کافی زیادہ ہے۔
یہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ سی سیکشن صرف میڈیکل ضرورت نہیں بلکہ اب سماجی، معاشی اور کاروباری محرکات کی وجہ سے بھی بڑھ رہی ہے۔
شعور نیوز
شعور نیوز( ویب ڈیسک):گزشتہ چند دہائیوں میں سی سیکشن (خاتون کا پیٹ کاٹ کر بچے کو رحم مادر سے نکالنے ) میں بے تحاشا اضافے نے پاکستان سمیت دنیا بھر میں ماں اور بچے کو نئے خطرات میں ڈال دیا ہے۔اس خطرناک طریقہ میں اضافے نے باضمیر طبی ماہرین سے بھی چیخیں نکلوا دیں ۔آرٹس کونسل آف پاکستان، کراچی کی میڈیکل کمیٹی نے "پاکستان میں سیزرین سیکشنز کا بڑھتا ہوا رجحان: اسباب، وجوہات اور حل" کے عنوان سے ایک سیمینار کرلیا۔سیمینار میں شریک ڈاکٹر مقررین نے صاف طور پر کہا کہ بچوں کی غیر ضروری سرجیکل پیدائش کی بڑھتی ہوئی تعداد نے کئی خطرات پیدا کر دیئے ہیں ۔ماہرین نے متنبہ کردیا ہے کہ مالی منافع پر مبنی یہ حریص طرز عمل، انسانوں کی صحت کے بجائے موت کی طرف دھکیلنے جیسا ہے ۔ملک کے معروف گائناکالوجسٹ نے پاکستان میں سی سیکشنز اور زچگی کی اموات کی بڑھتی ہوئی تعداد پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔
ماہرین کے مطابق پاکستان میں سالانہ 20,000 سے زائد خواتین بچے کی پیدائش کے دوران ہلاک ہو جاتی ہیں کیونکہ ڈاکٹروں نے منافع سے چلنے والی سرجریوں کو مستقل رستہ دیا ہے۔اس کے پیچھے ادویات کی کمپنیوں کا بہت بڑا کاروبار کھڑا ہوا ہے۔سیمینار سے معروف گائناکالوجسٹ پروفیسر ڈاکٹر شیر شاہ سید، ڈاکٹر شبینہ ناز مسعود، پروفیسر ڈاکٹر سونیا نقوی اور ڈاکٹر بشریٰ محسن نے خطاب کیا۔حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے، ڈاکٹر شیر شاہ سید نے سیزرین ڈیلیوری کی بڑھتی ہوئی تعداد کو ایک "سنگین اور پریشان کن سوال" قرار دیا، یہ پوچھا کہ اتنی زیادہ خواتین کیوں سرجری سے گزر رہی ہیں۔اُنہوں نے سوال کیا کہ "کیا عورت کو صرف پیٹ کاٹنے کے لیے بنایا گیا تھا؟"
باضمیر ماہرین نے صاف کہا کہ سی سیکشنز کے پیچھے مضبوط مالیاتی بنیادیں کھڑی ہیں۔حرص و ہوس سے بھرا یہ پیسہ تمام انسانی، مذہبی اخلاقیات کو ڈھانپ لیتا ہے یوں آسنای کے نام پر ان کا غیر ضروری استعمال بڑھ رہا ہے۔ "پہلی نارمل ڈیلیوری مشکل ہو سکتی ہے، لیکن دوسری اور تیسری عام طور پر آسان ہو جاتی ہے۔ اس کے برعکس، پہلا سی سیکشن آسان ہو سکتا ہے، لیکن اس کے بعد والے زیادہ خطرناک ہو جاتے ہیں۔ ماہرین نے یہ بھی نشاندہی کی کہ مالی طور پر کمزور علاقوں اور نئی بستیوں میں، تربیت یافتہ ماہر ین کے بجائے غیر تجربہ کار ، عطائی افراد ڈاکٹر یا سرجن بن کر سادہ لوح عوام کو لوٹ بھی رہے ہیں اور اُن کی زندگیوں سے بھی کھیل رہے ہیں۔
ڈاکٹر سید نے بتایا کہ امریکہ، ڈنمارک اور ناروے جیسے ممالک میں دائیاں اب کامیابی کے ساتھ نارمل ڈیلیوری کروارہی ہیں، جبکہ پاکستان میں یہ نایاب ہورہی ہیں ۔ڈاکٹر سید نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان میں سی سیکشن کی شرح 10 فیصد سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے۔
پروفیسر ڈاکٹر شبینہ ناز مسعود نے کہا کہ جدید مشینوں ، غیر ضروری ٹیسٹ اور گیجٹس کے بڑھتے ہوئے استعمال نے بھی سی سیکشنز میں اضافے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس نے نوٹ کیا کہ ڈاکٹروں کے سخت رویے بعض اوقات مریضوں کو خود دھکیل دیتے ہیں۔انہوں نے سی سیکشن نمبروں کو ہسپتال کی آمدنی سے جوڑنے کے عمل پر بھی تنقید کی۔
پروفیسر ڈاکٹر سونیا نے گائناکالوجسٹ کی آڑ میں کلینک چلانے والے نااہل افراد کی موجودگی پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا، "حمل کوئی بیماری نہیں ہے،" انہوں نے مزید کہا کہ خواتین کو سی سیکشنز پر مجبور کرنے کے لیے غیر ضروری خوف پیدا کیا جاتا ہے۔ انہوں نے ڈاکٹروں پر بھی تنقید کی جو وقت کی کمی کی وجہ سے مریضوں پر جراحی کے ذریعے پیدائش کے لیے دباؤ ڈالتے ہیں اور اسے ایک سنگین ناانصافی قرار دیتے ہیں۔
مقررین نے متفقہ طور پر سیزرین کے غیر ضروری طریقہ کار کو روکنے اور پاکستان بھر میں خواتین کے لیے محفوظ بچے کی پیدائش کو یقینی بنانے کے لیے سخت ضابطے، عوامی آگاہی اور اخلاقی طبی طریقوں پر زور دیا۔
📊 سی سیکشن کے اعداد و شمار — پاکستان میں صورتحال
پاکستان میں سی سیکشن کی شرح 1990 میں محض 3.2% تھی، جو 2018 تک تقریباً 19.6% تک بڑھ گئی۔
امیر خواتین اور شہری علاقوں میں سی سیکشن کی شرح 35% تک بھی ریکارڈ کی گئی ہے۔
پاکستان دنیا بھر میں تقریباً 7% سی سیکشن سے جڑی اموات میں حصہ ڈالتا ہے، یعنی ہر 1,000,000 بچوں پر تقریباً 348 ماں کی اموات۔
پاکستان کی مجموعی زچگی کے دوران اموات کی شرح ایک لاکھ میں تقریباً 186 ہے، جو اب بھی عالمی معیار سے کافی زیادہ ہے۔
یہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ سی سیکشن صرف میڈیکل ضرورت نہیں بلکہ اب سماجی، معاشی اور کاروباری محرکات کی وجہ سے بھی بڑھ رہی ہے۔
👍1
تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ پلان شدہ سی سیکشن سے پیدا ہونے والے بچوں میں کچھ امراض کا خطرہ معمولی طور پر بڑھ سکتا ہے — مثلاً ایک تحقیق میں لیوکیمیا جیسی بیماریوں میں 21% اضافہ دیکھا گیا۔
سی سیکشن کے نتیجے میں بچے حیاتیاتی دفاعی عوامل (جیسے پیدائش کے وقت ماں کے جراثیم سے رابطہ) کم حاصل کرتے ہیں، جس سے ان کی مدافعتی نظام کی تربیت متاثر ہو سکتی ہے۔
دنیا میں ہزاروں سال سے انسان پیدا ہو رہے ہیں۔ یہ سب قدرتی طور پر معاشرت کےاندر ہی پیدا ہوئے ہیں ۔ انسانی پیدائش کا عمل کبھی بھی طبی یا میڈیکل کا نہیں رہا۔ گذشتہ 200 سال میں جدید سرمایہ دارانہ نظام نے دنیا کی ہر چیز کو غلیظ سرمایہ دارانہ قالب میں ڈھالا ہے ۔ جدید میڈیکل سائنس بھی اُسی نظام کی پیداوار ہے جس کے پیچھے کوئی انسانی بھلائی یا انسانی صحت نہیں بلکہ صرف سرمایہ دارنہ غرض ہے ۔ جو ادویات، ٹیسٹ ،مشینوں سمیت دیگر آلات سے جڑی ہوئی ہے۔
سی سیکشن کے نتیجے میں بچے حیاتیاتی دفاعی عوامل (جیسے پیدائش کے وقت ماں کے جراثیم سے رابطہ) کم حاصل کرتے ہیں، جس سے ان کی مدافعتی نظام کی تربیت متاثر ہو سکتی ہے۔
دنیا میں ہزاروں سال سے انسان پیدا ہو رہے ہیں۔ یہ سب قدرتی طور پر معاشرت کےاندر ہی پیدا ہوئے ہیں ۔ انسانی پیدائش کا عمل کبھی بھی طبی یا میڈیکل کا نہیں رہا۔ گذشتہ 200 سال میں جدید سرمایہ دارانہ نظام نے دنیا کی ہر چیز کو غلیظ سرمایہ دارانہ قالب میں ڈھالا ہے ۔ جدید میڈیکل سائنس بھی اُسی نظام کی پیداوار ہے جس کے پیچھے کوئی انسانی بھلائی یا انسانی صحت نہیں بلکہ صرف سرمایہ دارنہ غرض ہے ۔ جو ادویات، ٹیسٹ ،مشینوں سمیت دیگر آلات سے جڑی ہوئی ہے۔
👍1
پہلی سردی ہے
کپڑوں میں لپیٹ کر رکھو
کتنے کپڑے پہنائیں بچوں کو ؟
سردی بھی نہ لگے اور پسینے میں بھیگا ہوا بھی نہ ہو
بنیادی طور پر تو ایک بات سمجھے لیں
سردی کے دنوں میں کمرے میں اگر ہم شرٹ کے نیچے ایک عدد بنیان بھی پہنے ہوئے ہیں اور پھر بھی ہمیں ایک اورتہہ/ لئیر کی ضرورت ہے تو بچے کو اس مزید ایک اور تہہ / لئیر کی ضرورت ہے اور
اگر گھر سے باہر نکل رہے ہیں تو باہر کی سردی سے بچنے کے لئے ایک مزید جیکٹ کی ضرورت بچے کو
جسم پر کاٹن ایک باڈی سوٹ ہونا چاہیے جس میں پاؤں بھی کور ہو رہے ہوں اور ھاتھوں میں مٹنز یعنی گلوز بھی ہوں
اور اگر بچے کو کپڑوں میں پسینہ آ رہا ہے تو اس کا مطلب کپڑے زیادہ ہوگئے ہیں ایک تہہ کم کرلیں
درجہ حرارت کی جلدی جلدی تبدیلی آپ کے بچے کے ایمیون سسٹم کو خراب کرتی ہے
خیال کریں
ڈاکٹر اظہر چغتائی
https://www.facebook.com/share/p/17KtQBwovX/
کپڑوں میں لپیٹ کر رکھو
کتنے کپڑے پہنائیں بچوں کو ؟
سردی بھی نہ لگے اور پسینے میں بھیگا ہوا بھی نہ ہو
بنیادی طور پر تو ایک بات سمجھے لیں
سردی کے دنوں میں کمرے میں اگر ہم شرٹ کے نیچے ایک عدد بنیان بھی پہنے ہوئے ہیں اور پھر بھی ہمیں ایک اورتہہ/ لئیر کی ضرورت ہے تو بچے کو اس مزید ایک اور تہہ / لئیر کی ضرورت ہے اور
اگر گھر سے باہر نکل رہے ہیں تو باہر کی سردی سے بچنے کے لئے ایک مزید جیکٹ کی ضرورت بچے کو
جسم پر کاٹن ایک باڈی سوٹ ہونا چاہیے جس میں پاؤں بھی کور ہو رہے ہوں اور ھاتھوں میں مٹنز یعنی گلوز بھی ہوں
اور اگر بچے کو کپڑوں میں پسینہ آ رہا ہے تو اس کا مطلب کپڑے زیادہ ہوگئے ہیں ایک تہہ کم کرلیں
درجہ حرارت کی جلدی جلدی تبدیلی آپ کے بچے کے ایمیون سسٹم کو خراب کرتی ہے
خیال کریں
ڈاکٹر اظہر چغتائی
https://www.facebook.com/share/p/17KtQBwovX/
Facebook
Log in or sign up to view
See posts, photos and more on Facebook.
گھروں میں قرآن کی ٹیوشن —
فائدہ یا نقصان؟
قرآنِ مجید کی تعلیم کے لیے الحمدللہ دنیا بھر میں دینی مدارس اور مکاتب قائم ہیں۔ شروع سے یہی طریقہ رائج رہا ہے کہ طالبِ علم خود علم کی جگہ پر جائے، استاد کے سامنے بیٹھے، ادب کے ساتھ سیکھے اور محنت کرے۔
یہی طریقہ سب سے بہتر اور زیادہ مؤثر ہے۔
وقت کے ساتھ ساتھ قرآنِ مجید پڑھانے کا ایک اور طریقہ بھی عام ہوا، جو اگرچہ پسندیدہ نہیں، لیکن بعض مجبوریوں کی وجہ سے علماءِ کرام نے کچھ شرائط کے ساتھ اس کی اجازت دی ہے۔
اور وہ ہے گھروں میں قرآن پڑھانے کا نظام، یعنی استاد کا طالبِ علم کے پاس جا کر پڑھانا۔
اگر والدین کسی اچھے، باصلاحیت اور دیانت دار استاد کا انتخاب کریں، اور استاد و طالبِ علم دونوں محنت کریں، تو اس طریقے سے بھی فائدہ حاصل ہو سکتا ہے۔
لیکن افسوس یہ ہے کہ اب اس نظام میں بڑی تعداد ایسے لوگوں کی ہو گئی ہے جن کے نزدیک قرآن پڑھانا تعلیم سے زیادہ روزگار کا ذریعہ بنتا جا رہا ہے۔
اکثر والدین کی طرف سے یہ کوتاہی ہوتی ہے کہ وہ استاد کے انتخاب میں تحقیق نہیں کرتے۔
بس کوئی ٹوپی داڑھی والا شخص مل گیا، اس نے کہہ دیا کہ میں پڑھا سکتا ہوں اور فیس بھی کم ہے، تو فوراً رکھ لیا جاتا ہے۔
اگلے دن کہہ دیا جاتا ہے: آپ پڑھانا شروع کر دیں۔
حالانکہ یہی والدین دنیاوی تعلیم کے معاملے میں ہر ایک سے مشورہ لیتے ہیں:
کون سا اسکول اچھا ہے؟
کہاں پڑھائی کا معیار بہتر ہے؟
لیکن قرآن پڑھانے والا استاد رکھ لینے کے بعد سالوں تک یہ نہیں دیکھا جاتا کہ بچہ کیا پڑھ رہا ہے اور کیسے پڑھ رہا ہے۔
بس انتظار رہتا ہے اس دن کا جب استاد کہے گا کہ قرآن ختم ہو گیا ہے، پھر خوشی منائی جائے گی اور دعوت ہوگی۔
اساتذہ کی بات کی جائے تو وہ بھی عموماً دو قسم کے ہوتے ہیں۔
ایک وہ، جنہیں خود قرآن درست نہیں آتا، مگر صرف روزی روٹی کے لیے اس میدان میں آ جاتے ہیں۔
دوسرے وہ، جو قرآن بھی اچھی طرح پڑھتے ہیں اور پڑھانا بھی جانتے ہیں، مگر پڑھاتے وقت لاپرواہی کرتے ہیں۔
طالبِ علم غلط پڑھے یا صحیح، انہیں زیادہ فرق نہیں پڑتا۔ چند صفحات کا سبق دیا اور وقت پورا کر کے چلے گئے۔
اس سارے نظام میں اصل نقصان بچے کا ہوتا ہے۔
ہمارے پاس اکثر والدین کہتے ہیں کہ بچے نے کئی دفعہ قرآن ختم کیا ہے، لیکن جب اس کا امتحان لیا جائے تو سورۂ فاتحہ بھی ٹھیک طرح نہیں پڑھ پاتا، مخارج درست نہیں ہوتے۔
اور جب دوبارہ قاعدہ یا ابتدا سے شروع کروایا جائے تو بچہ خود بھی دل برداشتہ ہو جاتا ہے، بعض اوقات تو پڑھنا ہی چھوڑ دیتا ہے۔
یوں والدین اور اساتذہ دونوں کی غفلت سے بچے کا قیمتی وقت بھی ضائع ہوتا ہے، اور وہ ساری عمر ویسا ہی قرآن پڑھتا رہتا ہے جیسا اسے شروع میں سکھایا گیا ہوتا ہے۔
گھروں میں قرآن کی ٹیوشن اسی وقت فائدہ مند ہو سکتی ہے جب:
والدین اچھے اور قابل استاد کا انتخاب کریں
استاد کے ساتھ عزت اور اعتماد کا معاملہ رکھیں
استاد اور طالبِ علم دونوں محنت اور اخلاص سے کام لیں
ورنہ والدین صرف ظاہری ذمہ داری ادا کریں گے، اور استاد اسے محض روزگار سمجھ کر نبھاتا رہے گا۔
ابو عکراش ۔
معیاری قرآنی تعلیم و تربیت
#ٹیوشن #قرآن #والدین #حفظ #اساتذہ
فائدہ یا نقصان؟
قرآنِ مجید کی تعلیم کے لیے الحمدللہ دنیا بھر میں دینی مدارس اور مکاتب قائم ہیں۔ شروع سے یہی طریقہ رائج رہا ہے کہ طالبِ علم خود علم کی جگہ پر جائے، استاد کے سامنے بیٹھے، ادب کے ساتھ سیکھے اور محنت کرے۔
یہی طریقہ سب سے بہتر اور زیادہ مؤثر ہے۔
وقت کے ساتھ ساتھ قرآنِ مجید پڑھانے کا ایک اور طریقہ بھی عام ہوا، جو اگرچہ پسندیدہ نہیں، لیکن بعض مجبوریوں کی وجہ سے علماءِ کرام نے کچھ شرائط کے ساتھ اس کی اجازت دی ہے۔
اور وہ ہے گھروں میں قرآن پڑھانے کا نظام، یعنی استاد کا طالبِ علم کے پاس جا کر پڑھانا۔
اگر والدین کسی اچھے، باصلاحیت اور دیانت دار استاد کا انتخاب کریں، اور استاد و طالبِ علم دونوں محنت کریں، تو اس طریقے سے بھی فائدہ حاصل ہو سکتا ہے۔
لیکن افسوس یہ ہے کہ اب اس نظام میں بڑی تعداد ایسے لوگوں کی ہو گئی ہے جن کے نزدیک قرآن پڑھانا تعلیم سے زیادہ روزگار کا ذریعہ بنتا جا رہا ہے۔
اکثر والدین کی طرف سے یہ کوتاہی ہوتی ہے کہ وہ استاد کے انتخاب میں تحقیق نہیں کرتے۔
بس کوئی ٹوپی داڑھی والا شخص مل گیا، اس نے کہہ دیا کہ میں پڑھا سکتا ہوں اور فیس بھی کم ہے، تو فوراً رکھ لیا جاتا ہے۔
اگلے دن کہہ دیا جاتا ہے: آپ پڑھانا شروع کر دیں۔
حالانکہ یہی والدین دنیاوی تعلیم کے معاملے میں ہر ایک سے مشورہ لیتے ہیں:
کون سا اسکول اچھا ہے؟
کہاں پڑھائی کا معیار بہتر ہے؟
لیکن قرآن پڑھانے والا استاد رکھ لینے کے بعد سالوں تک یہ نہیں دیکھا جاتا کہ بچہ کیا پڑھ رہا ہے اور کیسے پڑھ رہا ہے۔
بس انتظار رہتا ہے اس دن کا جب استاد کہے گا کہ قرآن ختم ہو گیا ہے، پھر خوشی منائی جائے گی اور دعوت ہوگی۔
اساتذہ کی بات کی جائے تو وہ بھی عموماً دو قسم کے ہوتے ہیں۔
ایک وہ، جنہیں خود قرآن درست نہیں آتا، مگر صرف روزی روٹی کے لیے اس میدان میں آ جاتے ہیں۔
دوسرے وہ، جو قرآن بھی اچھی طرح پڑھتے ہیں اور پڑھانا بھی جانتے ہیں، مگر پڑھاتے وقت لاپرواہی کرتے ہیں۔
طالبِ علم غلط پڑھے یا صحیح، انہیں زیادہ فرق نہیں پڑتا۔ چند صفحات کا سبق دیا اور وقت پورا کر کے چلے گئے۔
اس سارے نظام میں اصل نقصان بچے کا ہوتا ہے۔
ہمارے پاس اکثر والدین کہتے ہیں کہ بچے نے کئی دفعہ قرآن ختم کیا ہے، لیکن جب اس کا امتحان لیا جائے تو سورۂ فاتحہ بھی ٹھیک طرح نہیں پڑھ پاتا، مخارج درست نہیں ہوتے۔
اور جب دوبارہ قاعدہ یا ابتدا سے شروع کروایا جائے تو بچہ خود بھی دل برداشتہ ہو جاتا ہے، بعض اوقات تو پڑھنا ہی چھوڑ دیتا ہے۔
یوں والدین اور اساتذہ دونوں کی غفلت سے بچے کا قیمتی وقت بھی ضائع ہوتا ہے، اور وہ ساری عمر ویسا ہی قرآن پڑھتا رہتا ہے جیسا اسے شروع میں سکھایا گیا ہوتا ہے۔
گھروں میں قرآن کی ٹیوشن اسی وقت فائدہ مند ہو سکتی ہے جب:
والدین اچھے اور قابل استاد کا انتخاب کریں
استاد کے ساتھ عزت اور اعتماد کا معاملہ رکھیں
استاد اور طالبِ علم دونوں محنت اور اخلاص سے کام لیں
ورنہ والدین صرف ظاہری ذمہ داری ادا کریں گے، اور استاد اسے محض روزگار سمجھ کر نبھاتا رہے گا۔
ابو عکراش ۔
معیاری قرآنی تعلیم و تربیت
#ٹیوشن #قرآن #والدین #حفظ #اساتذہ
❤2
نہایت افسوس کی بات ہے کہ تعلیمی اداروں میں جہاں پر سالانہ فنکشن اور مختلف تقریبات کے نام پر ایسے بےہودہ سیگمنٹس اور پروگرام کیے جاتے ہوں
یہ ہم سب کے لیے لمحہ فکر ہے کہ تعلیمی ادارے میں ایسے پروگرام کیوں کیے جاتے ہیں ؟ کیونکہ یہ ہماری اعلیٰ تہذیبی اقدار اور معاشرتی ڈھانچے میں بگاڑ کی تشویشناک ابتدا ہے۔"نہ دین اسلام اور نہ ہمارا کلچر اجازت دیتا ہے۔ یہ تصاویر خیبرپختونخوا کی ہیں جو کبھی شرم و حیا اور پردے کے لیے مشہور تھا آج وہاں یہ حالت ہے۔ پنجاب کے تعلیمی اداروں میں طلباء و طالبات کتنے ماڈرن ہوچکے ہیں یہ وہاں کے کسی بھی تعلیمی ادارے کے فنکشنز کی ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے۔ فکر کیجئے قبل اسکے کہ آپ کو اپنی اولاد کے لیے پچھتانا پڑے
#ParentGuide
https://www.facebook.com/profile.php?id=61579821277198&mibextid=ZbWKwL
Telegram
https://t.me/parentguide
یہ ہم سب کے لیے لمحہ فکر ہے کہ تعلیمی ادارے میں ایسے پروگرام کیوں کیے جاتے ہیں ؟ کیونکہ یہ ہماری اعلیٰ تہذیبی اقدار اور معاشرتی ڈھانچے میں بگاڑ کی تشویشناک ابتدا ہے۔"نہ دین اسلام اور نہ ہمارا کلچر اجازت دیتا ہے۔ یہ تصاویر خیبرپختونخوا کی ہیں جو کبھی شرم و حیا اور پردے کے لیے مشہور تھا آج وہاں یہ حالت ہے۔ پنجاب کے تعلیمی اداروں میں طلباء و طالبات کتنے ماڈرن ہوچکے ہیں یہ وہاں کے کسی بھی تعلیمی ادارے کے فنکشنز کی ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے۔ فکر کیجئے قبل اسکے کہ آپ کو اپنی اولاد کے لیے پچھتانا پڑے
#ParentGuide
https://www.facebook.com/profile.php?id=61579821277198&mibextid=ZbWKwL
Telegram
https://t.me/parentguide
😭1
راولپنڈی کی 14 سالہ مصباح
گھر سے صرف بوتل لینے نکلی تھی۔
نہ اسے معلوم تھا کہ دروازہ پار کرتے ہی
موت اس کے پیچھے لگ جائے گی۔
ایک درندہ اسے اغوا کرتا ہے،
قتل کرتا ہے،
لاش بوری میں بند کرتا ہے
اور خاموشی سے فرار ہو جاتا ہے۔
اور ہم؟
ہم ہمیشہ کی طرح بعد میں جاگتے ہیں۔
پہلے لاپرواہی،
پھر چیخیں،
پھر آنسو،
اور آخر میں چند دن کا شور۔
سوال کڑوا ہے مگر ضروری ہے:
کیا واقعی ہمیں اپنے بچوں کی فکر صرف مرنے کے بعد آتی ہے؟
یہ معاشرہ اب بچوں کے لیے محفوظ نہیں رہا،
اور یہ سچ جتنا جلد مان لیں
اتنا ہی شاید کسی اور مصباح کی جان بچ جائے۔
#معاشرتی_ناکامی
#بچوں_کا_تحفظ
#خاموش_قاتل
#EnoughIsEnough
#Rawalpindi
#InnocentLives
#ChildAbuse
#ChildMurder
#ProtectOurChildren
#JusticeForMisbah
#StopChildViolence
#ParentsAwareness
#SocialFailure
#Pakistan
#CrimeAlert
#WakeUpSociety
گھر سے صرف بوتل لینے نکلی تھی۔
نہ اسے معلوم تھا کہ دروازہ پار کرتے ہی
موت اس کے پیچھے لگ جائے گی۔
ایک درندہ اسے اغوا کرتا ہے،
قتل کرتا ہے،
لاش بوری میں بند کرتا ہے
اور خاموشی سے فرار ہو جاتا ہے۔
اور ہم؟
ہم ہمیشہ کی طرح بعد میں جاگتے ہیں۔
پہلے لاپرواہی،
پھر چیخیں،
پھر آنسو،
اور آخر میں چند دن کا شور۔
سوال کڑوا ہے مگر ضروری ہے:
کیا واقعی ہمیں اپنے بچوں کی فکر صرف مرنے کے بعد آتی ہے؟
یہ معاشرہ اب بچوں کے لیے محفوظ نہیں رہا،
اور یہ سچ جتنا جلد مان لیں
اتنا ہی شاید کسی اور مصباح کی جان بچ جائے۔
#معاشرتی_ناکامی
#بچوں_کا_تحفظ
#خاموش_قاتل
#EnoughIsEnough
#Rawalpindi
#InnocentLives
#ChildAbuse
#ChildMurder
#ProtectOurChildren
#JusticeForMisbah
#StopChildViolence
#ParentsAwareness
#SocialFailure
#Pakistan
#CrimeAlert
#WakeUpSociety
ایک باپ نے یہ سمجھا کہ اس نے اپنی بیٹی کو موبائل فون سے دور رکھنے کا شاندار حل ڈھونڈ لیا ہے۔ اس نے سوچا کہ اگر گھر میں ایک بلی آ جائے تو بچی سارا وقت اسی کے ساتھ کھیلتی رہے گی اور اسکرین سے جان چھوٹ جائے گی۔
مگر منصوبہ الٹا پڑ گیا… اور وہ بھی نہایت مزاحیہ انداز میں۔
چند ہی دنوں میں معلوم ہوا کہ بچی تو اپنی جگہ، بلی خود موبائل کی دیوانی ہو گئی۔ کبھی اسکرین پر پنجے مارتی، کبھی ویڈیوز غور سے دیکھتی اور کبھی ایسے اسکرول کرنے کی کوشش کرتی جیسے برسوں سے اسمارٹ فون استعمال کر رہی ہو۔ یوں ایک بری عادت ختم کرنے کے چکر میں گھر میں ایک نئی اسکرین ایڈکشن جنم لے بیٹھی۔
مشہور آن لائن فورم Reddit پر باپ نے اپنی داستان کچھ یوں سنائی:
“لوگوں نے کہا بلی لے آؤ، بچی موبائل چھوڑ دے گی… اب مسئلہ یہ ہے کہ بچی اور بلی دونوں اسکرین کے وقت پر جھگڑ رہی ہیں!”
یہ پوسٹ اس لیے وائرل ہو گئی کہ اس میں ہمارے عہد کی تلخ سچائی چھپی ہے۔ ٹیکنالوجی صرف بچوں کو ہی نہیں، اب تو پالتو جانوروں کو بھی اپنی گرفت میں لے رہی ہے۔
یوں موبائل کی وجہ سے نہ صرف بچی کا مستقبل خطرے میں دکھائی دینے لگا، بلکہ بیچاری بلی کا مستقبل بھی اسکرین کی نذر ہونے لگا۔
مگر منصوبہ الٹا پڑ گیا… اور وہ بھی نہایت مزاحیہ انداز میں۔
چند ہی دنوں میں معلوم ہوا کہ بچی تو اپنی جگہ، بلی خود موبائل کی دیوانی ہو گئی۔ کبھی اسکرین پر پنجے مارتی، کبھی ویڈیوز غور سے دیکھتی اور کبھی ایسے اسکرول کرنے کی کوشش کرتی جیسے برسوں سے اسمارٹ فون استعمال کر رہی ہو۔ یوں ایک بری عادت ختم کرنے کے چکر میں گھر میں ایک نئی اسکرین ایڈکشن جنم لے بیٹھی۔
مشہور آن لائن فورم Reddit پر باپ نے اپنی داستان کچھ یوں سنائی:
“لوگوں نے کہا بلی لے آؤ، بچی موبائل چھوڑ دے گی… اب مسئلہ یہ ہے کہ بچی اور بلی دونوں اسکرین کے وقت پر جھگڑ رہی ہیں!”
یہ پوسٹ اس لیے وائرل ہو گئی کہ اس میں ہمارے عہد کی تلخ سچائی چھپی ہے۔ ٹیکنالوجی صرف بچوں کو ہی نہیں، اب تو پالتو جانوروں کو بھی اپنی گرفت میں لے رہی ہے۔
یوں موبائل کی وجہ سے نہ صرف بچی کا مستقبل خطرے میں دکھائی دینے لگا، بلکہ بیچاری بلی کا مستقبل بھی اسکرین کی نذر ہونے لگا۔
❤1
#بریکنگ #نیوز
پانچ سالہ بچی کو زیادتی ہے بعد قتل کرنے والا ملزم سی سی ڈی نے گرفتار کرلیا
گذشتہ ماہ 368 جڑانوالہ میں 5 سالہ معصوم بچی کی لاش کھیتوں سے ملی تھی
ملزم بابر ڈی این اے میچ ہونے پر سی سی ڈی نے گرفتار کرلیا
ملزم بچی کے والد کا کزن ہے جس کے گھر کےے باہر سے بچی غائب ہوئی اور ملزم بچی کو قتل کرنے کے بعد والدین کے ساتھ مل کر بچی کو ڈھونڈتا رہا
خدارا بچوں کے معاملے پر والدین احتیاط کریں
پانچ سالہ بچی کو زیادتی ہے بعد قتل کرنے والا ملزم سی سی ڈی نے گرفتار کرلیا
گذشتہ ماہ 368 جڑانوالہ میں 5 سالہ معصوم بچی کی لاش کھیتوں سے ملی تھی
ملزم بابر ڈی این اے میچ ہونے پر سی سی ڈی نے گرفتار کرلیا
ملزم بچی کے والد کا کزن ہے جس کے گھر کےے باہر سے بچی غائب ہوئی اور ملزم بچی کو قتل کرنے کے بعد والدین کے ساتھ مل کر بچی کو ڈھونڈتا رہا
خدارا بچوں کے معاملے پر والدین احتیاط کریں
💔1