Parent Guide
130 subscribers
26 photos
17 videos
56 links
بچوں کی تعلیم، تربیت، اور حفاظتی تدابیر پر مبنی مواد والدین کی رہنمائی کے لیے

فیسبک پیج
https://www.facebook.com/parentguidenmore
ٹیلی گرام
https://t.me/parentguide
واٹس ایپ
https://whatsapp.com/channel/0029Vb88UmR5Ui2eQdx2mk3B
Download Telegram
اے آئی آنے والے دنوں میں کتنا فتنہ فساد پھیلانے کا سبب بنے گا اس سے بچنے کا واحد راستہ تصویروں کے شوق سے خود کو اور بچوں کو بچانا ہے اور کوئی راستہ نہیں۔


#ParentGuide 
#mobile #unsupervised #KnowledgeWithBarakah #tarbiyah #socialmedia #mindset


ہمارا واٹس ایپ گروپ جوائن کریں
https://whatsapp.com/channel/0029Vb73UNACnA7sY9fGLb1q

فیسبک پیج
https://www.facebook.com/parentguidenmore

ٹیلی گرام
https://t.me/parentguide
ماں ہار نہیں مانتی

#ParentGuide #tarbiyah #socialmedia

ہمارا واٹس ایپ گروپ جوائن کریں
https://whatsapp.com/channel/0029Vb73UNACnA7sY9fGLb1q

فیسبک پیج
https://www.facebook.com/parentguidenmore

ٹیلی گرام
https://t.me/parentguide
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
ایک باپ نے اپنی بچی میں خود اعتمادی کو پیدا کرنے کے لیے کیا ہی زبردست طریقہ نکالا ہے۔ بچوں کی تربیت اور کردار سازی کے لیے اپکو اسی طرح کی چیزیں اور راستے ڈھونڈنے ہوتے ہیں جو بچوں کو بہت کچھ سکھا سکتے ہیں


#ParentGuide #tarbiyah

ہمارا واٹس ایپ گروپ جوائن کریں
https://whatsapp.com/channel/0029Vb73UNACnA7sY9fGLb1q

فیسبک پیج
https://www.facebook.com/parentguidenmore

ٹیلی گرام
https://t.me/parentguide
1
بطور والدین، آپ کی اولین ذمہ داریوں میں سے ایک ذمہ داری یہ ہونی چاہیے کہ آپ اپنے بچوں میں مطالعے کا شوق، بچپن سے ہی ڈیویلپ کریں

آئندہ آنے والا دور انفارمیشن اکانومی ہے

جو زیادہ نالج رکھے گا، زیادہ اپڈیٹ رہے گا، اسے دوسروں پر edge حاصل رہے گا

لہذا اپنے اوپر یہ فرض کرلیجیے کہ آپ نے اپنے بچوں میں مطالعے کی عادت لازمی ڈیویلپ کرنی ہے

اس کے لیے ماں باپ نے گھر کے اندر وہ مخصوص ماحول ڈیویلپ کرنا ہوگا۔ بچوں پر انویسٹمنٹ کرنی ہوگی

مثلاً،

ہفتے، دو ہفتے یا مہینے میں ایک بار لازمی طور پر بک اسٹورز کا چکر لگایا کیجیے اور انھیں ان کی من پسند کتابیں اور میگزینز دلوایا کیجیے۔ اس کام کے لیے ماہانہ بجٹ علیحدہ کرلیجیے

(سب سے ضروری) گھر میں مطالعے کا ماحول create کیجیے

یعنی،

گھر میں ایک چھوٹی لائبریری یا کم سے کم ایک بک شیلف بنوا لیجیے

رات کے وقت کوشش کیجیے کہ میاں بیوی دونوں کتابوں کا مطالعہ کریں اور بچوں کو بھی ساتھ لے کر بیٹھیں۔ جب آپ گھر میں ایسا ماحول دیں گے تو امکان ہے کہ بچے بھی آہستہ آہستہ مطالعے کی طرف مائل ہوتے رہیں گے

میرے والدین کا مجھ پر ایک بہت بڑا احسان ہے کہ انھوں نے مجھے بچپن سے ہی مطالعے کی عادت ڈالی ہے۔ والد صاحب مجھے خصوصی طور پر بک اسٹورز لے کر جاتے تھے اور وہاں سے کتابیں اور میگزینز وغیرہ لیا کرتے تھے

بچپن میں بچوں کے سارے رسالے پڑھا کرتا تھا جن میں تعلیم و تربیت، ساتھی، نونہال وغیرہ جیسے رسالے شامل رہے

اس کے بعد مطالعے کا ایسا سلسلہ شروع ہوا جو آج تک جاری و ساری ہے

میں مطالعے کی عادت کو اپنی ایک بہت بڑی strength سمجھتا ہوں۔ اس سے مجھے بے تحاشہ فوائد ملتے ہیں، جس کی کبھی تفصیل لکھوں گا

آپ سب بھی اس عادت کو اہمیت دیجیے، خاص کر اپنی اولاد کے لیے اس کا لازمی اہتمام کیجیے

میں نے ان بچوں اور لوگوں میں زمین آسمان کا فرق دیکھا ہے جو مطالعہ کرتے ہیں اور جو نہیں کرتے۔ یہ قطعی برابر نہیں ہوتے۔

مطالعہ کرنے والی اور نہ کرنے والی اقوام میں ہی آپ کو عظیم الشان فرق نظر آجائے گا

لہذا اس عادت پر لازمی کام کیجیے۔۔۔۔۔۔۔!!!!

#ParentGuide #tarbiyah

ہمارا واٹس ایپ گروپ جوائن کریں
https://whatsapp.com/channel/0029Vb73UNACnA7sY9fGLb1q

فیسبک پیج
https://www.facebook.com/parentguidenmore

ٹیلی گرام
https://t.me/parentguide
یہ پریشان کن خبریں شئیر کرنے کا مقصد والدین کو انکی ذمہ داری کا احساس دلانا ہے ۔ اپنے بچوں کی خود حفاظت کریں

#ParentGuide #tarbiyah

ہمارا واٹس ایپ گروپ جوائن کریں
https://whatsapp.com/channel/0029Vb73UNACnA7sY9fGLb1q

فیسبک پیج
https://www.facebook.com/parentguidenmore

ٹیلی گرام
https://t.me/parentguide
Forwarded from Links All in 1
پاکستان میں تعلیمی کھلونے (Educational Toys) بنانے اور فروخت کرنے والی اہم کمپنیوں/سٹورز کی ویب سائٹس اور فیس بک لنکس یہاں ہیں (2025 تک کی تازہ معلومات پر مبنی)۔ یہ زیادہ تر آن لائن سٹورز ہیں جو مقامی طور پر پروڈکٹس تیار کرتے یا امپورٹ کرتے ہیں:

1. EducationalToys.pk
- ویب سائٹ: [https://www.educationaltoys.pk](https://www.educationaltoys.pk)
- فیس بک: [https://www.facebook.com/educationaltoyspk/](https://www.facebook.com/educationaltoyspk/)
(پزلز، بلاکس، STEM ٹوائز اور لرننگ میٹریلز)

2. Learning Toys PK
- ویب سائٹ: [https://learningtoys.pk](https://learningtoys.pk)
- فیس بک: [https://www.facebook.com/learningtoyspk/](https://www.facebook.com/learningtoyspk/)
(ڈویلپمنٹل ٹوائز، سکل بلڈنگ پروڈکٹس)

3. PlzPapa (مینوفیکچرر، لاہور بیسڈ)
- ویب سائٹ: [https://plzpapa.com](https://plzpapa.com) (اگر دستیاب، ورنہ فیس بک سے چیک کریں)
- فیس بک: [https://www.facebook.com/Plzpapa/](https://www.facebook.com/Plzpapa/)
(مونٹیسوری اور ایجوکیشنل ٹوائز مینوفیکچرنگ)

4. Toys4You.pk
- ویب سائٹ: [https://toys4you.pk](https://toys4you.pk)
- فیس بک: [https://www.facebook.com/Toys4You.PK.Online/](https://www.facebook.com/Toys4You.PK.Online/)
(ڈال ہاؤسز، پزلز، لرننگ ٹوائز)

5. High-Five
- ویب سائٹ: [https://highfive.pk](https://highfive.pk)
- فیس بک: [https://www.facebook.com/highfivedotpk/](https://www.facebook.com/highfivedotpk/)
(فن اور ایجوکیشنل ٹوائز رینج)

6. Toy Company PK
- ویب سائٹ: [https://www.toycompany.pk](https://www.toycompany.pk)
- فیس بک: [https://www.facebook.com/toycompanypk/](https://www.facebook.com/toycompanypk/)
(STEM ٹوائز، پزلز اور برین بوسٹنگ گیمز)

7. Odeez.pk
- ویب سائٹ: [https://odeez.pk](https://odeez.pk)
- فیس بک: [https://www.facebook.com/odeezpk/](https://www.facebook.com/odeezpk/)
(STEM کٹس، مونٹیسوری لرننگ ٹوائز)

8. Toynix.pk
- ویب سائٹ: [https://toynix.pk](https://toynix.pk)
- فیس بک: [https://www.facebook.com/toynixpk/](https://www.facebook.com/toynixpk/)
(RC کارز، ڈالز اور ایجوکیشنل ٹوائز)

9. The Toy Factory
- ویب سائٹ: [https://thetoyfactory.pk](https://thetoyfactory.pk)
- فیس بک: [https://www.facebook.com/thetoyfactorypk/](https://www.facebook.com/thetoyfactorypk/)
(3D پینز، لرننگ کٹس اور سپیشل ایجوکیشنل ٹوائز)

10. Planet X
- ویب سائٹ: [https://planetx.pk](https://planetx.pk)
- فیس بک: [https://www.facebook.com/planetxpk/](https://www.facebook.com/planetxpk/)
(ووڈن میپس، جگل پزلز اور لرننگ ٹوائز)

یہ کمپنیاں آن لائن آرڈر اور ہوم ڈلیوری دیتی ہیں۔
بچے مستقبل میں قوم کے معمار ہوتے ہیں، اگر اُنہیں صحیح تربیت دی جائے تو اس کا مطلب ہے ایک اچھے اور مضبوط معاشرے کے لیے ایک صحیح بنیاد ڈال دی گئی۔بچوں کی اچھی تربیت سے ایک مثالی معاشرہ اور قوم وجود میں آتی ہے، اس لیے کہ ایک اچھا پودا ہی مستقبل میں تناور درخت بن سکتا ہے۔ بچپن کی تربیت نقش کالحجر ہوتی ہے، بچپن میں ہی اگر بچہ کی صحیح دینی واخلاقی تربیت اور اصلاح کی جائے توبلوغت کے بعد بھی وہ ان پر عمل پیرا رہے گا۔ اس کے برخلاف اگر درست طریقہ سے ان کی تربیت نہ کی گئی تو بلوغت کے بعد ان سے بھلائی کی زیادہ توقع نہیں کی جاسکتی، نیزبلوغت کے بعد وہ جن برے اخلاق واعمال کا مرتکب ہوگا، اس کے ذمہ دار اور قصور وار والدین ہی ہوںگے، جنہوں نے ابتدا سے ہی ان کی صحیح رہنمائی نہیں کی


#ParentGuide #tarbiyah

ہمارا واٹس ایپ گروپ جوائن کریں
https://whatsapp.com/channel/0029Vb73UNACnA7sY9fGLb1q

فیسبک پیج
https://www.facebook.com/parentguidenmore

ٹیلی گرام
https://t.me/parentguide
اولاد کی اچھی اور دینی تربیت دنیا میں والدین کے لیے نیک نامی کا باعث اور آخرت میں کامیابی کا سبب ہے، جب کہ نافرمان وبے تربیت اولاد دنیا میں بھی والدین کے لیے وبالِ جان ہو گی اور آخرت میں بھی رسوائی کا سبب بنے گی۔ لفظِ ’’تربیت‘‘ ایک وسیع مفہوم رکھنے والا لفظ ہے، اس لفظ کے تحت افراد کی تربیت، خاندان کی تربیت، معاشرہ اور سوسائٹی کی تربیت، پھر ان قسموں میں بہت سی ذیلی اقسام داخل ہیں۔ ان سب اقسام کی تربیت کا اصل مقصد وغرض‘ عمدہ، پاکیزہ، بااخلاق اور باکردار معاشرہ کا قیام ہے۔ تربیت ِ اولاد بھی اُنہیں اقسام میں سے ایک اہم قسم اور شاخ ہے۔ آسان الفاظ میں ’’تربیت‘‘ کی تعریف یوں کی جاسکتی ہے کہ:’’ برے اخلاق وعادات اور غلط ماحول کو اچھے اخلاق وعادات اور ایک صالح ،پاکیزہ ماحول سے تبدیل کرنے کا نام ’’تربیت‘‘ ہے۔

تربیت کی دو قسمیں:

تربیت دو قسم کی ہوتی ہے:
۱:…ظاہری تربیت،۲:…باطنی تربیت ۔

ظاہری اعتبار سے تربیت میں اولاد کی ظاہری وضع قطع، لباس، کھانے، پینے، نشست وبرخاست، میل جول ،اس کے دوست واحباب اور تعلقات و مشاغل کو نظر میں رکھنا،اس کے تعلیمی کوائف کی جانکاری اور بلوغت کے بعد ان کے ذرائع معاش وغیرہ کی نگرانی وغیرہ امور شامل ہیں، یہ تمام امور اولاد کی ظاہری تربیت میں داخل ہیں۔اور باطنی تربیت سے مراد اُن کے عقیدہ اور اخلاق کی اصلاح ودرستگی ہے۔ اولاد کی ظاہری اور باطنی دونوں قسم کی تربیت والدین کے ذمہ فرض ہے۔ ماں باپ کے دل میں اپنی اولاد کے لیے بے حد رحمت وشفقت کا فطری جذبہ اور احساس پایا جاتا ہے۔ یہی پدری ومادری فطری جذبات واحساسات ہی ہیں جو بچوں کی دیکھ بھال، تربیت اور اُن کی ضروریات کی کفالت پر اُنہیں اُبھارتے ہیں۔ماں باپ کے دل میں یہ جذبات راسخ ہوں اور ساتھ ساتھ اپنی دینی ذمہ داریوں کا بھی احساس ہو تو وہ اپنے فرائض اور ذمہ داریاں احسن طریقہ سے اخلاص کے ساتھ پوری کرسکتے ہیں۔ قرآن مجید اور احادیث نبویہ میں اولاد کی تربیت کے بارے میں واضح ارشادات موجود ہیں۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’ قُوْا أَنْفُسَکُمْ وَأَھْلِیْکُمْ نَارًا وَّقُوْدُھَا النَّاسُ وَالْحِجَارَۃُ‘‘۔ (التحریم:۶) ترجمہ:’’اپنے آپ کو اور اپنی اولاد کو اس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں‘‘۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس آیت کی تفسیر وتشریح میں فرمایا کہ: ’’علموھم وأدِّبوھم‘‘۔ ترجمہ:’’ان (اپنی ولاد )کو تعلیم دو اور ان کو ادب سکھاؤ‘‘۔ فقہاء کرام نے لکھا ہے کہ:ہر شخص پر فرض ہے کہ اپنے بیوی بچوں کو فرائض شرعیہ اور حلال وحرام کے احکام کی تعلیم دے اور اس پر عمل کرانے کے لیے کوشش کرے۔ اولاد کی تربیت کی اہمیت کا اندازہ ان احادیث سے بھی ہوتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: :’’مانحل والد أفضل من أدب حسن‘‘۔ (بخاری، جلد:۱،ص:۴۲۲) ترجمہ:’’کوئی باپ اپنی اولاد کو اس سے بہتر عطیہ نہیں دے سکتا کہ اس کو اچھے آداب سکھادے‘‘۔
یعنی اچھی تربیت کرنا اور اچھے آداب سکھانا اولاد کے لیے سب سے بہترین عطیہ ہے۔ ۲:’’ عن ابن عباسؓ۔۔۔۔۔۔قالوا: یارسول اللّٰہ! قد علمنا ما حق الوالد فماحق الولد؟ قال:أن یحسن اسمہ ویحسن أدبہ‘‘۔ (سنن بیہقی) ترجمہ:’’حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا:یارسول اللہ! والدین کے حقوق تو ہم نے جان لیے، اولاد کے کیا حقوق ہیں؟آپ نے فرمایا: وہ یہ ہے کہ اس کا نام اچھا رکھے اور اس کی اچھی تربیت کرے ‘‘۔

۳:’’یہ بہت بڑا گناہ ہے کہ انسان جن کا ذمہ دارورکھوالا ہے، اُنہیں ضائع کردے، ان کی تربیت نہ کرے‘‘۔ یہ بھی ضائع کرنا ہے کہ بچوں کو یونہی چھوڑدینا کہ وہ بھٹکتے پھریں، صحیح راستہ سے ہٹ جائیں، ان کے عقائد واخلاق برباد ہوجائیں۔نیز اسلام کی نظر میں ناواقفیت کوئی عذر نہیں ہے، بچوں کی تربیت کے سلسلہ میں جن امور کا جاننا ضروری ہے، اُس میں کوتاہی کرنا قیامت کی باز پرس سے نہیں بچا سکتا۔

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کا ارشاد ہے: ’’اپنی اولاد کوادب سکھلاؤ، قیامت والے دن تم سے تمہاری اولاد کے بارے میں پوچھا جائے گا،کہ تم نے اسے کیا ادب سکھلایا؟ اور کس علم کی تعلیم دی؟۔‘‘ (شعب الإیمان للبیہقی)


#ParentGuide #tarbiyah

ہمارا واٹس ایپ گروپ جوائن کریں
https://whatsapp.com/channel/0029Vb73UNACnA7sY9fGLb1q

فیسبک پیج
https://www.facebook.com/parentguidenmore

ٹیلی گرام
https://t.me/parentguide
1
بچہ نرم گیلی مٹی کی طرح ہوتا ہے، ہم اس سے جس طرح پیش آئیں گے، اس کی شکل ویسی ہی بن جائے گی۔بچہ اگر کوئی اچھا کام کرے تو اس کی حوصلہ افزائی کے لیے اس کی تعریف سے دریغ نہیں کرنا چاہیے اور اس پر اُسے شاباش اورکوئی ایسا تحفہ وغیرہ دینا چاہیے جس سے بچہ خوش ہوجائے اور آئندہ بھی اچھے کام کا جذبہ اور شوق اس کے دل میں پیدا ہوجائے۔ بچوں کی غلطی پر اُنہیں تنبیہ کرنے کا حکیمانہ انداز بچوں کو کسی غلط کام پر باربار اور مسلسل ٹوکنا اُن کی طبیعت میں غلط چیز راسخ ہونے سے حفاظت کا سبب بنتا ہے،جس سے اگر غفلت نہ برتی گئی تو اس میں شک نہیں کہ بچوں اور بچیوں میں غلط افکار جڑپکڑنے سے پہلے کامل طریقہ سے ان کی بیخ کنی ہوگی ۔بچے سے خطأ ہوجانا کوئی اچھنبے کی بات نہیں ہے، غلطی تو بڑوں سے بھی ہوجاتی ہے۔ ماحول کا بچوں پر اثر ہوتا ہے، ممکن ہے کہ غلط ماحول کی وجہ سے بچہ کوئی غلطی کربیٹھے، تو اس صورت حال کو بھی مد نظر رکھنا چاہیے کہ بچے سے غلطی کس سبب سے ہوئی؟ اسی اعتبار سے اسے سمجھایا اور تنبیہ کی جائے۔تربیت میں میانہ روی اور اعتدال کا راستہ اختیار کرنا چاہیے، مربی کو اس بات سے باخبر ہونا چاہیے کہ اس وقت بچہ کے لیے نصیحت کارگر ہے یا سزا؟ تو جہاں جس قدر سختی اور نرمی کی ضرورت ہو اسی قدر کی جائے۔ بہت زیادہ سختی اور بہت زیادہ نرمی بھی بعض اوقات بگاڑ کا سبب بنتی ہے۔متنبی شاعر کہتا ہے: فوضع الندی فی موضع السیف بالعلا
مضر کوضع السیف فی موضع الندی ترجمہ:’’جہاں تلوار چلانی ہو وہاں سخاوت اتنی ہی نقصان دہ ہے جتنا کہ سخاوت کے موقع پر تلوار چلانا‘‘۔ تربیت میں تدریجی انداز اختیار کرنا چاہیے، چنانچہ غلطی پر تنبیہ کی ترتیب یوں ہونی چاہیے :
۱:…سمجھانا۔۲:…ڈانٹ ڈپٹ کرنا۔۳:…مارکے علاوہ کوئی سزا دینا۔۴:…مارنا۔۵:… قطع تعلق کرنا۔
یعنی غلطی ہوجانے پر بچوں کی تربیت حکمت کے ساتھ کی جائے، اگر پہلی مرتبہ غلطی ہو تو اولاً اُسے اشاروں اور کنایوں سے سمجھایا جائے، صراحۃً برائی کا ذکر کرنا ضروری نہیں۔ اگربچہ بار بار ایک ہی غلطی کرتا ہے تو اس کے دل میں یہ بات بٹھائیں کہ اگر دوبارہ ایسا کیا تو اس کے ساتھ سختی برتی جائے گی، اس وقت بھی ڈانٹ ڈپٹ کی ضرورت نہیں ہے، نصیحت اور پیار سے اُسے غلطی کا احساس دلایاجائے ۔ بچہ کی پیارومحبت سے تربیت واصلاح کا ایک واقعہ حضرت عمر بن ابی سلمہ سے منقول ہے، فرماتے ہیں کہ: میں بچپن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیرتربیت اور زیرکفالت بچہ تھا، میرا ہاتھ کھانے کے برتن میں اِدھر اُدھر گھوم رہا تھا، یہ دیکھ کر رسول اللہ نے مجھ سے فرمایا: ’’یا غلام سم اللّٰہ! وکل بیمینک وکل ممایلیک‘‘ ۔۔۔۔’’اے لڑکے! اللہ کا نام لے کر کھانا شروع کرو اور دائیں ہاتھ سے کھاؤ اور اپنی طرف سے کھاؤ۔‘‘ اگر نصیحت اور آرام سے سمجھانے کے بعد بھی بچہ غلطی کرے تو اُسے تنہائی میں ڈانٹا جائے اور اس کام کی برائی بتائی جائے اور آئندہ ایسا نہ کرنے کا کہا جائے۔ پھر بھی اگر باز نہ آئے تو تھوڑی بہت مارپیٹ بھی کی جاسکتی ہے۔ تربیت کے یہ طریقے نوعمر بچوں کے لیے ہیں، لیکن بلوغت کے بعد تربیت کے طریقے مختلف ہیں، اگر اس وقت نصیحت سے نہ سمجھے تو جب تک وہ اپنی برائی سے باز نہ آئے اس سے قطع تعلق بھی کیا جاسکتا ہے، جو شرعاً درست ہے اور کئی صحابہ کرام کے عمل سے ثابت ہے۔ حضرت عبداللہ بن مغفل کے ایک رشتہ دار تھے جو ابھی بالغ نہ ہوئے تھے، انہوں نے کنکر پھینکا تو حضرت عبداللہ نے منع کیا اور فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کنکر مارنے سے منع فرمایا ہے اور فرمایا ہے کہ : ’’إنّھا لاتصید صیدًا‘‘ اس سے کوئی جانور شکار نہیں ہوسکتا، اس نے پھر کنکر پھینکا تو انہوں نے غصہ سے فرمایا کہ میں تمہیں بتلارہا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے اور تم پھر دوبارہ ایسا ہی کررہے ہو؟ میں تم سے ہرگز بات نہیں کروں گا۔اسی طرح حضرت عبداللہ بن عمر نے اپنے بیٹے (بلال)سے حدیث کے مقابلہ میں اپنی رائے پیش کرنے کی بنا پر قطع تعلق کیا تھا اور مرتے دم تک اس سے بات نہ کی۔ بچوں کو ڈانٹنے اور مارنے کی حدود بچوں کی تربیت کے لیے ماں باپ یا استادکااُنہیں تھوڑابہت، ہلکا پھلکا مارنا نہ صرف یہ کہ جائز ہے،بلکہ بعض اوقات ضروری ہوجاتا ہے۔اس معاملہ میں افراط وتفریط کا شکار نہیںہونا چاہیے۔ غصہ میں بے قابو ہوجانا اور حد سے زیادہ مارکٹائی کرنایا بچوں کے مارنے ہی کو غلط سمجھنا دونوں باتیں غلط ہیں۔ پہلی صورت میں افراط ہے اور دوسری میں تفریط ہے۔اعتدال کا راستہ وہ ہے جو نبی کریم نے ایک حدیث میں بیان فرمایا کہ:’’اپنے بچوں کو نماز کا حکم دو، جبکہ وہ سات سال کے ہوجائیں اور ان کو نماز نہ پڑھنے پر مارو، جبکہ وہ دس سال کے ہوجائیں‘‘۔ (مشکوٰۃ) اس حدیث سے مناسب موقع پر حسبِ ضرورت مارنے کی اجازت معلوم ہوتی ہے۔ مارنے میں اس بات کا بھی خیال رکھا جائے کہ اس حد تک نہ ماراجائے کہ جسم پر مار کا نشان پڑجائے۔ نیز جس وقت غصہ آرہا ہو، اس وقت
بھی نہ مارا جائے، بلکہ بعد میں جب غصہ ٹھنڈا ہوجائے تو اس وقت مصنوعی غصہ ظاہر کرکے ماراجائے،کیونکہ طبعی غصہ کے وقت مارنے میں حد سے تجاوز کرجانے کا خطرہ ہوتا ہے اور مصنوعی غصہ میں یہ خطرہ نہیں ہوتا، مقصد بھی حاصل ہوجاتا ہے اور تجاوز بھی نہیں ہوتا۔
لڑکوں کو لڑکیوں پر ترجیح دینا گناہ ہے اولاد اللہ تعالیٰ کی بیش بہا نعمت اورتحفہ ہے،خواہ لڑکا ہو یا لڑکی۔اسلامی تعلیمات کی رو سے بچوں پر رحم وشفقت کے معاملہ میں مذکر ومؤنث میں کوئی تفریق نہیں ہے۔ جو والدین لڑکے کی بنسبت لڑکی سے امتیازی سلوک کرتے ہیں، وہ جاہلیت کی پرانی برائی میں مبتلا ہیں، اس طرح کی سوچ اور عمل کا دین سے کوئی تعلق نہیں ہے، بلکہ دینی اعتبار سے تو اس پر سخت وعید یں وارد ہوئی ہیں۔ لڑکی کو کمتر سمجھنے والا درحقیقت اللہ تعالیٰ کے اس فیصلے سے ناخوشی کا اظہار کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اُسے لڑکی دے کر کیا ہے، ایسے آدمی کو سمجھ لینا چاہیے کہ وہ تو کیا پوری دنیا بھی مل کراللہ تعالیٰ کے اس اٹل فیصلہ کو تبدیل نہیں کرسکتی۔یہ درحقیقت زمانۂ جاہلیت کی فرسودہ اورقبیح سوچ ہے، جس کو ختم کرنے کے لیے رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم نے والدین اور تربیت کرنے والوں کو لڑکیوں کے ساتھ اچھے برتاؤاوران کی ضروریات کا خیال رکھنے کی باربار نصیحت کی۔ اولاد کے درمیان برابری اور عدل ابوداؤد شریف میں حضرت نعمان بن بشیر ؓ کی حدیث ہے: ’’قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: اعدلوا بین أبنائکم اعدلوا بین أبنائکم اعدلوا بین أبنائکم‘‘۔ (ابوداؤد،جلد:۲،ص:۱۴۴) ترجمہ:’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اپنی اولاد کے درمیان برابری کرو، اپنی اولاد کے درمیان برابری کرو،اپنی اولاد کے درمیان برابری کرو‘‘۔ مطلب یہ ہے کہ ظاہری تقسیم کے اعتبار سے سب بچوں میں برابری کرنی چاہیے،کیونکہ اگر برابری نہ ہو تو بچوں کی دل شکنی ہوتی ہے۔ہاں! فطری طور پر کسی بچے سے دلی طور پر زیادہ محبت ہو تواس پر کوئی پکڑ نہیں،بشرطیکہ ظاہری طور پر برابری رکھے۔ حدیث میں تین بارمکرر برابری کی تاکیدکی ہے جو اس کے واجب ہونے پر دلالت کرتی ہے، یعنی اولاد کے درمیان برابری کرنا واجب ہے، اور برابری نہ کرنا ظلم شمار ہوگا۔اور اس کا خیال نہ رکھنا اولاد میں احساسِ کمتری اور باغیانہ سوچ کو جنم دیتا ہے، جس کے بعد میں بہت بھیانک نتائج سامنے آتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ تمام مسلمان والدین کو اپنی اولاد سے متعلق ذمہ داریاں احسن طریقہ سے نبھانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین


#ParentGuide #tarbiyah

ہمارا واٹس ایپ گروپ جوائن کریں
https://whatsapp.com/channel/0029Vb73UNACnA7sY9fGLb1q

فیسبک پیج
https://www.facebook.com/parentguidenmore

ٹیلی گرام
https://t.me/parentguide
امام ابن القیم ﷫ تحفۃ المودود بأحکام المولود میں فرماتے ہیں:
”یہ بھی ضروری ہے کہ لڑکے کی صورت حال معلوم کی جائے اور یہ دیکھا جائے کہ وہ کن کاموں کے لیے تیار اور آمادہ ہے۔ پھر جان لیا جائے کہ وہ اسی کام کے لیے پیدا کیا گیا ہے۔ یہ جاننے کے بعد اسے کسی دوسرے کام پر مجبور نہیں کرنا چاہیے ،چاہے اس کی شرعاً اجازت ہی کیوں نہ ہو۔ کیونکہ جس کام کے لیے لڑکا آمادہ نہیں اگر اس پر مجبور کیا گیا تو وہ نہ تو اس میں کامیاب ہو گا، اور وہ اس کام سے بھی رہ جائے گا جس کے لیے وہ مناسب تھا۔ پس اگر سرپرست دیکھے کہ لڑکا سمجھ دار ہے، چیزوں کو صحیح پہچانتا ہے، حافظہ بھی اچھا ہے اور پر مغز ہے تو یہ علامتیں ہیں کہ وہ علمِ دین کے لیے قابل اور مناسب ہے۔ تاکہ وہ اس علم کو اپنے دل پر اس عمر میں ہی نقش کر لے جب دل ابھی دیگر چیزوں سے خالی ہے۔ اس صورت میں علمِ دین اس میں متمکن ہو جائے گا۔ وہ علم سے بہرہ ور بھی ہو گا اور اِن صلاحیتوں کے سبب اس کا علم بڑھتا بھی رہے گا۔
لیکن اگر اس میں یہ صلاحیت تو نہ ہو البتہ وہ گھڑ سواری اور اس کے فنون کے لیے آمادہ ہو، مثلاً گھوڑے کی پیٹھ پر براجمان ہونا، نشانہ بازی میں ماہر ہونا اور تیر اندازی کی قدرت رکھنا، اور دوسری طرف علمِ دین کے میدان میں نہ تو اس کے پاؤں جم رہے ہوں اور نہ وہ اس کے لیے پیدا کیا گیا ہو، تو سرپرست کو چاہیے کہ وہ لڑکے کو گھڑ سواری کے لوازمات فراہم کرے اور ان پر اس کی مشق کروائے۔ کیونکہ یہ خود اس لڑکے کے لیے بھی فائدہ مند ہو گا اور مسلمانوں کے لیے بھی۔
پھر اگر سرپرست پائے کہ لڑکے میں یہ خصوصیت بھی نہیں اور نہ ہی وہ اس کے لیے پیدا کیا گیا ہے، البتہ اس کی آنکھ کسی حرفت و صنعت کی طرف لگی ہے، جس کے لیے وہ آمادہ بھی ہے اور قابل بھی ہے، جبکہ وہ حرفت و صنعت مباح اور عوام کے لیے فائدہ مند بھی ہے، تو اسے چاہیے کہ لڑکے کے لیے وہ سہولیات دستیاب کرے جن سے وہ صنعت سیکھ سکے۔
البتہ یہ سب کچھ اس نا گزیر دینی تعلیم کے بعد ہو جس کی ہر لڑکے کو ہر وقت ضرورت رہتی ہے۔ چونکہ اتنی تعلیم تو ہر ایک کے لیے آسان اور سہل ہے۔ تاکہ بندے پر اللہ کی حجت تمام ہو جائے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کو اپنے بندوں پر حجت بالغہ اسی طرح حاصل ہے جیسے بندوں کو اللہ تعالیٰ کی نعمت سابغہ حاصل ہے۔ واللہ اعلم۔ “


#ParentGuide #tarbiyah

ہمارا واٹس ایپ گروپ جوائن کریں
https://whatsapp.com/channel/0029Vb73UNACnA7sY9fGLb1q

فیسبک پیج
https://www.facebook.com/parentguidenmore

ٹیلی گرام
https://t.me/parentguide
آجکل ایک وائرل پوسٹ گردش کر رہی ہے 🚨

کہ نوجوان “سٹنگ” مشروب میں “گیبیکا” گولیاں ملا کر نشہ حاصل کرتے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ کیا واقعی اس ملاپ سے نشہ ہوتا ہے؟

چلیے حقیقت جانتے ہیں

---

سچائی کیا ہے؟

گیبیکا (Gabica) ایک دوا ہے جس میں Pregabalin ہوتا ہے۔
یہ دوا اعصابی درد، بےچینی اور مرگی کے علاج کے لیے بنائی گئی ہے — صرف ڈاکٹر کے نسخے سے استعمال ہونی چاہیے۔

سٹنگ (Sting) ایک انرجی ڈرنک ہے جس میں کافی کیفین اور شکر ہوتی ہے — یعنی دماغ کو وقتی طور پر “تیز” کرتی ہے۔

اب مسئلہ یہ ہے کہ کچھ نوجوان ان دونوں کو ملا کر پیتے ہیں تاکہ “سکون” یا “ہائی” محسوس ہو — مگر دراصل یہ نشہ نہیں بلکہ دماغ کی خرابی ہے۔

---

حقیقت میں ہوتا کیا ہے؟

جب Gabica دماغ کو سست کرتی ہے
اور Sting دماغ کو تیز کرتا ہے،
تو جسم کے اندر ایک خطرناک کیمیائی تضاد پیدا ہوتا ہے۔

یہ تضاد وقتی طور پر چکر، نیند، یا “جھومنے” والا احساس پیدا کر سکتا ہے —
لیکن یہ نشہ نہیں بلکہ زہریلا اثر (toxic reaction) ہے۔

---

نقصان اور خطرات

• دماغی توازن بگڑ سکتا ہے
• یادداشت اور توجہ میں کمی
• دل کی دھڑکن بے قابو
• بے ہوشی یا سانس رکنے کا امکان
• لمبے عرصے میں ذہنی و جسمانی کمزوری

دنیا بھر میں Pregabalin کے غلط استعمال سے درجنوں سنگین کیس رپورٹ ہو چکے ہیں۔

---

نتیجہ

“گیبیکا + سٹنگ” سے کوئی حقیقی نشہ نہیں بنتا۔
یہ صرف دماغ اور جسم کو نقصان پہنچاتا ہے۔
دوست وہ نہیں جو زہر پلائے، دوست وہ ہے جو روکے۔

---

📢 والدین اور نوجوانوں سے گزارش

• اپنے بچوں کی سہ پہر کی سرگرمیوں پر نظر رکھیں۔
• اگر کسی کے پاس ایسی گولیاں ہوں، فوراً بات کریں اور ڈاکٹر سے رجوع کریں۔
• شک کی صورت میں Anti Narcotics Helpline: 1055 پر اطلاع دیں۔
• صحت اور آگاہی بانٹیں — خاموشی جرم ہے۔

---

📚 حوالہ جات / ریفرنسز:

Getz Pharma (Gabica official info): https://getzpharma.com/product/gabica-8/

DRAP Drug Alert: https://www.brecorder.com/news/40359051

Research on Pregabalin misuse: https://pmc.ncbi.nlm.nih.gov/articles/PMC10011841/

The News Pakistan Report: https://www.thenews.com.pk/print/1271859-drug-abuse-crisis-grips-pakistan-as-their-sale-go-unregulated

---
سوچیں، سمجھیں، اور اس زہر سے نوجوان نسل کو بچائیں۔
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
سات سے دس سال کی عمر میں
بچے کی اصل ضرورت آسائشیں، چیزیں نہیں آپکا وقت دینا ہے

#ParentGuide #tarbiyah

ہمارا واٹس ایپ گروپ جوائن کریں
https://whatsapp.com/channel/0029Vb73UNACnA7sY9fGLb1q

فیسبک پیج
https://www.facebook.com/parentguidenmore

ٹیلی گرام
https://t.me/parentguide
آ پ کے 5 سے 10 سال تک کے بچوں کے لیے درج ذیل چارٹ محبت، تربیت، اور مثبت رویے پر مبنی ایک راہ نما تحریر ہے، تاکہ بچہ جسمانی، ذہنی اور اخلاقی طور پر بہتر طور پر پروان چڑھے۔

🌅 صبح کا وقت (7:00 – 8:30 بجے)

🧘‍♀️ 1. پیار بھرا آغاز

بچے کو محبت سے جگائیں، سختی یا جلدی سے نہیں۔

ایک مثبت جملہ کہیں:

> “آج کا دن بہت اچھا گزرے گا، ان شاءاللہ!”

بچے کو خود تیار ہونے کا موقع دیں — کپڑے پہننے، بیگ سنبھالنے میں تھوڑی مدد، لیکن سب کچھ خود نہ کریں۔

2. ناشتہ کے دوران بات چیت

ناشتہ کرتے وقت “فون یا ٹی وی” بند رکھیں۔

دن کے منصوبے پر بات کریں:

> “آج اسکول میں کون سا مضمون ہے جس کا تمہیں انتظار ہے؟”

دعا پڑھ کر گھر سے نکلنے کی عادت ڈالیں۔

---

🎒 دوپہر / اسکول سے واپسی (1:00 – 3:00 بجے)

🍽️ 3. سکون اور کھانا

بچے کو گھر آ کر تھوڑا آرام کرنے دیں، فوراً پڑھائی پر مجبور نہ کریں۔

اس سے پوچھیں:

> “آج اسکول میں سب سے مزے کی بات کیا ہوئی؟”
“کچھ ایسا ہوا جس نے تمہیں پریشان کیا؟”

سنیں، فیصلہ نہ سنائیں۔ صرف دلچسپی اور ہمدردی دکھائیں۔

---

📚 شام کا وقت (4:00 – 7:00 بجے)

📖 4. ہوم ورک اور سیکھنے کا وقت

بچے کے ساتھ بیٹھیں، لیکن کام اس کے لیے نہ کریں۔

کامیابی پر تعریف کریں:

> “واہ! تم نے خود سے اتنا اچھا حل نکالا!”

غلطی پر نرمی سے رہنمائی دیں:

> “چلو دیکھتے ہیں کہاں مشکل ہوئی، ہم ایک اور طریقے سے کوشش کرتے ہیں۔”

5. کھیل / تخلیقی سرگرمی

کم از کم ۳۰ سے ۶۰ منٹ کا کھیل یا تخلیقی وقت ضرور دیں۔

باہر کا کھیل (دوڑنا، سائیکل، گیند وغیرہ)

یا گھر میں مصوری، LEGO، کہانیاں سنانا، وغیرہ۔

---

🌙 رات کا وقت (8:00 – 9:30 بجے)

🍲 6. خاندانی کھانا

سب ایک ساتھ کھانے بیٹھیں۔

بچے کو گفتگو میں شامل کریں، جیسے:

> “آج تمہیں کس چیز پر سب سے زیادہ خوشی ہوئی؟”

📖 7. کہانی یا دعا کا وقت

سونے سے پہلے ایک چھوٹی سی اخلاقی یا اسلامی کہانی سنائیں۔

پھر ساتھ بیٹھ کر دعا پڑھیں اور بچے سے کہیں وہ بھی اپنی پسند کی دعا کرے۔

دن کا اختتام ہمیشہ پیار اور اطمینان کے ساتھ کریں۔

---

❤️ اضافی نکات:

ایک دن میں کم از کم 10 منٹ صرف بچے کے ساتھ “کوالٹی وقت” گزاریں — بغیر فون یا ٹی وی کے۔

چھوٹی کامیابیوں پر تعریف کریں، چاہے وہ دانت خود برش کرنا ہی کیوں نہ ہو۔

چیخنے، موازنہ کرنے یا طعنہ دینے سے گریز کریں۔

بچے کو دعائیں، شکرگزاری اور مدد کی عادت ڈالیں۔

نبیلہ کوثر

#ParentGuide #tarbiyah

ہمارا واٹس ایپ گروپ جوائن کریں
https://whatsapp.com/channel/0029Vb73UNACnA7sY9fGLb1q

فیسبک پیج
https://www.facebook.com/parentguidenmore

ٹیلی گرام
https://t.me/parentguide
1
📚 بڑی ڈگریاں، چھوٹے لہجے

آج کے دور میں تعلیم نے ہمیں الفاظ تو سکھا دیے ہیں، مگر اندازِ گفتگو بھلا دیے ہیں۔ ڈگریاں بڑی ہو گئیں، مگر بات کرنے کا سلیقہ چھوٹا پڑ گیا۔ علم تو بڑھا، لیکن ادب کم ہوتا گیا۔

ہم نے علم کو روزگار کا ذریعہ تو بنا لیا، مگر کردار سازی کا ذریعہ نہیں۔ ایک زمانہ تھا جب تعلیم کا مقصد انسان بننا ہوتا تھا، آج مقصد صرف کمائی رہ گیا ہے۔ اسی لیے ہمارے معاشرے میں زبان کی سختی، لہجے کا زہر، اور باتوں میں تلخی بڑھتی جا رہی ہے۔

چھوٹوں سے بات کرنے کا ادب

چھوٹے، ناتجربہ کار ضرور ہوتے ہیں، مگر وہ عزت کے بھوکے بھی ہوتے ہیں۔ ان سے بات کرتے وقت نرمی، شفقت اور رہنمائی کا انداز اختیار کرنا چاہیے۔
ان پر حکم چلانے کے بجائے، بات سمجھانے کا انداز اپنائیں۔
نبی ﷺ نے فرمایا: “تم میں بہتر وہ ہے جو اپنے چھوٹوں پر شفقت کرے۔”

بڑوں سے بات کرنے کا سلیقہ

بڑوں سے گفتگو میں آواز بلند نہ ہو۔ اگر وہ غلط بھی ہوں تو لحاظ اور ادب کے ساتھ بات کی جائے۔
آج کل اکثر نوجوان دلیل کے نام پر گستاخی کرتے ہیں، حالانکہ سچ وہی ہے جو احترام کے دائرے میں کہا جائے۔
بڑوں کی بات کاٹ دینا علم نہیں، بدتمیزی ہے۔

دفتر (آفس) میں بات کرنے کا آداب

آفس میں بات کرتے وقت پیشہ ورانہ انداز ضروری ہے۔
نہ زیادہ دوستانہ، نہ غیر ضروری سخت۔
سینئرز کے ساتھ عزت سے، جونیئرز کے ساتھ رہنمائی کے جذبے سے، اور ساتھیوں کے ساتھ تعاون کے ساتھ گفتگو کریں۔
آفس کی گفتگو میں لہجہ آپ کی شخصیت کا آئینہ ہوتا ہے۔

بازار یا عوامی جگہ پر گفتگو

بازار میں، دکاندار سے یا عام لوگوں سے بات کرتے وقت بھی تہذیب ہاتھ سے نہیں جانی چاہیے۔
غصہ، جھگڑا، اونچی آواز یہ سب اس بات کی نشانی ہیں کہ ہم نے تعلیم تو حاصل کی، لیکن تہذیب نہیں۔
خریداری میں نرمی اور شکرگزاری کا لہجہ انسان کی اصلی تربیت دکھاتا ہے۔

آخر میں یہی کہنا کافی ہے کہ علم انسان کو نرم بناتا ہے، مغرور نہیں۔
ڈگری سے نہیں، لہجے سے انسان پہچانا جاتا ہے۔
اگر ہماری گفتگو میں نرمی، ہمارے لہجے میں عزت، اور ہمارے الفاظ میں وقار ہو تب ہی ہماری تعلیم با برکت بن سکتی ہے۔

تحریر از قلم سید ریحان
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
‏*بچوں کے گردے کیوں فیل ہو رہے ییں۔۔۔؟*
تمام ماں باپ لازمی متوجہ ہوں بہت خطرناک سچویشن ہے اپ کی احتیاط کرنے سے اپ کے بچوں کی زندگی محفوظ ہو سکتی ہے پلیز پلیز ضرور دیکھیں دو منٹ کی بھی نہیں ہے یہ ویڈیو


#ParentGuide #tarbiyah

ہمارا واٹس ایپ گروپ جوائن کریں
https://whatsapp.com/channel/0029Vb73UNACnA7sY9fGLb1q

فیسبک پیج
https://www.facebook.com/parentguidenmore

ٹیلی گرام
https://t.me/parentguide
*سموگ کیا ہے؟ اِس کے نقصانات کیا ہیں اور اِس سے بچوں کو کیسے محفوظ رکھیں؟*

سموگ (Smog) ایک انگریزی اصطلاح ہے جو "سموک" (دھواں) اور "فوگ" (دھند) کے امتزاج سے بنی ہے۔ یہ ہوا میں موجود آلودہ ذرات، دھوئیں، کاربن مونو آکسائیڈ، نائٹروجن آکسائیڈ، اور دیگر کیمیائی مادوں کے ملنے سے بنتی ہے، جو زیادہ تر گاڑیوں کے دھوئیں، صنعتوں کی آلودگی، اور کوڑا کرکٹ جلانے سے پیدا ہوتے ہیں۔ سموگ کی وجہ سے فضا میں موجود آکسیجن کم ہوتی ہے اور سانس لینے میں دشواری پیش آتی ہے۔

سموگ کے نقصانات:

سموگ انسانی صحت، ماحول اور معیشت پر منفی اثرات ڈالتی ہے۔ اس کے چند اہم نقصانات درج ذیل ہیں:

1. سانس کی بیماریوں میں اضافہ: سموگ میں موجود زہریلے مادے پھیپھڑوں کو نقصان پہنچاتے ہیں، جس سے دمہ، برونکائٹس اور سانس لینے میں دشواری جیسی بیماریاں جنم لیتی ہیں، خاص طور پر بچوں اور بزرگوں میں۔

2. آنکھوں اور جلد پر مضر اثرات: سموگ کی وجہ سے آنکھوں میں جلن، آنسو آنے، اور جلد کی خرابی جیسے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ حساس جلد والے افراد کے لیے یہ مسائل زیادہ شدت اختیار کر سکتے ہیں۔

3. دل کی بیماریوں کا خطرہ: ہوا میں موجود کاربن مونو آکسائیڈ اور دیگر زہریلے ذرات خون میں شامل ہو کر دل کی دھڑکن میں بے ترتیبی پیدا کر سکتے ہیں، جس سے دل کی بیماریوں اور ہارٹ اٹیک کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

4. بچوں کی صحت پر اثرات: سموگ بچوں کی سانس کی نالیوں کو متاثر کرتی ہے، جس سے ان کی جسمانی نشوونما اور دماغی صلاحیتوں پر منفی اثر پڑتا ہے۔

5. ماحول پر منفی اثرات: سموگ کی وجہ سے سورج کی روشنی کم زمین تک پہنچتی ہے، جس سے درختوں اور فصلوں کی نشوونما متاثر ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ، یہ جنگلی حیات اور آبی حیات کو بھی نقصان پہنچا سکتی ہے.

سموگ کے اثرات سے بچوں کو بچانے کے لیے چند اہم احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہئیں: 👇👇👇

1. باہر کھیلنے سے گریز: سموگ کے دوران بچوں کو باہر کھیلنے اور زیادہ وقت گزارنے سے روکیں، خاص طور پر صبح اور شام کے وقت جب سموگ زیادہ ہوتا ہے۔

2. ماسک کا استعمال: اگر بچوں کو باہر جانا ضروری ہو تو انہیں ماسک پہنائیں، تاکہ وہ ہوا میں موجود مضر ذرات کو کم سے کم سانس میں لے سکیں۔

3. گھر کے اندر رہنا: سموگ کی شدت زیادہ ہونے پر بچوں کو زیادہ تر گھر کے اندر ہی رکھیں۔ اس دوران کھڑکیاں اور دروازے بند رکھیں تاکہ آلودہ ہوا گھر میں داخل نہ ہو سکے۔

4. ایئر پیوریفائر کا استعمال: اگر ممکن ہو تو گھر کے اندر ایئر پیوریفائر استعمال کریں، خاص کر بچوں کے کمروں میں، تاکہ ہوا میں موجود نقصان دہ ذرات کو کم کیا جا سکے۔

5. پانی اور خوراک کا خیال: بچوں کو زیادہ پانی پلائیں تاکہ ان کا جسم ہائیڈریٹڈ رہے اور سموگ کے اثرات سے بچاؤ میں مدد مل سکے۔ انہیں پھل اور سبزیاں کھلائیں جو ان کے جسم کی قوت مدافعت کو بڑھا سکیں۔

6. احتیاطی دوائیں: اگر بچے کو دمے یا سانس کے کسی مسئلے کا سامنا ہے تو ڈاکٹر سے مشورہ کریں اور ضروری ادویات استعمال کریں تاکہ کسی ہنگامی صورتحال سے بچا جا سکے۔

7. پانی سے کلی کروانا: بچوں کو باہر سے واپس آکر ہاتھ، منہ، اور ناک کو اچھی طرح دھونا سکھائیں تاکہ سموگ کے اثرات کم کیے جا سکیں۔

8. سموگ کی صورتحال کو مانیٹر کریں: موسمی اور فضائی معیار کی خبروں پر نظر رکھیں اور جب سموگ کی سطح زیادہ ہو، تو باہر جانے سے پرہیز کریں۔

اِن ہدایات پر عمل کر کے بچوں کو سموگ کے مضر اثرات سے محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔
#smog #smogawareness #smogcheck #smogfreepunjab #SmogFreePakistan
#smogalert

#ParentGuide #tarbiyah

ہمارا واٹس ایپ گروپ جوائن کریں
https://whatsapp.com/channel/0029Vb73UNACnA7sY9fGLb1q

فیسبک پیج
https://www.facebook.com/parentguidenmore

ٹیلی گرام
https://t.me/parentguide
ہمارا نظام تعلیم

#ParentGuide #tarbiyah

ہمارا واٹس ایپ گروپ جوائن کریں
https://whatsapp.com/channel/0029Vb73UNACnA7sY9fGLb1q

فیسبک پیج
https://www.facebook.com/parentguidenmore

ٹیلی گرام
https://t.me/parentguide