Parent Guide
129 subscribers
26 photos
17 videos
56 links
بچوں کی تعلیم، تربیت، اور حفاظتی تدابیر پر مبنی مواد والدین کی رہنمائی کے لیے

فیسبک پیج
https://www.facebook.com/parentguidenmore
ٹیلی گرام
https://t.me/parentguide
واٹس ایپ
https://whatsapp.com/channel/0029Vb88UmR5Ui2eQdx2mk3B
Download Telegram
⁉️ اکثر اوقات والدین سوالات پوچھتے ہیں کہ ہمارا بچہ بالکل پڑھنے والا نہیں اور جب بھی اسکول سے آتا ہے تو بیگ پھینک دیتا ہے اور اپنے دوستوں کے ساتھ کھیل کود یا کمپیوٹر گیمز میں مگن ہو جاتا ہے حتی اسے ہوم ورک بھی بار بار کہنے کے بعد پاس بٹھا کر کروانا پڑتا ہے۔ کیا آپ اس مشکل کے حل کے لیے راہنمائی کر سکتے ہیں؟

📷 بچوں کو مطالعے کا عادی بنانے کے یہ 7 راہ حل مفید ہو سکتے ہیں۔

1️⃣ آہستہ آہستہ عادی بنائیے
ہر روز مثلا سونے سے پہلے اپنے بچے کے لیے کسی کہانی وغیرہ کی کتاب پڑھیں تاکہ اس کا ذہن آہستہ آہستہ کتاب پڑھنے کی طرف مائل ہو۔

2️⃣ لائبریری یا بک ڈپو پر لے جائیے
بچوں کا ایسی جگہ جانا جہاں بہت زیادہ لوگ کتاب کے مطالعہ میں مگن ہوں یا کتاب خریدنے میں مصروف ہوں، یہ کام ان میں کتاب پڑھنے کے شوق میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔

3️⃣ مطالعہ کا ماحول بنائیں
گھر میں ایسا ماحول بنایا جائے جس میں بچہ آرام و سکون سے مطالعہ کر سکے۔ یہ اس وقت ممکن ہے جب والدین گھر کا ایک حصہ مطالعے کے لیے مخصوص کر دیں یا کوئی وقت مخصوص کریں جس میں گھر کے اکثر افراد مطالعہ میں مصروف ہوں اور کسی نہ کسی موضوع پر تبادلہ خیال کریں۔

4️⃣ بچوں کے سامنے پڑھیں
والدین محترم! ایسی جگہ کا انتخاب کریں جس میں بچے آپ کو دیکھ رہے ہوں کیونکہ بچے بہت سی چیزیں والدین کو دیکھ کر انجام دیکھتے ہیں۔ اسی لیے آپ نے دیکھا ہو گا کہ اگر پڑھ رہے ہوں تو چھوٹا بچہ خود ہی اپنا بیگ اٹھا کر آپ کے پاس آ جاتاہے اور ڈرائنگ یا ہوم ورک کرنے میں لگ جاتا ہے۔

5️⃣ بچوں کو انتخاب کا موقع دیں
بچوں کو موقع دیں کہ وہ خود بک ڈپو سے کتاب خریدیں یا لائبریری میں جائیں اور کتابیں دیکھیں۔ ایسا اس لیے کہ بچے جو کتاب خود خریدتے ہیں پھر وہ اسے شوق سے پڑھتے بھی ہیں۔ جیسے اپنی پسند کی پینٹ یا شرٹ لیں تو وہ بار بار اسی کو پہننے کا اسرار کرتے ہیں۔ کتاب خوانی میں بھی ایسے ہی ہوتا ہے۔

6️⃣ پسندیدہ کتب کا دوبارہ مطالعہ کیجیے
ممکن ہے بار بار ایک کہانی کی کتاب کا پڑھنا آپ کے لیے تھکاوٹ اور بورنگ کا باعث بنے لیکن بچوں کے لیے ایسا نہیں ہے۔ بچے چاہتے ہیں کہ جو کہانی ان کو پسند آئی تھی اس کو بار بار سنیں، پڑھیں اور اس کی تصاویر کو دیکھیں۔

7️⃣ مطالعے کی مہارت سیکھیں
آپ ایک استاد نہیں لیکن اپنے بچوں کے آپ پہلے استاد ہیں کیونکہ بچہ بہت سی چیزیں والدین سے سیکھتا ہے لہذا کتاب کو کیسے پڑھا جائے اس کے مفاہیم کیسے بچوں میں باآسانی منتقل کیے جائیں، آپ کا یہ کام بچوں میں مزید شوق پیدا کرے گا اور وہ بھی چاہیں گے زیادہ سے زیادہ زندگی میں مطالعہ کریں اور ایک معاشرے میں کامیاب انسان کی حثییت سے پہچانے جائیں۔

✍🏻 بشکریہ : تہذیب زندگی

#ParentGuide

ہمارا واٹس ایپ گروپ جوائن کریں
https://whatsapp.com/channel/0029Vb73UNACnA7sY9fGLb1q

فیسبک پیج
https://www.facebook.com/profile.php?id=61579821277198&mibextid=ZbWKwL

ٹیلی گرام
https://t.me/parentguide
بچوں کا موازنہ ، دوسرے بچوں اور خاندان کے دوسرے افراد کی موجودگی میں موازنہ کرنا ۔۔۔۔ بچوں کی شخصیت کے لیے برا ہے انکی عزت نفس مجروح ہوتی ہے
https://www.facebook.com/share/r/1Ajme6DhTC/
"اپنی اولاد کی پرستش نہ کریں"

کینیڈا کے معروف ماہر نفسیات پروفیسر جارڈن پیٹرسن کا کہنا ہے:
“اپنی اولاد کی پرستش نہ کریں، بلکہ ان کی پرورش ایک ذمہ دار اور متوازن شخصیت کے طور پر کریں۔ ایسا نہ ہو کہ آپ کا حد سے زیادہ لاڈ پیار انہیں نرگسیت (Narcissism) کا شکار بنا دے۔”

بچوں کی تربیت میں والدین کی ذمہ داریاں
بچہ جب غلطی کرے تو اسے نظرانداز نہ کریں۔ غلط رویے پر ٹوکنا اور اصلاح کرنا والدین کی بنیادی ذمہ داری ہے۔
صرف محبت اور تعریفیں ہی دینا کافی نہیں، بلکہ حدود اور اصول بھی سکھانا لازمی ہے۔
ایک کامیاب پرورش وہی ہے جہاں بچہ نہ تو خوف کا شکار ہو اور نہ ہی حد سے زیادہ بگڑ جائے۔
کیوں ضروری ہے متوازن تربیت؟

پروفیسر پیٹرسن کے مطابق:
اگر والدین بچے کو صرف مرکزِ کائنات بنا دیں، تو بچہ یہ سمجھنے لگتا ہے کہ ہر چیز اس کی خواہش کے مطابق ہونی چاہیے۔
یہ رویہ آگے چل کر خود غرضی، بدتمیزی اور دوسروں کو کمتر سمجھنے کی عادت پیدا کر دیتا ہے۔
اس کے برعکس، ایک متوازن تربیت بچے کو نہ صرف ذمہ دار انسان بناتی ہے بلکہ وہ معاشرے کا مثبت فرد بھی بنتا ہے۔

عملی نکات والدین کے لیے:
1. بچے کو محبت دیں مگر اصولوں کے ساتھ۔
2. غلطی پر پیار سے سمجھائیں اور ضرورت پڑے تو سختی بھی کریں۔
3. بچے کو دوسروں کی عزت کرنا سکھائیں۔
4. محنت اور صبر کی اہمیت بتائیں، تاکہ وہ حقیقی دنیا میں کامیاب ہو سکے۔

💡 یاد رکھیں:
بچے کو نکھارنا صرف اس کی خوشی کے لیے نہیں بلکہ معاشرے کی بھلائی کے لیے بھی ضروری ہے۔ ایک ذمہ دار اور متوازن بچہ کل کو ایک اچھا شہری، والدین، اور لیڈر بن سکتا ہے۔

#ParentGuide

ہمارا واٹس ایپ گروپ جوائن کریں
https://whatsapp.com/channel/0029Vb73UNACnA7sY9fGLb1q

فیسبک پیج
https://www.facebook.com/profile.php?id=61579821277198&mibextid=ZbWKwL

ٹیلی گرام
https://t.me/parentguide
جنھوں نے اپنے والد کومشکلات کا سامنا دلیری سے کرتے دیکھا ہو،وہ لوگ کبھی طوفانوں سے گھبراتے نہیں ہیں۔

#ParentGuide
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
ریٹنگ اور ویوز کے لیے کچھ بھی ؟

#ParentGuide

ہمارا واٹس ایپ گروپ جوائن کریں
https://whatsapp.com/channel/0029Vb73UNACnA7sY9fGLb1q

فیسبک پیج
https://www.facebook.com/parentguidenmore

ٹیلی گرام
https://t.me/parentguide
Parent Guide
ریٹنگ اور ویوز کے لیے کچھ بھی ؟ #ParentGuide ہمارا واٹس ایپ گروپ جوائن کریں https://whatsapp.com/channel/0029Vb73UNACnA7sY9fGLb1q فیسبک پیج https://www.facebook.com/parentguidenmore ٹیلی گرام https://t.me/parentguide
ٹی وی پر یہ دل چیر دینے والا منظر لاکھوں نے دیکھا۔ پیسہ ، ریٹنگ ، شہرت کس قدر مکروہ لگتی ہیں جب یہ کسی کے دکھ کرید کر حاصل کی جائیں ،, اور یہ کام اس بچے کے والدین اور ARY کے اینکرز کر رہے ہیں ، وجہ ؟ پیسہ ، شہرت !
ہمارے ہاں جب کوئی مرگ ہو جائے ، کسی بچے کا باپ ، ماں یا بہن بھائی چلا جائے تو کوشش کی جاتی ہے جانے والے کا بچے کے سامنے ذکر نہ ہو ، اس کا دھیان بٹا رہے کہ بچے کا مزاج اور طبیعت ایسی ہے کہ وہ کھیل کود میں مصروف ہو جائے تو غم بھول جاتا ہے ۔ لیکن ان گدھ نما ہوسٹس اور چینل کا کیا کیجے جو نفسیات سے کھیلتے ہیں ۔
اے آر وائے کی سلور جوبلی پر احمد شاہ کو اسٹیج پر بلا کر ہچکیوں سے رلایا گیا ، والدین نے اجازت کیوں دی ؟ ڈیڑھ سال پہلے ان کی بچی فوت پوئی جو محض تین ماہ کی پروگرام میں لائی گئی ، پھر عمر چلا گیا مگر ٹی وی پر بچے لانے کا شوق اب بھی برقرار ہے ، ماموں سارے کام دھندے چھوڑ کے بچوں کو میڈیا سٹار بنانے پر جتا ہوا ہے ۔
سوچیے یہ بچہ کس ٹراما سے گزرا ہوگا جب مائیک سامنے کرکے پوچھا گیا ,, بھائی یاد آتا ہے ؟ ،،
فہد مصطفیٰ ، وسیم بادامی اور سلمان اقبال چاہیں گے کہ ان کے بچوں کو قریبی رشتے کے بچھڑنے پر اسٹیج پر بلا کر پوچھا جائے ,, کیا فیل کر رہے ہو ، کچھ کہنا چاہو گے ؟؟ ،،
اور میں اس پوسٹ کے توسط سے احمد اور ابوبکر کے والدین سے کہنا چاہوں گی خدا کے لیے اب تو ان بچوں کو میڈیا کی چکا چوند سے دور کردیں ۔ ان کی پڑھائی ، مستقبل ، تربیت اور حفاظت پر توجہ دیں ۔ یہ جیتے جاگتے معصوم بچے ہیں ۔۔۔لوگوں کی انٹرٹینمنٹ نہیں ۔

Asifa Ambreen Qazi


#ParentGuide

ہمارا واٹس ایپ گروپ جوائن کریں
https://whatsapp.com/channel/0029Vb73UNACnA7sY9fGLb1q

فیسبک پیج
https://www.facebook.com/parentguidenmore

ٹیلی گرام
https://t.me/parentguide
نہیں وہ بس ڈرامہ دیکھ رہی ہے۔۔۔۔۔
بچے گیم ہی تو کھیل رہے ہیں۔۔۔
ارے وہ اپنا اسائنمنٹ کر رہی یے۔۔۔۔
پورا دن ہوگیا ہے دیکھنے دیں بچے ہیں وہ نہیں دیکھیں گے مووی تو کیا ہم دیکھیں گے۔۔۔۔۔

کچھ اسی طرح کے جملے سننے کو ملتے ہیں جب کوئی گھر میں موجود بچوں کو موبائل یا کمپیوٹر کے بےجا استعمال پر ٹوکتا ہے۔۔۔۔
منع کرنے والا، سمجھانے والا برا بن جاتا یے۔
بچوں کو کھیل کود یا انٹرٹینمنٹ کے لیے موبائل یا لیپ ٹاپ دے دینا اب ایک معمولی سے بات یے۔ اکثر کے پاس پڑھائی کا بہانہ بھی یے۔۔۔۔
ارے بھئی وہ کام کر رہی ہے یا وہ گیم کھیل رہا ہے۔۔۔۔ اس جملے کا مزہ اس وقت آتا یے جب بچے اچانک بڑے ہونے کا اعلان کر دیتے ہیں۔۔۔۔
اور یہ اچانک اچانک نہیں آتا یہ آہستہ آہستہ ہوتا یے۔۔۔
بچوں اور بچیوں کے رویوں میں تبدیلیاں آرہی ہوتی ہیں مگر نظر انداز کر دی جاتی ہیں کیوں کہ امی جان کو لگتا ہے کہ یہ سب تو سب کرتے ہیں، جب سب کے بچوں کے پاس ہے فون یا علیحدہ علیحدہ کمپیوٹر تو میرے بچے کے پاس کیوں نہیں؟؟
اور کیا اب میں اپنے بچوں پر شک کروں؟۔۔۔۔
بچوں پر شک کریں یا نہ کریں مگر اپنے دماغی توازن پر ضرور شک کریں۔۔۔۔
کیوں کہ انسان اگر جان بوجھ کر آگ کا شعلہ اپنے بچے کے ہاتھ پر رکھ دے تو لوگ اسے کیا کہیں گے؟
پاگل یا ظالم ؟
جب والد بچوں کو اکیلے بیٹھ کر فلمیں ڈرامیں دیکھنے سے منع کریں جب والد منع کریں کہ سوشل میڈیا پر آئی ڈی نہ بناو، جب والد منع کریں کہ بچوں کو اکیلے بیٹھ کر موبائل نہ دیکھنے دو تو بچوں کے والد کی بات مان لیا کریں۔۔۔۔
گھر میں جب کوئی ٹوکتا ہے خواتین فورا defensive ہوجاتی ہیں کہ میرے ہی بچے کو کیوں کہتے ہیں۔۔۔
جو آپ کے بچے سے محبت کرے گا وہ اسے ضرور روکے گا شکر ادا کریں کہ کوئی منع کرنے والا موجود ہے۔۔۔۔
یہ تنہائی کی unsupervised دنیا آپ کے بچے کو کسی اور دیس کا باسی بنا دیں گی اور آپ ہاتھ ملتی رہے جائیں گی۔۔۔۔
سمجھدار بنیں۔۔۔
شعور و فہم سے سوچیں۔۔۔
نسلیں آپ کے رحم و کرم پر ہیں ۔۔۔۔

فیض عالم

#ParentGuide
#mobile #unsupervised #KnowledgeWithBarakah #tarbiyah #socialmedia #mindset


ہمارا واٹس ایپ گروپ جوائن کریں
https://whatsapp.com/channel/0029Vb73UNACnA7sY9fGLb1q

فیسبک پیج
https://www.facebook.com/parentguidenmore

ٹیلی گرام
https://t.me/parentguide
اے آئی آنے والے دنوں میں کتنا فتنہ فساد پھیلانے کا سبب بنے گا اس سے بچنے کا واحد راستہ تصویروں کے شوق سے خود کو اور بچوں کو بچانا ہے اور کوئی راستہ نہیں۔


#ParentGuide 
#mobile #unsupervised #KnowledgeWithBarakah #tarbiyah #socialmedia #mindset


ہمارا واٹس ایپ گروپ جوائن کریں
https://whatsapp.com/channel/0029Vb73UNACnA7sY9fGLb1q

فیسبک پیج
https://www.facebook.com/parentguidenmore

ٹیلی گرام
https://t.me/parentguide
ماں ہار نہیں مانتی

#ParentGuide #tarbiyah #socialmedia

ہمارا واٹس ایپ گروپ جوائن کریں
https://whatsapp.com/channel/0029Vb73UNACnA7sY9fGLb1q

فیسبک پیج
https://www.facebook.com/parentguidenmore

ٹیلی گرام
https://t.me/parentguide
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
ایک باپ نے اپنی بچی میں خود اعتمادی کو پیدا کرنے کے لیے کیا ہی زبردست طریقہ نکالا ہے۔ بچوں کی تربیت اور کردار سازی کے لیے اپکو اسی طرح کی چیزیں اور راستے ڈھونڈنے ہوتے ہیں جو بچوں کو بہت کچھ سکھا سکتے ہیں


#ParentGuide #tarbiyah

ہمارا واٹس ایپ گروپ جوائن کریں
https://whatsapp.com/channel/0029Vb73UNACnA7sY9fGLb1q

فیسبک پیج
https://www.facebook.com/parentguidenmore

ٹیلی گرام
https://t.me/parentguide
1
بطور والدین، آپ کی اولین ذمہ داریوں میں سے ایک ذمہ داری یہ ہونی چاہیے کہ آپ اپنے بچوں میں مطالعے کا شوق، بچپن سے ہی ڈیویلپ کریں

آئندہ آنے والا دور انفارمیشن اکانومی ہے

جو زیادہ نالج رکھے گا، زیادہ اپڈیٹ رہے گا، اسے دوسروں پر edge حاصل رہے گا

لہذا اپنے اوپر یہ فرض کرلیجیے کہ آپ نے اپنے بچوں میں مطالعے کی عادت لازمی ڈیویلپ کرنی ہے

اس کے لیے ماں باپ نے گھر کے اندر وہ مخصوص ماحول ڈیویلپ کرنا ہوگا۔ بچوں پر انویسٹمنٹ کرنی ہوگی

مثلاً،

ہفتے، دو ہفتے یا مہینے میں ایک بار لازمی طور پر بک اسٹورز کا چکر لگایا کیجیے اور انھیں ان کی من پسند کتابیں اور میگزینز دلوایا کیجیے۔ اس کام کے لیے ماہانہ بجٹ علیحدہ کرلیجیے

(سب سے ضروری) گھر میں مطالعے کا ماحول create کیجیے

یعنی،

گھر میں ایک چھوٹی لائبریری یا کم سے کم ایک بک شیلف بنوا لیجیے

رات کے وقت کوشش کیجیے کہ میاں بیوی دونوں کتابوں کا مطالعہ کریں اور بچوں کو بھی ساتھ لے کر بیٹھیں۔ جب آپ گھر میں ایسا ماحول دیں گے تو امکان ہے کہ بچے بھی آہستہ آہستہ مطالعے کی طرف مائل ہوتے رہیں گے

میرے والدین کا مجھ پر ایک بہت بڑا احسان ہے کہ انھوں نے مجھے بچپن سے ہی مطالعے کی عادت ڈالی ہے۔ والد صاحب مجھے خصوصی طور پر بک اسٹورز لے کر جاتے تھے اور وہاں سے کتابیں اور میگزینز وغیرہ لیا کرتے تھے

بچپن میں بچوں کے سارے رسالے پڑھا کرتا تھا جن میں تعلیم و تربیت، ساتھی، نونہال وغیرہ جیسے رسالے شامل رہے

اس کے بعد مطالعے کا ایسا سلسلہ شروع ہوا جو آج تک جاری و ساری ہے

میں مطالعے کی عادت کو اپنی ایک بہت بڑی strength سمجھتا ہوں۔ اس سے مجھے بے تحاشہ فوائد ملتے ہیں، جس کی کبھی تفصیل لکھوں گا

آپ سب بھی اس عادت کو اہمیت دیجیے، خاص کر اپنی اولاد کے لیے اس کا لازمی اہتمام کیجیے

میں نے ان بچوں اور لوگوں میں زمین آسمان کا فرق دیکھا ہے جو مطالعہ کرتے ہیں اور جو نہیں کرتے۔ یہ قطعی برابر نہیں ہوتے۔

مطالعہ کرنے والی اور نہ کرنے والی اقوام میں ہی آپ کو عظیم الشان فرق نظر آجائے گا

لہذا اس عادت پر لازمی کام کیجیے۔۔۔۔۔۔۔!!!!

#ParentGuide #tarbiyah

ہمارا واٹس ایپ گروپ جوائن کریں
https://whatsapp.com/channel/0029Vb73UNACnA7sY9fGLb1q

فیسبک پیج
https://www.facebook.com/parentguidenmore

ٹیلی گرام
https://t.me/parentguide
یہ پریشان کن خبریں شئیر کرنے کا مقصد والدین کو انکی ذمہ داری کا احساس دلانا ہے ۔ اپنے بچوں کی خود حفاظت کریں

#ParentGuide #tarbiyah

ہمارا واٹس ایپ گروپ جوائن کریں
https://whatsapp.com/channel/0029Vb73UNACnA7sY9fGLb1q

فیسبک پیج
https://www.facebook.com/parentguidenmore

ٹیلی گرام
https://t.me/parentguide
Forwarded from Links All in 1
پاکستان میں تعلیمی کھلونے (Educational Toys) بنانے اور فروخت کرنے والی اہم کمپنیوں/سٹورز کی ویب سائٹس اور فیس بک لنکس یہاں ہیں (2025 تک کی تازہ معلومات پر مبنی)۔ یہ زیادہ تر آن لائن سٹورز ہیں جو مقامی طور پر پروڈکٹس تیار کرتے یا امپورٹ کرتے ہیں:

1. EducationalToys.pk
- ویب سائٹ: [https://www.educationaltoys.pk](https://www.educationaltoys.pk)
- فیس بک: [https://www.facebook.com/educationaltoyspk/](https://www.facebook.com/educationaltoyspk/)
(پزلز، بلاکس، STEM ٹوائز اور لرننگ میٹریلز)

2. Learning Toys PK
- ویب سائٹ: [https://learningtoys.pk](https://learningtoys.pk)
- فیس بک: [https://www.facebook.com/learningtoyspk/](https://www.facebook.com/learningtoyspk/)
(ڈویلپمنٹل ٹوائز، سکل بلڈنگ پروڈکٹس)

3. PlzPapa (مینوفیکچرر، لاہور بیسڈ)
- ویب سائٹ: [https://plzpapa.com](https://plzpapa.com) (اگر دستیاب، ورنہ فیس بک سے چیک کریں)
- فیس بک: [https://www.facebook.com/Plzpapa/](https://www.facebook.com/Plzpapa/)
(مونٹیسوری اور ایجوکیشنل ٹوائز مینوفیکچرنگ)

4. Toys4You.pk
- ویب سائٹ: [https://toys4you.pk](https://toys4you.pk)
- فیس بک: [https://www.facebook.com/Toys4You.PK.Online/](https://www.facebook.com/Toys4You.PK.Online/)
(ڈال ہاؤسز، پزلز، لرننگ ٹوائز)

5. High-Five
- ویب سائٹ: [https://highfive.pk](https://highfive.pk)
- فیس بک: [https://www.facebook.com/highfivedotpk/](https://www.facebook.com/highfivedotpk/)
(فن اور ایجوکیشنل ٹوائز رینج)

6. Toy Company PK
- ویب سائٹ: [https://www.toycompany.pk](https://www.toycompany.pk)
- فیس بک: [https://www.facebook.com/toycompanypk/](https://www.facebook.com/toycompanypk/)
(STEM ٹوائز، پزلز اور برین بوسٹنگ گیمز)

7. Odeez.pk
- ویب سائٹ: [https://odeez.pk](https://odeez.pk)
- فیس بک: [https://www.facebook.com/odeezpk/](https://www.facebook.com/odeezpk/)
(STEM کٹس، مونٹیسوری لرننگ ٹوائز)

8. Toynix.pk
- ویب سائٹ: [https://toynix.pk](https://toynix.pk)
- فیس بک: [https://www.facebook.com/toynixpk/](https://www.facebook.com/toynixpk/)
(RC کارز، ڈالز اور ایجوکیشنل ٹوائز)

9. The Toy Factory
- ویب سائٹ: [https://thetoyfactory.pk](https://thetoyfactory.pk)
- فیس بک: [https://www.facebook.com/thetoyfactorypk/](https://www.facebook.com/thetoyfactorypk/)
(3D پینز، لرننگ کٹس اور سپیشل ایجوکیشنل ٹوائز)

10. Planet X
- ویب سائٹ: [https://planetx.pk](https://planetx.pk)
- فیس بک: [https://www.facebook.com/planetxpk/](https://www.facebook.com/planetxpk/)
(ووڈن میپس، جگل پزلز اور لرننگ ٹوائز)

یہ کمپنیاں آن لائن آرڈر اور ہوم ڈلیوری دیتی ہیں۔
بچے مستقبل میں قوم کے معمار ہوتے ہیں، اگر اُنہیں صحیح تربیت دی جائے تو اس کا مطلب ہے ایک اچھے اور مضبوط معاشرے کے لیے ایک صحیح بنیاد ڈال دی گئی۔بچوں کی اچھی تربیت سے ایک مثالی معاشرہ اور قوم وجود میں آتی ہے، اس لیے کہ ایک اچھا پودا ہی مستقبل میں تناور درخت بن سکتا ہے۔ بچپن کی تربیت نقش کالحجر ہوتی ہے، بچپن میں ہی اگر بچہ کی صحیح دینی واخلاقی تربیت اور اصلاح کی جائے توبلوغت کے بعد بھی وہ ان پر عمل پیرا رہے گا۔ اس کے برخلاف اگر درست طریقہ سے ان کی تربیت نہ کی گئی تو بلوغت کے بعد ان سے بھلائی کی زیادہ توقع نہیں کی جاسکتی، نیزبلوغت کے بعد وہ جن برے اخلاق واعمال کا مرتکب ہوگا، اس کے ذمہ دار اور قصور وار والدین ہی ہوںگے، جنہوں نے ابتدا سے ہی ان کی صحیح رہنمائی نہیں کی


#ParentGuide #tarbiyah

ہمارا واٹس ایپ گروپ جوائن کریں
https://whatsapp.com/channel/0029Vb73UNACnA7sY9fGLb1q

فیسبک پیج
https://www.facebook.com/parentguidenmore

ٹیلی گرام
https://t.me/parentguide
اولاد کی اچھی اور دینی تربیت دنیا میں والدین کے لیے نیک نامی کا باعث اور آخرت میں کامیابی کا سبب ہے، جب کہ نافرمان وبے تربیت اولاد دنیا میں بھی والدین کے لیے وبالِ جان ہو گی اور آخرت میں بھی رسوائی کا سبب بنے گی۔ لفظِ ’’تربیت‘‘ ایک وسیع مفہوم رکھنے والا لفظ ہے، اس لفظ کے تحت افراد کی تربیت، خاندان کی تربیت، معاشرہ اور سوسائٹی کی تربیت، پھر ان قسموں میں بہت سی ذیلی اقسام داخل ہیں۔ ان سب اقسام کی تربیت کا اصل مقصد وغرض‘ عمدہ، پاکیزہ، بااخلاق اور باکردار معاشرہ کا قیام ہے۔ تربیت ِ اولاد بھی اُنہیں اقسام میں سے ایک اہم قسم اور شاخ ہے۔ آسان الفاظ میں ’’تربیت‘‘ کی تعریف یوں کی جاسکتی ہے کہ:’’ برے اخلاق وعادات اور غلط ماحول کو اچھے اخلاق وعادات اور ایک صالح ،پاکیزہ ماحول سے تبدیل کرنے کا نام ’’تربیت‘‘ ہے۔

تربیت کی دو قسمیں:

تربیت دو قسم کی ہوتی ہے:
۱:…ظاہری تربیت،۲:…باطنی تربیت ۔

ظاہری اعتبار سے تربیت میں اولاد کی ظاہری وضع قطع، لباس، کھانے، پینے، نشست وبرخاست، میل جول ،اس کے دوست واحباب اور تعلقات و مشاغل کو نظر میں رکھنا،اس کے تعلیمی کوائف کی جانکاری اور بلوغت کے بعد ان کے ذرائع معاش وغیرہ کی نگرانی وغیرہ امور شامل ہیں، یہ تمام امور اولاد کی ظاہری تربیت میں داخل ہیں۔اور باطنی تربیت سے مراد اُن کے عقیدہ اور اخلاق کی اصلاح ودرستگی ہے۔ اولاد کی ظاہری اور باطنی دونوں قسم کی تربیت والدین کے ذمہ فرض ہے۔ ماں باپ کے دل میں اپنی اولاد کے لیے بے حد رحمت وشفقت کا فطری جذبہ اور احساس پایا جاتا ہے۔ یہی پدری ومادری فطری جذبات واحساسات ہی ہیں جو بچوں کی دیکھ بھال، تربیت اور اُن کی ضروریات کی کفالت پر اُنہیں اُبھارتے ہیں۔ماں باپ کے دل میں یہ جذبات راسخ ہوں اور ساتھ ساتھ اپنی دینی ذمہ داریوں کا بھی احساس ہو تو وہ اپنے فرائض اور ذمہ داریاں احسن طریقہ سے اخلاص کے ساتھ پوری کرسکتے ہیں۔ قرآن مجید اور احادیث نبویہ میں اولاد کی تربیت کے بارے میں واضح ارشادات موجود ہیں۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’ قُوْا أَنْفُسَکُمْ وَأَھْلِیْکُمْ نَارًا وَّقُوْدُھَا النَّاسُ وَالْحِجَارَۃُ‘‘۔ (التحریم:۶) ترجمہ:’’اپنے آپ کو اور اپنی اولاد کو اس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں‘‘۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس آیت کی تفسیر وتشریح میں فرمایا کہ: ’’علموھم وأدِّبوھم‘‘۔ ترجمہ:’’ان (اپنی ولاد )کو تعلیم دو اور ان کو ادب سکھاؤ‘‘۔ فقہاء کرام نے لکھا ہے کہ:ہر شخص پر فرض ہے کہ اپنے بیوی بچوں کو فرائض شرعیہ اور حلال وحرام کے احکام کی تعلیم دے اور اس پر عمل کرانے کے لیے کوشش کرے۔ اولاد کی تربیت کی اہمیت کا اندازہ ان احادیث سے بھی ہوتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: :’’مانحل والد أفضل من أدب حسن‘‘۔ (بخاری، جلد:۱،ص:۴۲۲) ترجمہ:’’کوئی باپ اپنی اولاد کو اس سے بہتر عطیہ نہیں دے سکتا کہ اس کو اچھے آداب سکھادے‘‘۔
یعنی اچھی تربیت کرنا اور اچھے آداب سکھانا اولاد کے لیے سب سے بہترین عطیہ ہے۔ ۲:’’ عن ابن عباسؓ۔۔۔۔۔۔قالوا: یارسول اللّٰہ! قد علمنا ما حق الوالد فماحق الولد؟ قال:أن یحسن اسمہ ویحسن أدبہ‘‘۔ (سنن بیہقی) ترجمہ:’’حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا:یارسول اللہ! والدین کے حقوق تو ہم نے جان لیے، اولاد کے کیا حقوق ہیں؟آپ نے فرمایا: وہ یہ ہے کہ اس کا نام اچھا رکھے اور اس کی اچھی تربیت کرے ‘‘۔

۳:’’یہ بہت بڑا گناہ ہے کہ انسان جن کا ذمہ دارورکھوالا ہے، اُنہیں ضائع کردے، ان کی تربیت نہ کرے‘‘۔ یہ بھی ضائع کرنا ہے کہ بچوں کو یونہی چھوڑدینا کہ وہ بھٹکتے پھریں، صحیح راستہ سے ہٹ جائیں، ان کے عقائد واخلاق برباد ہوجائیں۔نیز اسلام کی نظر میں ناواقفیت کوئی عذر نہیں ہے، بچوں کی تربیت کے سلسلہ میں جن امور کا جاننا ضروری ہے، اُس میں کوتاہی کرنا قیامت کی باز پرس سے نہیں بچا سکتا۔

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کا ارشاد ہے: ’’اپنی اولاد کوادب سکھلاؤ، قیامت والے دن تم سے تمہاری اولاد کے بارے میں پوچھا جائے گا،کہ تم نے اسے کیا ادب سکھلایا؟ اور کس علم کی تعلیم دی؟۔‘‘ (شعب الإیمان للبیہقی)


#ParentGuide #tarbiyah

ہمارا واٹس ایپ گروپ جوائن کریں
https://whatsapp.com/channel/0029Vb73UNACnA7sY9fGLb1q

فیسبک پیج
https://www.facebook.com/parentguidenmore

ٹیلی گرام
https://t.me/parentguide
1
بچہ نرم گیلی مٹی کی طرح ہوتا ہے، ہم اس سے جس طرح پیش آئیں گے، اس کی شکل ویسی ہی بن جائے گی۔بچہ اگر کوئی اچھا کام کرے تو اس کی حوصلہ افزائی کے لیے اس کی تعریف سے دریغ نہیں کرنا چاہیے اور اس پر اُسے شاباش اورکوئی ایسا تحفہ وغیرہ دینا چاہیے جس سے بچہ خوش ہوجائے اور آئندہ بھی اچھے کام کا جذبہ اور شوق اس کے دل میں پیدا ہوجائے۔ بچوں کی غلطی پر اُنہیں تنبیہ کرنے کا حکیمانہ انداز بچوں کو کسی غلط کام پر باربار اور مسلسل ٹوکنا اُن کی طبیعت میں غلط چیز راسخ ہونے سے حفاظت کا سبب بنتا ہے،جس سے اگر غفلت نہ برتی گئی تو اس میں شک نہیں کہ بچوں اور بچیوں میں غلط افکار جڑپکڑنے سے پہلے کامل طریقہ سے ان کی بیخ کنی ہوگی ۔بچے سے خطأ ہوجانا کوئی اچھنبے کی بات نہیں ہے، غلطی تو بڑوں سے بھی ہوجاتی ہے۔ ماحول کا بچوں پر اثر ہوتا ہے، ممکن ہے کہ غلط ماحول کی وجہ سے بچہ کوئی غلطی کربیٹھے، تو اس صورت حال کو بھی مد نظر رکھنا چاہیے کہ بچے سے غلطی کس سبب سے ہوئی؟ اسی اعتبار سے اسے سمجھایا اور تنبیہ کی جائے۔تربیت میں میانہ روی اور اعتدال کا راستہ اختیار کرنا چاہیے، مربی کو اس بات سے باخبر ہونا چاہیے کہ اس وقت بچہ کے لیے نصیحت کارگر ہے یا سزا؟ تو جہاں جس قدر سختی اور نرمی کی ضرورت ہو اسی قدر کی جائے۔ بہت زیادہ سختی اور بہت زیادہ نرمی بھی بعض اوقات بگاڑ کا سبب بنتی ہے۔متنبی شاعر کہتا ہے: فوضع الندی فی موضع السیف بالعلا
مضر کوضع السیف فی موضع الندی ترجمہ:’’جہاں تلوار چلانی ہو وہاں سخاوت اتنی ہی نقصان دہ ہے جتنا کہ سخاوت کے موقع پر تلوار چلانا‘‘۔ تربیت میں تدریجی انداز اختیار کرنا چاہیے، چنانچہ غلطی پر تنبیہ کی ترتیب یوں ہونی چاہیے :
۱:…سمجھانا۔۲:…ڈانٹ ڈپٹ کرنا۔۳:…مارکے علاوہ کوئی سزا دینا۔۴:…مارنا۔۵:… قطع تعلق کرنا۔
یعنی غلطی ہوجانے پر بچوں کی تربیت حکمت کے ساتھ کی جائے، اگر پہلی مرتبہ غلطی ہو تو اولاً اُسے اشاروں اور کنایوں سے سمجھایا جائے، صراحۃً برائی کا ذکر کرنا ضروری نہیں۔ اگربچہ بار بار ایک ہی غلطی کرتا ہے تو اس کے دل میں یہ بات بٹھائیں کہ اگر دوبارہ ایسا کیا تو اس کے ساتھ سختی برتی جائے گی، اس وقت بھی ڈانٹ ڈپٹ کی ضرورت نہیں ہے، نصیحت اور پیار سے اُسے غلطی کا احساس دلایاجائے ۔ بچہ کی پیارومحبت سے تربیت واصلاح کا ایک واقعہ حضرت عمر بن ابی سلمہ سے منقول ہے، فرماتے ہیں کہ: میں بچپن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیرتربیت اور زیرکفالت بچہ تھا، میرا ہاتھ کھانے کے برتن میں اِدھر اُدھر گھوم رہا تھا، یہ دیکھ کر رسول اللہ نے مجھ سے فرمایا: ’’یا غلام سم اللّٰہ! وکل بیمینک وکل ممایلیک‘‘ ۔۔۔۔’’اے لڑکے! اللہ کا نام لے کر کھانا شروع کرو اور دائیں ہاتھ سے کھاؤ اور اپنی طرف سے کھاؤ۔‘‘ اگر نصیحت اور آرام سے سمجھانے کے بعد بھی بچہ غلطی کرے تو اُسے تنہائی میں ڈانٹا جائے اور اس کام کی برائی بتائی جائے اور آئندہ ایسا نہ کرنے کا کہا جائے۔ پھر بھی اگر باز نہ آئے تو تھوڑی بہت مارپیٹ بھی کی جاسکتی ہے۔ تربیت کے یہ طریقے نوعمر بچوں کے لیے ہیں، لیکن بلوغت کے بعد تربیت کے طریقے مختلف ہیں، اگر اس وقت نصیحت سے نہ سمجھے تو جب تک وہ اپنی برائی سے باز نہ آئے اس سے قطع تعلق بھی کیا جاسکتا ہے، جو شرعاً درست ہے اور کئی صحابہ کرام کے عمل سے ثابت ہے۔ حضرت عبداللہ بن مغفل کے ایک رشتہ دار تھے جو ابھی بالغ نہ ہوئے تھے، انہوں نے کنکر پھینکا تو حضرت عبداللہ نے منع کیا اور فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کنکر مارنے سے منع فرمایا ہے اور فرمایا ہے کہ : ’’إنّھا لاتصید صیدًا‘‘ اس سے کوئی جانور شکار نہیں ہوسکتا، اس نے پھر کنکر پھینکا تو انہوں نے غصہ سے فرمایا کہ میں تمہیں بتلارہا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے اور تم پھر دوبارہ ایسا ہی کررہے ہو؟ میں تم سے ہرگز بات نہیں کروں گا۔اسی طرح حضرت عبداللہ بن عمر نے اپنے بیٹے (بلال)سے حدیث کے مقابلہ میں اپنی رائے پیش کرنے کی بنا پر قطع تعلق کیا تھا اور مرتے دم تک اس سے بات نہ کی۔ بچوں کو ڈانٹنے اور مارنے کی حدود بچوں کی تربیت کے لیے ماں باپ یا استادکااُنہیں تھوڑابہت، ہلکا پھلکا مارنا نہ صرف یہ کہ جائز ہے،بلکہ بعض اوقات ضروری ہوجاتا ہے۔اس معاملہ میں افراط وتفریط کا شکار نہیںہونا چاہیے۔ غصہ میں بے قابو ہوجانا اور حد سے زیادہ مارکٹائی کرنایا بچوں کے مارنے ہی کو غلط سمجھنا دونوں باتیں غلط ہیں۔ پہلی صورت میں افراط ہے اور دوسری میں تفریط ہے۔اعتدال کا راستہ وہ ہے جو نبی کریم نے ایک حدیث میں بیان فرمایا کہ:’’اپنے بچوں کو نماز کا حکم دو، جبکہ وہ سات سال کے ہوجائیں اور ان کو نماز نہ پڑھنے پر مارو، جبکہ وہ دس سال کے ہوجائیں‘‘۔ (مشکوٰۃ) اس حدیث سے مناسب موقع پر حسبِ ضرورت مارنے کی اجازت معلوم ہوتی ہے۔ مارنے میں اس بات کا بھی خیال رکھا جائے کہ اس حد تک نہ ماراجائے کہ جسم پر مار کا نشان پڑجائے۔ نیز جس وقت غصہ آرہا ہو، اس وقت
بھی نہ مارا جائے، بلکہ بعد میں جب غصہ ٹھنڈا ہوجائے تو اس وقت مصنوعی غصہ ظاہر کرکے ماراجائے،کیونکہ طبعی غصہ کے وقت مارنے میں حد سے تجاوز کرجانے کا خطرہ ہوتا ہے اور مصنوعی غصہ میں یہ خطرہ نہیں ہوتا، مقصد بھی حاصل ہوجاتا ہے اور تجاوز بھی نہیں ہوتا۔