Parent Guide
131 subscribers
26 photos
17 videos
56 links
بچوں کی تعلیم، تربیت، اور حفاظتی تدابیر پر مبنی مواد والدین کی رہنمائی کے لیے

فیسبک پیج
https://www.facebook.com/parentguidenmore
ٹیلی گرام
https://t.me/parentguide
واٹس ایپ
https://whatsapp.com/channel/0029Vb88UmR5Ui2eQdx2mk3B
Download Telegram
📚 بڑی ڈگریاں، چھوٹے لہجے

آج کے دور میں تعلیم نے ہمیں الفاظ تو سکھا دیے ہیں، مگر اندازِ گفتگو بھلا دیے ہیں۔ ڈگریاں بڑی ہو گئیں، مگر بات کرنے کا سلیقہ چھوٹا پڑ گیا۔ علم تو بڑھا، لیکن ادب کم ہوتا گیا۔

ہم نے علم کو روزگار کا ذریعہ تو بنا لیا، مگر کردار سازی کا ذریعہ نہیں۔ ایک زمانہ تھا جب تعلیم کا مقصد انسان بننا ہوتا تھا، آج مقصد صرف کمائی رہ گیا ہے۔ اسی لیے ہمارے معاشرے میں زبان کی سختی، لہجے کا زہر، اور باتوں میں تلخی بڑھتی جا رہی ہے۔

چھوٹوں سے بات کرنے کا ادب

چھوٹے، ناتجربہ کار ضرور ہوتے ہیں، مگر وہ عزت کے بھوکے بھی ہوتے ہیں۔ ان سے بات کرتے وقت نرمی، شفقت اور رہنمائی کا انداز اختیار کرنا چاہیے۔
ان پر حکم چلانے کے بجائے، بات سمجھانے کا انداز اپنائیں۔
نبی ﷺ نے فرمایا: “تم میں بہتر وہ ہے جو اپنے چھوٹوں پر شفقت کرے۔”

بڑوں سے بات کرنے کا سلیقہ

بڑوں سے گفتگو میں آواز بلند نہ ہو۔ اگر وہ غلط بھی ہوں تو لحاظ اور ادب کے ساتھ بات کی جائے۔
آج کل اکثر نوجوان دلیل کے نام پر گستاخی کرتے ہیں، حالانکہ سچ وہی ہے جو احترام کے دائرے میں کہا جائے۔
بڑوں کی بات کاٹ دینا علم نہیں، بدتمیزی ہے۔

دفتر (آفس) میں بات کرنے کا آداب

آفس میں بات کرتے وقت پیشہ ورانہ انداز ضروری ہے۔
نہ زیادہ دوستانہ، نہ غیر ضروری سخت۔
سینئرز کے ساتھ عزت سے، جونیئرز کے ساتھ رہنمائی کے جذبے سے، اور ساتھیوں کے ساتھ تعاون کے ساتھ گفتگو کریں۔
آفس کی گفتگو میں لہجہ آپ کی شخصیت کا آئینہ ہوتا ہے۔

بازار یا عوامی جگہ پر گفتگو

بازار میں، دکاندار سے یا عام لوگوں سے بات کرتے وقت بھی تہذیب ہاتھ سے نہیں جانی چاہیے۔
غصہ، جھگڑا، اونچی آواز یہ سب اس بات کی نشانی ہیں کہ ہم نے تعلیم تو حاصل کی، لیکن تہذیب نہیں۔
خریداری میں نرمی اور شکرگزاری کا لہجہ انسان کی اصلی تربیت دکھاتا ہے۔

آخر میں یہی کہنا کافی ہے کہ علم انسان کو نرم بناتا ہے، مغرور نہیں۔
ڈگری سے نہیں، لہجے سے انسان پہچانا جاتا ہے۔
اگر ہماری گفتگو میں نرمی، ہمارے لہجے میں عزت، اور ہمارے الفاظ میں وقار ہو تب ہی ہماری تعلیم با برکت بن سکتی ہے۔

تحریر از قلم سید ریحان
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
‏*بچوں کے گردے کیوں فیل ہو رہے ییں۔۔۔؟*
تمام ماں باپ لازمی متوجہ ہوں بہت خطرناک سچویشن ہے اپ کی احتیاط کرنے سے اپ کے بچوں کی زندگی محفوظ ہو سکتی ہے پلیز پلیز ضرور دیکھیں دو منٹ کی بھی نہیں ہے یہ ویڈیو


#ParentGuide #tarbiyah

ہمارا واٹس ایپ گروپ جوائن کریں
https://whatsapp.com/channel/0029Vb73UNACnA7sY9fGLb1q

فیسبک پیج
https://www.facebook.com/parentguidenmore

ٹیلی گرام
https://t.me/parentguide
*سموگ کیا ہے؟ اِس کے نقصانات کیا ہیں اور اِس سے بچوں کو کیسے محفوظ رکھیں؟*

سموگ (Smog) ایک انگریزی اصطلاح ہے جو "سموک" (دھواں) اور "فوگ" (دھند) کے امتزاج سے بنی ہے۔ یہ ہوا میں موجود آلودہ ذرات، دھوئیں، کاربن مونو آکسائیڈ، نائٹروجن آکسائیڈ، اور دیگر کیمیائی مادوں کے ملنے سے بنتی ہے، جو زیادہ تر گاڑیوں کے دھوئیں، صنعتوں کی آلودگی، اور کوڑا کرکٹ جلانے سے پیدا ہوتے ہیں۔ سموگ کی وجہ سے فضا میں موجود آکسیجن کم ہوتی ہے اور سانس لینے میں دشواری پیش آتی ہے۔

سموگ کے نقصانات:

سموگ انسانی صحت، ماحول اور معیشت پر منفی اثرات ڈالتی ہے۔ اس کے چند اہم نقصانات درج ذیل ہیں:

1. سانس کی بیماریوں میں اضافہ: سموگ میں موجود زہریلے مادے پھیپھڑوں کو نقصان پہنچاتے ہیں، جس سے دمہ، برونکائٹس اور سانس لینے میں دشواری جیسی بیماریاں جنم لیتی ہیں، خاص طور پر بچوں اور بزرگوں میں۔

2. آنکھوں اور جلد پر مضر اثرات: سموگ کی وجہ سے آنکھوں میں جلن، آنسو آنے، اور جلد کی خرابی جیسے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ حساس جلد والے افراد کے لیے یہ مسائل زیادہ شدت اختیار کر سکتے ہیں۔

3. دل کی بیماریوں کا خطرہ: ہوا میں موجود کاربن مونو آکسائیڈ اور دیگر زہریلے ذرات خون میں شامل ہو کر دل کی دھڑکن میں بے ترتیبی پیدا کر سکتے ہیں، جس سے دل کی بیماریوں اور ہارٹ اٹیک کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

4. بچوں کی صحت پر اثرات: سموگ بچوں کی سانس کی نالیوں کو متاثر کرتی ہے، جس سے ان کی جسمانی نشوونما اور دماغی صلاحیتوں پر منفی اثر پڑتا ہے۔

5. ماحول پر منفی اثرات: سموگ کی وجہ سے سورج کی روشنی کم زمین تک پہنچتی ہے، جس سے درختوں اور فصلوں کی نشوونما متاثر ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ، یہ جنگلی حیات اور آبی حیات کو بھی نقصان پہنچا سکتی ہے.

سموگ کے اثرات سے بچوں کو بچانے کے لیے چند اہم احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہئیں: 👇👇👇

1. باہر کھیلنے سے گریز: سموگ کے دوران بچوں کو باہر کھیلنے اور زیادہ وقت گزارنے سے روکیں، خاص طور پر صبح اور شام کے وقت جب سموگ زیادہ ہوتا ہے۔

2. ماسک کا استعمال: اگر بچوں کو باہر جانا ضروری ہو تو انہیں ماسک پہنائیں، تاکہ وہ ہوا میں موجود مضر ذرات کو کم سے کم سانس میں لے سکیں۔

3. گھر کے اندر رہنا: سموگ کی شدت زیادہ ہونے پر بچوں کو زیادہ تر گھر کے اندر ہی رکھیں۔ اس دوران کھڑکیاں اور دروازے بند رکھیں تاکہ آلودہ ہوا گھر میں داخل نہ ہو سکے۔

4. ایئر پیوریفائر کا استعمال: اگر ممکن ہو تو گھر کے اندر ایئر پیوریفائر استعمال کریں، خاص کر بچوں کے کمروں میں، تاکہ ہوا میں موجود نقصان دہ ذرات کو کم کیا جا سکے۔

5. پانی اور خوراک کا خیال: بچوں کو زیادہ پانی پلائیں تاکہ ان کا جسم ہائیڈریٹڈ رہے اور سموگ کے اثرات سے بچاؤ میں مدد مل سکے۔ انہیں پھل اور سبزیاں کھلائیں جو ان کے جسم کی قوت مدافعت کو بڑھا سکیں۔

6. احتیاطی دوائیں: اگر بچے کو دمے یا سانس کے کسی مسئلے کا سامنا ہے تو ڈاکٹر سے مشورہ کریں اور ضروری ادویات استعمال کریں تاکہ کسی ہنگامی صورتحال سے بچا جا سکے۔

7. پانی سے کلی کروانا: بچوں کو باہر سے واپس آکر ہاتھ، منہ، اور ناک کو اچھی طرح دھونا سکھائیں تاکہ سموگ کے اثرات کم کیے جا سکیں۔

8. سموگ کی صورتحال کو مانیٹر کریں: موسمی اور فضائی معیار کی خبروں پر نظر رکھیں اور جب سموگ کی سطح زیادہ ہو، تو باہر جانے سے پرہیز کریں۔

اِن ہدایات پر عمل کر کے بچوں کو سموگ کے مضر اثرات سے محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔
#smog #smogawareness #smogcheck #smogfreepunjab #SmogFreePakistan
#smogalert

#ParentGuide #tarbiyah

ہمارا واٹس ایپ گروپ جوائن کریں
https://whatsapp.com/channel/0029Vb73UNACnA7sY9fGLb1q

فیسبک پیج
https://www.facebook.com/parentguidenmore

ٹیلی گرام
https://t.me/parentguide
ہمارا نظام تعلیم

#ParentGuide #tarbiyah

ہمارا واٹس ایپ گروپ جوائن کریں
https://whatsapp.com/channel/0029Vb73UNACnA7sY9fGLb1q

فیسبک پیج
https://www.facebook.com/parentguidenmore

ٹیلی گرام
https://t.me/parentguide
علم و عقل سے محروم معاشروں نے خوبصورتی اور فیشن کو ایک سمجھ لیا ہے۔ خوبصورتی اور فیشن ایک معاملہ نہیں ہے۔

خوبصورتی کسی دائمی اصول کی تابع ہوتی ہے جب کہ فیشن نت نئے رجحانات کو اختیار کرتے رہنے کا عنوان ہے۔

خوبصورتی کا واضح اور اصولی تصور نہ رکھنے سے معاشرہ اخلاقی زوال کا شکار ہوتا ہے اور فیشن پنپتا ہے۔ فیشن کے پنپنے سے کا سمیٹکس کی کئی ارب ڈالر کی صنعت ترقی کرتی ہے اور انسان کھو کھلا ہو جاتا ہے۔

#SalmanAsifSiddiqui #ERDCpk
#ParentGuide #tarbiyah

ہمارا واٹس ایپ گروپ جوائن کریں
https://whatsapp.com/channel/0029Vb73UNACnA7sY9fGLb1q

فیسبک پیج
https://www.facebook.com/parentguidenmore

ٹیلی گرام
https://t.me/parentguide
1
‏نجی تعلیمی اداروں کے اسکول کے لوگو والی نوٹ بکس اور یونیفارم خریدنے پر مجبورکرنے کے معاملے پر مسابقتی کمیشن کی انکوائری میں نجی اسکولوں کی اجارہ داری ثابت ہوگئی، لوگو والی کاپیاں مارکیٹ سے 280 فیصد تک مہنگی پائی گئیں، 17 بڑے نجی اسکول سسٹمز کو شوکاز نوٹس جاری کردیئے گئے۔ کمیشن کا کہنا ہے کہ ہر نجی اسکول کو ساڑھے 7 کروڑ روپے تک جرمانہ کیا جاسکتا ہے۔

مسابقی کمیشن کی انکوائری میں نجی اسکولوں کی جانب سے طلبہ کو لوگو والی نوٹ بکس اور یونیفارم خریدنے پر مجبور کرنے کا الزام ثابت ہوگیا، اسکولز اجارہ داری قائم کرکے لوگو والی کاپیاں مارکیٹ سے 280 فیصڈ تک مہنگی فروخت کرتے ہیں۔

سی سی پی نے 17 بڑے نجی اسکول سسٹمز کو شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے 14 چودہ دن میں تحریری جواب جمع کرانے کی ہدایت کردی، مہنگے نجی تعلیمی اداروں نے مسابقتی کمیشن سے فیسوں کا ڈیٹا شیئر کرنے سے انکار کردیا۔

مسابقی کمیشن کا کہنا ہے کہ ہر نجی اسکول کو ساڑھے 7 کروڑ روپے تک جرمانہ کیا جاسکتا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طلباء کو مہنگی لوگو والی نوٹ بکس، یونیفارمز خریدنے پر مجبور کیاج اتا ہے۔ مسابقی کمیشن کا کہنا ہے کہ داخلے کے بعد طلباء محصور کنزیومر بن جاتے ہیں، ملک کے 50 فیصد طلباء نجی اسکولوں میں زیرتعلیم ہیں، گائیڈ لائنز کے نام پر مہنگی پراڈکٹس کی لازمی خریداری مسلط کی جاتی ہے۔

کمیشن نے مزید کہاکہ والدین سستے داموں متبادل بازار سے نہیں خرید سکتے، نوٹس ملنے والے اسکولوں میں بیکن ہاؤس، ویسٹ منسٹر، سٹی اسکول، ہیڈ اسٹارٹ، لاہور گرائمر اسکول، فروبلز، روٹس انٹرنیشنل، روٹس ملینیئم، کیپس، الائیڈ اسکولز، سپرنووا، دار ارقم، اسٹپ، یونائیٹڈ چارٹر اور اسمارٹ اسکول بھی شامل ہیں۔

کمیشن کا کہنا ہے کہ والدین اور طلباء کو مشروط فروخت یا مجبور کرنا کمپی ٹیشن ایکٹ کی خلاف ورزی ہے، کئی نجی اسکولوں نے مخصوص وینڈرز سے خفیہ معاہدے کر رکھے ہیں۔

#SamaaTV#Pakistan#SchoolMonopoly#CCP#CompetitionCommissionofPakistan
خاندانی نظام
سید قطب رحمتہ اللہ علیہ

https://t.me/parentguide/55
https://t.me/parentguide/56
https://t.me/parentguide/57
1
خاندانی نظام

اسلام کا اجتماعی نظام ایک قسم کا خاندانی نظام ہے ۔ اس کی اساس خاندان پر ہے ۔ اس لئے کہ انسان کے لئے اس کے رب کا تجویز کردہ نظام ہے ۔ اس میں انسان کی فطرت کی تمام ضروریات ، تمام خصوصیات اور تمام بنیادی باتوں کا پورا لحاظ رکھا گیا ہے۔
خاندانی نظام کی جڑیں ابتداً تخلیق تک جاپہنچتی ہیں ۔ اس کی کونپلیں شاخ فطرت سے پھوٹتی ہیں ۔ انسان بلکہ تمام حیوانات کی تخلیق ہی خاندانی نظام پر ہے ۔ قرآن مجید سے صاف ظاہر ہوتا ہے۔ وَمِنْ كُلِّ شَيْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ ” اور ہر چیز کے ہم نے جوڑے بنائے ہیں ۔ شاید کے تم اس سے سبق لو۔ “
ایک دوسری آیت میں فرماتے ہیں سُبْحَانَ الَّذِي خَلَقَ الأزْوَاجَ كُلَّهَا مِمَّا تُنْبِتُ الأرْضُ وَمِنْ أَنْفُسِهِمْ وَمِمَّا لا يَعْلَمُونَ ” پاک ہے وہ ذات جس نے تمام جوڑوں کو پیدا کیا ، ان تمام چیزوں سے سے جو زمین اگاتی ہے ۔ انسانی نفوس سے اور ان تمام دوسری چیزوں سے جو وہ نہیں جانتے۔ “
اب انسان کا مزید نقطہ نظر سے جائزہ لیا جاتا ہے اور اسے وہ پہلا انسان یاد دلایا جاتا ہے جس کے واسطہ سے یہاں انسانوں کی بستی کا آغاز ہوا ۔ پہلی انسانی آبادی ایک جوڑا تھا ۔ پھر اس کی اولاد پیداہوئی ، پھر اس سے انسانیت اور انسانی آبادی پھیل گئی ۔ يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالا كَثِيرًا وَنِسَاءً وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالأرْحَامَ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا ” لوگو ! اپنے رب سے ڈرو جس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا اور اسی جان سے اس کا جوڑا بنایا اور ان دونوں سے بہت مرد و عورت دنیا میں پھیلادیئے۔ اس اللہ سے ڈرو جس کا واسطہ دے کر تم ایک دوسرے سے اپنے حق مانگتے ہو ، اور رشتہ وقربت کے تعلقات بگاڑنے سے پرہیز کرو ۔ یقین جانو کہ اللہ تم پر نگرانی کررہا ہے ۔ “
دوسری جگہ ہے يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُمْ مِنْ ذَكَرٍ وَأُنْثَى وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا ” لوگو ! ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور پھر تمہاری قومیں اور برادریاں بنادیں تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو۔ “
پھر بتایا جاتا ہے کہ میاں بیوی کے درمیان ایک فطری جاذبیت ہے ۔ اس لئے نہیں کہ مرد و عورت علی الاطلاق اکٹھے ہوں ، بلکہ ان کے درمیان انس و محبت کا نتیجہ پیدا ہونا چاہئے کہ وہ خاندان کی بنیاد ڈالیں اور گھرانے تعمیر ہوں : وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِنْ أَنْفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَوَدَّةً وَرَحْمَةً ” اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تمہارے لئے تمہاری جنس سے بیویاں بنائیں تاکہ تم ان کے پاس سکون حاصل کرو اور تمہارے درمیان محبت اور رحمت پیدا کردی۔ “ ھُنَّ لِبَاسٌ لَّکُم وَاَنتُم لِبَاسٌ لَّھُنَّ ” وہ تمہارے لئے لباس ہیں اور تم ان کے لئے لباس ہو۔ “ نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ وَقَدِّمُوا لأنْفُسِكُمْ وَاتَّقُوا اللَّهَ وَاعْلَمُوا أَنَّكُمْ مُلاقُوهُ وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِينَ ” تمہاری عورتیں تمہاری کھیتیاں ہیں تمہیں اختیار ہے ۔ جس طرح چاہو اپنی کھیتی میں جاؤمگر اپنے مستقبل کی فکر کرو اور اللہ کی ناراضگی سے بچو ۔ خوب جان لو کہ تمہیں ایک دن اس سے ملنا ہے ۔ “ واللّٰہ جعل لکم من بیوتکم سکنا ” حقیقت ہے کہ اللہ نے تمہارے گھروں کو تمہارے لئے جائے سکون بنایا ہے۔ “
یہ فطرت ہے کہ جو اپنا کام کرتی ہے اور یہ خاندان ہی ہے جو ابتدائی تخلیق اور پھر انسان کی تعمیر وتربیت میں فطرت عمیق مقاصد کی بجا آوری کے لئے لبیک کہتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی نظام زندگی میں خاندانی نظام ایک فطری اور طبعی نظام ہے جس کا سر چشمہ انسان کی تخلیق کے آغاز سے پھوٹا ہے ۔ (آدم وحوا سے ) اگر گہرامطالعہ کیا جائے تو کائنات کی تمام اشیاء کا آغاز تخلیق بھی اسی نظام کے مطابق ہوا ہے ۔ اس طرح اسلام نے فطرت کے منہاج کو اپنایا ہے ، جس طرح اس کائنات کی دوسری اشیاء کی تخلیق خاندانی نظام کے اسلوب پر ہوتی ہے ۔ اسی طرح نظام کی اساس بھی خاندان کو قرار دیا گیا کیونکہ انسان بھی بہرحال اس کائنات کا ایک جزء ہے ۔
خاندان دراصل ایک قدرتی نرسری ہے ۔ جہاں چھوٹے بچوں کی صحیح دیکھ بھال اور تربیت ہوسکتی ہے ۔ صرف اس نرسری میں وہ صحیح طرح روحانی ، عقلی اور جسمانی نشوونما پاسکتے ہیں ۔ خاندان کے سایہ میں بچے میں محبت ، شفقت اور اجتماعی ذمہ داری (Reciprocal Responsibility) کا شعور پیدا ہوتا ہے ۔ اور اس نرسری میں اس پر جو رنگ چڑھتا ہے ، وہ پوری زندگی میں قائم رہتا ہے۔ بچے کو خاندان کی نرسری میں جو سبق ملتا ہے اسی کی روشنی میں وہ زندگی ۔ عملی زندگی کے لئے آنکھیں کھولتا ہے ، اسی کی روشنی میں وہ حقائق حیات کی تشریح کرتا ہے اور اسی کی روشنی میں
2
زندگی میں عمل پیرا ہوتا ہے۔
تمام زندہ مخلوقات میں طفل آدم کی طفولیت سب سے طویل ہوتی ہے ۔ تمام زندہ چیزوں سے زیادہ ۔ وجہ یہ ہے کہ ہر زندہ ذی روح کا عہد طفولیت دراصل باقی زندگی کے لئے تیاری ، تربیت اور ٹریننگ کا زمانہ ہوتا ہے ۔ اس میں بچے کو اس رول کے لئے تیار کیا جاتا ہے جو اس نے باقی زندگی میں ادا کرنا ہوتا ہے ۔ چونکہ دنیا میں انسان نے جو فرائض سر انجام دینے ہیں وہ عظیم فرائض ہیں ۔ جو رول زمین پر انسان نے ادا کرنا ہوتا ہے وہ ایک عظیم رول ہے ، اس لئے اس کا عہد طفولیت بھی نسبتاً لمبا رکھا گیا ہے تاکہ اسے مستقبل کی ذمہ داریوں کے لئے بطریق احسن تیار کیا جاسکے اور اسے اچھی طرح ٹریننگ دی جاسکے ۔ اس لئے دوسرے حیوانات کے مقابلے میں وہ والدین کے ساتھ رہنے کے لئے زیادہ محتاج ہے لہٰذا ایک پرسکون خاندانی ماحول ، مستقل خاندانی نرسری انسانی نظام زندگی کے لئے لازمی ہے۔ انسانی فطرت کے زیادہ قریب اور اس کی تشکیل اور نشوونما اور اس کی زندگی میں اس کے کردار کے لئے موزوں تر ہے۔
دور جدید کے تجربات نے اس بات کو یقین تک پہنچادیا ہے کہ خاندانی گہوارے کے مقابلے میں لوگوں نے بچوں کی نگہداشت کے جو انتظامات بھی کئے وہ سب کے سب ناقص رہے اور وہ خاندان کے نعم البدل ثابت نہیں ہوسکے ۔ بلکہ ان انتظامات میں سے کوئی انتظام بھی ایسا نہیں ہے جس میں بچے کی نشوونما کے لئے مضر پہلو نہ ہوں یا جس میں اس کی معیاری تربیت ممکن ہوسکے ۔ خصوصاً اجتماعی نرسری کا وہ نظام جسے دور جدید کے بعض مصنوعی اور جابرانہ نظام ہائے حیات نے محض اس لئے قائم کیا کہ وہ اللہ کے قائم کردہ مضبوط فطری اور صالح خاندانی نظام کی جگہ لے سکے ۔ محض اس لئے کہ یہ لوگ دین کی دشمنی میں مبتلا ہوگئے اور دین پر اندھا دھند حملے کرکے اس کی ہر چیز کے خلاف ہوگئے۔ اس لئے خاندانی نظام کو جبراً ختم کرکے اس کی جگہ بچوں کے لئے نرسریاں قائم کردیں۔ اگرچہ بعض اوقات ایسی نرسریاں حکومت کے تحت بھی قائم ہوئیں مثلاً دینی حدود وقیود سے آزاد مغربی ممالک نے ماضی قریب میں جو وحشیانہ جنگیں لڑیں ۔ وہ سب کے سامنے ہیں ۔ ان جنگوں میں وحشیوں نے لڑنے والوں اور پر امن شہریوں میں کوئی تمیز نہ کی ، اس کے نتیجے میں لاتعداد لاوارث بچے ماں باپ کے سایہ کے بغیر رہ گئے ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ یورپ کی بعض حکومتیں ان بچوں کے لئے اجتماعی نرسریاں قائم کرنے پر مجبور ہوگئیں۔ علاوہ ازیں مغرب کے جاہلی تصور حیات کے نتیجہ میں وہاں کے انسان کے لئے مناسب اجتماعی اور اقتصادی نظام کے مقابلے میں بدشکل اقتصادی اور معاشرتی نظام وجود میں آیا اور جس میں نوزائیدہ بچوں کی مائیں اس پر مجبور ہوگئیں کہ وہ اپنے لئے خود کمائیں اور مجبوراً بتقاضائے ضروریات بچوں کی اجتماعی نرسریاں وجود میں آئیں ۔ یہ نظام نہ تھا بلکہ ایک لعنت تھی ۔ اس نے بچوں کو ماؤں کی مامتا اور خاندان کے زیرسایہ ان کی تربیت سے محروم کردیا ، بیماروں کو نرسری میں پھینک دیا گیا ، نرسری کا نظام بچوں کی فطرت اور ان کے نفسیاتی ساخت سے متصادم تھا اس لئے نتیجہ یہ نکلا کہ اس قسم کے بچے ذہنی الجھنوں کا شکار ہوگئے اور انہیں بیشمار نفسیاتی پریشانیاں لاحق ہوگئیں۔
تعجب انگیز بات یہ ہے کہ ہمارے بعض معاصرین ان حقائق کے باوجود اس بات پر زور دیتے ہیں کہ عورت کے لئے ملازمت کا اختیار کرنا ترقی اور آزادی کی علامت ہے ۔ اور اس بات کا ثبوت ہے معاشرہ رجعت پسندی سے آزاد ہوگیا ہے۔ آپ نے دیکھا ! ان لوگوں کے نزدیک آزادی اور ترقی اس لعنت کا نام ہے جس کی وجہ سے اس دنیا میں انسان کی سب سے قیمتی ذخیرہ یعنی بچوں کی نفسیاتی صحت اور ان کی اخلاقی ترقی تو ختم ہوکر رہ گئی ہے ۔ حالانکہ بچے انسانیت کے مستقبل کا سرمایہ ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اس قیمتی سرمایہ کو ضائع کرکے انسان کیا فائدہ حاصل کرتا ہے ؟ صرف یہ خاندان کی آمدنی میں حقیر سا اضافہ ہوجاتا ہے بجائے اس کے کہ وہ اپنی اولاد کی کفالت کرے ۔ یہ صورتحال اس لئے پیش آئی کہ مغربی جاہلیت اور جدید مشرقی جاہلیت اور اس کے فاسد اجتماعی نظام نے بچوں کے لئے والدہ کی کفالت کی خاطر والدہ کی ملازمت کی حوصلہ شکنی کرنے سے انکار کیا ۔ اور صورت یہ ہوگئی کہ اگر کوئی عورت ملازمت نہیں کرتی تو اس کے ساتھ رشتہ کرنے کے لئے بھی کوئی تیار نہ ہوتا۔ حالانکہ ملازمت سے وہ جو کچھ کماتی وہ اس عظیم سرمایہ کی تربیت اور نگہداشت کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں ۔ اس لئے بچے انسانیت کا نہایت ہی قیمتی اور نایاب سرمایہ ہیں ۔
نرسریوں کے تجربات سے سب سے پہلے جو چیز ثابت ہوئی ہے وہ یہ ہے کہ پہلے دو سال کے عرصہ میں بچہ فطری اور نفسیاتی طور پر اس بات کا محتاج ہوتا ہے کہ اسے مستقلاً والدین کی گود میں ہونا چاہئے۔ بالخصوص والدہ کے معاملے میں تو اس کی ضرورت یہ ہے کہ والدہ مستقلاً صرف اس کی خدمت گزار ہو اور اس کے ساتھ اس میں کوئی دوسرا بچہ بھی شریک نہ ہو۔ اس کے بعد ایک عرصہ تک پھر اسے یہ ضرورت ہوتی ہے کہ اس کے ماں اور باپ ہوں اور اس کی نسبت
1
ان کی طرف ہو۔ پہلی ضرورت نرسری کے سلسلہ میں ممکن نہیں ہے اور دوسری صورت سوائے اس کے کہ خاندانی نظام موجود ہو ممکن الحصول نہیں ہے۔
جو بچہ ان دوسہولتوں سے محروم رہے وہ توانائی اور نفسیاتی لحاظ سے ناقص رہے گا ۔ ایسے بچے لازماً کسی نہ کسی نفسیاتی الجھن کا شکار ہوتے ہیں ۔
اگر کسی کو کوئی ایسا حادثہ پیش آجائے اور وہ ان دونوں سہولتوں میں سے کسی ایک سے محروم ہوجائے تو یہ حادثہ اس بچے کے لئے تباہ کن ہوتا ہے لیکن ہمیں تعجب ہے کہ ہم کدہر جارہے ہیں ؟ ذرا اس غافل اور بیخبر جاہلیت پر غور کریں ، جس کی کوشش یہ ہے کہ نرسری کا نظام عام کردیا جائے اور زیادہ سے زیادہ بچوں کو ایسے تباہ کن حادثوں سے دوچار کیا جائے اور پھر جاہلیت کے بعض وہ تماشائی جو اسلام کی عطا کردہ امن وسلامتی سے محروم ہیں وہ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ ہلاکت ، چھوٹے چھوٹے بچوں کی ہلاکت وتباہی ترقی اور آزادی ہے ۔ ثقافت وتہذیب ہے۔
یہی وہ وجوہات ہیں جن کی وجہ سے اسلامی نظام حیات نے ، اپنے اجتماعی نظام کی بنیاد ” خاندان “ پر رکھی ہے ۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی رضا یہ تھی کہ مسلمان امن سلامتی کے دائرے میں داخل ہوجائیں ۔ اور اسلام کے زیر سایہ سلامتی اور چین کی زندگی بسر کریں ۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید نے خاندانی نظام کے استحکام پر بہت زیادہ توجہ کی ہے۔ اس لئے کہ اسلام کے اجتماعی نظام میں خاندان بنیادی یونٹ قرار پانے والا تھا ۔ چناچہ قرآن مجید کی مختلف سورتوں میں خاندانی نظام کے استحکام کے لئے ، اس کے مختلف پہلوؤں کو منظم کیا گیا ہے اور اس کے لئے بنیادی مواد فراہم کیا گیا ہے ۔

#ParentGuide #tarbiyah

ہمارا واٹس ایپ گروپ جوائن کریں
https://whatsapp.com/channel/0029Vb73UNACnA7sY9fGLb1q

فیسبک پیج
https://www.facebook.com/parentguidenmore

ٹیلی گرام
https://t.me/parentguide
1
اس وقت معاشرے میں کسی چیز کو بیچنے کے لیے بس اتنا کافی ہے کہ اس کے تعارف میں یہ بتادیا جائے کہ اس سے آپ کو آسانی یا سہولت ہوگی۔

سہولت کا ملنا بُری بات نہیں لیکن لوگ اس بات پر غور نہیں کرتے کہ ہر سہولت اچھی نہیں ہوتی۔

وہ سہولت جو ہمیں اپنے ہاتھوں اور ٹانگوں کا استعمال کرنے سے روک دے وہ وقتی طور پر کارآمد ہونے کے باوجود ہمارے لیے خطرناک ہے۔

اس وقت دنیا میں عضلات کی کمزوری کے مسائل بے پناہ بڑھ چکے ہیں۔

جس زمانے میں باورچی خانے میں سہولت کے لیے جدید معاون آلات نہیں ایجاد ہوئے تھے اس وقت عورتوں کو پکانے کی زحمت تو ہوتی تھی لیکن وہ بہت سے ایسے جسمانی عوارض سے بچی ہوئی تھیں جو آلات کا عادی ہو جانے کے بعد پیدا ہوئے ہیں۔

جسمانی سرگرمیوں کے کم ہو جانے سے بیماریوں کی بے شمار نئی اقسام نے جنم لیا ہے۔ موٹاپا، جوڑوں کے مسائل اور کندھوں کا منجمد ہو جانا ان میں سے چند ہیں۔

#SalmanAsifSiddiqui #ERDCpk #parentingcoach
جوائنٹ فیملی میں رہتے ہوئے بچوں کو بڑوں کی چپقلشوں سے بچانے کا سب سے آسان طریقہ یہ ہے کہ انہیں ایسی باتوں سے دور رکھا جائے جن میں تلخی یا بحث شامل ہو۔ جب لگے کہ ماحول تھوڑا گرم ہونے والا ہے تو بچے کو کسی اور سرگرمی میں لگا دو — ہوم ورک، کھیل، یا باہر ہلکی سی واک۔ اس سے وہ غیر ضروری باتیں سننے اور سمجھنے سے محفوظ رہتا ہے۔

بچوں کے سامنے گھر کے کسی بھی بڑے کی برائی یا شکایت کرنے سے پوری کوشش کرو کہ بچو۔ بچے ہر لفظ دل پر لیتے ہیں اور رشتوں کو بھی انہی باتوں سے سمجھتے ہیں۔ اگر اُن کے سامنے سب کی عزت برقرار رہے تو اُن کا ذہن بھی صاف رہتا ہے۔

انہیں چھوٹی سی بات سمجھا دو کہ "بڑوں کے مسئلے بڑوں کے ہوتے ہیں"۔
یہ سکھانے کے لیے چند سادہ لائنیں کافی ہوتی ہیں:

تمہیں کسی کی حمایت یا مخالفت میں نہیں پڑنا چاہیے۔

تمہارا کام پڑھائی، کھیل اور اچھی عادتیں ہیں۔

گھر کے بڑے خود اپنی باتیں حل کر لیتے ہیں۔

اگر بچہ کبھی کوئی جھگڑا دیکھ لے اور سوال کرے تو نرم انداز میں بتا دو کہ کبھی کبھی بڑے ناراض ہو جاتے ہیں، لیکن یہ کوئی ضروری بات نہیں، یہ بڑوں کا معاملہ ہے۔ اس سے بچے کے ذہن میں بےچینی بھی نہیں آتی اور وہ خود کو اس صورتحال کا حصہ بھی نہیں سمجھتا۔

گھر میں چاہے کچھ بھی ہو، بچے کو یہ احساس دلاؤ کہ سب اس سے محبت کرتے ہیں۔ تھوڑا وقت، تھوڑی توجہ، اور اس کی باتوں کو سن لینا اس کی جذباتی سیکیورٹی کے لیے بہت اہم ہے۔ بچوں کی مصروفیات بڑھانا بھی بہت مدد دیتا ہے۔ جتنا بچہ مثبت سرگرمیوں میں رہے گا، اتنا کم وہ بڑوں کی باتوں میں الجھے گا۔ جیسے:

کھیل

ہوم ورک

قرآن/قواعد یا آرٹ کلاس

دوستوں کے ساتھ وقت

آپ صرف اپنے رویے کو پرسکون رکھو تو بچے سب سے پہلے وہی جذب کرتے ہیں۔ جوائنٹ فیملی میں سب کو بدلنا ممکن نہیں ہوتا، لیکن اپنے چھوٹے سے دائرے کو پرسکون رکھنا ہمیشہ ممکن ہوتا ہے۔

اگر کبھی مناسب لگے تو بڑوں سے الگ بیٹھ کر یہ بات بھی کر لی جائے کہ بچوں کے سامنے سخت باتوں سے بچنا چاہئیے ۔۔۔

نبیلہ ہارون کوثر
سرگودھا: انٹرن شپ کا جھانسہ دے کر نجی ہسپتال کے ڈاکٹر کاشف وحید کی میڈیکل طالبہ سے کئی ماہ تک زیادتی، مقدمہ درج
سرگودھا: اسلحہ کے زور پر زیادتی اور فحش ویڈیوز بنا کر بلیک میل کرنے کا انکشاف،
سرگودھا: متاثرہ طالبہ کا میڈیکل مکمل، پولیس نے بروقت کاروائی کرتے ہوئے ملزم ڈاکٹر کاشف وحید چک نمبر 40 شمالی کا رہائشی کو گرفتار کر لیا مزید تحقیقات جاری
سرگودھا: ملزم نے رحمت اللعالمین پارک کے باہر بلا کر نامعلوم مقام پر لے جا کر زیادتی کی ، طالبہ کا بیان

بشکریہ کورٹ رپورٹر شاہد حسین
https://x.com/ShahidHussainJM/status/1995336438620057704?t=matmdXV6GQyI31jTWUBX9w&s=19

تعلیمی اداروں میں اساتذہ کی جانب سے کبھی پاس کرنے کے بہانے یاکبھی کسی اور طریقے سے طالبات کو زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا ہے یا برائی کی طرف لایا جاتا ہے اور نوکریوں کے جھانسے دے کر زیادتی کے واقعات کی خبریں بھی معمول کا حصہ بن چکی ہیں۔
💔2
Forwarded from قلب ونظر
ہمارے اخلاق مشروط نہ ہوں!
🌹
آپﷺکا فرمان ہے؛
’’ تم دوسروں کی دیکھا دیکھی کام کرنے (اخلاق اپنانے) والے مت بنو،
کہ کہنے لگو کہ
اگر لوگ ہمارے ساتھ احسان کریں گے تو ہم بھی احسان کریں گے، لیکن
اگر وہ ظلم کریں گے
تو ہم بھی پھرظلم ہی کریں گے،
(نہیں ، یہ صحیح نہیں )
بلکہ اپنے دلوں کو اس پرجماؤ کہ
اگر دوسرے احسان کریں تو تم احسان کرو
اور اگر وہ برا سلوک کریں تب بھی تم بدلے میں ظلم اور برائی کا رویہ اختیار نہ کرو
(بلکہ احسان ہی کرو)

رواه الترمذی
.....
قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:
«لَا تَكُونُوا إِمَّعَةً تَقُولُونَ:
إِنْ أَحْسَنَ النَّاسُ أَحْسَنَّا وَإِنْ ظَلَمُوا ظَلَمْنَا،
وَلَكِنْ وَطِّنُوا أَنْفُسَكُمْ إِنْ أَحْسَنَ النَّاسُ أَنْ تُحْسِنُوا وَإِنْ أَسَاءُوا فَلَا تَظْلِمُوا»

(الترمذی)
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
تعلیمی نظام کا دھوکہ
👍21
ایک بار مینیجر سے ایک سادہ سا سوال پوچھا۔
آپ ہائرنگ کے وقت سب سے زیادہ کن چیزوں کو اہمیت دیتے ہیں؟
ڈگری؟
مہارت؟
یا تجربہ؟
انہوں نے بغیر سوچے کہا:
میرا فوکس اچھے انسان کی تلاش ہوتا ہے۔
پھر انہوں نے بات واضح کرتے ہوئے کہا:
ہنر سکھایا جا سکتا ہے،
ٹریننگ دلوا کر ہر کمی پوری کی جا سکتی ہے،
کمزور مہارت کو مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔
لیکن…
بد کردار اور بداخلاق آدمی
میری پوری ٹیم کو تباہ کر سکتا ہے۔
وہ ماحول خراب کرتا ہے،
اعتماد توڑتا ہے،
اور محنتی لوگوں کا حوصلہ مار دیتا ہے۔
انہوں نے کہا:
میں ایک کم ہنر مند مگر نیک انسان کے ساتھ کام کر سکتا ہوں،
مگر ایک قابل مگر بد نیت شخص
میرے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔

پاکستان میں بھی کاروباری افراد بتاتے ہیں کہ جھوٹے اور چور شخص کو چاہے وہ جتنا بھی قابل ہو اسے رکھنے کی بجائے کم ہنر والے نیک فرد کو ہی ترجیح دینگے

یہ بات مجھے اس دن سمجھ آئی کہ
جاب مارکیٹ میں اصل کمی
ہنر کی نہیں،
کردار کی ہے۔
نیکی اور پرہیزگاری
صرف عبادت تک محدود نہیں،
یہ ایمانداری،
ذمہ داری،
وقت کی پابندی
اور دوسروں کے حق کا خیال رکھنے کا نام ہے۔
ایسے لوگ دنیا میں بھی کامیاب ہوتے ہیں
اور دونوں جہانوں میں سرخرو رہتے ہیں۔
اسی لیےڈگری حاصل کریں,
ہنر سیکھیں،
مگر اصل توجہ
نیک انسان بننے پر رکھیں۔
کیونکہ ہنر نوکری دلا سکتا ہے،
مگر
نیکی اور پرہیزگاری
زندگی بھی سنوارتی ہے
اور آخرت بھی۔
2
"تعلیم کو تربیت سے الگ کیوں کیا گیا ہے؟"
یہ سوال ہمارے معاشرتی زوال کی ایک بڑی وجہ کو بےنقاب کرتا ہے۔ مثالی یا ترقی یافتہ معاشروں میں تعلیم اور تربیت ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوتیں — وہاں تعلیمی ادارے نہ صرف علم دیتے ہیں بلکہ بچوں کی کردار سازی (Character Building)، اخلاقی شعور، سماجی ذمہ داری، وقت کی پابندی، دیانت، اور صفائی جیسے اقدار بھی سکھاتے ہیں۔
تو ہمارے ہاں یہ فرق کیوں پیدا ہوا؟
یہ خلا چند بنیادی وجوہات کی بنیاد پر پیدا ہوا:
________
1. استعماری نظامِ تعلیم کا تسلسل
برصغیر میں جب انگریزوں نے تعلیمی نظام وضع کیا تو اس کا مقصد ایک ایسا طبقہ پیدا کرنا تھا جو صرف نوکری کے قابل ہو — ایسا طبقہ جو حکم ماننے والا ہو، سوال نہ کرے، اور صرف دفتری کاموں کا ماہر ہو۔ اس نظام میں نہ تربیت کی جگہ تھی اور نہ شخصیت سازی کی۔ افسوس کہ ہم نے آزادی کے بعد بھی اسی نظام کو بغیر نظرثانی کے جاری رکھا۔
________
2. والدین کا کردار اور تربیت کا تسلسل ٹوٹ جانا
پہلے گھروں میں بچوں کی تربیت نانی، دادی، والدین اور بزرگوں کی صحبت میں ہوتی تھی۔ وقت کے ساتھ جب معاشی دباؤ بڑھا، والدین مصروف ہو گئے، خاندانی نظام بکھر گیا، اور سوشل میڈیا نے بچوں کا وقت نگل لیا — تو تربیت کا ماحول ناپید ہوتا گیا۔
بدقسمتی سے، اس خراب تعلیمی اور تربیتی نظام کی وجہ سے جن بچوں کی نہ تعلیم مکمل تھی اور نہ تربیت، آج وہی بچے والدین بن چکے ہیں۔ جب ایک نسل خود تربیت یافتہ نہ ہو تو وہ آگے نئی نسل کی تربیت کیسے کرے گی؟
یوں یہ خلا وقت کے ساتھ نسل در نسل بڑھتا جا رہا ہے۔
________
3. اساتذہ کی تربیت کا فقدان
اساتذہ کسی بھی قوم کی ریڑھ کی ہڈی ہوتے ہیں، لیکن آج بہت سے اساتذہ خود تربیت یافتہ نہیں۔ ان کے پاس نہ وقت ہوتا ہے، نہ وسائل، اور نہ ہی بعض اوقات جذبہ کہ وہ بچوں کی شخصی اور اخلاقی تربیت کریں۔ جب استاد خود کردار سازی سے خالی ہو، تو وہ صرف رٹّا لگوا سکتا ہے، راہ نہیں دکھا سکتا۔
________
4. تعلیم کے مقاصد کی غلط ترجیحات
ہم نے تعلیم کو محض "اچھے نمبر" اور "اچھی نوکری" کا ذریعہ بنا دیا ہے۔ تعلیم کی اصل روح — یعنی انسان سازی، سوچنے کی صلاحیت، فیصلہ سازی، اور سچائی کا شعور — کہیں پیچھے رہ گئی ہے۔ جب مقصد صرف ڈگری ہو، تو تربیت غیرضروری معلوم ہونے لگتی ہے۔
________
ترقی یافتہ ممالک میں کیا ہوتا ہے؟
ان ممالک کے تعلیمی نصاب میں کردار سازی، سماجی رویّے، وقت کی پابندی، ٹیم ورک، اخلاقیات، اور کمیونٹی سروس جیسے عناصر لازمی شامل ہوتے ہیں۔
وہاں صرف IQ (ذہانت) نہیں بلکہ EQ (جذباتی ذہانت) پر بھی زور دیا جاتا ہے۔ بچے کو انسان بننے کی مشق دی جاتی ہے، محض روبوٹ نہیں بنایا جاتا۔
________
حل اور امید:
اگر ہم واقعی اس مسئلے کو حل کرنا چاہتے ہیں، تو محض ظاہری اصلاحات کافی نہیں۔ ہمیں نظامِ تعلیم کو ازسرِ نو ترتیب دینا ہوگا — ایسا نصاب تشکیل دینا ہوگا جو نہ صرف علم دے، بلکہ تربیت بھی کرے۔
• ہمیں تعلیم کے شعبے میں باصلاحیت، تربیت یافتہ، اور باکردار افراد کو لانا ہوگا۔
• استاد کو عزت اور تربیت دونوں دینی ہوں گی۔
• نصاب میں اخلاقیات، سماجی خدمت، اور عملی زندگی کی مہارتوں کو شامل کرنا ہوگا۔
اگر آج ہم اپنے تعلیمی نظام کی سمت درست کر لیں، تو آنے والی نسل — جو بیس سال بعد والدین اور اساتذہ بنے گی — نہ صرف تعلیم یافتہ ہو گی بلکہ تربیت یافتہ بھی ہوگی۔
تب جا کے ایک باکردار، باشعور، اور کامیاب معاشرہ تشکیل پائے گا۔
👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
عبرت کا مقام ہے کہ اب مذہبی افراد بھی اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر میوزک کا استعمال بے دریغ کرنے لگے ہیں جیسے یہ نارمل ہوچکا ہے اور حلال بن چکا ہے۔ ہمارے بچے جب ہمیں اس طرح میوزک کے متعلق بے احتیاطی اور آزادانہ استعمال دیکھیں گے تو وہ اسے غلط اور حرام سمجھیں گے گیا ؟
👍31
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
اس نظام تعلیم سے ہم قوم کو شعور دے سکتے ہیں یا کسی بہتری کی امید کی جاسکتی یے ؟
#Pakistan #education #GovtSchool
Forwarded from BALOCHISTAN NEWS
اولاد کے لیے اگر دولت جمع کردی مگر تعلیم تربیت پر دھیان نہ دیا تو آپکی وفات کے بعد جائیداد اور گھر کے ساتھ آپکی لالچی اولاد ایسے کھلواڑ کرے گی

https://whatsapp.com/channel/0029Vb7q7VkAInPjT8pGTl3J
😭1